Baaghi TV

Category: متفرق

  • سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    اس دنیا میں بسنے والا ہر ذی روح اس دنیا کا باسی ہے ۔
    انسان اس وقت تک معاشرے کا کارآمد شخص نہیں بن سکتا جب تک اس کی سوچ مثبت نہ ہو کیونکہ انسان کی سوچ ہی اس کو مثبت یا منفی بناتی ہے ۔
    آپ کی جیسی سوچ ہوگی ویسے کام ہونگے اور اگر سوچ اچھی ہے تو نتاٸج اچھے نکلیں گے اگر بری ہے تو برے ۔
    اسی چیز کو اللہ پاک نے قرآن میں واضع بھی کیا ہے ۔

    ‏اللّٰہ ﷻ کا ارشاد ہے :

    وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)

    ” اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی“۔

    ایک انسان اپنے لفظوں سے نہیں اپنے عمل سے مثالی بنتا ہے انسان کو پستیوں سے نکال کر بلندیوں پر لے جانے والی شے اُس کا عمل ہے۔

    جب انسان پیدا ہوتا ہے،اس وقت وہ سب جیسا ہوتا ہے لیکن اپنے مقصدِ حیات کا تعین کر لینے اور اس کی تکمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کے بعد وہ مثالی اور کامیاب لوگوں کا ہم سفر بن جاتا ہے۔وہ لوگوں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔اسے منزلوں کے سلام آنے لگتے ہیں۔

    مثبت سوچ تحریکی انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔انسان کو جب سمجھ آ جائے کوئی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا جب تک وہ خود اپنے لیے کچھ نہ کرے۔

    جب انسان میں یقین پیدا ہو جائے میں کر سکتا ہوں اور جب وہ اپنی رائے سے نہیں اپنے عمل سے دنیا کو دکھادے کہ وہ زندگی کے سفر میں جیتا ہے پھر وہ مثال بنتا ہے۔عزم صمیم اور جہدِ مسلسل کی زندہ داستان،جو صدیوں لوگوں کے دلوں کو اپنے حصار میں لیے رہتی ہے۔ 

     ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عملی نمونہ پیش کیا۔اللّٰہ کے ہر حکم پر عمل کر کے دکھایا۔انسانوں سے پیار کر کے انسانیت کے دلوں میں گھر کیا حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ ہمارے لیۓ مشعل راہ ہے ۔
    اس دنیا میں حقیقی مشعل راہ حضور کی ذات اقدس ہے ۔
    آپ کا ہر قول فعل زندگی گزارنے کے رہنما اصولوں پہ مبنی ہے ۔
    حضور کریم کی ذات طیبہ تاقیامت مسلمانوں اور روۓ زمین پہ بسنے والے ہر ذی شعور کیلۓ ایک مثال ہے ۔
    حضور کریم کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ تو زندگی گزارنے عبادات و انصاف اور زندگی کے ہر پہلو کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے ۔

    قائداعظم نے اقبال کے خواب کو عمل اور تعبیر کی چادر میں لپیٹ کر پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک مثالی مملکت بنا دیا ۔
    قاٸداعظم نے ایک ایسے ملک کیلۓ جدوجہد کی جس میں مسلمان اپنی عبادات تسلی سے ادا کر سکیں ۔
    پاکستان کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پہ رکھی گٸ ہے اس وقت برصغیر کے مسلمانوں کی زبان پہ ایک ہی نعرہ تھا الله أكبر ۔

    دو ایسے بھائی جنہیں پرندوں کی طرح اڑنے کا جنون تھا پھر ایک دن انہوں نہ اپنے عمل سے اس جنون کو حقیقت کر دکھایا۔ انہوں نےثابت کر دیا کہ کامیابی اور نام عمل والوں کا مقدر ہے۔
    آج دنیا بھر میں تیز ترین سفر ہواٸ جہازوں پہ ہو رہا ہے ۔

    انسانیت کے علمبردار عبد الستار ایدھی اپنے عمل سے مثال بنے ،لوگوں کا درد محسوس کرنے والے ہمدرد کی زندہ و جاوید مثال۔ جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔
    آپ نے اپنی سوچ عمل اور اللہ پہ کامل یقین کی بنا پہ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بنا دی ایدھی پناہ گاہیں لنگر خانے بنا لیۓ جو پوری آب و تاب سے اب بھی چل رہے ہیں ۔

    ہر انسان عملِ پیہم سے دنیا کے لیے مثال رقم کرسکتا ہے۔ اپنے جنون اور عمل کی روشنی سے دنیا کو منور کر  کے اس کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدل سکتا ہے۔

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    ‎@Gumnam_HBK

  • ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد

    ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد


    ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے لیکن کبھی سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اس کو ایک المیہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ تمباکو نوشی سماجی برائیوں کی جڑ یے اس سے نہ صرف صحت بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکل جاتا یے۔ ہمارے گھروں میں بڑا بھائی یا والد صاحب اگر سگریٹ نوشی کرتے ہوں تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی یا کسی بچے کو دوکان سے سگریٹ خریدنے کے لئے بھیج دیتے ہیں اور اس کو بلکل معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے جبکہ قانونی طور پہ 18 سال سے کم عمر کو سگریٹ فروخت کرنے پہ پابندی ہونے کے باوجود دوکاندار سرعام  بچوں کو سگریٹ فروخت کررہے ہوتے ہیں۔ اکثر کل کو یہی بچے خود اس لعنت کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ نوجوان نسل سگریٹ نوشی کو فیشن یا سٹیس کو کی علامت سمجھا جاتا ہے۔  بدقسمتی سے پاکستان میں بائیس کروڑ کی آبادی میں سے تین کروڑ کے قریب سگریٹ نوش ہیں۔

    سگریٹ نوشی اس حد تک نقصان دہ ہے کہ اگر دن میں روازنہ ایک سگریٹ بھی پیا جائے تو اس سے بھی ہارٹ اٹیک یا فالج کے 50 فیصد چانسز ہے ہیں اگر کوئی روازنہ 20 کے بجائے ایک سگریٹ پیتا ہے تو یہی سمجھتا ہے سٹروک یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ پانچ فیصد رہ جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ خطرہ کم سے کم 50 فیصد تک رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے یہی سمجھتے ہیں ک سگریٹ سے پھیپھڑوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے جب کہ حقیقت میں پھیپھڑوں سے لے کر دل دماغ اور جگر کے لئے تمباکو نوشی یکساں نقصان دہ ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے اس بات پہ یقین نہ کریں کہ ایک دن میں چند سگریٹ یا صرف ایک سگریٹ سے تھوڑا نقصان ہوتا ہے اور کم سگریٹ نوشی طویل مدتی نقصان نہیں پہنچاتی یہ ایک غلط سوچ ہے تحقیق کے مطابق جس طرح بندوق کی ایک گولی سے نقصان ہوسکتا ہے ایسے ہی دن میں روازنہ ایک سگریٹ پینا بھی نقصان دہ یے۔ تمباکو نوشی کم کرنے یا مکمل طور پہ ختم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ مہلک بیماریوں سے  ان کو اور ان کے اردگرد والوں کو محفوظ کیا جاسکے۔ تمباکو نوشی سے دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افراد لقمہ اجل بنتے ہیں اور ان میں سے 20 لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ اٹیک سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ طویل مدت تک تمباکو نوشی زندگی  12 سے 15 سال تک زندگی کو کم کردیتی ہے۔ یہ عام غلط فہمی ہے کہ طویل عرصہ تک سگریٹ نوشی کے بعد اس کو ترک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ جیسے ہی آپ سگریٹ نوشی ترک کرتے ہیں اس سے پھیپھڑوں کی شدید بیماریاں اور کینسر ہونے کے امکانات کم ہوتےجاتے ہیں، تمباکو نوشی کے باعث ہارٹ اٹیک اور فالج کے ساتھ پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر بھی اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 3 کروڑ افراد تمباکو نوش ہیں جن میں اکثر سگریٹ نوش ہیں۔ ملک میں لاکھوں دکانیں ایسی ہیں جہاں سگریٹ آسانی سے دستیاب ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمباکو نوشی کی لت لگنا وہ بیماری ہے جس سے صحت اور دولت دونوں سے ہاتھ دھونے پہ مجبور کردیتی ہے۔ بیشتر تمباکو نوش کوشش کے باوجود بھی اس کو ترک نہیں کرپاتے اور خود کو بیماریوں کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اس عادت سے جان چھڑانے کی کوششیں کی جاتی ہیں مگر آج تک پاکستان سمیت کوئی ایک بھی ترقی پذیر ملک ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس لت کا مکمل طور نہیں تو ساٹھ ستر فیصد خاتمہ کیا ہو۔ پاکستان میں اس وقت مختلف اندازوں کے مطابق ڈھائی کروڑ سے تین کروڑ کے درمیان افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں، بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں جب تین کروڑ افراد تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوں تو صورت حال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی سے اجتناب کریں  سلگانے سے پہلے سوچ لیں بجائے اس کے کہ سوچنے کے قابل نہ رہیں

