Baaghi TV

Category: متفرق

  • 18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    مرغیاں پالنا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے انڈوں سے بچے حاصل کرنا ایک دلچسپ مشغلہ ہے تاہم 18 ہزار سال پہلے ایسا نہیں تھا قدیم انسان دنیا کا سب سے خطرناک پرندہ پالتے تھے-

    باغی ٹی وی :امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ 18 ہزار سال پہلے نیو گنی میں رہنے والے انسان عام مرغیوں کی بجائے 6 فٹ قد کے جان لیوا پرندے کیسووری پالتے تھے کیسووری کو پرندوں کا ڈائنوسار بھی کہا جاتا ہے-

    کیسووری اپنی مضبوط اور تیز چونچ، انسانی ہاتھ جتنے بڑے اور تیز دھار ناخنوں والے پنجے اور غصیلی طبیعت کی وجہ سے کیسووی کو دنیا کا سب سے خطرناک پرندہ کہا جاتا ہے ایک بالغ کیسووری کا وزن 60 کلو تک ہو سکتا ہے 2019 میں فلوریڈا میں کیسووری کے حملے میں ایک شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

    پنسلوینیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے نیوگنی میں کیسووری کے 18 ہزار سال پرانے انڈوں کے خول کا معائنہ کیا ہے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ بہت سے انڈوں کے خول ایسے تھے جن سے یہ اندازہ لگانے میں آسانی ہوئی کہ انسانوں نے انہیں انڈوں سے بچے پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا ان پرندوں کو پال کر بڑا کرنے کے بعد ان کے خوبصورت پروں اور گوشت کے لیے انہیں مار دیا جاتا تھا۔

    کیسووری کا شمار ایمو اور شترمرغ کی طرح بڑے پرندوں میں کیا جاتا ہے ایمو اور شترمرغ کی طرح یہ بھی پرواز کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لمبی ٹانگوں کے سبب یہ انسان کے مقابلے میں تیز رفتاری سے دوڑ سکتے ہیں۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    واضح رہے کہ ماہرین نے مراکش سے ڈائنو سار کی نئی نسل کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت کیا تھا نیچرل ہسٹری میوزیم کے محققین نے مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں عجیب فوسل پایا تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فوسل بکتر بند سپائک ڈائنوسار کی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے یہ 168 ملین سال پرانا ایک غیر معمولی قدیم ترین اینکلوسار نمونہ ہے۔

    یہ دلچسپ دریافت مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں اسی مقام پر کی گئی جہاں لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم) کے محققین نے پہلے پایا جانے والا قدیم ترین سٹیگوسور دریافت کیاتھا۔

    چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا کر لیا

  • تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    اس وقت دُنیا تقریباً دو گروپس میں تقسیم ہو چُکی ہے
    گروپ 1 میں چین روس پاکستان اور ان کے اتحادی جبکہ گروپ 2 میں امریکہ اسرائیل اور ان کے اتحادی ہیں۔ امریکہ نے چین کو ساؤتھ چائنہ سی میں گھیرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
    اور ساؤتھ چائنہ سی کے اردگرد موجود تمام ممالک (جاپان, فلپائن, تائیوان, ہانگ کانگ, ساؤتھ کوریا, ویت نام, ملائیشیاء, انڈونیشیاء, برونائی, اور آسٹریلیا ) کو چائنہ کے خلاف اُکسانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔اور یہاں اپنے ڈیسٹرائیرز اور ایئر کرافٹ کیریئر لے کر آگیا ہے۔اور بھارت کو کہا ہے کہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا کو چین کے بحری جہازوں کے لیے بند کردے۔ یاد رہے آبنائے ملاکا کے ذریعے چائنہ کی زیادہ تر تجارت ہوتی ہے اور چین کا 80% تیل اسی راستے سے گُزرتا ہے,اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو بدلے میں چین کے پاس صرف گوادر بچتا ہے اپنی تجارت کے لیے۔جو کہ "پاکستان” کے لیے بہت ہی خوش آئند بات ہے

    جواب میں چین نے بھی پالیسی بنا لی ہے اگر بھارت آبنائے ملاکا بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کر کے سلی گُڑی کوری ڈورجو کہ بھارت کی سات ریاستوں(آسام, ناگالینڈ ,اروناچل پردیش, میگہالیہ, میزورام ,منی پور , تری پور) کو باقی بھارت سے ملاتا ہے, اس پر قبضہ کرکے ان سب کو بھارت سے علیدہ کردے گا۔اور بھارت بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے, اس لیے کافی حد تک خاموش ہے۔ اب بھارت نے تبت کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اور دلائی لامہ کو پوری دنیا میں لیکر جائے گا۔ا ور اقوام متحدہ سمیت ہر جگہ پشت پناہی کرے گا۔ نتیجے میں چین نے بھی کشمیر کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    اور ہر صورت کشمیر کی آزادی کے لیے کام کرے گا اور یہ بات بھی "پاکستان” کے لیے ہی خوش آئند ہے۔دوسری طرف چین ایران کو بھی بھارت کی گود سے نکال لایا۔اور اب ایران بھی کُھل کر بھارت کے خلاف میدان میں آرہا ہے۔ اب صرف عرب ممالک کا فیصلہ باقی ہے۔ چین نے سعودی عرب اور باقی ممالک کو تیل کی تجارت ڈالر میں کرنے کی بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں کرنے کی آفر کی ہے یہ امریکی ڈالر کو بدترین دھچکا ہوگا۔

    امریکہ کا بھی عرب ممالک پر بھرپور دباؤ ہے اگر سعودی عرب چین کے بلاک میں آنے کی بجائےامریکہ دباؤ پر گُھٹنے ٹیک دیتا ہے تو چین سعودی عرب کی بجائے ایران اور روس سے تیل خریدنا شروع کردے گا۔چین سعودی عرب سے 40 ارب ڈالرز کا تیل خریدتا ہے۔ اور ایران پہلے ہی چین کو آدھی قیمت پر تیل دینے کی آفر کر چُکا ہے۔ عرب ممالک پر بہت ہی کڑا وقت ہے لیکن امریکہ اپنے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کو ڈستا ہے۔ اور چین اپنے دوستوں کو ساتھ لیکر چلتا ہے۔ باقی فیصلہ محمد بن سلمان کے صوابدید ہے۔

