Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ابدالی میزائل: پاکستان کی خودداری، سائنسی برتری اور دفاعی عزم کا استعارہ

    ابدالی میزائل: پاکستان کی خودداری، سائنسی برتری اور دفاعی عزم کا استعارہ

    ابدالی میزائل: پاکستان کی خودداری، سائنسی برتری اور دفاعی عزم کا استعارہ
    تحریر: سیدریاض جاذب

    ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی زندہ و پائندہ قوم کا ایک واضح دفاعی پیغام ہے۔ جب دشمن جارحیت پر اتر آئے اور سازشوں کا جال بُننے لگے، تب پاکستان خاموش نہیں رہتا بلکہ اپنے عزم، اتحاد اور ہتھیاروں کی طاقت سے جواب دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے دنیا کو بتا دیا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں لیکن کمزور ہرگز نہیں۔

    450 کلومیٹر کی رینج کے حامل اس جدید میزائل نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ یہ نہ صرف ایک عسکری کامیابی ہے بلکہ دشمن عناصر کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر پیغام بھی ہے جو پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابدالی میزائل صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے عزم، خودداری اور نظریاتی قوت کا عکاس ہے۔

    بھارت کی جانب سے ایک بار پھر جھوٹے الزامات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلگام حملے کا بے بنیاد الزام، سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی اور پاکستانیوں کے ویزوں کی منسوخی اس بوکھلائے ہوئے دشمن کی ناکام چالیں ہیں۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پانی کی بندش کو پاکستان جنگ کے مترادف سمجھے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے خلاف جارحیت کی گئی، اس نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

    پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے جرات مندانہ فیصلوں کے ذریعے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے۔ سفارتی محاذ پر جوابی حکمت عملی نے بھارت کو مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پُرزور مؤقف نے ایک خوددار ریاست کے وقار کو اجاگر کیا۔ دنیا کو اس کشیدگی پر تشویش ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تناؤ کسی بڑے المیے کا سبب نہ بن جائے، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی بدستور جاری ہے۔

    ہمیں اپنی افواج، سائنسدانوں اور قیادت پر فخر ہے۔ ابدالی میزائل صرف ایک ہتھیار نہیں، بلکہ ہماری خودی، غیرت اور آزادی کا محافظ ہے۔ یہ تجربہ قوم کے ہر فرد کی جیت ہے۔ یہ پیغام ان سب کے لیے ہے جو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستان جاگ رہا ہے۔ پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دشمن کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پاکستان متحد، مستحکم اور اپنے دفاع کے لیے ہر دم تیار ہے۔ آئیے، متحد ہو کر دنیا کو دکھائیں کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا کیونکہ پاکستان کا مطلب ہے… لا إله إلا الله!

    پاکستان زندہ باد!
    افواجِ پاکستان پائندہ باد!

  • صحافت واقعی آزاد ہے؟ تحریر:نور فاطمہ

    صحافت واقعی آزاد ہے؟ تحریر:نور فاطمہ

    آزادی صحافت کا عالمی دن ہر سال 3 مئی کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کی حفاظت اور صحافت کی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوامی معلومات تک رسائی کی اہمیت کو سمجھانا اور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، تاکہ وہ بلا خوف و خطر سچائی کا پتہ چلا سکیں اور آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔

    آزادی صحافت کی اہمیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ صحافت، جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف حکومتوں کی نگرانی کرتا ہے بلکہ عوام کو معلومات فراہم کرتا ہے اور معاشرتی تبدیلیوں کو سامنے لاتا ہے۔ آزادی صحافت کا عالمی دن ہر سال اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا میں مختلف جگہوں پر صحافیوں کو خطرات، ہراسانی اور تشویش کا سامنا ہے۔یہ دن اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد صحافت کے لئے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دینا ہے تاکہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو آزادانہ طور پر پورا کر سکیں۔

    پاکستان میں صحافت کی آزادی ایک پیچیدہ اور مشکل سفر رہا ہے۔ پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آئین میں صحافت کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، مگر حقیقت میں صحافیوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں صحافیوں کو سیاسی دباؤ، معاشی مشکلات، اور بعض اوقات تشویش یا تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ صحافی جو سچائی بیان کرتے ہیں، انہیں دھمکیاں، تشدد، یاپھر جان بھی لے لی جاتی ہے،

    صحافیوں نے ہمیشہ عوامی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا ہے۔ پاکستان کے اندر ہونے والی سیاسی کشمکش، اور دیگر مسائل پر صحافیوں کا کردار اہم رہا ہے۔ تاہم، انہیں مسلسل خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے، جس میں خود مختاری کی کمی، معلومات کی آزادی پر قدغن، اور میڈیا کی آزادی کو دبانے کی کوششیں شامل ہیں،صحافیوں کو پاکستان میں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے، اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ صحافیوں کو بروقت تنخواہیں بھی دیں، سب کی خبر دینے والے صحافی اپنی تنخواہ نہ ملنے کی خبر کسی کو نہیں دے سکتے، صحافیوں کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کا معاشی استحصال نہ کیا جائے،

    دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک اہم موقع ہے۔ کئی ممالک میں صحافیوں کے لئے حالات بہتر ہو رہے ہیں، لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ عالمی سطح پر حکومتوں کو اس بات کا پابند بنایا جانا چاہیے کہ وہ صحافیوں کی آزادی کی حفاظت کریں اور صحافتی اداروں کو اپنا کام آزادانہ طور پر کرنے کی اجازت دیں۔دنیا کے مختلف حصوں میں، خاص طور پر وہ ممالک جہاں آزادی صحافت محدود ہے، صحافیوں کی جدوجہد اور قربانیاں کسی نہ کسی طریقے سے جمہوریت کے استحکام کی طرف ایک قدم ہیں۔ صحافیوں کو حقائق کی تلاش اور معلومات کی ترسیل میں آزاد ہونے کا حق حاصل ہونا چاہئے تاکہ وہ عوام کو صحیح اور غیر متنازعہ معلومات فراہم کر سکیں۔

    آزادی صحافت کا عالمی دن ایک یاد دہانی ہے کہ صحافت ایک طاقتور ہتھیار ہے جس کا مقصد معاشرتی تبدیلی، انصاف اور سچائی کی تلاش ہے۔ پاکستان میں صحافت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ صحافی بغیر کسی خوف کے اپنے فرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں۔ یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ صحافت کی آزادی نہ صرف صحافیوں کے حقوق کا مسئلہ ہے بلکہ یہ جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کی بنیادی حقوق کی ضمانت ہے۔

