Baaghi TV

Category: متفرق

  • سوشل میڈیا کا استعمال ، تحریر:  راحیلہ عقیل

    سوشل میڈیا کا استعمال ، تحریر: راحیلہ عقیل

    کچھ سال پہلے تک سوشل میڈیا اتنا عام نہیں تھا لوگ صرف ضرورت کے تحت اسکا استعمال کرتے تھے آج ہر ہاتھ میں موبائل ہو اور اس میں سوشل میڈیا کااستعمال نا ہو ناممکن سی بات ہے اناڑی سے اناڑی بھی سوشل میڈیا پر بیٹھے گیانی بنے ہوتے ہیں تیزی سے ترقی کرتے دور میں جہاں ہر انسان خود کی پہچان بنانے کے لیے خود کو منوانے مقبول کرنے کے لیے اس کوشش میں رہتا ہے جو بھی خبر ویڈیو وائرل ہو پہلے ہمارے اکاؤنٹ سے ہوجاے ہمارے لائکس،فالورز بڑھ جائیں ہمارا نام ہوجاے چاہے پھر وہ خبر جھوٹی ہو یا نازیبا ویڈیوز ہر شخص خودنمائی چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ وقت ہی ایسا ہے یہاں گھروں میں ایک دوسرے کو ٹائم دینے کے بجائے کوشش ہوتی جلد از جلد کام ختم کرکے سوشل میڈیا پر وقت گزارا جائے گھروں میں بے سکون، وقت نا دینے کی شکایت، تعلیم پر توجہ نا دینا، کھانے پینے صحت کا خیال نا رکھنا، نیند پوری نا کرنا، یہ سب سوشل میڈیا کی مہربانی ہے ہم اس قدر عادی ہوچکے ہیں کے اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے وقت ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کے ہم اپنی نسلوں کو کیا ترغیب دے رہے ہیں یہی تو سیکھ رہے ہم سے بچے اور پھر ہم ہی شکایت کررہے ہوتے ہیں کے بچے بدتمیز ہورہے ہیں بات نہیں سنتے ہم نے ہی تو بچوں سے جان چھڑانے کے لیے انکے ہاتھوں میں موبائل دیے ہیں بچوں کو جس وقت کتابوں کی ماں باپ کی توجہ کی گھومنے پھرنے، لاڈ پیار کی ضرورت ہوتی ہم نے ساری زمہ داری ایک موبائل دلا کر پوری کردی ؟ سوچیے …….

    سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کا گند

    بہت سارے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال سیاسی طور پر کرتے ہیں وہ جماعت کی خوبیاں اور مخالف جماعتوں کی خامیاں گنواتے تھکتے نہیں، کافی بار سنا کے کچھ جماعتیں پیڈ ٹیمز سے کام کرواتی ہیں،گالیاں ، الزامات، دھمکیا، فوج مخالف بیانہ، یہ اکثر جعلی اکاؤنٹس سے ہوتا یا پھر دوسرے ممالک میں آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سکون سے فل اے سی روم میں بیٹھے لوگ یہ کام بخوبی سرانجام دیتے ہیں ظاہر ہے انکو ڈر خوف تو ہوتا نہیں، پیچھے رہ جاتے ہمدرد کارکنان وہ سارا دن ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں ہر طرح سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں رہتے کے کیسے اپنے رہنما کو پارسا ثابت کریں
    میرا ایک سوال ہے ان کارکنان سے ہمدردوں سے
    خدا نا کرے آپ مر گئے آپ کے جنازے پر آپکے رہنما آئیں گے؟ یا وہ دوست آپکے دکھ پریشانی میں آپکو حوصلہ دینگے ساتھ دینگے جن سے آپ سارا دن لڑائیاں کرتے ہوں اپنے رہنماؤں کے لیے ؟ خود فیصلہ کرلیں۔۔۔۔۔۔۔

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ
    آج کے دور میں سوشل میڈیا پاور ہے یہاں دس منٹ میں کسی کے ساتھ ہوئے ظلم پر آواز اٹھاکر حکمرانوں کو جگایا جاتا ہے ارادے ایکشن نا لیتے ہوں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اتنے مضبوط ہیں کہ وہ جانتے ہیں انکی آواز سنی جاے گی بلکہ کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی یہ مثبت پہلو یہ صحیح استعمال ہے کشمیر کی آزادی کی تحریک ہو یا بھارت کے کشمیر میں مظالم، افغانستان میں طالبان کی واپسی ہو یا امریکہ، بھارت کی چیخیں یہ سب ہمیں سوشل میڈیا سے پتہ چلتا ہے کہ کب کون کیا کررہا کہہ رہا ۔۔۔۔ آنے والے وقتوں میں سوشل میڈیا اک نیا رخ لے گا۔۔۔

    ٹک ٹاک
    ایسے ہی کچھ ایپس ایسی بھی ہیں جہاں سوائے گند، غلاظت،بے حیائی،فتنے کے سوا کچھ نہیں ٹک ٹاک” سب ہی جانتے ہیں ٹک ٹاکرز کے آئے روز نئے اسکینڈلز منظرعام پر آتے ہیں جس وجہ سے پاکستان میں فلحال ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔

    یوٹیوب
    یوٹیوب اچھی ایپ ہے اپنے حساب سے چاہیں تو پیسے کمانے کا زبردست طریقہ ہے گھر بیٹھے کافی کام کرتے ہیں لوگ اس پر خواتین کوکنگ، میکپ، سلائی کڑھائی، بیوٹی ٹپس اور بھی کافی چیزیں ہیں جن پر کام کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔
    ہر چیز کے اچھے برے پہلوں ہیں یہ سوچنا ہمارا کام ہے کے ہم نے خود اور اپنے بچوں کو اسکا استعمال کیسے کروانا ہے اور کس عمر میں انکے ہاتھوں میں فون دینے ہیں انکو آزادی دینی ہے ۔۔۔۔۔
    تحریر راحیلہ عقیل

