Baaghi TV

Category: متفرق

  • انصاف کا دوہرا معیار  تحریر :  محمد زیشان روؤف

    انصاف کا دوہرا معیار تحریر :  محمد زیشان روؤف

    ‏ 

    کہتے ہیں معاشرے میں برائی کرنا جتنا آسان ہو جاتا ہے اس قدر اس برائی کے ارتکاب میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے اور کوئی بھی برا کام کرنے میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب اس کا سر انجام دینا آسان ہو چکا اور پہلے مشکل تھا بلکہ کسی بھی گناہ اور جرم پر مناسب سزاؤں کے رحجان میں کمی ہی اصل آسانی ہے جو باقی دیکھنے والوں کو بھی جرم کرنے پر اکساتی ہے۔ جب مجرم کو سزا نہیں ملتی تو باقی لوگوں کو شہہ ضرور مل جاتی ہے کہ ویسا ہی جرم وہ بھی دہرائیں اور جو جرم کر چکا ہوتا ہے اسکے تو جیسے منہ کو خون لگنے والی بات ہو جاتی ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ سزا جزا کا تو کوئی عمل دخل ہی نہیں اس لئے بار بار جرم ہوتے رہتے  ہیں ۔

     پاکستان کا المیہ یہی رہا ہے کہ قانون تو بنا دیا جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد کروانا کبھی ممکن نہیں ہو سکا۔ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ قانون کو گھر کی باندی سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح معاشرے میں جرم پروان چڑھتا رہتا ہے اور آئے دن نیا سے نیا جرم سامنے آتا ہے دو یا چار دن سوشل میڈیا ,  پرنٹ اور  الیکٹرانک میڈیا پر شور مچتا ہے پھر کوئی نیا کیس سامنے آ جاتا ہے اور پرانے کیس پر سے سب کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں اور یوں کبھی کسی کیس کا فیصلہ سامنے نہیں آتا جو کہ لوگوں کے لیئے نشان عبرت بن سکے۔ جب تک سزاؤں پر شرعی طریقہ کار کے مطابق عمل نہیں ہو گا تب تک لوگ عبرت حاصل کیسے کریں گے۔ اس لیئے ہمیشہ سے برائی کی جڑ کو پکڑنے کی ضرورت رہی۔ اور برائی کی جڑ ہمارے معاشرے میں انصاف کا نہ ہونا ہے  ۔

    اگر بروقت سزا  جرم ہونا شروع ہو جائے تو معاشرے میں آدھی برائیاں تو خود بخود ہی ختم ہو جائیں گی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طاقتور کو سزا دینے کا رواج ہی نہیں کمزور بغیر جرم کے بھی چار پانچ سال سزا کاٹ لیتا ہے۔ انصاف کا یہ دہرا معیار ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔  جس معاشرے کی جڑیں عدل و انصاف کی وجہ سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جائیں اس معاشرے کو تباہی سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ حضرت علی (رض) کا قول ہے

    کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ناانصافی کانہیں

    عدل و انصاف کسی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔  جب آپ ریڑھ کی ہڈی کو نکال دیں گے تو پھر جسم کا کیا بنے گا۔

    عواموانصاف کی فوری اور معیاری فراہمی کو کس قدر ترسی ہوئی ہے اس کا اندازہ جنرل الیکشن 2018میں عمران خان کی جیت سے واضع ہے۔ خان صاحب نے عدل و انصاف کا نعرہ لگایا تھا عوام نے عدل و انصاف کو ویلکم کیا اور ووٹ دیا۔

    لیکن پاکستان میں نظام عدل قائم ہونا نا ممکن نظر آتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے نام ہر حاصل کیا گیا ہو وہاں 4 ماہ سے 4 سال تک کی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے لیکن ایک طبقہ جو لبرل ازم کا جھنڈا اٹھائے پھرتا ہے وہ یہ کہے کہ سر عام سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔ اور ایسے قاتلوں اور درندوں کا دفاع کرنے والے ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی پاکستان میں جرم دہرایا جاتا ہے۔ جب کسی کو سر عام سزا نہ دی جائے گی تو لوگ عبرت کیسے حاصل کریں گے۔ اب دیکھا جائے تو وہ درندہ صفت لوگ کوئی زیادہ اثرو رسوخ والے بھی نییں ہوتے لیکن ان کے حق میں آواز اٹھا کر بچانے والے اس بات کے ذمہ دار ہیں جو ان درندوں کے ساتھ بھی رحم والا معاملہ کر کے جرم کو تقویت دیتے ہیں

    اس لیئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جرم کو عام کرنے کے پیچھے لبرل طبقے کا بھی بہت بڑا رول ہے

    اسی طرح منشیات کا دھندہ دیکھا جائے تو وہ چھوٹے پیمانے پر شاید لوگ چھپ چھپا کر کرتے ہوں لیکن بڑے مافیاز کو حکومتی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جو کہ اعلٰی آفسران کو ماہانہ ادائیگی کرتے ہیں اور کھلم کھلا منشیات جیسے نا سور کو معاشرے میں پھیلاتے ہیں۔ ایسے عناصر پر بھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا اور اگر کوئی رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جائے تو زر خرید عدالتوں سے شراب کو شہد ثابت کروا کے بری ہو جاتا ہے

    انصاف کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی اکائی ہے جسے بد قسمتی سے پاکستان کی بنیادوں سے مسمار کر دیا گیا۔ اور یوں پاکستان کی بنیادی اکائیوں میں سے ایک ستون ہی نکال دیا گیا۔ جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیئے جاتے حقیقی تبدیلی کسی صورت نہیں آ سکتی کیونکہ معاشرے مل کر قومیں اور ملک بناتے ہیں جب کی معاشرتی نظام ہی درہم برہم ہوا ہو تو کون سی تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے

    ‎@Z33_6

  • غداری اقوام کی تباہی کا سبب تحریر: محمد عمران خان

    قدیم چینیوں نے تاتاریوں کے حملوں سے بچنے کیلئے دیوار چین بنا لی،اس عظیم دیوار کو بنانے کے دوران 10 لاکھ مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، بیس سے تیس فٹ اونچی اور پندرہ سو میل پر پھیلی یہ دیوار بنانے میں چین کو زمانے لگ گئے، بالآخر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تعمیر معرض وجود میں آئی جس کو دیوار چین کہا جاتا ہے،

    اب سوال یہ ہے کےکیا چین بیرونی حملوں سے محفوظ ہوا؟ 

    آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس دیوار کو بنانے کے بعد پہلے 100 سال میں تاتاریوں نے تین بار چین میں گھس کر چین کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی اور اس سے بھی بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ تاتاریوں کو ایک بار بھی دیوار چین کو پھلانگنے یا توڑنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی،

    جانتے ہو کیوں؟

    اس لئے کہ ہر بار بیرونی دشمن کے لئے دروازے اور کنڈیاں اندر سے کھلیں، تاتاریوں نے محافظوں کو خریدا اور ملک کے اندر غدار پیدا کئے۔

    قدیم چینیوں نے اپنی تمام توانائیاں اور وسائل دیوار بنانے میں لگا دیے لیکن یہ بھول گئے کہ انسان بھی بنانے سے بنتے ہیں، تراشنا پڑتا ہے، حب الوطنی کی بٹھی سے گزارنا پڑتا ہے، تربیت کے مراحل سے گزر کے انسان تعمیر ہوتا ہے وہ ہی ملک و ملت کے مقدر کا ستارہ بن کے افق پہ چمکتا ہے۔

