Baaghi TV

Category: متفرق

  • دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد آپ کے مسوڑھے میں پھنسے ہوئے پاپ کارن سے لیکر ٹوٹے ہوئے دانت یا بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ تک کسی بھی وجہ سے ہوسکتا ہے۔کچھ دانتوں میں درد عارضی طور پر ھوتا مگر دانتوں کے شدید درد کو دانتوں کے پیشہ ور ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ درد کی جو بھی وجہ ہو اس کو حل کیا جائے۔آج کے کالم میں بتانے کی کوشش کرونگا کے دانتوں کے درد کی وجہ یہ ھوتا کیسے اور اس مناسبت سے اسکا حل و علاج کیا ھونا چاھیئے۔
    دانت کے درد کی ساری وجوہات میں سے چند درج ذیل ھیں
    1۔دانتوں میں کیڑا لگنا
    2۔دانت کا فریکچر ھونا
    3۔ٹوٹی یا خراب فلنگ یعنی بھرائی کا ھونا
    4۔مسوڑوں کا انفیکشن ھونا
    5۔نئے دانت کا بالخصوص عقل داڑھ کا نکلنا
    6۔دانتوں کو رگڑنا گرائنڈ کرنا
    7۔کوی بھی ایسی بیماری یا وجہ جس سے دانت کا کمزور پڑ جانا
    اب آتے ھیں دانت کا درد ھوتا کیسے ھے یہ بات تو صاف ھے کے دانت بذات خود ایک بے جان ھڈی ھے جسکو ٹھنڈا گرم لگنا یا درد کا ھونا ناقابل فہم ھے تو پھر دانت میں کوئی مسئلہ ھو تو درد کیوں ھوتا ھے؟ سنسیٹویٹی کیوں محسوس ھوتی ھے؟اسکی وجہ ھے دانتوں میں موجود Pulp یعنی پلپ یہاں موجود ھوتی تمام innervation عام لفظوں میں ناڑ یعنی nerve supply پس یہی وہ چیز ھے جسکو جب کوی چھیڑخانی ھو تو سردی بھی لگے گی اور گرمی بھی کسی قسم کی انجری ھوی تو درد بھی ھوگا اسکو سمجھنے لئے بتاتا ھوں ایک مریض شدید دانت درد میں آیا اسکا علاج کرنے لئے ٹیکا لگایا جگہ سن ھوگئی دانت کا درد وقتی طور پر غائب ھوگیا یہ درد کیوں غائب ھوا؟ دانت وھی انفیکشن وھی پر تو درد کیسے غائب وہ اسلئے کہ جو ناڑ درد کی زد میں تھی وہ دانت کے اندر pulp میں موجود تھی اور جب وہ سن ھوئی تو درد وقتی غائب ھوگیا یہ pulp دانت کا ڈیفنس سسٹم ھے درد کی شدت جہاں مریض کو سکون سے بیٹھنے نھیں دیتی وھی وہ مریض لئے باعث نعمت بھی ھے کہ اگر یہ محسوس نا ھو اور انفیکشن بڑھتا جائے تو نا صرف دانت بلکہ کئ کیسز میں جبڑا تک لپیٹ میں آجاتا ھے۔

    دانت کے درد کی شدت ایک معمولی سنسناہٹ سے لیکر دل کی تکلیف سے زیادہ تک ھوتی ھے اس شدت کا تعلق بھی اسکی وجوہات میں پوشیدہ ھے دانتوں کے درد دو طرح کے ھوتے ایک درد کو ھم Acute Pain کہتے یہ اچانک ھوتا شدید ترین ھوتا اور فوری علاج بھی مکمل غائب بھی ھوجاتا دوسرا chronic pain کہلاتا یہ پرانا انفیکشن پرانا درد کہلاتا یہ شدت میں کم کسی خاص وقت زیادہ اور کبھی کبھی ھوتا یہ دیر سے ختم ھوتا اکثر دانت کے نکلوانے کیبعد ھی جاکر اس درد کا خاتمہ ھوتا یہ وہ کیسز ھوتے جن کا بگاڑ شوکت خانم ھسپتال جیسے اداروں طرف رخ کرواتے اسکے علاوہ ایک درد جسکو Referred Pain کہتے یعنی ھو کسی اور دانت میں رھا مگر محسوس کسی اور جگہ ھورا ھوتا کہلاتا دانتوں کے درد کا کوی خاص وقت نھیں ھوتا اکثر لوگ جو دانتوں کے مسائل میں گرے ھوتے وہ مجھ سے جب شکایت کرتے انکو رات کے وقت شدید درد ھوتا تو میں انکو سمجھانے لئے بتاتا وہ اسلئے کہ رات کو منہ زیادہ خشک ھوتا تو ایسے میں بیکٹریا کو اپنا پراجیکٹ باآسانی کرنے کو ریلاکس ماحول مل جاتا اسلئے رات سونے سے پہلے نیم گرم پانی نمک ڈال کلی لازمی کریں بہرحال وجوہات کئ تو علاج بھی کئ موجود ھیں انفیکشن ھے کیڑا لگ گیا ھے آدھا ٹوٹ گیا فریکچف ھوگیا تو دانت کا روٹ کینال کرائیں زیادہ خراب ھونے کی صورت نکلوا دیں مسوڑوں کا انفیکشن ھے تو دانت صاف کرائیں ماؤتھ واش توتھ پیسٹ استعمال کریں دانت گرائنڈ کرتے تو اسکے پیچھے جو وجوہات ھیں انکو دور کریں Bells Palsy یا Trigeminal Nuralgia مخصوص nerves کی بیماری ھوتی اسکی وجہ سے منہ میں دانتوں میں شدت کا درد ھوتا یہ باقی دانتوں کے درد سے مختلف اس طرح ھوتا کہ یہ کسی خاص عمل سے ایک دم شروع ھوتا انتہائ شدید ھوتا مگر جلد ختم ھوجاتا جبکہ دانت کا اپنا درد جب ھوا دیر تک رھتا ساتھ کئ کیسزز میں ٹھنڈا گرم بھی ساتھ لگ رھا ھوتا کوی نا کوی دانت کیڑا لگا ھوا ضرور ھوتا اسکا علاج دوائیوں سے لیکر جو ناڑھ زد میں آئی اسکی سرجری تک ھوتا ھے دانتوں کے درد میں وقتی طور انفیکشن کنٹرول لئے دوائیاں دی جاتی اکثر کیسز میں میٹرونیڈازول المعروف flagyl دی جاتی تو مریض کہتا کہ یہ دو معدے لئے ھے تو انکو بتانے لئے کہ کہ antibiotic کوی بھی ھو وہ کسی جسم کے حصے لئے نھیں وہ ھمیشہ مخصوص بیکٹریا لئے ھوتی اب وہ بیکٹیریا اگر منہ میں ھوں یا معدے میں اگر وہ ایک خاص قسم کے ھیں تو دوائ بھی وھی ھوگی درد انفیکشنز کی دوائیاں بھی مختلف ھوتی اس سے اکثر مریض معدے میں جلن اور درد کی شکایت کرتے اسکے لئے معدے کے لئے بھی Antacid ساتھ دیا کرتے گھریلو ٹوٹکوں کے طور پر اکثر لوگ لونگ کا تیل cotton پر لگا کر دانت کے اندر رکھتے نیم گرم پانی میں نمک ڈالکر کلی کرتے اور اسی طرح لہسن کو پیس کر پانی نکال کر cotton ساتھ لگا کر دانت میں رکھ لیتے اس سے وقتی آرام آجاتا

