Baaghi TV

Category: بلاگ

  • افواجِ پاکستان کی جرات مندی اور قومی یکجہتی، دشمن کو منہ توڑ جواب

    افواجِ پاکستان کی جرات مندی اور قومی یکجہتی، دشمن کو منہ توڑ جواب

    افواجِ پاکستان کی جرات مندی اور قومی یکجہتی، دشمن کو منہ توڑ جواب
    تحریر:سید ریاض حسین جاذب
    پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک پرامن ملک ہے بلکہ دفاعِ وطن کے لیے ہر لمحہ تیار اور چوکس بھی ہے۔ حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف جس مؤثر اور بروقت ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا، اس نے نہ صرف دشمن کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ پوری قوم کو افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ لاکھڑا کیا۔

    بھارت جو کہ اپنے جنگی جنون اور ہٹ دھرمی کے باعث خطے کے امن و استحکام کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے، نے ایک بار پھر شرانگیزی کی کوشش کی۔ مگر پاکستان نے نہایت ذمہ داری، پیشہ ورانہ مہارت اور تدبر کے ساتھ نہ صرف دفاع کیا بلکہ دشمن کو ایسا کرارا جواب دیا کہ اسے اپنی جارحیت پر پچھتانا پڑا۔

    پاکستانی قوم کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی وطن کو خطرات لاحق ہوئے، قوم نے افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ آج بھی یہی جذبہ دیکھنے میں آیا۔ پوری قوم، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور ہر طبقۂ فکر، تمام تر اختلافات کے باوجود، افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    افواجِ پاکستان کا مورال بلند ہے۔ ہمارے جوان سرحدوں پر پوری تیاری کے ساتھ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے مستعد ہیں۔ بھارت، جو یہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستان کو کمزور کر کے اپنی چودھراہٹ جما لے گا، اس کی یہ خوش فہمی خاک میں مل چکی ہے۔ پاکستانی سپاہ نے جس جرات، حوصلے اور مہارت سے دشمن کو جواب دیا، وہ تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا۔

    اس صورتحال میں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان نے ہر قدم پر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ملحوظِ خاطر رکھا۔ پاکستان نے نہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا بلکہ شہریوں کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی، جو ایک مہذب اور ذمہ دار ریاست کا شیوہ ہے۔ اس کے برعکس، بھارت کی جانب سے شہری آبادی، مساجد، اور مدارس پر حملے واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

    افواجِ پاکستان نے دشمن کو عسکری، سفارتی اور نفسیاتی سطح پر مکمل شکست دی۔ بھارت کو اپنے اقدامات کی بدولت سفارتی محاذ پر بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے خطے میں کشیدگی پر تشویش ظاہر کی اور بھارت کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کی۔

    عسکری محاذ پر نقصان کے ساتھ ساتھ بھارت کی داخلی سیاست اور معیشت بھی اس مہم جوئی کا شکار ہو گئی۔ جنگی جنون نے بھارتی عوام کو مہنگائی، خوف، اور عدم تحفظ کے گہرے سائے میں دھکیل دیا ہے۔ متعدد شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں جہاں عوام حکومت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

    پاکستان میں اس صورتحال نے ایک نیا قومی شعور بیدار کیا ہے۔ نوجوان نسل، جو سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ باخبر اور متحرک ہے، بڑھ چڑھ کر دفاعِ وطن کے بیانیے کی حمایت کر رہی ہے۔ ادبی، ثقافتی اور میڈیا کے حلقے بھی قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دے رہے ہیں۔ شاعری، ترانے، اور وی لاگز کے ذریعے نوجوان نسل جذبہ حب الوطنی کو نئی جہت دے رہی ہے۔

    یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ اس نازک مرحلے پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں باہم متحد نظر آئیں۔ قومی سلامتی اور خودمختاری کے معاملات پر مکمل اتفاق رائے سامنے آیا، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ قوم اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود وطن عزیز کے دفاع پر یک زبان ہے۔

    پاکستان کا پیغام واضح اور دوٹوک ہے: ہم امن کے خواہاں ہیں، مگر اپنی خودداری اور عزت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اگر دشمن نے دوبارہ کوئی مہم جوئی کی تو وہ پہلے سے زیادہ تباہ کن نتائج کے لیے تیار رہے۔

    قوم اور افواجِ پاکستان کا رشتہ بے مثال ہے۔ یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے، جو دشمن کی ہر چال، ہر پروپیگنڈے اور ہر سازش کو ناکام بناتا رہے گا۔

    پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد!

  • جنگ کا میدان اور پاکستان کا ماسٹرسٹروک

    جنگ کا میدان اور پاکستان کا ماسٹرسٹروک

    جنگ کا میدان اور پاکستان کا ماسٹرسٹروک
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    جنوبی ایشیا کے خطے میں دو ایٹمی طاقتیں برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہیں،یہ خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ پاک بھارت تنازعہ اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے۔ بھارت کی حالیہ جارحیت نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا بلکہ پاکستان کی جانب سے ملنے والے منہ توڑ جواب نے عالمی مبصرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ یہ صرف ایک عسکری مقابلہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی نفسیاتی، سفارتی اور حکمت عملی کی جنگ ہے جس میں پاکستان نے اپنے مدمقابل کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ آئیے اس تنازعہ کے پس منظر، تازہ ترین مصدقہ و غیر مصدقہ خبروں اور پاکستان کی شاندار جوابی کارروائیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں کہ کیسے پاکستان نے اپنا ماسٹرسٹروک کھیلا اور جنگی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوا لیا۔

    6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب، بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کی سرزمین پر بزدلانہ حملے کیے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت نے اپنی فضائی حدود سے بہاولپور، کوٹلی، مظفرآباد، باغ، اور مریدکے میں میزائل داغے، جن کا ہدف معصوم سویلین آبادی تھی۔ ان حملوں میں 31 پاکستانی شہری شہید اور 71 زخمی ہوئے، جن میں خواتین، بچے اور بوڑھے شامل تھے۔ بہاولپور کی مسجد سبحان اللہ، کوٹلی کی مسجد عباس اور مریدکے کی مسجد ام القرا سمیت عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا جو بھارت کی سفاکی اور غیر انسانی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اسے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسے "بزدلانہ اور شرمناک” حملہ کہا۔