    tweets ‎@KharnalZ

  • کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    اگر آپ باشعور اور حساس والدین ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کسی کا محتاج نہ ہو ، وہ خود اعتماد ہو، زندگی میں کسی پر بوجھ نہ بنے ، زندگی کے چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کی ہمت کر سکتا ہو ، وہ دوسروں سے گھل مل سکتا ہو ، نہ صرف اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں میں بلکہ روز مرہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل ہو ۔ وہ آپ کیلئے سرمایہ افتخار بن سکے آپ کا فرماں بردار ہو لوگ اس سے ملیں تو اس سے خوش ہوں اس کے پاس دولت، شہرت، طاقت اور آزادی وغیرہ سب کچھ ہو ۔

    یقیناً یہ وہ خواہشات ہیں جو تمام ہی والدین رکھتے ہیں ۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اپنے ساتھ ان کا بھی نام روشن کرے لیکن کیا سب والدین کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے ؟

    عموماً آدمی پچاس سے ساٹھ سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے لیکن چند لوگ ایسے ہیں جن کا نام ان کی موت کے بعد بھی ہزاروں سال تک یاد رکھا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عام لوگوں اور ان لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے ؟ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے دنیا انہیں یاد کرتی ہے ؟ کیوں لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ؟ یہ لوگ ایسا کیا کر گئے کہ دنیا کے مؤثر ترین لوگوں میں شامل ہو گئے یہ مؤثر اور معروف لوگ بھی کبھی نہ کبھی بچے تھے بلکل عام بچوں کی طرح انہوں نے زندگی گزاری تھی لیکن غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کچھ خاص عوامل ان افراد کے پچپن میں ایسے ہیں جو ان کے مستقبل کو دیگر افراد کے مستقبل سے مختلف کرتے ہیں 

    سوال یہ ہے کہ بعض بچے بڑے ہو کر "ہیرو” کیوں بن جاتے ہیں اور کچھ "زیرو” کیوں رہ جاتے ہیں ؟

    ہمارے پاس عموماً دوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے "مقدر” لیکن جب آپ صرف ایک وجہ کو حتمی مان لیتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کبھی بھی حقیقت شناس نہیں ہو پاتے ، یہ ممکن بھی کیسے ہے کہ "سیب” اور "کیلے” پر لیکچر سن کر اس موضوع پر کتاب پڑھ کر آپ سیب اور کیلے کے ذائقے سے آشنا ہو جائیں سیب اور کیلے پر چار پانچ گھنٹے کا لیکچر سنیں ، چار پانچ گھنٹے بحث کرنے اور تین سو صفحات پر مشتمل کتاب پڑھنے سے بہتر ہے کہ آپ سیب اور کیلا چکھ لیں آپ کو حقیقت کا علم خود ہو جائے گا ہر چیز کی وجہ قسمت نہیں ہوتی کچھ معاملات اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں بھی رکھے ہیں قسمت یا مقدر پر الزام لگا کر ہم اپنی زمہ داری سے آنکھیں چرانا چاہتے ہیں لیکن نتیجہ تو صرف حقیقت کا عمل ہی آتا ہے آپ کا یہ طریقہ آپ کو اطمینان سے ایک جگہ بٹھا تو سکتا ہے لیکن آپ کے نتائج کو بدل نہیں سکتا اولاد کی تعلیم و تربیت اور شخصیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے آپ اپنی اولاد کیلئے جتنے بڑے خواب دیکھیں اور نیک خواہشات دل میں رکھیں آپ ان خوابوں کی تعبیر اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک آپ ان کیلئے عملی اور حقیقت پر مبنی تدابیر نہیں کریں گے ۔

    یاد رکھیئے ! دولت مندی نتیجہ ہے ، غربت نتیجہ ہے ، صحت نتیجہ ہے ، بیماری نتیجہ ہے ، نیک نامی نتیجہ ہے ، بدنامی نتیجہ ہے ، کامیابی نتیجہ ہے ، ناکامی نتیجہ ہے  اختیار اور بے اختیاری بھی نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق ایک منظم نظام کے تحت کی ہے جس میں مختلف قوانین کام کر رہے ہیں ایک قانون یہ بتاتا ہے کہ ہر نتیجے کا ایک سبب ہوتا ہے نتیجہ خواہ دولت کی شکل میں ہو یا غربت کی صورت میں ، کامیابی کی شکل میں ہو یا ناکامی کی صورت میں ، غور کریں تو ہر ایک کے پس منظر میں کوئی سبب ، کوئی وجہ ملے گی ۔ اسی طرح آپ کے بچے کا جو مزاج اور مستقبل ہے اس کا سبب اس کی پچپن کی تربیت ہے

    Sabir Hussain

    ‎@SabirHussain43

  • سانحہ 8 اکتوبر 2005 قیامت صغریٰ  تحریر۔ نعیم الزمان

    سانحہ 8 اکتوبر 2005 قیامت صغریٰ تحریر۔ نعیم الزمان

    8 اکتوبر 2005 کا دن ایک المناک دن تھا۔ تین رمضان المبارک بروز ہفتہ  کی  صبح 8 بج کر 52 منٹ پر  آزاد کشمیر سمت پاکستان کے مختلف علاقوں پر ہولناک زلزلہ آیا ۔ جس نے چند ہی منٹ میں بہت سارے شہروں اور دیہات کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ یہ دن قیامت صغریٰ کا مناظر پیش کر رہا تھا۔ جس نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں تباہی مچائی ۔اس زلزلے کا مرکز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ کے قریب تھا۔جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کیا گیا۔