  • گھر میں داخل ہونے والا چور چوری کی بجائے معافی مانگ کر چلا گیا

    گھر میں داخل ہونے والا چور چوری کی بجائے معافی مانگ کر چلا گیا

    جرمنی میں گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہونے والا چور چوری کئے بغیر مہذبانہ انداز میں معافی مانگ کر واپس چلا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے چھوٹے سے شہر گیوَلزبرگ میں پیش آیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق کئی منزلہ رہائشی عمارت کا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے رات گئے چور باآسانی عمارت میں گھس گیا جس کے بعد پانچویں منزل پر جانے کے بعد وہ تیز دھار آلے کی مدد سے گھر کا لاک کھولنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔

    پولیس نے بتایا کہ شور کی آواز سن کر 52 سالہ خاتون باہر نکلیں جو اس وقت گھر میں اکیلی تھیں، خاتون چور کو دیکھ کر گھبرا گئیں کہ وہ کیسے گھر کے اندر داخل ہو گیااور چور کو بھی اندازہ ہو گیا کہ گھر میں خاتون کے علاوہ کوئی موجود نہیں ہے-

    جس کے بعد عجیب واقع رونما ہوا، چور شرمندہ ہوا اور کہا کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ گھر پر کوئی نہیں ہے، اس نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا تاہم پولیس خاتون خانہ کی شکایت پر چوری کی کوشش کا مقدمہ درج کر کے فرار ہو جانے والے نامعلوم ملزم کو تلاش کر رہی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو اچانک اپنے سامنے پا کر معذرت کر لینے والا یہ شخص بظاہر مہذب تھا مگر اس بات سے اس کی طرف سے چوری کی مجرمانہ کوشش کی نفی نہیں کی جا سکتی۔

  • انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    آسٹریلیا میں ایک ایسی بطخ ہے جو انسانی جملوں کو نقل کر کے دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق طوطوں کو تو میاں مٹھو اور دیگر انسانی جملے سکھانا سنا اور دیکھا بھی تھا مگر اب بطخ بھی انسانوں کی نقل کرنے لگی ہے اس کا سب سے مشہور جملہ ہے ’یو بلڈی فول‘ جو انگریزی زبان میں گالی کی طرح سمجھا جاتا ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ بطخیں بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی بطخوں سے سیٹیاں مارنا سیکھتی ہیں جس سے وہ آپس میں بات کرتی ہیں، لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ انسانوں کے درمیان پلنے سے انہیں انسانی آوزیں بھی سکھائی جا سکتی ہیں۔

    آسٹریلیا کے سائنسدان پیٹر جے فلا نے تحقیق کے دوران ایک نر بچے کو پالا جو چار سال کا ہے اسے رِپر کا نام دیا گیا ہے یہ غصے میں اول فول الفاظ ادا کرتا ہے ۔

    رپورٹ کے مطابق بطخ دروازہ بند ہونے کی آواز نکالنے کے ساتھ انسانوں کی طرح کھانسی بھی کرتی ہے، لیکن اب اس نے ایک جملہ بھی سیکھ لیا ہے اور وہ واضح انداز میں ’یوبلڈی فول‘ کہہ سکتی ہے۔

    پانیوں میں آزادانہ گھومنا پسند کرنے والی مسک بطخ آواز سیکھنے اور بولنے کی حیرت انگیز خاصیت رکھتی ہے وہ زیادہ تر قید ہو کر غصے میں یہ الفاظ سیکھ کر اپنے جزبات کا اظہار کرتی ہے۔

  • بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب  نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ ابھر آیا کنڈ ملیر کو بلوچستان کا جادوئی ساحل بھی کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حکام کا کہنا ہے کہ سمندر کی تہہ سے اچانک ابھرنے والا جزیرہ بڑے رقبے پر محیط ہے۔ سمندر میں یہ جزیرے گہرے پانیوں میں جغرافیائی ردوبدل کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں تاہم سمندر میں ابھرنے والے یہ جزیرے اکثر وبیشتر ابھرنے کےکچھ عرصے بعد دوبارہ غائب ہوجاتے ہیں۔

    کراچی سے 240 کلومیٹر دور مکران کوسٹل ہائی وے پر کنڈ ملیر کا ساحل واقع ہے۔ جہاں، پہاڑ، صحرا اور سمندر ایک جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں کنڈ ملیر بلوچ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی ہے جو ایک پہاڑی پر آباد ہے سفید ریت پر نیلا پانی اور موجیں مارتا سمندر اس بستی کے نیچے موجود ہے جو یہاں سے گزرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرہی لیتا ہے۔

    سعودی عرب : بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

    مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر اور سوشل میڈیا پر کنڈ ملیر کے حسن کے چرچوں نے سیاحوں کو یہاں کا پتا دیا ہے اور اب ہفتہ وار تعطیلات کے علاوہ تہواروں کے موقع پر لوگ اپنے خاندان کے ساتھ سمندر کے نیلے پانی سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔

    کنڈ ملیر کو گذشتہ سال ایشیا کے 50 خوبصورت ترین ساحلوں میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ درجہ بندی سیاحت اور فوٹو گرافی کے لحاظ سے کی گئی تھی۔

    کراچی کے معروف ساحلوں ہاکس بے، مبارک ولیج اور کاکا پیر کے مقابلے میں یہاں سمندر زیادہ گہرا نہیں اور یہی وجہ ہے کہ بچے اور خواتین بھی بے دھڑک سمندر میں اتر جاتے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کنڈ ملیر کے قریب ابھرنے والا جزیرہ ساحل کی اہمیت کو بڑھا سکتا ہے ۔ حکام اس جزیرہ کا جائزہ لیتے رہیں گے۔

  • سوشل میڈیا پر بلی کی بہادری کے چرچے

    سوشل میڈیا پر بلی کی بہادری کے چرچے

    نئی دہلی: بھارت کے ایک کنویں میں گرنے والی بلی اور چیتے کی لڑائی کی ویڈیو سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں چیتے اور بلی ایک کنویں میں گر گئے چیتے نے کنویں کی منڈیر پر پناہ لی تو وہاں پہلے سے ہی ایک بلی موجود تھی۔

