Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رمضان المبارک اور پاکستانی مسلمانوں کا طرزِ عمل

    رمضان المبارک اور پاکستانی مسلمانوں کا طرزِ عمل

    رمضان المبارک اور پاکستانی مسلمانوں کا طرزِ عمل
    تحریر:چوہدری سجاد مشتاق مہر
    رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے، جس میں مسلمان زیادہ سے زیادہ عبادت، خیرات اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں رمضان کے آتے ہی اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور ناجائز منافع خوری عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ خاص طور پر سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کے نرخ کئی گنا بڑھا دیے جاتے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

    اسلام انصاف، مساوات اور دیانت داری کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے "جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔” (مسلم) اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے "اللہ اس شخص پر رحم کرے جو خریدتے وقت، بیچتے وقت اور قرض وصول کرتے وقت نرمی اختیار کرے۔” (بخاری)۔ رمضان کا مقصد صرف روزہ رکھنا اور عبادات بڑھانا نہیں بلکہ اپنے کردار کو بہتر بنانا اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔

    پاکستان میں ہر سال رمضان کے آغاز پر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ سبزیوں، پھلوں، دودھ، گوشت، چینی اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں۔ بازاروں میں مہنگائی کا طوفان برپا ہو جاتا ہے جبکہ حکومت کے اقدامات اکثر ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ بعض تاجر رمضان کو کمائی کا سنہری موقع سمجھ کر مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے قیمتوں میں بے جا اضافہ کر دیتے ہیں۔

    اس صورتحال میں عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے روزہ افطار کرنا اور سحری کی تیاری مشکل ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر دیہاڑی دار طبقہ مہنگائی کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ عوام اکثر اس ناجائز منافع خوری کے خلاف منظم احتجاج کرنے کے بجائے خاموشی سے ان قیمتوں کو قبول کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات بائیکاٹ کی مہم چلاتے ہیں لیکن اکثریت اس میں شامل نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے یہ مہم زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔

    حکومت ہر سال رمضان میں سستا بازار لگانے اور اشیاء کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے دعوے کرتی ہے لیکن عملی طور پر ان اقدامات کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آتے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں صرف رسمی کارروائی کرتی ہیں جبکہ ذخیرہ اندوز مافیا کھلے عام منافع خوری میں مصروف رہتا ہے۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہو تو سخت قوانین بنا کر ان پر عمل درآمد کرا سکتی ہے۔ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور ان کے کاروباری لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

    عوام کو چاہیے کہ وہ مہنگائی کے خلاف آواز بلند کریں اور غیر ضروری خریداری سے اجتناب کریں۔ اگر لوگ چند دن مہنگی سبزیوں، پھلوں، گوشت اور دیگر چیزوں کا بائیکاٹ کریں تو قیمتیں خود بخود نیچے آ جائیں گی۔ مساجد اور کمیونٹی سینٹرز کے ذریعے بازاروں میں قیمتوں کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ دیانت دار افراد پر مشتمل کمیٹیاں بنائی جائیں جو اشیاء کی قیمتوں کو چیک کریں اور ناجائز منافع خوروں کی نشاندہی کریں۔

    رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جو ہمیں صبر، دیانت داری اور دوسروں کی مدد کرنے کا درس دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس مقدس مہینے کو ناجائز منافع خوری اور مہنگائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اگر ہم واقعی اسلامی اصولوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں دیانت داری کو اپنانا ہوگا اور ایک ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جو سب کے لیے فائدہ مند ہو۔ جب ہم رمضان کو حقیقی اسلامی روح کے مطابق گزاریں گے تو ہمارا معاشرہ بہتر ہوگا اور اللہ کی برکتیں ہم پر نازل ہوں گی۔

  • کیا یہ کھلی پاکستان دشمنی نہیں ہے؟

    کیا یہ کھلی پاکستان دشمنی نہیں ہے؟

    کیا یہ کھلی پاکستان دشمنی نہیں ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    عمران خان جو خود کو پاکستان کا سب سے مقبول لیڈر قرار دیتے ہیں، کیا واقعی ایک قومی رہنما کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں؟ ان کا حالیہ مضمون جو امریکی میگزین ٹائم میں شائع ہوا، پاکستان کے خلاف الزامات کی ایک چارج شیٹ ہے۔

    یہ مضمون کس نے لکھا؟ کیسے ٹائم تک پہنچا؟ تحقیق و تفتیش کے کن مراحل سے گزر کر ٹائم اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ واقعی اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی تحریر ہے؟ یہ سب سوالات ہیں لیکن سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ مضمون عمران خان کے نام سے شائع ہوا اور انہوں نے اسے اپنے مضمون کے طور پر قبول کر لیا۔ اس تحریر میں پاکستان کے ریاستی اداروں، جمہوریت اور ملکی معیشت کے بارے میں جو منفی بیانیہ پیش کیا گیا ہے وہ کسی قومی لیڈر کا نہیں بلکہ ایک دشمن کے ایجنڈے پر چلنے والے شخص کا معلوم ہوتا ہے۔

    عمران خان نے مضمون میں یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جمہوریت خطرے میں ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے کیونکہ فوج کے وسائل پی ٹی آئی کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ وہ اس حد تک چلے گئے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو براہ راست نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں فوج کو آئینی حدود میں رکھنے کا احترام کرنا چاہیے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ ایک شخص جو خود وزیراعظم رہ چکا ہو وہ ملک کے سب سے اہم قومی ادارے کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔

    اس کے علاوہ عمران خان نے معیشت کے بحران کا ذمہ دار بھی اپنی حکومت کے خاتمے کو ٹھہرایا اور تاثر دیا کہ پاکستان کو جان بوجھ کر مالی مشکلات میں دھکیلا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود آئی ایم ایف سے پاکستان کے خلاف شکایات کرتے رہے اور مالی امداد رکوانے کے لیے خط لکھتے رہے۔ فروری 2024 میں انہوں نے آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر جنرل کو براہ راست خط لکھ کر پاکستان کی امداد کو انتخابات کے آڈٹ سے مشروط کرنے کا مطالبہ کیا۔ مارچ 2024 میں ان کی جماعت کے کارکنوں نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا تاکہ عالمی ادارے پر پاکستان کی امداد بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی قومی رہنما جو کبھی وزیراعظم رہ چکا ہو، اپنے ملک کو معاشی تباہی کی طرف دھکیلنے کے لیے عالمی طاقتوں کو مداخلت پر اُکسا سکتا ہے؟

    عمران خان نے اس مضمون میں پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ایک بیانیہ ترتیب دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے لکھا کہ یورپی یونین پاکستان کی برآمدات پر دی جانے والی محصولات کی رعایت واپس لے سکتی ہے۔ وہ عالمی برادری کو پاکستان کی داخلی سیاست میں مداخلت کرنے پر اُکسا رہے ہیں اور یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بننے جا رہا ہے۔ وہی عمران خان جو پہلے امریکہ کو پاکستان کی سیاست میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے، اب اسی امریکہ کے سامنے بصد عاجزی درخواست گزار ہیں کہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے۔ یہ منافقت اور خودغرضی کی انتہا ہے۔