    اس ہولناک زلزلے میں لاکھوں کی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔اربوں روپوں کا املاک کو نقصان پہنچا۔ لاکھوں کی تعداد میں  بوڑھے، جوان ،بچے زخمی ہوئے۔اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ  معذور ہوئے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔ ہر امیر  اور غریب اس سانحے کا شکار ہوا۔ مال مویشی  گھر سکول کالج ہسپتال تمام سرکاری دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔کھانے اور پینے کو کچھ نہیں مل رہا تھا۔ کچھ لمحے کے لیے پانی خشک ہو گے تھے۔اگر کہیں تھوڑی مقدار میں پانی موجود بھی ہوتا تو اس کو نکالنے اور پینے کے لیے برتن موجود نہیں تھا۔ ختہ کے لوگوں نے جوتوں میں پانی پیئا۔ نفسا نفسی کا عالم تھا۔ ہر کوئی اپنے عزیزواقارب کی تلاش میں لگا ہوا تھا۔ کوئی اپنے عزیزوں کی میتں نکالنے میں مصروف تھا ۔ اور کوئی اپنی مدد اپنے تحت ہزاروں من ملبے تلے دھبے  زخمیوں کو نکالنے میں مصروف تھے۔ والدین اپنے بچوں کو سکولز اور کالجز میں ڈھونڈ رہے تھے۔بچےکسی کو زخمی حالت میں ملتے اور کسی کو معذوری کی حالت میں اور کوئی بد قسمت والدین جو اپنے دل کے ٹکڑوں کی میت اٹھائے واپس آئے۔اور اتنا خوفناک منظر تھا کہ کسی کو دوبارہ زندگی کی بہتری کی کوئی امید نہیں تھی۔ کوئی پتہ نہیں تھا کب پھر خوفناک زلزلہ دوبارہ آئے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔ زلزلے کے جٹکے وقفے وقفے سے جاری تھے۔ ہر طرف سے چیخو پکارا کی  کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔ بچے بھوک سے نڈھال تھے زخمی درد کی شدت سے چیخ رہے تھے۔ کوئی امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہوئی تھی۔ اوپر سے شام کے وقت انتہائی شدت سے بارش برسی۔ کسی کے پاس اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ مشکل سے میتوں اور زخمیوں کے اوپر کچھ پٹے پرانے کپڑے  جو گھروں سے باہر پڑے ہوئے تھے وہ گھاس اور لکڑیاں وغیرہ رکھ کر ان کو بھیگنے سے بچایا ۔ مشکلات سے پہلی رات گزاری۔ سردی کی انتہا تھی کیونکہ کے کپڑوں کی قلت تھی  کپڑے مکانون تلے دبے ہوئے تھے۔آگ جلانے کیلے لائیٹر ماچس تک نہیں تھے۔ دوسرے دن  سے امدادی کارروائیاں شروع ہوئی۔  میتوں کی اجتماعی تدفین  کی گئی۔زخمیوں کو امدادی سنٹر تک لایا گیا۔جو زیادہ زخمی تھے انہیں ہیلی کاپٹر تک پہنچایا گیا جو انہوں اسلام آباد اور مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر رہے تھے۔ دو سے تین دن تک ایک جیسی صورت حال کا سامنا رہا۔ اس کے بعد پاک فوج نے تقریباً ہر علاقے میں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ متاثرین  کو  امداد فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ سڑکیں مکمل تباہ ہو چکی تھے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین تک امدادی سامان پہنچنا شروع ہو ا۔ متاثرین میں کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گی۔متاثرین کے لیے اجتماعی کیمپ تیار کیے گئے۔  بعد ازاں بیرونی امداد پہنچنے پر ہر فیملی میں خیمے اور گرم کپڑے وغیرہ تقسیم کیے گئے۔ سردیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔آئے دن متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا تھے۔لیکن افواج پاکستان، عالمی اداروں نے  جس میں سرفہرست ڈبلیو ایف پی، ریڈ کریسنٹ، اسلامک ریلیف، یو این ، یونیسیف اور بہت ساری  مختلف ممالک کی امدادی تنظیموں نے قلیل وقت میں ہر طرح کی امدادی کارروائیاں جاری رکھی۔ متاثرین کو ممکنہ ریلیف فراہم کی۔ مشکل کی اس گھڑی میں دنیا کے تمام ممالک نے امدادی فراہم کی۔آہستہ آہستہ تعمیر نو کا آغاز کیا گیا۔پہلے مرحلے میں شیلٹر ہوم اور گھریلو سامان اور کپڑے فراہم کیے گئے۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کی جانب سے  مکانات کیلئے نقد  امدادی رقم فراہم کی گی۔ سکولز اور کالجز اور دیگر سرکاری عمارات کے لیے بھی شیلٹر ہوم فراہم کیے گئے۔ تقریباً چھے سات ماہ کے بعد حالات بہتری کی جانب گامزن ہوئے۔  بچوں نے دوبارہ سکولوں کا روخ کیا۔متاثرہ علاقوں کی از سر نو تعمیر کا آغاز ہوا۔جو بد قسمتی سے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ایرا اور بہت سارے سرکاری اداروں کے گپلے کی وجہ سے بہت ساری سرکاری عمارات ابھی تک تعمیر نہ ہو سکی۔  زندگی کو معمول پر آنے میں دو سے تین سال لگے۔زندگی ایک بار پھر مسکرائی۔ 8 اکتوبر 2005 کو  آج بھی ہر سال یاد کیا جاتا ہے۔لوگ اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کرواتے ہیں۔ قرآن خوانی  کرواتے ہیں۔ لوگ اپنے بچھڑے ہوؤں کو یاد کرتے ہیں۔ان کے زخم پھر سے ترو تازہ ہوتےہیں۔  میں آج بھی وہ لمحے یاد کرتا ہوں تو خوف زدہ ہو جاتا ہوں۔کیونکہ یہ سارے مناظراپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں۔ میں نے اور اس سانحے میں متاثرہ لوگوں نے قیامت سے پہلے ایک قیامت دیکھی ہے۔ اللہ پاک نے مجھے اس سانحے میں  نئی زندگی بخشی ہے۔میں اس بےبرحم زلزلے کی وجہ سے اپنے گھر کے نیچے کہیں گھنٹوں تک دھبا رہا۔ خوش قسمت رہا کہ کسی بڑی انجری سے بھی اللہ پاک نے محفوظ رکھا۔ الحمدللہ ہم گھر والے سارے محفوظ رہے۔  مگر ہماری فیملی میں تقریباً 40  افراد جن میں چھوٹے بڑے مرد  خواتین اور بچے شامل تھے ان کا جانی نقصان ہوا۔ وہ ہم سے جدا ہوئے ۔ ان کا خلا کبھی پورا نہیں ہو گاجو کبھی بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

    اللہ کے حضور دعاگو ہیں کہ شہدائے زلزلہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے 

    اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کی مغفرت فرمائے جو اس سانحے میں شہید ہوئے۔ اللہ پاک ہم سب کو ایسی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ ہم سب پر اپنا خصوصی فضل فرمائے۔ یقین جانیے وہ لمحے یاد کر کے دل آج بھی خون کے آنسوں روتا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپن پناہ میں رکھے اور سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔

    @786Rajanaeem

  • محنت,کامیابی کی ضامن تحریر: ارم سنبل

    زندگی بھی گونج کے اصول پر چلتی ہے. جو آگے پہنچاتے ہیں ، وہی واپس آتا ہے۔ آپ جو کاشت کریں گے وہی کاٹیں گے۔ آپ جو سرمایہ لگاتے ہیں، وہ آپ کو ملتا ہے۔ 

    آپ دوسروں میں جو دیکھتے ہیں وہ آپ اپنی ذات میں پائیں گے۔ عام طور پر دنیا میں دو اقسام کے لوگ رہتے  ہیں۔ زیادہ تر لوگ پہلی قسم کے ہیں جو دستیاب مواقع سے فائدہ لینے کے قائل ہیں۔ ان کے پاس جو ہوتا وہ اسی کو اپنی منزل سمجھ لیتے ہیں اور یوں وہ آگے نہیں بڑھتے. 

