Baaghi TV

Category: متفرق

  • لڑکی نے اس طرح اپنے بوائے فرینڈ کی بے وفائی پکڑی کہ خفیہ ایجنسیاں حیران رہ گئیں

    لڑکی نے اس طرح اپنے بوائے فرینڈ کی بے وفائی پکڑی کہ خفیہ ایجنسیاں حیران رہ گئیں

    لڑکی کے سیلفی کے جنون نے گزشتہ دنوں امریکہ میں ایک آدمی کو اپنی گرل فرینڈ سے بے وفائی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑوا دیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے دی سن کے مطابق اس گرل فرینڈ کو اپنے بوائے فرینڈ پر شبہ تھا کہ اس کا کسی اور لڑکی کے ساتھ تعلق ہے اور وہ اس کے ساتھ بے وفائی کر رہا ہے تاہم اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔

    دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

    کلوئی نامی اس لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کی بے وفائی پکڑنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ جان کر خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ بھی حیران رہ گئے اس مقصد کے لیے اس نے انسٹاگرام کی مدد لی۔

    اس نے انسٹاگرام کے ذریعے اپنے بوائے فرینڈ کی موجودگی کی جگہ کے بارے میں معلوم کیا، اس نے ایک ہوٹل سے ایک پوسٹ کی تھی۔ پھر کلوئی نے ایسی تمام لڑکیوں کے انسٹاگرام اکاﺅنٹ کھنگال ڈالے جنہوں نے اس روز اس ہوٹل کو وزٹ کیا تھا اور اسے ٹیگ کرتے ہوئے اپنی تصاویر پوسٹ کی تھیں۔

    سروس میں بندش پر واٹس کا وضاحتی بیان جاری

    تاہم ان اکاﺅنٹ کی پوسٹس کو ایک ایک کرکے کلوئی دیکھتی چلی گئی اور پھر ایک لڑکی کے اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر میں اسے اپنا بوائے فرینڈ نظر آ گیا یوں اس کے ہاتھ اپنے بوائے فرینڈ کی بے وفائی کا ایسا ثبوت لگ گیا جس کی وہ تردید نہیں کر سکتا تھا۔

    دی سن کے مطابق کلوئی کی جاسوسی کی یہ کہانی اس کی ایک دوست نے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ پر لوگوں کو سنائی ہے اس ویڈیو کے کیپشن میں کلوئی کی دوست لکھتی ہے کہ ایم آئی 5یا ایف بی آئی والوں کو میری اس دوست کو بھرتی کر لینا چاہیے ٹک ٹاک پر یہ ویڈیو بہت وائرل ہو رہی ہے-

    دلہن کی سہیلی کرائے پر دستیاب ، انوکھی آن لائن سروس

  • دلہن کی سہیلی کرائے پر دستیاب ، انوکھی آن لائن سروس

    دلہن کی سہیلی کرائے پر دستیاب ، انوکھی آن لائن سروس

    نیویارک:جین گلینز نامی امریکی لڑکی گزشتہ سات سال سے کرائے کی خاتون شہ بالا بن رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جین گلینز نامی امریکی لڑکی شادی کی تقریب میں کرائے پر ’برائیڈزمیڈ‘ (دلہن کی قریبی سہیلی جو دولہا کے شہ بالے کی طرح شادی میں دلہن کے ساتھ رہتی ہے) بنتی ہے۔

    دی سن کے مطابق جین گلینز نامی یہ امریکی لڑکی گزشتہ سات سال سے کرائے کی خاتون شہ بالا بن رہی ہے جین گلینز نے اپنی ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں بتایا ہے کہ اس نے یہ پیشہ حادثاتی طور پر اپنایا اور اس کی توقع سے کہیں بڑھ کر کامیاب ثابت ہوا۔

    جین بتاتی ہے کہ ”جب میں عمر کی 20کی دہائی میں تھیں تو میری سب سہیلیوں کی شادیاں ہو گئیں اور میں ہر شادی میں دلہن کی بہترین سہیلی بنی تھی سہیلیوں کے علاوہ رشتہ داروں اور جاننے والوں میں بھی جس لڑکی کی شادی ہوتی، وہ مجھ سے اپنی بہترین سہیلی بننے کو کہتی۔

    جین کا مزید کہنا تھا کہ ایک روز میری روم میٹ نے مذاق میں مجھ سے کہا کہ اب تمہیں پروفیشنل ’برائیڈزمیڈ‘ بن جانا چاہیے اس کی یہ بات مجھے بہت پسند آئی کیونکہ اب تک مجھے بھی برائیڈز میڈ بننے کی گویا عادت سی پڑ گئی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ میں نے آن لائن کرائے کی برائیڈز میڈ کا اشتہار دیا تو اگلے چند دنوں میں مجھے درجنوں ای میلز موصول ہو گئیں اور یوں میرے اس پروفیشن کا آغاز ہو گیا جو آج تک کامیابی سے جاری ہے اور میں خاطرخواہ آمدنی کما رہی ہوں۔

    جین کے مطابق شادی کی ان تقریبات میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا، حتیٰ کہ میں دلہن کے لیے بھی اجنبی ہوتی ہوں مگر مجھے اس کی بہترین سہیلی کی اداکاری کرنی ہوتی ہے اور اسی کام کے مجھے پیسے دیئے جاتے ہیں-

  • ہم دنیا سے پیچھے کیوں؟ تحریر:محمد ذیشان رؤف

    عالم اسلام کے عروج کی بات کی جائے تو صدیوں پر محیط سنہرے ادوار پر لکھی گئی تصانیف سے دنیا کی لائیبریریاں بھری پڑی ہیں۔  اور نا ہی یہ بندہ نا چیز اتنی بڑے موضوع کو چند سطروں میں سمیٹنے کی جسارت کر سکتا ہے۔

