Baaghi TV

Category: متفرق

  • کنگ آف کامیڈین عمر شریف تحریر:عثمان

    کنگ آف کامیڈین عمر شریف تحریر:عثمان

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی۔۔۔ 

    ایک شخص سارے جہان کو ویران کر گیا۔۔۔

    اسٹیج کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف جرمنی میں انتقال کر گئے اور کروڑوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ گئے .کامیڈی کنگ عمر شریف 19 اپریل 1955 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہوئے . انہوں نے اپنے کیرئر  کا آغاز 1974 میں 14 سال کی عمر میں اسٹیج اداکاری سے کیا 1980 میں پہلی بار انہوں نے آڈیو کیسٹ سے اپنے ڈرامے ریلیز کیے۔ عمر شریف کی اداکاری سے بے ساختہ قہقہوں کا طوفان سا آجاتا تھا۔ ٹی وی، اسٹیج ایکٹر، فلم ڈائریکٹر، کمپوزر ،شاعر، مصنف اور پروڈیوسر یہ تمام صلاحیتیں عمر شریف کی شخصیت کی پہچان تھی ۔ساتھی فنکاروں کا کہنا تھا کہ عمر شریف  اپنی ذات میں انجمن تھے جن سے تمام کامیڈینز نے سیکھا ہے۔اسٹیج اور تھیٹر کی تاریخ عمر شریف کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے ۔نامور فن کار نے اپنی اداکاری کے ذریعے نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ۔ یہ ستارا جو کروڑوں لوگوں کو ہنساتا تھا آج سب کو رُلا گیا چند روز قبل خبر آئی کہ پاکستان کے معروف کامیڈین عمر شریف کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہوگئی ہے ۔ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل تھیں جن میں انہیں  وہیل چیئر پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے ۔عمر شریف کے کروڑوں مداح اپنے پسندیدہ قومیڈین کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو تھے۔ عمر شریف نے زیادہ طبیعت خراب ہونے پر اپنے ارباب اختیار سے علاج کے لیے درخواست بھی کی تھی کیوں کہ ڈاکٹروں کے مطابق عمر شریف کا علاج امریکہ یا جرمنی میں ممکن تھا ۔تو شرم کی بات اس قوم کے لئے یہ ہے کہ ایک قومی ہیرو جس نے اس ملک پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا وہ کافی دنوں سے بیمار تھے تو یہ بات پورے پاکستان کو پتہ تھی کہ عمر شریف بیمار ہے بجائے اس کے کہ کوئی سماجی یا سیاسی شخصیت اس قومی ہیرو کی جیتے جی مدد کرتے اس قومی ہیرو کے شدید بیمار ہونے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔۔ پھر عمر شریف جب زیادہ بیمار ہوئے تو مجبوراً عمر شریف نے خود ہی علاج کی لیے مدد کی اپیل کی اور فلم نگاروں نے بھی سوشل میڈیا پر عمر شریف کی علاج کے لیے مدد کی اپیل کی اور دعاگو بھی رہے ۔ تو کچھ دنوں بعد سندھ حکومت کو ہوش آیا اور عمر شریف کے علاج کا ذمہ اٹھایا پھر اس علاج کا کیا فائدہ جب بندہ  اتنا بیمار ہوجائے کہ اسے ہوش ہی نہ رہے۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ جو قسمت میں ہوتا ہے وہی ہوتا ہے لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ” کوشش قسمت کو بدل دیتی ہے ” تو سندھ حکومت نے عمر شریف کے علاج کے لئے 4 کروڑ روپے دینے کا اعلان کر دیا ساتھ ہی ‏ایئر ایمبولینس کا انتظام  کیا جس میں عمر شریف امریکہ کی طرف  روانہ ہوگئے پھر راستے میں عمر شریف کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو ایئرایمبولینس کو جرمنی اتارا گیا تو وہیں اسٹیج کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف انتقال کر گئے اور کروڑوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ گئے یہ خبر سنتے ہی کروڑوں مداح، فنکار، اداکار، سیاسی، سماجی رہنماؤں، ڈرامہ نگار، کامیڈین سمیت انڈین بالی ووڈ اسٹار امیتابھ بچن،شاہ رخ خان ، عامر خان، سلمان خان،کامیڈین کپل شرما،سدھوں پاجی نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ان اسٹاروں کا کہنا تھا کہ اب شاید ہی کوئی عمر شریف جیسا کامیڈی کنگ اس دنیا میں آئے ۔پہلے کمیڈین معین اختر پھر سکندر صنم اور اب عمر شریف اس دنیا سے کوچ کر گئے اور قومیڈی میں خلا چھوڈ گئے اب شاید ہی کوئی اس خلا کو پورا کریں ۔اور پھر  عمر شریف کو ان کی خواہش کے مطابق” عبداللہ شاہ ہجویری ” میں سپر د خاک کر دیا گیا ۔ہماری یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی عمر شریف کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے آمین ۔۔

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمیں ۔۔۔

    سو گئے ہم داستان کہتے کہتے ۔۔۔

    Twitter’ @Usmankbol

  • کراچی کے ذائقے تحریر: فہد احمد خان

    کراچی کے ذائقے تحریر: فہد احمد خان

    ویسے تو پاکستان کے دیگر شہروں کے کھانے بھی بہت مشہور ہیں جیسے لاہور کے مرغ چھولوں اور بلوچستان کی سجی کی تو کیا ہی بات ہے، لیکن بات کی جائے کراچی کے کھانوں کی تو کراچی سا ذائقہ پورے پاکستان میں کہیں ڈھونڈتے نہیں ملتا۔ اس بات سے وہ لوگ بخوبی واقف ہوں گے جو کراچی میں رہائش پذیر ہوں اور کسی بھی سلسلے میں پاکستان کے دوسرے شہروں میں سفر کیا ہو، ایسے افراد بھی واقف ہوسکتے ہیں جنھوں نے مختلف شہروں کا سفر کیا ہو اور ہر جگہ کے ذائقوں سے واقف ہوں۔ کراچی کے ذائقے کا مدمقابل کوئی نہیں اس بات کا اعتراف غیر ملکی بھی کرتے ہیں۔

    اگر لزیز اور چٹخاروں کے شوقین کراچی آجائیں تو یہ شہر انہیں کسی صورت مایوس نہیں کرے گا … کراچی کی مشہور فوڈ اسٹریٹس ہر قسم کے ذائقے کا ذخیرہ رکھتی ہیں جن میں برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ، بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ، حیسن آباد فوڈ اسٹریٹ، سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ، نارتھ ناظم آباد فوڈ اسٹریٹ، ساحلے سمندر ایک حسین اور تازی ہوا کے ساتھ دو دریا فوڈ اسٹریٹ بھی موجود ہے۔

    انہیں میں سے ایک برنس روڈ ہے جو کہ تاریخی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ ذائقوں کا مرکز بھی بنتا جارہا ہے، پہلی ہی دہلی ربڑی, فریسکو بیکری اور آزاد بن کباب کے لئے مشہور تھا مگر اب تو شنواری سے لے کر کراچی حلیم اور وحید کباب تک سارے ہی ذائقہ ایک سڑک پر مل جاتے ہیں،

     دن بھر کی مصروف ترین اس سڑک پر رات کا اندھیرا پھیلنے کے بعد اس سڑک کے دونوں اطراف کو ٹریفک کے لئے بند کردیا جاتا ہے مغرب کے بعد ماحول ہی تبدیل ہوجاتا ہے پورا دن جہاں ٹریفک کا شور، دھواں، ہارن کی آواز یہ سب پُر سکون ماحول میں تبدیل ہوجاتی ہیں پوری فضا ہی آپ کا مصالحہ دار خوشبووں کے ساتھ استقبال کرتی نظر آئے گی …

