Baaghi TV

Category: متفرق

  • منصب کی بےتوقیری  تحریر: آصف گوہر 

    ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔

    ۞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°

    "۔۔۔۔۔۔۔۔  اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    سورة الأنعام 151

    مختلف سیاسی جماعتوں کے بدکار رہنماؤں کی  ویڈیو لیک ہونا معمول بن چکا مگر معاشرے اور ریاست کا اس پر ردعمل انتہائی قابل افسوس ہے ۔بےحیائی کے مناظر پر مبنی ویڈیوز چند روز سوشل میڈیا کا موضوع بحث بنتی ہیں اور پھر یکسر بھلا دی جاتی ہیں نہ ملک کا قانون حرکت میں آتا ہے نہ عدالتیں از خود نوٹس لیتی ہیں اور یوں معاملہ ختم ہوجاتا ہے اور بدکار پورے طم طراق سے اپنی گندی سیاست کو جاری رکھتا ہے ۔

    بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بےحیائی کو برائی سمجھا ہی نہیں جاتا ایسے بدبخت صحافی اور نام نہاد دانشور بےحیائی کے دفاع میں سینہ ٹھونک کر سامنے آجاتے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے ترجمان زبیر عمر کی پانچ قابل اعتراض اور فحش ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد نیوز چینل پرخبریں پڑھتے پڑھتے صحافی بننے والی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اگر زبیر عمر نے پانچ خواتین کے ساتھ باہمی رضامندی سے بدکاری کی تو اس پر کوئی اعتراض نہیں بنتا ہاں اگر نوکری کا جھانسہ دیکر بدکاری کی گئ تو پھر سوال بنتا ہے۔

    اس طرح کی چربی زبانی کی وجہ سے بدکاروں کے حوصلے بڑھتے ہیں۔اور زبیر عمر جیسے بدکار ویڈیو لیک ہونے پر منہ چھپائے کی بجائے اگلے ہی لمحے ٹی وی پر بیان بازی کر رہا ہوتا ہے۔

    اور تو اور ان بدکاروں کی سیاسی جماعتیں بھی ان کی کھلی بےحیائی پر نہ صرف خاموشی اختیار کرتی ہیں بلکہ اپنے ان رہنماؤں کی سرپرستی بھی جاری رکھی جاتی ہے۔ طلال چوہدری کی تنظیم سازی عابد شیر علی کی فحش گوئی راحیل اصغر کی سرعام بدزبانی اور زبیر عمر کی ویڈیوز پر مسلم لیگ ن نے بطور سیاسی جماعت کو ایکشن نہیں لیا۔ یاد رہے یہ بدکاری زبیر عمر نے نہیں کی بلکہ گورنر زبیر عمر نے کی ہے

     ایک بندہ گورنر جیسے اہم منصب پر فائز ہوتے ہوئے کیسے مجبور خواتین کو نوکریوں کا جھانسہ دیکر ان کے ساتھ منہ کالا کرتا رہا اور ریاست خاموش رہی ۔ایسے زندیق شخص کو اس منصب پر فائز کرنے والا بھی اس کے جرم اور گناہ میں برابر کا شریک ہے

    گناہ کو گناہ نہ سمجھنے والے معاشرے انارکی اور ٹو پھوٹ  کا شکار ہوکر وحشی درندوں کا مسکن بن جایا کرتے ہیں۔

    ہمارے مذہب نے شادی شدہ زانیوں کے لئے سزا مقرر کی ہے اور سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت ان تمام ویڈیوز کا فرانزک تجزیہ کروائے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو گرفتار کرکے حد لاگو کرے ۔

    آئین کی متعلقہ شق کے تحت ایسے بدکاروں کو سیاست میں حصہ لینے اور میڈیا پر بیان جاری کرنے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے ۔اگر آئین میں اس بدکاری کے متعلق کوئی سزا مقرر نہیں تو حکومت ضروری آئین سازی کرے تاکہ آئندہ کسی کو گورنر جیسے اہم ریاستی اور آئینی عہدہ کو استعمال کرتے ہوئے اسی بدکاری کی جرات نہ ہو سکے۔                             @EducarePak

  • ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟

    خدا جانے کیوں ایک عرصہ ہوا اس ایلیٹ کلاس سے ایک قسم کی گھن آنے لگی ہے۔ ان لوگوں میں کوئی انسانی اقدار، کوئی شرم و حیا نام کی شے نہیں ہوتی۔ مجھے کوئی اخلاقی بھاشن نہیں دینا اور نہ ہی راضی بہ رضا کے معاملات میں دخل در معقولات کا قائل ہوں۔ مگر ایک حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ کچھ معاملات پوشیدہ کرنے کے ہوتے ہیں۔ اور ان معاملات پر چاہے معاشرہ کتنا ہی مدر پدر آزاد کیوں نہ ہو، ملک مزہبی ہو کہ سیکولر، معاشرتی اور سماجی قدغنیں لگی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین سے متعلق وہ اسکینڈلز ہیں جو گاہے گاہے سامنے آتے رہے اور ان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا گئے۔ امریکی معاشرہ بھی کچھ چیزوں کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مشرقی روایات کے باب میں کیا عرض کرنا۔

    بھائیو اور بہنو، جو کرنا ہے کرو، کون روکے ہے۔ (ویسے کون نہیں کرتا؟ کچھ ویڈیو میں کرتے ہیں۔ کچھ ویڈیو دیکھ کر کرتے ہیں۔) مگر اس دیدہ دلیری سے، اس بے احتیاطی اور بے باکی سے؟ چور تب تک چور ہے اور باکمال ہے جب تک چوری پکڑی نہیں جاتی۔ چور ہر ممکن احتیاط کرتا ہے کیوں کہ اس کو پتا ہے کہ وہ ایک جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ایک اوسط درجے کا آدمی یہ دوسرے "معاملات” بھی اسی چور کی طرح چوری چھپے کرتا ہے مگر ایلیٹ کلاس اپنی ڈھٹائی، بے شرمی اور بے باکی کی رو میں ایسی بہہ جاتی ہے کہ نہ معاشرتی حساسیت کی پرواہ، نہ مزہبی قدغنوں کا ادراک۔ نہ انسانی اقدار کا پاس نہ اپنی ساکھ کی پرواہ۔ نہ دوسرے کے خاندان کو خاطر میں لاتے ہیں نہ اپنے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طبقے میں طلاق کا رجحان سب سے زیادہ ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     زبیر عمر کی ویڈیو ایک تازہ واردات سہی مگر یہ نہ آخری ہے اور نہ پہلی۔  ویڈیوز کی فہرست کافی طویل ہے۔

