Baaghi TV

Category: متفرق

  • کرونا ویکسین اور سازشی باتیں تحریر: محمد جمیل

    کرونا ویکسین اور سازشی باتیں تحریر: محمد جمیل

    کرونا ویکسین لگوانے سے آپ نامَرد ہو جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے سے خواتین بچے پیدا نہیں کر سکیں گی۔ کرونا ویکسین لگوانے سے آپ کو شدید ٹائیفائیڈ بُخار ہوگا، اور آپ چھ سال پہلے اوپر اٹھا لیے جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے سے آپ دو سال کے عرصے میں مَر جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے کی وجہ سے آپ الرجی کی اک خوف ناک قِسم کا شکار ہو کر بھیانک موت مریں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے کے بعد آپ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو جائیں گے جس کا نتیجہ موت کی صورت میں نکلے گا۔ کرونا ویکسین لگوانے کی وجہ سے لاکھوں لوگ پُر اسرار بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں جن کا انجام بھی موت ہوگا۔
    جب سے کرونا ویکسین ایجاد ہوئی ہے درج بالا قِسم کے جملے یا ان جملوں سے مِلتی جُلتی بہت سی ویڈیوز اور تحریریں سوشل میڈیا پہ مسلسل گردش کر رہی ہیں۔ درج بالا تمام باتیں سازشی باتیں ہیں اور فقط مبالغے پہ مبنی ہیں جِن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    فرض کریں دس لاکھ لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پہ اک اک ٹیبلیٹ پیراسیٹامول(پیناڈول) کھلائی گئی۔ دس لاکھ میں سے چار لوگوں کو پیناڈول ری ایکٹ کر گئی تو اس کا ری ایکٹ کرنے کا تناسب کتنا کم بنتا ہے؟ حتی کہ پیناڈول کے پچاس سے زائد سائیڈ ایفیکٹس ہیں۔ اسی طرح دنیا کی کوئی بھی ویکسین یا میڈیسن ہے اس کے مثبت منفی اثرات لازمی ہوتے ہیں بلکہ ہر میڈیسن کے ساتھ لکھے ہوتے ہیں۔
    ڈسپرین بےضرر سی خون پتلا کرنے والی عام دوائی ہے لیکن اگر یہ آنتوں میں جا کر انفیکشن کر دے تو کھانے والے کو معدے کا السر ہوسکتا ہے۔
    امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی ‘فائزر’ نے کئی دہائیوں پہلے بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کی نالیوں میں خون کے بہاؤ کی بہتری کےلیے sildanfil نامی کیمیکل سے ‘ویاگرا’ ٹیبلٹ تیار کی۔۔ ویاگرا کے افیکٹس میں اک عجیب امر سامنے آیا کہ ویاگرا کھانے والے افراد کا below the abdominal body یعنی کمر سے نیچے خون کا بہاؤ تیز ہو گیا جس سے ویاگرا استعمال کرنے والے مریضوں کی جنسی قوت کئی گُنا بڑھ گئی۔۔ دیکھتے دیکھتے جنسی قوت بڑھانے کےلیے ویاگرا دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی میڈسن بن گئی۔ جن لوگوں نے ویاگرا کا بےتحاشا استعمال کیا ان میں ویاگرا کا نیا سائیڈ افیکٹ سامنے آیا کہ ویاگرا نے ان کے گُردوں کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ جب صحت کے اداروں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا ہفتے میں تین سے زیادہ ٹیبلٹ کھانے والے شخص کو ویاگرا کے سائیڈ افیکٹس کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود عالمی ادارہِ صحت نے ویاگرا کے عام استعمال پہ پابندی عائد کر دی۔
    دنیا میں اس وقت جتنے زندہ انسان موجود ہیں۔ ان انسانوں میں ہر شخص کے خلیات اک دوسرے سے مختلف ہیں۔ انگلیوں کے پورووں پہ موجود نشانات سے لے کر ہمارے جسم کے اک باریک سے بال کا ڈیزائن دنیا کے کسی دوسرے انسان سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر میڈیسن ہر نئے انسان پہ ایک سا اثر نہیں چھوڑتی۔ اسی طرح فی زمانہ کووِڈ ویکسین لگوانے کا عمل جاری ہے۔ کرونا ویکسین اگر ایک لاکھ لوگوں میں سے کسی ایک کو ری ایکٹ کرتی ہے تو یہ کوئی انسان دشمن دوائی نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اس ایک متاثر شخص کو لے کر باقی ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے لوگوں پہ مثبت نتائج دینے کے عمل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ حتی کہ کووِڈ ویکسین کرونا وائرس کے کمزور سیلز ہوتے ہیں جن کا کام ہمارے مدافعتی نظام کو بہتر بنا کے طاقتور کرونا وائرس حملے سے بچانا ہے یعنی یہ ویکسین ہمارے مدافعتی نظام کی بہتری کا کام کرتی ہے.
    لہذا کرونا ویکسین سے متعلق کسی بھی منفی پروپیگنڈے پہ کان نہ دھریں جتنا جلدی ممکن ہو سکے ویکسین لگوا کر اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو وبائی وائرس سے محفوظ بنائیں۔

    Twitter Handle: @RealJameel8

  • میرا شہر جھنگ  تحریر:  اسد ملک

    میرا شہر جھنگ تحریر:  اسد ملک

    میرا شہر جھنگ ، چناب کے مشرقی کنارے پر واقع ہے جو کہ جہلم کے ساتھ اٹھارہ ہزاری کے قصبے کے قریب ہیڈ تریمو بیراج پر ہے۔ضلع جھنگ ایک مثلث کی شکل کا ہے ، جس کا چوٹی جنوب مغربی کونے پر ہے اور شمال مشرق میں اس کی بنیاد ہے۔یہ ضلع دو بڑے دریاؤں ، جہلم اور چناب سے گزرتا ہے۔  چناب عام طور پر جنوب مغرب کی طرف بہتا ہے ، اور یہ ضلع کے وسط سے نیچے کی طرف چلتا ہے تاکہ یہ عملی طور پر ضلع کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دے۔

     2014 کے سیلاب میں یہ شہر خطرے میں پڑ گیا تھا لیکن اس میں سیلاب نہیں آیا کیونکہ سیلاب کا پانی اٹھارہ ہزاری کی طرف ری ڈائریکٹ کیا گیا تھا۔ 

     دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر واقع یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 18 واں بڑا شہر ہے۔  شہر اور ضلع کا تاریخی نام جھنگ سیال ہے۔  اس علاقے میں سلطان باہو اور ہیر رانجھا کا مقبرہ بھی شامل ہے۔

    جھنگ کی تاریخ سیال قبیلے کی تاریخ ہے۔

    سکھ سلطنت کے بانی رنجیت سنگھ نے 1803 میں بھنگیوں سے چنیوٹ پر قبضہ کر لیا اور جھنگ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ، لیکن برسر اقتدار سیال احمد خان نے ایسا کرنے سے پہلے اس کا معاون بننے پر رضامندی ظاہر کی۔ رنجیت سنگھ پر دوبارہ حملہ کرنے سے پہلے اس نے چند سالوں کے لیے 70،000 روپے اور ایک گھوڑی کا سالانہ خراج ادا کیا۔احمد خان نے اسے نذرانہ دینے کی پیشکش کی ، لیکن رنجیت سنگھ نے انکار کر دیا اور جھنگ پر قبضہ کر لیا۔ احمد خان بھاگ کر ملتان چلا گیا ، جہاں اسے نواب مظفر خان کے پاس پناہ ملی۔

