Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آزاد کشمیر : ضلع حویلی میں کوسٹر کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق

    آزاد کشمیر : ضلع حویلی میں کوسٹر کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق

    آزاد کشمیر کے ضلع حویلی میں کوسٹر کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کنٹرول روم کے مطابق حویلی میں کوسٹر کے کھائی میں گرنے کا واقعہ پھسلن کی وجہ سے پیش آیا، ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور گاڑی کھائی میں جاگری پولیس کنٹرول روم کا بتانا ہے کہ حادثے کے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود ہیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کہوٹہ فارورڈ سے راولپنڈی جا رہی تھی کہ حویلی میں محمود گلی کے قریب کھائی میں جا گری۔

    دوسری جانب ایبٹ آباد کے علاقے ترنوائی میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک اسکول وین کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں 2 بچیاں جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوگئے۔

    کراچی: سرنگ کھود کر تیل کی لائن سے چوری ، 6 ملزمان گرفتار

    پولیس کے مطابق، حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، تاہم راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    تھانہ مانگل کے حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا تنگ، جائیدادیں ضبط، 416 گرفتار

  • ہولی کے دن بیوروکریسی کے ارمانوں کی ہولی .تحریر: ملک سلمان

    ہولی کے دن بیوروکریسی کے ارمانوں کی ہولی .تحریر: ملک سلمان

    کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے دوسال کے طویل انتظار کے بعد ہائی پاور بورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کا انعقاد ممکن ہوسکا، بورڈ کا انتظار کرتے درجنوں افسران اگلے گریڈ میں ترقی حاصل کیے بن ہی ریٹائرڈ ہوگئے۔

    پی ایم ایس افسران کے ساتھ ناانصافی اور حقوق غضب کرنے کا سلسلہ پہلے سے چلتا آ رہا تھا لیکن ابھی تو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان سمیت دیگر سی ایس پی افسران پر بھی کلہاڑا چلا دیا گیا۔
    ہولی کے دن بیوروکریسی کے ارمانوں کی ہولی کھیلی گئی۔ پرموشن ٹریننگ کورس کرنے اور اے سی آر میں ریکمینڈڈ فار پرموشن کے کمینٹس حاصل کرنے کے باوجود بہت سارے افسران کو پرموٹ نہیں کیا گیا۔ افسران کی ترقی میں رکاوٹ بننے اور پوسٹنگ سے محروم کیے جانے کی وجوہات میں کچھ کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے موجودہ کرتا دھرتا افسران کو ماضی میں Favour نہیں کیا انکو اس گستاخی کا سبق سکھایا جا رہا ہے۔

    کرپشن اور پی ٹی آئی کا قریبی ہونے جیسے بیہودہ الزامات لگا کر پرموشن اور پوسٹنگ سے محروم رکھنا، ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ ثبوت کے طور پر پی ٹی آئی دور حکومت کی پوسٹنگ نکال کر موازنہ کرلیں، پی ٹی آئی دور میں ”اہم پوزیشن“ انجوائے کرنے اور کرپشن کے ریکارڈ توڑنے والے ناصرف موجودہ حکومت میں پہلے سے بھی اچھی پوسٹنگ انجوائے کر رہے ہیں بلکہ پرموٹ بھی کردیے گئے ہیں۔ اگر عثمان بزدار کا قریبی ساتھی اور پرنسپل سیکرٹری عامر جان پرموٹ ہوسکتا ہے تو پھر باقیوں پر پی ٹی آئی کا ٹیگ کیوں؟
    جن افسران کو پرموٹ نہیں کیا گیا اگر وہ اتنے ہی برے ہیں تو انکو اہم سیٹوں پر کیوں لگایا گیا؟ان افسران کو بھی ترقی سے محروم کیا گیا جو حکومتی رٹ بحال کرنے کیلئے مخالف سیاسی جماعت کی "ہٹ لسٹ” پر ہیں۔
    جناب وزیراعظم اگر افسران خود ترقی سے محروم ہوں گے تو عام عوام کیلئے خلوص نیت سے کیسے کام کر سکیں گے؟
    جناب وزیراعظم آپ کے بارے تو بیوروکریسی کا پختہ یقین رہا ہے کہ آپ بیوروکریسی کے دوست ہیں آپ کے ہوتے ہوئے میرٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔ جناب وزیراعظم آپ اپنی زیرنگرانی میرٹ پر انکوائری کروائیں جن افسران پر جیسے بھی الزامات ہیں انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ افسران کو ان الزامات سے اگاہ کرکے صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

    ابھی چند ماہ قبل ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے انفارمیشن گروپ کے آفیسر طاہر حسن کی درخواست پر انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر افسر کو گریڈ 20 سے 21 میں ترقی نا دینے کا سنٹرل سلیکشن بورڈ کا فیصلہ کالعدم کر دیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں بھی یہی لکھا گیا تھا کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ ایسی انٹیلی جنس رپورٹ کی پرواہ نا کرے جس میں افسر کو محکمانہ سطح پر اپنے دفاع کا موقع نا ملا ہو، عدالت نے تحریری فیصلے میں ایسے کسی الزام پر دفاع کا موقع نا دینے کو بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔جناب وزیراعظم پاکستانی عوام اور بیوروکریسی ہی نہیں عدلیہ بھی آپ کی قابلیت اور دوراندیشی کی قائل ہے اسی لئے معزز جج نے جناب وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا آپ جیسا قابل وزیراعظم بیوروکریسی کو ثبوت کے بغیر انٹیلی جنس رپورٹس کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتا ہے؟