    مجسمہ حسن و خوبی، ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی ایک بچی کی ماں سے کس لب و لہجے میں بات کر رہی ہے؟ سن کر ایک ابکائی سی آتی ہے۔
    کرنل کی ڈراؤنی بیوی کو کس نے نہیں دیکھا ہوگا۔
    جسٹس ارشد ملک کی وڈیو آئی جو واشروم میں جا کر دیکھنے کی چیز ہے۔
    عمران خان کے بارے میں ریحام خان کی کتاب میں انکشافات دیکھ لیں۔ اگر کسی نے تہمینہ درانی کی My Feudal Lord پڑھی ہے تو اس کو اس کلاس کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
      چیئرمین نیب ایک کال میں کس چاؤ سے سر تا پا ایک خاتوں کو چوم رہا ہے۔ اپنا طلال چودھری جو حال ہی میں تنظیم سازی کے لیے گیا اور بازو تڑوا آیا۔ نور مقدم اور اس کا قاتل دونوں ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ چوہان ہوئے، مفتی ہوئے کہ شیخ جی ہوئے، سب حریم شاہ نامی حسینہ کی گھنیری زلفوں کے اسیر ہوئے۔ ملک ریاض کی بیٹی ایک ویڈیو میں دو لڑکیوں کو اپنے شوہر کے ساتھ اپنے ہی بنگلے میں رنگے ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ کہاں تک سنو گے۔ کہاں تک سناؤں۔

    یاد آیا۔ عرصہ ہوا ایک کلپ نظر سے گزری تھی۔ امریکہ میں بسا ایک شخص دہائیاں دے رہا تھا کہ اگر اس کا تعلق مڈل کلاس اور غریب طبقے سے ہوتا تو وہ امریکہ میں کبھی نہ آ بستا۔ آگے چل کر وہ پاکستان کے اس طبقے میں بے غیرتیوں اور بے شرمیوں کی جو طویل لسٹ پیش کر رہا ہے، وہ سننے سے تعلق رکھتی ہیں، لکھنے کی نہیں۔
    تحریر : جواد خان یوسفزئی
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ا یسا پر اسرا مقام ہے جہاں پتھر خود بخود حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا میں اس جگہ کا نام ڈیتھ ویلی نیشنل پارک رکھا گیا ہے جہاں پتھر اپنی جگہ سے خود بخود سرکتے ہوئے نظر آتے ہیں دنیا کے اس خشک ترین مقام میں ایک جھیل کی خشک تہہ میں ایسا ہوتا ہے جسے ریس ٹریک پلایا کا نام بھی دیا گیا ہے ریس ٹریک کی خشک سطح پہ بے جان پتھر خود بخود سرکتے ہیں جس سے ان کے پیچھے ایک ٹریک بن جاتا ہے۔

    2014 میں 2 سائنسدانوں نے بتایا تھا کہ کئی بار یہ بھاری اور بڑے پتھر برف کی پتلی مگر شفاف تہہ میں سورج والے دنوں میں سرکتے ہیں، جسے انہوں نے آئس شوو کا نام دیا سائنسدان جیمز نورس نے اس موقع پر بتایا تھا کہ ہم یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے کہ دنیا کا وہ مقام جہاں سال بھر میں اوسطاً محض 2 انچ بارش ہوتی ہے، چٹانی پتھر اس طرح سرکتے ہیں جیسے عموماً آرکٹک کے خطے میں نظر آتا ہے۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    انہوں نے یہ دریافت حادثاتی طور پر کی تھی، ویسے یہ ان پتھروں کی حرکت کی ہی جانچ پڑتال کررہے تھے مگر انہوں نے ان چٹانوں کو دسمبر میں اس وقت متحرک دیکھا جب وہ وہاں موجود اپنے ٹائم لیپس کیمروں کو چیک کرنے گئے۔

    رپورٹس کے مطابق ان چٹانی پتھروں کا وزن کئی بار 200 کلو گرام سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک منٹ میں 15 فٹ سے زیادہ سرک سکتے ہیں، اکثر یہ اپنی جگہ سے کئی کلومیٹر دور تک چلے جاتے ہیں۔

    حیران کن طور پر کسی انسان نے ان پتھروں کو حرکت کرتے نہیں دیکھا یعنی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا البتہ انہیں 2014 میں ٹائم لیپس فوٹوگرافی کی مدد سے ضرور حرکت کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے اور اس وقت اس حیران کن معمے کی ممکنہ وجہ بھی سامنے آئی۔