    نہ صرف برنس روڈ بلکہ کراچی کے بیشتر علاقوں میں مشہور فوڈ اسٹریٹس قائم ہیں، جن کی شہرت نہ صرف پورے پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پائی جاتی ہے۔ جن میں برنس روڈ کے علاوہ بوٹ بیسن، سندھی مسلم سوسائٹی، محمد علی سوسائٹی، حسین آباد اور زمزمہ شامل ہیں۔

    بوٹ بیسن کی فوڈ اسٹریٹ بھی کراچی کی پرانی فوڈ اسٹریٹ میں شامل ہیں، یہاں ہر طرح کے میسر ہیں، دیسی کے ساتھ ساتھ یہاں ولایتی کھانوں کی ورائٹی بھی پائی جاتی ہے۔

    کراچی کے پوش علاقے پر واقع سندھی مسلم سوسائٹی کی فوڈ اسٹریٹ بھی اپنی مثال آپ ہے، یہاں صرف بڑے ریسٹورانٹ ہی واقعی نہیں بلکہ کھانے کے ساتھ ساتھ لسی، جوس، کافی، اور چٹخاروں جیسی ورائٹی بھی ملتی ہے۔

    اگر کراچی کے علاقے عائشہ منزل پر واقع حسین آباد فوڈ اسٹریٹ کی بات کریں تو اس کی ایک الگ ہی بات ہے، یہاں صبح کے چار بجے بھی رات دس بجے جیسا سماع ہوتا ہے۔ یہاں ہر طرح کے کھانے ملتے ہیں لیکن یہاں کی سب سے مشہور ڈش کٹاکٹ ہے، یہاں ایک گلی گولہ گنڈا اور سوپ کی دوکانوں کی بھرمار کی وجہ سے گولہ گنڈا اور سوپ گلی کے نام سے مشہور ہے۔

    زمزمہ فوڈ اسٹریٹ کے تو کیا ہی کہنے ہیں، صبح کا ناشتہ ہو یا رات کے کسی بھی پہر لگی بے وقت بھوک، نفاست پسندوں کے لیے کراچی میں زمزمہ فوڈ اسٹریٹ سب سے بہتر انتخاب ہے، یہاں جیب ہلکی کردینے والی لیکن بہترین کھانوں کے ہے طرح کے ریسٹورانٹ موجود ہیں۔

    کراچی کے ذائقے شہر قائد کے سوا کہیں اور ملنے مشکل ہی نہیں ناممکن ہی ہوتے سوائے ایک صورت میں جب کہ پکانے والا کراچی کا ہو … 

    کراچی آنے والا کوئی شخص ان ذائقوں سے لطف اندوز ہوئے بغیر چلا گیا تو اس نے کراچی کو دیکھا تو ضرور مگر حق ادا نا کرسکا ….

    ٹیوئٹر: @fahadpremier

  • دانتوں سے خون آنا ،تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    دانتوں سے خون آنا ،تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    اکثر لوگ کلینک میں شکایت لیکر آتے کہ دانتوں سے خون بہت آتا اور اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی سب سے زیادہ دانتوں کے حوالے سے یہی سوال اٹھایا جاتا کہ دانتوں سے خون آنے کی وجہ کیا ھے آج میرا کالم اسی ٹاپک پر ھوگا سب سے پہلے تو ھم یہ سمجھ لیں کہ خون دانتوں سے نہیں مسوڑوں سے آتا ھے دانت بذات خود ایک ھڈی ھوتے اسلئے ان سے خون ایک ھی صورت نکل سکتا جب ان میں کیڑا اتنا گہرا لگا ھو کہ دانت پورا جڑ تک کھل جائے اور جڑ میں موجود خون کی نالی میں چوٹ یا انفیکشن بن جائے تو وہاں سے خون نکلے یہ ایک یا دو تین دانتوں ساتھ ھی ھوتا اگر کوی یہ کہے کے پورے منہ سے خون آتا رات سوتے میں یا صبح جاگتے سمے تو اسکا مطلب یہ مسئلہ دانتوں کا نہیں مسوڑوں کا ھے اور اسکا حل اگر تلاش کرنا تو ھمیں مسوڑوں کی ساخت انکے مسائل انکی بیماریوں کی وجہ اور ان بیماریوں کے حل کے طریقے دیکھنے ھونگے سب سے پہلے تو یہ کہ اللہ نے جسم میں سب سے مضبوط دانت کی ھڈی اور نازک حصوں میں مسوڑوں کو بنایا ھے یہ ایک ایسا حسین امتزاج ھے کے اللہ کی اس قدرت کو دیکھ کر انسان عش عس کر اٹھتا ھے اور جو ان مسوڑوں کا حال مریض کر لاتے دیکھ ڈاکٹر غش کر بیٹھتا خیر یہ تو ازراہ مزاح بات کی اصل بات یہ کہ ان Gums میں ایک چیز ھوتی جسکو ھم collagen کہتے انکی مضبوطی کمزوری کا تعلق Gums میں سے خون آنے کو تہہ کرتا
    دنیا میں سب سے زیادہ موجود بیماری کا نام Gingivitis ھے اسکا آسان الفاظ میں مطلب مسوڑوں سے خون آنا ھے یہاں سے پتہ چلتا کہ یہ کتنی اہمیت کی حامل بیماری ھے اگر اسکا بروقت علاج نا کیا جائے تو انسان کو دل کا مرض معدے کا اور جگر کے امراض جیسے کینسر تک بھی ھوسکتے

    اب اس بیماری کی وجوہات ھین جن میں سے کچھ منہ میں موجود کچھ منہ سے باھر کی ھیں منہ میں موجود بیماری کی وجوہات میں سے کچھ دانتوں کا صاف نا ھونے کی وجہ سے ماس خورا یعنی Calculus لگ جانا یہ سب سے پہلے ایک گندی تہہ کی صورت دانتون پر لگتی پھر اسکے بعد اس پر دانت کا کیلشیم اور منہ میں موجود چینی یعنی گلوکوز کے ذرہ جڑتے اب یہ Plaque بن جاتی پھر اسکے اوپر وقت گزرنے کیساتھ بیکٹیریا بھی شامل جوکر Calculus بنادیتے اب مسوڑے کمزور ھوکر نیچے چلے جاتے اور گھر یعنی منہ گندا ھوجاتا منہ سے بو آتی دانت ھلنا شروع ھوجاتے اسکے بعد دوسری منہ کی بیماری جیسے میں نے اوپر بتایا کہ وہ دانتوں میں کیڑا لگنا ھے اور تیسری وجہ منہ میں چھالے بننا ھے اس سے بھی یہ مسئلہ پیدا ھوسکتا پھر باری آتی باھر کے معاملات کی تو اس میں سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر معدہ ھے تیزابیت والے کھانے معدے کو خراب کرنے والی خوراک کے سب سے زیادہ اثرات منہ میں جاتے اب یہ ایک دو طرفہ ٹریفک ھے یعنی منہ کے معاملات ٹھیک نہیں تو معدہ ٹھیک نہیں رہ سکتا اور دوسرا اگر معدہ ٹھیک نہیں تو منہ نہیں ٹھیک رہ سکتا اسلئے تیزابیت والی چیزوں کا استعمال کم رکھیں اور ایسی چیزیں جو ٹھنڈی تاثیر پیدا کریں جیسے تازہ پھل اور سبزیاں انکا روز مرہ زندگی کا معمول بنایئں اسکے بعد باری آتی شوگر بلڈ پریشر کی انکی وجہ سے بھی Collagen فائبر کمزور ھوتے اور مسوڑھے خراب ھوتے پھر گردے جگر کی بیماریوں سے بھی یہ مرض ھوجاتا

