Baaghi TV

Category: متفرق

  • عزت نفس کا مقدمہ.     تحریر:صائمہ مشتاق

    عزت نفس کا مقدمہ. تحریر:صائمہ مشتاق

    ملک پاکستان کی فلاحی ساکھ اقوام عالم میں مثالی ہے۔یہاں انسانی خدمت پر معمور شخضیات نے نہ صرف عالم کو متحیر کیا بلکہ اُن کے دستیاب وسائل بھی اُن پر حیرت زدہ ہوئے۔اُن کے پاس زادِ راہ صرف سچا اور خالص انسانی خدمت کا جذبہ تھا۔گلی محلے کے نامعلوم افرادمینارِ فلاح بنے۔جذبے کی سچائی اور خدمت کے تسلسل نے انہیں فلاحی یونیورسٹی بنا دیا۔ اقوام عالم متوجہ ہوئیں اور انہیں عالمی اعزازات سے فخر مند کیا اُن کی خدمات کی تصدیق کی۔پاکستان کے امامِِ فلاح کے ابتدائی فلاحی دور کو پڑھا جائے تو انسانی بے توقیری اور الزامات کی عجب داستانیں فلاحی منظر نامے میں بکھری پڑی ہیں۔فلاح کا راستہ چننے اور انسانیت کی خدمت کے لیئے اپنے آپ کو وقف کرنے والوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے یا اُن کی خدمات کا احاطہ کیا جائے تو اُن کے آغاز سفر میں لا حق مسائل کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اُن کو پیش آنے والی مشکلات کا ادراک ہو سکتا ہے۔اُن پر لگائے جانے والے الزامات حاسدوں کے حملے قیاس آرائیاں کرپشن کی متحیر کرتی کہانیاں منفی پراپوگنڈہ جیسے تکلیف دہ رویوں کے درمیان اُنہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔خبر نہیں کہ ایسا ماحول اور ایسے رویے اُن کو اذیت دیتے تھے یا نہیں۔وہ مایوسی کا شکار ہوئے یا نہیں۔اُن کے قدم ڈگمگائے یا نہیں۔وہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے یا نہیں۔ لیکن اُن کی کامیابیاں کہہ رہی ہیں کہ کسی بھی منزل پر پہنچنے کے لئے وسائل کی عدم دستیابی راہ میں حائل مسائل اور غیر متوقع مشکلات تو منزل تک پہنچنے کے سنگ میل ہوا کرتے ہیں۔جنہیں کامیابی کی منزل کے مسافروں کو یقیناًسامنا کرنا پڑتا ہے۔مسائل و مشکلات میں سے راستہ بناتے ہوئے اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ وہ غلطیوں اور خامیوں کو ماننے اور اُن سے سیکھنے والے ہوتے ہیں۔ستائش سے بے نیاز ہوکر کسی اجر کی توقع کے بغیر لمبا عرصہ گمنامی اور بے توقیری کے دائرے میں رہتے ہوئے محو سفر رہتے ہیں

    کسی بھی انسان کو رویے مزاج اور مشکلات متاثر اوردکھی ضرورکر تی ہیں لیکن شاید وہ انہیں مشن کی تکمیل خدمت کی منزل کے حصول کے ٹولز بنا لیتے ہیں۔ شاید وہ مشکلات مسائل اور وسائل سے زیادہ اپنے مشن کو بڑا سمجھنے والے ہوتے ہیں۔وسائل کی عدم دستیابی کو اپنے سفر کو روکنے کا جواز نہیں بناتے۔وہ تو بے نامی کو ناموری دینے والے ہوتے ہیں۔ایک وقت آتا ہے جب وہ مشرق سے طلوع ہونے والے سورج کی طرح اپنی روشنی بکھیرنا شروع کرتے ہیں تو وہ انسانیت کی خدمت سے پہچانے جانے لگتے ہیں پھر انکی خدمت کا تسلسل انہیں گمنامی کی سیاہ رات سے پہچان کے آسمان کا روشن ستارہ بنا دیتا ہے۔خدمت کے وکٹری سٹینڈپر کھڑے یہ سارے فخراور تمام اعزازا ت حاصل کرنے والوں کا مشاہدہ کیا جائے تو مجھے خالی چراغوں سے آغاز سفر کرنے والوں کے ساتھ وہ لاتعداد گمنا م مالیاتی فلاح کرنے والے بلند قامت نظر آتے ہیں جنہوں نے فلاحی چراغوں میں مالیاتی تیل ڈال کر چراغوں کو نہ صرف روشنی عطا کی بلکہ اس روشنی کے تسلسل کوقا ئم رکھنے میں بھی معاون و مددگار رہے۔اس سلسلے میں اورسیز پاکستانیوں کا بھی تاریخ ساز مثالی اور متاثر کن ریکارڈ ہے۔انہی کے تعاون سے فلاح کے دیئے روشن ہیں۔یہی لوگ فلاحی دنیا کے برجِ ِفلاح ہیں۔انہی کے دم سے پاکستان کو دنیا بھر میں چیرٹی کو فنڈنگ کرنے والے ملک کا اعزاز حاصل ہوا۔پاکستان نے صحت،تعلیم اور دیگر فلاحی شعبوں میں دنیا کو متوجہ کیا۔فلاح کو کامیابی کا راستہ دینے سسکتی اور وسائل سے محروم طبقات کی خدمت دراصل مالیاتی خدمت سے جڑی ہوئی ہے۔مستقبل کے فلاحی پراجیکٹ کی پلانگ کرنے والے بھی اِسی طبقہ کے تعاون کے یقین پر ہی اپنے پراجیکٹ ڈیزائین کرتے ہیں۔پاکستان کی فلاحی اور عطیات دینے والی تاریخ مسلسل لکھی جا رہی ہے اس میں بڑ ی قد آور فلاحی شخصیات،ادارے اور عطیات دینے والوں کے کردار کی درجہ بندی ہو رہی ہے۔پاکستان میں روشنی بکھیرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ہو سکتا ہے کہ بعض فلاحی منصوبے شخصی کمزوریوں اور خامیوں سے یا کسی فلاحی ادارے کی انتظامی غلطیوں سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے ہوں لیکن کوئی فلاحی منصوبہ اس وجہ سے نہیں رُکا کہ اُسے مالی معاونت حاصل نہیں ہو سکی۔پاکستان میں عام ڈونر کے علاوہ کارپوریٹ ڈونرز کا فلاحی سیکٹر میں بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔فلاحی شعبہ اب کراوڈ فنڈ ریزنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آئی ٹی اوردیگر ٹیکنالوجیز فلاحی مشکلات کو آسان بنا رہی ہیں۔زکاۃ اور صدقات میں مذہبی وابستگی والے افراد شاید آگے ہوں لیکن میرا ذاتی مشاہدہ ہے ہو سکتا ہے صیح نہ ہو۔ جو لوگ اپنے آپ کو کسی وجہ سے خطا کارمان کر اور اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنے خالق و مالک سے معافی کی طلب میں انسانی فلاح کے لئے مالی معاونت کفارے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اُس کو راضی کرنے کی جستجو رکھتے ہیں۔اُن کے پاس نیکیوں کا تکبر تو نہیں ہوتالیکن معافی مانگنے اور اللہ کو راضی کرنے کی آپشن ہر وقت موجود رہتی ہے۔اللہ کی مخلوق کو وسیلہ بنا کر اُسے راضی کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔اُس کی دکھی اور مسائل زدہ مخلوق جب اپنے خالق کو دعا کی مس کال بھیجتی ہے تو مالک کسی کے دل میں مدد کا خیال ڈال کر مس کال کرنے والے پر کرم فرماتاہے۔وۂ شخص کس قدر ا فضل و معتبر ہوگا جس کے ذمے فطرت ڈیوٹی لگاتی ہے کہ میرے فلاں بندے کی دعا کی مس کال آئی ہے اس کے پاس پہنچو۔

    اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس کے کتنے گناہ معاف ہوتے ہوں گے، کتنے درجات بلند ہوتے ہوں گے اور وہ مالک و خالق اُس سے کتنی جلدی راضی ہو جاتا ہوگا۔فطرت کے خود کار نظام نے خالق کی خلق کردہ کائناتوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ایک دفعہ ایک صحافی جوکہ دل کے عارضے میں مبتلا تھا ایمرجنسی کی حالت میں علاج کے لئے مالی مشکلات کی پوسٹ لگائی جس پر میں نے بھی مقامی سیاست دانوں کو متوجہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی کچھ ہی دیر بعد بہت سارے احباب رابطے میں آگئے۔ایک نیک دل اورسیز پاکستانی نے رابطے میں آکر میرا اکاونٹ نمبر مانگا تو میں نے کہا کہ ضرورت مند کو رقم پہنچے میں دیر نہ ہو جائے اس لئے مریض کا اکاونٹ نمبر لے کر بھیجتا ہوں۔ اُس انسان دوست نے انتہائی مستعدی سے معقول رقم مریض کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دی۔چکوال، لاوہ اور تلہ گنگ کے اورسیز پاکستانیوں نے بھی خوب حق ادا کیا لیکن ضرورت مند کی ضرورت پوری ہو گئی تھی باقی احباب کا شکریہ ادا کیا۔ذاتی دُکھی اسٹوری کو پبلک کرتے ہوئے مجھے بڑاعجیب لگ رہا ہے لیکن مجبوری ہے کہ یہی دُ کھی اسٹوری پراجیکٹ کی بنیادبن رہی ہے۔1995 سے دونوں آنکھیں کالے موتیے سے متاثر ہیں کچھ عرصہ کے بعدنظر کی عینک تجویز ہوگئی پھر ایک آنکھ کی نظر بالکل ختم ہوگئی۔ڈاکٹر سے آنکھ تبدیل کرنے کے متعلق مشورہ کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ سسٹم ہی ختم ہو گیا ہے اس لئے اب آنکھ تبدیل نہیں ہو سکتی کچھ عرصہ بعد دوسری آنکھ میں کالا موتیا ہونے کی وجہ سے اپریشن ہوا اور اب اس پر ہی زندگی کا انحصار ہے۔کافی عرصہ سے معمول کی مصروفیات میں تبدیلی آگئی ہے میں ڈرائیونگ نہیں کر سکتا، رات کو روشنی پھیل جاتی ہے سا منے سے آنے والی ٹریفک کے فاصلے کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔پیدل چلنے سے دائیں آنکھ میں نظر نہ ہونے کی وجہ سے دائیں طرف نظر نہیں آتا تو عموما ًکسی پیدل چلنے والے سے ٹکر لگ جاتی ہے کئی دفعہ موٹر سائیکلوں سے ٹکرا چکا ہوں اس لئے گھر تک ہی محدود رہتاہوں۔نہ جانے کب زندگی سفید چھڑی کی محتاج ہو جائے،پھر کسی اور کی آنکھوں سے راستہ دیکھنا پڑے۔کئی سالوں سے یکسانیت اور بے مقصد زندگی گزارتے گزارتے ایک دن میرے ذہن میں خیال آیا کہ جو بھی مہلت میسر ہے کیوں نہ اُ سے بامقصد بنایا جائے اور کوئی ایسا کام کیا جائے جو انسانی بھلائی کے لئے ہو تو میرے ذہن میں آنکھوں کے فری ہسپتال بنانے کا خیال آیا یہ جو خیال ہو تا ہے اُسے بھی یقیناً کوئی بھیجتا ہے۔میں نے کئی ماہ اس پر غور کیا اور بالاخر میر ے انفرادی فیصلے کو میرے دل اور دماغ نے قبول کرلیا۔انسان کی زندگی خوابوں سے جڑی ہوتی ہے اور ان خوابوں کی تعبیر کا حصول ہی در حقیقت اس کے سینے میں موجود دل کی دھڑکنوں کوقائم رکھتا ہے۔جب تک خواہش ہوتی ہے انسان اس خواہش کے حصول کے لئے خود کو متحرک رکھتا ہے اور جب خواہشیں ختم ہو جاتی ہیں تو جسم زند ہ رہتا ہے لیکن زندگی دم توڑجاتی ہے۔خواہش کا موجود رہنا زندگی کی علامت ہوتی ہے۔خواہش امید سے جڑی ہوتی ہے اور امید یقین قائم رکھتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ خواہشوں کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔کبھی کوئی اہرا م ِمصر بنانے کی خواہش کرتا ہے اور کبھی کوئی تاج محل تعمیر کرنے کا سوچتا ہے۔کوئی یونیورسٹی بنانے کا ارادہ رکھتاہے۔خواہش ہی ہولی فیملی،گلاب دیوی ہسپتال بنواتی ہے۔خواہشیں روپ بدل لیتی ہیں صدقہ جاریہ کی خواہش۔

    دکھی انسانیت کے لئے آسانیاں بانٹنے کی خواہش۔ایمان سلامتی کی خواہش۔آنکھوں کے خواب تعبیر مانگتے ہیں۔آنکھوں میں خوابوں کی ہریالی نہ ہو تو زندگی صحراکی ریت ہو جاتی ہے۔دل اجڑ جاتے ہیں اور پھر دماغ سوچنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔خواہشیں،آرزوئیں اور تمنائیں زندگی کو حرارت بخشتی ہیں ان کا قابل عمل ہونے یا نہ ہونے سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔خواہشوں اور خوابوں کے رک جانے سے نہ صرف زندگی رکتی ہے بلکہ کائنات تھم جاتی ہے۔25بیڈ کے آنکھوں کے جدید چیرٹی ہسپتال پراجیکٹ کے ابتدائی مرحلے میں 15 سے20 کنال زمین کا عطیہ، دوسرے فیز میں ہسپتال کی بلڈنگ کی تعمیر اورا ٓخری فیز میں مشینری، آلا ت کی ضرورت ہوگی۔سمیڈا کی2016 کی فزیبیلٹی 23 کروڑ روپے کی تھی جس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔اس پراجیکٹ سے سالانہ 27300 مریض مستفید ہوسکتے ہیں۔160 سے 200 افراد کو ملازمت کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔کسی عوامی بھلائی کے نیک مقصد منصوبے کے لئے کسی سے مالی معاونت کے حصول میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی اور نہ ہی کرنی چاہئے۔لیکن میرے ساتھ ایک المیہ ہے کہ میں اپنے دیئے ہوئے پیسے بھی نہیں مانگ سکتا۔اسی کمزوری کی وجہ سے ایک سال سے اس منصوبے کی امانت دل اور دماغ میں چھپائے پھرتا ہوں۔فیس بک پر میری فرینڈ لسٹ میں چکوال سے غفران عمر جو فیس بک پر پوسٹ کے ذریعے مالی امداد حاصل کرکے مستحقین کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں۔اب تک بقول اُن کے وۂ کروڑوں روپے کی امداد تقسیم کر چکے ہیں ایک دن انہوں نے پوسٹ لگائی کہ فلاحی کام کرنے والوں کو عزت نفس کا صدقہ کرنا پڑتا ہے۔ مجھے ان کی پوسٹ سے حوصلہ ملا اور میں اس حوصلے کے یقین پر عملی مرحلے کی طرف بڑھنے لگا ہوں۔مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ تصوراتی پراجیکٹ قابل عمل نہیں ہوتے شروع شروع میں ناممکن ہوتے ہیں لیکن ہو جانے کے یقنِ کامل،جہد مسلسل اور مخلص ٹیم سے قابل عمل ہو جاتے ہیں۔صاحبو!مجھے صرف یقین ہی نہیں کامل یقین ہے کہ جس کاساری کائنات پہ تسلط ہے،جو سارے نظام پرمحیط ہے ا ور جس سے سبب اسباب مانگتے پھرتے ہیں کیوں نہ کامیابی کی،برکت کی، وسائل کی د عا مانگ لی جائے، وۂ عطا کرنے والا ہے مانگنے سے راضی ہو جا تا ہے۔آپ احباب بھی کامیابی کی دعا کا صدقہ ضرور کریں۔اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کے لئے مجھے آپ کا ساتھ چاہیے ہوگا اور تسلسل کے ساتھ چاہیے ہوگا۔ اندھیرے کی لڑائی میں فتح مندی کا گُر امجد اسلام امجد نے بتا دیا ہے۔
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے۔۔۔تمھاری دسترس میں جو دیا ہو وۂ جلا دو

  • ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت.  تحریر:ام سلمیٰ

    ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت. تحریر:ام سلمیٰ

    ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت. تحریر:ام سلمیٰ

    حصہ اول

    جہاں آئے روز آپ کو صرف بری خبر سننے کو مل رہی ہوتی ہیں وہاں کچھ اچھے کیے ہوئے کاموں کا ذکر بھی ہونا چائیے خاص کر ایسے کام جیسکا بنیادی مقصد سبسڈی دے کر صرف فوری حل دینا نہں بلکے نسلوں کے لیے کیا گیا کام ہو ایسا ہی ایک کام جو کے عمران خان صاحب کا توجہ کا مرکز ہے وہ ہے ڈیمز کی تعمیر جو کے ملک کو انتہائی اہم ضرورت ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے اہم مسئلوں کو سمجھا جائے اور ان مسائل کو جڑ سے ختم کیا جائے نہ کے وقتی طور پر سبسڈی دے کر اپنی واہ واہ کروا کر مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل نہ کیا جائے.عمران خان کی حکومت صاف اور سستی توانائی پیدا کرنے اور آئندہ نسلوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے نئے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دے رہی ہے۔

    اس سلسلے میں داسو اور دیامر بھاشا ڈیموں سمیت مختلف چھوٹے اور بڑے ہائیڈل پاور پراجیکٹس پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔

    ماہرین پانی کے مطابق دیامر بھاشا اور داسو ڈیم پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے کیونکہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد تقریبا 5،000 5 ہزار میگاواٹ سستی بجلی دستیاب ہوگی۔سستی بجلی کا فائدہ صرف اس حد تک محدود نہں کے آپکا بجلی کہ بل کم ہوجائے گا اس کے فائدے کئی گنا ہیں.

