Baaghi TV

Category: متفرق

  • 70 سالہ خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش

    70 سالہ خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش

    بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچ میں 70 سالہ خاتون کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیون بینرباری نامی خاتون نے ویٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) کے طریقہ کار سے بذریعہ آپریشن بچے کو جنم دیا۔

    خاتون کے ڈاکٹر نریش بھانوشالی نے بتایا کہ جب خاتون پہلی بار ہمارے پاس آئی تھیں تو ہم نے انہیں بتایا کہ اتنی بڑی عمر میں بچے کی پیدائش ناممکن ہے لیکن انہوں نے زور دیا کہ انہیں بچہ چاہیے اس عمر میں بغیر کسی پیچیدگی کے بچے کی پیدائش کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

    ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی عمر کی وجہ سے اس کیس کو ہینڈل کرنے میں کافی سوچ بچار کی لیکن بعد میں یہ کیس لے لیا ، دونوں میاں بیوی کو بچے کی بہت خواہش تھی اور دونوں کافی عرصے سے بچے کے انتظار میں تھے۔

    ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ بچہ بالکل صحت مند و تندرست ہے جبکہ اس کی ماں جیون بینرباری کی صحت بھی ٹھیک ہے۔

  • چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ

    چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ

    چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ
    پرانی دشمنی کی آڑ میں گینگ متحرک لیکن پولیس بے بس اور مفلوج۔۔۔
    کیا امن و امان کے لئے ہمیں ایک بار پھر فوجی آپریشن کی ضرورت ہے؟

    صوبہ سندھ اور پنجاب بارڈر پر واقع صادق آباد ضلع رحیم یار خان معاشی اعتبار سے جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں سب سے زیادہ مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس مضبوطی کی وجہ سے یہ علاقہ ہمیشہ کسی نہ کسی گینگ کے نشانے پر بھی رہتا ہے۔ کبھی یہاں آئے روز لوگوں کو اغواء کر لیا جاتا ہے تو کبھی دن دیہاڑے بسوں اور ویگنوں کو روک کر لوٹ لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑکیوں کے ذریعے لڑکوں کو پھنسا کر اغوا کرنے کے بعد کروڑوں روپے تاوان ڈیمانڈ کیا جاتا رہا ہے۔
    کبھی ان تمام کاموں کے لئے یہاں چھوٹو گینگ بہت مشہور ہوا کرتا تھا جس کے خلاف ہماری پولیس نے کئی آپریشنز بھی کئے تھے لیکن ہر بار پولیس کی ناکامی کے بعد جب حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے تو آخرایک فوجی آپریشن کرکے اس چھوٹو گینگ سے نجات حاصل کی گئی۔
    لیکن حالیہ مشکل یہ ہے کہ اب وہاں چھوٹو گینگ سے بھی بڑا ایک اندھڑ گینگ سامنے آ چکا ہے۔ جس نے چند دن پہلے پولیس چوکی کے قریب واقع ایک پٹرول پمپ پر باپ اور چار بیٹوں سمیت نو افراد کو قتل کیا ہے۔ قتل کے بعد اعترافی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی اور ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ابھی مزید نو قتل اور بھی ہونے ہیں۔ لیکن اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود نہ تو ابھی تک وہ پکڑے گئے ہیں نہ ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ہے۔ اور نہ ہی کوئی امید نظر آ رہی ہے کہ غریب عوام کو اس سفاک گینگ سے کسی طرح نجات مل سکے۔
    اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ تمام معاملہ ہوا کیا؟ کیسے پولیس کی غفلت اور سالوں پرانی دشمنی نے نو عدد جانوں کو نگل لیا؟
    دراصل مرنے والے غلام نبی اندھڑ اور اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کا تعلق ایک ہی برادری اور قبیلے سے ہے۔
    اور ان کے درمیان 1995 میں دشمنی کی بنیاد پڑی جب جانو اندھڑ کے خاندان کی ایک خاتون پر کاروکاری کا الزام لگایا گیا تھا جس میں غلام نبی اندھڑ کے خاندان کے ایک فرد کو قصوروار ٹھہرا کرجانو اندھڑ کے خاندان والوں نے اس شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن بعد میں یہ معاملہ جرگوں اور مفاہمت سے حل ہو گیا تھا۔
    اس کے بعد ایک واقعہ 2016 میں ہوا جب جولائی کے مہینے میں پولیس نے اندھڑ گینگ کے سات ڈاکوؤں کو ایک مبینہ آپریشن کے بعد کشمور میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ اور اس کے بعد رحیم یار خان پولیس ان کی لاشوں کو چوک ماہی میں لے آئی تھی۔ وہاں ان ڈاکووں کی لاشوں کو سرعام سڑک پر رکھا گیا تھا۔ وہاں جمع ہونے والی عوام نے اس کارروائی پر پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے۔

    پولیس نے جن سات ڈاکوؤں کو مارا تھا ان میں اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کے پانچ بھائی ایک بھتیجا اور ایک دوست بھی شامل تھا۔ ان میں ہی خانو اندھڑ بھی تھا جو اس وقت گینگ کا سرغنہ تھا۔
    پولیس کی اس تمام کاروائی کے پیچھے جانو اندھڑ کو شک تھا کہ اس میں غلام نبی اندھڑاور اس کے خاندان والوں کا ہاتھ تھا اور انہوں نے پچھلے واقع کا بدلہ لینے کے لئے مخبری کرکے یہ تمام آپریشن کروایا تھا۔ کیونکہ اسی پٹرول پمپ پراس آپریشن کا جشن بھی منایا گیا تھا۔
    لیکن غلام نبی اور ان کے خاندان کے افراد اس کی تردید کرتے تھے۔ انھوں نے کئی جرگوں اور مصالحتی کوششوں کے ذریعے جانو اندھڑ کو کئی بار یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ اُن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے پولیس کو ایسی کوئی مخبری کی تھی۔ بلکہ ان کے خاندان نے کئی مواقع پر جانو اندھڑ اور اس کے گینگ کو کئی لاکھ روپے بھی ادا کیے تھے۔ یہاں تک کہ اندھڑ گینگ کے لوگ باقاعدگی سے ان سے بھتہ بھی وصول کرتے رہتے تھے۔ کئی مرتبہ ان کو ایک دوسرے کی شادیوں میں شریک ہوتے اور میل ملاقاتیں کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
    لیکن آخر پانچ سال گزرنے کے بعد اب اس نے اپنے بھائیوں اور بھتیجے کا بدلہ لینے کے لئے دن دیہاڑے یہ تمام قتل کئے۔
    اس تمام واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے کہ کیسے پانچ موٹرسائیکلوں پر تقریبا ایک درجن لوگ دوپہر کے وقت صادق آباد کے اس پیٹرول سٹیشن پر آئے ان سب نے کندھوں پر بندوقیں لٹکائیں ہوئیں تھیں۔
    جن کو دیکھ کر پیٹرول پمپ کے دفتر میں بیٹھے چند لوگوں نے چھپنے کی کوشش کی جبکہ باقی افراد یہ جاننے کے لیے باہر نکل آئے کہ معلوم کیا جا سکے آخر معاملہ کیا ہے۔
    بندوقیں اٹھائے یہ لوگ پٹرول پمپ پر بنے دفتر میں داخل ہوئے وہاں کچھ دیر دونوں طرف کے لوگوں میں کچھ بات چیت ہوئی ایک شخص نے ان ڈاکووں میں سے ایک کے پاؤں بھی پکڑے اور ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔ لیکن چند لمحوں بعد ڈاکووں نے فائرنگ شروع کر دی اور دفتر میں موجود تمام کے تمام لوگوں کو قتل کردیا ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔ اس کے بعد وہاں سے نکل پٹرول پمپ کے ساتھ ہی موجود دو دکانوں کے باہر بھی رک کر ڈاکووں نے خوف و ہراس پھیلانے کے لئے فائرنگ کی اور اس کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے۔
    اس پورے واقع میں نو افراد قتل ہوئے جن میں پانچ افراد کا تعلق ایک ہی گھر سے تھا یعنی ایک باپ غلام نبی اندھڑ اور اس کے چار بیٹے۔ اس کے علاوہ غلام نبی کا پانچواں بیٹا بھی اس واقعے میں زخمی ہوا ہے۔ غلام بنی اس پیٹرول پمپ کا مالک تھا جہاں یہ تمام حادثہ ہوا۔
    اس تمام واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے اور وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی ہیں۔
    لیکن پولیس چوکی قریب ہونے کے باوجود پولیس ان ڈاکوؤں کو روکنے یا واردات کے فوری بعد گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔
    بلکہ دو دن بعد واقعے کی رپورٹ مجاہد امیر نامی ایک شخص کی مدعیت میں تھانہ کوٹ سبزل میں درج کی گئی۔ مجاہد کا بھائی بھی مرنے والوں میں شامل تھا۔ لیکن ان ڈاکووں کی دہشت کا یہ عالم ہے کہ مجاہد امیر مقدمہ میں مدعی بننے سے ہی دستبردار ہو گیا۔ اور ایک بیان حلفی جمع کروایا کہ ہم نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ میں اس مقدمے میں بالکل بھی مدعی نہیں بننا چاہتا۔ اگر باقی مقتولین کے ورثا مدعی بننا چاہیں تو بے شک بن جائیں۔