     جھنگ 1288 میں مہاراجہ رائے سیال ، ایک راجپوت سردار اور سیال قبیلے کے بانی نے بنایا تھا۔  سیال قبیلے ، اس کے رشتہ داروں نے اس ضلع پر اس وقت تک حکومت کی جب تک کہ جھنگ کے آخری سیال حکمران احمد خان (1812 سے 1822) کو رنجیت سنگھ نے شدید لڑائی کے بعد شکست دی۔ 

     جھنگ کے سیال خانوں اور دیگر سیال ذیلی قبائل جیسے راجبانہ اور بھروانہ کی اجتماعی حکمرانی کے تحت ، جھنگ کا سیال ملک جنوب میں مظفر گڑھ کی حد تک پھیلا ہوا تھا اور پورے چنیوٹ  ، کمالیہ اور کبیر والا القاس۔  یہ علاقہ بھکر اور سرگودھا کے کچھ حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔  گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال الکاس کو راجبانہ سیال قبیلے کے مال میں شامل کیا گیا جس نے بلوچ قبائل کو تھل کی طرف نکال دیا اور 17 ویں صدی کے وسط تک ملتان کے نواب کو شکست دی۔ 

     برطانوی راج کے تحت ، جھنگ اور میگھیانا کے قصبے ، جو کہ دو میل (3.2 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہیں ، ایک مشترکہ میونسپلٹی بن گئی ، جسے پھر جھنگ-مگھیانہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 

     مگھیانہ پہاڑوں کے کنارے پر واقع ہے ، چناب کی مٹی کی وادی کو دیکھتا ہے ، جبکہ جھنگ کا پرانا قصبہ اس کے دامن میں نشیبی علاقوں پر قابض ہے۔ 

    جھنگ صدر پنجاب ، پاکستان کا ایک شہر ہے۔  یہ 31.27 عرض بلد اور 72.33 طول البلد پر واقع ہے اور یہ سطح سمندر سے 158 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔جھنگ کی سیال ذات کے بعد وینس ذات کا بھی جھنگ میں اپنا مقام رکھتی ہے۔ میں بذاتِ خود اسد ملک میرا تعلق جھنگ کے علاقے منڈی شاہ جیونا سے ہے۔ لفظ جھنگ سنسکرت کے لفظ جنگلا سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے کھردرا یا جنگل والا علاقہ ، جنگل کا لفظ بھی ایک ہی جڑ کا حصہ ہے۔  سیاق و سباق میں ، جھنگ کی اصطلاح سنسکرت کے لفظ جنگلا سے اخذ کی گئی ہے ، جھنگ اس لفظ کا مقامی پنجابی ترجمہ ہے۔

    ضلع جھنگ 8809 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔جھنگ صدر تحصیل جھنگ (ضلع کا ایک سب ڈویژن) کا انتظامی مرکز ہے۔  تحصیل خود 55 یونین کونسلوں میں تقسیم ہے۔ اور مندرجہ ذیل چار تحصیلوں پر مشتمل ہے: احمد پور سیال۔  چنیوٹ۔ شورکوٹ۔ جھنگ

    @asad_malik333

    https://twitter.com/asad_malik333?s=09

  • مقامِ دل ( پارٹ 2)  تحریر : نعمان ارشد

    مقامِ دل ( پارٹ 2)  تحریر : نعمان ارشد

    عشق والے دل میں نور ہوتا ہے۔ 

    قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالٰی ہے

    بھلا جس کا سینہ اللّٰه نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو وہ اپنے رب کی طرف سے اجالے میں ہے۔ اور خرابی اور ہلاکت ہے ان لوگوں کی جن کے دل اللّٰه کی یاد کرنے پر سخت ہیں۔ یعنی وہ اللّٰه کا ذکر نہیں کرتے اور وہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ 

    مزید ارشادِ باری ہے

    اور جن کے دل اللّٰه کے خوف سے ڈرتے ہیں ان کی حالت تو یہ ہے کہ ان کی کھالوں کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ان کے جسم کی کھالیں اور ان کے دل اللّٰه کی یاد میں نرم ہو جاتے ہیں۔ 

    قرآن پاک میں ایسی آیات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خداوند نے کس انداز سے مومنوں اور کافروں کی دلی کیفیت کو بیان فرمایا ہے۔ یعنی ایمان اور کفر دل کی نرمی اور سختی پر بھی موقوف ہیں۔ یعنی مومن کا دل نرم اور کافر کا دل سخت ہوتا ہے۔ 

    حدیث شریف میں ہے کہ شیطان ہر وقت انسان کے دل میں بیٹھا رہتا ہے۔ جب انسان اللّٰه کا ذکر کرتا ہے تو وہ دوڑ جاتا ہے۔ اور جب انسان اللّٰه کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے تو شیطان وسوسے ڈالنےکی کر اس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ( مشکوٰۃ شریف) 

    حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی مسلمان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ آجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ استغفار کر لیتا ہے تو وہ نقطہ اس کے دل پر سے مٹ جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ پر مداومت کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بھی زیادہ ہو جاتا یے یہاں تک کہ وہ اسکا دل ڈھانپ لیتا ہے ( مشکوۃ شریف) 

    مولانا رومؒ طہارتِ قلب اور تزکیہ نفس اور صفائے قلب کی ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ چینیوں اور رومیوں میں مقابلہ ہو گیا چینی کہتے ہیں کہ نقش و نگاری میں ہم ماہر ہیں اور رومی کہتے ہیں کہ اس فن میں ہم جیسا کوئی نہیں۔ بادشاہ وقت نے دونوں کا امتحان لیا۔ اور کہا کہ دونوں اپنے اپنے فن کا کمال دکھاؤ۔ چینیوں نے بادشاہ سے سینکڑوں رنگ و روغن طلب کیے اور پھر بادشاہ وقت نے رومیوں سے پوچھا کہ تمہیں بھی کسی سامان کی ضرورت ہے؟ رومیوں نے کہا کہ ہمیں کسی رنگ و روغن کی ضرورت نہیں۔ ہم صرف زنگ و میل دور کریں گے۔ چنانچہ چینی رومی دو دیواروں پر اپنے فن کا کمال دکھانے لگے۔ درمیان میں ایک پردہ لٹکا دیا۔ چینی تو دیوار پر نقش و نگار بنانے لگے اور رومی دیوار کو صیقل و صاف کرنے لگے۔ رومیوں نے دیوار کو اتنا صاف کیا کہ دیوار شیشے کی طرح چمکنے لگی۔جب دونوں اپنے اپنے کام سے فارغ ہو گئے تو بادشاہ وقت دیکھنے کے لیے آیا تو پہلے چینیوں کے فن کو دیکھا تو ان کی نقش و نگاری کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ پھر رومیوں کی طرف آیا تو درمیان سے پردہ اٹھا دیا۔ بس پھر کیا تھا کہ جو چینیوں کی دیوار پر دیکھا تھا اس سے کہیں بہتر سامنے دیوار پر عیاں تھا۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ مسلمان تو بھی اپنے دل کو اللّٰه کے ذکر سے اس قدر صیقل کر لے کہ وہ شیشے کی طرح چمکنے لگے اور حرص و ہوا اور خواہشاتِ نفسانی کا غبار مٹ جائے، فسوق و فجور کے اندھیرے دور ہو جائیں، گناہ و معصیت کی سیاہی دھل جائے۔ ضلالت اور گمراہی کے بادل چھٹ جائیں اور باطنی حجابات اٹھ جائیں۔ تیرا دل بھی رومیوں کی دیوار کی طرح معرفت کا آئینہ بن جائے۔ انوار و تجلیاتِ اِلٰہی کا مرکز بن جائے۔ اور پھر ساری کائنات تیرے اندر سما جائے اور پھر جدھر بھی دیکھے تجھے جلوہِ حسنِ یار نظر آئے۔ 