    چیتے نے اپنے سے کئی گناہ چھوٹی بلی پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو بلی بھی سینہ تان کر کھڑی ہو گئی اور چیتے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا بلی کی اس بہادر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جو دنیا بھر میں لوگون کی دلچسپی کا باعث بن گئی ہے-

    یو اے ای: ایکوریم میں دنیا کا سب سے بڑا سانپ

    چیتے کے کنویں میں گرنے کے بعد مقامی افراد وہاں پہنچ گئے تھے اور وہ کنویں کے دہانے پر کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے جنہوں نے بلی کی بہادری کی ویڈیو اپنے موبائل میں محفوظ کر لی۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مغربی ناسک ڈویژن کے جنگلات کے ڈپٹی کنزرویٹر پنکج گرگ کا کہنا تھا کہ چیتا اس بلی کا پیچھا کرتے ہوئے کنویں میں گر گیا تھا جسے کنوئیں سے نکال کر جنگل میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

  • بھارت میں جہالت کی انتہا:بارش دیوتا کو راضی کرنے کے لئے کمسن بچیوں کو برہنہ گھمایا گیا

    بھارت میں جہالت کی انتہا:بارش دیوتا کو راضی کرنے کے لئے کمسن بچیوں کو برہنہ گھمایا گیا

    نئی دہلی: بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کے ایک گاؤں میں 6 کمسن بچیوں کو برہنہ کرکے گھمایا گیا ہے یہ شرمناک و افسوسناک واقعہ ریاست مدھیا پردیش کے علاقے بندیل کھنڈ کے ایک خشک سالی کے شکار گاؤں میں پیش آیا ہے۔

    باغی ٹی وی :” ہندوستان ٹائمز "کے مطابق بچیوں کو برہنہ گھمانے کی وجہ یہ تھی کہ گاؤں کے افراد بارش کے دیوتا کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جبکہ ریاستی پولیس کا اس ضمن میں مؤقف ہے کہ کمسن بچیوں کو ان کے خاندانوں کی مرضی کے تحت برہنہ کر کے گھمایا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق این سی پی سی آر نے اس حوالے سے ضلعی و ریاستی انتظامیہ سے باقاعدہ تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیا پردیش کے گاؤں والوں کا فرسودہ رسومات کے تحت کہنا ہے کہ اس طرح وہ بارش کے دیوتا کو راضی کرتے ہیں تاکہ وہ بارش برسا دے اور خشک سالی کا خاتمہ ہو جائے مقامی افراد یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے جو رسم ادا کی ہے اس کی وجہ سے بارش کا دیوتا راضی ہو جائے گا، بارش برسے گی اور خشک سالی کا خاتمہ ہو گا۔

    بھارت میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن نے اس حوالے سے ریاستی و ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیا پردیش کی پولیس کا کہنا ہے کہ کمسن بچیوں کے ساتھ خاندانوں کی مرضی سے سب کچھ کیا گیا ہے اور انہیں کوئی شکایت بھی موصول نہیں ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود وہ تحقیقات کررہے ہیں۔

  • 8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    ریاض: سعودی عرب میں سفید شاہین (فالکن) نصف ملین ڈالرز میں فروخت ہوا تو نیا عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق دارالحکومت ریاض سے تقریباً 40 میل کے فاصلے پر واقع ملہم شہر میں سفید شاہین کو نیلامی کے ذریعے 1.75 ملین یورو میں ( مساوی نصف ملین ڈالرزجبکہ 83,994,900 پاکستانی روپے) ) فروخت کیا گیا ہے۔

    قیمت کے لحاظ سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے والےامریکی نسل کے اس سفید شاہین کو عالمی فالکن بریڈرز آکشن (آئی ایف بی اے) نیلامی میں فروخت کیا گیا ہے اور یہ نیلامی بھی تنظیم کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی تھی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنی فروخت کے لحاظ سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے اس سفید شاہین کی عمر ایک سال سے کم ہے اور اسے امریکن پیسفک نارتھ ویسٹ فالکنز فارم سے لایا گیا تھا جسے دنیا میں شاہینوں کی افزائش نسل کے اعتبار سے بہترین سمجھا جاتا ہے سفید شاہین کی لمبائی 16.5 انچ اور وزن 34.5 اونس ہے۔

    سعودی عرب میں منعقد ہونے والی شاہینوں کی سالانہ نیلامی میں 14 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکا شامل تھے اس نیلامی کو سعودی ٹی وی اور سوشل میڈیا نے براہ راست نشر بھی کیا۔

    اگست 2021 میں سعودی عرب میں مختلف اقسام اور نسلوں کے شاہین پرندوں کی نیلامی کے موقع پر سعودی عرب کی سرزمین پرپائے جانے والے ایک نایاب شاہین کو دو لاکھ 70 ہزار سعودی ریال میں فروخت کیا گیا تھا۔ امریکی کرنسی میں یہ قیمت 72 ہزار ڈالرز سے زیادہ بنتی ہے۔

    ایس پی اے نے بتایا تھا کہ یہ ڈیل ریاض کے شمال کے ملہم کے مقام پر سعودی فالکن کلب کی طرف سے منظم کی گئی نیلامی کی دوسری رات میں کیا گیا تھا۔ یہ شاہین نیلامی میں فروخت ہونے والا سب سے مہنگا پرندہ ہے۔

    اگست 2021 میں سعودی عرب کی خبر رساں ایجنسی نے بتایا تھا کہ العرادی فارم سے لائے گئےشاہین کی خریداری میں بڑی بولی کے ذریعے فروخت ہونے والے اس شاہین کی لمبائی ساڑھے 17 انچ،چوڑائی پونے 17انچ اور وزن 1105 گرام تھا۔