    لیکن بھارت کی یہ جارحیت اس کے لیے الٹی پڑ گئی۔ پاکستان نے سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کی بجائے بھارتی فوجی اہداف پر فوری اور فیصلہ کن جوابی وار کیا۔ پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہی جھٹکے میں بھارت کے پانچ لڑاکا طیاروں کو ان کے اپنے گھر میں مار گرایا۔ ان میں تین جدید رافیل طیارے، ایک مگ 29 اور ایک سخوئی 30 شامل تھے جو بھٹنڈا، جموں، ایوانتی پورہ، اکھنور اور سری نگر میں تباہ ہوئے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور ایک فرانسیسی انٹیلی جنس اہلکار نے ایک رافیل طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق کی جبکہ بھارتی حکام نے بھی تین طیاروں کے گرنے کا اعتراف کیا اگرچہ وہ تفصیلات دینے سے گریزاں ہیں۔ پاک فضائیہ نے نہ صرف بھارتی فضائی برتری کے دعوؤں کو خاک میں ملایا بلکہ رافیل طیاروں کی فرانسیسی کمپنی کے عالمی مارکیٹ میں شیئرز کو بھی گرا دیا۔

    اگلے دن یعنی 7 مئی کو بھارت نے اپنی بوکھلاہٹ میں اسرائیلی ساختہ Heron MK 2 ڈرونز کے ذریعے پاکستان پر حملوں کی کوشش کی۔ یہ ڈرونز جو 35 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہیں اور برطانوی کمپنی UAV Engines LTD کے بنائے ہوئے انجنوں سے لیس ہیں، سٹیلتھ ٹیکنالوجی کی وجہ سے روایتی انٹی ایئرکرافٹ گن سے ٹارگٹ کرنا مشکل ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے مضبوط ایئر ڈیفنس سسٹم نے دنیا کو حیران کر دیا۔ پاک فوج نے تقریباََ77 زائد اسرائیلی ساختہ ڈرونز کو مار گرایا، جن میں سے کچھ کو جام کرکے اور کچھ کو ہٹ کرکے تباہ کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ Heron MK 2 جیسا جدید ڈرون کسی جنگ میں مار گرایا گیا جو پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی غیر معمولی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ ایکس(سابقہ ٹویٹر) پر گردش کرنے والی پوسٹس کے مطابق پاکستان نے اب تک 12 سے 25 ہیراپ ڈرونز کا ملبہ جمع کر لیا ہے جو بھارت کی ناکامی کی داستان رقم کر رہا ہے۔

    پاکستان کی جوابی کارروائی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس میں دودنیال، منڈل اور کوٹ کٹھیرا سیکٹرز میں بھارتی پوسٹس، ایک انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور 6 مہار بٹالین ہیڈکوارٹر تباہ کر دیے گئے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ ایل او سی پر 40 سے 50 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا کر شکست تسلیم کی گئی۔ یہ وہی بھارت ہے جو رافیل طیاروں اور اسرائیلی ڈرونز پر ناز کرتا تھا لیکن پاکستان نے اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔

    اس تنازع میں پاکستان کی سفارتی کامیابی بھی قابل ذکر ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی اور پاک فوج کو مکمل اختیار دیا کہ وہ دشمن کو منہ توڑ جواب دے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور آبی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی، جسے عالمی برادری نے سنجیدگی سے لیا۔ چین نے پاکستان کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور بھارت کو خبردار کیا کہ وہ پاکستان کی سالمیت کو چیلنج نہ کرے۔ آذربائیجان نے بھی کھل کر پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا اور بھارت کی جارحیت کی شدید مذمت کی، یہ کہتے ہوئے کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ اس کی مکمل یکجہتی ہے۔ ترکی نے بھی بھارت کے حملوں کو "شرمناک” قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت تنازع میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا، دونوں ممالک سے مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کی اپیل کی۔ ان سفارتی کامیابیوں نے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مضبوط کیا جبکہ بھارت کو تنہائی کا سامنا ہے۔

    سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبروں نے بھی اس تنازع کو ایک نیا رنگ دیا۔ ایکس(سابقہ ٹویٹر) پر کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ٹینک بھارتی حدود میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ دیگر نے بھارتی چیک پوسٹس کی تباہی کی ویڈیوز شیئر کیں۔ اگرچہ یہ دعوے غیر مصدقہ ہیں لیکن انہوں نے بھارت کے اندر خوف کی فضا کو تقویت دی اور پاکستانی عوام کا مورال بلند کیا۔ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے میمز کے ذریعے بھارت کے "کاغذی شیر” ہونے کا مذاق اڑایا اور مودی کو نیتن یاہو کا "نالائق شاگرد” قرار دیا۔ یہ نفسیاتی جنگ پاکستان کے حق میں گئی کیونکہ بھارتی سوشل میڈیا دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیا۔

    بھارت کی حکمت عملی اس وقت ناکام ہو چکی ہے۔ مودی حکومت جو نیتن یاہو کے مشوروں پر چل رہی ہے، اپنی جارحانہ پالیسیوں کے جال میں پھنس گئی ہے۔ بھارت نے نہ صرف کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کیا بلکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ جیسے اہم ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچایا جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لیکن پاکستان نے اس کا جواب عسکری، سفارتی، اور نفسیاتی سطح پر دیا۔ پاک فضائیہ کے جے-10 سی اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں اور ایچ کیو-9 میزائلوں نے بھارتی فضائی برتری کو چیلنج کیا جبکہ پاکستانی قیادت نے عالمی فورمز پر بھارت کو بے نقاب کیا۔

    اس تنازعہ کا انسانی پہلو سب سے زیادہ دل خراش ہے۔ بھارت کے حملوں میں شہید ہونے والوں میں دو تین سال کی بچیاں، خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں۔ مریدکے میں ایک سرکاری سکول اور ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا جو بھارت کی غیر انسانی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے اپنی جوابی کارروائیوں میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جو اس کی اخلاقی برتری کا ثبوت ہے۔ لیکن یہ جنگ صرف فوجی یا سفارتی نہیں بلکہ ایک ایسی نسل کی بقا کی جنگ ہے جو امن، تعلیم اور ترقی کے خواب دیکھتی ہے۔