    جبکہ دوسری قسم کے لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طویل مدت کوششوں کو جاری رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیےاور  ہر رکاوٹ کو عبور کرکے آگے بڑھنے کے لیے کافی محنت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کامیاب لوگ اپنے خیالات اور مواقعوں کو استعمال کرتے ہیں۔

      ایسے لوگ خیالات ، امکانات اور مواقع سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان کا کام ان پر عملدرآمد کرنا ہے۔ خیالات اور مواقع خود ہی پورا نہیں ہوسکتے۔ انہیں پورا کرنے کے کیے ایک محنتی انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

    اگر آپ انہیں اپنی محنت سے طاقت دیں گے تو آپ کو نتیجہ بھی بڑا اور شاندار ملے گا۔ اپنی سوچ پر عمل کریں ، اپنی محنت سے, اپنے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزاریں۔ 

    بعض اوقات آپ بغیر کسی کوشش کے کامیابی حاصل کرتے ہیں ، لیکن بعض اوقات آپ مختلف وجوہات کی بنا پر ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ عقل مند یا باصلاحیت نہیں تھے۔

     اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر آپ ذہین ہوتے تو آپ کو محنت کی ضرورت نہ ہوتی۔ محنت آپ کو ذہین یا باصلاحیت بناتی ہے۔ اگرچہ ناکامی تکلیف دہ  ہوتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کم عقل ہیں۔ ناکامی کا سامنا کریں ، اس سے نمٹنیں اور سیکھنے کے بعد اسے ماضی میں چھوڑ دیں۔ 

    اگر آپ محنت کرنے کی ذہنیت کو اپنائیں گے تو آپ کامیاب ہوں گے۔ یہ صرف اپنے آپ پر یقین کرنے کی بات نہیں ہے۔ بلکہ ، یہ ان چیزوں میں بہت زیادہ کوشش کرنے کی بات ہے جو یا تو قدرتی طور پر آپ کے پاس نہیں آتی ہیں یا جن میں آپ اچھے نہیں ہیں۔ 

    لہذا اپنے آپ کو اس میں نہ الجھا کے رکھیں، کہ اس بارے میں دوسرے لوگ کیا کہتے ہیں۔ کچھ منفرد سوچیں. محنت کرنا آپ کا فرض ہے۔ آپ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی پوری صلاحیت کا استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ آپ کی زندگی میں جو کچھ بھی آپ کو ملتا ہے وہ براہ راست آپ کے ان پٹ کے مطابق ہوتا ہے۔ 

    یہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ جتنا گڑ ڈالیں گے,اتنا میٹھا ہوگا. لہذا جتنی محنت کریں گے, اتنا کامیاب ہونگے. کیونکہ محنت کامیابی کی بنیاد ہے. سو ایک کامیاب انسان بننے کے لیے محنت کریں۔

    @Chem_786

  • زمین کانپ جاتی ہے! تحریر: کائنات فاروق

    زمین کانپ جاتی ہے! تحریر: کائنات فاروق

    گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے ڈسٹرکٹ ہرنائی میں زلزلے کے خوفناک جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں پندرہ سے زائد افراد جاں بحق اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے۔ 

    دیکھا جائے تو پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں اکثر شدید یہ کم زلزلے آتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک بھی ہے۔

    پاکستان کا دو تہائی حصہ فالٹ لائنز پر موجود ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر موجود نہیں، اسی لیے یہ علاقے زلزلے کے خطرے سے محفوظ تصور کیے جاتے ہیں البتہ ان علاقوں کے علاوہ تمام علاقے کسی نہ کسی طرح فالٹ لائن پر موجود ہیں۔

    اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہروں کا شمار زون تھری میں ہوتا ہے، جبکہ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیر زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یہ زون فور کہلاتا ہے۔

    ساحلی علاقوں کی بات کریں تو کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر موجود ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ تین پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    زلزلوں کا آنا ان ہی علاقوں میں زیادہ ریکارڈ کیا گیا جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔

    پاکستان کے تمام شہر کراچی سے لےکر اسلام آباد تک زلزلے سے محفوظ نہیں، البتہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو حساس ترین شمار کیا جاتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں دنیا کے مختلف مذاہب کے زلزلے سے متعلق منفرد اور دلچسپ عقائد اور روایات کی۔

    مثلاً بعض اقوام سمجھتی تھیں کہ مافوق الفطرت قوت رکھنے والے درندے زمین کے اندر رہتے ہیں اور وہی زلزلے پیدا کیا کرتے ہیں۔ قدیم جاپانیوں کا عقیدہ تھا کہ ایک طویل القامت چھپکلی زمین کو اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہے اور اس کے ہلنے سے زلزلے آتے ہیں۔ اس سے کچھ ملتا جلتا عقیدہ ریڈ انڈینز کا بھی تھا کہ زمین ایک بھی بڑے کچھوے کی پیٹ پر ٹکی ہے اور اس کے حرکت کرنے سے زلزلے آتے ہیں۔ ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ زمین ایک گائے کے سینگوں پر رکھی ہوئی ہے، جب وہ سینگ تبدیل کرتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔ جب کہ عیسائیوں کا خیال تھا کہ زلزلے خدا کے باغی اور گنہگار انسانوں کے لیے اجتماعی سزا ہوتی ہے۔

    مذاہب کے عقائد سے ہٹ کر اگر فلسفیوں کی بات کریں تو قدیم یونانی فلسفی اور ریاضی داں فیثا غورث کا خیال تھا کہ جب زمین کے اندر مُردے آپس میں لڑتے ہیں تو زلزلے آتے ہیں۔ اس کے برعکس ارسطو کا خیال کچھ منطقی تھا، اس کا کہنا ہے کہ جب زمین کے اندر گرم ہوا باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ افلاطون کا نظریہ بھی کچھ اسی قسم کا تھا کہ زیرِ زمین تیز و تند ہوائیں زلزلوں کو جنم دیتی ہیں۔ تقریباً 70 سال پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زمین ٹھنڈی ہورہی ہے اور اس عمل کے نتیجے میں اس کا غلاف کہیں کہیں چٹخ جاتا ہے، جس سے زلزلے آتے ہیں۔ کچھ دوسرے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ زمین کے اندرونی حصّے میں آگ کا جہنم دہک رہا ہے اور اس بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھیلتی ہے۔ لیکن آج کا سب سے مقبول نظریہ”پلیٹ ٹیکٹونکس”کا ہے جس کی معقولیت کو دنیا بھر کے جیولوجی اور سیسمولوجی کے ماہرین نے تسلیم کرلیا ہے۔

    ہم نے اب تک زلزلوں سے متعلق سائنسی، فلسفی، اور دنیا کے مختلف عقائد کا جائزہ لیا ہے، اب بات کرتے ہیں پاکستان کے سرکاری مہذب اسلام کی۔ مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ زلزلے سے متعلق قرآن کریم کیا کہتا ہے۔

    قرآن کریم میں قوم شعیب پر عذاب آنے کا تذکرہ ہے اور اُس کی وجہ قرآن نے ناپ تول میں کمی بیشی بتائی ہے کہ ان کی عادت بن گئی تھی کہ لینے کا وقت آتا تو زیادہ لیتے اور دینے کا وقت آتا تو کمی کردیتے تھے، مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ ناپ تول میں کمی صرف محسوسات میں نہیں ہوتی ہے؛ بلکہ معنوی چیزوں میں بھی ہوسکتی ہے مثلا لوگوں کے حقوق کی پامالی، ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میں اپنا پورا حق سمیٹ لوں اور جب دینے کا وقت آئے تو مجھے پورا نہ دینا پڑے۔ اگر قوم شعیب پر ناپ تول میں کمی کی وجہ سے عذاب اور زلزلہ آسکتا ہے تو آج حقوق اللہاور حقوق العباد میں کمی بیشی کی وجہ سے زلزلہ آگیا تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْن(الاعراف:۹۱)اسی طرح حضرت موسی کی قوم پر عذاب آیا، حیلے حوالے اور کٹ حجتی کی وجہ سے فَلَمَّا أخذتہم الرجفةُ (پس جب ان کو زلزلے نے آدبوچا اللہ نے ان کو وہیں ہلاک کردیا) (الاعراف:۱۵۵)قارون جو مالداری میں ضرب المثل تھا۔ جب اُس سے کہا گیا کہ ان خزانوں پر ا للہ کا شکر ادا کرو تو کہنے لگا، یہ سب میرے زورِ بازو کا کرشمہ ہے؛ چناں چہ اللہ نے اسے اِس ناشکری کی وجہ سے خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا۔فَخَسَفْنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الْأَرْض (القصص: ۸۱)آج اپنے معاشرے کا جائزہ لیجیے کتنے شرعی احکام میں قیل وقال کرنے والے ملیں گے اور کتنے ہی ایسے ملیں گے جن کے احساسات وجذبات قارون کی طرح ہیں۔