    پاکستان کے ہر ادارے کو کمزور کرنے اور اسے عالمی سطح پر متنازع بنانے کی کوشش عمران خان کی سیاست کا بنیادی ہتھیار بن چکی ہے۔ جمہوریت، انسانی حقوق، معیشت، قومی سلامتییہ سب کچھ داؤ پر لگایا جا چکا ہے۔ وہ عالمی سطح پر پاکستان کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں تاکہ اپنے لیے ہمدردی حاصل کر سکیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ خود کو پارسا اور محب وطن کہلوانا چاہتے ہیں لیکن ان کے اقدامات کا نتیجہ ملک کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔

    عمران خان کو جیل میں وہ سہولیات میسر ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی قیدی کو حاصل نہیں ہوئیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ خود کو ایک سیاسی شہید کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہی عمران خان جو رعونت کے ساتھ کہتے تھے کہ میں سب کو رلاؤں گا، آج خود مقافاتِ عمل کا شکار ہیں۔ وہی عمران خان جو نواز شریف کے کمرے سے اے سی اتروا دینے کی بات کرتے تھے، آج خود جیل کی دیواروں کے پیچھے ہیں۔

    یہ سوال اب ہر پاکستانی کو خود سے کرنا ہوگا کہ کیا یہی قومی لیڈر ہوتا ہے؟ کیا ایک ایسا شخص جو اپنے ذاتی اقتدار کے لیے پاکستان کے ہر ادارے کو بدنام کرے، عالمی طاقتوں کو مداخلت کی دعوت دے اور اپنی سیاسی بقا کے لیے پاکستان کے خلاف محاذ کھول دے، کیا وہ واقعی ایک قومی رہنما کہلانے کے لائق ہے؟ عمران خان نے اپنی ذات کے لیے پاکستان کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے ہیں۔ اگر یہ پاکستان دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟

  • فری سولر پینل سکیم،مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا،تحریر: جان محمد رمضان

    فری سولر پینل سکیم،مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں توانائی کی کمی اور مہنگی بجلی کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر پنجاب کے صوبے میں جہاں عوام کو بجلی کے بلز کی بھاری ادائیگی کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی ہے۔ لیکن اب اس مسئلے کا ایک انقلابی حل سامنے آیا ہے جسے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعارف کرایا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے سلسلے میں ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر پنجاب فری سولر پینل سکیم کی باضابطہ ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے اس اہم منصوبے کا آغاز کیا۔ اس سکیم کا مقصد نہ صرف توانائی کی فراہمی کے نئے ذرائع کو فروغ دینا ہے بلکہ عوام کو مہنگے بجلی کے بلز سے نجات دلانا بھی ہے۔اس سکیم کے تحت ہزاروں گھروں کو مفت سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے۔ سولر توانائی ایک قدرتی اور ماحول دوست توانائی کا ذریعہ ہے، جو نہ صرف توانائی کے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس سکیم کی بدولت لوگوں کو کم قیمت اور مستقل بجلی مل سکے گی، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بجلی کے بلز میں بھی کمی محسوس کریں گے۔

    اس سکیم کے ذریعے ہزاروں افراد کو سولر پینلز فراہم کیے جائیں گے، جس سے وہ بجلی کی مہنگی قیمتوں سے بچ سکیں گے۔ سولر توانائی سے گھروں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا اور صارفین کی مالی حالت میں بہتری آئے گی۔سولر توانائی ایک صاف ستھری توانائی ہے جو ماحول پر کم سے کم اثر ڈالتی ہے۔ اس سکیم کے ذریعے صوبے میں آلودگی کم ہو گی اور قدرتی وسائل کا تحفظ کیا جائے گا۔ سولر پینلز کی مدد سے گھروں کو بجلی کی مستقل فراہمی ہوگی، جس سے لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قلت کا مسئلہ حل ہو سکے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف افراد کو توانائی کی بچت ہوگی بلکہ اس کے ذریعے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ سولر پینلز کی تنصیب اور دیکھ بھال کے لیے ماہر افراد کی ضرورت ہوگی، جس سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خود مختلف نمبر بتا کر اسکیم کی ڈیجیٹل قرعہ اندازی کی، جس کے نتیجے میں خوش نصیب صارفین کا انتخاب کیا گیا۔ انہوں نے کامیاب ہونے والے افراد کو مبارکباد دی اور سولر پینل انسٹالیشن کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگی بجلی کے بوجھ سے بچانے کے لیے اس سکیم کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری انرجی نے بتایا کہ مارچ کے آخر تک اسکیم کے تحت فزیکل ویری فکیشن مکمل کر لی جائے گی، جبکہ جولائی کے آخر تک پہلے فیز میں انسٹالیشن مکمل ہوگی۔سیکرٹری انرجی کے مطابق، پہلے مرحلے میں 94483 سولر سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔ یہ سکیم خصوصی طور پر ان گھریلو صارفین کے لیے ہے جو ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسکیم کے تحت 0.55 کلوواٹ کے 47182 سسٹم نصب کیے جائیں گے۔1.1 کلوواٹ کے 47301 سسٹم نصب کیے جائیں گے۔ان سسٹمز میں جدید ترین انورٹرز اور بیٹری سٹوریج کا نظام بھی شامل ہوگا تاکہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔سولر پینلز کی تنصیب میں معیاری آلات اور مستند تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔فری سولر پینل سکیم کے لیے 861000 صارفین نے درخواست دی تھی، جن میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق افراد کو منتخب کیا گیا۔ یہ تمام عمل اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کے تحت مکمل کیا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔اسکیم کے تحت منتخب صارفین کو فزیکل ویری فکیشن کے بعد سولر پینل سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ ان صارفین کو تربیتی مواد بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے سولر سسٹمز کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔صارفین کی ویری فکیشن ان کے بجلی کے بل پر درج ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ کے ذریعے کی جائے گی۔اسکیم کے تحت صارفین کو ہیلپ لائن کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے گی۔سولر پینلز اور انورٹر کو چوری سے بچانے کے لیے انہیں صارف کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ہر ضلع میں خصوصی سروس سینٹرز قائم کیے جائیں گے جہاں صارفین کو اپنی شکایات اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے مدد فراہم کی جائے گی۔آن لائن پورٹل بھی متعارف کروایا جائے گا جہاں صارفین اپنے درخواست کی حیثیت جانچ سکیں گے اور کسی بھی مسئلے کی رپورٹ درج کروا سکیں گے۔

