Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دہشت گرد کون؟ مودی، آر ایس ایس یا مسلمان؟

    دہشت گرد کون؟ مودی، آر ایس ایس یا مسلمان؟

    دہشت گرد کون؟ مودی، آر ایس ایس یا مسلمان؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    25 اپریل 2025 کو بھارت کے معروف سابق بیوروکریٹ، سابق رکنِ راجیہ سبھا اور آل انڈیا ریڈیو و دوردرشن کے سابق سی ای او جوہر سرکار نے ایک ایسی ٹویٹ کی جو محض ایک بیان نہیں بلکہ بھارتی سماج کے بگڑتے ہوئے مزاج پر ایک گہرا سوال بن کر ابھری۔ یہ ٹویٹ وادیٔ کشمیر کے خوبصورت مقام پہلگام میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کے پس منظر میں کی گئی، جہاں کچھ غیر مسلم سیاح دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ حملے کے دوران جن لوگوں نے ان سیاحوں کو بچایا، حملے کے دوران سب سے پہلے جان دینے والا ایک مسلمان تھا،زخمیوں کو اپنی پیٹھ پر لاد کر محفوظ مقام تک پہنچایا، ابتدائی طبی امداد دی، ایمبولینسیں چلائیں، ہسپتالوں میں علاج کروایا اور پھر سری نگر تک ان کی بحفاظت روانگی کو یقینی بنایا، وہ سب مسلمان تھے۔ جوہر سرکار نے نہایت درد مندی سے لکھا کہ ان سیاحوں کو پہلگام لانے والے ڈرائیور مسلمان تھے، جن ہوٹلوں میں وہ رکے وہ مسلمان چلا رہے تھے، ان کے کھانے کا بندوبست مسلمانوں نے کیا، ان کی سیر کا اہتمام مسلمانوں نے کیا، اور جب خطرہ آیا تو وہی مسلمان آگے بڑھے اور اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ان سیاحوں کو بچایا۔ اس تمام واقعے کے باوجود بھارت کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہی فقرہ گردش کرتا رہا کہ "تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔”

    یہ فقرہ صرف بھارتی مسلمانوں کی توہین نہیں بلکہ بھارت کے اس سیکولر اور جمہوری چہرے پر بدنما داغ ہے جسے دنیا کبھی گاندھی، نہرو اور امبیڈکر جیسے رہنماؤں کے نظریات کی روشنی میں دیکھتی تھی۔ مگر آج بھارت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نفرت اور فرقہ واریت کو نظریاتی بنیاد فراہم کرنے والی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کے سیاسی بازو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پورے سماج میں زہر گھول دیا ہے۔ آر ایس ایس جو بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست بنانے کا خواب دیکھتی ہے، برسوں سے مسلمانوں کو ایک "اندرونی دشمن” کے طور پر پیش کرتی آئی ہے۔ ان کے نظریہ ساز ایم ایس گوالوالکر نے اپنی کتاب "Bunch of Thoughts” میں واضح طور پر کہا تھا کہ مسلمان، عیسائی اور کمیونسٹ بھارت کے لیے خطرہ ہیں اور یہی فکر اب بی جے پی کی حکومتی پالیسیوں میں جھلکتی ہے۔

    مودی سرکار کے قیام کے بعد اس بیانیے کو ادارہ جاتی تحفظ ملا۔ گائے کے گوشت کے نام پر ہجومی تشدد کے واقعات، "لو جہاد” کا جھوٹا پروپیگنڈا، تبلیغی جماعت کو کووڈ-19 کا ذمہ دار ٹھہرانا، شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور این آر سی جیسے اقدامات اور دہلی فسادات میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا ، یہ سب اس بات کے ثبوت ہیں کہ بی جے پی حکومت نے آر ایس ایس کے نظریے کو ریاستی پالیسی کی صورت دے دی ہے۔ 2002 کے گجرات فسادات میں مودی کا کردار آج بھی عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنتا ہے مگر بھارت کے اندر انہیں ایک "فیصلہ کن رہنما” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، چاہے اس کی قیمت کروڑوں بھارتی مسلمانوں کے حقوق اور سلامتی سے کیوں نہ چکائی گئی ہو۔

    میڈیا جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ریاست کا احتساب کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے، بھارت میں نفرت کا سب سے بڑا سہولت کار بن چکا ہے۔ معروف نیوز اینکرز حب الوطنی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ 2020 میں تبلیغی جماعت کے خلاف جھوٹا بیانیہ تیار کر کے انہیں "وائرس بم” قرار دیا گیا اور ایک منظم مہم کے ذریعے پورے ملک میں مسلمانوں کو کورونا پھیلانے والا قرار دے دیا گیا۔ بعد ازاں عدالتوں نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا مگر تب تک جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ 2023 میں بین الاقوامی اداروں اور صحافتی تنظیموں نے بھارتی میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی کو فروغ دے رہا ہے اور کئی اداروں نے بھارتی نیوز چینلز کا بائیکاٹ کیا۔ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

    ایسے ماحول میں پہلگام کے مسلمانوں کا کردار اس اندھیرے میں امید کی ایک کرن ہے۔ اگر مسلمان واقعی دہشت گرد ہوتے تو وہ غیر مسلم سیاحوں کو بچانے کے بجائے انہیں نقصان پہنچاتے مگر انہوں نے یہ ثابت کیا کہ انسانیت، ہمدردی اور قربانی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ وہ اقدار ہیں جو کسی بھی باشعور فرد کے ضمیر سے پھوٹتی ہیں۔ ان لوگوں نے نہ صرف جانیں بچائیں بلکہ بھارت کو ایک پیغام دیا کہ سچائی کیا ہے اور کون اصل محب وطن ہے۔ ان کی قربانیاں صرف انسان دوستی کی نہیں بلکہ بھارت کی اجتماعی بیداری کی ایک کوشش تھیں۔

    مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کے اکثریتی معاشرے نے ان مسلمانوں کی قربانیوں کو سراہنے کے بجائے ایک مرتبہ پھر وہی پرانا راگ الاپنا شروع کیاکہ "تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔” یہ جملہ دراصل بھارت کے بکھرتے ہوئے ضمیر کی عکاسی ہے۔ سچ یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہر بحران میں بھارت کا ساتھ دیا، چاہے وہ 2008 کے ممبئی حملے ہوں یا کووڈ-19 کی وبا، مگر پھر بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران مسلمانوں نے خوراک، طبی امداد اور بنیادی ضروریات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا، باوجود اس کے کہ انہیں روکا گیا، دھمکایا گیا اور نشانہ بنایا گیا۔

    جوہر سرکار کی ٹویٹ صرف ایک سوال نہیں بلکہ بھارت کے ضمیر کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا بھارت میں کوئی سچ کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا بھارتی یہ ماننے کو تیار ہیں کہ دہشت گردی کسی مذہب کی شناخت نہیں بلکہ ایک ذہنیت کا نام ہے؟

    یہ لمحہ بھارت کے لیے فیصلہ کن ہے۔ اگر اب بھی سچائی، انسانیت اور عدل کو نہ اپنایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب بھارت کے زخم صرف اقلیتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا ملک ان کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ جوہر سرکار جیسے لوگوں کی آواز کو آگے بڑھانا ہوگاکیونکہ سچ بولنے کی ہمت وہی کرتے ہیں جن میں انسانیت اورانسانی اقدار زندہ ہوتی ہے اور عالمی اداروں کو بھارتی سرکار کی مکاریوں ،ظلم وبربریت کا نوٹس لینا ہوگا ورنہ آرایس ایس کے ہندوتواکے زیراثر مودی اینڈ کمپنی دنیا کا امن تباہ برباد کردےگی.

  • ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    اسلامی جمہوریہ پاکستان، وہ عظیم ریاست جسے قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا، آج مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے عفریت کے شکنجے میں جکڑی جا چکی ہے،ایک ایسا ملک جہاں کبھی خوشحالی کے خواب دیکھے جاتے تھے، اب ہر طرف مایوسی کے سائے چھا چکے ہیں،گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی کی شرح اس قدر تیزی سے بڑھی ہے کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے،پہلے کے ادوار میں اگرچہ مشکلات تھیں، مگر ہر طبقے کے افراد کسی نہ کسی طرح اپنا نظام زندگی چلا لیتے تھے،آج صورتحال یہ ہے کہ متوسط طبقے کے افراد، بلکہ خوشحال خاندان بھی بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے تڑپتے نظر آتے ہیں،معیشت زوال پذیر ہے اور ہر گزرنے والا دن عوام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے

    بدقسمتی سے ہمارے حکمران، جو عوام کی بہتری کے وعدے لے کر اقتدار میں آتے ہیں، خود عوامی مسائل کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں،ان کے پاس اختیار بھی ہے اور وسائل بھی، مگر بدانتظامی اور خود غرضی کے سبب ان کا درست استعمال نہیں ہو رہا،اگر وہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان بھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے

    آج ملک میں صرف انسان کی جان ہی ارزاں رہ گئی ہے،زندگی کی ہر ضرورت مہنگی ہو چکی ہے۔ وہی روٹی، جو کبھی پانچ روپے میں دستیاب تھی، اب پچیس روپے میں ملتی ہے،روزمرہ کی اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں،غربت اور بے روزگاری کی شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے،سوال یہ ہے کہ وہ محنت کش، جو اپنی عزت نفس کے ساتھ جینے کی کوشش کرتا ہے
    آخر اس کمر توڑ مہنگائی میں کس طرح اپنے بچوں کا پیٹ پالے؟
    یہی صورتحال ہمیں صلاح الدین ایوبی کے اس دردناک قول کی یاد دلاتی ہے:
    "جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے، وہاں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہیں: عورت کی عزت اور مرد کی غیرت۔”
    یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کی عکاسی ہے
    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور اصلاح احوال کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو خدانخواستہ وہ وقت دور نہیں جب حالات مزید ابتری کی طرف چلے جائیں گے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریاں سمجھے سنجیدگی سے معیشت کو سنبھالنے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے.
    کیونکہ جب عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے تو پھر ریاستیں صرف جغرافیائی نقشوں پر باقی رہ جاتی ہیں دلوں میں نہیں

  • یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن

    یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن

    یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    پاکستان میں مزدوروں کا عالمی دن یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔ اس کا فیصلہ 1972ء کو کیا گیا تھا کہ اس دن کو منایا جائے اور عام تعطیل کی جائے۔ مختلف ممالک میں یہ دن دوسری تاریخوں میں بھی منایا جاتا ہے۔ مثلاً امریکہ اور کینیڈا میں ستمبر کے پہلے سوموار کو منایا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی اہمیت اس تحریک میں ہے جس میں آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام کی پالیسی اپنانے کی استدعا کی گئی تھی۔ پاکستان میں یکم مئی کو عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے کوئی خاص نشان نہیں ہے بلکہ پوسٹرز اور دیگر جگہوں پر ہتھوڑے اور درانتی کے نشان کو علامت سمجھا جاتا ہے۔

    پاکستان عالمی مزدوروں کی تنظیم آئی ایل او کا 1947ء سے ممبر ہے جو انصاف اور معاشرتی حقوق کے تحفظ کا پرچار کرتی ہے۔ اس وقت مزدوری کا تعین پندرہ سو روپے یومیہ تک ہے لیکن کام کروانے والے لوگ ہزار، بارہ سو سے اوپر نہیں دیتے۔ ان کی مجبوری اور اس بات کا احساس نہیں کیا جاتا کہ ان کا بھی خاندان ہے اور ضروریاتِ زندگی ہیں جن کو پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ مغرب کی ترقی کا راز یہی ہے کہ انہوں نے ہنر اور کام کی قدر کی ہے۔ یہ نہیں دیکھا کہ کام کرنے والا کون ہے، کہاں رہتا ہے اور اس کی ذاتی حیثیت اور حالات کیسے ہیں۔ ایک مزدور کو بھی ہر وہ سہولت حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو ہے۔

    طبقے تو ہر ملک اور معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن مواقع فراہم کرنا کہ محنت کرنے والا اور ہنر مند بھی کسی مقام پر پہنچے اور اپنے خاندان کو بنیادی سہولت فراہم کرے، ضروری ہے۔ مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کا حکم ہے۔ اسی سے محنت اور مزدوری کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    پاکستان عالمی ادارہ آئی ایل او کا باقاعدہ ممبر ہے اور ILO کی قراردادوں پر دستخط کرنے کے بعد پابند ہے کہ ملک بھر میں مزدوروں کی فلاح و بہبود، یونین سازی کا حق سمیت مزدوروں کی بہتری کے لیے قانون بنائے جو ILO قوانین کے متصادم نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں وزارت محنت، سوشل سیکیورٹی، محکمہ لیبر کے تحت لیبر کورٹس، پیلنٹ لیبر ٹربیونلز، قومی صنعتی تعلقات کمیشن (NIRC) کے ادارے قائم ہیں۔

    افسوس یہ ہے کہ یہ ادارے بھاری بھر کم مراعات لے کر بھی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ یکم مئی مزدور ڈے ہوتا ہے، ملک بھر کے سرکاری ادارے، عدلیہ، بیوروکریسی چھٹی مناتی ہے مگر مزدور طبقہ یا درجہ چہارم کے سرکاری ملازمین کو حقیر ترین مخلوق سمجھا جانے لگا ہے۔ ان کے لیے انصاف اور حقوق مشکل تو پہلے بھی تھے مگر اب ناممکن بنا دیے گئے ہیں۔

    اس وقت ملک بھر سے 1600 سے زائد صنعتی ادارے بغیر قانونی تقاضے پورے کیے بند کر دیے گئے ہیں، جس سے ملک بھر کے مزدور بے روزگار ہو کر بے یار و مددگار، کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس کی بنا پر ان کے خاندان فاقوں کا شکار ہو گئے ہیں۔

    لیبر قوانین آئی آر اے 2010ء کے تحت اگر کوئی صنعتی ادارہ بند کرنے کی معقول وجہ ہو تو پہلے 50 فیصد مزدوروں کو انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ کے تحت حقوق دے کر فارغ کیا جاتا ہے اور کم از کم چھ ماہ کے اندر باقی 50 فیصد مزدوروں کو حقوق دیے جانے کے بعد صنعتی و سرکاری ادارہ بند کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

    اس میں محکمہ محنت، پرائیڈنگ آفیسر اور ادارے کی CBA یونین شامل ہوتے ہیں۔ حیرانگی اور دکھ کی بات ہے کہ اس بارے میں اعلیٰ عدلیہ سمیت حکومتی اداروں نے کوئی اقدام کیا ہے، نہ ہی کوئی آواز سینیٹ، قومی یا صوبائی اسمبلیوں سے اٹھائی گئی ہے۔ جبکہ صدرِ مملکت نے حکومت کو انتخابات کے حوالے سے خط لکھا ہے اور عدالتِ عظمیٰ نے بھی انتخابات کے لیے حکم فرما دیا ہے اور کئی پٹیشنیں بھی دائر ہو چکی ہیں۔ ممکن ہے جب یہ تحریر شائع ہو، حالات یکسر بدل چکے ہوں۔

    جن صنعتی اداروں کو بند کیا گیا ہے، اس بارے میں محکمہ لیبر اور لیبر عدالتیں بھی خاموش ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ کو از خود نوٹس لینا چاہئے تھا۔ ملک بھر سے کسی ٹریڈ یونین یا کسی سیاسی جماعت کے لیبر ونگ نے بھی آواز نہیں اٹھائی۔ سب پر اسرار طور پر خاموش ہیں۔

