ترجمہ ۔
"”ہم تولوگوں کوڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں "” الاسراء ( 59 ) ۔
چھ اکتوبر کو ایک دوست کی دعوت پر کراچی سے شام چھ بجے کوئٹہ بلوچستان پہنچا۔ پرتکلف عشائیے کے بعد دن بھر کے سفر سے نڈھال میزبان کے کثیر منزلہ بیٹھک ( مہمان خانہ ) کے اوپری منزل میں تقریبا رات گیارہ بجے لیٹا ہی تھا ،کب کیسےانکھ لگی پتہ ہی نا چلا۔
ادھی رات کو مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی میرے بیڈ کو جھولا دے رہا ہو بِلبِلا کر اٹھا ۔
بیڈ مسلسل ہچکولے کھارہا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آ ریا تھا اٹھتے ہی موبائل ٹارچ ان کیا تو ٹائم تین بج کر دو منٹ تھا بیڈ ہی نہیں پورا بنگلہ جھول رہا تھا ۔
کھڑکیوں اور دروازوں کے کھڑکھڑانے کی خوفناک اوازوں سے اور بھی سہم گیا تھا۔
مجھے سمجھنے میں زیادہ دیر نا لگی۔ خوف اور زلزلے کی تباہ کاریاں جاننے کے باوجود پژمردگی سےاپنے حواس پر قابو رکھا اور مسلسل ایات الکرسی کاورد کرنے لگ گیا تھا۔
اتنی دیر میں چند اور مہمان جو نچلی منزل میں ٹھہرے تھے اور میزبان ساتھیوں کا شور سنائی دیا وہ چیخ رہے تھے باہر نکلو زلزلہ ہے۔
زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکلے ہوئے تھے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی شروع ہو چکی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جاگ کر باہر نکل سکے۔
مسجدوں میں اعلانات اور اذانیں بھی شروع ہو گئیں۔
کوئٹہ واسی کافی چوکس تھے یاد رہے مئی 1935 کا تباہ کن زلزلہ بھی رات تین بج کر تین منٹ پر ایا تھا ، جس سے چند ہی سیکنڈ میں کوئٹہ ملیا میٹ ہوا تھا اور 70 ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے تھے ،اس کے مقابلے میں موجودہ کوئٹہ کافی گنجان اباد اور خطرناک ہے ۔ کیونکہ کوئٹہ خطرناک فالٹ لائن پر واقع ہے۔
میں کچھ دیر بیڈ پر ساکت بیٹھا رہا جھٹکے تقریبا رک چکے تھے میں اٹھا وضو کر کے تہجد کی نماز پڑھنے بیٹھ گیا۔ ربّ سے اپنے کردہ ناکردہ ،جانے انجانے گناہوں کی معافیاں مانگتا رہا اور امت رسول ﷺ کی حفاظت و خیریت کی دعائیں مانگتا رہا۔
اتنی دیر میں دوست اوپر میرے پاس پہنچا اور باہر روڈ پہ نکلنے کی ضد شروع کر دی، میں نے باہر نکلنے کی حامی بھری اور دوست کے ہمراہ باہر مین روڈ پہ نکل ایا۔
باہر ا کر انگشت بدنداں رہ گیا۔ روڈوں پہ جمِ غفیر امڈ ایا تھاہر طرف لوگ ہی لوگ۔خواتین بوڑھے اور بچوں سے روڈ بھرے تھے۔ہر چہرہ خوفزدہ تھا نفسا نفسی کا عالم تھا سب نوح کناں تھے۔
ہر ایک کی لبوں پہ ذکر قرانی تھا کچھ با اواز بلند ذکری کلمات پڑھ رہے تھے اور کچھ گڑ گڑا کر اپنی گناہوں کی معافیاں مانگ رہے تھے۔
ہلکی سردی محسوس ہو رہی تھی لیکن اللہ تبارک تعالی کا کرم خاص تھا کہ موسم زیادہ سرد نا تھا اگر کچھ دن کے فرق سے یہ زلزلہ اتا تو زلزلے کے ساتھ ساتھ سردی کی تباہ کاریاں بھی مشکلات میں اضافہ کر سکتی تھیں۔
مں نے رب کا شکر ادا کیا کہ اس پاس پڑوس سے ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔
ایک اور بات جو میں نے مشاہدہ کی تھی کہ فرقہ پرستی کو فروغ دینے والےبدعتی لوگ ، دولت ،شہرت و بلند مرتبوں کے زعم میں مبتلا گمراہ لوگ ، سب کچھ بھول کر اپنے عہدوں پیسوں اور فرقوں سے بالاتر ہو کر، بے سر و عالم ایک اللہ کی طرف متوجہ تھے ۔
فجر کے اذانوں تک اکثر لوگ باہر تھے اذانوں کے بعد بغرض باجماعت نماز دوست کے ہمرا مسجد کا رخ کیا تو خلاف توقع مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ۔
بے شک ، میرے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
"زُلْزِلَتْ” زلزال سے ہے یعنی ہلادیا جانا۔ اَلاَرْضُ کے معنی زمین کے ہیں
ایک پارسا مسلمان کا پختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ زلزلے بلاسبب نہیں اتے اور ان کیلیےزلزلوں کے دنیاوی اسباب سے انکار ناممکن ہے بلکہ اس کے پیچھے اللہ سبحان تعالی کا حکم کار فرما ہونا ہی سمجھتا ہے۔
قران و حدیث کی رو شنی میں ،لوگوں کے برے اعمال زنا، سُود اور شراب نوشی کا عام ہونا۔ لوگوں کا گانے بجانے کو اپنا مشغلہ بنانا۔ اچھائیوں کا حکم اور برائیوں سے لوگوں کو روکنے کا عمل بند کردینا۔ لوگوں کا ان بُرے اعمال کو نا صرف کرنا ہی نہیں بلکہ انہیں جائز اور وقت کی ضرورت سمجھنے لگنا، رشوت خوری ،حلال حرام کی تمیز سے مبرا ہوکر صرف دولت جمع کرنا ،زکواۃ نا دینا ،غریبوں یتیموں کے حق پہ ڈاکہ مارنا ہی دراصل زلزلوں کے اسباب ہیں۔
اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں
کیا پھربھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہيں کہ ان پرہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے اور وہ سو رہے ہوں ، اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہیں کہ ان پرہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے اوروہ کھیل کود میں مصروف ہوں ، کیا وہ اللہ تعالی کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگۓ ہیں تواللہ تعالی کی پکڑ سے نقصان اٹھانے والوں کے علاوہ اورکوئی بے فکر نہیں ہوتا ۔
الاعراف ( 97 – 99 ) ۔
زلزلے آنے پر ہمیں اپنی سر کشی سے گریز کرنا چاہیے اور اس عہد کے ساتھ کہ آئندہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہو ئے زندگی گزاریں گے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے کردہ گناہوں کی معافی بھی مانگنی جائے۔تو اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہمارا رب غفور و رحیم ہے اور اپنے بندوں کیلیے توبہ کے دروازے ہمیشہ کُھلے رکھتا ہے اور افتیں بھی ٹال دیتا ہے۔تحریر : اے ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan
Category: متفرق
-

بلوچستان زلزلہ تحریر ار کے
-

ڈاکٹر عبدالقدیر قومی ہیرو؟ تحریر۔ ثناالله
کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو تھے؟
جی نہیں معذرت کے ساتھ مجھے جمھور سے اختلاف ہے میری رائے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو نہیں تھے اُن کے کچھ ایسے راز جو ہم نہ جان سکے اُن کی کچھ باتیں جو ان کے حیات ہونے کے دوران پسِ پردہ رہیں !
حدیث نبوی ہے "تیر بنانے والا” تیر پہنچانے والا اور تیر چلانے والا تینوں جنتی ہیں
قارئین تیر اندازی والوں کے لئیے یہ بشارت کس لئیے ، یہ بشارت اس لئیے نہیں کہ انہوں نے تیر ایجاد کیا بلکہ یہ بشارت اس لئیے ہے کہ انہوں نے اس ایک تیر سے غلبہ اسلام کی کوششیں کی تھیں ۔دین حق کی سر بلندی کے لئیے نعرہ لگانے کا ثمر یہ ملا کہ اس تیر کی تیاری سے لے کر اس کے آخری استعمال تک اس کار خیر میں حصہ لینے والوں کو جنت کی بشارت دے دی گئی
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نہ صرف ایٹم بم نہیں بنایا بلکہ عالم اسلام کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرکے دنیائے کفر میں ایک امر حقیقت کے طور پر ثابت کیا
قارئین یہ وہ وقت تھا کہ جب دنیائے گفر کی طاقتیں "ایٹم بم "کے زور پر ایک دوسرے زیرو زبر کررہی تھیں اس وقت اسی کا ڈنکہ ہوتا تھا جس کے پاس جس ایٹمی ہتھیار ہوتے تھے
تاریخ کائنات میں وہ موڑ تھا جب عالم اسلام عالمِ کفر کے زیرنگیں تھااور انہی کے رحم وکرم پر اپنی بقا چھوڑے ہوئے تھے
تبھی رب کائنات نے پاکستان کی سرزمین کا ایک سپوت چُنا اس وقت اس کے پاس دُنیا کمانے کے لئیے بہت کچھ تھا وہ چاہتا تو اس کی نسلیں عیش کرتی وہ ایک عام انسان نہ تھا بلکہ اعلٰی تعلیم یافتہ سائنسدان اس کو دنیائے کفر کی خدمات کے لئیے بڑا معاوضہ ملتا تھا لیکن اسے جانے کیا سوجھی دنیا کی عیش و عشرت،مال و متاع چھوڑ پاکستان کی جانب چل دیا اور دنیا سے تعلق توڑ عالم اسلام کو ایک عالمی طاقت بنانے کی خواہش لئیے پاکستان میں ڈیرے ڈال دئیے
قارئین پاکستان کے بارے میں یہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کوئی ملک نہیں یہ رب کریم کا معجزہ ہے اور اس پاک ذات کے رازوں میں ایک راز ہے 27 رمضان کو پاکستان کا قیام بذات خود ایک معجزہ ہے اور سرزمین پاکستان اسی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد عالمِ اسلام کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنے کھڑی ہے اور جب جب اسلام پرطکچھ مشکل وقت آیا تو پاکستان یا اس کے سپوتوں نے خدمت اسلام کو جہاد سمجھ کر سر پر کفن باندھ کر اسلام کا نام سر بلند کیا
اسلام کو ناقابلِ فراموش عالمی حقیقت بنانے کے لئیے بھی رب جلال نے سرزمینِ پاکستان اور اس کے مجاہد سپوتوں کا انتخاب کیا اور 6 مئی 1998 کو اقوام عالم نے وہ منظر دیکھا جس کے بعد وہ جان گئے کہ اب اسلام کو تا قیامت کوئی دبا نہ پائے گا
قارئین یہاں یہ بات قابل فکر و تدبر ہے کہ جب پاکستان نے ایٹم بم بنایا تب سے اب تک دُنیائے کفر اسے "اسلامی بم” کے نام سے جانتی ہے گویا یہ ایٹم بم بنانے کا جو معرکہ تھا وہ کوئی ملکی یا قومی معرکہ نہ تھا بلکہ یہ کفر اور اسلام کا معرکہ تھا یہ حق اور باطل کی تفریق کا معرکہ تھا
یہ تاریخ اسلام میں مسلمانوں کی دنیوی زبوں حالئ کے باوجود دنیا میں اپنے نام کو قائم و دائم اور سربلند رکھنے کا معرکہ تھا تو یہ معرکہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان ” نے سر کیا اور حق و باطل میں پھر سے حدِ فاصل قائم کردی !