    پنجاب میں ایک لاکھ سولر سسٹم کی تنصیب سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس اسکیم کے تحت 57 ہزار ٹن کاربن کے اخراج میں کمی ہوگی۔وفاقی حکومت پر سبسڈی کے بوجھ میں کمی آئے گی۔متبادل توانائی کے فروغ سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، جس سے ملک کا زرمبادلہ بچے گا۔بجلی کی طلب اور رسد میں توازن پیدا ہوگا، جس سے لوڈ شیڈنگ کے مسائل میں کمی آئے گی۔گھریلو صارفین کو بجلی کے بل میں 50-60 فیصد تک کمی کا امکان ہوگا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی یہ اسکیم توانائی بحران کے حل کے ساتھ ساتھ عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کا ایک عملی اقدام ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کے بجلی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس اسکیم سے پاکستان میں صاف اور متبادل توانائی کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی اور ملک میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں یہ سکیم ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے جو نہ صرف توانائی کے بحران کا حل پیش کرے گی بلکہ عوام کی زندگی میں بھی بہتری لا سکتی ہے۔ اگر یہ سکیم کامیابی کے ساتھ چلتی ہے تو پنجاب میں توانائی کی ضروریات کا بیشتر حصہ سولر توانائی کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، جس سے پورے ملک کی توانائی کی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔یہ سکیم نہ صرف صوبہ پنجاب کے عوام کے لیے ایک خوشی کی خبر ہے بلکہ پاکستان کی توانائی کی پالیسی میں بھی ایک اہم پیشرفت کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ جو 2002ء میں دنیائے ادب کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ بلاشبہ ایک نہایت عمدہ اور یادگار مشاعرہ تھا۔ ایک طرف سینئرز کی کہکشاں تھی اور دوسری طرف نئی نسل کے نمائندہ شعرا کی بہار۔ حمایت علی شاعر صاحب، سحر انصاری صاحب، پیرزادہ قاسم صاحب، انور شعور صاحب اور دیگر کی موجودگی میں کلام سنانا بڑا اعزاز تھا۔

    اس زمانے میں سامعین شعرا کو سننے آتے تھے اور شعرا کلام سنانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ کلام پڑھ کر اور دوسرے شعرا کا کلام سن کر لطف آتا تھا اور سامعین کئی اشعار اپنے ساتھ لے کر اٹھتے تھے۔ اس وقت مشاعرہ کامیاب اور ناکام کی دوڑ نہ تھی اور نہ ہی مشاعرہ ایک شاعر کے پہلو سے دوسرے شاعر کے پہلو میں اور ایک شاعر کے سر سے تاج دوسرے شاعر کے سر پر سجنے جیسی واہیات ذہنیت تھی۔ ادبی مکالمہ تھا جس میں سب ( خصوصاً نئی نسل کے شعرا) اپنا تازہ اور بہترین کلام سنانے اور سینئرز سے داد پانے کو اپنی کامیابی سمجھا کرتے تھے۔ مشاعرے کے اسٹیج پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک کیا کیا قد آور شخصیات ہوا کرتی تھیں مگر مجال ہے کہ کوئی اتھلا پن دکھائے۔ سب ایک دوسرے کو داد دیتے اور فخر سے کہتے کہ بھئی اچھا شعر دشمن کا بھی ہو تو بے ساختہ داد نکلتی ہے۔ نوک جھونک، استادی کا شوق سب تھا مگر عموماً ادب کے دائرے میں۔ پھر اس پست سوچ نے ادبی مکالمہ کو باقاعدہ ادبی مقابلہ بنا ڈالا اور اب تو بعض اچھے خاصے سنجیدہ اور عمدہ شاعر بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں کہ انھیں نمبر ون قرار دیا جائے، جیسے شاعر/ شاعرہ نہ ہوئے ہیرو/ ہیروئن ہو گئے۔ اس چکر میں زندگی بھر کی بنی بنائی ساکھ کیسے پل میں مٹی میں ملی اور کیسے وہ ہم جیسوں کے دل سے اتر گئے اس کی بھلا کسے پرواہ۔

    اس کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ میں خاصی تعداد ایسے شعرا و شاعرات کی دیکھی جا سکتی ہے جنھیں کسی طور نئی نسل کا نہیں کہا جا سکتا مگر وہ نہ صرف نئی نسل کے بلکہ نوجوان کہلاتے تھے( خیر اب بھی جن شعرا کو نئی نسل کا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان میں اکثریت پچاس سے اوپر ہے)۔ مگر اس وقت مشاعرہ اپنے معیار پر سمجھوتہ کرنے کا قائل نہیں ہوا کرتا تھا لہٰذا عمر یا نسل پر سمجھوتا مجبوری ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں کوئی ایک آدھ بھرتی یا پرچی کا شاعر/ شاعرہ آ جاتے تو سامعین خود ہی انھیں احساس دلا دیتے کہ وہ سامعین کو احمق نہ سمجھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مدیران اور صحافیوں میں اتنی جرات تھی کہ وہ باقاعدہ اپنی رپورٹنگ میں لکھ دیتے کہ فلاں شاعر/شاعرہ کا نام مشاعرہ میں شامل ہی نہیں تھا مگر فلاں سینئر شاعر کی ” سفارش” پر انھیں پڑھوایا گیا۔ افسوس کہ پھر ایسے لوگ لفافے کے چکر میں انھیں لوگوں کو بڑھانے چڑھانے میں لگ گئے جن کا تعارف ہی سفارش تھا۔ اور جینوئن شعرا/ شاعرات جنھوں نے اپنی محنت سے، اپنے قدموں پر سفر طے کیا ان کے جائز حق کو تسلیم کرنے میں بھی کم ظرفی دکھانے لگے۔ نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے اور آثار بتا رہی ہیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
    بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

    بہرحال اس مشاعرہ کا انعقاد دنیائے ادب کا ایک ایسا کارنامہ تھا جسے سراہنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں دنیائے ادب نے اس مشاعرہ کی تصاویر شیئر کیں تو سوچا دنیائے ادب کے خصوصی شکریہ کے ساتھ یہ تصاویر آپ احباب کے سامنے پیش کی جائیں۔

  • امریکی صدر کا دنیا تباہ کرنے کا دعویٰ .تحریر:غنی محمود قصوری

    امریکی صدر کا دنیا تباہ کرنے کا دعویٰ .تحریر:غنی محمود قصوری

    اس وقت امریکہ پر ایک 78 سالہ بڈھا حاکم وقت ہے یعنی امریکی صدر ہے جس کا دماغی توازن بھی کسی حد تک درست نہیں لگتا..دنیا کے اندر بہت سے مذاہب ہیں جن کے مختلف عقیدے ہیں تاہم موت بارے ہر کسی کا یہی واحد عقیدہ ہے کہ مرنا لازم ہے چاہے جتنی دیر مرضی جی لو آخر موت قبر تک لے کر ہی جائے گی .ویسے تو پیدا ہوتے بچے کی زندگی کا بھی علم نہیں مگر جب انسان بڑھاپے کی طرف چلا جاتا ہے تو موت اس کے بہت قریب ہو جاتی ہے اس لئے اسے زندہ رہنے کی چاہت تو ہوتی ہے مگر اسے موت کی قربت بھی بہت محسوس ہو رہی ہوتی ہے سو وہ مرنے سے جوان لوگوں کی نسبت کم ڈرتا ہے

    امریکی نیویارک ملٹری اکیڈمی اور پینسلوانیا یونیورسٹی کے وارٹن سکول آف فنانس اینڈ کامرس کا تعلیم یافتہ 78 سالہ بڈھا صدر ٹرمپ جو کہ امریکہ کا 47 واں صدر ہے، اب پوری دنیا کو خاص کر مسلمان ممالک کو دھمکیاں لگا رہا ہے اور اس نے پچھلے مہینے اپنے بیان میں کہا کہ ہم دنیا کو سو مرتبہ تباہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں جس پر پوری دنیا میں سراسیمگی پھیل گئی ہے