    ٹریڈ یونینز کو ختم کیا جا رہا ہے، حالانکہ مزدوروں کی ویلفیئر اور ٹریڈ یونینز کو تحفظ دینے والے ادارے اور عدالتیں بدستور قائم و دائم ہیں۔ اس کے باوجود مزدوروں کو نہ حقوق ملتے ہیں، نہ ہی مزدوروں اور یونین کے عہدیداروں کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جاتا ہے۔

    اس بارے میں صدرِ مملکت، وزیرِاعظم اور نہ ہی پی ٹی آئی کی قیادت کروڑوں بے روزگار ہونے والے مزدوروں سے ناانصافی پر آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ مزدوروں کو حقوق سے محروم کرنے والوں کی اکثریت خود اسمبلیوں میں بیٹھی ہے۔

    اور تو اور، سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں بعض اعلیٰ افسران بھی صرف رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز کے خلاف ہی سوچتے ہیں، جبکہ ایسوسی ایشنز جن کا ہڑتال، جلسے، جلوس، تالہ بندی کا حق ہی نہیں، وہ آئے روز ہڑتالیں، تالہ بندیاں، جلسے جلوس کرتے رہتے ہیں، انہیں پوچھا تک نہیں جاتا۔

    صنعتی و سرکاری اداروں میں درجہ چہارم کے ملازمین کے ساتھ ہونے والی انتقامی کارروائیوں، افسران اور مالکان کے ستائے مزدور و یونین کے عہدیدار جب مزدوروں کو تحفظ دینے کے لیے قائم اداروں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں دھتکارا جاتا ہے اور مزدوروں کو حقیر سمجھتے ہوئے نفرت و حقارت کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے۔

    جس کا ثبوت یہ ہے کہ مزدوروں کے حقوق کے لیے قائم اداروں کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو 30 دنوں میں 30 مزدوروں کو بھی حقوق نہیں دلائے گئے ہوں گے۔

    حکومت وقت، خصوصاً وزرائے قانون و انسانی حقوق سے پُرزور اپیل ہے کہ مزدوروں کی بہتری کے لیے قومی صنعتی تعلقات کمیشن (NIRC)، لیبر کورٹس، محکمہ لیبر کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال کیا جائے۔

    اس وقت مزدوروں کے خلاف انتقامی کارروائی عروج پر ہے مگر ظالم و جابر کا ہاتھ روکنے والا کوئی مؤثر ادارہ نہیں ہے۔ سروسز ٹربیونلز کے ممبران کو بھی درجہ چہارم کے ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائی پر حکمِ امتناعی اور آرڈر معطل کرنے کا اختیار دیا جائے اور ادارے سے اپیل کو ضروری نہ سمجھا جائے، کیونکہ ادارے کے سینئر آفیسر نے بھی وہی کرنا ہوتا ہے جو نچلے افسر نے کیا ہوتا ہے۔

    اس سے کئی ماہ ملازم انتظار کرنے پر مجبور رہتا ہے۔ انصاف میں تاخیر ہی ناانصافی ہے۔ وزارتِ انصاف، انسانی حقوق اس بار نوٹس لے۔ مزدوروں کو انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

    جبکہ یوم مئی جو کہ مزدوروں کا دن ہے، بہتر تو یہ ہوتا کہ اس دن پر ان مزدوروں کی بات کی جاتی جو کہ مزدور ہوتے ہوئے بھی مزدور نہیں۔

    حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا کہ غیر رسمی مزدور طبقہ کو حکومتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ مزدوروں کی اتنی بڑی تعداد کو حکومتی ریکارڈ میں لائے بغیر قانون سازی اور حقوق کی باتیں کرنا ہوا میں قلعے بنانے جیسا ہے۔

    اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رسمی مزدور طبقہ کے معاملات پر بات نہ کی جائے، ضرور کی جائے مگر غیر رسمی مزدور طبقہ کے مسئلہ کو زیرِ بحث لائے بغیر مزدور حقوق کی بات کرنا ہے تو اس دن کا نام بھی "رسمی یومِ مزدور” رکھ لیا جائے۔

    مزدوروں کا عالمی دن منانے کا مقصد یہی ہے کہ ہر سطح پر مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کا تجدیدِ عہد کیا جائے، انہیں ان کا جائز حق دیا جائے اور انہیں بھی دوسروں کی طرح مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ زندگی میں آگے بڑھیں اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں شامل ہوں۔

  • پنجاب پولیس میں بہتری کیلئے وزیراعلیٰ کا کردار،تحریر:ملک محمد سلمان

    پنجاب پولیس میں بہتری کیلئے وزیراعلیٰ کا کردار،تحریر:ملک محمد سلمان

    پنجاب پولیس کے رویوں میں بہتری اور رشوت کے خاتمے کیلئے مختلف تجربے کیے جاتے رہے کبھی وردی کا رنگ تبدیل کیا گیا تو کبھی چار، چھے ماہ بعد آئی جی کی تبدیلی لیکن نہ تو پولیس کے رویے بہتر ہوسکے اور نہ ہی رشوت کلچر کا خاتمہ۔ پی ٹی آئی کی بزدار حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت میں پولیس نے اختیارات کا جس بے دردی سے استعمال کیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پولیس احتساب سے بالا تر مخلوق بن چکی ہے۔ ناکوں پر تعینات پولیس والوں کو دیکھ کر تحفظ سے زیادہ لٹنے کا احساس ہوتا تھا۔ سب سے زیادہ خطرناک اور شرمناک پہلو یہ تھا کہ پولیس افسران عوامی تحفظ کے اصل کام کی بجائے سیلف پروجیکشن کی جعل سازیوں میں پڑ کر ٹک ٹاک سٹار بننے پر لگے ہوئے تھے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس سمیت تمام سرکاری ملازمین کی غیر قانونی سیلف پروجیکشن پر پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریٹک مارشل لاء کا خاتمہ کرتے ہوئے عوامی طرز حکومت کی طرف پیش قدمی کی۔
    مریم نواز شریف نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالتے ہی محکمہ پولیس میں جامع اصلاحات متعارف کروانے پر توجہ مبذول کی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے سابق وزراء اعلیٰ کے روائتی انداز کو اپنانے کی بجائے پولیس کی کارگردگی، عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے باقاعدگی سے بیسوں اجلاس کی صدارت کی اور ہر دفعہ پولیس میں اصلاحات، کارگردگی میں بہتری، عوامی تحفظ اور کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کے احتساب پر زور دیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوام کی جان و مال کے تحفظ، قیام امن اور بہترین سروس ڈیلیوری کیلئے محکمہ پولیس کیلئے ”کی پرفارمنس انڈیکیٹرز“ (KPIs)متعارف کروائے۔ مریم نواز نے اس بنیادی مرض کو بھی سمجھ لیا کہ نمبر گیم اور سب اچھا دکھانے کیلئے پولیس مقدمات کا اندراج ہی نہیں کرتی اس لیے وزیراعلیٰ نے سختی سے ہدایات کیں کہ جعلی نمبر گیم کیلئے عوام کو مقدمے کے اندراج کے بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے۔ مریم نواز کے عوامی طرز عمل کے باعث عوام میں اعتماد پیدا ہوا کہ اگر پولیس کی کسی بھی زیادتی کی شکایت وزیراعلیٰ آفس تک پہنچ جائے تو اس پر فوری کاروائی ہوتی ہے۔ اس اعتماد سازی کو پختہ اور فیصلہ کن بنانے میں اہم کردار ایڈیشنل سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر سیف انور جپہ کا ہے جو وزیراعلیٰ آفس میں آنے والی ہر شکایت کو ذاتی حیثیت میں ”فالو“ کرتے ہیں اور گھنٹوں اور دنوں میں دادرسی کو ممکن بناتے رہے ہیں، اسی بے مثال کرگردگی کی وجہ سے سیف انور جپہ کو سپیشل سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر وزیراعلیٰ آفس تعینات کردیا گیا ہے تاکہ اور موئثر انداز میں عوامی شکایات کا ازالہ اور پولیس کو عوام دوست پولیس بنایا جاسکے۔ ماضی میں لاء اینڈ آرڈر وزیراعلیٰ آفس کی سیٹ پر جونئیر پولیس افسران کی تعیناتی سے پولیس کے جرائم فائلوں میں دب جاتے تھے اور حکمرانوں تک سب اچھا کی جعلی رپورٹس جاتی تھیں جس وجہ سے پولیس میں بہتری کی تمام امیدیں دم توڑ چکیں تھیں۔
    لاہور پولیس میں کڑے احتساب، ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا کی عوام کیلئے بنا سفارش اوپن ڈور پایسی کی وجہ سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کامران خان، آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل اور آرپی او گوجرانوالہ طیب حفیط چیمہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔
    پنجاب میں مجموعی امن عامہ کے قیام، کریمینل گینگز کے خلاف آپریشن کلین اپ اور قانون شکن عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر فیصلہ کن کارروائیوں کیلئے کرائم کنڑول ڈیپارٹمنٹ کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت اور بہترین فیصلہ ہے۔ پنجاب کو کرپشن فری کرنے کیلئے تمام سفارشوں کو رد کرکے میرٹ پر کرپٹ افراد کے خلاف قابل زکر کاروائیاں کرنے اور انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو فعال بنانے والے سہیل ظفر چٹھہ اور وقاص حسن کی قیادت میں بننے والی سی سی ڈی پنجاب کو جرائم فری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر آئی جی پنجاب عثمان انور نے عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کے تحت تھانوں کے روایتی کلچر کو عوامی خدمت مراکز میں تبدیل کیا۔ عالمی معیار کے سٹیٹ آف دی آرٹ پولیس اسٹیشنز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو ضروری خدمات برق رفتاری سے مہیا کی جا رہی ہیں۔ پولیس کو جدید اسلحہ، گاڑیاں، نائٹ ویژن ڈرون سمیت جدید تقاضوں کے عین مطابق ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔ خدمت مراکز پر ایک چھت تلے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ، پولیس ویری فکیشن، وہیکل ویری فکیشن، گمشدگی رپورٹ، کرائم رپورٹ، خواتین کی قانونی راہنمائی، ایف آئی آر کی نقول، کرایہ داری اور گھریلو ملازمین کے اندراج، ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی خدمات فراہم کی گئیں۔