    اب اسکا ایک علاج ٹھنڈی تاثیر کی چیزیں کھانا صبح ناشتے کیبعد رات سونے سے پہلے دانت صاف کرنا اچھا سا ماؤتھ واش لیکر اس سے دانت صاف کرنا کلی کرنا تین سے چار بار ھے کے کیسز میں معاملات ان سے حل نہیں ھوتے تو پھر ڈینٹل کیلنک پر ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ھوجاتا ایسے میں وہاں ڈاکٹر مرض کی تشخیص کرتا اگر صفائ کی ضرورت ھے تو لازمی کروائیں اور اگر کسی دانت کا مسئلہ تو حل کروائیں جیسے rCt یا نکلوائیں اور اگر مسئلہ بیرونی تو پھر آپکو ھر 6 ماہ بعد لازمی دانتوں کی صفائی کروانی پڑنی جب تک کہ وہ مسئلہ حل نہیں ھوتا سکیلنگ دانتوں کی صفائی اور RCt کی تفصیل میں پچھلے کالمز میں لکھ چکا ھوں انکو لازمی پڑھ لیں اس سے یہ ٹاپک سمجھنا اور آسان ھوجایئگا

    آخر میں سب سے بڑھ کر صفائی نصف ایمان ھے پر عمل ھمیں کئی بیماریوں اور آفات سے بچاتا ھے اس پر عمل کریں لازمی کریں شکریہ

  • قومی المیہ تحریر۔محمد نسیم 

    قارئین گرامی ڈاکٹر عبدلقدیر خان صاحب کی رحلت کا علم ہوا تو سارا دن موبائل فون پر، سوشل میڈیا پر جہاں ایپ کھولتا یہ ہی خبر دیکھنے کو ملی لیکن پتہ نہیں کیوں دل مضطرب نہیں تھا آنکھوں میں آنسو نہیں اُتر سکے وہ غم و دکھ نہیں تھا جو کسی محسن کے جانے کا ہوتا ہے اور وہ شخص تو محسنِ پاکستان نہیں بلکہ محسنِ اسلام و مسلم اُمہ تھا اپنے اس عمل پر پیشمان بھی تھا اور نادم بھی مگر اس ندامت کے باوجود میرے پاس رونے کی کوئی وجہ نہیں تھی 

    کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوئی سلیبرٹی نہیں تھے اپنی ہوری جوانی کے دوران کبھی کبھار ہی انکا چہرہ ٹی وی پر دیکھنے کو ملا اور ملا بھی تو ایک مبہم سے تاریخی کردار کے طورپر جیسے کوئی غدار کہتا تو کوئی محسن پھرجب خود سے سوال کرتا کہ اگر وہ محسن پاکستان ہیں تو نظر بند کیوں ؟

    محسنوں کو تو پلکوں پر بٹھایا جاتا ہے 

    اس کی ہر راحت ہر خوشامد بجا لائی جاتی ہے اس کے چرچے کرتی دُنیا نہیں تھکتی 

    خیر قصہ مختصر کہ اسی کشمکش میں ان سے الفت نہ ہوپائی ۔

    مجھے ڈرامے کے ایک کردار "دانش” سے کافی اُلفت تھی بلکہ پورے پاکستان کو تھی اس کی ڈرامے کی غیر حقیقی موت پر بھی میرے سمیت ہر پاکستانی صدمے میں تھا اور ہر کسی کا دھاڑیں مار مار رونے کو دل کرتا تھا اور سوشل میڈیا پر ہم نے دیکھا سینکڑوں کی تعداد میں ویڈیوز آئیں جب دانش مررہا تھا اور ہفتہ بھر قوم سوگ میں رہی تھی

    مگر  ڈاکٹر عبدلاقدیر خان صاحب کی دفعہ میرے سمیت قوم کے جذبات ویسے نہ تھے ہر کوئی میری طرح اناللہ واناالیہ راجعون لکھ کر تعزیت تو کررہا تھا مگر دل پہ وہ چوٹ نہیں تھی وہ دکھ نہ تھا وہ درد نہ تھا وہ تڑپ نہ تھی جو دانش کے مرنے پر تھی 

    دانش تو ہم سب کا پیارا تھا اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئیے ڈرامے کورپیٹ کرتا اور ایک ہی قسط کو دو سے تین بار دیکھتا تھا

    مگر ڈاکٹر عبدلقدیر خان سے محبت الفت کیا ان سے ملاقات کی خواہش کبھی دل میں نہ آئی میں جیسے سلیبرٹیزکے ساتھ تصویریں کھنچوانے کے لئیے بے تاب رہتا تھا اور اپنے پسنددیدہ فنکاروں کے ساتھ باتیں کرنے ملنے کی جو چاہت میرے دل  تھی ڈاکٹر عبدالقدیر کے لئیے کبھی نہ ہوئی اور شاید آدھے سے زیادہ پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے 

    چنانچہ یہ سب سوچ کر میں نے اپنے اندر اُٹھنے والی ندامت کو کامیابی سے دبا دیا اور سوشل میڈیا کو چلانے لگا اچانک ایک مولانا کی ویڈیو سامنے آئی تو ان کو بھی دوسرے تجزیہ کاروں کی طرح سُن ہی لیا مولانا نے اس وڈیو میں اپنی ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقات کا احوال بتایا کہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ چوُم لئیے جس پر ڈاکٹر صاحب بھی حیران ہوئے اور پوچھا کہ مولانا صاحب سفید داڑھی کے ساتھ ایسا کیوں ؟

    مولانا نے جواب میں بڑی کمال کی بات کی اور حدیث نبوی ﷺ  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو تیر بنائے جو تیر پہنچائے اور جو تیر چلائے دونوں کے لئیے جنت کی بشارت ہے لہذا مولانا صاحب نے فرمایا کہ او شیرا تو تا (تم نے) تو ایٹم بم بنایا ہے 

    مولانا کی اس بات نے عبدالقدیر صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ایک عجیب حیرت میں ڈال دیا کہ آج کے مولانا جن کی خدمتیں کرتی عوام نہیں تھکتی اور مذہبی خدمات کی وجہ سے جنکا الگ ہی پروٹوکول ہوتا جن کے ہاتھ چومتے لوگوں کے ماتھے تھکتے نہیں انہوں نے ماتھا جھکا کر ڈاکٹر عبدلقدیر صاحب کے ہاتھ کو چوُما ڈاکٹر صاحب کا یہ پروٹوکول مجھے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا سا لگا 

    چنانچہ دونوں باریش بھی نہ تھے تو کافی مماثلت بھی پیدا ہوگئی

    خیر رات ہوئی دن بھر کا تھکا ہارا پہلی فرصت بستر پر گرا اور رات کے پہلے حصے میں ہی نیند کی آغوش میں جاگرا 

    صبح صادق اُٹھا یہ صبح بھی دوسرے دنوں کی طرح نہایت پُرسکون تھی مگر موسم کی وجہ سے خنکی تھوڑی زیادہ تھی خیر نماز سے فارغ ہوکر قرآن پاک کی تلاوت کے لئیے قرآن پاک کو چُوم کر کھولا چُومنے سے ایک بار پھر مجھے مولانا کا ڈاکٹر عبدلقدیر کا ہاتھ چُُومنے والی بات یاد آگئی کہ عبدلقدیر صاحب نے ایٹم بم بنایا ہے اس لئیے ہاتھ چُومے تیروں والی حدیث بھی ذہن میں آگئی دماغ میں چلنے والی اس غیر ارادی افکار کی گھتیاں سلجھارہا تھا کہ تیر بنانے والا جنت میں کیوں جائیگا ؟