    لیکن ساری دنیا کے مسلمانوں کے زوال کی ایک ہی کہانی ہے اور وہ ہے اسلام سے دوری۔

    اور اسی کے بر عکس ہمارے اسلاف کی عروج کی وجہ بھی یہی رہی۔ اسلام پر قائم رہ کر دنیا مسخر کرنے والوں کی نسلوں نے جیسے جیسے اسلامی اقدار کو چھوڑ کر مغرب کی تقلید شروع کی ویسے ویسے زوال پزیر ہوتے گئے۔ اور اب حال یہ ہے کہ آج کے جدید دور میں ہمارے معاشرے میں کسی کا معیار اگر پرکھا جاتا ہے تو اس کی بنیاد یہ سمجھی جاتی ہے کہ آیا یہ خاندان یا فرد مغربی تہذیب کے کس قدر قریب ہے۔ اور یہ اندھی تقلید ہی ہماری پروان چڑھتی نسلوں کی ذہنی غلامی کا باعث بن رہی ہے۔ ہمارے عقیدے اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ اللہ پر ایمان صرف کتابوں میں پڑھنے کی حد تک رہ گیا ہے۔ ایمان کی کمزوری ہی کہ وجہ سے ہم حلال و حرام کی تمیز کرنا بھی بھول چکے۔ ہمیں اس بات کا کوئی ادراک نہیں ہے کہ ہماری کمائی کن ذرائع سے آ رہی ہے۔ سود کے خلاف اللہ پاک نے خود اعلان جنگ کیا لیکن اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے ملک کا سارا معاشی نظام سود پر چل رہا ہے۔ اسلام کو غالب کرنے کا حکم ہے لیکن ہم محکوم اور مغلوب ہو کر رہنا پسند کر چکے۔ ہمارے سکولوں کے نصاب تک مغرب کی منظوری کے بغیر مرتب نہیں کیئے جا سکتے۔ جہاد اور قتال سے ہم نا آشنا ہو کر رہ گئے۔ اللہ پاک نے بھی ان مؤمنوں کے ساتھ فرشتوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے جو اللہ کی راہ میں اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ بحیثیت قوم ہم بکھرے پڑے ہیں۔ فرقہ واریت، ذات پات ہمارے اندر ایک نا سور بن چکی ہے۔ مسلماں ایک دوسرے کے خلاف آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ معاشرتی برائیاں اس قدر سرایت کر چکی ہیں کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی دوسرا محفوظ نہیں۔ بے ایمانی، جھوٹ اور دھوکہ دہی میں ہم  بہت اوپر کے نمبروں پر جا چکے ہیں۔ بلکہ ایماندار قوموں میں غیر مسلم ممالک پہلے نمبرز پر ہیں۔

    جب ہر فرد کسی نا کسی دھوکے اور چکر فراڈ میں اپنا ذہن لڑانےمیں لگا ہو ہو پھر اس قوم اور ملک میں سائینس دان، فلاسفر اور موجد پیدا نہیں ہوتے بلکہ چور ڈاکو اور لٹیرے ہی جنم لیتے ہیں۔ پھر ہر بندہ اپنی استطاعت کے مطابق ملک کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک 6 گریڈ کا سرکاری ملازم چند سو روپے سے چند ہزار کی کرپشن کرے گا تو گریڈ 18 سے 20 کا آفسر لاکھوں کروڑوں کی بلکہ موقع ملنے پر اربوں کھربوں روپے کی کرپشن بھی کرے گا۔ یہاں لوٹ مار اور کرپشن سے صرف وہ شخص بچا ہے جسے آج تک موقع نہیں ملا۔ جب  ایسے افراد مل کر معاشرہ اور قوم بنتے ہیں تو پھر وہ دنیا پر حکمران نہیں ہوا کرتے بلکہ غلامی ہی ان کا مقدر ہوا کرتی ہے۔

    اور اس کی وجہ علامہ محمد اقبال نے ایک شعر میں بیان کر دی

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر

    اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر  

    قرآن سے دوری ہی ہر برائی کی جڑ ہے

    اور پھر ہر برائی مل کر تباہ حال معاشرے کی بنیاد بن چکی اور یہی تباہ حال معاشرے ہمیں کبھی ایک قوم نہیں بننے دے سکتے۔

    جب ہم اپنا موازنہ بحیثیت قوم دوسری اقوام سے کرتے ہیں تو ان کی ترقی اور عروج کی ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے۔ کہ انھوں نے وہ تمام اسلامی اصول اپنا لیئے جن پر عمل کرنے کا حکم ہمیں تھا۔ وہ تمام غیت مسلم لوگ جھوٹ فراڈ ، دھوکہ دہی اور کرپشن سے دور ہو کر دنیا کی سپر پاور کہلائے جب کہ ہم یہ سب ترک کرتے گئے اور پست ہوتے گئے۔ 

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے بڑے عہدے داران کی کرپشن کی داستانیں اپنے بچوں کو سنا کر ان کی ذہن سازی ایک غلط کام کی طرف کرنے کے بجائے اسلام کی نامور شخصیات کے عروج کی داستانیں اور اس عروج تک جانے کا نسخہِ اسلام بتایا کریں تا کہ یہ بد حالی اگلی نسلوں کے ذہنوں سے نکال کر ہی ایک نیا معاشرہ اور قوم تیار کر سکیں۔

  • فخر ملت، شہید ملت  نوابزادہ لیاقت علی خان تحریر: کائنات فاروق

    فخر ملت، شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان تحریر: کائنات فاروق

     

    بات کرتے ہیں پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کی، جیسا کہ اکتوبر کے مہینے کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ مہینہ نہ صرف شہید ملت کا ماہ پیدائش ہے بلکہ ماہ وفات بھی ہے۔ آج کی تحریر میں اُن کے کردار، جدوجھد، اور پاکستان کے لیے قربانیوں کا ذکر کریں گے۔ تحریر کے آغاز میں نواب زادہ لیاقت علی خان کی ابتدائی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

    آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں ایک نامور نواب گھرانے میں 2 اکتوبر، 1896ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر میں ہی مکمل کی اور ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کرلی۔

    انگلینڈ سے واپسی کے بعد آپ نے اپنی سیاسی زندگی کے آغاز کا فیصلہ کیا۔ آپ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے زیر قیادت مسلم لیگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ 1926ء میں میں آپ اتر پردیش سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے تک آپ یو پی اسمبلی کے رکن رہے۔

     

    آپ نے نہ صرف اپنا کردار پاکستان کے حصول تک نبھایا بلکہ پاکستان بننے کے بعد بھی اپنی زندگی اس ارض پاک کے لیے وقف کردی۔ تحریک پاکستان کی جدوجھد میں قائداعظم کے شانہ بشانہ رہے اور آزادی کے بعد اپنا سب کچھ ترک کرکے پاکستان چلے آئے۔ نواب آف کرنال کے ثبوت ہونے کے باعث آپ کے رہن سہن کے ٹھاٹھ باٹھ ایسے تھے کہ جب آپ انگلینڈ تعلیم حاصل کرنے گئے تو آپ کے ہمراہ خانساماں اور ملازمین بھی گئے، آپ کے ہاں ایک وقت کا کھانا چالیس افراد سے کم کا نہ بنا کرتا تھا۔ لیکن پیارے وطن کے حصول کی جدوجھد سے لے کر اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے تک کی جدوجھد تک آپ نے اپنا آپ فراموش کرکے نہایت سادہ زندگی گزاری۔ نہ صرف اپنی تمام جائیدادیں پاکستان کو وقف کردیں بلکہ جب آپ وزیر اعظم بنے تو آپ نے سرکاری خزانے کا بےجا استعمال کرنے سے بھی گریز کیا۔ حتٰی کہ تاریخ میں درج ہے کہ نواب خاندان کو غربت کے باعث پھیکی چائے پیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

    نواب لیاقت علی خان کے یہ تاریخی جملے اُن سے اس ملک کی محبت کی  ترجمانی کرتے ہیں،

    1951ء میں یوم پاکستان کے موقع پر لیاقت علی خان نے کراچی میں ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

     

    "مجھے معلوم نہیں کہ قوم کے اعتماد اور اس کے خلوص کو کس طرح بحال کیا جا سکتا ہے، میرے پاس جائیدادیں نہیں ہیں،میرے پاس امرا نہیں ہیں مجھے خوشی ہے کہ میرے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں، کیونکہ یہ آدمی کے یقین کو متزلزل کر دیتی ہیں۔ میرے پاس صرف میری زندگی ہے اور وہ بھی پچھلے چار برسوں سے پاکستان کے نام وقف کر چکا ہوں۔ مَیں اس کے سوا اور کیا دے سکتا ہوں،مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر پاکستان کے دفاع کے لئے قوم کو خون بہانے کی ضرورت پڑی تو لیاقت کا خون بھی اس میں شامل ہو گا”۔

    اور بیشک تاریخ نے آپ کے ان جملوں کو من و عن سچ ثابت کیا۔ 

    آپ نے بطور وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور وزیراعظم پاکستان، اپنے فرائض کو بخوبی نبھایا۔

    وہ پزیرائی جو آپ کے پیش کردہ بجٹ کو عوامی سطح پر ملی کو آج تک کسی دوسرے بجٹ کو حاصل نہ ہوسکی۔

    متحدہ برطانوی ہندوستان کے پہلے اور آخری وزیر خزانہ لیاقت علی خان کے 1947-48ء کے بجٹ کو عوام قبول بجٹ کا درجہ حاصل ہوا تھا۔ تاریخ میں اس بجٹ کو غریبوں کے بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی تمام پالیسیوں کا رُخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کرنا تھا۔ آپ نے اپنے عمل اور پالیسیوں سے یہ ثابت کیا کہ آپ کو نہ صرف پاکستان سے والہانہ محبت ہے بلکہ آپ کس قدر غریب عوام کا درد رکھتے ہیں۔

     

    پاکستان کا پہلا سیاسی قتل 16 اکتوبر کو ہوا تھا- جو کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا قتل تھا۔ ان کو 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا، آپ کے آخری الفاظ تھے "خدا پاکستان کی حفاظت کرے”.

     

    افسوس کہ آج ہم نے ایسی شخصیت کو فراموش کردیا ہے جن کی وطن عزیز کی خاطر قربانیوں کی مثالیں لازوال ہیں۔ حال ہی میں سندھ حکومت کی جانب سے ملک کے نامور کامیڈین عمر شریف کے انتقال پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کراچی کو "شہید ملت انڈرپاس” کا نام تبدیل کرکہ اسے عمر شریف کے نام سے منسوب کیا جائے گا جو کہ نہایت ہی غیر مناسب ہے۔ کسی بھی ایسی جگہ کا نام تبدیل کرنا جو کہ محسن ملت، شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کے نام سے منسوب ہو ٹھیک عمل نہیں، خان صاحب جیسی شخصیت پوری قوم کے لیے مشعل راہ ہے اور ہم انھیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کریں وہ کم ہوگا۔

     

