Baaghi TV

Category: متفرق

  • غریب ماہی گیر ایک ہی رات میں کروڑپتی بن گیا

    غریب ماہی گیر ایک ہی رات میں کروڑپتی بن گیا

    نئی دہلی: بھارت میں نایاب نسل کی مچھلی نے غریب ماہی گیروں کو راتوں رات کروڑ پتی بنا دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق غریب بھارتی ماہی گیر پابندی ہٹنے کے بعد پہلے ہی روز شکار پر پہنچے جہاں ان کی قسمت جاگ اٹھی اور ماہی گیروں نے ایک رات میں ہی سوا کروڑ روپے سے زائد کما لیے۔

    رپورٹس کے مطابق مچھلی کے شکار پر جانے والے کشی کے ناخدا چندرا کانت اور ان کے ساتھیوں نے سمندر میں جال پھینکا تو کچھ ہی دیر میں ان کے جال میں طب کی دنیا میں مہنگی ترین مچھلی "سوا” آ گئی نایاب مچھلی کے شکار نے مچھیروں کو حیرت میں ڈال دیا اور ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔

    کشتی کے ناخدا نے ساحل پر پہنچنے سے قبل ہی شکار کی گئی مچھلیوں کی ویڈیو اپنے دوستوں کو بھیج دی جو کہ جلد ہی وائرل ہو گئی اور جب مچھیرے ساحل پر پہنچے تو مچھلی خریدنے والوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔

    شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید

    ماہی گیروں نے پکڑی جانے والی 157 مچھلیوں کو فی مچھلی 85 ہزار بھارتی روپے کے حساب سے فروخت کیا اور ایک کروڑ 33 لاکھ بھارتی روپے کما لیے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل راچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں کے سمندر میں جال ڈالتے ہی بیش قیمت دو “سوا” مچھلیاں پھنس گئیں تھیں جو بعد میں لاکھوں روپے میں فروخت ہوئی تھیں-

    واضح رہے کہ مذکورہ مچھلی کی جھلی سے سرجری کے دھاگے بنتے ہیں اور یہ دھاگے جسم کی اندرونی جراحی میں استعمال ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ مچھلی انتہائی مہنگی فروخت ہوتی ہےسوا مچھلی کی اندرونی جھلی سے بننے والے ریشے قدرتی طور پر بایو ڈگریڈیبل ہوتے ہیں اور جسم کے اندر جاکر کچھ عرصے بعد از خود گھل کر ختم ہوجاتے ہیں۔

    سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

  • شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید

    شہری کو بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید

    ویلز کے شہر سوان سی میں ڈیوڈ ہیمسن نامی 51 سالہ شہری کو بار بار، بلاوجہ ٹریفک جام کرنے کے ’جرم‘ میں ساڑھے تین سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق، ڈیوڈ ہمسن پچھلے سات سال میں سینکڑوں مرتبہ سوان سی شہر کے مرکزی پولیس اسٹیشن کے بالکل سامنے والی سڑک پر بیچوں بیچ کھڑا ہو کر ٹریفک جام کرچکا ہے پولیس اور مقامی انتظامیہ نے اسے بار بار تنبیہ کی جبکہ ٹریفک جام کرنے کی پاداش میں وہ 9 مرتبہ جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے۔

    پچھلے سال اپنی تین سالہ قید مکمل کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر اسی سڑک پر چلتی گاڑیوں کے درمیان آ کر کھڑا ہوگیا جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے لگا۔ اس حرکت پر سوان سی پولیس نے اسے ایک بار پھر گرفتار کرلیا ہے اور اسے ساڑھے تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے-

    یہ گونگا بہرہ نہیں لیکن پھر بھی زیادہ بات چیت نہیں کرتا۔ اس سے جب بھی پوچھا گیا کہ وہ بار بار ٹریفک کیوں جام کرتا ہے تو اس نے کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔

    ہیمسن کی تازہ ترین گرفتاری کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ نفسیاتی ماہرین سے اس کا معائنہ کروایا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آخر اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے جو وہ بار بار ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کا سبب بن رہا ہے-

    تقریباً ڈیڑھ ماہ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود، نفسیاتی ڈاکٹر بھی ہیمسٹن سے یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کوئی نہیں جانتا کہ آخر وہ کس نیت، کس ارادے اور کس مقصد کے تحت بار بار ٹریفک جام کی وجہ بنتا ہے۔

  • سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

    سری لنکا: 80 سال بعد ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

    کولمبو: سری لنکا میں 80 سال بعد کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ (اے ایف پی) کے مطابق دارالحکومت کولمبو سے 90 کلو میٹر کی دوری پر بنائے گئے ہاتھیوں کے سنٹر میں موجود 25 سالہ "سورنگی” نے جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے ہاتھیوں کی دیکھ بھال کے لیے سری لنکن حکومت کی جانب سے پناولا کے مقام پر 1975 میں بنائے گئے آشرم کے حکام کے مطابق کچھ دن قبل ہی انہوں نے ہاتھیوں کے ہمراہ دو چھوٹے ہاتھی دیکھے تھے۔


    جس کے بعد انہوں نے کئی دن تک ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ اس ہتھنی نے ان جڑواں بچوں کو جنم دیا ہےسنٹر کی انتظامیہ اور ڈاکرز کا کہنا ہے کہ دونوں بچے معمول سے تھوڑے چھوٹے ہیں لیکن ماں اور بچے بالکل محفوظ اور صحت مند حالت میں ہیں۔

    واضح رہے کہ سری لنکا میں آخری مرتبہ 1941 میں کسی ہتھنی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی سورنگی نے 2009 میں بھی ایک نر ہاتھی کو جنم دیا تھا جب کہ اب بھی ان کے ہاں دونوں نر ہاتھی پیدا ہوئے ہیں 25 سالہ ہتھنی کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا والد 17 سالہ ہاتھی ہے-

    سری لنکا کو دنیا بھر میں ہاتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل ہے اور وہاں تقریبا 7 ہزار 500 تک ہاتھی موجود ہیں ڈھائی کروڑ سے کم آبادی والے ملک کے بڑے گھرانوں کے لوگ ہاتھیوں کو گھروں میں رکھ کر دولت یا اعلیٰ ہونے کی تشہیر کرتے ہیں۔