    یہاں سنن ترمذی کیایک حدیث نقل کی جارہی ہے جس سے زلزلہ کے اسباب کا سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جب مندرجہ ذیل باتیں دنیا میں پائی جانے لگیں) تو اس زمانہ میں سرخ آندھیوں اور زلزلوں کا انتظار کرو، زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے بھی منتظر رہو اور ان عذابوں کے ساتھ دوسری ان نشانیوں کا بھی انتظار کرو جو پے در پے اس طرح ظاہر ہوں گی۔ جیسے کسی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور لگاتار اس کے دانے گرنے لگیں (وہ باتیں یہ ہیں )۱- جب مالِ غنیمت کو گھر کی دولت سمجھا جانے لگے۔ ۲- امانت دبالی جائے۔۳- زکاة کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے۔۴- علم دین دنیا کے لیے حاصل کیا جائے۔۵- انسان اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور ماں کی نافرمانی کرے۔۶-دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے۔ ۷- مسجدوں میں شور وغل ہونے لگے۔۸- قوم کی قیادت، فاسق وفاجر کرنے لگیں۔ ۹- انسان کی عزت اِس لیے کی جائے؛ تاکہ وہ شرارت نہ کرے۔۱۰-گانے بجانے کے سامان کی کثرت ہوجائے۔۱۱- شباب وشراب کی مستیاں لوٹی جانے لگیں۔۱۲-بعد میں پیدا ہونے والے،امت کے پچھلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں۔ (سنن الترمذی، رقم: ۲۱۱، ما جاء فی علامة حلول المسخ)انصاف کے ساتھ موجودہ ماحول کا جائزہ لیجیے، مذکورہ باتوں میں سے کون سی بات ہے، جو اب تک نہیں پائی گئی ہے، مذکورہ ساری پیشین گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہی تمام وجوہات ہوں جن کی وجہ سے "زمین کانپ جاتی ہے، لیکن ہمارے ضمیر نہیں کانپتے”.

    @KainatFarooq_

  • زلزلہ اور  دو آنکھیں  تحریر:یاسرشہزاد مانسہرہ۔

    زلزلہ اور  دو آنکھیں تحریر:یاسرشہزاد مانسہرہ۔

    اپنے دوست رجب علی سے آج بالاکوٹ 2005 زلزلہ کی سولہویں برسی کی کوریج کے موقع پر ایک نشست ہوئی۔جس میں کافی باتیں ہوئی اور کچھ جب اُن سے یہ حال پوچھا کیا قیامت گزری تو جب رجب نے ہمیں بتایا تو قسم سے ہم پر اُس کی کہانی اُس کی زبانی سن کر قیامت گزری۔رجب علی نے کہا کہ

    آٹھ اکتوبر وہ دن جب میرے بڑے بھائی ،بہن اور والدہ ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے

    اس دن زلزلہ بالاکوٹ میں نہیں،،شاید میری شخصیت پہ آیا تھا جسکا ملبہ آج بھی میری روح پہ پڑا ہے

    وہ دن جب سکول کو نکلنے لگا حسب عادت وہ دروازے میں کھڑی مجھے روانہ ہوتے دیکھتی رہیں۔۔میں نے کئی بار پیچھے مڑ کے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ جانے کتنی دیر ۔۔۔

    ۔۔انکی آنکھوں کی مقناطیسیت اس دن میرے قدم بوجھل کر رہی تھی۔۔ پھر پردہ ہلا اور وہ کالے سیاہ پردے کے پیچھے چلی گئیں

     ۔۔میں جب سکول سے واپس آیا تو ہمیشہ  کیطرح،، بلا کی پردہ دار ،وہ پھر بھی پردے میں ہی تھیں پر اس دفعہ پردے کا رنگ "سفید "تھا۔۔۔۔سر سے پائوں تک۔۔۔جیسے فرشتوں کی نظر بھی پڑنے سے کترا رہی ہوں

    ۔اتنی پردے کی شوقین کے اس سفید پردے پر بھی قرار نہیں آیا اور ایک اور خاکی رنگ پردے کو پہنا اور اچانک سے  بالکل ہی اوجھل ہو گئیں۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔میں آج بھی اپنی والدہ کی قبر پہ کھڑا ہو کے انکی” پردہ داری” کا گلہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔

    پر وہ گلی میں جھانکتی آنکھیں آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں ۔میں چاہ کر بھی غلط کاری میں غرق نہ ہو سکا میں چاہ کر بھی ایک خاص حد سے آگے نہ جا سکا ،بس وہ دو چمکتی آنکھیں ہمیشہ مجھ پہ نظر رکھے ہوئے ہیں،مجھے ڈانٹی ہیں،مجھے بہلاتی ہیں ،،روٹھو تو منا بھی لیتی ہیں

    ذرا بھی منزل سے بھٹکتا ہوں میری والدہ کی وہ چُبتی نظریں میرا راستہ روک لیتی ہیں

    وہ میری راہبر بھی ہیں میری پیمبر بھی

    میری سب سے بڑی بدقسمتی میرا "اچھا حافظہ ” ہے جو میرا سب سے بڑا دشمن ہے  مجھے وہ تلخ ترین یادیں بھولنے نہیں دیتا،امی اور بابا جانی کی کہی ہوئی ایک ایک بات مجھے آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے

    دو رمضان عشاء کے بعد جب بھائیوں نے میرے برے ٹیسٹ کا بتایا تو  مجھے نمناک آنکھوں سے دیکھتی چلی گئیں۔۔عجیب تھیں وہ ڈانٹا ،،نہیں مارا نہیں۔۔۔بس مجھ سے منہ ہی پھیر لیا۔۔۔۔۔پھر رات نہ جانے کتنی دیر میں انکے پائوں سے لگا روتا رہا۔۔۔میرے آنسوئوں کی پائوں پہ دستک سے بیدار ہوئیں مجھے ایسے گلے لگایا جیسے مجھے روح میں اتار دیں گی۔۔۔۔امی جی مان جائیں نہ ۔۔۔۔۔وہ ایک ننھا وجود بلبلایا تھا۔آپ کیسے خوش ہونگی مجھے بتائیں دنیا آپکے قدموں میں لا رکھوںگا

    خوش۔۔۔۔۔مجھے اصل خوشی تب ہو گی جب تم "بڑے آدمی بن جائو گے”۔۔۔۔۔۔میں سر ہلاتا انکے پائوں چومتا باہر نکل آیا تھا

    بڑا آدمی؟؟؟؟ مجھے تو آج تک اسکی تعریف کا بھی علم نہیں ہو سکا  کہ یہ "بڑا آدمی” ہوتا کیا ؟ بننا تو دور کی بات ہے

     آج تک اپنی امی سے کیا وعدہ نبھانے کی کوشش میں ہوں،،،مگر میری نالائقی میری خامیاں میرے رستے کی سب سے بڑی دیوار ہیں۔

    وہ آنکھیں مجھے راہ دکھاتی ہیں میں منزل سمجھ کر پاگل دیوانوں کیطرح ادھر دوڑ پڑتا ہوں ننگے پیروں سے انگاروں بھرے اس راستے پہ چلتا ہوں اور جب منزل مجھے حاصل ہوجاتی  ہے وہ آنکھیں پھر ایک نئی منزل کا کا راہ دکھا دیتی ہیں۔۔۔رمضان المبارک کے مہینہ ہے سب بھائی دعا ضرور کیجیئے گا”  کہ مرنے سے پہلے یہ نالائق،یہ سرپھرا شخص اپنی امی سے کیا وعدہ ضرور نبھائے،،،اور ،کردار کا بہت چھوٹا یہ شخص "بڑا آدمی ” ہو جائے

    ورنہ وہ دو آنکھیں مجھے شاید قبر میں بھی چین سے سونے نہ دیں

    اے شوق سفر اتنا ،مدت سے یاسر ہم نے

    منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • کرونا وبا کے مثبت اثرات کیا تھے؟ تحریر: کائنات فاروق