    بیوروکریسی کے سنئیر افسران کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئی بی کی بجائے آئی ایس آئی کی رپورٹس دیکھ کر فیصلہ کرلیں وہاں جو بھی لکھا ہو گا ہمیں قبول ہے۔ افسران کی اکثریت کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ پر کسی کا اختیارنہیں چلتا اس لیے جن افسران کو فائدہ یا نقصان پہنچانا مقصود تھا ان کو آئی بی کی رپورٹس پر نوازا اور فکس کیا گیا ہے۔انتہائی مصدقہ رپورٹ ہیں کہ چند افسران کی ”ٹارگٹگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی اور فرمائشی رپورٹس پیش کی گئں۔ انٹیلیجنس بیورو کی رپورٹس کو ملٹری انٹیلیجنس سے کاؤنٹر ویریفائی کروایا جائے تاکہ کسی بھی افیسر کے خلاف فیک اور من مرضی کی رپورٹ کا سہارا لے کر ویکٹیمائز نہ کیا جائے۔ ملٹری انٹیلیجنس کے کام کرنے کا طریقہ کار میرٹ اور شفافیت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں قابل تعریف حد تک سراہا جاتا ہے کیونکہ ملٹری انٹیلیجنس واحد ایجنسی ہے جس کو کسی کے حق یا مخالفت میں انفلینس نہیں کیا جا سکتا۔

    جناب وزیراعظم بیوروکریسی کی ایک ہی درخواست ہے کہ آپ خود انکوائری کریں آئی ایس آئی رپورٹ اور ملٹری انٹیلجنس کی کاؤنٹر رپورٹس میں جو بھی آئے انہیں من و عن منظور ہے لہذا آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ ہائی پاوربورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کا رویو اجلاس بلایا جائے۔ جبکہ زمینی خدا بنے سی ایس بی کے سرکاری و غیر سرکاری ممبران سے گزارش ہے کہ انصاف کے قتل عام کے فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔ترقی سے محروم افسران کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ ان کا احترام اور رکھ رکھاؤ بھول کر عدالتوں کا رخ کریں۔
    آخر پر سب سے ضروری بات پوسٹنگ اور ترقی سے محرومی کا جتنا دکھ بیوروکریسی کو ہوتا ہے اتنا ہے رینکر اور دوسرے چھوٹے ملازمین کو بھی ہوتا ہے۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اپنے ماتحت چھوٹے ملازمین کے ساتھ انصاف کریں تاکہ کل کو آپ کے ساتھ بھی انصاف ہو، وہ کہتے ہیں نہ کر بھلا سو ہو بھلا۔

  • افطار ڈنر اور علم و ادب کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    افطار ڈنر اور علم و ادب کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اردوسائنس بورڈ میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں بطور مہمان اعزاز شرکت کی ، اس سیمینار میں بہت معلوماتی گفتگو سننے کو ملی ، موضوع تھا ، روزہ صحت اور جدید سائنس ،

    پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا اس کے بعد ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ ضیاء اللہ طوروصاحب نے استقبالیہ کلمات ادا کئیے اور اردو سائنس بورڈ کی طرف سے اس نشست کو منعقد کرنے کی غرض وغایت بیان کی اور آ نے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ، نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر عطیہ زہرہ زیدی نے ادا کیے اور باری باری مہمانوں کو گفتگو کی دعوت دیتی رہیں ، یہ نشست ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ( ڈایریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان ، اسلام آباد) کی صدارت میں تھی ، اور مہمانان خاص میں ،ڈاکٹر محمد رفیق خان ( پروفیسر آ ف انوائر مینٹل سٹڈیز / سئنیر ریسرچ فیلو)ڈاکٹر راؤ محمد اسلم خان ( ڈائریکٹر رحمان فاؤنڈیشن انٹرنیشنل سرٹیفائیڈ ٹرینر مائینڈ سائینز)ڈاکٹر عبدالرروف رفیقی ( ڈائریکٹر جنرل اقبال اکادمی)،انجینئر ڈاکٹر جاوید یونس اوپل( سابق صدر انسٹیٹیوٹ آ ف انجینئرز پاکستان)،ڈاکٹر طارق ریاض( وائس پرنسپل قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشن ڈویلپمنٹ ، شوقپور،( ڈاکٹر جمیل احمد سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اردؤ سائیس بورڈ)ڈاکٹر فضلیت بانو( ایسوسی ایٹ پروفیسر منہاج یونیورسٹی لاہور) شامل تھے.تمام شرکاء بہت قابل اور اپنے موضوع پر دسترس رکھتے تھے روزے کی صحت کے لیے افادیت سائنسی اصولوں پر بہت پرمغز گفتگو رہی

    اس کے بعد افطاری اور پھر افطار ڈنر کا عمدہ انتظام تھا باقاعدہ نشست کے بعد بھی کتابوں پر علم و ادب پر گفتگو رہی ،اتنی معلوماتی اور عمدہ نشست منعقد کرنے پر ضیاء اللہ طورو اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر عطیہ زہرہ زیدی ، ریسرچ آ فیسر شگفتہ طاہر اور ریسرچ آ فیسر فاطمہ شہزادی اور دیگر ٹیم ممبران تمام عمدہ انتظامات کے لیے بہت مبارکباد اور شکریہ

  • دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات.تحریر:ملک سلمان

    دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات.تحریر:ملک سلمان

    تمام قومی اور بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق سیاسی اور عسکری قیادت کی کوششوں سے پاکستان معاشی مسائل سے نکل کر کامیابی کے راستے پر گامزن ہو رہا ہے۔ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری وفود کی آمد سے جہاں محبان وطن خوش ہیں تو وہیں پاکستان کے دشمنوں کی نیندیں حرام ہیں۔ پاکستان میں امن و امان اور معاشی استحکام کی راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے دہشت گرد عناصر دوبارہ سے منظم ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی نئی لہر کے ذریعے ملک میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔بلوچستان اربوں ڈالر کے ’’سی پیک‘‘ کا اہم ترین روٹ ہے۔ گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا افتتاح اور گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر پاکستان کو جس مقام پر لے جائیں گے وہ بھارت اور دیگر عالمی طاقتوں کو قبول نہیں اس لئے انہوں نے بلوچستان کو اپنا مرکزی ہدف بنا رکھا ہے۔ دہشت گردی نے نہ صرف ہمیں اندرونی طور پر بہت نقصان پہنچایا ہے بلکہ بیرونی دنیا میں ہماری ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ معاشی ترقی کے پہیے کو رواں رکھنے کے لئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ہمیں دہشتگردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا ہو گا، کیونکہ سہولت کاری اور اندرونی مدد کے بغیر ایسی کارروائیاں ممکن نہیں۔ جاننا ہوگا کہ دہشت گرد بن جانے والے ہم وطنوں کو اپنے ہی ملک میں اپنی جانیں دائو پر لگا کر دہشت گردی پر آمادہ کرنے کے اسباب کیا ہیں، یہ لوگ بیرونی طاقتوں کے آلہ کار کیوں بن جاتے ہیں؟

    اے ڈی سی آر قبضہ گروپ اور رسہ گیروں کے ساتھ سرکاری و نیم سرکاری زمینوں پر قبضے کروانے میں لگے ہوئے ہیں۔ پولیس اشرافیہ اور بدماشیہ کی بی ٹیم کا کردار ادا کرنے سے باز نہیں آرہی۔ طاقتور افراد کی زور زبردستی اور لاقانونیت کے خلاف مظلوم اور کمزور افراد ملک دشمن دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ کر مزاحمت اور ردعمل کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ دشمن اس عمل میں شامل ہو جائے تو یہ رد ِعمل دہشت گردی کی شکل بھی اختیار لیتا ہے۔

    فرقہ واریت کی نفرت امن و امان کی قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ اور دہشت گردی کی جڑ ہے۔ ایک ہی حل ہے کہ جو بھی کسی مذہب اور فرقے کی توہین کرے، اشتعال انگیز گفتگو کرے اسے قانون کے کٹہرے میں لاتے ہوئے نشان عبرت بنا دیں۔ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف آپریشن مکمل خاتمے تک جاری رہنا چاہئے کیونکہ یہی دہشت گردی استحکام پاکستان اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے والے طالبان اور علیحدگی پسند تنظیموں کو بھارت اور افغانستان کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے ہماری معیشت شدید دبائو کا شکار ہے۔ دہشت گردی اور عدم تحفظ کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کا عمل مفلوج ہو چکا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان کیا، ان میں سیکورٹی فورسز اور بے گناہ شہری دونوں شامل ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں اقتصادی نقصانات کا تخمینہ 200ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ پاک فوج نے لا زوال قربانیوں کی داستان رقم کرکے ملک میں جو امن قائم کیا تھا کچھ اندرونی وبیرونی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر اس کو سبوتاز کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کسی بھی ملک میں دہشت گردی معاشرے پر دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے پاکستان مخالف قوتیں شرپسندی کو ہوا دے کر ملک کو کھوکھلا کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے فوجی آپریشن مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ ہے لیکن جب تک دہشت گردی کے اسباب کو سمجھ کر سویلین حکومت اور ادارے اس کے سیاسی، معاشرتی اور مذہبی حل کے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کریں گے، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لازوال قربانیاں قابل ستائش ہیں اور ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ان محسنوں کی قربانیوں اور لہو کو رائیگاں نہ جانے دیا جائے۔ بدقسمتی کی انتہا ہے کہ پولیس اور سول انتظامی افسران دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کی بجائے دہشت گردوں کی سہولت کاری والا کام کر رہے ہیں۔ ایجنسیز اور وزارت داخلہ کی طرف سے بار بار توجہ دلانے کے باوجود بنا نمبر پلیٹ، مبہم اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ پولیس اور سرکاری ملازمین بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں میں سفر کرکے دہشت گردوں کو بنا شناخت کھلے عام آزادی سے امن و امان سبوتاژ کرنے کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کو چاہئے کہ بنا نمبر پلیٹ ،مہبم اور غیرنمونہ نمبر پلیٹ والی تمام سرکاری اور غیرسرکاری گاڑیوں کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر کرکے ان تمام افسران و افراد کو پابند سلاسل کیا جائے ۔کیونکہ ان افسران کی دیکھا دیکھا دہشت گردبھی بنا نمبر پلیٹ اور راڈ لگا کر چھپائی گئی گاڑیوں میں سفر کرکے آسانی سے اپنے اہداف پورے کررہے ہیں۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کو بیرونی سرمایہ کاری اور استحکام پاکستان عزیز ہے یا کرپٹ سرکاری ملازمین کا تحفظ۔

