Baaghi TV

Category: متفرق

  • جنگیں، بغاوتیں کیوں ؟ کیسے؟ اور کب تک؟  تحریر۔ آمنہ امان

    جنگیں، بغاوتیں کیوں ؟ کیسے؟ اور کب تک؟ تحریر۔ آمنہ امان

    حضرت آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ہوئی لڑائی بظاہر تو اک قتل پر ہی تھم گٸ تھی مگر درحقیقت وہ صرف شروعات تھی آدم کے بیٹوں کی تعداد بڑھی تو لڑاٸیاں جنگوں میں بدلتی چلی گٸیں اور وجوہات بھی بڑھتیں گٸیں۔
    کہتے ہیں زر ۔زن اور زمین ہی انسانوں کے درمیان وجہ جنگ رہے ہیں تاریخ دیکھیں تو کسی حد تک وجہ درست معلوم ہوتی ہے۔ قدیم یونانی دیو مالائی داستانوں کے مطابق تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ۔۔جنگ ٹراۓ یا ٹراۓ کی جنگ ہے وجہ فساد زن یعنی شہزادی ہیلن تھی اس طرح زمین کی خاطر سکندراعظم مقدونیہ سے نکلا اور آدھی زمین تخت وتاراج کرگیا۔ انگریزوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا سمجھا اور زر کیلیے لاکھوں میل دور آگۓ اور کٸ چھوٹی بڑی جنگوں کے بعد ہندوستان پر قبضہ کیا۔ مگر کیا جنگوں کی صرف یہ تین وجوہات ہی ہیں؟
    نہیں اک پہلو مذہب بھی ہے ۔ اور تاریخ میں سب سے زیادہ جنگیں مذہب کو لے کر ہی ہوٸیں اور اب تک ہوتی چلی جارہیں ہیں ۔یہ جنگیں پہلے تو حقیقت میں کلمتہ اللہ کی سربلندی کے لیے کی جاتیں تھیں ۔حق اور سچ کی فتح شیطانیت کا خاتمہ اور پوری دنیا پر اللہ کا حکم امن اوسلامتی کے راج کے نفاز کے لیے تھیں مگر رفتہ رفتہ ماضی کی جنگوں کی طرح یہ بھی بس اک وجہ بن کے رہ گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ ممالک تو چھوڑ مذہب کے اندر بھی اپنا اپنا گروہ بنا کر فرقوں کے نام دے کر لڑتے ہیں گویا ہابیل اور قابیل کے محض نام ہی بدلے ہیں۔
    درحقیقت اقتدار کی خواہش اور طاقت کا حصول ہی جنگ کی اصل وجہ ہوتا ہے اپنی بات اور اپنے آپ کو صحیح منوانا اور دوسرے کو مطیع کرنا یہی ہابیل قابیل کے درمیان لڑاٸ کی اصل وجہ تھی اور یہی آج تک کی ہر جنگ کی وجہ ہے۔
    اسلحے اور ٹیکنالوجی کی نت نٸ خوفناک ایجادات کے بعد اب ممالک کو کمزور کرنے کے لیے جنگ کی اک نٸ قسم سامنے آٸ ہے ففتھ جنریشن وار ۔۔محض افواہیں اڑاٸیں اور جھوٹ اتنی شدت سے پھیلا دیں کہ سچ لگنے لگے اس کا مقصد کسی ملک کی عوام کو تقسیم کرنا اور اتنی نفرتیں پھیلا دینا ہے کہ جب اتحاد درکار ہو وہ اک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہوں۔ فرقہ واریت لسانیت اور صوباٸیت کا فروغ اس کے اہم اہداف ہوتے ہیں اور اداروں کے مابین نفرت پھیلانا بھی اس جنگ کا مقصد گویا ملک کے جڑیں اتنی کھوکھلی کر دی جاٸیں کہ اس کا انتظامی ڈھانچہ گرانے کے لیے اک ہلکا سا دھکا ہی کافی رہے شام لیبیا اور عراق اس کی حالیہ مثالیں ہیں۔
    جنگیں لڑنے اور اس سے بچنے کے لیے ہر ملک دفاعی بجٹ مختص کرتا ہے اور اگر زرا بھی دھیان دیں تو دفاعی بجٹ بذات خود بہت سی جنگوں اور بغاوتوں کو جنم دیتا ہے۔
    دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ کی حامل سوکالڈ سوپر پاورز کے سالانہ بجٹ کا اور خراجات کا تقابل کریں تو انسان ورط حیرت میں گم ہوجاتا ہے کہ یہ کیا گورکھ دھندا ہے۔
    امریکہ یا چاٸنہ کا دفاعی بجٹ ہی دیکھ لیجیے کیا اس میں لاکھوں کی آرمی کی تنخواہیں یونیفارمز کھانا پینا رہاٸش پینشنز دفاعی آلات کی خریداری مشینری کی مرمت پیٹرول اور ٹریننگ کے اخراجات ہی پورے ہوجاٸیں تو بہت ہے جبکہ اک جنگی بحری بیڑا مع الات خریدیں تو سالانہ بجٹ بہت کم پڑ جاۓ تو یہ سارے باقی اخراجات کیا پورا سال روکے رکھے جاتے ہیں؟ ابدوزیں لیزر گنز حساس سینسرز کے لیس جوتے ہیلمٹ اور لباس کی قیمت لاکھوں ڈالرز میں ہوتی ہے پھر یہ اخراجات کیسے پورے کیے جاتے ہیں ؟
    تو چلیے دیکھتے ہیں کچھ ہوشربا انکشافات جن سے اندازہ ہو کہ سپر پاورز اپنے اخراجات کیسے پورے کرتیں ہیں۔ دنیا میں منشیات کی چالیس فیصد پیداوار برما یعنی میانمر میں ہوتی ہے یہیں تیار ہوتی یہیں سے سپلاٸ کی جاتی ہے۔دوسرا پیداواری مقام افغانستان ہے تیسرا میکسیکو اور پھر ٹیکساس۔ ان علاقوں میں کبھی امن نہیں ہوا عوام کی حالت خستہ ہے غربت اور خانہ جنگی نے عوام سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی ہیں ۔ یہی حال پٹرولیم مصنوعات کے قدرتی وساٸل رکھنے والے ممالک کا ہے۔ وہی شام عراق ہو یا تنزانیہ ان کے خزانے سے سپر پاورز خوشحال اور وہ خود تباہ حال ۔افریقی ممالک کا تو جرم بالکل ناقابل معافی ہے کیونکہ ان کی زمین سونا اور ہیرے اگلتی ہے لہذا خانہ جنگی اور بھوک افلاس ان کا مقدر ٹھہرا دٸیے گۓ۔ اب منشیات کی سمگلنگ ہو یا سونا ہیروں اور پیٹرول کی لوٹ مار ان سب کے پیچھے آپ کو سپر پاورز کی ایجنسیز کا ہاتھ ملے گا اور اس ملک کی عوام کے ہاتھوں میں انہی سپر پاورز کا بنایا اسلحہ نظر أۓ گا۔ کسی بھی ملک میں کوٸ بھی قیمتی معدنیات ہوں یا اس کی جغرافیاٸ اہمیت ہووہاں جنگ یا بغاوت ضرور ہوگی اور اسلحہ سپر پاورز کا دکھتا ہے۔ یعنی اک پنتھ دو کاج۔ آپس میں لڑوا کر اسلحہ بیچ کر پیسے بناٶ اور ساتھ وہاں کے وساٸل بھی لوٹو۔ تو جناب یوں بناۓ جاتے ہیں بحری بیڑے جدید سیٹلاٸٹ اور ابدوزوں کے ذخیرے۔
    اب ایسے میں کسی ملک کی ارمی حلال طریقے سے بیکریز سیمنٹ اور ہاٶسنگ سوساٸیٹیز بنا کر بجٹ کی کمی پورا کرنا چاہے تو اس کے خلاف پروپیگنڈا آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اب سوال تو یہ ہے کہ پورے پورے ملک تباہی اور بربادی کی آگ میں جھونک کر انسانیت کے علمبردار بن جانا اور پھر سپر پاور کہلانا کیوں؟
    مذہب کے لیے لڑنے والوں میں نوے فیصد لوگوں کی اپنی زندگی اسی مذہب کے أصولوں کے خلاف ہوتی ہے جس کی خاطر وہ دوسرے کی جان تک لے لیتا ہے۔ تو کیا وجہ مذہب ہے؟ یا اپنے آپ کو درست ثابت کرنا اپنی بات منوانا اور دوسرے کو غلط ثابت کرنا؟
    آج یہودیوں کو دجال کا انتظار ہے ہندو کالکی کے اوتار کے انتظار میں ہیں عیساٸ حضرت عیسی کے منتظر مسلمان امام مہدی کے منتظر ہیں مگر کیوں؟
    کیا یہ سب اپنی اپنی زندگیاں اپنے اپنے دین ومذہب کے عین مطابق گزار رہے ہیں ؟ یا گزارنے کو تیار ہیں؟ ہرگز نہیں یہ بس اس وعدے کے ایفا ہونے کے منتظر ہیں کہ ان کا نجات دہندہ اۓ گا اور پھر اس کے ساتھ مل کر وہ باقی سب کا خاتمہ کرکے پوری دنیا پر راج کریں گے۔ مطلب خواہش وہی ہابیل وقابیل والی ہے اپنا آپ درست منوانا اور دوسرے کو زیر کرنا۔ مگر انسان اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے خالق کی زمین پر جتنا بھی کشت وخون بہا لے ہوگا وہی جو خالق چاہے گا رسی درزا ضرور ہو گی مگر کھینچی بھی اتنے زور سے جاتی ہے کہ سپر پاورز منہ کے بل آگرتیں ہیں۔ اپنی انا کی تسکین اور غرور کی خاطر چاہے ساری نسل انسانی کا خاتمہ کردے کوٸ الله أكبر کی گونج برقرار رہے گی۔ ان شاء اللہ
    رہے نام اللہ کا۔
    @AmanHarris