    ذرا غور کیا تو یہ ہی نتیجہ نکال پایا کہ تیر اندازوں کو تیرایجاد کرنے اور چلانے پر جنتی اعزاز سے نوازا گیا تھا بلکہ انکی خلاصی اور بخشش کی وجہ ان کے عالمِ اسلام کی سربلندی کے چلنے اور اُٹھنے والے ہاتھ تھے جب ڈاکٹر عبدلقدیر کے کام کو اس کسوٹی پر رکھا تو مولانا صاحب کے جملے پر دم بخود سا رہ گیا 

    "اوشیرا! تو تا ایٹم بم بنایا” یعنی کہ دورحاضر میں عالمِ اسلام کی اس خستہ حالی میں اسلام کو ایٹمی طاقت بناکر اسلام کا پرچم تا قیامت سر بلند کردیا 

    بس اسی سوچ کا دماغ میں آنا تھا کہ دماغ میں الجھی ساری گتھیاں سلجھ گئیں اپنے اندر کی ندامت جسے میں زبردستی بڑے زعم سے اپنے اندر چھپائے بیٹھا تھا آنسو بن کر رخساروں پر بہنے لگے اب مجھے اس ولی اللہ کے بچھڑنے کا غم منانے کی وجہ تھی 

    کہ آج ہم جس ملک پاکستان میں مذہبی آزادی کے ساتھ عبادات کرتے ہیں عیدیں مناتے ہیں ہماری داڑھیاں محفوظ ہیں اور آزادی کے ساتھ عید قرباں پر جانور اللہ کی راہ میں قرباں کرتے ہیں کیونکہ ہم دشمن کو اسی ایٹمی طاقت کی وجہ سے روکے ہوئے ہیں 

    لیکن پھر بھی اس ندامت اور نااہلی کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن ہائے افسوس!میری اس کوشش کے دوران بھی "آنسو ” آنکھوں کا دامن چھوڑ چکے تھے 

    جیسا کہ تحریر میں پہلے ذکر کرچکا کہ یہ سارا معاملہ تلاوت کلام پاک کے دوران پیش آیا میرے آنسو حلقہِ رخسار کو چھوڑ کر کلام الہی کے پاک صفحوں پر گرنے ہی والے تھے کہ خود کو سنبھالا دیا اور اپنے ان مجرمانہ آنسوؤں کو مجرمانہ دامن میں سمیٹ لئیے 

    سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے یہ برداشت نہ ہوا کہ میرے یہ گناہ گار آنسو کلام پاک کو چھونے کی جسارت کریں 

    آخر پر اتنا ہی کہوں گا کہ قوم اس پیارے ملک پاکستان کو بنانے والے بابائے قوم قائداعظم اور اس ملک پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدلقدیر کی احسان مند رہے گی 

    @Naseem_Khemy

  • پاکستان میں ٹریفک کا نظام تحریر: فرمان اللہ

    میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں کافی عرصے بعد کچھ دن پہلے پاکستان آیا ہوں۔ چونکہ ہم دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں تو ہمارے لیے آسان ہوتا ہے دوسرے ملکوں اور پاکستان کے نظام میں فرق کرنا۔ میں ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہوں تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ ان بنیادی مسائل کو اجاگر کروں گا جن کا تعلق صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام سے بھی ہو اور آج ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ ٹریفک کا نظام ہے۔

    اس آرٹیکل میں میں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے ٹریفک نظام کے حوالے سے لکھوں گا۔ ٹریفک قوانین عوام کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے اوپر ظلم کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے ذکر کروں گا ریڈ سنگل کا کراس کرنا۔ ریڈ سگنل کو ہماری عوام ایسے کراس کرتی ہے جیسے دنیا میں لوگ گرین سگنل کو کراس کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں ریڈ سگنل کراس کرنا ایک سنگین جرم ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ اسے جرم نہیں سمجھتے اور بہت سارے مقامات پر میں نے دیکھا ہے کہ ٹریفک پولیس بھی ریڈ سگنل کے کراس کرنے کو اتنی اہمیت نہیں دیتی جس کی وجہ سے عوام بغیر سوچے سمجھے ریڈ سگنل کراس کر لیتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔

    دوسرا سیٹ بیلٹ کا نہ باندھنا
    پاکستان میں لوگ سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتے ہیں اور سیٹ بیلٹ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ہمارے حفاظت کرتا ہے لیکن شاید ٹریفک پولیس کی طرف سے اس کی اہمیت کو اتنا اجاگر نہیں کیا گیا اور نہ سختی کی گئی جس کی وجہ سے عوام سیٹ بیلٹ کا استعمال نہیں کرتی۔

    تیسرا یو ٹرن
    پوری دنیا میں یو ٹرین صرف ایک لائن سے کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں دو دو تین تین لائنوں سے یو ٹرن کیا جاتا ہے جو ایک جرم بھی ہے اور ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

    راونڈ اباوٹ
    پوری دنیا میں راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے سے پہلے گاڑی روکی جاتی ہے دیکھا جاتا ہے کہ کیا راونڈ اباوٹ میں کوئی گاڑی تو نہیں اگر ہے تو اس کے گزرنے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس کے برعکس چلا جاتا ہے۔ راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے والا بغیر احتیاط کیے راونڈ اباوٹ میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ راونڈ اباوٹ میں گھومنے والی گاڑی اس کے لیے راونڈ اباوٹ کے اندر ہی رک جاتی ہے جو انتہائی غلط عمل ہے۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن کا اگر میں زکر اس آرٹیکل میں کروں تو یہ آرٹیکل بہت لمبا ہو جائے گا میں نے کچھ اہم ایشوز کا زکر کیا ہے جن کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک کوتاہی روڈ مارکنگ کا نہ ہونا جس کی وجہ سے زیادہ تر ڈرائیور لائن کی پابندی نہیں کرتے۔ ہر روڈ پر روڈ مارکنگ ہونی چاہیے اس کے علاوہ بہت سارے سگنل کام نہیں کرتے جو ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو جائے۔