    اسرائیل کی کوشش ہے کہ خود جنگ میں نہ کودےاور امریکہ ,بھارت اور اتحادیوں کے ذریعے چائنہ کو شکست دے۔ بالکل وہی پالیسی جو پہلی جنگِ عظیم میں امریکہ کی تھی جب روس برطانیہ اور فرانس بمقابلہ جرمنی آسٹریا ہنگری اور سلطنتِ عثمانیہ تھے اور امریکہ پہلے 3 سال تک دونوں کو اسلحہ اور خوراک فروخت کر کے خوب پیسے کماتا رہا اور آخری سال جب روس انقلاب کے بعد جنگ سے باہر ہوا اور دونوں فریقین بہت زیادہ کمزور ہو چُکے تھے تو اعلانِ جنگ کر دیا اور اسی طرح جنگ جیت گیا۔

    اب اسرائیل کی بھی وہی پالیسی ہے جب امریکہ بھارت , چین روس اور پاکستان آپس میں لڑ کر بے حد کمزور ہو چُکے ہونگے تو اُس وقت جنگ میں شامل ہو گا اور بغیر زیادہ محنت کہ جنگ جیت کر سُپر پاور کی سیٹ پر بیٹھ جائے امریکہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خود جنگ میں نہیں کودنا چاہتا بلکہ بھارت اور دوسرے ممالک کا کندھا استعمال کر کے جنگ جیتنا چاہتا ہے لیکن اسرائیل یہ ہونے نہیں دے گا۔

    یہودیوں کی خفیہ تنظیمیں پہلے ہی رپورٹ دے چُکیں,اور کہہ چُکیں کہ چائنہ امریکہ کو شکست دے گااور اسرائیل چائنہ کو شکست دے کر دُنیا کا تاج اپنے سر سجائے گا ان صورتوں میں پاکستان کے لیے بھی بہت کڑے امتحانات ہیں۔ ملکی حالات کے پیشِ نظر پاک فوج اور ریاستی اداروں کی بھرپور کوشش ہے کہ فلحال اس جنگ کو تھوڑا دور دھکیلا جائے تاکہ ملک کے حالات تھوڑے قابو میں آسکیں۔ دشمنان اسلام تو پاکستان کو جتنی جلدی ممکن ہو اس جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ اسلامی دُنیا کی واحد ڈھال اسلامی دُنیا کے واحد حصار پاکستان کو توڑا جائے۔ اگر آج پاکستان مضبوط اور ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو شاید ہی کوئی اسلامی ملک اس وقت دُنیا کی نقشے پر موجود ہوتا۔ پاکستانی قوم کو چاہیے کہ اپنی ریاست اور فوج پر بھروسہ رکھیں اور ہر صورت ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق

    چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق


    آج پاکستان کو بہت سے سماجی مسائل کا سامنا ہے لیکن کچھ پاکستان میں بہت عام ہیں جو ہمارے معاشرے اور پاکستان کی معیشت کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کرپشن ، غربت ، ناخواندگی ، آبادی میں اضافہ ، دہشت گردی ، اسمگلنگ ، منشیات کا استعمال ، وغیرہ
    کرپشن کے علاوہ اور بھی بڑے مسائل ہیں جن پر ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔ چائلڈ لیبر ہمارے معاشرے کی بدترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔اس معاشرے کے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔

    بچے کائنات کے وہ پھول ہیں جس سے کائنات کا حسن قائم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ پھول گلیوں، سڑکوں کی دھول بن گئے ہیں۔ چائلڈ لیبر نے ان معصوم پھولوں کو روند دیا ہے
    بچے بلاشبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ملک کا مستقبل موجودہ بچوں پر منحصر ہے۔ اگر بچوں کو صحیح طریقے سے تیار نہیں کیا گیا تو ملک کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔ یہ بچے سکول جانے اور کھیلنے کی عمر میں اپنے خاندانوں کی بقاء اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    چائلڈ لیبر پوری دنیا میں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے لیکن پاکستان کی طرح تیسری دنیا کے ممالک میں یہ خطرناک سطح تک بڑھ گیا ہے۔ یہ بین الاقوامی مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کام کرنے پر مجبور ہے جو کہ مکمل طور پر قانون کے خلاف ہے۔ یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں 5 سے 15 سال کے تقریبا 158 ملین بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
    پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے-پاکستان میں 5-15 سے کم عمر کے بچے 40 ملین سے زیادہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق 2.7 ملین بچے زراعت کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 73 فیصد لڑکے اور باقی لڑکیاں ہیں۔
    چائلڈ لیبر کی ایک بنیادی وجہ غربت ہے جو ان بچوں کو مزدوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ جو بچے تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ سیکھنے کے بجائے کمانے کے پابند ہیں تاکہ ان کے خاندان کے تمام افراد کا پیٹ بھر جائے۔ یہ بچے دن بھر پیسے کمانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں تھوڑی سی رقم ملتی ہے جو بمشکل اپنے خاندان کے اخراجات کو پورا کرتی ہے۔
    ایک اور اہم وجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے جس نے کئی خاندانوں کو خط غربت سے نیچے گھسیٹا ہے۔ بیروزگاری کی وجہ سے والدین کی یہ مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فیکٹریوں ، دوکانوں ، یہاں تک کہ سڑکوں پر اشیاء فروخت کرنے پر مجبور کریں۔ چائلڈ لیبر کے بہت سے معاملات ہیں جہاں بچے کو قرض کی ادائیگی کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے جو اس کے والد نے لیا تھا

