Baaghi TV

Category: متفرق

  • پاکستان کے وہ عالمی ریکارڈز جو آج تک کوئی نہ توڑ سکا تحریر: فہد احمد خان

    ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس

    کسی بھی حادثے میں ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سب سے پہلے پہنچتی ہے، گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اس فاؤنڈیشن کو دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس قرار دیا ہے۔ اور یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔

    ایدھی ایمبولینس سروس ابتدائی طور پر ایک سیکنڈ ہینڈ ہل مین پک اپ ٹرک کو شامل کرکے شروع کی گئی تھی اور اسے پہلی ایمبولینس کے طور پر بحال کیا گیا تھا، اس طرح "غریب مریض ایمبولینس” کی تشکیل کی گئی تھی۔ اب ساٹھ سال بعد، ایدھی ایمبولینس دنیا میں ایمبولینسوں کے سب سے بڑے بیڑے کے مرحلے پر پہنچ گئی ہے، اس طرح یہ سروس ہمارے ملک پاکستان میں 1800 گاڑیوں جیسی ایمبولینسوں کی ایک بڑی تعداد فراہم کر رہی ہے۔

    ایدھی ایئر ایمبولینس سروس کے پاس 2 ہوائی جہاز اور 1 ہیلی کاپٹر ہیں جو قدرتی آفات کے دوران امداد اور مدد فراہم کرتے ہیں ، کسی بھی متوقع قدرتی تباہی کے دوران ، پھنسے ہوئے یا زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کرنے کے لیے ہوائی جہاز کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی

    سوات کی ملالہ یوسف زئی کو دنیا میں سب سے کم عمری میں نوبیل انعام ملا، 2014 میں جب انھیں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تو ان کی عمر صرف سترہ برس تھی، طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی ملالہ دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    ملالہ یوسف زئی کی تعریف ان ایوارڈز سے نہیں ہوتی جو انہوں نے جیتے تھے اور نہ ہی بندوق کی گولی سے وہ بچ گئی تھی۔ اس نے یکساں تعلیم کے کام کی زندگی کے لیے اپنی بے لوث عقیدت اور امن ، مساوات اور تعلیم کے لیے لڑنے کے لیے اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے میں اپنے فراخدلانہ اقدامات کے ذریعے ہیرو کا خطاب حاصل کیا ہے۔

    ملالہ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ چاہے رکاوٹیں کوئی بھی ہوں، چاہے وہ معاشی ہوں، ثقافتی ہوں یا سماجی۔ ہر ایک کو انسانی تعلیم کے طور پر معیاری تعلیم کا حق حاصل ہے۔

    جہانگیر خان

    اسکواش کی تاریخ جہانگیر خان کے بغیر ادھوری ہے۔ اس پاکستانی سپر اسٹار کو یہ عالمی اعزاز حاصل ہے کہ وہ چیمپئن شپ مسلسل آٹھ چیزیں پانچ سال تک اسکواش کے میدانوں میں ناقابل شکست رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے 555 میچ جیتے اور یہ اعزاز اب تک پاکستان اور جہانگیر خان سے کوئی نئی چھین سکا۔

    جہانگیر خان- سکواش کا بادشاہ اسکواش ایک تیز رفتار ریکٹ کھیل سمجھا جاتا ہے۔ 18 ویں صدی میں انگلینڈ میں ایجاد ہوا ، یہ تیزی سے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ جہانگیر خان وہ شخصیت ہیں جنہیں پوری دنیا میں کنگ آف اسکواش یعنی اسکواش کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔

    نصرت فتح علی خان

    دنیائے قوالی میں نصرت فتح علی خاں کو تاریخ کا سب سے بڑا اقوال مانا جاتا ہے۔ جنہوں نے قوالی کے 125 البم ریکارڈ کرائے جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے اُن کا یہ عالمی ریکارڈ اب تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

    ان کے اثرات کی وجہ سے انہیں 2017 میں برمنگھم میں بی بی سی میوزک ڈے بلیو تختی سے نوازا گیا… وہ بین الاقوامی سامعین کے لیے قوالی موسیقی کو متعارف کرانے کا وسیع پیمانے پر کریڈٹ ہے ، اور اسے ‘مشرق کا ایلوس’ بھی کہا جاتا ہے۔

    عرفہ کریم رنھاوا

     پاکستان کی عرفہ کریم رندھاوا نے صرف 9 سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا اعزاز حاصل کیا۔ اتنی کم عمری میں آج تک دنیا بھر میں کوئی شخص یہ ریکارڈ نہیں بنا سکا افسوس کہ انسانیت کا یہ ذہین سرمایہ لمبی عمر نہ پا سکا 2012 میں جب وہ صرف 17 سال کی تھی موت کی وادی میں جا کر سوگئی۔ یہ جان کر دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو غمزدہ کردیا۔ 

    عرفہ نے پاکستان کے عام شہریوں کے لیے صحت، تعلیم، اور ایک علیحدہ آئی ٹی شہر جیسے بہت بڑے خواب دیکھے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے فاطمہ جناح گولڈ میڈل حاصل کیا اور انہیں صدر پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 

    شعیب اختر

    راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کو کون نہیں جانتا۔ انھیں کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین گیند پھینکنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے ورلڈ کپ 2003 میں انگلینڈ کے خلاف 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکی اور یہ ریکارڈ بھی آج تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

    ٹیوئٹر: @fahadpremier

  • پاکستان میں کورونا کے اثرات اور حکومتی اقدامات : تحریر سید محمدمدنی.

    پاکستان میں کورونا کے اثرات اور حکومتی اقدامات : تحریر سید محمدمدنی.

    کورونا ایک ایسی جان لیوا بیماری جس نے دنیا کا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا.

    دنیا اب اس کورونا جیسی موزی مرض سے واقف تو ہو ہی چکی جس نے دنیا کا نظام ہی بدل کر رکھ دیا یہ ایسی بیماری کے جو پھیلنے والی ہے اور ہاتھ ملانے سے تک بھی پھیلتی ہے پاکستان بھی اس کا شکار بنا اور ہماری کمزور معیشت کو مزید تباہ کر گیا اس کے روک تھام اور آگاہی پھیلانے کے لئے ریاست اور حکومت پاکستان نے بہترین حکمت عملی بنائی اور اسے لاگو بھی کروایا عوام پر زور دیا گیا کے وہ اپنی کورونا ویکسین لگوائیں کسی ایک جگہ رش نا ڈالیں گھروں میں رہیں اور آج بھی سخت احتیاط کرنے کا کہا جا رہا ہے.

    شروع شروع میں بہت سے لوگوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا مگر جیسے جیسے اس بیماری نے زور پکڑا تو عوام بھی کچھ سنجیدہ ہوئی.

    پاکستان میں جس وقت کورونا آیا تو سب سے زیادہ مسائل ان غریب دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کے لئے تھے جو روز کے کام کے پیسے لیتے ہیں جب کورونا آیا تو سب کام پر اثر پڑا ایسے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے سب سے پہلے غریب طبقے کا سوچا کے اگر سخت لاک ڈاؤن کی طرف گئے تو ان کا گزر بسر یا گھر کا چولہا کیسے چلے گا اسہی لئے حکومت پاکستان نے ایسی پالیسی اور نظام مرتب کیا کے غریب طبقے جو نقصان نا پہنچے.

    ہمیں اس موزی مرض سے متعلق اپنے پڑوسی بھارت کو ہی دیکھ لینا چاہیے جہاں بہت برا حشر ہؤا حالات خراب ہوئے. لوگ آکسیجن سیلنڈرز کو ترسنے لگے اور بھارت میں شارٹیج ہو گئی آکسیجن سیوسیلنڈرز کی وہ مناظر خاکسار نے میڈیا پر دیکھے اسہی وجہ سے حکومت پاکستان نے اپنی عوام پر زور دیا کے خدارا احتیاط کریں اور لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کروانے کے لئے ریاست اور افواج پاکستان سے بھی مدد لی گئی.

    بھارت میں اتنے برے حالات تھے کے جس کے ہم سب گواہ ہیں اور ہم سب نے دعا کی اس بیماری سے جان چُھڑا.