    سری لنکن حکومت نے جانوروں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین فافذ کر رکھے ہیں، برا سلوک کرنے والے ملزم کو تین سال قید کی سزا تک ہو سکتی ہے اور ان سے ہاتھی چھین کر سرکاری تحویل میں لے لیا جاتا ہے کیونکہ سری لنکا کا امیر طبقہ اپنی دولت کی نمائش کے لیے ہاتھیوں کو پالتو جانوروں کے طور پررکھتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ برا برتاو کے بھی کئی واقعات رپورٹس ہو چکے ہیں۔

    علاوہ ازیں ہاتھیوں سمیت دیگر کچھ جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے پر موت کی سزا تک کے قوانین بھی نافذ ہیں مگر ایسے قوانین پر ناذ و شادر ہی عمل کیا جاتا ہے۔

    سرکاری ریکارڈز کے مطابق سری لنکا بھر میں 200 کے قریب ہاتھی گھروں میں موجود ہیں جبکہ ملک میں 75 ہزار سے زائد ہاتھی پائے جاتے ہیں۔

  • تنباکو سے تمباکو .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    تنباکو سے تمباکو .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    ”آگ بنا دھر راکھ تمباکو” کہاوت کا مطلب ہے کہ جیسے بغیر آگ دھرے تمباکو بے کار ہے ویسے ہی کام بغیر تدبیر بھی بے کار ہے۔ مذکورہ کہاوت میں لفظ تمباکو ہماری آج کی تحریر کا باعث ہے،اردو میں یہ لفظ سنسکرت سے آیا ہے۔ تمباکو ایک پودا ہے جس کے پتوں کو سکھا کر سگریٹ، بڑ ی یا حقے وغیرہ میں ڈال کر استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس سے ہلکا نشہ ہوتا ہے۔ اسی سے تمباکو نوشی نکلا اور پھر تمباکو پینے والے کو تمباکو نوش کہا جانے لگا۔فارسی میں تنباکو کہتے ہیں جو اردو میں بھی مستعمل رہا ہے، آدمی اور مشین نامی کتاب میں لکھا ہے کہ ”رہا ذائقے کا معاملہ تو ہم چائے قہوہ اور تنباکوکی اچھائی کا پتہ چلانے کے لیے۔۔۔۔ درجہ وار تقسیم کرسکتے ہیں“ اگر انگریزی کے لفظtobacco کی بات کروں تو اس کے متعلق مختلف آرا موجود ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لفظ ہسپانوی اور پرتگالی لفظ tabaco سے نکلا ہے اور ادھر بحیرہ کریبین کے جزائرمیں بولی جانے والی زبان سے آیا تھا۔ خیال ہے کہ تمباکو کے پتوں کو لپیٹنا مراد ہے یا پھر L شکل کا ایک پائپ ہے جو کہ تمباکو کے دھوئیں کو سونگھنے کے لیے مستعمل تھا۔پندرہویں صدی میں ہسپانوی، پرتگالی اور اطالوی لوگ ایک عربی لفظ کو استعمال کرتے تھے جوکہ طُبّاق تھا جسے جرمن عربی لغت نگار Hans Bodo Gerhardt Wehr نے tobacco سے جوڑا ہے، ویسے تو طباق سے مراد دھونی والا پودا ہے۔ذہن میں یہ بات بھی آرہی ہے کہ شاید tobacoکو ہی طباق نہ بنا لیا ہوکیوں کہ عرصہ درازتک یہ پودا بطوردرد کش دوائی استعمال میں رہا ہے۔ تمباکو کا اصل وطن وسطی وجنوبی امریکا ہے جہاں یہ قبل مسیح سے استعمال میں تھااسے امریکا سے باہر متعارف کروانے کا سہرا یورپی اقوام کے سر جاتا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ تمباکو پر تحقیق اور اس کے وسیع پیمانے پر صنعتی شکل اختیار کرجانے کی وجہ سے امریکا کی معیشت کو شروع میں بڑا سہارا ملا تھا۔ تمباکو سب سے زیادہ کیوبا، چین اور امریکا میں پیدا ہوتا ہے۔ براعظم امریکا میں ہی ایک ملک کا نام جمہوریہ ٹرینیڈاڈو ٹوبیگو ہے، ٹوبیگو ایک جزیرہ ہے اور اس نام کی وجہ تسمیہ موٹے سگار کی سی شکل ہے۔جزیرے کو یہ نام 1511ء میں ہسپانوی حکم نامے سے ملا تھا۔ تمباکو کی 70سے زائد اقسام ہیں اور اس کے خشک پتوں کو سگریٹ اور سگار میں جب کہ ہندو پاک میں حقے کی شکل میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کی اکثریت کہتی ہے کہ وہ اپنے غموں کو دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں جسے شاعر نے اس طرح سے بیان کیا ہے