    دیہات میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان ہے اور بچوں کی بڑی تعداد ہے۔ بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنے بچوں کو کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لہذا ان کے پاس کام کرنے اور اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے تھوڑی سی رقم کمانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ وہ بچوں کو اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور وہ انھیں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں جیسے گاڑیاں کھینچنا ، مشینیں مرمت کرنا ، فیکٹریوں میں کام کرنا ، سامان بیچنا وغیرہ۔
    بچے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے بچپن سے اس پیشے میں تربیت دی جاتی ہے جس پر خاندان صدیوں سے چل رہا ہے۔ اس لیے وہ پرائمری تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی وجہ سے مزدوروں ، کاریگروں وغیرہ کے بچے بہت چھوٹی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش کو ناخواندگی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ نچلے طبقے کے لوگ زیادہ تر ان پڑھ ہیں ، اس لیے ان پڑھ والدین کے لیے اپنے بچوں کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا مشکل ہے۔
    ان میں سے بیشتر والدین صرف اس وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے
    بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں چائلڈ لیبر اپنے عروج پر ہے۔ چائلڈ لیبر کے فروغ کی ایک اور اہم وجہ چائلڈ لیبر کو روکنے کے قوانین پر حکومت کی ناکامی ہے جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے. چائلڈ لیبر ایک بچے کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کرتی ہے۔ ہمیں شعور بیدار کرنا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔

    چائلڈ لیبر کا مسئلہ قوم کے سامنے ایک چیلنج ہے۔ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف حامی اقدامات کر رہی ہے۔ چائلڈ لیبر بنیادی طور پر ایک سماجی و معاشی مسئلہ ہے جو کہ غربت اور ناخواندگی سے جڑا ہوا ہے ، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پورے معاشرے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ بچوں سے جبری مشقت نہ لیں اور جتنا ممکن ہو اُنکی مدد کریں
    چائلڈ لیبر کی معاشرتی برائی کو قابو میں لایا جا سکتا ہے ، ۔ ہر شہری کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ہم ایک بہتر اور ترقی یافتہ پاکستان بنا سکیں۔ چائلڈ لیبر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اگر حکومت عوام کے تعاون سے مؤثر طریقے سے کام کرتی رہے تو انشا اللہ پاکستان ایک دن اس معاشرتی ناسور سے چھٹکارا حاصل کر لے گا

    ‎@SmPTI31

  • بے حسی کی بیماری   تحریر : شاہ زیب

    بے حسی کی بیماری تحریر : شاہ زیب

    ایک وقت تھا ہر چیز سانجھی ہوتی تھی۔ کسی محلے کے کسی گھر میں ایک فرد کو تکلیف ہوتی تھی تو سب کو اس کی فکر ہوتی تھی اور اگر کسی کے گھر میں کوئی  مسئلہ ہوتا تو لوگ اپنا مسئلہ سمجھ کر نہ صرف ان لوگوں کو تسلی دیتے تھے بلکہ اس مسئلے کے حل میں مدد بھی کرتے تھے، کسی دوسرے کے گھر کی خوشی کو لوگ اپنی خوشی سمجھتے تھے، اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے گویا تمام لوگ آپس میں اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ ام کی خوشیاں اور پریشانیاں بھی مشترکہ ہوتی تھیں۔۔۔

    اس کے برعکس آج کا جدید دور جہاں ساتھ ہمسائے کو ہمسائے کی خبر نہیں۔ کسی ایک گھر میں کھانا ضائع ہو رہا تو ساتھ گھر میں بچے بھوکے سو رہے ہم ماڈرن بننے کے چکروں میں بے حس ہوتے جا رہے (آسان لفظوں میں انسانیت بھول بیٹھے ) پرائیویسی کے نام پر لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    ماڈرن ازم اور پرائویسی کے نام پر بے حس بننے سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوا جس سے ہماری روایات دَم توڑ گئیں، وہ خوبصورت روایات جس میں اہل محلہ ہی خاندان تصور ہوتے تھے سب مل جل کر رہتے تھے ہر طرف امن اور پیار محبت کی فضا تھی بدقسمتی سے اب ایسی روایات ڈھونڈنے پر بھی نظر نہیں آتیں اور لوگ ان چکروں میں ایکدوسرے سے دور ہوتے جارہے کسی کو ایک دوسرے کی فکر نہیں سب کو اپنی زات کی فکر ہے،

    یقین کریں آج ہمارے سامنے کوئی انجان شخص حادثے کا شکار ہوجائے تو بجائے اس کی مدد کرنے کے ہم لوگ اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی جان بچانے کی بجائے ہم  لائک کی فکر لاحق ہوتی ہے سامنے والی پریشانیاں ہمارے لیے محض کچھ نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈرامہ ہوتا ہے، جسے دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیر کرنا فرض سمجھتے۔۔!!

    بے حسی اور نفسا نفسی کا یہ عالم دیکھ کر بوڑھے والدین جو ساری عمر محنت مشقت کر کے اس قابل بناتے اب اس دور میں انکو بوجھ سمجھا جانے لگا جس سے بچے جلد از جلد چھٹکارا پانے کے لیے انکو اولڈ ایج ہوم بھیج دیتے۔۔

    ہمارے میڈیا میں دن رات ایسے واقعات اور حالات دکھائے جاتے معاشرتی بے حسی کے واقعات دیکھ کر روح کانپ اٹھتی کہ انسانیت کہا غائب ہو کر رہ گئی

    ہماری مشرقی اقدار اور اسلامی روایات سے دوری کی وجہ سے آج ہم اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہیں۔ 

    کسی دوسرے کو تبلیغ کرنے اور سمجھانے سے پہلے ہمیں خود سمجھنے کی ضرورت ہے، ہم ذاتی طور پر ٹھیک ہونگے تو معاشرہ بھی ٹھیک ہوگا۔

    ہم آج اپنی بے حسی ختم کریں گے تو ایک نہ ایک دن یہ معاشرہ جس میں ہم سب رہتے ہیں اس کی بے حسی بھی ختم ہوجائے گی اور لوگ ویسے ہی ایک دوسرے کی دکھ سکھ تکلیفوں کو اپنی سمجھیں گے جس طرح پہلے سمجھتے تھے۔۔شکریہ