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان سمیت ریاست نے ہر طرح سے زور ڈالا کے احتیاط کریں ورنہ ہمارے سامنے بھارت کی مثال موجود تھی جہاں ہزاروں افراد آکسیجن کی کمی کے باعث ختم ہوگئے وہاں ہر جگہ انسانی لاشوں کا ڈھیر تھا لوگ آکسیجن کو ترس رہے تھے. وزیراعظم پاک مسلح افواج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی وزارت صحت نے مسلسل دن رات کام کیا اور پھر بین الاقوامی سطح پر مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس سمیت دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان کے کورونا کے خلاف اقدامات کی تعریف کی اور سراہا.

    کورونا کے خلاف اقدامات کا سہرا ریاست پاکستان حکومت پاکستان وزراء تمام ڈاکٹرز ہر کسی کو جاتا ہے اور عوام کو بھی کیونکہ زیادہ تر عوام نے بھی مثبت جواب دیا اور دی گئی ہدایت پر عمل کیا. 

    اس مرض سے روک تھام کے لئے پاکستان کے دوست ممالک نے بہت مدد کی چین نے حق ادا کیا اس سلسلے میں حکومت پر بہت بھاری زمہ داری عائد ہوئی اور یہ ایک سخت امتحان بھی تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے بھی اور ﷲ کا شکر ہے پاکستان پر اتنا گہرا اثر نہیں پڑا.

    حالات اب بھی بلکل ٹھیک نہیں بس احتیاط اور سخت احتیاط.

    حکومت کو تمام اداروں بشمول مسلح افواج سے بھی مدد لینا پڑی کیونکہ عوام پر سختی کی جانی تھی اور یہ بات بلکل درست ہے کے جب تک سختی نہیں ہوگی عوام ٹھیک بھی نہیں ہوتی.

    پاکستان نے کرونا کی روک تھام سے متعلق بہترین اقدامات کئے. اسکول کالجز یونیورسٹیوں میں شیڈول بنائے گئے تعلیمی ادارے کافی عرصے تک بند رہے ان لائن کلاسز جاری رہیں عید, بقرعید کے موقع پر لوگوں کو بارہا تاکید کی گئی کے گھروں میں رہیں اور باہر رش نا ڈالیں یہی وجوہات تھیں کے جس سے کرونا پھیل سکتا تھا.

    عوام پر سختی اسی لئے کی گئی کہ اگر رش ڈلے گا تو کورونا پھیلے گا بڑھے گا اس دوران بہت سے لوگ ایسے بھی دیکھے گئے جنھوں نے بات نہیں مانی اور اس کا شکار ہو کر ﷲ کو پیارے ہو گئے دراصل ہمارے ہاں لوگ کم ہی عمل کرتے اور سنتے ہیں. میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ لاہور کینٹ ایریا میں لوگ دوکانوں پر قطار اور کم از کم پانچ سے چھے قدم کے فاصلے پر عمل نہیں کرتے تھے پوکیس بھی بے بس تھی سمجھا سمجھا کر تھک جاتی تھی جیسے پاک فوج کے سپاہی کی گاڑی روٹین پر چیکنگ کرنے آتی تو سب سوئی کی طرح سیدھے ہو کر عمل کرنا شروع کر دیتے انسان پر جب تک سختی نہیں ہو گی عمل بھی نہیں کرے گا. 

    ﷲ تعالیٰ آئندہ بھی اس مرض سے پاکستان کو محفوظ رکھے آمین.

    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد. 

    Syed Muhammad Madni is a freelance journalist who write columns for Baaghi Tv. Follow him on Twitter @M1Pak.

  • چمکتے ستارے.تحریر:ام سلمیٰ

    چمکتے ستارے.تحریر:ام سلمیٰ

    آجکل جس طرح کی حالات میں تیزی چل رہی ہے بھی سے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کر رھے ھیں تاکہ وہ تیز ترین زریعے سے خیر حاصل کر سکیں اور جان سکیں کے اس وقت دنیا میں کیا اہم چل رہا ہے کوئی اہم واقعہ کوئی اہم معلومات جو ہمارے لیے کام بھی ہی سکتی ہے ایسے ہی لوگ جاننا چاہتے ہیں کے آپ کے ارد گرد کس طرح کے معاشرتی مسائلِ چل رہے ہیں اور کونسا اچھا لکھاری ہے جو آپکو فوری معلومات دیتا ہوں اپنے کالم سے اپنے کونٹینٹ سے؟اور ایسے کون سے لکھاری ہیں کو تمام موضوعات پے لکھ رہے ہوں اور ان کی تحریروں میں صحیح طرح مسائل کی عکاسی ہو صحیح تفصیلات بیان کی گئی ہوں بھلے کسی بھی موضوع متعلق لکھا گیا ہو.

    ایسے چند اچھے لکھنے والے لکھاری جن کی تحریر میں اکثر معلومات کے لیے پڑھا کرتی ہوں اور ان کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کے یہ اچھے لکھنے والے ہیں اور اپنے ارد گرد ٹھیک ٹھیک تبدیلیوں کو نوٹ کرتے ہیں۔ تفصیل کی طرف یہ توجہ نہ صرف انہیں لاجواب ایڈیٹر یا لکھاری بناتی ہے جو پڑھنے کے دوران آپکو ان کی تحریروں میں آپکی دلچسپی بڑھتی ہے ، بلکہ یہ ان کی تحریر میں بھی ایک خاص ٹچ ڈالتا ہے۔ تاکہ کوئی وضاحتی تفصیل پیچھے نہ رہ جائے ان میں سے کچھ یہ ہیں ضماد ملک ,حمزہ بن شکیل,حسن ساجد,فضل عباس , امان رحمان , حمزہ احمد صدیقی اِنکی تحریر اچھی ہوتی ہے آپ اِنکی تحریر میں مکمل معلومات پائیں گے.

    ان کی تحریروں میں دن بہ دن بہتری آرہی ہے یے ایسے مصنفین ہیں اپنے کام کو دن با دن بہتر کرتے جا رہے ہیں، چاہے کام کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے ہنر پر توجہ دیتے ہیں اور شدید نظم و ضبط کے ذریعے بہتر لکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔

    ایک مؤثر مصنف پیچیدہ خیالات اور خیالات کو سادہ ، واضح زبان میں نکالنے کے قابل ہوتا ہے جو دوسروں کی طرف سے جلدی اور آسانی سے سمجھا جاتا ہے اور یہ خوبیاں ان میں پائی جاتی ہیں۔ اگی آپ معیار ی تحریر پڑھنا چاہتے ہیں تو ضرور انکو کو پڑھیں آپکو اِنکی تحریر میں پڑھتے ہوئے لطف آئے گا.
    کوئی بھی ایک ہی الفاظ کو بار بار پڑھنا پسند نہیں کرتا ، اس لیے ایک مضبوط ، مضبوط الفاظ کسی بھی اچھے مصنف کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ دلچسپ اور غیر معمولی الفاظ کو ان کی تحریر میں شامل کرنا ، یہ مہارت انہیں قارئین کی دلچسپی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے اور انہیں کسی بھی صورت حال کے لیے بہترین لفظ تک رسائی کے ذریعے زیادہ مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے کی اجازت دیتی ہے اور آپ ان خصوصیات کو اِنکی تحریروں میں پائیں گے. ۔

    بیرونی ترامیم اور تجاویز کے لیے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ سے معاشرتی مسائل کی عکاسی کرنا بھی آجکل ضروری ہے غیر معمولی لکھاریوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ انہیں اپنی تحریر کو بہتر بنانے کے قابل بناتا ہے ، حالانکہ اس دوران ان کی انا کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کھلے ذہن کی وجہ سے وہ اپنا کام دوسروں کی نظروں سے دیکھ سکتے ہیں اور کمزور نکات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

    باشعور قارئین اکثر اچھے مصنف پڑھتے ہیں ، کیونکہ الفاظ کی دنیا میں ڈوبے رہنے سے لکھنے کے نٹ اور بولٹس کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے جیسے نحو ، لہجہ ، فریمنگ ، وغیرہ جتنا کوئی پڑھتا ہے ، اتنا ہی زیادہ سیکھا جاتا ہے۔ آپ جب ان لکھاریوں کی تحریروں کو پڑھیں گے تو آپ کو ان میں مختلف قسم کی جدت نظر آئے گی.