    لیکن اس وقت اس پورے علاقے میں کوئی ان ڈاکووں کے خلاف بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ جو بھی ڈاکوؤں کے خلاف بات کرتا ہے وہ اس سے رابطہ کرکے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کہ وہ خالی دھمکیاں نہیں دیتے عمل بھی کر دیتے ہیں۔
    مطلب وہاں کے لوگ تو ان ڈاکووں کو بہت اچھی طرح سے سمجھتے ہیں لیکن اگر کوئی ان کو نہیں جانتا تو وہ ہماری پولیس ہے۔ کیونکہ اندھڑ گینگ کے سربراہ جانو اندھڑ کو حال ہی میں خود پولیس نے کچے کے علاقے سے نکال کر آبادی میں لا کر بٹھایا تھا۔ اور جب وہاں کے مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ یہ ڈاکو شہری علاقوں میں آکر بیٹھے ہوئے ہیں اور پولیس ان کے خلاف کاروائی نہیں کر رہی تو پولیس نے بڑے آرام سے یہ موقف اختیار کر لیا تھا کہ۔۔ اگریہ کسی کو تنگ تو نہیں کر رہے تو آپ کو کیا مسئلہ ہے۔
    اس کے علاوہ کچھ اعلی افسران کچے کے علاقے میں بھی ان کے پاس گئے تھے اور جانو اندھڑ کو جرائم کی دنیا چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان سے مذاکرات کئے گئے کہ اگر وہ خود بھی جرائم کو چھوڑ دیں اور دوسرے ڈاکوؤں کو بھی ایسا کرنے پر قائل کریں تو ان کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جا سکتے ہیں۔
    جس کے بعد ان ڈاکووں اور پولیس میں نہ جانے کیا طے پایا کہ جانو اندھڑ تقریبا ایک ماہ پہلے اپنے چند ساتھیوں سمیت چوک ماہی کے علاقے میں آکر اپنے قلعہ نما ڈیرے میں رہنے لگ گیا۔ جس کی کئی کئی فٹ چوڑی کچی دیواریں ہیں تا کہ ان میں سے بندوق کی گولی آر پار نہ ہو سکے۔
    اس گینگ کے پاس بھاری اسلحہ اور جدید ہتھیار بھی موجود ہیں جن میں مشین گنیں، راکٹ لانچر، گرینیڈ، رائفلیں اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔
    اور حال ہی میں اس گینگ نے اپنے ڈیرے سے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ لیکن پولیس نہ تو اس وقت کر چکی اور نہ ہی اب کچھ ہونے کی امید ہے۔
    جس ڈھٹائی کا مظاہرہ یہ گینگ سوشل میڈیا پر اپنے جاری کئے گئے بیانات میں کر رہے ہیں اس کے بعد صاف نظر آتا ہے ان کو پولیس کا کوئی ڈر خوف نہیں ہے یہ اس چھوٹو گینگ سے بھی کہیں زیادہ بڑا اور خطرناک ہو چکا ہے جس کے آگے ہماری پولیس کئی بار بے بس ہو چکی تھی اور پھر فوج کے ذریعے آپریشن کرکے اس کا خاتمہ کرنا پڑا تھا۔ اس لئے اب جو حالات بن چکے ہیں لگتا یہ ہے کہ اب ایک بار پھر ویسے ہی ایک آپریشن کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جائے اور عوام کو سکون کا سانس مل سکے۔

  • ترقی یافتہ دنیا اور جان لیوا وبائی امراض تحریر  ۔ناصر بٹ

    ترقی یافتہ دنیا اور جان لیوا وبائی امراض تحریر ۔ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    دنیا میں ہر صدی میں ایک بڑی بیماری حملہ آور ہوتی ہی رہی، کبھی بلیک ڈیتھ، کبھی ہسپانوی زکام اور کبھی ایڈز، وبا کا آغاز ہوا تو کئی کئی سال لگ گئے اس کا علاج ڈھونڈنے میں، علاج ملا تو مریضوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے میں وقت لگ گیا یعنی ہر وبا ہزاروں نہی لاکھوں زندگیوں کو نگل چکی، اب موجودہ حالات کو دیکھ لیں تو ڈینگی جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا، ذرا سی موسم نے کروٹ جو بدلی تو آگئی مچھروں کی فوج اور ہوگئی حملہ آور، پولیو جو بظاہر دنیا بھر کی طرح پاکستان اور افغانستان سے بھی کم تو ہوتا نظر آتا ہے لیکن اس کے قطرے پلانے میں بھی جتن کرنا اپنے آپ میں ایک جنگ لڑنے جیسا ہی ہے، کورونا وائرس کی بات کریں تو پہلے ایک پھر دو پھر تین اور اب چار یعنی نام تو نہ بدلا لیکن لہروں کے نمبر بدلتے گئے اور ہر نئی ویو پہلی ویو سے زیادہ خطرناک ہی رہی، لیکن ابھی دنیا میں کاروباری، تعلیمی اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر اپنے معمول پر آئی نہیں تھیں کہ برطانیہ میں عالمی وبا کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا کے نئے ویرئنٹ ’ڈیلٹا پلس’ کے کیسز میں پھیلاؤ رپورٹ ہونے لگا، خبر آئی اور حکام کو دوڑیں لگ گئیں، برطانوی وزارت صحت کہتی ہے کہ کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرئنٹ کی نئی تبدیلی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جو ملک میں وبا کے بڑھتے کیسز کی وجہ بن رہا ہے، اب معاملات کچھ یوں بن چکے کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا، جسے بی 1617.2 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گزشتہ برس برطانیہ میں سامنے آئی تھی تاہم حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے 6 فیصد کیسز جینیاتی طور پر وائرس کی نئی قسم کے ہیں اے وائے.4.2، جسے کچھ افراد ’ڈیلٹا پلس ’ بھی کہہ رہے ہیں، ایسی میوٹیشنز پر مشتمل ہے جو وائرس کو زندہ رہنے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے اب یہ پتا لگانے کے لیے ٹیسٹس کیے جارہے ہیں کہ ڈیلٹا وائرس کی اس نئی قسم سے کتنا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے یا موجودہ ویکسین سے محفوظ رہنے کا امکان نہیں ہے، اسے ابھی تک تشویش کا باعث بننے والی قسم یا زیر تفتیش ویرئنٹ نہیں سمجھا گیا لیکن اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے وائے.4.2 ہے کیا؟ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہزاروں مختلف اقسام یا ویرئنٹس موجود ہیں، وائرس ہر وقت بدلتے رہتے ہیں لہذا ان کی نئی اقسام سامنے آنا کوئی حیران کن بات نہیں لیکن ڈیلٹا کی اصل قسم کو مئی 2021 میں برطانیہ میں باعثِ تشویش قرار دیا گیا تھا جب یہ الفا ویرئنٹ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی سب سے بڑی قسم بن گئی تھی لیکن جولائی 2021 میں ماہرین نے اے وائے.4.2 کی نشاندہی کی تھی، اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ ڈیلٹا کی یہ قسم تب سے آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، اس میں کچھ نئی تبدیلیاں شامل ہیں جو اسپائک پروٹین کو متاثر کرتی ہیں جسے وائرس ہمارے خلیوں میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے، ابھی تک اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملا کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ وائرس زیادہ متعدی ہے لیکن یہ ماہرین ابھی اس پر تحقیق کررہے ہیں
    عالمی وبا کے آغاز سے کورونا وائرس کی دیگر اقسام میں وائے 145 ایچ اور اے 222وی میوٹیشنز پائی گئی ہیں ۔ سائنسدان مسلسل نئی جینیاتی تبدیلیوں کی جانچ کر رہے ہیں جن سے کورونا وائرس گزر رہا ہے کچھ اقسام پریشان کن ہیں لیکن بہت سی غیر اہم ہیں تاہم مشکل کام ان لوگوں کو ڈھونڈنا ، پتا لگانا اور ان کا انتظام کرنا ہے جو اہم ہو سکتے ہیں اس مرحلے پر ، ماہرین کو نہیں لگتا کہ اے وائے.4.2 کو پکڑا جاسکے گا لہذا ہوسکتا ہے کہ اسے واچ لسٹ سے نکال دیا جائے، یونیورسٹی کالج لندن کے جینیٹکس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر فرانکوئس بلوکس نے کہا کہ ’یہ ممکنہ طور پر کچھ زیادہ متعدی قسم ہے انہوں نے کہا کہ ’الفا اور ڈیلٹا اقسام کے ساتھ جو کچھ ہم نے دیکھا اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے ، جو کہ 50 سے 60 فیصد زیادہ متعدی تھیں، فی الحال اس پر تحقیق جاری ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ 10 فیصد زیادہ متعدی ہو پروفیسر فرانکوئس نے کہا کہ اچھا ہے کہ ہم آگاہ ہیں، یہ بہت اچھا ہے کہ ہمارے پاس مشکوک چیزوں کو دیکھنے کے لیےایسی سہولیات اور انفراسٹرکچر موجود ہے انہوں نے کہا کہ ’اس مرحلے پر میں کہوں گا انتظار کریں اور دیکھو ، گھبرائیں نہیں، یہ تھوڑا زیادہ متعدی ہوسکتا ہے لیکن یہ اتنا تباہ کن نہیں ہے جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا تھا۔ اب اس ساری صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ کہیں ایک بار پھر سے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہی اس شدید صورتحال کی وجہ سے بحرانی کیفیت پیدا نہ ہوجائے جس کا بہترین حل یہ ہوگا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے دوڑ لگائی جائے اس بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کی، کوشش کی جائے کہ اپنے شہریوں کو پہلے سے ہی آگاہی دے دی جائے تاکہ بیماری کے ممکنہ حملے کی صورت میں احتیاطی تدابیر کو اپنایا جاسکے