    سعودی عرب کے ایک مقامی شہری متعب منیر العیافی نے العرادی فارم سے آئے شاہین کی خریداری کی آخری بولی لگائی تھی۔ اس شاہین کو’رغوان‘ کا نام دیا گیا تھا شاہینوں کے مقامی مقابلے سب سے خوبصورت شاہین پیش کرنے والے کو تین لاکھ، دوسرے درجے پر دو لاکھ اور تیسرے پر ایک لاکھ ریال کا انعام رکھا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آئی ایف بی اے کے مطابق سعودی عرب میں 20 ہزار سے زیادہ شاہین ہیں اس پرندے کو بطور خاص عزت و تکریم بھی دی جاتی ہے سعودی عرب نے جولائی 2017 میں فالکنرز کی ایسوسی ایشن بنانے کے لیے ایک شاہی فرمان منظور کیا گیا تھا سعودی عرب نے بین الاقوامی کنونشنوں پر بھی اتفاق کیا تھا کہ فالکن کو معدوم ہونے سے بچایا جائے اور مہاجر پرندوں کی حفاظت کی جائے۔

    دسمبر میں ریاض کے قریب ہر سال منعقد ہونے والے کنگ عبدالعزیز فالکنری فیسٹیول نے 2019 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس وقت جگہ حاصل کی تھی جب 2،350 شاہینوں کی حاضری ریکارڈ کی گئی تھی۔

    مشرق وسطیٰ میں شاہین سے محبت اور اسے پالنے کی پوری تاریخ ہے اور اکثر دولت مند افراد اس پرندے پر بطور خاص رقوم بھی خرچ کرتے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی شاہین اس قدر مہنگا فروخت ہوا کہ عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا خلیج میں اس پرندے کو ثقافت کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے-

  • را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    بھارت کی تاریخ میں ویسے تو ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بہت بڑے بڑے بلنڈرز کیے ہیں ۔ ناکامیوں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ پر سب سے پہلے جو افغانستان میں بھارت کے ساتھ ہوا ہے اسکو آپicing on the cakeکہہ سکتے ہیں ۔ ۔ اب جو بھارت نے طالبان سے مذاکرات کے لیے قطر میں ان کے سیاسی دفتر میں رابطہ کیا ہے ۔ یہ شکست کا ثبوت ہے ۔ ویسے کوئی خاص دال گلتی بھی نہیں دیکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ بھارت نے پہلے دن سے افغانستان میں لنگڑے گھوڑے پر جوا لگایا ہوا تھا ۔ مشورہ کس کا تھا ۔ raw کا ۔ سوال یہ ہے جو بھارتیوں کو مودی اور rawسے پوچھنا چاہیئے کہ مذاکرات ابھی تو شروع نہیں ہوئے ۔ یہ دو تین سال سے جاری تھے ۔ تب انھوں اپنے آپکو کیوں نہیں بدلا ۔ بھارت تو روز اول سے طالبان کو اپنا دشمن نمبر ون سمجھتا رہا ہے ۔
    adviceکس کی تھی ۔ اجیت ڈول اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کی بھئی ۔۔۔ ۔ پھر اشرف غنی ہو ۔ یا شمالی اتحاد والے ان پر خوب پیسہ بھی لگایا گیا ۔ پر یاد رکھیں جب آپ ریس میں لنگڑے گھوڑے پر پیسہ لگا بیٹھتے ہیں تو پھر پیسہ تو ڈوبتا ہی ہے ساتھ آپکی عزت اور ساکھ بھی ساتھ ہی جاتی ہے ۔ تو میں افغانستان کے معاملے میں خاص طور پر rawکا شکر گزار ہوں ۔ جنہوں نے اتنا اچھا کھیلتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں بھی ذلیل کروایا اور مزید یہ آنے والے دنوں میں کروائیں گے ۔ کیونکہ ہم چاہیں بھول جائیں طالبان کو یاد رہے گا کہ کیسے rawنے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچائے ۔ یہ وہ کسی صورت نہیں بھولیں گے ۔ اب بھی جو بھارتی میڈیا rawکے اشاروں پر گند ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے دیکھا جائے تو یہ بھارت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی کرے گا ۔ اس کوئی فائدہ بھارت کو نہیں پہنچنے والا۔

    ۔ پھر طالبان نے امریکہ کو چت کر دیا ہے تو اگر rawکے اجیت ڈول اور افسروں کا یہ خیال ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بلیک میل یا فائدہ اٹھا لیں گے تو ان کی بھول ہے ۔ اس وقت بھارت جس تنہائی کا شکار ہے شاید ہی کبھی ہوا ہے ۔ یاد کریں یہ وہ ہی بھارت ہے جو کہا کرتا تھا پاکستان کو دنیا میں تنہا کردیں گے ۔ پر پاکستان کی دنیا بھر میں خوب آو بھگت ہورہی ہے ۔ بھارت کو کوئی منہ نہیں لگا رہا ہے ۔ سوچنے کی بات ہے ۔ ۔ را ۔۔۔ کے مزید بلنڈرز بتانے سے پہلے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کئی سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم نے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے روس کو شکست دی ۔ اب امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دیں گے اور آج یہ سچ ثابت ہوچکا ہے ۔ تو یہ ہوتی ہے انٹیلی جنس ۔۔۔ والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی ۔ نہ ہی اجیت ڈول کو یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کےساتھ ہوا کیا ہے ۔ یہ ان کی سوچ سے بھی آگے کی چیزیں ہیں ۔ ۔ اب آپکو ایک سال پیچھے 2020 میں لیے چلتا ہوں ۔ چین چپ کر آیا ۔ بھارتیوں کی بینڈ بجائی ۔ بندے مارے ۔ علاقوں پر قبضہ کیا ۔ مگر ۔۔۔ بھارت کی نمرون انیٹلی جنس ایجنسی ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔ لداخ میں پٹائی کے بعد جو بھارت بدحواس دیکھائی دیا ۔ اور جو اس کی شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب جگ ہنسائی ہوئی اس کی ایک ہی وجہ تھی ۔۔۔ را ۔۔۔ کی ناکامی ۔