    پاکستان کا ماسٹرسٹروک اس کی عسکری تیاری، سفارتی چالاکی اور نفسیاتی جنگ کا ایک شاندار امتزاج ہے۔ پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل طیاروں کو مار گرا کر ثابت کیا کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی پاکستانی عزم کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔ پاک فوج نے اسرائیلی Heron MK 2 ڈرونز کو تباہ کر کے دنیا کو بتا دیا کہ اس کا ایئر ڈیفنس سسٹم ناقابل تسخیر ہے اور پاکستانی قیادت نے چین، آذربائیجان اور ترکی جیسے اتحادیوں کی حمایت حاصل کر کے عالمی سطح پر اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔

    یہ جنگی تاریخ کا وہ سنہری لمحہ ہے جہاں پاکستان نے نہ صرف اپنے مدمقابل کو شکست دی بلکہ عالمی برادری کو اپنی حکمت عملی اور جرات سے متاثر کیا۔ جس طرح پاکستانی فوج نے ایک کے بعد ایک ماسٹرسٹروک کھیل کر بھارت کے غرور کو چکنا چور کیا، اس نے پاکستانی عوام کے دلوں میں ایک نیا جوش اور اعتماد بھر دیا ہے۔ پاکستانی قوم کو اپنی بہادر فوج اور دور اندیش قیادت پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بھی کوئی ایسی چال نہیں چلیں گے جو اس قوم کے سر کو جھکنے پر مجبور کرے۔

    یہ قوم جانتی ہے کہ اس کے محافظ نہ صرف سرحدوں پر چوکنا ہیں بلکہ ہر محاذ پر دشمن کو عبرتناک سبق سکھانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پاکستان کا وقت ہے اور یہ ماسٹرسٹروک صرف ایک چال نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے گی۔

  • ہندوستان نے پھر غلطی دُہرائی لیکن پاکستان نے منہ توڑ جواب دے دیا

    ہندوستان نے پھر غلطی دُہرائی لیکن پاکستان نے منہ توڑ جواب دے دیا

    ہندوستان نے پھر غلطی دُہرائی لیکن پاکستان نے منہ توڑ جواب دے دیا
    خصوصی مضمون،تحریر:سید ریاض جاذب

    ہندوستان نے ایک بار پھر پاکستان کی صلاحیتوں اور عزم کو غلط اندازہ لگایا۔ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی کا سہارا لے کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ ایک بار پھر بے گناہ شہری، خواتین اور بچے دشمن کی جارحیت کا نشانہ بنے۔
    لیکن اس بار پاکستان خاموش نہیں رہا۔ پاکستان نے فیصلہ کن دفاع اور پاک فضائیہ کی برتری کا عملی ثبوت دیا ہے۔ جوابی کارروائی میں پاک افواج، بالخصوص پاک فضائیہ نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف تیار ہے بلکہ ہر سطح پر مؤثر اور جدید دفاعی نظام رکھتا ہے۔

    پاکستانی فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے، شجاعت اور مہارت کے ساتھ بھارتی فضائیہ کے کئی جہاز تباہ کیے، جن میں رافیل جیسے جدید طیارے بھی شامل تھے۔ یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فضائیہ، بھارتی فضائیہ سے ہر لحاظ سے بہتر اور برتر ہے۔

    دشمن کی دوہری جارحیت جاری ہے۔ پانی اور بارود سے حملے ایک ساتھ جاری ہیں۔ ہندوستان کی حالیہ چالوں میں صرف فضائی حملے ہی شامل نہیں، بلکہ وہ آبی جارحیت کا بھی ارتکاب کر رہا ہے، جس سے پاکستان کی زراعت اور توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    لیکن پاکستان نے بھی دشمن کو اس کی زبان میں جواب دیا، اور ایسا جواب دیا جس سے بھارت کو بھاری جانی اور فوجی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستان کی جوابی کارروائی نہ صرف مؤثر تھی بلکہ منہ توڑ بھی۔
    بھارت، جو بڑے بڑے دعوے کرتا تھا، اب جنگ کے دائرے کو بڑھنے سے روکنے کی التجائیں کر رہا ہے۔ کیونکہ اب نہ صرف بھارت کی فوج کی صلاحیت دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئی ہے، بلکہ اس کی سیاسی قیادت بھی بوکھلا چکی ہے۔

    افواجِ پاکستان کو مکمل اختیار اور بھی قوم کے اعتماد کے ساتھ بھی حاصل ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ افواج پاکستان کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا، کسی بھی وقت اور کسی بھی انداز میں جواب دیں۔
    یہ اختیار صرف فوجی فیصلہ نہیں، یہ قوم کے اعتماد، حوصلے اور اتحاد کا عکاس ہے۔

    ہماری لائن واضح ہے: امن چاہتے ہیں، مگر کمزوری نہیں دکھائیں گے۔ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں، مگر اپنی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں کی حفاظت پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    دشمن کو اب اچھی طرح سمجھ آ جانا چاہیے کہ پاکستان ایک پُرامن مگر باوقار اور طاقتور ریاست ہے، جو چپ رہنا جانتی ہے، لیکن جواب دینا بھی جانتی ہے۔

    قومی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کے بعد قومی اسمبلی میں بھی اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا ہےجو کہ دشمن کو دو ٹوک پیغام تھا۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی بزدلانہ کارروائی پر دو ٹوک مؤقف اختیار کیا۔
    وزیر اعظم کا خطاب نہ صرف ایک پالیسی بیان تھا بلکہ ایک واضح للکار تھی، جس میں دشمن کو بتایا گیا کہ پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    قومی اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں تمام پارلیمانی پارٹیوں نے متحد ہو کر دشمن کی اس بزدلانہ حرکت کی شدید مذمت کی، اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت ملکی دفاع، خودمختاری اور سلامتی کے معاملے پر ایک پیج پر ہے۔
    یہ قومی یکجہتی کا ایک نادر اور مؤثر اظہار تھا۔

    اس متفقہ موقف نے پوری قوم کو یہ حوصلہ دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر جب بات پاکستان کے دفاع کی آتی ہے تو پوری قیادت، تمام جماعتیں اور عوام ایک صف میں کھڑے ہیں، اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں۔