  • بین الاقوامی منظر نامہ کیا کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے .؟ تحریر : نواب فیصل رحمن اعوان

    بین الاقوامی منظر نامہ کیا کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے .؟ تحریر : نواب فیصل رحمن اعوان

    اس وقت دنیا میں افراتفری کا ماحول ہے حالات دنیا بھر میں انتہاٸ کشیدہ ہیں ۔
    اشیاۓ خوردونوش سے لے کر پیٹرول تک تمام چیزوں کی خودساختہ شارٹیج کی جا رہی ہے ۔
    دنیا بھر کے اسٹورز خالی ہو رہے ہیں کسی کو بھی کوٸ چیز لینے کیلۓ ایڈوانس بکنگ کرانا پڑ رہی ہے ۔
    امریکہ کی معیشت اس وقت بلکل گرنے کے قریب ہے ذراٸع کے مطابق امریکہ کو اپنے ہی ملازمین ، فوج اور انٹیلیجنس اداروں کو دینے کیلۓ تنخواہ ہی نہیں ہے ۔
    چین میں اس وقت شدید بجلی کا بحران ہے جس سے چاٸنہ بھی متاثر ہو رہا ہے ۔
    بارڈرز پہ چین لداخ میں آگے پیش قدمی کرنے کیلۓ بھاری آرٹلری اور میزاٸل سسٹم لداخ میں نصب کر چکا ہے ۔
    حالیہ چین کے ہاٸپرسونک میزاٸل سسٹم کے کامیاب تجربے کے بعد دنیا ورطہ حیرت میں ہے کہ چاٸنہ نے آواز کی سپیڈ سے بھی پانچ گنا زیادہ سپیڈ سے نیوکلٸیر وار ہیڈ لے جانے والا ہاٸپرسونک میزاٸل بنا لیا ہے جس کو کسی بھی ریڈار سے ٹریس نہیں کیا جا سکتا اور امریکہ کے پاس اس کو روکنے کیلۓ کوٸ ریڈار موجود نہیں ہے ۔
    بھارت نے لداخ میں سات ہزار فوجی بارڈر پہ بلا لیۓ ہیں بھاری تعداد میں گولہ و بارود ٹینک اور ڈرون طیارے لداخ میں پہنچ چکے ہیں ۔
    کشمیر میں اس وقت فریڈم فاٸٹرز کی جانب سے بھارتی بزدل فوج کو سخت ردعمل کا سامنا ہے کٸ بھارتی فریڈم فاٸٹرز کے حملے میں مردار ہو چکے ہیں ۔
    فریڈم فاٸٹرز نے بھارت کو گھنے جنگلات میں الجھا کے رکھ دیا ہے کٸ بھارتی فوجی فریڈم فاٸٹرز کی جانب سے یرغمال بنا لیۓ گۓ ہیں ۔
    دنیا میں اس وقت پیٹرول کا بحران شروع ہو چکا ہے عالمی منڈی میں اس وقت پیٹرول 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے جس کے دسمبر میں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکانات ہیں ۔
    ڈالر اس وقت اوپر جا رہا ہے پاکستان میں ڈالر اس وقت 174 روپے تک پہنچ چکا ہے ۔
    پاکستان میں پیٹرول کے بحران کو وجہ عناد بنا کے کچھ شرپسند عناصر ملکی اداروں پہ تنقید کر رہے ہیں جنکو عالمی سطح پہ ہونے والے پیٹرول کے اس بحران کے بارے علم بھی ہے ۔
    پاکستان و دنیا بھر میں اس وقت اشیاۓ خوردونوش کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہوچکا ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو بہت حد تک متاثر کیا ہے ۔
    آہستہ آہستہ دنیا کا نظام لپیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے نیو ورلڈ آرڈر قاٸم کرنے کیلۓ یہ سب بحران لاۓ جا رہے ہیں ۔
    دنیا بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں پاکستان بھی ان موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے ۔
    اس وقت پیٹرول سے لیکر اشیاۓ خوردونوش کی قیمتوں کو متوازن رکھنے کی ہر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ۔
    اسوقت دنیا کے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں افراتفری ہے کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے ۔
    پاکستان کو اس وقت اندرونی و بیرونی معاملات پہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔
    بیوروکریسی کو الرٹ جاری کرنے کا وقت آ چکا ہے تاکہ مارکیٹ میں اشیاۓ خوردونوش کی قیمتوں کو متوازن رکھنے کیلۓ فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔
    پاکستان کو چاہیۓ کہ وہ آٸندہ چار پانچ سال تک کسی بھی اشیاۓ خوردونوش کو امپورٹ نہ کرے کیونکہ دنیا میں ایک بحران جنم لینے والا ہے ۔
    پاکستان کو جنگی بنیادوں پہ بیوروکریسی اور پراٸس کنٹرول منیجمنٹ اتھارٹیز کو ایکٹو کرنےکی ضرورت ہے جو ناجاٸز ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایکشن لیں تاکہ اشیا کی خودساختہ شارٹیج کو روکا جا سکے اقر قیمتوں کو متوازن کرتے ہوۓ عام آدمی کی زندگی پہ پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے

    @NawabFebi

  • بھارت میں‌ مسلمان دشمنی کا کامیاب کاروبار، تحریر: محمد شعیب

    بھارت میں‌ مسلمان دشمنی کا کامیاب کاروبار، تحریر: محمد شعیب

    بھارت میں‌ مسلمان دشمنی کا کامیاب کاروبار، تحریر: محمد شعیب

    آجکل بھارت میں صرف ایک ہی کام اور کاروبار کامیاب ہے ۔ ۔ مسلمان دشمنی کا ۔ قتل وغارت کا اور نفرت کا ۔۔۔

    ۔ شاہ رخ خان کے ساتھ تو جو مودی نے کرنا تھا کر چکا ہے ۔ پر اس وقت بھارت میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ شاہ رخ خان کے بیٹے کے بعد اب عامر خان اور سلمان خان بی جے پی کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ ۔ بی جے پی کا اگلا ہدف اب یہ دونوں ہیں جن پر پہلے ہی کچھ کیسز چل رہے ہیں۔ ان تینوں خانوں کا قلع قمع کرنے کے بعد بالی وڈ پر بھی ۔۔۔ شدھ ۔۔۔ ہندوازم کی چھاپ لگ جائے گی ۔ یعنی بالی وڈ پر صرف کپور ، کمار ، دیوگن ، روشن اور سنگھ نام ہی سننے کو ملیں گے ۔ ۔ اس لیے بالی وڈ پر کئی دہائیوں سے راج کرنے والے تینوں خانز سلمان خان، عامر خان اور شاہ رخ خان کا کریئر ٹھپ کرنا بہت ضروری ہے ۔ ۔ اس وقت مودی کا ایجنڈہ نمبرون بھی یہ ہی ہے ۔ کیونکہ اگلے جنرل الیکشن میں اس نے یہ ہی منجن پیچنا ہے کہ میں نے صرف باتیں نہیں کیں بلکہ حقیقی کوشش بھی کی کہ بھارت کی ہر جگہ کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے پاک کیا جائے ۔ اور بھارت کو ہندو ریاست بنایا جائے ۔ ۔ اس حوالے سے ویسے بالی وڈ کے نامور اداکار نواز الدین صدیقی کہہ چکے ہیں کہ بالی ووڈ میں نسل پرستی کا مسئلہ اقربا پروری کے مسئلے سے زیادہ بڑا ہے۔ ۔ میں آپکو بتاوں اس وقت باقاعدہ ایک کمپین کے ذریعے بالی وڈ میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کو ابھارا جا رہا ہے ۔ اور یہ تعصب صرف اداکاروں کے خلاف نہیں ۔ بلکہ سنگرز ، ٹیکنیشنز اور دیگر معاملوں میں بھی ہے ۔ آپ مسلمان ہیں تو بالی وڈ میں اب آپ کے لیے کام نہیں ہے ۔