  • آزادی کے بعد بھی آزادی کی ضرورت۔ تحریر: سریر عباس

    14 اگست 1947 کو ملک پاکستان کاغذی طورپہ آزاد ہوا۔
    لیکن ذہنی طورپہ آج بھی یہ ملک اور اس ملک کی عوام آزاد نہ ہوسکی البتہ حکمران آزاد ہیں۔
    کیونکہ ملک کی آزادی کیلئے اصل کردار اداء کرنے والے ملک کے آزاد ہوتے ہی پیچھے ہوگئے اور لوٹیروں نے قبضہ کر لیا۔
    علماء و صوفیاء جنہوں نے بھرپور انداز میں تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کو قوت بخشی جب پاکستان بننے کے بعد انہیں عہدوں کی آفر کی گئی تو اکثر نے اس آفر کو ٹھکرا دیا جن میں سب سے بڑا نام شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ (سیال شریف سرگودھا) کا ہے۔
    اسی طرح مولانا عبد الستار خان نیازی جنہوں نے تحریک پاکستان کیلئے تن من دھن قربان کیا۔
    پاکستان بننے کے بعد 1953 کی تحریک ختم نبوت میں صف اول کے مجاھد ہونے کی وجہ سے قید ہوئے اور سزائے موت کی سزاء سنائی گئی۔
    یعنی ملک پاکستان کے اصل وارث اسی دن سے ظلم ستم و جبر کا شکار ہونا شروع ہوگئے جس دن بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو جس ایمبولنس پہ لے جایا جارہا تھا اس کا راستے میں پٹرول ختم ہوگیا۔
    پٹرول ختم ہوگیا یا ختم کیا گیا۔۔۔
    اس پر بہت ساری بحث و تکرار ہو چکی ہے اور اب بھی وقتاً فوقتاً یہ موضوع زیر گردش رہتا ہے۔
    لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد جب بانی پاکستان کی وفات اور پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی وفات کے بعد
    ملک پاکستان کو کوئی مخلص لیڈر نہیں ملا۔
    اگر کوئی مخلص ہوکے سامنے آیا تو اسے ایسا دبایا گیا کہ وہ دوبارہ یا تو سر نہیں اٹھا سکا یا پھر سانس ہی نہیں لے سکا۔
    یہ جاگیردارانہ نظام دن بدن ترقی کرتا چلا گیا
    اور آج یہ نظام اتنا طاقتور ہوگیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بیٹھے یہ قوم کے لٹیرے
    جو من میں آتا ہے اپنی عیاشی کیلئے بل پاس کرکے آزاد ہوتے جارہے ہیں حالانکہ اس ملک کا آئین شریعت کا پابند ہے۔
    لیکن یہاں جو نفاظ شریعت کی بات کرتا ہے اس کیلئے ذہنی و جسمانی سختیاں تو ہیں ہی ساتھ میں غیر شرعی قانون بھی پاس کر کے مزید پابند کرتے چلے جارہے ہیں۔
    قومی و عوامی مسائل پہ کارکردگی صفر، معیشت پہ کارکردگی صفر، وزارت داخلہ و خارجہ پالیسی صفر،
    لیکن مہنگائی و بے رزگاری بڑھانے میں یہ حکمران مکمل آزاد ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں لیکن
    عوام مکمل طورپہ ظلم و ستم اور مہنگائی کے چنگل میں جکڑی ہوئی ۔
    ملک آزاد حاصل کیا لیکن ہم آزاد نہ ہوسکے.
    پاکستان میں نظام عدل اس قدر کمزور ہوچکا ہے کہ پاکستان کے اکثر تھانوں میں تعنیات کیا ہوا "ایس۔ایچ۔او” کی اتنی قدر نہیں ہوتی جتنی قدر ہمارے منتخب کردہ "ایم۔این۔اے” یا "ایم۔پی۔اے” کی زبان کی ہوتی ہے۔
    لیکن اس زبان کو طاقت دینے میں ہمارا اپنا بھرپور ساتھ ہوتا ہے
    کیونکہ ہم نے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا کرنا اپنی وراثت سمجھا ہوا ہے اسی طرح اگر پڑوسی نے بھی ہم سے لڑنے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوتا ہے۔
    اور جب پڑوسی یا کوئی بھی رشتہ دار ہم سے لڑ پڑے تو "ڈائریکٹ” قانون کا دروازہ نہیں کھٹکٹاتے
    بلکہ ہم ایم این اے کا دروازہ کھٹکٹاتے ہیں جنکے ہم نے نعرے لگائے ہوتے ہیں
    اب ان ایم این اے کو مزید نعروں کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور تھانوں کو جس طرح پہلے یرغمال بنایا ہوتا ہے وہاں اب مزید دب دبا جما کے اپنا رعب ظاہر کرنا ان کا کام بن جاتا ہے۔
    وہ ایم این اے جس کا کام خارجہ پالیسی کو مضبوط کرنا ہوتا ہے
    وہ صرف اپنے ماتحتوں کو مضبوط کرتا ہے۔
    تھانے دار کو رشوت دلواتا ہے اور اپنی مرضی کے فیصلے کراکے اس ذہنی غلام قوم سے اپنی واہ واہ سمیٹ لیتا ہے اور ساتھ میں اگلے الیکشن کیلئے ووٹ بھی پکا کر لیتا ہے۔
    سوچنے کی بات تو یہ ہیکہ اس ایم این کا اپنا کیس کبھی ایسا نہیں آتا جس میں پڑوسی کا جھگڑا یا رشتہ دار کا معمولی جھگڑا شامل ہو
    بلکہ یہ کام اس نے اپنے سپورٹروں کے ذمہ لگائے ہوتے ہیں۔
    ہمیں اپنی سوچ اپنے معیار اور اپنے انتخاب کو بدلنا ہوگا
    تانکہ ہم اس معاشرے کو ذہنی غلامی سے نکال کر آزاد ہو سکیں۔
    @1sareer

  • افغانستان  کیسے  دنیا  کا  امیر  ترین  ملک بن سکتا ؟ تحریر: راؤ اویس مہتاب

    افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک بن سکتا ؟ تحریر: راؤ اویس مہتاب