    اگر آپ بھی لکھاری بننا چاہتے ہیں تو اِنکی تحریروں کو پڑھائی اور ان خوبیوں کو اپنانے کی کوشش کریں آپ انکو پڑھ کر ضرور بہت کچھ سیکھیں گے.
    اگر آپ ان کو ابھی تک نہں پڑھ رہے تو ضرور پڑھیں یہاں اِنکی بیان کردہ کچھ خوبیوں سے سیکھ کر آپ اپنی تحریر کو بہتر بنا سکتے ہیں تو آج سے شروع کریں۔ کچھ ہی وقت میں ، آپ کی تحریری مہارتیں فوائد حاصل کریں گی انشاء اللہ.
    Twitter handle
    @aworrior888

  • اکیسوی صدی میں سائنسی ترقی تحریر : راجہ فہد علی خان

    کائنات کی تخلیق، انسان کی پیدائش، یہ روشن جہاں،یہ ارض و سماء، یہ اندھیری راتیں، چرندوپرند، یہ حیوان وانسان، بروبحر ، خشکی و تری الغرض ہر چیز اس مالک دو جہاں کی قدرت کے کرشمے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اللّٰہ رب العزت کی ان تخلیق کردہ چیزوں، مخلوقات سے متاثر ہونے اور کچھ فطری تحقیق و تجسس کے نتیجے میں انسان نے اپنی بڑھتی ہوئی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی ٹھانی اور اس کا نتیجہ سائنس کی شکل میں سامنے آیا۔   جوں جوں کرہ ارض پر انسانی آبادی بڑھتی گئی، انسانی ضروریات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا وہ ضروریات انسانی کوششوں سے پوری بھی ہونے لگیں لیکن انسان کا فطری تجسس اور کھوج کا عمل نہ تھم سکا اور یہ سلسلہ صدیوں سے برابر چلتا آرہا ہے۔ عصر حاضر میں جہاں آپ نظر دوڑائیں گے آپ کو سائنس کی ترقی نظر آئے گی۔ایک نومولود کی پیدائش سے لے کر اس کی تمام ضروریات زندگی تعلیم، صحت، کاروبار، ادویات، سفر، چاہے امن کا زمانہ ہو یا جنگ کا سائنس زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔موجودہ جدید دور میں علومِ سائنس اور سائنسی ایجادات قابلِ تعریف ہیں۔اسلام اور قرآنی تعلیمات بھی سائنس کی ترغیب دیتے ہیں۔

    اکیسویں صدی میں ضروریات کے پیشِ نظر جدید ٹیکنالوجی ہماری ایک ضرورت بن چکی ہے جس کے بغیر ہمارا گزارہ اگر ناممکن نہیں تو آسان و سہل بھی نہیں۔ گزشتہ ادوار میں اگر کوئی چیز ایجاد ہوتی تھی تو اس میں ضرورت وقت کے مطابق جدت لانے کے لیے وقت درکار ہوتا تھا جبکہ زمانہء حاضر میں اس معیاد میں کوئی نئی چیز متعارف کروا دی جاتی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں آنے والے دس سال اس سے کہیں زیادہ مختلف ہوں گے اور اس زمانے میں موجودہ دور کی ٹیکنالوجی بےکار اور ناکارہ تصور کی جانے لگے گی۔

    اگر ہم صحت کے میدان کے بات کریں تو سائنس نے ہمارے نظامِ صحت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور شعبہ صحت بہت زیادہ بہتری کی طرف گامزن ہوا ہے۔ گزشتہ ادوار میں بچے کی پیدائش بھی ہسپتالوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے گھروں میں ہوتی تھی اور کتنی جانیں چلی جاتی تھیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی نے ان مسائل کا حل نکالا ۔اگرچہ سائنس وٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سے موذی امراض تشخیص ہوئے لیکن بیک وقت ان موذی امراض کا علاج بھی دریافت کر لیا گیا۔

    شعبہ تعلیم کو دیکھا جائے تو سائنسی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے نظامِ تعلیم کو بہت ہی آسان اور جدید طرز کا کر دیا ہے۔ پرانے زمانے میں فقط دو شعبے ہی پڑھنے کے لیے میسر ومخصوص سمجھے جاتے  تھے۔ طالبعلم شعبہ طب ، انجینئرنگ اور فوج میں جانے کے لیے بھاگ دوڑ کیاکرتے تھے۔ جدیدسائنس وٹیکنالوجی کی بدولت اب تعلیمی میدان میں ہزاروں نئے شعبے متعارف کروا دیے گئے ہیں۔تعلیمی میدان میں سائنس نے مختلف موضوعات کا تصور و خیال دے کر نوجوان کو مختلف میدانوں میں ترقی کے مواقع حاصل کرنے کا حق دیا ہے۔ یہ کہنا حق بجانب ہے کہ سائنسی عروج نے ہمارے تعلیمی نظام کو بہت ہی آسان اور وسیع کر دیا ہے۔اب ہمارے نوجوان کو محض طب کے میدان میں ہی مختلف اور کئی قسم کے شعبے میسر ہیں اور سائنسی ایجادات نے ہمیں گھر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کا موقع مہیا کیا ہے۔

    گھر بیٹھے روزگارکی فراہمی بھی سائنس وٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے اب ہمارے نوجوان گھر بیٹھے اپنی  مالی ضروریات پوری کر سکتے ہیں،گھر بیٹھے اپنا کاروبار چلا سکتے ہیں۔ 

    جنگ کے میدان میں بھی ٹیکنالوجی کا بہت اہم کردار ہے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی ملک کے لیے اپنی سرحدوں کا دفاع لازم ہے۔سائنسی ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ہمارا ملک ایٹمی طاقت بنا جس میں عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر کا کلیدی کردار ہے۔ سائنسی ترقی نے ملکی دفاع کو مضبوط، ہمہ وقت چوکنا بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اپنے ملک کی سرحدوں سے چوبیس گھنٹے اپنے دشمن ممالک کے حالات و واقعات سے با خبر رہ سکتے ہیں۔

    یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کہ سائنسی ایجادات نے ہمارے نظامِ زندگی زندگی کو آسان ترین بنا دیا ہے۔جدید سیل فون، لیپ ٹاپس، کمپیوٹرز اور دیگر سائنسی آلات کی بدولت ہماری زندگی ایک کلک کی محتاج ہے اور سارے کام سمٹ کر ایک بٹن کی دوری پر ہیں حتیٰ کہ اب خریداری بھی گھر بیٹھے ایک آسان اور پر آسائش کام بن گیا ہے۔گھر بیٹھے بٹھائے انسان اپنی من پسند چیز منگوا سکتا ہے اور محض یہ ہی نہیں اس طرح کا ہر کام محض حکم کا محتاج ہے اور پھر پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ جہاں سائنسی ترقی نے ہمیں کاروبار، صحت، تعلیم الغرض ہر قدم پر مواقع فراہم کیے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ سفری آلات میں بھی ایک جدت آئی ہے۔ اگر پچھلی صدی کی ہی بات کر لی جائے تو تب زیادہ تر سفر پیدل طے کیا جاتا تھا یا بیل گاڑیوں کا استعمال معمول تھا۔اب اگر موجودہ وقت کی بات کریں تو ہمارا سفر نہایت آسان اور سہل کر دیا گیا ہے۔ ہم کسی بھی جگہ  بیٹھ کر اپنی مرضی کی گاڑی منگوا کر نہایت ہی مناسب پیسوں پر آرام دہ سفر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ سائنسی ترقی نے ہمیں ہر قدم پر آسانی اور سکون مہیا کرنے کی کوشش کی ہے۔

    المختصر یہ کہ سائنس نے ہمارے معیار زندگی کو بلند کرنے، جینے کے ڈھنگ کو سہل اور آسائشوں سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گو کہ سائنسی ایجادات اور سائنسی ترقی اپنے جوبن پر ہے مگر حضرت انسان کی تحقیق و تجسس اور کھوج کی جستجو ابھی اختتام کو نہیں پہنچی اور اس اولاد آدم نے ابھی مزید میدان سر کرنے ہیں اور کائنات کو تسخیر کرنا ہے۔

    @FahadRaja6720

  • منفرد اور ممکنہ جنگ عظیم سوئم اور نوجوانوں کی عفلت.  تحریر. واحید خان

    منفرد اور ممکنہ جنگ عظیم سوئم اور نوجوانوں کی عفلت. تحریر. واحید خان

    پاکستان کے نامناسب تعلیمی نظام اور فرسودہ سیاسی نظام کا سب سے بڑا نقصان جو ہمارے نوجوان نسل کے ترجیحات اور تصورات سے اج واضح ہے وہ 74 سال گزرنے کیعبد بھی یہی ہے کہ ہمارا نوجوان موجود مسائل اور مشکلات کی وجہ سے افراد کے بجائے, شخصیات کے بجائےاور پالیسیوں کے بجائے ریاست اور اداروں سے نفرت کرنے لگے ہیں اور یہ خود سے ہوبھی نہیں رہا ہیں بلکہ اسکے پیچھے باقاعدہ ملک دشمن اور اسلام دشمن خفیہ تنظیمیں انتہائی فعال کردار ادا کررہے ہیں.