  • ” غلامی سے غلامی تک ". تحریر :عائشہ اسحاق

    ” غلامی سے غلامی تک ". تحریر :عائشہ اسحاق

    ہمارے آباؤ اجداد نے گوروں سے آزادی کی خاطر کون سی ایسی قربانی ہے جو نہ دی ہو اس داستان کو اگر تفصیل میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو نہ جانے کتنے صفحات لکھنے کے بعد بھی مکمل بیان کرنا مشکل ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ سینکڑوں قربانیاں دینے ،اذیتیں اور درد اٹھانے کے بعد حاصل ہونے والی آزادی میں کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ پاکستان کی موجودہ صورتحال دیکھنے کے بعد تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا سفر محض غلامی سے غلامی تک کا ہی ہے۔ 1947 میں جو آزادی انگریز راج سے حاصل کی گئی تھی وہ اب ان کے پیروکاروں کی غلامی میں بدل چکی ہے۔ تاریخ کس طرح سے اپنا دہرا رہی ہے اس کا اندازہ قیام پاکستان سے پہلے جلیانوالہ باغ امرتسر پنجاب میں ہونے والے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہوا کچھ اس طرح سے تھا کہ اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ امرتسر میں سکھوں کا مذہبی تہوار بیساکھی منانے اور حصول آزادی کی خاطر جلسہ منعقد کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس وقت برٹش آرمی کے موجودہ جنرل ڈائر نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولیاں برسانے کا حکم دیا۔ جنرل ڈائر کے حکم پر پر تا بڑ توڑ گولیاں برسائی گئیں اور ایک ہجوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہر وہ آواز دبا دی گئی جو اس ظلم کے خلاف اٹھی لوگوں کی عزتیں اتارنا شروع کر دی گئیں ایسا خوف و ہراس پھیلایا گیا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ایسی سفا کانہ سزائیں دی گئیں جن کا الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

    انگریز بھی بات تو برابری کی ہی کرتا تھا مگر جب بھی کوئی حقوق کے حصول کے لیے آواز اٹھاتا تو جوابی رد عمل انتہائی سنگین ہوتا پاکستان میں بھی اس وقت کوئی انسانی حقوق کسی کو حاصل نہیں ہے ذرا سی تنقید برداشت نہیں ہوتی، اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں عوام کی رائے کا احترام کرنا تو دور کی بات ہے بولنے پر بھی پابندی ہے۔ آوازیں دبا دی جاتی ہیں،
    ہمارا عروج یہ تھا کہ خلیفہ وقت سے بھی سوال ہوا تھا کہ اضافی چادر کہاں سے آئی؟
    زوال یہ ہے کہ سوال اٹھاؤ گے تو اٹھا لیے جاؤ گے۔
    اس ظلم و جبر کے تانے بانے آج بھی انگریز راج سے جڑے ہوئے ہیں۔ نظام تعلیم پر اگر نظر ڈالیں تو پاکستانی نظام تعلیم آج بھی برٹش ایجوکیشن ایکٹ 1835 کو فالو کر رہی ہے۔ جہاں نمبرز کو اہمیت دی جاتی تھی اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپ اپنی قابلیت سے ٹاپ کر رہے ہیں یا رٹا لگا کر کرتے ہیں۔ یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے یونیورسٹیز اور کالجز کے سٹوڈنٹس کو کنسپٹ سمجھنے کے لیے گھر جا کر یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنا پڑتی ہیں جہاں یہ سٹوڈنٹس اپنا کنسپٹ کلیئر کر رہے ہوتے ہیں وہ تمام تر ویڈیوز 90 فیصد انڈین کی ہوتی ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم بزنس اورینٹ تو دور جاب اورینٹ بھی نہیں ہے کیونکہ یونیورسٹیز اور کالجز میں کوئی ٹیکنیکل یا پریکٹیکل نالج نہیں دی جاتی ہے ۔ ٹیکنیکل نالج کے لیے سٹوڈنٹس کو یا تو کوئی تین چار مہینے کا کورس کرنا پڑتا ہے یا ان پیڈ انٹر ن شپ کرنی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس تمام کامیاب ممالک میں جدید طرز سے سٹوڈنٹس کو پریکٹیکل اور ٹیکنیکل طریقہ کار سے تعلیم دی جا رہی ہے۔ مگر ہمارے نوجوان اسٹوڈنٹس آج بھی برٹش ایجوکیشن ایکٹ 1835 میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سب کے علاوہ وہی پرانا ڈبل سٹینڈرڈ طرز زندگی جس طرح انگریز پر آسائش زندگی گزارا کرتے اور باقی عام عوام نہایت پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے آج بھی پوش علاقوں میں جا کر دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی یورپی ملک میں آگئے ہوں،دوسری طرف عام عوام کے علاقے دیکھ لیں جہاں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ کھڈ ے، تنگ گلیاں ان میں ابلتے ہوئے گٹر چھوٹے چھوٹے گھر بنیادی سہولیات سے محروم غریب عوام کی پسماندگی کو چیخ چیخ کر ظاہر کرتے ہیں۔ پوش علاقوں میں اور پسماندہ علاقوں میں زمین آسمان کا فرق ایک غیر منصفانہ نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں مخصوص طبقہ عوام کے تمام تر حقوق اور وسائل پر قابض ہے۔ جن کی نظر میں انگریزوں کی طرح پاکستانی محض غلاموں سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1947 میں حاصل کی گئی آزادی کے بعد بھی عام عوام آزادی کا اصل مزہ لینے سے محروم ہے اور آزادی کس چڑیا کا نام ہے اس بات سے مکمل طور پر لا علم ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہ تو جمہوریت ہے نہ اسلامی قوانین کی کوئی پاسداری ہے۔ ایک غیر منصفانہ جبری نظام رائج ہے۔ اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ ایک بار پھر عوام کو متحد ہو کر اپنے حقوق چھیننا ہوں گے اور اصل آزادی حاصل کرنا پڑے گی جس کے لیے عوام کا ایک ہونا بہت ضروری ہے۔ یاد رکھیں قران پاک میں اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ انسان کو وہی حاصل ہوتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے اگر اپ عوام اپنی آزادی کے لیے اپنے حقوق کے لیے کوشش نہیں کریں گے تو کوئی آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ جو کرنا ہے آپ نے خود کرنا ہے یہی سبق ایک معروف شاعر کے اس شعر سے بھی ملتا ہے۔
    جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
    اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
    ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے
    مٹ جاؤ یا قصر پامال کرو
    ( حبیب جالب)۔