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

  • کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    قارئین آج میں ایک بہت اہم موضوع پر لکھنےجارہا ہوں یوں تو میں اپنی تمام تحریروں میں کوشش کرتا ہوں کے میری لکھی گئی تحریر سے کسی کی دل آزاری نہ ہو اور قلم کی آواز ایوانوں میں سنائی دے جیسا کے آپ کے علم میں ہے کے ہر جگہ کرونا کا رونا ہے لیکن کرونا جاتے جاتے بھی کراچی کے کئی پڑھے لکھے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرتا جا رہا ہے آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کرونا کا نوجوانوں کے مستقبل سے کیا واسطہ تو آئیں میں آپ کو بتاتا ہوں کرونا کس طرح نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے بالخصوص کراچی کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کررہا ہے آج میرا جانا اپنے کسی دوست کے پاس ہوا جو کے سندھ پولیس میں بطور ایس ایچ او ملازمت کر رہا ہے میں اس کے پاس بیٹھا خوش گپیاں مار رہا تھا کے اچانک اس دوست کے فون کی گھنٹی بجی اس نے فون کال اٹھاتے ہی کہا سر میں گرفتاریاں کر رہا ہوں جن لوگوں نےکرونا ویکسین نہیں لگوائی دوسری جانب کال پر کوئی اعلیٰ افسر موجود تھا کیونکہ میرا ایس ایچ او دوست اسے سر کر کے مخاطب کر رہا تھا دوسری طرف سے کرونا ویکسین نہ لگانے والوں کے خلافِ 40 ایف آئی آرز درج کرنے کا حکم صادر فرمایا جا رہا تھا چونکہ میں ایس ایچ او صاحب کے قریب بیٹھا تھا تو مجھے دوسری جانب سے کی جانے والی گفتگو کی آواز سنائی دے رہی تھی اور میرا ایس ایچ او دوست سر سر اور سر بولے جارہا تھا فون کال بندہونےکےبعد میں نے اپنے دوست موصوف سے پوچھا کے یہ کیا چکر ہے 40 ایف آئی آرز کس کی کرنی ہے اور آج ہی کیوں کرنی ہے میرے دوست نے مجھ سے کہا بھائی آج سے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کےخلاف مہم کا آغاز کیا جا چکا ہےاور ایف آئی آر درج کرنے کا حکم ملا ہے اور مجھے فوری طور پر حکم ملا ہے کے کم ازکم 40 ایف آئی آرز درج کر کے رپورٹ واٹس کرنی ہے افسران بالا کو یہ تمام باتیں سن کر میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور میں نے اپنے ایس ایچ او دوست سے کہا یار یہ تو بہت زیادتی اور ظلم ہو جائے گا کہنے کو تو یہ ایف آئی آر چھوٹی سی ہے لیکن یہ ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دے گی ایک ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ نوجوان کسی باہر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے نہیں جا سکتا سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکتا اسلحہ کا لائسنس نہیں بنوا سکتا تو یہ تو بہت بڑا ظلم ہو جائے گا اس سے پہلے بھی آپ کو یاد ہو گا ون وے اور ڈبل سواری پر نوجوانوں کی ایف آئی آرز درج کر کے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کیا جا چکا ہے کہنے کو تو یہ تمام ایف آئی آریں ایک چھوٹی سی سیکشن 188کے تحت کاٹی جاتی ہیں لیکن یہ چھوٹی سی ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرجاتی ہے کرمنل ریکارڈ ڈیٹا بیس پر انٹری کر کے نوجوانوں پر ساری زندگی کا دھبہ لگا دیا جاتا ہے پوری دنیا میں اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں کے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہوں لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کے کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ کیا جارہاہے خدارا نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ نہ کیا جائے یہ نوجوان مستقبل کا معمار ہیں اس ملک کی باگ دوڑ ان ہی میں سے کسی نوجوان نے سنبھالنی ہے براہِ مہربانی کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کے خلافِ ایف آئی آر کے بجائے اگر جرمانہ کر دیا جائے تو بھی لوگ ویکسین لگوا لیں گے اگر ہم فرض کر لیں کے ایک تھانے میں 40 نہیں 25 ایف آئی آرز روزانہ کی بنیاد پر درج کی جائیں تو کراچی کے 108 تھانہ جات سے 2700 ایف آئی آرز درج کر کے نوجوانوں کو تباہی کی جانب گامزن کر دیا جائے گااس پر نظر ثانی کی جائے اور اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کیاجائے چیف جسٹس آف پاکستان اس بات کا از خود نوٹس لیں اور کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ پونے سے بچائیں۔

    جزاکِ اللہ

    Name:

    Sadiq Saeed | صادق سعید

    Twitter Handle

    @SadiqSaeed

  • صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    .

    پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پولیس صحافیوں کی بے حد عزت کرتی ہے۔ چائے پلاتے ہیں ساتھ تصویر بناتے ہیں۔ صحافی اتنے میں پھولے نہ سما پاتے ہیں کہ ہمارے فلاں آفسر کے ساتھ تعلق ،فلاں ایس ایچ او میری بہت قدر اور عزت کرتا ہے۔ اس افسر کا کہنا ہے کہ تمہاری خبریں اور تحریر بہت اچھی ہوتی ہے۔ وہ افسر میرے کام کی بہت تعریف کرتا ہے۔ اس طرح معاشرے کے افراد صحافیوں کی عزت کرنے لگتے ہیں کہ جب کبھی کام ہوا ،تو یہ کام آئے گا۔

    صحافی افسران کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔ افسران کے قصیدے لکھتا ہے۔ ڈکیتی اور چوری کی خبریں شائع کرنے کی بجائے چھپا دیتا ہے۔ پولیس کے ظلم و ستم ، رشوت ستانی، ناانصافی کی خبروں پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بجائے میرٹ کرنے کے خبریں لکھتا ہے ویلڈن ، کرائم فائٹر، دبنگ آفیسر، جرائم کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ۔ صحافی اندر سے ڈرتا بھی ہے کہ پولیس کی نہ تو دوستی اچھی ہوتی ہے، نہ پولیس کی دشمنی اچھی ہوتی ہے۔ کہ ایسا نہ ہو کسی مقدمے میں میرا نام ڈال کر مجھے زلیل وخوار کیا جائے۔

    پولیس والے اچھی سیلری اور فیس لے کر ملک و قوم کی خدمت سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ میں انعامات اور تعریفی اسناد وغیرہ۔ اس کے برعکس صحافی تنخواہ کوئی نہیں، گھر چلانے کے لیے محنت مزدوری، یا چند صحافی ناجائز ذرائع آمدنی۔ رشوت یا فیس نہیں، شیلڈ یا انعام نہیں۔ جتنی مرضی ایمانداری سے چلے ، بلیک میلر ، اور پتہ نہیں کیا کیا الزامات ۔ مطلب گھوڑا کھوتا برابر۔ بلکہ کھوتوں کی تو آج کل سنا ہے زیادہ قدر و منزلت ہے۔