    شکریہ

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan

  • استاد اور اس کی شفقت تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    میرا نام وسیم ریاض ہے میرا تعلق جھنگ  شہر سے ہے میں جھنگ میں اپنا ایک کلینک چلاتا ہوں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ میں اس مقام تک کیسے پہنچا اس مقام تک پہنچنے کے لیے استاذہ کرام اور میرے والدین کا کیا کردار تھا میں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے قریبی سکول تور ہائی سکول سے حاصل کی چوتھی کلاس تک تو بہت مزے سے زندگی گزر رہی تھی لیکن جیسے ہی پانچویں کلاس میں آئے تو سب بچوں کے منہ پر تھا کہ ہمارے نئے انچارج آئے ہیں جو کہ بہت ظالم ہے اور بہت مارتے ہیں لیکن میں اس بات کو مذاق سمجھتا رہا چند دن کلاس میں گزرے تو ایک روز میں سکول میں کام کرکے نہ گیا تو سر نے میرے ہاتھ پر دو ڈنڈے مارے زور سے جس کی مجھے بہت تکلیف ہوئی اس کے بعد میں سر کے ڈر سے ہمیشہ کام کرکے جاتا تھا ایک مرتبہ سر میں میتھ کا ٹیسٹ دیا وہ ہم سب تیار کرکے آئے اس ٹیسٹ میں میرے 40 میں سے 35 نمبر آئے  لیکن اس کے باوجود بھی سر نے مجھے پانچ ڈنڈے مارے تاکہ مجھے یہ یاد رہے تمہیں پانچ نمبر کیوں کاٹے اور میں آگے اس کی پانچ نمبروں کی بھی تیاری کرو تاکہ آنے والے امتحانوں میں میں پورے نمبر لے سکوں اس وقت بے شک یہ ایک ظلم لگتا تھا اردو ایسے لگتا تھا کہ میں کسی قید خانے میں آگیا ہوں صبح اسکول جانے کا دل نہیں کرتا تھا اور رات کو کام یاد کیے بغیر نیند نہیں آتی تھی یہ خوف اور یہ پڑھائی اس کا یہ صلاح ملا کے  پانچویں میں میرے 85% نمبر آئے جب میں نے اپنے نمبر دیکھیں تو مجھے وہ سب مارے ہیں وہ سب ظلم بھول گئے اور مجھے ایسے لگ نے اور مجھے ایسے لگ گیا کہ یہ سر نہیں یہ ایک فرشتہ ہے کہ انہوں نے مجھ جیسے ایک نالائق بچے کو بھی اس قابل بنا دیا کہ وہ اچھے نمبر حاصل کرسکتا ہے تھوڑی سی محنت اور توجہ سے لگن کے ساتھ ایسے ہی سلسلہ چلتا رہا اور میں اپنی تعلیم جاری رکھتا رہا اور بہت سے استادوں کی شفقت حاصل کرتا رہا آج اگر میں ڈاکٹر ہوں تو صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی محنت کی وجہ سے اگر وہ محنت نہ کرتے تو شاید میں آج اس مقام پر نہ ہوتا۔ آج اس بات کا فرق پتہ چلتا ہے کہ جن استادوں نے ہم پر محنت نہیں کی انہوں نے ہم پر کتنا ظلم کیا حقیقت میں۔ آج میں ڈاکٹر ہوں اپنے شہر میں ایک نام ہے ایک مقام ہے یہ صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہے جنہوں نے مجھ پر اتنی محنت کی مجھے پڑھایا تاکہ میں قابل انسان بن سکوں اور معاشرے کے لئے بہتری کا سبب بن سکوں کیونکہ بہترین انسان وہی ہے جس سے دوسرے انسان کو فائدہ پہنچے۔ بچپن میں ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے جو مارتے بھی نہیں تھے اور پڑھاتے بھی نہیں تھے گھر کے کام کرواتے تھے تو ایسے استاد بہت اچھے لگتے تھے دل کرتا تھا کے ساری زندگی ان استادوں کے پاس پڑھیں۔ لیکن حقیقت میں وہ ہماری زندگی تباہ کر رہے ہوتے تھے یہ بات اب سمجھ آتی ہے جب ہم کسی مقام پر پہنچے ہیں کا میری آپ سب لوگوں سے اپیل ہے اپنے بچوں کے لئے اچھا سوچیں اور اچھے سکول کا انتخاب کریں تاکہ وہ استاد کی شفقت سے محروم نہ رہے اور ان کو اصل معنی میں محنتی استاد ملے تاکہ وہ آپ کے بچوں پر محنت کرے اس تاکہ آپ کے بچے کا کوئی قابل انسان بن سکیں میرے آپ سب والدین  سے درخواست ہے کہ جب بچہ آپ کو آکر کہے کہ آج مجھے استاذہ کرام نے مارا ہے تو ان کو آگے سے جھڑکے اور کہیں کہ آپ سکول کا کام کر کے جاتے تو استاذہ کرام آپ کو نہ مارتے کیونکہ جب تک آپ بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے اس معاملے میں کہ آپ کو استاذہ  کرام نے کیوں مارا تب تک آپ کا بچہ نہیں پڑھے گا اور استاد بھی اصل معنی میں آپ کے بچے پر محنت نہیں کر سکیں گے اور جب کل کو آپ کا بچہ اچھے مقام پر نہیں پہنچ سکے گا تو آپ کو اس بات کا پچھتاوا ہو گا
    Twitter: @WaseemjuttMalik

  • بچوں کے نکاح میں جلدی کریں اور اپنے بچوں کو گناہ سے بچائیں تحریر۔ ہارون خان جدون

    اللہ کے دین میں نکاح بہت ہی آسان عمل ہے اور اتنا مشکل عمل نہیں جتنا کے آج کل ہم لوگوں نے بنا دیا ہے

    آج ہماری خواہشات اور مطالبات اس قدر بڑھ گے ہیں کے ہم کسی بھی معاملے میں سمجھوتہ کرنا ہی نہیں چاہتے وہ خواہ لڑکا ہو ، لڑکی ہو، قابلیت ہو، آمدنی والا ہو یا اسکا نسب خاندان بہت اعلی ذات کا ہو، ہمیں لڑکا چاہیے تو اچھا کمانے والا ہو ، ہیرو type کا ہو، ماں باپ کا اكلوتا ہو ہینڈسم سمارٹ ہو اسیطرح اگر لڑکی چاہیے تو وہ بھی اچھی شکل صورت والی حور پری ہو، پڑھی لکھی ہو، اچھی کماتی ہو ڈاکٹر، اینجنیر یا ٹیچر ہو اور گھر کے کاموں کے معاملے میں سگھڑ ہو دادیوں نانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے

    دوسری طرف دنیا کے حالات یہاں تک پنچ چکے ہیں کے آج کل  بےحیائی اس قدر پھیل چکی ہے اور دن بدن مزید پھیلتی جا رہی ہے کے ہر طرف برے حالات ہیں اور زنا عام ہو چکا ہے

    اور اسکے زمدار ہم خود ہیں اور اس کی زیادہ تر زمداری والدین پر ہے جنہوں نے خوب سے خوب تر کی طلب میں اپنے نوجوان بچوں/ بچیوں کو اس نج تک پنچایا ہے کے وہ حلال کے رشتے نا ہونے کی وجہ سے انکو girlfriend اور boyfriend بنانے پڑتے ہیں حالانکہ اس کا نہ تو ہمارا دین اس بات جی اجازت دیتا ہے اور نا ہی ہمارا اسلامی معاشرہ اس بات کی اجازت دیتا ہے

    آج ہمارے بچے بچیاں مخلوط تعلیم حاصل کر رے ہیں اور والدین نے بچوں کو بچپن سے ہی دین کیطرف اس طرح نہیں لگایا جس طرح سے انکو لگانا چاہیے تھا اور جوان ہوتے ہی انکو حلال رشتے میں باندھ دیا جاۓ اور انکی شادی ہو جاۓ تو وہ ناجائز رشتے کی طرف نہیں جاتے

    لیکن والدین اپنے بچوں کی کبھی مستقبل کی فکر، کبھی اچھی job کی فکر اور کبھی اچھی لڑکی کی تلاش میں انکی late شادياں کرواتے ہیں جس سے وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور بچوں کی عمریں نکل جاتی ہیں

    حالانکہ بالغ ہوتے ہی لڑکا/ لڑکی کو جسمانی ضرورت کے لئے فوری حلال رشتے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ جب نہیں مل پاتی تو پھر لڑکی/ لڑکا غلط حرام طریقے سے اپنے جسم کی تسکین پورے کرتے ہیں اور پھر اس سے زنا بڑھتا ہے

    حالانکہ بحثیت مسلمان ہمارا ماننا یہ ہے کے ہمیں وہی کچھ ملتا ہے جو اللہ پاک نے ہمارے نصیب میں لکھ دیا ہے اور ویسے بھی رزق عورت کے نصیب میں ہوتا ہے پھر بھی ہم بچوں کی شادی میں دیر کرتے ہیں

    دوسرا سب سے اہم مسلہ ہمارا معاشرے کا یہ بھی ہے کے ہم ان بچیوں کو قبول ہی نہیں کرتے جنکی زندگی میں پہلے کوئی تھا جیسے کسی لڑکی کا شوھر فوت ہو گیا ہو، کسی کو طلاق ہو گئی ہو یا کسی کی کسی بھی وجہ سے منگنی ٹوٹ چکی ہو