  • مصنوعی ذہانت اور آج کی صحافت، آزادی صحافت کے لیے جدو جہد

    مصنوعی ذہانت اور آج کی صحافت، آزادی صحافت کے لیے جدو جہد

    مصنوعی ذہانت اور آج کی صحافت، آزادی صحافت کے لیے جدو جہد
    تحریر :سیدریاض جاذب

    ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں "عالمی یوم صحافت” منایا جاتا ہے، جس کا مقصد آزادی صحافت کا دفاع، اظہارِ رائے کی آزادی کی حمایت، صحافیوں کے تحفظ کی جدوجہد، اور میڈیا پر دباؤ کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے عوام کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ایک آزاد میڈیا ہی ان کے حقوق کا محافظ ہے، اور اگر میڈیا پر قدغن لگے، تو عوام کی آواز بھی دب سکتی ہے۔

    سال 2025 کے عالمی یوم صحافت کا مرکزی موضوع ہے:
    "Reporting in the Brave New World: The Impact of Artificial Intelligence on Press Freedom and the Media”
    یعنی "نئی دنیا کی جرأت مند رپورٹنگ: صحافت اور آزادیِ صحافت پر مصنوعی ذہانت کا اثر”۔

    مصنوعی ذہانت (AI) نے جہاں زندگی کے دیگر شعبہ جات کو متاثر کیا ہے، وہیں صحافت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہی۔ AI کی مدد سے خبر تک رسائی، تحقیق، تجزیہ اور رپورٹنگ کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ خبروں کی تیاری، ترسیل اور اشاعت کے عمل میں جدت آئی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت سے خطرات اور چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ جعلی خبریں (Fake News)، گمراہ کن مواد، اور خبروں میں انسانی حساسیت کی کمی جیسے مسائل نے صحافت کے معیار اور سچائی کو چیلنج کیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق صحافت میں AI کے استعمال کے دوران اخلاقی اصولوں، شفافیت، اور نگرانی کا برقرار رہنا ناگزیر ہے تاکہ خبر کی سچائی متاثر نہ ہو۔ مصنوعی ذہانت کو ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ صحافت کے بنیادی اصولوں کی جگہ لینے کے لیے۔

    اگر ہم پاکستان کے تناظر میں بات کریں تو سال 2024 صحافیوں کے لیے نہایت مشکل اور خطرناک رہا۔ فریڈم نیٹ ورک کی "امپونٹی رپورٹ 2024” کے مطابق، نومبر 2023 سے اگست 2024 کے درمیان صحافیوں کے خلاف 57 سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 11 قاتلانہ حملے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ صحافیوں کو قانونی کارروائیوں، ہراسانی، دھمکیوں اور اغوا جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا۔

    خصوصاً خواتین صحافیوں کے لیے صورتحال اور بھی نازک رہی۔ انہیں جنسی ہراسانی اور آن لائن بدسلوکی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ صحافیوں کے خلاف "پیکا” (Prevention of Electronic Crimes Act) کے تحت بھی کارروائیاں جاری رہیں، جن کے نتیجے میں 150 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور 20 سے زائد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

    ان حالات میں جب صحافت پر کئی اطراف سے دباؤ ہے، آزادی صحافت کی جدوجہد مزید اہم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ جدوجہد کٹھن ہے اور فوری طور پر مثبت نتائج نظر نہیں آتے، تاہم صحافی برادری ہمت، جذبے اور عزم کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

    عالمی یوم صحافت صرف ایک دن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ آزادی اظہار، سچائی، اور عوام کے حقِ معلومات کے تحفظ کی علامت ہے۔ صحافت پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باوجود، معاشرتی اقدار، اصولوں اور آزادیِ صحافت کا دفاع ضروری ہے۔ صحافیوں کے لیے سازگار اور محفوظ ماحول کی فراہمی، ریاستی اور سماجی سطح پر ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • ’’میرا نام مزدور ہے…‘‘ تحریر: شاہد نسیم چوہدری