    الغرض دانتوں کے کئی مسائل اور وجوہات کی بنا پر دانتوں میں درد نکل آتا ھے جنکا سدباب بروقت تشخیص اور علاج سے ممکن ھے کسی بھی طور پر کسی درد کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا بڑی پریشانی اور تکلیف کا باعث بن سکتا ایسی تمام پریشانیوں سے بچنے لئے ڈینٹل سرجن کو لازم چیک کرواکر علاج کرانا بڑی پریشانی و تکلیف سے نجات کا باعث بن سکتا ھے

  • شہدائے وطن کو سلام!     تحریر: ایمان ملک 

    شہدائے وطن کو سلام!     تحریر: ایمان ملک 

     
    امن و امان  دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر قیمتی چیز ہے کیونکہ جنگ و جدل اور خون خرابے والے ماحول میں نا تو کوئی اپنی خوشیوں سے لطف و اندوز ہو سکتا ہے اور نہ کوئی اپنی زندگی چین سے جی سکتا ہے۔ مگر پاکستان  کے باسیوں نے سنہ2007 سے سنہ 2018 تک کا وقت بڑی مشکل سے گزار، جب مساجد سے لیکر اسکول، جامعات، پارکس، ائیر بیسز سے لیکر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر و اورانکی ٹرانسپورٹ سروس  تک غیر محفوظ ہو گئی تھی۔ جب عسکری اہلکاروں کو خاکی یونیفارم دفاتر میں جاکر پہننے کے احکامات تھے ، جب ہمارے فوجی قافلے پاکستان کی ہی سڑکوں پر خون میں نہلا دیئے جاتے تھے، جب ہمارے فوجیوں کے گلے کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلا جاتا تھا، جب دہشت گرد پاکستان کے شہروں، قصبوں ، گلی محلوں میں روپ بدل کر گھل مل کر رہنے لگے تھے اور موقع ملتے ہی ہمارے پیٹھ پر وار کردیتے تھے، جب فوج کے لیے دوست ، دشمن، اپنے اور پرائے میں فرق کرنا محال ہو گیا تھا اور جب پاک فوج کے بیٹے ہر روز شہادتیں پیش کر رہے تھے۔۔۔!!! 

    اگر پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اس وقت ہمت و حوصلے کا مظاہرہ نہ کرتے اور امریکہ اور نیٹو افواج کی طرح اپنے لاتعداد فوجیوں کی شہادتوں سے خائف ہو جاتے تو آج پاکستان کی بھی صورتحال افغانستان سے مختلف نہ ہوتی۔ واضح رہے کہ فتوحات قربانیاں مانگتی ہیں اور جو قومیں یہ دینے سے گریز کرتی ہیں ناکامی کی ذلت ان کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔  

    پاکستانی فوج دنیا کی وہ واحد فوج ہے جسکےافسران اپنے جوانوں سے بھی آگے بڑھ کر لڑتے ہیں اور اپنی فوج کو فتح کی موٹیویشن دیتے ہیں۔ اسی لئے پاک فوج کےافسران کی شہادتوں کا تناسب جوانوں کے مقابلے میں دینا میں سب سے زیادہ ہے۔ مگر شاید آپ یہ نہ جانتے ہوں گے کہ شہید کی جان کی قربانی کےعلاوہ اس کے لواحقین کی انگنت قربانیاں بھی اس عظیم مشن کا حصہ ہیں  جسکےعزم کے تحت ہم یوم شہداء مناتے ہیں۔ یہ ہمارے پیاروں کے لہو سے  کی گئی آبیاری کا ہی نتیجہ ہے کہ آج آپ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ اپنی ہر خوشی منا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان سے دہشت گردوں کو شکستِ فاش ہو چکی ہے۔ مگر اُدھر شہداء کے لواحقین کی زندگیاں بے رنگ و بے محل ہو گئیں ہیں۔ ہروقت اب اپنے پیارے شہید بیٹوں/ بھائیوں کی یاد ہی محض ان کا مقدر ہے۔

    جنرل اشفاق پرویز کیانی نے انہی شہداء  کے لواحقین کے پُر زور اصرار پر 30 اپریل کو پاک فوج میں بطور یوم شہداء  کے منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر سنہ 2015 میں بغیر شہداء کے لواحقین کو اعتماد میں لیے، کہ جنکے اصرار پر جنرل کیانی نے یہ دن مختص کیا تھا اسے جنرل راحیل شریف نے ختم کر دیا گیا۔ اور یوں 6 ستمبر کو ہی یوم دفاع کے ساتھ ساتھ  یوم شہداء بھی منایا جانے لگا۔ اور ملک بھر سے شہداء کے لواحقین بنا رینکس کی تفریق کے مرکزی اور اپنے ملحقہ کینٹس کی تقریبات میں شریک ہونے لگے۔ مگر کچھ عرصہ بعد اس پالیسی کو بھی بدل دیا گیا۔ اب اس یوم شہداء کی تقریب میں تمام شہداء کے لواحقین کو مدعو نہیں کیا جاتا بلکہ جو ہمارے فوجی بھائی اسی سال میں شہید ہوتے ہیں صرف انکے اہلخانہ اور نشان حیدر رکھنے والے شہداء کے خاندان اس مرکزی تقریب میں شریک ہوتے ہیں،

    ریاست کو اپنی پالیسی بدلنے کا حق حاصل ہے مگر میری گزارش صرف اتنی سی ہے کہ بھلے ہی ہمارے پیاروں کو ہم سے بچھڑے سالوں بیت گئے ہوں مگر ہم میں سے کوئی بھی اپنے پیاروں کو نہیں بھولا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے زخم مندمل ہونے کی بجائے اور گہرے ہو گئے ہیں۔ پاک فوج ہماری شہداء کی فیملی ہے اسے بلاتفریق سب شہداء کو اسی طرح یاد رکھنا چاہیئے  اور مرکزی تقریب میں مدعو کرنا چاہیئے جس کا سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہم سےعہد کیا تھا۔ اگر جی ایچ کیو میں منعقد کی جانے والی مرکزی تقریب ہمارے شہداء کی یاد میں منائی جاتی ہے، تو پھر ماضی کی طرح تمام شہداء کے لواحقین کو گزشتہ 2 سالوں سے کیوں نہیں بلایا جارہا؟ اس کے برعکس یہ تقریب سیاستدانوں، میڈیا کے لوگوں ، فنکاروں، نام نہاد لبراٹیوں سے کھچا کھچ بھری دکھائی دیتی ہے جو اگلے ہی روز اپنے اپنے ٹویٹر ہینڈلز سے فوج مخالف ٹرینڈز میں ٹویٹ داغ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔!!! 