    ‎@Official__NA

  • پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان

    پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان


    بعض اوقات زندگی میں ہم اتنا مگن ہوتے ہیں کے اپنے کھانے پینے کی ضرویات کا سہی طرح خیال نہں رکھ پاتے یہ شاید اتنا سوچنے کا وقت بھی نہں ہوتا ہمارے پاس کے ایسا کیا اچھا ہے کھانے میں کو بیک وقت آپکو بیماریاں سے بچائے آپ کے بال آپکی جلد آپکی جسمانی وضح کے لیے ایک ساتھ اچھا ہو ایسا کیا ہے جس کے استعمال سے ہم اپنی صحت بھی خیال رکھ سکتے اپنے بڑھتے ہوئے وزن کو بھی کنٹرول کر سکتے ہیں جی بلکل ایسے تمام خو صیات پائی جاتی ہیں پھلوں میں جس سے ہماری روز مرہ کی جسمانی ضرویات پوری ہوتی ہیں اور ہمارا وزن کو کنٹرول کرنے اور ساتھ جلد کو صاف شفاف رہنے میں بھی مدد ملتی ہے.
    آپ کو بھوک لگی ہے اور کچھ مزیدار کھانا چاہتے ہیں آپ کو بھوک ختم کرنے اور پیٹ کے بھرنے کا احساس دلائے اور آپ کو موٹا نہ کرے ، کیا یہ ممکن ہے؟ شاید یہ پہلا خیال ہے جو آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ تو جواب ہے ہاں! یہ ممکن لیکن اس طرح کی کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے آپ کو تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے تھوڑی تیاری کرنی پڑتی ہے اور آپ اتنے تھکے ہوئے ہیں کہ اٹھ کر کھانا پکانے کی ہمت نہں رکھتے
     تو ایسا کیا ہے جو آپ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں ، کیا آسانی سے کیا کھایا جا سکتا ہے ایسر کیا چیز کھانے کے لیے جلدی ملنا ممکن ہے؟

     جی بلکل بہت آسانی سے آپ کھا سکتے ہیں صحت مند چیزیں ، کھانے کے لیے فوری تیار پھل سے آپ فوری لطف اندوز ہو سکتے ہیں جو کہ مشینی تیار نہں شدہ بلکہ آپ صرف اپنے دانتوں کو استعمال کرتے ہوئے سے بھرپور طریقے سے اِسکا مزا لے سکتے ھیں.
     لیکن یہ کیا ہے جو صحت کے متعدد فوائد فراہم کر سکتا ہے اور اب بھی آسانی سے قابل رسائی ہے؟ آئیے خیالات سے آگے نہ بڑھیں اور اپنے آپ کو فطرت کی دی گئی نعمتوں کی طرف رہنمائی کریں جس نے ہمیں رنگا رنگ اور پرکشش پھلوں سے نوازا ہے جو نہ صرف فائدہ مند ہیں جب کہ تندرستی کی بات آتی ہے بلکہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد بھی ہیں۔

     پھلوں کے صحت کے فوائد کیا ہیں؟
     چونکہ یہ جانا جاتا ہے کہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد ہیں لہذا یہاں ایک جھلک ہے کہ آپ کو اپنی خوراک میں پھلوں کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔

     پھل وٹامن اور معدنیات کا ایک بھرپور ذریعہ ہیں جو ضروری غذائی اجزاء سمجھے جاتے ہیں جو جسم میں میٹابولک سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور انسانی جسم میں بہت سے دوسرے کام انجام دیتے ہیں۔
     پھل فائبر کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جو متعدد طریقوں سے فائدہ مند ہیں جن میں شامل ہیں۔ آنتوں کی صحت کو بہتر بنانا ، بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ، بلکے اور مکمل طور پر فراہم کرنا ، کولیسٹرول کو کم کرنا ، قبض سے نجات اور اور بہت سے فوائد
     پھل بہت سے اینٹی آکسیڈنٹس مہیا کرسکتے ہیں جو دل کے مسائل ، کینسر اور بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور ان آزاد ریڈیکلز سے لڑتے ہیں جو کے جسم میں منفی اثرات پیدا کرتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس بڑھاپے میں تاخیر کرتے ہیں لہذا پھل چمکدار اور جوان جلد کے حصول میں بھی مدد کرتے ہیں۔
     پھل غذائی اجزاء کی ایک وسیع رینج سے لدے ہوتے ہیں جو فوائد کی بات کرتے وقت اس کو حاصل کرتے ہیں۔ پھلوں کی ایک مثال جو وٹامن سی کی ایک بہت بڑی مقدار مہیا کرتی ہے جو لوہے کے جذب میں بہت ضروری ہے ، بہت سے انفیکشن سے بچاتی ہے ، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے ، یہ زخموں کو بھرنے میں مددگار اور اہم ہے ہڈیوں اور دانتوں کی صحت
     پھلوں میں پانی کی اچھی مقدار ہوتی ہے جو آپ کو ہائیڈریٹ اور فعال رکھتی ہے۔
     پھل آپ کے میٹابولزم کو فروغ دیتے ہیں لہذا وزن کو کنٹرول کرنے اور ایک مثالی اور صحت مند جسمانی وزن حاصل کرنے میں یہ آپکی مدد کرسکتے ہیں اس لیے اپنی روز مرہ زندگی میں پھل کھانے کی عادت بنائیں۔
    تحریر

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا تحریر:سید مصدق شاہ

    وہ دوراہے پر کھڑی تھی۔ اس کے آج کے فیصلے پر اس کی آنے والی زندگی کا دارومدار تھا۔ اس کے راہ زیست کو پھولوں سے سجنا تھا یا وہاں ہمیشہ کانٹے  ہی اگنے تھے یہ اس کے آج کے فیصلے پر منحصر تھا۔ اور وہ۔۔ وہ تو پھول اور کانٹوں میں تمیز ہی نہیں کر پا رہی تھی۔ گھر میں مہندی کا فنکشن جاری تھا۔ کل اس کی بارات آنی تھی۔ اماں کئی مرتبہ آکر اس کی بلائیں لے چکی تھیں۔ 

    لڑکیاں ڈھولک لیے اس کے گرد گھیرا بنائے بیٹھی تھی۔ گانے، شوخ قہقہے،ذومعنی جملے، چھیڑ چھاڑ اس سب میں اس کا رویہ کچھ اور ہونا چاہیے تھا 

    مگر وہ۔۔

     وہ تو تمام رونقوں سے پرے سوچوں کے عمیق سمندر میں گم تھی۔ 

    دوبارہ اسجد کا میسیج آیا تھا۔ اس نے لمبے چوڑے میسیج میں دوبارہ وہی کچھ لکھا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہم ہے اور وہ اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ زمانے کو لعن طعن محبت کے قسمیں وعدیں اور آخر میں دوبارہ وہی۔۔ بھاگ جانے کا مشورہ۔۔

     چاہتی تو وہ بھی یہیں تھی۔۔ اسجد اس کی دو سال کی محبت تھا جس سے وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔

     شادی تو وہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ مگر کامران بیچ میں آگیا۔ کامران اس کا تایا زاد۔

     اس نے بہت کوشش کی منع کرنے کی مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔

    اسے آج فیصلہ کرنا تھا۔ ایک طرف اس کے والدین کے ہنستے مسکراتے چہرے تھے اور دوسری طرف اسجد کی محبت۔ 

    وہ سوچ رہی تھی اگر اس نے ایسا کوئی قدم اٹھا لیا تو کیا اس کے ابا معاشرے میں دوبارہ سر اٹھا کر جی پائیں گے۔