    اب صحافی کو کام پڑ گیا ہے،اپنا یا عزیز یا دوست کا۔ صحافی بڑا خوش ہوتا ہے،دل میں کہ میں نے تو اس آفسر کی بڑی تابعداری کی ہوئی ہے۔ انشاء اللہ جاتے ہی کام ہو جائے گا۔ کام بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ کام بھی جائز ہے ،ناجائز نہیں ہے۔ اب صحافیآافسر کے پاس پہنچ گیا۔ کام سے بھی چھٹی کی ، لینا دینا بھی کچھ نہیں۔ اب افسر پانی یا چائے ،عزت کرے گا۔

    جیسے ہی صحافی کام بتائے گا۔ تو افسر کو یاد آ جاتا ہے کہ اس کام کے تو میں نے پیسے لیے ہوئے ہیں۔ اس مفت خورے نے دینا بھی کچھ نہیں ہے ۔ افسر فوری سوچتا ہے کہ اب اس کو کس طرح ٹالنا ہے۔ سر معاملہ چونکہ اوپر تک نوٹس میں ہے۔ اس لیے میں کچھ نہیں کر سکتا،آپ آ گئے ہیں، آپ سے وعدہ ہے ،میرٹ ہو گا۔ بے فکر ہو کر جائیں۔ یا کہا کہ مدعی کو مطمئن کر لیں ،ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب اسی رات تفتیشی 5 ہزار روپے لے کر بندہ چھوڑ دیتا ہے۔بلکہ مدعی کو ڈرا دھمکا اور بے عزت کر کے راضی نامہ لکھوا دیتا ہے۔ یا کسی تفتیش میں 2 سے 3 بار صحافی جا چکا ہے۔ اب کسی نیچے ملازم کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی بے عزتی کرو ، روایتی طریقہ اختیار کرو، تاکہ ہمارا سر چھوڈ دے۔ ہمیں فیس لے کر گناہ گار اور بے گناہ لکھنے دے۔ کیونکہ نہ اس نے پیسے دینے ہیں،نہ لینے دینے ہیں۔ اور تھانہ کہ آپ کو پتہ ہے کتنے اخراجات ہوتے ہیں۔ پھر صحافی پرچہ ہو جانے پر یا کوئی زیادتی ہو جانے پر پولیس کے کسی بڑے آفسر سے رابطہ کرتا ہے۔ اب بڑے آفسر کو سب پہلے سے ہی علم ہوتا ہے۔ یا وہ کوئی نوٹس نہیں لیتا ہے۔ صحافی سوچتا رہتا ہے کہ میں نے تو اس کی بڑی تابعداری کی تھی۔ زیادہ پریشر آنے پر پرچہ خارج کرنے کے احکامات،یا ریلیف دینے کے فرضی احکامات ۔ لیکن اس کے باوجود طریقہ پاکستانی اور روایتی، جمع قائد اعظم۔ 

    اس سب کے باوجود،صحافی کڑتا رہتا ہے۔ لیکن مجبور ہوتا ہے،ویلڈن کے پی کے پولیس۔ کیونکہ اسے اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ ہمارا دیس پولیس اسٹیٹ ہے۔ اور ہماری باری ان کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ اور وہی کام ٹاؤٹ چند سکوں میں کروا لیتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ یہاں کسی بھی جھوٹ پر مبنی من گھڑت کہانی میں نام آنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ اور کس طرح پیسے لے کر بے گناہ کو گناہ گار اور گناہ گار کو بے گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ لوگ روازنہ یہ معاملات لے کر اس کے پاس آتے ہیں۔ لیکن وہ خاموش رہتا ہے،کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ ہماری پولیس کسی کو اٹھا کر غائب کر دے اور کچھ بھی کر دے۔ لیکن کچھ نہیں بنتا ، کیونکہ ہمارا ملک پولیس اسٹیٹ ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کس آفسر نے کتنا مال بنایا اور کس قدر تیزی سے ترقی کی ،لیکن وہ خاموش رہتا ہے کیونکہ اس کی باری پولیس کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کہاں تک کتنے پیسے پہنچ رہے ہیں، لیکن وہ خاموش رہتا ہے کہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ پولیس کی نہ دوستی اچھی ،نہ دشمنی۔ 

    انصاف بکتا ہے تھانہ کی دکان پر سے

    روٹی خریدوں یا انصاف کس دکان سے

    سوچ رہا ہوں کہ تفتیشی کو فیس دوں

    یا وکیل صاحب کو،لیکن فیصلہ تو ہے مثل پہ

    لعنت ہے ایسے نظام پہ،انصاف ناپید ہے

    مجرم دندناتے ہیں،مسکین کے لیے جیل

    عدالت بھی ہے چلتی تفتیش پہ یارو

    سفارشی پولیس کو پسند نہیں ہیں یارو

    بس پیسے دو اور کام اپنے لو ،ہے شرط

    نام نہیں لو گے ،تو ہر کام ہو جائے گا

    ٹوکن مشین کی طرح چلتا ہے نظام یارو

    پورے ملک کا دستور ہے،بس قائد اعظم یارو

    بات میری مانو اور تم بھی قائد کے اصول اپناٶ۔

  • بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے امتحان میں نقل کرانے والا گروہ گرفتار

    بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے امتحان میں نقل کرانے والا گروہ گرفتار

    بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس نے سرکاری ٹیچرز کی بھرتی کے لیے ہونے والے امتحان میں چیٹنگ کرانے والے گروہ کو بے نقاب کردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق راجستھان پولیس نے ریاست بھر میں چھاپے مار کر اس گروہ کے 40 کارندوں کو گرفتار کرلیا، جو چیٹنگ کے لیے چپلوں میں کالنگ آلات نصب کرتے تھے۔

    نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: اعظم خان اور شاہین شاہ آفریدی کو جرمانوں کا سامنا

    رپورٹس کے مطابق بیکانیر شہر میں ایک خاتون سمیت گروہ کے 5 کارندوں کو پکڑا گیا جو امتحان دینے والے امیدواروں کی چپلوں میں بلیو ٹوتھ ڈیوائس لگاتے تھے اور ایک چپلوں کا جوڑا 6 لاکھ روپے میں فروخت کرتے تھے۔

    ویڈیو لیک کے بعد بھی وہ اتنے ڈھیٹ کہ ابھی تک شرمندہ تک نہیں پوئے. زبیر عمر کی…

    چپلوں کے سول میں ایک ننھی سی بیٹری اور ایک سم کارڈ چھپایا جاتا تھا جبکہ امیدوار کے کان میں ننھا سا مائیکرو فون لگایا جاتا تھا جس کے ذریعے وہ سوالات کے جوابات سن کر پرچہ حل کرلیتے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان میں ایک معطل سب انسپکٹر بھی شامل ہے جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جارہے ہیں گرفتار ملزمان سے بلیوٹوتھ ڈیوائسز اور سم کارڈز برآمد کیے گئے ہیں۔

    میرے خلاف جعلی اور تبدیل شدہ ویڈیوز جاری کرنا کوئی سیاست نہیں،محمد زبیر

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ ایک کوچنگ سنٹر کا مالک تلسی رام بتایا جاتا ہے، جو اس سے پہلے بھی نقل کے الزامات میں گرفتار ہوا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اسی کیس میں جب پولیس نے ایک جوڑے کو نقل کے الزام میں گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ اس جوڑے نے اپنی ایپلیکیشنز میں یکساں نام، والدین کے نام، یہاں تک کہ تاریخ پیدائش بھی یکساں لکھی تھی اسی طرح اپنی بیویوں کو چیٹنگ کرانے کے الزام میں 2 پولیس کانسٹیبلز کو بھی معطل کیا گیا۔

    ی آئی اے عملے کی دیانتداری، مسافر کو لاکھوں روپے لوٹا دئیے

  • انڈیا امن کا دشمن تحریر : نواب فیصل اعوان

    انڈیا امن کا دشمن تحریر : نواب فیصل اعوان

    بھارت شروع دن سے آج تک پاکستان کی مخالفت ہی کرتا آیا ہے چاہے وہ عالمی سطح پہ ہو ملکی سطح پہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے امن کو تباہ کرنے میں کوٸ کسر نہیں چھوڑی ۔
    بھارتی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت نے ستر سال سے زاٸد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کشمیر پہ اپنا ناجاٸز تسلط برقرار رکھا ہوا ہے ۔
    اقوام متحدہ میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف کٸ بار قراردادیں منظور ہوٸیں مگر اقوام عالم ان قراردادوں پہ عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے ۔
    پاکستان نے کٸ بار بھارت کو بے نقاب کیا ہے چاہے وہ افغانستان سے بیٹھ کے پاکستان پہ دہشتگردانہ کارواٸیاں کرانے کا معاملہ ہو یا بلوچستان کے حالات خراب کرنے کیلۓ باغی بلوچوں کو فنڈنگ کا معاملہ ہو پاکستان اس معاملے کو اقوام عالم تک پہنچاتا رہا ہے ۔
    بھارت نے پاکستان کو غیر محفوظ اور غیر مستحکم کرنے کیلۓ سوشل میڈیا پہ بھی انڈین کرونیکلز کی شکل میں پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پہ ایک منظم نیٹ ورک چلایا پے جو ڈس انفو ویب نے بے نقاب کیا ۔
    پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ کیلۓ غیرمحفوظ ثابت کرنے کیلۓ بھارت سری لنکن ٹیم پہ بھی حملے میں ملوث رہا ہے ۔
    حال ہی میں جس طرح پاکستان کو بین الاقوامی سطح پہ نیچا دکھانے کی جو کوشش کی گٸ الحَمْدُ ِلله پاکستان کے ریاستی اداروں نے بہترین کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ انڈیا کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ۔
    بھارت کی جانب سے نیوزی لینڈ ٹیم کو ہراسمنٹ ای میل بھیجنے کے معاملے سے سب بخوبی آگاہ ہیں کہ کس طرح گپٹیل کی بیوی کو مسلمان کے نام سے ای میل بنا کے دھمکی دی گٸ کہ اس کے شوہر کو پاکستان میں قتل کر دیا جاۓ گا ۔
    پاکستان و نیوزی لینڈ کی سیریز کا ملتوی ہونا اسی کی ہی کڑی پے ۔
    حالانکہ سیکیورٹی کے بہترین انتظامات ہونے کے باوجود نیوزی لینڈ کا سیریز منسوخ کر کے جانا جہاں ان کی ٹیم کو نان پروفیشنل بنا گیا وہیں ریاستی اداروں کی دو دن کی محنت سے اس فیک ای میل کے پیچھے بھارت کا نکلنا دنیا کیلۓ المیہ ۔
    نیوزی لینڈ کے دورے سے قبل سکیورٹی کے انتظامات چیک کرنے کیلۓ جو وفد آیا تھا اس نے پاکستان کے سکیورٹی کے بہترین انتظامات کو سراہا تھا مگر اچانک سیریز کا ملتوی ہونا ایک بین الاقوامی سازش ہے ۔
    کیا بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آۓ گا ۔؟
    یہ وہ سوال ہے جو قبل از وقت تو نہیں ہے مگر عالمی فورم پہ بھارتی موجودگی میں پوچھا ضرور جاۓ ۔
    دنیا جانتی ہے کہ بھارت ایک انتہا پسند ملک ہے جہاں اقلیتیوں کو برابری کے حقوق حاصل نہیں ہیں ۔
    بھارت کو دنیا لگام دے کیونکہ یہ دنیا کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ..
    موجودہ دور میں جس طرح بھارت پاکستان سے دشمنی کو فروغ دے رہا ہے وہ ہماری آنے والی نسلوں کیلۓ بہت بھیانک ثابت ہو سکتا ہے ۔
    اس وقت جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں جو کہ خطے میں قیام امن کیلۓ مثبت رویہ نہیں ہے ۔
    بھارت پاکستان دشمنی میں اس قدر آگے نکل گیا پے کہ وہ اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ اسلحے کی خرید کیلۓ مختص کرتا ہے ۔
    بھارت کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں ہے اس کا واضع ثبوت یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل دو بھارتی باشندے یورینیم کو مارکیٹ میں فروخت کرتے دھر لیۓ گیۓ جب کہ عالمی دنیا اس معاملے پہ شفاف تحقیقات کو یقینی بناتی پر خاموشی سوالیہ نشان ہے ۔؟
    کیا بھارت اقوام عالم سے سنبھالا نہیں جا رہا ۔؟
    جنوبی ایشیا میں امن تب تک قاٸم نہیں ہو سکتا جب تک بھارت مسلہ کشمیر کے پرامن حل پہ راضی نہیں ہوتا ۔
    اگر دنیا چاہتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے سے جنگ کرنے سے باز رہیں تو اقوام عالم بھارت کو باور راۓ کہ وہ مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پیش نظر عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوۓ حل کرے اور کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلاۓ ۔
    اقوام عالم بھارت کو پاکستان کے اندرونی و بیرونی معاملات میں مداخلت سے بھی باز رکھے ورنہ خطے میں حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں ۔