    ایسے ہی ہم نے پاکستان بنانے میں تو لاکھوں لوگوں کی قربانی دینے سے رتی برابر دریغ نا کیا، ایٹم بم اور جدید ہتھیار بھی بنا لیے، لیکن فرد اور قوم کو بنانے کے لیے ذرا سا کام نا کیا جس کا نتیجہ آج آپ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ اندر کی غداریوں اور اندر کے ناسوروں سے نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو آج تک اتنا نقصان شاید ہی دشمن کے ہاتھوں ہوا ہو جتنا اندر کے غداروں نے دیا ہے۔ کئی مواقع پر پاکستان کے اہم راز اور دستاویزات لیک ہوکر دشمنوں کے ہاتھوں تک جا پہنچیں مگر وہ راز لیک کرنے والے شاذونادر ہی تلاش کیے جاسکے۔ اسی طرح پاکستان کی تاریخ کا معروف ترین کیس ڈان لیکس بھی اندر کی غداری پر مبنی تھا جس میں پاکستان کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے کے اعلیٰ افسر نے راز دشمن کے ہاتھوں فروخت کردیے۔ اسی طرح سابقہ سیاست دانوں نے بھی اپنی اداروں سے چپقلش کے نتیجے میں اہم ترین راز عالمی میڈیا پر اگلے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    اندر کے ناسوروں اور غداروں کے متعلق ہی مسلمانوں کے عظیم لیڈر سلطان صلاح الدین ایوبی نے فرمایا تھا:

    "اندر کے غداروں کے ہوتے ہوئے دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی”

    برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو شکست ہمیشہ اپنے ہی لوگوں کی غداری سے ہوئی۔ ریاست میسور اور برصغیر کے عظیم جنگجو ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوا دیے مگر صرف ایک دوست کی غداری نے ان کی جان سے قیمت ادا کی۔ اسی طرح نواب سراج الدولہ کو بھی ان کے کمانڈر میر جعفر کی سنگین غداری کی وجہ سے شکست ہوئی اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ مغل شہنشاہوں کو بھی اندرونی غداریوں کا سامنا رہا اور ان کی مضبوط اور وسیع تر حکمرانی انگریزوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ 

    اسی لیے ایک حقیقی کلمہ گو مسلمان کو یہ کسی بھی حالت میں بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے مذہب یا قوم سے غداری کرنے کا سوچے بھی سہی۔ بطور فرد اور بطور شہری ہمیں اپنی قوم اور اپنے وطن کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی اور وقار کی خاطر تمام تر اختلافات کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔ یہ بات بھی ہمارے فرائض میں شامل ہونی چاہیے کہ اپنے اردگرد اور قرب و جوار پر گہری نظر رکھی۔ کسی بھی مشتبہ حرکت کی صورت میں متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع کریں تاکہ ہماری سلامتی اور وطن کی عزت و آبرو دونوں محفوظ رہیں۔ بصورت دیگر ہماری بقاء اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    Twitter Handle: @ImranBloch786

  • پاکستان میں انقلاب چاہیے یا انقلابی سوچ  ; تحریر فرازرؤف

    پاکستان میں انقلاب چاہیے یا انقلابی سوچ  ; تحریر فرازرؤف

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جب بھی کوئی حکمران اس ملک پر مسلط ہوا چاہے وہ سویلین حکمران تھا یا پھر عسکری ہر کسی نے الیکشن سے پہلے یا ملک پر قابض ہونے سے پہلے اس ملک میں انقلاب، تبدیلی کے نعرے لگائے لیکن اقتدار ملنے کے بعد وہ بھی اس اسٹیٹس کو کا حصہ بن گئے یا سسٹم نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ بھی اس راہ پر چلیں جو ان سے پہلے حکمرانی کرکے جا چکے تھے۔

    وہ کیا محرکات ہیں جو ہر آنے والے حکمران پر حاوی ہو جاتے ہیں الیکشن سے پہلے انقلابی سوچ رکھنے والا لیڈر کیسے اقتدار اعلی ملنے کے بعد اسی آلودہ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیا یہ گلا سڑا نظام اب اس ملک کے لیے ناسور بن چکا ہے جو بھی آتا ہے وہ اسی بوسیدہ نظام کا یا تو حصہ بن جاتا ہے یا پھر اسی میں سے راستہ تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہی نکلے گا۔

    تاریخ اٹھا کر دیکھیں فرانس ہو یا ایران دونوں میں انقلاب کے محرکات یکساں تھے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا گیا۔ نا انصافی اتنی بڑھتی گئی کے لوگوں نے حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور ہتھیار اٹھا لئے۔ کم و بیش  انقلاب کا مفہوم و وجوہات ایک جیسی ہی نظر آتی ہیں۔

    وہ کیا وجوہات ہیں کہ ہمارے بیوروکریٹس بھی اسی نظام کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ  کھانچے لگانا جانتے ہیں اتنے سالوں سے سسٹم میں رہ کر تمام لوپ ہولز کا پتہ ہے۔ یہ ہی ایک مین وجہ ہے کہ وہ اس نظام کو یا اپنی سوچ کو بدلنا نہیں چاہتے۔ حقیقت میں ہماری بیوروکریسی اچھی طرح جانتی ہے کہ ہمارے سیاست دان لالچی ہوتے ہیں اور اُنہیں اپنے جال میں پھنسانا کوئی مشکل کام نہیں اور یوں سیاست دانوں کی لالچ اور حرص کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیورو کریسی اُنہیں آرام سے استعمال کرلیتی ہے اور جب تمام مقاصد حاصل کرلیئے جاتے ہیں تو اُنہیں چلتا کردیا جاتا ہے اور بیوروکریسی وہیں کی وہیں موجود رہتی ہے۔

    میرے خیال میں سیاست دان اگر صحیح معنوں میں مخلص ہو جائیں اور سیاست کو عبادت سمجھ کر عوام کی خدمت کے جذبے سے کام کریں تو انہیں کوئی بیوروکریٹ استعمال نہیں کر سکے گا اور یہ بات نوٹ کر لیں کہ جس دن بیوروکریسی درست ہوگئی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مثالی ملک بن سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو وسائل سے مالا مال بنایا ہے۔ قطر، سنگا پور، ہانگ کانگ، ملائشیا اور یو اے ای کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں کی بیوروکریسی کی بدولت ملک دنیا کے نقشے پر اُبھرتے نظر آئے۔

    اس ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک اس ملک میں لوگ انقلابی سوچ کے حامل نہیں ہوجاتے اس ملک میں انقلاب اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک لوگ خود اپنی قسمت بدلنے کی جدوجہد نہیں کرتے، ایک فرد واحد کا انقلابی سوچ رکھنے سے کچھ نہیں ہو گا جب تک پوری کابینہ انقلابی نہیں ہو گی۔

    آج کی بڑی مثال موجودہ حکومت ہے، عمران خان نیازی الیکشن جیت کر اس نیت سے حکومت میں آئے تھے کہ ملک کے ہر شعبے اور ادارے میں  رفارمز لائے جائیں گے، شروع کے دو سال بیوروکریسی نے خان صاحب کو سسٹم میں ایسا الجھایا کہ اب تین سال ختم ہونے کو ہیں ابھی تک خاطر ہوا کام نہیں ہو سکتا۔

    حکومت شروع دن سے جب سے اقتدار میں آئی، تب سے بیوروکریسی میں بھی انقلابی تبدیلیوں کی خواہاں ہے لیکن کیا کریں، معاملات سلجھنے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔

     بیوروکریسی کیوں وزیراعظم عمران خان کو ناپسند کرتی ہے؟ کیونکہ عمران خان نے تہیہ کیا ہے کہ اب ملک ویسے نہیں چل سکتا جیسے پہلے چل رہا تھا، لیکن کیا ملک میں ریفارمز بیروکرسی کے بغیر کیے جا سکتے ہیں? جواب یقینا منفی میں ہو گا۔

    موجودہ حکومت کے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات بھی اپنے حلقے کی سیاست کو اسی پرانی نظر سے دیکھتے ہیں جسے ہم تھانہ کچہری کی سیاست کہتے ہیں۔

    لہذا ایک طویل غوروفکر کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس ملک میں انقلاب کی نہیں بلکہ انقلابی سوچ رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنے ذاتی مفاد کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد میں مل کر کام کریں۔ اس میں بیوروکریسی، حکمران اور خصوصا عوام کا ذہنی طور پر شامل ہونا ضروری ہے۔