    اس کے ساتھ ساتھ ہم لوگ اپنے مرد جنکے قد چھوٹے، تعلیمی ڈگری نا ہونے، خوش شکل نا ہونے اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری اور تیسری شادی کروانے کے حق میں نہیں ہوتے خوا اس مرد کی پہلی بیوی سے اولاد نہ ہو اور اسے اولاد کی ضرورت ہو، خدا راہ اس معاشرے میں ٹوٹی منگنی، طلاق یافتہ ، بیوہ، رنڈوے، کالی رنگت والے، کم امدنی والے، دوسری یا تیسری شادی والے کو بھی اتنا ہی جینے کا حق حاصل ہے جتنا کسی کنوارے امیر لڑکے یا لڑکی کو ہے

    خدارا سبکو جینے دیں اور اس مسلے سے سبکدوش ہونے کے لئے اپنے بچے اور بچیوں کی شادی جلدی کرواہیں اور شریعت کے عین اصولوں کے مطابق رشتہ پکا کرنے سے چھان بین کر لیں اور پہلے استخارہ کر لیں اور پھر بات پکی کریں اور ساتھ ہی شادی نکاح کر لیں

    یوں سالوں سال منگنیاں کر کے بچوں کو آس امید پر رکھنا اور لٹکاے رکھنا بھی اچھا نہیں ہے اور آپ اس بات کی فکر نا کریں کے اپکا بچا شادی جیسی زمداری نہیں نبھا سکے گا میرا ماننا یہ ہے کے جو لڑکا اپنی girlfriend کے ناز نخرے اٹھا سکتا ہے اسکے خرچے اٹھا سکتا ہے وہ اپنی بیوی کے بھی اٹھا سکتا ہے اسلئے آپ اس بات کی tension نا لیں وہ کیسے مینج کرے گا

    پلیز نکاح کو عام کریں اور زنا کو روکیں ادھر بچے شادی کے قابل ہوے تو آپکو انکا نکاح کرکے شادی کے بندھن میں باندھ دینا چاہیے

    مغرب میں اگر لڑکا/ لڑکی 12 سال سے 15 سال کی عمر میں live together کر سکتے ہیں تو ہم اپنے بچوں کو حلال رشتے میں کیوں نہیں اکٹھا کر سکتے پلیز اس بارے میں سوچیں اور غور سے سوچیں اور اس پر عمل کریں

    اور اس لفظ سے خود کو باہر نکالیں کے لوگ کیا کہیں گے لوگوں کی باتوں میں نا آئیں اپنے بچوں کی جلدی شادیاں کروائیں اور اس کام کے لئے دوسرے لوگوں کو بھی motivate کریں تاکہ ہماری society گناہ اور زنا سے بچ سکے

    آپ ہمت کریں خود سے start کریں اپنے گھر سے start کریں رفتہ رفتہ باقی لوگ بھی آپ کے ساتھ اس نیک کام میں مل جاہیں گے بس آپ کو ہمت کرنا ہو گی

    نکاح کو عام کریں اور زنا کو روکیں یہ آپ کی میری اور سبکی زمداری ہے اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں اور اپنے اپنے حصے کا کام کریں.

    اللہ پاک ہم سبکے بچوں کی قسمت اچھی کرے..آمین 

    @ItzJadoon

  • رزق حلال عین عبادت ہے   تحریر:   محمد جاوید

    رزق حلال عین عبادت ہے تحریر:  محمد جاوید

    پاکستانی کرنسی نوٹ پہ لکھا ہوا جملہ "رزق حلال عین عبادت ہے”

    یہ جملہ صرف ایک جملہ ہی نہیں بلکہ مسلمان کیلئے ایک پورا فلسفہ زندگی ہے.

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایمان والوں کو رزق حلال کی تلقین فرمائی

    اسی طرح متعدد احادیث اور روایات میں سرکار دوعالمﷺ  نے بھی اپنی امت کو حلال اور پاکیزہ رزق تلاش کرنے کمانے کھانے اور کھلانے کی تلقین فرمائی ہے.

    حلال رزق کا انسان کی نشو نماء پہ گھرا بلکہ بہت گھرا اثر ڈالتا ہے

    آج ایک دوست نے اسی حوالے سے ایک واقع سنایا تو پتہ چلا کہ ابھی بھی کس قدر ایماندار لوگ اس جہاں میں موجود ہیں

    واقع کچھ اسطرح ہے.

    کچھ دیر پہلے والد صاحب کو ایک کال آئی۔ میں بھی ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا اور یہ کال کسی کسٹمر کی تھی جو کہہ رہا تھا کہ” قریشی صاحب میں صبح آپ کے پاس دکان پر آیا تھا ، میرا ٹوٹل بل آٹھ ہزار روپے کا بنا تھا لیکن میں غلطی سے نو ہزار روپے دے گیا ہوں۔ ہم جب گھر واپس پہنچے تو میری بیگم نے یاد دلایا کہ گھر سے پورے نو ہزار روپے گن کر لے گئے تھے۔ مہربانی کر کے میرا ایک ہزار واپس کر دیجیے” ۔

    والد صاحب نے کہا ” پیسے تو میں نے بھی گن کر ہی دراز میں ڈالے تھے لیکن پھر بھی بھول ہو سکتی ہے۔ میں کنفرم کر کے آپ کو کچھ دیر بعد کال کرتا ہوں” ۔ کال ختم ہوتے ہی والد صاحب نے فوراً بھائی کو کال کی جو اس وقت دکان پر موجود تھے اور کہا کہ دراز میں موجود ٹوٹل رقم گنتی کرو اور کیلکولیٹر اپنے ساتھ رکھ لو۔ رات والے اتنے پیسے دراز میں موجود تھے اور میرے ہوتے ہوئے اتنے کسٹمرز آئے تھے جن کا بل اتنا اتنا بنا تھا۔ اس رقم کا ٹوٹل کرو اور اب دیکھو کہ میرے جانے کے بعد کتنے کسٹمرز آئے ہیں؟ ان کا بل کتنا بنا اسے ٹوٹل کرو۔ اب بتاؤ کہ دراز میں موجود رقم برابر ہے یا کوئی فرق ہے؟ معلوم ہوا کہ اس حساب سے تقریباً نو سو روپے زیادہ ہیں

    یعنی یہ اس بات کی گواہی تھی کہ گاہک ایک ہزار روپے زیادہ دے گیا تھا

    ایک سو روپے کا فرق تو بل میں بھی لگا سکتا ہے یا ممکن ہے کسی کو بل میں ایک سو زیادہ لکھ کے دیا ہو لیکن رعایت میں کسی نے ایک سو نہ دیا ہو  ۔۔

    اس کے بعد والد صاحب نے کسٹمر کو کال کی اور کہا آپ کا ایک ہزار امانت ہے کسی بھی وقت آ کر لے جائیں۔ کسٹمر نے شکریہ ادا کیا۔ والد صاحب نے یاد دلایا کہ پہلے آپ کا بل نو ہزار روپے کا بنا تھا لیکن پھر آپ نے کہا کہ آٹھ ہزار تک کا کر دیں جس کے بعد آپ کا کچھ سامان کم کیا تھا۔ جب آپ نے رقم دی تو شاید میرے خیال میں نو ہزار ہی چل رہے تھے ورنہ ایسا نہ ہوتا۔۔

    مجھے اس معاملے میں انتہا کا سکون مل رہا تھا۔ کچھ وقت اور محنت سے والد صاحب نے کسی کا بھلا کر دیا اور خود بھی محفوظ رہے کہ کسی کا حق غلطی سے بھی ہمارے پاس نہ آ جائے۔

     حلال کی رقم شاید کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

    یہ جملہ ہم نے اپنے بزرگوں سے بھی سن رکھا ہے کہ حلال کی کمائی کبھی حرام میں نہیں جاتی 

    حرام کی کمائی ہی حرام کام کی طرف لے جاتی ہے.