    آج کی اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ افغانستان کیسے دنیا کا امیر ترین ملک اور پاکستان کیسے دنیا کی سب سے اہم منڈی بن سکتا ہے۔ جبکہ چین کیوں امریکہ کی حماقتوں پر خوش ہے اور آنے والے دن کیسے اس خطے کی قسمت بدلنے والے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں جو بات ہم بار بار سنتے ہیں وہ یہ ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی افغانستان کے حوالے سے کئی چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ اس وقت چین امریکی صدر بائیڈن کے غلط فیصلوں پر قہقے لگا رہا ہے۔ جہاں بھارت یہ شور مچا رہا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں سب سے بڑا فاتح ہے وہاں دنیا کے بڑے معاشی ملک یہ کہہ رہے ہیں کہ چین طالبان کے زیر قبضہ دولت کو استعمال کر کے اپنی طاقت میں حیران کن اضافہ کر سکتا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکہ سمیت یورپ میں 2030 کے بعد شائد ہی کوئی ایسی گاڑی ہو جو الیکٹرک نہ ہو اور پٹرول سے چلتی ہو اس کی وجہبڑھتی ہوئی Pollution سمیت ماحولیات سے دنیا کو لاحق خطرات سے نبٹنا ہے اور جب دنیا کی سب گاڑیاں خاص طور پر مغربی ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں الیکٹرک ہو جائیں گی تو انہیں چلانے کے لیے پٹرول کی بجائے۔ طاقتور بیٹریوں کی ضرورت ہو گی۔
    آج گاڑی چلانے کے لیے جتنا اہم سعودی عرب کا پٹرول ہے دس سال بعد وہ اہمیت بیٹریاں بنانے والی دھاتیں لے لیں گی۔

    اور دھات وہ چیز ہے جسے فیکٹریوں میں نہیں بنایا جا سکتا بلکہ معدنیات کے طور پر زمین سے نکالا جاتا ہے۔ بیٹری ایک دھات لیتھیم سے بنتی ہے ۔ اور دنیا بھر میں لیتھیم کی ڈیمانڈ میں دوہزار چالیس تک چالیس گنا اضافہ ہو جائے گا۔clean energy technologiesکے لیے جن اہم منرلز کی ضرورت ہےاس میں Solar PV
    اور Electricity networks بنانے کے لیے کاپر، ایلومینیم جبکہ EVs and battery storage کے لیئے کاپر، نکل کوبالٹ،لیتھیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ معدنیات آج کی ماڈرن انڈسٹری کی Backbone ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پینٹا گون کی ایک اسٹڈی کے مطابق افغانستان کے چونتیس میں سے صرف ایک صوبے غزنی میں$1 trillion
    کےuntapped mineral depositsموجود ہیں۔جبکہ اس سے پہلے ہونے والی اسٹڈیز کے مطابق افغانستان میںiron, copper, cobalt, goldاور دیگر ایسے منرل جس میں
    Lithiumبھی شامل ہے کے بڑے خزانے ہیں۔ جو آج کی ماڈرن انڈسٹری کے لیے ضروری ہیں اور یہی چیز افغانستان کو دنیا کے سب سے اہم Mining centers
    میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ ماننا ہے امریکی حکام کا۔۔پینٹا گان کے Internal memo کے مطابقافغانستان لیتھیم کا سعودی عرب ہے۔ یعنی جتنا تیل سعودی عرب میں ہے اتنا لتھیم افغانستان میں ہے اور لیتھیم کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر افغانستان میں موجود ہیں۔ جو موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ، کیمروں، ڈرونز اور دوسری ڈیوائسز کی بیٹریز کے علاوہ الیکٹرک کارز کی ری چارج ایبل بیٹریز کا بھی لازمی جزو ہے۔جو آج دنیا میں ختم ہو جائیں تو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کا کام ٹھپ ہو جائے۔ اور افغانستان میں تیس کھرب ڈالر سے زائد کی یہ معدنیات موجود ہیں۔ جبکہ بہت سی جگہیں افغانستان میں بد امنی اور دیگر وجوہات کی بنا پر آج تکExplore ہی نہیں ہو سکی۔جیسے تیل سے مشرقِ وسطیٰ کی معیشت دیکھتے ہی دیکھتے بدل گئی ویسے ہی معدنیات سے مالامال ملک ان سے فائدہ اٹھا کر اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔جبکہ افغانستان میں یہ معدنیات اتنی بہتات میں موجود ہیں کہ یہ دنیا بھر کی انویسٹمنٹ کمنیوں کو اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں اور وہاں نسلوں سے جنگیں لڑنے والے نوکریاں ملنے کی صورت میں اپنی قسمت بدل سکتے ہیں۔
    لیکن اس وقت امریکہ کی صورتحال دیکھ کر چینی حکام یقینا قہقے لگا رہے ہوں گے۔ کہ امریکہ نے بیس سال میں ٹریلین ڈالر لگا کر ہزاروں فوجیوں کی قربانی دے کر کیا پایا۔جبکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چین جو روڈ نیٹ ورکس بنانے کا ماہر ہے، افغانستان میں کابل سے اسلام آباد تک روڈ کا منصوبہ تیار کیے بیٹھا ہے، کاپر کی مائننگ کا بڑا کنٹریکٹ وہ کرزئی حکومت کے دور میں لے چکا ہے جبکہ لیتھیم کی مائننگ کے منصوبے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ چین، روس اور پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام ہے جبکہ چین اور پاکستان کے آپس میں تعلقات بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لیے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چین طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کی دولت سے مستفید ہو سکتا ہے۔ وہ افغانستان سے مزید Copper, cobalt اور سونا بھی نکالنے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھا ہے تو امریکہ کو کیا ملا۔ امریکہ کی انڈسٹری اب کیسے Survive کرے گی جبکہ چین افریکہ میں بھی معدنیات کے بڑے منصوبے شروع کر کے بیشتر افریکی ممالک کو اپنے ہاتھ میں کر چکا ہے۔دنیا کو سمجھ نہیں آرہی کہ بائیڈن نے یہ کیا کیا ہے اور یہ امریکہ کی ایک Major strategic failure ہے۔ افغانستان کو اس وقت انفرا سٹرکچر کی ضرورت ہے جبکہ چین کو بھی اپنے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے لیے افغانستان میں انفرا سٹرکچر بلڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں کی ضرورتیں بھی ایک ہیں اور دوستی بھی۔چین کے پاس یہ قابلیت ہے کہ و ہ ایک سال میں 100 coal power plant تیار کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے اسے Raw material کی ضرورت ہے جو اب وہ افغانستان سے حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔

    امریکہ کی منصوبہ بندی تھی کہ اس خطے میں امن قائم نہ ہو تاکہ چین یہاں پر اپنا کام نہ کر سکے اسی لیے اس نے ایک طرف طالبان سے معاہدہ کر کے نکلنے کا منصوبہ بنا لیا تو دوسری طرف افغان فورسز کو لڑائی کے لیے نہ صرف تیار بلکہ اکساتا رہا ۔ لیکن افغانستان کے ہمسایہ ممالک نے امریکہ کی اس چال کو الٹ کے رکھ دیا۔ اب طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں اگر امن قائم ہوتا ہے تو چین اس سے سب سے زیادہ مستفید ہو سکتا ہے۔
    دوہزار دس کی ہی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 420 ارب ڈالر مالیت کا لوہا270 ارب ڈالر مالیت کا تانبہ بھی موجود ہے۔ جبکہ افغانستان کی جی ڈی پی بارہ بلین ڈالر کے قریب ہے۔ افغانستان میں غیر قانونی کان کنی پہلے ہی زوروں پر ہے،2001 کے بعد سے افغان حکومت کو مقامی سرداروں اور وار لارڈز کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر سالانہ کا نقصان ہو رہا تھا۔ جب امریکہ نے دوہزار ایک میں افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت بھی افغانستان کے صوبے لوگر میں چین ایک تانبہ کی کان میںMining کر رہا تھا۔ صرف اسی کان میں تانبہ کی مالیت کا اندازہ لگایا جائے تو وہ پچاس بلین ڈالر سے زائد ہے۔لیکن میں یہ ویڈیو کرتے ہوئے مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ پاکستان کو اس کا کیا فائدہ ۔۔۔۔ طالبان کے بعد اگر کوئی دوسرا گروپ یا ملک اگر اس فتح کا کریڈٹ لینے کا مستحق ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اگر سب کچھ چین ہی لے جائے گا تو پاکستان کو اتنی قربانیاں دینے کا کیا فائدہ ہو گا۔ پاکستان کے پاس بلوچستان میں معدنی ذخائر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے تو افغانستان میں کیا کرے گا۔ کیا پاکستان صرف اپنی راہداری، گوادر اور سی پیک سے ہی مستفید ہو پائے گا۔ کیا پاکستان معدنیات کی منڈی نہیں بن سکتا۔چین کے پاس افغانستان پہنچنے کا پاکستان کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ افغانستان سے چین کی سرحد ایک برفانی اور پہاڑی علاقہ پر ہے جہاں سفر کرنا بہت مشکل اور مہنگا پڑتاہے۔
    افغانستان کے صوبہ بدخشان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے مویشی پالتے ہیں اور وہاں تاجر ٹرکوں پر کھانے پینے کی چیزیں اور آٹا لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے مویشی خرید لاتے ہیں۔ اس روٹ پر ایک چکر کم از کم پندرہ دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اور یہ صرف گرمیوں میں ہی ممکن ہوتا ہے۔تو پاکستان چین کے پاس واحد روستہ ہے اپنی چیزوں کو دنیا کی منڈیوں تک پہنچانے کا۔لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم ساری زندگی اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ بھی کچھ کر پائیں گے۔
    بہر حال افغانستان میں امن پاکستان کو سینٹرل ایشیا سمیت پورے رجن کا تجارتی مرکز بنا دے گا، پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کا توانائی سے مالامال علاقہ بھی کھل جائے گا۔
    لیکن طالبان کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ اس کے لیے امن سمیت سرمایہ کاری کے لیےPerfect
    ماحول فراہم کرنا پڑے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن پاکستان اس کے باوجود بلوچستان کی معدنیات سے مستفید نہیں ہو پا رہا۔ افغانستان کی معدنیات بھی ایک بٹن دبانے سے باہر نہیں آجائیں گی۔ بلکہ اس کے لیے دنیا کی بہترین کمپنیوں سے بہتریں کان کنوں کی ضرورت ہو گی۔ جبکہ شفاف کنٹریکٹس اور ممالک کے ساتھ معاہدے بھی ایک بڑا امتحان ہو گا۔
    جبکہ اس وقت ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے اور طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان پر قبضہ کرنا آسان اور اسے MAINTAINکرنا مشکل ہے۔ افغانستان کے تمام وار لارڈز ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں ان کی طاقت ابھی تک موجود ہے، اگر طالبان نے انہیں حکومت میں جائز حق دے کر قومی حکومت نہ بنائی تو افغانستان میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔

  • مورنگا  تحریر -محسن ریاض

    مورنگا تحریر -محسن ریاض

    مورنگا کو ایک کرشماتی پودا کہا جاتا ہے اس کو عام زبان میں سوہانجنا کہتے ہیں اس کو صدیوں سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کو پاکستان میں شجر کاری کرتے وقت لازمی کاشت کریں کیونکہ اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ایک سخت جان پودا ہے اور موسم کی شدت آسانی سے برداشت کر سکتا ہے اس کے علاوہ اس کی بڑھوتری بہت تیزی کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ ایک سال میں نو سے دس فٹ تک بڑھ سکتا ہے اس کو برسات کے موسم میں باآسانی قلم کے ذریعے اگایا جا سکتا ہے اسں کی علاوہ اس کا بیج کے ذریعے بھی زبردست اگاؤ ہے یہ کسی بھی علاقے میں نرسری پر بھی دستیاب ہوتا ہےاور یہ دودھ والے جانوروں کے لیے بھی ایک مفید غذا ہے جس کی مدد سے مقدار کو بڑھایا جا سکتا ہے اور صحت پر بھی مثبت اثرات رونما ہوتے ہیں انسانی صحت کے لیے بھی یہ بے حد مفید ہے کیونکہ اس میں پروٹین کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے اس کے علاوہ اس میں وٹامن سی اور آئرن بھی پایا جاتا ہے اس کے انسانی صحت پر فوائد بیان کریں تو اس میں سب سے پہلے یہ بلڈ شوگر کو کم کرتا ہے اس کی علاوہ اس میں اینٹی بیکٹیریل زرات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ جلد کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے اس میں کیلشیم اور فاسفورس ہوتا ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بہت مفید ہے اس کو کئی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں سب سے مقبول طریقہ اس کا پاؤڈر کی شکل میں استعمال ہے اس طریقہ کار کے مطابق اس کو چھاؤں میں خشک کیا جاتا ہے اور اس کی بعد اس کو پیس کر پاوڈر بنایا جاتا ہے اور کھانے کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ قہوے کی شکل میں اسے استعمال کیا جاتا ہے جس میں اس کی چھال اور پتوں کو پانی میں ابال کر قہوہ بنایا جاتا ہے اس کے علاوہ اس کا جوس بھی پیا جاتا ہے اس کے پیسٹ کو چہرے پر جھریوں اور کیل مہاسوں سے بچاو کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آجکل ایک اور طریقہ بے حد مقبول ہو رہا ہے جسے مورنگا پیسٹ کہتے ہیں اور آجکل یہ ملک کی اکثر سٹورز پر دستیاب ہوتا ہے اور آنلائن بھی آپ اسے منگوا سکتے ہیں پاکستان میں اس وقت ڈاکٹر شہزاد بسرا صاحب اس کی پروموٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس کے فوائد بتا رہے ہیں -تاکہ اس کو زیادہ سے زیادہ کاشت کیا جاسکے اس کے علاوہ وہ اپنے یوٹیوب چینل ہیلتھی لائف سٹائل کے ذریعے بھی لوگوں کو صحث مند زندگی گزارنے کے رازبتا رہے ہیں اور وہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر بھی ہیں۔ڈاکٹر شہزاد بسرا صاحب نے بتایا کہ صرف چار ماہ کے استعمال سےان کا کولیسٹرول لیول اڑھائی سو سے ڈیڑھ سو پر آ گیا تھا اور اپنی چینل میں برطانیہ پلٹ شخص گلزار سے ان کی صحت میں بہتری سے متعلق چند سوال پوچھے تو ان کے جوابات یہ تھے کہ ان کی عمر اسی سال کے قریب ہے اور طرح طرح کی ادویات استعمال کر کے ان کا جگر اور گردے تقریباً ناکارہ ہو چکے تھے مگر مورنگا پاؤڈر کے استعمال کے بعد وہ ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں -مورنگا کے تمام فوائد تو شائد گنے نا جا سکیں مگر ان تمام فوائد کو دیکھتے ہوئے ہر انسان کو ایک بار ضرور اس کا استعمال کرنا چاہیے اس کا پہلا فائدہ تو ماحول پر ہوتا ہے اور دوسرا اس سے انسانی صحت بھی لاجواب رہتی ہے اگر ہم عہد کریں کہ شجرکاری کرتے وقت اس کو لگائیں تو ماحول دوستی کےساتھ ساتھ اور بھی کئی طرح کے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں

    ٹویٹر-mohsensays@

  • طالبان کو درپیش چیلنجز      تحریر: ثمرہ اشفاق

    طالبان کو درپیش چیلنجز تحریر: ثمرہ اشفاق

    15اگست بھارت کے یوم آزادی والے دن افغان طالبان باآسانی تمام صوبوں پر اپنا کنٹرول سنبھالنے کے بعد دارالحکومت قابل پہنچے۔خون ریزی اور افراتفری سے بچنے کے لئے صدارتی محل میں مذاکرات شروع ہوئے۔سابق صدر اشرف غنی یہ بھانپ چکے تھے کہ جہاں سرکاری فوج ریت کا ڈھیر ثابت ہوئی اور ہتھیار ڈال دیئے وہاں اقتدار سے الگ ہونا ہی مصلحت ہے۔اس لیئے ان سمیت تمام سرکاری عہدیداران نے ملک سے فرار اختیار کر لی۔
    یوں افغانستان میں ایک بار پھر اقتدار طالبان کے حصے میں آیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی بدلے ہوئے طالبان کے بدلے ہوئے انداز تھے۔تمام لوگوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے طالبان نے کسی کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا۔خواتین کو تعلیم سمیت تمام شرعی حقوق دینے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے پرامن رہنے اور بلا خوف وخطر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
    غیر ملکیوں سے سفارت خانے نہ بند کرنے اور انہیں مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی۔
    گو کہ بظاہر افغانستان میں معمولات زندگی بحال ہونے لگے لیکن طالبان کو ابھی بیشتر چیلنجز درپیش ہیں،جن میں سب سے اہم مسئلہ معاشی ہے، امریکہ جو کہ افغانستان میں شکست سے دو چار ہو کر نکل رہا ہے اس نے افغانستان کے مرکزی بینک کے ساڑھے نو ارب ڈالر یہ کہہ کر منجمد کر دیئے کہ اس رقم کی رسائی ہرگز طالبان تک نہیں ہونے دیں گے۔اس کے بعد عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف نے بھی مالی امداد یہ کہہ کر روک دی کہ طالبان کو تسلیم کرنے کے حولے سے عالمی موقف غیر واضع ہے۔اس کے بعد جرمنی نے بھی 43 کروڑ ڈالر کی امداد بند کر دی۔تاہم یورپی یونین نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھی ہے۔اس طرح طالبان کے لیے امداد کے بغیر معیشت چلانا ایک بڑا چیلنج ہے۔
    معاشی چیلنج کے ساتھ ساتھ طالبان کے لیئے اقوام عالم کا اعتماد جیتنا اور خود کو تسلیم کروانا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔گو کہ طالبان کا انداز انتہائی محتاط ہے اور وہ کہیں بھی خود پر تنقید کا موقع نہیں دینا چاہتے لیکن عالمی برادری اس حکومت کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے اور پہل کرنے سے کترا رہی ہے۔پاکستان،روس اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر ہونے کے باوجود ابھی تک واضح حمایت حاصل نہ ہو سکی۔
    اس کے علاوہ بہت سے پڑھے لکھے اور ہنرمند افراد بھی افغانستان سے باہر یا تو جا چکے ہیں یا جانے کے انتظار میں ہیں۔جبکہ طالبان یہ اعلان کر چکے کہ اپنے ملک کی ترقی میں یہاں رہ کر کردار ادا کریں۔ان کا اعتماد حاصل کرنا بھی افغانستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
    تیسرا بڑا مسئلہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔
    امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت بھی افغانستان سے ناکام اور مایوس ہو کر نکلا ہے۔بھارت افغانستان میں سرمایہ کاری کے بہانے وہاں کی سر زمین استعمال کر کہ امریکہ،اشرف غنی اور این ڈی ایس کی معاونت سے پاکستان میں بدامنی پھیلاتا رہا ہے۔اگرچہ سفارتی بہروپیے وہاں سے نکال لئے گئے لیکن بھارت بچے کچھے جاسوسوں اور دہشت گردوں کے ذریعے افغانستان میں بدامنی کی کوشش کرے گا۔
    چاہے وہ قومی پرچم کو لے افغان عوام کو شتعال دلانا ہو یا خواتین کے حقوق کے نام پر پراپیگنڈا،بھارت باز نہیں آئے گا۔
    دوسری جانب امریکہ بھی اپنا اثرورسوخ آسانی سے ختم نہیں کرے گا۔اپنی شکست کے گھاؤ بھرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
    جیسا کہ امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا اور قابل ایئر پورٹ حملوں سے گونج اٹھا جس میں اب تک 183 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
    اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی اور اس کو جواز بنا کر صوبے ننگرہاری میں آج امریکہ کی جانب سے ڈرون حملا کیا گیا۔اور قابل دھماکے کے منصوبہ ساز کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔
    کہتے ہیں کہ افغانستان بادشاہوں کا قبرستان ہے،اس کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے والے بس خواب ہی دیکھتے رہ گئے۔
    لیکن افغانستان مزید کسی بدامنی یا خونریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پاکستان میں امن،افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔طالبان متعدد بار یقین دہانی کروا چکے کہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔امید کرتے ہیں ایسا ہی ہو ۔اب افغان عوام طالبان کو تسلیم کر چکی ہے تو امید کرتے ہیں اقوام عالم بھی طالبان کو تسلیم کر کہ امن کی خاطر حکومت سازی کا موقع دیں گے۔اس خطے میں بہت خون بہہ چکا،اب چمن کو کھلنے دو۔

  • آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    جب انسان جوان ہوتا ہے تو اس وقت نوجوانوں میں قویٰ مضبوط، اور حوصلے بُلند ہوتے ہیں، ان کو سب کچھ اچھا نظر آتا ہے ان کےاندر اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی وہ دماغ سے کم اور دل سے کام لیتے ہیں ۔ وہ پہاڑوں سے ٹکرانے کے لئے پرعزم ہوتا ہے اپنی من مانی کرتے ہیں لیکن جب ان کے راستے تبدیل کیے جاتے ہیں تو ہجانی کفیت کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھراس کا رَدِعمل نظر آنے لگتا ہے جو ان کے لئے اور والدین کے لئے مسئلے کا باعث بنتا ہے نوعمروں میں ذہنی صحت کے مسائل عام سوچنے سے کہیں زیادہ عام ہیں آج کا نوجوان باغی ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں دو قسم کے نوجوان موجود ہیں ایک وہ جو امیر ہیں جواپنی موج مستی میں مست، اپنی مرضی کرتے من پسند کام کوئی روکے ٹوکنے والا نہیں دُوسرا طبقہ متوسط اور غریب نوجوانوں کا ہے جو محنت سے پڑھتے ہیں اور ایک میانہ روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں متوازن رکھتے لیکن کبھی ان نوجوان کے اندر باغیانہ رویّہ اُبھارنے لگتا ہے ۔ نوجوان من چاہی خواہشات ابھرنے لگتی ہیں

    برہم ہوتے غصہ کرتے غلط قدم اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کی زندگی میں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں اور پھر بغاوت کی طرف چل بڑھتے ہیں اپنی کچھ ماہرِ نفسیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےماہر سے پوچھا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ آج کا نوجوان باغی اس لئے اس کے پیچھے بہت سے بہت سے عوامل کار فرما ہیں اور ایسے حالات ہیں جو ان کو باغی بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
    آج کے نوجوانوں یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کو کوئی سمجھتا نہیں، نا کوئی سنتا ہے وہ سمجھتے ہیں جو وہ کہے رہے ہیں وہ ٹھیک ہے باقی جو ان کوسمجھا رہے ہیں ان کو برا سمجھنے لگتے ہیں جسے کہ وہ ان کے دشمن ہوں۔ پھران کے اندر غصّے کے جذبات اُبھارنے لگتے ہیں، بالآخر وہ بغاوت پر اُتر ہی آتے ہیں۔ اور اپنے جذباتی قدم سے اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

    نوجوان نسل معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں جو آںے والے یہ نوجوانوں ملک کامستقبل بننے ہیں نوجوان کسی بھی ملک کی معاشی، اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبود و ترقّی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ جب نوجوان پڑھ لکھ کر نکلتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں کئی خواب ہوتے ہیں ہم یہ کرے گئے وہ کریں گے پہلا خواب تو اچھی ملازمت حاصل کرنے کا ہوتا ہے جس کے لیے وہ جگہ جگہ انٹرویو دیتے ہیں، کچھ جگہوں پر ناکامی دیکھنی پڑتی ہے جس کے باعث وہ فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ کیفیت ان کو غلط صیحح کا فیصلہ نہیں کر پاتے اور باغی پن کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ استاتذہ بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس عمر کے نوجوان والدین سے زیادہ اپنے استاتذہ کی سنتے اور کچھ تو اپنے استاتذہ کی عادتوں کو اپناتے ہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں ۔

    والدین کو چاہییے ایسے نوجوانوں پر خاص توجہ دیں ایک طریقے سے ان ہو ہیڈل کرے جتنا ہو سکے ان عمر کے نوجوانوں کے ساتھ ٹایم گذارے تاکہ ان کو ان سیکورٹی محسوس نا ہو اور اپنی بتاوں کو شئیر کرے ان کو اپنا دوست بنائے ۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • تمباکو نوشی جان لیوا .تحریر :ام سلمیٰ