    ۔ اس کے بعد سال 2019 بھی بھارت کی ناکامی اور نامرادی کا سال ثابت ہوا ۔ اس سال فروری میں پلوامہ حملہ ہوا جس میں 40 بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ اب یہ میں نہیں اس واقعے پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ، مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر ، ستیہ پال ملک ، سابق وزیر مملکت دفاع ، جتیندر سنگھ ، اور ممتاز قانون ساز ، گالا جے دیو وغیرہ نے انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا۔ یعنی Rawکا failure تھا ۔ اس وقت مودی نے ۔۔۔ را۔۔۔ کو بچانے کی پوری کوشش کی اور اسی دھن پر زور دیتے رہے کہ پاکستان نے اس پروگرام کو ترتیب دیا تھا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب کو معلوم ہے کہ ۔۔۔ را۔۔۔ کی ایک غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے مودی نے دوسری غلطی کی اور پھر اس کا خمیازہ بھی بھگتا ۔ اور بھارت ایئر فورس پوری دنیا میں ننگی ہوگی ۔۔ مگر پلوامہ پر ۔۔۔ گلف نیوز۔۔۔ نے لکھا تھا کہ جب 2500 فوجیوں کو لے جانے والی 78 بسیں حملہ زدہ علاقے سے گزرتی ہیں تو کچھ منصوبہ بندی اس سے پہلے ہوتی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ منصوبہ بندی تھی ہی نہیں ۔ قافلہ ایک قریبی قطار میں آگے بڑھا ۔ escortکرنے والی گاڑیاں نہیں تھیں ۔ یہ بھی واضح نہیں تھا کہ قافلے کا اگلا ، پیچھے اور درمیان والا حصہ پیچھے ریڈیو سے مسلسل رابطے میں تھا کہ نہیں ۔ جب بمبار کار ایک سڑک سے ہائی وے میں شامل ہوئی تو کسی کو پتہ نہیں چلا اور ٹارگٹ بس سے ٹکرانے سے پہلے بھی کسی ایک سپاہی کی طرف سے کوئی الرٹ نہیں جاری کیا گیا ۔

    ۔ اب پھر واضح کردوں ۔ یہ میں نہیں کہہ رہا یہ دنیا کہہ رہی ہے ۔ لیکن اُس وقت بھی نہ تو ہندوستانی میڈیا اور نہ بھارتی سیاستدانوں نے مانا کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کی کارنامے تو پتہ نہیں ہیں کہ نہیں ۔۔۔
    بلنڈرز بہت ہیں ۔ مزے کی بات ہے اس واقعہ کے بعد اجیت ڈول نے دوچار بالی وڈ فلمیں بنوائیں۔ اور کھایا پیا سب ہضم ۔۔۔ 2016کی بات کریں ۔ تو اس سال بھی rawکو دو بڑی ناکامیوں کو سامنا کرنا پڑا۔ ایک پٹھان کوٹ اور دوسرا ۔۔۔ اُڑی ۔۔۔ حملہ ۔ اس پر تو بھارتی میڈیا کیا ۔ سرکردہ سیاست دان میں چلا اُٹھے تھے کہ یہ ایک intelligence failure ہے ۔ پھر بھی اجیت ڈول جو ہیں وہ ڈنگیاں مارنے سے باز نہیں آیا اور اس نے سرکار کے خرچے پر بالی وڈ سے درجنوں فلمیں بنوا کر سبکی کو دور کروانے کی کوشش کی ۔ پر سچ کو بدلا نہیں جاسکتا ہے ۔۔۔ اُڑی اور پٹھان کوٹ ۔۔۔ حملوں میں بھارتی فورسز کو کوٹ تو پڑی ہی تھی ۔ پر ساتھ بھارت کی preimier intelligence agency ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوئی تھی ۔ ۔ پھر اکتوبر 2005 اور 2011 دہلی بم دھماکے اور 1993 ، 2002 کے دوران ممبئی میں بے شمار دہشت گرد حملے ہوئے ۔ پھر 2003 ، 2006 ، 2008 اور 2011 کے دوران چار واقعات را کی انٹیلی جنس ناکامی کی واضح مثالیں ہیں۔2010 اور 2012 میں پونے شہر پر دو بار حملہ ہوا ۔ اکتوبر 2013 کو بہار میں ایک انتخابی جلسے کے دوران بم دھماکے ہوئے ۔ جولائی 2013 میں بہار میں پھر دھماکے ہوئے ۔ مارچ
    2006 اور دسمبر 2010 وارانسی دھماکے ، مختلف بھارتی ریاستوں میں مسلسل بدامنی اور دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں علیحدگی پسند تحریکیں اس حقیقت کی کافی گواہی ہیں کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ اپنے گھر کو پہلے ترتیب دینے کے بجائے اپنے پڑوسیوں کے معاملات میں دخل اندازی اور مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اچھا یہ تو کچھ بھی نہیں ۔

    ۔ پھر نومبر 2008 میں ممبئی حملے ہوئے ۔ ممبئی کے تاج ہوٹل میں کئی لوگوں کو یرغمال بھی بنایا گیا۔ جس نے پورے بھارت کو دنگ کر رکھ دیا ۔ کیونکہ اس دن 11 مقامات پر بیک وقت حملے کئے گئے۔ اور حملہ آور بحیرہ عرب سے آئے۔ ممبئی حملوں نے جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ، کم از کم 174 افراد ہلاک ہوئے ، جن میں نو حملہ آور بھی شامل تھے۔ پر ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ سے کسی نے نہیں پوچھا ۔ کہ اتنی بڑی کاروائی ہوگئی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی ۔ پر اس بار پھر ایک ہی کام کیا گیا کہ ملبہ پاکستان پر ڈالو اور بالی وڈ کی فلمیں بناو۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را۔۔۔ کی عزت بچا لی گئی ۔ ۔ اسکے بعد بھارتی پارلیمنٹ پر 2001 میں حملہ ہوا جس کا ذکر ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے۔۔۔ نے ایک اور قومی سلامتی کی غلطی کے طور پر کیا۔اس نے زور دے کر کہا تھا ۔۔۔ پارلیمنٹ پر حملہ reality televison تھا ۔ جس کے بارے میں خفیہ ایجنسیوں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ پھر بھارت کے لیے بدقسمت سال 1999بھی تھا ۔ جب کارگل جنگ کے موقع پر بھارت کی خوب ٹھکائی ہوئی ۔ جب پاکستانی شیر جوانوں نے بھارت کو دھول چٹائی اور دنیا بھر کے سامنے ثابت کر دیا کہ بھارتی فوج اسکی خفیہ ایجنسیوں کی اوقات کیا ہے ۔