    @KainatFarooq_

  • ہندوستان کی سب سے بڑی جغرافیائی کمزوری تحریر اصغر علی                                                 

    ہندوستان کی سب سے بڑی جغرافیائی کمزوری تحریر اصغر علی                                                 

    تحریر اصغر علی                                                 

                                                 
    اگر آپ ہندوستان کے نقشے کو دیکھیں تو اس کے شمال مشرق میں بنگلہ دیش نیپال بھوٹان اور چین کے درمیان ایک تنگ سی راہداری ہے اس جگہ کا نام سیلیگوری ہے اور اس راہداری  کو اسی جگہ کے نام پر رکھا کیا ہے اس کو سیلیگوری کوریڈور کہتے ہیں یہ تنگ سی رہداری مرکزی بھارت کو اپنی شمال مشرقی  8 ریاستوں سے ملاتی ہے یہ راہداری اتنی  تنگ ہے ہے کہ ایک جگہ پر اس کی چوڑائی صرف 17 سے 20 کلومیٹر رہ جاتی ہیں  اگر کوئی اس راہداری کو بند کر دے تو بھارت کا اسکی ان آٹھ اہم ریاستوں سے  زمینی راستہ کٹ جاتا ہے  اور سمندر سے جانے کے لیے اسے خلیج بنگال کا سہارا لینا پڑے گا اس کے بعد یہ راستہ بنگلہ دیش اور برما سے ہو کر گزرتا ہے بنگلہ دیش سے اس کے تعلقات اچھے نہیں اور برما سے بھی یہی حالات ہے اس لیے بھارت کی یہ سب سے بڑی  جغرافیائی کمزوری کھلائی جاتی ہے بھارت کی ان آٹھ ریاستوں میں اسام اروناچل پردیش سکم منی پور میگھالے ناگا لینڈ تیری پورا اور میزو رام شامل  ہیں ان آٹھ ریاستوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ رقبے کے لحاظ سے یہ ریا ستیں نیوزی لینڈ اور برطانیہ جیسے بڑے ملک سے بھی زیادہ رقبے پر محیط ہے جبکہ ان آٹھ ریاستوں کی آبادی  سارے چار کروڑ لوگوں پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ اس کوریڈور کو کو بھارت کی سب سے بڑی دفاعی کمزوری سمجھا جاتا ہے اور اس لیے لیے ماہرین اس کو انڈیا کی چکن نک یعنی مرغی کی گردن کہتے ہیں اگر ہم آپ کو بتاتے ہیں کے اس کوریدور کو بھارت کی سب سے بڑی کمزوری کیوں سمجھا جاتا ہے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت چین کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اس کی بڑی وجہ صبح دونوں ملکوں کے درمیان میں موجود بارڈر میکموہن لائن ہیں جس سے چین نے کبھی اپنا مستقل بارڈر نہیں مانا کیونکہ اسی بارڈر پر موجود ایک ریاست جس کا نام اروناچل پردیس ہے اس کو کو چین بھارت کا نہیں بلکہ اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین اروناچل پردیش ہمیشہ آپنے نقشہ میں ہی دکھاتا ہے اروناچل پردیش فیس بک بھارت کی آن 8 شمال مشرق میں واقع ریاستوں میں سے ایک بہت بڑی ریاست ہے اس ریاست کا رقبہ لگ بھگ آسٹریا اور اردن کے برابر ہے ایسی ریاست کے حصول کے لیے دونوں ملکوں میں جنگ بھی ہو چکی ہے یہ جنگ 1962 میں ہوئی تھی اور اس جنگ میں چین کا پلڑا بھاری رہا اس کے بعد انیس سو سڑسٹھ میں بھی بھارت کی ریاست سکم اور تبت کے بارڈر پر بھی جھڑپیں ہو چکی ہیں ہنی تنازعات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان حالات کافی کشیدہ رہتے ہیں  اروناچل پردیش میں موجود بھارتی فوج کو سپلائی لائن اسی تنگ راستے سلیگوری کوریڈور سے ہی ہوتی ہے  اگر چین اور بھارت میں جنگ ہو جاتی ہے تو سلیگوری کوریڈور جیسے تنگ علاقے کا دفاع کرنا بہت مشکل ہے اس کے برعکس کس چین کا سپلائی لائن کاٹنا بہت آسان ہے اسی وجہ سے یہ بھارت کی سب سے بڑی دفاعی کمزوری ہے اگر اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بھارت کو اپنے زیر کنٹرول اور علاقوں میں سے اروناچل پردیش سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں گے بھارت نے اس کوریڈور کو بچانے کے لیے ادھر اپنی دفاعی پوزیشن انتہائی مضبوط کی ہوئی ہے ہے ادھر اس نے دو جنگی اڈے بنا رکھے ہیں  اور جنگ ہونے کی صورت میں بھارت کو نیپال اور بھوٹان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھنے پڑیں گے  کیونکہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے سے یہ کوریڈور بلاک کرنا چین کے لیے بہت مشکل ہوگا چین اپنی فوج اس کوریڈور سے صرف سو کلومیٹر کے فاصلے پر تبت میں اتار چکا ہے ہے اور وہ اپنی ریاست اروناچل پردیش جس کو اپنا حصہ اور اپنے نقشوں میں دکھاتا ہے اس کے لئے کبھی بھی  ہندوستان پر حملہ کر سکتا ہے اور یہی کمزوری ہندوستان کو آٹھ ریاستوں سے دور کر سکتی ہے                                        

    Written by Asghar Ali

    Twitter id @Ali_AJKPTI

  • سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    محترم قارئين کرام

     رزق حلال یا زریعہ معاش  ایک ایسی اہم ضرورت ہے جو انسان کی زندگی کا بہترین حصہ یعنی جوانی اس ضرورت کی فکر کھا جاتی ہے۔

    غریب کا بچہ نو عمری میں ہی مزدوری کیلئے نکل پڑتا ہے

    اور امیر کا بچہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے

    اکثر ایسا ہی دیکھنے کو ملتا ہے

    لیکن یہ فرض نہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا

    بلکہ بہت سارے ایسے لوگوں کو میں جانتا ہوں جو انتہائی غربت میں پڑھے لکھے ہیں

    اسی طرح بہت سارے ایسے لوگوں کو بھی میں جانتا ہوں جو ابھی پوری طرح بالغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اینٹوں کے بھٹوں پہ اینٹیں، مستری کے ساتھ مزدوری یا پھر ہنر مند بننے کیلئے کسی ویلڈر یا میکنک کی دکان کا رخ کرتے ہیں۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کامیاب بننے کیلئے دولت مند یا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں 

    بلکہ کامیابی کیلئے ایسے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے جو ایجاد یا ڈائیرکشن یا پھر پالیسی بنانے کا ماہر ہو

    آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ بہت تھوڑی عمر میں بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں اور بعض لوگ بڑھاپے تک بھی یہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتے جو کچھ لوگ اٹھارہ بیس سال کی عمر میں حاصل کرچکے ہوتے ہیں.

    اسے ہم قسمت کا کھیل تو ضرور کہہ سکتے ہیں

    لیکن قسمت ہمیشہ بنانی پڑتی ہے 

    کامیاب بننے ترقی کرنے اور دولت کمانے کے مختلف طریقے ہیں

    لیکن سب سے بہترین طریقہ جو میں سمجھتا ہوں  وہ

    "سرمایہ کاری” ہے 

    ارسطو کے بقول:

    "دولت کھاد کی طرح ہے جب تک اسے پھیلایا نہ جائے فائدہ حاصل نہیں ہوتا”

    آج کے جدید دور میں سرمایہ کاری کے اتنے پلیٹفارم ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے 

    اور اتنے فراڈ ہیں کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے

    لیکن تھوڑی سی بھی سرمایہ کاری اگر کسی بہترین جگہ ہوجائے تو چند سالوں میں مالی پریشانیاں ہمیشہ کیلئے ختم ہوسکتی ہیں.

    بہت سارے لوگ آنلائن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں 

    یہ کمپنیاں شروع میں اچھا منافع ضرور دیتی ہیں اور بہت سارے لوگ گھیرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں لیکن چند ہی ماہ کے بعد عین غین ہوجاتی ہیں.

    اب انسان چونکہ لالچ میں آجاتا ہے 

    تو وہ کسی ایسی کمپنی میں اپنی رقم سرمایہ کاری کیلئے لگاتا ہے جو بہت سارا منافع دے رہی ہوتی ہے

    تو وہ اسے واپس نکالنے کی بجائے جب زیادہ منافع دیکھتا ہے تو منافع بھی اسی میں سرمایہ کاری پہ لگا دیتا ہے

    پھر بائینری انکم کے لالچ میں کچھ اپنے مزید ساتھیوں کی سرمایہ کاری بھی شروع کرتا ہے

    اور اتنے میں کمپنی عین غین کرجاتی ہے

    پھر سر میں بازو رکھ کے پریشان بیٹھ جاتا ہے

    اور کبھی بھی دوبارہ سرمایہ کاری کیلئے آمادہ نہیں ہوتا

    یہ ایک قسم کے ناکام لوگ ہی ٹھرتے ہیں

    دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو انہی طرز کی کمپنيوں میں گھستے ہیں اپنی تھوڑی بہت سرمایہ کاری کرتے ہیں اور کام کو مزید سمجھتے ہیں اپنی سرمایہ کاری واپس لیتے ہیں اور منافع شدہ رقم کو سرمایہ بنا کے سرمایہ کاری کرتے ہیں

    یہ ایک ٹیکنیکی ذہن رکھنے والے لوگوں کا کام ہوتا ہے جو اپنا نقصان یا تو ہونے ہی نہیں دیتے یا پھر ہو بھی جائے تو بہت ہی قلیل نقصان ہوتا ہے اور بہت جلد ایسے لوگ کامیابی کا سفر طے کرلیتے ہیں

    تیسری قسم کی سرمایہ کاری کا تعلق آنلائن کسی شعبے سے نہیں بلکہ براہ راست اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے

    اس میں بھی کامیابی اور ناکامی دونوں ہوتی ہیں لیکن جو ڈٹ جاتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو نقصان کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں وہ ناکام ٹھرتے ہیں.

    آنلائن سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اپنی رقم کسی دوسرے کے ہاتھ میں دینی ہوتی ہے

    جب کہ براہ راست اپنے ہاتھ سے سرمایہ لگانا الگ ہوتا ہے

    جیسے کوئی دکان کھول لی جائے اور اس سے کاروبار شروع کردیا جائے

    اب کاروبار جہاں بھی شروع کیا جاتا ہے وہ وقت اور علاقے کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

    اس پر ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر علاقے میں ضرورت کپڑوں کی دکان کی ہو اور بندہ کریانہ جو کہ پانچ ساتھ دکانیں پہلے ہی موجود ہوں کھول لے تو ظاہر ہے کامیاب ہونے میں وقت لگے گا.

    اس موضوع پر بہت سی گفتگو کی جاسکتی ہے

    مگر صرف اتنی گزارش ہے کہ اگر آپ بیس ہزار روپے بھی مہانہ کما رہے ہیں تو اس میں دو ہزار ہی سہی لیکن بچت کرکے سرمایہ کاری اپنے کاروبار کیلئے ضرور کریں

    اس سے آپ بھی اور آپکی نسلیں بھی نوکری سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرجائیں گی.

