Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عالمی یوم جنگلات

    عالمی یوم جنگلات

    عالمی یوم جنگلات
    تحریر:ملک ظفراقبال
    21 مارچ کو عالمی یوم جنگلات منایا جاتا ہے، جس کا مقصد جنگلات کی اہمیت ان کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانا ہے۔ جنگلات نہ صرف ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ معاشی، سماجی اور ثقافتی فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 21 مارچ 2012 کو عالمی یوم جنگلات کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کو منانے کا فیصلہ جنگلات کے تحفظ اور ان کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا۔ ہر سال اس دن کو ایک خاص تھیم کے تحت منایا جاتا ہے، جو جنگلات سے متعلق اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ عام طور پر یہ تھیم جنگلات کے تحفظ، آب و ہوا کی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور جنگلات کے معاشی فوائد جیسے موضوعات پر مبنی ہوتا ہے۔

    جنگلات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس کے بیشمار فوائد ہیں۔ جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن فراہم کرتے ہیں، جس سے آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ یہ بارش کے نظام کو منظم کرتے ہیں اور سیلابوں کو روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ جنگلات جانوروں، پودوں اور دیگر حیاتیات کے لیے رہائش گاہ فراہم کرتے ہیں۔ دنیا کی 80 فیصد زمینی حیاتیات جنگلات میں پائی جاتی ہیں۔ جنگلات لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں، خاص طور پر لکڑی، کاغذ اور دیگر جنگلی مصنوعات کی صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں، یہ سیاحت کو فروغ دیتے ہیں اور مقامی معیشتوں کو مستحکم کرتے ہیں۔ جنگلات مقامی کمیونٹیز کے لیے روحانی اور ثقافتی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ قدرتی حسن فراہم کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ ہیں۔

    عالمی یوم جنگلات کے موقع پر درخت لگانے کی مہمات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ جنگلات کے تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔ اسکولوں، کالجوں اور کمیونٹیز میں آگاہی واکس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جنگلات کی اہمیت کے بارے میں میڈیا کے ذریعے پیغامات پھیلائے جاتے ہیں۔ حکومتی اور غیر سرکاری تنظیمیں جنگلات کے تحفظ کے لیے پالیسیوں پر بحث کرتی ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لیے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ پائیدار جنگلات کے انتظام کو فروغ دیا جاتا ہے۔ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے تعلیمی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ مقامی کمیونٹیز کو جنگلات کے تحفظ میں شامل کیا جاتا ہے۔ عالمی یوم جنگلات ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنگلات ہمارے سیارے کے لیے ناگزیر ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے (FAO) کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا کم از کم 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے، فضائی آلودگی کم ہواور حیاتیاتی تنوع محفوظ رہے۔ دنیا میں جنگلات کی اوسط شرح تقریباً 31 فیصد ہے، جبکہ کچھ ممالک جیسے فن لینڈ، سویڈن، اور برازیل میں یہ شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ عالمی معیار سے بہت کم ہے۔ موجودہ جنگلات کا تناسب تقریباً 4.8 فیصد ہے، جبکہ مطلوبہ تناسب کم از کم 25 فیصد ہے۔ جنگلات کی کمی سے ماحولیاتی عدم توازن، زمینی کٹاؤ، آلودگی، اور گلوبل وارمنگ جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

    پاکستان میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس کی اہم وجوہات میں غیر قانونی کٹائی، زرعی اور رہائشی زمین میں اضافہ، صنعتی ترقی اور شہری توسیع اور قدرتی آفات جیسے جنگل کی آگ شامل ہیں۔ جنگلات میں اضافہ کے لیے شجرکاری مہمات، غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے خلاف سخت اقدامات اور ان پر عمل درآمد اور درخت لگانے اور جنگلات کے تحفظ کے فوائد پر شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔

    پاکستان میں جنگلات کی تباہی کے ذمہ داران میں مقامی زمیندار اور سرکاری عملہ شامل ہے۔ حکومت جنگلات میں سرمایہ کاری اس قدر نہیں کر پا رہی جس کی گزشتہ کئی دہائیوں سے ضرورت ہے۔ پاکستان میں جنگلات زیادہ تر مہم سازی شجر کاری سے شروع ہوتے اور فائلوں میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں جو کہ عدم دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اگر پاکستان اپنے جنگلات کے رقبے کو عالمی معیار کے مطابق لے آئے تو ماحولیاتی مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور ملک کی معیشت، زراعت اور آب و ہوا پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

  • ظلم ظلم کا راگ الاپنے والے اپنا دور بھول گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ظلم ظلم کا راگ الاپنے والے اپنا دور بھول گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف،مریم ،پرویز رشید،اسحاق ڈار،عرفان صدیقی کے ساتھ کیاکچھ نہیں کیا گیا
    ٹرمپ کی جیت پر خوشیاں منانے والوں کو پھر جواب مل گیا،اب چیخنا بند کریں
    منفی پراپیگنڈہ سے ادراے محفوظ نہ کسی ماں بہن کی عزت،انکولگام کون ڈالے گا؟
    تجزیہ،شہزاد قریشی

    9 جنوری کو میں نے لکھا تھاکہ امریکہ کسی فرد واحد کے لئے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا ،پی ٹی آئی کے دوست ،یوٹیوبر ،وی لاگرز جتنی مرضی ٹرمپ کی کامیابی پر دھمال ڈالیں امریکہ اور امریکی صدر کے سامنے امریکہ اور عالمی دنیا کے بہت سے مسائل ہیں،امریکہ سُپر پاور ہے اور وہ پوری دنیا کو لیڈ کرتا ہے، امریکہ سمیت عالمی دنیا پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی سیاست اورپاکستان جیسے دوسرے ممالک کی جمہوریت سے بھی آگاہ ہے،مذہبی جماعتوں سے بھی عالمی دنیا آگاہ ہے ،مجھ جیسے ادنیٰ لکھاری نے فوجی حکمرانی سے لے کر سول حکمرانی کے دور بھی دیکھے، پی ٹی آئی سمیت پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد بتانا پسند کریں گے کہ کیا آئین پر عمل ماضی یا حال میں ہو رہا ہے؟ کیا آپ اپنے آپ اور عوام کو کتنی بار بے وقوف بنائیں گے؟ اپنے آپ کو بھی شرمندہ کررہے ہیں اور عوام کے سامنے بھی شرمندہ ہو رہے ہیں،انسان نے دنیا سے ایک دن رخصت ہو جانا ہے ،اُس کا کردار زندہ رہتا ہے،ذرا نہیں بہت سوچئے آنے والی نسل آپ کے کس کردار کو یاد کرے گی ، پھر یہ زمین خدا پاک کی ملکیت ہے آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ ایک عطیہ کے طور پر خدا پاک نے دیا جس کا حساب ہوگا ،جمہوریت کا راگ الاپ کر آپ دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتے،