    داسو ڈیم کا پہلا مرحلہ 2025 تک مکمل ہو جائے گا انشاء اللہ جس سے نیشنل گرڈ میں 2160 میگاواٹ بجلی شامل ہو جائے گی۔ یہ صلاحیت 2029 تک اپنے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ 4320 میگاواٹ تک بڑھ جائے گی۔

    ایک پیغام میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت کی حد عبور کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم بجلی کی پیداوار ، آبپاشی اور پینے کے مقاصد کے لیے پانی کو بچانے کے لیے نئے ڈیم تعمیر کریں۔یہ اس وقت ملک کی اشد ضرورت ہیں.دیکھا جائے تو پچھلی حکمران پارٹیوں نے ان ضرویات کو کبھی اس طرح سے سمجھنے اور ان پے کام کرنے کو نے فوقیت دی نہ اِنکی اہمیت کو کبھی سمجھا یہ ملک کی انتہائی اہم ضرورت ہے اور اس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی بہت مشکلات میں گھری ہوئی ہے.

    دیکھا جائے تو وزیراعظم عمران خان ہمیشہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔اور یہ بات اس چیز کا بھی سبب بنی کے ہمیں عالمی موسمیاتی کانفرینس کی سربراہی ملی جو کے پاکستان کی علمی سطح پر بہت بڑی کامیابی تھی کیوں کے یہ وزیراعظم کا وژن ہے کہ ڈیموں کی تعمیر ہماری نسلوں کا مستقبل بچائے گی انشا اللہ اور یے بات سو فیصد درست بھی ہے۔

    دریں اثنا ایک پیغام میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پائیدار ترقیاتی پالیسی انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پوری دنیا صاف توانائی میں منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب ایک اور بڑا مسئلہ ہے جسے نئے ڈیموں کی تعمیر سے حل کرنے کی ضرورت ہے اور اسکو حل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے ماہر ڈاکٹر افتخار احمد نے ایک پیغام میں کہا کہ توانائی کی پیداوار کے لیے جیواشم ایندھن کے استعمال سے بچنے کے لیے ڈیموں کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار سے ڈیم زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کے لیے پانی کا انتظام کرنا ضروری ہے۔
    اصل میں ہمارے ملک میں پچھلی حکومتوں میں کیے گئے انتظامات میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو مد نظر نہں رکھا گیا جس کی وجہ سے پاکستان آج توانائی جیسے مسائل کا شکار ہے.

    موسمیاتی تبدیلی کے تجزیہ کار شفقت منیر نے ایک پیغام میں کہا کہ ہائیڈل منصوبے سستی بجلی پیدا کرتے ہیں جو کے ملک اس وقت اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا میں چھوٹے ڈیم مقامی علاقوں کو توانائی فراہم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا اور داسو ڈیم کئی دہائیوں سے زیر التوا تھے۔

    Twitter handle
    @aworrior888

  • نسبت کمال اللہ کی طرف تحریر: یاسر خان بلوچ

    نسبت کمال اللہ کی طرف تحریر: یاسر خان بلوچ

          ذوالقرنین ایک ایسا حکمران تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے سلطنت حکومت اقتدار اور اسباب و وسائل کی فراوانی سے نوازا تھا ۔ آپ کے اقتدار اور سازوسامان کا رب تعالیٰ نے ان الفاظ میں تذکرہ فرمایا: ”ہم نے انہیں زمین پر اقتدار دیا اور ہر قسم کے وسائل مہیا کیے۔”
          آپ مشرقی و مغربی ممالک کو فتح کرتے ہوئے ایک ایسے پہاڑی درّے پر پہنچے کہ جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے وہاں کے لوگوں نے آپ سے ایک مطالبہ کیا ، جس کا ذکر رحمٰن نے یوں فرمایا: ” انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! بے شک یاجوج و ماجوج اس سرزمین میں فساد کرنے والے ہیں تو کیا ہم تیری کچھ آمدنی طے کر دیں اس شرط پر کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دے۔”
          بادشاہ ذوالقرنین نفس پرست اور مال و دولت کا حریص نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والا اور آخرت پر ایمان رکھنے والا مومن شخص تھا۔ اس نے جواباً کہا:
          "جن چیزوں میں میرے رب نے مجھے اقتدار بخشا ہے وہ بہت بہتر ہے، اس لیے تم قوت کے ساتھ میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔”
          ذوالقرنین نے فوراً اپنی خدمات پیش کی اور تعمیراتی سامان مزدوروں سمیت طلب کیا اور فرمایا:
          "تم میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کا درمیانی حصہ برابر کر دیا تو کہا: آگ تیز جلاؤ یہاں تک کہ اس نے اسے آگ بنا دیا تو کہا: لاؤ میرے پاس پگھلا ہوا تانبا میں اس کو اس پر انڈیل دوں۔”
          جب گرم چادروں پر پگھلا ہوا تانبا ڈالا گیا تو وہ ایسا لمبا مضبوط بند بن گیا کہ یا جوج ماجوج اس کو پار کرنے یا اس میں نقب زنی کرنے سے عاجز آگئے۔ حد درجہ مضبوط اور لمبی چوڑی دیوار قائم کر دی اور اس عظیم کارنامے کو سر انجام دیکر اپنی زبان سے ایسا تاریخی جملہ کہا کہ ساری کوشش و محنت اور ہنر مندی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دی اور رب تعالیٰ نے اس پیارے جملے کا قرآن بنا کر حضرت محمدﷺ پر نازل فرمادیا۔
          حضرت ذوالقرنین نے فرمایا:
          "یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آگیا وہ اسے زمین کے برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ ہمیشہ سچا ہے۔”
       سیدنا ذوالقرنین کے مثالی جواب سے تین باتیں سامنے آئیں۔
       1۔ ہمین نیکی، اچھائی اور احسان کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اللہ نے ہمیں اس قدر مقام عطا فرمایا ہے کہ ہماری توجہ، سفارش یا راہ نمائی سے کسی غریب کا بھلا ہو سکتا تو ہمیں اول فرصت اس سے تعاون کر کے اپنا اللہ سے اجر لینا چاہیے۔ دوسری طرف کسی ساتھی، دوست یا قریبی کا کام کرنے سے پہلوتہی کرنا، جھوٹے وعدے دے کر اس کو پریشان کرنا یا کام کرنے کے لیے تکلفات کا مظاہرہ کرنا رشوت کا مطالبہ کرنا، ایسا کردار کسی دنیا دار جاہل کا تو ہو سکتا ہے با عمل مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔
       2۔نیکی کا کام سر انجام دیکر اپنی صلاحیتوں اور کارناموں کی داستان کھولنے کی بجائے، اس کو اللہ تعالیٰ کی توفیق کہ کر اسی کی طرف منسوب کر دینا چاہیے۔ اکثر دنیا دار تو درکنار دینی ذوق رکھنے والے معمولی سا کارنامہ انجام دے کر اترانا شروع کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے کام لے لے وہ شکر، تواضع اور نسبت الی اللہ کی بجائے فخرو غرور اور گھمنڈ کا شکار ہو جاتے ہیں جب کہ ایسا کرنا عمل ضائع کرنے کے برابر ہے۔اور آجکل یہ ٹرینڈ بنا ہوا ہے کہ کوئی بھی اگر کسی غریب کی مدد کر دے تو سیلفی کے بہانے اس کی تذلیل کی جاتی ہے۔
       3۔اپنی مضبوط سے مضبوط بلڈنگ، کوٹھی اور بنگلے پر بھی نازاں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عارضی جانتے ہوئے، توجہ آخرت کی طرف کرنی چاہیے۔ آج کل لوگ پانچ یا بیس مرلہ کی کوٹھی بنا کر فکر آخرت سے بلکل غافل ہو جاتے ہیں اور ان کی ساری توجہ مکان، کوٹھی اور دکان تک ہی محدود رہتی ہے۔
       ‎@YasirKhanblouch

  • مرنے کے بعد قیامت تک کا معاملہ. تحریر: محمد اسعد لعل

    مرنے کے بعد قیامت تک کا معاملہ. تحریر: محمد اسعد لعل

    اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے ایک دن اس کے اعمال کے مطابق اس کے ساتھ جزا و سزا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے دی ہے۔قرآنِ مجید ہمیں پیغمبری کی تاریخ کے بارے میں یہ بتاتا ہے کہ جس دن اس دنیا کی ابتداء ہوئی اسی دن سے پیغمبری کی بھی ابتداء ہو گئی۔ حضرت آدمؑ سے لے کر محمد ﷺ تک انبیاء کرام جزا و سزا کی منادی کرتے آئے ہیں، انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید نے یہ بتایا ہے کہ انبیاء کرام اس لیے بھیجے گئے تاکہ وہ لوگوں کو جنت کی بشارت دیں اور اللہ کے عذاب اور گرفت سے ان کو خبردار کریں۔ انبیاء کرام نے جتنی بھی تفصیلات بیان کی ہیں وہ سب کی سب جزا و سزا ہی کا حصہ ہیں۔۔۔ اُس میں جو باتیں بتائی گئی ہیں ان کا خلاصہ میں بیان کر دیتا ہوں۔