    @JavaidHaqqani

  • پارک میں گھومنے آئی خاتون ہیرے کی مالک بن گئی

    پارک میں گھومنے آئی خاتون ہیرے کی مالک بن گئی

    کیلیفورنیا کی ایک خاتون آرکنساس کے کریٹر آف ڈائمنڈس اسٹیٹ پارک گھومنے آئیں جہاں انہیں اتفاقی طور پر 4.38 قیراط کا پیلے رنگ کا ہیرا ملا جو کہ نایاب ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نورین ویریڈ اور اس کے شوہرمائیکل نے جب کریٹر آف ڈائمنڈس اسٹیٹ پارک سے ایک چمکتا ہوا پتھر اٹھایا تو انہیں بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ یہ 4.38 قیراط ہیرا نکل آئے گا۔

    آرکنساس اسٹیٹ پارکس کے حکام نے بتایا کہ گرینائٹ بے سے تعلق رکھنے والی خاتون نورین ریڈ برگ جمعرات کو اپنے شوہر کے ساتھ پارک کا دورہ کر رہی تھی اور تقریبا 40 منٹ تک کھلے میدان میں جواہرات کی تلاش میں تھیں جب انہیں سطح پر کوئی چمکدار چیز نظر آئی۔

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    خاتون نے کہا میں نہیں جانتی تھی کہ یہ ہیرا ہے، لیکن یہ صاف اور چمکدار تھا ، لہذا میں نے اسے اٹھا لیا خاتون کے شوہر مائیکل ڈائمنڈ ڈسکوری سینٹر لے گئے جہاں اس کی شناخت 4.38 قیراط پیلے رنگ کے ہیرے کے طور پر ہوئی۔

    پارک سپرنٹنڈنٹ ہاویل نے کہا کہ ہیرا جیلی بین کے سائز، ناشپاتی کی شکل اور لیمونیڈ رنگ کا ہے جب میں نے پہلی بار اس ہیرے کو خوردبین کے نیچے رکھ کر دیکھا، تو میں نے سوچا ، واہ ، کتنی خوبصورت شکل اور رنگ ہے۔

    پارک انتظامیہ کے مطابق یہاں آنے والوں کو جو کچھ ملتا وہ اس کے مالک ہوتے ہیں 1906 سے اب تک اس پارک سے75ہزار سے زائد ہیرے مل چکے ہیں اس پارک میں آنے والے کچھ لوگوں کو کبھی کچھ نہیں ملتا لیکن نورین ویریڈ کو ایک گھنٹے میں ہی ہیرا مل گیا۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    انتظامیہ نے اس سال 258 ہیرے رجسٹرڈ کیے جو اس پارک سے مختلف لوگوں کو ملے ہیں۔ یوم مزدور2020 پر ، ایک آدمی کو 9.07 قیراط کا ہیرا ملا جو اب تک کا دوسرا بڑا ہیرا تھا۔

    پارک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نورین اور مائیکل کے آنے سے قبل بارش ہوئی تھی لیکن جس دن وہ پارک آئے اس دن سورج نکلا ہوا تھا بارش سے ہیرے کے اوپر سے مٹی وغیرہ ہٹ گئی اور سورج کی کرنیں پڑنے سے وہ کافی زیادہ چمک رہا تھا یہ واضح نہیں ہے کہ ہیرے کی قیمت کیا ہے۔

    یہ911 ایکڑ پر محیط پارک امریکی ریاست آرکنساس کی پائیک کاؤنٹی میں ہے یہ پارک دنیا میں واحد مقام ہے جہاں سے ہیرے ملتے ہیں اور عام عوام کو یہاں جانے کی اجازت ہے۔

    دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

  • ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ترکی میں کھدائی کے دوران 11ہزار سال پرانے انسانی اجسام اور سروں کے نقش ونگار ملے ہیں جن میں سے بعض تھری ڈی مجمسے ہیں۔

    با غی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق سے اس دور کے انسانوں کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کھدائی کی جگہ سے 250 سے زائد پتھروں پر نقش و نگاری کے نمونے ملے ہیں۔پتھروں پر جانوروں کے اجسام کی نقوش بنائے گئے ہیں ساتھ ہی انسانی مجسمے بھی ملے ہیں۔

    یہ دریافت ترکی کے جنوب مشرقی صوبے کے علاقےکرہانٹائپ میں کی گئی ہے اس علاقے کو ‘ٹا ٹیپیلر’ کا نام بھی دیا جاتا ہے، جس کا مطلب پتھر کی پہاڑی ہے ، جو 124 میل (200 کلومیٹر) کے رقبے پر محیط ہے۔

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    یہ علاقہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ والی جگہ گوبکلی ٹیپے کےساتھ ہے گوبکلی ٹیپے 10 ویں صدی قبل مسیح سے متعلق میگالیتھک ڈھانچے کا گھر ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین مندر ہے۔

    اس جگہ پر کھدائی کا کام سب سے پہلے 2019 میں شروع ہوا اور اس کے نتیجے میں 75 فٹ قطر والی عمارت کی دریافت بھی ہوئی عمارت میں ایک بڑا بیڈروک بھی تراشا گیا ہے اور اس کی گہرائی 18 فٹ تک ہے ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کی مدد سے بنایا گیا تھا۔

    کھدائی کے سربراہ پروفیسر نیکمی کرول نے بتایا ہے کہ ملنے والی نوادرات قدیم گوبکلی ٹیپے سائٹ سے دریافت ہونے والی چیزوں سے ملتی جلتی ہیں جو اسٹون ہینج سے 6000 سال قبل تاریخی لوگوں نے تعمیر کی تھیں۔

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    کرول نے کہا کہ ان میں انسانوں کے سروں سمیت کئی تھری ڈی مجسمے اور انسانی نقش ہیں ایک خاص طور پر متاثر کن مجسمے میں ایک انسان کو دکھایا گیا ہے کہ وہ تیندوے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا رہا ہے جبکہ حملہ آور پوزیشن میں جانوروں کی نقش و نگار بھی پائی گئی ہیں-

    ماہرین کے مطابق مجسموں اور پتھروں پر موجود نقش و نگار سے پتہ چلتا ہے اس دور میں انسان کی فنکارانہ صلاحیتیں مضبوط تھیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    اس سے قبل سعودی عرب میں اونٹوں اور گھوڑوں کے چٹانوں پر کندہ تقریباً 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت ہوئے تھے منبت کاری کے 21 نمونے دریافت کیے گئے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ان کی سنگ تراشی کوئی زیادہ پرانی نہیں ان نقش و نگار کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں کافی پرانے ہیں۔