    پنجاب کو جرائم اور کرپشن فری صوبہ، پولیس کو کرپشن اورجرائم پیشہ عناصر کے مددگاروں سے پاک کرنے کیلئے مجرموں سے ساز باز کرنیوالے پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کوسزائیں دے کر مثال بنایا جارہا ہے، سیکرٹری پراسیکیوشن پنجاب احمد عزیز تارڑ پراسیکیوشن محکمہ کی مکمل اوورہالنگ اور مضبوطی پر کام کررہے ہیں تاکہ ہر طرح کے عدالتی مقدمات میں حکومت پنجاب کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ٹریفک پولیس کی کارگردگی ابھی تک زیرو ہے خاص طور پر لاہور میں تیز فلیشر لائٹ، بنا نمبر پلیٹ رکشوں، گاڑیوں اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔

  • بھارت کا سیاہ چہرہ ،اقلیتوں پر منظم ظلم اور فالس فلیگ آپریشنز

    بھارت کا سیاہ چہرہ ،اقلیتوں پر منظم ظلم اور فالس فلیگ آپریشنز

    بھارت کا سیاہ چہرہ ،اقلیتوں پر منظم ظلم اور فالس فلیگ آپریشنز
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا دعویٰ کرتا ہے، اپنے اندر ایک تاریک حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ یہ حقیقت ہے بھارت میں بسنے والی اقلیتیں بالخصوص مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف منظم ظلم و ستم جو نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ایسی سیاسی چال کا نتیجہ ہے جو بھارت کے سماجی تانے بانے کو کمزور کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں نفرت کی سیاست اور قومی سلامتی کے نام پر پروپیگنڈا اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ بھارت اپنی اقلیتوں کے خلاف ایک خفیہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

    بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف ظلم کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 1947ء میں بھارت کے قیام سے لے کر بابری مسجد کی شہادت (1992ء)، گجرات فسادات (2002ء) اور دہلی فسادات (2020ء) تک، یہ واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہندوتوا کا نظریہ جو ہندو قوم پرستی کو فروغ دیتا ہے، اقلیتوں کے بنیادی حقوق کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔ بی جے پی کی سرپرستی میں یہ نفرت نہ صرف سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہو رہی ہے بلکہ اس سے بھارت کی جمہوری اقدار بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ معروف بھارتی اخبار "سیاسی تقدیر” کے مطابق بی جے پی اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لیے مذہبی منافرت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس سے اقلیتیں غیر محفوظ ہو رہی ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم نے ایک بھیانک شکل اختیار کر لی ہے۔ 2019ء میں آرٹیکل 370 کی منسوخی نے کشمیریوں کے خصوصی حقوق کو ختم کر دیا جس کے بعد تشدد، گرفتاریوں، اور کرفیو کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ پلوامہ (2019ء) اور پہلگام (2025ء) بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز جن کا مقصد پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا اور کشمیریوں کے خلاف مظالم کو جواز فراہم کرنا تھا۔ یہ حملے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان سے جوڑے گئے جو بھارتی پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں کی سری نگر آمد اور بھارتی فورسز کے ساتھ ان کا تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے ایک منظم منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ گٹھ جوڑ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرنے والوں میں معروف بھوجپوری گلوکارہ اور بلاگر نیہا سنگھ راٹھور بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے ویلاگ میں بی جے پی کے اس رویے کو بے نقاب کیا کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ نیہا نے واضح کیا کہ پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوامی جذبات کو بھڑکایا جائے اور ملکی مسائل سے توجہ ہٹائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی یہ حکمت عملی غریب عوام کی قربانیوں پر مبنی ہے۔ نیہا کی تنقید کے جواب میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت میں تنقید کی آوازوں کو کس طرح دبایا جا رہا ہے۔

    عالمی برادری کی خاموشی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ بھارت کی اقتصادی طاقت اور جغرافیائی اہمیت کے باعث بڑی طاقتیں اس کے مظالم پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی عالمی انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر بھارت کے ہندوتوا کے نظریہ والے یہ اقدامات جاری رہے تو نہ صرف کشمیریوں بلکہ دیگر اقلیتوں کی نسل کشی امکانات بڑھتے جارہے ہیں جن کامستقبل خطرے میں پڑچکا ہے ، نفرت کی سیاست نے بھارتی میں معاشرے میں اقلیتوں سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہا ہے جو ایک بڑی سماجی تباہی کا باعث بن چکی ہے۔

    بھارت میں اقلیتوں بالخصوص کشمیریوں کے خلاف ظلم ایک ایسی حقیقت ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پلوامہ اور پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے نسل کشی کا منصوبہ نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے اقدامات کا نوٹس لے اور اسے اپنی اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرنے پر مجبور کرے۔ انسانیت کے تحفظ اور خطے کے استحکام کے لیے فوری عمل کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ظلم نہ روکا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

  • کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا،‏تحریر: زری کشمیری

    زندگی انمول ہے۔زندگی پیدا ہونے سے شروع ہوتی ہے ۔اور اس کا اختتام موت سے ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے؟ کیا کبھی ہم نے اپنی زندگی پر نظر ثانی کی ہے۔ کیا زندگی بادشاہی ہو یا فقیری میں ہی گزاری ہو۔کیا ہم نے جینے کا حق ادا کر دیا۔ یہ سوال ہر بنی نوع انسان کو خود سے کرنا چاہیے۔اگر مجھ سے پوچھیں تو کیا ہم مال و دولت عیش عشرت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے سے نکل پائے۔ کیا اللّٰہ پاک رب العالمین کے احکامات کے مطابق ہم نے زندگی گزاری؟ ہمارا مقابلہ مال و دولت اور آسائش میں آگے بڑنا نہیں ہے۔ بلکہ بحثیت اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے نیک کاوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔یہی انسانیت یہی اصل زندگی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ شائد اس زمانے کے لیے لکھا تھا۔ ،،نیکی میں جو کام نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے، اس بے فیض سنگی سے بہتر یار اکیلے،، کچھ عرصہ قبل تک ہماری زندگیاں بہت مختلف ہوا کرتی تھیں، روزمرہ کے کام کاج اور زندگی بسر کرنے کے طور طریقے ، ہماری روٹین سب کچھ ایسا تھا جس میں ہم خود کو پُرسکون محسوس کرتے تھے ، ہمارے اردگرد کے لوگ اور اب کی صحبتیں ایسی ہوا کرتی تھیں جس سے ہم اور ہمارے پیارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے تھے، مثال کے طور پر، مل جل کر رہنا، ایک دوسرے سے محبت کرنا، اپنے پیاروں اور آس پاس بسنے والوں کا خیال کرنا، بڑوں کی عزت و احترام اور چھوٹوں سے پیار کرنا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ حیات میں تلخی ہے مگر خیر چل زری شکوہ جو تُو کرے، تو خدا روٹھ جائیگا ۔۔ پھر آہستہ آہستہ ہم دورِجدید میں داخل ہوتے گئے، نفسا نفسی کے اس دور میں ہر طرف ہر سُو افراتفری کا عالم ہے جہاں کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔ ہر شخص بے سکونی میں مبتلا ہے سب کے پاس زندگی گزارنے کی تمامتر سہولیات میسر ہونے کے باوجود بھی بے چینی کی کیفیت طاری ہے، یہاں تک کے نماز ادا کرنے میں بھی ہر شخص جلدبازی کر رہا ہے ۔ لوگ نماز کی اہمیت بھول رہے ہیں اور بس اس فرض کو بھی کسی صورت سر سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں.. اس دنیا میں رہتے ہوئے ۵ منٹ کی نماز ادا کرنے گھر کے ساتھ تعمیر کی گئی مسجد میں جایا نہیں جاتا اور مرنے کے بعد ہم جنت کے طلبگار ہیں ۔۔ زمانہ بھی کیا سے کیا ہوگیا، بھلا کر انسانیت خدا سے جدا ہوگیا، ہماری کچھ عرصے پہلے کی زندگی میں ہمارے حال کی نسبت کافی حد تک فرق تھا ،اور وہ فرق ایسے تھا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی بہت بہترین طریقے سے بسر کر رہے تھے، ہر کام کے لئے مکمل فرصت تھی، گھر کے سب کام وقت پر ہوتے تھے سب کے پاس اپنے پیاروں کو دینے کے لئے ڈھیروں محبتیں ہوتی تھیں ۔۔

    اس دور میں اتنی مشینری بھی میسر نہ تھی اس کے باوجود بھی کام اپنے مقررہ وقت پر ہوجاتے تھے ۔۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اُس محنت اور لگن سے کام کرنے والے دورہِ حیات میں جب ہم خوش اسلوبی سے جی سکتے تھے تو آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کیوں نہیں جی پاتے ؟؟ جبکہ ابھی تو ہمارے پاس ہر کام کرنے کے لئے اعلی سے اعلی مشینری بھی موجود ہے ۔۔ دلوں میں خوف تھا نہ دہشتوں کا پہرا تھا میرے خیال میں وہ دور ہی سنہرا تھا ۔۔ زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو دلوں میں گنجائش پیدا کریں کسی کی بات کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا کریں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا سیکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھیں اپنے آس پاس کے لوگوں کی پریشانیوں دکھ اور تکلیف کو اپنا سمجھ کر محسوس کرنا سیکھیں تو انشاءاللہ اس دور میں بھی پرسکون زندگی گزار سکیں گے ۔

  • موجودہ دور اور اُردو زبان کی جنگ

    موجودہ دور اور اُردو زبان کی جنگ

    موجودہ دور اور اُردو زبان کی جنگ
    ازقلم:ارم سعید
    اردو زبان برصغیر کی ایک مایہ ناز، شیریں، دلکش اور ہمہ گیر زبان ہے۔ اس نے اپنے دامن میں نہ صرف شاعری، نثر، تاریخ، فلسفہ اور سائنس کی دولت سمیٹی ہے، بلکہ تہذیب، ثقافت، شائستگی، اور محبت کی زبان بھی کہلائی ہے۔ اردو نے ہندو مسلم یکجہتی، صوفی ازم، اور عوامی مزاحمت کی آواز بن کر صدیوں تک ایک روشن کردار ادا کیا۔ لیکن آج کے تیز رفتار، ٹیکنالوجی کے غالب، اور عالمی زبانوں کے غلبے والے دور میں اردو زبان کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اردو زبان آج ایک نفسیاتی، تہذیبی اور سماجی جنگ لڑ رہی ہے—ایک ایسی جنگ جس کا میدان تعلیمی ادارے، سوشل میڈیا، حکومتی پالیسیاں، اور ہماری روزمرہ زندگی ہے۔ یہ مضمون اردو زبان کی اس جنگ کا جائزہ لیتا ہے، اس کے اسباب، اثرات اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالتا ہے۔

    اردو زبان: ایک تاریخی پس منظر
    اردو زبان کی جڑیں دکن سے دہلی تک اور پنجاب سے لکھنؤ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس نے فارسی، عربی، ترکی، سنسکرت اور مقامی بولیوں سے الفاظ لے کر ایک منفرد اسلوب اختیار کیا۔ مغلیہ دور میں اسے درباری زبان کی حیثیت حاصل ہوئی اور بعد ازاں یہ عوام الناس کی زبان بن کر ابھری۔ اردو نے تحریک آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سرسید، حالی، اقبال اور قائداعظم نے اسے ایک قومی شناخت کی علامت بنایا۔

    1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے محض علامتی طور پر اپنایا گیا، عملی طور پر انگریزی کا غلبہ قائم رہا۔

    موجودہ دور کے تقاضے اور اردو زبان
    موجودہ دور میں دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ انگریزی زبان بین الاقوامی رابطے، تعلیم، تجارت، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی زبان بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر والدین اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکول میں داخل کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اردو زبان جو کبھی علم و تہذیب کی علامت تھی، اب کمزور طبقات، پسماندہ علاقوں یا صرف جذباتی نعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

    تعلیمی نظام اور اردو کا حاشیہ نشین ہونا
    پاکستان کا تعلیمی نظام طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف انگلش میڈیم، کیمبرج اور آئی بی جیسے ادارے ہیں جو مغربی معیار تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں، دوسری طرف اردو میڈیم سرکاری اسکول ہیں جو وسائل کی کمی، ناقص نصاب اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ کے باعث پسماندگی کا شکار ہیں۔

    اردو میڈیم تعلیم کو حقیر، کم درجے کی اور "ناکام لوگوں” کا راستہ سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی سوچ اردو زبان کی وقعت کو گھٹا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچے اردو بولنے سے کتراتے ہیں، اردو لکھنے سے قاصر ہیں اور اردو ادب سے ناواقف ہیں۔

    میڈیا، انٹرنیٹ اور زبان کا استحصال
    سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے زبان کی ساخت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ "رومن اردو” یعنی انگریزی حروف میں اردو لکھنے کا رجحان عام ہو گیا ہے۔ نوجوان طبقہ "Ap kya kr rhy ho?” جیسے جملے استعمال کر کے زبان کی ساخت اور جمالیات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