    ’’میرا نام مزدور ہے…‘‘ تحریر: شاہد نسیم چوہدری

    0300-6668477

    میرا نام مزدور ہے۔میں صبح کے دھندلکے میں گھر سے نکلتا ہوں، جب تمہاری۔آنکھیں ینند کی وادیوں میں کھوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ میں وہ ہوں جو تمہارے لیے عمارتیں کھڑی کرتا ہے، تمہاری سڑکیں بناتا ہے، تمہاری فیکٹریاں چلاتا ہے، تمہارے بچوں کی کاپیاں بناتا ہے، اور کبھی کبھی تمہارے بچوں کو اپنی محنت کا خون پلا کر تعلیم سے محروم کر دیتا ہے۔
    میں وہ ہوں جو رکشہ چلاتا ہے، جو نالی صاف کرتا ہے، جو اینٹیں ڈھوتا ہے، جو ہوٹل پر برتن مانجھتا ہے۔ میرے ہاتھ کھردرے ہیں، میرے ناخنوں میں مٹی ہے، میرے جسم سے پسینہ بہتا ہے۔ مگر تمہیں شاید اس کی بو آتی ہے۔ تم مجھے سلام کرنے سے بھی کتراتے ہو۔
    سال میں ایک دن تم مجھے یاد کرتے ہو — یکم مئی کو۔
    مجھے عجیب لگتا ہے جب سفید پوش لوگ، اے سی ہالوں میں بیٹھ کر، میرا دن مناتے ہیں۔ میری غربت پر تقریریں کرتے ہیں، میری مزدوری پر اشعار پڑھتے ہیں، میرے بچوں کے لیے فلاحی اداروں کے وعدے کرتے ہیں۔ میں ان کے بیچ اپنی میلی قمیض اور پائوں میں ٹوٹی چپل لیے کھڑا ہوتا ہوں، جیسے کوئی مزار پر فقیر کھڑا ہو — ہاتھ پھیلائے، آنکھیں بند کیے، دعا کی امید میں۔
    مگر کیا تم جانتے ہو؟
    مجھے صرف ایک دن کی ہمدردی نہیں چاہیے۔
    مجھے انصاف چاہیے، عزت چاہیے، زندہ رہنے کا حق چاہیے۔
    میں خیرات نہیں مانگتا، حق مانگتا ہوں۔
    تم کہتے ہو غلامی ختم ہو چکی۔ میں کہتا ہوں، نہیں!
    میں آج بھی اُس فیکٹری میں غلام ہوں جہاں مجھے کم از کم تنخواہ سے بھی کم پیسے ملتے ہیں۔
    میں اُس کھیت میں غلام ہوں جہاں زمین کا مالک صرف مجھے ’’ہاری‘‘ کہہ کر بلاتا ہے، نام سے نہیں۔
    میں اُس گھر میں غلام ہوں جہاں میں بیوی بچوں سمیت چوبیس گھنٹے ملازم ہوں اور چھٹی کا تصور تک نہیں۔
    تم نے غلامی کا نام بدل دیا ہے — بس!
    اب یہ "ٹھیکیداری نظام” کہلاتا ہے، "کنٹریکٹ ورکر” کہلاتا ہے، "ڈیلی ویجز” کہلاتا ہے۔
    میری چھت نہیں ہے، میرے گھر میں چولہا اکثر نہیں جلتا۔
    اسی لیے میرا دس سالہ بچہ بھی مزدور ہے۔ تم نے اسے "چائلڈ لیبر” کہا، میں نے اسے "روزی” کہا۔
    تم نے اس پر قانون بنایا، میں نے اس پر آنسو بہائے۔
    کیا تمہیں کبھی سڑک کنارے شیشہ صاف کرنے والے، چائے کے ہوٹل میں کام کرنے والے، یا فٹ پاتھ پر جوتے پالش کرنے والے بچے نظر آئے؟ وہ سب میرے بچے ہیں۔
    ان کے کندھوں پر بستے نہیں، ذمہ داریاں ہیں۔ ان کی انگلیوں میں پین نہیں، چھالے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں خواب نہیں، تھکن ہے۔
    یکم مئی کو میرے نام پر بینرز مت لگاؤ، مجھے تقریروں میں مت یاد کرو، میری تصاویر کو سجاوٹ نہ بناؤ۔
    مجھے وہ قانون دو جو میری محنت کا تحفظ کرے۔
    مجھے وہ سہولت دو جو میرے بچوں کو تعلیم دے، میری بیوی کو دوا دے، اور میرے بڑھاپے کو تنہائی سے بچائے۔
    میری یونینیں مت خریدو، میرے نمائندے مت جھوٹے وعدوں میں جکڑو۔
    مجھے میرے حق کا ایک سچا، مختصر سا وعدہ دے دو — ’’میرے پسینے کا پورا معاوضہ۔‘ میں خواب دیکھتا تھا — چھوٹے سے مکان کا، بچوں کی تعلیم کا، اور بیماری سے نجات کا۔
    مگر تم نے ان خوابوں کو ’’مہنگائی‘‘ کے شکنجے میں دبا دیا۔
    ہر مہینے آٹے کی قیمت بڑھتی ہے، ہر ہفتے بجلی کا بل دوگنا ہوتا ہے، اور ہر دن میری اُجرت کم لگنے لگتی ہے۔
    مجھے بتایا جاتا ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے — مگر میرا چولہا آج بھی ٹھنڈا ہے۔
    میں اکیلا ہوں مگر کمزور نہیں۔
    میری محنت سے تمہارے شہر روشن ہیں، تمہاری فیکٹریاں آباد ہیں، تمہاری زندگی رواں ہے۔
    اگر میں ہڑتال کر دوں تو تمہاری سہولتیں رک جائیں۔ اگر میں سڑک پر آ جاؤں تو تمہیں اپنی گاڑی سے اترنا پڑے گا۔مگر میں فساد نہیں چاہتا۔ میں فقط عزت چاہتا ہوں۔
    اگر واقعی تم میرا دن منانا چاہتے ہو تو:
    میرے بچوں کو اسکول بھیجو۔
    میری تنخواہ بروقت اور پوری ادا کرو۔
    مجھے دو وقت کی عزت دار روٹی دے دو۔
    میری بیماری کا علاج کروا دو۔
    میرے بڑھاپے کو سڑک پر نہ چھوڑو۔
    میرا نام مزدور ہے — میں تمہاری بنیاد ہوں، تمہاری طاقت ہوں، تمہاری ترقی کا پہیہ ہوں۔
    اگر تم نے مجھے پہچان لیا تو کل کا پاکستان روشن ہوگا۔ اگر مجھے بھلا دیا تو صرف عالیشان عمارتیں بچیں گی — اندر سے خالی، باہر سے روشن۔
    تم آج یکم مئی مناتے ہو؟
    چلو مان لیا — مگر خدا کے لیے، کل مجھے پھر نہ بھول جانا…….!
    تپتی سڑکوں پر ننگے پاؤں سفر کرتے ہیں
    یہ وہ لوگ ہیں جو پتھر کو بھی تر کرتے ہیں
    دھوپ سہتے ہیں، پسینے میں نہاتے ہیں مگر
    یہ تو ہر حال میں ہمت کو بشر کرتے ہیں
    بھوک چپ چاپ لبوں پر جو سجا رکھی ہے
    دل کے زخموں کو ہنستے ہوئے پر کرتے ہیں
    کب کوئی پوچھتا ہے اِن کے دکھوں کا موسم
    وہ دعاؤں سے ہی قسمت پر صبر کرتے ہیں
    خون ، پسینہ، خواہشیں ، ان کی ہیں شاہد
    شہر کے خواب کو وہ ، تعبیر سفر کرتے ہیں

  • یکم مئی اور مزدور

    یکم مئی اور مزدور

    یکم مئی اور مزدور
    تحریر:ملک ظفر اقبال
    "مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔”
    (سنن ابن ماجہ)

    اسلام کا مزدور کے بارے میں تصور اور اس کے متعلق احکامات آج سے تقریباً 1450 سال قبل دیے گئے۔ مغربی دنیا آج ان اصولوں کی بات کر رہی ہے، مگر بدقسمتی سے ہم اسلامی اصولوں کو نہ صرف فراموش کر چکے ہیں بلکہ دوسروں کے اصول اپنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا مسلمان دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ آج ہم یکم مئی کی تاریخی حیثیت اور پاکستان کے مزدور پر بات کریں گے۔

    محنت انسانی تہذیب کا ستون ہے۔ ہر ترقی یافتہ معاشرہ اپنے محنت کشوں کے خون پسینے کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔
    یکم مئی کو دنیا بھر میں "یومِ مزدور” یا "لیبر ڈے” کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ محنت کش طبقے کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے اور ان کے حقوق کے تحفظ کا عہد دہرایا جا سکے۔