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti 

  • برادری جھلنی پوسی تحریر: عرفان صادق

    برادری جھلنی پوسی تحریر: عرفان صادق

    عصر کا وقت تھا فون کی گھنٹی بجی کال اٹھائی تو ماموں زاد مخاطب تھا۔ کہنے لگا عرفان بھائی ایک مسئلہ پوچھنا ہے۔ میں نے کہا یار میں مفتی تو نہیں بہرحال بتاؤ کیا ایشو ہے۔۔؟
    گویا ہوا کہ ایک بچہ جو پیدا ہوا ہو اور اس کی کچھ دیر سانس اور نبض چلتی رہی ہو کیا اس کا جنازہ ہو گا۔۔؟
    میں نے کہا ہاں یار جنازہ تو ہونا چاہیے اس کا حق ہے۔ تو جی ٹھیک کہہ کر کال بند کر دی۔
    تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ اس کی کال آئی تو کہنے لگا کہ عرفان بھائی یہاں سب کہہ رہے ہیں کہ جنازے کی ضرورت نہیں ہے ، بچہ زندہ تھا ہی نہیں، جنازہ رہنے دیں۔۔۔!
    میں نے کہا کہ یار آپ پریشان مت ہوں جنازے کی ترتیب بنا لیتے ہیں۔ تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ مجھے معاملہ تھوڑا گمبھیر لگا تو میں نے پوچھ لیا کہ یار اصل مسئلہ بتاؤ کہ کیوں نہیں جنازہ کرنا چاہ رہے۔۔؟
    میرے اس سوال پر اس کے جواب نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔
    کہنے لگا کہ عرفان بھائی سچ تو یہ ہے کہ امی کہتی ہیں کہ "جنازہ کروایا تاں برادری جھلنی پوسی” (جنازہ کروایا تو پوری برادری کو جھیلنا/ برداشت کرنا پڑے گا) جو کہ ہمارے لیے بہت مشکل ہے کیوں کہ مالی حالات خراب ہیں اور کام بھی کوئی خاص نہیں ہے۔
    یقین مانیے اس کے ان الفاظ نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔ مجھے یوں لگا کہ آسمان سے بجلی برسے یا زمین پھٹ جائے اور میں اس میں ریزہ ریزہ ہو جاؤں۔۔
    کیوں۔۔؟
    کیونکہ اس کی برادری میں ہوں، اس کی برادری آپ ہیں، اس کی برادری ہم سب ہیں۔
    یہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے کہ بندہ فوت بعد میں ہوتا ہے پورے خاندان کےلئے بوریا بستر اور کھانے کی ٹینشن لواحقین کو پہلے لاحق ہو جاتی ہے۔ اور یہ اس کا آخری درجہ ہے کہ آج ایک معصوم جان کو بغیر جنازے کے دفن کیا جانے لگا تھا کہ "برادری جھلنی پوسی”
    بہرحال میں نے اسے کہا کہ پریشان مت ہو، ہم جنازہ پڑھیں گے اور بے شک برادری کو مت پوچھنا، کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی سنت ہے کہ ایک دفعہ جب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہوا جو ابھی چھوٹا تھا تو آپ نے ان کے گھر جا کر صرف گھر والوں کو شامل کیا اور نماز جنازہ ادا کر لی۔
    اور ہاں اگر برادری کو خبر دینی ہی ہے تو مجھے بتانا میں انتظامات کروا لیتا ہوں۔۔ لیکن اسے اللہ نے سمجھ دی ،میں بھی کچھ دیر میں ان کے گھر پہنچا، کچھ ان کو سمجھایا جو اللہ نے توفیق دی اور پھر ہم نے رات عشاء کے بعد اس کے قریبی ترین تقریبا بیس لوگوں کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی۔
    معزز قارئین یہ ایک کہانی ہے آپ اگر آنکھیں کھولیں تو ایسی ہی ہزاروں کہانیاں میرے اور آپ کے اردگرد روز رونما ہوتی ہیں ، لوگ مرگ پر پریشان حال ہوتے ہیں کہ کفن دفن تو درکنار برادری کو قورمہ کہاں سے کھلائیں گے۔؟ ان کے رہنے کا کیا بند و بست ہو گا۔۔؟
    خدارا غریب کےلئے موت کوبھی آسان کیجیے ایسا نہ ہو کہ غریب کہیں اس رواج کے ڈر سے اپنے مردے دفنانا ہی نہ چھوڑ دے یا قریب المرگ لوگوں کو اولڈ ہاؤس کے حوالے کرنا، ایدھی ہومز کے حوالے کرنا یا کسی روڑھی پر پھینکنا نہ شروع کر دیں۔ اور یاد رکھیں کہ اگر ایسا ہوا تو اس میں میرے اور آپ کے سمیت ہم سب مجرم ہونگے۔ تو آئیے آج سے عزم کیجیے کہ ایک تو کسی بھی مرگ پر گوشت نہ پکے ، پھر آپ اپنی حیثیت میں فوتگی والے گھر سے کھانے کا بائیکاٹ شروع کریں اور تیسرا یہ کہ اس تحریر کو پڑھنے والا ہر فرد اپنی اپنی فیملی ، محلے یا گاؤں میں ایسی کمیٹی بنائے جو لوگوں کو فوتگی کے موقعہ پر سہولیات دے کہ شہر سے باہر سے آئے مہمانوں کا کھانا ، میت کا کفن ، دفن ، قبر کا بند و بست اور ضروری معاملات نپٹانے سے اس فیملی کو بے فکری ہو تا کہ آئندہ کوئی فرد یہ کہہ کر جنازے سے انکار نہ کر سکے کہ "برادری جھلنی پوسی”