           اپنوں کو کھونے کا درد وہی جانتا ہے جس نے اپنے کسی بھی پیارے کو وطن کے دفاع کے عظیم مقصد کے تحت قربان کر دیا ہو۔ اس لئے میں وثوق سے کہ سکتی ہوں کہ آپ سب اس تکلیف کا ایک فیصد بھی محسوس نہیں کرسکتے جس سے شہداء کے لواحقین گزرتے ہیں۔ میں آپ سب، بشمول تمام ریاستی اداروں سے ملتمس ہوں کہ ہمارے شہداء کو یاد رکھیں، چاہے سالوں ہی کیوں نہ بیت جائیں انہی کبھی بھولیں نہیں۔ کیونکہ آپ اور آپکے بچوں کی جانب بڑھنے والی 22 گولیوں کو تو صرف میرے بڑے بھائی لیفٹینینٹ فیض سلطان ملک شہید نے تنہا اپنے سینے پر روک لیا تھا۔۔۔اور گمنام نجانے کتنے ہیروز ہیں کتنے پاکستان کے بیٹے ہیں واللہ اعلم۔۔۔!!! 
    آخر میں میری دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک فوج کو تمام دشمنوں کے مقابلے میں فتح نصیب کرے اور اس کے وقار میں بے پناہ اضافہ کرے۔ اور ہمارا پیارا ملک پاکستان ہمارے شہداء کے پاک لہو کے طفیل دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے آمین ثمہ آمین 
    پاک فوج زندہ باد 
    پاکستان پائندہ باد 
    ایمان ملک     

  • افغان جنگ میں امریکی میڈیا کا کردار .تحریر: محمد مستنصر

    افغان جنگ میں امریکی میڈیا کا کردار .تحریر: محمد مستنصر

    افغانستان میں پیدا ہونیوالی صورتحال کے تناظر میں امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سیاستدان اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ افغانستان میں امریکی شکست کا ذمہ دار کون ہے؟ امریکی میڈیا پر کابل ایئر پورٹ سے تواتر کے ساتھ دکھائے جانے والے مناظر کی دھول میں لپٹے ہوئے امریکی شاید یہ بھول چکے ہیں کہ جارج بش کو افغانستان پر چڑھائی اور اس جنگ کی اجازت تو تمام امریکی تھنک ٹینک اور اداروں نے متفقہ طور پر ہی دی تھی جبکہ سی آئی اے اور پینٹاگون نے بھی9/11 واقعات کو جواز بنا کر افغانستان پر امریکی یلغار کی حمایت میں رپورٹس دی تھیں تاہم اس طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے خاتمے پر نہ صرف حالیہ امریکی صدر بائیڈن اور سابق امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ دونوں متفق دکھائی دیئے بلکہ ABC ٹی وی کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 63 فیصد امریکی عوام نے بھی افغان جنگ کے خاتمے کے حق میں رائے دی تاہم اس کے باوجود بین الاقوامی میڈیا پر "بلیم گیم” زور و شور سے جاری ہے صدر بائیڈن اگر افغان نیشنل آرمی کے پسپا ہوجانے، سابق افغان صدر اشرف غنی کے فرار اور طالبان کی طرف سے مکمل کنٹرول سنبھال لینے کے بعد کی صورتحال کو قابو میں نہیں لا سکے تو کیا اس عظیم امریکی شکست کا تمام تر ملبہ امریکی صدر بائیڈن پر ڈال دیا جائے؟ امریکی اور مغربی میڈیا پر جاری بلیم گیم کے تسلسل کے باعث امریکی صدر بائیڈن کی مقبولیت کا گراف نیچے گررہا ہے اور ٹائمز میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال اور امریکی افواج کے انخلاء کے بعد بائیڈن کی مقبولیت کے گراف میں 55 فیصد سے 47 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

    امریکا کی اندرونی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر دیکھی گئی بدنظمی اور انتشار بائیڈن انتظامیہ کی ناکامی ہے جس کا خمیازہ بائیدن اور ان کی پارٹی کو مڈٹرم انتخابات میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے جبکہ اس کے اثرات 2024 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات پر بھی پڑیں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ 20 سالہ طویل افغان جنگ کی بڑی قیمت ڈیموکریٹک پارٹی کو چکانا ہوگی۔ تاہم ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس جنگ کی جو قیمت افغان عوام نے ادا کی ہے اس کی آواز امریکی اور مغربی میڈیا پر کیوں نہیں سنائی دے رہی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ خواتین کے حقوق اور امریکی افواج کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کو وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کرنے والے نیوز چینلز اور امریکی قومی اخبارات کو اس سے ذیادہ کچھ بولنے اور لکھنے کی اجازت ہی نہیں۔ 20 سال تک خانہ جنگی کا شکار رہنے والے ملک میں انسانیت کس طرح سسکتی رہی اسے بیان کرنا الفاظ میں ممکن نہیں۔ گذشتہ 20 سالوں کے دوران خواتین کے حقوق کے لئے امریکی میڈیا پر جو مہم چلائی جاتی رہی اس سے اگر کچھ فرق پڑا ہے تو محض اتنا کہ افغانستان کے چند بڑے شہروں میں چند ہزار تعلیم یافتہ خواتین کو ملازمتیں ملی ہیں، چند لاکھ لڑکیوں کو سکول اور کالج جانے کی آزادی حاصل رہی دوعشروں کے دوران ہونے والی اس پیشرفت کو سراہا تو ضرور جا سکتا ہے مگر امریکی اداروں کی طرف سے فراہم کئے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق 38.4 ملین آبادی والے ملک میں 84 فیصد خواتین نادہندہ ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان کی تعمیر نو کے لئے نہیں گیا تھا شاید بائیڈن اور ان کے معاونین یہ بھول چکے ہیں کہ امریکی صدر بش نے افغان جنگ کو Operation Enduring Freedom کا نام دیا تھا، افغانوں کو آزادی دلانے کا مشن ان کے ملک کی تعمیر نو اور ترقی و خوشحالی کے بغیر بھلا کیسے ممکن ہو سکتا تھا، اس مقصد کے لئے جرمنی کے شہر بون میں 22 دسمبر 2001 کو ایک کانفرنس بلائی گئی تھی جس میں حامد کرزئی کو عبوری صدر منتخب کیا گیا تھا۔

    طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد میں نئے آئین کی تشکیل، آزاد عدلیہ اور میڈیا کے لئے ماحول سازگار بنانے کے ساتھ خواتین کے حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقدامات شامل تھے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کی تشکیل تھی جو جنوبی اور وسطی ایشیاء میں مغربی ممالک کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ صدر بائیڈن کو آج کل غیر منظم انداز میں افغانستان سے انخلاء کی پاداش میں کوسنے والا میڈیا انہیں افغانستان پر حملے اور قبضے کے اغراض ومقاصد سے کیوں آگاہ نہیں کرتا؟ امریکی میڈیا یہ کیوں نہیں بتاتا کہ جناب صدر ہم افغانستان تعمیر نو ہی کے لئے تو گئے تھے اور اس وقت اگر یہ ڈرامہ نہ رچایا جاتا تو افغانستان پر قبضے کے لئے صرف القاعدہ کو تباہ کرنے والی دلیل کافی نہ تھی۔ امریکی میڈیا کو اپنے صدر محترم کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ 20 برس تک افغانستان پر امریکی قبضے کے دوران اس ملک میں روزانہ جو قتل وغارت ہوتی رہی کیا اس کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا؟ کیا کبھی بائیڈن انتظامیہ یا سابقہ امریکی صدور نے یہ اعداد وشمار مرتب کروائے کہ اس لاحاصل جنگ میں مارے جانے والے بے گناہ افغانوں کی صحیح تعداد کتنی ہے اور کتنے جسمانی معذور ہو کر زندگی بھر محتاجی کی زبدگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آپ بڑے فخر سے تعلیمی معیار اور سطح، بچوں کی شرح اموات، زچگی میں ہونے والی اموات اور اپنی پسند سے شادی کرنے کے حق کو کسی بھی ملک کی ترقی کا پیمانہ سمجھتے ہیں تو آج ان تمام اشاریوں میں افغانستان کہاں کھڑا ہے؟ کیا اقوام متحدہ میں کوئی ایسا کٹہرا ہے جہاں آپ کو کھڑا کرکے پوچھا جائے کہ 20 سال تک آپ ایک ملک پر قابض رہ کر کیا کرتے رہے؟ امریکا میں تو ایسے صحافیوں کی کمی نہیں جو صدر محترم سے اپنا من چاہا سوال پوچھ سکتے ہیں تو امریکا کے آزاد صحافی اپنے صدر محترم سے پوچھ کیوں نہیں لیتے کہ 20 سال کی خانہ جنگی اور خونریزی کے بعد اس اجڑے ہوئے ملک کی تعمیر نو کون کرے گا؟ آپ نے تو امریکی بینکوں میں موجود افغانستان کے ساڑھے نو ارب ڈالرز کے فنڈز بھی منجمد کر دیئے ہیں جبکہ یورپی یونین نے بھی اس ملک کی تباہی میں دل کھول کر اپنا حصہ ڈالنے کے بعد اس کی مالی امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جناب صدر آپ کے اس تاریخی کارنامے پر اس کے علاوہ اور کیا لکھا جا سکتا ہے کہ:
    ہمیں تو خاک اڑانا تھی بس اڑا آئے
    ہمارا دشت میں کوئی پڑائو تھا ہی نہیں۔۔۔