قارئین اب چلتے ہیں میرے آرٹیکل کے شروع میں دئیے گئے جواب کی جانب اس دلیل پر میں حق پر ثابت ہوا کہ "ڈاکٹرعبدلقدیر خان” قومی ہیرو نہیں بلکہ اسلام کے ہیرو ہیں
اب یہ امر افسوس ناک ہے کہ ہم نے رب کے دئیے ہوئے اس معجزے کو پہچان نہ دی ہم نصابی اور تاریخی کتب میں اسلامی ہیروز کے نام تو پڑھتے رہ گئے لیکن اس مرد مجاہد کی اس کی اصل پہچان نہ دی
اسلام پہ کئے گئے اس احسان کو احسان نہ مانا اور اللہ کے اس ولی کے فیض سے محروم رہ گئے
ہم طارق بن زیاد کوتو یاد کرتے ہیں ہم سلطان صلاح الدیین ایوبی کی بہادری کے ڈنکے توبجاتے ہیں ہم سلطان محمودغزنوی کو امت کا لیڈر تو مانتے ہیں لیکن امت مسلمہ کے اس جانباز اور درخشندہ ستارے کو کبھی پہچان نہ پائے اب اسے کامیابی کہیے یا ناکامی قومی خوشنصیبی کہیے یا بدنصیبی ۔اخلاقی انحطاط کانام دیں یا اخلاقی عروج کا اسے سزا سمجھیں یا جزا حقیقت یہی ہے کہ رب کریم نے ہم میں ایک اپنا چُنا ہوا بندہ بھیجا اس سے عالم اسلام کی خدمت کاکام لیا ولیوں جیسی گمنام زندگی دی اور اسی خاموشی سےاسے اپنی طرف بلالیا
ہم نہ تو اس کی خدمات سے فیض لے پائے نا اس ولی اللہ کی پہچان کر اسکی خدمت کا موقع بھی فراہم ہوا
اللہ پاک مرحوم کوکروٹ کروٹ سکون و بخشش نصیب فرمائے اور ہم جیسے بندہ ناچیز سے بھی عالم اسلام کی سربلندی کے لئیے چھوٹاموٹا کام لےلے تاکہ ہمیں بھی شفاعت کا کوئی ذریعہ نصیب ہو
آمین
ستارے تو روز ہی ٹوٹ کر گرتے ہیں
غضب ہوا آج تو آفتاب ٹوٹا ہے 💔@sanaullahakhtar
-

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری پٹیشن اور پی ایم سی تحریر: ناصر بٹ
@mnasirbutttیوں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پوری زندگی سائنسی تجربات، قوم کے درد اور کمزوروں کا سہارا بنتے گزری لیکن زندگی کے آخری ایام میں بھی قوم کے مستقبل یعنی سٹوڈنٹس کا درد ان کے دن میں موجود تھا، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر پاکستان میڈیکل کمیشن، میڈیکل سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کو آمنے سامنے دیکھا، متاثرہ سٹوڈنٹس کا دکھ برداشت نہ ہوا اور کمزوری کی حالت میں بھی طلبا کے شانہ بشانہ چلنے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل وقاص ملک ایڈووکیٹ کو بلاتے ہی کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان میڈیکل کمیشن کو لیکر چلیں، میں بھی دیکھتا ہوں اس قوم کے سٹوڈنٹس کے ساتھ میرے ہوتے ہوئے کون زیادتی کرتا ہے، دکھ اس بات کا ہے اور شائد اب ساری زندگی ساتھ چلے کہ قوم کے اس محسن کو بس پاکستان میڈیکل کمیشن کے خلاف دائر کی جانے والے پٹیشن پر دستخط کرنے کا ہی موقع مل سکا اور کیس سماعت کے لیے مقرر ہونے سے پہلے ہی ان کا مقررہ وقت آن پہنچا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے، آج جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تو اس میں انہوں نے پی ایم سی کے کنڈکٹ آف ایگزامنیشن ریگولیشن 2021 کو کاالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹوڈنٹس پر پولیس کے لاٹھی چارج سے دنیا بھر میں ایٹمی پاکستان کا امیج خراب ہوا اور طلبا کو مناسب وقت دیے بغیر امتحان کا نیا سسٹم متعارف کرانا درست نہیں، ایڈووکیٹ وقاص ملک سے بات ہوئی تو انہوں نے واضع کہہ دیا کہ مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ینگ ڈاکٹرز کے لیے پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کی اور یوں محسن پاکستان کی آخری دستخط شدہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہے، اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وفد کی وقاص ملک ایڈوکیٹ سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد میں شامل صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر فیض اچکزئی اور چیرمین ڈاکٹر حیدر عباسی نے وقاص ملک ایڈووکیٹ کو مکمل سپورٹ فراہم کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایم ڈی کیٹ، این ایل ای سمیت پی ایم سی کے کسی بھی غیر قانونی اقدام کی بھرپور مخالفت کریں گے، دوسری جانب آگ میں تیل کا کام پی ایم سی صدر و نائب صدر کی جانب سے پریس کانفرنس میں تب ہوا جب حکام کی جانب سے یہ کہہ کر پریس کانفرنس چھوڑنے کر جانے کی راہ لی گئی کہ صحافیوں کے تمام سوالات پلانٹڈ ہیں جس پر صحافیوں کی جانب سے بھی خوب اظہار ناراضگی اور شدید احتجاج کیا گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس معاملے پر کس حد تک نظر ڈالتی ہے
-

الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف
سن 1936ء کو بھارت کے شہر بھوپال میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبدالقدیر خان رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہوکر سانئس دان بنے گا۔ ایک ایسا سانئس دان جو پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے آباؤ اجداد کا تعلق بھوپال سے تھا۔ مگر سن 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد جب پاکستان وجود میں آیا تو ان کا پورا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان میں آکر آباد ہوگیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کی اور سن 1960ء میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری لینے کے بعد وہ مزید علم کے حصول کی خاطر جرمن کے دارالحکومت برلن چکے گئے۔ کافی عرصہ وہاں قیام پذیر رہے اور پھر اسی عرصے کے دوران انھوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔
پھر 1971ء کی جنگ میں پاکستان کو جن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو ان درپیش مسائل سے نکالنے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی تھان لی۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے 1974 میں ذولفقار علی بھٹو کو ایک پیغام بھجوایا کہ وہ جوہری قوت کے حصول اور پاکستان کو ایک مضبوط ایٹمی قوت بنانے کے لیے بھرپور مدد فراہم کرسکتے ہیں۔
پھر اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976 کو مستقل طور پر اپنی اہلیہ ہنی خان اور دو بیٹیوں کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوگئے۔ کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کے لیے ان کے وطن کو ان کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ یہ کام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا۔ یہ وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہی تو تھا کہ جس کی بدولت آپ ہالینڈ میں اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر پاکستان واپس چلے آئے۔
اس اہم فیصلے میں ان کی اہلیہ ہنی خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اندر پاکستان کے لیے عشق کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے ساتھ ہی پاکستان آگئیں۔ وطن واپس آتے ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 1976 کے وسط میں ای آر ایل یعنی کہ "انجنیرنگ ریسرچ لیبارٹری” کی بنیاد رکھی۔ بعد میں 1981 کو اس لیبارٹری کا نام "خان ریسرچ لیبارٹری” رکھ دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو جوہری طاقت بنانے کے لیے انتھک محنت کرتے ہوئے اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔
اور پھر 28 مئ 1998 کا وہ تاریخی دن تو سب کو یاد ہی ہوگا جب بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب کے طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں چاغی کے مقام پر کامیاب ترین ایٹمی تجربہ کرتے ہوئے بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی تو وہ ہستی ہیں جن کی بدولت آج ہم اپنے ملک میں بغیر کسی خوف و خطر کے کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔
آج اگر بھارت ہمیں جنگ کی دھمکی دیتا ہے تو ہمارے چہروں پر خوف کا سایہ نہیں لہراتا بلکہ ہم پر سکون ہوکر انھیں جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص وہ "محسن پاکستان” جس کی بدولت آج پاکستان بھارت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے اب سے کچھ گھنٹے قبل شدید علالت کے بعد رحلت فرما گیا ہے۔ یاں یوں کہوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ اب سے کچھ گھنٹے قبل پاکستان نے اپنا سب سے قیمتی اثاثہ کھو دیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر جہاں پوری قوم اشکبار ہے وہیں آج پاکستان کے اتنے بڑے نقصان پر قومی پرچم کو بھی سرنگوں کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود تو اس دنیا سے چلے گئے پر ان کا نام اور ان کا کام رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ الوداع "محسن پاکستان” الوداع
مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
جب بھی اس شہر کی تاریخ وفا لکھے گی
میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
میرا نوحہ انھیں گلیوں کی ہوا لکھے گی !!!@SeharSulehri
-

1500سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی فیکٹری
شراب کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ انسانی تہذیب و تمدن کے ابتدائی دور سے موجود ہے تاہم اسرائیل میں 1500 سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی ایک فیکٹری دریافت ہوئی ہے-
باغی ٹی وی : اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی نوادرات اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شراب کی مذکورہ فیکٹری بازنطینی دور سے اب تک دریافت ہونے والی سب سے بڑی وائنری ہے-
آثار قدیمہ کے ماہرین نے اسرائیلی لینڈ اتھارٹی کی جانب سے یونے شہر کو ارد گرد کے علاقے میں وسعت دینے کے اقدام کے طور پر 75 ہزار مربع فٹ جگہ کی کھدائی میں دو سال کا وقت لیا۔

ریسرچ کے مطابق پانی کے ناقص معیار کی وجہ سے 520 عیسوی کے لگ بھگ بازنطینی دور میں بالغوں اور بچوں کے لیے شراب پینا عام تھا۔

ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جون سیلگ مین کے مطابق اس مشن کے دوران انہیں دوسری صنعتوں کی باقیات بھی ملی ہیں، جن میں شیشے اور دھات کی فیکٹریاں موجود ہیں پلانٹ میں کئی ہزار ٹکڑے اور مٹی کے جار بھی موجود ہیں جبکہ ان باقیات میں گھر اور دوسری عمارتیں بھی شامل ہیں جو بازنطینی اور اسلامی کے درمیان عبوری دور کی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یونے میں دریافت کی گئی فیکٹری ہر سال 20 لاکھ لیٹر تک شراب پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ برطانیہ مجموعی طور پر سالانہ 8 ملین لیٹر سے کم شراب پیدا کرتا ہے-اس سے قبل 2017 میں سائنس دانوں کو مشرقی یورپ کے ملک جارجیا سے انہیں 8 ہزار سال قبل کے مٹی کے مرتبان اور ان میں انگور بنائے جانے کے نشانات ملے جن کے بارے میں محققین کی رائے تھی کہ یہ انگور سے شراب بنانے کے قدیم ترین شواہد ہو سکتے ہیں۔