    ۔ نصیر الدین شاہ ، جاوید اختر ، شبانہ اعظمی ، عمران ہاشمی جیسے سٹار بڑے کھل کر اس پر بات بھی کر چکے ہیں اور اگر آپکو یاد ہو ان لوگوں نے بہت سے مسائل کا سامنا صرف اس لیے کیا کہ یہ مسلمان تھے ۔ حالانکہ آپ اور میں سب جانتے ہیں کہ یہ دین پر کتنا عمل کرتے ہیں ۔ یہ صرف نام کے مسلمان ہیں مگر ان کو اچھی جگہ پر گھر کوئی نہیں بیچتا کیونکہ یہ مسلمان ہیں ۔ شبانہ اعظمی اور عمران ہاشمی والا کیس اس کی سب سے بڑی مثال ہے ۔ سیف علی خان کو تو صرف اس لیے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کانام کیوں تیمور رکھا ۔ پھر شبانہ اعظمی تو ہمیشہ سے ہندوتوا ذہنیت کے نشانے پر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ جو سرکار کے خلاف بولتا ہے اسے غدار وطن قرار دے دیا جاتا ہے۔ ان کی اس ٹویٹ پر مودی ٹولے نے زبردست ہنگامہ برپا کیا تھا ۔خود سوچیں جو سلوک شاہ رخ خان اور انکے بیٹے کے ساتھ کیا جا رہا ہے کیا کسی ہندو سپرسٹار جیسے امیتابھ بچن ، اجے دیوگن ، اکشے کمار وغیرہ کے بچوں کے ساتھ کیا جاسکتا ہے ۔ کیا ان کے بچوں کو بھی بغیر کسی ثبوت کے اتنے دن جیل میں رکھا جا سکتا ہے ۔ حالانکہ شاہ رخ خان practicing muslim نہیں ۔ پر اس کے مذہب کے خانے میں جو مسلمان لکھا جاتا ہے اس نے اس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔ جو سلوک شاہ خان کے بیٹے سے روا رکھا جا رہا ہے اس کے بعد یہ کہنا بہت آسان ہے کہ آریان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ وجہ اس کی صاف ہے ۔ جو شخص کبھی بالی وڈ کا کنگ کہلایا جاتا تھا آج کل اس کی حالت ایک بھکاری جیسی ہوچکی ہے ۔ نہ اس کی کہیں کوئی سنوائی ہو رہی ہے ۔ نہ کوئی اسکو دلاسہ دے رہا ہے ۔ الٹا اس کے خلاف نفرت پیدا کی جارہی ہے ۔ اس کو بھارت اور بالی وڈ پر ایک بدنما دھبا قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس کو دہشت گرد ، سمگلر پتہ نہیں کیا کیا بنایا جا رہا ہے ۔

    ۔ آج آریان خان کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر خصوصی بیرک میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں اپنے والدین شاہ رخ خان اور گوری خان سے بھی ملاقات نہیں کرنے دی جارہی ہے۔۔ جبکہ چودہ اکتوبر کو انہیں جیل کے قرنطینہ سیل سے نکال کر عام وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا۔ ۔ ناز و نخرے میں پلے بڑھے سٹار کڈ آریان خان جیل میں اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں ۔ جیل انکے لیے کسی جہنم سے کم نہیں ہے ۔ دوسری جانب بھارتی ایجنسی نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ رخ خان کے بیٹے کی گرفتاری کے باعث ایک بڑے آپریشن میں کامیابی ملی ہے ۔ حالانکہ یہ تھکی ہوئی ایجنسی ابھی تک ایک بھی ایسا ثبوت یہ عدالت میں پیش نہیں کرسکی جس سے آریان خان کو مزید جیل میں رکھا جاسکے ۔ پر وہ کہتے ہیں نا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔۔۔ وہ والا معاملہ اس وقت بھارت میں چل رہا ہے ۔ ۔ پھر این سی بی والے یہ بھی کہتے ہیں کہ آریان کی گرفتاری پر ہونے والی تنقید ملک سے منشیات کا صفایا کرنے کے مقصد میں ہمیں کامیاب کرنے اور مضبوط بنانے میں مدد فراہم کررہی ہے۔ اور مذکورہ آپریشن مکمل ہونے پر ہم نے ایک کروڑ کی منشیات برآمد کی ہے۔ یہاں ان سے سوال بنتا ہے کہ ایڈانی جو مودی کا یار غار ہے ۔ اسکی تو 20 ہزار کروڑ کی خالص کوکین پکڑی گئی تھی ۔ وہاں انھوں نے آنکھیں بند کیں ہوئی ہیں یا وہاں ہاتھ ڈالتے ہوئے ان کے پیر کانپتے ہیں ۔ کیونکہ مودی اس ایڈانی کا جہاز ہی اپنی الیکشن کمپین کے دوران استعمال کرتا ہے ۔ پر بی جے پی کا پیٹ ننگا اس کے پیٹی بھائی ہی کر رہے ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ بی جے پی اور شیو سینا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ یعنی دونوں انتہا پسند جماعتیں ہیں ۔ مگر کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے بدمقابل ہیں تو اس کیس میں شیو سینا مودی کے خلاف کھڑی ہے ۔

    ۔ اب تو ایک قدم مزید آگے بڑھ کر شیو سینا کے رہنما کشور تیواری نے سپریم کورٹ میں درخواست پیش کرتے ہوئے آریان خان اور دیگر ملزمان کے بنیادی حقوق کا حوالہ پیش کردیا ہے ۔ اور بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملہ میں گرفتار آریان خان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ پھر منشیات کے معاملہ میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے کردار کی بھی تفتیش ہونی چاہئے۔ درخواست میں اس کیس کی عدالت کے ذریعے تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ آریان خان نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے ایک افسر کے انتقام کا شکار ہے۔ ان کے مطابق یہ دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے کہ کوئی شخص جیل کے اندر کئی دن تک ثبوتوں کے کے بغیر رہتا ہے۔

    ۔ پر آپ دیکھ لیجئے گا بھارتی سپریم کورٹ سے بھی شاہ رخ خان کو کوئی انصاف نہیں ملنا ۔ وجہ اسکی یہ ہے ۔ کہ اس ہی سپریم کورٹ نے بابری مسجد اور دیگر معاملوں پر جو فیصلے دیے وہ مسلم اقلیت کے خلاف اور ہندو اکثریت کے حق میں تھے ۔ بھارت میں انصاف مودی اور بی جے پی کے گھر کی لونڈی بن چکا ہے ۔ بھارتی عدالتیں انصاف کرنے سے پہلے کسی بھی ملزم یا مجرم کا مذہب دیکھتی ہیں ۔ اگر تو وہ ہندو ہو تو انصاف مل جاتا ہے اور اگر خدانخواستہ مسلمان ہو تو پھر جیل یا گولی یا پھر کوئی آپ کے ہاتھ پاوں توڑ دے گا ۔ مگر پھر بھی آپکی کوئی سنوائی نہیں ہوگی ۔ اس وقت صرف یوپی میں جیلوں میں قیدیوں میں سے کم از کم 27فیصد مسلمان ہیں۔ مقبوضہ کشمیر جس کو کئی سالوں سے دنیا کی سب سے بری جیل بنادیا گیا ہے۔ CAAکا قانون جس طرح مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔ پھر آئے دن جو مسلمان بستیوں پر آئے دن ہندو بلوائیوں کے حملے کیے جاتے ہیں ۔ وہ بھی آپکے سامنے ہے ۔سوال یہ ہے کہ بھارت میں جرم صرف مسلمان کرتے ہیں جو جیلیں کچھا کچھ ان سے ہی بھری پڑی ہیں ۔ سچ یہ ہے کہ بھارت میں اس وقت ایک فاشسٹ پارٹی کی حکومت ہے جو مسلمانوں کی نفرت میں اندھی ہوچکی ہے ۔ اب یہ مسلمان چاہے بھارت کے اندر رہتے ہوں یا پھر پاکستان ، افغانستان یا بنگلہ دیش میں رہتے ہوں ۔ بھارت ان سب کو دشمن کی نظر سے یہ دیکھتا ہے ۔ ۔ صرف سیاست اور معیشت ہی نہیں ۔ بھارت کی مسلمانوں کے خلاف نفرت کھیل اور شوبز میں بھی دیکھائی دیتی ہے ۔ آپ دیکھ لیں پاکستانی کھلاڑیوں کو یہ آئی پی ایل نہیں کھیلنے دیتے ۔ پاکستانی شوبز اسٹارز پر انھوں نے بالی وڈ کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں ۔ ابھی آج کی سن لیں کہ اس نفرت کا عالم یہ ہے کہ ورلڈ کپ میں بھارتی رہنماؤں نے پاک بھارت میچ کی منسوخی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ۔ بھارتی یونین منسٹر گری راج سنگھ نے کہا ہے کہ پاک بھارت میچ کے انعقاد پر دوبارہ غور کیا جائے کیونکہ دونوں ‏ممالک کے تعلقات اچھے نہیں ہیں اور جب تک تعلقات بہتر نہیں ہوتے میچ کے انعقاد پر غور کرنا چاہیے پاک بھارت بارڈرز پر صورت حال کچھ زیادہ اچھی نہیں اور کافی عرصے سے دونوں جانب تناؤ پایا ‏جاتا ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزیر پرگت سنگھ نے بھی پاک بھارت میچ منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ‏کے تعلقات خراب ہونے کا سبب بننے والے کسی بھی عمل سے گریز کرنا چاہیے۔ ۔ بہار کے ڈپٹی سی ایم تارکیشور پرساد نے بھی میچ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تو دیکھ لیں یہ آگ و خون کا کھیل بھارت میں کس حد تک پہنچ چکا ہے ۔ رہی بات شاہ رخ خان ، سلمان خان اور عامر خان کی تو مجھے دیکھائی دے رہا ہے کہ جلد بھارت کے اندر ان کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا ۔ کیونکہ کسی ہندو راشٹر میں مسلمان سپرسٹار نہیں ہوسکتا چاہے وہ نام کا ہی مسلمان ہو ۔