    @MustansarPK

  • یومِ دفاع!  تجدید ِعہد کا دن    تحریر: محمد بلال

    یومِ دفاع!  تجدید ِعہد کا دن تحریر: محمد بلال

    شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے اور تمام خطرات کے خلاف مادر وطن کے دفاع کے عزم کی تصدیق کے لیے آج یوم دفاع و شہداء منایا جا رہا ہے۔ 6 ستمبر،1965 میں وہ دن تھا کہ بھارتی افواج نے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کیا لیکن قوم کے تعاون سے افواج پاکستان نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ اس سال کا یوم دفاع و شہداء کا موضوع ”ہمارے شہدا ہمارا فخر، غازیوں اور شہیدوں سے تعلق رکھنے والے تمام رشتہ داروں کو سلام’ ‘ ہے۔ملک کی ترقی اور خوشحالی اور غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کو ہندوستان کے ظالمانہ چنگل سے آزاد کرانے کے لیے مساجد میں فجر کے بعد خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ریڈیو پاکستان مادر وطن کے محافظوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے قومی گانوں، شہداء کے لواحقین اور غازیوں کے انٹرویوز پر مشتمل خصوصی پروگرام بھی نشر کر رہا ہے۔یوم دفاع پاکستان کی قومی علامتوں کا مظہر ہے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم اکثر آزادی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جبکہ اس کو حاصل کرنے کے لیے اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔اسی طرح، ملک کی افواج اور سیکورٹی ایجنسیاں مادر وطن کو غیر ملکی دشمنوں اور ملکی امن خراب کرنے والوں سے لاحق خطرات سے بچانے کے لیے چوبیس گھنٹے خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔اس پس منظر میں، یوم دفاع، جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے 1965 کی جنگ کے دوران بھارتی غداری اور جارحانہ ڈیزائن کے خلاف مظاہرہ کی گئی بہادری، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کی یادگار ہے۔بھارتی افواج کے بزدلانہحملے کے باوجود، بے باک فوجی جوانوں نے پوری قوم کو اپنی پشت پر رکھتے ہوئے نہ صرف پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا کامیابی سے دفاع کیا، بلکہ بے مثال جوش کے ساتھ جوابی وار کیا اور بھارتی افواج کے ساتھ ساتھ ان کے جارحانہ خوابوں کو بھی کچل دیا۔.یوم دفاع پاکستان مسلح افواج کی قربانیوں کو یاد رکھنے اور 1965 کی جنگ کے تمام شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ درحقیقت، پاکستان کی افواج خدمات کے بہادر سپاہی، جنہیں بھارتی جارحیت کے خلاف ایک متحد قوم کی حمایت حاصل ہے۔ آج کے دن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر کا تنازعہ، جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گہری جڑیں رکھنے والی دشمنیوں کی بنیادی وجہ ہے، تقریبا 74  سال گزر جانے کے بعد بھی لٹکا ہوا ہے۔نریندا مودی نے بھارت کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال مزید خراب کر دی ہے، اقوام متحدہ کی مسلسل قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، 5 اگست 2019 کو متنازعہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔اس نے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم اور دباو کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ یوم دفاع کے موقع پر اپنے بہادر سپاہیوں کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے لیے اپنے عہد کی تجدید کی بھی ضرورت ہے۔

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں 

    @Bilal_1947

  • تمباکو نوشی منہ کا کینسر، نوٹ کے باوجود بھی سیگریٹ نوشی نہ رک سکی۔ تحریر: ملک رمضان اسراء

    یقینا ہر خاص و عام اس بات سے تو کم از کم مکمل طور پر آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے۔ اور سگریٹ پینے سے منہ کا کینسر بھی ہو سکتا ہے جہاں پڑھے لکھے لوگوں کیلئے سیگریٹ کے ڈبہ پر "تمباکو نوشی منہ کا کینسر” جیسا نوٹ لکھا گیا وہی غیر تعلیم یافتہ کو اس سے آگاہ کرنے کیلئے منہ پر کینسر کی ایک عدد تصویر ظاہر کی گئی لیکن پھر بھی سیگریٹ نوشی کیوں نہ رکی؟ اسی وجہ کو جاننے کیلئے میں نے ایک سگریٹ نوش محمد خان سے بات کی جو پچھلے تیس سالوں سے سیگریٹ نوشی کے عادی ہیں اور ان کے مطابق وہ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم دو عدد سگریٹ پاکٹ پی جاتے ہیں۔ محمد خان کی عمر اس وقت پچاس سے اوپر ہے اور انہوں نے بتایا کہ میں نے تقریبا بیس سال کی عمر سے سگریٹ نوشی کرنا شروع کی تھی اور ابتدا میں تو ایسے ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر پی لیا کرتا تھا مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ عادت مجبوری بن گئی اور حالت ایسی ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں نہ اڑاوں تو ذہنی طور پر چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہوں حالانکہ مجھے بہت زیادہ کھانسی آتی ہے لیکن ڈاکٹرز کے منع کرنے کے باوجود بھی میں اپنی اس بری عادت سے جان نہیں چھڑا پارہا۔ جب میں نے محمد خان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش نہیں کی تو انہوں نے جواب دیا کئی کئی ماہ تک سگریٹ کو چھوا تک نہیں اور میں نے محسوس کیا کہ مجھے سانس لینے سمیت جسم میں بہت بہتر تبدیلی محسوس ہوئی لیکن پھر مجھے پیٹ میں گیس اور اس طرح کی شکایت ہوئی تو میں نے ایک دوست سے سگریٹ مانگی اسے پیتے ہی آرام آگیا اب میرا وہم تھا یا کچھ اور لیکن مجھے اسی وقت آرام آگیا اور سب سے بڑا مسئلہ مجھے ذہنی طور پر سکون تو محسوس ہوا مگر چچڑا پن بڑھ گیا جسکی وجہ سے گھر میں بات بات پر بچوں کے ساتھ غصہ آجانا لہذا سوچا بس خیر ہے زندگی جب تک ہے تب تک ہی جینا ہے لیکن میری وجہ سے باقی گھر والوں کا سکون خراب نہ ہو۔ اور میں نے بہت کوشش کی کہ سگریٹ ترک کردوں مگر یہ بری عادت چھوٹنے کا نام نہیں لیتی لہذا میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ جوانی کے جوش میں دیکھا دیکھی میں کسی بھی بری عادت میں مبتلا نہ ہوں کیونکہ ابتدا میں تو آپ کا یہ شوق ہوگا مگر پھر ساری زندگی کا روگ بن جائے گا۔