    @shahzeb___

  • مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

    مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

    برطانیہ میں پالتو مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ کر دئیے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بلیو بیل نامی مچھلی کو برطانوی شہری نے اپنے گھر میں پال رکھا تھا جس کی عمر تقریباً 17 برس ہے مچھلی کے منہ میں گوشت کا لوتھڑا بن رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہو رہی تھی وہ اسے مچھلیوں کی بہترین سرجن کے پاس لے کر آیا۔ سرجن نے اپنی ٹیم کے ساتھ مچھلی کا آپریشن کیا جو ایک غیرمعمولی مشکل کام تھا جس پر خطیر رقم خرچ کی گئی۔

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    مچھلی کے منہ میں بننے والا لوتھڑا یہاں تک بڑھ گیا تھا کہ مچھلی خود کھانے سے قاصر تھی اور اس کا مالک اپنے ہاتھوں سے اسے غذا دے رہا تھا ڈاکٹر ہانا کی زندگی کا یہ دوسرا پیچیدہ ترین آپریشن بھی تھا جس میں مچھلی کو سلایا گیا اور آپریشن کے بعد اٹھایا گیا –

    مچھلی کو بے ہوش کرنے کے لیے خاص طریقہ کا خواب آور کیمیکل دیا گیا اور یہی سب سے مشکل مرحلہ بھی تھا پہلے اسے خاص انیستھیسیا والے محلول میں ڈبویا گیا جہاں مچھلی پر غنودگی چھائی رہی اورآپریشن میں اس پر مسلسل پانی ڈال کر اسے گیلا رکھا گیا جس میں ایک گھنٹہ لگا آپریشن سے لوتھڑا نکالنے میں کل 20 منٹ صرف ہوئے اس کے بعد زخم پر دوا لگائی اور درد کش دوا بھی دی اب گولڈ فِش مکمل طور پرتندرست ہے اور خوش وخرم زندگی گزار رہی ہے۔

    برطانوی شہری نے مچھلی کے علاج پر 300 برطانوی پاؤنڈز خرچ کر دیئے جو تقریبا 70 ہزار پاکستانی بنتے ہیں۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