  • ‏”نٸے لکھاری“ ‏تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‏”نٸے لکھاری“ ‏تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‏قلم ایک طاقتور ہتھیار ہے جس سے نہ صرف ظلم و جبر اور جہالت کی تاریکیوں کو دور کیا جا سکتا ہے بلکہ تاریکیوں کو اجالاوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ حق اور سچ کے پھلاٶ کو روکنے کےلیے ٹوٸیٹر اور فیس بک سمیت تمام سوشل میڈیا پر بھارتی لابی سرگرم ہے، جو محب وطن پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس رپورٹ کر کے سسپنڈ کروا رہی ہے۔ بھارتی انٹیلیجنس کی سرپرستی میں کام کرنے والا یہ گروہ، ہر اس شخص کے اکاؤنٹ کے خلاف رپورٹنگ شروع کر دیتا ہے جو اسلام، پاکستان، کشمیر، مسلمانوں کے قتل عام اور اسلاموفوبیا پر بات کرتا ہے۔ ٹوٸیٹر سمیت تمام سوشل میڈیا ہر اس اکاؤنٹ کو بلاک یا سسپنڈ کر دیتا جس کے خلاف رپورٹنگ ہوتی ہے، جس سے بہت سے پاکستان اور اسلام کے مجاہدوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ ایک مدت بعد اب ٹوٸٹر نے ویریفیکیشن کا پروسس بحال کیا جس کی وجہ سے ٹویٹر پر آجکل ہر طرف اکاونٹ ویریفاٸیڈ کروانے کی چہل پہل ہے اور کیوں یہ گہماگہمی نہ ہو؟ گزشتہ چند سالوں میں ہزاروں اکاٶنٹس بِنا کسی وجہ کے سسپنڈ کردیے گٸے اور بعد ازاں یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیا جاتا تھا کہ آپ نے ایپ کے قوانين کی خلاف ورزی کی ہے جس کی وجہ سے اکاؤنٹ لاک یا سسپنڈ کیا جا چکا ہے۔ لیکن اب جیک نے اپنے ٹوٸٹر صارفينز کو اپنا اکاونٹ ویریفاٸیڈ کروانے کا سنہری موقع فراہم کیا ہے۔ اب ویریفکیشن ایپلی کیشن کے ذریعے ٹوٸٹر صارفين اپنے اپنے اکاؤنٹس کو ویریفائی کرواسکتے ہیں۔ ٹوٸٹر کے نئے قوائد کے مطابق ہراکاؤنٹ کا ایک پروفائل ہوگا جس میں صارف کو اپنی اصلی تصویر لگانی ہوگی، اپنا ای میل یا فون نمبر کنفرم کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ٹویٹر صارف کے اکاؤنٹ سے قوائد و ضوابط کے تحت گزشتہ چھ مہینوں سے کوٸی خلاف ورزی نہ کی گٸی ہو۔ ٹوٸٹر نے صارفین کے لیے چھ کیٹگیریز بنائی ہیں جن میں گورنمنٹ، کمپنیز،برانڈز اینڈ آرگنائزیشنز، خبر رساں ادارے اور صحافی، انٹرٹینمنٹ ، اسپورٹس اینڈ گیمنگ، ایکٹوسٹس اورگنائزرز اور نمایاں افراد شامل ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام شخص ان تمام کیٹگیریز پر کیسا پورا اترے گا؟ کیونکہ بہت سے سارے احباب ایسے ہیں جو کیسی بھی حکومتی عہدے پر نہیں ہیں تو یہ کیٹگیری ان احباب کے لیے نہیں ہے۔ مگر ان تمام کیٹگیریز میں ایک ایسی ہے جس پر ہر کسی کی رساٸی ممکن ہے وہ ”خبر رساں ادارے اور صحافی“ ہے۔۔۔ ٹویٹر نے اپنے صارفين کے لیے بہت سی رعایت کی ہے۔ اگر آپ صحافی یا کیسی چینل سے آپکا تعلق نہیں بھی ہے تو کوٸی مسٸلہ نہیں، اس کے لیے آپ اچھا لکھاری ہونا ضروری ہے۔ تو اگر آپ اچھے لکھاری ہیں تو اس کیٹگیری ”خبر رساں ادارے اور صحافی“ پر جا کر ویریفیکشن کے لیے اپیل کرسکتے ہیں۔ بعض لوگ پہلے سے مختلف ساٸٹس میں کالم لکھ رہے ہیں، ان کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ وہ اس کیٹگیری کے لیے اہل ہیں۔۔۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے احباب جو پہلے سے گالم نگار نہیں ہیں اور نہ کسی ساٸٹ سے انکا تعلق ہے، تو انکی بھی آسانی کے لیے ارشاد کرتا چلوں کہ وہ اپنا اپنا قلم اٹھاٸیں اور اپنے جذبات اور احساسات کو تحریر کی شکل دیں۔۔۔تحریریں شاٸع کرنے میں مختلف ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ آجکل بہت سی ساٸٹس ایسی ہیں جو تحریریں شاٸع کررہی ہیں، جن میں باغی ٹی وی ، اردو پوائنٹ ، گوبلی اردو اور دیگر نیوز ساٸٹ شامل ہیں جو کیسی بھی حرص و لالچ کے بغیر نٸے لکھاریوں کو سہنری مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوٸے بہت سے لوگ تحریریں لکھ رہے جس سے معاشرے میں ادب اور زبان سے محبت اور لگاٶ پیدا ہو رہا ہے۔ نوجوان نسل جو نہ صرف اپنی زبان لکھنا اور بولنا بھولتی جا رہی تھی بلکہ ان میں اپنے ماضی سے لگاٶ اور رکھ رکھاٶ بھی ختم ہوتا جا رہا تھا۔ ایسی صورتحال میں صحافی مبشر لقمان کےچینل باغی ٹی وی، اردو پوائنٹ اور گلوبلی اردو وغیرہ نے نوجوان نسل میں مطالعے اور لکھنے کا جذبہ پیدا کیا۔ حیرت انگیز طور پر اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوٸے بہت سے اچھے اور بہترین لکھاری سامنے آٸے جو مستقبل میں معاشرے اور ملک کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ تو ناظرین اپنا اپنا قلم اٹھاٸیں اور اپنی تحریریں ان ساٸٹس پر شاٸع کروائيں تاکہ آپ کی الفاظ کی گرفت مظبوط ہو اور آپ آنے والے دنوں میں جہاد بلقلم کر سکیں۔۔۔۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین

    @HamxaSiddiqi

  • ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے  تحریر محمد تنویر

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تحریر محمد تنویر

    یہاں میرے دل کے بہت قریب موضوع کو متعارف کرانے کے لیے ایک داستان ہے۔ ایک خاندانی محفل کے دوران میں اپنے کزن کی پوتی کے ساتھ گپ شپ کر رہا تھا۔ جب اس نے مجھے اپنی دلچسپیوں کے بارے میں بتایا تو میں نے اسے قریب آنے کو کہا کیونکہ میں اسے سن نہیں سکتا تھا اور میں نے اپنے آلہ سماعت کی طرف اشارہ کیا جو میں نے کان میں لگایا ہوا تھا۔ اس نے سماعت کے چھوٹے آلے میں بڑی دلچسپی ظاہر کی اس کی جانچ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں کئی سوالات پوچھے جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ اس کا تجسس اور سیکھنے کا شوقین تھا۔

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے اس لیے نہیں کہ یہ قومی زبان ہے بلکہ اس لیے کہ یہ میری مادری زبان بھی ہے۔ اس عمر میں وہ واحد زبان تھی جو وہ سمجھتی تھی۔ اگر میں انگریزی میں بات کرتا تو ہم اتنے سنجیدہ موضوع پر ایسی بامعنی گفتگو نہیں کر سکتے تھے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا وہ دلچسپی بھی لیتی یقینا نہیں کیونکہ ایک بچہ اس چیز میں دلچسپی رکھتا ہے جس میں وہ مصروف ہے یہ تب ہی ممکن ہے جب اس عمل میں استعمال ہونے والی زبان وہ ہو جو بچہ سمجھتا ہو۔

    یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے یہ فطرت کی ایک بنیادی حقیقت ہے جسے ہمارے اساتذہ اکثر نظر انداز کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے بچوں کی تعلیم (جو دراصل خود حاصل کرنا ہے) اور ان کے سیکھنے کی ترغیب میں دلچسپی ختم ہو کررہ جاتی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت بچے کو ایک استاد کی بات سننے کی ضرورت ہوتی ہے جو تمام باتیں ایک عجیب زبان میں کرتا ہے جسے بچہ ہمیشہ نہیں سمجھتا کچھ معاملات میں استاد بھی اس میں روانی نہیں رکھتا ہے بچے کا ان پٹ نہیں مانگا جاتا۔

    کیا کوئی طالب علم سے یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہ تمام ممبو جمبو میں دلچسپی لے اپنے آپ سے لطف اندوز ہونے دو رسمی تعلیم دراصل پیدائش کے وقت شروع ہونے والے قدرتی طور پر سیکھنے کے عمل میں خلل ڈالتی ہے۔ اگر ہمارے معلم واقعی بچوں کی بھلائی چاپتے ہیں تو وہ قدرتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں اور بچے کو اس چیز سے محروم نہ کریں جو اسے خوشی اور تحفظ کا احساس دلاتی ہے وہ صرف اور صرف مادری ہے۔ عالمی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق تمام ترقی یافتہ اور خوسحال ممالک کی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ ان ملکوں میں بنیادی تعلیم مادری زبان میں ہی فراہم کی جاتی ہے.

    SNC دوسری زبان کا مرکب ہمارے بچوں کو جذباتی اور عملی ضروریات کو پورا نہیں کرتا جو چیز مجھے سنگل قومی نصاب اور زبان کی پالیسی کے بارے میں انتہائی پریشان کن معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پالیسی بچے کی ضروریات اور حساسیت کو مکمل
    طور پر نظر انداز کرتی ہے 3 ستمبر کو منعقد ہونے والی SNC کے بارے میں مختصر کانفرنس ان دنوں مسلسل ترقی پذیر SNC پر بحث کرنے والی سیریز کا تازہ ترین فورم ہے تمام شرکاء نے تعلیم میں حصہ لیا لیکن بچے کی سیکھنے کی ضروریات کے تناظر میں اس سے زیادہ بے خبر گروپ نہیں ہوسکتا ان میں سے ہر ایک کی بنیاد میں جانتا ہوں سے شروع ہوئی۔ اساتذہ کا بچے کی نفسیات کے بارے میں علم نہ ہونا بہت زیادہ جذباتی عدم تحفظ کا باعث بنتا ہے جو معاشرے میں بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
    SNC نصاب میں کیے گئے انتخاب کے سیکورٹی پہلو پر توجہ نہیں دیتا یہ مسائل خاص طور پر زبان بچے کے سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ "ذہنیت کی یکسانیت” کی خاطر SNC تنوع کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ تنقیدی سوچ کو ختم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں روٹ لرننگ اور ثقافتی بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر
    علمی ترقی سست ہو جاتی ہے۔ اگر تعلیم کا ذریعے کچھ سالوں کے لیے بچے کی اپنی مادری زبان میں ہوتا تو یہ یقینی بناتا کہ وہ ایک اچھی طرح سے ایڈجسٹ شخصیت کی نشوونما کرتی ہے اور زندگی بھر تعلیم سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ اس کے باوجود ایس این سی کے معماروں نے ایک عجیب و غریب پالیسی کا انتخاب کیا ہے جسے ابہام میں ڈوبے ہوئے گزشتہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے دوران خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔

    مختصراً، جیسا کہ میں اسے سمجھتا ہوں انگریزی اور اردو کو گریڈ 1 سے بطور مضامین پڑھایا جائے گا۔ عام علم سماجی علوم اور اسلامیات اردو میں ہوں گے جبکہ سائنس اور ریاضی انگریزی میں پڑھائی جائے گی۔

    یہ زبان کا مرکب ہمارے بچوں کی جذباتی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ اس پر مسلط کی گئی زبان زیادہ تر معاملات میں اس کی مادری زبان نہیں ہے بلکہ نامعلوم الفاظ کا ‘ممبو جمبو’ ہے جو ایک لسانی رکاوٹ بن جاتا ہے جو اس کے بعد اسے پیچھے چھوڑ دے گا اور اسے ایک مصنوعی سیکھنے کا طریقہ اپنانے پر مجبور کرے گا جسے بچے کبھی پسند نہیں کریں گے۔

    ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک کثیر لسانی ریاست ہے اور تعلیم کو بھی بہ زبانی ہونا پڑے گا یہ مادری زبان پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خطے سے خطے میں مختلف ہوتا ہے اور یہ کہ یکسانیت کے اصول کے خلاف عسکریت پسند ہمارے حکمران بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں یقینا قومی زبان اردو اور انگریزی بھی تدریسی طور پر پڑھائی جائے گی مادری زبان میں تعلیم کیلئے احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    دس سال پہلے معروف ماہر لسانیات ہیویل کولمین نے برٹش کونسل کے لیے پاکستان کی تعلیم کے بارے میں ایک فالو اپ رپورٹ تیار کی تھی جس میں اس نے تجویز دی تھی کہ پاکستان کو مقامی زبانوں پر تحقیق کرنی چاہیے۔ اگر یہ کیا جاتا تو ہم SNC کے ساتھ گھومتے نہیں۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ارباب اختیار کوچاہیئے مادری زبان میں علم حصول یقینی بنائیں تاکہ نسل نو مستقبل میں دنیا دے کندھے سے کندھا ملا کر چل سکے۔

  • ستاروں کے راز تحریر: ڈاکٹر راحیل احمد

    ستاروں کے راز تحریر: ڈاکٹر راحیل احمد

    خالق کائنات نے جہاں اس فرش أرضی کو پہاڑوں، ندی نالوں ، گنگناتے جھرنوں اور سبز پوش وادیوں سے سجھایا ہے وہاں آسمان ارضی کو بھی ٹمٹماتے چراغوں سے حسن بخشا ہے اور جب چشم انسانی اس خوبصورت نظارے سے لطف اندوز ہونے کیلئے سوئے گردوں جاتی ہے تو اس سے آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ستاروں کی یہ دنیا اپنے حسن کا خراج وصول کیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

    یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے کوئی بھی چیز بے مقصد یا بے معنی پیدا نہیں کی تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی کائنات، یہ لاتعداد روشن چراغ اپنے وجود کا کوئی مقصد نہ رکھتے ہوں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قدیم زمانے کا انسان اپنی منزلوں کا پتہ لگانے کیلئے ستاروں سے مدد لیا کرتا تھا گویا قدرت نے ان چھوٹے چھوٹے کمکموں کو سفر میں انسانی رہنمائی کا منصب بھی سونپا۔ اس کے علاوہ سورة ملک میں اللہ تعالٰی کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا اور ہم ان کے ذریعے شیاطین کو دفعہ کرتے ہیں جن کیلئے المناک عذاب تیار ہے۔ ایک معتبر رویات کے مطابق گروہ شیاطین آسمان کا حال معلوم کرنے کیلئے وہاں تک رسائی کی کوشش کیا کرتے تھے جن کو روکنے کیلئے ان ستاروں کو ان کی مار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔ ” کوئی نہیں جو میرے علم کا احاطہ کرسکے مگر جتنا میں چاہوں ” 

    ستاروں کی دنیا پر اگر غوروفکر کیا جائے تو جدید سائنس کے مطابق ان کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر تو ممکن نہیں البتہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی تعداد دنیا کے تمام ساحلوں پر پڑی ریت کے ذرات سے بھی زیادہ ہے جبکہ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ان میں سے بعض ستارے ایسے ہیں جو زمین کے برابر یا اس سے کم وجود رکھتے ہیں لیکن بہت اے ستارے ایسے بھی ہیں جن کے ایک کونے میں ہماری لاکھوں زمینیں سما سکتی ہیں اور اگر ان حقائق کی روشنی میں کائنات کی وسعتوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو عقل انسانی پہلے قدم پر ہی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہوجائے۔

    رب کائنات سورة واقع میں فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی مقام کی اور اگر تم سمجھ سکو تو یہ بہت ہی بڑی قسم ہے جب کہ سائنس نے آج قدرت کے اس راز کی نقاب کشائی کرتے ہوئے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ستارے ٹوٹ کر بلیک ہول میں گرتے ہیں اور پھر اس کی وسعتوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ اب اس بلیک ہول کی وسعت پر غور کریں کہ اس حجم کتنا ہوگا جس میں سورج اور اس سے بھی بڑے بڑے ستارے سما جائیں اور ان کے وجود کا احساس تک ختم ہوجائے۔ لیکن بات یہاں تک بھی ختم نہیں ہوتئ اکیسویں صدی کے انکشافات کے مطابق کائنات میں ایسے بےشمار بلیک ہول موجود ہیں جو ٹوٹے ہوئے ستاروں کا آخری مسکن کا کام کررہے ہیں۔

    اسلامی عقائد کے مطابق علم نجوم کے اندازوں کی تصدیق کو کفر سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن اگر اس میں سے غائب اور مستقبل بینی کو نکال دیا جائے تو ستاروں کا علم بھی قدرت الہی کی تصدیق اور اس کی حمد و ثناء سے آزاد نہیں رہ سکتا کیونکہ اللہ تعالٰی کی کوئی بھی تخلیق ایسی نہیں جو نہ صرف اپنے اندر مقصدیت نہیں رکھتی بلکہ اس کائنات کے زرے سے لے کر بڑے بڑے إجرام فلکی تک اس کی شہادت دے رہی ہیں۔

    @WsiKaSlam

  • وڈیو مافیاز تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    ویسے تو وطن عزیز ہر قسم کے مافیاز کے نرغے میں ہےہی،

    مگر اب کچھ عرصہ سے ایک نیا مافیاز سر اُٹھا رہا ہے۔

    یہ مافیاز اپنے مخالفین اور اپنے ساتھیوں کی قابل اعتراض وڈیوزبنا کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور پھر بوقت ضرورت اسے استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتا ہے۔

    اس گندے مگر دھندے میں تازہ ترین بھونچال مسلم لیگی راہنما محمد زبیر کی وڈیو کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے،

    جس کے آفٹر شاکس ابھی تک جاری ہیں۔

    وڈیو کس نے جاری کروائیں؟

    وڈیوز جاری کروانے کے پیچھے مقاصد کیا تھے؟

    ان سوالات کا ابھی تک جواب آنا باقی ہے۔

    وڈیو آنے کے فورا” بعد سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں ۔

    کچھ لوگوں نے مبینہ طور پراسے مریم اور اسکی ٹیم کی کارستانی گردانا اور کچھ نے الزام ایجنسیوں پر لگانے کی کوشش کی۔

    مگر ایک بات جو فوری طور پر زہن میں آتی ہے،

    وہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں وڈیو زہن میں آتے ہی جو نام سب سے پہلے زہن میں آتا ہے،

    وہ مریم صفدر کا ہی ہے۔

    وجہ یہ ہے کہ مریم صفدر ببانگ دہل اس دھندے میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکی ہیں۔

    جج ارشد ملک مرحوم کی قابل اعتراض وڈیوز جاری کرنے کا اعزاز بھی محترمہ کو ہی حاصل ہے۔