    حلال کمائی تھوڑی بھی ہو تو برکت ساتھ لاتی ہے

    اور اگر حرام بہت سارا بھی جمع ہوجائے تو برکت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی

    ہم نے ایسے کئی واقعات پڑھے ہیں کہ زیادہ دولت و حرص کی لالچ نے 

    بہت بڑے بڑے پارسا اور نیک لوگوں کے ایمان بھی بگاڑ دئے

    اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس کا اثر براہ راست اپنے خاندان میں اپنے بیوی بچوں پر پڑتا ہے

    آجکل جو ماں باپ کی نافرمانی عام ہے اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے انہیں رزق حلال نہیں کھلایا جاتا.

    صوفیاء فرماتے ہیں کہ حلال کھانے والے کی اولاد کبھی نافرمان نہیں ہوتی.

    @M_Javed_

  • بلوچستان کے صحرا میں کھڑی "امید کی شہزادی” کی کہانی۔ تحریر: حمیداللہ شاہین 

    بلوچستان کے صحرا میں کھڑی "امید کی شہزادی” کی کہانی۔ تحریر: حمیداللہ شاہین 

    جیسے ہی "امید کی شہزادی” نام سنا جاتا ہے ذہن میں آتا ہے کہ یہ ایک مصری شہزادی کا نام ہے جس کے وجود نے اس وقت کے لوگوں میں امید کی شمع روشن کی ہے۔  اس طرح وہ اس نام سے پکارے جانے لگے۔

    تاہم اس خیال کے علاوہ جو ذہن میں آتا ہے اس شہزادی کی ایک الگ کہانی ہے۔

    آئیے معلوم کریں۔

    بلوچستان کے ریگستانوں میں کھڑی یہ شہزادی کون ہے؟

    صوبہ بلوچستان میں کئی ساحلی مقامات اور خوبصورت وادیاں ہیں جو کہ بے مثال ہیں۔  لیکن لوگ کئی جگہوں کی خوبصورتی سے بھی واقف نہیں ہیں یہاں تک کہ کوئی شہزادی بھی نہیں جو چند سال پہلے تک برسوں خاموش کھڑی رہی۔  تاہم مکران کوسٹل کے پہاڑی سلسلے میں کھدی ہوئی یہ پتھر کی مجسمہ اب "امید کی شہزادی” کے نام سے مشہور ہے۔

    کراچی سے 190 کلومیٹر دور واقع اس مجسمے کی شہزادی شاہی انداز میں ملبوس ہے۔  لمبی شہزادی خوبصورت دکھائی دیتی ہے لیکن اسے ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی چیز کی امید کر رہی ہو۔  اس مجسمے کو 2002 میں مشہور ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے شہزادی کا نام دیا تھا۔  انجلینا جولی نے اس وقت اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے اس علاقے کا دورہ کیا اور جب انہوں نے ہنگول نیشنل پارک کا دورہ کیا تو انہوں نے شہزادی کو برسوں تک پہاڑی سلسلے میں کھڑے دیکھا۔  اس شہزادی کو دیکھتے ہی یہ نام اس کے ذہن میں آیا اور اس نے اس مجسمے کی شہزادی کا نام تجویز کیا جو اس جگہ پر برسوں سے "امید کی شہزادی” کے طور پر موجود ہے۔  امید کی اس شہزادی کا نام ایک بار پھر مقبول ہوا اور یہ مجسمہ جو برسوں سے موجود ہے کو پہچان ملی۔

    اس سے پہلے یہ مجسمہ بحیرہ عرب کے ساحلوں کے قریب خاموشی سے کھڑا تھا ، تیز ہواؤں اور دھول کے طوفانوں کی زد میں آ جاتا لیکن یہ اپنی شناخت کے بغیر ویسا ہی رہتا۔  اس جگہ پر اسفنکس کا ایک اور مجسمہ بھی موجود ہے۔  یہ مصر کے مشہور مجسمہ اسفنکس سے مشابہت رکھتا ہے ، جو اس ویران صحرا میں کھڑی شہزادی کی اکلوتی دوست ہے۔  ماہرین کے مطابق یہ مجسمے 750 سال پرانے اور تاریخی ورثہ ہیں۔ 

    یہاں کیسے پہنچیں؟

    کراچی سے سفر کرنے والے لوگوں کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے 4 گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے۔  ہفتے کے آخر میں یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 

    ہنگول نیشنل پارک تک پہنچنے کے دو طریقے ہیں۔ 

    1: ٹور آپریٹر سے بکنگ کروائیں اور پھر آسانی سے یہاں پہنچیں۔

    2: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس جگہ کا نقشہ گوگل کی مدد سے محفوظ کریں اور پھر یہاں پہنچنے کے لیے گاڑی چلائیں۔ 

    یہاں پہنچنے کے لیے پہلے حب آئیں پھر زیرو پوائنٹ کا سفر کریں۔  مکران کوسٹل ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے ، آپ کو کچھ انتہائی خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو اس سفر کو یادگار بناتے ہیں اور آپ کو کبھی تھکا نہیں دیتے۔  جب آپ یہ سفر جاری رکھیں گے تو آپ ہنگول نیشنل پارک پہنچ جائیں گے۔

    یاد رکھیں کہ یہ روڈ ٹرپ کچھ جگہوں پر بہت مشکل ہے کیونکہ ہائی وے پر سہولیات کی کمی اس سفر کو مشکل بنا دیتی ہے۔  اپنے ساتھ اضافی ایندھن ضرور لیں تاکہ پٹرول ختم نہ ہو۔  یہاں کوئی میکانکس یا آٹو شاپس نہیں ہیں ، لہذا کچھ کاروں کی مرمت کے اوزار اپنے پاس رکھیں تاکہ انہیں ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاسکے۔  اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی گاڑی اچھی حالت میں ہے اور اسے کوئی پریشانی نہیں ہے۔  اگر گاڑی میں کوئی مسئلہ ہو تو یہاں سفر نہ کریں۔ 

    اخراجات اور سامان:

    اگر آپ ٹور آپریٹر بک کروانا چاہتے ہیں تو آپ کو کراچی سے ہنگول نیشنل پارک تک کے سفر کے لیے فی شخص 3500 سے 5000 روپے ادا کرنا ہوں گے۔  ٹور آپریٹرز دو طرفہ ائر کنڈیشنڈ بسیں استعمال کرتے ہیں۔  ٹور آپریٹرز ناشتہ ، دوپہر کا کھانا ، پانی کی بوتلیں ، سافٹ ڈرنکس ، نمکین اور دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ فوٹو گرافر بھی فراہم کرتے ہیں۔  اسی طرح جو لوگ خود جانا چاہتے ہیں وہ اپنے ساتھ کھانا ، سنیکس ، کیمرہ وغیرہ بھی لے جائیں تاکہ وہ شہزادی ہوپ کے ساتھ کھڑے ہو کر یادگار تصاویر کھینچ سکیں۔

    پرنسس آف ہوپ اور ہنگول نیشنل پارک میں آنے والوں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے ، لیکن اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔  جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ اپنے اور اپنے پیاروں کے نام مجسمے کے قریب دیواروں پر تیز اشیاء یا مارکروں سے لکھتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ بہت سی جگہوں پر جہاں آپ لوگوں کے نام لکھے ہوئے دیکھیں گے جو اس جگہ کی خوبصورتی اور اس کے تاریخی ورثے کو متاثر کرتے ہیں۔