    @NawabFebi

  • شوگر تحریر: فرح بیگم

    شوگر تحریر: فرح بیگم

    شوگر ایک ایسی بیماری ہے تو تا حیات رہتی ہے ۔یہ بیماری ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لا حق ہو سکتی ہے ۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجودہ گلوکوز کو حل کر کے خون میں شامل نہیں ہوتا ۔جس کی وجہہ سے دل کے دورے ، گردے فیل ، نا بینا پن ، پاؤں کٹنے کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ اس وقت پاکستان کا ہر چوتھا بندا ڈیبیٹس کا شکار ہے ۔ شوگر کی بیماری سے ہر سال ڈیڑھ لاکھ پاکستانی معذور ہے۔یہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے ۔اور اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ 22لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہیں ۔ عالمی صحت کے مطابق یہ بیماری آج سے 4 سال پہلے کے مطابق 4 گناہ زیادہ ہے ۔ کیوں کہ ہر چار میں سے ایک فرد کو یہ بیماری لازمی ہے۔اور یہ بڑھتی ہی چلے جا رہی ہے ۔ یہاں تک کہ شوگر پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہہ بھی ہے ۔
    شوگر کی وجہہ یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس اور گلوگوز میں بدل دیتا ہے جس کے بعد پینکریاز میں ہارمون انسولین ہمارے جسم کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانا رہنے کے لیے اس شکر کو اپنے اندر جذب کرے۔ شوگر تب لا حق ہوتی ہے جب انسولین سہی مقدار میں نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے ۔جس کی وجہہ سی شوگر ہمارے اندر جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ شوگر کی کہیں اقسام ہیں ۔ٹائپ ون ڈیبیٹس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتی ہے ۔ جس کی وجہہ سے شوگر خون میں جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ سائنس دان بھی اس کا حل نہیں نکال سکے انکا کہنا تھا کہ یہ کوئی جینیاتی اثر کی وجہ سی ہے ۔شوگر کے زیادہ تر مریض ٹائپ ون کا شکار ہیں ۔ ٹائپ ٹو میں لبلبہ ضرورت کے مطابق یا تو انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا.
    کچھ حاملہ خواتین کو ڈیبیٹس ہو جاتی ہے ۔اس کی وجہہ یہ ہے کہ انکا جسم ان کے لیے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا ۔ ایک اندازے کے مطابق 6 سے 16 فیصد خواتین کو حمل کے دوران شوگر ہو جاتی ہے ۔ وہ خواتین وازش کے ذریعے اسکو ختم کر سکتی ہیں ۔تا کہ اسکو ٹائپ ون میں جانے کے لیے روکا جا سکے ۔اگر لوگوں کو بڑھتی ہوئی گلولوز کے بارے میں بتا کر انکی مدد کر سکتے ہیں ۔ اگر علامات کی بات کی جائے تو سستی اور پیاس کا زیادہ لگنا، پیشاب زیادہ آنا، وزن کم ہونا، نظر کم آنا، زخموں کا نہ بھرنا شوگر کی علامت ہے. شوگر کا زیادہ انحصار جینیاتی اور ماحول پر ہوتا ہے۔ لیکن اپ اپنے آپ کو صحت مند غذا اور چست ذندگی اپنا کر رہ سکتے ہیں ۔ میٹھے کھانوں اور شربتوں سے اجتناب کریں۔ سفید روٹی کی بجاۓ خالض اٹے کا استعمال کریں ۔صحت مند غذاؤں میں پھل ، سبزی کا استعمال کریں۔ جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے لیول کو کم کرتی ہے ۔ برطانیہ میں این ایچ ایس کے مطابق ہفتے میں کم از کم تیز چل قدمی اور سیڑھی چڑھنا مفید ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اسکا ذمدار غربت کو کہا گیا ہے ۔