    اس جج کو بلیک میل کر کے اپنی مرضی کے فیصلے بھی لئے اور بعدازاں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے اسکی وڈیوز بھی جاری کر دیں۔

    اس خاندان کی ججوں کو بلیک میل کر کے اور زاتی مفادات پہنچا کرمرضی کے فیصلے کروانے کی بہت پرانی تاریخ ہے۔

    ملک قیوم جیسے ججوں کے نام پر دھبہ افراد کے زریعے بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف کرواے گئے فیصلے کون بھول سکتا ہے؟

    مرحوم جج ارشد ملک کی وڈیوز کی ریلیز کے تاریخی موقع پر مریم صفدر نے ایک اور تاریخی اعلان بھی کیا تھا کہ ہمارے پاس بہت سی ایسی وڈیوز موجود ہیں،

    جو اس وقت جاری کی جائیں گی جب قائد محترم نواز شریف چاہیں گے۔

    یہ چیز حیران کن تھی کہ ایک بیٹی اعلان کر رہی تھی کہ اسکے باپ کے پاس کچھ ایسی وڈیوز ہیں،

    جن سے بوقت ضرورت مخالفین کو بلیک میل کرنے کا کام لیا جاۓ گا۔

    محمد زبیر کی وڈیوز کس نے جاری کیں،

    ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا۔

    کراچی میں کچھ وکلا نے محمد زبیر کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست دیتےہوۓ قانونی کاروائ کا مطالبہ کیا ہے۔

    دیکھتے ہیں کہ اس درخواست کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟

    محمد زبیر والی وڈیوز کی دوطرح کی انکوائری بہت ضروری ہے،

    تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

    ایک تو یہ پتہ چلایا جاۓ کہ محمد زبیر یہ کبیع فعل کس کے ساتھ اور کیوں کر رہا تھا؟

    کہیں وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کر کے کسی کا مجبوری کا فائدہ تو نہیں اُٹھا رہا تھا؟

    کیونکہ ان میں سے کچھ وڈیوز اس دور کی ہیں،

    جب زبیر بطور گورنر سندھ کام کر رہا تھا۔

    دوسری یہ چیز دیکھنی چاہیے کہ یہ وڈیوز کس نے جاری کیں اور اس کے پیچھے مقاصد کیاہیں؟

    غریدہ فاروقی،اقرار الحسن اور منصور جیسے کئی لبرلز صحافیوں کے نزدیک ،

    کہ اگر یہ گھناونا فعل باہم رضامندی سے ہوا تویہ زبیر کا نجی معاملہ ہے،

    لہذااس پر کاروائ کی ضرورت نہیں۔انکے مطابق صرف وڈیو جاری کرنے والے کو سامنے لانے کے لئے قانونی کاروائ کی ضرورت ہے۔

    یہ تھیوری اور سوچ بلکل غلط ہے،

    ہم جس معاشرے میں رہتےہیں،

    وہاں اس قسم کے گھٹیا کاموں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    زبیر کی وڈیو میں نظر آنے والا شرمناک کام نہ تو قانونی طور پر جائز قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر،

    ہمارہ معاشرہ پہلے ہی ان لبرلز کی وجہ سے تباہی کی طرف گامزن ہے۔

    یہ گھٹیا لوگ ایسے گھٹیا کاموں کے درست ہونے کا بھی جواز دینے لگے ہیں،

    جو ہماری سوسائٹی کی لیے تباہی کا باعث ہے،

    یہ رویہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

    یہ کام ہر طرح سے شرمندگی کا باعث ہے،

    خاص طور پر جب اسے کرنے والا ایک پبلک سرونٹ یا اہم سیاسی و سرکاری شخصیت ہو۔

    لبرلز کا بس چلے تو ہمیں یورپ میں پائ جانے والی بے ہودگی اور عریانیت کا حصہ بنا دیں،

    مگر اس ملک کے غیور عوام جو اپنی ملکی اور اسلامی اقدار کی اہمیت سمجھتے ہیں،

    وہ ایسا ہر گز ہونے نہیں دیں گے۔

    ہمیں وہ مادر پدرآزادی نہیں چاہیے۔

    جس سے ہم اپنے کلچراور اپنے آفاقی مذہب سے خدانخواستہ دور ہوتے جائیں۔

    ہمارے معاشرے میں بگاڑ کے لئے بہت سے مافیاز سرگرم ہیں۔

    آجکل نشر کئے جانے والے ڈرامے ہی دیکھ لیں۔

    ان ڈراموں میں موضوعات اور ڈائیلاگ و سین اتنے تھرڈ کلاس اور قابل اعتراض ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

    ان ڈراموں کو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا تک نہیں جا سکتا۔

    ان ڈراموں سے نوجوان نسل کو کھلم کھلا غلط پیغام دیا جارہا ہے،

    مستقبل کے معماروں کو مذہبی درخشندہ روایات کا باغی بنایا جا رہا ہے۔

    گھٹیا ڈراموں کےاس مکروہ دھندے ہر حکومتی خاموشی بھی ناقابل فہم ہے۔

    اس میں کوئ شک نہیں کہ ہر طرف مافیاز کی بھرمار سے حکومت بھی انڈر پریشر رہتی ہے،

    ایک مافیا پر ہاتھ ڈالا جاۓ تو کئی دوسرے مافیاز اسکی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں۔

    مگر حکومت اور قانون کے ہاتھ ان مافیاز سے لمبے ہوتے ہیں۔

    ان مافیاز کے خلاف کاروائ ضرور ہونی چاہیے تاکہ انہیں اپنی حدود اور قیود کا پتہ ہو۔

    کئی دفعہ یہ فیصلہ کرنا مُشکل ہو جاتا ہے کہ معاشرے میں بگاڑ اور تفاوت پیدا کرنے میں زیادہ کردار یہ منفی ڈرامے ادا کر رہے ہیں یا غریدہ جیسے نام نہاد اینکرز ،

    جو باہم رضامندی سے ہونے والے زنا کو جائز سمجھتے ہیں۔

    جیسا کہ محمد زبیر کی وڈیوز سامنے آتے ہی غریدہ نے اپنےٹویٹس میں کہا کہ وڈیو میں نظر آنے والا غلیظ کام اگر باہم رضامندی سے ہوا ہے تو بات دوسری ہے !

    یہاں بات دوسری ہے 

    سے مُراد غالبا” یہی ہے کہ مرضی سے کیا گیا گناہ ،

    گُناہ نہیں رہتا اور یہ کہ اسے چلنے دیں ،بس یہ تحقیق کر لیں کہ وڈیوز کیسے جاری ہوئیں؟

    ہمارے ملک میں صحافت کی بدنامی کا باعث بننے والے غریدہ جیسے ہی لوگ ہیں،

    جو ن لیگ پر اگر کوئ مصیبت آۓ تو اینکری چھوڑ کر ترجمان کا روپ دھار لیتے ہیں۔

    اور بات اگر پی ٹی آئ کی ہو تو انکا بغض ہر حال میں قائم رہتا ہے۔

    ریحام خان کی لچر قسم کی کتاب اور عائشہ گلالئی کے عمران خان پربے بنیاد میسیجز الزامات پر ہفتوں ٹاک شوز ہوتے رہے۔

    اب کہا جا رہا ہے کہ زبیر والے معاملے کی پروہ پوشی احسن اقدام ہوگا،

    حالانکہ وڈیوز میں ہر چیز پوری طرح عیاں ہے۔

    ان دوہرے معیارات نے ہمارے ملک کی صحافت کو رنڈی والا دھندا بنا دیا ہے۔

    پیسے کے بغیر نہ تو خبر دی جاتی ہے اور نہ ہی تجزیہ

    اور جب لفافہ مل جاۓ تو ایک خاص اینگل سے تبصرے کر کے حق لفافہ ادا کیا جاتا ہے۔

    محمد زبیر کی وڈیوز آنے کے بعد اسکا اپنا موقف بھی سامنے آچکا ہے،

    محمد زبیر کے مطابق یہ ایک پست زہنیت کی ڈاکٹرڈ ۔قسم کی فیک کاروائ ہے۔

    ویسے بائ دا وے،انجینئرڈ کاروائ کا تو سنتے رہتے ہیں،

    یہ ڈاکٹرڈ کاروائ کیا ہوتی ہے،؟

    اسکے بارے میں تو کوئ اس کام کا ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے،