  • منشیات: نسل انسانی کو لاحق ایک بڑا خطرہ تحریر: حسن ساجد

    منشیات: نسل انسانی کو لاحق ایک بڑا خطرہ تحریر: حسن ساجد

    *
    اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا فرمایا۔ اللہ پاک نے انسان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی ضروریات کی تسکین کا اہتمام فرمایا۔ اللہ رب العزت نے انسان کو عقل و شکل عطا فرمائی. اللہ پاک نے انسان کو جن وجوہات کی بنا پر باقی مخلوقات پر فوقیت بخشی ہے وہ عقل، شعور، فہم و فراست، قوت فیصلہ اور ضمیر ہیں۔ انسان اپنی انہی خوبیوں کے استعمال سے خیر و شر میں تمیز کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے لیے رستے کا انتخاب کرتا ہے۔ اللہ پاک نے انسان کو جن چیزوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے ان میں ایمان، جان اور عقل کی حفاظت سرفہرست ہیں۔ اللہ پاک نے انسان کو عقل، فہم و فراست اور فکر و نظر کی حفاظت کی تاکید فرماتا ہے لہذا اسی حفاظت کے پیش نظر اللہ رب العزت نے انسان کو اس کی عقل کے بدترین دشمن نشہ کے استعمال سے نہ صرف سختی سے نہ صرف منع فرمایا ہے بلکہ اسے حرام اور ناپاک عمل قرار دیا ہے۔ دین فطرت، دین اسلام کا ہر حکم میں انسانیت کی فلاح و بہبود پر مبنی ہے لہذا اسلام میں نسل انسانی کے لیے نشے کو حرام قرار دیا جانا کسی صورت بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اور نشہ آور اشیاء کے استعمال سے ممانعت کی حکمت خود اللہ پاک نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے۔ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
    ترجمہ: "اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاو۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے۔”
    آیت مبارکہ میں نشے کے نسل انسانی کو لاحق بڑے خطرات کا ذکر بہت جامع اور مختصر انداز میں کیا گیا ہے اور اس آیت مبارکہ کی تفسیر کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نشہ نسل انسانی کو لاحق ایک ایسا خطرہ ہے جو انسان کو ذہنی، جسمانی، روحانی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی الغرض ہر لحاظ سے تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔
    منشیات کے استعمال کے بے شمار نقصانات ہیں اور سب سے بڑا خطرہ آپ کی قیمتی جان کے ضیاع کا ہے۔ نشے کی عادت ہلکی نشہ آور شے کے استعمال یا محض سگریٹ نوشی سے شروع ہوتی ہے مگر وقت کے ساتھ طلب کے پیش نظر منشیات کے عادی اس مقدار میں اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ یعنی یوں کہہ لیں کہ نشے کے سفر کا آغاز سگریٹ، پان، بیڑی یا نسوار وغیرہ سے ہوتا ہے جو بڑھتے بڑھتے چرس، افیون، ہیروئن، آئس، کوکین اور انجیکشنز تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سفر تک نشہ انسانی جسم میں اس قدر زہر بھر دیتا ہے جو اسے موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔ یوں زندگی کی تسکین کا سفر زندگی کے بدترین انجام پر اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔
    نشے کے عادی افراد کی صحت و تندرستی کی صورتحال انتہائی نازک مراحل سے گزر رہی ہوتی ہے۔ ان کا مدافعتی نظام بیماریوں سے لڑنے کی بلکل بھی اہلیت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے عادی شوگر، بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس، ہائپرٹینشن، کینسر اور امراض قلب جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ صحت و تندرستی کی نازک صورت حال نشہ کا نسل انسانی کو لاحق دوسرا بڑا خطرہ ہے۔
    عقل اور شعور وہ کسوٹی ہے جس کی بنیاد پر انسان کو باقی تمام مخلوقات پر فضیلت عطا کی گئی ہے نشہ عقل انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ نشہ انسانی دماغ کو ماوف کردیتا ہے اور وہ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد عقل اور شعور سے خالی ہوتے ہیں وہ اپنا اور اپنے خاندانوں کا برا بھلا سوچنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ چونکہ نشہ کے عادی سوچنے سمجھنے اور خیر و شر میں تمیز کرنے سے قاصر ہوتے ہیں لہذا وہ اخلاقی طور پر انتہائی کمزور اور بدکردار ہوتے ہیں۔ نشہ کرنے کی وجہ سے وہ تمدنی و ثقافتی روایات، اصول معاشرت اور اخلاقیات مکمل طور پر بھلا دیتے ہیں۔ منشیات کے عادی مختلف معاشرتی خرافات جیسا کہ چوری، ڈکیتی، جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی اور زنا وغیرہ کا شکار ہوکر معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ کے طور ابھرتے ہیں جن کی بدولت پورا معاشرہ تعفن آلود ہو جاتا ہے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ عام انسانوں کی نسبت منشیات کے عادی افراد میں گالم گلوچ اور بدکرداری کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اخلاقی گراوٹ اور پسماندگی منشات کے استعمال کا وہ نقصان ہے جس سے نہ صرف منشیات کے عادی متاثر ہوتے ہیں بلکہ عام معاشرے پر بھی اس کے گہرے نقوش ثبت ہوتے ہیں۔
    منشیات کا استعمال جہاں اخلاقی، ذہنی اور جسمانی پسماندگی کا سبب بنتا ہے وہیں یہ انسان کو معاشی طور پر بھی کمزور کر دیتا ہے۔ نشہ کے عادی لوگ اپنی کمائی کا بڑا حصہ اپنی منشیات سے وابستہ ضروریات پوری کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو معاملات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ یہ لوگ نشے کی خاطر معاشرے کے دوسرے افراد کے سامنے دست سوال دراز کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے سے عاجز ہوتے ہیں جس کی بدولت انہیں غربت اور معاشی پسماندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اسی نکتہ نظر کو قومی سطح پر دیکھا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ منشیات کے استعمال کی مد میں سالانہ اربوں روپے ضائع ہو رہے جنہیں اگر کسی مفید کام میں خرچ کیا جائے تو بہتر معاشی صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے۔
    خاندانی نظام نسل انسانی کو پروان چڑھانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے مگر نشہ اس بہترین نظام کی تباہی کا ایک بڑا سبب ہے۔ منشیات کے عادی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں جنہیں اپنے اہل و عیال سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ نشہ ان کے دماغوں کو بری طرح متاثر کر دیتا ہے جس کی بدولت وہ جھگڑالو اور متشدد مزاج ہوجاتے ہیں۔ عدم برداشت اور بیمار ذہنیت کے یہ لوگ طبعیت میں بھلا کا چڑچڑاپن رکھنے کی وجہ سے ہر وقت اپنے خاندان سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ کئی واقعات میں تو حالات کی سنگینی ایسی صورت اختیار کرتی ہے کہ بات قتل و قتال اور طلاق کی نوبت تک جا پہنچتی ہے۔ ایسے کئی واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں منشیات کے عادی بے ضمیر لوگوں نے نشے کی خاطر اپنی اولادوں اور عزتوں تک کو بیچ ڈالا۔
    نشہ معاشرتی بگاڑ اور تمدنی روایات سے انحراف کی بڑی وجہ ہے۔ جب انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوگی وہ معاشرے میں انتشار اور بے سکونی ہی پیدا کرے گا۔ ان سارے حالات کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نشہ دور حاضر میں نسل انسانی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے جو ہماری نسلوں کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے نوجوان نسل میں تمباکو نوشی اور منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر روکنے کی ضرورت ہے۔ میں باغی ٹی وی نیوز کی پوری ٹیم کو داد تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ ماہ تمباکو نوشی کے خلاف ایک بھرپور مہم کامیابی سے چلائی اور انسداد منشیات و تمباکو نوشی کے متعلق نوجوانوں کو بہترین انداز میں آگاہ کیا۔ میرا یہ خیال ہے کہ ایسی صحت مند اور مفید سرگرمیاں حکومتی سربراہی میں جاری رہنی چاہیں تاکہ ہمارا مستقبل یعنی ہماری نوجوان نسل نشے جیسی لعنت سے محفوظ رہے۔

    Twitter:
    @DSI786

  • چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر   تحریر : راجہ ارشد

    چھوٹے بچے ،بڑوں کے رہبر تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے محلے کی مسجد میں ایک قاری صاحب ہیں جو بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں یہی امام مسجد بھی ہیں کل نماز مغرب کے بعد ان کے ساتھ بیٹھا تھا یوں ہی گپ شپ ہو رہی تھی امام صاحب اور میں ہم عمر بھی ہیں تو بات بڑی گھول کے کرتے ہیں وہ بتانے لگے کہ ۔

    ایک دن میرے پاس آپ کا پورانا پڑوسی آیا رانا امجد نام تھا میرے اس پڑوسی کا اور آج سے 8 یا 10 سال پہلے ہم دونوں ایک ہی بیلڈنگ میں رہتے تھے ۔ رانا امجد صاحب دوسرے فلور پر تھے اور میں گرونڈ پر تھا بس وہاں ہی سلام دعا ہوئی تھی ان سے ۔اس کے بعد میں نے گھر بدل لیا اور کام کاج کے چکر میں ان سے رابطہ بھی کم ہی ہو گیا۔ ابھی کوئی ایک سال پہلے کی بات ہے کہ ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور اتفاق سے میں اور امام صاحب نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ سامنے آ گئے۔

    امام صاحب سے تعارف بھی میں نے ہی کرویا تھا خیر امام صاحب نے کہا وہ آپ کے پڑوسی نہیں تھے رانا امجد صاحب۔ میں نے فورن جوابن کہا اللہ خیر کرئے امام صاحب کیا ہوا ان کو ؟

    امام صاحب نے کہا ہوا کچھ نہیں بتا رہا ہوں کہ جب آپ نے ان سے ملوایا تھا اس کے ٹھیک دو دن بعد رانا امجد صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے حضور میرے بیٹے نے عجیب و غریب بہکی بہکی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ شاید کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے یا جنات کا سایہ ہے ۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا میں نے کہا۔آپ بچے کو میرے پاس بھیجیں دیکھتے ہیں مسلہ کیا ہے۔

    اگلی صبح وہ لڑکا میرے پاس آ گیا وہ نو عمر لڑکا تھا میں نے انتہائی محبت ، شفقت کے انداز میں بات چیت شروع کی تو وہ لڑکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔پھر اس نے بتایا کہ میں نے ایک ایسے گھر میں آنکھ کھولی اور پرورش پائی ہے جہاں کے رہنے والوں کو دین سے کوئی سروکار نہیں۔ نمازوں کی فکر ہے نہ روزں کی نہ قرآن مجید کی تلاوت نہ دیگر عبادات کی ہمارا گھرانا سر تا پاوں گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے۔میرے والد نے کبھی نماز نہیں پڑھی وہ کبھی کبھار جمعہ کی نماز پڑھ لیتے ہیں بس۔

    میں نے پوچھا پھر آپ نے کیا کہا اس بچے کو امام صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے اپنے والد کے ساتھ احسان کرنے کی تلقین کی اور کہا بیٹا تمارا اپنے والد پر سب سے بڑا احسان یہ ہو گا کہ تم رات کی تنہائیوں میں اپنے اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنے والد کی ہدایت کے لیے دعا کرو ۔لڑکے نے بہت ذوق و شوق سے میری باتیں سنی اور اس پر عمل کرنے کا کہ کر چلا گیا۔

    میں نے کہا آچھا پھر امام صاحب کیا ہوا وہ لڑکا دوبارہ کبھی وآپس آیا ؟ امام صاحب نے کہا ہاں ابھی کل کی بات ہے وہ لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔استاد محترم جیسے آپ نے بتایا تھا میں نے اسی طرح کیا جب سارے گھر والے خواب غفلت میں پڑے ہوتے میں اٹھ کر وضو کرتا اور نماز تہجد ادا کرتا اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اور رو رو کر دعائیں کرتا۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا ۔ ایک دن اتفاق سے میرے والد کہیں سفر پر تھے وہ رات کو تاخیر سے گھر لوٹے تو انہیں دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ میرا بیٹا ایک تاریک کمرے میں اللہ سے دعا کر رہا ہے ابو جان نے قریب آ کر سنا تو میں کہہ رہا تھا۔

    اے میرے رب میرے والد کو ہدایت نصیب فرما ۔اے میرے رب ان کے دل کو دین کے لیے کھول دے اور انہیں اہل جہنم میں سے نہ کرنا۔ یا رب تو ہی ہے جو یہ کر سکتا ہے۔
    ابو جان حیران و پریشان کچھ دیر کھڑے رہے ۔۔۔۔۔۔

    پھر وہ باتھ روم میں گئے اور غسل کیا اور میرے پیچھے نماز پڑھنے لگے انہوں نے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور آئندہ سے پکا نماز پڑھنے کا عہد کر لیا ۔ لڑکے نے بتایا کہ ابو جان نے مجھے گلے لگایا اور شاید اپنے ہی بیٹے کا اس طرح کا ذوق عبادت دیکھ کر حسرت و ندامت سے زار و قطار روتے رہے۔امام صاحب کی بات ختم ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھوں نے بھی برسنے کی تیاری کر لی ہو بس سبحان اللہ منہ سے نکلا اور امام صاحب سے اجازت لے کر گھر کو چکا آیا۔

    قارئین دیکھا کس طرح یہ چھوٹا سا لڑکا اپنے والد اور سارے خاندان کی ہدایت کا باعث بن گیا ۔ اللہ پاک ہم سب کو بھی اپنی ہدایت سے مالامال کر دیں اور سیدھے اور سچے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم امین یا رب العالمین۔
    RajaArshad56