یہ آثار جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی کے جنوبی علاقوں میں دو مقامات پر ملےتھے ان مرتبانوں میں شراب کی باقیات بھی ملیں جبکہ بعض مرتبانوں پر انگور کے خوشے اور رقص کرتے ہوئے ایک شخص کی تصویر بھی پائی گئی تھی۔جارجیا میں ملنے والی ان چیزوں کے بارے میں پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی-
اس سے قبل شراب کے قدیم ترین شواہد ایران سے ملے تھے اور وہاں ملنے والے شراب کے ظروف کی عمر سات ہزار سال بتائی گئی تھی۔

سنہ 2011 میں آرمینیا کے غاروں میں چھ ہزار سال پرانی شراب کے آثار ملے تھے بغیر انگور کے تیار کی جانے والی دنیا کی قدیم ترین شراب کی باقیات چین سے ملے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چاول، شہد اور پھلوں سے تیار کی گئی تھی۔ -

لاہور کا اعزاز۔۔۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان تحریر وقاص امجد
قیام پاکستان سے اب تک لاہور کی تاریخ میں بہت سے افسران آئے جنھوں نےباغات کے شہر کی خوبصورتی میں اضافے اور سہولت کیلئے اپنے سے پہلے والے افسر سےبھی زیادہ اور بہتر اقدامات کیے لیکن اس شہر کی ترقی اور خوبصورتی کا جو سہرا کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کے سر سجا ہے ، اسکی نظیر نہیں ملتی۔بطور کمشنر لاہور تعیناتی کے دوران انکے شروع کیے گئے پروجیکٹس کی بدولت آج لاہور کو عالمی سطح پرنئی پہچان مل رہی ہے۔
ماضی میں اسی شہر کے ڈپٹی کمشنر رہنے والےکیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان جب لاہور ڈویژن کے 59 ویں کمشنر بنے تو جہاں اپنے پرانے تجربے کی بنیاد پر کام کا آغاز کیا وہیں کورونا وباء کے دوران بطور سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کی حیثیت سے کیے گئے اقدامات کو بھی مدنظر رکھا۔ صحت کے شعبے سے ایک خاص عرصے تک جڑے رہنے کا ہی نتیجہ تھا کہ لاہوریوں کو اس وباء سے بچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آگاہی مہم کا آغاز کرتے ہوئے انھیں ایک شفیق باپ کی طرح ماسک پہننے کی تلقین کی اور بعدازاں” لاہور وئیرز ماسک” مہم پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا۔
اسی طرح” لاہور گیٹس ویکسی نیٹڈ ” مہم کے تحت شہریوں کو ویکسین لگوانے کی طرف راغب کیا اورساتھ ساتھ افواہوں کی شکار پڑھی لکھی عوام کو ویکسینیشن کی اہمیت سے بھی روشناس کروایا۔ اس کام کیلئے جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز بھی کیا گیاہے۔اس پروگرام کے تحت طلباء کی مدد سے عوام الناس کو معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ویکسینیشن کا کورس مکمل کرنے کی ہدایات دی جائیں گی۔
کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ کے مترادف کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی کی حیثیت سے بھی ماضی میں خاصہ کام کیا اورجس تندہی کیساتھ کیا، اسکی مثال ملنا بھی مشکل ہے۔ انھوں نےعوام کی صحت پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے بغیر انھیں صاف ستھری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
اسی طرح لاہور کی ادبی پہچان اور اسے ملنے والےسٹی آف لٹریچر کے اعزاز میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے کمشنر لاہور نے ادبی سرگرمیوں کے کیلنڈر کی تیاری کی بھی ہدایات کررکھی ہیں جو انکے ادب دوست ہونے کی واضح نشانی ہے۔ ٹریفک کے اژدھام کے باعث لاہور شہر کی خوبصورتی پر پڑنے والےمنفی اثرات کو بھانپتے ہوئے کمشنر لاہور نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مدد سے شہر کو مزید خوبصورت بنانے کا بھی پلان بنایا اور اس پلان کووزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ لاہور میں بڑی تفصیل سےبیان بھی کیاگیا۔ کمشنر لاہور کی انتھک محنت اور مسلسل کام کرنے کی لگن کی بدولت کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کو وزیراعظم سے تعریفی کلمات بھی سننے کو ملے۔Twitter Id
@waqas_amjaad -

ڈھونڈ گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں تحریر۔ نعیم الزمان ہم۔
جو یاد آئے بھول کر پھر اےہم نفسو وہ خواب ہیں ہم۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان خان 1936ء کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ 1952ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے ۔ کراچی سے میٹالرجی میں ڈگری حاصل کی۔ پھر جرمنی اور ہالینڈ سے اعلی تعلیم حاصل کی ۔ 1970ء میں ہالینڈ سے میٹالرجی میں ماسٹر کیا ۔ اور 1972ء میں بیلجیئم سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد وطن واپس لوٹے۔ 1974ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکوں کے تجربات کیے۔ اس کے بعد آپ نے 1976 ء میں پاکستان انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا۔بعد میں اس ادارے کا نام صدر پاکستان ضیاءالحق نے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتاہے۔ صرف آٹھ سال کی قلیل مدت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی محنت اور لگن کے ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے تمام نوبل انعام یافتہ سائنسدان کو حیرت میں مبتلا کیا۔ 28 مئی 1998 ء میں پاکستان نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا ۔جس کی نگرانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کر رہے تھے ۔یہ سب آپ کی اور آپ کی ایٹمی ٹیم کی محنت اور جذبہ حب وطنی کی بدولت ممکن ہوا۔ الحمدللہ پاکستان دنیا کا پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنا ۔