    Twitter Id: @iam_farha

  • پاک افغان تعلقات، چند اعتراضات اور اُن کے جوابات تحریر: آمنہ امان

    افغانستان پاکستان کا ہمسایہ مسلم ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کا 2600 کلومیٹر سے طویل مشترکہ بارڈر ہے۔ افغانستان غیور اور بہادر افغان قبائل کا ملک ہے جو صدیوں سے قبائلی لڑائیوں اور بیرونی حملہ آواروں سے نبرد آزما رہا ہے۔
    قیام پاکستان کے وقت افغانستان پر بھارت نواز قبائل کی حکمرانی تھی چنانچہ ابتداء میں افغانستان کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا اور پاک بھارت جنگوں میں افغانستان بھی ایران کی مانند بھارت کا ہی ہمیشہ حمایتی رہا تاہم کچھ افغان قبائل ہمیشہ پاکستان کو اپنا اسلامی بھائی مانتے رہے اور پاکستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں رہے۔
    افغانستان قدرتی معدنیات سے مالا مال ملک ہے چنانچہ جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کے دوست افغان قبائل نے اُنہیں کس طرح اور کن کی مدد سے دھول چٹاٸ یہ ایک کھلا راز ہے۔
    مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھارت نواز قبائل حکومت قائم کرنے کے لیے اپنے دوست بھارت کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر پاک دوست قبائل کے خلاف صف آرإ ہوۓ اور یوں افغانستان میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا اس دوران نائن الیون حادثے کو جواز بنا کر امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا اور خطے میں سہ رخی کولڈ وار کا آغاز ہوا۔
    بھارت نواز قبائل امریکہ اور نیٹو فورسز کے ساتھ مل کر پاکستان اور اسلام پسندوں کا قتل عام کروانے لگے تاکہ ان کے بیرونی آقاخوش ہوکر انہیں حکومت سونپ دیں
    چنانچہ پاکستان اور اس کے افغان حامیوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ان کی ہم نام جماعت (تحریکِ طالبان پاکستان ٹی ٹی پی) بنائی گئی اور اُس کے ذریعے
    پاکستان میں شدید دہشت گردی کرواٸ گٸ تاکہ ان قبائل کو بدنام کیا جاسکے اور پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت بھری جاسکے۔ اور اس طرح اسلام کو بھی بدنام کیا جاسکے کہ اسلام پسند لوگ دہشت گرد ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ پاکستان فورسز کو اپنے دوست افغان قبائل کی مدد کرنے سے روکنا چاہتے تھے اور پاکستان میں ان کی مدد چند جرائم پیشہ پشتون لوگوں نے کی جن کا زریعہ آمدن پاک افغان بارڈر پر منشیات اور اسلحے کی ناجائز اسمگلنگ تھا۔ پاک فوج نے کئی جوانوں کی شہادت کے بعد پاک افغان بارڈر پر آہنی باڑنصب کی ہے تاکہ دہشت گردوں اور اسمگلرز کی آمدورفت روکی جاسکے جس کی اس ناجائز دھندے سے وابستہ لوگوں کو شدید تکلیف ہے اور انہوں نے (پی ٹی ایم )جیسی شر پسند جماعت بنا رکھی ہے تاکہ سرحدی علاقوں کی عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکا کر علاقے سے چیک پوسٹس اور بارڈر سے باڑ ختم کروا سکیں۔ مگر ان کے یہ گھناٶنے عزائم کبھی پورے نہیں ہوں گے ان شاء اللہ۔

    یہاں پاکستان پر امریکہ کو فوجی اڈے دینے کا اعتراض کیا جاتا ہے
    تو جواب یہ ہے کہ ہم افغانستان کے ہمسایہ اور دوست ضرور ہیں مگر آزاد ملک ہیں پاکستان وہی فیصلہ کرے گا جس سے اس کی اپنی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا ۔اگر پاکستان کا یہ اقدام غلط ہوتا تو تیس سال سے پاکستان میں قیام پذیر چالیس لاکھ افغان مہاجرین احتجاجاً واپس ناں چلے جاتے؟
    اورکیا خطے میں پاکستان واحد ملک ہے جس میں امریکی اڈے ہیں؟
    کیا ہماراخزانہ اور دفاعی بجٹ اتنا زیادہ تھا کہ ہم عالمی پابندیوں اور امریکی حملے کا براہ راست سامنا کرسکتے وہ بھی افغانستان کی خاطر جو ہمیشہ بھارت کا حامی رہا؟
    دوسرا اعتراض کہ پاکستان نے اپنے حمایتی اسلام پسند افغان قبائل کو دھوکا دیا اور انہیں گرفتار کرکے امریکہ کو دیا؟
    تو جناب ان قبائل کے اپنے ترجمان موجود ہیں ۔نام ہیں سہیل شاہین اور ذبیح اللہ مجاھد اُنہیں اچھے سے علم ہے کس نے ان کا ساتھ دیا کس نے دھوکا۔ آپ ان کے ترجمان بننے کی کوشش ناں کریں جبکہ آپ کچھ جانتے ہیں ناں آپ ان کے ساتھی ہیں۔ اگر پاکستانی ہیں تو پاکستانی رہیں اور دوسروں کے ترجمان بننے سے گریز کریں۔
    نیٹو فورسز افغانستان سے رخصت ہوئیں ۔پاکستان کے دوست قبائل حکمران بنے اور پاکستان سے اعلانیہ محبت اور بھاٸ چارے کا اعلان کرتے رہتے ہیں جس سے بھارت نواز لوگوں کو شدید تکلیف کاسامنا ہے کیونکہ ان کے آقاؤں کی بھاری سرمایہ کاری برباد ہوگئی ہے۔
    ۔ اِن شاء اللہ اب افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوگا اور ہمارا یہ طویل بارڈر ہمیشہ محفوظ اور پُرامن رہے گا
    @Amanharris

  • قدرتی آفات، خطرہ برقرار ہے…..!   تحریر : اقصٰی صدیق

    قدرتی آفات، خطرہ برقرار ہے…..! تحریر : اقصٰی صدیق

    قدرتی آفات، خطرہ برقرار ہے…..!