    یہ پیغام نہ صرف پاکستانی عوام کے لیے ایک تسلی بخش علامت ہے، بلکہ دشمن کے لیے بھی ایک وارننگ ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے، اور اس کی قوم متحد ہے۔

  • سیندور کا بھارتی خواب، پاک فوج کا تباہ کن جواب

    سیندور کا بھارتی خواب، پاک فوج کا تباہ کن جواب

    سیندور کا بھارتی خواب، پاک فوج کا تباہ کن جواب
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت نے رات کی تاریکی میں جس بزدلی سے پاکستان پر حملے کا آغاز کیا، جسے اس بزدل نے اپنے روایتی ہندوانہ رجحان کے تحت "آپریشن سیندور” کا نام دیا۔ سیندور جو ہندو مذہب میں شادی شدہ عورت کی مانگ کا مقدس نشان سمجھا جاتا ہے، اس کی علامتی اہمیت کو بھارتی میڈیا نے حملے کے نام کے ساتھ جوڑ کر پاکستان کو بدنام کرنے اور اپنا سیاسی بیانیہ مضبوط کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن دشمن کو کیا خبر تھی کہ وہ جس علامت کو خوش بختی سمجھ رہا تھا، وہی نشان اس کے اپنے ماتھے پر خون کی لکیر بن کر ابھرے گا۔ پاک فوج نے نہ صرف اس جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ بھارت کی سرزمین پر ایسی تباہ کن جوابی کارروائی کی کہ دشمن کے خواب چکناچور ہو گئے۔

    بھارتی حملے کا آغاز احمد پور شرقیہ، مظفرآباد، کوٹلی، مریدکے، سیالکوٹ اور شکرگڑھ میں مساجد اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ایک بار پھر بزدلانہ روایت دہراتے ہوئے پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے جن کے نتیجے میں 26 معصوم پاکستانی شہید اور 46 زخمی ہوئے۔ احمدپور شرقیہ میں مسجد سبحان اللہ کو نشانہ بنایا گیا جہاں 13 افراد شہید ہوئے جن میں دو 3 سالہ بچیاں، سات خواتین اور چار مرد شامل ہیں جبکہ 31 شہری زخمی ہوئے اور 4 فیملی کوارٹرز کو نقصان پہنچا۔ مظفرآباد میں مسجد بلال پر بھارت کی جانب سے 7 حملے کیے گئے، جس میں 3 شہری شہید اور ایک بچی زخمی ہوئی، جبکہ مسجد مکمل تباہ ہو گئی۔ کوٹلی میں مسجد عباس کو نشانہ بنایا گیا جہاں پانچ حملوں میں 16 سالہ لڑکی اور 18 سالہ لڑکے سمیت دو افراد شہید ہوئے اور ایک ماں بیٹی زخمی ہوئیں۔

    مریدکے میں مسجد ام القریٰ پر 4 حملے کیے گئے، تین مرد شہید اور ایک زخمی ہوا جبکہ دو افراد لاپتا ہیں اور مسجد سمیت اردگرد کے کوارٹرز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ سیالکوٹ کے کوٹلی لوہاراں گاؤں میں دو حملے ہوئے تاہم ایک گولہ اوپن فیلڈ میں جاگرا اور کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ شکرگڑھ میں دو حملوں میں ایک ڈسپنسری کو نقصان پہنچا مگر کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی بلااشتعال گولہ باری سے پانچ معصوم شہری شہید ہوئے جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے، یہ حملے جنگی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہیں۔یہ حملے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

    پاک فوج نے اس بزدلانہ جارحیت کا جواب نہ صرف دفاعی طور پر دیا بلکہ بھارت کی سرزمین پر براہ راست اور فیصلہ کن کارروائیاں کیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق پاک فوج نے دشمن کے حملہ آور ڈرونز اور میزائلوں کو ناکام بنایا اور بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر انہیں خاک میں ملا دیا۔ مصدقہ اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاک فوج کی کارروائیاں کی ہیں ان میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 8 اہم مقامات سری نگر، اکھنور، کپواڑہ، بارہمولہ، پونچھ، راجوری، کارگل اور لیہہ پر جوابی حملے کیے۔ سری نگر میں ایئر بیس اور ملحقہ ہیڈکوارٹر تباہ کیا گیا جبکہ اکھنور میں ایک بھارتی طیارہ مار گرایا گیا۔ دودنیال سیکٹر میں ایک چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ کی گئی۔ کم از کم ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر (سری نگر یا دودنیال) اور متعدد فوجی چوکیاں نیست و نابود کی گئیں۔ایکس (سابقہ ٹویٹر) کی پوسٹس کے مطابق بھارت نے ایل او سی پر سفید جھنڈا لہرا کر شکست تسلیم کی۔

    پاک فضائیہ نے بھارتی فضائی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق 3 سے 6 بھارتی طیارے مار گرائے گئے، جن میں کم از کم 2 رافیل اور 1 سخوئی (Su-30MKI) شامل ہیں۔ غیر مصدقہ دعوؤں میں 5 سے 6 طیاروں کی تباہی کا ذکر ہے جن میں 3 رافیل، 1 مگ 29 اور 1 سخوئی شامل ہیں۔ یہ طیارے اکھنور، سری نگراور دیگر علاقوں میں گرائے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، HQ-9 HIMADS میزائل سے اکھنور میں Su-30MKI اور رافیل کو نشانہ بنایا گیا۔

    بھارتی ڈرونز کے حوالے سے برنالہ سیکٹر میں 1 ڈرون اور کوٹلی میں ایک اور ڈرون مار گرایا گیا۔ کچھ ذرائع نے متعدد کواڈ کاپٹرز کی تباہی کا دعویٰ کیا جبکہ ایک ایکس (سابقہ ٹویٹر)کی پوسٹ کے مطابق 1 ڈرون قبضے میں لیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ متعدد بھارتی فوجی قیدی بنائے گئے ہیں جن کی تعداد غیر واضح ہے۔ یہ کارروائیاں پاک فوج کی زمینی اور فضائی برتری کو ظاہر کرتی ہیں۔