    وہ مسکان جو ابھی اماں کے چہرے پر سجی ہے کیا وہ دوبارہ مسکرا پائیں گی۔

    اسے یاد آیا وہ تو دل کی مریض تھیں۔ کیا وہ یہ صدمہ سہار پائیں گی۔ بہت سے اگر اس کا دل دہلا رہے تھے۔اور اس سے چھوٹی نادیہ۔۔ 

    اگر وہ بھاگ گئی تو نادیہ کے لیے گھر کی دیواریں اتنی اونچی کر دی جائیں گی کہ وہ باہر کی دنیا میں جھانک بھی نہ سکے۔کیا وہ ان رشتوں کے بغیر رہ پائے گی۔

     کیا وہ خون کے رشتوں سے کٹ کر سکون کے ساتھ جی پائے گی۔۔نہیں۔۔

    پر جی تو وہ اسجد کے بنا بھی نہیں پائے گی اس کے دل سے صدا آئی۔

    دل کچھ کہتا اور دماغ اسے رد کر دیتا۔ اور دل بھی کہاں دماغ کے پیش کردہ حقائق کو تسلیم کرتا۔

     اس دل و دماغ کی جنگ میں سبین اسے کھانا دینے آئے جسے اس نے بھوک نہیں ہے کہہ کر واپس بھجوا دیا۔۔

    اف۔۔ کیا کرے وہ۔۔ اسجد کے میسج پر میسج آرہے تھے۔

     اس نے ملتان کے لیے دو ٹکٹ لے لیے تھے۔۔فیصلہ ہو چکا تھا۔

     محبت اور رشتوں کی جنگ میں خون کے رشتوں کو مات ہوئی تھی۔

     اس نے سر درد کا بہانہ کیا اور کمرے میں چلی آئی۔

    وہاں آکر اس نے کاغز قلم ڈھونڈا۔ کانپتے ہاتھوں سے کچھ سطریں لکھی اور کاغذ ٹیبل لیمپ کے نیچے رکھ دیا۔

    کھڑکی کے راستے وہ گھر کے پچھلی جانب آئی جہاں اسجد اپنے دوست کی گاڑی لیے تیار کھڑا تھا۔ اس نے آخری نظر گھر کو دیکھا۔

    کچھ چہرے آنکھوں کے سامنے لہرائے۔ اس کے قدم لڑکھڑائے مگر فیصلہ تو وہ کر چکی تھی اب اس پر عمل کرنے کا وقت تھا۔ وہ پہلے اسجد کے دوست کے گھر گئے وہاں ان کا نکاح ہوا۔ پھر اس کا دوست خود انہیں سٹیشن تک چھوڑنے آیا۔

    گاڑی لاہور سٹیشن سے نکلی تو اسے لگا جیسے وہ اپنے وجود کا ایک حصہ یہیں کہیں چھوڑے جا رہی ہے۔

     آنسوؤں کی باڑ سے دور جاتا لاہور ریلوے سٹیشن اب دھندلا ہوتا جا رہا تھا۔،،

    دو سال بیت چکے تھے تھے اسے اب کبھی کبھار گھر والوں کی یاد ستاتی 

    دل انہیں ملنے کو تڑپ اٹھتا  مگر ننھی لائبہ نے اس کی توجہ ہٹا دی تھی ماضی کی تمام یادیں لائبہ کی ننھی قلقاریوں میں گم ہوجاتیں اسجد بھی تو بہت اچھا تھا اس کے ساتھ اس نے اپنی محبت کے تمام وعدے وفا کیے

    مگر پھر بھی کہیں ایک خلاصہ باقی رہتا وہ بھی جانتی تھیں کہ خلا کہیں باہر نہیں بلکہ اس کے اندر ہے مگر پھر بھی زندگی حسین تھی اور حسین ہی رہتی اگر اس روز مال میں اسے وہ نہ ملتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ لائبہ کو لے کر شاپنگ مال گئی تھی جب پرام کو بچوں کو سیکشن کی طرح دکھیلتے ہوئے اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی

     ایک پل کو جیسے اسے یقین نہ آیا یقینا وہ نادیہ تھی

     اس کی نظر بھی پڑھ چکی تھی اور آنکھوں میں شناسائی کی چمک ائی وہ قدم اٹھاتے اس کے پاس چلی آئی

     کیسی ہو نادیہ؟

     دل تو شدت کے ساتھ اسے گلے لگانے کا چاہ رہا تھا تھا مگر بیچ میں دو سال کا فاصلہ حائل تھا 

    میں ٹھیک ہوں اپا

     تم کیسی ہو ؟ اس نے بمشکل چہرے پر مُسکان سجا لی تھی

    تم ۔۔۔۔یہاں کیسے۔۔۔

    اس کی حیرت ہنوز قائم تھی

    میں یہاں دو ماہ پہلے آئی تھی کامران کی پوسٹنگ ہوگئی ہے نا یہاں

    کامران ۔۔۔۔ اس نے بے یقینی سے اپنی چھوٹی بہن کی طرف دیکھا

    ہاں آپا کسی نے تو ابا کی عزت رکھنی تھی نا

    اسے یقین نہیں آرہا تھا نادیہ اس سے پانچ سال چھوٹی تھی یعنی کامران نادیہ سے آٹھ سال بڑا تھا ایسے میں کوئی مرد شاپنگ بیگ تھامے اس کی جانب آیا تھا بلاشبہ کامران تھا اسے دیکھ کر وہ پل کو ٹھٹکا

     پھر چہرے پر سختی کے آثار آگئے 

    میں کاونٹر پر ہوں وہی آجانا نادیہ کو بتا کر وہ کاونٹر کی طرف بڑھ گیا

     آپی یہ تمہاری بیٹی ہے؟

    اس کی نظر ابھی لائبہ پر پڑی تھی۔۔ ہاں ، اس نے جھک کر اسے پیار کیا تھا ماشاء اللہ بہت پیاری ہے

    کامران ٹھیک ہے نا تمہارے ساتھ ؟

    اس کے دل میں کئی اندیشے جاگ رہے تھے

    ہاں کامران بہت اچھے ہیں آپا وہ نا بھی بولتی تو اس کے چہرے پر آنے والے رنگ خوشگوار ازدواجی زندگی کا پتا دے رہے تھے 

    اور اماں ابا۔۔۔؟ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا

    وہ فورا سیدھی کھڑی ہوئی لبوں کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی اپا تم مغرور تھی ان کا

    تمہیں دیکھ کر جیتے تھے وہ

     تم نے اماں سے ان کی زندگی اور ابا سے ان کا غرور چھین لیا

    اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا

    تمہارے جانے کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ جان لیوا ثابت ہوا وہ الفاظ نہیں تھی بلکہ پھگلا ہوا سیسہ تھا جو اس کے کانوں میں انڈیلا جا رہا تھا

    وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی

    ابا تو شاید اس دن کے بعد بولنا ہی بھول گئےکبھی کسی نے انہیں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا

    اسے لگا کہ کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے کر مسل دیا ہے

    آپا پتہ ہے اماں نے مرنے سے پہلے تمہارے بارے میں کیا کہا تھا؟

    وہ یک ٹک اسے دیکھنے جارہی تھی

    ماں نے کہا تھا تم بھی میری طرح یوں ہی تڑپو گی  اسے لگا کہ کسی نے اسے پاتال میں دھکیل دیا ہو

    وہ کتنی ہی دیر گم صم کھڑی رہی نادیہ اپنی بات کہہ کر جا چکی تھی وہ بھی اپنے اعمال کردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے گھر کو چل پڑی بے آب اسے پوری زندگی اس بوجھ کے ساتھ جینا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وقت ماہ و سال پر اپنی گرد ڈال کر انہیں ماضی میں بدلتا رہا اور یوں 20 سال گزر گئے لائبہ جوان ہو چکی تھی اللہ نے لائبہ کے بعد اسے کوئی اولاد نہیں دی