    جب کوئی غنڈہ بدمعاش کسی کو دھمکی لگاتا ہے تو وہ اپنی طاقت و اسلحہ کی بنیاد پر ہی دھمکی لگاتا ہے سو اسی لئے امریکی ایٹمی ملک کے سربراہ نے پوری دنیا کو للکارا ہے

    اس بارے جائزہ لیتے ہیں کہ دنیا کہ کل 9 ایٹمی ممالک ہیں
    جن میں 1 امریکہ 2 روس 3 فرانس 4 چین 5 برطانیہ 6 بھارت 7 پاکستان 8 اسرائیل اور نواں ملک شمالی کوریا ہے اور ان تمام ممالک کے پاس لگ بھگ 13000 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں تو امریکہ نے آخر اتنی بڑی دھمکی لگائی کیوں؟

    اس بات میں بلکل شک نہیں کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا اب تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے تاہم اب جہاں دیگر چیزوں میں ترقی ہوئی ہے وہاں ایٹمی ہتھیاروں میں بھی جدت آئی ہے اب وہ دور نہیں رہا کہ امریکہ جاپان کے شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم مار کر نکل جائے گا

    اب حالات بدل چکے ہیں
    اب ایٹمی جنگ ہونے کی صورت میں First Strike یعنی پہلے حملے کے بعد جوابی طور پر Second Strike اور پھر Third Strike یعنی تیسرے جوابی حملے کی ٹیکنالوجی موجود ہے

    پہلے حملے کی صلاحیت تو تمام 9 ایٹمی ممالک کے پاس موجود ہے تاہم

    Second Strike Capability

    کی صلاحیت اسی ملک کے پاس ہوتی ہے جب وہ دشمن کے پہلے ایٹمی حملے کے بعد بھی جواب دینے کی قوت رکھتا ہو جس کا مقصد دشمن کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ اگر وہ پہل کرے گا تو بھی اسے تباہ کن جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا
    مثال کے طور پر اگر ایک ملک پر ایٹمی حملہ ہوتا ہے لیکن اس کے پاس زمینی، سمندری، یا فضا میں محفوظ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں تو وہ جوابی ایٹمی حملہ کر سکتا ہے

    Third Strike Capability
    یعنی تیسرے جوابی حملے کی عمومی طور پر ابھی عام اصطلاح استعمال نہیں ہوتی لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی ملک پہلے ایٹمی حملے کے بعد دوسرا جوابی حملہ کرتا ہے اور پھر بھی اس کے پاس مزید جوابی حملے کیلئے Third Strike کی صلاحیت موجود ہے تو اسے Third Strike Capability کا حامل کہا جا سکتا ہے اور عموماً زیادہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے طاقتور ممالک کے پاس ہی ایسا ہونا ممکن ہے

    اس وقت امریکہ کے پاس زمین، سمندر اور فضا میں ایٹمی ہتھیاروں کی وسیع صلاحیت یعنی Nuclear Triad موجود ہے اور
    روس ایٹمی آبدوزیں، میزائل سسٹمز، اور فضائی بمبار طیارے رکھتا ہے
    چین موبائل میزائل لانچرز، آبدوزیں، اور جوابی حملے کے قابل جوہری ہتھیار رکھتا ہے
    فرانس بھی آبدوزوں اور فضائی بمباروں کے ذریعے Second Strike دے سکتا ہے

    برطانیہ کے پاس بنیادی طور پر آبدوزوں پر مبنی ایٹمی حملے کی صلاحیت موجود ہے
    جبکہ ہمارے پڑوسی اور دشمن ملک بھارت نے حالیہ دہائیوں میں Second Strike صلاحیت حاصل کر لی ہے خاص طور پر اس کے پاس آبدوزوں میں بیلسٹک میزائل رکھنے کے صلاحیت ہے

    اور ہمارے واحد ایٹمی اسلامی ملک پاکستان نے بھی حالیہ اطلاعات کے مطابق اپنی پہلی ایٹمی آبدوز تیار کر لی ہے جس سے وہ دنیا کا ساتواں ملک بن گیا ہے جو دوسرے جوابی حملے کی صلاحیت رکھتا ہے اور
    یہ پیش رفت پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرتی ہے اور خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے
    نیز پاکستان نے آبدوز سے لانچ کئے جانے والے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر بھی کام شروع کیا ہے جو اس کی جوابی حملے کی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں

    اسرائیل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس بھی محدود Second Strike کی صلاحیت موجود ہے لیکن یہ مکمل طور پر یقینی نہیں ہے کیونکہ آبدوزوں میں ایٹمی میزائلوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے

    پہلے حملے کے جواب میں دوسرے جوابی حملے کی
    صلاحیت رکھنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ دشمن کو جنگ شروع کرنے سے روکا جائے کیونکہ اگر ایک ملک جانتا ہو کہ وہ جوہری حملہ کرکے بھی خود محفوظ نہیں رہ سکے گا تو وہ حملہ کرنے سے باز رہے گا یہ Mutually Assured Destruction یعنی
    (MAD)
    کا بنیادی نظریہ ہے

    اب جنک ممالک پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ان کے لئے دوسرے جوابی حملے کی طاقت حاصل کرنا لازم ہے اور پھر اس کے بعد تیسرے جوابی حملے کی ٹیکنالوجی بھی لازم ہے
    اور تیسرے جوابی حملے کی طاقت اس وقت صرف امریکہ کے پاس ہی ہے اس کے پاس 5 ایسے طیارے ہیں جو ایٹمی حملے کی صورت میں زمین سے بہت اوپر فضاء میں کئی مہینے رہ سکتے ہیں نیز امریکہ کا دعوی ہے کہ خلاء میں بنایا گیا اس کا خلائی اسٹیشن بھی زمین پر ایٹمی بم برسانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لئے وقت کے فرعون ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا کو سو مرتبہ تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
    ان باتوں میں شک نہیں مگر بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے قئامت وقت سے پہلے نہیں آئے گی اور نا ہی موت وقت سے پہلے آسکتی ہے
    دوسری بات امریکہ یہ سب تب ہی کرے گا جب اس پر حملہ ہو گا اور دنیا کے 9 ایٹمی ممالک میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ دوسرے ملک پر ایٹمی حملہ کرے کیونکہ اب اگر ایک ملک ایسا کرے گا تو دوسرا مجبوراً جوابی حملہ کرے گا جس کا مطلب دو طرف تباہی اور تیسری عالمی جنگ ہے
    ان ایٹمی ہتھیاروں کیلئے بے انتہاء پیسہ لگانا پڑتا ہے اس لئے اب امریکہ کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ مقروض ہو کر بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کو بڑھاتا چلا جائے
    اسی طرح دو غریب ممالک بھارت اور پاکستان کی بھی مجبوری ہے کہ وہ اپنی بقاء اور سلامتی کیلئے ایک دوسرے سے بڑھ کر ٹیکنالوجی حاصل کریں
    آپ اسرائیل کی مثال لے لیں اس نے حماس سے طویل جنگ لڑ لی مگر ایٹمی قوت ہوتے ہوئے بھی وہ فلسطین پر ایٹمی حملہ نا کر سکا اور یہی حال بھارت ہے کہ جس سے 77 سال قبل ہم نے مقبوضہ کشمیر چھین کر موجودہ آزاد کشمیر بنایا مگر بھارت کی جرات نہیں کہ وہ پہلے ایٹمی حملہ کرے کیونکہ اسے معلوم ہے اس جیسا توازن پاکستان موجود ہے
    نیز وہ ممالک جو ایٹمی قوت نہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی بقاء کی خاطر کسی نا کسی ایٹمی ملک سے جڑ کر رہیں یا پھر خود ایٹمی قوت بنیں