    ؎کچھ دیر دھوئیں کی لہروں میں
    دنیا سے کنارہ کرتا ہوں
    اگر ہندوستانی حقے کی بات کی جاے تو یہ عربی کے لفظ حقق سے نکلا لگتا ہے جس کا مطلب ہوگا چلم اور کسی قدر پانی سے بھرا ہوا ظرف جس کے ذریعہ تمباکو پیتے ہیں۔ اسے ایران میں قلیان لکھتے ہیں جبکہ بولتے غلیان ہیں جیسا کہ آقا کو آغا بولتے ہیں۔ حقے کے لیے انگریزی زبان میں Hubble bubble کی اصطلاح مستعمل ہے جس کی وجہ گڑگڑ کی آواز ہے۔ ویسے تاریخ میں ایک شخصیت بھی گزری ہے جسے خواجہ حسن نظامی مرحوم نے شہید الحقہ کے نام سے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ اسی کتاب”تمباکو نامہ” مطبوعہ 1923ء میں حقہ بارے مزید لکھتے ہیں کہ” ہندوستانی حقہ تمام دنیا سے اعلا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہندوستانی حقہ تمام دنیا کے طریقہ جات تمباکو نوشی سے اعلا ہے۔ اور دنیا کی کوئی قوم اس معاملہ میں ہندوستانی عقل و دماغ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یورپ والے تو تمباکو کی اصلاح کرنا جانتے ہی نہیں، ان کے ہاں تو شروع سے سگریٹ سگار کا رواج ہے اور آج تک اس میں کسی قسم کی ترمیم نہیں ہوئی، حالاں کہ وہ ہر چیز میں روزانہ تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔ لباس ان کا بدل جاتا ہے، خیالات ان کے بدل جاتے ہیں، ایجادوں میں ان کے ہاں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، صرف تمباکو نوشی ایک ایسی بدقسمت چیز ہے جس کے طریقہ میں انھوں نے کوئی تغیر اور فرق پیدا نہیں کیا جس سے اس کے زہریلے مادہ میں کمی ہوجاتی ہے۔ ترک، مصری اور افغانی وغیرہ اقوام نے بے شک حقہ کو اختیار کیا یعنی وہ بھی حقہ کی صورت کی ایک چیز جس کو نرگیلہ کہتے ہیں استعمال کرتے ہیں، مگر کمی یہ ہے کہ ان کو تمباکو کی اصلاح کرنی نہیں آتی وہ سوکھا تمباکو ایک چھوٹی سی چلم پر رکھ دیتے ہیں، اس چلم میں گنجایش بہت کم ہوتی ہے اور اس کے آس پاس دیواریں بھی نہیں ہوتیں، تمباکو رکھنے کے بعد بمشکل ایک دو کوئلے دو انچ قطر کے تمباکو پر رکھ دیتے ہیں اور دو تین دم کھینچ کر تمباکو جلا دیتے ہیں۔ یہ ہندوستان کی سی لطافت و نفاست وہاں نہیں ہوتی کہ تمباکو بھی گڑ، گلاب اور دیگر ادویات سے درست کیا جاتا ہے اور ا س کے زہریلے اثرات کم کردئیے جاتے ہیں۔ اور چلم بھی اتنی بڑی ہوتی ہے کہ جس میں بہت سی آگ آسکے۔ اور آہستہ آہستہ پیتے ہیں تاکہ تمباکو کا زہر پانی میں جذب ہوتا چلا جاے۔ ” ادھر جو لفظ نرگیلہ بتایا گیا ہے وہ فارسی کے لفظ نرگیل سے ماخوذ ہے جس کے معنی ناریل کے ہیں جب کہ سنسکرت میں اس کو نرکیلا کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ شروع میں حقہ ناریل کے چھلکوں سے بنایا جاتا تھا۔ مصحفی غلام ہمدانی کہتے ہیں
    ؎جو دم حقے کا دوں بولے کہ ”میں حقا نہیں پیتا”
    بھروں جلدی سے گر سلفا، کہے ”سلفا نہیں پیتا”

    مندرجہ بالا اقتباس سے یہ مت سمجھیے گا کہ میں حقے کے حق میں ہوں بلکہ تمباکو کا کسی بھی طرح سے استعمال بیماریوں کو لانے کا سبب سمجھتا بھی ہوں اور اپنے آپ کو بچا کر بھی رکھتا ہوں خصوصاََ سگریٹ وغیرہ کے دھوئیں سے کہ لطف اندوز کوئی اور ہو رہا ہوتا ہے اور پھیپھڑے ہمارے بیماری کا گھر بن رہے ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو کا استعمال اموات کی بڑی وجہ بنتا جارہا ہے۔باغی ٹی وی کی انتظامیہ کا اقدام لائق تحسین ہے کہ انھوں نے تمباکو نوشی کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے۔ میڈیا کو اس حوالے سے کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ قوانین پر عمل پیرا ہونا۔

  • ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم  .تحریر:صائمہ رحمان

    ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم .تحریر:صائمہ رحمان

    ہماری قوم پاکستانی ایک مضبوط، بہادر مستحکم قوم تصور کی جاتی ہے یوں تو ہم بڑے جوش جذبے سے نعرے لگاتے ہیں قائداعظم محمد علی جناج زندہ باد کے نعرے لگاتے لیکن کیا ہم قائد کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل پیرا ہیں بھی یا نہیں ؟ اتحاد ، ایمان اورتنظیم
    اپریل 1948ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میرے نوجوان دوستو! آپ اپنی شخصیت کو محض سرکاری ملازم بننے کے خول میں محدود نہ کیجئے۔ اب نئے میدان، نئے راستے اور نئی منزلیں آپکی منتظر ہیں۔ سائنس، تجارت، بنک، بیمہ، صنعت و حرفت اور نئی تعلیم کے شعبے آپکی توجہ اور تجسس کے محتاج ہیں۔” آج بھی قائد اعظم کے بتائے اصول ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ قائد اعظم ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنا تمام تر وقت حصولِ علم کیلئے وقف کریں اور اپنے ملک کیلئے حقیقی معنوں میں اثاثہ بنیں اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنالیں۔ آج آدھی صدی گذار چکے ہیں جس ریاست کے قیام کے لئے انتھک جدوجہد قربانیاں دی گئی جس مقصد کے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا ہم اس مقصد سے بہت دور ہو چکے ہیں ہم صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہیں ملک کا نہیں سوچ رہء کیتنی مشکلات کے بعد ہم نے حاصل کیا گیا اور ہم اپنے پاکستانی قوم کی حثییت کیا ہم اہنا اپنے ملک کے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟

    ہم اس ملک کو تخلیق کرنے کے مقاصد ہی نہ پورے کر پا رہے دستور کی تدوین سے لیکر جمہوری اداروں کی تشکیل ہو یا ملکی استحکام سے لے کر داخلی و خارجی پالیسیوں کی ترتیب ہو، سب کچھ ادھورا چھوڑا ہوا ہے کوئی بھی اس ملک کا نہیں سوچ رہا قائداعظم کے فرمان سے ہم پاکستانی قوم بہت پیچھے رہے گئی ہے۔ بس حوسِ اقتدار کی خاطرحکمران قائد اعظم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے الجھ کر گروہوں میں بٹ چکے ہیں ۔ پاکستان کو ترقی دینے قائداعظم کی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے بجائے نسلی، لسانی، علاقائی اور صوبائی تعصبات کا شکار ہو چکے ہیں ملک میں اب صرف ۔ اقتصادی بحران، دہشت گردی، مہنگائی، کرپشن، اقرباء پروری اور قتل و غارت گری ہے اس سب کا ذمہ دار ہم سب پاکستانی ہیں
    یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کیا ہم وہ سنہری اصول جن کی بنیاد پر پاکستان کو حاصل کیا گیا کیا ہم ان اصولوں پر چل رہے ہیں یعنی محبت، یقین محکم، تحمل اور برداشت آج ہم نے خود ان اصولوں کا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ رہے ہیں کیا ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم وقت کی پابندی کرتے ہیں ؟ قانون پر چلتے ہیں؟

