Baaghi TV

Category: متفرق

  • ٹیرارزم سے ٹورازم تک کا سفر ۔۔

    ٹیرارزم سے ٹورازم تک کا سفر ۔۔

    9/11 کے بعد جنوبی ایشیا کے حالات بالعموم اور پاکستان کے حالات باالخصوص تبدیل ہوتے گئے۔ دنیا کی نظریں اس تبدیلی کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کے حالات پر ٹکی رہی۔

    دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے اور قریبی ہمسایہ ملک افغانستان میں بیک وقت نیٹو امریکہ بھارتیوں سمیت کل ملا کر 50 کے قریب پراکسیز کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں اگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پہلے قبائل اور پھر پشاور سے ہوتے ہوئے دہشت گردی کا یہ ناسور پورے ملک میں سرائیت کر گیا۔ 

    یہ ناسور اس قدر خطرناک تھا کہ ایک وقت میں پشاور میں لوگ خودکش اور بم دھماکوں کو گنتے تھے کہ اج کے دن ایک ہی روز میں 7 سے 8 دھماکے ہوتے گئے۔۔ حتی کہ کرکٹ جسے جینٹلمین کھیل کہا جاتا ہے اسکو بھی نا بخشا گیا اور سری لنکن ٹیم کی بس پر حملہ کر کے پاکستان کو پوری دنیا میں دہشت گردی کا گڑھ بنا دیا۔۔

    دہشت گردی کے اس بھیڑیے نے پاکستان کو دنیا کے لیے نو گو ایریا بنا دیا جس کی وجہ سے دنیا پاکستان انے سے کتراتی رہی اور یوں سیاحت پاکستان میں نا ہونے کے برابر ہوئی۔۔

    ِبھلا ہو ہماری عوام کا ہماری فوج کا ہماری عسکری نیم عسکری اداروں کا تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کا حکومت وقت کا جنہوں نے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا مصمم ارادہ کر کے 70 ہزار جانوں کا نزرانہ پیش کر کے بالاخر اس ناسور کو تقریباً ختم کردیا

     اور دنیا میں پاکستان کے بارے میں لوگوں کا خیال رفتہ رفتہ بدلنے لگا۔ 

    سب سے اچھا اقدام پی ایس ایل کا پاکستان میں انعقاد ہوا جس سے دنیا کو دہشت گردی کا خوف ختم کرنے میں بہت مدد ملی۔ اسکے بعد برطانوی جوڑے کا پاکستان کا دورہ کرنا بھی سیاحت کے فروغ کا باعث بنا۔

    پاکستان ایک زرخیز اور 4 موسم رکھنے والا ملک ہے

     جہاں دنیا کا اٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کے سرسبز و شاداب پہاڑ ، کشمیر کی قدرتی حسن سے مالا مال وادیاں  اور خیبر پختونخواہ کا حسن، سیاحوں کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔

     ساتھ ہی ساتھ موجودہ حکومت کی سیاحت میں دلچسپی کے باعث ایک بار پھر سے سیاحت نے انگڑائی لی اور مقامی افراد سمیت دنیا نے ان علاقوں کا رخ کرنا شروع کیا اور یوں دہشت گردی کے کالے سائے چھٹ کر سیاحت کا ایک درخشاں اور تابناک مستقبل سورج نمودار ہوا۔

    اس عید الاضحی پر ایک سروے رپورٹ کے مطابق سیاحت کے شعبے میں 28 لاکھ عوام نے شمالی علاقہ جات کا رخ کیا جہاں انہوں نے 23 ارب سے زیادہ روپے خرچ کیے۔ 

    یہ نوید ہے کہ پاکستان میں سیاحت پاکستان کی معیشت میں بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیاحت کے لیے مزید اقدامات کرے تاکہ نا صرف اندرونی سیاح بلکہ بین الاقوامی سیاح بھی مزید بڑی تعداد میں اکر سیاحت کو فروغ دیں۔

    اخر میں سلام پیش کرتا ہوں پاکستانی عوام کا پاک فوج کا سیکیورٹی ایجنسیوں کا شہدا کا، جنہوں نے ٹیرارزم سے ٹورازم تک کے سفر میں بے شمار قربانیاں دے کر ہمیں اج اس قابل بنایا کہ ہم دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہیں۔۔

    @Goharspeaks

  • آج کا معاشرہ اور ہم   تحریر : ثناءاللہ محسود

    آج کا معاشرہ اور ہم تحریر : ثناءاللہ محسود

    آج ہمارا معاشرہ شدید بے راہ روی کا شکار ہے۔ آج لوگوں نے اچھائی برائی اور حلال و حرام میں تمیز کرنی چھوڑ دی ہے۔ صحیح اور غلط کا فرق بھلا کر ہر شخص جائز نہ جائز طریقے سے مال حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہم رشوت اور سود جیسی خطرناک اور مہک بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ قتل و غارت عام ہو چکی ہے۔ بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اولاد والدین کی نا فرمان ہے ہمیں غور کرنا ہوگا کہ آخر اس معاشرے کے بگاڑ کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہم بحیثیت مسلمان اپنا فرض اچھے طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ کیا ہم صراط مستقیم پر عمل گامزن ہیں۔

    کیا ہم اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔ کیا ہم اپنے اہل و عیال کی اصلاح کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ کیا ہم اپنے حقوق وفرائض اچھے طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ ہمارا پیارا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں ہر طبقے کے لئے رہنمائی موجود ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کو واضح طور پر بیان گیا ہے۔ انسان کی ہر مشکل کا حل بتایا گیا ہے۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان اسلام کا پیروکار بننے کے لئے آمادہ ہو۔ اپنا تعلق اپنے رب تعالیٰ سے قائم کرے۔ ہر کام خالص اپنے اللہ عزوجل کے لئے کرے۔ اپنی خواہشات کو اللہ کے لئے قربان کر دے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری حالت اتنی ابتر کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ کے ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی مشکل آن پڑتی ہے۔

    گھروں میں نااتفاقیاں ہیں اور ہمارے خاندانوں کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ اس سب کی وجہ صرف اور صرف اسلام سے روگردانی ہے۔ چند لوگ ہیں جو اسلام کہ احکامات کو اپنی زندگی پر لاگو کئے ہوئے ہیں۔ وہ بھی اسلامی تعلیمات کو بس اپنے گھروں تک محدود رکھتے ہیں۔ خود تہجّد چاشت کے پابند ہیں۔ مگر معاشرے کی اصلاح نہیں کرتے۔ اسلامی تعلیمات نے انسان پر صرف اپنی زمہ داری عائد نہیں کی بلکہ اپنے گھر والوں اپنی اولاد، عزیز و اقارب اور اپنے خاندان والوں کی اصلاح کا فریضہ بھی عائد کر رکھا ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں سورت البقرہ میں ارشاد فرمایا! تم بہترین امت ہو۔ کیوں کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے منع کرتے ہو۔ اس آیت میں امت محمدیہ کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔

    کیوں کہ وہ نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کیا ہم بھلا کا حکم دیتے اور نیکی سے منع کرتے ہیں۔ یقینا نہیں۔۔۔ اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ برائیوں کی لپیٹ میں ہے۔ جب ایک فرد اپنی اصلاح کی طرف اپنی پوری توجہ مبذول کرے گا۔ تو اس سے ایک اچھا معاشرہ وجود میں آئے گا۔ اور جب ایک معاشرہ صحیح راستے کی طرف چل پڑے۔ تو دھیرے دھیرے اس کے اچھے اثرات پوری قوم میں منتقل ہوں گے۔ اور پوری قوم میں اصلاح کا جذبہ پیدا ہو گا۔ اگر آپ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کا دین برحق ہے۔ اور مرنے کے بعد جزا سزا کے مراحل پیش آنے والے ہیں۔ تو خدا کے لئے اپنی اولاد، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب کو بھی اس مرحلے کے لئے تیار کریں۔ گھروں کو نماز اور تلاوت قرآن سے آباد کریں۔ ان باتوں پر اگر خلوصِ دل سے عمل کیا جائے۔

    تو ہم اپنے معاشرے کو ایک بہترین معاشرہ بنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔

    @SanaullahMahsod

  • شرمندہ ہجوم/ بےحس عوام تحریر: محمد عمران خان

    شرمندہ ہجوم/ بےحس عوام تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranKBloch

    کہاں سے لکھوں کہاں تک لکھوں میرے دیس کا تو ہر ہر لمحہ تار تار ہے، ہر روز اِک نیا عذاب جس سے ہجوم چیخ اُٹھتا ہے، فیس بک ٹیوٹر سوشل سائٹس پہ خوب واویلا کیا جاتا ہے، اپنے باشعور ہونے کا احساس چیخ چیخ کے دلانے والے اس ہجوم کا ضمیر اندر ہی اندر ہنس رہا ہوتا ہے کیسا چونا لگا رہا ہے لوگوں کو، اس ہجوم کے ہر تماشائی کی مثال اُس مزدور سی ہے جو مالک کو چونا لگانے کے چکر میں ایک ہی سیمنٹ کی بوری چھت پہ لے کے جاتا اور وہی واپس نیچے لے کے آتا صبح سے شام کر دیتا ہے، اس ہجوم کے غریب لاچار کی خود سے ہمدردی اُس مسافر کی سی ہے جو واپسی کا ٹکٹ بھی لے کر ٹرین پہ سوار ہو گیا ہے اور دل ہی دل میں اس خیال سے محضوظ ہو رہا ہے کہ واپسی تو میں نے کرنی نہیں، اس ہجوم کا ایک ایک فرد ملک و ملت سے اتنا وفادار ہے، غریب بے کس پسی عوام کا اتنا درد اس کے اندر سمویہ ہے کے کام کاج سے تھکا ہارا گھر لوٹ کر شام چھ سے رات بارہ ایک بجے تک پوری تندہی سے سوشل میڈیا سائٹس پہ مفکرانہ، مفسرانہ، قرآن حدیث اقوال ذریں پہ مبنی اسلامی پوسٹس کرتا ہے،  وطن سے محبت کے ترانے الاپتا ہے، حکمرانوں کی سمت درست کرواتا ہے، کرپٹ سیاستدانوں کی ماں بہن ایک کرتا ہے، بیوروکریسی کے کالے کارناموں پہ ہزار لعنتیں بھیجتا غریب دکھیاری پریشان عوام کے دکھ کا مداوا کر کے سکون کی نیند سو جاتا ہے کہ میں نے اپنا فریضہ ادا کر دیا الحمداللہ،

    ہم بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں سے شرمندہ، دہشتگردوں کے ہاتھوں گولیوں سے چھلنی ہونے والوں سے شرمندہ، اے پی ایس کے معصوم فرشتوں سے شرمندہ، بلدیہ ٹاون، ماڈل ٹاؤن، ساہیوال، جیسے کئی سانحوں کی لپیٹ میں آنے والے معصوم لوگوں سے شرمندہ، شاہ رُخ جتوئی کے ہاتھوں قتل ہونے والے  شاہ زیب سے شرمندہ، ایان علی کیس کے تفتیشی کسٹم آفیسر اعجاز چودھری سے شرمندہ، نقیب اللہ، ننھی زینب، صلاح الدین، جیسے ہزار ہا ناحق مارے جانے والوں، وڈیرے سرمایہ داروں کے ہاتھوں مارے جانے والے مظلوموں، مہنگائی، بیروزگاری، انصاف کی عدم دستابی کے ہاتھوں مجبور ہو کر فیملیز سمیت خودکشیاں و خود سوزیاں کرنے والوں سے شرمندہ ہیں، ہم ایک ایسا شرمندہ ہجوم ہیں جن کی شرمندگی دکھاوے کے سواء کچھ بھی نہیں، جن کے بیان سالہاسال سے اس فرسودہ نظام اور اس سے مستفید کرپٹ عناصر کے خلاف پورے جوش خروش والے ہوتے ہیں مگر جب ہر ہر بربریت سے بھرپور سانحہ پہ نکلنے کا موقع آتا ہے تو یہی عوام نکلنے والوں کی پکار پہ لبیک کہنے کی بجائے ٹی وی چینلز کے سامنے بیٹھ کر نکلے ہووں پہ ٹھٹھے اور جگتیں کسنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں، یہی ہجوم پانچ سال دل کھول کے گالیوں سے نوازنے کے بعد اُنہی کرپٹ ظالم بھتہ، قبضہ مافیا کو الیکشن کے دنوں میں اپنی پلکوں پہ بیٹھتا ہے، لائنوں میں لگ کر اُنہیں اگلے پانچ سال کیلئے کرپشن ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنے کا لائسنس دیتا ہے، اے زندہ لاشو تم کب تک شرمندہ ہوتے رہو گے تمہارے مقدر کی گولی تو اس فرسودہ کرپٹ نظام میں تیار ہو چکی بس انتظار کرو  کسی نا کسی دن پولیس کی وین آئے گی اور تمہارے لواحقین پوسٹ مارٹم زدہ لاش وصولنے کیلئے مردہ گھر کے باہر منتظر ہوں گے، بے فکر رہو ایک تلاتم خیز سمندر تمہارے نام پہ ہزاروں لاکھوں پوسٹس کرے گا، ہو سکتا ہے ٹیویٹر پہ ٹرینڈ بھی بن جائے، زندہ تھے تو ٹی وی چینلز پہ لوگوں کی خبریں سنتے تھے پولیس گردی کے نتیجہ میں مرو گے تو ٹی وی چینلز کے بلیٹن، ٹاپ سٹوریز، ٹاک شوز، میں تمہارا نام جگمگائے گا، قوم بن کے بوسیدہ دیمک زدہ کرپٹ نظام کو زمین بوس کرنے کیلئے نکلنے کا کیا فائدہ گولیوں سے چھلنی کر بھی دیے گئے تو نیوز بلٹن میں بس اتنی سی خبر آنی ہے پاکستان کو کرپٹ نظام اور اُن کے چیلوں سے واگزار کرواتے ہوئے دس بیس ہزارافراد شہید

  • صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی کسی بھی شخص کے کے کھانے پینے، کام کرنے، سونے جاگنے اور دیگر تمام امور سے متعلق ہے ۔ یہ انسان کی عادات و خصائل اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف رحجان کا احاطہ کرتی ہے۔ زندگی اللّلہُ تعالی کی نعمت ہے اور صحت اس سے بڑی نعمت ہے۔ آج کل صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہے۔  لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت تباہ اور صحت مندانہ طرز زندگی کوختم کرنے کے درپے ہیں۔ لوگ اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے، پر آسائش زندگی کے حصول کے لیے  دن رات تگ و دو کرتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں لیکن دراصل وہ صحت مندانہ طرز زندگی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
    موبائل فون، اور دیگر آلات کے استعمال، سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ وغیرہ نے لوگوں کو قدرت اور صحت مندانہ طرز زندگی سے دور کر دیا ہے۔ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال نیند میں کمی، تنہائی ڈپریشن وغیرہ کی وجہ ہے۔ موبائل فون اور دیگر آلات سے شعاعیں خارج ہوتی ہیں، جن کے انسانی جسم پر مضر اثرات ہیں۔ موبائل فون استعمال کرتے دن کا بیشتر وقت گزر جاتا ہے، ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنا، وہی کھانا پینا، جس سے جسمانی سرگرمیاں تو بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا یا اس کے انداز اپنانا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔  اگر لوگ چاہیں تو اپنے لئے صحت مندانہ طرز زندگی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ترجیحات کے تعین، کوشش، اور توجہ سے صحت مندانہ طرز زندگی اپنا سکتے ہیں۔ اپنا خیال رکھیں، اچھی روٹین سیٹ کریں اور اسے فالو کریں۔ صاف ستھرے رہیں۔ نفاست پسندی کی زندگی بسر کریں۔ دوست بنائیں، باتیں کریں اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی میں یہ شامل ہے کہ آپ خوراک کے معیار پر توجہ دیں۔ ناقص خوراک استعمال نہ کریں۔ غذائیت بخش خوراک کا استعمال یقینی بنائیں۔ جو غذا کھائیں، وہ متوازن ہو اور غذائیت سے بھرپور ہو۔ چینی، تیز مرچ مصالوں، چکنائیوں اور  مرغن کھانوں سے دور رہیں۔  فاسٹ فوڈز سے اجتناب کریں، یہ مضر صحت ہیں ان کا استعمال کسی بھی صورت صحت مندانہ نہیں ہے۔ پھل، سبزیاں اور دالیں وغیرہ اپنی خوراک میں شامل کریں۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ مقدار میں کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ بلکہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ وقت پر کھانا کھانے کا معمول بنائیں۔ بغیر وقت کے کھانا کھانا بھی جسم پر منفی اثرات چھوڑتا ہے۔ محنت کریں اور حلال کی کمائی کھائیں، محنت سے حاصل کیے گئے حلال رزق کے نوالے آپ کے جسم پر مثبت اثرات رکھتے ہیں۔
    پانی کا استعمال زیادہ سے کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ پانی کا استعمال ہمارے لئے کتنا مفید ہے لیکن ہم پانی کے بجائے دیگر مشروبات، کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ جو کہ مضر صحت ہیں۔ کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال نہ کریں، بلکہ تازہ پھلوں سے کشیدہ رس کے استعمال کو ترجیح دیں۔
    کام کرنے کے اوقات متعین کریں۔ اتنا کام  کریں جو آسانی کے ساتھ کر سکیں، اور آپ کی صحت اجازت دے۔ دن رات کام نہ لگے رہیں اور نہ ہی جرآت سے بڑھ کر کام کریں بلکہ اتنا ہی کام کریں جس سے صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے۔ یاد رکھیں آپ کام کے لیے نہیں بنیں۔ آپ کا خود پر سب سے زیادہ حق ہے۔
    اچھی اور مناسب نیند لیں۔ بھرپور نیند آپ کو فریش اور تروتازہ رکھتی ہے۔  چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ گھنٹے کی مکمل نیند لیں نیند بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے اور نیند مکمل نہ ہونے کی صورت میں آپ بہت سی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دیر سے سونا اور دیر سے اٹھنا جیسی خراب عادتوں کو زندگی کا حصہ نہ بنائیں وقت پر سوئیں، وقت پر اٹھیں۔ اگر آپ وقت پر نہ سوئیں، اٹھیں، یا ناکافی نیند لیں تو چڑچڑا پن،  تھکاوٹ اور سستی مستقبل آپ کی ساتھی بن جاتی ہیں اور آپ کی صحت پر منفی انداز میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ بلا وجہ کی پریشانیوں اور ٹینشنوں کو زندگی میں جگہ نہ دیں۔ پریشانیاں اور ذہنی دباؤ آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ سٹریس کو مینیج کرنا سیکھیں۔ اور مثبت رویہ اپنائیں۔
    مشینوں کے استعمال نے ہمیں بہت سست اور کاہل بنا دیا ہے۔ آرام طلبی کی زندگی کو چھوڑ دیں، یہی صحت مندانہ طرز زندگی کی قاتل اور دشمن یے۔  ہر وقت پڑے رہنا اور جسمانی طور پر کوئی ہل جل نہ کرنا بہت سی بیماریاں لاتی ہے۔ یہ کاہلی، سستی اور موٹاپا کا سبب بنتا ہے۔ مشینوں پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہل جل کریں، اور اپنی قوت باہر اعتماد کریں۔ اپنے کام خود کریں۔ کام کاج اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔
    روزانہ  مستقل بنیاد پر ورزش کریں۔ اگر آپ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے تو آپ جسمانی طور پر ہمیشہ فٹ، تندرست اور چاق و چوبند رہیں گے۔ ورزش دل کے لیے بہت مفید ہے اور دوران خون کو رگوں میں رواں رکھتی ہے۔ ورزش کرتے ہوئے ایسے ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں جن سے منفی جذبات اور ذہنی دباؤ دور ہوتا ہے۔ جس کے سبب جسم پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔
    اس کے علاوہ چہل قدمی اور ہوا خوری کی عادات اپنائیں۔ ان کے بھی صحت پر خوشگوار اثرات ہیں۔ تازہ ہوا میں سانس لینے سے ذہن کو تازگی ملتی ہے اور سکون ملتا ہے۔
    صحت مندانہ طرز زندگی ایک کلچر ہے، اس میں آپ کے روزمرہ کے طور طریقے شامل ہیں اگر آپ کے انداز و اطوار صحت مندانہ نہیں ہیں، صحت مندانہ طرز زندگی کو فروغ دینے والے نہیں ہیں تو یقینا آپ برے کلچر کا حصہ ہیں۔ اپنے لیئے صحت منتخب کریں، اور زندگی گزارنے کا بہترین اور صحت بخش طریقہ اپناءیں۔ ہمیں اپنی بقا کے لیےصحت مندانہ طرز زندگی کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔

    @FarooqZPTI

  • دورہ   نیوزیلینڈ”  تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    دورہ   نیوزیلینڈ” تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    ایک ملک جس نے پچھلی کئی دہائیوں سے کوشش کی ہو کے ایک بار پاکستان میں کرکٹ واپس آ جائے ایسے وقت پر جب وہ معاشی طور پر ڈگمگا رہا ہوں جب ہر طرف سے مشکلات در پر ہوں اس وقت کرکٹ کی واپسی کے لیے پی ایس ایل جیسا عظیم ایونٹ کروانا اور آہستہ آہستہ پاکستان میں لے کر آنا تاکہ وہ تمام لوگ جو کرکٹ کے دیوانے ہیں جنہوں نے کئی سالوں سے دوسرے ممالک میں مہنگے داموں ٹکٹ خرید کر میچ دیکھے یا پھر گھروں میں رہ کر اس امید میں رہے کہ ایک دن ہمارے ملک کے گراؤنڈ بھی آباد ہوں گے۔ ان کے مرجھائے ہوئے دل صرف اور صرف پاکستان میں کرکٹ کی واپسی پر کھل اٹھے۔ ان لوگوں کے جذبات و احساسات کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سیاسی طور پر بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ نے پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر اپنے ناپاک ارادے کا دھبہ لگانے کے لئے اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا۔

     جب آپ کی ٹیم ایک ہفتہ تک پاکستان میں رہی نہ ہی کوئی خطرہ پیش آیا اور نہ ہی ان کی عزت افزائی میں کمی آئی۔ جسے بڑے پروٹوکول کے ساتھ پاکستان میں خوش آمدید کہا گیا مگر پھر بھی اگر خطرہ پیش آیا تو صرف میچ سے چند لمحے پہلے ہی کیوں؟ ایک ملک میں جا کر آپ پانچ چھے دن رہیں اور پھر اس کی طاقت و قوت یعنی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے واپس چلے جائیں کیا یہ آپ کو زیب دیتا ہے؟ آپ نے نہ صرف پاکستان کے روشن چہرے اور سبز پاسپورٹ پر اپنی غلیظ حرکت سے دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کی ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کے دلوں کی امید کو بھی توڑا ہے۔ آپ نے لاکھوں لوگوں کے جذبات سے کھیلا ہے۔

     آپ سے پہلے پی ایس ایل میں آپ کی ٹیم کے کھلاڑی ہمارے ہاں کھیل چکے ہیں انہیں تو اس سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا اس کو چھوڑیے آپ سے پہلے ساؤتھ افریقہ، بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز وغیرہ کی ٹیمیں بھی تو پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ کیا ان کو ذرہ برابر بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

     اس منصوبے میں صرف نیوزی لینڈ ہی نہیں دوسرے ممالک بھی موجود ہیں جو کہ پاکستان کو دن بدن پستی کی جانب دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ ان کی یہ تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ ہم مشکلات کا جرآت سے مقابلہ کرنے والی قوم ہیں۔ ہم نےبھی نیوزی لینڈ کا دورہ کیا جب مساجد میں حملے ہوئے یا پھر جب نیوزی لینڈ میں کرونا شدت سے تھا اور ان کی بدانتظامی کے باوجود ہم نے دورہ ختم نہیں کیا۔ اب وقت ہے کہ ہم صرف کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وقار کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کریں۔ اپنی ہمت اور جرات مندی سے ایسی ٹیموں کو میدان میں ہی بتا دیں کہ ہم کون ہیں؟

     ہمارے کرکٹ بورڈ کو مزید بہترین انداز میں پی ایس ایل جیسے ایونٹ کو آگے لے کر چلنا ہوگا تاکہ پاکستان کے دشمنوں کو ہر جگہ رسوائی نصیب ہو اور اس واقع پر ICC میں بھرپور آواز اٹھائی جائے۔ الحمدللہ ہمارا یہ ملک پوری دنیا کے لیے ایک محفوظ ملک ہے جس نے اپنی طاقت و قوت کا ہر جگہ مظاہرہ کیا ہے اور کامیاب رہا ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنی قوت و صلاحیت سے دشمن کی طرف سے ہر آنے والی سازش اور میلی نظر کو پہچانیں اور اس کو ایسا جواب دیں کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں۔

    اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کو پہچانیں اور بےنقاب کریں جو کہ اس واقعے پر جس میں پاکستان کی عزت پر دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے خوشی منا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تب خوش ہوتے ہیں جب پاکستان پر وقت آتا ہے خدا ان لوگوں کو ہر جگہ دربدر کرے جس طرح یہ لوگ پہلے ہی ہورہےہیں۔

  • دور جدیدایک وبال؛ تحریر؛ غلام مرتضی

    دور جدیدایک وبال؛ تحریر؛ غلام مرتضی


    آج کل چونکہ جدید دور ہے اور ہر کوئی گزرتے وقت کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے  ۔جس میں ہر کوئی خود کو دوسرے سے بہتر دیکھنا چاہتا ہے ۔لڑکے اچھی ملازمت چاہتے ہیں ،دوسروں سے زیادہ كمانا چاہتے ہیں ،خود کو دوسرے سے اچھی پوسٹ پر اور اونچا دیکھنا چاہتے ہیں ۔جبکہ لڑكياں بھی اس ریس میں پیچھے نہیں وه خود کو کسی سے كمتر تسلیم نہیں کر سکتیں ۔لڑکیاں نئے سے نئے ڈیزائن کے اور برینڈیڈ کپڑے پھننا چاہتی ہیں جبکہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔
    اس زمانے کی بڑھتی رفتار میں کوئی بھی پیچھے نہیں ہے چاہے وه مرد ہو یا عورت ،بوڑھے ہوں یا بچے ۔بچے اچھی تعلیم کے لئے اچھے ادارے جانے کا خواب رکھتے ہیں ۔جبکہ بوڑھے پاركس میں جانے اور واک وغیرہ کرنے میں ٹھیک رهتے ہیں ۔وه بھی نئے دور کی سہولتوں  سے آراسته ہونا چاہتے ہیں ۔وه بھی وہیل چئیر اور موبائل فون کی سهولت بروئے کار لاتے نظر آتے ہیں۔ والدین کی خواہش ہے کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ کر ان کا نام روشن کریں ۔اگر کوئی کھیل کے میدان میں اگے بڑھ رہا ہے تو وہ اپنے بچوں کو بھی وہی کرنے کا کہتے ہیں ۔چونکہ آج کل فیشن کا دور ہے تو کچھ مائیں خود کو زمانے کے برابر دیکھنے کے لئے اپنی بچیوں کو بھی ویسے ہی تنگ لباس خرید کر دیتی ہیں تا کہ وہ کسی سے کم نہ لگیں ۔جب کہ اسلام ہمیں پردے کا درس دیتا ہے ۔یہی کچھ لڑکیاں اپنے انھیں ارادوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے والدین کے خلاف بھی ہو جاتی ہیں اور انہیں اپنا دشمن سمجھتی ہیں ۔ 
    ایک زمانہ تھا میلے لگتے تھے اور وہاں سادے لوگ اپنی اپنی خوشیاں سمیٹتے تھے ۔لیکن اب دعوتیں ہوتی ہیں جس میں ہر کوئی خود کو دوسرے سے الگ اور بہتر دیکھنا چاہتا ہے ۔کوئی عورت دوسری عورت کو اپنے سے بہتر برداشت کر ہی نہیں سکتی ۔
    پہلے پہلے مائیں اپنے بچوں کو اپنی گود میں تربیت دیتی تھیں لیکن اب یھاں بچا پیدا ہوتا ہے بولنے کے قابل ہوتے ہی اسے موبائل فون تهما دیا جاتا ہے ۔جس سے بچے کی اچھی پرورش نہیں ہو پاتی ۔
    رخ کرتے ہیں جدید دور کے ایک بڑےمسئلے کی طرف جسے (fame) کہتے ہیں ۔اسے پانے کے لیۓ کوئی بھی کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔جیسا کہ آپ میں سے کوئی ایسا نہیں جو ٹک ٹاک جیسی بے هوده ایپ سے متعارف نہ ہو یہی کافی نوجوان اپنی لگن اور محنت سے کامیاب ہوئے پر کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہنر نہ رکھنے پر فحاشی کا سہاره لے رہے ہیں اور بےہوده حر کتیں کرتے دكهائی دیتے ہیں ۔جو کہ باقی نسل کو بھی خراب کر رہے ہیں ۔لڑکے ہوں یا لڑكياں کوئی پیچھے نہیں اس دوڑ میں ۔لڑکیاں الگ الگ طریقوں سے مشہور ہونا چاہتی ہیں جبکہ اپنا پرده تک بھول بیٹھی ہیں ۔وه لڑکیاں جو اسلام کی شہزادياں ہیں وه خود کو مغرب کی پرياں سمجھتی ہیں ۔
    جبکہ لڑکے عجیب حرکتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔خدا نے مرد بنایا اپنے خاندان کی رہنمائی کے لیۓ ،عورت کی عزت کے لیۓ ۔مرد کی شان اسکی مونچھیں اور داڑھی ہوتی ہیں ۔مرد کی بارعب آواز پورے گھر میں دهات بٹھائے رکھتی ہے ۔جبکہ آج کل کچھ  لڑکے مرد بن کر راضی نہیں اور میك اپ  میں خوش رهتے ہیں ۔کئی لڑکے مشہور ہونے کے لئے داڑھی مونچھ ہٹوا کر لپ اسٹک لگانے کو عظیم سمجھتے ہیں اور بڑے بال رکھ کر اپنی مردانگی پر ایک دهبا لگا رہے ہیں ۔جس پر ان کے والدین بھی خاموشی تانے ہوئے ہیں ۔حال ہی کی ایک خبر ہے کہ لاہور میں ایک باپ نے اپنی بیٹی کو ٹک ٹاک جیسے وبال سے دور رهنے کا کہا جس پر لڑکی سے اپنے باپ کو مارا۔مزاحمت کرنے پر باپ نے بیٹی کو كمرے میں بند کیا جس پر بیٹی نے پورے گھر میں آگ لگا دی ۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس نشے میں دهت ہو چکی ہے ۔
    اب آپ بھی خوب واقف ہیں اس دور سے ۔جس سے ہر عقلمند انسان پناہ چاہتا ہے ۔بے شک اب انسان کے لیۓ ہر کام آسان ہے لیکن یہی کچھ آسانياں ایسی بھی ہیں جو ہمارے لیے بہتر ثابت نہیں ہو سکیں ۔نوجوان نسل کو اپنے اور ملک کے دفاع کے لیۓ وه کام کرنا چاہیے جو دشمن کو پست کرے ناکہ ایسی حركات سے ملک و قوم کا نام برباد کرنا چاہیے ۔اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی میں سرعام منشیات کا استعمال جاری ہے جو کہ ہمارے لیے شرم کا باعث ہے ۔ 
    اس میں کافی ہاتھ والدین کا بھی ہے جو کہیں نا کہیں اپنی اولاد کی تربيت میں كمي چھوڑ دیتے ہیں ۔یا پھر ان پر دھیان نہیں دیتے جس وجہ سے وه بری صحبت میں پڑ جاتے ہیں ۔آج ہم ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں کہ باہر پرده کر کے نکلنے کو جهالت سمجھا جاتا ہے اور فحاش لوگوں کو ماڈرن ۔بہرحال کوئی بھی انسان دوسرے جیسا نہیں اگر کوئی کہے کہ سب ایک ہیں تو یہ سراسر ناانصافی ہو گی ۔کیونکہ ایک مچهلی پورے تالاب کو گنده کرتی ہے اسی طرح چند ایسے لوگ ہمارے معا شرے کی تباہی کا باعث بنتے ہیں ۔  ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھتے ہی انہیں سمجھائیں کیونکہ باقی نسل پر ان کا منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ یہ ہماری نسل کی بقا کی جنگ ہے جو ہم سب کو مل کر لڑنی ہے۔ اگر ہم سب اپنے حصّے کا کام کریں گے تو ضرور اس وبال پر قابو پا لیں گے ۔

  • بدنام معاشرہ تحریر: رانا محمد جنید

    بدنام معاشرہ تحریر: رانا محمد جنید

    کسی بھی معاشرے کی صحت کے لیے اس میں امانت، دیانت اور شرم وحیا کا پایاجانا بہت ضروری ہے۔ اور یہی عناصر کیسی معاشرے کی ترقی کا سسب بھی بنتے ہیں اور جب یہ عناصر کیسی معاشرے سے ختم ہو جاتے ہیں تو وہ معاشرہ تباہی کی جانب گامزن ہو جاتا ہے. جب کوئی قوم یا معاشرہ مالی اور بد فعلی کی راہ روی پہ چل پڑتا ہے تو وہ تباہ ہو جاتا ہے اور قرآن مجید میں اس کی بہترین مثالیں موجود ہیں.

    حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ایل دوسرے کا حق چھین لیا اپنے لیے فخر کی بات سمجھا کرتی تھی اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ذریعے انہیں سراط مستقیم پہ آنے کی دعوت دی پر ان پر کوئی اثر نا ہوا، جس کے بعد اللہ پاک نے ان پر چمگادڑ کا عذاب نازل فرمایا اور اس قوم کو تباہ کر دیا.

    ایسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جنسی راہ روی کا شکار تھی حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اس چیز سے باز رہنے کی تلقین کی پر وہ اس برائی میں دھنستے چلے گئے پھر اللہ پاک نے فرشتوں کی ایک جماعت کو ان کی طرف انسانی شکل میں بھیجا اور قوم لوط نے اس کو بھی اپنی برائی میں شامل کرنا چاہا پر اس سے پہلے وہ کچھ کرتے اللہ پاک کے حکم سے فرشتوں نے پوری بستی کو الٹ کر زمین پہ دے مارا اور پھر آسمان سے پتھروں کی بارش کی جس سے قوم لوط ماری گئی اور حضرت لوط علیہ السلام اپنے ماننے والوں کو لے کر چلے گئے تھے

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فقط برائی کے ارتکاب سے نہیں روکا بلکہ برائی کے قریب تک جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 32 میں ارشاد فرماتے ہیں:

    ”اور زنا کے قریب نہ جاؤ ‘ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے”۔

    ہمارا پیارے دین اسلام ہر ایک جاندار ہے حقوق سکھاتا ہے مگر افسوس کی بات ہے کیسی دوسرے کے تو کیا انسان خود اپنی ہم جنس کو بھی اس کے حقوق دینے اور اس کی حفاظت کے لیے تیار نہیں

    ہمارا معاشرہ اس قدر بگڑ چکا ہے کہ اب یہاں ہر کوئی اپنی عزت کی پروا کرتا ہے اور دوسروں کی عزت کا خیال نہیں

    یہاں پر عورت کو اب صرف ایک گوشت کا ٹکڑا سمجھا جاتا ہے جیسے اپنی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کچھ بھی نہیں

    حال ہی میں کچھ ایسے ہی واقعات ہمیں دیکھنے کو ملے جو روح کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے چاہے وہ قصور کی زینب ہو یا سانحہ موٹر وے، نور مقدم کیس ہو یا سانحہ منار پاکستان ان واقعات سے ہمارے معاشرے کی بس حالی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے ہم کس طرف جا رہے ہیں

    اگر ان واقعات کو نا روکا گیا تو ممکن ہے چند سالوں بعد ہر گھر میں زینب جیسی بچی کی عزت روند دی جائے گی.

    ہم سب مسلمان ہیں اور ہم اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں تو ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں ہر عمل کریں اور اپنے معاشرے سے برائی کو ختم کر سکیں

    قرآن مجید برائی کو روکنے کے لیے چند اصول بیان کرتا ہے جو ہر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہیں

    مرد اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھیں

    عورتیں اپنی نگاہوں کو جھکائیں اور اپنے وجود کو ڈھانپیں۔

    بے نکاح لوگوں کا نکا ح کیا جائے۔

    کسی کے گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت لی جائے۔

    ظہر اورعشاء کے بعد اور فجر سے پہلے گھریلو کمروں میں ملازم اور بچے بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔

    تہمت لگانے والوں کو سخت سزا دی جائے۔

    اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے والدین، اساتذہ، علماء کرام اور ریاست کا فرض بنتا ہے کے وہ اس برائی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں

    والدین اپنے بچوں کی اچھی طرح سے پرورش کریں اور انہیں ہر برائی اور اچھائی میں فرق کرنے کا بتائیں اور ان کی مصروفیات ہر نظر رکھیں

    اساتذہ کو چاہیے کے وہ اہنا نظام تعلیم اس طرح کا بنائیں کے جو برائی کے خاتمے کا سبب بنے ناکہ اس کو اور زیادہ ہوا دے، اور بچوں کو اس برائی کے مثبت نتائج سے آگاہ کریں

    اور یہاں ریاست کا اہم کردار ہوتا ہے کے فحاشی پھیلانے والے ذرائع بند کرے اور وہ اسے قانون بنائے جن میں ملزمان کو جلد از جلد اس کے گناہوں کی سزا دی جا سکے تاکہ دوسرے ان اے عبرت حاصل کریں

    اگر مذکورہ بالا تدابیر کو اختیار کر لیا جائے تو یقینا معاشرہ طاہر اور مطہر معاشرے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو برائی سے بچ کر شرم وحیا والی زندگی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
    آمین !

     

    @Durre_ki_jan

  • حضرت مولانا شیخ الہند محمودالحسن قدس سرہ کی حالات)  تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    حضرت مولانا شیخ الہند محمودالحسن قدس سرہ کی حالات) تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی رح ۱۲۶۸ بمطابق 1851 کو  بریلی میں پیدا ہوئے۰ آپ رحمہ اللہ کے والد ماجد مولانا ذوالفقار علی رح ایک جید عالم تھے۰

    أپ رحمہ اللہ کا شجرہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنه سے جاکر ملتا  ہے۰

    آپ رح نے قرآن پاک کا کچھ حصہ اور ابتدائی کتابیں مولانا عبدالطیف رح سے پڑھیں۰

    ابھی آپ رح قدوری تہذیب وغیرہ پڑھ رہے تھے کہ ۱۲۸۳ میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا ۰آپ رح اس مدرسہ کے پہلے طالب علم بنے۰ ۱۲۸۶ میں آپ کتب صحاح ستہ کی تکمیل کرکےفارغ التحصیل ہوئے ۰ حدیث میں آپ رح کو مولانا قاسم نانوتوی رح مولانا یعقوب نانوتوی رح کے علاوہ قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی رح اور مولانا شاہ عبدالغنی رح سے بھی اجازت حاصل ہے۰آپ رح کو فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی دارالعلوم دیوبند کا معین مدرس بنادیا گیا ۰ابتدا میں آپ رح کے سپرد ابتدائی تعلیم پڑھانے کا کام کیا گیا ۰لیکن بہت جلد آپ علمی استعداد اور ذہانت ظاہر ہونےلگی اور رفتہ رفتہ آپ رح مسلم شریف اور بخاری شریف کی تدریس تک جا پہنچے۰

    آپ رح کا زمانہ تدریس چوالیس سال سے زائد ہے۰اس عرصہ میں اطراف اکناف عالم میں اپ رح کے تلاذہ پھیل گئے جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۰آپ رح کے ممتاز تلامذہ میں مولانااشرف علی تھانوی رح ،علامہ شبیر احمد عثمانی رح،علامہ انور شاہ کشمیری رح ،مولانا حسین احمد مدنی رح،مفتی کفایت اللہ دہلوی رح،مولانا اصغر حسین دیوبندی رح،مولانا عبیداللہ سندھی رح،مولانا اعزاز علی رح،مولاناحبیب الرحمن عثمانی رح اور مولانا عبدالسمیع رح جیسے مشاہیر علم وفضل شامل ہے۰

    آپ رح شروع سے ہی نیک اور نیک فطرت تھے۰اس کے ساتھ مولانا محمد قاسم نانوتوی رح کی محبت اور صحبت اور مولانا رشید احمد گنگوہی رح کی توجہات نے آپ رح کو روحانیت کے عرش پر بٹھادیا تھا۰شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے اپ رح کے کمالات علمیہ وروحانیہ سے خوش ہوکر دستار خلافت اور اجازت نامہ بیعت عنایت فرمایا۰دربار رشیدیہ سے بھی اپ رح  کو یہ نعمت حاصل ہوئی۰حاصل یہ کہ اپ رح علم نبوت ،شریعت ،طریقت اور روحانیت کے مجمع البحرین ہی نہیں بلکہ مجمع البحار تھے۰اپ رح اگر چہ اکثر اوقات تعلیم وتعلم اور تصنیف وتالیف اور مطالعہ کتب میں مصروف رہتے لیکن اور ادووظائف ،ذکر ومراقبہ،اور صلوۃ الیل پر بھی ہر حالت سفر وحضر حتی کہ مالٹا کی طوفانی برفباری میں بھی اپ رح کے معمولات میں فرق نہ آتا تھا۰

    انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے مشن کو اپ رح نےکافی اگےتک بڑھایا ۰اپ رح عسکری بنیادوں پر مسلمانوں کو منظم کرکے انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہتے تھے۰اس ضمن میں اپ رح نے تحریک ریشمی رومال شروع کی جس کا مرکز اپ رح نے کابل کو بنایا ۰اپنوں کی سازش اور ریشہ دوانیوں سے تحریک کامیاب نہ ہوسکی تاہم اس نےمسلمانوں میں بیداری کی روح پھونک دی۰_۱۳۳۵ میں انگریزوں نے اپ رح کو گرفتار کرکے مالٹا پہنچادیا ۰ ۱۳۳۸ میں وہاں سے رہا ہوئے اور ہندوستان آئے ان دنوں تحریک خلافت وعروج پر تھی باوجود عمر میں زیادتی اور بیماری کے آپ رح نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا لہذا بیماری میں اضافہ ہوگیا۰اپ رح نے ۱۸ربیع الاول ۱۳۳۹ کو دیوبند میں انتقال فرمایا۰الل.  اپ رح پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۰اتباع سنت:

    حضرت شیخ الہند رح کا معمول تھا کہ وتروں کے بعد بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے تھے۰کسی شاگرد نے عرض کیا،حضرت!بیٹھ کر نوافل پڑھنے کاثواب تو ادھا ہے۰حضرت رح نے فرمایا ہاں بھائی !یہ تو مجھے معلوم ہے مگر بیٹھ کر پڑھنا حضورﷺ سے ثابت ہے اس لیے سنت عمل کو اپنایا۰اپ رح کا معمول رمضان میں تراویح کے بعد سے صبح تک قرآن پاک سننے کا تھا حافظ بدلتے رہتے اور حضرت رح اخیر تک کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے جس کی وجہ سے کبھی کبھی پأؤں پر ورم بھی آجاتا تھا۰تو اس پر اپ رح خوش ہوتے کہ (حتی یتورمت قدماہ)کی سنت کی موافقت نصیب ہوگئ۰

    زمانہ نظر بندی میں اپ رح اکثر توجہ الی اللہ میں خاموش رہتے یا تسبیح اور ذکراللہ میں مشغول رہتے،عشاء کی نماز کے بعد تھوڑی دیر اپنے وظائف پڑھتے تھے پھر آرام فرماتے اور دو بجے کے قریب سخت سردی میں اٹھ کر ٹھنڈے پانی سے وضو کرکے نماز تہجد میں مصروف ہوجاتے۰نماز تہجد کے بعد اپنی چارپائی پہ بیٹھ کر صبح صادق تک مراقبہ اور ذکر خفی میں مشغول رہتے جب کہ مالٹا کی سردی مشہورومعروف ہے۰

    اللہ تعالی ہمارے اکابرین کی قبروں پر رحمتیں نازل فرمائے۰ اور اللہ ہمارےعلمائےحق کی حفاظت فرمائے اللہ تعالی ہمارے مساجد،مدارس،خانقاہوں،تبلیغی مراکز اور مجاہدیںکی حفاظت فرمائے۰امین ثم امین۰

    @Tareef1234

  • پاکستان کا طاقتور ترین سیاست دان کون؟    تحریر اکرام اللہ نسیم

    پاکستان کا طاقتور ترین سیاست دان کون؟  تحریر اکرام اللہ نسیم

    جب 2018 کےجنرل الیکشن کا نتیجہ آتا ہے 

    پاکستان کے چھوٹے بڑے پارٹیوں کے رہنماء اور لیڈران دنگ رہ جاتے ہیں 

    بھلا یہ کیسانتیجہ آیا ہے کیونکہ جہاں ایم ایم اے کی تیس سے پچاس سیٹیں بنتی تھی

     وہاں انکو صرف 13 سیٹیوں تک محدود کردیا اسی طرح ن لیگ کو اقتدار سے ہٹا کر زمین پر دے مارا

     پی پی پی کا صفایہ پنجاب سے کردیا چند سیٹوں تک محدود کردیا

    جماعتِ اسلامی کو پورے ملک سے 1نمبر حلقہ سے سیٹ عبد الاکبر چترالی کی صورت میں ملی

    یہی حال اے این پی کا بھی تھا  جنہیں دیوار سے لگا دیا گیا

     ایم کیو ایم کے ساتھ تو سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا

    تحریک لببیک پاکستان کے ساتھ وہ گیم کھیلا گیا جو آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں ن لیگ کے ساتھ کھیلا گیا 

    اب ہر طرح مایوس اور بے چینی کی صورت حال پیدا ہو گئی ملک کے تمام سیاستدان حیران و پریشاں ہے کہ اتنے کثیر مقدار میں ووٹ کیسے چوری ہوگئے  کہ اب ہم کیا کریں کچھ سمجھ نہیں آرہا 

    سیاستدانوں کے حس ماؤف ہو چکے تھے چہرے مرجھائے ہوئے تھے

     غصے کی آگ دل میں بھڑک رہی تھی زرداری حیران نواز شریف پریشان 

     اتنے میں پاکستان کے ایک طاقتور ترین سیاست دان سربراہ مولانا فضل الرحمان صاحب آل پارٹی کانفرنس بلاتی ہیں وہاں اسی آل پارٹی کانفرنس کے اندر تمام سیاسی قائدین کو مشورہ دیتے ہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں اب اگر ووٹ چوروں نے ووٹ چوری کئے 

    اسکا واحد حل میرے ذہن میں ہیں

    وہ یہ کہ کسی بھی پارٹی کے رہنما نے حلف نہیں اٹھانی

    ووٹ چوری کو ہم اسطرح روک سکتے ہیں جب یہ تجویز سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان صاحب نے سب کے سامنے رکھی اکثریت پارٹیوں نے اسکے ساتھ اتفاق کیا

    مگر ملک کے دو بڑی پارٹیوں ن لیگ پی پی پی نے کہا ہمیں مہلت دیں ہم اسپر سوچیں گے پھر جواب دینگے

    جب ان دو پارٹیوں کو آگے سے گٹھ جوڑ اور لالچ کی دلانے کے لئے رابطے ہوئے تو یہی وہ موقع تھا جو اپوزیشن نے ضائع کیا اور ایک چنتخب نمائندے کو عوام پر مسلط ہونے کا موقع فراہم کیا

    بات آگے بڑھی  اے پی سی کا سربراہ بھی پاکستان کے طاقتور ترین سیاست مولانا فضل الرحمان صاحب کو بنایا گیا پھر جب اے پی سی کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تحریک کا آغاز کیا گیا وہاں بھی پی ڈی ایم کا سربراہ پاکستان کے طاقتور ترین سیاست دان مولانا فضل الرحمان صاحب کو بنانا پڑا 

    مولانا فضل الرحمان صاحب الفاظ کے چناؤ کے اعتبار سے تمام سیاستدانوں سے ممتاز ہیں 

    مولانا فضل الرحمان صاحب ذہانت کے اعتبار سے بھی دیگر سیاستدانوں سے ممتاز ہیں 

    مولانا فضل الرحمان شجاعت کے اعتبار سے دیگر سیاستدانوں سے ممتاز ہیں

    مولانا فضل الرحمان صاحب کا شمار اس لئے بھی پاکستان کے طاقتور ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہیں کہ انکے پاس سٹریٹ پاور ہے

    انکے پاس پچاس ہزار باوردی رضاکاران ہیں جو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں مولانا فضل الرحمان صاحب پر جان نچھاور کرنے کے لئے

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل 

    @realikarmnaseem

  • عمران خان کے ساتھ میرا دس نکاتی اختلاف    تحریر: احسان الحق

    عمران خان کے ساتھ میرا دس نکاتی اختلاف  تحریر: احسان الحق

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان نے قوم میں ایک نئی سوچ اور امید پیدا کی ہے. عمران کی انتخابی مہمات میں کی گئی تقاریر، مخالفین پر لگائے گئے الزامات اور نئے پاکستان بنانے کے لئے نعروں اور وعدوں سے پاکستانیوں بالخصوص نوجوانوں میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی. عمران خان کے نعرے اور وعدے اس قدر خوبصورت اور پرکشش تھے کہ پاکستانیوں کی خاصی تعداد سیاسی لحاظ سے عمران خان کی طرف جھک گئی. انتخابی نعروں اور وعدوں کی بنا پر پاکستانیوں نے عمران خان سے غیر معمولی توقعات وابستہ کر لیں. عمران خان کی حکومت چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور ابھی تک عمران خان قوم کی توقعات کے عین مطابق پورا نہیں اترے ماسوائے کچھ شعبوں اور معاملات میں.

    میرے خیال میں عمران خان کے نعروں اور وعدوں کو دو مختلف زاویوں سے دیکھنا چاہئے. ایسے معاملات جن کا تعلق اقتصادیات اور معاشیات سے ہے جیسا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا وغیرہ اور کچھ انتظامی حوالے سے وعدے تھے جیسا کہ مختلف اصلاحات وغیرہ. پاکستان ایک غریب، ترقی پذیر اور قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک ہے. دوسرا سابقہ حکومتوں کے معیشت مخالف معاہدوں، منصوبوں اور قرضوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا، بجلی مہنگی کرنا، ڈالر کا اوپر جانا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا جیسی مجبوریاں سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں اور ان پر مجھے ذاتی طور پر کوئی تشویش نہیں. وعدوں اور نعروں کی دوسری قسم جس کا تعلق انتظام، حکومت، احتساب، آئین سازی، مہنگائی اور اصلاحات سے ہے، ان پر مجھے بہت تشویش ہے کیوں کہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں پیسہ خرچ نہیں ہوتا. جیسا کہ پولیس اصلاحات، اس میں قومی خزانے پر کتنا بوجھ پڑے گا؟ میرے خیال میں کچھ بھی نہیں، مفت میں پولیس اصلاحات ہو جائیں گی.

    مجھے عمران خان کے ساتھ جس 10 نکاتی اختلاف ہے، ان دس نکات کا خزانے اور بجٹ سے تقریباً کوئی تعلق نہیں.

    عمران خان نے سو دنوں میں مختلف کام کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے سو دنوں کا حکومتی ایجنڈا پیش کیا تھا. ان سو دنوں میں مختلف کام کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور ان میں ایک وعدہ تھا سرائیکی صوبے کا قیام. آج 1100 دن گزر جانے کے باوجود بھی سرائیکی صوبے کا قیام مکمل نہیں ہوا حالانکہ یہ کام سو دنوں میں کرنے کا وعدہ تھا، خیر ہم تو اس وقت بھی جانتے تھے کہ یہ کام سو دنوں میں کیسے ہو سکتا ہے. صوبے کا قیام ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے. کچھ سیکرٹریوں کی تعیناتی کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جا سکا. اگر حکومت غیر معمولی تیزی اور کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنے دور حکومت میں سرائیکی صوبے کا قیام مکمل کر جائے تو پھر بھی انتخابی حوالے سے الیکشن کمیشن کا کام باقی رہ جائے گا. جس میں صوبائی اور وفاقی حلقہ بندیوں سمیت ایوان بالا کی نشستوں پر بھی کام کرنا پڑے گا. دس نکات میں یہ پہلا نکتہ ہے جس پر اعتراض ہے کیوں کہ اس کا تعلق بھی بہت بڑے بجٹ سے نہیں.

    ماڈل ٹاؤن واقعہ کے ردعمل میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ حکومت میں آتے ہی پولیس کو سیاست دانوں، جاگیرداروں اور حکومتی ارکان کے عمل دخل اور اثر سے پاک کریں گے. پولیس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی. پولیس کو عوام کا خادم بنایا جائے گا. پولیس اصلاحات ابھی تک نہیں ہو سکیں بلکہ مخالفین کا الزام ہے کہ شہباز شریف دور میں پنجاب پولیس کی کارکردگی نسبتاً بہتر تھی. پولیس اصلاحات کرنے کے لئے بھی کسی اضافی رقم کی ضرورت نہیں، مطلب محض انتظامی معاملہ ہے مگر ابھی تک عمران خان اور پنجاب حکومت اصلاحات کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے. عمران خان مختصر کابینہ رکھنے کا بھی وعدہ کرکے آئے ہیں. وہ اکثر یورپ بالخصوص برطانیہ کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہتے تھے کہ 15 بندوں کی کابینہ ہوگی. مگر اب وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کے مشیر اور وزیر مملکت کی تعداد نصف سینکڑے کے نزدیک ہوگی.

    سب سے مقبول نعرہ اور پرکشش اور متاثر کن وعدہ احتساب کا وعدہ تھا. عمران خان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے بہت سارے لوگوں سے پیسہ نکلوا کر قومی خزانے میں جمع کروانے کا وعدہ کرتے تھے. سیاسی معاملات اور وجوہات کی بنا پر کچھ لوگوں کا یا کسی سطح تک احتساب ضرور ہوا ہے مگر جس قدر توقعات وابستہ تھیں ویسا احتساب ابھی تک دیکھنے میں نظر نہیں آیا. متحدہ حزب اختلاف اور حکومت کے کچھ لوگ احتساب کے ریڈار میں ضرور آئے ہیں مگر مقصد سزا دینا نہیں بلکہ قومی پیسہ وصول کر کے واپس قومی خزانے میں جمع کروانا ہے.

    مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے. موجودہ حکومت میں مہنگائی سو فیصد سے تین سو فیصد تک بڑھ چکی ہے. معاشی بدحالی عروج پر ہے. موجودہ حکومت کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ دوسرا سال کورونا میں گزر رہا ہے مگر مجموعی طور پر حکومت مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے. غریب عوام کی قوت خرید جواب دے رہی ہے. اشیائے خوردونوش میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے. مہنگائی یا قیمتوں پر قابو پانا صرف جانچ پڑتال اور سزا جزا سے ہو سکتا ہے. ذخیرہ اندوزوں اور خود ساختہ قیمتوں میں اضافہ کرنے والے مافیا کو راہ راست پر لانے کے لئے بجٹ کی ضرورت نہیں. یہ صرف انتظامی امر ہے.

    عمران خان اور موجودہ حکومت کے ساتھ اہم ترین اور شدید ترین اختلافات میں سے ایک اختلاف بے حیائی، فحاشی اور اسلام دشمنی کے متعلق ہے. موجودہ حکومت میں فحاشی اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. مارچ 2018 میں پہلی بار پاکستان میں لبرلز اور اسلام دشمن طلاق یافتہ خواتین نے عورت مارچ منایا. یہ ن لیگ کے دور حکومت میں اور عام انتخابات سے پہلے کی بات ہے. چند درجن آنٹیوں نے شرعی اقدار اور چادر چاردیواری کے خلاف اور عورت کی آزادی کے نام پر متنازعہ جلوس نکالا. اگلے سال 2019 میں ہونے والے عورت مارچ نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے. خواتین کی تعداد، مردوں اور میڈیا کے لوگوں کی شرکت، سوشل میڈیا پر کوریج، انتہائی نازیبا اور شرمناک پلے کارڈز اور نعروں کے لحاظ یہ عورت مارچ انتہائی متنازعہ تھا. مبینہ طور پر ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری ہیں. ہر آئندہ عورت مارچ اسلام دشمنی میں، شرعی اقدار کے مزاق اڑانے میں اور فحش نعروں کے حوالے سے زیادہ متنازعہ اور شرمناک ہوتا ہے. اسلام، اخلاقیات اور شرم وحیا کی ساری حدیں تو رواں سال 2021 کے عورت مارچ میں عبور کی گئیں جب مبینہ طور گستاخانہ پلے کارڈز اور ہم جنس پرستی کی عالمی تنظیم کا جھنڈا لہرایا گیا مگر آج تک عمران خان اور اس کی حکومت اس پر ایسے خاموش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں. مجھے زیادہ اعتراض اس بات پر ہے کہ اس طرح کی تمام اسلام اور اخلاق دشمن سرگرمیوں کی پشت پناہی وزارت انسانی حقوق کر رہی ہے.

    عمران خان نے مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگایا اور ٹھیک مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان کو چلانے کا وعدہ کیا مگر حقائق اس کے برعکس ہیں. عمران خان نے کابینہ کے لئے جن لوگوں کا انتخاب کیا وہ اکثر لبرل ہیں اور ان میں متعدد اسلام کے دشمن ہیں. ایک طرف مدینہ کی ریاست کا نعرہ دوسری طرف لبرل اور اسلام دشمن کابینہ کا انتخاب، اس بات پر بھی مجھے کافی اختلاف ہے.

    سنجیدہ ترین اعتراضات اور اختلافات میں ایک اسلام دشمن آئین سازی یا ترمیم سازی بھی ہے. موجودہ ایوان نے اسلام مخالف قانون سازی کی اور کچھ ترمیم کی. جیسا کہ گھریلو تشدد بل یا Domestic violence Bill جس میں بیوی کو شوہر کی اطاعت اور خدمت نہ کرنے کا اختیار دیا گیا، عورت چاہے تو خاوند کو جیل بھی بھیج سکتی ہے. والدین اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کر سکتے اور تربیت کے لئے ڈانٹ ڈپٹ نہیں کر سکتے. کسی بھی جرم یا غلطی پر والدین اپنی اولاد کو گھر سے نہیں نکال سکتے حالانکہ اسلام نے والد کو اجازت دی ہے کہ اگر بیٹا نافرمانی پر اتر کر باغی بن جائے تو والد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے بیٹے کو جائیداد سے عاق کر سکتا ہے.

    ان دنوں ایک اور متنازعہ مجوزہ آئینی بل زیر بحث ہے جس میں 18 سال سے کم کوئی بھی غیر مسلم شخص اسلام قبول نہیں کر سکتا اور 18 سال سے اوپر اسلام قبول کرنے والے شخص کے لئے سخت طریقہ کار بناتے ہوئے ایسی شرائط اور پیچیدگیوں کی تجویز زیر غور ہے جس سے اسلام قبول کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا جائے گا. حکومتی سطح پر اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ واقعی اس نوعیت کا بل وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس زیر غور اور زیر بحث ہے. اب یہ بھی سنا ہے کہ اس بل کو مسترد کر دیا گیا ہے.

    آخر میں سادگی اور یکساں نظام تعلیم کے وعدے ہیں. سادگی پر عمران خان نے اپنے تئیں کوشش کرتے ہوئے سادگی اختیار کی ہے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کیا. وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات اور وزیراعظم کے بیرونی دوروں پر آنے والے اخراجات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے. وفاقی کابینہ اور اراکین، صوبائی حکومت اور اراکین روایتی انداز میں اقتدار کے مزے لے رہے ہیں. بحیثیت وزیراعظم اور بحیثیت سربراہ تحریک انصاف عمران خان کو سختی سے سادگی والی بات کا عمل درآمد دوسرے ماتحت لوگوں پر بھی کروانا چاہیے.

    آخر میں یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب کے حوالے سے ہے، کچھ دن پہلے حکومت اور وزارت تعلیم کی جانب سے عملی کام دیکھنے میں نظر آیا حالانکہ یہ کام عمران خان ہنگامی بنیادوں پر کرنے کا وعدہ کر چکے تھے. حسب معمول اور حسب روایت عمران خان کے اس بہترین کام کی مخالفت کی گئی اور اس وقت مخالفت عروج پر ہے. مخالفین اور مخالفت کی متعدد وجوہات ہیں. سب سے اہم عمران خان کے ساتھ سیاسی اختلاف، دوسرا لبرلز کا گروہ جو ہمیشہ اخلاقیات کے منافی کام کرتا ہے، کچھ نجی تعلیمی ادارے بھی مخالفت کر رہے ہیں، کچھ قوم پرست طبقہ بھی اردو کے بغض میں یکساں نصاب کی مخالفت میں ہے. عمران خان اور وزارت تعلیم مخالفت اور تنقید کے بعد بیک فٹ پر چلی گئے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب والا وعدہ کب، کیسے اور کتنا پورا ہوتا ہے.

    @mian_ihsaan