    یکم مئی کیوں منایا جاتا ہے؟
    یومِ مزدور کی تاریخ 1886ء سے جڑی ہوئی ہے۔ انیسویں صدی میں امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں نے کام کے اوقات کم کروانے کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ اس وقت مزدوروں سے روزانہ 12 سے 16 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور اس کے بدلے میں اجرت نہایت کم دی جاتی تھی۔

    یکم مئی 1886ء کو ہزاروں مزدور سڑکوں پر نکلے اور "آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے آرام، آٹھ گھنٹے ذاتی وقت” کا نعرہ لگایا۔
    یہ پرامن مظاہرہ جلد ہی پرتشدد تصادم میں بدل گیا۔ پولیس کی فائرنگ سے کئی مزدور شہید اور متعدد گرفتار ہوئے۔ بعد ازاں کئی مزدور رہنماؤں کو سزائے موت سنائی گئی۔

    یہ قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ 1889ء میں پیرس میں انٹرنیشنل سوشلسٹ کانگریس نے اعلان کیا کہ یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور کے طور پر منایا جائے گا۔

    محنت ایک ایسی خوشبو ہے جو انسان کی پیشانی سے پسینے کی صورت میں پھوٹتی ہے اور دنیا کو سنوارتی ہے۔
    یومِ مزدور، یکم مئی کا دن، اسی مقدس خوشبو کو سلام پیش کرنے کا دن ہے۔

    آج دنیا بھر میں، اور پاکستان میں بھی، یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں اور وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے: کیا ہم واقعی اپنے محنت کشوں کو ان کا جائز مقام دے رہے ہیں؟

    مزدور وہ ہے جو اینٹ سے اینٹ جوڑ کر شہر بساتا ہے مگر خود کچے جھونپڑوں میں رہتا ہے۔ وہ کارخانوں کا پہیہ چلاتا ہے، مگر اپنی زندگی کے پہیے کو بمشکل گھسیٹتا ہے۔

    یومِ مزدور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی کی عمارت محنت کشوں کے کندھوں پر کھڑی ہے۔ اگر ہم ان کے حقوق، تحفظ اور عزت کو یقینی نہیں بناتے تو ہم اپنے ہی مستقبل کو کمزور کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں محنت کش طبقہ ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو دن رات محنت کرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کی محنت کا درست معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
    مزدور کی زندگی میں چھائی غربت، محنت کے باوجود پستی، اور حکومتی اداروں کی خاموشی اس بات کی غمازی ہے کہ ریاست، جس کا فرض تھا کہ وہ اپنے مزدوروں کو تحفظ دے، خود ان کے استحصال کا حصہ بن چکی ہے۔

    مزدوروں کا استحصال ایک حقیقت بن چکا ہے جو روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ آج بھی پاکستانی فیکٹریوں، کھیتوں، تعمیراتی سائٹس اور دیگر صنعتوں میں مزدور انتہائی کم اجرت پر طویل گھنٹوں تک کام کرنے پر مجبور ہیں۔
    پاکستان میں کم از کم اجرت ہر سال حکومت کی جانب سے بڑھا دی جاتی ہے، لیکن زمینی سطح پر اس کا کوئی عملی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ سرکاری فائلوں میں سب اچھا ہونے کی رپورٹ شامل ہوتی ہے۔

    آج بھی بہت سی فیکٹریاں، کارخانے اور کاروبار بارہ گھنٹے کام کے بدلے صرف 20,000 سے 30,000 روپے ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں، جو کہ ایک فرد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہ تنخواہیں لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، مگر سرکاری اداروں کی رضا مندی سے سب کچھ جاری ہے، کیونکہ ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں۔

    یہ مزدور اس معمولی رقم کو اپنی زندگی کے دباؤ کو کم کرنے میں صرف کرتا ہے، اور بدلے میں نہ صرف اضافی گھنٹے بلکہ سخت شرائط میں کام کرتا ہے، مگر اسے کوئی اضافی فائدہ نہیں ملتا۔

    پاکستان کے قوانین کے مطابق، مزدور کو روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دفاتر میں مزدوروں سے 12، 14، حتیٰ کہ 16 گھنٹے تک کام لیا جا رہا ہے۔

    یہ قوانین صرف کتابوں کی حد تک محدود ہیں، جب کہ ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

    کام کے دوران حفاظتی تدابیر نہ ہونے کی صورت میں مزدوروں کے جانی نقصان کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، خاص طور پر تعمیراتی اور فیکٹری کے شعبوں میں، جہاں حفاظتی سامان کی شدید کمی دیکھی جاتی ہے۔اس طرح لاکھوں مزدور زخمی یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن کا سرکاری سطح پر کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں۔

    پاکستان میں خواتین مزدوروں کا استحصال مزید سنگین ہے۔
    انہیں نہ صرف کم اجرت دی جاتی ہے بلکہ جنسی ہراسانی، غیر محفوظ ماحول اور مختلف قسم کی زیادتیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    چائلڈ لیبر بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جہاں اسکول جانے کی عمر کے بچے فیکٹریوں اور ورکشاپوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور معاشی بدحالی ہے۔
    حقائق سے آگاہی کے باوجود حکومتی خاموشی ایک المیہ ہے۔

    پاکستان میں وہ ادارے جو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں، خود مزدوروں کے استحصال میں برابر کے شریک ہیں۔
    لیبر ڈیپارٹمنٹ، ای او بی آئی، سوشل سیکیورٹی جیسے ادارے جو مزدوروں کی فلاح کے لیے بنائے گئے تھے، بدعنوانی، سیاسی مداخلت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں۔

    لیبر انسپکٹرز، سوشل سیکیورٹی افسران اور دیگر سرکاری اہلکار اکثر رشوت لے کر قانون شکنی پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
    اس کے نتیجے میں فیکٹری مالکان اور ٹھیکیدار قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور جب مزدور آواز بلند کرتا ہے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اگرچہ متعدد لیبر قوانین موجود ہیں، جیسے کہ کم از کم اجرت، کام کے اوقات اور کام کی جگہ پر تحفظ، مگر ان قوانین کا نفاذ نہایت سست اور غیر مؤثر ہے۔

    مزدوروں کی اکثریت ان قوانین سے ناواقف ہے، اور جب ان کا استحصال ہوتا ہے تو وہ خوف یا مایوسی کی وجہ سے شکایت درج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔

    سیاسی مداخلت نے ریاستی اداروں کو کمزور اور بدعنوان بنا دیا ہے۔
    مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے اکثر کارکنوں کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کی شکایات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ایک سنگین قومی مسئلہ ہے جسے مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    مزدور کا حق ہے کہ اسے مناسب اجرت، محفوظ کام کا ماحول، اور سوشل سیکیورٹی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
    یہ وہ بنیادی حقوق ہیں جنہیں یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    مزدوروں کو اپنی یونینز بنانے کا مکمل حق دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اجتماعی طور پر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکیں۔
    لیبر قوانین کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مزدوروں کا استحصال روکا جا سکے۔

    حکومتی اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے تاکہ مزدوروں کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور ان کے حقوق محفوظ ہوں۔

    پاکستان کا مزدور طبقہ، اگرچہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر اس کا استحصال اتنی شدت سے ہو رہا ہے کہ اس کے حقوق و فلاح کے لیے بنائے گئے قوانین صرف کاغذوں تک محدود رہ گئے ہیں۔

    حکومت کی خاموشی اور اداروں کی کرپشن نے مزدوروں کے لیے انصاف کے دروازے بند کر دیے ہیں۔
    مزدور کا استحصال تب تک جاری رہے گا جب تک حکومت اور ادارے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کر کے مؤثر اقدامات نہیں کرتے۔

    اگر یومِ مزدور کے حوالے سے ایک مختصر جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں یومِ مئی کے دن "مزدور کام پر، اور افسر چھٹی پر” ہوتا ہے۔ یہ ایک کھلا تضاد ہے۔

    پاکستان کے اکثر کارخانوں اور فیکٹریوں میں آج بھی مزدور 12 گھنٹے ڈیوٹی کے بدلے صرف 25,000 روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور ہے، جب کہ سرکاری سطح پر 8 گھنٹے کے عوض 37,000 روپے تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔

    زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو لیبر قوانین کا جنازہ خود لیبر ڈیپارٹمنٹ بڑی دھوم سے نکال رہا ہے اور مزدور کی آواز دبانے کے بدلے "لفافہ ازم” کو ترجیح دیتا ہے۔

    حکومتِ وقت کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا:
    کیا مزدور کی پنشن دس ہزار روپے کافی ہے؟
    کیا مزدور کو لیبر قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں؟
    کیا آئی ایل او (ILO) کے تحت مزدور اپنا حق حاصل کر رہا ہے؟
    کیا لیبر ڈیپارٹمنٹ بغیر رشوت مزدوروں کو حقوق فراہم کر رہا ہے؟
    کیا ای او بی آئی کے تمام حقوق واقعی سب کو مل رہے ہیں؟

    زمینی حقائق یہی ہیں کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ مزدوروں کا خون چوس رہا ہے، اور اس کی مثالیں اربوں روپے کی کرپشن سے جڑی کہانیوں کی صورت میں موجود ہیں۔

    آئیں، آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم مزدور کو وہ بنیادی حقوق دیں گے جو پاکستانی آئین اور قوانین کے مطابق اس کا حق ہیں۔
    مگر یاد رکھیں، ہر حکومت اور اپوزیشن پارٹی لفظ "کریں گے” کے نام پر مزدور کو دہائیوں سے دھوکہ دیتی آئی ہے۔
    اور یہی ہے آج کا یومِ مئی۔

  • درخت لگائیں، پاکستان بچائیں

    درخت لگائیں، پاکستان بچائیں

    درخت لگائیں، پاکستان بچائیں
    تحریر : جلیل احمد رند
    موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے اور پاکستان سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، سیلاب اور خشک سالی پہلے ہی لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان خطرات سے لڑنے کے لیے ایک طاقتور حل ہماری زمین میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہے۔

    درخت ماحولیات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، تازہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں، ہوا کو ٹھنڈا کرتے ہیں، اور مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ جنگلات سیلابوں اور طوفانوں کے خلاف قدرتی رکاوٹوں کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کثرت سے ہوتے جا رہے ہیں۔

    بدقسمتی سے، پاکستان خطے میں جنگلات کی سب سے کم شرحوں میں سے ایک رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کے کل رقبے کا صرف 5 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہ عالمی اوسط سے بہت کم ہے اور ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے زیادہ بے نقاب کرتا ہے۔

    اس پر قابو پانے کے لیے ہمیں پورے پاکستان میں درخت لگانے کی ایک قومی تحریک کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر دور دراز کے دیہات تک، سب کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔ اسکولوں، برادریوں، کاروباروں اور سرکاری تنظیموں کو سبز جگہوں کو بڑھانے اور جنگلات کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ "بلین ٹری سونامی” اور "دس بلین ٹری سونامی” پروگرام جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر شجرکاری ممکن ہے، بشرطیکہ سیاسی عزم اور عوامی شرکت موجود ہو۔

    درخت لگانا صرف ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل میں ایک سرمایہ کاری بھی ہے۔ ایک سرسبز پاکستان کا مطلب ہے آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند، محفوظ اور زیادہ خوشحال ملک۔

    آئیے، اپنے آنے والے کل کو بچانے کے لیے آج درخت لگائیں!