    اسٹاپ سموکنگ لندن کی ایک رپورٹ کے مطابق "سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ روز بروز اور ہر ہفتہ بعد، آپ کے جسم اور دماغ میں اچھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ آپ کی جسمانی حالت بہتر اور بحال ہوجاتی ہے، آپ بہتر نظر آنے لگتے ہیں، آپ خود کو زیادہ توانا اور صحت مند محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ بارہ گھنٹے سگریٹ ترک کرتے ہیں تو آپ کا جسم سگریٹ میں پائے جانے والے کاربن مونو آکسائڈ کو جسم سے نکال دیتا ہے۔ سطح معمول پر آ جاتی ہے اور آپ کی آکسیجن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ ایک پورا دن مطلب چوبیس گھنٹے سگریٹ نوشی ترک کرنے سے آپ کا بلڈ پریشر گرتا ہے آپ کے دوران خون میں بہتری آ جاتی ہے۔ اس طرح آپ سگریٹ نوشی کے باعث اپنے ہائی بلڈ پریشر، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے کو کم کر دیتے ہیں۔

    ایک ماہ سگریٹ نوشی ترک کرنے سے جیسے ہی آپ کے پھیپھڑے ٹھیک طور سے کام کرنے لگتے ہیں تو آپ کو کھانسی اور سانس کی دشواری میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ پھر آپ کو ورزش اور کام کرنا بھی آسان لگتا ہے۔ اور اگر آپ نو ماہ سگریٹ سے دور رہتے ہیں تو اس وقت تک آپ کے پھیپھڑے کافی حد تک صحتیاب ہوچکے ہوں گے۔ آپ کے پھیپھڑوں کے اندر سیلیا ( باریک بالوں کی مانند ریشہ) سگریٹ کے دھویں کے مضر اثرات سے مکمل طورپر صحتیاب ہو چکا ہوگا اور جب آپ کو سگریٹ چھوڑے ہوئے ایک سال ہو جائے گا تو آپ کو کارونری ہارٹ ڈیزیز (دل کی بیماریوں) کا خطرہ نصف ہو جائے گا۔ جس کی مزید کمی ہونا جاری رہے گی۔ جبکہ پانچ سال سگریٹ نوشی نہ کرنے سے آپ کی آرٹیریز اور خون کی شریانیں صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ مکمل طور سے کھلنے لگتی ہیں۔ اس طرح آپ، اپنے فالج اور جماد خون کے خطرے کو، کم کر دیتے ہیں اور دس سال کی عمر کے بعد آپ کے پھیپھڑوں کے کینسر سے مرنے کے امکانات نصف رہ جاتے ہیں اور منہ، گلے یا لبلبے کے کینسر کا امکان انتہائی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پندرہ سال بعد آپ کے دل کی بیماری یا لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات اتنے ہی رہ جاتے ہیں جتنے سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد کے ہوتے ہیں۔ اور ٹھیک بیس سال کی پابندی کے بعد تمباکو نوشی سے متعلقہ وجوہات جیسے پھیپھڑوں کی بیماری یا کینسر سے مرنے کا خطرہ اب اتنا ہی کم ہوتا ہے، جیسے کسی نے اپنی زندگی میں کبھی سگریٹ پی ہی نہ ہو۔

  • تمباکو نوشی مضر صحت ہے  تحریر : ثناء شاہ

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر : ثناء شاہ

    ” پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
    پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
    تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
    میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
    سمجھنا مت اس کو میری عادت
    یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
    یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
    میں تیری یادیں جلا رہا ہوں ”

    اللّٰه تعالی کی دی گئی نعمتوں میں سے سب سے انمول نعمت تندرستی ہے۔ تندرستی کو ہزار نعمت بھی کہا گیا ہے ۔ سگریٹ پینے والوں نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ اس دھکتے جلتے سگریٹ سے اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت بگاڑ رہے ہیں وہ اپنے وجود کو زہریلے دھویں کے حوالے کر کے نا صرف خود سے زیادتی کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ بیوی بچوں کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس جیتی جاگتی دنیا میں آنکھوں کے سامنے لاکھوں لوگ اس زہر قاتل کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں پھر بھی یہ لوگ عبرت نہیں پکڑتے۔

    سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    ریسرچ کرنے سے سگریٹ پینے کے ان نقصانات کا بھی پتہ چلا ہے جو پہلے کسی کے علم میں نہیں تھے۔ اس نشے سے صرف پھیپھڑوں کا کینسر ہی نہیں بلکہ اور اقسام کے دیگرکینسر کا بھی خطرہ ہے ان میں جگر اور بڑی آنت کے کینسر ، اندھا پن اور ذیابیطس جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔
    جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں، ان میں بھی دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    "بی بی سی کے رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سائسندانوں نے طویل عرصے تک سگریٹ نوشی کرنے کے باوجود کچھ افراد کے پھیپھڑوں کے صحت مند رہنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے۔
    50 ہزار سے زیادہ افراد پر کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے ان افراد کے ڈی این اے میں مثبت تبدیلیوں کی وجہ سے پھیپھڑوں کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے اور یہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

    میڈیکل ریسرچ کونسل کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی موثر ادویات تیار کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

    تاہم سائنسدانوں کے مطابق سگریٹ نوشی سے اجتناب کرنا ہی بہترین عمل ہے”۔

    سگریٹ پینے والے کو سوچنا چاہیے کہ جلد یا بدیر اس نشے نے اسکے پورے جسم کو اپنے لپیٹ میں لے لینا ہے اور اسکا وجود نا صرف ناکارہ بلکہ دوسروں کے لئے بوجھ بنتا جاۓ گا اس کو پھیپھڑوں کے کینسر کے ساتھ ساتھ دوسری خطرناک بیماریوں کا بھی سامنا ہوگا تب انھیں احساس ہوگا کہ انھوں نے کس طرح بے دریغ اپنی زندگی ضائع کردی لیکن تب پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔

    آئیں ملک کر انسانیت کو اس ناسور سے نجات دلوانے میں مدد کریں پاکستان کو سگریٹ نوشی سے پاک و صاف کریں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں ۔

    کوشش میں برکت ہوتی ہے اور کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی ۔

  • توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    اس دنیا میں انسان کو آزمائش کے لیے بھیجا گیا ہے اور ہر وقت اُس کا امتحان ہو رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جب آپ آزمائش سے گزر رہے ہوتے ہیں تو غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور گناہ بھی سرزد ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ایک قانون دیا ہے۔ جب کوئی شخص  کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو فوراً اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔

    عام طور پر توبہ اور استغفار ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، اصل میں یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں۔ توبہ کا مطلب ہے لوٹنا، یعنی مجھ سے ایک غلطی کا ارتکاب ہوا ہے، ایک گناہ سرزد ہوا ہے، میں اس کو چھوڑ کر صحیح راستے کی طرف آتا ہوں تو اس کو توبہ کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں اس کا مطلب لوٹنے کا ہے۔ یعنی آپ نے ایک گناہ کا کام کیا اور اس کو چھوڑ دیا، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا اور اب آپ وہ کام نہیں کریں گے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی شراب پیتا تھا اس نے کہا کہ میں آج کے بعد شراب نہیں پیوں گا، جھوٹ بولتا تھا اس نے کہا کہ آج کے بعد جھوٹ نہیں بولوں گا  تو یہ توبہ ہے۔