    اس دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں کہ جن کا معاملہ بالکل صاف ہوتا ہے۔ وہ خدا کی ہدایت کو لپک کر قبول کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تعبیر کے مطابق دین میں سبقت کے مقام پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں جیسے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر اور دوسرے جلیل و قدر صحابہ ہیں یا خود انبیاء کرام ہیں۔ اسی طریقے سے قرآنِ مجید نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کی راہ میں جان دے دیتے ہیں، جن کو شہدا کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان اللہ کی راہ میں دے دی، دین کی دعوت دی گئی تو آگے بڑھ کر دعوت کو قبول کیا، پہلے ہی مرحلے میں اللہ کے پیغام کی تصدیق کر دی اور اس کے بعد زندگی بھر اپنے آپ کو خدا کے راستے پر رکھا۔ ۔۔ان کے لیے کسی حساب کتاب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بتایا ہے کہ جیسے ہی یہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں ہماری نعمتیں ان کو ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔

    دوسرے وہ لوگ ہیں جو خدا کے مقابلے میں سرکش ہو گئے۔انہوں نے خدا اور خدا کے پیغمبروں کو چیلنج کر دیا۔ بڑی مثالوں میں جیسے فرعون ہے، ابو جہل ہے۔۔۔ اُن کے بارے میں بھی قرآنِ مجید میں بتا دیا گیا ہے کہ جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اُن کو صبح شام اُن کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح سے گویا ایک ذہنی نوعیت کا ٹورچر ہے جس میں وہ مبتلا کر دیے جاتے ہیں۔

    تیسرے وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اچھے کام بھی کیے ہیں اور بُرے کام بھی۔۔۔ کوئی سرکشی نہیں کی، ندامت کا احساس بھی ہوتا ہے، ایمان بھی ہے اور خدا کی طرف رجوع بھی ہے۔۔۔تو ان لوگوں کا معاملہ اُٹھا رکھا جائے گا یہاں تک کے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حساب کتاب کر کے فیصلہ کریں گے اور بتائیں گے کہ یہ نیکو کار تھے، تو ان کے لیے ظاہر ہے ایک جزا ہے۔۔۔ اور اگر اس موقع پر ان کا پلڑا ہلکا ہوا تو ان کے لیے سزا ہے۔

    یہ تین کیٹیگری قرآنِ مجید نے الگ الگ کر دی ہیں، جزا و سزا تو محشر کے روز ہی شروع ہو گی، لیکن اللہ کی نعمتیں ایک گروہ کے لیے اور اللہ کا عذاب ایک دوسرے گروہ کے لیے مرنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے، کیوں کہ ان کے حساب کتاب کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی ان کا معاملہ ہر لحاظ سے واضح ہوتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں، اور روز محشر نیکوکار لوگوں کے ساتھ اُٹھائے جائیں۔۔۔آمین

    Twitter ID:

    @iamAsadLal

  • ڈالر اور حکومتی چورن  تحریر : سیف الرحمان

    ڈالر اور حکومتی چورن تحریر : سیف الرحمان

    دوستوپاکستان حاصل کرنے کا مقصد اگر دیکھا جائے تو اس حساب سے اس وقت ہم تقریبا الٹ چلتے نظر آ رہے ہیں۔ ہم نے انگریزوں اور ہندوں  بظاہر آذادی حاصل  تو  کرلی لیکن ہمارے حکمرانوں آج بھی  ہمیں ان کے تابع کر رکھا ہے۔ ہمارے ہاتھ پاؤں باند کر آئی ایم ایف اور ولڈ بینک کے آگے چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے تمام ٹیکس اور قیمتوں کا تعین امریکی کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم اس سیارے میں سب سے کم تر مخلوق ہیں۔ ہندوں آج بھی ہمیں ویسے  ہی دیکھ رہا ہے جیسے ستر سال پہلے دیکھا کرتا تھا۔ انگریز آج بھی ہماری مجبوری سے فائدہ اٹھارہا ہے جیسا آذادی سے پہلے لیا کرتا تھا۔

    ایک طرف ہمیں ڈالر نے دبا کر رکھا ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں آج جو اپوزیشن ملی وہ بھی انتہائی احمق , نابالغ , غیر سیاسی اور مفاد پرستوں کا ٹولا ہے۔  جب یہ لوگ حکومت میں تھے تب بھی انہوں نے ملک کو تباہ کیا اور آج جب یہ اپوزیشن میں ہیں تو بھی مال بچاؤ کھال بچاؤ سے آگے کا کچھ سوچتے ہی نہیں۔دوسری طرف  حکومت کے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے اور اندازے اس وقت غلط نظر آ رہے ہیں۔ اشیاء خردو نوش کی تمام چیزیں مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہیں۔ آٹا ۔چینی۔گھی اور دالیں جو ہر گھر کی بنیادی ضروریات ہیں پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ اس وقت تمام  صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے۔

    ابھی غریب آٹے چینی اور گھی کی وجہ سے پریشان بیٹھا تھا کہ ڈالر نے اڑان بھر لی۔ ڈالر اس وقت تاریخ کی سب سے مہنگی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔اگر معیشت اچھی سمت چل رہی تھی تو ڈالر کیوں مہنگا ہو ا؟  

    ڈالر کی اڑان نے حکومت کے ان تمام دعوں کا پول کھول کر رکھ دیا جس میں برآمدات کے اضافے کی باتیں کی جا رہی تھی۔  کرنٹ خسارے میں کمی جیسے دعوے بھی کئے گئے۔ صحافی جب شوکت ترین صاحب سے مہنگائی اور ڈالر مہنگا ہونے پہ سوال کرتے ہیں تو ترین صاحب یا تو بات گول کر دیتے ہیں یا جواب ہی نہیں دیتے۔لگ رہا ہے کہ  شاہد ترین صاحب اگلے دو سال پورے نا کر پائیں کیونکہ ان کے پاس کہنے کو کچھ خاص بچا بھی نہیں۔ خان صاحب کھلاڑی بدلنے سے وقت تو گزر جائے گا لیکن شاہد حالات نہ بدل سکیں۔ اس لئے بہتر ہے کوئی ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

    بحثیت پاکستانی قوم ہم اس رویہ کے مستحق نہیں جیسے ہمارے حکمران ہمارے ساتھ کرتے آ رہے ہیں۔ پیٹرول ڈبل ٹیکس لگا کر دیا جاتا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود  ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے گندم اور چینی باہر سے منگوائی جاتی ہے پھر ہمیں ہی  مہنگےداموں  فروخت  بھی کی جاتی ہے۔جب وزیروں سے مہنگی چینی اور آٹے پہ  سوال کیا جائے تو کہتے ہیں کسان کو اسکی پوری   قیمت دی جا رہی ہے اس لئے آٹا چینی مہنگی ہیں۔ چلو مان لیا آپ کسان کو پوری قیمت دے رہے ہو  تو پھر باہر سے گندم چینی اور دالیں کیوں منگوا رہے ہو؟ زرعی ملک ہونے کے ناطے عوام کو وافر چینی آٹا دالیں اور سبزیاں بھی تو ملنی چاہیں۔ اگر نہیں مل رہی تو کسان سے کون پوچھے گا کہ بھائی اتنی سبسڈی اور ریٹ لینے کے باوجود تم زرعات میں ہمیں کیا دے رہے ہو؟ کھانے پینے کی اشیاء کا ایک زرعی ملک میں مہنگا ہونا حکمرانوں کی نالااہلی کاجیتا جاگتاثبوت ہے۔

    جب بات کی جائے مہنگائی کی تو کہتے ہیں سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے یہ دن دیکھنے کو ملا ہے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ سابقہ  حکمرانوں  نے بہت کرپشن کی   وہ نااہل اور نکمے تھے لیکن  خان صاحب آپ کو آئے بھی اب تین سال ہو چکے ہیں۔ آپ نے مہنگائی کنٹرول کرنے   کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ اگر اقدام کئے تو کیا آپ کے اقدامات سے مہنگائی کنٹرول ہوئی ؟ آئندہ عام انتخابات میں جیتنا ہے تو مہنگائی کو شکست دینی پڑے گی ورنہ عوام نے مہنگائی سے تنگ آ کر  بقول آپ کے ان ہی چوروں ڈاکوں کو پھر ووٹ دے دینا ۔ اس بار نہ تو آپ کا دھرنا کام آئے گا اور نا ہی عوام آپ کی باتوں میں آئے گی۔