  • پاکستان ترکیہ تعلقات

    پاکستان ترکیہ تعلقات

    پاکستان ترکیہ تعلقات
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    گزشتہ دنوں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدارتی محل میں ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ نے توانائی، معدنیات اور آئی ٹی شعبہ میں تعاون پر اتفاق جبکہ انقرہ نے دفاعی شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے 13 فروری 2025ء کو اسلام آباد میں منعقدہ 7 ویں اعلیٰ سطح اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے فیصلوں کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کثیر جہتی دو طرفہ تعاون کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر اردوان نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال اور قومی مفاد کے امور پر ایک دوسرے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں انسانی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور متاثرہ آبادی کو انسانی امداد کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ صدر اردوان نے فلسطین کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت اور انسانی امداد کو سراہا۔ خطے میں امن، استحکام، ترقی اور خوش حالی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور ترکیہ میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدر طیب اردوان سے ملاقات دو طرفہ تعلقات، پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمل، دہشت گردی کے سدِ باب، دفاعی تعاون اور غزہ میں پیدا شدہ انسانی المیے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی اور مثالی تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت، لسانی رابطے مضبوط بنیاد پر استوار اور دونوں ممالک میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے مبرا ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ صدیوں پرانا اور گہرا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف تاریخی تعلقات ہیں بلکہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں بھی ایک مضبوط رشتہ قائم ہے۔ گزشتہ 75 سالوں کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان تعلقات ہمیشہ ہی خوشگوار رہے ہیں، لیکن اردوان اور شہباز شریف کی ذاتی دوستی نے اس رشتے کو ایک نیا معنی دیا ہے۔ دونوں رہنما ایک دوسرے کی قیادت کی قدر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ملک کے مفادات کے لیے ایک مضبوط حمایت کا نشان ہیں۔ اردوان اور شہباز شریف کے تعلقات میں جو خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے تجربات اور کامیابیوں کا احترام کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے کئی بار اردوان کی قیادت اور ترکیہ کی ترقی کی تعریف کی ہے اور ان کے ساتھ تعاون کے امکانات کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ دوسری طرف اردوان نے بھی پاکستان کے معاشی چیلنجز میں اس کی مدد کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ہمیشہ اپنے ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ جموں و کشمیر اور شمالی قبرص سمیت بنیادی قومی مفاد کے تمام معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو، اس کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ تجارت سے لے کر فوجی تربیت اور فوجی معاہدوں تک دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کے علاقائی تنازعات میں بھی حمایت کی ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو آرمینیا کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔ پاکستان، ترک اتحادی آذربائیجان کی جانب سے ناگورنوکرباخ کے متنازعہ علاقے پر دعوے کی بھی حمایت کرتا ہے۔ جواب میں ترکی کھلم کھلا کشمیر کی اتنی حمایت کرتا ہے کہ وہ بھارت کو برہم کرتی ہے کیونکہ وہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے اور اردوان کی حمایت کو کھلے عام مداخلت قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کا فلسطین کے تنازعے پر بھی موقف یکساں ہے۔ پاکستان اور ترکیہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بارہا یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسے سیاسی تصفیے کی حمایت نہیں کرتے جو فلسطینی عوام کی حمایت نہ کرتا ہو۔

    پاکستان، ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھا کر عالمی سطح پر کئی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح ترکیہ بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کر کے کئی مسائل و مشکلات سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ ملک کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ سابق حکومتیں دوست ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستوں، ترکیہ کے ساتھ انتہائی گہرے دوستانہ تعلقات میں پوشیدہ صلاحیتوں کو پوری طرح کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، لیکن وزیرِ اعظم شہباز شریف کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے باہمی فائدہ مند معاشی شعبے سے بھرپور مستفید ہونے کے لیے دفاعی اہداف کے ساتھ ساتھ معاشی اہداف کو بھی اپنی اولین ترجیح بنا رکھا ہے۔

    حکومت پڑوسیوں، علاقائی شراکت داروں اور دوست ممالک پر بھرپور توجہ مبذول کر کے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں ترکیہ کے سرمایہ کاروں نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اسی طرح پاکستانی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد ترکیہ میں کاروبار کر رہی ہے اور وہاں کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے پاس ترقی کے لیے وسائل موجود ہیں۔ اگر وہ تعمیر و ترقی کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کریں اور اس پر عمل درآمد کا شفاف نظام بنائیں تو دونوں ملک آنے والے چند برسوں میں ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت سیاسی استحکام اور سرمائے کی اشد ضرورت ہے۔ ترکیہ اور عرب ممالک سرمائے کی کمی کو پورا کرنے میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    پاکستان اور ترکیہ کے سامنے اس وقت دو مرکزی چیلنج ہیں، ایک تجارت اور دوسرا اقتصادی سرمایہ کاری۔ ان گنت ایسی ترک کمپنیاں ہیں جو پاکستان میں کام کرنا چاہتی ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان متعدد شعبوں میں شریک کار ہیں، خصوصاً دفاعی حوالے سے۔ ان گہرے تعلقات سے ہم مزید فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی زراعت کو جدید بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے ترکیہ کی زرعی ترقی و صنعت سازی سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اور اسی طرح تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں بھی تعاون کی وسیع تر گنجائش موجود ہے۔ ترکیہ اگلے دو تین سالوں میں پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دے کر کم از کم پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا خواہاں ہے کیونکہ تجارت کا موجودہ حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ نجی کاروباری طبقے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ترکیہ کے ساتھ تجارت کو بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان کے پاس اس ضمن میں سیکھنے اور تعاون کے لیے بہت کچھ ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کی بڑی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک مل کر بہت سی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان ترکیہ سے جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً زراعت اور تعلیم کے شعبے میں بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ہمارے پالیسی ساز اگر ایک دوسرے سے تیز رفتاری سے تعاون بڑھائیں تو پاکستان معاشی، اقتصادی اور صنعتی لحاظ سے ملک کو مضبوط بنانے کی اس منزل کو چند سالوں میں چھو سکتا ہے، جس کا خواب ہر پاکستانی دیکھتا ہے۔

  • پہلگام ڈرامہ،  ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    پہلگام ڈرامہ، ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    بھارت میں مودی سرکار اپنی ناکامیوں، ظلم و جبر، کرپشن اور انتہاپسندانہ پالیسیاں چھپانے کی کوشش کرتی ہے تو ایک نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، کبھی پلوامہ، کبھی اوڑی، اور اب "پہلگام”لیکن اس بار بھارت کو منہ کی کھانا پڑی، کیونکہ پاکستان نے نہ صرف ہر الزام کا دنداں شکن جواب دیا بلکہ اتحاد، جرأت اور حب الوطنی کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ بھارت نے حسبِ عادت انگلی پاکستان کی طرف اٹھائی، تو پاکستانی قوم نے جواب دیا "اگر جنگ مسلط کی گئی تو تمہیں وہ سبق سکھائیں گے جو تمہاری آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی!”افواجِ پاکستان نے کمر کس لی، سیاستدانوں نے اختلافات بھلا کر ایک آواز میں بات کی، میڈیا نے دلیرانہ انداز اپنایا، اور عوام پاکستان نے سوشل میڈیا کو مورچہ بنا کر دشمن کے پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا۔