    اس وقت اگر ہمارے نوجوانوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے خفیہ اداروں میں اسلامی خلافت کے تحفظ قیام اور دفاع کیلئے جو عظیم ہستیاں موجود ہیں بخدا اگر اپ انکے کام اور مشکلات کے بارے میں اگاہ ہوجائے تو اپ انکے قدم بوسی کی خواہش کرینگے .اپ انکے پھیر چومے نگے اپ ان سے ملنے کی خواہش کرینگے مگر یقین مانئے انکو اپنے پیاروں سے ملنے کیلئے مہینوں مہینوں اور سالوں تک ملنے کا موقع نہیں ملتا .کچھ تو ساری زندگی مل نہیں پاتے .کوئی سمندروں میں اپنے عظیم مقاصد کیلئے مچھلیوں کا خوارک بن جاتے ہیں تو کوئی صحراوں میں وحشی درندو کا شکار بن جاتے ہیں .کوئی ان دیکھی زندانوں میں راکھ بن جاتے ہیں اور انکی لاشوں تک کو کوئی نہیں دیکھ پاتا اور کوئی اپنے بیرونی دنیاں کے مختلف اہم مقامات میں اپنی فطرت اور اپنے مزاج کے برعکس زندگی کے عظیم مقصد اور اسلامی احیاء کیلئے جینے پر مجبور ہیں اور یہ کوئی افسانہ نہیں ہے یہ کوئی لفافہ صحافت کی بات نہیں ہے بلکہ ٹھوس اور اٹل حقیقت ہے اور اسی کے بدولت عظیم روسی طاقت کراچی کے گرم پانیوں کے خواھش میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور انہی ہستیوں کے بدولت پاکستانی ایٹم بم کو کھلونا بنانے کے شوق میں افغانستان پر چڑھائی کرنیوالی نیٹو ذلیل وخوار ہوکر اج اسی ملک سے منتیں کررہاہے کہ اپنا سامان واپس لیجانے کیلئے چند دن تو اپنے پاس محفوظ راتیں دیدیں .مگر بد قسمتی انکے یہ عظیم کام اور یہ راز انکے بیوی بچوں تک پر عیاں ہونا انکے فرائض منصبی کے تحت منع ہے پھر ہمارے نوجوان کو کیسے معلوم ہوگا کہ کون کہاں اور کیسے جی رہاہے انکو تو اپنے عقل کے استعمال کیلئے بھی اللہ تعالی نے تاکید فرمائی ہے. جب نہ انکو نام ظاہر کرنے کی اجازت نہ انکو کام ظاہر کرنے کی اجازت نہ انکو تصویر بنانے کی اجازت نہ انکو شاباش لینے کی اجازت نہ انکو پھولوں کی لڑیاں گلے میں ڈالنے کی اجازت مگر وہ لڑ رہے ہیں وطن کیلئے ریاست کیلئے اسلام کیلئے خلافت کیلئے..وہ لڑ رہے ہیں صحراوں میں طوفانوں سے وہ لڑ رہے ہیں پہاڑوں میں سنگلاخ چٹانوں کے اوپر وحشی درندو سے وہ لڑ رہے ہیں گرمی سے سردی سے سیلابوں کے طوفان خیز ھنگاموں سے وہ لڑ رہے ہیں بے سروسامانی کے حالت میں دنیاں کے عظیم ترین اور جدید ترین شہروں میں جدید ترین سرچ اینڈ سٹرائیک ٹیکنالوجی سے وہ لڑرہے ہیں تو ہمیں از خود انکا احساس کرنا ہوگا ..ہواوں میں یہ موجود سمندروں میں یہ موجود راتوں کے اندھیروں میں یہ موجود دنیاں کے کونے کونے میں یہ موجود .دنیاں کے حساس ترین مراکز میں یہ موجود دنیاں کے اہم رازوں میں یہ موجود مگر پھربھی ہمارا نوجوان ایک سیکنڈ میں انگلی کے معمولی جنبش سے ریاست کے ان عظیم ہستیوں کے بارے میں خرافات لکھ دیتے ہیں جو عالمی طاقتیں باوجود انتہائی طاقت رکھنے کے کہنے سے ڈرتے ہیں .لکھنے سے ڈرتے ہیں .بیان کرنے سے ڈرتے ہیں.

    کیا اس پاکستانی جوان کو معلوم نہیں کہ دنیاں میں تیسری منفرد عالمی جنگ کی تیاری ہورہی ہیں اور اسکے لئے عالمی قوتوں کے درمیان گٹھ جوڑ کا سلسلہ کافی تیزی سے چل رہاہے .اس وقت دنیاں دو بلاکس میں تقسیم ہوچکی ہے .ایک بلاک میں امریکہ برطانیہ بھارت اسرائیل نمایا ممالک جبکہ دوسرے گروپ میں چائنا پاکستان روس اور ایران اہم ممالک ہیں .ایک طرف اگر سمندری راستے سے چائنا کو اقتصادی طور پر کورڈن اف کرنے کیلئے اسرائیل امریکہ کے زریعے بھارت کو اگے کررہاہے اور ابنائے ملاکا کو چائنا کے اسی فیصد سیل کیلئے بند کرنا چاہتا ہے.امریکہ پہلے سے ساوتھ سی میں اپنے جنگی ائیرکرافٹ کیرئیر پہنچاچکاہے .دوسری طرف چائنا مکمل اس بات کا ادراک کررہاہے اور ریاست سکم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور جیسے ہی بھارتی نیوی ابنائے ملاکا کو بند کرے گی چائنا ریاست سکم پر قبضہ کرکے ہندوستان کے سات ریاستوں اسام ناگالینڈ اروناچل پردیش میگہالیہ میزورام منی پور تریپور ہندوستان سے الگ کردے گا اور بھارت مکمل اس سلسلے میں لاچار ہیں اسلئے خاموش ہے اور اب وہ تبت کارڈ کو امریکہ کے زریعے استعمال کیلئے دلائی لامہ کو پوری دنیاں کے سیاسی دورےکرائے گا اور اسکو چین کے خلاف استعمال کرے گا.اسکے بدلے بھارت کو لگام ڈالنے کیلئے چائنا کشمیر کو سکرین پر لائے گا اور ازادی کی تحریک کو پروموٹ کرے گا..

    ہمارے نوجوان نسل کو یہ تک نہیں معلوم کہ جن ہستیوں اور جس ریاست کے خلاف وہ غیروں کے اشارے پر بھونکتے ہیں وہ ان حالات میں ایک اہم جینیس مائینڈڈ گیمر ہے.اور عالمی گیم تبدیل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن قوتو کی اولین وار ہی ان پاکستانی نوجوانوں کے زہنی ترجیحات کی تبدیلی کا ہے اور یہ جو کچھ اب افغانستان میں حالات تبدیل ہونے کے بعد وہ سوشل میڈیا پر لکھ رہے ہیں مغرب اور یہودی یہی تو چاہتے ہیں . میں اپکو اپنے کم علمی مشاہدے اور تجربے کے بنیاد پر یہ یقین دلاتا ہو کہ پاکستان کے ان اداروں کے شاہینوں کا اس عالمی بدلتی ہوئی حالات پر مکمل گرفت موجود ہے اگر انکی کوئی کمزوری ہے تو وہ یہی ہے کہ انکے پاس اپنے سیاسی حقوق کے نام پر فروخت شدہ ضمیروں کو چپ کرانے کیلئے سوائے قیدوبند اور کوئی اپشن نہ رہا. اگر ریاست کے اندر بھارتی اور اسرائیلی غداروں کو غائب کیا جاتاہے تو انکو ھیرو بنایاجاتاہے اور جو ریاست کیلئے شہید ہوتا ہے وہ انکو زیرو بنایا جاتا ہے.