    دنیاوی تاریخ میں دیکھا جائے تو وبا کے بڑے طویل مدتی اثرات مرتب ہوئے ہیں، خاندانوں کے زوال سے لے کر نوآبادیاتی نظام میں اضافہ اور یہاں تک کہ آب و ہوا میں تبدلیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔

    ١٣۵٠ء میں یورپ میں پھیلنے والے طاعون کا پیمانہ خوفناک تھا جس نے یورپی کے تقریبا ایک حصے کو ختم کردیا تھا۔ اس ہی طرح ١۵ ویں صدی کے اختتام پر امریکہ میں چیچک اور نوآبادیات نے اتنے لوگوں کو ہلاک کیا کہ جو شاید دنیا کی آب و ہوا کو تبدیل کرنے کا باعث بنا ہو۔ ١٨٠١ء میں زرد بخار اور غلاموں کی بغاوتوں کے نتیجے میں ہیٹی میں فرانسیسی حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ اس ہی طرح رینڈپسٹ نامی جانوروں کو متاثر کرنے والی ایک مہلک بیماری نے افریقہ میں یورپ کے نوآبادیات کو تیز کرنے میں مدد فراہم کی۔ اس بیماری نے افریقہ کے مویشیوں کا ایک بڑا حصہ ہلاک کیا۔ ١٨٧٠ء کی دہائی میں افریقہ کا صرف دس فیصد حصہ یورپی کنٹرول میں تھا لیکن ١٩٠٠ء تک یہ بڑھ کر نوے فیصد ہوچکا تھا۔ اور اس اراضی پر قبضہ رینڈپسٹ پھیلنے کی وجہ سے افراتفری کی مدد سے ہوا۔ ١٦۴١ء میں چین میں طاعون منگولوں کے زوال کا سبب بنا۔

    وبا کی دنیاوی تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں خوفناک اور منفرد تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس ہی طرح آج کی دنیا میں بھی کرونا وائرس کے پھیلاو کے بعد ہم نے دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو اپنی زندگی بسر کرنے کے انداز کو ڈرامائی انداز میں بدلتے ہوئے دیکھا۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق ٣١ دسمبر ٢٠١٩ کو چین میں ایسے نمونیا کے کیسز

    کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ووہان میں کسی نامعلوم وجہ کے باعث سامنے آئے۔ تقریبا ایک سال کے بعد اسے نوول کرونا وائرس یا کووڈ – ١٩ کا نام دیا گیا۔ اس وبا کو اس سال دسمبر میں دو سال مکمل ہونے کو ہیں اور سائنسدان تاحال اس وبا کو نہ ہی مکمل طور پر سمجھ سکے ہیں نہ اس کا علاج دریافت کرسکے ہیں۔

    اس وائرس کے سبب دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے

    معمولات زندگی تھم چکی تھیں۔ عالمی معیشت کرونا وائرس کی پہلی لہر کے باعث ہونے والے لاک

    ڈاؤن کے سبب پڑنے والے جٹھکے سے خود کو سنبھالنے کی جدوجھد میں لگی رہی اور تاحال عالمی معیشت خود کو مضبوط کرنے کی ان تھک کوششوں میں لگی ہے۔ 

    دیکھا جائے تو اس وبا کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں اور زیادہ تر منفی پہلوؤں کو زیر غور لایا گیا ہے جیسے اس عالمی وبا کی وجہ سے بے وقت اموات کا سلسلہ اور صنعتوں کی بندش کے باعث لاکھوں لوگوں کی بےروزگاری وغیرہ۔

    کرونا وبا کے جہاں منفی اثرات نے خاص کر ہر سطح اور ہر طبقے کو متاثر کیا تھا اس کا ازالہ کرنے کی کوشش میں کئی لوگ آج تک لگے ہیں۔ لیکن جہاں اس وبا کے نقصانات دیکھے گئے وہیں یہ وبا سماجی سطح پر بھی ہمارے معموالات زندگی اور ماحولیات پر چند مثبت تبدیلیوں کا سبب بھی بنی ہے۔

    ان چند مثبت پہلوؤں کو زیر غور لاتے ہوئے ان کا ذکر کرتے ہیں، کرونا وائرس کے باعث سب سے مثبت اثر ماحولیات پر پڑا۔ صنعتوں کی بندش کے باعث کاربن کے اخراج میں کمی آئی جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں پچاس 

    فیصد کمی دیکھی گئی۔

    کرونا وبا کی شدت پکڑتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو کرونا وائرس کے باعث صنعتوں کا بند ہونا اور کئی ملکوں اور شہروں میں نافذ لاک ڈاؤن تھا جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں واضح فرق پڑا تھا۔ 

    مسلمانوں پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے جس کے لیے پانچ وقت وضو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور سائنسی اعتبار سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دن میں کم از کم ۵ سے

    ۶ مرتبہ ہاتھوں کو صفائی سے دھونا ضروری ہے،

    ماہرین کی جانب سے مسلسل تلقین کی جاتی رہی کہ اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔ 

    اس طرح لوگوں نے خوشی سے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس عادت کو اپنا لیا ہے۔

    گلیوں اور سڑکوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جارہا تھا، لوگ خود کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو خودساختہ طور پر صاف رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔

    لوگوں کو ٹیلی ورکنگ سیکھنے کا موقع ملا۔ لوگوں نے وقت کو بچا کر گھر بیٹھے

    کام کو کس طرح مکمل کیا جاسکتا ہے یہ سیکھا، جس کے باعث دنیا اب ڈیجیٹل ورلڈ بننے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 

    لاک ڈاون کے باعث بازاروں کا جلدی بند ہونا اور شادی بیاہ میں غیر ضروری رسومات میں کمی اور سادگی کے رجحان کا بڑھنا بھی دیکھا گیا۔ کرونا وائرس کے باعث دنیا جہاں ورک فرام ہوم اور آئن کالسز پر آگئی تھی، اس وجہ اہل خانہ کے ساتھ گزارنے اور عبادتوں کی لیے لوگوں کو ایک اچھا وقت ملا، اس وبا کی وجہ سے ملنے والے وقت نے لوگوں کو عبادات میں باقاعدگی کا موقع بھی فراہم کیا۔

    کرونا وائرس نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ انسان کس قدر بے اور بس ہے اور بڑی سے بڑی دنیاوی طاقتیں بھی قدرتی آفات کے سامنے ڈھیر ہیں، سپر پاور ہونے کا دعوی کرنے والے بھی خدا کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، یہ بات سمجھنے والوں پر واضح ہوگئی کہ زندگی بہت مختصر ہے اور دنیا فانی ہے، ایک وبا پوری دنیا کی معیشت و کاروبار پر تالے لگوا سکتی ہے۔

    یہ کچھ مثبت پہلو وہ ہیں جو کرونا وبا کے باعث ہماری زندگی پر پڑے یا شاید اب تک پڑ رہے ہیں، 

    لیکن ہم نے دیکھا کہ لاک ڈاؤن میں جہاں کچھ رعایت ملی وہاں لوگ اپنے معموالات زندگی میں واپس لوٹتے ہوئے ان مثبت اثرات اور عادتوں سے بھی دور ہونے لگے، 

    کرونا وبا نے ہمیں زندگی کے کئی مثبت پہلووں سے آشنا کرایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ وبا

    ختم ہونے کے بعد بھی وبا کے دوران ہماری زندگی پر اثرانداز ہونے والے مثبت پہلوؤں اور تبدیلیوں سے دور نہ ہوں۔ بلکہ صفائی اور عبادت جیسی چند مثبت عادتوں، سادگی سے شادیاں اور سادہ معمولیات زندگی جیسے رجحانات کو اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لیے شامل کرلیں۔