    ۔ پھر اسی سال ۔۔۔ ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک ہوجاتا ہے ۔ جس کو ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے ۔۔۔ نے اپنے ملک کی قومی سلامتی اسٹیبلشمنٹ کی ایک بڑی سکیورٹی ناکامی کہا ۔ اس وقت بھی بھارت کے
    so called spy master نے چھ دن بعد ہائی جیکروں کی جانب سے بھارتی جیلوں میں بند تین لوگوں کی رہائی کے مطالبے کو تسلیم کر لیا۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ ذلت کی گہرایوں میں جا گری ۔ پر ان دنوں معاملوں پر بھی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بالی وڈ فلمیں ہی بنوائیں اور جھوٹی سچی تاریخ لوگوں کو سنوائی ۔ ۔ پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ 1991میں راجیو گاندھی کو بھی بچا سکتا تھا ۔ پھر ناکام رہا ۔ کیونکہ نہ تو ان کی ٹریننگ ہے نہ ہی اہلیت ۔ ساتھ ہی بھارتی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے تامل ٹائیگرز کو جتنی مرضی سپورٹ دی ۔ پرآخر میں وہاں سے بھی بھارت رسوا ہو کر ہی نکالا تھا ۔ ۔ اندرا گاندھی کے دور کی بات کی جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل ہونے سے بھی نہیں بچا پائی ۔ حالانکہ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے سازش کا پہلے سے علم تھا۔ یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ ہی تھی ۔ جس نے بھارت میں 1975 کی ایمرجنسی لگوائی جس کا اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اعلان کیا ۔۔ تاریخ نے بعد میں ثابت کیا کہ یہ ایمرجنسی ایک مہلک غلطی تھی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ اندرا گاندھی کو ان کی عوامی حمایت اور مقبولیت کے بارے میں غلط اندازے دے رہی تھی۔ جون 1984 میں سکھوں کے خلاف ۔۔۔ آپریشن بلیو سٹار ۔۔۔ کے دوران ۔ را ۔۔۔ ایک بار پھر ناکام ہوگئی کیونکہ وہ امرتسر کے گولڈن ٹیمپل یں سکھ کمانڈر بھنڈرانوالے کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکی۔ اس ۔۔۔ را ۔۔۔ کی جانب سے پانچ گھنٹے کی کارروائی کے بارے میں سوچا گیا تھا جو کہ بعد میں پانچ دن تک بڑھ گئی ۔ اور سکھوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے انڈین آرمی کو ٹینک لانے پڑے۔ اس کے نتیجے میں فوج کو بھاری جانی نقصان ہوا ۔ ۔ را ۔۔۔ کے اس غلط اندازے کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بعد میں بھاری قیمت چکانی پڑی اور ان کے سکھ محافظوں نے انہیں گولیاں ماریں ۔ ۔ تو یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کے کارنامے نہیں کرتوت ہیں ۔ بھارت کے ٹیکس دینے والی عوام کو چاہیئے کہ وہ اس بارے اپنی حکومت سے بھی اور اس جاسوس ایجنسی کا بھی احتساب کرے کہ یہ کیا گل کھلاتی رہی ہے ۔ ماضی میں بھی اور اب بھی ۔ ۔ پھر بھارت کی انٹیلی جنس ناکامیوں کا اصل جھومر تو 1962میں ہوا ۔ کیونکہ ہندوستان کو کبھی شبہ تک نہیں تھا کہ چین حملہ کرے گا ، لیکن اس نے ایسا کیا۔

    ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے یقین دہانی کہ چین کبھی بھی حملہ نہیں کرے گا اس چیز نے بھارتی فوج کو تیار ہی نہیں ہونے دیا اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بھارت کو خوب مارپڑی ۔ اس جنگ میں تین ہزار سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ سولہ سو سے زائد لاپتہ ہوئے اور تقریباً چار ہزار چینی فوج نے جنگی قیدی بنا لیے ۔ جبکہ مقابلے میں چین کے صرف
    722 فوجی ہلاک ہوئے اور 1697 زخمی ہوئے۔

    ۔ پھر ہندوستانی سیاسی قیادت بیرونی مدد کے لیے ادھر ادھر بھاگتی دوڑتی دیکھائی دی ۔ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم ، جواہر لال نہرو نے مایوسی میں امریکہ کو دو خط لکھے تھے۔ جس کے تحت لڑاکا طیاروں کے 12 سکواڈرن اور جدید ریڈار سسٹم کی درخواست کی گئی۔ نہرو نے یہ بھی کہا کہ ان طیاروں کو امریکی پائلٹوں کے ذریعے اُڑایا جائے جب تک کہ ہندوستانیوں کو ان کی جگہ لینے کی تربیت نہ مل جائے۔ یہ درخواستیں کینیڈی انتظامیہ نے مسترد کر دی تھیں۔ اس کے باوجود امریکہ نے ہندوستانی افواج کو غیر جنگی مدد فراہم کی اور ہوائی جنگ کی صورت میں بھارت کی مدد کے لیے کیریئر“USS Kitty Hawk” کو خلیج بنگال بھیجنے کا ارادہ کیا۔۔ دراصل اس وقت بھی بھارتی ایجنسیوں نے شدنی چھوڑی تھی کہ تبت میں 1959 کی بغاوت ہوئی تو نئی دہلی نے دلائی لامہ کو پناہ دینے ٹھان لی ۔ جس کے بعد یہ واقعہ ہوا ۔ اور چین نے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد کروادیا ۔ یوں اس جنگ کی ہار کا دکھ لیے ہی نہرو اس دنیا سے چلے گئے ۔