    لاہور ٹریفک پولیس کی نااہلی کی وجہ سے لاہور بنا نمبرپلیٹ گاڑیوں میں سرفہرست ہے جہاں قانون کی رٹ نظر نہیں آ رہی۔ ٹریفک پولیس کی کرپشن کی قیمت معصوم پاکستانیوں کی جان و مال کی قربانیوں کی صورت ادا کرنا پڑتی ہے۔ حکومت کی رٹ بحال نہ کروانے والے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے ۔

  • چیٹ جی پی ٹی نقل مارنے والوں کا سہولت کار  بن گیا

    چیٹ جی پی ٹی نقل مارنے والوں کا سہولت کار بن گیا

    امریکی یونیورسٹی کے محققوں کی تحقیق سے بڑا انکشاف، دنیا بھر میں محقق اور طلبہ و طالبات اپنے مقالہ جات اور امتحانی پیپروں کی تیاری میں chatgpt اور مصنوعی ذہانت کے دیگر سافٹ وئیرز سے بہت زیادہ مدد لینے لگے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بڑا انکشاف ہوا ہے بتایا گیا کہ پروف ریڈنگ تک تو معاملہ ٹھیک تھا مگر اب مقالوں کا بیشتر حصہ اے آئی تیار کرنے لگی۔اس ابھرتے چلن کا اہم ترین منفی روپ یہ کہ نیٹ پر موجود جھوٹا، پست ، غیر معیاری، جعلی اور شر انگیز مواد بھی مقالات اور امتحانی تیاری کا حصہ بننے لگا۔اس لیے سائنس وٹیکنالوجی کی دنیا میں سامنے آتے تحقیقی مقالوں میں غیر مستند مواد کثیر تعداد میں شامل ہو چکا۔سائنس دانوں نے اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کر دیا کہ chatgpt وغیرہ کی مدد سے تیارکردہ مقالہ جات مستند اور ٹھوس نہیں کہلائے جا سکتے۔

    یہ عیاں ہے کہ chatgpt اور دیگر اے آئی پروگرام دنیا میں نقل مارنے والوں کے لیے سہولت کار بن چکے۔ان کی وجہ سے محققوں اور طلبہ وطالبات میں محنت و تحقیق کرنے کے بجائے نقل کرنے کا چلن بڑھے گا۔ان کی ذہنی وجسمانی صلاحیتیں کند ہوں گی اور کاہلی و تن آسانی غالب آئے گی۔ یہ بنی انسان کے مستقبل کے لیے اچھی خبر نہیں۔

    لاہور میں سرعام شہری پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    پیوٹن کا روس یوکرین جنگ بندی پر اتفاق

    ٹرمپ ٹاور کے لابی ایریا پر مظاہرین کا قبضہ، محمود خلیل کی رہائی کا مطالبہ

    لاہور کی سڑک پر نقاب پوش گن مینوں کا شہری پر تشدد، ویڈیو وائرل

    سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں پر لاگو پی ٹی آئی دور کا قانون تبدیل

  • دنیا بدل رہی،پاکستان مخالف قوتیں سرگرم ہوگئیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا بدل رہی،پاکستان مخالف قوتیں سرگرم ہوگئیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیکیورٹی ادارے،پولیس اور عوام دہشتگردی جنگ کے خلاف قربانیاں دے رہے
    نواز شریف نے سیاسی بصیرت سے بلوچستان میں امن قائم کیا،اب بھی اسی پالیسی کی ضرورت
    بلوچی سرداروں کو بھارتی مداخلت کا ادراک ،دشمن نوجوانوں کو گمراہ کرنے لگا
    تجزیہ شہزا د قریشی
    دنیا میں غیریقینی صورت حال بڑھ رہی ہے امریکہ سمیت دنیا بھرمیں خارجہ پالیسی تبدیل ہو رہی ہیں چین، امریکہ یورپی یونین اپنے ملکی اور قومی مفادات کو سامنے رکھ کر تبدیلیاں کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپی ممالک امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کی نئی پالیسی پر عمل کریں گے یا امریکی پالیسی سے راہیں جدا کرلیں گے ۔یہ ایک بہت بڑ سوال ہے جس کاجواب تا دم تحریر نہیں مل رہا کیا، یورپی ممالک چین کے ساتھ بہتر تجارت اور ترقی کا خواب دیکھنے کی ہمیت کریں گے؟ وطن عزیز میں بھی بین الاقوامی خارجہ پالیسیوں کی تبدیلی کے اثرات یقینی طورپر پڑیںگے ۔ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے رمضان کے مقدس مہینے میں بلوچستان میں جو خون کی ہولی کھیلی ہے ۔ پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا ہے ۔بھارت اور کچھ دیگر ممالک کو سی پیک ہضم نہیں ہو رہا ۔ بی ایل اے اور افغانستان میں موجودہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کویاد رکھناہوگا وطن کی پاک فوج جملہ ادارے او ر پولیس ماضی میں بھی قربانیاں دیتے رہے اور وطن عزیز کے امن کو بحال کرنے میںکردار ادا کرتے رہے ایک عالم گو اہ ہے کہ ضرب عضب سے لے کر ردالفساد تک پاک فوج جملہ اداروں پولیس اور عوام نے قربانیاں دی ہیں تاہم ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ بعض غیر ملکی بلوچستان کی مخصوص صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا بلوچستان کے سرداروں کو بخوبی احساس ہے بھارت کی بلوچستان میں مداخلت کسی سردار سے پوشیدہ نہیں، بھارت بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے اور دہشت گردوں کو وسائل فراہم کرتا ہے۔ ملکی سیاسی جماعتوں کو بلوچستان میں اپنا سیاسی کردار بھی ادا کرنا چاہیئے صرف اقتداراوربس اقتدار نہیں کردار بھی ادا کرنا ہوگا پاک فوج اور جملہ ادارے وطن عزیز کی سلامتی کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔اقتدار کی کرسی پر بیٹھے سیاستدانوں اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی آخر کوئی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان برادر یوں اور مختلف قبیلوں کی نفسیات اور مزاج کو سمجھنے والے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ماضی میں کچھ اسی طرح کے حالات کا بلوچستان کو سامنا تھا تو میاں محمد نواز شریف نے بلوچستان میں (ن) لیگ کی حکومت جو بنانے کی پوزیشن میں تھے قربان کردی تھی۔ بلوچستان کے تناظر میں نواز شریف نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک کو بطور وزیراعلیٰ قبول کرکے قوم پرستوں میں ایک اچھی مفاہمت کا عندیہ تھا ۔ ذمہ داران ریاست اور حکومت دونوں کو مل کر بلوچستان کے مسئلے پرسرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا سیاسی اور مذہبی جماعتوں کبھی کردار ادا کرنا ہوگا.