    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہم واقعی زندہ قوم ہیں ؟یا یہ ایک نغمہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
    علامہ اقبال نے کہا تھا؛ نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
    کہ صبح و شام بدلتی ہیں اُن کی تقدیریں۔۔۔
    ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہم نے پاکستان کی ترقی کے لئے کیا کیا ہے یہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ کیا بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم نے کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ سرانجام دیا ہے جو زندہ قوموں کا شیوہ ہوتا ہے ؟
    شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس پاکستانی قوم کو اٹھانے کے لئے کے لئے اپنی ساری زندگی صرف کر دی۔ بڑی مشکل سے یہ قوم جاگی اور بالآخر پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیربنایالیکن بد قسمتی دیکھئے کہ یہ قوم بلا آخرپھر سو چکی ہےنہ انہیں اپنی خبر ہے اور نہ کسی اور کی خبر ۔
    اگر ہم بحیثیتِ پاکستانی قوم ہم سچے دل سے صرف پاکستان کا سوچئے تو یہ ملک بہت ترقی کرسکتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں ایسی کوئی کمی نہیں بس اس ملک سے سچی محبت کرنے والے لوگ چاہیے جو اس ملک کو ترقی کی طرف لے جائے اور ہم پر فرض ہے ہم اس کو سنھبانے اور اس لو ٹنے کے بجائے اس کی حفاظت کرے کیوں کہ یہ ملک ہیں تو ہم ہیں۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • پبلسٹی کا جنون  تحریر حنا

    پبلسٹی کا جنون تحریر حنا

    بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی بات کی جاے ۔تو کئی سال قبل کی بات ہے کہ پہلے گھروں کا ماحول کم تعلیم یافتہ رہ کر بھی کیا خوب تھا.جب بچے جوتے پہن کر پاؤں کو گھسیٹ کر چلتے دکھائی دیتے تو ماں اُسے اِس حرکت پر سرزنش کرتی اور کہتی کہ اچھے بچے اس طرح نہیں چلا کرتے،اسی طرح زور زور سے ہنسنے،چیخنے چلانے سے منع کرتی،آہستہ بولنے کی ترغیب دیتی.اور دیگر آداب گھروں میں بچوں اور بچیوں کی تربیت کے لیے مائیں سکھاتی ہوئی نظر آتی تھیں،وہ اس مقولے پر عمل کرتی تھیں کہ کھلاو سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی نگاہ سے ، یہی وجہ ہے کہ ان کی تربیت میں پروان چڑھنے والی اولاد اپنی اسی بہترین تربیت کی وجہ سے مثالی اولاد قرار پاتی تھی،ماں سے اولاد قرآن سیکھنے.دعائیں یاد کرنے.قصے کہانیاں وغیرہ سننے کی عادی تھی.اس طرح بچے طفلی مکتب کے زمانے سے ہی بچوں کے عالم شمار ہوتے.یومیہ تلاوتِ قرآن کا ماحول پابندی سے ہوتا.ان میں پھر دادا دادی اگر تلاوت کر رہے ہوتے تو بچے ان کی گود میں جا کر بیٹھتے اور قرآن سنتے.اِسی حسن تربیت اور ماحول سے بچے تربیت یافتہ ہو کر نکھرتے تھے.اسی طرح بچوں کے کھیل بھی نرالے ہوتے تھے۔اور اس کے برعکس آج دیکھا جاے تو آج کل
    پبلسٹی ۔مشہوری ہمارے معاشرے کا بڑھتا ہوا ناسور ہے ۔۔بچے سے لیکر بزرگ تک جس کے پاس ٹچ موبائل ہے ہر کسی کی یہ کوشش ہے کہ راتوں رات انٹرنیٹ کی دنیا میں مشہور ہوا جاے ۔اس مشہوری کے چکر میں اکثریت والدین اپنے کم عمر بچوں کا استعمال بھی کررہے ہیں ۔اگر ان کو کہا جاے کہ خدا کا واسطہ یار بچوں کے ننھے دماغوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرو ۔تو ان کے چمچے کہیں گے ۔۔کہ جناب یہ تو جلتا ہے بچے سے جلتے ہے ۔مطلب کہ آئنہ نہیں دیکھنا ۔الٹا طنزیہ کلام شروع ۔۔بچوں کے کچے ذہنوں کو استعمال کرنے والے جانتے نہیں کہ کل یہی بچے ان کے سامنے صرف تقاریر لمبے بھاشن ہی جھاڑیں گے ۔۔اخلاق خدمت کی ہرگز توقع نہ رکھیے گا ۔کیونکہ آپ نے بچوں کو صرف سکرین کے آگے بول کر لوگوں کو متاثر کرنا سکھایا ۔آپ نے ہجوم میں بچےکو سلام کرنا تو سکھایا لیکن گھر بزرگ نانا نانی دادا دادی سے ملنے کی بھی پابندی لگا دی ۔کہ نہیں وقت نہیں ہے ۔۔بہت مصروفیات ہے وڈیو بنانے میں ۔۔ہمارے ہاں بچوں کو فون لیپ ٹاپ آئ پیڈ دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم بہت ماڈرن ہے ۔۔ہمارے بچے بہت ماڈرن ہے ۔مطلب اپنی طرف سے یورپی گوروں کے بچوں کی نقل ۔لیکن آپ جانتے ہیں یورپی ملکوں میں بچوں کو فون نہیں دیتے ۔اگر دیتے ہیں تو والدین پر زمہ داری ہے کہ بچے پہ پوری نگرانی کی جاے ۔بچہ فون میں کچھ غلط تو نہیں سیکھ رہا ۔بچے کی ہر ایکٹویٹی پر نظر رکھنا والدین کی زمہ داری میں ہوتا ہے اور یہ زمہ داری حکومت یا بچے کے سکول کی طرف سے بھی ہوتی ہے ۔۔لیکن ہم تو بچوں کو فون دے کر بچوں کی تربیت کرنا ہی بھول گے ۔ہمیں نہیں پتہ بچے فون میں کیا دیکھ رہے ۔کیا سیکھ رہے ہیں ۔یا پھر کم عمر بچے کسی غلط ایکٹویٹی کا حصہ تو نہیں بن گے ۔۔ہم خوش ہوتے ہیں بس اس بات پر دیکھو بچہ گیم کھیل کھیل کر انگریزی سیکھ گیا ۔دیکھ میرا بچہ کتنا لائق ہے مشکل سے مشکل اون لائن گیم کھیل لیتا ہے جیتتا بھی ہے لیکن کبھی غور کیا ۔وہی بچہ نماز پڑھتا ہے۔کیا اس بچے کو نماز پڑھنا آتی ہے ۔کیا اس بچے کو چھ کلمہ آتے ہیں ۔کیا اس بچے کے بولنے کے انداز میں بدتمیزی تو نہیں جھلک رہی ۔۔۔کیا بچہ چوبیس گھنٹے موبائل فون استعمال کر کر کہ نفسیاتی اور چڑا چڑا تو نہیں ہورہا ۔کیا بچہ اپنے فون کے بنا دو گھنٹے بھی رہ سکتا ہے ۔۔یہ تو ہم بھول ہی گے ۔۔ہم نے بچوں کو سکھایا کیا ۔صرف مشہور ہونا ۔۔کہ جتنا بولو گے اتنے لائک اتنا زیادہ پیسہ اتنا زیادہ تالی مارنے والا ہجوم ۔بچوں کی اچھی تربیت صرف والدین کے لیے اہم نہیں ۔بلکہ معاشرے کا ایک بہترین انسان بننانے کے لیے بھی اہم ہے ۔ایسا انسان جس پر ہر کوی ناز کرے ۔۔جو سڑک میں گرا پتھر ثابت نہ ہو بلکہ تپتے صحرا میں وہ دھوپ کی مانند درخت ہو جو اپنے اخلاق سے دوسروں کو چھاوں دے سکیں ۔حضور اکرم صلى الله عليه وسلم حضرت عبداللہ ابن عباس رضى الله تعالى عنه کو بچپن میں تعلیم فرماتے ہیں ”اے بچے! خدا کو یاد رکھ تو اس کو اپنے سامنے پائے گا، اور جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر اور جب تو مدد چاہے تو اللہ ہی سے مدد مانگ اور جان لے اس بات کو کہ اگر تمام لوگ اس بات پر اتفاق کرلیں کہ تجھ کو کچھ نفع پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کچھ نفع نہیں پہنچاسکتے جو کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے اور اگر سب لوگ اس پر متفق ہوجائیں کہ تجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے جو اللہ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے۔(مشکوٰة شریف،ص:۴۵۳)
    پبلسٹی مشہوری کی بجاے بچپن سے ہی توحید کی بنیاد پر بچہ کی ذہن سازی کی جائے اور اس کا یقین اللہ کی ذات پر پختہ کرادیا جائے تو اس کے اثرات نمایاں محسوس ہوتے ہیں، توہمات سے اس کا دل ودماغ پاک رہتا ہے اس کے اندر غیرت اور خودداری آجاتی ہے اور بچپن میں بناہوا یقین دل میں پختگی کے ساتھ جم جاتا ہے۔
    ۔