آپ نے 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو وطن عزیز کیلئے شاندار خدمات سرانجام دینے پر محسن پاکستان کا خطاب دیا گیا۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں جنہیں تین صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ انہیں ان خدمات پر دو بار نشان امتیاز اور ایک بار ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔ سنہ 2003 میں اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ادارے نے پاکستان گورنمنٹ کو ایک خط ارسال کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے جوہری راز فروخت کیےہیں۔ بعدازاں ٹی وی پروگرام میں آ کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی ایران لیبیا اور شمالی کوریا منتقلی کے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد انہیں اسلام آباد میں ان کے گھر نظر بند کر دیا گیا ۔2009 ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ ان کی نظر بندی کو ختم کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں ایک آزاد شہری کی طرح زندگی گزارنے کے احکامات جاری کیے۔ مگر وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں احکام کو مطلع کرنے کے پابند تھے۔ بغیر مطلع کیے کہیں آنا جانا ممکن نہیں تھا۔ 2020ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ان کا موقف تھا کہ میری نقل و حرکت کو محدود کیا گیا ہے مجھ سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تعلیمی اداروں میں نہیں جانے دیا جاتا ۔مجھے تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں سٹوڈنٹ کو کچھ لیکچر دیے سکوں۔ درخواست میں مزید یہ بھی کہا گیاتھا کہ جب میں نیوکلیئر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت تو میرے ساتھ گارڈ نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی بندوقیں نہ فوجی اور نہ ہی رینجرز ۔ اب 84 سال کا عمر رسیدہ ہو چکا ہوں۔ چلنا پھرنا مشکل ہے ۔ میں اپنے ہی ملک میں موجود ہوں اور باہر جانے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ میں اپنے ملک سے غداری نہیں کروں گا ۔ایک عام آدمی کی طرح بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ جس پر عدالت کے ریمارکس تھے کہ ان حالات میں آپ کی زندگی کو خطرہ سے محفوظ رکھنے کیلئے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو آپ کے لیے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں مگر غیر محفوظ نہیں ۔نظر بندی کے باعث ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے بہت ساری مشکلات کا سامنا کیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان گزشتہ کئی سالوں سے پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ خاندانی ذرائع کے مطابق کچھ ہفتے پہلے ڈاکٹر صاحب کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ اور ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی گئی۔ بعد میں طبیعت بہتر ہونے پر کرونا سے ریکوری پر آپ کو واپس گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔ 9 اکتوبر کی شب کو ڈاکٹر صاحب کی اچانک طبیعت خراب ہوئی۔ جس کے بعد انہیں ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ 10 اکتوبر کی صبح سات بجے کے قریب پاکستان ایٹمی پروگرام کے خالق اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ محب وطن پاکستانی اور محسن پاکستان کا سنہرا باب ہمیشہ کے لئے لیے بند ہو گیا۔ آپ کی خدمات کو رہتے پاکستان تک یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اس قوم اور ملک پر جتنا بڑا احسان تھا اقتدار میں رہنے والوں نے انہیں اتنا ہی نظر انداز کیا۔ درویش صفت انسان اپنی کسم پرسی اور تکالیف چھپائے رخصت ہو گئے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رخلت کا سن کر کر پوری قوم غمزدہ ہے ۔ہر آنکھ اشک بار ہے۔ آپ نےانتھک محنت اور لگن کے جذبے سے سر شار ہوکر ہماری دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں یہ ریاست آپ کا خیال نہ رکھ سکی جو عزت آپ کو دینی چاہیے تھی وہ نہ دے سکی۔ اللہ ہمیں قوم کے محسنوں کی قدر سکھائے ۔ اللہ آپ کی مغفرت فرمائے آپ کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین
ہم بھی چلے ہیں سوئے کارواں
آنے والوں کو ہمارا سلام کہنا۔
Follow on Twitter
@786Rajanaeem
-

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے💕
10 اکتوبر 2021 کو ہم نے اس دیدہ ور اس قیمتی اور نایاب ہیرے کو کھو دیا جن کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور جن کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
"ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”
آپ یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوے۔ آپ ایک بہت ہی سادہ اور انتہاٸی عاجز مزاج اور ایک مخلص انسان تھے۔آپ نے پاکستان کے لیے نا قابل فراموش اور گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بعد آپ نے پاکستان کو عالمی برادری میں مضبوط بنانے کے لیے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے 28مٸی 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے مقام پہ ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت ہے لہذا ہماری ارضِ پاک کی طرف میلی نگاہ سے نہ دیکھنا ورنہ ہم جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ دنیا آپ کو A.Q.Khan کے نام سے بھی جانتی ہے اور عالمی دنیا میں آپ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔
ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جہاں علامہ اقبال رح اور قاٸداعظم رح کی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ۔ آپ نے شدید مخالفت اور دباٶ کے باوجود بھی اس ارضِ پاک کو ایک ایٹمی طاقت بنایا ۔
پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا پوری دنیا کے لیے یہ پیغام تھا کہ اس اسلامی مملکتِ خداداد کو کوٸی شکست نہیں دے سکتا۔ آپ کے اس اقدام سے دنیا میں پاکستان ایک طاقتور مملکت بن کر اُبھرا۔
آپ کو محسنِ پاکستان کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اور سرکاری سطح پہ بہت سے اعزازات نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا مگر پھر بھی بحیثیت قوم ہم نے انہیں وہ عزت و مقام نہیں دیا جس کے وہ قابل تھے
انہوں نے اس اسلامی ریاست کو ایٹمی طاقت بنا کہ عالمی دنیا کے ظلم سے بچا لیا شام ، فلسطین، اعراق، لبنان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرزمین پاکستان پہ قدرت کا ایک انمول تحفہ تھے جنہوں نے وطنِ عزیز کے دشمنوں پہ لرزا طاری کر دیا ۔
آپ نے ایک اسلامی ریاست کی مضبوطی اور اس کی بقاء کے لیے جو کوششیں کیں اور جو کارہاۓ نمایاں انجام دیے اس کے بعد اگر آپ کو محسنِ اُمت کہا جاۓ تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔
آپ ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول صلى الله عليه واله وسلم بھی تھے. آپ نے ایک نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں کہا تھا :
"کہ آپ کو اپنے بھوپالی ہونے پہ فخر ہے کیونکہ ایک تو وہ غدار نہیں ہوتے اور دوسرا ان میں کوٸی قادیانی پیدا نہیں ہوتا ”
آپ صرف ایک شخصیت کا ہی نام نہیں تھے بلکہ ایک عہد کا نام بھی تھے جو تمام ہوا اور سب کو افسردہ کر گیا۔ پاکستان ایک مخلص ایماندار اور نڈر و دلیر محبِ وطن اور ایک مضبوط قوت سے محروم ہو گیا😢
” ڈھونڈو گے اگر ہمیں ملکوں ملکوں ۔۔۔ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم”
ہر آنکھ اشک بار ہے انکے جانے پہ۔ انکا خلاء باقی رہے گا اور پاکستان اور پاکستانی انکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ قوم ہمیشہ انکی خدمات کی مقروض رہے گی اور تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جاۓ گا۔ ہمیں یہ افسوس ہمیشہ رہے گا کہ جیسے انکی قدر کرنے کا حق تھا ہم نے ویسی نہیں کی۔
"عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن۔۔۔۔یہ الگ بات ہے دفناٸیں گے اعزاز کے ساتھ”
اللّٰہ پاک ڈاکٹر صاحب کی بے حساب مغفرت فرماۓ اور ان کے درجات بلند فرماۓ آمین ❣️
شمسہ بتول
@sbwords7
-
استحکام پاکستان کی بنیاد چل بسا ازقلم محمد عبداللہ گِل
مملکت خداداد کا 14 اگست 1947ء کرہ ارض کے نقشے پر ظہور ہوا۔پاکستان کو سیکولرازم اور لبرلزم کہ بنیاد پر نہیں بنایا گیا بلکہ اس مملکت کا نظریہ اس کی بنیاد دین اسلام کو چنا گیا پھر اس کے لیے محنت کی گئی جس کا ثبوت مسلم لیگ کے اس نعرے سے ہوتا ھے جو کبھی بھوپال میں لگ رہا ہوتا تو کبھی بنگال میں کبھی دہلی میں کبھی بلوچستان میں
"مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ”
اسلام کی بنیاد پر یہ وطن بنا دیا گیا مخلص اور اسلام پسند قیادت نے اس کے لیے قربانیاں دی۔لیکن ابھی مملکت کو بنے 24 سال ہی بیٹے تھے تو اس ملک کے خلاف سازش کو رچا گیا۔ان سازشوں کی وجہ سے ہمارا دشمن اور ازلی حریف بھارت کامیاب ہوا اور پاکستان دولخت ہوا اس وقت ایک شخصیت نے سربراہ مملکت خداداد پاکستان کو خط لکھا جس میں خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اسلام کو ایٹمی قوت کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔امت مسلمہ کے لئے اس قدر درد دل رکھنے والی شخصیت کا اسم گرامی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے امت مسلمہ اور پاکستان کو استحکام دیا۔لیکن آج 10 اکتوبر کو وہ شخصیت اس جہان فانی سے رخصت ہو گی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان حب الوطنی کے جذبہ سے مالا مال بلکہ محبت اسلام سے لبریز تھے۔کمال عجب کی شخصیت تھی کہ اتنا بڑا نام۔رکھنے والا شخص جس کو کئی لاکھ ڈالر تنخواہ پر نوکریاں دینے کو ملک تیار تھے لیکن اس نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا فرض انجام دیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک پاکستان کے نظر بندیوں کو بھی برداشت کر لیا اپنے بارے دشمن کی سازشوں کو بھی برداشت کر لیا۔بلکہ اندرونی و بیرونی دشمنوں کے آگے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گے لیکن پاکستان پر آنچ تک کو نہ آنے دیا۔
بلکہ یہ کہا ہو گا
"اے ستم گر ادھر آ ستم آزمائے
تو تیر آزما اور ہم ہنر آزمائے”