     وقت نے اس کے بالوں میں چاندی اتار دی تھی

     سب کچھ بدل گیا تھا اگر کچھ نہیں بدلا تو اس کا پچھتاوا  تھا 

    اسے روز رات کو خواب میں اماں ابا کا چہرہ نظر آتا تھا

     اسے نادیہ کی باتوں کی گونج سنائی دیتی اماں اس کا کاندھا جھنجوڑ کر کہتی تو نے ہمیں تڑپایا ہے تو بھی یوں ہی تڑپے گی وہ نیند میں جاگ جاتی اور دوبارہ سو ہی نا پاتی

     اب تو اسے نیند اور دواؤں کے بنانیند ہی نہیں آتی جاگتے ہوئے بھی ایسے ہی خیال ذہن میں آتے رہتے ہیں

    سب کہتے لائبہ بالکل اس پر گئی ہے وہی آنکھیں وہی ناک نقشہ اور وہ دہل جاتی 

    کہیں وہ بھی میری طرح۔۔۔۔۔۔

    اس سے آگے وہ سوچ نا پاتی

    وہ ہر وقت اسے دیکھتی رہتی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کرتی جوں ہی وہ کالج سے اتی اس کا بیگ گھنگالتی۔

    وہ سو رہی ہوتی تو کئی بار اس کے کمرے میں جا کر اسے دیکھ کر تسلی کرتی اسجد اور لائبہ دونوں ہی اس کے ان عادت سے نالاں تھے

    اسجد تو پھر سمجھ جاتا پر لائبہ اس پر چڑھ دوڑتی اسے خوب سناتی پر وہ پھر بھی نہ رہ پاتی

     ٹی وی میں یا کسی شخص سے کسی لڑکی کے گھر سے بھاگ جانے کا سنتی تو اس کا زخم ہرا ہو جاتا کئی دن  گم صم بیٹھی رہتی ایسے میں وہ خود سے بھی بے خبر رہتی اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی رہتی 

    پھر کچھ دن بعد اسی جون میں واپس آجاتی اور لائبہ کے ساتھ وہی رویہ اپنا لیتی

    ڈاکٹرز کہتے تھے کہ اسے کوئی نفسیاتی عارضہ ہے مگر وہ تو اپنے اعمال کی فصل کاٹ رہی تھی جو زہر اس نے 20 سال پہلے بویا تھا اب وہ ایک تناور درخت بن چکا تھا اور اس کا زہر اس کے اپنے جسم میں سرایت کر چکا تھا

     اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا اس زہریلے درخت کی چھاؤں تلے

    (ختم شدہ)

    Tweeter Id Handel:  @

  • قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    اگر دیکھاجائے تو ایک قلمکار کا دائیرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے۔ وہ اپنے قلم سے بہت کچھ کر سکتا ہے زمانہ میں انقلاب لا سکتا ہے ۔ذہنی تربیت دے سکتا ہے۔اذنی تحریر کو مقصد سے آراستہ کر سکتا ہے اسکو مفید بنا سکتا ہے۔مگر آج کا قلمکار، آج کے قلم کی طرح یوز انڈ تھرو ہو گیا ہے ۔ یعنی پڑھو اور بھول جاؤ۔ تحریر بے مقصد، غیر دلچسپ، ناقابل فہم ہوگی تو کون قاری اس کو یاد رکھے گا۔ آج کے قلمکار کی تحریر ایسی ہوتی ہے کہ بس بس کیا پڑھے یاد نہیں رہتا۔ وجہ کیا ہے ؟ وجہ ایک ہی ہے اب سوشل میڈیا کا دور ہے اب جھوٹ پہلے جیسی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے صحافتی قوانین بنائے ہیں جن میں حقائق پر مبنی خبر ہی نشر کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں قومی سطہ کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤس بھی ریٹنگ کے چکر میں ہر خبر کو بریکننگ نیوز بنا کر نشر کرتے ہیں اور اکثر خبریں صرف اِن الفاظ کے ساتھ نشر کی جاتی ہے "ذرائع کہ مطابق” لیکن ذرائع کا نام، اِدارے کا نام، کسی مستند صحافی کا نام لئے بغیر ہی اُس خبر کو سارا سارا دن ساری رات بار بار چلایا جاتا ہے۔ کیا یہ ٹحیک ہے کسی بھ ایسی ریاست کے لئے جس کے خلاف ہائبرڈ وار فیئر بھرپور انداز میں مسلط ہو۔؟پہلے اہل قلم اپنی قلم کو تلوار بنا لیتے تھے،سوئے ہُوئے ذہنوں کو جگانے کا کام لیتے تھے۔ نیز قلم سے نشتر کا کام لیتے تھے معاشرہ میں رائج فرسُودہ رسم و رواج اور برائیوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ مگر آج کا قلمکار، قلم تو اس کے لئے بھی تلوار ہے مگر زنگ آلود تلوار جس کو وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ گویا ایک دوسرے کو کند چھری سے ذبح کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

    ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگا رہتا ہے۔ تنقید برائے تنقید کرتا چلا جاتا ہے۔ جس سے مُعاشرے میں برائی کو تقویت ملتی ہے مقابلہ بازی میں مدے سے ہٹ کر بحث میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اور یہ نا صرف مُعاشرے بلکہ ریاست کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ایک صحافی جو قلم سے ایک دوسرے کی کاوشوں پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اور اس لفظی جنگ میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے بھی گریز نہیں کرتا اِس کا نقصان کسے ہوگا یہ جانے بغیر وہ اِس مقابلے میں بل آخر جھوٹ کا سہارا لینا شروع کر دیتا ہے جو برائی کی پہلی سیڑی ثاب ہوتی ہے اور یہاوہ صحافی اپنے قلم کے ساتھ خیانت کر بیٹھتا ہے ضمیر کو بھی جھوٹی تسلی دے کر سلانے لگتا ہے۔ مگر حرام کا ایک لُقمہ حلق میں جاتے ساتھ حلال رزق سے چند لمحوں میں قوسوں دُور ہوجاتا ہے۔
    پاکستان اِس وقت ففتھ جنریشن وار جیسی جنگ کی زد میں ہے اور میڈیا اِس جنگ میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں فیک نیوز کی ایک لمبی لائن لگ جاتی ہے جو ریاست مخالف استعمال ہوتی ہے ایسے مشکل حالات میں میڈیا ریاست کا ساتھ دیتا ہے جبکہ ہمارا میڈیا غیر ملکی ہتھکنڈوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر بضد ہے۔

    ‏ایسا صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ حکومت کہہ رہی ہے سچ بولیں اور یہ جاہل کہتے ہیں نہیں ہمیں یہ منظور
    ‏فیصلہ ہونے والا ہے اس قوم نے تباہ ہونا ہے یا ترقی یافتہ عظیم قوم بننا ہے
    اللہ کو ہماری ضرورت نہیں ہم نہیں سدھریں گے تو ہم سے بہتر لوگ آجائیں گے
    احتجاج ہورہا ہے کہ جھوٹ کی آزادی دو یہ وہ گناہ ہے جس پہ اللہ نے خود لعنت فرمائی ہے
    جو گروہ جیتے گا وہ ملک کے مستقبل کا تعین کردے گا۔
    میڈیا میں جھوٹی خبروں اور خواہشات پہ مبنی جھوٹے من گھڑت تجزیوں کی روک تھام کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے ۔ صحافی
    عدالتوں میں بہتری اور اصلاحات کے لیئے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے- وکلاء
    الیکشن کمیشن میں بہتری کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے۔ الیکشن کمیشن
    مگر نیا پاکستان کیوں نہیں بنا اس کا جواب عمران خان کو دینا ہو گا۔ بہت خُوب
    جب آپ لوگو جھوٹ نہیں بولیں گے تو آپ کو کسی بات کا ڈر نہیں ہونا چاہئے
    مگر وہ کہتے ہیں نا چور کی داڑھی میں تنکا
    ان شاءاللہ یہ ہو کر رہے گا۔
    @A2Khizar