    مجھے یقین ہے کہ میرے اوپر بھی اداروں کیلئے کام کرنے کا الزام لگا کر اس اہم ایشو کو غیر اہم بنانے کے سینکڑوں کمنٹس درج ہوجائے نگے لیکن اس سے پہلے میں دوباتیں واضح کردو کہ اداروں کے اندر افراد نے میرے ساتھ جو تاریخی جبر وظلم کیا ہے وہ شاید کسی پاکستانی کیساتھ ہواہو لیکن میں ریاست کا بچہ ہو افراد کا نہیں اس ریاست کیلئے اگر کوئی اج بھی خدمت کررہاہے تو بخدا میں انکے بوٹ پالش کرونگا اور یہ میں اپنے لئے عبادت سمجھونگا.میری دشمنی فرد سے توہوسکتی ہے ریاست سے نہیں اداروں سے نہیں .ازادی سے نہیں ..

    خداراہ عالمی بدلتی ہوئی حالات میں ایک گلاس پانی میں ڈوب کر نہ سوچئے ایک مسلمان اور ایک پاکستانی بن کر سوچئے .اب عرب دنیاں کو موڑنے کی کوششیں ہورہی ہیں اب اسلامی دنیاں کو تقسیم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اب نئے بلاکس بن رہے ہیں اب نئے نئے جنگ چھیڑے جائے نگے.یہ عدم تشدد والے بھائی اپنے امن کے ایمپورٹ فارمولے کہیں دفن کرے.یہ نئے میری جسم میری مرضی والے اپنے عیاشیوں کو اپنے دہلیز تک محدود رکھے.اپنے انگن کی فکر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کیجئے ان لوگوں کو اپنے دعاوں میں یادرکھئے جو خفیہ ہیں اور قران وحدیث سے ظاہر ہیں کہ ہر دور میں چالیس ابدال اور بارہ قطب زندہ رہینگے..وہ کوئی اسمانی مخلوق نہیں ہیں وہ انہی ریاستی اداروں میں ہونگے انہی مساجد ومدارس میں موجود ہونگے انکو کسی بلٹ پروف گاڑی کی ضرورت نہیں ہے انکو کسی کیمرے اور سٹوڈیوں کی رنگینیوں کی ضرورت نہیں ہیں .وہ سوتے میں بھی اسلام کیلئے کام کررہے ہوتے ہیں انکا جاگنا سونا جانا بیٹھنا سب کچھ اسلام اور ریاست کیلئے ہیں .یادرکھئے مضبوط اسلامی خلافت کے قلعے کھبی باہر سے کسی کافر نے فتح نہیں کئے ہیں بلکہ انکو اپنے غداروں کے زریعے اندر سے ہی توڑوایاگیا ہے .سو سنجیدہ رہئے اور جس بات کے بارے میں علم نہیں رکھتے اس پر بناء سوچے سمجھے زندہ باد مردہ باد کہنے سے باز رہئے.اس ریاست میں ابدال لگے ہوئے ہیں قطب کے رہنمائی میں خلافت مضبوط ہورہی ہیں دنیاں تمھارے سامنے سرنگو رہیگی مگر اپنے صفوں میں اعتماد پیدا کرے اپنے ریاست پر یقین پیدا کرے اپنے خفیہ اداروں کیساتھ تعاون کرے 

    Twitter Handle

    @PTI58

  • پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان حصہ دوئم تحریر:اصغرعلی

    پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان حصہ دوئم تحریر:اصغرعلی

                                                       

    اس کے بعد جرمنی جو کہ بلجئیم پر قبضہ کر چکا تھا اور بیلجیئم کے راستے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب پہنچ چکا تھا اس کو ادھر  بر طانوی فوج کا سامنا کرنا پڑ گیا جیسے ہی برطانوی فوج کا سامنا ہوا تو ادھر جرمنی کی پیش قدمی پوری طرح رک چکی تھی کیونکہ فرانس اور برطانیہ  نے مل کر جرمنی کی فوج پر ایک بڑا حملہ کر دیا مجبورا جرمنی کو دفاعی پوزیشن لینی پڑی اور واپس اپنے ملک میں آہستہ آہستہ کر کے جرمن فوج چلی گئی اس لڑائی کو بیٹل آف برلن بھی کہا جاتا ہے ایک طرف سے جرمنی کو بری طرح شکست ہو چکی تھی لیکن دوسری طرف جرمنی نے روس کے تین لاکھ سپاہی مار دیے تھے یہی وہ وقت تھا جب نہ چاہتے ہوئے بھی مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت سلطنت عثمانیہ نے روس پر حملہ کر دیا اور اس طرح سلطنت عثمانیہ پہلی جنگ عظیم کا حصہ بن گیا یہی وہ غلطی تھی جس کا خمیازہ مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت یعنی سلطنت عثمانیہ کو اٹھانا پڑا کیونکہ اسی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور  سلطنت عثمانیہ کا نام و نشان تک ختم ہو گیا کیوں کہ سلطنت عثمانیہ نے جیسے ہی روس پر حملہ کیا تو اسی ٹائم روس کے فوجی اتحاد برطانیہ فرانس اور دو تین ملکوں نے سلطنت عثمانیہ پر مغرب والی سائیڈ سے ایک بڑا حملہ کر دیا لیکن سلطنت عثمانیہ بھی آخر کار عثمانی سلطنت ہی تھی اس نے مغربی اتحاد یعنی کے فرانس اور برطانیہ کی فوج کو  چند ہی گھنٹوں میں شکست سے دوچار کر دیا اور یہاں بھی مغربی اتحاد کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی یہ وقت انیس سو سولہ کا تھا اور اس وقت تک مغربی اتحاد کے ڈھائی لاکھ فوجی مارے جا چکے تھے ادھر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلطنت عثمانیہ نے سوئس کینال کے علاقے پر حملہ کر دیا یہ بہت اچھی حکمت عملی تھی کیونکہ اگر کسی بھی طرح س سوئس کینال اس وقت سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں آجاتی تو برطانیہ پہلی جنگ عظیم برے طریقے سے ہار جاتا اور اپنا سپرپاور سٹیٹس بھی گنوا بیٹھتا کیونکہ اس وقت دنیا کی تمام بڑی تجارتیں اسی سوئس کینال سے ہوا کرتی  تھی اور آج بھی یہ سوئس کنال ترکی کا حصہ سمجھی جاتی ہے مگر ایسا نہیں ہوا برطانیہ جو کہ سوپر پاور تھا اس نے سعودی عرب میں سعودی باغیوں  کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر اکسا  دیا اور ان کو فتح کی صورت میں آزادی دینے کا وعدہ کیا اس کے بعد انیس سو سولہ کے اختتام پر ایک اورجنگ ہوئی جس کو بیٹل اف سوم کے نام سے یاد کیا جاتا  ہے یہ اسرائیل کے محاذ پر ہوئی تھی جو کہ اس وقت سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اس جنگ میں ایک دن میں 80 ہزار فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ان میں سے زیادہ تر برطانوی اور کینیڈین سپاہی تھے اب جہاں جہاں ان ملکوں کی کالونی ہوا کرتی تھی ادھر بھی جنگ شروع ہوگئی اس کے علاوہ بحرالکاہل اور چائنا میں بھی جرمنی کی کچھ کالونیاں تھیں اس پر جاپان نے حملہ کر دیا کیونکہ جاپان کے ساتھ بھی برطانوی فوجی معاہدہ ہوا تھا اسی دوران مشہور گیلی پولی کی جنگ بھی ہوئی جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سپاہی  تھے یہاں پر سلطنت عثمانیہ  نے  آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ کے سپاہیوں کو شکست دی آپ ٹی وی پر یا اخبارات پر گیلی پولی میں مارے جانے والے سپاہیوں کی یاد میں اینڈ ڈے بناتے ہوئے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو دیکھتے ہوں گے اس کے بعد ایک محاذ کے دوران جرمنی اور برطانوی فوجیں آمنے سامنے آئیں برطانیہ نے جرمنی کے بحری جہازوں کو بری طرح شکست دی اس کے بعد برطانوی جہازوں کو کو دیکھتے ہیں جرمن جاز کھلے سمندر سے غائب ہو جاتے تھے اور جرمنی نیوی اکثر بر طانوی نیوی سے کتراتی تھی اور شدید خوف اور ڈر کی وجہ سے برطانوی نیوی جہازوں کے علاوہ سواریوں کے جہازوں پر بھی جرمن نے حملے شروع کر دیے لیکن یہاں ایک بہت بڑی غلطی جرمن سے ہوگی غلطی یہ تھی کہ امریکہ سے آنے والا مشہور جہاز لوزی تانیہ جو کہ بارہ سو لوگوں کو لے کر برطانیہ جا رہا تھا اس کو نشانہ بنا دیا گیا جس میں عملے کے 25 افراد سمیت  بار دو سو سے زیادہ امریکی شہری ہلاک ہوگئے اور یہ وہ وقت تھا کہ جب امریکا اس جنگ میں شامل ہوا اس سے پہلے ریاست ہائے متحدہ امریکا ورلڈ وار ون میں ابھی تک شامل نہیں ہوا تھا امریکہ کے آ جانے کے بعد  مغربی فوجی اتحاد روس فرانس اور برطانیہ کی طاقت ڈبل ہوچکی تھی مشرق کے سائیڈ پر جرمنی کو اس کے اتحادیوں سمیت زبردست شکست ہوگئی اس کے بعد مغرب والی سائیڈ پر امریکہ کے آجانے کے بعد  1918 میں ایک معاہدے کے تحت جرمنی نے ہتھیار ڈال دیئے اس کے بعد جرمنی کی مختلف کالونیاں جو کہ چائنہ اور افریقہ میں واقع تھی وہ فرانس اور روس نے آپس میں بانٹ لیں اور جرمنی کو پہلی جنگ عظیم  کا قصوروار یا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور اس پر بھاری تاوان ڈالا گیا یہ تاوان اتنا بڑا تھا کہ اس کی قسطیں یکم نومبر دو ہزار دس تک جرمنی ادا کرتا رہا اس کے بعد افریقہ  میں ایشیا میں اور یورپ میں ملکوں کے نئے بارڈر تشکیل دیے گئے پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر دنیا کی چار بڑی سلطنتیں بری طرح ٹوٹ چکی تھی تباہ اور برباد ہو چکی تھی اور مختلف ملکوں میں بٹ چکی تھی جن میں جرمن رشئین آسٹریا-ہنگیرین اور سلطنت عثمانیہ شامل تھیں اس کے بعد بہت سارے نئے ممالک نے جنم لیا جس میں آسٹریا-ہنگری پو لینڈ چیکوسلوواکیہ بوسنیا یوگوسلاویہ اور فن لینڈ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ مڈل ایسٹ سارا فرانس اور برطانیہ نے آپس میں بانٹ لیا تھا اور اسی جنگ عظیم کے بعد بہت ساری جدید ٹیکنالوجیز سامنے آئی تھیں جن میں ریڈیو مشین گن ٹائم بم میزائل ٹینک اور بہت سارا فوجی ساز و سامان شامل ہے اور اسی جنگ عظیم کے ختم ہونے کے ساتھ ہی دنیا میں اس وقت کی سب سے خطرناک بیماری سوائن فلو آ گئی جس سے ایک اندازے کے مطابق 5 کروڑ انسانوں کی جان گئی جبکہ پہلی جنگ عظیم میں ایک اندازے کے مطابق 80 لاکھ سے سوا کروڑ انسانی جانوں کا زیاہوا تھا یوں ایک جنگ جو کہ آسٹریا-ہنگری اور سربیا کے درمیان شروع ہوئی تھی پوری دنیا میں پھیلنے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی جنگ کے نتائج بہت ہی زیادہ تباہ کن تھے جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آ گئی تھی اور اس جنگ کے بعد کچھ معاہدے ہوئے جو کہ جنگ عظیم دوئم کی وجہ بھی بنے