    ۔ دراصل دیکھا جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ کی ناکامیوں سے پوری کی پوری ایک تاریخ بھری پڑی ہے جس کی قیمت بھارت نے ہمیشہ ادا کی ہے ۔ مگر بعد میں بھارتی حکومت نے صرف فلمیں ہی بنوائیں ہیں ۔ اس لیے امید ہے جلد مودی ، راج ناتھ سنگھ اور اجیت ڈول افغانستان سے آخری 150سے 200بھارتی کیسے نکالے اس پر بھی کوئی فلم بنوا ہی دیں گے ۔

  • سگریٹ نوشی کے نقصانات .تحریر:ارم شہزادی

    سگریٹ نوشی کے نقصانات .تحریر:ارم رائے

    زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک خوبصورت نعمت ہے اور یہ نعمت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اسے بھرپور طریقے سے جیئیں، اب یہ لوگوں کا رویہ مختلف ہوتا ہے کہ اس کو کیسے بھر پور جینا ہے کیونکہ لفظ بھرپور کی تعریف سب کی اپنی اپنی ہے۔ کچھ لوگ اسے اللہ کی یاد میں کھو کر اسکے زکر سے لطف اندوز ہوکر جیتے ہیں تو کوئی ماڈرنزم کے نام پر مختلف بری عادات میں کھو کر جیتے ہیں۔ اللہ کی یاد میں گزاری زندگی نا صرف دنیا کے لیے بھرپور ہوتی ہے بلکہ آخرت میں بھی اجر و ثواب کی حقدار بنتی ہے جبکہ دنیوی عیش وعشرت میں کھو کر اور بری عادات میں کھو کر زندگی تو خراب ہوتی ہی ہے آخرت بھی برباد ہوتی ہے۔ ان بہت ساری معاشرتی برائیوں یا بری عادات میں ایک عادت سگریٹ نوشی تمباکو نوشی کی ہے جو ناصرف آپکی زندگی خراب کرتی ہے صحت خراب کرتی ہے بلکہ اپکی آخرت بھی خراب کرتی ہے کیونکہ یہ نشہ ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ پھر اسکا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ یہ نا صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو برباد کرتی ہے بلکہ آس پاس لوگوں کو بھی بیمار کرتی ہے ماحول الودہ کرتی ہے۔ ماحول کی الودگی ٹریفک کی وجہ سے پہلے ہی بہت بڑھ چکی ہے ساتھ اپنے ہاتھ سے دھواں سانس کے زریعے خود پھیپھڑوں میں اتارنا ہے۔ بلکہ ساتھ بیٹھے لوگوں کے اندر میں دھواں ٹرانسفر کرنا ہے۔ اس معاشرتی برائی کے معاشرتی پہلو الگ ہیں مذہبی الگ ہیں اور صحتی الگ ہیں۔ پہلے اسکے معاشرتی پہلو پر نظر ڈالیں تو ہمیں آج ایک بڑی تعداد اس میں مبتلاء نظر اتی ہے پھر بدقسمتی سے اس بچے ٹین ایج بچے تو شامل ہو ہی رہے ہیں ساتھ لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد اس، میں مبتلاء ہوچکی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے، ہمارا رہن سہن ہمارا معاشرتی ماحول ہمیں اس چیز کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اور پھر ہمارا ماحول ہمارے مذہب سے جڑا ہے اور ہمارے مذہب میں تمباکو نوشی کی گنجائش ہی نہیں نکلتی ہے کیونکہ یہ نشہ میں شمار ہوتا ہے اور نشہ حرام ہے مذہب اسلام میں۔ قران شریف میں نبی کریم صلی الله عليه والہ وسلم کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی الله عليه والہ وسلم حلال پاکیزہ طیب چیزوں کو حلال ٹھہراتے اور خبیث و ناپاک اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مکمل مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام غلط اشیاء جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوں حرام و ناجائز ہیں۔ اور سگریٹ کے بارے میں تو طے شدہ بات ہے کہ یہ انتہائی مہلک اور مضر صحت ہے۔،سگریٹ کا بینادی عنصر تمباکو ہے جو بنگسن کی نسل سے ایک نباتات ہے جسے کھانے سے جانور بھی اجتناب کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے سگریٹ میں بھر کر وہی زیر انسان خود اپنے ہاتھوں سے پھانکتا ہے۔اور اس کے مسلسل اور زیادہ استعمال کی وجہ سے انسان میں کئی نفسیاتی و جسمانی امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے باوجود معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اسے استعمال کرتا ہے۔اس رجحان کو کم کرنے کے لیے کئی رسالے مقالے اور سیمنارز ہوتے رہے کئی ممالک نے اس ہر پابندی بھی لگائی لیکن مکمل عملدرآمد نہیں کروا سکے۔ ایک اندزے کے مطابق تقریباً 6لاکھ سے زائد افراد اسکی وجہ سے موت کا شکار ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اسی طرح غیر فعال تمباکو نوشی کے سبب ایک لاکھ پینسٹھ ہزار بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے 40فیصد بچوں اور 33فیصد مردوں جبکہ 35 فیصد خواتین کی صحت کے گوناگوں خطرات لاحق ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں کی زد میں آکر امراض قلب میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 3لاکھ 79ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ایک لاکھ65 ہزار افراد سانس کی نالی کے انفیکشن جبکہ36 ہزار دمہ کے امراض اور 21ہزار 4سو پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلاء ہیں۔ تمباکو میں موجود نیکوٹین جیسا زہریلا مادہ موجود ہوتا ہے جو کہ دل کی نالیوں اور بلڈ ویسلرز کو بری طرح متاثر کرتا ہے، نیکوٹین سے دل پھیپھڑے کے امراض کے علاوہ اعصابی امراض بھی جنم لے رہے ہیں اور خواتین میں اسکے استعمال کی وجہ سے ماں بننے کی صلاحیت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ڈاکٹر فہیم جو کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال میں ہوتے ہیں انکا کہنا ہے کہ شوکت خانم نا صرف کینسر کا علاج کررہا ہے بلکہ سگریٹ کے دھوئیں سے ہونے والے منہ کے کینسر انتڑیوں کے کینسر اور پھیپھڑوں کے کینسر کے بچاؤ کے لیے باقاعدہ مہم چلاتا ہے آگاہی فراہم کرتا ہے بچاؤ کے طریقے بتاتا ہے۔ اور اس سال کورونا میں ہونے والی اموات میں زیادہ وہ لوگ شامل تھے جو کسی نا کسی طرح تمباکو کے عادی تھے کیونکہ کورونا کا بھی براہ راست اثر پھیپھڑوں پر ہوتا ہے اور جو پھیپھڑے پہلے ہی تمباکونوشی کے عادی تھے اور کمزور ہوچکے تھے ان پر جلدی اثر ہوا۔ڈاکٹر فہیم کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ سگریٹ یا تمباکو کے دھوئیں میں تقریباََ سات ہزار کیمیکل ہوتے ہیں جن میں آڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہوتے ہیں اور پچاس سے زائد ایسےکیمیکل ہیں جو کینسر ک باعث بنتے ہیں۔ دھوئیں سے دل کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں سے منہ کا کینسر گلے کا کینسر اور خوراک کی نالی کے کینسر سر فہرست ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے متفقہ طور پر کینسر اور دل کی بیماریوں کو 54فیصد تمباکو کے دھوئیں کا باعث قرار دیا ہے۔ دھوئیں سے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں اور بالاخر ہارٹ اٹیک تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے بچا کیسے جائے؟ حکومت ایسے پروگرام شروع کرے جس، میں عوام، میڈیا، بزنس کمیونٹی، سکول، کالج، یونیورسٹی کے طلباء بھر پور حصہ لیں۔نصاب میں اسکے نقصانات کو شامل کیا جائے اسے ایک سماجی برائی کے طور پر معاشرے میں متعارف کروایا جائے، عوام کو بتایا جائے کہ بیشک سگریٹ کے لیے کتنے ہی اچھے کمرشل بنیں لیکن آخر میں ساتھ ہمیشہ لکھا ہوتا ہے کہ "خبردار تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت”۔ اس کے اخلاقی مذہبی اور صحت کےنقصانات کے حوالے سے آگہی دی جائے اس سے بچاؤ کے حوالے سے تجاویز دی جائیں صحت مند سرگرمیوں کے لیے راہ ہموار کی جائے کھیلوں کو زندگی کا حصہ بنایا جائے خوارک کو صحت مند بنایا جائے تاکہ اس سماجی برائی کے صحت پر مضر اثرات کو کنٹرول کیا جاسکے اور ختم کیا جاسکے
    جزاک اللہ
    تحقیق وتحریر
    @irumrae

  • تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    سگریٹ پینے سے جسم پر کئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ایک سائنسی تحقیق کے مطابق، سگریٹ پینے سے تمباکو کے استعمال سے منسلک نہیں بلکہ ان تمام وجوہات سے مرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سگریٹ پینے سے نظام تنفس، گردش کا نظام، تولیدی نظام، جلد اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں اور اس سے بہت سے مختلف کینسروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔استحریر میں سگریٹ پینے سے کچھ ممکنہ اثرات دیکھتے ہیں۔1. پھیپھڑوں کو نقصان۔سگریٹ پینا پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ایک شخص نہ صرف نیکوٹین بلکہ مختلف قسم کے اضافی اور ٹاکسن کیمیکلز میں سانس لیتا ہے۔سگریٹ پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں خاطر خواہ اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ خطرہ مردوں کے لیے 25 گنا اور خواتین کے لیے 25.7 گنا زیادہ ہے۔2. دل کی بیماری سگریٹ پینا دل، خون کی شریانوں اور خون کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور ٹار کسی شخص کے ایتھروسکلروسیس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جو خون کی رگوں میں تختی کی تعمیر ہے۔ یہ تعمیر خون کے بہاؤ کو محدود کرتا ہے اور خطرناک رکاوٹوں کا باعث بن سکتا ہے۔3. بانجھ پن کے مسائل۔سگریٹ پینا عورت کے تولیدی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور حاملہ ہونا زیادہ مشکل بنا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تمباکو اور سگریٹ میں موجود دیگر کیمیکل ہارمون کی سطح کو متاثر کرتے ہیں۔4. حمل کی پیچیدگیوں کا خطرہ۔ایکٹوپک حمل کے خطرے میں اضافہ،بچے کے پیدائشی وزن میں کمی، قبل از وقت ترسیل کے خطرے میں اضافہ، جنین کے پھیپھڑوں، دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کو نقصان پہنچانا۔اچانک بچوں کی موت کے سنڈروم کے خطرے میں اضافہ۔5. ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ۔ ایک بین الاقوامی ادارہے کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ باقاعدگی سے تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی نشوونما کا خطرہ 30-40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔6. کمزور مدافعتی نظام۔سگریٹ نوشی انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے وہ بیماری کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔یہاں، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کروناوائرس ایک موذی وبا ہے جو انسان کے پھیپھڑوں اورمدافعتی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کے نتیجے میں اسیے افراد جو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔7. بینائی کے مسائل۔سگریٹ پینا آنکھوں کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے، بشمول موتیابند اور عمر سے متعلقہ میکولر انحطاط کا زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ لہٰزا، ہر انسان کو چاہیے وہ سیگریٹ نوشی جیسی لعنت سے دور رہ کر آپنے اور آپنے چاہنے والوں کا خیال رکھے۔