  • بولان حملہ اور ڈیجیٹل دہشت گردی ،تحریر :ملک سلمان

    بولان حملہ اور ڈیجیٹل دہشت گردی ،تحریر :ملک سلمان

    بولان کے علاقے مشکاف ٹنل ڈھاڈر کے قریب امن دشمن دہشت گردوں نے منظم کاروائی کرتے ہوئے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑا کر کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو روک کر مسافروں اور عملہ کو یرغمال بنا لیا۔ تین سو سے زائد مسافروں کو یرغمال بنانے کی خبر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی دنیا کیلئے بھی بریکنگ نیوز تھی۔ ٹرین پر قبضے کے وقت بیس کے قریب مسافروں کی ہلاکت کی اطلاع، جدید اسلحہ سے لیس دہشت گرد، نوسگنل ایریا، سرنگ اور پہاڑی علاقہ ان مشکل حالات میں انٹرنیشنل میڈیا اور بیرونی دفاعی تجزیہ کاروں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے مطالبات ماننے کے علاوہ کوئی حل ممکن نہیں جبکہ باقی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا انسانیت دشمن دہشت گردوں کے چنگل سے مسافروں کا ذندہ بچنا مشکل ہے۔

    ہمیشہ کی طرح مشکل کی اس گھڑی میں افواج پاکستان نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فوجی آپریشن کے زریعے انتہائی جرات و بہادری اور کامیابی سے ناصرف تمام یرغمال مسافروں کو بازیاب کروایا بلکہ تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔

    افواج پاکستان نے انتہائی احتیاط اور حکمت عملی سے دوران آپریشن تمام 300کے قریب مسافروں کومحفوظ رکھتے ہوئے تمام 33دہشت گردوں کو بھی ابدی نیند سلاتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ افواج پاکستان اس وطن عزیز کی ایک ایک انچ اور ہر شہری کی حفاظت کیلئے موجود ہیں اس لیے ملک دشمنوں کے عزائم کبھی پوری نہیں ہوسکتے۔ مشکل ترین حالات میں ناممکن کو ممکن بنانا افواج پاکستان کا ہی اعزاز ہوتا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پر ٹرین حادثے کے حوالے سے مسافروں کی شہادت، افواج مخالف پروپیگنڈا، سنگین الزامات اور من گھڑت تجزیوں کی بھرمار رہی۔

    اس میں کوئی دورائے نہیں کہ محض ڈالروں کی خاطر سنسنی پھیلا کر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا کر پیسہ اکٹھا کرنے والے جسم بیچ کر کمائی کرنے والوں سے بھی زیادہ غلیظ ہیں۔ڈس انفارمیشن، فیک نیوز اور پراپیگنڈا کی تشہیر ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا وطیرا بن چکا ہے۔ہمسایہ ملک بھارت کئی ماہ پہلے سوشل میڈیا کا کنٹرول آرمی کے حوالے کرچکا ہے کیونکہ ڈیجیٹل دہشت گردی کو بھی فوج کے سوا کوئی کنٹرول نہیں کرسکتا۔ سوشل میڈیا کے زریعے سنسنی پھیلانے والے شرپسند عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ ملکی سلامتی اور استحکام کے خلاف کام کرنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے، اندرون و بیرون ملک جہاں کہیں سے بھی شر پسند اکاؤنٹس چلائے جارہے ہیں انکو عبرت ناک سزائیں دی جائیں تا کہ آئندہ کوئی بھی شخص فیک نیوز اور جھوٹے پراپیگنڈا کے زریعے امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے کی جرات نا کر پائے۔
    شرپسند گروہوں اور ان کے حامی تجزیہ کاروں کی جانب سے پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، من گھڑت افواہیں اڑائی جاتی ہیں، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز ریمارکس دیے جاتے ہیں۔
    ”سائبرکرائم اور ڈیجیٹل دہشت گردی“ روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کو پاتال سے بھی تلاش کرنا پڑے تو نکالا جائے اورکڑی سے کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنا دیں۔ جھوٹ کا کاروبار کرنے اور عوام میں نفرت کا زہر گھولنے والے ڈیجیٹل دہشت گردوں کوسخت سزائیں دیے بن گزارا نہیں۔ قوم کو گمراہ کرنا، ورغلانا اور ذاتی مفادات کیلئے ملک میں فساد برپا کرنا ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟

    سوشل میڈیا قوانین کے حوالے سے چین، روس، ترکی، ایران، سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک میں سخت قوانین نافذ ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق ایسی اشاعت جو ریاستی مفادات، سلامتی، خودمختاری، امن عامہ، خوشگوار تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہو، نفرت کے جذبات کو ہوا دے، ریاستی ادارے پر عوام کے اعتماد کو کم کرے ایسی اشاعت کرنے والے کو تین لاکھ درہم سے ایک کروڑ درہم تک جرمانہ اور قید کیا جا سکتا ہے۔
    پیکا کو مذید سخت کرنا ہوگا، متحدہ عرب امارات جیسے قوانین لاگو کرنا ہونگے جہاں سوشل میڈیا تو درکنار کوئی ہوٹل، ریسٹورنٹ اور گھر کی چار دیواری میں بھی ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کا نہیں سوچ سکتا۔

    میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ میں سائبر کرائم کے چند افسران کو جانتا ہوں جو ناقص تفتیش کرکے حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کرنے والے ملزمان کو سزاؤں سے بچاتے رہے ہیں۔ سائبر کرائم کے کچھ افسران نے ایک گینگ بنا رکھا ہے جو مدعی اور ملزم دونوں کا موبائل لیکر فرانزک کی آڑ میں پرسنل ڈیٹا حاصل کرکے شہریوں کو بلیک میل کرتے ہیں لڑکے سے پیسے اور لڑکی سے عصمت کی سودے بازی ہوتی ہے۔
    سائبر کرائم جیسے اہم ادارے کو صرف پولیس اور ایف آئی اے کے افسران کے حوالے کرنے کی بجائے اس کی”سپرویژن“ کیلئے آرمی افسران تعینات کیے جائیں تا کہ ناصرف سوشل میڈیا کے دہشت گردوں کو نکیل ڈالی جائے بلکہ ہر طرح کے استحصال کا بھی خاتمہ ممکن ہوسکے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سائبر کرائم کیلئے الگ سے ججز مقرر ہونے چاہئے جو خود سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہوں، پروفیشنلی ٹرینڈ ججز نہ ہونے کی وجہ سے ڈیجیٹل دہشت گردی میں ملوث ملزمان عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

  • درخت لگائیں، آنے والی نسلوں کو بچائیں

    درخت لگائیں، آنے والی نسلوں کو بچائیں

    درخت لگائیں، آنے والی نسلوں کو بچائیں
    تحریر:ملک ظفراقبال
    درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا ہے

    مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ہر پروجیکٹ کو فائلوں میں ثابت کر دیا جاتا ہے کہ سب اوکے ہے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ ہم خود اپنے آپ کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں، جو اس وقت ہمیں محسوس نہیں ہوتا۔ اس طرح شجرکاری مہم زور و شور سے جاری تو ہو جاتی ہے، مگر 76 سالوں سے اس مہم سے وہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے جس کی امید تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ہم ذمہ داری سے کام نہیں کرتے، بلکہ خانہ پُری ہی ہمارا منشور ہوتا ہے۔ ایک طرف ہم حکومتی اداروں سے نالاں نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ہمارا اپنا کوئی منشور نہیں ہوتا، بلکہ حکومتی اقدامات کے ساتھ سول سوسائٹی کو مل کر اس طرح کی مہم میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

    مجھے اچھی طرح یاد ہے اوکاڑہ میں 2019 میں محکمہ جنگلات کے ایک ایس ڈی او افتخار احمد جنجوعہ تھے جو شجرکاری مہم کو بھرپور انداز میں شروع کرتے تھے۔ ان کے دور میں اوکاڑہ کے گرد و نواح میں درخت ہی درخت نظر آنے لگے۔ آج بھی ان کی ٹیم کی طرف سے لگائے گئے درخت نہروں اور سڑکوں پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اس طرح کا افسر ہر ضلع میں ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے مقرر کردہ اہداف حاصل نہ کرے۔

    آئیں اب بات کرتے ہیں کہ درخت ہمارے لیے کیوں ضروری ہیں؟
    درخت نہ صرف انسانی زندگی بلکہ پورے کرۂ ارض کے لیے ناگزیر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ان کی حفاظت کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور خوشحال ماحول فراہم کیا جا سکے۔درخت زمین کے لیے نہایت ضروری ہیں کیونکہ وہ ماحول، معیشت، صحت اور حیاتیاتی تنوع پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ ان کی اہمیت کو درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

    درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ ایک بڑا درخت سالانہ ہزاروں لیٹر آکسیجن فراہم کر سکتا ہے، جو انسانوں اور جانوروں کی بقا کے لیے لازم ہے۔درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں، جو گلوبل وارمنگ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ وہ دھول، دھوئیں اور دیگر زہریلی گیسوں کو بھی جذب کرکے ہوا کو صاف رکھتے ہیں۔درخت ماحول میں نمی برقرار رکھتے ہیں اور بادلوں کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں، جس سے بارشوں میں اضافہ ہوتا ہے اور خشک سالی کے اثرات کم ہوتے ہیں۔درختوں کی جڑیں زمین کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں، جس سے مٹی کا کٹاؤ اور زمین کی زرخیزی میں کمی روکی جاتی ہے۔ یہ کھیتوں اور زرعی پیداوار کے لیے نہایت مفید ہیں۔
    درخت جانوروں، پرندوں اور کیڑوں کے لیے قدرتی مسکن فراہم کرتے ہیں۔ کئی اقسام کے جانور درختوں پر انحصار کرتے ہیں، جن میں شہد کی مکھی، پرندے اور مختلف جنگلی حیات شامل ہیں۔

    درخت گرمیوں میں ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں۔ شہروں میں درختوں کی موجودگی گرمی کی شدت کو کم کرتی ہے، جس سے ایئر کنڈیشنرز کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔درخت ذہنی اور جسمانی صحت پر اچھے اثرات ڈالتے ہیں۔ درختوں سے بھرپور ماحول میں رہنے والے لوگ کم تناؤ محسوس کرتے ہیں اور ان میں بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔درخت لکڑی، پھل، ادویاتی پودے، شہد اور دیگر قدرتی وسائل فراہم کرتے ہیں، جو معیشت کے لیے فائدہ مند ہیں۔درخت قدرتی ساؤنڈ پروفنگ کا کام کرتے ہیں اور ٹریفک، فیکٹریوں اور دیگر شور کے ذرائع سے پیدا ہونے والے شور کو کم کرتے ہیں۔

    اسلام سمیت دنیا کے کئی مذاہب میں درختوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے، جس سے ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے: درخت لگانا اسلام میں ایک عظیم نیکی اور صدقہ جاریہ ہے۔ قرآن و حدیث میں درختوں کی اہمیت اور ان کے فوائد پر زور دیا گیا ہے۔ درج ذیل دلائل اس کی وضاحت کرتے ہیں:

    اللہ تعالیٰ نے درختوں کو اپنی عظیم نعمتوں میں شمار کیا ہے:
    (سورہ الانعام: 99) میں ارشاد ربانی ہے:ترجمہ: "اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس سے ہر قسم کی نباتات اگائیں.”
    (سورہ الرحمن: 6) میں ارشاد ربانی ہے:ترجمہ: "اور سبزہ اور درخت (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔”

    حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہےحضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا،اگر کسی مسلمان نے کوئی درخت لگایا یا کھیتی کی، پھر اس میں سے انسان، جانور یا پرندہ کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوگا۔(بخاری: 2320، مسلم: 1553)

    قیامت کے قریب بھی درخت لگانے کی ترغیب:
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا”اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو تو اگر وہ اس کو لگا سکتا ہے تو ضرور لگائے۔”(مسند احمد: 12902)حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا”جو مسلمان درخت لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی بھی مخلوق کھاتی ہے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔”(مسلم: 1552)

    آئیں سب مل کر حکومت کا ساتھ دیں اور سول سوسائٹی اس شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے۔

    درخت لگانا نہ صرف زمین کی خوبصورتی اور ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ ہے، بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ ایک مستقل نیکی اور صدقہ جاریہ بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تاکہ دنیا میں فائدہ پہنچے اور آخرت میں ثواب حاصل ہو۔

  • ٹک ٹاک سٹارسرکاری ملازمین کا احتساب ناگزیر.تحریر: ملک سلمان

    ٹک ٹاک سٹارسرکاری ملازمین کا احتساب ناگزیر.تحریر: ملک سلمان

    چاہئے تو یہ تھا کہ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین حکومت کا دست بازو بن کر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی مثبت ایمج سازی کے لیے کام کریں لیکن سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد خود ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر حکومتی پارٹی اور حکومتی شخصیات کے حوالے سے ذومعنی اور تنقیدی مواد شئیر کر رہے ہیں۔ سرکاری ملازم جو اپنا اصل کام چھوڑ کر صحافی، کالم نویس اور یوٹیوبر بنے ہوئے ہیں ان کی سرعام تنقید کے نتیجے میں عوامی رائے قائم ہو رہی ہے کہ یہ حکومت بے اختیار و بے بس ہے جو سرکاری ملازمین بلاخوف و خطر تنقید کر رہے ہیں۔

    حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ سرکاری ملازم کی تنقید سے عوامی رائے عامہ خراب ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل قائم کرے اور حکومت مخالف مواد شئیر کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت سخت کاروائی کی جائے۔پیکا صرف صحافیوں کے لیے نہیں ہر اس فرد کے لیے ہے جو مایوسی اور گمراہی پھیلاتا ہے ۔ حکومت مخالف تنقید کرنے والے تمام سرکاری ملازمین کو بھی پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جائے۔