    استغفار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہنا، بخشش کی دعا کرنا۔ عام طور پر توبہ اور استغفار ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ توبہ و استغفار اس لیے بھی ایک ساتھ بولے جاتے ہیں کہ جس وقت آدمی کسی گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو یہا ں ایک دوسری چیز یہ بھی ہے کہ اس نے گناہ کیا تو تھا، چنانچہ جو کچھ کیا ہے اس پر مغفرت چاہے گا، اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کرے گا۔ اس لیے یہ دونوں الفاظ ایک ساتھ بول لیے جاتے ہیں پر دونوں میں فرق ہے۔ دونوں الفاظ کو ملا کر ہم توبہ و استغفار کہہ رہے ہوتے ہیں، گویا دونوں باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ گناہ چھوڑ بھی دو اور اللہ سے مغفرت بھی طلب کرو۔

    صرف توبہ کا لفظ بول لینا توبہ نہیں ہے۔ توبہ کی حقیقت یہ ہےکہ آپ نے گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آپ اگر یہ کہہ دیں کہ میں نے توبہ کی ہے اور اس کا معنی یہ لیں کہ  میں نے توبہ کا لفظ بول دیا ہے تو یہ توبہ نہیں ہے۔

    اگر توبہ کا مطلب گناہ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کو "تواب” کہنے سے کیا مراد ہو گا؟
    عربی زبان میں الفاظ اپنے فاعل کے لحاظ سے اپنے معنی تبدیل کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اللہ تعالیٰ کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جو آپ کے جذبہِ شکر گزاری کو قبول کرتا ہے، اور جب بندے کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب وہ جو شکر ادا کرتا ہے۔
    اسی طرح یہاں "تواب ” سے مرا د ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و برکت کے ساتھ آپ کی طرف آتا ہے، یعنی وہ جو آپ کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔

    قرآن مجید نے توبہ کا قانون بھی بتا دیا ہے۔ یعنی جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو آپ سب سے پہلے اس گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کریں گے پھر یہ کہ آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کا فیصلہ کریں گے اور اپنے ایمان کی تجدید کریں گے۔ جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے تو حقیقت میں وہ ایمان سے خالی ہو جاتا ہے، کیونکہ ایمان کے ساتھ گناہ کا ارتکاب نہیں ہو سکتا۔ آپﷺ نے اس لیے فرمایا کہ جب کوئی بدکاری کرتا ہے یا چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ قانونی لحاظ سے تو وہ مسلمان ہی شمار ہو گا لیکن وہ حقیقتِ ایمان سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب تک ایمان کی حقیقت کا شعور ہے تب تک آپ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر گناہ نہیں کر سکتے۔

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً اس پر توبہ کی جائے۔ گناہ کی ایک کیفیت ہوتی ہے جو انسان پر طاری ہو جاتی ہے، بالخصوص جنس سے متعلق جو گناہ ہیں ان میں تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ انسان جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔ باقی گناہوں میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ایک پردہ پڑ جاتا ہے اور اس میں آدمی کسی گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فوراً توبہ کر لی، یعنی جیسے ہی شعور بیدار ہوا، غفلت ختم ہوئی تو آپ بیدار ہو گئے اور آپ نے کہا کہ نہیں یہ گناہ میں آئندہ نہیں کروں گا، یہ وہ چیز ہے جس کے اوپر اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے کہ میں اس رجوع کو قبول کر لوں گا۔

    یہ قانون ان گناہوں کے بارے میں ہے جن کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہے، بعض ایسے معاملات بھی ہوتے ہیں جس میں کوئی دوسرہ بندہ بھی متاثر ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں توبہ کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟
    اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ انشاءاللہ بہت جلد باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر میرے اگلے کالم میں آپ اس بارے میں  پڑھ سکیں گے۔ تب تک کے لیے اللہ نگہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    انسان کا  اللہ سے رشتہ تحریر : اسامہ خان

    دنیا میں آنے سے پہلے انسان جنت میں اپنی مرضی کی زندگی گزارتا تھا اس کو نہ تو وہاں کوئی کمانے کی ٹینشن ہوتی تھی اور نہ ہی کسی اور مسئلے کی۔ لیکن انسان نے اللہ کا حکم نہ مانا اور وہ کام کر بیٹھا جو اللہ نے روکا تھا اور بے شک انسان خطا کا پتلا۔ اللہ تعالی نے اسی بات سے ناراض ہو کر انسان کو دنیا پر بھیج دیا کہ جاؤ کماؤ اور کھاؤ انسان دنیا پر آیا محنت مزدوری شروع کی تاکہ کھا سکے تاکہ اپنے جسم کو ڈھانپ سکے۔ تاکہ اپنی زندگی کو آسان بنا سکے تاکہ اللہ کی بتائی ہوئی عبادات کو پورا کر سکے اور اللہ کے حکم کو پورا کر سکے۔ بے شک اللہ تعالیٰ انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے لیکن کبھی کبھی ماں بھی ناراض ہو جاتی ہے کہ میری اولاد میری بات نہیں مانتی اس لیے کہتے ہیں اللہ تعالی سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور اچھے کی دعا کرتے رہنا چاہیے بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی کو انسان سے اتنی محبت تھی کہ جب اس نے دیکھا کہ میرے بندے بھٹک رہے ہیں تو اللہ تعالی نے نبیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اللہ تعالی نے ہر دور میں نبی بھیجا تاکہ اپنی مخلوق کو اپنے اصل خالق حقیقی کے بارے میں آگاہ کر سکیں اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی جب ان سے ناراض ہوا تو ان پر عذاب نازل کیا لیکن جب حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا پر آئے تو رحمت کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نبی ہونے کا دعوی کیا تو اپنے یہ رشتے دار مخالف ہوگئے لیکن حضور پاک نے سچ کا راستہ نہ چھوڑا تکلیفیں برداشت کی لیکن اپنی امت کے لئے ہمیشہ دعا مانگتے رہے اللہ تعالی کو بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت پیارے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کی بات نہیں ٹالتے۔ آج ہم مسلمانوں پر اگر عذاب نازل نہیں ہوتا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہے ہمیں ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے اور اللہ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور بے شک اللہ نے فرمایا ہے کہ تمہارے رزق میرے ذمہ ہے اس بات پر یقین کرتے ہوئے ہمیشہ حلال رزق کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ سے برے کاموں کی پناہ مانگنی چاہیے بے شک وہ رحیم و کریم ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی جنگیں لڑیں آپ وہ  پہلے نبی تھے جس سے حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی پوچھ کر گھر کے اندر داخل ہوتے تھے اللہ تعالی نے حضور صل وسلم کو بہت سے معجزے عطا کیے ان میں سے ایک معجزہ چاند کو دو ٹکڑوں میں کرنا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ وسلم جیسا صادق اور امین انسان آج تک پوری دنیا میں نہیں آیا ہوگا۔ ہم مسلمانوں کو چاہیئے حضور صل وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلے تاکہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرسکیں جب حضور پاک صل وسلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور بہت سے لوگ مسلمان ہوئے تو اس وقت کوئی فرقہ واریت نہیں تھی سب خدا کو ماننے والے تھے اور اس کے آخری نبی کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی کلمہ پڑھتے تھے جو کہ حضور پاک صل وسلم کا ہے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے تھے لیکن آج انسان اللہ کی رضا تو چاہتا ہے لیکن فرقہ واریت سے باہر نکلنا چاہتا اس اسلام پر نہیں چلنا چاہتا جو حضور پاک صل وسلم لے کر آئے دنیا میں۔ حضور پاک صل وسلم نے کبھی فرقہ واریت کا حکم نہیں دیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کا دین ہے اسلام اس پر چلو تاکہ حق پر چل سکو۔ لیکن افسوس آج مسلمان فرقہ واریت میں پڑگئے اور ایک دوسرے کو ہی کافر کہنے لگ گئے اور آخر میں ہم سب مسلمان پھر جاتے ہیں اللہ کی بارگاہ پر اور اس سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں اللہ پاک ہمیں سیدھے راستے پر چلنے چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین 