  • دھندہ ہے پر گندا ہے تحریر : نواب فیصل اعوان

    پاکستان میں جس تیزی کے ساتھ ویڈیوز لیکس ہو رہی ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں ۔
    سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی ویڈیو لیک ہوٸ جس میں الزام عاٸد کیا جا رہا ہے کہ اس نے میڈیا میں ملازمت کے نام پر درجن بھر لڑکیوں سے کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹلوں اور فارم ہاٶسز میں زیادتی کی ۔
    مگر سوال یہاں یہ ہے کہ کیا یہ الزامات سچ ہیں ۔؟
    اس سوال کو وقت پہ چھوڑ دیتے ہیں مگر باوثوق ذراٸع کے مطابق محمد زبیر مسلم لیگ ن چھوڑنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کی پاداش میں ویڈیو لیک کی گٸ ۔
    محمد زبیر کے مطابق یہ ویڈیو ایڈٹ شدہ ہے اور وہ فرانزک آڈٹ کا ارادہ رکھتے ہیں مگر سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ ویڈیو فرانزک کے بعد جعلی نکلتی ہے تو کیا محمد زبیر کو بدنام کرنے کیلۓ یہ ویڈیو ریلیز کرنے والے اصل مجرمان قانون کی گرفت میں ہونگے یا نہیں ۔؟
    اگر یہ ویڈیو اصلی نکلتی ہے تو کیا پاکستانی ادارے محمد زبیر کو ان درجن بھر خواتین کی مدعیت میں مقدمات کے اندراج کر کے قانونی کارواٸ کرینگے بھی یا نہیں ۔؟
    محمد زبیر مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ مریم نواز شریف کے ترجمان بھی رہے چکے ہیں ۔
    بعض ذراٸع کے مطابق اگر یہ ویڈیو اصلی ہے تو اس کے پیچھے مسلم لیگ ن اور خاص طور پہ مریم نواز شریف کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ بارہا میڈیا پہ بتا چکی ہیں کہ ان کے پاس کٸ ملکی نامور شخصیات کی فحش ویڈیوز موجود ہیں اگر ایسا ہے تو جج ارشد ملک کی طرح محمد زبیر ویڈیو لیک کے تانے بانے بھی مسلم لیگ ن اور مریم نواز شریف سے ملیں گے ۔
    ملکی مفاد کو بالاۓ تاک رکھ کر سیاست میں کسی کی مخالفت میں اتنا گر جانا کہ ویڈیوز لیک کر دینا یہ پاکستان کیلۓ بین الاقوامی ہزیمت کا باعث بنے گا ۔
    اگر ایسا ہے تو پاکستان کے اعلی عہدوں پہ فاٸز اور پاکستان کا نظام سنبھالنے والوں کی بھی ویڈیوز نکل آتی ہیں تو یہ پاکستان کیلۓ باعث تشویش ہے کیونکہ ذراٸع کے مطابق ڈارک ویب پہ پاکستانی نامور شخصیات کی ویڈیوز اور تصاویر بیچی جاتی ہیں اگر کسی بھی پاکستانی سیاستدان اینکر ایکٹر سنگر یا دیگر اعلی منصب پہ فاٸز عہدے داران کی ویڈیوز یا تصاویر ڈارک ویب پہ موجود ہیں تو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ان کے ذریعے متاثرین کو بلیک میل کر کے اپنے مفادات کیلۓ استعمال کر سکتی ہے ۔
    زرا سوچیں کتنے لوگ ہونگے جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بلیک میل ہونگے اور پاکستانی مفادات کو بالاۓ طاق رکھ کے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کر رہے ہونگے ۔
    اس وقت پاکستان نازک حالات سے دو چار ہے ایسے میں ان سب چیزوں کا پاکستان میں عام ہونا قابل تشویش ہے ۔
    ملکی اداروں کو اس وقت اعلی سطحی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر کے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے یا کسی سیاسی پارٹی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے لوگوں کو بے نقاب کر سکیں اور پاکستان میں ایسے واقعات کے اصل محرکات سے واقف ہو سکیں ۔
    بعض ذراٸع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ویڈیوز کا یہ نا ختم ہونے والا طوفان ہے جو اپنی پوری قوت سے آۓ گا اور اس میں بہت سے مزید لوگ بے نقاب ہونگے ۔
    کیا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔؟
    کیا یہ پاکستان دشمن عناصر کی پاکستان کو بدنام کرنے کی چال تو نہیں ۔؟
    کیا واقعی اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔؟
    یہ سوالات میں آنے والے وقت کیلۓ چھوڑتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ پاک سب کی عزتوں کو محفوظ رکھیں اور پاکستان کو ملک دشمن عناصر کی چالوں سے بچاٸیں آمین

    @NawabFebi

  • آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranBloch786

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آن لائن کاروبار کرنے کا ٹرینڈ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نوجوان مرد و عورتیں آن لائن کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ آن لائن کام ایک تو ماحول دوست اور وقت کے حساب سے پے پانا والا کام ہے دوسرا اس میں تھوڑا کام کرکے اچھا خاصا پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ 

    ویسے تو آن لائن پیسے کمانے کے بہت سارے طریقے ہیں مگر جو آج کل زیادہ معروف اور مقبول ہیں ان میں یوٹیوب، بلاگر، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا منیجمنٹ، لیڈ جنریشن، ویب سائٹ ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ورچوئل اسسٹنٹ، ڈیٹا انٹری وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کی چند بڑی ویب سائٹس جن میں اپ ورک، فائیور، بینگ گرو، پیپل پر آور وغیرہ شامل ہیں۔ ان ویب سائٹس پر کروڑوں کی تعداد میں فری لانسرز موجود ہیں جو لاکھوں اور کروڑوں روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

    آج کل ای کامرس بھی بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس میں اپنی چیزوں کی آن لائن تشہیر کرکے کے بیچنے کے بعد اچھا منافع کمایا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں لوگ تیزی سے آن لائن شاپنگ کی طرف مبذول ہو رہے ہیں۔ تھوڑا سا تجربہ حاصل کرکے ای کامرس سے اچھی دولت کمائی جاسکتی ہے۔ 

    اسی طرح سوشل میڈیا مارکیٹنگ بھی تیزی سے مقبولیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ لوگ سوش میڈیا پر اپنی پراڈکٹس کی تشہیر کرکے اور ان کو پروموٹ کرکے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا منیجمنٹ بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور بہترین طریقہ ہے۔ اس میں فری لانسر کو اپنے کلائنٹ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اپڈیٹ رکھنا ہوتا ہے۔ کلائنٹ کی ہدایات کے مطابق اس کے اکاؤنٹس پر چیزیں شیئر کرنی ہوتی ہیں۔ یہ بھی پیسے کمانے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔

    بلاگنگ کرکے بھی بہت بھاری مقدار میں پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے بلاگ بنا کر مختلف آرٹیکلز اپلوڈ کرتے ہیں جو قارئین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ جتنے زیادہ لوگ بلاگ پر آتے ہیں اتنے زیادہ پیسے گوگل بلاگر کو دیتا ہے۔

    یوٹیوب بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور معروف طریقہ ہے۔ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے یوٹیوب چینلز بنارکھے ہیں جس پر مختلف قسم کی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کے بعد جتنے زیادہ ویوز اتنے زیادہ پیسے کی بنیاد پر کمائی کررہے ہیں۔

    گرافک ڈیزائننگ بھی آن لائن پیسے کمانے کے لیے ایک معروف ترین سکل ہے۔ بینر ڈیزائننگ، لوگو ڈیزائننگ، ویکٹر ڈیزائننگ، اشتہار بنانا، بک کور، شرٹ ڈیزائننگ سمیت اور بھی کئی قسم کی ڈیزائننگ شامل ہے۔ کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گرافک ڈیزائننگ سے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔ 

    ویب سائٹ ڈویلپمنٹ بھی ایک شاندار ہنر ہے جو بہت زیادہ پیسے دلوانے والا کام ہے۔ آج کل کسٹم تھیمز اور ٹولز مفت مل جاتے ہیں جس سے ویں سائٹ بنانا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ ویب سائٹ ڈویلپمنٹ کا ایک پروجیکٹ 1 لاکھ سے زائد تک کا بھی ہوسکتا ہے۔