    تمباکو نوشی جان لیوا .تحریر :ام سلمیٰ

    جی کئی بار ہم ایسا سنتے ہیں کے تمباکو نوشی جان لیوا ہے تو پھر لوگ اب بھی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
    تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں . پھر بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اگر یہ بہت برا ہے تو اچھے خاصے سمجھدار لوگ ایسا کیوں کر رہے ہوتے ہیں؟ اداکار ہوں یہ سماجی لوگ فلموں میں کام کرنے والے یہ میگزینوں میں آپ ہر جگہ کچھ انتہائی خوبصورت اور باصلاحیت لوگوں کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے ، "وہ بہت اچھے لگ رہے ہیں! یہ میرے لیے کیسے برا ہو سکتا ہے؟ ” یا "اگر میں تمباکو نوشی کرو تو شاید میں ایسا ہی لگوں ٹھیک ہے لیکن شاید ہمیں انہیں دیکھنے میں اچھا لگتا ہے لیکن انسان کے اندرونی جسم کی کہانی بالکل مختلف کہانی ہے۔

    تمباکو کے استعمال سے ہر سال 54 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں – ہر چھ سیکنڈ میں اوسطا ایک شخص – اور دنیا بھر میں 10 میں سے ایک بالغ کی موت ہوتی ہے۔
    تمباکو تمام صارفین میں سے نصف کو ہلاک کرتا ہے۔
    دنیا میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد اس وقت تقریباََ ایک ارب سے زیادہ ہے۔
    نیکوٹین انتہائی نشہ آور ہے۔ نیکوٹین کا نشہ آور اثر تمباکو کے بڑے پیمانے پر استعمال کی بنیادی وجہ ہے۔ بہت سے تمباکو نوشی کرنے والے سگریٹ نوشی کے درد سے بچنے کے لیے سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔ تمباکو نوشی کرنے والے اپنے رویے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں مثلاً زیادہ گہرائی سے سانس لیتے ہوئے تاکہ جسم میں نیکوٹین کی ایک خاص سطح کو برقرار رکھا جاسکے۔
    سگریٹ نوشی کرنے والوں میں سے نصف اپنی 18 ویں سالگرہ تک باقاعدہ تمباکو نوشی کر رہے ہوتے ہیں ، اور 90 فیصد نے 21 سال کی عمر سے شروع کر دیتے ہیں.
    ہر روز 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریبا 4 4000 بچے اپنا پہلا سگریٹ پیتے ہیں اور ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 1300 باقاعدہ سگریٹ پینے والے بن جائیں گے۔

    نوعمری میں تمباکو کا استعمال دیگر غیر صحت بخش رویوں سے بھی وابستہ ہے ، بشمول لڑائی جھگڑوں میں ملوث ہونا ، ہتھیار اٹھانا ، اور زیادہ خطرہ جنسی رویے میں شامل ہونا۔
    تمبا کو نوشی نہ صرف آپ کے لیے سخت نقصان دہ بلکے آپ کے ساتھ جُڑے لوگو کے لیے اور آپ کے ارد گرد کے افراد کے لیے بھی سخت نقصان دہ ہے۔

    تمباکو نوشی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہے اور فضا میں زہریلی آلودگی پھیلاتی ہے۔ سگریٹ کے جو ٹوٹے بچتے ہیں وہ بھی ماحول کے لیے خطرناک اس کی باقیات میں موجود زہریلے کیمیکل مٹی اور آبی گزرگاہوں میں گھس جاتے ہیں ، جس سے بالترتیب مٹی اور پانی کی آلودگی ہوتی ہے۔

    جانور اور پودے جو سگریٹ کی باقیات سے رابطے میں آتے ہیں یا زہریلے مادوں کو جذب کرتے ہیں وہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    اس طرح یہ نہ صرف سگریٹ کا دھواں بھی ماحول کے کے نقصان ده ہے جو لوگوں اور ماحول پر کئی طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ سگریٹ کی بنائی کے عمل کے دوران جاری سگریٹ ٹوٹے باقیات اور دیگر فضلہ بھی ماحول کے کے سخت نقصان دہ ہے.

    تمباکو کی صنعت اس سیارے کو نقصان پہنچا رہی ہے جس پر ہم رہتے ہیں ، ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں ، پانی ، زمین اور ہوا کو آلودہ کرتے ہیں.اور زمین کو دھکیل رھے ہیں ایک عالمی تباہی کی طرف.

    جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جب انکو بتایا جاتا ہے کے ان کے لیے تمباکو نوشی ان کے نقصان دہ ہے وہ یہ سب جانتے ہوئے بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہں ہوتے.
    زیادہ تر تمباکو نوشی کرنے والے دفاعی موقف اختیار کرتے ہیں . یقینی طور پر وہ جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی غیر صحت مند ہے لیکن اور وہ اپنے علاوہ کسی اور کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں؟ یقینی طور پر ، سگریٹ کے بارے میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہے ، ٹھیک ہے؟ وہ بندوقیں نہیں ہیں لیکن ہر سال اس سے مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے

    تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اپنے کے اپنے ساتھ جُڑے لوگوں کے لیے اور بہترین ماحول کے لیے۔
    Twitter Handle
    @aworrior888

  • افغانستان، عالمی طاقتیں اور نیا اکھاڑہ .تحریر: ارشد محمود

    افغانستان میں آخر کار وہ کام شروع ہوچکا ہے جس کا اندیشہ تھا اور میرے جیسے کچھ لوگ اس کا دبے لفظوں میں اظہار بھی کرچکے تھے ۔ آسان فتح اپنے پیچھے ہولناکی بھی لاتی ہے ۔ امریکا و دیگر عالمی طاقتوں نے جب دیکھا کہ ان کی تربیت یافتہ افغان فوج مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور پنج شیر میں بھی دوسرا گروپ حاوی ہوچکا ہے تو انھوں نے مبینہ طور پر اپنا وہ گروپ میدان میں اتار دیا ہے جس نے شام میں بالکل اس وقت اپنا آپ دکھا کر پانسہ پلٹ کر رکھ دیا تھا جب اسلام قوتیں کام یاب ہورہی تھیں ۔ وہاں پر بھی جب یہ طاقتیں ناکام ہوئیں تو انھوں نے داعش نامی بدنام زمانہ دہشت گرد جماعت کو میدان میں اتار کر مسلمانوں کے خون کو مزید ارزاں کردیا ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ داعش تو اپنے آپ کو اسلامی جماعت گردانتے ہیں اور علی الاعلان دعویٰ بھی یہی ہوتا ہے تو عرض صرف اتنی ہے کہ آپ کا مطالعہ جہاں کم ہے وہی آپ کی غور وخوض کرنے کی قابلیت بھی قدرے کم ہی ہے ۔ بہرحال اس وقت افغانستان سے عالمی طاقتیں اپنے افراد بڑی تیزی سے نکال کر افغانستان کو ایک نیا اکھاڑہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہیں ۔