  • یورپ اور امریکہ ایک،ٹرمپ  ڈرامہ چین کا راستہ روکنا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    یورپ اور امریکہ ایک،ٹرمپ ڈرامہ چین کا راستہ روکنا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ارض وسماں کا مالک صرف اللہ،ہماری اکڑ کیسی؟جمہور کے نام نہاد علمبردار قوم کو تقسیم سے بچائیں
    ترقی کا راز قانون کی حکمرانی،متکبر افسر یادرکھیں ،آخر موت ہے،عوام کےخادم بنیں،حاکم نہیں
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    عالمی قوتیں ایک دوسرے کو دھوکہ دے ر ہی ہیں یا امریکہ ا پنے اتحادیوں کو دھوکہ دے رہا ہے ؟ یہ دنیا کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے؟ کیا امریکی صدر دنیا کے لئے کچھ نیا کرنے جا رہے ہیں۔ کیا امریکہ فسٹ امریکی صدر کا نعرہ کوئی نئی پالیسی دنیا پر مسلط کرنے جا رہے ہیں؟ ٹرمپ انتظامیہ یو کرین سے الگ ہونے کے لئے بے چین کیوں ہے ؟ کیا یہ بین الاقوامی سیاسی ڈرامہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے کیا جارہا ہے؟ کیا دنیا امریکی پالیسی کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے امریکی پالیسی کے خلاف جانا دنیا کے لیے ایک غلطی ہو سکتی ہے ۔ دنیا کے کئی ممالک امریکی پالیسی کے حامی ہیں ۔ تاہم امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے اثرات جلد ہی دنیا میں نظر آنا شروع ہو جائیں گے ۔

    پاکستان کی سیاست اور جمہوریت پر تبصرہ کیا کرنا بس قوم سے التجا ہی ہے کہ و طن انسان کی پہچان اور اس کا وقار ہوتا ہے ۔وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہر شہری اسکی ترقی ، اس کی خوشحالی ، امن وامان میں ہر ممکن تعاون کرے ۔ وطن کی املاک ، سڑکیں ، گلیاں ، اسکول ، ہسپتال ، دفاتر کی حفاظت کی ذمہ داری ہر شہری کی ہے ۔ ملک وقوم کی سربلندی ہر شہری کا خواب ہونا چاہیئے ۔ منتشر اور خستہ حال ملک کے شہریوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔پوری دنیا کی سرزمین اللہ تعالی کی ملکیت ہے پاکستان کی سرزمین بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اس زمین پر فتنہ فساد پھیلانے والوں کی بھی باز پرس ہو گی اس زمین پر جتنی بھی نعمتیں ہیں آسمانی نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں سے ہم فائدے اٹھاتے ہیں اس سرزمین کی آغوش میں نہ جانے کتنی نسلیںسو گئیں یہ کائنات صدیوں سے تھی اللہ تعالٰی کے حکم سے رہے گی ہم سب راہ گیر ہیں اور حقیر ہیں آج ہیں کل نہیںہوں گے ۔ نام نہاد سیاستدانوں اور نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کو تقسیم در تقسیم کردیا ہے۔جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر قوم کو دھوکہ ہی دیا ہے۔ دنیا کی ترقی کا راز قانون کی حکمرانی ہے ۔ انصاف ہے ۔ ہمارے اقربا پروری کی انتہا ہے رائٹ مین فار رائٹ جاب کا فقدان ہے۔ یہ میرا افسر یہ تیرا افسر ، یہ میرا بیورو کریٹ ، یہ تیرا بیورو کریٹ ،تکبر و غرور کی انتہا کی بلندیوں کو چھونے والے سیاستدان ،بیورو کریٹ ، بیوروکریسی کے افسران پولیس کے افسران اوردیگر محکمہ جات میں بیٹھے افسران خدا کی زمین پر اکڑ کر چلنے والے اپنی موت سے بے خبر زمین بوس ہونے والے کب سدھریں گے؟ یاد رکھیئے امریکہ اور یورپ میں مفاہمت اور اتحاد کا پرانا ریکارڈہے دوسری جنگ عظیم کے بعدافغانستان کی جنگ تک یورپ اور امریکہ ہر قدم پر ساتھ رہے ۔ امریکہ یورپ روس یو کرین کی سیاست سے باہر نکلیں ،اسلامی ممالک کے لیے موجودہ عالمی سیاست میں سعودی عرب کا کردار انتہائی اہم ہوگااپنی پالیسیوں پر توجہ دیں.

  • لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال، عبادات میں خلل یا دینی خدمت؟

    لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال، عبادات میں خلل یا دینی خدمت؟

    لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال، عبادات میں خلل یا دینی خدمت؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    آج رمضان المبارک کا پہلا روزہ رکھنے اور نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد تلاوتِ قرآن میں مشغول تھا۔ رمضان کا مقدس مہینہ عبادت، توبہ و استغفار اور قرآن پاک کی تلاوت کا مہینہ ہے، اس لیے ارادہ کیا تھا کہ اللہ کے کلام کی تلاوت میں مکمل یکسوئی اختیار کروں۔ مگر جیسے ہی قرآن پاک کھولا اور تلاوت کا آغاز کیا، قریبی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے فل آواز میں رمضان المبارک کے حوالے سے مولود کی ریکارڈنگ نشر ہونے لگی۔ اس قدر بلند آواز تھی کہ قرآن کی آیات پر توجہ مرکوز رکھنا ممکن نہ رہا، جس کی وجہ سے تلاوت میں دشواری پیش آئی اور دل میں یہ سوال ابھرا کہ کیا عبادات کے وقت مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کا اس انداز میں استعمال شرعی طور پر درست ہے؟

    یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا بہت سے لوگوں کو روزانہ ہوتا ہے۔ مساجد کے علاوہ گھروں میں بھی مرد و خواتین لاؤڈ اسپیکر کے شور کی وجہ سے یکسوئی کے ساتھ قرآن کی تلاوت اور اپنی عبادات نہیں کر سکتے۔ جو خواتین سحری کی تیاری کے لیے سب سے پہلے جاگتی ہیں، سبھی کو وقت پر روزہ رکھواتی ہیں اور نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہیں، وہ بھی اس شور کی وجہ سے سکون سے نہیں سو پاتیں۔ روزہ ایک عبادت ہے جس میں جسمانی و روحانی طور پر صبر و سکون درکار ہوتا ہے، مگر جب عبادت کے بعد معمولی سی نیند بھی پوری نہ ہو سکے تو اس کا براہِ راست اثر صحت اور روزمرہ کی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔

    اسلام میں عبادات کی روح سکون، یکسوئی، عاجزی اور خشوع و خضوع میں پنہاں ہے۔ ایک مسلمان جب اللہ کی عبادت کرتا ہے تو وہ دنیا کے دیگر معاملات سے الگ ہو کر اپنے رب سے تعلق قائم کرتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے عبادات کے دوران سکون اور عاجزی اختیار کرنے کی تاکید فرمائی ہے "وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ” (الاعراف: 205) یعنی "اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ، اور زیادہ بلند آواز کے بغیر یاد کرو۔” یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ عبادات کے دوران ذکر و اذکار یا تلاوت زیادہ بلند آواز میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ خشوع وخضوع کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ یکسوئی برقرار رہے۔

    نبی کریم ﷺ نے عبادت کے دوران سکون، نظم و ضبط اور عاجزی کو برقرار رکھنے کی سختی سے تاکید فرمائی ہے۔ ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا "أَيُّهَا النَّاسُ، كُلُّكُمْ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ” (سنن ابی داؤد: 1332) یعنی "اے لوگو! تم سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، پس کوئی دوسرے پر (عبادت کے دوران) اپنی آواز بلند نہ کرے۔” یہ حدیث بالکل واضح ہے کہ عبادات کے دوران دوسروں کو متاثر کرنے والی بلند آوازیں ناپسندیدہ ہیں۔ اگر کوئی اپنی عبادت کے دوران اس قدر بلند آواز میں قرآن پڑھنے لگے کہ دوسروں کی عبادت میں خلل پڑے، تو یہ درست نہیں۔

    نبی کریم ﷺ کی مسجد نبوی میں عبادات نہایت پرسکون اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جاتی تھیں۔ کہیں بھی ایسا ذکر موجود نہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں اذان یا خطبے کے علاوہ مسجد کے اندر یا باہر بلند آواز میں کوئی نعت، مولود یا ذکر و اذکار نشر کیا جاتا ہو جو دوسروں کے لیے عبادات میں رکاوٹ کا سبب بنے۔

    لاؤڈ اسپیکر ایک جدید ایجاد ہے اور اس کا استعمال بنیادی طور پر اذان، خطبہ اور دیگر شرعی ضروریات کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن بعض مساجد میں بلا ضرورت نعتیں، حمد اور مولود بلند آواز میں نشر کی جاتی ہیں جو کہ عبادات میں خلل پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ فقہاء کے مطابق مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اذان، نماز کے اعلانات اور خطبوں تک محدود ہونا چاہیے۔ ایسی چیزوں کو نشر کرنا جو لوگوں کی نماز، تلاوت یا ذکر و اذکار میں رکاوٹ بنے، درست نہیں۔ اگر کوئی عمل عبادات میں خلل ڈالے تو اسے ترک کرنا واجب ہے۔

    شیخ ابن عثیمینؒ فرماتے ہیں”مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف ان مقاصد کے لیے ہونا چاہیے جن کے بغیر دین کی تبلیغ یا عبادات کا اہتمام ممکن نہ ہو۔ غیر ضروری طور پر نعتیں، حمد یا دیگر چیزیں چلانا مناسب نہیں خاص طور پر اگر اس سے عبادات میں خلل پیدا ہو۔”

    بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ نعتیں اور مولود ایمان کو تازہ کرتے ہیں اور لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس دلیل میں کچھ وزن ضرور ہے، لیکن یہ اس وقت درست ہوگی جب یہ عمل عبادات کے وقت نہ ہو اور کسی کی نماز یا تلاوت میں رکاوٹ نہ بنے۔ اگر عبادت کرنے والے افراد کی توجہ ہٹ رہی ہو تو پھر یہ عمل دینی فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بنے گا۔

    یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص مسجد میں زور زور سے ذکر کرے اور دوسرے نمازیوں کی عبادت میں خلل ڈالے حالانکہ ذکر کرنا بذاتِ خود نیک عمل ہے۔ لیکن اگر یہ کسی دوسرے کی عبادت میں رکاوٹ بنتا ہے تو یہ عمل درست نہیں رہتا۔

    مساجد میں لاؤڈ اسپیکر سے بلند آواز میں نعتیں، حمد اور مولود نشر کرنا اگر نمازیوں، تلاوت کرنے والوں یا ذکر و اذکار میں مشغول افراد کے لیے رکاوٹ بنتا ہے تو یہ عمل شرعاً درست نہیں۔ مساجد میں سکون اور خشوع کا ماحول برقرار رکھنا ضروری ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف ضروری امور کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر کوئی عمل دوسروں کی عبادات میں خلل ڈال رہا ہے تو اسے ترک کرنا بہتر ہے۔

    مساجد کے آئمہ کرام اور علمائے دین کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دیں اور عوام کی دینی و سماجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس غیر ضروری شور و غل کے خلاف رہنمائی کریں۔ عبادات کے دوران پرسکون ماحول فراہم کرنا نہ صرف شرعی تقاضا ہے بلکہ معاشرتی ضرورت بھی ہے۔

    ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے تحت کارروائیاں کریں تاکہ لاؤڈ اسپیکر کے غیر ضروری استعمال کی روک تھام ممکن ہو۔ اگر یہ قانون نافذ کیا جائے اور مساجد میں صرف ضروری اعلانات اور عبادات کے دوران لاؤڈ اسپیکر کا استعمال محدود کر دیا جائےتو بہت سے لوگ یکسوئی کے ساتھ عبادات کر سکیں گے اور خواتین کو بھی سحری اور نماز کے بعد آرام کا موقع مل سکے گا۔

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنی مساجد کے ائمہ کرام اور انتظامیہ سے نرمی اور ادب کے ساتھ گزارش کریں کہ وہ عبادات کے دوران لاؤڈ اسپیکر کے استعمال میں احتیاط برتیں تاکہ سب کو یکسوئی کے ساتھ عبادت کرنے کا موقع مل سکے۔
    اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی

  • مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    (قصہ درد 2)
    کچھ روز پہلے قلم سے سر قلم کروانے کا شوق اچانک انگڑائی لے کر بیدار ہوا تو قصہ درد کہہ ڈالا، پنجاب حکومت، محکمہ تعلیم اور وزیر تعلیم کو مخاطب کر کے اساتذہ کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایک معاشرتی موضوع پر لکھنے کی کوشش کی لیکن طبیعت میں وہ روانی نہ تھی۔ کچھ کمی تھی۔ تبھی عنوان بہ ہیت شعر آیا
    میرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں میری وفاوں پے انگلی اٹھا رہا ہے کوئی آج دوبارہ سوچا تو خیال آیا کہ قصہ درد ایک نہیں یہ تو داستان امیر حمزہ سے طویل اور بلبل ہزار داستاں سے ضخیم ہے۔ سابقہ تحریر پر کچھ قارئین نے رائے دی ہے کہ الفاظ کا انتخاب آسان کریں ۔ ان کی رائے کا بھی شکریہ۔ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے کے مصداق کچھ ایسا ہی انتخاب
    پچھلی تحریر میں الفاظ ہوا
    خیر قصہ مختصر آج کا موضوع مالی معاملات حکومت اور اساتذہ سے جڑا ہے۔ سرکاری سکولز میں بیس روپے ماہانہ فروغ تعلیم فنڈ کے نام سے ہر طالب علم سے لیا جاتا ہے۔ جن طلباء کے بارے ہیڈ ماسٹر کو علم ہو وہ یہ 20 روپے کی خطیر رقم بیک جنبش قلم معاف بھی کر سکتا ہے۔ آہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اختیارات اب وصولی ایف ٹی ایف یعنی فروغ تعلیم فنڈ حکومت و محکمہ کے احکامات ہیں کہ اسے بینک میں جمع کرایا جائے 5000 روپے سے زائد رقم چوبیس گھنٹے سے زائد پاس رکھنا محکمانہ اجازت نہ ہے. اس رقم کو سکول کے اکاونٹ میں جمع کرایا جاتا ہے پھر اخراجات کے لیے دوبارہ بذریعہ چیک نکلوایا جاتا ہے۔ ایک اور اکاونٹ نان سیلری بجٹ NSB ہے ، جو کہ سکول کے نام پر بینک میں کھولا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ رام کہانی شروع ہوتی ہے جس کو پڑھ کر بقول مشتاق یوسفی( مرد قتل کردیتے یا ہیں خودکشی) سکول مینیجمنٹ کونسل کے نام سے مقامی افراد کی ایک کمیٹی ہر سکول میں موجود ہے جس کا ہر ماہ اجلاس ہوتا ہے اس کمیٹی کا مقرر کردہ رکن این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈز دونوں اکاونٹس کا شریک دستخط یعنی کو سگنیٹری ہوتا ہے۔ شریک چئیرمین کے دستخط بینک میں جوائنٹ اکاونٹ میں اپ ڈیٹ کرانے کے لیے نئی بینکنگ پالیسی کے تحت ہیڈ کی سیلری سلپ اور کو سگنیٹری کی آمدن کے ثبوت کے لیے اس کی زمین زرعی کا فرد یا کوئی بھی آمدن کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ دونوں اکاونٹس کی آمدن گورنمنٹ کے فنڈَز سے ہے لیکن بینک پتہ نہیں کیا سمجھ کر ڈیل کر رہے ہیں۔

    خود پر بیتی ایک داستاں سناتا کہ چند سال پہلے ایک بینک منیجر نے این ایس بی اکاونٹس کے بارے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ بے نامی اکاونٹس عنقریب بند کر دیے جائیں گے عرض کی یہ پنجاب حکومت کے بی ہاف پر کھولے گئے ہیں ارشاد ہوا ہیں تو بے نام اکاونٹس سے ملتے جلتے نہ کوئی انسانی اکاونٹ ٹائٹل نہ آمدن کا کوئی واضح ذریعہ۔ خیر یہ تو حکومت پنجاب، اور تعلیم کے محکمہ میں وزارت کے لیول کی نا اہلی ہے۔ آگے چلتے ہیں۔ ہر خریداری جو ان اکاونٹس سے کی جائے اس پر مختلف رقم پر مختلف ٹیکس دینا لازمی ہے۔ یعنی پہلے لاہور سے رقم سکولز کے اکاونٹس میں اور پھر اسی رقم پر ٹیکس باالفاظ دیگر حکومت ہی حکومت سے ٹیکس لے رہی۔ اساتذہ ٹیکس نہ دیں تب بھی مرتے اور دیں تو ایک نئی داستاں۔ چلیں یہ تو ہوئی انتطامی نا اہلی۔ اب رقم بینک سے بذریعہ چیک نکلوانے کے لیے سب سے پہلے تو سکول کونسل کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں اس امر کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیسے نکلوانے کی واقعی ضرورت ہے اس کے بعد اس اجلاس سے ایک دو یا تین رکنی کمیٹی برائے خریداری بذریعہ منظور شدہ رقم تشکیل پاتی ہے۔ پھر ہیڈ یا کو سگنیٹری بینک جا کر رقم نکلواتے ہیں اب چونکہ 5000 سے زائد کیش پاس رکھنا ممنوع ہے لہذا رقم نکلوانے کے فوراً بعد مطلوبہ شے کو تلاش کر کے اس کی خرید و ادائیگی ہوتی ہے ساتھ سی نیا کام شروع اب بل لینا ہے اور بل پر رقم سکول کانام پتہ مقدار شے نرخ۔ الگ و واضح درج ہوں دوسرے بل پر رسید ادائیگی ہو اب ان دونوں بلز کو لاکر اخراجات کے بلز کی فائل میں محفوظ کرنے سے پہلے بل کی پشت پر ایک مرتبہ پھر چند ایس ایم سی ممبران اور ہیڈز دستخط کریں گے اور رسیدی ٹکٹ بھی لگایا جائے گا۔ جو چیز جس مقصد کے لیے خریدی گئی اگلے اجلاس میں وہ کمیٹی کو معائنہ و ملاحظہ کرائی جائے گی اور اجلاس کی کاروائی تحریر کر کے اس پر ایک بار پھر دستخط ہوں گے۔

    اب چلتے ہیں حکومتی و محکمانہ ہدایات کی طرف کہ خریداری صرف اس دکان سے کریں جو این ٹی این رجسٹرڈ ہو ٹیکس کے معاملات میں ایڈوانس ٹیکس ادا کر رہی ہو اور جب ان کے ہاتھ سکول ہیڈز آتے تو وہ ایڈوانس ٹیکس جمع کرا چکے ہوتے لہذا وہ رقم بھی اوور چارجنگ کر کے پوری کی جاتی یا اشیاء کی کوالٹی کم کر دی جاتی۔ اگر خریداری خود کی تو شرح ٹیکس کے حساب سے اس شے کی قیمت کے ساتھ ٹیکس الگ جمع کرانا لازمی ہے۔ یعنی پہلے ایک ادارہ یعنی محکمہ تعلیم اپنے زیر سرپرستی چلنے والے اداروں کو رقم دیتا ہے۔ اس رقم کو بینک اپنی پالیسی کے تحت الگ سے ماہانہ یا سہ ماہی 49 روپے، 35 روپے کٹوتی کرتا ہے پھر وہی رقم کیش ہو کر حکومت کو کچھ حصہ ٹیکس کی شکل میں واپس کر دیا جاتا ہے۔ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ قصہ درد جاری ہے۔ درخت کاٹنا وہ بھی سکول میں پرانے اساتذہ کے مطابق بندہ مارنے کے برابر جرم ہے۔ اب بڑا درخت بعض دفعہ کٹوانا لازم ہو تو،
    (کیونکہ چاردیواری کے قریب یا پانی کے بور کے نزدیک جڑیں و ٹہنیاں مسائل بناتی ہیں ) اب اس جرم ضعیفی کی سزا سنیں۔