    ٹی وی چینلز، ڈرامے، فلمیں اور اشتہارات میں اردو کی جگہ ایک مخلوط زبان نے لے لی ہے جو نہ مکمل اردو ہے، نہ مکمل انگریزی۔ یہ زبان دراصل "انگریزی زدہ اردو” ہے، جو اردو کی اصل روح کو مجروح کر رہی ہے۔

    اردو زبان کے خلاف سازش یا ہماری بے حسی؟
    کیا اردو زبان کے ساتھ زیادتی دانستہ ہو رہی ہے؟ یا ہم خود اپنی زبان سے بے وفائی کر رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اردو کے خلاف کوئی خارجی سازش نہیں، بلکہ ہماری اپنی نیت، رویہ اور ترجیحات اس کے زوال کے ذمہ دار ہیں۔ ہم نے اسے صرف شاعری، جذبات، تقریروں اور تقریبات تک محدود کر دیا ہے۔

    ہماری جامعات میں تحقیق انگریزی میں ہوتی ہے، دفاتر میں مراسلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، عدالتوں کے فیصلے انگریزی میں ہوتے ہیں۔ اردو کو صرف ترجمے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جب کہ اسے خود علمی زبان بننے کا موقع نہیں دیا گیا۔

    اردو زبان کی بقا: روشن مثالیں اور امید کی کرن
    اگرچہ مجموعی صورتحال مایوس کن ہے، لیکن کچھ روشن مثالیں اب بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ نوجوان اردو شاعری، ادب، اور تحریر کو فروغ دے رہے ہیں۔ یوٹیوب چینلز، اردو بلاگز، پوڈکاسٹس اور آن لائن لٹریچر پلیٹ فارمز اردو کو نئی زندگی دے رہے ہیں۔

    اردو ادب کی نئی صنف "اردو افسانوی وی لاگنگ” ابھر رہی ہے، جہاں نوجوان اپنی کہانیوں کو ویڈیو کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، جو اردو کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑ سکتی ہے۔

    حکومت، تعلیمی ادارے اور معاشرتی کردار
    اردو زبان کے فروغ کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے:

    قومی نصاب میں اردو زبان کی تدریس کو مضبوط کیا جائے۔
    سائنسی و تکنیکی مواد اردو میں ترجمہ کیا جائے۔
    دفاتر اور عدالتوں میں اردو کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
    اردو ادب اور زبان کے ماہرین کو قومی سطح پر پذیرائی دی جائے۔
    اردو زبان کی ترقی کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں۔

    اسی طرح تعلیمی اداروں کو اردو زبان کی تدریس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا چاہیے۔ اردو کو بوریت یا مجبوری کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ اور موثر زبان کے طور پر پیش کیا جائے۔

    ہمارا انفرادی اور اجتماعی فرض
    ہر فرد کا بھی فرض ہے کہ وہ اردو زبان کو صرف جذباتی یا قومی فخر کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اس کے عملی استعمال کو فروغ دے۔ گھر میں اردو بولی جائے، کتابیں اردو میں پڑھی جائیں، اردو اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس کو فروغ دیا جائے۔
    والدین اپنے بچوں کو اردو ادب سے روشناس کرائیں۔ اساتذہ اردو کو صرف نصاب تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے تخلیقی پہلو کو اجاگر کریں۔

    اردو زندہ ہے، لیکن خطرے میں ہے
    اردو زبان محض ایک لسانی اظہار نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک روایت اور ایک تاریخ کا نام ہے۔ موجودہ دور میں اسے مختلف محاذوں پر جنگ لڑنی پڑ رہی ہے تعلیم، میڈیا، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قومی پالیسی کی سطح پر۔
    اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو آنے والے وقت میں اردو صرف کتب خانوں اور ماضی کی یادگاروں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن اگر ہم نے اس زبان کی حفاظت، ترقی اور فروغ کو اپنا مشن بنا لیا تو یہ زبان نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ دنیا میں اپنا مقام بھی واپس حاصل کرے گی۔

    اردو کو بچانا صرف زبان کو بچانا نہیں، بلکہ اپنی شناخت، ثقافت، تاریخ اور تہذیب کو بچانا ہے۔

  • شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے اور مسکراہٹیں بکھیرنے والے ہر دلعزیز اداکار منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے انچاس برس بیت گئے لیکن وہ اپنے نام اور کام کی وجہ سے اپنے ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
    منور ظریف 2 فروری 1940 ء کو گوجرانولہ میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے صرف 36 سال عمر پائی ۔ آج سے ٹھیک انچاس برس قبل فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ اپنے کیریئر کے عروج میں ہی ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا ۔
    منور ظریف نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1960 ء میں کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان فلم انڈسٹری پر وہ انمٹ نقوش چھوڑے کہ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً پچاس برس بیت گئے لیکن ان کی خود ساختہ اداکاری اور ان کے فی البدیہ جملوں کی برجستگی کی آج بھی دنیا معترف ہے ۔
    دنیائے ظرافت میں یوں تو رنگیلا ، معین اختر ، ایم اسماعیل ، زلفی ، نرالا ، خلیفہ نذیر ، دلجیت مرزا ، علی اعجاز ، ننھا اور اداکار لہری نے خوب نام کمایا لیکن جو نام اور مقام منور ظریف کا ہے وہ کسی اور کامیڈین کا نہیں ہے ۔
    اپنے فنی سفر کا آغاز انہوں نے فلم ” اونچے محل” سے کیا ، جس میں انہوں نے مزاحیہ کردار ادا کر کے حاضرین و ناظرین کی خوب داد سمیٹی اور اس کے بعد ان کی ایک پنجابی فلم ڈنڈیاں اور چاچا خواہ مخواہ منظر عام پر آئی ۔ اس کے بعد تو ایک سے بڑھ کر ایک فلم اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ، جس میں پیار کا موسم ، بہارو پھول برساؤ ، استاد شاگرد ، چکر باز ، دیا اور طوفان ، بد تمیز ، ہتھ جوڑی ، زمیندار ، ہیر رانجھا ، زینت ، نمک حرام ، پردے میں رہنے دو ، دامن اور چنگاری ، رنگیلا اور منور ظریف ، بدلہ ، ملنگی ، چڑھدا سورج اور بابو جی جیسی لازوال فلمیں شامل ہیں ۔
    ابتدا میں منور ظریف کو چھوٹے موٹے کردار ادا کرنے کو ملے ، لیکن جلد ہی منور ظریف نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جگہ ان بڑے بڑے اداکاروں میں بنا لی جن کا اس دور میں ایک نام تھا ۔
    اپنے مخصوص انداز ، لب و لہجے اور منفرد کام کی وجہ سے انہوں نے جلد ہی فلم انڈسٹری پر اپنے کام کے گہرے نقوش چھوڑے ۔ فیس ایکسپریشن ، باڈی لینگوئج ، برجستہ کلمات کی ادائیگی اور اپنے منفرد لب و لہجے سے انہوں نے شہنشاہِ ظرافت کا خطاب اپنے نام کیا ،

    منور ظریف مزاحیہ اداکاری کی ان تمام جملہ اصناف میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔
    منور ظریف جب بھی پردہ سکرین پر نمودار ہوتے تو حاضرین و سامعین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے ۔ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا جو ملکہ منور ظریف کو حاصل تھا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ۔
    اپنے سولہ سالہ فلمی کیریئر میں منور ظریف نے لگ بھگ 300 سے زائد اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا ۔
    ان کی ہر نئی آنے والی فلم میں لوگوں کے لئے قہقہوں کا وافر مقدار میں سامان موجود ہوتا ۔ ان کے پرستار ان کی ہر ادا اور ہر ڈائیلاگ پر جھوم جھوم جاتے ۔
    منور ظریف ایک حیرت انگیز مزاحیہ اداکار تھے ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان کے جیسا اداکار دور دور تک نظر نہیں آتا ۔

    منور ظریف سمیت ان کے بھائیوں نے فلمی دنیا میں اپنے اپنے فن کے جوہر دکھائے لیکن جو کامیابی ظریف اور منور ظریف کے حصے میں آئی وہ باقی تین بھائیوں کے حصے میں نہیں آئی ۔
    50 کی دہائی میں اداکار ظریف نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے جو شہرت حاصل کی منور ظریف نے اس سے کئی گنا زیادہ شہرت و مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ۔
    منور ظریف دنیائے ظرافت اور لالی وڈ سینما کا وہ انمول خزانہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔
    لالی وڈ انڈسٹری چاہ کر بھی کوئی منور ظریف ثانی پیدا نہیں کرسکی ۔
    منور ظریف کا کوئی گیت یا کوئی کلپ سامنے آ جائے تو ہم اسے دیکھے بنا نہیں رہ سکتے ۔
    دنیائے ظرافت کا بے تاج بادشاہ منور ظریف اپنی حرکات و سکنات اور حاضر دماغی سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے فن سے بخوبی واقف تھا ۔
    منور ظریف کے کیریئر میں چند ایک ایسی فلمیں بھی ہیں جن کے ذکر کے بغیر ان کے فنی سفر کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ، جن میں جیرا بلیڈ ، نوکر ووہٹی دا ، اج دا مہینوال ، بنارسی ٹھگ اور فلم خوشیا شامل ہے ۔ ان فلموں میں منور ظریف نے مرکزی کردار ادا کیا ۔
    منور ظریف کی فلم ” نوکر ووہٹی دا ” کو بھارت نے بھی کاپی کیا ، جس میں بھارتی اداکار دھرمیندر نے منور ظریف کا کردار ادا کیا ۔
    بعد میں دھر میندر نے اعتراف بھی کیا کہ وہ منور ظریف جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    منور ظریف ہر سال اوسطاً 20 سے زائد فلموں میں کام کرتے رہے ۔ ہر فلم میں ان کا انداز دیکھنے والوں کا دل موہ لیتا ۔ انہوں نے کبھی خود کو مزاح تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ ہیرو ، ولن اور سائیڈ ہیرو کے کردار میں بھی جلوہ گر ہوئے ۔
    منور ظریف پر زیادہ تر مسعود رانا کے گیت فلمائے گئے ۔
    منور ظریف اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی انجمن تھے ، ایسے باصلاحیت لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔
    فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ لاکھوں کروڑوں دلوں پر راج کر کے صرف 36 سال کی عمر میں ہم سے جدا ہو گیا ۔
    اللّٰہ تعالیٰ منور ظریف کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے (آمین ثم آمین)

  • ہمارا کزنز کے ساتھ رشتہ .تحریر: شمائل عبداللہ

    ہمارا کزنز کے ساتھ رشتہ .تحریر: شمائل عبداللہ

    یہ ایک اہم نقطہ تھا جو اکثر خاندانوں میں مسئلہ جس پر مجھے لکھنا مناسب لگا۔ لیکن اس عنوان کو اکثر ہلکل پھلکا سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ کزن کا مطلب ہی نہیں جانتے میں ایک بار اپنے عزیز و اقارب کے رشتہ داروں کے پاس گیا! وہاں کزن کا ذکر چھڑا تو انہوں نے برا منایا پھر میں نے بتایا کہ بھئی یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے ہمارے دور پار کے بہن بھائیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔۔۔ پھر کزن سسٹر اور کزن پر بحث ہوتی رہی کہ کزن سسٹر جو ہے چچازاد ہے اور کزن ماموں پھپھو خالہ زاد میں نے کہا بھئی نظریہ ہے ورنہ خالہ زاد اور دوسرے کزنز کو بھی بہن بھائی کہتے ہیں۔ پھر فرسٹ سکینڈ تھرڈ کزنز پر بات ہونے لگی۔ میں نے بتایا کہ یہ بھی نظریہ ہے حقیقت نہیں کزن کزن ہی ہوتا ہے اکثر ہم کزنز کے ساتھ فرینک ہونے لگ جائیں تو ہم پر شک کیا جاتا ہے اور چچازاد پر نہیں۔ بات محبت کی ہے تو محبت تو کچھ بھی نہیں دیکھتی اور کزنز کا رشتہ دوستانہ ہے یہ انجیل بتاتی ہے کہ یوحنا یسوع کا خالہ زاد تھا۔ محبت سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے ہم روک نہیں سکتے جہاں ہونی ہوتی ہے ہو جاتی ہے! ایک مثال ہے یہودیوں کا ایک مذہبی گروہ ہے جو کہ بہن بھائی کی شادی بھی کر دیتا ہے تو کیا ہم ان سے بھی پرہیز کریں ؟ لیکن قانون قدرت ہے کہ ان رشتوں میں ویسی محبت نہیں ہوتی اگر ہو تو ہوس کہلاتی ہے سو مسیحیت میں کزنز میرج نہیں کزن فرینڈ شپ جائز ہے کزن میرج ہماری وہ غلطی ہے جس نے ہمیں نہ صرف شک بلکہ آپس میں دوریاں رکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اور یہ تو میڈیکل میں بھی غلط ہے اور خروج میں بھی لکھا ہے

    یورپ میں ہر رشتے کا دن منایا جاتا ہے ہر جنس کا بھی چوبیس جولائی کو کزنز ڈے بھی منایا جاتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ان کا اور ہی مطلب لیا جاتا ہے
    ” تو اپنے کسی قریبی رشتے دار کے پاس نہ جانا خواہ وہ تیرے باپ کی بیٹی ہو یا ماں کی کیونکہ وہ تیرا اپنا خون ہے ” خروج 17 باب ” اور لفظوں پر غور ضرور کریں لیکن انکی پکڑ سے گریز کریں کیونکہ وہ ہمارے بس میں نہیں اور بچوں کی چھیڑ چھاڑ نہ کیجئے کیونکہ اس سے ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرد و عورت کا ایک ہی رشتہ ہے اور عشق انتہا ہے اس لیے صرف خدا سے ہے
    ” فی امان اللہ "

  • پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سری نگر, پہلگام حملے کے بارے میں ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر نے بھارتی حکومت کے واقعات کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیکورٹی ذرائع مودی انتظامیہ کی طرف سے ترتیب دیے گئے "جھوٹے فلیگ آپریشن” کا نام دے رہے ہیں۔ سیکورٹی حکام کے مطابق، ایف آئی آر – پہلگام پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی – ان تضادات کو ظاہر کرتی ہے جس سے حملے کی صداقت پر شک پیدا ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن مبینہ واقعہ کی جگہ سے تقریباً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ حملہ دوپہر 1:50 سے 2:20 کے درمیان ہوا، لیکن حیران کن طور پر، ایف آئی آر سرکاری طور پر صرف 10 منٹ بعد 2:30 بجے درج کی گئی۔ سیکورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ غیر معمولی طور پر تیزی سے ایف آئی آر کا اندراج پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مزید برآں، ایف آئی آر میں نامعلوم "سرحد پار دہشت گردوں” کو مجرم قرار دیا گیا ہے – ایک بیانیہ جو ہندوستانی حکومت اکثر بیرونی عناصر سے حملوں کو منسوب کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ایف آئی آر میں اس حملے کو اندھا دھند فائرنگ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جب کہ بھارتی حکام اور میڈیا نے اسے مسلسل "ٹارگٹ کلنگ” کے کیس کے طور پر بنایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں استعمال کی گئی اصطلاحات، بشمول "غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر” کی گئی کارروائیوں کے حوالے سے مشتبہ طور پر پہلے سے تیار کیا گیا تھا۔ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی آر کی رہائی نے مبینہ طور پر پہلگام کے جھوٹے فلیگ آپریشن کو سیاسی جوڑ توڑ کی ایک ناقص کوشش کے طور پر بے نقاب کردیا ہے، جس کا مقصد ایک اسٹریٹجک بیانیہ کے طور پر تھا جسے مودی حکومت کے لیے قومی شرمندگی میں بدل دیاہے۔بھارتی حکومت کی جھوٹ پر مبنی پالیسیوں کی قلعی ایک بار پھر کھل گئی۔ اس بار مقام ہے مقبوضہ کشمیر کا خوبصورت مگر زخم خوردہ علاقہ "پہلگام” اور وقت ہے 22 اپریل 2025۔ کہنے کو یہ ایک عام دن تھا لیکن چند گھنٹوں بعد بھارتی میڈیا، سیکیورٹی ادارے اور سیاسی پنڈت ایک طوفان برپا کر چکے تھے۔ دعویٰ کیا گیا کہ پہلگام میں "سرحد پار سے آئے دہشت گردوں” نے 26 سیاحوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن اگلے ہی دن وہ ایف آئی آر سامنے آئی جو اس سارے ڈرامے کی حقیقت کو نہ صرف بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک منظم، منصوبہ بند فالس فلیگ آپریشن تھا جس کا مقصد سیاسی مفادات سمیٹنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔کشمیر میں دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم اور جھوٹے دعوے نئی بات نہیں۔ لیکن اس بار ایف آئی آر ہی نے مودی سرکار کا پردہ چاک کر دیا۔ پہلگام واقعے کے حوالے سے جو ایف آئی آر درج کی گئی، اس میں وقت، ردعمل، اور الفاظ کے انتخاب نے سیکیورٹی ماہرین کو چونکا دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق حملہ 13:50 پر شروع ہوا اور 14:20 پر ختم ہوا۔ حیرت انگیز طور پر صرف دس منٹ بعد یعنی 14:30 پر ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی 6 کلومیٹر دور پولیس اسٹیشن تک اطلاع پہنچی، وہاں سے ٹیم آئی، جائے وقوعہ کا جائزہ لیا، رپورٹ تیار کی گئی اور صرف دس منٹ میں مکمل ایف آئی آر درج کر لی گئی؟ یا پھر یہ سب کچھ پہلے سے ہی تیار شدہ اسکرپٹ کا حصہ تھا؟ یہ پہلے سے لکھی کہانی تھی؟ایف آئی آر کے متن میں جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ایک "ریہرسل شدہ” اسکرپٹ تھی۔ ’’نامعلوم سرحد پار دہشت گرد‘‘، ’’بیرونی آقاؤں کی ایماء‘‘، ’’اندھا دھند فائرنگ‘‘ جیسے الفاظ چند منٹ میں کسی سپاہی یا محرر کے ذہن میں نہیں آتے جب تک انہیں پہلے سے لکھا نہ گیا ہو۔ ماہرین کے مطابق بھارت کی تاریخ ایسے فالس فلیگ آپریشنز سے بھری پڑی ہے جنہیں یا تو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا یا پھر کسی سفارتی دباؤ سے بچنے کے لیے۔یہ صرف سیاسی مقاصد کی تکمیل ہے،اب سوال یہ ہے کہ مودی حکومت کو اس فالس فلیگ سے کیا حاصل ہوا؟ اس کا جواب بھی ایف آئی آر کے فوراً بعد سامنے آ گیا۔ بھارت نے اگلے ہی روز سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ یعنی ایک دن پہلے پہلگام میں "حملہ”، اگلے دن "معاہدہ معطل”۔ یہ واضح ہے کہ فالس فلیگ حملے کو بنیاد بنا کر ایک بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا گیا، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔بھارتی میڈیا ہمیشہ سے مودی سرکار کا ترجمان رہا ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے بغیر تحقیق کے دہشت گردی کا لیبل پاکستان پر ڈال دیا۔ حالانکہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ بلکہ الٹا ایف آئی آر کی زبان اور جلدبازی نے پورے واقعے کو مشکوک بنا دیا۔ ایک طرف ایف آئی آر میں "اندھا دھند فائرنگ” کا ذکر ہے، تو دوسری طرف بھارتی میڈیا اسے "ٹارگٹڈ کلنگ” کہہ رہا ہے۔ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ کہیں چھپ کر رہ گیا ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب بھارت بین الاقوامی سطح پر شدید دباؤ کا شکار تھا۔ یورپی یونین کی ایک رپورٹ میں کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اسی دوران بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ کا ناٹک رچا کر عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گردی کا شکار ہے، مظلوم ہے، اور پاکستان اس کا ذمہ دار ہے۔ لیکن ایف آئی آر کی قبل از وقت تیاری اور اس میں شامل الفاظ نے ان کا بیانیہ زمین بوس کر دیا۔تاریخی جھوٹ اور فالس فلیگز ،یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیا ہو۔ ماضی میں پٹھان کوٹ، اوڑی، اور پلوامہ جیسے واقعات میں بھی یہی انداز اپنایا گیا۔ پلوامہ حملے کے بعد تو باقاعدہ الیکشن جیتنے کے لیے فضائی حملہ کیا گیا، جس میں نہ کوئی ہلاکت ہوئی، نہ نقصان۔ بس ایک درخت گرا۔ آج تک دنیا بھارت سے سوال کرتی ہے کہ پلوامہ میں آخر کیا ہوا تھا؟ اور اب پہلگام اس جھوٹ کی تازہ ترین قسط ہے۔پاکستان نے پہلگام واقعے کے بعد اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر زور دیا ہے کہ اس کی مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کا یہ نیا ڈرامہ دراصل اصل مسئلے یعنی کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اگر بھارت کے پاس واقعی کوئی ثبوت ہے تو وہ عالمی برادری کے سامنے لائے، صرف الزامات کافی نہیں۔کشمیری عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان پر مسلط حکمران جھوٹ کے کتنے ماہر ہیں۔ پہلگام واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کشمیری نوجوانوں نے جس انداز میں بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، وہ قابل ذکر ہے۔ ’’یہ حملہ ہم پر نہیں، ہماری سچائی پر ہے‘‘ جیسے جملے وائرل ہو چکے ہیں۔ کشمیریوں کو معلوم ہے کہ ان کا اصل مجرم کون ہے اور اصل نجات کہاں سے آئے گی۔

    پہلگام واقعہ نہ صرف بھارت کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق، شفاف تحقیقات، اور امن کی دعوے دار ہے تو اسے اس واقعے کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ اگر دنیا خاموش رہی تو اس کا مطلب ہوگا کہ فالس فلیگ آپریشنز جیسے ہتھکنڈے جائز تصور کیے جا سکتے ہیں، جو ایک خطرناک مثال بنے گی۔

    پہلگام فالس فلیگ واقعہ مودی حکومت کے لیے ایک نیا ہتھیار ضرور تھا، مگر ایف آئی آر کی جلد بازی نے اس ہتھیار کو خود انہی کے خلاف استعمال کر دیا۔ اب نہ صرف کشمیر بلکہ دنیا بھر کے باشعور انسان جان چکے ہیں کہ بھارت ایک بار پھر جھوٹ کے پہاڑ پر چڑھ کر خود ہی پھسل گیا ہے۔ ایسے جھوٹ زیادہ دیر نہیں چلتے۔ آج اگر ایف آئی آر ہی نے ان کا چہرہ بے نقاب کیا ہے، تو کل کوئی عالمی فورم ان کے خلاف فیصلہ بھی دے سکتا ہے۔ فالس فلیگ کا سورج اب غروب ہونے کو ہے، اور سچائی کی کرنیں آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہی ہیں۔اسی لئے کہتے ہیں نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