    خبروں کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر 2 خودکش دھماکوں میں بچوں ، خواتیں اور 13 امریکی فوجیوں سمیت 60 کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے ۔ معلومات کے مطابق ایک دھماکہ ایئرپورٹ کے سامنے ہوٹل کے قریب ہوا۔ ہوٹل میں زیادہ تر برطانوی اہلکار ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ دوسرا دھماکہ ایئرپورٹ گیٹ کے سامنے ہوا۔ ہدف کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع لوگ تھے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی سخت کردی اور لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ ائیر پورٹ پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو ریڑھیوں پر ہسپتال لے جایا گیا۔ ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کابل ایئرپورٹ پر شہریوں پر بمباری کی مذمت کرتی ہے۔ دھماکے کے مقام کی سکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی۔ شرپسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ کابل دھماکوں کی تحقیقات کا حکم اور خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ کابل ہسپتال ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ دھماکوں کے 60 کے قریب زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام کو یقین ہے کہ ایئرپورٹ حملے میں داعش خراسان گروپ کا ہاتھ ہے۔ امریکی سینٹ حکام کمانڈر جنرل میکنزی نے کہا ہے کہ کابل دھماکوں میں 12 امریکی اہلکار ہلاک اور 15زخمی ہو گئے۔ کابل ائرپورٹ پر حملے کے باوجود انخلاء آپریشن جاری رہے گا۔ حملے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترجمان پینٹاگون جان کربی کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے۔ کابل ائرپورٹ کے ایبے گیٹ پر دھماکہ کمپلکس اٹیک کا نتیجہ تھا۔ دھماکے میں امریکی فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے ہیں۔ کابل ائرپورٹ سے اڑنے والے اطالوی فوجی طیارے پر فائرنگ کی گئی۔ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سربراہ نیٹو نے کہا ہے کہ اتحادی افواج ترجیحی بنیادوں پر کابل سے انخلاء کا عمل جاری رکھیں۔ پاکستان نے کل ایئرپورٹ دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاع ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کابل دھماکوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بچوں سمیت دیگر افراد کی جان لئے جانے کے دلخراش واقعہ پر بے حد افسوس ہے۔ قائد حزب اختلاف کا متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ طالبان حکام نے داعش کی طرف سے ایئرپورٹ کے علاقے میں خودکش حملوں کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔ علاوہ ازیں ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 5 روز باقی، افغانستان سے امریکی انخلا میں تیزی آگئی، 24 گھنٹے کے دوران 19 ہزار افراد کو نکال لیا گیا۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ کابل کے ہوائی اڈے پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر وہاں جانے سے گریز کریں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان نے 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ترک فضائیہ نے اپنے 345 فوجیوں کو اسلام آباد منتقل کیا۔ قندھار ایئرپورٹ بین الاقوامی پروازوں کیلئے کھول دیا گیا۔ غیرملکی پاسپورٹوں پر طالبان نے اسلامی امارات کی مہر لگائی۔ فرانس اور نیدرلینڈز کابل ایئرپورٹ سے اپنے شہریوں کے انخلاء کا آپریشن آج بند کردیں گے۔ بیلجیم نے اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سے نکال لیا۔ حکومت بیلجیم نے کہا ہے کہ بدھ کو آخری 5 فلائٹس کابل اور اسلام آباد کے درمیان چلائی گئیں۔ یورپین کمشن نے کہا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو مہاجرین کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پاکستان سے بات چیت مہاجرین کی ممکنہ آمد کی تیاری کیلئے ہے۔رات گئے امریکی کماندر نے تصدیق کی ایئرپورٹ پر ہونے والے دونوں دھماکے خودکش تھے۔

    یہ ایک پہلا قدم ہے جو داعش کے نام پر اٹھایا گیا ہے ۔ اس کے بعد تسلسل سے یہ کام ہوتا رہے گا ۔ عالمی طاقتیں اس وقت کوشش میں ہیں کہ ان کے افراد زیادہ سے زیادہ افغانستان سے نکل سکیں ۔ یاد رہے کہ مکمل نہیں نکالے جائیں گے بلکہ چند ایک گم نام و غیر معروف افراد کو رہنے دیا جائے گا اور پھر آنے والے دنوں میں اسی طرح کے خود کش دھماکے ہوں گے اور طالبان کی شکل و صورت اختیار کرکے گھناؤنا کھیل کھیل کر انھیں بدنام کیا جاے گا۔ یہ ان کا پرانا وتیرہ ہے ۔ پاکستان پر پھر سے ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوچکی ہے ۔ اسے جہاں پاکستانی سرحدوں کو محفوظ رکھنا ہے وہی پر افغانستان میں داعش کو پاوں جمانے نہ دینا بھی اس کا سردرد ہوگا ۔ افغانستان میں داعش کا مطلب ہے کہ بھارت اسرائیل و امریکا ہمیں پھر سے گھیر کر بیٹھ جائیں ۔ کشمیر میں بھی تحریک آزادی کو اس سے دھچکا لگ سکتا ہے ۔ یہ میرا اپنا تجزیہ اور خیالات ہیں جو میں اپنی معلومات کے سہارے الفاظ میں ڈھال رہا ہوں ۔ داعش اور دیگر گروہوں کو طالبان کی حکومت کے خلاف استعمال کیا جاے گا اور ایک لمبی پراکسی وار کا کام شروع ہوگا ۔ طاقتوں کا پلڑا بے شک طالبان کا بھاری ہوگا لیکن اندرون خانہ حمایت دیگر گروہوں کی بھی ہوگی ۔ اس سب میں طالبان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا اور احتیاط سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے پتے واضح کرنے ہوں گے۔ ایک بڑی اور لمبی جنگ پھر سے افغانستان کے دروازے پر کھڑی ہے جس میں افغانیوں کو ہی افغانیوں سے لڑوا کر اپنے مفادات کو سمیٹا جاے گا اور مزید ہولناکی کے لیے داعش کو بھی داخل کردیا گیا ہے ۔

  • آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    آزادی ،تحریر:ارم شہزادی

    لفظ آزادی بے پناہ وسعت رکھتا ہے اور آزادی کی تعریف زمانہ قدیم سے لے کر زمانہ جدید تک مختلف افکار کے مطابق مختلف رہی۔ آزادی کہتے کسے ہیں؟ آج کا یہ اہم موضوع ہونا چاہیئے تھا لیکن بدقسمتی سے اس پر اس طرح کام نہیں ہورہا جس کی وجہ سے معاشرہ بجائے محفوظ ہونے کے انتشار کا شکار ہے۔ کیا آزادی کا مطلب مدر پدر آزادی ہے؟ کیا آزادی دین سے بیزاری کا نام ہے؟ کیا آزادی کا مطلب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی کی جان مال کو غصب کرنے کا نام ہے یا پھر آزادی معاشرے میں رہتے ہوئے جیو اور جینے دو کی پالیسی کا نام ہے؟ ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلم ہمارے ہاں آزادی کا تصور زرا مختلف ہے لیکن یہاں دیکھیں گے کہ مغرب آزادی کی تعریف کیسے کرتا ہے؟ اسکے قدیم اور جدید مفکرین کیسے بیان کرتےہیں؟
    ہیگل مغربی مفکرین میں ایک اہم نام سمجھا جاتا ہے۔ وہ آزادی کے متعلق لکھتا ہے "دنیا کی تاریخ سوائےاس امر کے اور کسی واقعہ سے بھرپور نہیں کہ انسان ارتقائی لحاظ آزادی کے تحفظ میں مسلسل کوشش جاری رکھی اور وہ آج تک تحفظ آزادی کے لیے سرکرداں ہے، البتہ آزادی کی نوعیت میں فرق ضرور پڑتا رہا ہے۔ کبھی یہ آزادی زاتی نوعیت کی رہی کبھی مجموعی نوعیت کی، کبھی شخصی حکومت کی آزادی کا تحفظ رہا ہے، کبھی جمہوری طرز کا بچاؤ ہوتا رہا ہے۔ بہرحال حقوق کے تحفظ کی آزادی کی بنا پر تاریخ ارتقائی مراحل طے کرتی رہی ہے۔ جہاں تک مشرقی اقوام کا تعلق ہے انکے زہن میں انفرادی آزادی، سماجی آزادی کے علاوہ روحانی آزادی بھی سمائی رہی ہے۔” ہیگل کے نزدیک فرد کی آذادی کی ضامن صرف ریاست ہے ۔اگر فرد کو ریاست کی پشت پناہی حاصل نا ہو تو فرد کی آزادی کیا اسکی جان مال کو بھی خطرہ ہے۔اسکا مطلب ہیگل انسان کی انفرادی آزادی کے ساتھ اسکی قومی آزادی کا خواہاں ہے۔اسکے نزدیک انفرادی آزادی کا راز رائج الوقت قوانین کی اطاعت اور اپنے حقوق کی اسانی سے جڑا ہے۔ ایسے حقوق جن کی بنیاد خوش اخلاقی پر قائم ہو۔اخلاقی قدروں کے تقاضے کے مطابق اگر کوئی فرد کچھ وقت کے لیے ریاست کے دوسرے حصے یا دوسری ریاست چلا جاتا ہے تو بھی اپنی ریاست کے قوانین کی پاسداری اسکے فرائض میں ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو دوسری ریاست بھی اسکی عزت کرےگی اسکے وقار میں اضافہ ہوگا۔ کیا اجکل ایسا ہورہا ہے؟ کیا آزادی کا یہ کانسیپٹ متصادم نہیں ہے موجودہ دور کے لفظ آزادی کی تشریح میں؟ ایک اور مغربی مفکر ہےفشے (Fachte) کا کہنا بھی یہی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف ریاستوں میں رہنے والے لوگوں کے مزاج اطوار مختلف ہیں اور اس اختلاف نے انفرادی آزادی کی مختلف اقسام کو جنم دیا۔اور اسی لیے دنیا میں ثقافت کے بھی کہئ رنگ ہوتے ہیں۔جو بالآخر افراد کی نفسیات، خیالات، اور مطمع ہائے نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔فرد بنیادی طور پر اطاعت کے لیے پیدا ہوا ہے چاہے یہ اطاعت ریاست کی ہو، یا مقتدر اعلیٰ کی، اخلاقی نوعیت کی ہو یا روحانی۔ ہرفرد کو اطاعت شعار ہونا پڑتا ہے، لیکن اس اطاعت کے باوجود اسکے کچھ حقوق ہیں، ان حقوق کا آسانی سے حاصل ہوجانا آزادی کی دلیل ہے۔کسی بھی فرد کو حقوق اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک اسکا تعلق براہ راست کسی ریاست سے نہیں ہوتا۔