  • جن و انسان !  تحریر سکندر علی

    جن و انسان ! تحریر سکندر علی

     

    کائنات کی تخلیق سے قبل اللہ تعالی کا عرش العظيم پانی پر تھا

    مگر یہ پانی کہاں پر تھا اور عرش معظم کہاں پر واقع تما ! یہ سوال اس لئے ذہن 

    میں ابھرتا ہے کہ

    جب زمین و آسمان اور تمام سیاراتی نظام وجود میں تھا ہی نہیں تو اس پانی کا وجود

    کہاں تھا، یہ علم غیب ہے، اس کا علم صرف وحدہ لاشریک کو ہے جو اپنی ذات میں

    کائنات کا خالق ہے اور وهو على كل شي عليم» بھی ہے لیکن انسانی ذہن

    کا تجسس حس بیداری کے ساتھ مصروف عمل رہ کر جواب طلب کرتا ہے۔ (اس

    سلسلے میں خاموشی بہتر ہے مزید گفتگو سے پر ہیز کرنا بہتر ہے )۔

    کائنات کی تخلیق کے بعد تین متحرک مخلوقات، ملائکہ ، اجنتا اور انسان کی

    حمایت کی گئی جن میں ملائکہ ( نوری مخلوق) کو

    صرف اللہ سبحانہ کے تعلیم قدرت کو چلانے کے لئے اس کی اطاعت اور اس کے

    حکم سے مخلوقات کی خدمت کے ساتھ ساتھ اس خالق اعظم کی حمد و ثناء اور

    عبادات کرنے کیلئے مخصوس کیا جن کا قیام (یا موجودگی) آسانوں و زمین کے

    اوپر اور درمیان میں کیا گیا تا کہ

    اللہ خالق کائنات و مالک کائنات اور ملاقات کے درمیان رابطه و امور کو انجام

    دے سکیں اور زمین پر خلق اللہ کی کارکردگی اور اعمال میں حکم اللہ سے مددمعاونت کر کے نظم و ضبط قائم رکھ سکیں لیکن

    ہر دو مخلوقات جن وانس اپنے وجودوں کے ساتھ زمین پر بسائی گئیں یا پیدا 

    کی گئیں تا کہ

    زندگی کی رونق کے ساتھ زینت دنیا بن سکیں اور وجود زمین کی وجہ بن سکیں ۔ان

    میں مخلوق جن کو نظر نہ آنے والی مخلوق قرار دے کر آگ سے نہیں بلکہ ان

    کے سب سے بلند شعلے کی لو سے پیدا کیا، جہاں سے دخان (دھواں ) پیدا ہوتا

    ہے اس لئے

    جنات دھواں بن کر انسان میں داخل ہوجاتے ہیں اور نظروں سے پوشیدہ رہتے

    میں

    اس بات کی شہادت میں کہ

    جنات دھواں بن کر کہیں بھی داخل ہو سکتے ہیں میراعینی تجر بہ موجود ہے۔ میرے

    تایا مرحوم اپنے وقت کے زبردست عامل تھے وہ انسانوں پر آئے ہوئے جنات و

    جادو اتارا کرتے تھے (صرف خلق اللہ کی خدمت کیلئے کئی مرتبہ انہوں نے

    ایسے مواقع پر مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر عملی طور پر یہ کام انجام دیئے اور پھر ان

    بات کو لوگوں میں بند کر کے مجھے دکھایا جو دھوئیں کی شکل میں ہوتے تھے ۔ یہ

    وشوں کبھی سفید رنگ کا ہوتا تھا بھی نلکے بھورے رنگ کا اور بھی (بلکہ اکثر)

    گرتے بال کالے رنگ کا جو بل کھاتا ہوا بول میں جا کر گھومتا رہتا تھا پھر وہ ان

    بالوں کو زمین میں فن کر دیا کرتے تھے یہ عینی شهادتی تجر به قرآن و الفرقان کی

    آلات کی تصدیق کرتا ہے۔

    جنات انسانی نظروں سے نظر نہ آنے والی مخلوق حقیقت میں موجود ہے۔ نظرنہآنے کے باوجود وہ مجسم صداقت ہیں اور دنیا میں انسانوں کی طرح پھیلے ہوئے

    ہیں یہ ہر وقت اور ہر جگہ موجود رہتے ہیں مگر

    اپنی نظر نہ آنے والی کیفیات سے نظر نہ آنے سے قاصر رہتے ہیں صرف صاحب

    بصیرت انسان انہیں دیکھ سکتے ہیں یا پھر یہ خود جب چاہیں اپنی رضا سے ظاہر ہو

    سکتے ہیں ۔

    اس سلسلے میں اگر یہ عاجز اپنے دادا حافظ سید حامد علی اور نانا حافظ ولی محمد کا تذکرہ

    بطور خاص شہادت یا گواہی کے لئے پیش کرے تو نا مناسب نہیں ہوگا اس بات

    کی تصدیق میری والدہ اور دوسرے بزرگ حضرات کرتے رہے ہیں ۔ عرض ہے

    کہ میرے دادا اور نانا جو اپنے وقت کے پائے کے عالم اور دین دار تھے جب

    فجر کی نماز کی امامت کیا کرتے تھے تو ان کے شاگردوں اور دوسرے نمازیوں کی

    تعداد کم ہوتی تھی مگر آمین ( سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد) کی آواز بہت زیادہ

    افراد کی ہوتی تھی۔ جب شاگردو حضرات نے ان دونوں بزرگوں یا استادوں

    سے دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ آپ سب کے ساتھ مسلمان جنات بھی

    باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ ان کی آوازیں ہوتی ہیں، میرے دادا حافظ

    سید حامد علی اور نانا حافظ ولی محمد نے اپنے پیچھے بہت سے قابل شاگرد چھوڑے

    جن میں مشہور وقت اور حکمت کی دنیا کے شہرت پائے انسانوں اور جنوں کے کیم

    فیض جناب حکیم اجمل خان اور ان کے شاگرد کیم محمد احمد شامل تھے۔

    میرے قارئین ، آپ سب کے شوق مطالعہ اور میری کتابوں سے محبت میں ہی

    میری تحریروں کی وقعت اور اہمیت کے ساتھ میری عظمت ہے اس مقام پر اپنے

    دونوں جد کی بزرگوں سے متعلق دو باتیں فردا فردا عرض کرنا چاہتا ہوں جو اپنی

    جگہ پر بہت توقیر کی حامل ہیں ۔اول بات میرے دارا حافظ سید علی کی ہے جن کی دینی خدمات کے علاوه

    سماجی خدمات کے اعتراف میں اس وقت کی انگریز حکومت نے ان کیلئے دو اعزازت

    مخصوص کئے جن کیلئے برطانیہ کےبادشاہ جارج پنجم(George Fifth) نے

    ہندوستان آ کر دلی (Dolh1) میں یہ دونوں تمنات میرے دادا کو دئے۔

    یہ دونوں اہمیت کے حامل تمغات میں دئے جانے کے بعد سے میرے دادا

    پھر میرے والد سید محمد (مرحوم) کے بعد میری والدہ اور اب میرے پاس

    محفوظ ہیں ۔ ان دنوں تمغات کو تقریبا ستاسی (۸۷) سال ہو چکے ہیں اب یہ

    .