    قدرتی آفات یعنی زلزلے، سیلاب، سمندری طوفان، خشک سالی، قحط اور مختلف وبائی امراض ہزاروں لاکھوں برس سے اس دنیا میں موجود ہیں۔
    البتہ بہت سی وبائی امراض جیسے طاعون اور چیچک وغیرہ پر انسان نے اب قابو پا لیا ہے، انہی وبائی امراض سے تھوڑے ہی عرصے میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن جاتے تھے۔
    تاہم بڑی قدرتی آفات یعنی زلزلوں، سیلابوں، طوفانوں اور کسی حد تک وبائی امراض سے ابھی تک انسان نجات نہیں پا سکا۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں انیسویں صدی سے تیز تر ہوتی جا رہی ہیں، جن کے واضح اثرات 2000ء سے دنیا کے اب مختلف ممالک میں واضح ہو چکے ہیں،
    جس کی وجہ سے دو دہائیوں میں مالدیپ جیسا ملک سمندر برُد ہو جائے گا جب کہ بنگلہ دیش کا تقریبا بیس فیصد 20٪ رقبہ زیر آب آنے کی پیش گوئیاں ہیں۔ پاکستان میں بھی قدرتی آفات کا سلسلہ 1990ء کی دہائی سے شروع ہوا 1997ء تا 2003ء تک بلوچستان اور سندھ کے بارانی علاقوں میں شدید نوعیت کی خشک سالی رہی۔
    پھر سمندری طوفان آئے، 2005 میں آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں بدترین زلزلہ جبکہ 2008 میں زیارت میں زلزلہ آیا۔
    اور 2010 میں تاریخ کا خوفناک اور تباہ کن سیلاب آیا ،
    2011 میں سندھ میں سیلاب اور پنجاب میں ڈینگی وائرس نمودار ہوا۔
    ان آفات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں ہمیں دوبارہ ایسی قدرتی آفات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    لہذا وفاقی اور صوبائی حکومت کو اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی کر لینی چاہیے۔ 2005 ء سے اب تک آنے والی امداد اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ عالمی اداروں کو ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے سے قدرتی آفات پر امداد میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔
    زلزلوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو خطے کے ممالک چین، ایران، افغانستان، ترکی، ازبکستان، تاجکستان ترکمانستان کرغزستان، قازقستان اور آزربائیجان و دیگر وہ علاقے ہیں، جہاں زلزلے ہمیشہ سے تباہی مچاتے رہے ہیں۔
    سیلاب اور طوفانوں کے اعتبار سے بنگلہ دیش، بھارت چین، مالدیپ اور نیپال ایسے ممالک ہیں جہاں سیلاب بڑی قدرتی آفت کے طور پر آتے ہیں۔
    نومبر 2011 میں نیپال میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں یہ بھی طے پایا ہے، کہ قدرتی آفات کے لیے لئے سارک ممالک ملک مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔ پاکستان سارک کے علاوہ ایک ایکو رکن بھی ہے۔
    جس میں پاکستان، ایران اور ترکی کے علاوہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ ان ملکوں کے تعاون سے قدرتی آفات کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی اختیار کرے۔
    یوں اگر مستقبل میں پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کی صورت میں کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو علاقائی ملکوں سے فوری طور پر امداد حاصل ہوگی اور مسائل پر جلد قابو پالیا جائے گا۔

    قومی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ادارہ قدر مستحکم ہوا ہے۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے، کہ اس ادارے کو صوبائی سطح پر بھی مستحکم اور متحرک کیا جائے۔
    کمیونٹیوں کی سطح پر قدرتی آفات اور ان سے بچاؤ کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کیا جائے، اور امداد کی بجائے اپنی مدد آپ کے تحت کے جذبے کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔
    اس کے علاوہ اسکاؤٹ، گرلز گائیڈ اور شہری دفاع کے اداروں کو بھی مستحکم اور فعال کیا جائے۔

    2001ء سے لے کر اب تک دنیا بھر میں قدرتی آفات سے شدید طور پر متاثر ہونے والے ملکوں میں پاکستان، انڈونیشیا اور جاپان سرفہرست ہیں۔
    پاکستان میں 8 اکتوبر 2005ء کے بدترین زلزلے اور 2010 کے تباہ کن سیلاب نے گزشتہ دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔

    اس کے علاوہ وہ 2011 میں ڈینگی بخار کی صورت میں وبائی مرض پنجاب خصوصاً لاہور میں آیا اور اس میں ہزاروں افراد مبتلا ہوئے نومبر کے آخر تک ڈینگی وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا سات سو 700 تک پہنچ گئی لیکن ڈینگی کی دہشت کو ختم نہ کیا جا سکا۔
    لاہور خصوصاً پنجاب کو ڈینگی کی وجہ سے اربوں روپے کا معاشی نقصان ہوا۔
    اگرچہ قدرتی آفات 2011ء میں جاپان، امریکا، چین تھائی لینڈ، ترکی اور برازیل میں بھی آئیں لیکن ہمارے یہاں آنے والے قدرتی آفات کے نشانات اس دھرتی کی زمین اور لوگوں کے سینوں میں ایک عرصے تک ہرے رہیں گے۔

    یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے ہے ہے کہ پوری دنیا میں ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیوں کے بہت واضح اثرات شدید نوعیت کی قدرتی آفات کی صورت میں صدی کی پہلی دہائی سے شروع ہوچکے ہیں۔
    ہمارے ساحل پر دو کروڑ آبادی کا شہر کراچی، جو ملکی صنعت اور کاروبار کا 80 فیصد بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، تو دوسری جانب ڈیپ سی پورٹ اور ابھرتا ہوا شہر گوادر ہے،
    جس کے ساحل پر صدیوں سے گارے کا آتش فشاں موجود ہے جسے مقامی آبادی آج بھی سمندر کی آنکھ کہتی ہے۔ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں مستقبل قریب کیلئے موثر منصوبہ بندی کرنی چاہیے، تاکہ مستقبل میں میں آنے والی آفات سے باآسانی نمٹا جا سکے۔

    تحریر : اقصٰی صدیق
    @_aqsasiddique