    اس وقت ڈالر نے تمام ملکی ریکارڈ توڑ دیئے۔ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکا ہے۔  مئی 2021سے ستمبر 2021کے درمیان صرف چار ماہ کے  کم عرصہ میں ڈالر 16روپے مہنگا ہوا ہے۔ اگر بات کی جائے اوپن مارکیٹ کی تو  پاؤنڈ اس وقت دوسو پینتیس,  یورو اس وقت دوسو تیس,   اماراتی درہم سنتالیس,  سعودی ریال پنتالیس,  دینار چارسوچوراسی ,ین تیس روپے پچاسی پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔

    آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ خان صاحب آپ کو اپوزیشن سے ذیادہ  اپنی معاشی ٹیم سے خطرہ ہے۔ اگلا الیکشن اگر جیتنا ہے تو مہنگائی کو ان دو سالوں میں  ہر صورت شکست دینی پڑے گی۔  اگر آپ کی حکومت مہنگائی سے ہار گئی تو الیکٹرانک ووٹنگ بھی آپ کوشکست سے نہیں بچا پا گئی۔خان صاحب آپ کے اردگرد موجود سیاسی بیٹروں کی ٹیم نکمی اور نااہل ہے۔  آپ ایجنسیوں کی مدد لیں اور سٹاک ایکسچنج کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ مہنگائی پہ کنٹرول کیلئے بھی ایجنسیوں کو متحرک کریں۔ اپنے نااہل وزیروں اور مشیروں کی فوج کو گھر بھجوائیں۔ آپ کو ڈیفنڈ کرنے کیلئے سوشل میڈیا پہ  نوجوانوں کی ایک لمبی چوڑی بیروگار فوج موجود ہے۔ آپ صرف  عوام کی جان  مہنگائی سے چھڑا دیں ورنہ عوام نے آپ سے جان چھڑا لینی۔

    @saif__says

  • صنف نازک: ہر روپ میں عظیم

    صنف نازک: ہر روپ میں عظیم

    صنف نازک ہوں مگر میں سرفراز ہوں تاریخ کے کرداروں میں۔ میں صنف نازک محبت کی علامت۔ میں صنف نازک وفا کا پیکر۔

    صنف نازک۔ عورت۔ معاشرے کا ایک ایسا ستون جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ تہذیب یافتہ نہیں ہو سکتا۔ 

    یہ کہانی ہے آج کے دور کی۔ اکیسویں صدی کی۔ اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ بیٹیوں کی بجائے بیٹے کی پیدائش کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ انہیں نسل چلانے کے لیے بیٹے چاہیے۔ اولاد کا اختیار تو رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہے رحمت سے نوازے۔ جسے چاہے نعمت عطا کرے۔ ایک عورت آتی ہے ڈاکٹر صاحب کے پاس کہ ڈاکٹر صاحب کوئی ایسی دوا دیں کے میری بہو کے صرف بیٹا پیدا ہو۔ ایسا رواج بنا دیا ہے کہ سسرال میں صرف اسی عورت کی پوزیشن مضبوط ہے جو بیٹے کی ماں ہے۔ نسل چلانی ہے۔ نسل چلانے والی بھی ایک عورت ہی ہے نا۔؟ عورت کے بطن سے ہی اولاد جنم لیتی ہے نا۔ تو صرف بیٹوں کا رونا کیوں۔؟

    اگر دنیا میں عورت نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ میں بتاتی ہوں اگر دنیا میں عورت نہ ہوتی تو مرد کی تکمیل نہ ہو پاتی وہ ادھورا ہی رہتا، عورت نہ ہوتی تو دنیا نا مکمل ہوتی، عورت نہ ہوتی تو دنیا میں حسن نہ ہوتا۔ عورت کی بدولت ہی دنیا میں رنگینی ہے۔ عورت کی بدولت ہی دنیا میں جذبات و احساسات ہیں۔ مرد کی کامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اگر عورت نہ ہوتی تو مرد کا وجود بے کار ہوتا اور دنیا میں تخلیق کا عمل نہ ہوتا، نسل نہ بڑھتی، ایک خوبصورت گھر کا تصور نہ ہوتا اور دنیا بالکل بے معنی اور بے رنگ ہوتی۔ کیوں کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔

    ہمیں آج یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت بھی ہمارے معاشرے کا ایک مضبوط ستون ہے۔ عورت کے بغیر یہ معاشرہ نامکمل ہے۔ عورت عزت و احترام کا نام ہے۔ عورت والدین کے لیے باعث فخر اور بھائیوں کے لیے باعث عزت ہے۔ عورت صبح کا نور ہوتی ہے۔ عورت رات کا تارا ہوتی ہے۔ اللّٰہ تعالٰی کی دی گئی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت عورت کا وجود ہے۔ گھر ہو یا کاروبار ہر جگہ عورت ایک مضبوط ستون ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں عورت کی ذات جو سب سے بڑے مسئلے کا شکار ہے وہ یہ کہ قوت فیصلہ کی طاقت اس کے پاس نہیں۔ 

    سوشل میڈیا پر ایک دوست نے پوسٹ شیئر کی، جس میں اس نے لکھا تھا کہ ” میں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں۔ صبح سویرے ماں اٹھایا کرتی تھی کہ ” بیٹا اٹھ جاؤ تمہیں سکول جانا ہے ". جب کچھ بڑا ہوا تو بہن اٹھاتی تھی کہ ” بھائی جان اٹھ جاؤ ناشتا تیار ہے” بھائی جان کیا آج کالج نہیں جانا۔؟ 

    شادی ہوئی تو بیگم کہنے لگی "اٹھ بھی جائیں، آپ نے ڈیوٹی پر نہیں جانا؟”.. کچھ عرصے بعد بیٹی کہنے لگی ” ابو جی اٹھ جائیں، آپ نے مجھے اسکول چھوڑنے جانا ہے”۔ اب بڑھاپے کی عمر ہے اور بہو رانی کہتی ہے ” بابا جی اٹھ جائیں، ناشتا کر لیں، آپ نے دوا وقت پر کھانی ہے”۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت جس روپ میں بھی ہو عظیم ہے”.

    معاشرے میں اسلام نے عورت کو بہت مقام و مرتبہ اور شرف و اعزاز عطا فرمایا ہے۔ بحیثیت ماں ، بہن، بیوی اور بیٹی کے روپ میں اعلیٰ و ارفع مقام سے روشناس کرایا ہے۔

    ویسے تو اسلام نے عورت کو ہر لحاظ سے بلند مقام عطا فرمایا ہے لیکن عورت کو ماں کا درجہ دے کر اس کی عظمت میں چار چاند لگا دئیے ہیں۔ عورت ماں کے روپ میں مرد سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ اللّٰہ تعالٰی نے عورت کے قدموں میں جنت رکھ کر اسے عظیم ترین بنا دیا ہے۔

    اسلام نے عورت کو بحیثیت بیوی بہت سے حقوق دیئے ہیں۔ اسلام بحیثیت بیوی عورت کے تمام حقوق کی نگہداشت کرتا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور ظلم و تعدی سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کامل مومن وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہیں۔

    اسلام میں عورت کو بحیثیت بہن و بیٹی جو بلند مقام عطا فرمایا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک نہیں چار بیٹیوں کا باپ بنایا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ جب وہ آتیں تو ان کے لیے چادر بچھا دیتے اور ان کو "بضغة منى” یعنی میرے جگر کا ٹکڑا کہتے تھے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی کہ لڑکیوں کا باپ ہونا مؤجب عار نہیں بلکہ مؤجب سعادت ہے۔ اللّٰہ تعالٰی جس سے خوش ہوتا ہے اس کے گھر اپنی رحمت بیٹی کے روپ میں بھیجتا ہے۔

    آج کے زمانے میں بیٹیاں بیٹوں سے بڑھ کر اپنے والدین کا سہارا بنی ہوئی ہیں۔ ہر میدان میں کامیاب ہو کر اپنے والدین کا نام روشن کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی ہمیں بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    Twitter I’d @alifsheen_5

  • دنیا میں بہت سے لوگ آتے ہیں تحریر:تابش عباسی

    دنیا میں بہت سے لوگ آتے ہیں جو شاید سب کچھ اپنی خواہشات و محنت کے مطابق حاصل کر لیتے ہیں پر جوں ہی ان کی سانسیں رکتی ہیں لوگ بھی انہیں بھول جاتے ہیں ۔ پر ایک ایسی بھی قسم انسانوں کی موجود ہے جو اپنا آج ، اپنی نسلوں و قوم کے کل پر قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں ، شاید ایسا ہی ایک نام نامور و بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی صاحب (شہید) کا بھی ہے ۔ سید علی گیلانی صاحب نے اپنی محنت و اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر و تحریک تکمیل پاکستان کو وہ جلا بخشی ہے کہ سید علی گیلانی صاحب اب ایک شخص نہیں بلکہ آزادی کشمیر کا ایک نا ختم ہونے والی جدو جہد مسلسل کا دوسرا نام بن چکے ہیں –
    سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے ۔ پاکستان سے محبت شاید پیدائش کے وقت سے ہی آپ کی رگوں میں خون بن کر گردش کر رہی تھی –
    سید علی گیلانی صاحب نے دو شادیاں کیں تھی – آپ کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں – آپ کا ایک بیٹا ڈاکٹر جبکہ دوسرا زرعی یونیورسٹی سرینگر میں لیکچرر ہے – آپ کی بیٹیاں اور خاندان کے دوسرے افراد بھی دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک ہیں -1953 سے لے کر 2004 تک آپ جماعت اسلامی کے ممبر رہے ، پر 2004 میں ممبر شب سے استعفیٰ دے دیا-اس کے بعد تحریک حریت کی بنیاد رکھی -جون 2020 تک چیئرمین حریت کانفرنس رہے اور اس دورانیے میں بہترین قائدانہ صلاحیتوں سے تحریک کو نئی جلا بخشی- آپ جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر سوپور حلقہ سے تین مرتبہ ( 1972 ، 1977, 1987) ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے-
    تعلیم کے حصول کے لیے گیلانی صاحب نے لاہور بھی وقت گزارا – تکمیل تعلیم کے بعد ، جموں کشمیر واپس جا کر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس میں عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا –
    1946 میں مولانا سید مسعودی صاحب سے آپ کی ملاقات ہوئی ،جس میں مولانا سید مسعودی صاحب نے آپ کو نہایت ذہین اور محنتی پایا – مولانا صاحب جو اس وقت نیشنل کانفرنس کے سیکرٹری جنرل بھی تھے ، انہوں نے گیلانی صاحب کو جماعتی اخبار ” اخبار خدمت” کا رپورٹر بنایا – مسعودی صاحب نے گیلانی صاحب کی اعلی تعلیم مکمل کرنے میں مالی معاونت بھی کی ، جس کی وجہ سے گیلانی صاحب اردو ، انگلش ، فارسی وغیرہ پر دسترس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے- تعلیم حاصل کرنے کے بعد ، گیلانی صاحب نے پتھری مسجد ، سرینگر میں معلم کی حثیت سے پہلی باقاعدہ نوکری کا آغاز کیا –

    مولانا مودودی کے ایک پیروکار ، صلاح الدین ترابی سے آپ کی قربت تھی ۔ آپ نے مودودی صاحب کی کتب ان سے ادھار لے کر پڑھنا شروع کی اور آہستہ آہستہ جماعت اسلامی کے قریب تر ہوتے گئے ۔ آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ جو میرے دل میں تھا وہ مودودی صاحب نے کتاب کی شکل میں میرے سامنے لا کھڑا کیا – یوں ، آپ باضابطہ جماعت اسلامی کی طرف راغب ہوئے-
    پھر ، گیلانی صاحب سرینگر سے سوپور کی طرف واپس آ گئے اور انٹر میڈیٹ کالج میں پڑھانا شروع کیا ۔ ان چھ سالوں میں گیلانی صاحب نے جماعت اسلامی کے نصاب کو خوب پڑھا اور ساتھ اپنے شاگردوں کو بھی اس طرف راغب کیا ۔
    1953 میں باقاعدہ طور پر جماعت اسلامی کی رکنیت حاصل کی ۔
    بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں تحریک چلانے کی وجہ سے ہندوستانی حکومت نے 1981 میں آپ کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور اس کے بعد صف 2006 میں آپ کو حج کے لیے جانے کی اجازت دی گئی جو کہ آپ کی زندگی کا ہندوستان سے باہر جانے کا آخری واقعہ تھا-
    2007 میں آپ کو کینسر کی تشخیص ہوئی – علاج کے لیے ڈاکٹروں نے انگلینڈ یا امریکہ جانے کا مشورہ دیا ۔ امریکہ نے آپ کو ویزہ شاید ہندوستانی حکومت کے دباؤ میں آ کر مسترد کر دیا اور بہانہ یہ رکھا کہ کشمیر کی تحریک کو پرتشدد بنانے میں گیلانی صاحب کا ہاتھ ہے –
    عمر عبد اللہ ہمیشہ ہی سید علی گیلانی صاحب کی پاکستان سے محبت اور تحریک تکمیل پاکستان کے لیے جدو جہد کو وادی میں تشدد اور فوجی کاروائیوں کی وجہ قرار دیتے رہے جبکہ عمر عبد اللہ کے والد فاروق عبد اللہ بھی ہمیشہ گیلانی صاحب کے دل سے پاکستان سے محبت کو مٹانے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ۔
    سید علی گیلانی صاحب کو ایک دھچکا اس وقت بھی لگا ، جب 2014 کے عام انتخابات میں انہوں نے کشمیریوں سے انتخابات سے بائیکاٹ کرنے کا کہا – پر اس الیکشن میں اس کے متضاد وہ ہوا جو گزشتہ 25 سال میں نہ ہوا تھا – 65 فیصد کشمیریوں نے اپنا رائے حق دہی استعمال کیا – ہندوستان اور ہندوستانی میڈیا کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل گیا کہ کشمیریوں کی اکثریت سید علی گیلانی صاحب سے الگ نظریہ رکھتی ہے اور شاید یہی کشمیریوں کے موجودہ حالات کی ایک وجہ بھی ہے – شاید مرد حق سید علی گیلانی 2014 میں جو مستقبل کے خطرات دیکھ رہے تھے ان کو پوری دنیا میں 2019 میں عملی طور پر ہوتے دیکھا ۔ عمر عبد اللہ ، محبوبہ مفتی کو بھی یہ بات ماننا پڑی اور وہ کہہ اٹھے کہ شاید ہمارے بزرگوں کا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ غلط تھا اور یوں سید علی گیلانی اور ان کے نظریہ الحاق پاکستان کی جیت ہوئی ۔2016 میں برہان وانی شہید کی شہادت کے بعد ، سید علی گیلانی صاحب نے اقوام متحدہ کو بھی خط لکھا جس میں چھ واضح پوائنٹس دیے گئے کہ کیسے کشمیر کو پرامن رکھا جا سکتا ہے اور کیسے انسانی حقوق کی پامالی کو روکا جا سکتا ہے-بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں تحریک چلانے کی وجہ سے ہندوستانی حکومت نے 1981 میں آپ کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور اس کے بعد صرف 2006 میں آپ کو حج کے لیے جانے کی اجازت دی گئی جو کہ آپ کی زندگی کا ہندوستان سے باہر جانے کا آخری واقعہ تھا-
    12 مارچ 2014 کو جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ و بجلی کا بندش کا ایک واقع پیش آیا ۔جس میں یہ شور برپا ہوا کہ سید علی گیلانی صاحب وفات پا چکے ہیں اور حکومت وقت اس بات کو چھپانے کے لیے ایسے حالات بنا رہی ہے – پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی صاحب زندہ ہیں، بجلی اور انٹرنیٹ کا مسئلہ اس لیے آیا کہ وادی میں برف زیادہ پڑنے سے تاریں بہت سی جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں – تب جا کر کشمیریوں نے سکھ کا سانس لیا اور شکرانے کے نفل تک ادا کے گے –
    2019 پلوامہ حملوں کے بعد ، ہندوستانی حکومت اور میڈیا نے آزادی پسند رہنماؤں خصوصاََ سید علی گیلانی صاحب کو حملے کا ذمہ دار قرار دے کر ایک دفعہ پھر تفتیش شروع کر دی -سید علی گیلانی صاحب کے صاحبزادے نعیم کے مطابق ، یکم ستمبر 2021 کو رات ساڑھے دس بجے (10:30pm) سید علی گیلانی صاحب اس فانی دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ گئے – وفات کی وجہ کئی دنوں سے مسلسل ہونے والا سخت بخار بتاتا گیا – نعیم علی گیلانی کے مطابق ان کے والد مرحوم کا جنازہ بھی ان سے چھین کر ہندوستانی فوجیوں نے خود دفنایا اور لوگوں کو نماز جنازہ میں آنے سے روکنے کے لیے پوری وادی میں انٹرنیٹ اور امدورفت کے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے ۔ حیدر پورہ میں کرفیو سا سماں تھا ، گویا سید علی گیلانی صاحب کی لاش سے بھی بزدل فوج اور حکومت ڈر رہی تھی -سید علی گیلانی صاحب اس دنیا سے آزادی کشمیر و الحاق پاکستان کا خواب لے کر چل دیے مگر اب ہم سب پر ، انفرادی و اجتماعی طور پر یہ لازم ہے اور گیلانی صاحب کے خون کا قرض ہے کہ اس تحریک کو نہ رکنے دیں نہ آہستہ ہونے دیں بلکہ اگر ضرورت پڑے تو اپنا آپ قربان کر کے بھی اس تحریک کو جلا بخشیں اور انشاء اللہ ، انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو گا اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کی تکمیل کو گیسید علی گیلانی صاحب کو اس نعرے ” ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے ” کی وجہ سے بطور بانی رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا -سید علی گیلانی صاحب کی نمازِ جنازہ پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی کشمیری موجود تھے وہاں غائبانہ طور پر ادا کی گئی ۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قومی اسمبلی کے سامنے ، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی –
    سید علی گیلانی مرحوم کے پوتے ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی ( صدر کشمیر یوتھ الائنس پاکستان) کا کہنا تھا کہ "سید علی گیلانی ایک بہترین باپ ، بہترین دادا اور بہترین انسان تھے – خود ہندوستانی حکومت و فوج کے مظالم برداشت کرتے رہے پر انہوں نے ہم سب کو اعلی تعلیم دلوائی پر ” ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے ” کے نعرے کو ہم سے حلف لے کر ہم پر لازم کر دیا کہ ہم اپنے خون کا آخری قطرہ بھی آزادی کشمیر و تکمیل پاکستان کے لیے حاضر کریں – انشاء اللہ ، ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس نعرے کی محافظ رہینگی –
    سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی ایک شخص نہیں ایک تحریک کا نام ہے اور شاید آج کشمیری قوم خصوصاََ جموں و کشمیر کے کشمیری یتیم ہو چکے ہیں
    Take a look at Engr Tabish Abbasi (@Abbasi_Talks): https://twitter.com/Abbasi_Talks?s=08-