    @KainatFarooq_

  • کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور یوں دنیا بھر کی بڑی بڑی معاشی قوتوں کو تگنی کا ناچ نچانے والی مہلک بیماری کورونا وائرس میں کمی ہونے لگ گئی، حالات معمول پر آنے لگے، کاروباری سیکٹرز میں لگی پابندیاں ختم تو مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معاملات کو بھی کورونا سے پہلے کی زندگی پر بحال کرنے کی کوشش شروع ہوچکی، ساری صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تعلیمی سیکٹر کو بھی مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا گیا وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں این سی او سی اجلاس کے بعد فیصلوں میں سب سے اہم فیصلہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے ہوا اور ہفتے میں تین روز کلاسز کی چھوٹ کو ختم کرتے ہوئے پرانی روٹین کو بحال کر دیا گیا وجہ پوچھی گئی تو کہا گیا کہ کورونا کی صورتحال اب قدرے بہتر ہوچکی، کل سے اب تک کا بھی جائزہ لے لیں تو محض 26 افراد ہی موت کے منہ میں گئے حالانکہ ایک وقت بھی ایسا بھی پاکستان نے دیکھا کہ جب ایک ہی دن میں 300 افراد بھی جان سے گئے اس کے علاوہ نئے کیسز کو بھی دیکھا جائے تو کل سے اب تک 912 شہری کورونا کی گرفت میں آئے جبکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملک میں 6 ہزار سے بھی زائد یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے، مجموعی طور پر صورتحال کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں ٹوٹل ایکٹو کیسز کی تعداد 43 ہزار 658 ہوچکی تاہم ٹیسٹوں کہ صلاحیت میں روز بروز اضافہ کرنے کی کوشش جاری ہے جو کہ کامیاب بھی ہوچکی ملک میں گزشتہ ماہ ایک ہی روز میں 70 ہزار سے زائد ٹیسٹ بھی کیے گئے لیکن چونکہ بیماری کی شدت میں کمی آگئی اور پریشر بھی کم ہوتا نظر آرہا تو شہریوں کی جانب سے ٹیسٹ کروانے کا رجحان بھی قدرے کم نظر آرہا کل سے اب تک 45 ہزار 610 افراد نے ہی کورونا ٹیسٹ کروائے، وفاقی وزیر سمیت پورے این سی او سی کو کم ہوتا کورونا کیوں نظر آیا اس کا سارا کریڈٹ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ویکیسن کی تعداد پر ہے، ویکسینٹڈ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو بھی کیوں نہ حکومت نے ٹرانسپورٹ سے لیکر سرکاری دفاتر اور بڑے شاپنگ مالز تک بغیر ویکسین داخلے پر جو پابندی عائد کر دی، اب حالات یہ ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر 1 ملین سے زائد شہریوں کو کورونا ویکسین لگائی جارہی ہے این سی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ایک روز میں11 لاکھ 90 ہزار 424 افراد ویکسین کی سہولت سے مستفید ہوسکے جبکہ اب تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 77 لاکھ 41 ہزار 79 شہری کورونا ویکسینیشن کروانے کے بعد خود کو جان لیوا وبا سے محفوظ بنا چکے، حکومت 80 سال سے شروع ہوکر اب 12 سال تک کے ننھے شہریوں کو بھی کورونا ویکسینیشن سہولت فراہم کرتی نظر آتی ہے جس کے لیے سکولز کی سطح پر خصوصی ٹیمز پولیو کی مانند بچوں کو ٹارگٹ کرتی نظر آرہی ہیں بظاہر لگ رہا کہ حکومت کورونا سے کامیابی سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئی اور زندگی دوبارہ سے اپنے خوبصورت رنگوں کو سمیٹنے کی راہ پر چل نکلی ہے لیکن رکیے!!! ابھی خطرہ ٹلا نہیں بس نام بدل گیا، ایک اور پرانی جان لیوا بیماری موسم کی کروٹ بدلتے ہی لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے آچکی، ڈینگی وائرس سے کئی افراد جاں کی بازی بھی ہار چکے اور متاثرین کی تعداد اتنی ہے کہ سرکاری ہسپتال میں مزید داخلوں کو بند کر دیا گیا ہے لیکن امید ہے اس پر حکومت قابو پاسکے گی جیسے عالمی وبا کورونا وائرس پر گرفت مضبوط کی جاچکی ہے

  • بلاتصوّف تحریر: ثناءاللہ محسود.

    خود ہی کی میں نے لگا کے بولی،

    خود ہی کی میں نے لگا کے قیمت،

    ہر ایک کو میں یہ کہہ رہا ہوں،

    ہائے رے دنیا بڑی بری ہے۔۔

    پچھلے دنوں اچانک میری نظروں کے سامنے پاکستان ٹیلی ویژن کے کسی پرانے ڈرامے یا کسی پروگرام کی تصویری جھلکیاں گذریں،جھلکیاں اتنی مختصر تھیں کہ پتہ نا  لگا سکا کہ کونسا ڈرامہ ہے اور اگرچہ کوئی پروگرام ہے تو نام کیا ہے اس کا،مگر ان مختصر سی جھلکیوں نے میری سوچ و فکر کے زاویے بدل ڈالے ،جیسے مجھے اپنا آپ پہچاننے کا یا اپنا احتساب کرنے کا سبق مل گیا اس مختصر سی جھلکیوں میں چند طالب علم اپنے اک عمر رسیدہ استاد سے سوال کر رہے تھے، وہ صرف سوال نہیں تھے زندگی کا مطلب تھا ان سوالوں میں جن کے جوابات وہ عمر رسیدہ استاد دے رہے تھے ایک طالب علم نے سوال کرتے ہوئے اک کہا کہ ماسٹر صاحب یہ تصوّف ہے کیا چیز؟؟

    ماسٹر صاحب نے اپنی عمر کے حساب سے بہت ہی بختہ انداز میں جواب دیتے کہا، اپنے اخلاق سنوارنے اور بہتر انسان بننے کا نام تصوف ہے ورد وضیفہ تو اس کا سہارا ہے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ذکر و وضائف کرنے سے سارے معاملات طے ہو جاتے ہیں ان بیچاروں کو کوئی سمجھاتا ہی نہیں کہ معاملات اور اخلاق کی درستگی کے بغیر وضیفے کاٹ نہیں کرتے یعنی اثر نہیں کرتے۔بس اسی ناسمجھی کی وجہ سے لوگ محروم رہتے ہیں”۔

    ماسٹر صاحب کے اک سوال کے جواب نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتا رہا ساتھ پڑی تسبیح کو غور کرتا رہا مجھے میری عبادت اور جگ میں نیک پرستی پہ ترس آنے لگا جی میں وہ ہی انسان ہوں جو ہر گھر ہر جگہ ہر اٹھتی نگاہ میں ملے گا۔بلکل میں ہی ہوں وہ آج کا انسان جو تصوّف سے کوہ سو دور ہے،میں زمانۂ موجود کا ایسا انسان ہوں جس میں اخلاق کے نام پر چاپلوسی عبادت کے نام پر دکھاوہ ،محبت کے نام پہ نفس کی غلامی اور خدمتِ خلق کے نام پہ احسان جتانا کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے۔میں نے تصوّف کی معنی ہی بدل ڈالی ہے،میں وہ انسان ہوں میں خود سے پہلے دوسروں کو درس دیتا ہوں میرے دل کا آئینہ اپنی ہی خواہشات کی زد میں دھندلا سا گیا ہے مگر میں دوسروں کو اپنے ساتھ چشمے سے بہتے صاف و شفاف پانی جیسا دیکھنا چاہتا ہوں۔

    میں ایک استاد ہوں تو میں طالب علموں سے پہلے خود کی سوچتا ہوں بیشک معاملات چلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر میں ایک استاد کی حیثیت سے اپنی پہلی اینٹری دیتا ہوں تو یہ نہیں پوچھتا ہوں بچے کتنے ہیں جن کو میں پڑھاؤں گا بلکہ یہ پوچھتا ہوں میری تنخواہ کتنی ہوگی۔۔