    Twitter : @usamajahnzaib

  • ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ،تحریر: نوید شیخ

    ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ،تحریر: نوید شیخ

    افریقہ میں ivory coastایک چھوٹا سا ملک ہے ۔ مگر یہاں پر ایک ایسا جزیرہ ہے جو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔ جہاں سیاحوں کا جم گھٹا لگا رہتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تیرا ہوا جزیرہ ہے ۔ آپ اس کو سمندر میں جہاں مرضی لے جائیں اور جو مرضی نظارے کریں ۔ یہ انسان نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ۔ دنیا میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا جزیرہ ہے۔ یہ عابدجان lagon
    کے مرکز میں واقع ہے۔ ۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ یہ جزیرہ پانی کی خالی بوتلوں سے بنا ہے اور اس میں تمام وہ سہولیات موجود ہیں ۔ جو کسی اچھے اور بڑے ہوٹل میں ہوتی ہیں ۔ بلکہ یہ کسی بڑے ہوٹل سے بھی زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ ماحول دوست ہے ۔ یہاں تک کہ انسانی فضلہ بھی اس جزیرے پر recycle کیا جاتا ہے ۔پھر جو کچھ آپ کسی ہوٹل میں انجوائے کرتے ہیں اور اس میں کر سکتے ہیں جیسا کہjackozi poolrelaxations areasbarsResturantWIFIAC۔ یہ ہوٹل واقعی ایک مصنوعی جزیرہ ہے جو تیرتا ہے۔ اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگی منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مصنوعی جزیرہ یا ہوٹل کو تعمیر کرنے میں 8 لاکھ خالی پلاسٹک کی بوتلوں کا استعمال ہوا ہے ۔

    ۔ جس شخص نے اس کو تعمیر کیا ہے وہ ایک فرانسیسی ہے اس کا نام ہے ۔Eric Beckerاور اب یہ اس وقت ایک کامیاب کاروبار کر رہا ہے ۔ericکا کہنا ہے کہ اس جزیرہ کو بنانے میں چھ سال لگے ہیں ۔ 2018میں یہ مکمل ہوا تھا ۔ یہ تیرتا جزیرہ ایک ہفتے میں 100سے زائد لوگوں کی مہمان داری کرتا ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے ماحولیاتی ادارے ، میگزین اور نیوز چینلرز اس شخص پر ڈاکیومینٹری بنا چکے ہیں ۔ کیونکہ اسکا یہ آئیڈیا ایک جانب تو ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا رہا ہے دوسرا اس آئیڈیا کی وجہ سے coastal lineکی صفائی ہورہی ہے ۔ eric
    مسلسل beachesسے کچرا خود بھی اکٹھا کرتا ہے اور اس میں اسکی لوکل لوگ مدد بھی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس پلان اس جیسے اور بہت سے جزیرے بنانے کا ہے ۔

    ۔ اب جو مقامی باشندے ہیں وہ eric beckerکو “Eric plastic jug”کہہ کر پکارنا شروع ہوگئے ہیں ۔ ivory coast پر Mr. Eric Becker آئے تو کوئی کام دھندہ کرنے مگر ان کو یہاں گند اور غلاظت ہی دیکھائی دیا ۔ ایک کے بعد ایک تیرتی ہوئی خالی بوتل انکو پانی میں دیکھائی دیتی تھی۔ پھر ایک دن اس نے اسی کوڑے کرکٹ کو استعمال کرکے ایک جنت نما تیرتے ہواجزیرہ بنانے کا فیصلہ کیا ۔ اس نے اپنے غیر معمولی خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی تقریبا ہر چیز بیچ دی۔ شروع میں لوگ اس کو پاگل اور بے وقوف سمجھتے تھے ۔ پر جب یہ جزیرہ بن گیا تو سب حیران بھی ہوئے ۔ اور یہ ہی حیرانی ericاوراسکے جزیرے کی شہرت کا باعث بنی ۔۔ اس جزیرے کی تعمیر میں اس کا پہلا قدم اتنا زیادہ تیرتا ہوا کچرا ڈھونڈنا شامل تھا جتنا کہ وہ اپنے ہاتھ میں اٹھا سکتا تھا – ۔ اس کو بنانے کے لیے eric becker نے تیرتی ہوئی ہر چیز کو اکٹھا کیا۔ پلاسٹک کی بوتلیں ، polystyrene scraps, tap shoes وغیرہ ۔ یہ ایک محنت طلب مشق تھی جو بالآخر اس معاملے میں مہارت کی صورت اختیار کر گئی ۔

    ۔ اس جزیرے کی عمارتیں پلاسٹک سے بنے پنجروں کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئیں۔ اس کے بعد انہیں لکڑی اور سیمنٹ کی ہلکی پرت سے ڈھانپ دیا گیا۔ جس سے پوری چیز لکڑی کی تعمیر کا تاثر دیتی ہے ۔ پلاسٹک کا فضلہ صرف زمین کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 260 میٹر لمبا circular bridge کشتیوں کے لیے ساحل کا کام کرتا ہے۔ اس کا کل وزن 200 ٹن ہے۔