    اور اس کام کا ڈاکٹر ،

    مریم صفدر سے بڑااور سپیشلسٹ اور کون ہو سکتا ہے؟

    جسکے پاس بقول اسکے اپنے،

    وڈیوز کی پوری لائبریری ہے۔

    محمد زبیر کو بھی ایک بار پھر اپنے قائد اور اپنے قائد کی بیٹی سے ہی رہنمائ لینا ہو گی،

    کہ یہ ڈاکٹرڈ ،کاروائ کیسے ہوئ؟#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    امریکہ افغانستان سے چلا تو گیا ہےلیکن وہ ابھی بھی افغانستان کے معاملات سے خود کو بے دخل کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ اس خطے میں اس کا Interest
    ہے کیونکہ امریکہ کے سپر پاور ٹائٹل کے لئے جو سب سے بڑا خطرہ سر اٹھا رہا ہے اس کا تعلق بھی اسی خطے سے ہے۔ اور اس خطرے کا نام چین ہے جسے کچلنے کے لئے اس وقت امریکہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور اس جنون میں امریکہ کی حالت اس وقت کسی خونخوار جانور سے کم نہیں ہے۔چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی وجہ سے ہی امریکہ میں افغانستان کے معاملے کو لیکر کافی مختلف طرح کی آراء گردش کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے انخلا کے معاملے پر امریکی سینیٹ میں فوجی قیادت اور وزیر دفاع کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

    امریکی سینیٹ میں کیا کاروائی ہوئی؟ وہ کونسی شخصیات ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ افغانستان سے تمام فوجی نکالنا، جو بائیڈن کا غلط فیصلہ ہے؟افغانستان کے معاملے پر تین اہم ممالک کیا سوچ رہے ہیں؟پاکستان پر امریکہ کو غصہ کیوں ہے کیوں وہ پاکستان کر پابندیاں لگانے کی بات کر رہا ہے؟آپ کو یاد ہوگا کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران 26اگست کو کابل ایئرپورٹ کے گیٹ پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جی ہاں وہ کابل ائیر پورٹ جو اس وقت امریکی فوج کی زیر نگرانی تھا اس حملے میں 182 افراد ہلاک ہوئے تھے ان ہلاک ہونے والوں میں
    169افغان شہری جبکہ 13 امریکی فوجی شامل تھے۔جس کے بعد اب امریکی سینیٹ کمیٹی برائے مسلح افواج نے چھ گھنٹے تک افغانستان سے امریکی انخلا اور کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے بارے میں امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرلMark Alexander Milleyامریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل Kenneth Franklin McKenzieاور وزیر دفاعLloyd James Austinسے کافی سخت سوالات کئے گئے۔ لیکن آپ کو یہ جان کرحیرت ہوگی کہ اپنے جوابات میں Mark MilleyاورKenneth McKenzieنے واضح طور پر یہ بتایا کہ انھوں نے افغانستان میں 2500امریکی فوجی برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔ کیونکہ وہ 2020 کے آخر میں اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ افغانستان سے فوجیوں کے تیز تر انخلا سے افغانستان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ البتہ انھیں یہ امید نہیں تھی کہ یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا۔جبکہ صدر جو بائیڈن نے 19 اگست کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ انھیں یاد نہیں کہ کسی نے انھیں ایسا مشورہ دیا ہو۔اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹریJen Psakiکا بھی بیان سامنے آیا کہ صدر جوبائیڈن کو افغانستان سے متعلق تقسیم شدہ رائے ملی تھی۔ لیکن بالاخر فیصلہ کمانڈر انچیف کا ہوتا ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ 20 سالہ جنگ ختم کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ صدر بائیڈن جوائنٹ چیفس اور فوج کے مخلصانہ مشوروں کی قدر کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمیشہ اس سے اتفاق کریں۔

    جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ خود امریکی فوجی افسران یہ بات جانتے تھے کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد وہاں سے حکومت ختم ہو جائے گی اور طالبان قبضہ کرلیں گے لیکن صدر جوبائیڈن نے ان کی بات کو نظر انداز کرکے خود فیصلہ لیا تو اس سب کے بعد وہ پاکستان پر الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ یہ سب پاکستان کی وجہ سے ہوا۔پاکستان وہ ملک ہے جو کبھی بھی براہ راست افغانستان میں ہونے والی جنگ کا حصہ نہیں رہا لیکن نقصان سب سے زیادہ پاکستان کا ہی ہوا۔ ہم نے اس جنگ کی وجہ سے 80 ہزار جانیں قربان کیں اور اپنی معیشت تک تباہ کروائی۔ اس کے علاوہ امریکہ جو ہمارا اتحادی ہونے کا دعوی کرتا تھا اس نے ہمارے اوپر 450 سے زائد ڈرون حملے کیے اور ساتھ ساتھ Do more کا مطالبہ بھی چلتا رہا۔ اور اب ایک بار پھر امریکہ نے اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کا ہی مکو ٹھپنے کی تیاریاں پکڑ لیں ہیں۔ امریکی سینیٹ میں 22ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا جس کا نام ہےAfghanistan counter terrorism, over-sight and accountability actاس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام جائزہ لیں کہ 2001سے لے کر 2020 کے دوران پاکستان سمیت طالبان کو مدد فراہم کرنے والے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا کردار کیا تھا جس کا نتیجہ افعانستان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا اور اس میں طالبان کو محفوظ پناہ گاہوں، مالی اور انٹیلیجنس مدد، طبی ساز و سامان، تربیت اور تکنیکی یا سٹریٹجک رہنمائی کا معاملہ بھی شامل ہو۔اس کے علاوہ بل میں طالبان کے خلاف مقابلے کے لیے اور طالبان کے پاس امریکی ساز و سامان اور اسلحے کو واپس حاصل کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ سے ان معاملات کی تحقیقات کے بعد 180دن میں پہلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ اور طالبان کا ساتھ دینے والے عناصر پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اس معاملے میں دو چیزیں بہت اہم ہیں ایک تو یہ کہ پاکستان کا نام خاص طور پر اس بل میں شامل کیا گیا ہے یعنی کہ یہ کوئی اشارہ یا تنبیہہ نہیں ہے بلکہ ڈائریکٹ پاکستان کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔اور دوسرا اہم پوائنٹ یہ ہے کہ امریکی سینیٹ میں اس وقت ڈیموکریٹک اور رپبلکن سینیٹرز کی تعداد برابر ہے دونوں کے5050ممبران ہیں ایسی صورت میں کسی بل کو پیش کرنے اور اس کو منظور کرانے کے لیے اکثریت نہ ہونے کی صورت میں نائب صدر کملا ہیرس کا حتمی ووٹ استعمال کیا جائے گا۔ اور ان کا ووٹ پاکستان کی حمایت میں آنا تو بہت مشکل ہے۔