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @ali_ajkpti

  • اعتماد کا انویسمنٹ اور بدگمانی کا وائرس تحریر:حمزہ بن شکیل

    ہم لوگوں کو بدگمانی سے بچنے کی نصحت تو کرتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ معاشرے میں بدگمانی کی وبا پھیلانے والے عناصر کون سے ہیں ؟

    معاملہ یہ ہے کہ ہر انسان میں اعتماد کرنے کی صلاحیت ایک خاص مقدار میں خالق کائنات نے ودیعت کی ہے ۔ اعتماد ہمارا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے ، جب کسی پر ہم اپنے اعتماد کا سرمایہ انویسٹ کرتے ہیں تو ہم امید کرتے ہیں کہ وہ سامنے والا ہمارے اعتماد کا بدلہ اپنے حسن کردار سے دے گا، سامنے والا جب اپنے حسن کردار سے ہمارے اعتماد کو وقار بخشتا ہے، ہمارے بھروسے پر کھرا اترتا ہے تو ہمارا اعتماد کا سرمایہ بڑھتا ہے، لوگوں پر بھروسہ کرنے کا ظرف وسیع ہوتا ہے۔

    لیکن اگر جس پر بھروسہ کیا وہ بدکردار نکل گیا، تو اعتماد کرنے کی ہماری قوت کمزور پڑ جاتی ہے، دھوکہ کھایا ہوا شخص کسی پر بھروسہ کرنے کے قابل نہیں رہ جاتا ہے، ایسے شخص کو حسن ظن کی تلقین تو کی جاسکتی ہے لیکن جس شخص کو زندگی کے تجربے نے صرف دھوکے باز لوگ دیے ہوں محض تلقین اس کے اندر اعتماد کرنے کا ظرف پیدا نہیں کرسکتی۔

    لہذا بدگمانی پھیلانے میں سب سے مؤثر کردار ان دھوکے باز لوگوں کا ہے جو لوگوں کا اعتماد توڑتے ہیں۔ اپنی زبانوں سے لوگوں کا بھروسہ جیتتے ہیں اور اپنے کردار سے ان کو دغا دے جاتے ہیں، ایک دھوکے باز انسان اپنی زندگی میں اپنے غلیظ کردار سے سیکڑوں لوگوں کو بدگمانی کے جراثیم سے متاثر کردیتا ہے۔
    اس لیے غدار صرف اس شخص کا مجرم نہیں ہوتا جس کا سرمایہ اعتماد اس نے لوٹ لیا ہے اور اس کو اب کسی پر اعتماد کے لائق نہیں چھوڑا، وہ معاشرے کے ان تمام نیک کردار لوگوں کا بھی مجرم ہوتا ہے جو قابل اعتماد تھے لیکن اس غدار کی پھیلائی بدگمانی نے معاشرے سے ان نیک کردار لوگوں کا اعتبار بھی ختم کردیا ہے۔ اس طرح یہ نفاق صفت دھوکے باز پوری قوم کے مجرم ہوتے ہیں۔ اور انکا جرم بدگمانی سے بھی بڑا ہے۔

    زبان اور کردار میں فرق منافقت ہے ، حدیث میں بتایا گیا ہے کہ منافق کی علامت ہے کہ وعدہ کرکے وعدہ خلافی کرتا ہے،بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور امانت دی جائے تو خیانت کرتا ہے۔
    ذرا غور کریں! جس معاشرے میں منافقین کی کثرت ہو اس معاشرے میں کسی کو ہر کسی سے حسن ظن کی تلقین کرنا کوئی سمجھداری کی بات ہے؟ بلکہ ہر کسی پر اندھا اعتماد بے وقوفی ہے۔

    اک عمر ہم کسی پہ بھروسا کیے رہے
    پھر عمر بھر کسی پہ بھروسا نہیں کیا

  • پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :    عزیز الرحمن 

    پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :  عزیز الرحمن 

    ‏پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنا دوسرا قومی رابطہ جاری کیا ، کے پی میںایسی زمین کی تزئین کو دیکھنے کے لیے ، آپ کو کے پی ٹاپ نوشہرہ نظام پور وادی کے پی کے پاکستان کی پہاڑیوں پر جانا ہوگا۔ یہ ٹور آپ کا ایڈونچر ٹور ہوگا۔ اس جگہ کو نظام پور کہا جاتا ہے اور وہاں جانے کے لیے آپ کو شمال کی طرف شمال میں ایک پہاڑ پر چڑھنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں جو 10 بلین درخت شروع کرنے والے ارب درختوں کو مکمل کرنے کے بعد موسمیاتی تبدیلی کی طرف ٹھوس عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان میزبانی کر رہا ہے۔ عمران خان نے اس منصوبے کا آغاز ہمارے زمین کی تزئین ہمارے ماحول اور مناظر کو بدلنے کے وژن کے ساتھ کیا تھا۔