بلکہ کیسا ہنر آزمایا کہ ملک پاکستان کو اپنے اردگرد موجود چیل بھیڑوں سے بچا لیا۔آج بھی ہم سے دس گنا بڑا حریف ہم سے کاپنتا ھے۔اس کی وجہ ہماری فوج کا جوہری طور پر مضبوط ہونا ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ نظریاتی لوگوں کے لیے سرحدوں کی قید نہیں ہوتی کیونکہ ڈاکٹر صاحب بھوپال سے چلے ہنری سے تعلیم کو حاصل کیا پھر پاکستان آئے انڈیا کے ایٹمی حملوں کے مد مقابل 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں نعرہ تکبیر کو بلند کر دیا اور یہ بھی پیغام دے دیا کہ آج استحکام پاکستان مکمل ہو چکا ھے۔وہ پاکستان کی ناو جس پر 1971 پر نظریاتی حملہ ہوا آج وہ مستحکم ہو چکی ھے۔جس کی وجہ سے قوم ان کو سلام پیش کرتی ھے۔میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جو ان کے کارناموں کو بیان کر سکے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے ایٹمی قوت پاکستان کو بنایا جس کی وجہ سے آج افغان امن معاہدہ میں پاکستان کی اہمیت ھے اگر فوجی اتحاد ھے تو پاکستان چیف ھے۔ملکوں کی فوجیں ہمارے پاس جنگی مشقیں کرنے آتی ہیں بلکہ امریکہ،اسرائیل بھارت اور یہ یہود و نصاری کے ملک ہم سے گھبراتے ہیں۔انھیں پتہ ھے کہ ان کے پاس نظریہ جہاد تو پہلے ہی ھے لیکن اب ان کے پاس جنگی گھوڑیں بھی ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے اس کارنامہ کی وجہ سے امت مسلمہ ان کی مقروض ھے اور ان سے عقیدت رکھتی ھے۔جس کا منہ بولتا ثبوت آج ان کی وفات کے بعد سوشل میڈیا اور مسلم ممالک کے چینلز کی طرف سے ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی وفات پر غم و رنج کا اظہار کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جیسے باہنر شخص کو بدقسمتی سے ملک پاکستان کے حکمرانوں نے اس طرح بروئے کار نہیں لایا جس طرح حق تھا بیرونی پریشر پر ان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا تھا۔جو اس ملک کے نظریاتی غدار ہیں ان کی جمع پونجی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی اور محسن پاکستان کے پاس لباس کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔میری حکومت وقت سے گزارش ھے کہ خدارا ایسے نظریاتی محافظوں کو تلاش کر کے ان کا خیال رکھو ان کو قید و بند کی صعوبتوں سے نہ گزرارو۔
اللہ تبارک و تعالی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
@ABGILL_1
-

"یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان صوفیہ صدیقی
دس اکتوبر 2021کی صبح, سوا نو بجے کے قریب ایک مخصوص ایس ایم ایس ٹون کے بعد میں نے موبائل اٹھایا۔ ساتھ ہی ایک افسوسناک خبر میری آنکھوں کے سامنے تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم میں نہیں رہے۔
معذرت کے ساتھ گزشتہ تین چار سالوں میں یہ مذاق اتنی بار سن چکے تھے کہ دکانوں کو ایسے لگا کہ جیسے ایک بار پھر دھوکا دیا جارہا ہے ایس ایم ایس کرنے والے سے سوال بھیجا کیا واقعی؟؟
جواب ملا! بدقسمتی سے اس بار یہ خبر درست ہے ۔افسوس صد افسوس ہم نے ایک عظیم سائنسدان اور ایک عظیم انسان کو کھو دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کو یقینا پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور رشک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اسلام آباد میں شاہرہ ِ فیصل کو ان کی جنازہ سے قبل و بعد کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند دیکھا۔ بے وقت کی بارش اور گھٹاؤں نے عظیم سائنسدان کو رخصت کیا۔ گویا آسمان بھی رویا اس بے قدری پہ جس کا اس قوم کو سامنا ہے۔اے کیو خان کو تمام تر سرکاری اور عسکری اعزازات کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں لاکھوں عام افراد کے علاؤہ سیاسی قائدین، مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمایاں بات یہ تھی کہ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے جنازے میں آنے سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافے ہونے کا احتمال تھا سو وہ شریک نہ ہوئے۔
ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد
چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے
تعزیت کرنے والے انبار اور بہت سے نقطوں پر مشتمل بحث دیکھتے دیکھتے، پاکستان کے بھارت میں تعینات سابق سفیر عبداللہ باسط کی ایک تحریر آنکھوں سے گزری۔ درج تھا ” دفنائیں گے قومی اعزاز کے ساتھ”. ایسے لگا یہ الفاظ ڈاکٹر عبد القدیر کے تھے۔ آج سچ ثابت ہو گئے تھے۔ پھر لگا کہ نہیں پاکستان کے ہر محسن کی آواز ہے جو لٹ پٹ کہ پاکستان آیا اپنا سب کچھ اس کو دیا اور پھر غدار ہوا پھر جاتے جاتے اعزازات سے نواز دیا گیا کیوں کہ زبان بند ہوگئی تھی۔
خیرسوشل میڈیا پہ تلاش کیا تو ان کے یوٹیوب چینل پہ ایک وڈیو ملی جس میں سابق سفارتکار 25 مئی 2018 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر میں ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومتوں سے نالاں تھے۔ مگر ریاستی پالیسیوں سے باغی نہیں تھے۔ عام لوگوں کی طرح بلا وجہ میں واویلا بھی نہیں مچاتے تھے۔
عبد الباسط کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ” اب پاکستان سے تو کچھ مقدم نہیں ہے ۔ یہ ریاست ہے تو ہم ہے نہیں ہیں۔ نہیں تو ہم نہیں ہیں” ایک اور جگہ کہا کہ میں قید میں ہوں لیکن سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کرینگے۔ان چند جملوں سے ایسے لگتا ہے کہ اے کیو خان کم ظرف نہیں تھے۔ یقینا نہیں تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا۔ لکھا۔ بنایا بتایا۔ اپنی تحریروں سے بہت سے مشکلات کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
محسن پاکستان کے جانے سے پاکستان ایک ایسے اثاثہ سے محروم ہوا ہے۔ جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔
قومی سلامتی کا ایک اہم باب رقم کرنے والا اے کیو خان دنیا سے تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوا ۔ اپنا باب بند کرتے کرتے ایک نیا باب کھول گیا ہے ہم کب تک اپنے ہیروز ایسے غداری کے الزامات میں نظر بند رکھیں گے اور پھر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن!!