    ابتدائی طورپر 2018 میں اردن میں بطرا میں دریافت شدہ آرٹ ورک سے مماثلت کی بناپریہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ یہ قریباً 2000 سال پرانے ہوسکتے ہیں لیکن سعودی اور یورپی اداروں کی نئی تحقیق میں مختلف طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سنگ تراشی کے آلات کے نشانات (ٹول مارکس) اور کٹاؤ کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ایکسرے ٹیکنالوجی کا تجزیہ بھی شامل ہےاس سے پتا چلتا ہے کہ منبت کاری کے یہ آثار قریباً 7000 سے 8000 سال پرانے ہیں۔

  • دوسرا ادھورا خط تحریر محمّد اسحاق بیگ ۔

    دوسرا ادھورا خط تحریر محمّد اسحاق بیگ ۔

    ‏28-01-95)
    بچپن کی محبت کو دل سے نہ جدا کرنا

    جب یاد میری آے ملنے کی دعا کرنا 

    ڈںیر نعیم!

    صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے 

    یونہی زندگی تمام ہوتی ہے۔

    جب چلنے پھرنے کے قابل ہوۓ تو اس وقت دل میں کوئی خواہش نہ ہوئی تھی سواۓ اس کے کہ کوئی ہمیں اُٹھا کر چلے، کوئی گود میں بٹھائے، کوئی سینے سے لگائے،کوئی ٹافی کھلاۓ تو کوئی دوسری قسم کی مٹھائیاں۔اُس وقت ہماری  تمام تر خواہشات بس اسی حد تک محدود تھی۔آہستہ آہستہ بڑے ہوتے گئے اسکول و مسجد جانے لگے۔ پڑھائی سب سے مصیبت زدہ چیز بن کر سامنے آئی۔کبھی قرآن کا پڑھنا کبھی اسکول کی پڑھائی اوپر سے گھر آ کر ابو کی علیحدہ ٹٹیوشن۔ان سب چیزوں سے اتنا ڈرتا تھا کہ اکثر گھر سے میں باہر رہتا تھا۔کبھی ایک چھت پر،اور کبھی دوسری چھت پر،کبھی ایک درخت کے نیچے سے اوپر پتھر برسا رہے ہوتے تھے تو کبھی دوسرے درخت کے نیچے سے،کبھی ایک گندے نالے میں سیومینگ سے لطف اندوز ہوتے تو کبھی دوسرے گڑ لائن  کے نالے میں اُسوقت کی خواہشات بس اس حد تک محدود ہوتی تھی کہ کوئی پڑھائی شڑھائ کے متعلق کچھ نہ کچھ پوچھے۔مگر پھر بھی پ پٹتے تھے یہ مسلہ اب تک حل نہ ہو سکا۔نیوی جوائن کی تھی کہ پڑھائی سے جان چھٹ جاۓ مگر پتہ چلا کہ صرف اور صرف پڑھائی ہے۔

    "بارش سے پجتے تھے،پر نالے کے نیچے رات آئی”

    جو کہ میرے لئے وہاں جان بنی ہوئی ہے۔اگر بچپن میں کچھ پڑھا ہوتا تو آج اتنی مصیبت  نہ ہوتی اسی لیے دوست یہی وقت ہے کہ کچھ کریں ورنہ کل بڑھاپے میں جب پچھتاوا  ہوگا تو یہی کہیں گے کہ کاش جوانی میں ایسا کر لیا ہوتا۔اس لیے جو کرنا ہے آج کر لو۔خوب مطالعہ  کرو،خوب پڑھو فضول انسانوں اور قصے کہانیوں سے کچھ نہیں بنے گا۔کیونکہ میں نے دیکھ لیا ہے کہ پڑھائی کے بغیر کوئی  چارہ نہیں اس لیے میں نے بھی پڑھنا شروع کر دیا ہے۔

    کارساز میں میری افسری  اچھی جارہی ہے طیب عدل، احمد حفیظ  ،آصف عزیز ،عزیز لعال اور اس قسم کے بہت سارے دوست یہاں ہیلپر   ہیں ہر طرف سے سلیوٹ پڑتے ہیں رعب ودبدباھے کبھی کبھار کارساز کے پارک وغیرہ کی طرف بھی چلا جاتا ہوں خوب یاد کرتا ہوں اپنے بچپن کے دنوں کو کھیلنا کودنا اور لڑنا ،جھگڑنا ،بھاگنا، نہانا ،بارشوں میں وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

    اچھا جی خط میں کبھی کوئی کام کی بات بھی لکھ لیا کرو بس فضول باتیں لکھی ہیں تم نے ۔

    ہوئی آنکھ نم اور یہ دل بھر آیا 

    آج وہ ساتھی کوئی بھولا یاد آگیا 

    (30-01-95) 

    اس وقت کلاس میں انسٹرکٹر  پڑھا رہا تھا اور مجھے نیند آگئی تھی اوپر کا یہ شعر میں نے نیند میں لکھا ہے اپنی اتنی پیاری لکھائی میں لکھا۔ اچھا جی ۔توصیف سے ملاقات ہوئی تھی تمہارے خط کی اس نے بھی تعریف کی ۔یار نعیم  یہ غم نم چھوڑو ،خوشی دیکھا کرو ،مت اتنا سوچو اپنے آپ کو شاعر نہ بناؤ ،دیوانہ نہ بناؤ،  اپنے آپ کو اپنا  اور اپنے ماں باپ کا بناؤ۔تمہارے گھر والوں کو تمہاری بے حد ضرورت ہے۔باقی اور کوئی خاص بات تو ہے نہیں کہ لکھوں تمہاری طرح ادھر ادھر کی جھڑ جھڑ لکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے اور نہ ہی اب میرا موڈ کرتا ہے اس قسم کی باتیں کرنے کو.یہ فلسفیانہ باتیں کرنے کو اب جی بھی نہیں چاہتا اور نہ ہی اب کی جاتیں ہیں۔