    ۔ اس جزیرہ میں موجود عمارت کو توانائی فراہم کرنے کے لیے سولر پینل اور جنریٹر نصب کیے گئے ہیں ۔ پینے کے پانی کے لیےعمارت کو زمین سے جوڑنے کے لیے پائپ لگائے گئے ہیں۔ جزیرے میں ایک بار ریستوران ، دو سوئمنگ پول ، ایک چھوٹا سا پل ، گھروں میں دو کھلے بنگلے ، مختلف درخت ، اور ایک walk way ہے جو تیرتے ہوئے ڈھانچے کے مرکز سے باہر نکلتا ہے ۔ جو 1000 مربع میٹر پر محیط ہے۔۔ اس resortپر لوگوں کو کشتی کے ذریعے جزیرے پر لایا جاتا ہے۔ اس جزیرے پر ایک دن کا کرایہ 100ڈالر چارج کیا جاتا ہے – جس میں کھانا اور فیری ٹرپ بھی شامل ہے -۔ دیکھا جائے تو یہ ایک مختلف قسم کا جزیرہ ہے۔ نہ صرف اس کی تیرتی فطرت کی وجہ سے ، بلکہ اس کے بنیادی مواد کی وجہ سے بھی۔ یہ مصنوعی جزیرہ ایک حقیقی تجسس ہے ۔ ۔ اگر دیکھا جائے تو eric نے صرف ایک آئیڈیا سے سوچ کا انداز بدلنے کے ساتھ ساتھ ۔ بڑھتی آلودگی سے نمٹنے کا ایک ایسا فارمولہ دے دیا ہے جس سے دنیا بھر کی آبی گزرگاہوں ، جھیلوں ، ندی نالوں اور جزیروں کو نہ صرف صاف کیا جاسکتا ہے ۔ بلکہ اس پلاسٹک فضلے سے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں بنائی جاسکتی ہیں ۔ جو فائدہ بھی دے سکتی ہیں اور کارآمد بھی ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ خوبصورتی یہ ہے کہ ہم پلاسٹک کی بوتلوں سے کسی آلودگی کو کسی اچھی چیز میں بدل دیں۔ plastic waste recycling plants بنائے جاسکتے ہیں ۔ جوبہت سے چیزیں بنانے میں کام آسکتا ہے ۔ جب آپ پلاسٹک کی بوتلوں سے جزیرے بنا سکتے ہیں تو کشتیاں بھی بنائی جاسکتی ہے اور بھی بہت سی ایسی چیزیں ہونگی یقینی طور پر جو بنائی جاسکتی ہوں ۔ ایک چیز جو میں نے بھی اور آپ نے بھی اکثر گھروں میں دیکھی ہو گی کہ لوگ پلاسٹک کی بوتلوں کو پودے لگانے کے لیے بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے بہت سی turtorial videos بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں ۔ Eric Becker کی ایک کہاوت ہے کہ “One man’s trash is another man’s treasure,”یعنی "ایک آدمی کا کچرا دوسرے آدمی کا خزانہ ہے”۔ بات تو ٹھیک ہے کیونکہ eric نے ماحول کو صاف کرنے اور ناممکن کو ممکن کرنے کے علاوہ بہت لوکل لوگوں کو روزگار بھی مہیا کر دیا ہے اور اس چھوٹے سے آئیڈیا کی بدولت اور اس کے جزیرے کی بدولت ivory coast کو دنیا بھر میں مشہور کروادیا ہے ۔

    ۔ سبق ہم سب کے لیے یہ ہے کہ انسان اس دنیا کو بہتر بنانا چاہے تو صرف ایک پلاسٹک کی خالی بوتل ہی کافی ہے

  • ‏موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد،  تحریر: فروا نزیر

    ‏موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد، تحریر: فروا نزیر

    جیلوں میں مردوں کے علاوہ بے شمار ایسی خواتین ہیں جو چند ہزارروپے نہ ہونے کی وجہ سے قید کاٹ رہی ہیں،کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون کی خبر آئی کہ کئی سال سے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے جیل کاٹ رہی تھی ،جوانی میں سزا ہوئی اور 45سال کی عمر میں اسے اعلیٰ عدالت نے باعزت بری کر دیا ،کسی لبرل ،فیمینسٹ نے کوشش کی کہ ان کی ادائیگی کر کے ان کو رہائی دلائی جائے ،یانظام انصاف کو تیز اور موثر بنانے کی جدوجہد کی ہو؟ایسا نہیں ہوا،حالیہ معاملے میں خاص بات یہ تھی کہ خاتون کا تعلق ایلیٹ کلاس سے تھا،دوسرا یہ واقعہ موٹروے پر ہوا جو کہ اشرافیہ ہی استعمال کرتی ہے اور یہ ان کیلئے قابل قبول نہیں تھا کہ ان کے راستے غیر محفوظ ہوں ،عوام سے الگ رہنے کیلئے اشرافیہ نے گیٹڈ کمیونیٹز پہلے ہی بنالیں ہیں جہاں انہوں نے اپنی مرضی کا پاکستان بنایا ہوا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت عملی طور پر دو پاکستان ہیں ،ایک اشرافیہ کیلئے اور دوسراوہ جس میں عوام رہتے ہیں۔جس معاشرے میں ناانصافی اور ظلم ایک خاص حد پار کر جاتاہے تو اس کا ردعمل ظاہر ضرورہوتاہے ،آپ اس کے ایک مظہر کو روکیں گے تو وہ دوسری شکل میں ظاہر ہو گا ۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم جس حد تک بڑ ھ چکی ہے 

    اور جتنی تیز ی سے اس میں اضافہ ہورہا ہے،اس میں حالات مزید سنگینی کیطرف جانے کا خدشہ ہے ،اشرافیہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ نچلے طبقات کو ساتھ لے کر چلے ،حکومت کو پورا ٹیکس دے،جب لوگوں کو شعور نہ دے کر ان پر حکومت کریں گے تو پھر اس طرح کے واقعات جو کہ جہالت ہی کا مظہر ہیں ، بھگتنے پڑیں گے،تمام تدبیریں کام نہیں آئیں گی،دراصل یہ طاقت کا ناجائز استعمال ہے ،جس طرح ایک بیوروکریٹ اپنی کرسی کا غلط استعمال کرتاہے ،کمیشن اور کرپشن کے ذریعے کروڑوں کماتاہے ،ایک بزنس مین پورا ٹیکس نہیں دیتا،اشیا میں ملاوٹ کرتاہے،اپنے ملازمین کو کم تنخواہ دیتاہے،محترم عدنان عادل کے مطابق ایک شاپنگ مال میں ایک سیلز گرل کی چودہ ہزار روپے تنخواہ ہے اور وہ دس گھنٹے کام کرتی ہے ،کیا یہ زیادتی نہیں؟ اس لڑکی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کاروباری شخص یا خاتون نے کبھی یہ سوچا کہ اگر اس کی بچی اسطرح کام کررہی ہوتی تواسے کیسا محسوس ہوتا،ایک پارٹی میں شرکت کیلئے جو خواتین میک اپ پر ایک عام ملازم کی تنخواہ سے زیادہ خرچ کر دیتی ہیں،معلوم کرلیں ، کورونا وبا کے دنوں میں  انہوںنے ہی صرف پندرہ ہزار لینے والے ملازمین کو نکالا ہوگا ۔

    سفاکیت ہر جگہ پر موجود ہے ۔ہر کوئی دوسرے کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہاہے ،ایک سیاستدان عوام سے ان کی خوشحالی کا وعدہ کرکے ووٹ لیتا ہے اور اس کے بعد خوشحالی صرف اس کے اپنے خاندان ہی کو نصیب ہوتی ہے، ڈاکو کے اختیار میں کیا ہوتاہے؟وہ شخص جو اس کے قابو آجائے،چاہے تو گولی مار دے یا خاتون ہو تو زیادتی کا نشانہ بنا دے ، اس دن خاتون ان کی درندگی کا شکار ہوگئی ، اس نے بھی عورت کی عزت کی پرواہ کئے بغیراپنے اختیار کا ناجائز استعمال کیا ۔حقیقت یہ ہے کہ جس کا جہاں بس چلتاہے ،وہ اپنے اختیار کا غلط او ر مقروح حدتک ناجائز استعمال کرتاہے۔یہ ہمارا عمومی رویہ بن چکا ہے،جب تک ہم سب اس بات پر متفق نہیں ہونگے کہ ،ظلم ،،،ظلم ہوتاہے چاہے کسی کے ساتھ بھی ہو،اس کے خلاف ایک جیسی شدت کیساتھ آواز نہیں اٹھائیں گے ،اس وقت تک کوئی قانون،ضابطہ جرم کو ہونے سے نہیں روک سکتا۔