    میرے وزیر اعظم عمران خان کے خیال میں پاکستان میں درخت زیادہ تر ممالک سے کم ہیں۔ پاکستان میں فی شخص صرف 5 درخت ہیں جبکہ باقی دنیا میں اوسطا2 فی شخص 422 درخت ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ حکومت اس سال ملک بھر میں 10 ارب درخت لگائے گی۔ آسٹریلیا 3266 ، امریکہ 699 ، چین 130 ، برطانیہ حکومت 47 ، میرا ملک صرف 5 درخت فی شخص۔

    اگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹا نہیں گیا تو یہ عالمی پر غذائی تحفظ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو پودے لگانے اور بچانے کے لیے قدرتی فنڈ قائم کرنا چاہیے۔ پاکستان کو درخت لگانے چاہئیں اور ہریالی کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ ملک کو 10 ارب درختوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ہم صاف اور سرسبز پاکستان چاہتے ہیں۔ کلین اینڈ گرین پاکستان (سی جی پی) مائی پی ایم عمران خان کی پانچ سالہ مہم اس مہم کے تحت حکومت نے عملدرآمد کرنا ہے۔ اگر آپ ایک درخت لگاتے ہیں تو آپ ایک زندگی ، پاکستان اور اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کے لیے پودے لگاتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے ادارے نے حکومت کے ارب درختوں کے منصوبے کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ یہاں پرندوں کی آواز چاہتے ہیں تو پنجرہ نہ خریدیں۔ ایک لمحہ ایک دن بدل سکتا ہے ایک دن زندگی بدل سکتا ہے اور ایک زندگی دنیا بدل سکتی ہے۔ درخت لگانے کا بہترین وقت بیس سال پہلے ہے ، ایک درخت فطرت کے ساتھ ہمارا سب سے گہرا مواد ہے ، درخت کو زمین کے پھیپھڑے کہا گیا ہے۔ تو آئیے ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں ان میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں اور پاکستان کو سرسبز بنائیں۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ، گلوبل وارمنگ ایک حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت ابلتے پانی کی طرح بڑھ رہا ہے۔ انسانی حقوق سے گہرا تعلق لاکھوں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ تو کچھ جگہ یہ کافی عرصے سے خشک ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان بھر میں بیماریوں کے پھیلنے میں معاون ہے۔ اگر ہم جلد ہی موسمیاتی تبدیلیوں کو سست نہ کریں تو مزید مہلک وبائیں آئیں گی۔ آب و ہوا کی تبدیلی اب کوئی مسئلہ نہیں ہے جو یہاں ہو رہا ہے یہ اب ہو رہا ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی جنگ کے لیے زیادہ تر نوجوانوں کی تعداد نبرد آزما ہے۔

    ‎@Aziz_khattak1

  • پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان  تحریر اصغر علی                                        

    پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان تحریر اصغر علی                                        

               

    یہ بات 28 جولائی 1914 کی ہے جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو اس ٹائم یہی گمان کیا جا رہا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہے اور اس کے بعد کوئی بھی اس طرح کی بڑی جنگ نہیں ہو سکتی اور کئی لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دنیا کی آخری جنگ ہے لیکن سب کے اندازے غلط نکلے کیونکہ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد انیس سو انتالیس میں جنگ عظیم دوئم شروع ہوگی پہلی جنگ عظیم آسٹریا اور ہنگری نے اس وقت شروع کی کہ جب ان کے ایک بہت ہی قریبی لیڈر کو مارا گیا اس کے بعد اسی جنگ کے دوران دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی ایک طرف دنیا کی سپر پاور سے اور دوسری طرف دنیا کے باقی ممالک ان میں سپر پاور برطانیہ روس اور فرانس ایک ساتھ تھے اور ان کے ساتھ کچھ اور ملک بھی تھے جنگ شروع ہونے کے کچھ عرصے کے بعدامریکہ جاپان اور اٹلی بھی اس اتحاد کے ساتھ شامل ہوگئے تھے  ان کے مد مقابل تھے سینٹرل پاور جن میں آسٹریا-ہنگری  سلطنت عثمانیہ جرمنی اور چھوٹے کافی ملک تھے پہلی جنگ عظیم سے پہلے یورپ ہتھیاروں کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکا تھا جس میں مشین گن ٹائم بام ٹینک اور جدید قسم کا اس وقت کے مطابق اسلحہ یورپ میں تیار ہونے لگا تھا برطانیہ اور جرمنی یورپ میں خوب ترقی کر رہے تھے اور دونوں نے اپنے ان ہتھیاروں کو اپنی اپنی سلطنتوں کو بڑھانے میں بھی کافی استعمال کیا تھا ان دنوں میں یورپ میں طاقت کا توازن باربار بگڑا تھا اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ملکوں نے آپس میں اتحاد بنانا شروع کر دیئے تھے ان ملکوں نے آپس میں فوجی اتحاد کے علاوہ خفیہ معاہدے بھی کرنا شروع کر دیے تھے ان اتحادوں میں دو اتحاد قابل ذکر ہیں triple alliance 1882 یہ جنگی اتحاد آسٹریا-ہنگری جرمنی اور اٹلی کے درمیان طے پایا اس اتحاد کا نعرہ یہ تھا کہ اگر کوئی بھی دنیا کا ملک ان تینوں میں سے کسی بھی ملک پر حملہ کرتا ہے تو یہ تینوں مل کر اس کا مقابلہ کریں گے اور ایک دوسرے کا مشکل وقت میں دفاع کریں گے جس میں بہت سارے فوجی معاہدے بھی سائن کیے ہوئے تھے جس میں ایک دوسرے کے بارڈرپر اپنی فوج ایک دوسرے کی سرحد کے اوپر سے اپنے جہاز گزارنا اور اس طرح کی بہت سارے معاہدے تھے اس اتحاد کے بعد انیس سو سات میں ایک اور بڑا جنگ اتحاد قائم ہوا جو کہ فرانس روس اور برطانیہ کے درمیان تھا اٹلی نے لڑائی کے دوران ان اپنا اپنا معاہدہ چھوڑ کر برطانیہ فرانس اور روس کے ساتھ ساتھ معاہدہ کر لیا تھا اٹلی کا اپنا اتحاد  سے الگ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اٹلی کے کچھ علاقے پر آسٹریا-ہنگری نے قبضہ کر رکھا تھا جتنے بھی طاقتور ممالک تھے وہ افریقہ اور ایشیا میں اپنی اپنی کالونی کو بنانے میں لگے ہوئے تھے کالونیاں بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ان جگہوں پر ان ملکوں کا قبضہ تھا اور یہ وہ دور تھا کہ جب ورلڈ وار شروع ہوئی انیسویں صدی کی شروعات میں سب سے کامیاب برطانیہ تھا کیونکہ برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند آسٹریلیا اور 25 فیصد دنیا پر اپنا قبضہ جما لیا ہوا تھا اور یہ وہی وقت تھا جس کا ذکر بہت ساری کتابوں میں بہت سارے آرٹیکلز میں اور بہت ساری موویز میں دیکھنے کو یا سننے کو یا پڑھنے کو ملتا ہے کہ سلطنت برطانیہ اپنے عروج پر تھی اور اس کے عروج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا یہی وجہ تھی کہ برطانیہ کے پاس بہت سارے ذریعے اور بہت زیادہ طاقت تھی کیونکہ پوری دنیا پر برطانیہ کا راج چلتا تھا پہلی جنگ عظیم میں 13 لاکھ لوگ برصغیر پاک و ہند سے صرف برطانیہ کے لیے لڑے تھے کیونکہ اس وقت برصغیر پاک وہند برطانیہ کی ایک کالونی تھا انیسویں صدی کی شروعات میں یورپ میں نیشنل ازم اپنے عروج پر تھی اس وقت یہ تصور عام تھا کہ دنیا کا سب سے کامیاب ملک وہ ہے جس نے سب سے زیادہ جنگ لڑی اور جیتی ہے یہی وجہ یا یہی وہ تصور تھا جس کی وجہ سے اس دور میں جنگیں بہت زیادہ ہوا کرتی تھی یہی وہ وجہ تھی کہ آسٹریا-ہنگری کے بادشاہ جو کہ بوسنیا میں گئے اور وہاں پر ان کو قتل کر دیا گیا ان کو قتل کرنے والا گلیلیو تھا یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کو اکیلا گیلیلیو نہیں بلکہ اور بھی بہت سارے لوگوں نے مل کر قتل کیا تھا جس کی وجہ سے آسٹریا ہنگری نے میں نے صرف یہ سے ہتھیار ڈالنے کو اور آسٹریا-ہنگری کا حصہ بننے کو کہا مگر سربیا نے اس کی یہ بات نہیں مانی اور اس نے روس سے مدد لینا چاہیے چاہیے رؤف جو کہ پہلے ہی تیار بیٹھا تھا تھا اس نے اپنی بھرپور مدد دینے کا اعلان کیا اور اس کے بعد آسٹریا-ہنگری نے جرمنی سے مدد مانگی جرمنی اور آسٹریا-ہنگری کا 1882 میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق ایک دوسرے کا مشکل وقت میں ساتھ دینا شامل تھا اس کے بعد جرمنی نے آسٹریا-ہنگری کے ساتھ مل کر سربیہ پر حملہ کردیا جس کے فورا بعد بعد روس نے جرمنی پر حملہ کر دیا یا روس کے حملہ کرنے کے بعد فرانس جو کہ روس کا اتحادی تھا اس نے بھی جرمنی پر حملہ کر دیا یوں یہ جنگ جو کہ آسٹریا-ہنگری اور سربیا کے درمیان کی تھی وہ جنگ اب آسٹریا-ہنگری سربیہ جرمنی روس اور فراس  تک پہنچ چکی تھی اس کے بعد جرمنی جس پر دونوں اطراف سے حملہ ہو چکا تھا اس نے ایک سائیڈ پے میں روس اور دوسری سائیڈ پر فرانس کے ساتھ جنگ میں بری طرح الجھنے کی وجہ سے مغرب والی سائیڈ میں روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی کیونکہ روس کی فوج بہت طاقتور اور تعداد میں بہت زیادہ تھی اس لیے لیے جرمنی نے روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی اور مشرق والی سائیڈ سے اس نے بیلجئیم کے راستے فرانس پر حملہ کرنا چاہا اس لیے جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تاکہ وہ بلجئیم کے راستے فرانس کی فوج پر پر اس کی پچھلی سائیڈ سے حملہ آور ہو کر اس کو تہس نہس کر دے اس کے بعد جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کر دیا بیلجیم پر حملہ ہونے کے ساتھ  کا ہیں بیلجیئم کا فوجی اتحادی برطانیہ بھی جنگ میں کود پڑا برطانیہ نے نے جرمنی پر حملہ کر دیا یوں اب جرمنی تین اطراف سے بری طرح جنگ میں گر چکا تھا اور اب اب پہلی جنگ عظیم برطانیہ سمیت دنیا کے  7  ممالک میں پھیل چکی تھی زبر دست فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دوسرے کی جانب سے دیکھنے کو مل رہا تھا کیونکہ برطانیہ اور روس اس وقت سپرپاور تھے اور فرانس بھی ان کا اتحادی ہونے کے ناطے اس جنگ میں کود پڑا تھا اس طرح 1907 میں بننے والا اتحاد فرانس روس اور برطانیہ یہ تینوں ہی سپرپاور اور اس جنگ عظیم میں شامل ہو چکے تھے جس کا مطلب صاف تھا کہ یورپ میں شدید تباہی آنے والی ہے اس کے بعد کیا ہوا کس طرح سلطنت عثمانیہ  آٹومن امپائر اس جنگ کا نہ چاہتے ہوئے بھی حصہ بن گئی آرٹیکل جاری ہے 