    اگر میں اک ڈاکٹر ہوں تومیری اوّلین ترجیح مریض ہونے چاہئیں مگر یہاں بھی میری پہلی توجہ اس پہ ہوتی ہے کہ میری فیس کاؤنٹر پر جمع ہوئی کہ نہیں چاہے مریض آپریشن نا ہونے کی باعث اپنی جان کی بازی ہر جائے۔یہاں پہ اک بات میرے ذہن میں آتی ہے چند دنوں پہلے ہسپتال میں بہت ہی لاچار و مجبور غریب عورت اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لائی تھی اس بچے کو چمڑی کی بہت ہی تکلیف دہ بیماری تھی جوکہ اس بچے کے سر کے زخموں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ بچہ کتنی تکلیف میں تھا،چونکہ ڈاکٹر چمڑی کے امراض کے علاج کا ماہر ڈاکٹر تھا تو وہ بہت دور کسی گاؤں سے اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لائی تھی،شاید اس سے پہلے بھی اک بار آ چکی تھی،کچھ ہی دیر میں اس عورت کا نمبر آتا ہے اور وہ اپنے بچے کو اٹھائے ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں چلی گئیں ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کے کمرے سے ڈاکٹر صاحب کی شدید غصہ و برہمی کے انداز میں زور زور سے ڈانٹے کی آواز آنے لگی چونکہ کلینک چھوٹا سا تھا تو ساری آواز باہر سنائی دے رہی تھی،مگر ایسا بلکل بھی نہیں تھا کہ ڈاکٹر صاحب کسی ایمرجنسی کی صورت میں یہ انداز اپنائے ہوئے تھے بلکہ اس لیے چلا رہے تھے کہ اس مجبور و لاچار ماں نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحِب یہ جو ٹیوب آپ نے لکھا ہے وں میں کل لے لوں گی کیونکہ جتنے پیسوں میں یہ آئے گا تو میرے پاس گھر واپسی کا کرایہ نہیں رہے گا میں بہت دور سے آئی ہوں اکیلی بھی ہوں ابھی اس کا عورت کا یہی کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب آگ بگولا ہو گئے اور بہت بری طرح اس غریب سفید پوش عورت کی بیعزتی کی کہ وہ باہر آکر کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھ سکی شرمندگی کے مارے جلد ہی کلینک میں ہی موجود اسٹور سے ٹیوب لیا اور چلی گئیں کیا ہوتا اگر ڈاکٹر اس کی مجبوری سمجھ لیتا،بھلا کوئی ماں چاہے گی کہ اس کا بچہ تکلیف میں رہے اس نے مجبوری کے تحت ہی محلت مانگی جس پہ اس کو شرمندہ کیا گیا یہاں تو سب سے پہلے ڈاکٹر کو چاہیے تھا کہ اس عورت کی مدد کرتا شاید وہ ایسا تب کرتا جب اس کے دماغ میں خدمت کا جذبہ ہوتا لیکن اس نے اپنے اسٹور کی کمائی کو اوّل رکھا،یہ سارہ منظر تو سب ہی نے دیکھا مگر کسی کو خیال نا آیا کہ وہ عورت کیسے گھر گئی ہوگی پتہ نہیں کسی نے مدد کی ہوگی کہ نہیں ارے جسے پہلی فرست میں مدد کرنی تھی اس نے تو اپنی ذات کی نیلامی میں قیمتوں کا بلند آسمان قائم کیا ہوا تھا تو کیسے کوئی مفلس پہنچے گا۔

    ابھی اسی کشمکش میں دماغ الجھا ہو تھا رات بھر ننید نا آئی صبح آفس میں خود کو کام میں مصروف کر دیا،پیاس محسوس ہونے کی صورت میں آفس میں کام کرنے والی ماسی کو پانی پلانے کا کہا اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے محسوس کیا کے وہ کچھ تھکی تھکی سی لگ رہی ہیں،میں نے جان بوبھ کر پانی تاخیر سے پیتے ہوئے کہا بیٹھ جائیں باجی تو وہ سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گئیں،میں نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہوا باجی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں کیا؟تو انہوں نے بڑے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج تو ٹانگیں دکھ رہی ہیں اور ہلکی سی تھکی سی مسکراہٹ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دل کرتا ہے کاٹ کے رکھ دوں آج ٹاگیں سکون آجائے جب تک میں نے حیرت زدہ ہنسا سوال کرتے ہوئے کہا اللّٰہ خیر کرے باجی کیا ہوگیا،ایسا کیوں کہ رہی ہیں؟بولیں نا پوچھیں بیٹا ،سچ کہتے ہیں تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیتے تو آج آسانیاں ہوتیں،آگے بتاتے کوئے کہا کہ کل میری بیٹی کا شناختی کارڈ بننا تھا،لمبی قطار لگی ہوئی تھی صبح سے تقریباً شام ہوگئی اور جب ہماری باری آئی تو پانچ منٹ بھی بڑے ہیں وہاں بیٹھے شخص نے ہمارے کاغذات دیکھ کر کہا اماں فلاں کاغذ نہیں ہے کل وہ لے کر آنا بعد میں کام ہوگا،تو بیٹا کام بھی نہیں ہوا اور درد ساتھ لے کر آئی ایسے میں چھٹی کا وقت ہوگیا اور وہ چلی گئی مگر میرے دماغ میں یہ بات بھی گھر کر گئی کہ کیا ہمارے معزز ادارے میں اتنا نہیں ہوسکتا ہے کہ قطار میں موجود لوگوں کو دیکھا جائے کہ آنے والوں کے کاغذات مکمل ہیں کہ نہیں اگرچہ نہیں ہیں تو ان کو بتایا جائے کہ وہ اتنی دیر نا کھڑے ہوں گھر جا کر اپنے کاغذات مکمل کر کہ آئیں مگر افسوس ایسا نہیں ہوتا ایسا ہوگا تو آرام و راحت میں خلل آئے گا۔اگر ڈیوٹی ہی دینے کے لیے آئے ہیں تو تھوڑا جذبۂ انسانی بھی ساتھ شمار کیا جائے تو کام اور عبادت کا مزہ بھی دہرہ ہوجائے،مگروہ ہی بات کہ بات صرف سمجھنے کی ہے اور ہمیں کسی نے سمجھایا ہی نہیں کہ دنیا میں قدر و قیمت سے مراد تنخواہ یا دولت حاصل کرنا نہیں ہے

    کیا ہمیں نہیں آتا ذکرِ الٰہی سے پہلے اللّٰہ کی مخلوق کی خدمت کرنا،،بلکل آتا ہے مگر ہم کہیں کہو گئے ہیں ہم تو اس خدائی عظیم و عالیشان کی مخلوق ہیں جس نے خود اپنے حقوق یعنی حقوقِ اللّٰہ سے پہلے حقوق العباد کو ترجیح دی ہے تو ہم کیسے اس کے حکم کے بر عکس چل سکتے ہیں۔

    اس تمام تر سوچ و کشمکش میں اپنے الفاظ کے ذریعے اظہار کے بعد میں نے اس پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے کی جھلکیوں کی مدد سے اس ڈرامے کا نام تلاش کرنا شروع کر دیا کافی دیر کی محنت کے بعد پتہ چلا کہ اس ڈرامے کا نام "من چلے کا سودہ” ہے جس کی جھلکیوں نے مجھے خود کو اپنے اندر بسے انسان کو جگانے پر مجبور کیا اور آج میری ساری سوچیں اک جگہ بیٹھ گئیں اور پشیمانی سی ہوئی، آج وہ دن تھا کہ مجھے معلوم ہوا واقعی ہم اس دور کے انسان ہیں جو انسانیت کم اور سودہ گری زیادہ کرتے ہیں۔ 

    "اسلحے کی غداری نے نہیں بجھائی اتنی آنکھیں،

    فقط اک ذات کی سودہ گری نے دھندلا دیا ہے عالم۔

            اللّٰہ جل جلالہ ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

    @SanaullahMahsod