    سب سے پہلے وہی اجلاس سکول کونسل، پھر من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے مصداق اجلاس میں تائید اس کے بعد چین آف کمانڈ کو ملحوظ خاطر رکھ کر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کو درخواست اس کی منظوری کے بعد ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سے منظوری۔ ٹھہریں۔۔۔۔۔ دلی ہنوَز دور است۔ اب ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ جنگلات کو لیٹر لکھے گا اس کے بعد محکمہ جنگلات اپنے سٹاف کے ذریعے سکول کا وزٹ کرے گا اور درخت کو جانچ کر اس کی متوقع قیمت مقرر کر کے ڈپٹی ڈی ای او کو تحریری رپورٹ دے گا اب ہیڈ کو کم از کم مقررہ ریٹ پردرخت بیچنے کی اجازت بذریعہ دفتر ایجوکیشن آفس ملے گی اور درخت کو (لکڑی) بیچ کر جو رقم ملے گی اسے اکاونٹ میں جمع کرانا لازمی چاہے کتنی ہی ضروری پیمنٹ ہو ایک دفعہ پیسے اکاونٹ ایف ٹی ایف میں جائیں گے پھر نکلوا لیجئے۔

    تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون؟

    اب چلتے ہیں آڈٹ کی جانب اصول یہ ہے کہ مالی سال کے بلز باترتیب ایک فائل میں ہوں۔ فائل میں موجود بل پر مالک دکان کی مہر و دستخط ہوں۔ بل کی پشت پر ہیڈ اور کو سگنیٹری سمیت دیگر اراکین کے دستخط یوں۔ جس رقم کا آڈٹ ہو رہا ہے اس کو خرچ کرنے کی منظوری کا تحریری اجلاس ایس ایم سی درج ہو۔ سٹاک رجسٹر پر تحریر ہو ساتھ ہی ساتھ SIS سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پر بھی چیک نمبر، تاریخ اور خریداری یا خرچ تحریر ہو۔ اس سارے لایعنی اور بے مقصد عمل سے مالی بے ضابطگی سے بچنے اور اخراجات شفاف کرنے میں مدد ملتی ( بقول بلکہ بحکم محکمہ تعلیم ). اس سارے عمل میں اتنی پیچیدگی ہے کہ شفاف ادائیگی بھی ضابطے کی کاروائی میں کے داو پیچ کی تاب نہ لاکر مشکوک ٹھہرتی جس سے ایک اور مسئلہ لاینحل کھڑا ہوتا ہے آڈٹ آبجیکشن۔ جس کے بعد ہیڈ ٹیچر کو لاہور، ضلع اور تحصیل کے درمیان شٹل کاک بنا دیا جاتا ہے ۔ اتنی زیادہ بے ترتیب اور لایعنی ہدایت کے بعد پڑھانے کے لیے نہ وقت ملتا ہی ہمت۔ تھک ہار کے جب سونے کو لیٹتے تو کسی نہ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہوتا اساتذہ کی تنخواہیں بہت زیادہ اور کام کم ہے۔ اللہ کے بندے ٹیچرز کی اوسط تنخواہ اس تمام عمل سے گزرنے کے باوجود، نوکری پر روز ایک شرط، پینشن غیر یقینی پھر بھی اگر زیادہ ہے تو بند کر دیں ویسے بھی بچتا تو کچھ نہیں بس دل کے بہلانے کو ہم بھی یہ نوکری کر رہے۔ اساتذہ کو ریلیف دینا ہے تو خدارا مشکل مبہم اور بے کار وقت ضائع کرنے والے ان کاموں سے ان کی جان چھڑوائیں بلکہ خود بھی چھوڑ دیں۔ خواتین ہیڈذ کبھی بینک کبھی آڈٹ میں پھنس کر گھر میں کام چھوڑ کر یہ تمام ضابطے کی کاروائی مکمل کرتے کئی مرتبہ دیر سے واپس جاتی ہیں غیر معمولی مسائل اور خانگی مسائل کے حوالے سے جس مشکل کا سامنا کرتی ہیں اس کا بھی احساس کم از کم حکومت کو نہیں۔ ویسے بھی حکومت کا تو کام ہی وہ کروانا کہ بندہ کرپٹ نہ ہوکر بھی جب ان بھول بھلیوں میں پھنسے تو مجبوراً کرپٹ ہوجاتا۔ آخری بات کہ خدا را اس عمل کو آسان کیجیے آڈٹ کا طریقہ بدلیں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی بدلیں اس کے بعد جو کرپشن کرے بے شک نوکری سے نکال دیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا یہ ختم کریں
    اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا (پالیسی میٹرز)
    پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

  • پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    کل رم جھم برستی بارش اور لاہور کے خوبصورت خنک موسم میں فرح ہاشمی کے آ رٹسٹک گھر میں شاندار نشست ہوئی ، فرح ہاشمی صاحبہ نے آ ئرلینڈ سے آ ئیں مصنفہ ڈاکٹر سیمیں رخ کے اعزاز میں اس نشست کا اہتمام کیا تھا فرح ہاشمی کے گھر کی شاندار ڈیکوریشن اینٹکس ، سٹڈی روم گھر کا ہر گوشہ انتہائی آ رٹسٹک طریقے سے ڈیکور کیا گیا تھا اور فرح کے اعلیٰ زوق کا آ ئینہ دار تھا سب نے بہت تعریف کی اور ڈرائینگ روم میں موجود چرخے نے تو سب کا دل موہ لیا وہ چرخہ جو سنا تھا چاند پر موجود ہے اور بڑھیا صدیوں سے کات رہی ہے چرخے کے علاوہ اور بھی ثقافتی اشیا لالیٹن ، حقہ ، ہاتھ سے بنے پنکھے ، ڈیکوریشن کے علاوہ کھانے کی میز پر بھی فرح کا سلیقہ نظر آ رہا تھا تمام چیزیں گھر کی بنی اور مزیدار تھیں ، فرح نے عمدہ میزبانی کی ہر چیز خود پیش کرتی رہیں ، کباب ، سموسے ، دہی بڑے ، پاسٹا ، پکوڑے ، سویٹ ڈش ، گھر کی بنی ہر چیز مزیدار تھی ، کھا نے کے بعد محفل شعر وسخن ہوئی سب نے اپنا کلام سنایا مارچ میں یوم خواتین کے حوالے سے عمدہ شاعری سننے کو ملی.

    ڈاکٹر سیمیں رخ نے اپنی کتب ،، باد مسموم ،، زرد پتوں کی بارش ،، اور ،، ایک تھی ستارہ،، سب کو پیش کیں ، ڈاکٹر سیمیں رخ آ ئر لینڈ میں مقیم ہیں پریکٹسنگ ڈاکٹر ہیں آ جکل پاکستان آ ئی ہوئی ہیں پاکستانی اہل قلم خواتین سے ملکر خوش تھیں انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں پلوشن اور ٹریفک کے مسائل ہیں لیکن اپنے ملک کی فضاؤں میں اپنائیت ہے انہیں اپنی پذیرائی اچھی لگ رہی ہے

    اس نشست میں ہمارے علاوہ کنول بہزاد ، شاہین زیدی اور شاعرہ شاہدہ مجید نے شرکت کی ، بہت خوبصورت شام تھی رات گئے تک یہ محفل جمی رہی ، ڈاکٹر سیمیں رخ چند دنوں بعد آ ئیرلینڈ سدھار جائیں گی ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اگلی بار وہ آ ئیں تو پاکستان کے مسائل ختم ہو چکے ہوں اور ٹریفک اور پلوشن کے حوالے سے ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح منظم ہوجائے جیسا کہ انہوں نے بتایا آ ئیر لینڈ میں ہے –