    سول ملازمین کے مقابلے میں آرمی اور جوڈیشری کے افسران کبھی بھی سیاسی معاملات پر رائے نہیں دیتے خاص طور پر آرمی افسران کیلئے سوشل میڈیا استعمال پر سخت پابندی ہے، مس کنڈکٹ پر نہ صرف فوری نوکری سے فارغ کیا جاتا ہے بلکہ کورٹ مارشل سمیت دیگر سزاؤں سے مثال قائم کی جاتی ہے اس لیے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی سوشل میڈیا فورم پر آرمی افسران کسی بھی حکومت یا ادارے کے حوالے سے تنقید کریں۔
    اس کے برعکس سول افسران میں احتساب کا ڈر ختم ہوچکا ہے۔ ایک سول سرکاری ملازم بہت فخر سے بتا رہا تھا کہ میری ویڈیوز پر ہزاروں ویوز آئے ہیں، میں نے کہا کہ سرکاری نوکری کرتے ہوئے یوٹیوب چینل چلانا اور سیلف پروجیکشن غیر قانونی نہیں۔؟ مذکورہ سرکاری ملازم سوشل میڈیا سٹار نے کہا کہ سارے افسر ہی بنا رہے ہیں میں کونسا اکیلا ہوں۔

    میں پہلے بھی بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ سرکاری ملازمین اصل کام چھوڑ کر شہرت کی ہوس میں پاگل ہوچکے ہیں۔ حکومتی مثبت ایمج سازی کی بجائے سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ ملازمین کی صحافتی سرگرمیاں کالم نویسی، وی لاگ، پوڈکاسٹ پر واضح اور مکمل پابندی ہونی چاہیے۔سرکاری ملازمین سارا دن میڈیا والوں کی منتیں ترلے کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے انٹرویو کرو۔بیرون ملک پوسٹڈ افسران کی اکثریت اوورسیز کمیونٹی کی خدمت کی بجائے اپنی ذاتی پروجیکشن، صحافتی سرگرمیوں پوڈکاسٹ اور تحائف اکٹھے کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس وجہ سے اوورسیز پاکستانی حکومت سے سخت ناراض ہیں۔

    وزیراعظم اور وزیراعلی کو چاہیے کہ بلا تاخیر سرکاری ملازمین کی صحافتی سرگرمیوں اور سیلف پروجیکشن پر پابندی عائد کریں۔ حکومتی امور کی تشہیر کے علاوہ افسران کے ہر طرح کے ذاتی انٹرویوز پر بھی مکمل پابندی ہونی چاہیے۔

  • سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    عالمی یومِ خواتین پر ہمیں ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے ادب کے شعبے میں ” سوچ عورت ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کے لیے ہم خدا، والدین، شوہر، بچوں اور آپ سب کے شکر گزار ہیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا بے حد شکریہ۔

    جب ہم نے لکھنا آغاز کیا تو بس ایک آگ تھی جو خود بخود کاغذ پر الفاظ کی صورت اختیار کیا کرتی تھی۔ جب ادراک ہوا کہ ہم لکھ رہے ہیں تو بس ایک دھن تھی کہ اس دنیا کو خوب صورت دیکھنے کا ہمارا خواب پورا ہو جائے۔ جب احساس ہوا کہ لوگ ہمیں پڑھ رہے ہیں تو خوشی کے بجائے فکر لاحق ہوئی کہ لکھنا تو بڑی ذمہ داری کا کام ہے کیوں کہ اب یہ ذاتی معاملہ نہیں رہا۔

    ہمیں خوشی ہے تو اس بات کی کہ ہم نے دنیا کو اپنی نظروں سے دیکھا، اپنے دل سے محسوس کیا، اپنے ذہن سے سوچا اور جو درست سمجھا وہی لکھا۔ ہم نے اپنی تحریر میں فکری پر مائیگی، مطالعاتی بصیرت اور مشاہدے کی گہرائی وغیرہ کا دعویٰ کبھی نہیں کیا تاہم تمام تر انکسار کے باوجود یہ اصرار ہم نے ہمیشہ کیا ہے کہ جذبات و احساسات اور خیالات کی سچائی اور سنجیدگی کو ہم نے ہمیشہ فن کی بنیاد جانا ہے۔ ہماری سوچ لوگوں کو شعور، ہمت، طاقت اور مسرت دے رہی ہے یہ احساس ہمارے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

    ہم نے شہرت کی کبھی نہ خواہش کی، نہ کوشش اس لیے اس کی قیمت بھی نہیں چکانی پڑی لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھنے، اپنے دل سے محسوس کرنے، اپنے ذہن سے سوچنے اور حق بات کہنے اور لکھنے کی قیمت ابتدا سے چکائی اور آج تک چکاتے رہتے ہیں لیکن ہمیں اس پر کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں بلکہ گہری طمانیت ہے۔
    آپ سب کا بے حد شکریہ کہ آپ ہمیں پڑھتے ہیں، سنتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ اگر کوئی ناپسند کرتا ہے تو اس کا بھی شکریہ کہ توجہ تو اس کی بھی ہماری تحریر پر ہے۔

    اور ہاں! یہ ایوارڈ کی جو جگہ جگہ تصاویر ہیں یہ اس مرد کی خوشی کا شاخسانہ ہیں جس نے ہمیں عورت ہونے کا احترام دیا۔ ہمیں انسان سمجھتے ہوئے پوری جگہ دی اور ہمارے وجود کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس وجود کو مقدم جانا۔ہر کامیاب مرد کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کسی بھی کامیاب عورت کے پیچھے صرف مرد کا نہیں بلکہ ہمیشہ بھرے پرے مرد کا ہاتھ ہوتا ہے جو اس عورت کی کامیابی سے خائف نہیں ہوتا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنا وزن رکھتا ہے، وہ کسی صورت اس عورت سے کم نہیں ہو جائے گا