    اب حیرت تو اس چیز پر ہے کہ امریکہ جس نے افغانستان میں خود آنے کا فیصلہ کیا۔پھر وہاں اربوں ڈالر بھی خرچ کئے۔افغان حکومت بھی امریکہ کی بنائی ہوئی تھی۔افغانستان میں فوجیوں کی بھرتیاں اور ٹریننگ بھی امریکہ نے کی جو ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔دوسری طرف سب جانتے ہیں کہ پاکستان سے طالبان کی قیادت کو رہا کرنے کا مطالبہ کس کا تھا؟ دوحا میں طالبان سے معاہدہ کس نے کیا اور ان کی واشنگٹن ڈی سی میں میزبانی کس نے کی؟جب یہ سب کچھ امریکہ کرتا رہا ہے تو قصور پاکستان کا کیسے ہو گیا۔ لیکن میں آپ کو بتاوں کہ اس بل کو پیش کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ایک تو امریکہ کی لوکل سیاست ہے کیونکہ اگلے ایک سال میں امریکہ کے Mid term elections ہونے ہیں اور رپبلکن پارٹی نے ان الیکشنز کا سوچ کر ہی Popularity
    حاصل کرنے اور سیاست کھیلنے کے لئے یہ بل پیش کیا ہے۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بل کو وجہ بناتے ہوئے پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔اس بات کے بہت زیادہ چانسز ہیں کہ جو بائیڈن انتظامیہ پاکستان کو یہ کہے کہ یہ بل رپبلکن پارٹی نے پیش کیا ہے اس میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن آپ بتائیں کہ آپ ہمیں کیا دے سکتے ہیں تاکہ ہم اس کی مدد سے اس بل کو روک سکیں۔اب بات آتی ہے چین کی امریکہ چین کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور کیونکہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی اور یہاں پر جاری سی پیک کی وجہ سے امریکہ کو ویسے ہی پاکستان اور چین پر بہت غصہ ہے۔ اور اپنی ناکامی کی وجہ سے امریکہ بالکل بوکھلایا ہوا ہے کہ کیسے اس کا سارا کا سارا الزام کسی اور ملک پر ڈال دیا جائے اس لئے اس معاملے میں پاکستان کا انتخاب کیا گیا ہے کہ ایسے ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے پاکستان بھی اور چین بھی۔ پاکستان کو ویسے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ معیشت کا برا حال ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے اور ایسی صورتحال میں اگر امریکہ پاکستان پر پابندیاں لگاتا ہے تو سوچ لیں کہ حالات کئی گنا زیادہ خراب ہو سکتے ہیں اور جتنے حالات خراب ہوں گے سی پیک پر کام اتنا ہی متاثر ہو گا اور امریکہ کو چین کا راستہ روکنے میں اتنی ہی آسانی ہو گی۔لیکن پاکستان اور چین کو بھی یہ بات بہت اچھے سے سمجھ آ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے پر دونوں ممالک نے بہت محتاط رویہ اپنایا ہوا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس حوالے سے موقف اپنایا ہے کہ اگر طالبان نے شمولیتی حکومت قائم نہ کی تو آنے والے دنوں میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک غیر مستحکم اور انتشار کا شکار افغانستان کی صورت میں نکلے گا۔اور چینی وزارت خارجہ نے بھی بیان دیا ہے کہ چین امید کرتا ہے کہ افغانستان میں تمام دھڑے مل کر اپنی عوام اور بین الاقوامی برادری کی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں گے اور ایک شمولیتی سیاسی ڈھانچہ کھڑا کریں گے۔پاکستان اور چین کے علاوہ روس کے وزیر خارجہ نے بھی اسی سے ملتا جلتا بیان دیا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان نے جو وعدے عوامی طور پر کیے ہیں انھیں پورا کیا جائے۔ ہماری پہلی ترجیح یہی ہے۔یہ تینوں وہ ممالک ہیں جنھوں نے دوحہ امن مذاکرات اور طالبان کی عبوری حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت کی بظاہر حمایت بھی کی تھی۔

    اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اب کی بار خاموش ہیں حالانکہ جب پہلے طالبان کی حکومت آئی تھی تو پاکستان کے ساتھ انھوں نے بھی اس کو تسلیم کیا تھا۔ دراصل اب کی بار یہ سب جانتے ہیں امریکہ اس وقت بہت غصے میں ہے اور ایسی صورت میں اگر ایک مرتبہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا تو یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکے گا۔ اس کے بعد ان ممالک کو اپنے فیصلے کا دفاع ہی کرنا ہو گا۔ اس لئے ان ممالک کے لیے فی الحال یہی بہتر ہے کہ یہ انتظار کریں۔ خاص طور پر پاکستان کیونکہ چین اور روس تو پھر بھی معاشی طور پر مضبوط ملک ہیں امریکہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ہے اور وہ اپنی عزت بچانے اور غصہ اتارنے کے لئے کسی بھی حد تک پاکستان کے خلاف جا سکتا ہے۔

  • میڈیا کا کردار تحریر: ملک ضماد

    میڈیا کا کردار تحریر: ملک ضماد

    تو بات ہورہی تھی ہمارے میڈیا کی
    کل ہی زبیر عمر صاحب کی کچھ وڈیوز لیک ہوئیں جن پر ہمارا میڈیا ہمیں اخلاقیات پڑھا رہا تھا وہی لوگ جن کا خود اخلاقیات سے دور دور تک کوئی تعلق نہی زیادہ دور نہیں جاتے چند دن پہلے کے واقع کو ہی دیکھ لیتی ہیں جس نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کر کہ رکھ دیا
    تو بات ہوری تھی عائشہ اور ریمبو والے واقع کی زرا تفصیل میں جاتے ہیں۔۔ کیونکہ اب تو معاملہ کھلنے کے بعد دب بھی چکا ہے
    پہلے پہل تو محترمہ نے خود اپنے عاشقوں کو دعوت دی آنے کی لیکن یہاں سوال یہ کہ
    لڑکی نے جھنڈا انڈیا کا اٹھایا یا پاکستان کا سہی سلامت کیسے نکلی یہ ڈیبیٹ ہی نہیں مسلہ یہ ہے کہ ہم جب پندرہ اگست کو انڈیا کے یوم آزادی والے دن انکی ہار کی خوشیاں منارہے تھے اس سے ایک دن پہلے پاکستانی عوام پاکستان کا قانون اور شخصی ازادی جیسے حساس موضوغ عالمی دنیا سے لخ لعنت سمیٹ چکے تھے
    اگلہ سوال
    وہ منار پاکستان کیسے گئی اور کیا اتنے اہم دن کوئی بھی فیمیلز لے کر نہیں آیا تھا جیسے اس بات کو جانتا ہے کہ آج منٹو پارک اور اقبال کی آرام گاہ پر پاکستان کی کی عزت کا جنازہ نکالنا ہے
    کیوں کہ وڈیو میں دور دور تک کوئی اور عورت نظر نہیں آرہی
    اب پاکستانی سینٹی عوام سے گزارش ہے کہ زرا تہ تک جاکر سوچیں ٹھیک ہے معاملہ دل خراش ہے مگر اس سے ایک دن پہلے طالبان کابل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے اور اس تین چار دن پہلے خان سے ایک امریکی صحافی پاکستان میں اسلام کی وجہ سے عورتوں کی آزادی کو خطرہ سمجھ تھی جس کے جواب میں خان صاحب نے یورپئن کنٹریز میں ریپ کے اگلے پچھلے واقعات سنا کر پاکستان کو عورت کے لیے سیگ ملک کہا تھا

    اور معاملہ تب تک دبا رہا جب تک عزت ماآب اقرار الحسن سید اور جناب یاسر شامی نے انکا انٹر ویو نا کر لیا وہ پاکستان جہاں نمرہ علی کی بھونڈی وڈیو دو گھنٹے میں وائرل ہوجاتی ہے وہاں ایک سیکچوئل ہراسمینٹ کی وڈیو تین دن تک کیسے دبی رہی جب کہ وڈیو کئی لوگوں نے بنائی اوت یہ کیسے ممکن ہو کہ وہ سارے لوگ اس انتظار میں ہوں کہ کب طالبان عورت کے لیے برقع لازمی قرار دیتے ہیں

    پاکستانی میڈیا اگر پاکستان کے حق میں کوئی خبر دیکھ لے تو اس کو نشر کرنے کے لیے ان کو پہلے تو کافی پریشانی ہوتی ہے پھر اگر نشر کر بھی دیں تو سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں انڈین میڈیا اپنی گورنمنٹ کی جھوٹی خبر کو بھی ایسے سچ کر کے دیکھاتا ہے جیسے وہ سچ ہی ہو

    پاکستانی میڈیا کو اگر پاکستان کو بدنام کرنے یا پاکستان کا امیج خراب کرنے کے حوالے سے ہلکی سی خبر یا امکان بھی نظر آ جائے تو اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے بس پاکستان میں طوفان برپا ہونے والا ہے

    حکومت پاکستان اگر کوئی پالیسی بنانے کا سوچتی ہے تو ہمارا میڈیا اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ میڈیا کا احتساب نا ہو سکے بلکہ میڈیا والے اپنی مرضی سے سب کچھ کر سکیں

    اگر کوئی میڈیا سیکشن حقیقت عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتا یے تو باقی میڈیا مالکان اس کے خلاف کھڑے کو جاتے ہیں اور اس کو کام کرنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں