Baaghi TV

Category: متفرق

  • جھوٹی خبروں والے مانگیں           مادر پدر آزادی ۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

     

             "خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں.”

    سورة الروم 41

    آزادی اظہار رائے سے مراد انسان کو اپنی بات کہنے بیان کرنے اور لکھنے کی  خودمختاری حاصل ہو۔

    مہذب معاشروں میں صحافتی اصولوں کا معیار غیرجانبداری تحقیق شدہ مکمل سچ لوگوں کے سامنے بیان کرنا ہے ۔

    پرنٹ میڈیا کے لکھنے والوں کے لئے اصولوں ضوابط ہوتے تھے اورادارتی بورڈز کی نگرانی کی وجہ سے حمید نظامی نذیر ناجی جمیل الدین عالی حسن نثار انور قدوائی جیسے بڑے بڑے نامور کالم نگار اور تجربہ کار سامنے آئے جن کی غیر جانبداری وضع داری کا زمانہ معترف ہے

    مگر ہمارے ہاں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو جب کام کرنے کی اجازت دی گئ تو صحافت نے کاروبار کا درجہ حاصل کر لیا اور ناتجربہ کار نئے نئے لوگ چینلوں پر خبریں پڑھتے پڑھتے ٹاک شوز کے میزبان تجزیہ کار اور اینکرز بن گئے۔ بات یہاں تک ہی نہ رکی نوخیز صحافی سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بن گئے واٹس ایپ پر ہدایت لینے لگے انٹرویو میں پلانٹڈ سوال پوچھے جانے لگے کئ صحافیوں نے تو بزنس آئیکون کے لئے کرائے پر کالم لکھنے کا کام بھی شروع کردیا لاہور کی سڑکوں پر پرانی موٹرسائیکل کا پلگ صاف کرتے نظر آنے والے صحافیوں نے دن دگنی ترقی کی اور فارم ہاوسز کے مالک بن گئے سیاسی جماعتوں نے اپنے ایجنڈے اور بیانیہ کےفروغ کے لئے صحافیوں کا استعمال شروع کیا اور حکومت میں آنے کے بعد من پسند صحافیوں کو پیمرا ہارٹیکلچر جیسے اداروں کا چئیرمین لگایا گیا اور سرکاری عہدوں سے نوازا گیا قلم بکنے لگے ایزی لوڈ صحافیوں کی ایک فوج طفر موج مارکیٹ میں آگئ اور یوں صحافت جیسا مقدس پیشہ تجارت کا درجہ اختیار کر گیا۔ سلسلہ یہی تک نہیں رکا شہرت اور دولت کی ہوس نے پیشہ ور بدیانتوں کا حوصلہ بڑھایا اب یہ ملک اور ملکی اداروں کے خلاف لکھنا اور بولنا شروع ہوگئے سیکورٹی اداروں کے خلاف لکھنے اور بولنے والوں کو ملک دشمن قوتوں نے ہائیر کیا اور ان کے قلم حساس اداروں کے خلاف استعمال ہونے لگے ۔جب ریاستی اداروں نے ان ملک دشمن عناصر کے خلاف تحقیقات کے کے لئے اقدامات کئے تو آزادی اظہار رائے پر حملے کا بہانہ بنا کر بیرون ممالک پناہ لینا شروع کردیا اور گرفتاریوں کو جبری گم شدگی کا نام دیا گیا۔                  

    یہ مخصوص نام نہاد صحافی ہمیشہ آپ کو اچھے کام کی مخالفت کرتے نظر آئیں گے مذہبی اخلاقی اقدار پر تنقید ملکی مفاد پر تنقید اور جھوٹی خبریں رپورٹیں نشر کرنا انکا وطیرہ ہے اپنے آپ کو بائیں بازو والے لبرلز کہلانا ان کا مشغلہ ہے حالانکہ لبرلز آزاد خیال دوسروں کی رائے کا احترام اور برداشت کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کہ لبرلز اپنی رائے کے علاوہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اسی لئے انہیں خونی لبرلز کہا جاتا ہے۔

    حکومت نے نظام تعلیم میں طبقاتی تفرئق کو ختم کرنے کے لیے یکساں قومی نصاب متعارف کروایا اس مخصوص اور نومولود صحافتی ٹولے نے نصاب کا جائزہ لئے بغیر ہی صرف اسی بات پر مضامین لکھ مارے کہ پرائمری کی کتب  کے سرورق پر بچی زمین پر کیوں بیٹھی ہے حجاب کیوں لیا ہے بچی نے پورے کپڑے کیوں پہنے ہیں۔اور یوں انہوں نے ایک ایجنڈے کے تحت ایک اچھا کام میں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش کی۔

    موجودہ حکومت کے تین سالوں میں جھوٹی خبریں اور رپورٹیں نشر کرنے والوں کی تعداد میں بےپناہ اضافہ ہوا کچھ تو اداروں اور ملک دشمنی کے اپنے لا علاج مرض کے سبب چینلز سے بھی نکالے گئے اب ان میں سے اکثر بے روزگار ہو کر یوٹیوب پر بونگیاں مار رہے ہیں۔

    یہ نام نہاد صحافی خبر دینے اور رپورٹنگ کی بجائے خود پارٹی بن جاتے ہیں کئ تو مولانا فضل الرحمن کی پرائیویٹ فوج کی یونیفارم پہن کر انقلاب کی رہ تکتے تکتے مایوس ہوکر فاتحہ خوانی بھی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    جھوٹی خبر دینے والوں کا محاسبہ کرنے کے لیے ہر ملک میں قوانین موجود ہیں صحافیوں کو بھاری جرمانے برطانیہ جیسے آزاد معاشرے میں بھی کئے جاتے ہیں۔ 

    موجودہ حکومت نے جھوٹی خبریں دینے والے صحافیوں کا محاسبہ کرنے اور میڈیا کے کیمرہ مینوں بیٹ رپورٹرز اور دیگر ورکرز کو کئ کئ ماہ تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا مالکان کے خلاف قانون سازی کرنے کی کوشش کی تو نام نہاد نامور صحافی جن کو منہ مانگی قیمت ملتی ہے وہ جھوٹی خبروں اور میڈیا ورکرز کے حق میں بننے والے پاکستان میڈیا اتھارٹی کے خلاف پھٹ پڑے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیں جھوٹ بولنے کی مادر پدر آزادی دی جائے تاکہ یہ معاشرے میں اپنی  جھوٹی خبروں اور رپورٹنگ کے ذریعے فساد مچاتے رہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہ ہو۔

    حکومت وقت سے استدعا ہے کہ اگر اب اس مافیا کو لگام ڈالنے کے ارادہ کر ہی لیا ہے تو اپوزیشن میں بیٹھے ان کے خیرخواہوں کی تنقید کو خاطر میں نہ لایا جائے

    اور اس کام کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔           

    @EducarePak 

  • صفائی نصف ایمان تحریر: صلاح الدین

    صفائی نصف ایمان تحریر: صلاح الدین

    اسلام وہ واحد مذہب ہے جو سب سے زیادہ صفائی پر توجہ دیتا ہے اس لیے اسلام میں
    صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے مسلمانوںکو صفائی کی اہمیت کا اندازہ اپنے مذہب
    سے ہو جاتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے غیر مذہب صفائی کی اہمیت ہم سے
    زیادہ جانتے ہیں اس لیے یورپی ممالک ہمارے ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ صاف
    ستھرے ہوتے ہیں۔

    صفائی انسان کو بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ صاف ستھرے گھر، گلیاں اور محلے
    انسان کے مہذب ہونے کی نشانیاں ہیںصفائی کا خیال رکھنے سے آپ کی فطرت کا پتہ
    چلتا ہے۔ ہمیں روزمرہ کی زندگی میں صفائی کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور اپنے
    بچوں کوبھی صفائی کی ترغیب دینی چاہیے۔

    ہماری روزمرہ کی جگہیں جن میں گھر، گلی، محلہ اور کام کاج کی جگہ یعنی دفاتر
    دکانوں وغیرہ میں صفائی کا خاص اہتمام کرنا چاہیے تاکہوہاں گندگی نہ پھیلے۔
    اپنے گھروں کے آس پاس بھی کچرا نہ جمع ہونے دیں۔ کیونکہ کچرے سے زہریلی گیسیں
    پیدا ہوتی ہیں جو کہ انسانیزندگی کے لیے نہایت مضر ہیں۔

    ہمارے گلی محلوں میں کچرے کے  ڈھیر لگے ہوتے ہیں لیکن ہم یہ کہہ کر ان جگہوں کی
     صفائی نہیں کرتے کہ یہ حکومت کا کام ہےوہی یہاں سے کچرا اٹھائیں گے لیکن سب
    کام حکومت پر ہی نہیں چھوڑنے چاہیے یہ گلیاں اور محلے بھی ہمارے ہیں ان کی
    صفائیکا خیال بھی ہم نے ہی رکھنا ہے جیسے اپنے زاتی گھر کی صفائی کا خیال رکھتے
     ہیں۔

    ہمیں صفائی کی اہمیت کو ٹھیک طرح سے سمجھنا ہوگا تبھی جاکر ہم ایک مہذب قوم
    کہلائیں گے۔ بہت سارے لوگ بس ا ڈوں اورمارکیٹوں میں پبلک ٹوائلٹ ہونے کے باوجود
     کھلے میں بیت الخلا استعمال کرتے ہیں جس سے تعفن پھیلتا ہے اور بہت ساری موذی
    امراض بھی اس وجہ پیدا ہوتے ہیں۔

    صفائی کا تعلق صرف آپ کے گھر بار سے ہی نہیں بلکہ آپ کے کھانے پینے کی اشیا اور
     برتنوں سے بھی ہے۔ اپنے گھروں کے کچنمیں استعمال ہونے والے برتنوں کو  ڈھک کر
    رکھیں انہیں روزانہ دھوئیں، پکی ہوئی چیزوں کو محفوظ طریقے سے  ڈھک کر رکھیں
    تاکہان پر مکھیاں وغیرہ نہ بیٹھ سکیں۔ پھلوں اور سبزیوں کو استعمال سے پہلے
    اچھی طرح دھو لیں۔

    جسم کی صفائی بہت ضروری ہے روزانہ نہائیں، کپڑے دھلے ہوۓ پہنیں، ناخنوں کو
    کاٹیں تاکہ ان کے نیچے جمی ہوئی میل سے آپمحفوظ رہ سکیں اگر آپ شیو کرتے ہیں تو
     ہفتے میں کم از کم تین بار شیو کریں اور اگر آپ نے داڑھی رکھی ہوئی ہے تو اس
    کو بھیہفتے میں ایک بار ضرور صحیح کروائیں

    اپنے اردگرد کے ماحول پر خاص نظر رکھیں کوئی بھی شخص گندگی پھیلاتا ہوا نظر آۓ
    تو اس کی سرزنش کریں۔ لوگوں میں صفائی کیاہمیت کو اجاگر کریں بچوں کو صفائی کا
    اہتمام کرنے کی خصوصی تلقین کریںبچوں کو صفائی شعور دینے میں والدین اور اساتذہ
     کا کردارخصوصی اہمیت کا حامل ہے۔تن کی صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے من کی صفائی پر
     بھی توجہ دیں کیونکہ من کی صفائی بھی بہتاہمیت رکھتی ہے۔ جب تک ہم خود اپنے آپ
     کو تبدیل نہیں کریں گے تو یہ ملک کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتا۔

    Twitter ID: @S_Tanoli07

  • ڈنکے کی چوٹ پر تحریر:احمد

    ڈنکے کی چوٹ پر تحریر:احمد

    جیسے میں اپنی ذاتی زندگی عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر گزارنا پسند کرتا ہوں ویسے ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے ملک کی قیادت اور میری قوم بھی عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر زندگی گزارے

    اللہ تعالی بھی مومنوں کو سر اٹھا کر زندگی گزارنے کا حکم دیتا ہے اور یہ واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تمہارے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو تم بھی وہی زیادتی کرو یعنی اگر کوئی تمہاری آنکھ نکالے تو تم بھی آنکھ نکالو اگر کوئی کان کاٹے تو تم بھی کان کاٹو

    یہی وہ اصول ہے میرا جس پر میں زندگی گزارتا ہوں اور آج یہی مشورہ میں حکومت پاکستان کو دینا چاہتا ہوں کہ FATF کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اس کے ہر حکم کو مسترد کر دو

    پاکستان کے پاس بے شمار آپشنز موجود ہیں پاکستان کو چاہیے کہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی دنیا کے ضرورت مند ممالک کو فروخت کرکے امداد کی بجائے اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر خود کھڑا کرے ایران کے ساتھ کھل کر تجارت کرے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مزید آگے بڑھانے کے لئے ان کی مدد کرے ترکی اور شمالی کوریا کو اپنی بہترین میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرے

    افغانستان میں طالبان کی ڈنکے کی چوٹ پر حمایت کرے

    اللہ کے شیروں یعنی حافظ صاحب جیسے مجاہدین کو FATF کے جال سے نکال کر کشمیر کے لیے تیار کرے چین کے ذریعے انڈیا کو لداخ میں انگیج کر کے مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کرے

    سینٹرل ایشیا کے ممالک یعنی روس آذربائیجان تاجکستان وغیرہ سے بڑے بڑے تجارتی معاہدات کر کے امریکی ایکسپورٹ پر سے انحصار ختم کیا جائے

    اور ڈنکے کی چوٹ پر انٹرنیشنل فورم پر Absolutely Not 

    کا بیانیہ اپنا کر اس راستے پر ثابت قدم رہو

    اگر میری ان تجاویز میں سے کوئی ایک بھی تجویز پر ریاست پاکستان اگر عمل کرلے تو پوری دنیا اپنی آنکھوں سے یہ دیکھتے ہوئے تسلیم کرے گی کہ اس روئے زمین پر پاکستان کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہے

    ایران اور شمالی کوریا کو امریکہ نے ایف اے ٹی ایف کے ذریعے بلیک لسٹ میں ڈال رکھا ہے

    ذرا بتاؤ مجھے کیا شمالی کوریا اور ایران صفحہ ہستی سے مٹ گئے؟؟ بلکل بھی نہیں وہ اب بھی خود مختار ملک ہے 

    بلکل بھی نہیں یہ ممالک آج بھی اپنی خود مختاری اپنی عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سر اٹھا کر دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں، اِن دو ممالک پر کتنی مشکل پابندی عائد ہوئے لیکن غلامی نہیں کی، مجھے بتاؤ امریکہ اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ نے ایران اور شمالی کوریا کا کیا اکھاڑ لیا

    اور اگر تم امریکی غلامی اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ بلیک لسٹ جیسے ظالمانہ قوانین کے خوف سے اپنی خود مختاری اپنی عزت و وقار پر سمجھوتے کرتے رہو گے تو پھر ساری زندگی تمہاری حالت نہیں بدل سکتی یہاں تک کہ تمہاری موت ہی واقع ہو جائے. (تحریر احمد خان) 

    @iamAhmadokz

  • کمر توڑ مہنگائی   تحریر: احسان الحق

    کمر توڑ مہنگائی تحریر: احسان الحق

    مہنگائی کے حوالے سے آج کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حسب روایت اور حسب توقع بڑھا دی ہیں. پیٹرول پانچ روپے اضافے کے ساتھ 123.30 کا ملے گا، ڈیزل پانچ روپے اور ایک پیسے کے اضافے کے ساتھ 120.04 میں دستیاب ہوگا. مٹی کا تیل پانچ روپے اور چھیالیس پیسے اضافے کے ساتھ 92.26 میں اور لائٹ ڈیزل آئل پانچ روپے اور بانوے پیسے اضافے کے ساتھ 90.69 میں فروخت ہوگا. مہنگائی، معاشی اور اقتصادی حوالے سے موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ متعدد کام یا ان کے اعدادوشمار یا نرخ ملکی تاریخ میں پہلی بار اور بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں. ان میں سے چند ایسے کام یا کارنامے ہیں جو یقیناً ملک اور ملکی معیشت کے لئے بہت اچھے ہیں. مہنگائی کے حوالے سے بیشتر ایسے معاملات بھی ہیں جو قوم و ملک اور بالخصوص غریب عوام کی آئے روز کمر توڑ رہے ہیں. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل جو کہ ہمیشہ قیمتوں کے اضافے کی صورت میں ہوتا ہے، موجودہ حکومت نے ماہوار سے تبدیل کر کے پندرہ دن کر دیا ہے. پہلے ہر ماہ کے آخر میں نئی قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا مگر اس حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار دورانیہ تئیس دن سے کم کرکے پندرہ دن کر دیا ہے.

    شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرا ہو جس ہفتے کسی چیز کی قیمت میں اضافہ نہ کیا گیا ہو. روز مرہ استعمال کرنے کی اشیاء اور اشیائے خوردونوش کے نرخ تو باقاعدگی اور تسلسل سے بڑھائے جا رہے ہیں. بجلی کے نرخ بھی ہر دوسرے مہینے بڑھائے جا رہے ہیں. حکومت کا موقف ہے کہ سابقہ حکومت کی ناکام اور معیشت دشمن پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی ہو رہی ہے. آئی ایم ایف کی بھاری اور کڑی شرائط کے بعد ہمیں قرض ملا، ان شرائط پر عملدرآمد کیلئے قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں. مختلف نئے محصولات کا لگانا، پہلے سے موجود محصولات میں اضافہ کرنا اور بجلی کے نرخ بڑھانا یہ وہ شرائط ہیں جن پر عملدرآمد کئیے بغیر قرض کی رقم ملنا مشکل ہے. یہاں تک مہنگائی یا بجلی مہنگی ہونے کی سمجھ آتی ہے. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے کیوں کہ بھاری بجٹ خرچ کر کے پیٹرولیم مصنوعات باہر سے خریدنی پڑتی ہیں. مگر دالیں، گھی، چینی، سبزیاں اور باقی روز مرہ زندگی کے استعمال کی چیزوں میں مسلسل اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے. یہ وہ اشیاء ہیں جو مقامی ہیں. پاکستان میں ہی اگائی یا بنائی جاتی ہیں.

    تین سال پہلے کی قیمتیں اور موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے چیدہ چیدہ اشیاء کی قیمتوں کا موازنہ کر لیتے ہیں. یاد رہے کہ ذیل میں دئے گئے اعدادوشمار اور اشیاء کی قیمتیں علاقوں کے لحاظ سے اوپر نیچے ہو سکتی ہے اور یہ اعدادوشمار سرکاری نہیں. لہذا راقم ان اعدادوشمار اور نرخ ناموں سے بری الذمہ ہے.

     تین سال میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 700 سے 1300 کا ہو چکا ہے. مارچ اپریل 2018 میں 55 روپے فی کلو چینی میں نے خود خریدی تھی. چینی 55 سے 110 یا 115 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے. 135 روپے فی کلو والا گھی اب 335 سے بھی اوپر مل رہا ہے. دال چنا 120 سے 170 کی ہو گئی ہے. دال ماش 200 سے 260، باجرہ 50 سے 100، بڑا چاول 40 سے 80، سیلہ چاول 90 سے 160، لوبیہ 150 سے 220 اور دودھ 80 روپے فی لیٹر سے 130 تک کا ہو چکا ہے. پیٹرولیم مصنوعات کا تعلق بین الاقوامی مارکیٹ سے ہے. اس لئے ان کی قیمتوں پر زیادہ بات نہیں کرتے.  سونے کا نرخ بھی 60 ہزار سے ایک لاکھ پندرہ ہزار سے اوپر ہے. ڈالر بھی اوپر کی طرف جا رہا ہے اور ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے. موٹر ویز پر 100 روپے کا ٹیکس 350 پر، ڈاک خانے کا 20 والا پارسل 80 پر پہنچ چکا ہے. بجلی کی قیمتوں نے غریب عوام کو تقریباً آدھ موا کر دیا ہے. تین سال پہلے بجلی کا یونٹ 8 روپے تھا اب 20 سے بھی اوپر کا ہے. رواں ہفتے نیپرا نے ایک بار پھر 1.38 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا. گیس کے سلینڈر پر بھی تین سو فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے. دواؤں کی قیمتیں بھی دوگنا سے تین گنا بڑھ چکی ہیں.

    امریکی ڈالر 13 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے. ڈالر بڑھنے سے ملکی قرض پر 1800 ارب کا اضافہ ہوا ہے. یہ بھی موجودہ حکومت میں ہوا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار گرمیوں میں گیس کا بحران پیدا ہوا. پچھلے ہفتے حکومت پاکستان نے دو لاکھ ٹن چینی بیرون ملک سے خریدنے کا معاہدہ کیا. اطلاعات کے مطابق حکومت نے 84 روپے فی کلو کے حساب سے مقامی چینی خریدنے کی بجائے غیر ملکی چینی خریدنے کو ترجیح دی جو فی کلو 123 روپے میں پڑے گی. مطلب تقریباً 38 روپے فی کلو مہنگی چینی خریدی جا رہی ہے. اب اس فیصلے یا مجبوری کے پیچھے کیا عوامل اور محرکات ہیں، ان کی تفصیل میرے پاس فی الوقت دستیاب نہیں.

    موجودہ حکومت کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ کچھ کام ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوئے اور قیمتیں ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں. ملکی تاریخ میں پہلی ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچا ہوا ہے، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ڈالر بڑھنے سے 1800 ارب کا ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا. ایل این جی کی قیمتیں بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں اور حیران کن اور ناقابل یقین طور پر ملکی تاریخ میں پہلی بار قوم نے گرمیوں میں گیس بحران کا سامنا بھی کیا. بجلی کے بل بھی پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچے ہوئے ہیں، آٹے کا نرخ بھی ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہے، آٹے کا 20 کلو والا تھیلا تقریباً 1200 سے 1300 کے درمیان مل رہا ہے. غالباً چینی کی قیمت بھی ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہے.

    دوسری طرف بہتری اور اچھائی کے حوالے سے کچھ ایسے کام بھی ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہیں جیسا کہ ایکسپورٹس بلند ترین سطح پر ہیں، کسانوں کو ان کی محنت کے بدلے گندم کا نرخ بلند ترین سطح پر دیا جا رہا ہے، گنے کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر ہیں، کپاس کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر ہے. غیرملکی زرمبادلہ بھی بلند ترین سطح پر ہے، سمندر پار پاکستانیوں نے ملکی تاریخ کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے قومی خزانے میں تاریخ کا سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیجا. گزشتہ پچاس سالوں میں ڈیموں کی تعمیر بھی بلند ترین سطح پر ہے مطلب 1967 کے بعد ملک میں قابل ذکر ڈیموں پر کام نہیں کیا گیا. موجودہ حکومت نے متعدد بڑے ڈیموں کی تعمیر کا کام شروع کیا ہے. سی پیک اور دوسرے شعبوں میں کثیر غیرملکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے.

    آئندہ عام انتخابات میں موجودہ حکومت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی چیز مہنگائی ہوگی. عام پاکستانی کو س پیک، ملکی قرضوں، گرے لسٹ، خارجہ پالیسی، غیر ملکی قرضے کی واپسی، ایکسپورٹس میں اضافہ اور غیرملکی سرمایہ کاری کا کیا پتہ؟ غریب آدمی کے لئے گھی، دالیں، پیٹرول، ادویات، جیسی بنیادی چیزیں ہی سب کچھ ہیں. اگر ان چیزوں کی قیمتوں اور مجموعی طور پر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو تحریک انصاف کو آئندہ عام انتخابات میں جھٹکا لگ سکتا ہے.

    @mian_ihsaan

  • پاکستان کے خلاف معتصب رویہ!   تحریر: محمد اختر

    پاکستان کے خلاف معتصب رویہ! تحریر: محمد اختر

     

     قار ئین کرام!  جیسا کہ اس بات سے ہر کوئی آشنا ء ہے کہ  ان دِنوں دنیا میں بہت سی فہرستیں بنائی گئی ہیں، اور پاکستان کو کبھی بھی متعصب دنیا نے کسی اچھی فہرست میں شامل نہیں کیا۔ چاہے، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لحاظ سے ہو یاخطے میں پُر امن  کردار کے لیے کوشیشیں۔ یہاں تک کہکرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں مرتب کی جانے والی فہرستوں میں بھی پاکستان کے ساتھ معتصبانہ رویہ اختیار کیا گیا۔ پاکستان بہتر کارکردگی اور بہتر نتائج کے باوجود اس کے گرد سرخ دائرہ کھینچ کر مسائل میں الجھا یا ہوا ہے۔ دنیا ایک بار پھرکرونا وائرس کے حوالے سے انتہائی خطرناک ممالک کو رعایت دینے کے لیے اپنے مفادات اور آسانیاں استعمال کر رہی ہے۔ جبکہ، ان ممالک پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جنہیں عالمی طاقتیں نشانہ بنا رہی ہیں۔ برطانیہ نے بھی ایسا ہی جانبدارانہ فیصلہ کیا۔ماضی قریب میں؛ انگلینڈ ڈیلٹا ویرینٹ کا مضبوط گڑھ بھارت کوکرونا وائرس ریڈ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کو بہتر حالات اور اعدادوشمار کے باوجود فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد بھی کم ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان میں صورتحال کنٹرول میں ہے باوجود اس کے پاکستان ابھی تک اس فہرست میں شامل ہے،جبکہ دوسری طرف بھارت میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔یہ فیصلہ خالص تعصب پر مبنی ہے۔ کرونا وائرس کیسز کے حوالے سے امریکہ کے بعد ہندوستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ اموات کے لحاظ سے ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ لیکن، دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرونا وائرس کے معاملات میں 30 ویں نمبر پر ہے۔ان اعدادوشمار کے بعد اس سرخ فہرست کی کیا حیثیت ہوگی، جہاں 30 ویں نمبر پر آنے والے ملک کو سرخ فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور دوسرے نمبر پر آنے والے ملک کو رعایت دی جا رہی ہے۔لہزا، نظر آتا ہے کہ بھارت امریکہ کا ”پیارا” اور فرمانبردار ہے، امریکہ خطے میں امن و امان کو تباہ کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے تاکہ نریندر مودی جیسے دہشت گردوں کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کر سکے اور یہ پاکستان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑے کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔یہ تمام فہرستیں پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کے مترادف ہیں۔ ان سب کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔یاد رہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کوویڈ 19 سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سے متاثرہ ممالک کو پاکستان کی مثال پر عمل کرنا چاہیے۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کرونا وائرس کے ڈیلٹا ورژن کا گڑھ بھارت کو سرخ فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ جبکہ، پاکستان اب بھی اس فہرست میں شامل ہے حالانکہ پاکستان میں کرونا وائرس کے معاملات ہندوستان کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ کاش! دنیا ان فہرستوں پر شرم محسوس کرے۔قابلِ فہم ہر پاکستانی کا یہ سوال ہے کہ آخر کس کو دھوکہ دیا جا رہا ہے؟یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس فیصلے کی کیا حیثیت ہوگی جس کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں آوازیں اٹھ رہی ہیں؟ یہ دوہرا معیار نام نہاد مہذب دنیا کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق ادارے (ایف اے ٹی ایف) نے بھی پاکستان کے بارے میں فیصلہ کرنے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا تھا۔ اہم نکات پر عمل درآمد کے باوجود، پاکستان پر سختی برقرار رکھی گئی، جبکہ بھارت کے لیے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت میں نمایاں ہے، متعصب عالمی برادری کا بالکل مختلف انداز ہے۔اس طرح یہ تمام اقساط یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ پاکستان کو باقاعدہ ایک مزموم منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو سی پیک کی وجہ سے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، چین کے ساتھ اس کی دوستی اور دوسرا اہم پہلو پرامن افغانستان ہے۔ چونکہ، پاکستان پرامن افغانستان کے حق میں ہے جبکہ متعصب عالمی طاقتیں افغانستان میں امن کے بجائے آگ اور خون کا کھیل جاری رکھنا چاہتی ہیں۔جبکہ پاکستان خطے میں جنگ کے بجائے امن کے حق میں ہے۔اوردوسری جانب بھارت کی موجودہ حکومت ہندوتوا نظریے کے تحت خطے میں امن کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان آگ اور خون کے اس کھیل کی حمایت نہیں کرتا اور اسے اس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔اگرچہ پاکستان نے دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے بیس سال تک قربانیاں دی ہیں، لیکن نام نہاد مہذب دنیا پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے اور اسے امن کے دشمن نریندر مودی کے ذریعے ایک اور عالمی جنگ میں دھکیل رہی ہے۔ 

    @MAkhter_

  • ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ  تحریر: اریبہ شبیر

    ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر: اریبہ شبیر

    ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے لگتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی طاقت اسے بچا لیتی ہے۔ یہ ان دیکھی طاقت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس طاقت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مصیبت سے نجات دلا سکے؟؟
    پیارے دوستو! یہ طاقت ہوتی ہے صدقہ و خیرات کی طاقت، اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت، ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طاقت۔ یہ طاقت ہوتی ہے غیب کی مدد۔ جب انسان تباہی کے دہانے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اللّٰہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالٰی کی اپنے بندے سے محبت ہوتی ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کا اپنے بندے پر احسان ہوتا ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے۔ انسان بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا۔ دور ہمیشہ ہم آتے ہیں اللّٰہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا فاصلے ہم پیدا کرتے ہیں اور اسے مٹانا بھی ہمیں چاہئے. صدقہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ صدقہ کیا ہوتا ہے؟ صدقہ وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ انسان برے وقت،برے حالات اور بری موت سے بچ جاتا ہے۔ ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ پودے اور درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔راہ چلتے ہوئے کی مدد کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں پتھر کانٹے ہٹانا صدقہ ہے۔ مسجد میں قرآن پاک رکھوانا، اس کی تعمیر و مرمت میں اپنی استطاعت کے مطابق حصّہ ڈالنا صدقہ ہے۔ پانی پلانے کو احادیث مبارکہ میں صدقہِ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ثواب اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے ۔ پیاسوں کو پانی پلانا، تشنہ لبوں کی سیرابی کا کام کرنا اور انسانوں کی پانی کی تکمیل کر نا صدقہ ہے جس کا ثواب اللّٰہ تعالٰی آخرت میں خود دے گا۔ تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانے میں صدقہ دینا افضل ہے۔ صدقہ دینے سے اور اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔ اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے. دراصل
    ہم دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنی اس مصروف ترین زندگی میں ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔ معاشرہ تو دور کی بات ہے ہم تو اس قدر بے ہوش ہیں کہ ہمارے ہمسائے میں آج کیا ہوا، کون بیمار ہے کس کا انتقال ہوا ہمیں کسی کی کوئی خبر نہیں۔انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ اگر انسان سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور عبادت کے لئے اللّٰہ تعالٰی کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں۔
    ذرا سوچئے جس مسجد میں ہم روزانہ نماز ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، روشنی کے لیے لائٹس، جنریٹر، کارپٹ، امام اور مؤذن کی سہولت حاصل ہوتی ہے تاکہ میں نماز میں آسانی ہو۔ جبکہ ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں؟دس روپے؟ زیادہ سے زیادہ بیس روپے۔ جبکہ ہم ٹی وی کیبل 300 اور انٹرنیٹ 1300 کی فیس ہر ماہ ادا کرتے ہیں۔ موبائل پر بے تحاشا لوڈ کرواتے ہیں۔ناچ گانا پارٹی ہلہ گلہ اور بے فضول کی نمود و نمائش میں بے تحاشا پیسہ اڑاتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم مسلمانوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ہم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر کے ہی بڑے آدمی بن سکتے ہیں لیکن اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے لئے چھوٹے چھوٹے اچھے عمل ہی بہت ہیں۔ انسان اپنے اوصاف سے عظیم ہوتا ہے عہدے سے نہیں کیونکہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھنے سے کوا کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتا۔
    دعا ہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    نام: اریبہ شبیر
    Twitter I’d @alifsheen_5

  • بد چلن  تحریر  زوہیب خٹک

    بد چلن تحریر زوہیب خٹک

    بشیر احمد کے ہاں دوسری بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ لیکن اس لیے خوش تھا کہ چلو یے بڑی بیٹی مائزہ کی طرح معزور تو نہیں ہے ۔ بڑی محبت سے اس کا نام فائزہ رکھا ۔معمولی سا سرکاری نوکر بشیر احمد پچپن برس کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے وفات پا گیا ۔ فائزہ کے کمزور کندھوں پر معزور بہن اور بوڑھی ماں کا بوجھ آگیا۔ فائزہ جیسے تیسے محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اور مرحوم باپ کی پینشن سے گھر کا گزر بسر کرتی رہی اور اپنی تعلیم مکمل کر لی کہ چلو کوئی اچھی نوکری مل جائے گی تو گھر کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔۔ فائزہ کو یقین تھا کہ بہت جلد ان کے حالات بدلنے والے ہیں لیکن وہ نہیں جانتی تھی ابھی زندگی نے اور بہت امتحان لینے ہیں۔

    برقع پہنے وہ جب نوکری کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتی جاتی تو محلے والوں نے شک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہائے یہ آخر کہاں گھومتی پھرتی ہے ۔ ہائے باپ کا سایہ نا ہو تو لڑکیاں ایسے خراب ہو جاتی ہیں ضرور اس کا کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہے ہائے دیکھو تو اپنے مرحوم باپ کی عزت کا زرا بھی پاس نہیں ہائے اللہ ایسی اولاد کسی کو نا دے۔ الغرض جس کے منہ میں جو آتا کہہ دیتا ۔ دوسری طرف جہاں نوکری کے حصول کے لیے در بدر کی خاک چھان رہی تھی وہاں بھی مردوں کی شکل میں بڑے عہدوں پر بیٹھے درندے اس کو نوچنے کو تیار بیٹھے تھے ۔ بی بی یہ برقع یہاں نہیں چلے گا ٹھیک ہے آپ کی تعلیم اچھی ہے لیکن ہمارے دفتر میں ماڈرن لباس پہن کر آنا پڑے گا ماشااللہ آپ اتنی حسین ہیں آپ کو حسن چھپانے کی کیا ضرورت آپ ایک کام کریں پرسنل سیکرٹری کی نوکری مل جائے گی تنخواہ بھی پچاس ہزار باقی مراعات الگ تھوڑا خود کو گروم کریں آپ میں کسی چیز کی کمی نہیں۔

    یہ فکرے جملے بازیاں سنتے سنتے فائزہ راتوں کو پھوٹ پھوٹ کر روتی اللہ سے شکوے کرتی کہ اے اللہ اگر حسن دینا تھا تو اس معاشرے کا محتاج کیوں کیا۔؟ بوڑھا ہی سہی باپ کا سایہ تو تھا وہ کیوں چھین لیا۔؟ اے اللہ میری مشکلیں کب آسان کرے گا ۔؟ ایک دن صبح کے اخبار میں سرکاری اساتزہ کی بھرتی کا اشتہار دیکھا تو سوچنے لگی یہاں تو رشوت یا سفارش لگے گی میرے پاس تو دونوں نہیں ۔ سوچ میں تھی کہ معزور بہن مائزہ نے پوچھا کیا ہوا کہنے لگی سرکاری نوکری ہے لیکن مِلے گی نہیں ۔ ماں نے باورچی خانے سے آواز دی بیٹا ہمت تو کرو کیا پتہ اللہ ہمارے دن پھیر دے ۔ فائزہ نے لمبی سی آہ بھری کہا کاش ۔۔ بہر حال نا چاہتے ہوئے بھی وہ قسمت آزمانے چلی گئی امتحان دیا اور اِس یقین کے ساتھ گھر واپس آئی کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا چند دن بعد گھر پر خط موصول ہوا کہ آپ نے امتحان میں ٹاپ کیا ہے آپ کو انٹرویو کے لیے فلاں تاریخ کو آنا ہے۔۔

    فائزہ چِلائی امی میں پاس ہوگئی امی اب مجھے نوکری مل جائے گی۔ امی آپ کی دعائیں قبول ہوگئیں ۔ بڑی بہن مائزہ کو گلے لگا کر رو پڑی ہاتھ اُٹھاتے ہوئے کہا شکر ہے تیرا میرے مالک شکر ہے تیرا تو نے مجھ پر کرم کیا ۔ اُسے یقین تھا کہ اب ضرور نوکری مل جائے گی ۔ اور آخر انٹرویو کا دن آگیا وہ پر اُمید ہو کر انٹرویو دینے پہنچی انٹرویو دیا اور واپس گھر آگئی چند دن بعد آفر لیٹر کے ساتھ خط موصول ہوا اُسے نوکری مل گئی تھی ۔ فائزہ دوڑ کر اپنی ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ اماں اللہ نے ہماری سن لی ماں کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ جھلی تجھے کہتی تھی نا اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔۔

    یوں فائزہ کی زندگی بدلنے لگی ۔ اب وہ باعزت روزگار سے اپنے گھر کا خرچہ اٹھا رہی تھی ۔ ایک دن شدید بارش تھی سکول سے واپسی پر کوئی رکشہ نا مل رہا تھا تو ساتھی اُستانی نے کہا آؤ میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں گی میرا بھائی ابھی آتا ہی ہوگا ۔ فائزہ اپنی ساتھی اُستانی کے ساتھ چل پڑی ۔ محلے میں اُتری تھی کہ محلے کی چند خواتین نے گاڑی سے اترتے دیکھ لیا ۔ اب تو شک یقین میں بدل گیا تھا ہائے ہائے میں نا کہتی تھی اس لڑکی کے لچھن ٹھیک نہیں۔ دیکھو تو کتنی بڑی گاڑی سے اتر کہ آرہی ہے ۔ دِکھانے کو برقع تو ایسے پہنا ہوتا ہے جیسے اس سے زیادہ شریف زادی کوئی نہیں اور کرتوت دیکھو اللہ معافی اللہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے ۔ مرے ہوئے باپ بوڑھی ماں کی عزت کا بھی خیال نہیں ۔

    یہ چہ مگوئیاں آخر فائزہ کے گھر تک پہنچ گئیں کمیٹی جمع کرنے والی بلقیس خالہ نے ایک دن کہہ دیا ہائے بہن برا نا مانو یہ شریفوں کا محلہ ہے اپنی بیٹی پر نظر رکھو لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ۔ ہائے اب تو محلے میں گاڑیاں آنے لگی ہیں ۔ محلے کی اور بچیوں پر کیا اثر پڑے گا ۔ میری مانو اپنی بیٹی کی شادی کرا دو ۔ اللہ نا کرے جوان بچی ہے کوئی غلط قدم نا اٹھا لے۔ ہائے توبہ آج کل کا زمانہ تو بہت خراب ہے۔ فائزہ کی ماں کو زمین اپنے پیروں تلے سے سرکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی اُسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ کچھ دیر بعد فائزہ سکول سے واپس آئی تو موقع پاتے ہی ماں نے پوچھ لیا تم آج کل کہاں آتی جاتی ہو محلے والے طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں بیٹا ہم غریب ہیں پر عزت دار ہیں روکھی سوکھی کھا کر ساری زندگی گزاری لیکن اپنی عزت پر سودا نا کیا ۔ کوئی ایسا قدم نا اٹھانا کہ ہماری عزت خاک میں مل جائے ۔

    فائزہ کو حیرت کا جھٹکا لگا اور ماں سے کہنے لگی اماں آپ کو اپنی بیٹی کی پرورش پر پورا یقین ہونا چاہئیے نا میں نے کوئی غلط قدم اٹھایا نا کبھی ایسا سوچ سکتی ہوں ۔ فائزہ چیخ چیخ کر رونا چاہ رہی تھی لیکن اس کے آنسو بھی اب خشک ہو چکے تھے ۔ شائد اُسے اب یہ سب سننے کی عادت ہوچکی تھی ۔ فائزہ کے لیے رشتے آنے لگے تو محلے والوں کے بد چلن کے ٹھپے کی وجہ سے وہ بھی انکار کر جاتے فائزہ اب اٹھائیس سال کی پڑھی لکھی وہ لڑکی ہے جس پر محلے والوں نے بد چلن کی مہر لگا دی ہے۔ فائزہ دن بھر خود کو تھکا کر گھر آتی ہے راتوں کو اپنا سرہانہ آنسوں سے بھر کہ سو جاتی ہے اور صبح پھر سے کام پر چلی جاتی ہے ۔ آپ کے آس پڑوس میں ایسی انگنت فائزہ ہیں جن پر محلے والوں نے بد چلن ہونے کی مہر لگا دی ہے۔۔

    کبھی فرصت نکالیں کسی یتیم مسکین غریب فائزہ کی ماں سے پوچھیں بہن گھر میں راشن کی تکلیف تو نہیں بہن کوئی مسئلہ پریشانی ہو تو مجھے اپنا بھائی سمجھ کر یاد کیجیے ۔ بہن آپ کی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں ۔ شائد کوئی فائزہ آپ کے محلے میں جینا سیکھ جائے ۔ بزرگ فرما گئے ہیں جب استعطاعت رکھنے والے لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو غریب کی بیٹیوں کی عزتیں نیلام ہوتی ہیں ۔
    تحریر
    زوہیب خٹک

    Twitter @zohaibofficialk

  • کرونا اور حکومتی دوغلا پن، تحریر: محمد شعیب

    اس وقت ہمارا ملک کرونا وائرس کی چوتھی لہر چل رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لاک ڈاون دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے بلکہ ویکسین کو لیکر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں تک بھی سننےمیں آ رہا ہے کہ یہ پورا مہینہ ہی لاک ڈاون کی نظر ہو سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی ہے جسے مکمل طور پرvaccinateکرنا ہے اور جب یہ ہدف حاصل کرلیں گے تو ستمبر کے آخر میں پانبدیوں میں کمی ہو گی۔ اور 30 ستمبر تک جن لوگوں نے دونوں ڈوز نہیں لگوائیں ہوں گی ان پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔فضائی سفر پر پابندی ہوگی، شاپنگ مالز میں دکانداروں اور گاہکوں دونوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ بند کردی جائے گی، انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شادیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے، تعلیمی اداروں میں ویکسین نہ لگوانے والا عملہ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔

    ٹھیک ہے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کرونا وائرس بہت خطر ناک ہے ہمیں اس سے بچاو کے لئے ہر صورت احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کرونا اور اس سے بچاو کی ویکسین کو لیکر مختلف ممالک اور مختلف حکومتوں کے رویے اتنے دوغلے کیوں ہیں؟پابندیوں کے معیار مختلف کیوں ہیں؟جس کام میں حکومت کی مرضی ہو اس کام پر چھوٹ کیسے مل جاتی ہے؟صرف چند چیزوں کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟کورونا وائرس جب پھیلنا شروع ہوا تو ہم نے دیکھا کے بہت سے ممالک میں بہت سخت لاک ڈاون لگایا گیا جبکہ کچھ ممالک میں بغیر لاک ڈاون کے بھی اس پر قابو پا لیا گیا۔ اور اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو عجیب ہی صورتحال ہے جب گزشتہ سال کورونا وبا کی شروعات تھی توپاکستان میں سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ عوام کو گھروں میں بند کردیا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سخت لاک ڈاون کے بعد کرونا وائرس کا پاکستان سے خاتمہ ہو جاتا اور اب ہم سکون میں ہوتے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ وائرس شدید سے شدید ہی ہوتا گیا۔ کیونکہ جن ممالک سے یہ وائرس یہاں آ رہا تھا ان کی فلائٹس بند کرکے ہم اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بچاو کے لئے فلائٹس بند نہیں کیں لیکن خود پر پابندیاں لگوا کر ریڈ لسٹ میں ضرور آ گئے۔ اور اب جیسے جیسے ویکسین کو لیکر حکومت عوام پر دباو بڑھا رہی ہے تو لوگوں کی طرف سے اس پر تنقید بڑھتی جا رہی ہےدراصل لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو اس فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ویکسین لگوائیں یا نہ لگوائیں یا ابھی نہ لگوائیں اور کچھ عرصہ بعد لگوائیں لیکن حکومت بضد ہے کہ اگر ویکسین نہ لگوائی تو سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہیں ملے گی، ہم سم بند کر دیں گے، شناختی کارڈ بلاک کردیں گے۔ کسی دفتر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ جسے عوام حکومت کی بدمعاشی کہہ رہی ہے۔ اور یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت یہ دھمکیاں پاکستانیوں کو دی جارہی ہیں اور ان کی پرسنل لائف میں دخل دیا جارہا ہے؟اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج جب اس وائرس کے پھیلاو کو شروع ہوئے تقریبا دو سال ہونے والے ہیں اور ویکسین کا عمل شروع ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں تو عوام ابھی تک اسے قبول کیوں نہیں کررہی عوام اتنیConfuseاور ڈری ہوئی کیوں ہے؟دراصل اس کی وجہ دنیا کے کئی ممالک اور ان کی حکومتوں کا دوغلا پن ہے۔سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کی ہی بات کر لیں تو حکومت کی طرف سے شادی ہالز میں تین سو لوگوں کی اجازت ہے۔ پارکس میں پانچ سو لوگوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ لوکل بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ بازاروں میں رات آٹھ بجے تک خوب ہجوم ہوتا ہے۔ لیکن سکولز بند ہیں۔۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ فیل ہونے والے طلبہ کو بھی رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا اور آئندہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع ہوگا۔اور اگر کہیں پابندیوں میں نرمی بھی کر دی جائے تو تعلیمی ادارے 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولے جاتے ہیں Alternate daysمیں کلاسز ہوتی ہیں۔جب کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو سب ماہرین نے خود ہمیں یہ بتایا تھا کہ بچوں کے لئے یہ وائرس خطرناک نہیں ہے بچے صرف اس وائرس کےCarrier ہوتے ہیں۔ تو اب جب بڑوں کو ویکسین لگ چکی ہے اور بچوں کا اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تو سکولز ابھی تک کیوں بند ہیں؟ اگر کھولے بھی جا رہے ہیں تو پچاس فیصد حاضری کیوں؟ ایک بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں تو کلاس میں پچیس بچے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ اور بھی بہت سے ممالک ہیں جہاں بہت سخت لاک ڈاون لگائے گئے تھے لیکن جب لاک ڈاون ہٹایا گیا تو سب سے پہلے سکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا گیا اور اس کے بعد سے اب تک وہاں سکول کھلے ہوئے ہیں اس کے بعد سکولز بند نہیں کئے گئے۔تو جب باقی ممالک میں سکولز کھولے جا سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ پاکستان میں جب لاک ڈاون میں نرمی کی بات آتی ہے تو سکولز کا نمبر سب سے آخر میں کیوں؟ کیا پاکستان میں وائرس کی کوئی خاص قسم ہے جو سکولز میں زیادہ ایکٹیو ہے؟اور ساتھ ہی پندرہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کو بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہCarrier ہیں آپ نے ان کو ویکسین لگانی شروع کر دی حالانکہ کوئی بھی ویکسین کیوں نہ ہوBioNTech, Pfizer CanSino CoronaVac Moderna Oxford, AstraZenecaSinopharm Sputnik V ان کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ویکسینز کرونا سے بچاو میں کارگر نہیں ہیں یہ کرونا کا علاج نہیں ہیں۔ ان کا رول صرف اتنا ہے کہ اگر آپ کو کرونا ہو جائے تو یہ آپ کی حالت کو زیادہ بگڑنے نہیں دیتیں کہ کسی انسان کو ventilator کی ضرورت پڑے یا خدانخواستہ کسی کی موت ہو جائے۔ صرف اس بنیاد پر ہم خود بچوں کے اندر ویکسین کی صورت میں وائرس والا جراثیم ڈال رہے ہیں تاکہ ان کی Immunityبڑھ جائے۔اور جبکہ ان ویکسینز کے بہت سے Side effectsکے کیسسز بھی سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت جلدی میں بنائیں گئیں ہیں آج تک تاریخ میں کوئی ویکسین بھی تیار کرکے اتنی جلدی سب انسانوں کو نہیں لگائی گئی جتنی جلدی اس ویکسین کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے لازمی قرار دے کر زبر دستی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی جن کو کرونا ہو چکا اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہیں ان کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔

    سکولز کے ساتھ ساتھ یہی حال مساجد کا بھی ہے اور یہی دوغلاپن آپ کو سیاسی سرگرمیوں میں بھی نظر آئے گا۔ جب بھی جس سیاسی جماعت کا دل کرتا ہے وہ جلسے جلوس کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں کوئی ایس او پیز فالو نہیں کی جاتیں اور اتنی بڑی تعداد میں عوام کا ہجوم اکھٹا کر لیا جاتا ہے۔ اور تو اور آپ خود دیکھ لیں کرونا کی وجہ سے سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن الیکشنز بند نہیں ہوئے لوگ پولنگ بوتھ پر اکھٹے ہو رہے ہیں ایک بیلٹ پیپر کتنے ہاتھوں سے گزر رہا ہے ایک ہی سٹیمپ سے کتنے لوگ ٹھپا لگا رہے ہیں لیکن وہاں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔اور یہ دوغلا پن صرف پاکستان میں نہیں ہے اور بھی کئی ممالک میں ہے آپ سعودیہ عرب کی ہی مثال لے لیں۔ سعودیہ عرب میں حرم خالی ہے حج تقریبا معطل ہے۔ عمرہ بھی بند ہے۔ لیکن 5 جولائی 2021 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق حج مقامات پر جانے پر 20 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سینما ہالز کھلے ہیں فلم فیسٹیول ہو رہے ہیں۔ کورونا کے ‏دوران 20 نئے سینما کھل گئے۔ آخری 2 سینما 19 اگست 2021 کو ریاض اور طائف میں کھولے گئے۔ دو ہزار بیس میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی لیکن سعودیہ میں 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے 13 میں سے 9 صوبوں میں سینما کھل چکے ہیں جن میں سے 21 ریاض، 9 مکہ مکرمہ ریجن اور 8 مشرقی ریجن میں کھولے گئے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب میں سینما گھروں کی تعداد 12 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 33 تک پہنچی اور اب 44 ہوگئی ہے اور یہ وہ وقت ہے جب کرونا اپنے عروج پر رہا ہے۔ جدہ اورریاض میں بڑے میوزیکل ‏کنسرٹ ہوئے ہیں فٹ بال میچز بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن لوگ حرم شریف میں نہیں آ سکتے؟
    وہاں جانے کے لئے تو ابھی تک کوئی ویکسین بھی فائنل نہیں کی جا رہی کہ لوگوں کو پتہ ہو کہ اگر ہم یہ ویکسین لگوا لیں تو اس کے بعد حج یا عمرہ کے لئے جا سکتے ہیں لیکن نہیں صرف اپنی مرضی کی جگہیں کھولنی ہیں اور جہاں مرضی نہیں ہے وہاں سب بند ہے۔

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتوں کی ان دوغلی پالیسیز کی وجہ سے عوام ابھی تک اس وائرس کو لیکر کنفیوز ہے۔ جس طرح زبردستی ویکسین لگائی جا رہی ہے عوام اس سے ڈری ہوئی ہے۔ اگر پوری دنیا میں یہ وائرس ہے تو پوری دنیا کا اس سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ سیاسی ہجوم کی اجازت ہے الیکشنز کی اجازت ہے لیکن سکولز اور مساجد پر پابندی ہے۔ ایک پالیسی بنائیں اور اس کو ہرجگہ لاگو کریں اور جہاں تک بات ویکسین کی ہے تو پہلے لوگوں کا اس پر اعتماد بحال کریں پھر ویکسین لگائیں تاکہ لوگوں میں بے چینی ختم ہو عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہی چلانے کا وتیرہ مت اپنائیں اس میں سب کا نقصان ہے۔

  • متوازن غذا  تحریر : عفراء مرزا

    متوازن غذا تحریر : عفراء مرزا

    مرغیاں کوفتے مچھلی بھنے تیتر بٹیر
    کس کے گھر جاے گا سیلاب غذا میرے بعد
    مندرجہ بالا شعر تو مجید لاہوری کا ہے جس میں انھوں نے دل کھول کر بدپرہیزی کی ہے ۔ گوشت کے دل دادہ شاعر نے زبان کے چسکے کو اس قدر خوب صورتی سے ادا کیا ہے کہ شعر زبانی یاد ہوگیا ہے ۔ انسانی جسم کو جس قدر گوشت کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ سبزیوں کی اور دیگر لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔

     متوازن غذا ہی جسم کو توانا و تن درست رکھتی ہے ۔ جس قدر بہ ترین اور معیاری خوراک کا انتخاب کیا جاے گا ۔ اسی قدر جسم طاقت ور، صحت مند اور مدافعتی اعتبار سے مضبوط ہوگا ۔

    غذائیت سے بھرپور خوراک کے ذرائع ایسے ہوں جو جسم کی تعمیر و تشکیل اور مکمل نشوونما کرسکیں ۔ وٹامنز ، پروٹینز، چکنائی ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، کلورین ، گندھک ، آکسیجن اور سوڈیم وغیرہ ہمارے بدن میں بیماریوں سے دفاع کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھنے میں اہم ترین ذریعہ ہیں ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مندرجہ بالا اجزاء سے ہی بدن قائم رہتا ہے ۔

     ہم کو خیال رکھنا چاہیے کہ کیا کھایا ہے جب کہ ہم میں سے اکثر خیال رکھتے ہیں کہ کتنا کھایا ہے ۔ حالاں کہ ایک ترین چیز کیا کھایا ہے ۔

     جسم کی نشوونما ، قد کی مناسب بڑھوتری، بینائی اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن اے کو لازمی حیثیت حاصل ہے جو کہ حیوانی غذاؤں مثلاً دودھ، دہی، پنیر، مکھن ،دیسی گھی اور چربی والے گوشت کے علاوہ دیگر میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔

     سبزیوں میں گاجر ، ٹماٹر ، پالک ، بند گوبھی وغیرہ میں مخصوص مقدار کے ساتھ پایا جاتا ہے۔  اعصابی نظام کو متحرک رکھنے ، دل و دماغ اور اعضا کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے وٹامن بی کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ تمام ترکاریوں ، سبزیوں ، پھلوں اور گندم ، مکئی ، دالیں اور دودھ کی مصنوعات میں اس مقدار کافی موجود ہوتی ہے ۔

     وٹامن سی آنکھوں ، دانتوں ، مسوڑھوں اور جلد کی حفاظت کرتا ہے ۔ عام جسمانی کم زوری کو دور کرنے میں اہم کردار اسی وٹامن کا ہوتا ہے ۔ ممکنہ حد تک پھل چھلکوں سمیت  اور سبزیاں کچی کھائیں ۔


     حد سے زیادہ سبزیوں و ترکاریوں کو دھونے ، پکانے اور بھوننے سے یہ نازک و لطیف وٹامن ضائع ہوجاتا ہے۔  وٹامن ڈی کا کردار بھی لازم ہے کہ اس کا کام دانتوں کی مضبوطی اور حفاظت کرنا ہے ۔


     موسم سرما کی دھوپ اور مالش کرنا اس کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیجیے۔  وٹامن ای انسانی نسل کشی اور افزائش کے لیے ضروری ہے۔ بوڑھاپے کے اثرات کو روکنا اسی وٹامن کا کام ہے ۔ یہ گندم ، باجرا ، جو، چنا، پستہ، بادام ، چلغوزہ و تلوں کے تیل میں کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ نشاستہ کا کردار بدن میں ایندھن جیسا ہے اور جسم کو قوت توانائی فراہم کرنے کا بہ ترین ذریعہ ہے ۔

     پروٹین عضلات اور جسم کی دوسری بافتوں کی نشوونما کے لیے ایک لازمی جزو ہے جو کہ گوشت، انڈا، دودھ ، مکھن ، مختلف روغنیات، پالک، گاجر ، مٹر، لوبیا اور دالوں وغیرہ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کیلشیم ، فولاد ، میگنیشیم ، گندھک ، آئیوڈین ، کلورین ، سوڈیم ، پوٹاشیم ، فاسفورس ، زنک اور کئی دیگر وٹامنز بھی ہیں جو کہ جسم کے لیے لازم ہیں ۔

    ذرا سی احتیاط اور بہ ترین غذائی انتخاب ہمارے لیے صحت و تن درستی کا پیام بن جاتا ہے ۔ غیر معیاری اور ناقص خوراک کا استعمال ، عدم صفائی اور غیر صحت مندانہ طرز عمل ہمیں بیماریوں کی دعوت دیتا ہے۔ بازاری اشیاء سے حتی الامکان اجتناب اور معتدلانہ طرز زیست ہی ہمیں توانا و تن درست رکھ سکتا ہے ۔

    AframirzaDn

  • ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢   تحریر ۔ روشن دین

    ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢ تحریر ۔ روشن دین

    ڈاکٹر احمد حسن دانی کے مطابق پہلا شہنشاہ جس نے اس علاقے (گلگت) میں کشنا کی طاقت کو بڑھایا وہ ویما کڈفیس تھا۔ اس حوالے سے نشانیاں چلاس اور ہنزہ میں ملتے ہیں۔ کوشانوں نے نہ صرف پورے گلگت بلتستان کو فتح کیا بلکہ لداخ پر بھی اپنا اختیار بڑھایا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ان کی حکمرانی کی نشست ہنزہ میں کہیں واقع ہوگی۔ کوشان تبت سے سنکیانگ تک لداخ ، کوہستان اور ہنزہ سمیت علاقے کو کنٹرول کر رہے تھے۔
    کنشک کے دور میں چین کے ساتھ براہ راست رابطہ سلک روڈ شاخ کے ذریعے قائم ہوا جو گلگت سے گزرا۔ بدھ مت نے گندھارا سے کھوٹن ، یارکنڈ ، کاشغر اور چین کے مغرب تک سفر کیا۔ اس عرصے میں اس علاقے میں بدھ عباتگاہوں اور سٹوپوں کی ایک بڑی تعداد کھڑی ہوئی اور بظاہر گلگت ایک اہم بدھسٹ سٹیٹ بن گیا۔ کوشانوں نے گلگت کو ترقی اور خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن کیا۔ اس وقت گلگت کے حکمرانوں کو ’’ پٹولہ شاہی ‘‘ کا لقب حاصل تھا۔ دیوا سری چندر گلگت اور ہنزہ میں پٹولا شاہی خاندان کے آخری حکمران تھے۔
    جب تبتیوں نے گلگت پر حملہ کیا تو چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کو دوبارہ قائم کیا۔ اس دوران تبتیوں نے بلتستان کو اپنے قبضے میں لے لیا جہاں سکردو میں نشانیاں اور بدھ مت کی ایک بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف حصے میں پٹولا شاہی حکومت قائم ہوئی۔
    1884 میں ایک ہنگری سیاح کارل یوگن نے بلتستان ، گلگت اور چترال سے پتھروں کی نقش و نگار شائع کی۔ چٹانوں کی نقش و نگار کا پہلا مطالعہ جرمن تبت کے ماہر اگست ہرمن فرانک نےکیا۔ جنہوں نے 1902 میں لداخ بلتستان ، چلاس کے بارے میں اپنی پہلی آثار قدیمہ کا مطالعہ شائع کیا۔ غلام محمد نے سب سے پہلے گلگت اور چلاس کے علاقے میں بدھسٹ راک نقش و نگار کو اپنی کتاب میں شائع کیا۔ "گلگت کے تہوار اور لوک کہانیاں” 1905 میں
    گلگت بلتستان میں چٹانوں پر بدھ مت کی کئی باقیات اور تصاویر کھدی ہوئی ہیں۔ 1986 کے اندازوں کے مطابق قراقرم ہائی وے (kkh) کے ساتھ 3000 شلالیھ اور 30000 سے زائد پیٹروگلیفس دریافت ہوئے۔ چلاس کو نوشتہ جات اور پیٹروگلیفس کے مطالعہ کے لیے ایک انتہائی دلچسپ جگہ سمجھا جاتا ہے۔ چلاس کے نزدیک خروشتی نسخہ مل سکتا ہے جو دوسرے کوشنا شہنشاہ کا حوالہ دیتے ہوئے اویما داساکاسا کا نام دیتا ہے۔ چلاس کے قریب ، تھلپن کو تراش کندہ پتھروں کی کان سمجھا جاتا ہے۔ ایک راستہ ہے جسے حاجیوں کے راستے کا نام دیا گیا ہے جہاں آپ نقش و نگار پتھروں کی دولت دیکھ سکتے ہیں ، تاریخی طور پہ تھلپن سے خنجرگاہ کے راستے گلگت جانے والا راستہ ہے۔ ایک جگہ پر بدھ کے پہلے خطبے کی کہانی ہے اور اس سائٹ کو "پہلا خطبہ کی چٹان” کہا جاتا ہے۔
    یہاں بدھ بیچ میں بیٹھا ہے جبکہ پانچ شاگرد اس کے ارد گرد ہیں۔ چلاس میں ہمیں قدیم شبیہہ کا سب سے بڑا ذخیرہ اور پتھر میں نقش و نگار ملتا ہے۔ کوہستان کے شتیال سے شروع ہو کر گلگت تک۔ تھلپن میں بدھ کے بیٹھنے کی سب سے وسیع نمائندگی محفوظ ہے جس میں بدھ کا پہلا خطبہ نمایاں ہے۔ داریل اور شتیال وادی جس میں کئی مسافر آئے تھے ، مشنری سوگڈین زبان میں کئی سو نقش یہاں پائے جاتے ہیں۔ وادی گلگت (عالم برج) اور ہنزہ میں حالات شلالیھ پیش کرتے ہیں جو پورے دور میں پھیلے ہوئے ہیں جس میں کھوش سلطنت خروش اور برہمی رسم الخط میں موجود تھی جو پانچویں اور آٹھویں صدی کی ہے۔
    گلگت شہر کے نواح میں کارگاہ (نالہ) کے افتتاح کے موقع پر بدھ کا ایک پتھر کٹا ہوا ہے۔ یہ شکل 9 فٹ بلند ہے۔ غالبا histor مورخین کے مطابق یہ سنگ تراشی ساتویں صدی میں کی گئی تھی۔ فا ہین نے بدھ کے اس اعداد و شمار کا بھی ذکر کیا جس نے 400 قبل از مسہی میں گلگت کا دورہ کیا تھا۔ گلگت کے نپور گاؤں میں کارگاہ بدھ کے ساتھ مل گیا۔ مخطوطات لکڑی کے ڈبے میں پیک کیے گئے تھے۔ یہ جگہ ایک قدیم کھنڈر معلوم ہوتی ہے جو شاید بدھ راہبوں کی رہائش گاہ تھی۔
    یونیسکو کے مطابق گلگت کے نسخے سب سے قدیم نسخوں میں سے ہیں۔ یہ نسخے برصغیر میں بدھ مت کے مخطوطات کا واحد مجموعہ ہیں۔ گلگت کے مخطوطات میں تین بدھ مت کے مترادفات (مذہب کے سربراہوں کے درمیان کانفرنس) کا حوالہ ہے۔ ایک اور مشہور مقام ہنزہ کے ایک مقام پر واقع ہے جسے ہلدیکوش (گنیش اور عطا آباد جھیل کے درمیان) کہا جاتا ہے۔ یہاں کی اہمیت ایک یادگار ہے جو صدیوں تک لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہی۔ چٹانوں پر نقش و نگار پہلی صدی کے ہیں۔ چٹان میں نوشتہ جات شامل ہیں جو سوگڈین ، خروشتے اور براہمی زبانوں میں تراشے گئے ہیں۔ ہنزہ کے خوفناک پتھروں کو سب سے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ابیکس کی، شکار کے مناظر اور نقش درج ہے۔
    ہیرالڈ ہاپٹ مین کے مطابق پچاس ہزار سے زیادہ پتھروں کی نقش و نگار اور چھ ہزار نوشتہ جات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور مزید تلاش کے ساتھ ان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ کشن سلطنت کے شہنشاہ کے نام ان تحریروں کے ساتھ ساتھ کنشکا اور ہیوشکا سلطنت کے شہنشاہوں کے نام بھی ظاہر ہوتے ہیں
    تبتی لوگ لداخ سے ہوتے ہوئے بلتستان میں داخل ہوئے جہاں ان کے نوشتہ جات اور بدھ نقش و نگار سکردو اور دیگر مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں۔ سکردو کے قریب منتھل گاؤں بدھ مت کی نقش و نگار کے لیے مشہور ہے اور یہ مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ ہے جس کے چاروں طرف بیس شاگرد ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شلالیھ دوسری اور تیسری صدی کے ارد گرد کندہ کیے گئے ہوں گے۔
    اسے پہلی بار جین ای ڈنکن نے 1904 میں دستاویز کیا تھا۔ تبت سے چین کو خطرہ تھا جو گلگت کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے ، چینی سلطنت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تبتی حملہ آوروں کو بالائی سندھ اور آکسس سے دور رکھا جائے۔ تبتی لداخ ، بلتستان ، گلگت ، یاسین کے راستے شمال اور مغرب کی طرف بڑھا ، حالانکہ بوروگل گزرتا ہے۔ چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کی حکمرانی بحال کی۔ لیکن تبتی بلتستان کو اپنے قبضے میں کرنے میں کامیاب رہے۔
    یہاں ایک مکتبہ فکر بھی ہے کہ بدھ مت کے بعد گلگت اور گرد و نواح کا علاقہ قرون وسطیٰ کے زمانے میں زرتشتی حکمرانوں کے ماتحت آیا۔ ھود العلم میں لکھا ہے کہ مقامی حکمران سورج (خدا) کے پیروکار تھے۔ جان بڈولف کے مطابق آکسس وادی زرتشتی مذہب کا گہوارہ تھا اس لیے جنوب کے علاقے اس کے زیر اثر آئے۔ جان بڈولف "ٹیلیانی” تہوار کے مطابق گلگت اور ہنزہ اور بلتستان میں ماضی میں منائی جانے والی آگ کی عبادت کی یادگار ہے۔ ہنزہ میں اسے "تم شیلنگ” ، استور میں "لومی” اور چلاس میں اسے "ڈائیکو” کہا جاتا ہے۔
    جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ، اسلام اس خطے میں تیرہ کے آخر یا چودہویں صدی کے آغاز میں کشمیر ، وسطی ایشیا اور سوات/کاغان سے آیا۔ گلگت کے آخری حکمران شری بدعت کو ایک عزور جمشید نے قتل کر دیا جس نے اپنی بیٹی سے شادی کے بعد ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھی۔
    گلگت بلتستان میں کئی تاریخی مقامات ہیں ان مقامات کو حکومت کی طرف سے ورثہ قرار دینے کی ضرورت ہے اور ان کو ختم ہوتے ہوئے ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں محکمہ آثار قدیمہ/ریسرچ سنٹر کے قیام کی بھی ضرورت ہے جو گلگت بلتستان کے ثقافتی ورثے کے حصول کی طرف ایک قدم ہے۔ خاص طور پر ضلع چلاس میں آثار قدیمہ کے مقامات کے بارے میں خدشات ہیں کہ ممکنہ طور پر دیامر بھاشا ڈیم کے ساتھ ضم ہو جائیں گے۔ گلگت بلتستان کی حکومت اور وفاقی حکومت کو اس قومی ورثے کے تحفظ اور نقل مکانی کے لیے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