  • زراعت کے شعبے میں عمران خان کا انقلاب پہلا حصہ تحریر: احمد خان

    پاکستان زراعت کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بہترین ملک ہے پاکستان کی تقریبا 60 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے جس ملک کا کسان خوشحال ہو سمجھو وہ ملک خوشحال ہے اس ملک کی معیشت اٹھ جاتی ہے وہ ملک بڑی تیزی سے ترقی کرنے لگتا ہے

    کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ بھارت کی معیشت ہم سے بہتر کیوں ہے؟؟ کیونکہ بھارت کی حکومت نے اپنے کسانوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کر کے اپنی برآمدات کو بڑھایا ہے

    اور کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہم سب سے بہترین نہری نظام رکھنے کے باوجود بہترین زرخیز زرعی زمین رکھنے کے باوجود اپنی برآمدات کیوں نہ بڑھا سکے؟؟

    کیونکہ ماضی کے تمام حکمرانوں نے جہاں ایک طرف ہمارے کسانوں کو سہولیات سے محروم رکھا تو وہاں دوسری طرف زرخیز زمینوں پر جان بوجھ کر وہ چیزیں کاشت کی گئی جس سے ان کے اپنے ذاتی کاروبار منافع بخش ہوتے گئے اور دیگر فصلوں کی پیداوار کم ہوتی چلی گئی اور یوں آہستہ آہستہ زراعت کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    مثال کے طور پر نواز شریف آصف علی زرداری اور جہانگیر ترین جیسے مافیا کی بہت سی شوگر ملز ہیں اس کے متعلق یہ خبر نکل کر سامنے آئی تھی کہ

     انہوں نے جان بوجھ کر پاکستان کی زرخیز زمینوں پر کماد کی کاشت کر کے پاکستانی زراعت کو تباہ کیا ہے جن زمینوں پر کپاس اور گندم کی زیادہ پیداوار ہونا تھی وہاں انہوں نے کماد کاشت کر کے اپنے ذاتی کاروبار کو فائدہ پہنچایا ہے

    نمبر 2 زراعت

    آپ یہ پڑھ کر حیران رہ جائیں گے کہ عمران خان کا یہ اقدام پاکستانی زراعت میں کتنا زبردست انقلاب لے کر آئے گا

    عمران خان نے پاکستانی کسانوں کو جو سہولیات مہیا کی ہیں ان سہولیات کے بعد انشاءاللہ نہ صرف پاکستان کا کسان خوشحال ہو جائے گا بلکہ اس مرتبہ پاکستان میں ریکارڈ فصلوں کی پیداوار بھی ہوگی

    کسان کے لیے دو سب سے بڑے مسئلے ہیں

    1 کاشتکاری کے لیے کھاد بیج سپرے خریدنا 

    عمران خان نے کسان کے اس مسئلہ کو حل کرتے ہوئے کھاد بیج اور سپرے خریدنے کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپے کا بلا سود قرضہ فراہم کر دیا ہے یعنی مثال کے طور پر اگر میرے معاشی حالات اجازت نہیں دیتے کہ میں کوئی بھی فصل کاشت کروں یعنی گندم یا کپاس تو اب میں اس قابل ہو گیا ہوں کہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا بلا سود قرضہ لے کر میں کوئی بھی فصل کاشت کر سکتا ہوں

    2 کسان کا دوسرا بڑا مسئلہ زرعی آلات خریدنا 

     کسان کو زمینوں اور فصلوں کی کاشت کے لیے مختلف زرعی آلات کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے لیکن آپ یہ جان کر بھی حیران رہ جائیں گے کہ عمران خان نے کسان کا یہ مسئلہ بھی حل کر دیا ہے اب کسان بڑی آسانی کے ساتھ دو لاکھ روپے تک کا بلا سود قرضہ لے کر اپنے زرعی آلات خرید سکتا ہے

    اور صرف یہی نہیں اگر کسان کو اپنے لئے گھر بنانا ہو تو اسے 20 لاکھ روپے تک کا قرضہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے گھر کے ایک فرد کو بالکل مفت میں حکومت کی جانب سے ہنر مندی بھی سکھائی جائے گی

    اس کے علاوہ زراعت کے شعبے میں بے شمار ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جو لکھنے بیٹھ جاؤں تو کالم ختم ہونے کا نام نہیں لے گا بس اتنا لکھ دیتا ہوں کہ بلوچستان میں تقریبا ایک کروڑ یا اس سے زائد ایکڑ پر زیتون کے درختوں کی کاشت کی جا رہی ہے اور یاد رکھیئے کھانے میں سب سے بہترین تیل زیتون کا ہوتا ہے اور یہ کھانے پینے کے علاوہ بہت سے معاملات زندگی میں استعمال ہوتا ہے

    لیکن شرم تم کو مگر آتی نہیں ایسی سہولیات ملنے کے باوجود بھی لوگ عمران خان کو برا بھلا کہتے ہیں اسے بددعائیں دیتے ہیں اسے حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں 

    لیکن سچ تو یہ ہے جو خدا کا ناشکرا ہو وہ بھلا اپنے محسن کا کیسے شکر گزار ہو سکتا ہے

    @iamAhmadokz 

  • کاہلی کو بدقسمتی کا نام نہ دے تحریر:  آویز

    کاہلی کو بدقسمتی کا نام نہ دے تحریر: آویز

    ہمارے معاشرے میں لوگ جس کام کو نہیں کر سکتے کہہ دیتے ہیں بلکہ ایسا کچھ نہیں ہے ہر محنت کرنے والے کو اللہ اس کا اجر دیتا ہے آپ بھی سچے دل سے ایمان سے محنت کریں اللہ آپ کو آپ کے کام میں ضرور مدد کرے گا وہ معجزوں کا خدا ہے

    ہم میں سے اکثر افراد اپنی ناکامیوں کو اور کاہلی کو قسمت کا نام دیتے ہیں دراصل بدقسمتی ایک باطن ہوتا ہے جو کاہلو کی طرف سے خدا پر لگایا گیا تھا کمزور سوچ رکھنے والا شخص اور سست آدمی میں یہی سوچتا رہتا ہے کہ وہ اپنی ضرورتوں اور خواہشوں کوبن محنت کیے ہی حاصل کرلے دنیا میں ہر ترقی پذیر انسان محنت کرکے ہی اپنی منزل تک پہنچتا ہے جس کی کامیابی پر کاہلوں کو رشک ہوتا ہے جب کہ رب کریم نے بھی کاہلوں کو بھی باصلاحیت پیدا کیا ہوتا ہے 