    پاک فوج کی کامیابی کے پیچھے چند اہم عوامل ہیں۔ فوری ردعمل نے بھارتی حملے کو چند گھنٹوں میں ناکام بنا دیا۔ جدید ٹیکنالوجی، جیسے HQ-9 HIMADS میزائلوں نے بھارتی فضائی طاقت کو بے اثر کیا۔ اسٹریٹجک پلاننگ کے تحت سری نگر اور اکھنور جیسے حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی عوام کی یکجہتی نے فوج کے مورال کو بلند کیا۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ کشمیری عوام اور پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر "سیندور کا جواب” اور "لبیک پاک فوج” جیسے ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈ بنے، جو قومی اتحاد کی عکاسی کرتے ہیں۔

    بھارت نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا۔ بابر اعظم کی جعلی انسٹاگرام پوسٹ، جس میں پاک فوج کی مذمت کا دعویٰ کیا گیا، ایکسپریس نیوز نے جھوٹی قرار دی۔ فرانسیسی میڈیا نے انکشاف کیا کہ پہلگام واقعے میں بھارت نے AI تصاویر شیئر کر کے حقائق چھپانے کی کوشش کی۔ بھارتی شہروں میں ہوائی اڈے سنسان، راجستھان اور پنجاب کے دیہات خالی اور دہلی کے سیکیورٹی اجلاسوں میں خوف کا عالم ہے۔

    یہ صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی بیانیہ ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن کمزور نہیں۔ وفاقی وزیر عطا تارڑ نے کہا کہ کسی بھی جنگ کے تباہ کن نتائج کی ذمہ داری بھارت پر ہو گی۔ پاک فوج نے ثابت کیا کہ وہ دشمن کے گھر میں گھس کر اسے سبق سکھا سکتی ہے۔ سیندور جو بھارت کے لیے خوش بختی کی علامت تھا، پاک فوج کے ہاتھوں خون میں رنگ کر شکست کا نشان بن گیا۔

    پاکستان کا ہر بچہ فخر سے کہہ رہا ہے کہ ہماری فوج جاگ رہی ہے، ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور دشمن کا ہر خواب خاک میں مل جائے گا۔ یہ پیغام بھارت اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس کی فوج پیشہ ور اور جذبے سے لبریز ہے اور اس کی قوم ہر مشکل میں سیسہ پلائی دیوار ہے۔ پاکستان سلامت ہے، رہے گا اور دشمن کے تمام عزائم پاک فوج ناکام بنانے کی بھرپورطاقت رکھتی ہے اور پاکستانی عوام اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہے۔
    پاک فوج زندہ باد!
    پاکستان پایندہ باد!

  • بھارتی "سندور آپریشن” ناکام، پاکستانی فورسز کا مؤثر جواب

    بھارتی "سندور آپریشن” ناکام، پاکستانی فورسز کا مؤثر جواب

    بھارتی "سندور آپریشن” ناکام، پاکستانی فورسز کا مؤثر جواب
    تحریر: نصیب شاہ شینواری
    بھارت نے پاکستان کے خلاف حالیہ فضائی حملے کو "سندور آپریشن” کا نام دیا، جو رات کی تاریکی میں کیا گیا ایک بزدلانہ حملہ تھا۔ اس کارروائی کا مقصد خطے میں کشیدگی کو بڑھانا اور عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی تاثر اجاگر کرنا تھا۔

    ہندو روایات میں "سندور” کو شادی شدہ عورت کی خوش بختی اور وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ دیوی پاروتی اور ستی کی "شکتی” یعنی نسوانی توانائی کی نمائندگی کرتا ہے۔ روایت کے مطابق شوہر شادی کے روز اپنی بیوی کی مانگ میں پہلی بار سندور بھرتا ہے، جس کے بعد وہ روزانہ اسے لگاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سندور کی رسم پانچ ہزار سال پرانی ہے۔

    پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے "سندور آپریشن” کو بھارتی حدود میں ہی ناکام بنا دیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق، پاکستان نے جوابی کارروائی میں دشمن کے طیاروں کو نشانہ بنایا اور کئی ٹھکانوں کو کامیابی سے تباہ کیا۔ یہ واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

    بھارت نے "سندور” جیسے مقدس تصور کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر کے خود اپنی ہی اقدار کی پامالی کی، اور پاکستان نے بروقت ردعمل کے ذریعے نہ صرف اس منصوبے کو ناکام بنایا بلکہ خطے میں امن کے دشمنوں کو واضح پیغام بھی دیا۔

  • شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    صبح جاگتے ہی جاب کے لیے دوڑ، دوپہر کو جلدی جلدی میں کچھ کھا لینا، اور رات کو باہر سے کچھ آرڈر کر لینا — یہ آج کی شہری زندگی کا معمول بن چکا ہے۔زندگی کی اس تیز رفتاری میں ہم اپنی صحت، کلچر اور اصل ذائقے کو بھولتے جا رہے ہیں۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ وہ دیسی کھانے جو آپ کے بڑوں کے دسترخوان کی شان ہوا کرتے تھے، اب بھی آپ کی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں؟آئیے جانتے ہیں کہ شہری زندگی کے ساتھ دیسی کھانوں کو کیسے اپنایا جا سکتا ہے — وہ بھی آسانی اور کم وقت میں!

    1. ہفتہ وار پلاننگ کریں
    ہفتے کے آخر میں تھوڑا وقت نکال کر دالیں، سبزیاں، شوربے یا سالن تیار کر لیں۔
    اس طرح ہفتے بھر میں آپ آسانی سے دیسی کھانے کھا سکیں گے — بغیر وقت ضائع کیے۔

    2. جلدی تیار ہونے والی دیسی ڈشز اپنائیں:
    مثلاً:

    پالک دال

    بھنڈی فرائی

    آلو کے پراٹھے

    دال چاول
    یہ کھانے نہ صرف آسان ہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی۔

    3. دیسی ناشتہ واپس لائیں
    آج کل کا ناشتہ صرف چائے اور بسکٹ؟
    اس کی جگہ انڈہ پراٹھا، دہی یا ستّو کا شربت شامل کریں — صحت مند بھی اور سستا بھی۔

    4. دیسی گھی اور مصالحوں کا درست استعمال:
    اعتدال میں دیسی گھی، ہلدی، زیرہ، ادرک، لہسن کا استعمال کریں — یہ کھانوں کو ذائقہ اور صحت دونوں دیتے ہیں۔

    5. باہر کے بجائے گھر کا "Quick Lunch” اپنائیں:
    دفتر کے لیے 10 منٹ میں تیار ہونے والے کھانے جیسے:

    ابلے انڈے

    دال چاول

    سبزی والے رول

    یہ بہترین اور practical آپشنز ہیں۔

    6. فریزر فرینڈلی دیسی کھانے:
    کچھ سالن یا قیمہ فریز کر لیں تاکہ مصروف دنوں میں صرف گرم کرنا پڑے۔

    شہری زندگی اور دیسی کھانے — توازن ممکن ہے!
    اگر ہم تھوڑی سی پلاننگ، اعتدال اور شعور سے کام لیں تو نہ صرف اپنی ثقافت اور جڑوں سے جڑے رہ سکتے ہیں بلکہ صحت مند بھی رہ سکتے ہیں۔
    یاد رکھیں،دیسی کھانے محض خوراک نہیں، اپنی پہچان سے جڑنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

    خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں

  • نیویارک ٹائمز کا انکشاف، کیا واقعی پاک فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ہے؟

    نیویارک ٹائمز کا انکشاف، کیا واقعی پاک فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ہے؟

    نیویارک ٹائمز کا انکشاف، کیا واقعی پاک فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی فوج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور نظم و ضبط کی بدولت عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام رکھتی ہے۔ پاک فوج نے ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فوجی اور سفارتی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر احمد شاہ کی قیادت نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران جنرل سید عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی ہے۔

    پاکستان کی فوج 1947ء میں قیامِ پاکستان کے ساتھ وجود میں آئی اور اس نے متعدد چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ 1948ء، 1965ء، اور 1971ء کی جنگوں میں بھارت کے ساتھ مقابلہ کیا جبکہ آپریشن جبرالٹر اور کارگل تنازع میں اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آپریشن ضربِ عضب اور راہِ نجات نے شمال مغربی علاقوں میں امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاک فوج کا سخت نظم و ضبط اور تربیت کا نظام اس کی پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق پاک فوج 560,000 فعال فوجیوں کے ساتھ دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں بھی اس نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) نے ملکی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کیا اور جنرل سید عاصم منیر نے بطور ڈائریکٹر جنرل ISI اس کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا۔

    جنرل سید عاصم منیر نومبر 2022ء سے پاک فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف ہیں۔ انہوں نے 1986ء میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی 23ویں بٹالین سے کیریئر شروع کیا اور منگلا کے آفیسرز ٹریننگ اسکول میں "اعزازی تلوار” حاصل کی۔ ملٹری انٹیلی جنس اور ISI کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں اور گوجرانوالہ میں XXX کور کی کمان سنبھالی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق پاک بھارت کشیدگی خاص طور پر پہلگام میں مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے بعد جنرل سید عاصم منیرنے فوجی تیاری کو مضبوط کیا اور قومی بیانیہ تشکیل دیا۔ انہوں نے فوجی مشق کے دوران ٹینک پر کھڑے ہو کر خطاب کیا، جس میں بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اپریل 2025ء میں پہلگام حملے کو بھارتی میڈیا نے پاکستان پر الزام لگا کر پیش کیا جبکہ پاکستانی حکام نے اسے فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔ جنرل سید عاصم منیر نے فوجی تیاریوں کے ساتھ سفارتی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو واضح کیا۔ نیویارک ٹائمز نے ان کی سیاسی بصیرت اور عسکری حکمتِ عملی کی تعریف کی۔ انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ” قرار دیتے ہوئے قومی جذبے کو زندہ رکھا جو داخلی چیلنجز کے باوجود قومی یکجہتی کی علامت بنا۔

    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے جدید ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک تربیت پر زور دیا۔ فوجی مشقوں میں جدید ہتھیاروں اور دفاعی نظاموں کا استعمال پاک فوج کی تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔ جنرل سید عاصم منیر نے بین الاقوامی سفارتکاری میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ نیویارک ٹائمز نے ان کے ISI کے تجربے کو علاقائی خطرات سے نمٹنے کی سمجھ کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری کی توجہ پاکستان کے مؤقف کی طرف مبذول کرائی۔

    پاکستان کی فوج نے تاریخی پیشہ ورانہ کارکردگی کے ذریعے قومی سلامتی کو یقینی بنایا۔ جنرل سید عاصم منیر کی قیادت نے اس روایت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ ان کی جرات مندانہ قیادت اور اسٹریٹجک بصیرت کی گواہی دیتی ہے۔ ان کی قیادت میں پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن اور عالمی سطح پر ایک طاقتور آواز ہے۔ یہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قومی عزم کا روشن باب ہے جو تاریخ کا حصہ بنے گا۔

  • اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    ادب کسی بھی قوم کی روح ہوتا ہے اور اہل قلم وہ چراغ ہیں جو اس روح کو روشنی بخشتے ہیں۔ پاکستان میں اگر ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی فلاح و بہبود کی بات کی جائے تو ایک نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے،آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،یہ تنظیم کسی معمولی کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے، جو ایم ایم علی جیسے ادب دوست شخصیت نے دیکھا اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ایم ایم علی کا شمار پاکستان کے ادبی و فلاحی میدان کے چند نمایاں اور پُرجوش افراد میں ہوتا ہے۔ انہوں نے محض قلمکاروں کے لیے آواز بلند نہیں کی، بلکہ عملی طور پر ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جو آج پورے پاکستان میں لکھاریوں کا مرکز بن چکا ہے۔ وہ خود ایک تجربہ کار ادیب اور منتظم ہیں، جن کے دل میں ادیبوں کے احترام اور ان کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،ایم ایم علی نے اپووا کی بنیاد ایک وژن کے تحت رکھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے بیشتر لکھاری تنہائی کا شکار ہیں، انہیں نہ تو پذیرائی ملتی ہے، نہ پلیٹ فارم اور نہ ہی کوئی منظم ادارہ، اس احساس نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ایک ایسا ادارہ قائم کریں جو ان تمام محرومیوں کا ازالہ کر سکے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی گئی جب ادبی تنظیمیں محض مخصوص طبقات تک محدود تھیں۔ اپووا نے اس روایت کو توڑا اور ملک گیر سطح پر ادیبوں کو یکجا کیا۔

    اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے جب یہ پودا لگایا تو شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ تناور درخت بن کر پورے پاکستان کے ادیبوں، شاعروں اور لکھنے والوں کے لیے سایہ دار پناہ گاہ بن جائے گا۔ ایم ایم علی نے نہ صرف ایک تنظیم کی بنیاد رکھی بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جو آج ملک بھر کے ادیبوں کی آواز بن چکا ہے۔اپووا محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک ادبی تحریک ہے۔ اس تنظیم کا مقصد صرف تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ لکھاریوں کو وہ مقام دینا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپووا نے نہایت فعال کردار ادا کیا ہے۔ اپووا نے ملک کے مختلف شہروں میں درجنوں تقریبات کا انعقاد کیا، جن میں مشاعرے، نثری نشستیں، اور کتابوں کی رونمائی شامل ہے۔قابلِ قدر لکھاریوں اور شاعروں کو ایوارڈز سے نوازا گیا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔اپووا کی کاوشوں سے ادیبوں کو ملک کی نامور شخصیات سے ملنے کا موقع ملا، جس سے ان کے ادبی سفر کو نئی جہت ملی۔اپووا نے نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی سیشنز اور رہنمائی کا اہتمام کیا تاکہ ادب کی نئی نسل آگے بڑھے۔


    اپووا کا دائرہ کار اب صرف ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں رہا۔ یہ تنظیم آج پاکستان کے تمام صوبوں میں اپنے نمائندے اور اراکین رکھتی ہے۔ اس کا نیٹ ورک ہزاروں لکھنے والوں پر مشتمل ہے جو مختلف زبانوں اور اصناف میں کام کر رہے ہیں۔اپووا نے جہاں ایک منظم ادبی پلیٹ فارم فراہم کیا، وہیں اس نے قومی سطح پر اپنی پہچان بھی بنائی۔ پاکستان کے ادبی حلقے اب اپووا کو ایک معتبر اور فعال تنظیم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ایم ایم علی کی انتھک محنت، خلوص، اور وژن کی بدولت اپووا آج ادب کے افق پر ایک روشن ستارہ ہے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور منزل کا تعین واضح ہو تو کامیابی قدم چومتی ہے۔

    ضلع چکوال کے شہر بلکسر کے باسی ایم ایم علی کی قیادت میں اپووا نے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی ہیں۔ ادب سے محبت رکھنے والا ہر فرد اپووا کو ایک ادبی انقلاب کے طور پر دیکھتا ہے، اور اس انقلاب کا علمبردار ہے ایم ایم علی۔

    apwwa

  • ہماری دل جوئی کرنے والے دنیا سے چلے گئے

    ہماری دل جوئی کرنے والے دنیا سے چلے گئے

    ہماری دل جوئی کرنے والے دنیا سے چلے گئے
    تحریر: قاری عبدالرحیم کلیم
    ایک دن سعودی عرب کے شہر ریاض میں دارالسلام کا سالانہ جلسہ تھا۔ اس کے مہمان خصوصی علامہ پروفیسر حافظ ساجد میر صاحب تھے۔ ان کے ہمراہ ڈاکٹر لقمان، مفسر قرآن رحمہ اللہ، عبدالمالک مجاہد، اور مولانا صفی الرحمن مبارک پوری سٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ میر صاحب جیسے ہی آئے، عوام کی کرسیوں میں مجھے دیکھا اور کہنے لگے، "میں بھول رہا ہوں یا یہ قاری عبدالرحیم کلیم، ہماری جماعت کے خطیب ہیں؟” انہوں نے اس انداز میں بات کی کہ مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا، "قاری صاحب کو سٹیج پر لے آؤ۔” میر صاحب کے بیان کے بعد میرا بیان کرایا گیا اور انہوں نے مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا۔ خیر و خیریت رہی۔

    اسی طرح جماعت کے تنظیمی دورہ جات میں ڈاکٹر علی محمد ابو تراب، قائم مقام امیر مرکزیہ پاکستان نے بلوچستان کے دورے کی جماعت کو دعوت دی۔ اس میں میر صاحب کی قیادت میں بندہ ناچیز مکران، خاران، پنجگور اور کراچی کے کئی دنوں کے تنظیمی دورے پر علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب کے ساتھ رہا۔ وہ عظیم انسان تھے، اکثر قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کا میرے ساتھ پیار اس وقت سے تھا جب علامہ صاحب 35 نمبر کوٹھی اچھرا لاہور میں تھے اور ہم ان کی تنظیم میں ورکر، کارکن اور یوتھ فورس کے رکن تھے۔ اس وقت سے میر صاحب کے ساتھ تعلق بنا۔

    وہ بھی کیا وقت تھا جب جماعت کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ استاد محترم قاری عبدالوکیل صدیقی، علامہ پروفیسر ساجد میر، علامہ خالد محمود ندیم ملتان، عوامی سواریوں میں مرکز التوحید کے سالانہ اجتماع میں تشریف لاتے تھے۔ اس کے بعد دو مرتبہ ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ پر بھرپور استقبال ہوتا رہا۔ تنظیمی وسعت اور تنظیم ہمارے علاقے کی جماعت میں اس وقت آئی جب ملتان میں آل پاکستان کانفرنس کرائی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم صاحب نے 100 بسوں کا قافلہ ڈیرہ غازی خان سے اپنے خرچے پر ملتان روانہ کیا۔ اس کی سواریاں ہم جیسے کارکن بسیں بھرنے میں مصروف تھے۔ الحمدللہ! پوری کامیابی سے ایک سو بسوں کا قافلہ ہم لے گئے۔ اس کے بعد میاں جمیل صاحب اور میر صاحب بہت خوش ہوئے۔ حافظ عبدالکریم صاحب اور فضیلہ شیخ محمد شریف خان کو جماعت میں دعوت دی گئی۔

    الحمدللہ، آج ڈیرہ غازی خان ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں مرکزی جمعیت ایک قوت، ایک تحریک اور پیغام ٹی وی کی صورت میں ایک بلند آواز ہےحق کی آواز۔ اللہ ہمارے امیر محترم علامہ پروفیسر ساجد میر جو پوری امت کے لیڈر تھے، مدبر، زیرک، شہادتوں کے بعد معاملہ فہم، کثیر الوقت، جماعت کو سنبھالا۔ دور دور تک ان جیسا بندہ نظر نہیں آتا۔ اللہ پوری جماعت کو اور خاص کر لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہماری جماعت کو نعم البدل عطا فرمائے۔ اللہ ہمارے قائدین کی کوششوں، کاوشوں، محنتوں اور محبتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین

  • دفاع، عزم اور طاقت کا نشان، پاکستان

    دفاع، عزم اور طاقت کا نشان، پاکستان

    دفاع، عزم اور طاقت کا نشان، پاکستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    جب بات پاک وطن کی ہو تو سینوں میں جذبہ اور آنکھوں میں عزم جاگ اٹھتا ہے۔ پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جو نہ صرف اپنی جغرافیائی خوبصورتی کے باعث منفرد مقام رکھتی ہے بلکہ اپنی ناقابلِ تسخیر دفاعی صلاحیت اور قوم کے پختہ عزم کی بدولت بھی دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔ اگر پاکستان کی افواج جدید اسلحے سے لیس نہ ہوتیں، ہمارا ایٹمی پروگرام عالمی دباؤ کے آگے جھک گیا ہوتا اور قیادت و عوام میں اتحاد کا فقدان ہوتا تو دشمن کب کا شب خون مار چکا ہوتا۔ لیکن پاکستان ایک زندہ، بیدار اور باشعور قوم کا ملک ہے جو اپنے دفاع کے لیے ہر لمحہ چوکنا اور ہمہ وقت تیار ہے۔

    پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنے فضائی دفاع کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں ان میں سب سے اہم پیش رفت چین سے حاصل کیے گئے جدید J-10C فائٹر جیٹس کی شمولیت ہے۔ یہ فورتھ جنریشن پلس طیارے نہ صرف رفتار، فضا میں چستی اور ریڈار سے بچاؤ کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ یہ جدید ترین PL-15 اور PL-10 میزائلوں سے بھی لیس ہیں جو 220 کلومیٹر تک فضائی اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    J-10C طیارے پاکستان کی فضائیہ کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کی موجودگی دشمن کی کسی بھی فضائی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط دفاعی حصار ہے۔ بھارت کی فضائی برتری کے خواب اب چکنا چور ہو چکے ہیں کیونکہ پاکستان کے پاس نہ صرف JF-17 تھنڈر جیسے اپنے تیارکردہ طیارے ہیں بلکہ چین کی طرف سے جدید جے-10 سی جیسے لڑاکا طیارے بھی مل چکے ہیں جو ہر محاذ پر دشمن کا سامنا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

    ابھی حالیہ دنوں میں پاکستان نے ’’ابدالی میزائل‘‘ کا کامیاب تجربہ کر کے دنیا کو ایک بار پھر خبردار کر دیا کہ ہم امن ضرور چاہتے ہیں لیکن کمزور ہرگز نہیں ہیں۔ یہ میزائل صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ اُس قوم کے عزم، استقلال اور خودی کا استعارہ ہے جو دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا ہنر جانتی ہے۔

    بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کا جھوٹا الزام ہو، سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکیاں ہوں یا ویزے منسوخ کرنے جیسی حرکات ، یہ سب دراصل اُس خوف اور بوکھلاہٹ کا اظہار ہے جو پاکستان کی دفاعی تیاریوں اور قومی اتحاد کو دیکھ کر دشمن کے دل میں بیٹھ چکا ہے۔

    ادھر سمندر میں ہماری بے خوف بحریہ ہے جو بحر ہند کی بے رحم موجوں میں سینہ تان کر کھڑی ہے، خلیج کی ہر نبض پر اس کی نظریں ہیں اور دشمن کے ہر ممکنہ اقدام پر اس کی گرفت ہے۔ یہ ہماری مستعد انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں جو دشمن کی سازشوں کو اس سے پہلے ہی دفن کر دیتی ہیں کہ وہ پروان چڑھ سکیں۔ اور یہ ہماری شاہین صفت فضائیہ ہے جو J-10C جیسے جدید ترین لڑاکا طیاروں، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور ہدف شکن میزائلوں سے لیس ہو کر دشمن کی فضا میں پرواز کے خواب کو بھی خاک میں ملا دیتی ہے۔ یہ صرف دفاعی ادارے نہیں بلکہ پاکستان کے غیرت مند وجود کا ناقابلِ تسخیر حصار ہیں۔

    اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو دشمن کب کا اپنے ناپاک عزائم پر عمل کر چکا ہوتا لیکن پاکستان کی طاقت صرف ایٹمی ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ایک مضبوط نظریے، عزم اور خودداری میں چھپی ہوئی ہے جو دشمن کی ہر چال کو ناکام بنا دیتی ہے۔ ہمیں اپنی عسکری قیادت، سائنسدانوں اور ہر اُس شخص پر فخر ہے جس نے ہمارے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔آج جب دنیا پاکستان اور بھارت جیسے دو ایٹمی ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ایسے میں پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری پر قائم ہے بلکہ سفارتی محاذ پر دشمن کو مؤثر انداز میں بے نقاب بھی کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مؤقف، قومی سلامتی کمیٹی کے جرات مندانہ فیصلے اور اندرونی اتحاد نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک باوقار، مضبوط اور زندہ قوم کا ملک ہے جو اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے۔

    سچ یہی ہے کہ پاکستان کا دفاع صرف افواجِ پاکستان کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ قومی فریضہ ہے۔ دشمن آج صرف ہماری سرحدوں پر نہیں بلکہ ہماری سوچ، ہمارے میڈیا، تعلیمی نظام اور معیشت کو نشانہ بنا کر ہمیں اندر سے کمزور کرنے اور ہمارے اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ ایسے نازک وقت میں ہر محبِ وطن پاکستانی پر لازم ہے کہ وہ ہوشیاری، شعور، اتحاد اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرے، دشمن کی چالوں پر گہری نظر رکھے اور کسی منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اداروں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ، کندھے سے کندھا ملا کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں۔

    آئیے! ہم سب متحد و یکجان ہو کر یہ عہد کریں کہ پاکستان نہ کبھی ماضی میں کسی کے سامنے جھکا، نہ آج جھکا ہے اور نہ آئندہ کبھی جھکے گا۔ یہی ہمارا عزم ہے، یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہمارا فخر ہےاور یہی ہمارا پاکستان ہے۔

    پاکستان زندہ باد!
    افواجِ پاکستان پائندہ باد!