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @Ali_AJKPTI 

    Twitter id : https://twitter.com/Ali_AJKPTI

  • ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پاکستان کےلئے قربانیاں ! تحریر    علی مجاہد

    ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پاکستان کےلئے قربانیاں ! تحریر علی مجاہد

    اسلامی ایٹم بم، ہم تو کہتے ہیں پاکستانی ایٹم بم مگر جو انڈین میڈیا، مغربی میڈیا ہیں وہ اس کو اسلامی ایٹم بم کیوں کہتے رہے؟ 

    ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اس نا ممکن کام کو کیسے ممکن بنایا اور پھر ایسے موقع پر جب پاکستان ایٹمی پروگرام بنا بھی نا تھا تو انڈیا کے چھکے چھڑا دیئے ان کی مشت تھی بہت بڑی اس مشت کی دھجیاں اڑا دیں،

     ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پیدائش انڈیا کے شہر بھوپال میں 1936ء کو ہوئی اور پاکستان بننے کے بعد وہ پاکستان ہجرت کرکے آئے اور وہ 85 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو آپ پاکستان کا محسن کہنا چاھتے ہیں، آپ انہیں سب سے بڑا پاکستانی کہنا چاھتے ہیں جو کہیں وہ ان پر بالکل فٹ ہوتا ہے۔ 

    ڈاکٹر عبد القدیر خان اپنی تعلیم کے سلسلے میں ہالینڈ چلے گئے انہوں نے وہاں سے آلا تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہ وہاں 4 سال تک (physical dynamical research) ہالینڈ نوکری کرتے رہے، اس وقت انکو وہاں 12,000 تنخواھ ملتی تھی پر انہوں نے اپنے ملک کی خدمت کرنا چاھا پھر وہ 15 برس رہنے کے بعد بھٹو صاحب کے کہنے پر پاکستان واپس آئے جب وہ پاکستان آئے تو 71 والا بڑا مشکل وقت تھا قوم بڑی مایوس تھی تو ذولفقار علی بھٹو نے اس وقت ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اس وقت ڈاکٹر منیر اور دیگر کام کر رہے تھے اس پر، بھٹو صاحب نے ڈاکٹر عبد القدیر صاحب سے بہت ہی سیدھا سی بات کی کہ مجھے ایٹم بم چاھیے اس وقت انکو پاکستان میں صرف 1500 تنخواھ ملتی اس بات کا کافی بار ڈاکٹر صاحب نے اقرار بھی کیا، اب آپ حیران یہ ہوں گہ کہ 1976 کو واپس آتے ہیں اور دس گیارہ سال بعد انڈیا جو بہت بڑی کور اور ڈیویژن لیول کی انڈیا کی تاریخ کی سب سے بڑی مشت تھی اب انہوں نے پاکستان کہ صوبہ سندھ پر حملہ کرنا تھا اب انکا خیال یہ تھا کہ ہم نے 71 والا کام کر لیا تو جب چاھیں کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن اس وقت پاکستان نے فوری طور پر فائر موف کی ان دوران مشاہد حسین سید جو کہ پاکستان کے سینیٹر ہیں انکی شادی تھی اور ایک انڈین صحافی بھی آئے ہوئے تھے انکی ملاقات ڈاکٹر عبد القدیر سے چائے پر ہو گئی تو ڈاکٹر صاحب نے ایک ایسی بات انکے کان میں ڈالی کہ اسکے بعد انہوں نے یہ بات خبر کہ صورت میں چھاپی (یو کے) ایک اخبار کو اور اس وقت تھل تھل مچ گئی اسکے بعد جو فوجیں لائن آف کنٹرول پر لگی ہوئیں تھیں اور اچانک جنرل ضیاء میچ دیکھنے انڈیا پہنچ گئے اور اس وقت کہ وزیراعظم کہ کان میں انہوں نے ایک بات کئی کہ زیادہ آور ہونے کی ضرورت نہیں جو چیز آپ کہ پاس ہے وہ ہمارے پاس بھی ہے کہنا کا مطلب یہ تھا کہ ایٹم بم پاکستان نے بنالیا ہے اور اس وقت پاکستان نے ابھی تجربا بھی نہیں کیا ہوا تھا اور اسکے بعد فوج واپس چلے گئی اور حالات معمول پر آگئ اب آپ کہیں گے پاکستان نے 1998 کو تجربہ کیا ہے 28/مئی کو لیکن ڈاکٹر قدیر کے مطابق 1987، 1988 میں پاکستان نے یہ صلاحیت حاصل کر لی تھی، جنرل ضیاء نے انکو بلایا اور کہا آپ کو کتنا وقت چاھیے تو انہوں نے کہا ہفتہ سے دس دن میں پاکستان ایٹمی تجربا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ 

    گزرتو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر

    ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے۔
    .