    ان کاموں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات ذہن میں گونجتی ہے کہ کیا یہ کام ہر بندہ کرسکتا ہے؟ اس کا جوب نہیں میں ہے کیونکہ یہ کام کرنے کے لیے آپ کو کوئی کمپیوٹر ریلیٹڈ ہنر آنا چاہیے۔ آپ کو اپنے کلائنٹ یا کسٹمر کے ساتھ گفتگو کرنے کا طریقہ اور انداز معلوم ہونا چاہیے۔ اپنے کام سے لگن اور محنت ہی انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ 

    لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ بیروزگاری کی چکی میں پستے نوجوان فری لانسنگ اور آن لائن کام کرکے پیسے کما کر سرمایہ ملک میں لائیں۔ جس سے معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور نوجوان بھی خوشحال ہوں گے۔ جب نوجوان خوشحال اور معیشت مضبوط ہوگی تو پاکستان کو کوئی بھی طاقت ترقی کرنے سے نہیں روک سکے گی۔

  • انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم ! تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    انڈیا میں اقلیتوں پر جاری ظلم وستم !

    ٧٠ سے زائد عرصہ گزر چکا لیکن انڈیا نے اپنی سوچ کو زرا برابر بھی وسیع نہیں کیا ،انڈیا جو ایک طرف خود کو جمہوریت پسند ملک سمجھتا ہے تو دوسری طرف اسی انڈیا میں آئے روز اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمان کی زبان بندی کے لئے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھارہا ہے ،کبھی بابری مسجد کے معاملے پر تو کبھی گجرات میں مسلمانوں کی بستیاں جلانے کے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں ،سمجھوتا ایکسپریس کا واقعہ ہو یا مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وستم کی نا ختم ہونے والی داستانیں انڈین پنجاب کے سکھوں پر مظالم ہوں یا اپنے ہندو دھرم کے نیچ طبقے پر جاری مظالم ہوں لیکن سب سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ دنیا انڈیا کے ان مظالم پر بلکل خاموش تماشائ بنی نظر آتی ہے ،کسی مسلم ملک میں اگر خدانخواستہ اقلیت کے بندے سے کسی ذاتی اختلاف پر ،ذاتی دشمنی کی بناء پر دو محلے دار یا دوست آپس میں بھی زرا سے لڑجائیں تو اس مسلم ملک کے خلاف پوری دنیا اکٹھی کھڑی نظر آتی ہے اور سب کو انسانی حقوق کا خیال آجاتا ہے لیکن انڈیا میں مسلمانوں پر جاری ظلم وستم پر عالمی دنیا کو نا انسانی حقوق نظر آتے ہیں اور نا ہی کوئ ظلم وستم نظر آتا ہے ،کشمیر میں انڈین مظالم کی سب سے بڑی مثال تو یہی کافی ہے کہ وہاں پر انڈیا نے اپنی ٧ لاکھ سے ذیادہ فوج بھیج رکھی ہے جو اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ انڈیا کس طرح کے مظالم ڈھارہا ہے مقبوضہ کشمیر میں ،کبھی ماوں ،بہنوں ،بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں تو کبھی ان کے جوان بیٹے،بھائ ،باپ اور شوہر سرعام اذیت دے کر قتل کردیئے جاتے ہیں باقی انڈیا میں تو جب سے مودی کی حکومت آئ ہے تب سے ہر جگہ مسلمانوں پر قیامت برپا کر رکھی ہے ،کہیں قانون نام کی کوئ چیز نظر نہیں آتی ،راہ چلتے مسلمانوں کو بے وجہ ڈنڈا بردار لوگ تشدد کا نشانہ بنارہے ہوتے ہیں ان کی آہ و پکار سننے والا کوئ نہیں ہوتا ،مسلمان لڑکیوں کو زبردستی مذھب تبدیل کروانے کی مہم بھی مودی کی سرپرستی میں جاری ہے اور یہ باتیں یہ مظالم دنیا میں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن عالمی دنیا ستو پی کر سورہی ہے ایسے واقعات کا ١% بھی پاکستان یا دنیا کے کسی ایک مسلم ملک میں ایسا کوئ واقعہ نظر آجائے تو اسے دنیا اس طرح بڑھا چڑھاکر پیش کرتی ہے کہ جیسے یہ مسلم ملک ہی دنیا میں سب سے ذیادہ ظالم ہے باقی ساری دنیا پارسا ہے 

    عالمی دنیا کو اب یہ منافقت چھوڑنی پڑے گی اور انڈین مظالم کے خلاف دنیا کو آگے آنا پڑے گا تاکہ مسلمان چاہے کسی بھی ملک میں ہو وہ بھی انسان ،ان مسلمانوں کو بھی وہی حقوق دینے پڑیں گے جو دنیا میں کسی بھی دین دھرم سے تعلق رکھنے والے فرد کے لئے ہیں اور خاص طور پر انڈیا کے ساتھ اب دنیا کو سختی کرنی چاہیے ورنہ اگر ہر طرف مسلمانوں پر اسی طرح ظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا تو یقین کریں  اس کے عالمی دنیا سمیت تمام ممالک پر اور خاص طور پر انسانیت کے بات کرنے والوں پر بڑے گہرے اثرات پڑنے ہیں اور دنیا کسی اور خانہ جنگی طرف چل پڑے گی جس کا نتیجہ سب کو بھگتنا پڑسکتا ہے ،اس لئے عالمی دنیا انڈیا کے نا صرف ہاتھ روکے بلکہ انڈیا پر سخت قوانین اور پابندیاں لاگو کی جائیں تاکہ انڈیا جیسے بدمست ہاتھی کو زرا سی لگام ڈالی جاسکے اور مسلمانوں کی نظر میں   عالمی دنیا اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرسکے ورنہ حالات جس طرف جارہے ہیں وہ پوری دنیا کے لئے بھیانک ہوتے جائیں گے 

    ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    @MajeedMahar4