  • بھارت پاکستان سے ایک بار پھر ہار گیا !!!.تحریر: نوید شیخ

    بھارت پاکستان سے ایک بار پھر ہار گیا !!!.تحریر: نوید شیخ

    افغانستان کے بارے عموما لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہاں پر امریکی ، اسکے اتحادیوں اور طالبان کے مابین ایک جنگ وجدل جاری تھی ۔ یعنی صرف دو حریف تھے ۔

    ۔ پر رکیں ۔ کہانی میں زرا twist ہے ۔ افغان سرزمین پر دو ممالک اور بھی تھے جو ایک دوسرے سے نبر آزما تھے ۔ ایک بھارت اور پاکستان ۔۔۔ ۔ سب سے پہلے اگر کسی دل میں یہ خیال ہے کہ بھارت افغانستان میں ڈولیپمنٹ کرنے کے لیے بیٹھا ہوا تھا ۔ وہاں ڈیم بننا اور انکی پارلیمنٹ کی بلڈنگ بننا، سڑکیں بننا ہی اسکا کام تھا ۔ تو میں اسکی سادگی پر ہنس ہی سکتا ہوں ۔

    ۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ اتنے شاید بھارتی افغانستان میں نہیں تھے ۔ مگر انکے کونسل خانے افغانستان کے ہر شہر میں تھے ۔ پھرشہر بھی وہ جو پاکستانی سرحد کے قریب ہوں ۔ بھارت کی چالوں بارے تو پاکستان کو پہلے ہی پتہ تھا ۔ اور ہمارا دفتر خارجہ اس بارے بھارت کو دنیا میں ایکسپوز بھی کرتا رہا ہے ۔ ٹی ٹی پی سے لے کر بی ایل اے اور اس جیسی دیگر تنظیموں ۔۔۔ ان کا سب کا ماسٹر مائنڈ بھارت تھا ۔ ۔ اب یہ جو آہ وبکا بھارت میں جاری ہے اسکی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ حقیقت میں پاکستان نے بھارت کو افغانستان میں چت کر دیا ہے ۔ ۔ اس وقت سہیل شاہین ہوں ، ذبیح اللہ مجاہد ہوں ، یا شہباب الدین دلاور سب بھارت کو باری باری اسکی افغانستان میں اوقات اس لیے دیکھا رہے ہیں ۔ کہ بھارت اب نئی گیم کھیلانا شروع ہوگیا ہے ۔

    ۔ بھارت اب دنیا کو یہ باور کروانے کے چکروں میں ہے کہ پاکستان اورافغان طالبان مل کر بھارت پر حملہ آور ہوں گے ۔ کبھی یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ مسعود اظہر طالبان سے ملے ہیں تو کبھی ان کو امر اللہ صلاح انقلابی لیڈر دیکھائی دینا شروع ہوجاتا ہے ۔ وجہ صرف ایک ہے ۔ جو طالبان نے کلیئر کر دی ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونا دیں گے ۔ اس کا دکھ سب سے زیادہ بھارت کو ہے ۔ ۔ یہ تین بلین ڈالرز کا اس کو اتنا دکھ نہیں ہے ۔ اصل سرمایہ کاری اس کی ٹی ٹی پی اور بی ایل اے والی ڈوبی ہے ۔ ۔ اب یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دراصل بھارت افغان فورسز کو ٹریننگ دیتا ہی نہیں تھا ۔ یہ کرتے کچھ یوں تھے ۔ ان افغانوں کو electکرتے تھے جن کا تعلق پاکستان اور افغانستان دونوں سے ہوتا ۔ پھر انکو بھارت لے جا کر ۔ ان کو پاکستان کے خلاف کاروائیاں کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ۔ ذہن سازی کی جاتی ۔ اور جب کوئی ایسا مشن ہوتا تو ان کو افغانستان بھیج دیا جاتا ۔ اور یہ وہاں سے پاکستان پہنچ کر اپنا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچاتے ۔ اس میں امراللہ صالح نے بھارت کا پورا پورا ساتھ دیا ۔ کیونکہ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا ۔ یوں بھارتی ۔۔۔ را۔۔۔ اور این ڈی ایس کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کا مغربی بارڈر بھی destablizeکرنے میں لگی ہوئی تھی ۔ پر اب اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان اس امتحان میں بھی سرخرو ہوچکا ہے ۔ اس طرح ایک اور محاذ پر پاکستان نے بھارت کو شکست فاش دے دی ہے ۔

    ۔ یہ فتح بھی ان گمنام جوانوں اور سپاہیوں کے نام ہے جن کو کوئی نہیں جانتا ۔ کیونکہ یہ جنگ ٹینکوں اور طیاروں اتار کر نہیں لڑی گئی ۔ پس پردہ رہ کر کام کرنے والوں نے جیتی ہے ۔ یہ کام انٹیلی جنس ایجنسیز اور سفارت کاروں نے کیا ہے۔ ۔ اسی لیے کابل میں سابقہ ہندوستانی سفیر گوتم نے طالبان کے قبضے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ افغان چہرے کے ساتھ پاکستان کی پیش قدمی ہے۔۔ اب دنیا بھی اس بات کو مان رہی ہے کہ پاکستان کو اس جنگ میں فتح ملی ہے اور انڈیا افغانستان میں بیس سال لگا کر بہت لوگوں کی ذہن سازی کرکے 14 قونصل خانے کھول کر، ہزاروں افغان طالب علموں کو وظیفے دے کر اور سب سے زیادہ یہ کہ تین ارب ڈالر خرچ کرکے بھی ہار گیا ہے اور اب اس کی حکومت جو ایک سکتے کی کیفیت میں ہے۔ آئندہ کے لیے وہ راستے ڈھونڈ رہی ہے۔ ۔ پر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ ابھی مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی ہے ۔ اس وقت بھارت ان کوششوں میں ہے کہ کسی طرح ان ٹی ٹی پی والوں کو طالبان سے منحرف کرکے داعش کی چھتر چھایا میں لیا جائے ۔ اور پھر وہاں سے نئی گیم کا آغازکروایا جائے ۔

    ۔ جہاں طالبان اپنے آپ کو ایک سخت گیر ملیشیا سے زیادہ سیاسی قوت بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ اب انکے خلاف افغانستان کے اندر سے ہی نئی سازش رچی جارہی ہے ۔ جس میں
    ISIS-Kکو ایک ایسی طاقت بنانے کی کوشش جاری ہے ۔ جس میں TTP سمیت تمام طالبان مخالف طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا ۔ اگر یہ ہوجاتا ہے تو یہ خطے میں ایک اور نئے گھناونے کھیل کا آغاز ہے۔۔ حالانکہ دیکھا جائے تو افغانستان میں جنگ تو ختم ہوچکی ہے ۔ امن آچکا ہے ۔ اب یہ نئے سرے سے پھر سے جنگ کی شروعات کرنے کی کوشش کی جاری ہے ۔ ۔ جوبائیڈن بھی دنیا کو بتا رہا ہے کہ بہت زیادہ یہ اسلامک اسٹیٹ والے افغانستان میں آگئے ہیں۔ یہ اور حملے بھی کریں گے ۔ اس لیے ہم ڈرون حملے جاری رکھیں گے ۔ ۔ اب رک جائیں سوال یہ ہے کہ داعش یا اسلامک اسٹیٹ کو افغانستان میں چلا کون رہا ہے ۔ تو 8 اکتوبر 2020 کو فارن پالیسی میگزین نے لکھا تھا کہ انڈینز اور سینٹرل ایشیائی لوگ اسلامک اسٹیٹ کا نیا چہرہ ہیں۔۔ یہ لکھتا ہے کہ شام میں جاری عالمی جہادی تحریک میں بھی ہندوستانی اور وسطی ایشیائی لوگوں کا ایک اہم رول تھا۔۔ اقوام متحدہ کی جون کی رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا سے پہلے کچھ مہینوں میں آٹھ سے دس ہزار جہادی جنگجو وسط ایشیائی ریاستوں سے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں سے کچھ طالبان اور زیادہ تر اسلامی ریاست خراساں میں شامل ہوئے۔

    ۔ اب یاد کریں وہ اسٹوری جس میں بھارتی بینک دہشتگردی کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث نکلے تھے۔ پھر اجیت ڈول کے بیانات کو ملا لیں تو ساری کہانی آپکو خود سمجھ آجائے گی ۔ ۔ نئی گریٹ گیم شروع ہو چکی ہے ۔ یہ BRI اور greater euroasia partnership vs B3W بھی ہے ۔ اور روس چین ایران پاکستان بمقابلہ امریکہ نیٹو اور بھارت بھی ہے۔ ۔ دیکھا جائے تو اگر طالبان دیگر دہشت گرد گروہوں کو عالمی دہشت گردی سے نہیں روک پائے تو پھر عالمی طاقتیں وہی کریں گی جو داعش کے خلاف انہوں نے عراق اور شام میں 2014ء میں کیا۔ بوٹ زمین پہ رکھے جائیں نہ جائیں لیکن ہوائوں سے گولہ باری جاری رہ سکتی ہے۔

    ۔ اس لیے طالبان اور اُن کی تاریخ ساز فتح پھر واضح طور پر حملہ آور کا ہدف معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے کہ جب وہ فتح کے ثمر سمیٹ اور سنبھال رہے ہیں اور حکومت سازی کی شکل میں اپنی بےمثال عسکری، سیاسی اور سفارتی کامیابیوں کے بعد پُرامن اور مستحکم افغانستان کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔

    ۔ دشمن کا ارادہ مکمل بےنقاب ہے کہ انہیں یہ نہ کرنے دیا جائے اور پھر سے جنگ و جدل میں اُلجھا دیا جائے ۔ ۔ باوجود اس کے کہ وہ عام معافی کا اعلان کر چکے اور ان کی تبدیلی بھی واضح ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پُرامن افغانستان کے دشمن کی یہ آخری کوشش کتنی کامیاب ہوتی ہے؟ ۔ خدشات و خطرات تو بہت ہیں، کابل ایئرپورٹ حملوں کے بعد پورے افغانستان ہی نہیں خطے کے ممالک میں بھی تشویش کا درجہ پھر بہت بلند ہو گیا ہے۔۔ اس وقت ہم پاکستانیوں کو دعا کے ساتھ اپنی کوشش تو کرنی ہی ہے کہ بے پناہ مشتعل یا انتہائی مایوس ہو کر امریکی انتظامیہ، نیٹو اور خود طالبان کوئی غلط فیصلہ نہ کرلیں۔ ۔ اس حوالے سے پاکستان کے فیصلہ ساز ناصرف یہ کہ اپنی انفرادی صلاحیتوں کو مکمل بروئے کار لائیں بلکہ دوستوں کے اشتراک سے ’’پُرامن و مستحکم افغانستان‘‘ کے لئے سفارتی کوشش اور باہمی مذاکرات کو کامیاب کروایا جائے ۔ کوئی راہ نکالی جائے۔ بلیم گیم اور مہلک شک و شبہ سے بچا جائے۔۔ اِس مرتبہ پاکستان اپنی مرضی سے یہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ یاد رکھیں اسلام آباد پر کوئی کچھ مسلط نہیں کر سکتا بلکہ بڑے بڑے کرداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پاکستان سے تعاون لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔

    ۔ سانحہ کابل ایئر پورٹ کے حوالے سے امریکہ نے ہنگامی اور تشویشناک صورت حال میں پاکستان سے تعاون کی جو درخواست کی اور پاکستان نے اسے فوری تسلیم کرکے جو ہنگامی انتظامات کئے ہیں وہ دونوں ملکوں میں افغان مسئلے کی پیچیدگیوں کو طوالت سے پیدا ہونے والے باہمی اعتماد میں ہوئی کمی اور شک و شبہات کو دور کرنے میں معاون ہوں گے لیکن پاکستان کے شہروں کراچی، اسلام آباد، ملتان اور فیصل آباد میں امریکی فوجیوں یا شہریوں اور دوسرے غیر ملکیوں کی آمد اور ہوٹلز میں قیام کو محفوظ بنانا پاکستان کے لئے بڑا انتظامی چیلنج ہے۔

    ۔ خصوصاً داسو کے چینی انجینئروں پر ہلاکت خیز خود کش حملے، جوہر ٹائون کے بم دھماکے اور گوادر میں چینی ماہرین پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یہ سہولت اور مہمان نوازی ریاستِ پاکستان کے لئے چیلنج ہی نہیں ایک بڑا انتباہ بھی ہے۔ ۔ اس حوالے سے سارا انحصار صوبائی حکومتوں کے سیکورٹی انتظامات پر ہی نہیں خود وفاقی حکومت اور ہمارے سیکورٹی اداروں کو مکمل الرٹ رہنا ہوگا۔ ۔ فی الحال میرے خیال میں خطے کے تمام ممالک اگر مل کر رہے تو یہ داعشی دہشتگردی صرف وقتی چیلنج ہے اور انشاء اللہ اس پر جلد قابو پالیا جائے گا۔

  • بیوی کے جھگڑے سے بچنے کیلئے شوہر نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی

    بیوی کے جھگڑے سے بچنے کیلئے شوہر نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی

    نئی دہلی: بیوی کے جھگڑے سے خود کو بچانے کیلئے شوہر نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست گجرات میں بیوی کے غصے سے بچنے کے لیے شوہر نے گھر کے قریب پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی اور پھر پولیس کے سامنے گرفتاری بھی پیش کر دی۔

    کوئٹہ: دہشت گردوں کے خلاف آٔپریشن : 11 دہشت گرد ہلاک

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزم ڈیوچھاڈا سے جب واقعے کی تفصیلات جانیں تو ملزم کا کہنا تھا کہ وہ پولیس اسٹیشن کے عقبی علاقے میں رہائش پذیر ہے اس نے ایسا اپنے بیوی کے غصے سے بچنے کے لیے کیا اس کا اپنی بیوی سے پیسوں اور اخراجات کے معاملے پر اکثر جھگڑا رہتا تھا اور وہ ان روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ چکا تھا جن سے جان چھڑانے کے لیے اس نے یہ انوکھا اقدام اٹھایا-

    پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں دفعہ 436 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

  • دبئی: گاڑی کی نمبر پلیٹ 16 کروڑ میں نیلام

    دبئی: گاڑی کی نمبر پلیٹ 16 کروڑ میں نیلام

    دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے گزشتہ روز کاروں کی خصوصی نمبر پلیٹس کی نیلامی کی گئی-

    باغی ٹی وی :دبئی میں کاروں کی خصوصی نمبر پلیٹس کیلئے 36 ملین درہم سے زائد کی بولیاں لگائی گئیں، نیلامی میں دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی(آر ٹی اے) نے سو قسم کی ڈبل، ٹرپل، چار گنا اور پانچ اعداد والے نمبروں کی بولیاں لگوائیں۔