    بلوچستان کی یہ پٹی کئی اہم سیاحتی مقامات اور تاریخی اعتبار سے اہم ہے۔  کنڈ ملیر ، ہنگول نیشنل پارک ، ہنگلاج ماتا مندر اور شہزادی ہوپ ، اورماڑہ اور گوادر میں کئی سیاحتی مقامات ہیں جنہیں سجایا خوبصورتی اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ حکومت بلوچستان کو یہاں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریسٹ ہاؤس ، ہوٹل ، کھانے کی دکانیں ، پٹرول پمپ اور زائرین کے لیے دیگر ضروریات کی فراہمی کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ یہاں سیاحت کو مزید ترقی دی جا سکے۔

    @iHUSB

  • مچھلی کے ٹینک کو کیسے صاف کریں تحریر: محمّد اسحاق بیگ

    میٹھے پانی کے مچھلی کے ٹینک میں ٹینک کے سائز کے لحاظ سے ہفتے میں تقریبا 30 منٹ سے ایک گھنٹہ کام کی ضرورت ہوتی ہے۔

     آپ کو کیا ضرورت ہو گی :

     1) آپ کو ایک صاف 5 گیلن بالٹی کی ضرورت ہوگی جس کے اندر کبھی کیمیکل یا صابن نہ ہو۔

     2) ایک نلی یا بجری صاف کرنے والی چھاننی ۔

     3) قدرتی یا مصنوعی سمندری نمک کا ایک بیگ۔

     میں نے کام کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جس میں ٹینک کو ہر ہفتے اسی دن صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور فلٹرز جو ہر 2 یا 3 ہفتوں میں صاف کیے جا سکتے ہیں۔

     اپنے مچھلی کے ٹینک کی صفائی شروع کرنے سے پہلے آپ کو سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی ٹینک ہے تو اسے ہٹا دیں۔  ہیٹر کو پانی سے ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ یہ گرم ہے لہذا اسے ہٹانے کی کوشش کرنے سے پہلے کم از کم 20 منٹ تک اسے پلگ ان چھوڑنا یقینی بنائیں۔  پانی ہیٹر پر شیشے کو ٹھنڈا کرنے میں مدد کرتا ہے اگر اسے ہٹا دیا جائے تو یہ ٹوٹ سکتا ہے ، یا گلاس مکمل طور پر ٹوٹ سکتا ہے۔  آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی مچھلی کے ٹینک کے اندر کبھی بھی ہاتھ نہ لگائیں اس بات کو یقینی بنانے سے پہلے کہ ہیٹر نہ صرف بند ہے بلکہ سوئچ بورڈ  سے نکلا ہوا ہے۔  ذرا سی کوتاہی آپ کے لیے ایک جھٹکا لگانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے جو کہ مہلک ہو سکتا ہے۔

     ہیٹر کے پاس ٹھنڈا ہونے کا وقت ہونے کے بعد آپ ٹینک سے ہیٹر کو محفوظ طریقے سے ہٹا سکتے ہیں یا یہ ہیٹر زیر آب ہے آپ اسے نیچے ٹینک کے نیچے دھکیل سکتے ہیں۔

     اب جو بھی سجاوٹ آپ نے ٹینک میں رکھی ہے اسے لے لو ، لہذا آپ کے پاس نیچے کی چھوٹی بجری ہے ، اس سے آپ کو کوئی بھی گندگی مل جائے گی جو کہ ان سجاوٹوں نے چھپا رکھی ہے۔  اب اگر آپ کے پاس بجری صاف کرنے والا نہیں ہے تو آپ کو اپنی آستینیں اٹھانا پڑیں گی اور اپنے ہاتھوں کو گیلا کرنا پڑے گا۔  آپ کو بجری کو ہلانے کی ضرورت ہوگی تاکہ گندگی کے درمیان پانی میں داخل ہو جائے ، اور پانی کو چھاننی  سے بالٹی میں نکالنا شروع کردے۔  پانی کو باہر نہ پھینکیں آپ کو فلٹر صاف کرنے کے لیے اس کی ضرورت پڑے گی۔

     اگر آپ کے پاس بجری صاف کرنے والی چھاننی  ہے تو ، پلاسٹک کی ٹیوب کو بجری میں دھکیلیں یہاں تک کہ یہ ٹینک کے نیچے سے ٹکرا جائے ، پھر بالٹی میں ایک سائفون شروع کریں ، ہر سیکنڈ یا 2 بجری کلینر کو ایک انچ یا 2 پر منتقل کریں اور اس عمل کو دہرائیں  آپ نے 15 فیصد ٹینکوں کو ہٹا دیا ہے پانی نے تمام بجری صاف کر دی ہے۔

     اب اس مقام پر آپ ایکویریم فلٹرز صاف کر سکتے ہیں۔  فلٹرز کے اندرونی حصے بیکٹیریا کو بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ، جو مچھلی کے فضلے اور ناپاک کھانے سے پانی میں موجود نائٹریٹس اور نائٹریٹس کو توڑنے میں مدد دیتے ہیں۔  اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم ان تمام ایکویریم دوستانہ بیکٹیریا کو نہیں مارتے ، ہم فلٹر میٹریل اور سپنج کو گندے پانی میں صاف کرتے ہیں جو  آپ کے ہاتھ بھی بیکٹیریا سے بھرا ہوئے ہیں ۔  ہر چیز کو فلٹرز سے نکالیں اور انہیں گندے ایکویریم پانی کی بالٹی میں کللا کریں ، پھر سپنج کو بالٹی میں ایک دو نچوڑ دیں اور فلٹرز کو دوبارہ جوڑیں ، اور انہیں واپس ٹینک پر رکھیں۔

     اب پانی میں سمندری نمک ڈالنے سے پہلے ٹینک میں شامل کرنا ضروری ہے۔  تمام پانی میں کچھ مقدار میں نمک ہوتا ہے اور مچھلی کے قدرتی افزائش  کو نقل کرنے کے لیے آپ کے ٹینک میں بھی نمک ہونا ضروری ہے۔  ہر 50 گیلن پانی میں تقریبا 1 کپ سمندری نمک شامل کریں۔

     اب آپ ٹینک میں پانی ڈال سکتے ہیں ، لیکن آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پانی ٹینک میں پانی کے درجہ حرارت کے ایک یا دو ڈگری کے اندر ہے۔  ٹینکوں کے درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی اچانک مچھلی کو صدمے میں ڈال سکتی ہے اور انہیں مار سکتی ہے یا ان کی قوت مدافعت کو کمزور کر سکتی ہے اور انہیں مچھلی کی بیماری میں مدد دے سکتی ہے۔  میں بالٹی کو گرم پانی سے بھرنے اور اسے باقاعدگی سے چیک کرنے کی تجویز دیتا  ہوں جب تک کہ یہ ٹینکوں کا درجہ حرارت جیسا نہ ہو ، پھر آہستہ آہستہ ٹینک میں پانی ڈالیں ، فلٹر اور ہیٹر سیٹ  کریں۔

     فلٹر کی صفائی صرف مہینے میں ایک یا دو بار کرنے کی ضرورت ہے ، لیکن ٹینک میں پانی ہر ہفتے اسی دن صاف کرنا ضروری ہے

     امید ہے کے میں اپنی بات آپ کو سمجھانے میں کامیاب ہوا ہوں اگر پھر بھی سمجھ نا اے تو آپ رابطہ کر سکتے ہیں ویسے بھی یہ کام الفاظوں میں لکھنا نہایت ہی مشکل ترین ہے ۔

     میں نے کوشش تو کی ہے اب یہ آپ نے بتانا ہے کے میں آپ کو ٹھیک سے سمجھا پایا بھی ہوں کے نہیں 

     دعاؤں کا طلب گار 

     

     

    @Ishaqbaig___