    کامیاب انسانوں اور دوسرے انسانوں میں صرف ایک نقطے کا ہی فرق ہوتا ہے کامیاب انسان دوسرے انسانوں کی با نسبت لگ سوچتے ہیں بالآخر کامیابی کا سہرا اسے ہی سجایا جاتا ہے جو اس کے قابل ہوتا ہے زندگی میں سب سے مشکل کام کامیاب ہونا ہی ہے جو لوگ حوصلے والے ہوتے ہیں کامیابی کو حاصل کر لیتے ہیں وہ جن میں ہارنے کی ہمت نہیں ہوتی وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں کامیابی ایک بات نہیں ہر محنت کرنے والے کو اللہ کامیاب کرتا ہے چاہے جتنا مرضی مشکل راستہ کیوں نہ ہو خدا انسان کی ہر حال میں مدد کرتا ہے اگر آپ سچے دل سے خدا کے ہو جاؤ گے تو وہ آپ کا ہو جائے گا آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دی کھا آپ کے دکھ سکھ میں ہمیشہ آپ کا ساتھ دے گا جن کی ایک امتحان ہوتی ہے انسان کو اس میں طرح طرح کی مشکلیں پیش آتی لیکن انسان کو گھبرانا نہیں چاہیے اپنے اللہ پر رکھ کر یقین رکھ کر بس محنت کرنی چاہیے کچھ محنت کا اجر تو اللہ نے دیتا بجائے اس کے کہ آپ لوگوں کی خامیاں ڈھونڈے لوگوں میں اچھائی دیکھنا سیکھیں ان کے اچھے کاموں کو دیکھنا سیکھیں جب آپ ایک اچھی سوچ رکھتے ہیں تو خدا بھی آپ کے لئے اچھا سوچتا ہے میں یقین سے کہتا ہوں خدا انسان کو کبھی مایوس دیکھنا پسند نہیں کرتا خدا سے مانگنا چاہیے گلے شکوے شکایتیں نہیں کرنی چاہیے وہ تو دینے والا ہے جو آپ کے لئے اچھا ہو گا وہ آپ کو دے گا اور جو آپ کے لئے اچھا نہیں ہوگا وہ آپ سے چھین لے گا

    انسان سوچتا ہے بعض دفعہ ان وہ اتنی محنت کرتا ہے لیکن خدا اس کے لئے کوئی رستہ نہیں نکال رہا یقین کیجئے اس کے کاموں میں دیر ہے اندھیر نے وہ تو عاجزی کا خدا ہے اگر وہ آپ کے لئے اچھا ہو تو وہ کبھی بھی آپ کو اس چیز کو دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا فرق بس اتنا ہی ہے کامیاب اور ناکام انسانوں کامیاب انسان محنت کر کے آگے جاتے ہیں جب کہ ناکام انسان محنت نہیں کر سکتے بزدل ہوتے ہیں بزدل ہوتے ہیں ہم دعا کرتے ہیں اللہ سب کو سب کی محنت کا اجر دے 

    انسان کے بس میں سب کچھ ہے لیکن وہ اپنے دل پر قابو نہیں پا سکتا اپنی خواہشوں پر قابو نہیں پا سکتا مجھے لگتا ہے انسان کو اپنے دل میں خواہشیں پیدا کرنی چاہیے تاکہ ان خواہشوں کو پورا کرنے کا انسان کے اندر جذبہ ہو تبھی تو انسان کامیاب ہو سکتا ہے یہ مت کبھی سوچیئے گا کہ اب ہمت ہار گئے ہیں ہمت نہ ہارے کامیابی ایک بہت بڑی دولت ہے اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی اس دنیا میں اس معاشرے میں صرف کامیاب انسان کی ہی قدر ہے سو معاشرے میں رہنے کے لئے عزت پانے کے لئے آپ کو کامیاب ہونا بہت ضروری ہے اگر آپ ہمت ہار جاؤ گے تو خدا بھی سوچے گا یہ انسان تو خود ہی ہمت ہار گیا ہیں اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو ہمت دے آپ اپنے راستے پر چلیں اس سے طاقت مانگے وہ کبھی آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے 

    @Hi_Awaiz

  • میری تو پولیس بھی سپانسرڈ ہے ۔۔!   تحریر ؛ علی خان

    میری تو پولیس بھی سپانسرڈ ہے ۔۔!  تحریر ؛ علی خان

    @hidesidewithak

    "پولیس کا فرض ہے مدد آپ کی، تعاون: حق بناسپتی "۔”تیزرفتاری سے اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں مت ڈالیں: تعاون برق موٹرز”۔”تھانہ کورس پارک ایک سو میٹر بائیں جانب، تعاون :کڑک چائے”۔ یہ اور ان سے ملتے متعدد بل بورڈز اور سائن بورڈز آپ کو ہر چھوٹے بڑے شہر میں ضرور نظر آتے ہیں۔ انہیں پڑھ کر یہ سمجھنا قاصر ہوجاتا ہے کہ یہ متعلقہ محکمے کی جانب سے مفاد عامہ کے پیغامات ہیں یا پھر ساتھ بتائے کاروبار کے اشتہارات۔  سب سے اچھنبے کی بات یہ ہے کہ ایسے بورڈز اوراشتہار زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پیغامات سے مزین ہوتے ہیں۔  یہ کمپنیاں اور  کاروباری ادارے ایسے اشتہارات کو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی یعنی  کاروباری سماجی ذمہ داری  کے  عنوان سے  چھواتے اور لگواتے ہیں۔لیکن  کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے؟؟؟ 

    سب سے پہلے تو  کارپوریٹ سوشل  ریسپانسبلٹی کا یہاں اطلاق مبہم ہے۔    ملکی  اور بین الاقوامی قوانین  میں سی ایس آر کا مطلب و مفہوم اس علاقے خطے یا ملک کے شہریوں کو معیار زندگی بہتر کرنے میں مدد کرنا  ہے جہاں  متعلقہ کمپنی کام یا کاروبار کر رہی ہو۔اس میں صحت عامہ کی سہولیات فراہمی، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔ کمپنی کا نام سرکاری اداروں کے ساتھ اشتہاری بورڈوں پر ٹانک دینےسے کونسی سماجی ذمہ دار ی ادا ہوتی ہے ؟یہ حل طلب سوال ہے۔ 

    ایسے اشتہار نہ صرف  سماجی ذمہ داری قوانین کی غلط تشریح ہیں بلکہ بہت سے حوالوں سے  ذاتی فائدے، اثر و رسوخ بڑھانے اور  غیر قانونی کاموں کو جواز دیتے ہیں۔ پہلے تو اس مد میں خرچ کی جانے والی رقم کو ٹیکس چھوٹ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا ادارہ جسکا نام محکمہ جاتی بورڈز پر کنندہ ہو سرکاری اہلکاروں کے لیے نو گو ایریا بن جاتا ہے اور وہ اسکی جانب رخ کرنے سے قبل کئی بار سوچتے ہیں چاہے وہاں کتنا ہی غیر قانونی کام ہی کیوں نہ ہورہا ہو۔ اب ایک ٹریفک کانسٹیبل ایسی کمپنی کی گاڑی کا چالان کیسے کاٹے گا جس کی ہر تقریب میں اسکا اعلیٰ افسر شرکت کرتا ہو؟ فوڈ انسپکٹر کے لیے ایسی فیکٹری میں کارروائی کرنا کہاں آسان ہوگا جو شہر میں ہونے والی تمام سرکاری تقاریب میں مفت کھانا فراہم کرتی ہو؟ 

    سرکاری سطح پر ایسی سماجی ذمہ داری سرگرمیاں کوئی اب کی بات نہیں بلکہ دور قدیم میں جب کوئی سرکاری افسر کسی شہر کے دورے پر آتا تو اسکے قیام و طعام اور تفریح کی ذمہ داری مقامی ماتحتوں پر آجاتی۔ پٹواریوں میں ایک مقامی زمینداروں سے دیسی ککڑ اکھٹے کرتا تو دوسرا صاحب اور ہمراہیوں کے لیے نئے بستروں کا انتظام کرتا۔ گرمیاں ہونے کی صورت میں نئے   پنکھوں کا انتظام کرنا بھی انہی سرکاری اہلکاروں کے ذمہ آتا ۔ اس مد میں آنے والی کل رقم صاحب کے ذاتی اکاونٹ میں منتقل ہوجاتی۔ یہی سلسلہ بڑھتے بڑھتے  آج سرکاری اداروں کے بورڈوں تک  پہنچ چکا

    کچھ شہروںمیں   اب پولیس کے گشت کرنے والے دستے کے موٹرسائیکلوں پر بھی یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔  نجی کاروباری  اداروں کی جانب سے  فراہم کردہ موٹرسائیکل انکے عطیے کو نہ صرف شہر بھر میں مشتہر کرتے ہیں بلکہ  قانون اور کاروبار کے مابین قریبی تعلق کا پیغام بھی عوام تک پہنچاتے ہیں۔  ارباب اختیار کو اس سلسلے کا جائزہ لینے  اور حدود متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہاتو کوئی بعید نہیں کسی دن اہلکاروں کی وردیوں کے ایک بازو پر چائے والی کمپنی کا اشتہار کنندہ ہو اور دوسری جانب  بناسپتی گھی کا۔ پولیس موبائل پر آئس کریم ، ٹوتھ پیسٹ، صابن اور ہیئر آئل کی تشہیر بھی دور کی بات نہیں لگ رہی۔ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ راہ چلتے  ہیلمنٹ نہ پہننے پر آپکا چالان کاٹا جائے اور چالان کی پرچی پر محافظ ہیلمنٹ بنانے والے کا بطور تعاون کردہ ذکر ہو ۔