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک زمانے میں جہوریت اور آئین کو لے کر بیان د یا تھا کہ آئیے آئین نے جو حدیں مقرر کی ہیں اس پر عمل کرکے ملک وقوم کی خدمت کریں ،کیا سیاسی اورمذہبی جماعتوں نے نواز شریف کے اس بیان پر عمل کیا؟کیا نواز شریف کو تین بار اقتدار سے ہٹایا نہیں گیا ،کیا وہ جمہوریت اور عوام کے مینڈیٹ پر حملہ نہیں تھا؟ کیا نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھیوں جن میں سینیٹر پرویز رشید جو درویش صفت انسان ہیں سے کسی سیاسی یا مذہبی جماعت نے پوچھا ان سے کس جرم میں وزارت چھینی گئی اور پھرسینٹ کی نشست سے محروم رکھا گیا ؟کیا سینیٹر عرفان صدیقی اور سعد رفیق جیسے افراد کی تذلیل نہیں کی گئی،کیا سینیٹر اسحاق ڈار کے ذاتی گھر کو توڑا نہیں گیا ؟ اس کے علاوہ بھی لاتعداد مثالیں موجود ہیں، جمہوریت اور قانون کہاں تھا؟ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے کہاں تھے؟ آج کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو کس جرم میں قید کیا گیا تھا؟ یاد رکھیئے امریکہ سمیت عالمی دنیا ہماری انتقامی جمہوریت اور انتقامی قانون کی حکمرانی سے مکمل آگاہ ہے، جس نحوست نے آج پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ،اسی نحوست نے ہماری خوشیوں کا جنازہ نکال د یا ہے ،جن سیاسی گلیاروں سے قوم کو کبھی مسرت اور شادمانی کی برساتیں ملا کرتی تھیں پوری قوم کے دل خوشی سے کھِل اٹھتے تھے آج نہ ادارے محفوظ نہ کسی کی بہن بیٹی کی عزت محفوظ ،پاک فوج اور نہ جملہ ادارے اور پولیس محفوظ ، جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں ،شہید ہو رہے ہیں اُن کے خلاف غلیظ زبان استعمال ہو رہی ہے،افسوس صد افسوس ،عوام کے لئے پاک فوج اورپاکستان کے آگے کچھ نہیں ،کون نہیں جانتا بلوچستان اور کے پی کے میں کون مداخلت کررہا ہے،آزادی اظہار رائے اپنی جگہ ملکی سلامتی ملکی مفاد بھی کسی بلا کا نام ہے.

  • سینٹرل سلیکشن بورڈ ’’ریویو ‘‘ ناگزیر ہوچکا.تحریر: ملک سلمان

    سینٹرل سلیکشن بورڈ ’’ریویو ‘‘ ناگزیر ہوچکا.تحریر: ملک سلمان

    گذشتہ دنوں ہونے والے سینٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات نے پاکستان کی بیوروکریسی کو اضطراب میں مبتلا کررکھا ہے۔سینٹرل سلیکشن بورڈ کے سرپرائز فیصلوں سے اعلیٰ سرکاری ملازمین چکرا کررہ گئے ،خاص طور پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان کے آدھے سے بھی زائد افسران کو پرموٹ نہیں کیا گیا۔ پرموٹ نہ کیے گئے افسران کی اکثریت کا اشارہ تین اہم شخصیات کی طرف تھا کہ اس وقت وہ پاکستان کے زمینی خدا بن کر انتقامی فیصلے کر رہے ہیں، بیوروکریسی نے بورڈ میٹنگ کو رسمی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے کی پرچی پہلے سے تھما کر بھیجا گیا تھا۔ ایک سینئر افیسر کا کہنا تھا کہ سارے کیرئیر میں ایک روپے کی کرپشن یا کوئی خراب رپورٹ ثابت کردیں وہ خود استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرضی اور سفارشی رپورٹوں پر انہیں ’’فکس‘‘ کیا گیا ہے جبکہ کچھ افسران کے معاملے میں نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں۔ بلوچستان ٹرین حادثے کی وجہ سے سیکرٹری داخلہ، آئی جی اور چیف سیکرٹری بلوچستان سینٹرل سلیکشن بورڈ میٹنگ کا حصہ نہیں بن سکے، ان کی غیرموجودگی میں ایف آئی اے اور بلوچستان کے افسران کی پرموشن کا فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ بیوروکریسی کی اکثریت نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے وزیراعظم ’’ریویو بورڈ‘‘ میں سید توقیر حسین شاہ جیسی غیر جانبدار شخصیات کو شامل کریں، فرضی اور جعلی رپورٹس کی بجائے سب کو قابل قبول سپیشل ویٹنگ ایجنسی کے طور پر آئی ایس آئی کی رپورٹ پر فیصلہ کریں، ہم من و عن تسلیم کریں گے۔ جناب وزیراعظم سینٹرل سلیکشن بورڈ جس قدر متنازع ہوچکا ہے صورت حال کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ ریویو بورڈ کیا جائے۔ اگر اس متنازع بورڈ پر ’’ریویو‘‘ نہیں لیتے تو بیوروکریسی سے سروس ڈلیوری کی امید چھوڑ دیں کیونکہ جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا جائے گا تو وہ اپنی فرسٹیشن کیلئے عوامی و فلاحی کاموں میں دلچسپی نہیں لیں گے اور کرپشن کا راستہ اختیار کریں گے۔

    جو واقعی کرپٹ ہے اس کی سزا صرف ترقی نہ دینا کیوں؟ کرپٹ افراد کو نہ صرف نوکری سے نکالا جائے بلکہ لوٹی ہوئی رقم جرمانہ سمیت واپس لی جائے۔
    ان افسران کو بھی ترقی سے محروم کیا گیا جو حکومتی رٹ بحال کرنے کیلئے مخالف سیاسی جماعت کی ”ہٹ لسٹ” پر ہیں،انکا مذاق اڑایا جارہا ہے کہ حکومت نے انہیں استعمال کرکے پھینک دیا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ آئندہ کوئی آفیسر حکومتی رٹ کی بحالی کیلئے کام نہ کرے ؟یہی وجوہات ہیں کہ بہت سارے افسران سول سروس کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔

    حکومت کی مثبت ایمج سازی کیلئے دن رات ایک کرنے والے انفارمیشن گروپ کے افسران کی ترقی کا سفر انتہائی سست اور ناکافی سہولیات الم ناک ہیں۔ ایف بی آر، آفس مینجمنٹ، ریلوے اور آڈٹ اینڈ اکائونٹس کے افسران کی زبوں حالی کا تذکرہ تفصیلی کالم میں۔ ارباب حکومت کی طرف سے دیے گئے اختیارات کا ’’مس یوز‘‘ بلکہ ’’ابیوز‘‘ کرکے چند بیوروکریٹ اپنے ہی افسران کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں جس سے ترقیوں سے محروم افسران کا کیرئیر خراب ہو رہا ہے۔ چند شخصیات وفاقی اجارہ داری کے ساتھ صوبوں میں بھی اہم ترین سیٹوں پر اپنے منظور نظرافسران لگا کر تمام صوبوں خاص طور پر پنجاب پر اپنی مکمل اور سخت گرپ بنا کر اپنی بالادستی منوا رہے ہیں۔ پنجاب کے ایک سیکرٹری اپنے ماتحت بدنام زمانہ کرپٹ آفیسر کو کئی ماہ سے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن صرف اس لیے نہیں ہٹا پا رہے کہ مذکورہ کرپٹ افیسر سینٹرل سلیکشن بورڈ کے ایک ممبر کا کارخاص ہے وہ ناراض نہ ہو جائے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو صوبائی سروس کے افسران کی بیچارگی بھی ختم کرنا ہوگی۔ پی پی جی مکمل کرنے کے باوجود 100سے زائد افسران تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پرموشن بورڈ کی راہ تک رہے ہیں۔اسی طرح پی ایس ایم جی کرنے والے افسران بھی دوسال سے ترقی سے محروم ہیں۔ ایک ساتھ ایس ایم سی کرنے کے باوجود دوسرے گروپ پرموٹ ہوگئے اور پی ایم ایس والے ابھی تک بورڈ کے منتظر ہیں۔ پی ایم ایس افسران کو ترقی اور پوسٹنگ کے مساوی حقوق دیے بنا صوبائی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ چند افسران اپنی بالادستی منوانے اور اپنے چہیتے افسران کو سیاہ و سفید کی ملکیت دینے کیلئے جو خطرناک اقدامات کررہے ہیں وہ کسی بھی طور پر پاکستان کے بھلے میں نہیں ہیں۔ گریڈ بیس کی سیٹوں پر گریڈ اٹھارہ والے کنسیپٹ کلئیر افسران تعینات ہیں جبکہ سینئر افسران کی خلاف میرٹ خواہشات سے انکار کی جسارت کرنے والے ایماندار افسران مہینوں سے او ایس ڈی ہیں یا پھر کھڈے لائن پوسٹنگ۔

    وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سول سروس اور پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ ابھی بھی وقت ہے ملکی باگ ڈور چند افراد کے حوالے کرنے کی بجائے ہر کسی کے اختیارات کا تعین کیا جائے۔پختہ شواہد کے بغیر کسی کو بھی ترقی سے محروم نہ کیا جائے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم پاکستان کو ترقی و کامیابی کی منزلوں پر لے جانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سی پیک، سپیشل انوسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل اور بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے استحکام پاکستان کیلئے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ خود پسند افرادسے گذارش ہے کہ خدارا! چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم کی کوششوں کو رائیگاں نہ کریں۔

  • رپورٹ پٹواری مفصل ہے.تحریر:مبشر حسن شاہ

    رپورٹ پٹواری مفصل ہے.تحریر:مبشر حسن شاہ

    قدرت اللہ شہاب اپنی خود نوشت شہاب نامہ کے باب ڈپٹی کمشنر کی ڈائری میں عیدو نامی سائل کی داستانِ حسرت بیان کی ہے۔ انبالہ سے ہجرت کرکے ضلع جھنگ میں آباد ہونے والے اس مہاجر کو متروکہ اراضی الاٹ ہوئی تھی جس پر کاشتکاری کے ذریعے وہ اپنے خاندان کی کفالت کر رہا تھا مگر اس دوران کسی بے رحم پٹواری نے الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی دھمکی دی تو اس نے گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ، وزیر بحالیات، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام کو داد رسی کیلئے درخواست بھجوا دی۔ لاٹ صاحب، وزیراعلیٰ، وزیر بحالیات و دیگر حکام کے دفاتر کا طواف کرنے کے بعد یہ درخواستیں ’’برائے مناسب کارروائی‘‘ سرکاری افسروں کی میز پر آتی گئیں اور فرض شناس افسر رپورٹ طلب کرنے کیلئے اسے ماتحت حکام کی طرف بھجواتے چلے گئے یہاں تک کہ یہ تمام درخواستیں افسر مجاز یعنی اسی پٹواری کے پاس جا پہنچیں جو اس غریب سائل کی اراضی ہڑپ کرنے کے درپے تھا۔ اس نے ازراہ تلطف، سائل عیدو کو پٹوار خانے طلب کیا اور ان درخواستوں کا پلندہ اس کے منہ پر دے مارا۔ اس کے بعد پٹواری نے لگی لپٹی رکھے بغیر تنک کر کہا ’’اب تم یہ درخواستیں جھنگ، ملتان یا لاہور لے جائو اور ان کو اپنے سالے باپوں کو دے آئو‘‘عیدو اس تذلیل و تحقیر کے بعد بھی کوئے داد رسی کے طواف سے باز نہ آیا اور سرکاری دفاتر کی خاک چھانتا رہا۔ اس دوران پٹواری نے اس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی اور ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کے بعد رپورٹ تحریر فرمائی ’’جناب عالی! سائل مسمی عیدو فضول درخواست ہائے دینے کا عادی ہے۔ اسے متعدد بار سمجھایا گیا کہ اس طرح حکام اعلیٰ کا وقت ضائع کرنا درست نہیں، لیکن سائل عیدو عادتاً درخواست گزار ہے اور اپنی اسی عادت سے مجبور ہوکر بارہا درخواستیں دیتا ہے ۔ سائل کا چال چلن بھی مشتبہ ہے اور اس کا اصل ذریعہ معاش فرضی گواہیاں دینا ہے۔ مشرقی پنجاب میں اس کے پاس کوئی زمین نہیں تھی۔ بمراد حکم مناسب رپورٹ ہذا پیش بحضورِ انور ہے‘‘ گرداور اور قانون گو نے یہ لکھ کر درخواستیں تحصیلدار کے دفتر بھجوا دیں کہ ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘۔ درخواستیں اسی گول دائرے میں گھومتی ہوئی ان اعلیٰ حکام کے پاس واپس آگئیں جنہوں نے ’’برائے مناسب کارروائی‘‘ مارک کیا تھا۔ اس دوران ہر سرکاری افسر نے ایک ہی جملے کا اضافہ کیا ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘۔اور آخر میں

    آج فیس بک پر ایک ویڈیو نظر سے گزری پہلے تو صرف نظر کیا کہ آواز سگاں کم نہ کند رزقِ گدارا۔ پھر واپس سکرول کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ سپیکر پنجاب اسمبلی ایم پی اے حلقہ 179 قصور محمد احمد خان ایک میٹنگ کی صدارت فرماتے ہوئے گویا تھے کہ اساتذہ کا کوئی ایشو ہے ایک نہیں چھ سے سات جگہ میرے علم میں آیا ہے کہ ٹیچرز اپنے بزنس کر رہے ہیں اور سکول انہوں نے اپنی جگہ 10000 پر بندہ رکھا ہوا ہے خود لے رہے ہیں پچاس ساٹھ ہزار ستر ہزار اور گھوم رہے ویسے صاحب کی اپنی تنخواہ کتنی ہے؟؟؟؟9 لاکھ پچاس ہزار ماہانہ معہ ایک شاندار سرکاری رہائش بجلی گیس مفت , میڈیکل مفت سکیورٹی کے نام پر مسلحہ لشکر بھی۔ ابھی جولائی 24 میں جناب سپکیر صاحب نے 10 کروڑ کی LC300 لینڈ کروزر سرکار سے لی ہے اسی لیے تو کسی انکل سرگم لے نام سے مشہور کامیڈی اداکار نے کہا ہے گریڈ 1 تا 17 والے مخلوق اور اوپر گریڈ والے اشرف المخلوقات ہیں۔ اس ویڈیو میں اشرف المخلوقات نے برہمی کا اظہار کیا اور فرمایا اساتذہ کی اپنی جگہ بندہ رکھنے کی شکایت پر تمام انچارج صاحبان کو مطلع کریں کہ ان کو بھی معطل کیا جائے گا۔ ساتھ ہی فیک انرولمنٹ کی بھی خبر لی جس پر سیکرٹری ایجوکیشن خالد نذیر وٹو نے ایک نیا شوشا چھوڑا (لغت میں لفظ شوشا موجود ہے معنی جان بوجھ کر غلط خبر یا اطلاع دینا جس سے حالات کا توازن آپ کے حق میں ہو جائے )

    سیکرٹری صاحب نے فرمایا کہ ہم کیمراز انسٹال کر رہے ہیں صبح گیٹ سے ہر ٹیچر گزرے گا ریکارڈ ہوگا کہ وہ سکول آیا اور جعلی داخلہ بھی کرنا اب ناممکن ہے کیونکہ ایک کیمرہ دفتر سکول میں ہوگا کہ جو داخلہ ہو نظر آئے۔ اس کے بعد سوچا کہ آپ کو وہ لطیفہ پڑھنے کا حق حاصل ہے جو اوپر بیان ہے۔ تعلیم کو اس ملک میں اتنا ہی سنجیدہ لیا جاتا ہے جتنا بس تصاویر میں کافی دِکھے۔ اب المیے دو ہیں ایک ایک کرکے دیکھتے پہلا ستم کہ اساتذہ کے ستر ہزار پر متعرض کون ہے؟ 9 لاکھ 50 ہزار ماہانہ لینے والا اور اساتذہ نے بندے کیا رکھنے 10000 کہاں سے لینا ہاں آپ سیاست دانوں نے ڈیروں پر بندے ضرور بٹھا رکھے ہیں ستر ہزار تنخواہ پر ایسے اعتراض جیسے ٹیچر ملک کا 75 فیصد بجٹ استعمال کر رہے یہ ہے المیہ کہ استاد کی تنخواہ پر بھی اعتراض اب انہوں نے اپنے پیسوں سے کچھ لیا ہو تو پتہ چلے کہ 70000 کتنی خطیر رقم ہے۔ یہ لوگ وہ اشرف المخلوقات ہیں جن کو نہ کسی فارمیشن کا علم نہ ان کے پاس اساتذہ کے مسائل کا ڈیٹا بس سطحی معلومات لے کر حملہ سیدھا استاد پر۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ سیکرٹری صاحب نے جو تجویز دی ہے وہ بھی ناقابل عمل ہے . پنجاب کے کُل مڈل سکول 7223 ہیں پرائمری سکول 26993 ۔ ہائی سکول8081 اور ہائیر سیکنڈری سکول 848 ( ریفرنس
    https://sis.pesrp.edu.pk/
    تو کل ملا کر سکول ہوئے 43142 ۔ ہر سکول میں صرف 2 کیمرے لگیں اورر 2 کیمرے 15000 سے 20000 تک مالیت کے ہیں 43142 سکول میں دو دو کیمرے ہوئے 86294 جن کی مالیت 1,725,880,000 اب خود فیصلہ کریں نہ کوئی پلاننگ نہ ڈیٹا نہ مکمل صورتحال کا علم لیکن رپورٹ مفصل ہے

  • شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی .تحریر:   راحین راجپوت

    شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی .تحریر: راحین راجپوت

    آہ شہنشاہ جذبات اداکار محمد علی کو مداحوں سے بچھڑے اٹھارہ برس بیت گئے لیکن وہ اپنے فن،کرداراوربارعب شخصیت کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں ۔اداکار محمد علی 19اپریل 1931ءکو بھارت کے شہر رام پور میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔محمد علی اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔محمد علی محض تین سال کے تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ۔محمد علی کے والد سید مرشد علی نے بچوں کی خاطر دوسری شادی نہ کی ۔ہجرت کے بعد سید مرشد علی اپنے خاندان کے ہمراہ ملتان آگئے ۔کچھ عرصے بعد یہ خاندان بہاولپور اور پھر حیدرآباد سندھ چلا آیا ۔محمد علی نے ابتدائی تعلیم ملتان اور بہاولپور سے حاصل کی جبکہ انٹر حیدرآباد سندھ سے کیا ۔محمد علی کے بڑے بھائی ارشاد علی ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے وابستہ تھے۔محمدعلی کو ریڈیو پاکستان میں ان کے بڑے بھائی نے متعارف کرایا ۔ارشاد علی اس وقت ریڈیو پاکستان میں ڈارمہ آرٹسٹ تھے ۔محمد علی کو ان کی پرکشش شخصیت اور بہترین آواز کی وجہ سے زیادہ پزیرائی ملی ۔60ءکی دہائی میں محمد علی مستقل طور پر ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ ہوگئے ۔اس وقت کراچی کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری تھے ۔اسی دوران فضل کریم فضلی نے اپنی فلم "چراغ جلتا رہا”بنانے کا فیصلہ کیا تو زیڈ اے بخاری نے ان سے محمد علی کے لیے خاص سفارش کی ۔یوں محمد علی اس فلم میں کاسٹ ہو گئے ۔اس فلم میں محمد علی نے بطور ولن کردار ادا کیا جبکہ اس فلم کی ہیروئن اداکارہ زیبا بیگم تھیں اور اس فلم میں ہیرو کا کردار اداکار عارف نے ادا کیا ۔یہ فلم باکس آفس پر زیادہ کامیاب تو نہ ہوئی مگر اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے ہاتھوں سے کیا ۔جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو سید مرشد علی نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیاتو وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ۔یہ محمد علی کے فلمی کیریئر کا آغاز تھا ۔اداکار محمد علی نوجوانی میں فلموں کے لئے کافی پرفیکٹ تھے ۔اسی دور میں اداکارہ زیبا کا بھی فلموں میں بڑا چرچا تھا اور وہ فلم انڈسٹری میں اپنا آپ منوا رہی تھی ۔محمدعلی اور زیبا کے درمیان ہم آہنگی پہلی فلم سے ہی پیدا ہونے لگی اسی وجہ سے یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے ۔ہدایت کار اقبال یوسف کی فلم "تم ملے پیار ملا”کی عکس بندی کے دوران انہوں نے شادی کر لی ۔شادی کے بعد انہوں نے "علی زیب”کے نام سے فلموں کی پروڈکشن شروع کی اور پہلی فلم "جیسے جانتے نہیں”بنائی ۔اس کے بعد فلم "آگ”جیسی سپر ہٹ فلم پروڈیوس کی ۔اس کے بعد محمد علی نے اپنے کیریئر میں تقریباً 111ہدایتکاروں کی لگ بھگ 250سے زائد فلموں میں کام کیا ۔ان کی بطور ہیرو پہلی فلم”شرارت "تھی اور آخری فلم”دم مست قلندر "تھی ۔جبکہ کریکٹر رول میں آخری فلم”محبت ہو تو ایسی "تھی ۔1962ءسے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے محمد علی نے 1964ءمیں فلم”خاموش رہو "میں ایسی لا جواب اداکاری کا مظاہرہ کیا کہ جس کی کامیابی کے بعد انہوں نے پلٹ کر واپس نہیں دیکھا ۔
    اداکار محمد علی کی متعدد فلموں میں آنسو بن گئے موتی ،افسانہ زندگی کا ،انصاف اور قانون ،صائقہ،ہمراز،بن بادل برسات ،خدااورمحبت ،گڑیا،بدلتے رشتے،دنیا نہ مانے ،کنیز،صائمہ،وحشی،آس،آئینہ اور صورت ،انسان اور آدمی ،حیدر علی ،دوریاں،بوبی،جب جب پھول کھلے ،صورت اور سیرت ،بدل گیا انسان ،دامن اور چنگاری،پھول میرے گلشن کا ،لوری،بازی اور شعلے جیسی لا زوال فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔
    اداکار محمد علی پر زیادہ تر گیت مہدی حسن اور احمد رشدی کے پکچرائز ہوئے ۔
    انہوں نے اپنے کیریئر کی کئی لاجواب فلموں میں بے مثال اداکاری کا مظاہرہ کیا اور کئی بڑے ایوارڈ حاصل کیے ۔انہوں نے اپنے ابتدائی دس سالہ کیرئیر میں لگا تار 6نگار ایوارڈ حاصل کیے ۔اس کے علاوہ انہوں نے اسپیشل ایوارڈ بھی اپنے نام کئے ۔محمد علی کو اعلیٰ حکومتی ایوارڈ ،پرائیڈ آف پرفارمنس اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔بھارت سے نوشاد علی ایوارڈ اور دبئی سے الناصر ایوارڈ بھی اپنے نام کیا ۔اس کے علاوہ 1997ءمیں انہیں پرسنالٹی ایوارڈ بھی ملا ۔اس کے علاوہ محمد علی شہنشاہ جذبات کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اداکار ہیں ۔اداکارمحمد علی کو برطانیہ کی بھی شہریت حاصل تھی لیکن وہ ساری زندگی پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے ۔اس کے علاوہ وہ اسلامی اقدار وروایات کے بہت بڑے حامی تھے اور ایک درد دل رکھنے والے انسان تھے ۔
    محمد علی اور زیبا کی شہرت دیکھ کر بھارتی ہدایت کار منوج کمار نے اپنی فلم "کلرک”میں سائن کیا ۔
    فلموں کے بعد وہ مکمل طور پر سماجی کاموں میں مصروف ہو گئے ۔
    1997ءمیں انہوں نے "علی زیب فاؤنڈیشن”کے نام سے ایک رفاہی ادارہ بنایا جس میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔محمد علی نے اپنے عہد میں ماسکو میں ہندوستان کے خلاف مشرقی پاکستان میں قید جنگی قیدیوں کے حق میں مظاہرہ کیا ۔
    وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے واحد اداکار تھے جن کے گھر پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز نے قیام کیا تھا ۔
    ذوالفقار علی بھٹو اور صدر ضیا ءکے دور میں اداکار محمد علی کو خاص مقام حاصل رہا ۔
    صدر ضیاء الحق بھارت کے دورے پر گئے تو اداکار محمد علی اور ان کی اہلیہ زیبا بیگم بھی ان کے ساتھ گئے۔وہاں انہوں نے اندرا گاندھی کے گھر قیام کیا۔آخری دنوں میں اداکار محمد علی دل اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو گئے ۔بالآخرفن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ 19مارچ 2006ءمیں ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا (ان للہ وان الیہ راجعون)

  • خاموش فون . ایک بڑا نقصان!

    خاموش فون . ایک بڑا نقصان!

    خاموش فون. ایک بڑا نقصان!
    تحریر:حسن معاویہ جٹ

    کبھی بھی گھر والوں کی کال آئے تو نظر انداز نہ کریں۔ میسجز آئے ہوں تو لازماً دیکھ لیں، اگر بات کرنے کا دل نہیں بھی چاہ رہا تو بھی ضروری بات کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کریں۔ بعض اوقات انسان اتنا تھکا ہوتا ہے کہ جی چاہتا ہے کوئی بات نہ کرے، کوئی کال نہ آئے اور بس بے فکری سے سو جائے۔ اسی سوچ کے تحت کئی لوگ اپنا فون سائلنٹ موڈ پر لگا کر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ لاکھ کوئی فون کرتا رہے مگر جب جواب نہ ملے تو کرنے والا تھک ہار کر رک جاتا ہے۔

    میرا ایک بچپن کا دوست جو اب اپنی فیملی سمیت لاہور منتقل ہو چکا ہے، کبھی اپنے گھر میں ٹھہرتا تو کبھی کام کی جگہ کے قریب کرائے کے کمرے میں رکتا۔ اس کی عادت تھی کہ جب تھکاوٹ ہوتی یا موڈ خراب ہوتا تو فون سائلنٹ کر دیتا تاکہ آرام میں خلل نہ آئے۔

    اُس روز بھی اس نے یہی کیا۔ مغرب کے بعد کمرے میں جا کر فون سائلنٹ کیا اور گہری نیند سو گیا۔ نیند اتنی گہری تھی کہ اگلے روز دوپہر بارہ بجے آنکھ کھلی۔ فریش ہو کر اس نے موبائل اٹھایا تو سینکڑوں مسڈ کالز دیکھ کر دل زور سے دھڑکنے لگا۔

    یہ تمام مسڈ کالز اس کے بھائی، کزنز اور دیگر رشتے داروں کی تھیں۔ گھبراہٹ کے عالم میں اس نے گھر فون کیا تو روتے ہوئے بتایا گیا: "عابد، فجر کے وقت تمہارے ابو کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہم تمہارا انتظار کر کر کے میت چنیوٹ لے آئے ہیں اور یہاں چار بجے جنازہ ہے۔۔۔”

    عابد پر جیسے بجلی گر گئی تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کرے۔ اکیلا تھا، کوئی تسلی دینے والا موجود نہیں تھا۔ وہ دھاڑیں مار کر رویا۔ کورونا کے دن چل رہے تھے جس کی وجہ سے جانے آنے میں بھی مسائل تھے۔ عابد نے فوراً ایک دوست کو آگاہ کیا۔ دوست نے ٹیکسی بک کروا دی۔ عابد ٹیکسی میں سوار چنیوٹ پہنچا جہاں اس کی غیر موجودگی کے باعث جنازہ مؤخر کرنا پڑا۔ جیسے ہی اس کے چنیوٹ میں داخل ہونے کی اطلاع موصول ہوئی خاندان والوں نے میت اٹھانے کی تیاری کر لی۔ جب وہ بھاگتا ہوا پہنچا تو جنازہ لے جایا جا رہا تھا۔ راستے میں عابد شامل ہوا تو چارپائی روک کر اسے آخری دیدار کروایا گیا۔ وہ لمحہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ سطور لکھتے ہوئے بھی میری آنکھیں نم ہو رہی ہیں۔

    اس واقعے کے بعد میں نے ہمیشہ کے لیے فون سائلنٹ پر لگانے سے توبہ کر لی۔ مسجد جاتا ہوں تو بھی فون کی آواز بند کرنے کے بجائے مدھم کر دیتا ہوں، وجہ یہ کہ اگر کوئی کال کرے کم از کم ہلکی محسوس ہو جائے تاکہ بعد میں رابطہ کرنا یاد رہ جائے۔

    ایک بات اور کال کرنے والوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر کوئی بار بار کال کرنے پر بھی فون نہیں اٹھا رہا تو اس کی کوئی مجبوری ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بار بار کال کرنے کے بجائے واٹس ایپ پر میسج چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ آج کل لوگ جلدی یا ذرا دیر سے واٹس ایپ پر آئے پیغامات ضرور دیکھتے ہیں۔

    ایک ضروری بات یہ بھی کہ کچھ لوگ نئے نمبر سے کال اٹھانے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں حالانکہ ممکن ہے کہ نئے نمبر سے کال کرنے والا کسی ایسی خبر سے آگاہ کرنا چاہتا ہو جو زندگی بچانے یا کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکے۔ سو ہمیں اپنی پختہ عادات سے ہٹ کر بھی بعض کام کر لینے چاہئیں تاکہ وہ لمحہ زندگی میں نہ آئے جب کہنا پڑے: "اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔”

    رہے نام اللہ کا۔

  • قوم کا فخر ۔۔۔قوم کا مان۔۔۔ افواج پاکستان.تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    قوم کا فخر ۔۔۔قوم کا مان۔۔۔ افواج پاکستان.تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    انسانی جسم بے شمار اعضا اور ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے جسم میں کچھ عضو ایسے بھی ہیں جو نہ بھی ہوں تو انسان زندہ رہ سکتا ہے جبکہ کچھ عضو ایسے بھی ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے جیسا کہ شہ رگ ہے ، دل ہے یا سر ہے ۔ ایسے ہی پاکستانی قوم پچیس کروڑ افراد پر مشتمل ہے ۔ پچیس کروڑ افراد پر مشتمل ملک میں بے شمار جماعتیں ہیں۔ حکومتی ا و رنجی سطح پر لاتعداد شعبہ جات پائے جاتے ہیں ۔ مختلف شعبہ جات کی اپنی اپنی اہمیت ہے ۔ تاہم بہت سے شعبہ جات ایسے ہیں جو نہ بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ملک قائم رہے گا لیکن افواج پاکستان کا شعبہ ایک شعبہ ہے کہ جس کے بغیر پاکستان کا تصور بھی محال ہے ۔ افواج کے بغیر پاکستان کی آزادی اور خود مختاری ختم ہوکر رہ جائے گی ۔ آج اگر ہم اپنے ملک میں آرام و سکون سے رہ ہیں اور اپنے گھروں میں آرام اور سکون کی نیند سو رہے ہیں تو افواج کی بدولت ہی رہ رہے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے افواج کی قدر وقیمت کا اندازہ قوم 12اور13مارچ کو کرچکی ہے کہ جب دہشت گردوں نے بلوچستان میں ڈھاڈر کے مقام پر ٹرین میں سوار 400مسافروں کو یرغمال بنا لیا ۔ قوم کے لیے یہ بہت مشکل وقت تھا ۔ دہشت گردوں کے انتظامات اور یرغمالی مسافروں کی بے بسی کے بارے میں جس طرح کی اطلاعات آرہی تھیں اس سے خدشہ تھا کہ یا تو 400مسافر خون میں نہا جائیں گے یا پھر ریاست کو دہشت گردوں کے سامنے سرنڈر کرنا پڑے گا ۔ دونوں صورتوں میں ہی پاکستان کےلئے بے حد مشکلات تھیں۔ اس مشکل وقت میں سکیورٹی فورسز کے تمام اہلکاروں نے جس جرا¿ت وبہادری اور دانشمندی وبہترین حکمت علمی سے دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا ہے اس سے قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے ۔قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے ۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے قبل جب بھی قوم پر مشکل وقت آیا افواج پاکستان کے بہادر آفیسروں اور جوانوں نے جانوں پر کھیل کر وطن اور قوم کی حفاظت کی ہے ۔ 6ستمبر 1965ءکی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضاﺅں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کو دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ ا±سے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت ان کا جذبہ شہادت اور ”جہاد فی سبیل اللہ“کا ماٹو ہے۔۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں ۔اس وقت بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گرد پھر سراٹھا رہے ہیں ۔ بہادر افواج کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر ان وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کررہے ہیں ۔ جب ہم رات کے وقت اپنے گھروں میں اور اپنے بستروں آرام کی نیند سورہے ہوتے ہیں اس وقت ہمارے وطن کے جیالے پاسبان راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ۔
    آج ہمارا دشمن پاکستان میں بھی 1971ءجیسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ 9مئی 2024ء کے دن جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے کئے گئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام واقعات 1970ءمیں ملک کے خلاف کی جانے والی دشمنی کا ہی تسلسل ہے ۔وطن اور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے کسی قسم کی رعایت کے حقدار نہیں ۔ ایسے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا اور تختہ دار پر لٹکانا بے حد ضروری ہے ۔ فوج چاہے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ، تعداد میں بھی زیادہ ہو ، جدید ترین اسلحہ سے لیس ہو ۔۔۔۔لیکن جب تک قوم فوج کے ساتھ نہ ہو وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے ۔ آج ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے ۔ ملک اور قووم کے دفاع کے لیے روزانہ فوجی جوان جام شہادت نوش کررہے ہیں ۔حالات بے حد نازک ہیں ۔ یہ وقت ہمارے باہمی اتحاد واتفاق کا ہے۔ آئیں ! اس بات کا عہد کریں کہ ہم ملک اور قوم کے دفاع کےلئے اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ہیں ۔ ہمیں جیسے اپنے گھر سے محبت ہے ایسے ہی ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے ۔ جیسے اپنے اہلخانہ سے محبت ہے اس سے کہیں بڑھ کر ہمیں اپنے فوجی جوانوں سے محبت ہے

  • گروک کا مودی پر حملہ، گالیوں اور حقائق سے بھرپور جوابات،بھارت میں بھونچال

    گروک کا مودی پر حملہ، گالیوں اور حقائق سے بھرپور جوابات،بھارت میں بھونچال

    امریکی ارب پتی ایلون مسک کے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل ’گروک 3‘ نے بھارتی سیاست میں بھونچال برپا کر دیا ہے۔ ’گروک‘ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو نہ صرف ’سب سے متعصب سیاست دان‘ قرار دیا بلکہ بھارت کو ’کرپٹ ترین ممالک‘ میں شمار کیا۔

    ’گروک‘ کی بے باکی نے اس وقت سب کو حیران کر دیا جب اس نے صارفین کے سوالات کے جوابات میں بازاری ہندی زبان اور گالیوں کا استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی گفتگو میں ’گروک‘ نے مودی پر مسلمانوں کے خلاف گجرات فسادات سمیت دیگر تاریخی حوالوں سے تنقید کی اور بھارت میں کرپشن کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے۔

    ایک صارف کے سوال پر کہ ’اتنی ایمانداری کے ساتھ انڈیا میں کیسے چلے گا گروک؟‘ ’گروک‘ نے طنزیہ جواب دیا، ’ایمانداری اور وہ بھی بھارت میں؟ جبکہ مودی کی زیرِقیادت بھارت خود کرپٹ ترین ممالک میں شامل ہے۔‘

    جب ’گروک‘ سے مودی اور راہول گاندھی میں سے پسندیدہ سیاست دان چننے کا سوال کیا گیا تو اس نے راہول گاندھی کو ترجیح دی اور ان کی خوبیاں بھی بیان کیں۔

    ’گروک‘ کی اس گفتگو نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کچھ صارفین نے ’گروک‘ کے بے باک جوابات پر شک کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا یہ واقعی ایک اے آئی ماڈل ہے یا اس کے پیچھے کوئی انسان موجود ہے؟

    ایلون مسک نے ’گروک 3‘ کو اب تک کا ذہین ترین اے آئی ماڈل قرار دیا ہے، لیکن اس کے متنازع جوابات نے اس کی صلاحیتوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

  • سینٹرل سلیکشن بورڈ کی کولیکٹو ویزدم پر سوالیہ نشان؟  تحریر:ملک سلمان

    سینٹرل سلیکشن بورڈ کی کولیکٹو ویزدم پر سوالیہ نشان؟ تحریر:ملک سلمان

    سینٹرل سلیکشن بورڈ کی کولیکٹو ویزدم پر سوالیہ نشان؟

    ہائی پاور بورڈ کے حوالے سے ہونے والی سیاسی "پک اینڈ چوز” کو افسران نے اپنی قسمت کا فیصلہ سمجھ لیا تھا اس لیے پہلے ہی ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں کہ ہائی پاوربورڈ میں جو بھی حکومت ہوگی اس کے منظور نظر ہی گریڈ بائیس میں جانے کا خواب شرمندہ تعبیر کر پائیں گے لیکن ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کو ”سلاٹر ہاؤس“ بنا دیا جائے کیسا نظام ہے جہاں ایک سنئیر ترین افسر کی زندگی بھر کے فخر اور پچھتاوے کا فیصلہ پچاس سیکنڈ سے لیکر زیادہ سے زیادہ 2 منٹ میں کردیا جاتا ہے۔

    اگر پک اینڈ چور ہی کرنا ہے تو سلیکشن بورڈ کی میٹنگ والا تکلف کیوں؟

    خاص طور پر مریم نواز شریف نے ماہانہ بنیادوں پر ”کے پی آئی“ کے زریعے افسران کی کارگردگی کا جائزہ لینے کے بعد خود ”اے سی آرز“ ”کاؤنڑ سائن“ کیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی 13ماہ کی ویزدم کو سینٹرل سلیکیشن بورڈ نے پچاس سیکنڈ کی ویزدم میں یکسر نظر انداز کردیا۔

    جناب وزیراعظم اگر آپ اس بورڈ پر”رویو“ نہیں لیتے تو یاد رکھیے گا کہ یہ سول سرنٹ کو پرسنل سرونٹ بنانے کا نقظہ آغاز ہے۔ اگر اسی طرح کے فیصلے ہوتے رہے تو ملکی ترقی کا سفر رک جائے گا اور کرپشن انڈیکس میں ٹاپ کرجائیں گے۔کیونکہ جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا جائے گا تو وہ اپنی فرسٹیشن کیلئے عوامی و فلاحی کاموں میں عدم دلچسپی لیں گے اور کرپشن کا راستہ اختیار کریں گے۔ دنیا بھر میں سرکاری ملازمین کو نہ صرف بہترین سہولیات اور بھاری بھرکم تنخواہیں دی جاتی ہیں بلکہ بلا تعطل ترقی کا سفر جاری وساری رہتا ہے۔

    جناب وزیراعظم میں نے کبھی کسی سیاسی شخصیت کی تعریف نہیں کہ لیکن آپ واحد شخص ہیں جسے ہمیشہ سپورٹ کیا کہ آپ اپنی ذات کی بجائے پاکستان کا سوچتے ہیں لیکن گذشتہ دنوں آپ کے ”وزیرخاص“ کی سپرویژن میں پاکستان کی بجائے ذاتی پسند و ناپسند کو ترجیح دینے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”سانحہ بیوروکریٹک قتل عام“ کیا گیا۔

    جناب شہباز شریف جب آپ ناحق قید تھے تو میں واحد کالم نویس تھاجو انہی افسران سے آف ریکارڈ گفتگو کی بنیاد پر اپنے کالمز میں لکھتا ہوتا تھا کہ نیب، ایف آئی اے اور جے آئی ٹی اراکین آف ریکارڈ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کے خلاف ایک پینی کی کرپشن یا بے ظابطگی کے ثبوت نہیں ملے لیکن ہم جیل میں رکھنے کیلئے مجبور ہیں۔ اس وقت کے زمینی خدا بنے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھری عدالت میں کہا تھا کہ اوپر اللہ اور نیچے میں مالک ہوں۔ آج وہی ثاقب نثار کس حالت میں ہے سب کو معلوم ہے۔

    جناب وزیراعظم بیوروکریسی آپ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ آپ کا نام لیکر زمینی خدا بنے بیٹھی شخصیات جو خود براوقت گزار کر بھی پھر سے فرعونیت اور زمینی خدایت کے دعویدار بنے بیٹھے ہیں ان کے بارے افسران کا کہنا تھا کہ وہ آخرت بھول بیٹھے ہیں جبکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔

    جناب وزاعظم اپریل 2022سے اب تک اس رجیم چینج میں جن افسران نے حکومتی رٹ کی بحالی میں آپ کا ساتھ دیا تھا ان افسران کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی طرف سے بائی نیم دھمکیوں کا سامنا رہا لیکن بدقسمتی اور لاپرواہی کی انتہا ہے ان افسران میں بہت ساروں کو کھڈے لائن کردیا گیا جب کہ رہتی سہتی کسر پرموشن نہ دے کر نکال دے گئی۔

    جناب وزیراعظم آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بننے افسران کی پی ٹی آئی حکومت میں رپورٹس خراب کیں گئیں۔ اس وقت کی رپورٹ کی بنیاد پر آج ان افسران کا پرموشن لسٹ میں نہ ہونا وفاداری کرنے والوں کیلئے بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

    جن افسران کو پرموشن نہیں دی گئی ان میں اکثریت ایسے افسران کی ہے جو ہفتہ اتوار بھی دفتری کاموں میں لگادیتے ہیں۔ اگر کام کرنے والوں کو یہ صلہ ملے گا تو پھر کوئی بھی کام والی سیٹ پر نہیں آئے گا، جسکو لگایا جائے گا وہ اس ڈر سے محنت نہیں کرے گا کہ پتا نہیں کونسی نیکی کب گناہ بن جائے۔

    ترقی کی امید لیے افسران اے سی آر لکھوانے اور مکمل کرنے کیلئے دور دراز شہروں اورصوبوں کی خاک چھانتے رہ گئے، اے سی آر میں ملی ایکسلینٹ کی رپورٹیں اور کارگردگی والے”ڈبے“ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے گئے۔

    زبان زدعام ہے کہ جو افسران وزیراعظم ہاؤس کے بااثرکیمپ کے رابطے میں تھے وہی پرموٹ ہوئے ہیں پرموٹ ہونے والوں میں میرٹ پر آنے والے افسران کے علاوہ بزداریے اور کرپٹ افسران بھی رابطوں کی بدولت پرموٹ ہوگئے۔

    جبکہ جنہوں نے رابطوں کی بجائے اپنی کارگردگی پر یقین رکھتے ہوئے بورڈ کا انتطار کیا ان میں سے کچھ افسران کی ”ٹارگٹ کلنگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں جبکہ کچھ افسران کو ترقی سے محروم کرنے کیلئے خود سے”فرمائشی رپورٹیں“ تیار کروائی گئیں۔

    جناب وزیراعظم صورت حال کی سنگینی کی پیش نظر آپ اپنی زیرنگرانی میرٹ پر انکوائری کروائیں جن افسران پر جیسے بھی الزامات ہیں انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ افسران کو ان الزامات سے اگاہ کرکے صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائےجناب وزیراعظم سینٹرل سلیکشن بورڈ کا رویو اجلاس ناگزیر ہوچکا۔

    ہر شخص حیران ہے کہ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے اراکین پارلیمنٹ، وزیروں مشیروں کیلئے تو تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرتی ہے اس ملک کی خدمت کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کمی۔ جناب وزیراعظم، اللہ نے بھی عبادت کے بدلے انعام اور جنت کا وعدہ کیا ہے لیکن ہمارے دنیاوی حکمران کام کے بدلے ترقی سے محرومی اور پنشن کٹوتی والا خلاف فطرت کام کر رہے ہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • آزاد کشمیر : ضلع حویلی میں کوسٹر کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق

    آزاد کشمیر : ضلع حویلی میں کوسٹر کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق

    آزاد کشمیر کے ضلع حویلی میں کوسٹر کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کنٹرول روم کے مطابق حویلی میں کوسٹر کے کھائی میں گرنے کا واقعہ پھسلن کی وجہ سے پیش آیا، ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور گاڑی کھائی میں جاگری پولیس کنٹرول روم کا بتانا ہے کہ حادثے کے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود ہیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کہوٹہ فارورڈ سے راولپنڈی جا رہی تھی کہ حویلی میں محمود گلی کے قریب کھائی میں جا گری۔

    دوسری جانب ایبٹ آباد کے علاقے ترنوائی میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک اسکول وین کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں 2 بچیاں جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوگئے۔

    کراچی: سرنگ کھود کر تیل کی لائن سے چوری ، 6 ملزمان گرفتار

    پولیس کے مطابق، حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، تاہم راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    تھانہ مانگل کے حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    انسانی اسمگلرز کے گرد گھیرا تنگ، جائیدادیں ضبط، 416 گرفتار