    میرے پرکھوں کی وراثت کا سرمایہ ہیں جو میری آنے والی نسلوں تک خاندنی وراثت

    میں رہیں گے۔ اس کتاب کے آخری صفحہ پر اس کا کسی بطور نشان پیش ہے۔)

    دوسری اہم بات میرے نانا حافظ ولی محمد کی ہے جنہوں نے اپنے مرنے

    سے قبل اپنے سب شاگردوں سے کہا کہ میرے مرنے کے بعد مجھے قبرستان کے

    اندر نہیں بلکہ قبرستان کے دروازے پر دن کرنا اور میری قبر کو ہموار کر دینا جہاں

    سے قبرستان آنے جانے والے گزرتے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہاں سے کوئی ایسا بزرگ

    ولی گزرے ہے اللہ کی رفاقت حاصل ہو اس کے قدموں کے طفیل میری بخشش

    ہو جائے چنانچہ ان کے اطاعت گزار اور عقیدت مند شاگردوں نے ایسا ہی کیا اور

    آج بھی وہ اسی جگہ ( دہلی میں دئی دروازہ کے قبرستان کے دروازے کے پاس)

    نہیں یاد رہے کہ دلی دروازہ کا قبرستان، فیروز شاہ کوٹلہ کے قریب ہے

  • شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے، تحریر:نوید شیخ

    شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے، تحریر:نوید شیخ

    شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے

    اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور مسلمان ہونے کی سزابھگت رہے ہیں؟

    ۔ کیونکہ جس طرح ان کے بیٹے آریان خان کی ضمانتیں کی درخواستیں بار بار مسترد کی جا چکی ہیں ۔ اس سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ پھر جو ان کے بیٹے کو لے کر شاہ رخ خان کی
    character assisnation کی جارہی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ جو شاہ رخ خان کے نام کو بھارت میں گالی بنایا جا رہا ہے وہ بھی پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ آگے چل کر میں آپکو تفصیل سے بتاؤں گا کہ کیسے بھارتی حکومت ، ادارے اور میڈیا جھوٹی خبروں کو شاہ رخ خان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔ اور ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے ۔ ۔ حقیقت میں اس کیس نے نئے الزامات کو جنم دیا ہے کہ بھارتی حکومت ملک کے سب سے بڑے مسلمان اداکار کے بیٹے کو صرف ان کے مذہب کی وجہ سے ہراساں کر رہی ہے۔ ۔ یاد رکھیں جب آپ کی ایک نہ چلے ۔
    ۔ جب آپ کا روپیہ پیسہ ، اثر رسوخ اور تعلقات بھی کام نہ آرہے ہوں اور سب سے بڑھ کر جب آپکو انصاف نہ ملنے کی امید ہو ۔ تو پھر لوگ دعاوں کے ذریعے منتوں مرادوں کی تکمیل کی جانب راغب ہوتے ہیں اب ایسا ہی شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان نے بیٹے آریان خان کی رہائی کے لیے منّت مان لی ہے۔۔ اسوقت شاہ رخ خان اور ان کی پوری فیملی آریان خان کی گرفتار ہونے کی وجہ سے بہت تکلیف دہ اور مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ ساتھ ہی جو سلوک اس وقت بھارت میں ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے شاہ رخ خان اور فیملی شدید مایوس ہیں ۔

    ۔ جہاں شاہ رخ خان بیٹے کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تو گوری خان بیٹے کی رہائی کے لیے مسلسل دعائیں کر رہی ہیں۔۔ اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ آریان خان کو جیل میں قیدی نمبر مل گیا ہے ۔ اب انہیں قیدی نمبر 956 کے نام سے پکارا جائے گا۔ مجھے تو یہ بھی ایک سازش اور پلان کا حصہ دیکھائی دیتا ہے کہ اریان کو اب اس نمبر 956کے ذریعے پکارا جائے اور یاد رکھا جائے ۔ ۔ جیل کے اندرونی ذرائع کے مطابق آریان خان جیل کا عام کھانا کھارہے ہیں لیکن اسے پسند نہیں کررہے ساتھ ہی انہیں باہرکا کھانا کھانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔۔ اس کے علاوہ جیل انتظامیہ کو آریان کی فیملی کی جانب سے ساڑھے چار ہزار روپے کا منی آرڈر موصول ہوا ہے جس پر 11 اکتوبر کی تاریخ درج ہے۔ یہ پیسے آریان کے کینٹین کے اخراجات کے لیے ہیں۔ جیل قوانین کے مطابق ایک قیدی کے لیے ایک ماہ میں صرف ساڑھے چار ہزار روپے کے منی آرڈر کی ہی اجازت ہے۔۔ دیکھا جائے تو آریان خان کی جیل میں زندگی انتہائی کربناک ہے کیونکہ شہزادوں کی طرح اپنے گھر میں رہنے والے آریان خان کو باتھ روم کے استعمال میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ۔ کیونکہ ممبئی کی سینٹرل جیل میں وہی پانی دستیاب ہے جو باتھ روم کے نلکوں میں آتا ہے۔ جیل کی دیواریں انتہائی گندی ہیں جن میں سے ہر وقت بو آتی رہتی ہے۔ جیل کے باتھ روم کے لاک بھی نہیں ہیں جب کہ باتھ روم کے باہر بھی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں جس کے باعث اپنی باری آنے پر ہی کوئی بھی ملزم اندر جاتا ہے۔۔ جیل میں چوہوں اور چھوٹے موٹے کیڑوں کی بھرمار ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس کو تنگ کرنے کے لیے بھی رات کو ایسے چیزوں کو چھوڑا جاتا ہے اور ان آوازوں کا استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ مسلسل ایک ڈر کی کیفیت میں رہے ۔ اس وجہ سے جیل اریان خان کے لیے ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے ۔ ۔ اس کیس میں اب تک 18 مرد اوردو خواتین سمیت بیس افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ تمام گرفتار ملزمان کو دیگر قیدیوں سے الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے۔ پر آپ بھارتی میڈیا کی دونمبری چیک کریں آپ نے ابھی تک ان 18 میں صرف اریان خان کے باپ شاہ رخ خان کا نام ہی سنا ہوگا باقی کس کا کون باپ ہے ۔ خاندان کیا کرتا ہے ۔ اس بارے بھارتی میڈیا مکمل خاموش ہے ۔ کیونکہ ان کا ایجنڈہ صرف اور صرف شاہ رخ خان کو ٹارگٹ کرنا ہے ۔ پھر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے متضاد اور مضحکہ خیز خبریں پھیلائی جارہی ہیں ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ شاہ رخ خان اور اسکے بیٹے کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں عدالت میں تو ثابت نہیں ہوسکتیں ۔ مگر اس موقع پر ایسی من پسند خبریں چلوا کر نارکوٹکس کنٹرول بیورو شاہ رخ خان کے امیج کو وہ نقصان پہنچا رہے ہیں جس کا ازالہ شاید کبھی نہ ہوسکے ۔

    ۔ سب سے پہلے تو متواتر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے یہ خبر چلوائی جا رہی ہے کہ آریان خان نشے کا باقاعدہ عادی ہے۔ بالکل کہا جا رہا ہے کہ وہ سرٹیفائیڈ نشی ہے ۔ میڈیا پر بھونڈے قسم کے گانے لگا کر اس پر مختلف رپورٹس کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر بیچا جا رہا ہے ۔۔ پھر دوسرا پراپیگنڈہ یہ کیا جا رہا ہے کہ آریان خان منشیات کی غیرقانونی اسمگلنگ میں ملوث ہیں یہاں تک اس کے اس کا لنک دؤاد ابراہیم تک سے جوڑا جا رہا ہے ۔ اور اس کو انوسٹی گیٹیو اسٹوریز کا نام دیا جا رہا ہے ۔ ۔ بغیر ثبوت کے آریان کی واٹس ایپ چیٹ کا بھی خوب ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ اس میں زیادہ مقدار میں منشیات کا انکشاف ہوا تھا جو کہ صرف ایک شخص کے استعمال کے لیے نہیں ہوسکتی۔ پھر بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آریان کی جانب سے این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر واکھنڈے سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ایسا انسان بن کر دکھائیں گے کہ ایک دن آپ مجھ پر فخر کریں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ آریان نے دوران معاشی اور سماجی طور پر کمزور افراد کی مدد کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے اور وہ غلط راستے پر اب کبھی نہیں جائیں گے۔ یوں اس طرح کا بیان اریان خان سے منسوب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جیسے اریان خان نے اعتراف جرم کر لیا ہو کہ وہ نشہ بھی کرتے تھے ۔ خریدتے بھی تھے ۔ بیچتے بھی تھے ۔ پر یہ منجن بھارتی میڈیا پر عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے بیچا جا رہا ہے ۔ جب کہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے این سی بی کی پاس نہ تو ثبوت ہیں نہ کوئی گواہ ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں اریان کو حراست میں رکھنے کے لیے بھی این سی بی کی پاس کوئی ٹھوس توجیح نہیں ۔ پر کیونکہ اس وقت بھارت میں ہندو راج ہے تو کسی بھی مسلمان کو جیل میں ڈالنے کے لیے نہ تو کسی قانون کی ضرورت ہے نہ ہی کسی ثبوت کی ۔