    ایک اور مفکر جان سٹورٹ مل ہے ۔اسکا نظریہ آزادی تھوڑا مختلف ہے ہیگ اور فشے سے یہ شخصی آزادی کو اہمیت زیادہ دیتا ہے ریاست کے اختیارات محدود کرتا ہے یہ کہتا ہے کہ ریاست اس وقت دخل دے سکتی ہے جب کسی دوسرے کے مفاد عامہ کو نقصان ہو۔ ورنہ شخص جہاں چاہے جائے جو مرضی کرے کسی کو حق نہیں کہ وہ اسکی آزادی کو سلب کرے اگر یہ بات مان لی جائے تو بات وہی ہے جو اس سے پہلے والے مفکرین کر چکے کہ آزادی کا مطلب دوسروں کو روند دینے کا نہیں بلکہ اخلاقی اقدار اپناتے ہوئے معاشرے میں امن قائم کرنا ہے۔ مل ایک قدم اگے ضرور بڑھتا ہے وہ خواتین. کی آزادی کو بھی شامل کرتا ہے۔ وہ خواتین کو تمام حقوق مردوں کے برابر نا سہی لیکن کچھ حقوق ضرور ملنے چاہیئں۔ مل کا خیال ہے فرد کو نجی ملکیت کا حق ہونا چاہیئے کیونکہ نجی املاک افرادمعاشرہ کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    ٹامس ہل گرین آزادی کا مداح ہے لیکن ساتھ وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کے جو دل میں آئے وہی کرتا پھرے چاہے اس سے دوسرے کو نقصان ہی کیوں نا پہنچے بلکہ وہ آزادی کو کی حد مقرر کرنے پر زور دیتا ہے۔آزادی اسی وقت تک مستحسن ہوسکتی ہے جب وہ کسی دوسرے کے نقصان کا موجب نا بنے۔ اسک کہنا ہے کہ آزادی کا مطلب. معاشرے کی فلاح ہے ناکہ مزاحمت۔ ایک اور مفکر ہر برٹ اسپنسر ہے کا کہنا ہے۔”ہرایک انسان اپنی مرضی اور عمل میں ازاد ہے، بشرطیکہ وہ دوسرے انسانوں کی آزادی پر دست درازی نا کرے جو اسی کی طرح انہیں حاصل ہے۔”ان تمام مفکرین کی اراء میں بھی کہیں ازادی کا مطلب دوسروں کو تہس نہس کرنا نہیں بلکہ آزادی کوریاست کے تابع کرنا ہے دوسروں کی آزادی کا اتنا ہی خیال رکھنا ہے جتنا کہ اپنی آزادی پھر یہاں کیوں لوگ چند دنیوی فائدے کے لیے ملکی اقدار کو داؤ پے لگا دیتے ہیں کیسے وہ اسائلم کے لیے یا روپے پیسے کے لیے ملکی اداروں کی ساکھ داؤ پے لگا دیتے ہیں؟ ریاست زمہ دار ہے اپکی تو کیوں اسکے خلاف برسرپیکار ہیں؟ اپنی ریاست یا اپنا ملک اپکی پہچان ہے اسکے نام کو وقار کو داؤ پے لگاؤگے تو عزت خود بھی کہیں نہیں پاؤگے۔ شخصی آزادی یا اجتماعی آزادی ہو ریاست سے وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں ہمارے ملک کے ساتھ وفادار رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ امین
    جزاک اللہ
    تحریر تحقیق ارم رائے

  • مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    مستحکم افغانستان کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان نے حیرت انگیز فتوحات حاصل کرتے ہوئے 15 اگست کے روز چند گھنٹوں میں کابل کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے تخت افغانستان پر اپنی عملداری قائم کرلی، دنیا نے اس بار افغان طالبان کی ایک نئی شکل و صورت اور حکمت عملی کا بھی مشاہدہ کیا کہ کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے کوئی قتل عام کیا ناں ہی سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا تاہم اب بھی بہت سارے سوالات کے جوابات تلاش کرنا باقی ہیں کیونکہ تاریخ کبھی بھی صرف رونما ہونے والے واقعات کا مجموعہ نہیں ہوا کرتی بلکہ پیش آنے والے واقعات کے درپردہ محرکات اور ان کے پیچھے کارفرما سوچ تک بذریعہ سوال و جواب ہی پہنچا جاتا ہے۔ بنیادی نقطہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حالیہ فتوحات نے امریکا کی ناں صرف افغانستان بلکہ جنوب ایشیائی خطے میں ناکام پالیسیوں پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ دنیا کی سپرپاور بننے کے جنون میں مبتلا امریکا کی ان ناکام پالیسیوں سے کئی انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں تاہم اگر چین اور پاکستان مربوط کوششیں کریں تو اس سے ایک نیا افغانستان ابھر کر سامنے آئے گا جو ناں صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ماہرین کی طرف سے یہ سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ افغانستان کے نئے حکومتی سیٹ اپ کے قیام کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا؟ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے کیا منصوبہ بندی کی جائے گی؟ کیا مستقل بنیادوں پر خواتین اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے؟

    کیا طالبات کو تعلیم اور خواتین کے لئے ملازمتوں کے مواقع بحال رکھے جائیں گے؟ دنیا بھر کی حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی نظریں افغانستان اور طالبان کی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔ مہذب اور ترقی یافتہ دنیا میں بسنے والے افغان طالبان سے وہ سب کچھ چاہتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی اکثریت میں عوام کو میسر نہیں تاہم بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی جیسا کہ خواتین کو ملازمتوں میں مناسب نمائندگی دینا، بچیوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے جیسے اقدامات ممکن ہیں اور یقینی طور پر افغان طالبان اپنے وعدوں اور ارادوں کو پورا کریں گے جس کے لئے افغان طالبان پر حامی ممالک کی طرف سے دبائو بھی ہے۔ اس حقیقت میں تو اب کوئی دو رائے نہیں کہ افغان طالبان افغانستان کے کونے کونے میں پھیل چکے ہیں اور صرف کابل یا کسی مخصوص علاقے میں افغان طالبان نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ وسطی افغانستان کی طرح دوردراز علاقوں میں بھی اپنی عملداری قائم کر لی ہے تاہم دور دراز دیہی علاقوں میں قانون ہاتھ میں لینے کے جو واقعات رپورٹ ہوئے ان پر بھی طالبان قیادت کو سنجیدگی سے سر جوڑنا ہوگا کیونکہ طالبان کی قیادت و سیاست کا امتحان ابھی ختم نہیں بلکہ شروع ہوا ہے اور انہیں افغانستان اور افغان باشندوں سے اپنی محبت کے ساتھ اپنی اہلیت کا بھی عملی نمونہ پیش کرنا ہے

    جسے ایک نئی آزمائش اور نئی گیم کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں مغربی دنیا کو بھی اپنا مثبت رول ادا کرتے ہوئے افغان طالبان کی سرپرستی اور قیادت میں بننے والے نئے حکومتی سیٹ اپ کو بھرپور انداز میں سپورٹ کرنا ہوگا تاکہ دو دہائیوں پر محیط حالیہ خانہ جنگی کے بعد افغانستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے اور سالہا سال سے مہاجرین کی زندگی بسر کرنے والے افغان باشندے ایک پرامن اور خوشحال افغانستان میں زندگی بسر کر سکیں۔