  • دو کپ چائے (مہنگے دام سستی چائے)    تحریر: علی خان۔ 

    دو کپ چائے (مہنگے دام سستی چائے)   تحریر: علی خان۔ 

    انگریز برصغیر پر سو سال حکومت کے بعد ویسے تو بہت سی یادیں چھوڑ گئے لیکن نظام تعلیم، ڈی سی اور چائے کا مقابلہ کوئی اورچیز  نہیں کرسکتی۔ چین سے چائے کے پودے لا کر برصغیر میں اگانے اور دنیا بھر می بیچنے کے ساتھ ساتھ اہلیان برصغیر کو بھی اس سوغات سے متعارف کروایا گیا۔ اس سے قبل چائے صرف حکیموں کے پاس دوا کے طور پر موجود ہوتی اور بیماروں کو پلائی جاتی۔ یعنی چائے کے ساتھ بھی وہی حال گزرتا کہ کسی منچلے نے کہا کہ غریب کے گھر مرغ دو ہی صورتوں  میں پکتا ہے کہ بندہ بیمار ہو یا ککڑ بیمار ہو۔ خیر برصغیر میں لپٹن چائے کی ترویج ایسے کی گئی کہ شہروں  میں سڑک کنارے اسٹال لگا کر بسکٹ کے ساتھ چائے پیش کی جاتی۔ چینیوں کی گرم پانی میں ابلی پتیوں کی جگہ جب دودھ اور چینی ڈال چائے بنائی گئی تو دیسیوں کو یہ خوب بھائی اور ہر گھر میں خوراک کا لازم جزو قرار پائی

    جیسے ڈی سی نظام پورے برصغیر میں پوری شان و شوکت کے ساتھ چل رہا ہے اسی طرح  چائے بھی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ سندھ میں آپ مہمان کی تمام خاطر تواضع کرلیں لیکن اگر چائے کا نہ  پوچھیں تو مطلب آپ نے گویا مہمان کی خدمت نہیں کی۔ چائے بنانے کی ترکیب اور پیشکش میں کہیں علاقے کے حساب سے تبدیلیاں آئیں تو کہیں معاشرت کے حساب سے۔ گاوں والے پیالوں میں چائے پینے لگے تو شہری بابو ننھی پیالوں میں چسکیاں لیتے ہیں۔ بھارت میں چائے گلاسوں میں پینے کا رواج عام ہے۔ ادرک والی چائے، دارچینی والی چائے، پودینے والی چائے، الائچی والی چائے اور آج کل کی مقبول عام تندوری چائے۔ ان گنت اقسام، پیشکش کے ان گنت طریقے اور معاشرتی مقام سب کا آپس میں کنکشن سا بن گیا ہے۔ کسی کو چائے میں بسکٹ ڈبو کھانا سب سے مزے کا کام لگتا تو کہیں اسے بدتہذیبی اور گنوار پن گردانا جاتا

    برصغیر میں ]ڈی سی اور چائے کی طرح نظام تعلیم اور چائے میں بھی کچھ مشترک روایات ہیں۔ ہمارے وزیراعظم ملک میں رائج کئی درجاتی اور طبقاتی نظام تعلیم کا ذکر کرتے ہیں تو چائے پینے پلانے اور فروخت کرنے میں بھی ایسا ہی مختلف درجاتی نظام رائج ہے۔ اگر نظام تعلیم مدرسوں، سرکاری اور ٹاٹ اسکولوں، گلی محلے کے پرائیویٹ اردو میڈیم اسکولوں، قدرے اچھے پرائیویٹ انگریزی میڈیم اسکولوں اور کیمبریج و آکسفورڈ گرامر اسکولوں میں تقسیم ہے تو چائے خانے بھی ڈھابوں، روایتی دیسی ہوٹلوں، اچھے ریسٹورنٹوں اور تین چار پنج ستارہ ہوٹلوں میں تقسیم ہیں۔ آپ کی جیب پر منحصر ہے کہ آپ 20 روپے کپ والی چائے پینا چاہتے ہیں یا دو سو اور بعض صورتوں میں پانچ سو، ہزار اور دو ہزار والی۔ آج کل اس طبقاتی نظام میں اوپن ائیر چائے خانوں کا رواج چل نکلا ہے جو آپ کو چائے کے ساتھ دلچسپ مصروفیات بھی فراہم کرتے ہیں جن میں لڈو، کیرم، لائیو قوالی اور دیگر شامل ہیں۔ اس سب طبقات میں کسی بھی جگہ ذائقے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کو بیس یا تیس روپے فی کپ میں مزیدار اور من پسند چائے ملے اور پانچ سو یا ہزار روپے خرچ کرکہ بھی مزہ نہ آئے۔ جیب اور موڈ آپکی چائے کا مقام طے کرتے ہیں۔ بڑی شاہراوں کنارے کچھ ٹرک ہوٹلوں کی چائے اتنی مزیدار ہوتی ہے کہ پبلک دور دور سے اسکا مزہ لینے آتی ہے۔ 

    جیسے وزیراعظم کو نظام تعلیم میں تقسیم پر اعتراض ہے تو مجھے بھی چائے خانوں کی طبقاتی تقسیم پر اعتراض ہے۔ ماحول اچھا ہونا ضروری ہے لیکن چائے کا ذائقہ بھی اچھا ہونا چاہیے۔ صرف شان و شوکت کی خاطر ان چائے خانوں کا رخ کیا جائے اور مزہ نہ آئے تو دل میں شدید خواہش اٹھتی ہے کہ وزیراعظم کسی روز یہ بھی اعلان کردیں کہ "چائے خانوں میں طبقاتی تقسیم ختم کرکہ یکساں ریٹ کا نفاذ کیا جائے گا”

  • آخرت کا ساماں تحریر:افشین

    آخرت کا ساماں تحریر:افشین

    زندگی کو پُرسکون بنانے کے چَکر میں انسان یہ بھول جاتا ہے کہ موت نے بھی ایک دن آنا ہے وہ زندگی کا ساماں کرتے کرتے آخرت کا رونماں ہونا بھول جاتا ہے زندگی میں روشنیاں بکھیرتے بکھیرتے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ مجھے آخروی زندگی کی روشنیاں کیسے حاصل کرنی ہیں ۔انسان پہلے تو کھیل کود میں پھر لطفِ زندگی میں وقت گزار دیتا ہے پھر اُسکو خیال آتا ہے محنت کرکے وہ اپنی زندگی کے آخری دن آرام دہ بنائے ۔

    زندگی کو بہتر بنانے کی تک ودو میں وہ آخرت بہتر بنانے کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتا ہے کوئی نہیں جانتا کون سی سانس آخری ہو دنیا کا سب ساماں اِدھر ہی رہ جانا ہے اپنی زندگی میں روشنیاں بھرنے کے چکر میں کچھ لوگ دوسروں کی زندگی میں اندھیرے بکھیر رہے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھول جاتے ہیں الّللہ پاک انصاف کرنے والا ہے اور وہ ایک ایک زیادتی کا حساب لینے والا ہے قیامت کا دن مقرر ہے اور جب قیامت آئے گی سب اللّلہ کے سامنے جواب دہ ہونگے ۔ 