    ۔ اب ان سب اور تمام کہانیوں کے پیچھے کسی کو شک ہے کہ این سی بی ، بی جے پی اور آرایس ایس کا ہاتھ کارفرما نہیں تو پھر یا تو وہ اندھا ہے یا پھر ہندوتوا کا پجاری ۔ ان کا اصل مشن یہ ہے کہ کسی طرح شاہ رخ خان سے وہ درجہ واپس لیا جائے کہ وہ اب بھارت کا مزید سپرسٹار نہ رہے ۔ اس کو اتنا گندہ کیا جائے کہ اس کا نام ایک گالی بن جائے ۔ اس تمام کھیل میں جہاں بھارتی حکومت اور ادارے ملوث ہیں ۔ مودی کا گودی میڈیا بھی اس ایجنڈے پر لگا ہوا ہے ۔ جو ہر طرح کا گند اور جھوٹ شاہ رخ اور اریان خان پر تھوپ رہا ہے ۔

    ۔ دراصل بھارت میں ہر برائی کی جڑ مودی ہے ۔ اور جب سے یہ وزیر اعظم بنا ہے ۔ کوئی امیر مسلمان ہو ، اثر رسوخ والا مسلمان ہو ، مشہور مسلمان ہو یا پھر کوئی عام غریب مسلمان ہو ۔ مودی کے شر سے محفوظ نہیں ۔ بھارت کو مسلمانوں کے لیے جہنم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ مودی جو کچھ کر رہا ہے اس میں بنیادی کردار آرایس ایس کی ٹریننگ کا ہی ہے کہ مودی نے بطور وزیراعلیٰ ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا اور نہ کبھی انکے قتل پر پشیمان ہوا اور نہ ہی کبھی مذمت کی۔الٹا مودی تو فخر کرتا ہے کہ اس کو butcher of gujaratکہا جاتا ہے ۔۔ مودی کا وزیراعظم بننے کے بعد بھی رویہ ویسا ہی ہے جو گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر تھا جو اسکے انتہا پسند ہونے کی واضح دلیل ہے۔ بھارتی ریاستی ادارے بالخصوص انصاف کا نظام بی جے پی حکومت میں عملی طور پر مفلوج ہے۔ کیونکہ ایک جانب جہاں اڈانی مودی حکومت کی برکت سے ہیروئن سمگلنگ کے کیس میں بھی بچ جاتا ہے ۔ تو شاہ رخ خان کا بیٹا کوئی جرم کیے بغیر بھی جیل میں گل سٹر رہا ہے ۔ آپ دیکھیں بھارت میں انتہاپسند ہندؤ روزانہ کسی نہ کسی مسلمان کو سٹرکوں پر گھیر کر نشان عبرت بنا رہے ہوتے ہیں ۔ پر آج تک نہ تو ان میں سے کوئی پکڑا گیا ہے نہ اسکو سزا ملی ہے ۔ الٹا آپ بھارتی جیلوں میں جا کر دیکھیں تو مسلمانوں سے یہ بھری پڑیں ہیں ۔ جنونی ہندو اس وقت مسلمانوں کے خون کے پیسے ہیں ۔ آسام والا معاملے میں دیکھ لیں ۔ اب تو مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کی آنکھیں بھی کھول گئی ہیں اور انھوں نے پورے مشرق وسطی میں بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے لیے مہم شروع کردی ہے۔

    ۔ کویت اسمبلی کے ارکین بھارتی حکام اور انتہا پسند گروہوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف مظالم کی مذمت کر رہے ہیں ۔ تو عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد الخیلی نے کہا ہے کہ بھارت میں انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بھارتی حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ بین الاقوامی برادری اس جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔۔ تو یہ ہے آج کا shinning indiaجہاں ہندو راج ہے ۔ ۔ جہاں کسی مسلمان ، سکھ ، مسیحی کا نہ مال محفوظ ہے نہ ہی جان ۔۔۔

  • دیکھنا کہیں دل مردہ نہ ہو جائے”تحریر: انیس الرحمن باغی

    دیکھنا کہیں دل مردہ نہ ہو جائے”تحریر: انیس الرحمن باغی

    ماہ ربیع الاوّل کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف در و دیوار برقی قمقموں سے سجائے جا رہے ہیں۔۔۔

    مبارکبادیں دی جارہی ہیں۔۔۔

    اک نئی عید کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔۔۔

    عشق رسول کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔۔۔

    منبر و محراب سے سیرت النبیؐ بیان ہو رہی ہے۔۔۔

    گویا منظر کچھ بدلا بدلا سا ہے،

    لیکن بات کچھ اس طرح ہے کہ خوشی بجا کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اے بنی انسان تم پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہم نے تم کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیے۔۔۔

    محبت کے سب دعوے بجا۔۔۔

    سیرت میں زلف و رخسار مبارک کی باتیں بجا۔۔۔

    لیکن کیا سال میں کچھ دن یوں محبت کے خالی خولی اور ڈھونگ دعوئوں سے محبت کا حق ادا ہو جائیگا؟؟؟

    کیا گھروں پر چراغاں کرنے سے مردہ دل میں بھی کوئی ایمان کی حرارت جاگے گی؟؟؟

    کیا صرف صورت رسولؐ بیان کر کے سیرتِ رسولؐ کا حق ادا ہو جائیگا۔۔۔۔؟؟؟

    نہیں کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔!!!!

    کسی بھی صورت میں نہیں۔۔۔۔!!!

    کیونکہ۔۔۔

    کیا فائدہ اس چراغاں کا کہ دلِ مردہ میں حبِ نبی صلی الله عليه وسلم کی لو نہ جل سکے؟؟؟

    کیا فائدہ اس محبت کا جو زبان سے تو بیان ہو لیکن حلق سے نیچے نہ اترے ہمارے جسم و جاں اس عشق میں رنگے نہ جا سکیں؟؟؟

    کیا فائدہ اس سیرت النبیؐ کے بیان کرنے کا کہ جس میں نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی زلف کا ذکر ہو رخسار کا تو ذکر کر کے عوام سے داد وصول تو کروا لی جائے واہ واہ کے ڈونگرے برسا لیے جائیں لیکن نبی مکرمؐ کی سیرت سے حسن اخلاق اور دیگر اقوام کے ساتھ سلوک کو بیان نہ کیا جائے۔۔۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کو بیان نہ کیا جائے۔۔۔
    ان کے رحمتِ عالمؐ ہونے کے خصائص بیان نہ کیے جائیں۔۔۔

    ہاں سب کچھ بجا تم عشق و محبت میں سب کچھ کرو لیکن خدارا اس محبت کو در ودیوار اور ممبر و محراب، زبان و کلام، بیان و انداز سے نکال کر ذرا اس دل میں بھی جگہ دو پھر دیکھو کہ کیسے یہ محبت اپنا رنگ چڑھاتی ہے؟؟؟

    دیکھنا کہیں گھروں کو روشن کرتے رہو اور دلِ مردہ اسی طرح بجھا رہ جائے تو پھر یہ دعوے کسی کام کے نہیں رہیں گے ہمیں تو اس شعر کی عملی تفسیر بننا پڑیگا تب جا کر بات بنے گی۔۔۔

    مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو
    ادھر ہو فرمانِ محمدؐ ادھر گردن جھکائی ہو

  • فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز پوری دنیا کا ایک مسئلہ ہے جسے کاؤنٹر کرنے کے لئے ہر ملک میں کوڈ آف کنڈکٹ بنایا گیا ہے، ایسے عناصر جو جعلی خبریں چلاتے ہیں انہیں سخت سے سخت سزا اور جرمانے کیے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ سازشیں ایسی ہوتی ہیں جس میں فیک نیوز پھیلانے والے عناصر یا تو جعلی اکاؤنٹ کا سہارا لیتے ہیں یا پھر بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کرتے ہیں۔