    اس جنگ میں سچائی کے سپاہیوں کی صفِ اول میں ایک نام نمایاں ہے،مبشر لقمان ، وہ اینکر، وہ صحافی، جسے نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ جھکایا جا سکتا ہے،پہلگام واقعے کے فوراً بعد مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل "مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل” پر مسلسل پروگرامز کر کے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا۔ مودی سرکار کے جھوٹ، بھارتی میڈیا کے جھانسے، آر ایس ایس کے ایجنڈے، اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ ان کے پروگرام "کھرا سچ” نے وہ سچ دکھایا جو بھارتی عوام سے چھپایا جا رہا تھا۔بھارت، جسے خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہنے کا زعم ہے، سچ برداشت نہیں کر سکا۔ مودی سرکار نے مبشر لقمان سمیت کئی پاکستانی صحافیوں کے یوٹیوب چینلز بھارت میں بند کر دیے۔یہ صرف ایک یوٹیوب چینل کی بندش نہیں، یہ آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے کی شرمناک کوشش ہے.ایک طرف بھارت دنیا کو آزادی کا سبق دیتا ہے، دوسری طرف سچ سننے کی سکت نہیں رکھتا۔ جو سوال کرتا ہے، جو آئینہ دکھاتا ہے، جو حق بولتا ہے ، اس کی آواز بند کر دی جاتی ہے۔لیکن یاد رکھو مودی،سچ کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا

    کھرا سچ کبھی نہیں جھکتا،پاکستان کے دلیر صحافی، عوام اور افواج ایک پیج پر ہیں۔ ہمارا پیغام صاف ہے "اگر تم جنگ چاہتے ہو، تو ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں! لیکن سچ سے مت بھاگو، سچ کو سنو”مبشر لقمان جیسے صحافی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی کی علامت ہیں۔ اور جب تک ایسے چراغ روشن ہیں، پاکستان کا موقف دنیا تک پہنچتا رہے گا، چاہے تم کتنے ہی چینل بند کرو، کتنے ہی پراپیگنڈے کرو ..”کھرا سچ” ہمیشہ بولے گا، گونجے گا، اور تمہاری نیندیں حرام کرتا رہے گا

    مودی کا سچ پر وار،مبشر لقمان کا چینل بھارت میں بند،پاکستانی صحافیوں کا شدید ردعمل

    بھارت کو "کھرا سچ”ہضم نہ ہوا، مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بند کر دیا

    پہلگام حملہ، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انڈین میڈیا او رحکومت کا جھو ٹ بے نقاب کر دیا

    قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کا مبشر لقمان نے کیا افتتاح

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    نکاح کا اعلان میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں،تحریر: رضوانہ چغتائی

    اسلام میں نکاح کا اعلان کرنا ایک مؤکد سنت ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف نسب کی حفاظت ہے بلکہ معاشرتی فتنوں اور بدگمانیوں سے بچاؤ بھی ہے۔ نکاح کا اعلان کسی خاص انداز یا میڈیا پر تشہیر کے ساتھ مشروط نہیں۔۔۔۔
    اس کے ساتھ ہی مشہور شخصیات کے نکاح کے معاملے میں یہ اصول اور زیادہ مؤکد ہو جاتا ہے کہ نکاح عام عوام کے علم میں ہو۔۔۔۔
    ایسا شخص اگر اپنی ازدواجی زندگی کو میڈیا کی چمک دمک سے بچا کر رکھتا ہے،۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کی تصویریں تفصیلات یا نجی معلومات عام نہیں کرتا،
    تو یہ بالکل جائز اور قابل احترام بات ہے۔ بلکہ قابل ستائش ہے۔۔۔۔
    اسلام بھی پردے، رازداری اور گھریلو وقار کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔۔
    لیکن شرط یہ ہے کہ
    نکاح کا وجود،
    عام لوگوں کے علم میں ہو۔۔۔۔ایسا نہ ہو کہ
    نکاح ہی چھپا لیا جائے، ازدواجی رشتہ ہی پوشیدہ رکھا جائے، یا عوام کو علم ہی نہ ہو کہ اس شخص کی شریعت کے مطابق کوئی اور بیوی موجود ہے۔۔۔۔
    سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نجی زندگی کو حد میں رکھنا اورنکاح کے وجود کو چھپانا — یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔۔۔۔۔
    اپنی بیویوں اور بچوں کو میڈیا سے دور رکھنا نجی زندگی کے تحفظ کے دائرے میں آتا ہے، اور اسلام پردے، حیاء اور پرائیویسی کو اہمیت دیتا ہے۔ لیکن نکاح کے بارے میں اعلانیہ بتانے کا حکم دیتا ہے کہ کسی قسم کی غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں، اور ذاتی زندگی کو حد میں رکھتے ہوئے عزت و وقار کے ساتھ گزارا جائے۔۔۔۔۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نکاح کو علانیہ کرو، اور اسے مسجد میں انجام دو اور دف بجاؤ۔” (ترمذی، ابن ماجہ)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا مقصد صرف دو افراد کا باہم رشتہ قائم کرنا نہیں، بلکہ معاشرت میں ایک پاکیزہ تعلق کو واضح اور اعلانیہ بنانا بھی ہے۔ اگر نکاح چھپایا جائے تو نہ صرف شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں بلکہ بعض اوقات بڑے فتنوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے نکاح کا اعلان ایک اسلامی حکمت ہے تاکہ معاشرتی نظام سلامت رہے اور لوگوں کے درمیان اعتماد اور شفافیت قائم ہو اور بے جا قیاس آرائیاں نہ پھیلیں۔۔۔۔

    لیکن ساتھ ہی میں اس رویے کی مذمت کرتی ہوں کہ سلیبرٹیز کی ذاتی زندگی، ان کی فیملی اور بالخصوص ان کی اولاد کے بارے میں زبان درازی یا منفی گفتگو نہ کی جائے۔ میں دوبارہ اس رویے کی بھرپور مذمت کرتی ہوں کہ کسی کی اولاد کو اچھا یا برا کہہ کر جج کیا جائے یا ان کی تربیت پر طعن کیا جائے۔۔۔۔
    اولاد کسی بھی انسان کا سب سے نازک معاملہ ہوتی ہے اور ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو بہترین تربیت دے۔ ہم ظاہر کو دیکھ کر کسی کے معاملات کے اندرونی پہلوؤں کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتے، اس لیے کسی کی اولاد کے کردار یا تربیت پر گفتگو کرنا بدگمانی اور غیر ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے، جس سے اسلام نے منع فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔
    ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان اور قلم کی نوک کی تراش خراش نرمی سے کریں۔۔۔۔ اور دوسروں کے نجی معاملات میں تنقید سے پرہیز کریں۔ اصلاح اگر کرنی ہو تو اصولوں پر بات کی جائے، افراد کی ذاتیات میں اتر کر نہیں۔ یہی اسلامی اخلاق اور مہذب معاشرت کا تقاضا ہے۔۔۔۔!!!