    جس میں خصوصی نمبر پلیٹس کی نیلامی میں ای ففٹی فائیو نمبر کی پلیٹ 16 کروڑ میں فروخت ہو گئی ہے ڈبلیو 29 کی دو اعشاریہ پانچ ملین درہم جبکہ ایکس 35 کی بولی دو اعشاریہ چار ملین درہم کی رہی۔

    لاہور: بلیاں پالنے پر نوجوان خاتون پر اپنے ہی گھر والوں نے تیزاب پھینک دیا

    عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ، آر ٹی اے نے ہوٹل مینجمنٹ کے تعاون سے نیلامی کے مقام پر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی تھیں۔ نیلامی میں محدود نشستیں لگائی گئی تھیں اور بولی کی جسٹریشن بھی ہال ہی میں کی جا رہی تھی۔

    اس سے قبل 2019 میں شارجہ میں نمبر پلیٹ 36 لاکھ 10ہزار درہم میں فروخت ہوئی کاروں کی منفرد نمبر پلیٹس مجموعی طور پر ایک کروڑ 34 لاکھ 95 ہزار درہم میں نیلام ہوئیں تھیں-

  • تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد  تحریر ، راحیلہ عقیل

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد تحریر ، راحیلہ عقیل

    سگریٹ کے ڈبے پر بھیانک تصویر گلا سڑا منہ اور ساتھ لکھی ہدایات کے باوجود تمباکو نوشی کرنے والوں میں کوئی ڈر خوف نظر نہیں آتا وہ جانتے بوجھتے اپنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ سگریٹ کے دھوئیں سے آس پاس موجود افراد بھی اسکا شکار ہوتے ہیں چھوٹے بچوں کے سامنے تمباکو نوشی کرنا نا کے صرف بچوں کو نقصان پہنچایا جارہا بلکہ بچوں کو انجانے میں نشے کی ترغیب بھی دی جارہی، بہت سے گھروں میں اگر ایک والد تمباکو نوشی کرتا ہے تو لازمی سی بات ہے اسکے بچے بھی یہی چیز سیکھیں گے” کہ ایسا کیا مزہ ہے اس میں بچے گھروں سے باہر جاکر دوستوں میں تمباکو نوشی کرتے پھر دھیرے دھیرے یہ عادی ہوجاتے جب تک گھروالوں کو خبر ہوتی بچہ اس نشے کا عادی ہوجاتا آپ بچے کو ڈانٹیں ماریں اس پر دباو ڈالیں گے تو مزید بچہ بگڑے گا وہ چڑچڑا ہوگا اسکو سکون ملے گا صرف تمباکو نوشی میں، والدین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کے ہمارے بچے کن دوستوں میں اٹھ بیٹھ رہے کہیں انکا کوئی دوست ساتھی انکو تمباکو نوشی پر تو نہیں لگا رہا

    تمباکو نوشی انسانی معاشرے کی ایک بہت بڑی کمزوری ہے اس کے کئی جسمانی وذہنی نقصانات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک بڑے طبقے میں اس کا استعمال مدتوں سے دیکھا جارہا ہے تمباکو نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، ہر سال ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد تمباکونوشی سےمتعلق بیماریوں کےباعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔یعنی یہ زہر روزانہ سیکڑوں افراد کو لقمہ اجل بناتاہے، تمباکو ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے ۔اس کے پتے pestisides ہیں اس میں پندرہ اقسام کےسرطان مخفی بتائے جاتے ہیں جن کی براہ راست وجہ تمباکو ہے۔دنیا میں جو دس بڑی بیماریاں جن میں چھ کی وجہ تمباکو نوشی بتائی جاتی ہے۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی کےانسداداور نان اسموکرز کے تحفظ کا قانون مجریہ2002سے رائج ہے ۔جس کے تحت عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کرنا قانون جرم ہے جس کی سزاقید کےساتھ جرمانہ بھی ہے، اسکے باوجود ہمیں سڑکوں پر دفاتر میں کھلے عام یہ نشہ کرتے لوگ نظر ہیں جن میں کوئی ڈر خوف نہیں نا ہی قانون کی سختی نظر آتی ہے،

    اکثر طلباء پرھائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں، بکثرت سگریٹ نوشی سے سیل یعنی تپ محرقہ (ٹی بی) کی بیماری ہونے لگتی ہے۔والدین، استادوں اور سماج کے معزز لوگوں کو مل کر حقہ نوشی اور سگریٹ نوشی کے خلاف موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اکثر ہونہار اور اچھے لڑکے سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکو نوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے، تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔یعنی تمباکو نوشی کی جانب بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سے بارہ سال ہے۔تمباکو نوشی میں مبتلا افرادکے لیے عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اوراٹھارہ سال سے کم عمر کےافرادکو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے،لیکن اسکے باوجود آپ کو ہر دوسرا بچہ سگریٹ لیتا نظر آئے گا چائیے پھر وہ خود چھپ کر تمباکو نوشی کرے یا کسی کے لیے خرید رہا ہو دکاندار کو اس سے کوئی سرکار نہیں

    حکومت پاکستان کو تمباکو نوشی پر ہر سال ٹیکس لازمی لگانا چاہیے اس سلسلے میں کچھ اقدامات کیے جارہے ہیں جن پر عمل ہونے سے کافی حد تک پاکستان میں تمباکو نوشی پر قابو پالیا جائے گا، ہمیں چائیے زمہ دار ہوجاہیں ایسے اچھے اقدامات میں حکومت کو سپورٹ کریں تاکہ ہماری نسلیں اس زہر سے بچ سکیں

    *تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد*
    شائد آپ خود آپ کو زیادہ صحتمند اور تازہ دم محسوس کریں، آپ کی روزمرہ کی ادویات میں کمی ھونے کے زیادہ امکانات ہیں، درازی عمر اور اچھی صحت کا واحد راستہ،
    اپنے پیاروں کو بچوں کو اس نشے سے بچائیں کیونکہ آپکی جان قیمتی ہے کوشش کریں جلد ازجلد اس لت سے آزادی ملے،