    اگر ہم اپنی زندگی میں دوسروں کی زندگی میں روشنیاں بکھیریں گے تو ہماری آخرت اور ہماری قبر اندھیری نہیں روشنی سے بھری ہوگی۔ ایک انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا سب ساماں کر لیتا ہے پھر جیسے ہی وہ سب پا لیتا ہے اسکو موت آ گھیرتی ہے ساری زندگی وہ اسلیے تھکا کہ میں اپنی زندگی بہترین بنا سکوں مثال قائم کردوں مگر اختتام پہ وہ سب اسکو نصیب ہی نہ ہو پھر کیا ملا اسکو ؟ہم بس اس زندگی کا سوچتے ہیں یہی وجہ ہے جب ہم سے ہمارا کوئی اپنا پیارا بچھڑ جائے تو ہم بہت سے سوالوں میں پھنس جاتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوا ؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ کاش ایسے ہوتا ویسے ہوتا ۔ ہمارا ذہن یہ قبول نہیں کر پاتا کہ وہ انسان بچھڑ گیا کیونکہ ہم نے یہ سوچا ہی نہیں ہوتا کہ ایک دن سب نے بچھڑ جانا ہے ۔ کوئی بھی اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا ۔پر بات وہی ہے ہم بس اس زندگی کا سوچتے ہیں اس زندگی کو کیسے گزارنا ہے کیا کرنا ہے یہی سوچتے ہیں ۔ بہت سے خواب بناتے ہیں اور ان خوابوں کی تکمیل کے چکر میں نہ ہم کو اپنا ہوش ہوتا ہے نہ اپنوں کا ۔ بس زندگی کی دوڑ میں بھاگتے جارہے ہوتے ہیں ۔لوگ اتنا کچھ سامان جمع کر لیتے ہیں میں سوچتی ہوں کیا ہم مرنا نہیں ہے ؟ کیا ہمارا حساب نہیں ہونا؟ زندگی بھی گزاریں اور چھوٹے چھوٹے خوابوں کے ساتھ جئیں ۔ خود بھی ایسے جئیں کہ دماغ میں یہ بات موجود ہو کہ ناں جانے کونسی رات آخری ہو ہر وقت خود کو تیار رکھیں اس زندگی کو بھی گزاریں پر آخرت کا ساماں بھی تیار رکھیں ۔ کیونکہ یہ جائیدادیں بنگلے پیسہ گاڑیاں یہ سب آپکے ساتھ نہیں جانا ۔ بلکہ آپکے اعمال نامہ نے جانا ہے اپنے اعمال بہتر بنائیں ۔ کسی کو دکھ نہ دیں کسی کی بدعا نہ لیں کسی بے گناہ کو نہ ستائیں ۔ کسی کی خوشیاں نہ چھینیں دھوکا اور جھوٹ سے پرہیز کریں۔ سب برائیوں سے بچیں ۔ اللّلہ پاک اور اسکی مخلوق کو جائز طریقہ سے راضی رکھیں ۔اللّلہ پاک سب کو زندگی دی اور ہر چرند پرند انسان کو موت کا ذائقہ چکنا ہے موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا رونما ہونا ہے یہ اللّلہ پاک بہتر جانتے ہیں ۔ اللّلہ پاک سَزا وجَزا کا فیصلہ کرنے والا ہے کیا بویا ہمیں وہی کاٹنا پڑے گا ۔ انصاف کا ترازو ہوگا وہاں !! دنیا نہیں جدھر بے گناہ کے پلے بھی سزائیں ڈال دی جاتی ہیں ۔ پُل صراط وہ راہ ہے جو مشکل نہیں پر اسکے لیے ہمارے اعمال اچھے ہونے ضروری ہیں ۔اللّلہ پاک بخشنے والا ہے اس میں کوئی شک نہیں پر انسان کو بھی چاہیے وہ اپنے اعمال بہتر بنائے اور آخرت کی فکر کرے اپنی زندگی میں ہی آخرت کا ساماں کرلیں ۔خوش رہیں خوشیاں بانٹیں بس کسی کے آنسوؤں کی وجہ نہ بنیں ۔ کیونکہ اللّلہ پاک اپنے بندوں کے ایک ایک بہتے آنسو کا حساب رکھتا ہے ۔ 
    @Hu__rt7

  • پاکستان میں شدید گرمی- وجہ آخر کیا؟ تحریر:حسیب احمد

    پاکستان میں شدید گرمی- وجہ آخر کیا؟ تحریر:حسیب احمد

    پاکستان میں آئے روز گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور دن با دن پاکستان گرم ترین ممالک میں شامل ہوتا جارہا۔ کیا اپنے کبھی غور کیا اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ اتنی گرمی کی شدت کہیں نا کہیں ہماری اپنی غلطی ہے کبھی سوچا ہے کیا ہے وہ غلطی۔ ہم آئے روز درخت اور پیڑوں کو کاٹتے جارہے ہیں جس سے گرمی میں اضافہ ہورہا ہے جس کا سبب صرف ہم ہی ہیں۔

    ہمارے ملک میں چند سال قبل گرمی کی شدت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر نہیں جاتی تھی اور اب اس ملک میں 55 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

    چند سال میں 10 سینٹی گریڈ زیادہ گرمی ریکارڈ ہوئی ہے وہ بھی ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے۔ اس ملک میں شجرکاری کی اشد ضرورت ہے لیکن ہم لوگ ایسے ہیں درخت کاٹ تو سکتے ہیں فائدے کے لیے لیکن بدقسمتی سے ہم لگاتے نہیں ہے۔

    ملک میں ایسی بہت سے تنظیمیں ہیں جو اج بھی شجرکاری مہم کا انعقاد کرتی ہیں تاکہ پاکستان Global Warming سے بچ سکیں۔ تمباکو نوشی سے ہماری فضا میں آلودگی آتی ہے اور پھر سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فیکٹریوں سے آلودہ پانی اور گیس ہوا میں جذب ہوجاتا ہے اور پھر گرمی کی شدت میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا ہے۔

    پاکستان وہ ملک ہے جہاں درخت ہی وہ واحد حل ہے جس سے اپنے ملک کو درپیش مشکلات اور مسائل حل کرسکتے ہیں۔

    زمینین بنجر پڑی ہیں، دریا خالی ہوگئے ہیں جس سے ہمارے ہاں گرمی کا سورج آگ بھڑکاتا ہے۔

    اگر ہمیں گرمی سے خود کو بچانا ہے تو ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے:

    1: گھر کے اندر رہنا اور دھوپ اور انتہائی درجہ حرارت کی نمائش سے گریز کرنا۔

    2: گھر کی سب سے نچلی منزل پر رہنا۔ پیاس نہ لگنے پر بھی کافی مقدار میں پانی پینا۔

    3: ایسے مشروبات سے پرہیز کریں جن میں کیفین شامل ہو۔ ہلکا کھانا کھانا اور بہت زیادہ نمک سے پرہیز کرنا۔

    4: بیرونی کھیلوں کے ایونٹس کو ملتوی کرنا۔ بچوں اور پالتو جانوروں کو بند گاڑیوں کے اندر تنہا نہ چھوڑیں۔

    5: ڈھیلے ڈھالے ، ہلکے وزن اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا جو کہ جلد کا زیادہ تر حصہ ڈھانپ لیتے ہیں۔

    6: چہرے کی حفاظت کے لیے اسکارف یا چوڑی چوٹی والی ٹوپی پہننا۔

    7: سخت کام سے گریز کریں اور دن کے گرم ترین حصے میں کام کرتے وقت بار بار وقفے لیں۔ 

    اگر ہم ان چند چیزوں کا خیال رکھیں گے تو ہم خود کو اور اپنی نسل کو گرمی اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں، یہ وہ اہم ترین نقطے ہیں جس کا ہمیں ہمیشہ ہر موسم گرما میں خیال رکھنا چاہے۔

    پاکستان کا سب سے گرم شہر جو کہ سندھ صوبے میں ہے "جیکب آباد” وہ شہر کا نام ہے۔ وہاں ہر سال سخت ترین گرمی پڑتی ہے۔ یہ شہر سندھ اور بلوچستان کے نزدیک ہے۔ پاکستان اور ایشیا کا سب سے گرم شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اکثر یہ گرمی فضائی آلودگی اور پانی کی آلودگی اور گیسز کی آلودگی ہر چیز ہمیں اور ہماری نسلوں کو برباد کرنے میں کارآمد ثابت ہورہے ہیں. ہمیں اپنی نسلوں کے لیے اب اٹھ کھڑے ہونا ہوگا کیوں کہ اگر مستقبل محفوظ کرنا ہے بچوں کا تو اس آلودگی سے لڑنا ہوگا۔ ہمیں ہی تکلیف ہوگی اگئے چل کر تو اس سے قبل ہمیں ایسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوگا۔

    انشاءاللہ ایسا وقت بھی آئے گا جس دن پاکستان آلودگی اور ہیٹ ویو سے پاک ہوجائے گا اور پاکستان باقی ملکوں کی طرح ٹھنڈا ملک بن جائے گا جہاں لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا نا زندگیوں کو نا ہی جان کو۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنے ملک میں درخت، پودے لگانے ہونگے اور زہریلی گیس فضا میں پھیلانے سے گریز کرنا ہوگا اور ہمیں پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کا عزم کرنا ہوگا جس سے پاکستان کا دنیا میں مثبت پیغام جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس ملک میں باہر سے آئیں اور پیارے پاکستان کی سیر کریں۔

    اللہ پاک پاکستان پر اور یہاں کے لوگوں پر اپنا خصوصی کرم فرماتے رہیں اور اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

    پاکستان زندہ باد

    @JaanbazHaseeb

    https://twitter.com/JaanbazHaseeb?s=09

  • قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    قصہ ایک پاکستانی کا تحریر محمد وقاص شریف

    ایک دفعہ کا ذکر ہے 

    میری عمر 47سال ہے اور آٹھ سالوں سے بغیر لائسنس موٹرسائیکل چلا رہا ہوں،آج تک کوئی چالان نہیں ہوا۔پورے عرصے میں دو بار روکا گیا،فوتگی کا بہانہ کیااور چل سو چل۔ٹی وی پر ہیلمٹ کے بارے میں آگاہی مہم دیکھی،کافی متاثر ہوا،ساتھ ہی جرمانے کے خوف نے جنم لیا تو وددھ والے کے بل سے پیسے کٹ کیے اور ہیلمٹ خرید لیا۔ایک دن ذہن میں آیا کہ میں بھی ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے بائیک ڈرائیونگ لائسنس بنوا لوں،حالانکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔99%لوگ بائیک اور کار لائسنس اکٹھا اپلائی کرتے ہیں اور جن کے سر پر استاد ہوتا ہے وہ بنوا بھی لیتے ہیں،جب میں نے موٹرسائیکل لائسنس کیلئے اپلائی کیا تو مجھے احساس ہواکہ پاکستان میں شاید لیگل طریقے سے لائسنس بنوایاہی نہیں جا سکتا،وہ پاکستان جہاں کے40%لوگ آج بھی ان پڑھ ہیں،ان سے کہا جاتا ہے کہ پہلے تحریری ٹیسٹ دو پھر ٹریفک اشارے جوکہ 140ہیں،ان کا ٹیسٹ دو پھر گاڑی کا ٹیسٹ دو پھر لائسنس ملے گا۔اگر ایک دن میں 100لوگوں نے لائسنس کے لئے اپلائی کیا ہے تو ان میں سے 70%ان پڑھ ہوتے ہیں،لہٰذا 60سے70لوگ تحریری ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں،باقی میں سے90% لوگ اشاروں میں رہ جاتے ہیں جن 5سے8کو کلیئر کیا جاتا ہے ان میں سے90%چاچے مامے،بھانجے بھتیجے اور دوست احباب ہوتے ہیں۔میں نے لائسنس پر اس میں یہ بات شدت سے محسوس کی کہ تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کو امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔سنٹر میں یہ جملہ بار بار سننے کو ملا کہ اشاروں میں امیدوار خزاں کے پتوں کی طرح گریں گے اوربالکل ایسا ہی ہوا۔میں نے صرف موٹر سائیکل کے لائسنس کے لئے اپلائی کیا تھا لیکن مجھ سے موٹروے والے اشارے پوچھے گئے،جہاں موٹر سائیکل کی اجازت ہی نہیں ہے۔صوبہ پنجاب کا چپہ چپہ جانتا ہوں مگر ان 140اشاروں کا ذکر خیر90%سڑکوں پر نظر نہیں آتا۔”کیا یہ کھلا تضاد نہیں”افسوس مجھے اُس وقت بہت زیادہ ہوا جب بڑے بڑے ماہر ڈرائیور جن کو میں 20سال سے ڈرائیونگ کرتے دیکھ رہا ہوں،تحریری ٹیسٹ اور اشاروں کی نظر ہوگئے۔اگر کوئی بدقسمت اپنے گھریلو حالات یا تقدیر کے لکھے کی بنا پر تعلیم حاصل نہیں کرسکاتو اُس کو جینے کا حق تو بہرحال ہے! اُس کی فیملی بھی ہے،وہ بچوں کو بھی پڑھانا چاہتا ہے۔مستقبل کے ئے کچھ محفوظ بھی کرنا چاہتا ہے،اپنے گھر کی بھی خواہش ہے۔کیا ان پڑھ اس معاشرے کا حصہ نہیں ہے؟ کیا ان کے حقوق نہیں ہیں؟ اگر اس کے پاس ڈرائیونگ کا واحد ہنر ہے تو وہ گاڑی نہیں چلائے گا تو کیا کرے گا۔کیا حکومت کے پاس اس کا کوئی حل ہے؟ کیا ایسے لوگوں کے بارے میں کبھی سوچا گیا کہ ان کو قومی دھارے میں کیسے لانا ہے،ان کے ہنر کو کس طرح قانوناً بنانا ہے۔شاید حکومت کے پاس نہ یہ سوچ ہے اور نہ اس کا حل ہے کیونکہ وہ گڑھے مردے اکھاڑنے میں لگی ہوئی ہے،شریف برادران سے اربوں روپے وصول کر لیے ہیں،اب زرداری سے کھربوں نکلوا لیں گے اور معیشت آسمان پر چلی جائے گی،ایسا نہیں ہوتا ہے۔اگر اندھوں،بہروں، گونگوں،ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کو پڑھا یا جاسکتا ہے تو ان ہٹے کٹے نوجوانوں کو کیوں نہیں پڑھایا جاسکتا،جن کا ہنر جہالت کے ملبے میں دبا ہوا ہے۔مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو ایک حل ذہن میں آتا ہے کہ جو ڈرائیور لمبے عرصے سے گاڑی چلارہے ہیں یا جو  ان پڑھ ڈرائیونگ سیکھنا چاہتے ہیں اور لائسنس کے بھی خواہشمند ہیں،حکومت ان کے لئے ایک ادارہ بنائے،ان کو خود ٹرینڈ کرے۔ ٹریفک قوانین پر لیکچرز دیئے جائیں۔اشاروں سے آگاہی دلائی جائے اور کامیاب لوگوں کو لائسنس جاری کئے جائیں تاکہ وہ باعزت اور ذمہ دار پاکستانی کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔

    @joinwsharif7