     دنیا میں کچھ ایسے ملک بھی ہیں جو مس انفارمیشن پھیلا کر دوسرے ملکوں کو ڈی سٹیبلائزر کرتے ہیں۔ جس کی حالیہ مثال بھارت کا وہ نیٹ ورک تھا جو فیک ناموں سے بیرونی ملک بیٹھ کر ملک اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے تاکہ مغربی ممالک پاکستان پر پابندیاں لگا سکیں۔

    یورپی یونین میں فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن پر کام کرنے والے ایک تحقیقی ادارے ‘ای یو ڈس انفو لیب’ کی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر سال قوام متحدہ کا انسانی حقوق سے متعلق اجلاس میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور انسانی حقوق سے متعلق جھوٹی من گھڑت ڈس انفارمیشن پھیلائی جاتی ہے۔

    یورپی یونین کے اس تحقیقاتی ادارے کے مطابق ڈس انفارمیشن پھیلانے والے ان اداروں کے تانے بانے بھارت سے جا ملتے ہیں۔ یہ تحقیقات اتنی وسیع ہیں کہ اس میں غیر سرکاری تنظیمیں اور این جی اوز، بڑے پیمانے پر فیک نیوز پھیلانے والی ویب سائٹس اور ان سے جڑی شخصیات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔ 

    اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنا اور بھارت کا نیریٹیو کو بڑھاوا دینا تھا۔ اس نیٹ ورک کی سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ یہ ڈس انفارمیشن اتنے بڑے پیمانے پر پھیلا دیتے تھے کے بظاہر ایسا لگے گا جیسے جو موقف پیش کیا جا رہا ہے اس کو ایک بہت بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہے۔ اس مقصد کے لیے این جی اوز کا استعمال کیا گیا جن کا کام انسانوں کی خدمت نہیں بلک پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا اور خطرناک پراپیگنڈے کو مغربی ممالک میں پذیرائی دینا تھا۔

    اس نیٹ ورک کا سب سے اہم مقصد کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا اور یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو جو تجارتی مراعات "جی ایس ٹی پلس” کی صورت میں دی جا رہی ہیں ان کو روکنا تھا۔

    پاکستان نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کے وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا کر سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی پر سخت نوٹس لے۔

    اسی طرح کا پراپوگنڈا اندرونی سطح پر بھی کیا جاتا ہے کچھ ایسے صحافی جن کا کام دن رات جھوٹی خبریں پھیلا کر ملک کے امیج کو بین الاقوامی سطح پر خراب کرنا ہے۔ اگر ایسے صحافیوں کو انہی کی پھیلائی ہوئی جھوٹی خبروں پر محاسبہ کیا جائے تو یہ آزاد صحافت کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ 

    عمران خان کی حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے فیک نیوز پر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا دن رات ایسی جھوٹی من گھڑت کہانیاں چھاپی گی جن کا سرے سے کوئی وجود نہیں تھا۔ ایسے ایسے صحافی جو ٹی وی پر بیٹھ کر پاکستان کی معیشت پر تبصرے کرتے دیکھا گیا جن کا معیشت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، کیا ہم اسے محض صحافتی بد دیانتی کہیں یا ملک دشمنی؟

    لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں صاف دامن صحافی بھی موجود ہیں جن کے قلم کی روشنی سے صحافت کا مان زندہ ہے۔ اور ایسے صحافیوں کو حکومت اور عوام کی طرف سے سہرایا بھی جاتا ہے۔ 

    ضرورت کی چیز کی ہے کہ اب ہمیں بھی پاکستان میں ایک ایسا صحافتی رول آف بزنس بنانا ہوگا جس سے جھوٹی خبریں پھیلانے اور ملکی اداروں کے خلاف زہر اگلنے والے ایسے عناصر جو بیرونی ایجنڈوں کے ساتھ کام کرتے ہیں انہیں سخت قانون سازی سے قانون کی گرفت میں لایا جا سکے، اب یہ نہیں ہو سکتا کہ آزاد صحافت کے نعروں کے پیچھے چھپ کر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔

    تمام صحافتی ادارے آیا وہ پرنٹ میڈیا سے ہے یا ڈیجیٹل میڈیا سے انہیں مل بیٹھ کر حکومت کے ساتھ مخلصانہ لائے عمل ترتیب دینا ہوگا جس سے آنے والی نسلیں صحافت کے اس مقدس فریضے کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • تصویریں تحریر۔محمد نسیم

    فیس بک پر کسی کی کیمرے سے کھنچی گئ تصویریں دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ادوارِ ماضی کے وہ لمحات یاد آگئے جب کیمرے کی ایجاد ہماری زندگی میں آئی. آج کی نسل جو اینڈرئڈ موبائل سے مستفید ہورہی ہے اور اس کے استعمال میں اتنی ماہر ہے کہ وقتِ مشکل ہم بڑوں کو بھی اس کی رہنمائی کی ضرورت پڑ جاتی ہے شائد اس دلچسپ تجربے سے ناآشنا ہے
    ہمارے معاشرے میں کیمرا عمومی طور پر 80 کی دہائی میں وارد ہوا اس سے پہلے یہ کام فوٹو سٹوڈیو تک محدود
    تھا
    اس کیمرے کا استعمال جب فوٹو گرافر سے عام شہری تک آیا تو دلچسپ واقعات رونما ہوتے تھے مثلاً کیمرے کو چلانے کے لئے کسی پڑھے لکھے فرد کی خدمات حاصل کی جاتیں جو اندھوں میں کانا راجہ ہوتا کیمرے میں فلم ڈلوانا بھی ایک احتیاط طلب کام تھا فوٹو گرافر تاکید کرتا تھا کہ فلم کو رشنی نہ لگنے پائے ورنہ تصویرں ضائع ہوجائیں گی. تصویرکشی کے بھی انوکھے واقعات ہوتے خاص طور پر خواتین اس کے لئے پہلے سےخاص زرق برق لباس اور بناؤسنگھار کا اہتمام کرتیں اور یہ مفروضہ بھی عام تھا کہ میلے کچیلے کپڑوں میں تصویر صاف آتی ہے فوٹو سیشن کے وقت انوکھے پوز بنائے جاتے 36 تصویروں کی فلم کا کیمرے سے دھیان لگایا جاتا کے کتنی تصویریں باقی رہ گئی ہیں یہ فوٹو سیشن مختلف مراحل میں مکمل ہوتا. ساتھ میں فوٹو گرافر کی تاکید ہوتی کہ زیادہ دیر کیمرے میں فلم رہنے سے فلم ضائع ہوجائے گی چناںچہ اس خوف کے باعث تصویریں اتروانے کاکام جلد از جلد کم و بیش ایک ہفتے سے بھی پہلے مکمل کرلیا جاتا
    تصویریں صاف کروانے کے لئے ایک مرتبہ پھر فوٹو گرافر سے رجوع کیاجاتا اور فی کس تصویر دلھوائی کا ریٹ طے ہوتا فوٹو گرافر ایک نیم تاریک کمرے میں جا کر کیمرے سے فلم نکال کر کیمرا واپس کرتا اور تصویروں کی دھلوائی کا رسید کی صورت میں وقت دیتااور اس مقررہ وقت کا بڑی بیتابی سے انتظار ہوتا اپنے آپ کو رنگیں تصویر میں دیکھنےکا ہرکسی کو شوق ہوتا
    تصویروں کی دھلوئی پر فوٹو گرفر البم فری میں دیتا جس کی خوشی الگ ہوتی 36 کی فلم میں چند تصویریں لازم ضائع بھی ہوتیں اپنی تصویروں کو دیکھنے کا بھی عجب تجربہ ہوتا تصویروں کو دیکھنےپر مختلف لطیفے دیکھنے کو ملتے مثلاً تصویر بنوانے والے نے خوبصورت پوز بنایا ہے لیکن فلش لائٹ کے باعث آنکھیں بند بعض اوقات اناڑی کیمرامین کسی کی تصویر لیتے وقت اس کے پاؤں یا فرش کو ہی فوکس کرگیا گروپ فوٹو کی صورت میں میلوں دور سے تصویر لی جاتی جس کو بائو سکوپ کے بغیر دیکھنا ممکن نہ ہوتا
    وہ خواتین و حضرات جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے کے وہ بہت حسین وجمیل ہیں اپنی تصویریں دیکھنے کے بعد سخت مایوسی کا شکار ہوتے ایک ایک تصویر کو بار بار دیکھا جاتا اور اس پر تبصرہ کیا جاتابعض تصاویر کو سیدھے اینگل سے دیکھنے کے کئے دیکھنے والے کو اپنی گردن کا اینگل الٹا کرنا پڑتاغرض آج کی انڈرئیڈ یوزرجنریشن اس پرلطف تجر بے کو کیا جانے

    @Naseem_Khera