    اچھا جی اب آتے  ہیں  ادھر ادھر  کی باتوں پر  میری بہن ۔۔۔۔۔کی شادی میرے فرسٹ کزن سے ہو گئی ہے اور میری منگنی اگلے سال ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔کی بھی بات تقریبا  ہوگئی ہے۔اب تم سناؤ تمہارا کیا بنا اور شادی کا کیا ہوا؟ اس کی شادی وغیرہ  کب کر رہے ہو   اللہ خیر خیریت سے کرے آمین۔

    آنٹی کیسی ہیں اللہ انہیں بھی صحت مند رکھے آمین ۔

    (25-04-95)

    ڈیر نعیم  یہی وہ خط ہے جو میں نے تمہیں تین چار مہینے پہلے لکھنا شروع کیا تھا لیکن اب جا کر بھیج رہا ہوں کیوں کہ جب اسے میں نے بھیجنا چاہتا تھا تو تب تم ادھر ہوتے تھے۔بہرحال اب فرصت ملی ہے تو پھر لکھنے بیٹھ گیا ہو کراچی میں ویسے تو ہمیں  کچھ کام نہیں ہوتا لیکن پھر بھی بڑے مصروف مصروف سے لگتے  ہیں۔کیوں کہ دوپہر کو بھی سوتے ہیں اور رات کو بھی اور کلاس روم میں بھی۔اس لیے ٹائم نہیں ہوتا ہمارے پاس کچھ نہ کرنے کو۔

    اچھا جی نئی تازہ بات یہ ہے کہ شاید ہم میں میرے علاوہ گھر والے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے  پشاور شفٹ ہو جائیں کیونکہ ابو ہوگئے ہیں ریٹائر  اس لیے ان کا ارادہ اپنی زمین وغیرہ کی دیکھ بھال کا ہے تو دیکھو کے ابھی کیا پروگرام بناتے ہیں زاہد بنگلہ دیش سے سری لنکا گیا اور اب تیس اپریل کے بعد ھی پاکستان آئے گا انشاءاللہ۔خالد  خیریت سے ہے فون  وغیرہ تو آتے رہتے ہیں۔اور کوئی نئی تازہ بات نہیں ہے کہ تحریر کرو خوش رہا کرو۔شم نا کیا  کرو نماز پڑھا کرو اور اللہ کا شکر کیا کرو پاک صاف فریش رہا کرو سوچ بچار نہ کیا کرو صبح صبح چیل قدمی کیا کرو اور کوشش کیا کرو کہ رات کو ٹائم سویا کرو۔

    اوکے اب اجازت ہے 

    وسلام تمہارا دوست 

    محمّد اسحاق بیگ ۔

    توڑ دے ہر اک آس کی ڈوری, آنسوؤں میں کیا رکھا ہے۔

    عشق محبت باتیں ہیں بس، باتوں میں کیا رکھا ہے۔

    قسمت میں جو لکھا ہے، وہ آخر ہو کر رہنا ہے۔

    چند لکیریں الجھی سی،اور ہاتھوں میں کیا رکھا ہے۔

    ‎@Ishaqbaig___

  • میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 23 سے زیادہ اقسام کے پرندے، مچھلیاں اور دوسرے جنگلی جانوروں کی نسلیں اب دنیا سے غائب چکی ہیں تاہم ان میں ایک یا دو کا دوبارہ ظہور ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :ہدہد کا شمار خوبصورت پرندوں میں کیا جاتا ہے۔ خوشنما رنگوں اور لمبی چونچ والا یہ پرندہ شمالی میکسیکو میں پایا جاتا تھا، جسے اپنے حجم کے لحاظ سے دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ہدہد کا درجہ حاصل تھا جنگلوں میں بسیرا کرنے والے اس پرندے کی نسل کو اسی وقت خطرہ لاحق ہو گیا تھا جب بڑے پیمانے پر جنگلوں کی کٹائی شروع ہوئی تھی۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

    جنگلی حیات کے عہدے داروں نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ سن 1944 کے بعد سے ہدہد کے دیکھے جانے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے بہت کوششوں کے باوجود وہ ان 23 نسلوں کے جانداروں کو ڈھونڈنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور اب وہ برسوں سے کہیں بھی دیکھے نہیں گئے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان نسلوں کی معدومی میں آب و ہوا کی تبدیلی کا بڑا حصہ ہے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آب و ہوا کی تبدیلی کے عمل کو روکنے کے جلد اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو جنگلی حیات کی نسلوں کا دنیا سے خاتمہ ایک معمول بن جائے گا-

    اس وقت دنیا بھر میں جنگلی حیات کی تقریباً 902 اقسام ایسی ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ معدوم ہونے والی ہیں کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ معدوم ہونے والی نسلوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    رپورٹ کے مطابق جنگلی حیات کی 23 نسلوں کے دنیا سے مٹ جانے کا اعلان اس لیے کیا گیا ہے، کیونکہ ان جانوروں کی صورت حال کی تبدیلی سے متعلق سفارشات کئی برسوں سے التوا میں پڑی ہوئی تھیں اور ان پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ان میں سے کسی بھی نسل کی بحالی کا حقیقی امکان پیدا ہوا تو ان کے تحفظ کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

    بہت سے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہمارا کرہ ارض معدومی کے بحران سے گزر رہا ہے تاریخی اعتبار سے معدومی کی یہ شرح ماضی کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے انسان ہی نہیں جانور بھی متاثر ہوتے ہیں امریکی ساِنسی جریدے کی جانب سے نئی تحقیق کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیاتھا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا تھا کہ چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

    انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی…