Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کا سب سے مشکل کام ،تحریر:نور فاطمہ

    انسانی فطرت میں ایک عجیب سی خصوصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے مفاد یا نقصان کو اپنے دل میں بہت بڑا بنا کر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، جو محبت، مہربانی یا اچھائیاں اس کو ملتی ہیں، وہ بہت جلد بھلا دی جاتی ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر انسان اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔خوشی ایک ایسا جذبہ ہے جس کا ہر انسان پیچھا کرتا ہے۔ کچھ لوگ خوشی کو مادی چیزوں میں تلاش کرتے ہیں، کچھ محبت اور تعلقات میں، اور کچھ روحانی سکون کی تلاش میں ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود، انسان مکمل خوشی اور سکون کو کبھی حاصل نہیں کر پاتا، کیوں کہ اس کی خوشی اکثر دوسروں کے افعال اور رویوں پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو خوش رکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام بن جاتا ہے۔

    یہ حقیقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کا دل بہت پیچیدہ ہے۔ ایک معمولی بات بھی، جیسے کسی چھوٹے سے مفاد کا ٹوٹنا یا کسی کی طرف سے ایک چھوٹی سی بے توجہی، انسان کی خوشی کو متاثر کر دیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے سمجھی جا سکتی ہے جیسے ایک شخص نے کسی دوسرے کی مدد کی ہو، اس کی بہت سی اچھائیاں کی ہوں، مگر جب وہ شخص اس کے کسی مفاد کو نظر انداز کرتا ہے یا اس سے کچھ توقعات پوری نہیں کرتا، تو وہ ساری محبتیں اور مہربانیاں اس کی نظروں سے مٹ جاتی ہیں۔انسان کا دل اتنا جلدی بدلنے والا ہوتا ہے کہ جو اچھائیاں اس نے کسی سے پچھلے دنوں میں کی تھیں، وہ سب اس کے ذہن سے فوراً محو ہو جاتی ہیں۔ جب تک وہ شخص کسی مسئلے یا مفاد کے پیچھے نہیں پڑتا، وہ ان تمام اچھائیوں کو بھول جاتا ہے اور محض اپنے ذاتی مفاد پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی خوشی بہت جلد غم میں تبدیل ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ مادی اور عارضی چیزوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔

    دوسروں کو خوش رکھنا بہت مشکل کام ہے، اور اس میں کبھی کبھی انسان کو اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ جب انسان کسی دوسرے کی خوشی کے لیے اپنی قربانی دیتا ہے، تب بھی یہ ضروری نہیں کہ وہ شخص اس کی محنت اور محبت کو سمجھ سکے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے مفاد کے بغیر دوسروں کی محبت اور مہربانی کو مکمل طور پر سراہ نہیں پاتا۔حقیقت میں خوشی کا راز کسی دوسرے کے افعال پر نہیں بلکہ اپنے اندر ہے۔ جب تک ہم اپنی خوشی کا دارومدار دوسروں پر رکھتے ہیں، ہم کبھی بھی مکمل طور پر خوش نہیں رہ سکتے۔ خوشی ایک داخلی احساس ہے، جو انسان کو تب ملتا ہے جب وہ اپنے آپ سے مطمئن ہو، جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے۔

    انسانی فطرت میں یہ خاصیت ہے کہ وہ چھوٹے سے مفاد کو بڑا بنا لیتا ہے اور اس کی وجہ سے اپنی خوشی کھو دیتا ہے۔ اس سب کے باوجود، انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خوشی کسی دوسرے کی مہربانی یا کسی مفاد پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ یہ خود انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو بہتر سمجھیں گے اور اپنے اندر کی خوشی کو تلاش کریں گے، تب ہم دوسروں کو خوش رکھنے میں بھی کامیاب ہو سکیں گے۔

  • پہلگام  ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    پہلگام ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    چند روز قبل 22 اپریل 2025 کو بھارت مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میں ہونے والا واقعہ انسانیت کے لحاظ سے قابل افسوس ہے مگر بھارت نے اپنے فوج کی غفلت اور نا اہلی کو چھپایا اور پہلگام واقعہ کے فورا بعد بھارتی میڈیا کی بے لگام زبانیں بنا کسی ثبوت اور انکوائری کے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے لگیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ پہلگام وہ جگہ ہے جو امرناتھ یاترا کے بہت قریب ہے اور ہمیشہ سے ہی پرخطر رہی ہے ہر سال تقریبا پورے بھارت سے انے والے ہندو یاتریوں پر حملہ ہونا عام سی بات ہے۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ بھارتی فوج نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ۔ تقریبا 15 سال پہلے مقبوضہ جموں کشمیر کے ڈسٹرکٹ اناتھ ناگ میں واقع ایک بستی جس کا نام چٹی سنگھ پورہ ہے اس میں کچھ افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بے قصور 35 سکھ اپنی جان کی بازی ہار گئے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حملہ اور ساؤتھ انڈین زبان بول رہے تھے اور بھارت ماتا کی جے ہو کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ حملہ بھی بھارت کے اندرونی عناصر کی طرف سے ہی کیا گیا ہو بہرحال بغیر کسی شفاف ازادانہ انکوائری اور بغیر کسی ثبوت کے بھارت کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور فوری طور پر جنگی کشیدگی اختیار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنا ایک بڑے مقصد کو واضح کرتا ہے۔ اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلگام حملہ کے پیچھے بھارت کے اپنے مفاداتی عزائم پوشیدہ ہیں۔ درحقیقت بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا وہ اپنا مقصد بغیر جنگ کے پورا کرنا چاہتا ہے جو کہ کسی حد تک کر چکا ہے۔ فضائی حدود بند کرنا, تجارت بند کرنا, سفارت خانے سے پاکستانی سفارت کار وں کو نکالنا , واہگہ بارڈر بند کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب محض دکھاوا ہے بھارت اصل وار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی صورت میں کر چکا ہے۔ جو کہ انتہائی خطرناک ہے،اس کے بعد بھارت کو کوئی حملہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پانی بند ہونے کی صورت میں پاکستان بنجر ہو جائے گا ہر طرف بھوک پیاس اور غذائی قلت چھا جائے گی یہی وہ تباہی ہے جو بھارت کی درینہ خواہش اور سب سے اہم خواب رہی ہے۔ اور یہ بات درست بھی ہے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے ۔لائن اف کنٹرول پر بھارت کی اوچھی حرکتیں محض ڈرامے بازی کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقتا بھارت اپنا اصل ہدف پانی روک کر پورا کر چکا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کے معدنیات تک رسائی چاہتا ہے اور اسرائیل گریٹر اسرائیل اسٹیٹ بنانے کا خواہاں ہے، بھارت پاکستان کا پرانا دشمن ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ دوستانہ تعلقات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس لیے پہلگام حملہ کی آڑمیں بھارت اسرائیل اور امریکہ کو بھی بھرپور موقع فراہم کر رہا ہے اور پاکستانی عوام کا دھیان فلسطین اور معدنیات کی طرف سے ہٹانے کے لیے جنگی ماحول قائم کر رہا ہے اور اسی کی آڑ میں پانی بند کر کے اپنی درینہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔ بھارت جنگ کا خواہاں نہیں کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں وہ نہایت ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ ہماری سوچ کو بھٹکاتے ہوئےاپنے ہدف پورے کرنا چاہتا ہے۔

    پاک بھارت موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت معاشی جمہوری سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے پاکستان کی نسبت کافی حد تک مضبوط ہو چکا ہے۔ بھارت پوری دنیا میں اپنے اپ کو سافٹ سٹیٹ اور ایک مضبوط جمہوری ریاست کے طور پر منوا چکا ہے اس کے علاوہ پوری دنیا میں تجارتی تعلقات قائم کر چکا ہے۔ بھارت چھوٹے بڑے سینکڑوں ڈیم بنا کر ہمارے دریاؤں خاص طور پر دریائے راوی , ستلج اور بیاس کو پہلے ہی خشک کر چکا ہے ان تینوں دریاؤں کے علاقے جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خشک سالی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ دریا محض نالے معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم اور چناب کا پانی روکنے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے۔ اب دریائے سندھ کا پانی روکنے کے لیے کابل افغانستان میں بھی ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے اصل لمحہ فکر ہے ۔اس وقت دشمن کے وار پر جوابی کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندرونی مسائل پر قابو پانا نہایت ضروری ہے قابل غور بات یہ ہے کہ اس امر میں پاکستان کیا کر رہا ہے نہ تو یہاں ڈیم بنائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے پر جو پانی اتا ہے وہ سیلاب کی صورت میں عذاب بن جاتا ہے اور محفوظ نہ کیے جانے کی وجہ سے سارا پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔ بھارت کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ہم نے تمہارا پانی بند کر دیا ہے اس وقت پاکستانی حکمرانوں کو کوئی دوسری تیسری بات کیے بغیر بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے وضاحت دینی چاہیے کہ ہم اپنا پانی کس طرح سے حاصل کریں گے۔ کیونکہ انڈیا اپنا ہدف مکمل کر چکا ہے اب ہم پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ ہم نے پانی کس طرح سے حاصل کرنا ہے اس سلسلے میں اقوام متحدہ یا امریکہ کی مدد کی طرف دیکھنا بیکار ہے ۔

    تاریخ میں جا کر دیکھیں 1984 میں انڈیا نے سیاہ چین گلیشیئر پر قبضہ کیا اس وقت پاکستان روس کے خلاف جہاد میں امریکہ کا اتحادی تھا اس کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی اس معاملے میں کوئی مدد نہ کی اور سیاہ چین اج بھی بھارت کے قبضہ میں ہے۔ یہی معاملہ 1999 ہوا جب پاکستان نے کارگل پر قبضہ کیا تو امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت کی حمایت کی اور پاکستان کو اس کے نتیجے میں اپنے 600 فوجی افسران قربان کر کے کارگل چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان کیا تو امریکہ نے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی جبکہ وہی دھماکے جب بھارت نے کیے تو امریکہ نے زبانی مذمت تک نہ کی۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کو شروع سے امریکہ کی حمایت حاصل ہے ایسا اس لیے ہے کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ اور سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کو امریکہ اپنے غلام کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنے زور بازو پر ہی پانی حاصل کرنا ہوگا لہذا بھارت جنگ چاہے یا نہ چاہے مگر پاکستان کو پانی حاصل کرنے کے لیے بھارت کو آڑے ہاتھوں لینا ہوگا، کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کی بقا کا مسئلہ ہے یاد رہے پانی ہی زندگی ہے اس لیے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے یہ جنگ لڑنا ہوگی۔ بھارت کو اس کے اس وار کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا اس سلسلے میں حکمرانوں کو اپنا بیانیہ، وضاحت کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

    دوسری طرف دیکھیں تو بھارت کا سیاسی اور جمہوری نظام بھی بے حد مضبوط ہے ان کے تمام تر فیصلے عوامی منتخب نمائندے ہی کرتے ہیں اور اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی عوام نہایت غم و غصہ میں مبتلا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں چوری ہونے والا مینڈیٹ ہے۔ غلطیاں انسان سے ہو جایا کرتی ہیں،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ہی ملک کے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی بجائے انہیں جیلوں سے رہا کیا جائے،عمران خان سابق وزیراعظم رہ چکے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پسند کیے جانے والی باصلاحیت شخصیت ھے۔ اس کے برعکس موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا غیر ملکی میڈیا کو دیا گیا بیان پاکستان کا اعتراف جرم ثابت ہو رہا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان 30 سالوں سے دہشت گرد پالنے جیسے گندے کام امریکہ اور برطانیہ کے کہنے پر کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کا نریندر مودی کے پاگل پن اور بھارتی جنگی جنون کے خلاف کوئی بیان نہ دینا اور چپ سادھنا نہایت قابل افسوس ہے لہذا جمہوری نظام کو مضبوط بنایں اور باصلاحیت لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیں۔ ہم سب جانتے ہیں پاکستان مرکزی مسلم لیگ وہ محب وطن جماعت ہے جو پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر دم کوشاں ہے مگر بد قسمتی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان اس جماعت کے محب وطن سربراہان کے ہاتھ باندھنے میں مصروف ہے۔ بلا شبہ یہ وہ جماعت ہے جو پاکستان کا مضبوط ستون ہے مگر پاکستان خود ہی اس کی مضبوطی زائل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔اگر پاکستان نے مودی کو جواب دینا ہے تو صرف اعلان کر دیں ہم حافظ محمد سعید کو رہا کر رہے ہیں، پھر دیکھیے گا مودی کو بنتا کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران خدارا ہوش کے ناخن لیں اور ان ذہین، بہادر، باصلاحیت شخصیات کو وطن عزیز کے لیے اہم خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کریں۔ عوام کا اعتماد بحال کریں۔ دشمن اپنی چالیں چلنے میں کامیاب ہیں اور ہم یہاں اپسی اندرونی مسئلے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں

  • پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل.تحریر:ڈاکٹر عتیق الرحمان

    پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل.تحریر:ڈاکٹر عتیق الرحمان

    پہلگام: بھارتی اہداف، ماضی اور مستقبل
    ایک سیر حاصل تجزیہ: ڈاکٹر عتیق الرحمان
    تجزیہ کار کا تعارف
    ڈاکٹر عتیق الرحمان قائد اعظم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز) میں پی ایچ ڈی ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس، بھارت پاکستان تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی ڈائنامکس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے تجزیے علاقائی تنازعات، واٹر سیکیورٹی اور بھارتی خارجہ پالیسی کے حوالے سے گہرے اور بصیرت افروز ہیں۔

    پہلگام واقعہ کیا ہے؟

    مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں منگل 22 اپریل کی دوپہر کو دہشت گردی کے ایک واقعے میں کم از کم 26 سیاح ہلاک ہوئے۔ مارے جانے والے فوجی یا سیکیورٹی اہلکار نہیں بلکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خوبصورت وادی پہلگام میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے سیاح تھے۔ بھارت ابھی تک مکمل شواہد اکٹھے نہیں کر پایا اور نہ ہی واقعے کی انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ لیکن واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام تراشی شروع ہو گئی۔

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق پہلگام حملہ دوپہر 3 بجے ہوا اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے 3:05 بجے پاکستان پر الزام لگا دیا۔ حملے کے 30 منٹ بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے #PakistanTerrorError ہیش ٹیگ بنایا۔ واقعے کے 30 سے 60 منٹ کے اندر بی جے پی لیڈرز جے پی نڈا اور امیت شاہ نے ٹویٹس کر دیے۔

    واقعے کے 1 سے 3 گھنٹوں بعد جعلی انٹیلی جنس رپورٹس لیک کی گئیں جنہیں آر ایس ایس کے ٹرول اکاؤنٹس نے بڑے پیمانے پر ری ٹویٹ کیا۔ حیران کن طور پر پہلگام واقعے کے پہلے 15 منٹ میں بی جے پی کے حامیوں کی جانب سے 500 بھارتی اکاؤنٹس سے ایک جیسے ٹویٹس کیے گئے اور 30 منٹ میں #PakistanTerrorError ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں جعلی کشمیری ناموں سے ٹویٹس کیے گئے۔

    یاد رہے کہ پہلگام لائن آف کنٹرول سے تقریباً 397 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوج موجود ہے۔

    انڈس واٹر ٹریٹی
    پہلگام واقعے کے کچھ ہی دیر بعد مودی سرکار نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ ختم کر دیا، جس سے پہلگام واقعہ مزید سنگین صورت حال اختیار کر گیا۔ بھارتی حکومت کا سندھ طاس معاہدے کو فوری ختم کرنے کا اعلان اس واقعے کو مشکوک بناتا ہے۔

    قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر راجہ قیصر نے 27 اپریل کو انڈیپنڈنٹ اردو کے کالم میں لکھا:

    "6 نومبر 2019 کو میں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مودی حکومت سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم کرنے کا غیر متوقع اور سنگین اقدام اٹھا سکتی ہے، جس کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ میں نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ پاکستان کو اگلے پانچ سال میں اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ انڈیا کسی داخلی سیکیورٹی واقعے کو بہانہ بنا کر یہ قدم اٹھا سکتا ہے۔ اس پیش گوئی کی بنیاد انڈیا میں ہندوتوا کی نظریاتی تحریک کی مسلسل بڑھتی ہوئی طاقت تھی جو موجودہ پالیسیوں کو چلا رہی ہے اور جس کے رکنے کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔”

    کیا بھارت دریائے سندھ کا پانی روک پائے گا؟
    بھارت تکنیکی اعتبار سے بھی دریائے سندھ کا پانی روکنے سے قاصر ہے۔ آبی وسائل کے ماہر ڈاکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ
    "اپریل سے ستمبر کے دوران دریاؤں میں پانی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اسے روکا نہیں جا سکتا۔ بھارت کی طرف سے پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو مقبوضہ کشمیر ڈوب جائے گا۔ سندھ کا پانی ہمالیہ ریجن سے انتہائی اونچائی سے نیچے آتا ہے، جسے روکا نہیں جا سکتا۔ دریائے سندھ کا 95% پانی گلگت بلتستان کے دریائی سلسلے اور دریائے کابل سے آتا ہے۔ بگلیار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم چلتے پانی سے بجلی بناتے ہیں، پانی نہیں روک سکتے۔ کراکرم ریجن ٹیکٹونک پلیٹس پر ہے، اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہو سکتی۔ بھارت کی طرف سے پانی روکنے کی کوشش پر عالمی سطح پر شدید ردعمل آئے گا۔”

    انہوں نے مزید کہاکہ بھارت کی ٹیل پر اگر پاکستان ہے تو بھارت چین کی ٹیل پر ہے۔ جو کرے گا، بھگتے گا۔ بھارت ایڈونچر کرے گا تو چین براہم پترا دریا کا پانی روک سکتا ہے، جو سندھ سے بڑا دریا ہے۔ بھارت کے لیے دریائے سندھ کا پانی روکنا قابل عمل ہی نہیں۔”

    بھارت کی بڑی گیم
    بھارت کی اپنے ملک میں دہشت گردی کروا کر پاکستان پر الزام لگانے اور پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی چالوں کو سمجھنے کے لیے بھارت کی اندرونی سیاست اور خارجہ پالیسی کے اہداف کو سمجھنا ضروری ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کے چار بڑے مقاصد ہیں:
    1.معاشی ترقی اور ملٹری طاقت کا حصول (یہ ہدف شاید امریکہ کو پسند نہ ہو)،2.جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کے ذریعے چین کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ،3.انفارمیشن وار میں برتری،4.بحر ہند پر تسلط۔
    اپنے معاشی ہدف تک پہنچنے کے لیے بھارت نے فارورڈ ڈیفنس سٹریٹجی اپنائی ہے کہ اپنے ملک سے باہر دشمن ریاستوں کو الجھاؤ۔ پاکستان اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے۔ پچھلے ایک سال میں دہشت گردی کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 45% اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کی بھارتی پشت پناہی ہے۔

    بحر ہند پر بھارت اور امریکہ کیوں تسلط چاہتے ہیں؟
    بحر ہند وسائل سے مالا مال ہے۔ سیاسی طور پر، یہ تیسرا بڑا سمندر اسٹریٹجک مقابلے کا ایک اہم تھیٹر بن چکا ہے کیونکہ موجودہ دور کی 70% تجارت بحر ہند سے ہوتی ہے۔ یہ عالمی تجارت کی شریان کے طور پر مرکزی تجارتی راستے فراہم کرتا ہے۔ اس میں دنیا کے چار بڑے اسٹریٹجک چوک پوائنٹس ہیں آبنائے ہرمز، باب المندب، ہارن آف افریقہ اور آبنائے ملاکا کے ذریعے سوئز کینال۔ یہ راستے خام ہائیڈرو کاربن کی تجارت کے لیے اہم ہیں۔ بحر ہند اپنے کنارے پر 47 ممالک اور دنیا کی ایک تہائی آبادی پر مشتمل ہے جو اب جیو پولیٹیکل ٹگ آف وار کا میدان بن چکا ہے۔ دنیا کے معلوم تیل کے ذخائر کا 65% اور گیس کا 35% بحر ہند سے وابستہ ہے جو معیشت کے ساتھ ساتھ فوجی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

    بھارتی پیراڈاکس
    دنیا کی تیسری بڑی معیشت، سب سے زیادہ جنگی ہتھیار اور اسلحہ خریدنے والی جمہوریت، لیکن جنوبی ایشیا میں بھی تھانیدار نہیں بن پا رہی اور کوئی بڑا کردار ادا کرنے سے محروم ہے۔ شاید یہی بھارت کی بے چینی کی بڑی وجہ ہے۔ ایک طرف چین، دوسری طرف پاکستان اور اب بنگلہ دیش بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ بھارت تلملائے نہ تو کیا کرے؟

    بھارت کے مستقبل کی ڈور مودی، امیت شاہ اور راج ناتھ کے ہاتھ میں ہے۔ منموہن سنگھ کی محنت سے بنائی گئی جی ڈی پی کو مودی سرکار تباہ کرنے پر تلی ہے۔ بی جے پی حکومت کے تین بڑے ہینڈیکیپ ہیں،ہندو انتہا پسندی، جو تیس کروڑ مسلمانوں، دلیت، اور شودروں کو خوفزدہ کر رہی ہے۔انتہا پسندی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت، جو مودی سرکار کو پاکستان کے ساتھ لکیر میٹی کھیلنے پر مجبور کرتی ہے، ورنہ کانگریس میدان مار لے گی۔ہندو انتہا پسندی مودی سرکار کی طاقت بھی ہے اور اس کے گلے کی ہڈی بھی۔

    بھارت پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہ میں نہیں، سیکیورٹی ماہرین کہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کبڈی کی طرح ہاتھ لگا کر بھاگ سکتا ہے۔ بالی ووڈ اور آئی پی ایل بھارتی عوام کی تفریح بھی ہیں اور پاکستان کے خلاف غصے کو ہوا دینے کے ہتھیار بھی۔ بھارت نے آئی ٹی سروسز کے علاوہ دنیا کو فیک نیوز اور کرکٹ کو شدید نقصان پہنچانے کا تحفہ دیا ہے۔ بھارت نے کرکٹ کو محدود، انڈین سینٹرک اور سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

    بھارت یہ سب شرارتیں صرف اپنی عوام کو ورغلانے کے لیے کرتا ہے۔ تقریباً ایک ارب ہندو ووٹوں کو کہیں تو مصروف رکھنا ہے۔ بی جے پی کی سوچ بیک وقت ترقی پسندانہ بھی ہے اور رجعت پسندانہ بھی۔ دنیا کی تیسری بڑی معیشت اور سب سے بڑی جمہوریت اپنے آپ کو گلوبل پاور دیکھنا چاہتی ہے، لیکن اپنے ملک میں مسلمانوں، کشمیریوں اور ہندو دلیت ذات کو کچلنا بھی چاہتی ہے۔ اپنے ہمسایہ ملک پاکستان، جو ایٹمی طاقت ہے، اسے دبانا چاہتی ہے۔ چین سے بھی ٹکر لینا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش کو اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ کے چنگل سے نکل کر آزاد خارجہ پالیسی بنانا چاہتا ہے لیکن امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ بھی انتہا تک لے جانا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات چھپا کر مشرق وسطیٰ اور ایران سے پینگیں بڑھانا چاہتا ہے۔ دہشت گردی کو ہوا دیتا ہے، سپورٹ کرتا ہے، بڑھاوا دیتا ہے اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل ممبر بھی بننا چاہتا ہے۔ یہ ہے بھارت کا پیراڈاکس۔

    رجعت پسندانہ اپروچ بھارت کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے۔ ریاست کے استحکام کے لیے فوکسڈ اپروچ چاہیے۔ تھانیداری والی پالیسی ریاستی معاملات میں نہیں چلتی۔ اگر بھارت کی معاشی اور ملٹری طاقت اسے پاکستان کے خلاف جنگ لڑنے کی تحریک دے رہی ہے تو بھارت کو یہ بھی علم ہوگا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ میں سب سے پہلے جی ڈی پی اڑے گی، پھر باقی چیزوں کی باری آئے گی۔ پاکستان کے ساتھ جنگ دراصل تباہی کا اعلان ہے۔ بھارت کی جی ڈی پی اور آئی ٹی سروسز گئیں تو پیچھے صرف آر ایس ایس یا اڈانی گروپ بچتا ہے۔ بھارت کو اپنی معیشت کو بچا کر رکھنا چاہیے۔

    بھارت کو اس وقت پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ 600 ملین لوگ انتہائی پانی کی کمی کا شکار ہیں۔ بھارت کو دنیا کے کل آبی وسائل کا 18% چاہیے، جبکہ اس کے پاس صرف 4% آبی وسائل ہیں۔ بھارتی سماجی رویے اور حکمرانوں کی تاریخی ہٹ دھرمی بھارت کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ اگر دنیا کی تیسری بڑی معیشت بار بار ایک ہی جگہ اٹک رہی ہے، تو یقیناً کوئی گڑبڑ ہے۔ بھارت اندرونی ڈرامے کر کے جنگ کا ماحول بناتا ہے، دنیا کی توجہ حاصل کرتا ہے اور پھر پروپیگنڈے کو اپنے ڈسکورس کا حصہ بناتا ہے۔

    بھارت کا ڈسکورس اس کے دور رس قومی اہداف سے مماثلت نہیں رکھتا۔ بھارت کا ڈسکورس فیک نیوز، ہندو انتہا پسندی کی ترویج، فالس فلیگ آپریشنز اور انڈین کرونیکلز سے جڑا ہے جبکہ قومی اہداف معیشت کی بہتری، عالمی تجارتی روابط میں بہتری، آزاد خارجہ پالیسی اور خطے میں حاکمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عمل اور کردار کا یہ تضاد بھارت کا المیہ ہے۔

    بھارت: دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار
    بھارت ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدتا ہے جو اس کے 70 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ سے الگ ہے۔ 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کی وجوہات میں حکمران جماعت کی انتہا پسند سوچ، جنوبی ایشیا میں اجارہ داری کے عزائم، کشمیر پر قابض پالیسی اور پاکستان دشمنی شامل ہیں۔ مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت میں مذہبی انتہا پسندی میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ بھارت کی داخلہ، خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی پر ہندو انتہا پسند قابض ہو گئے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کی سالمیت کو بھی خطرہ ہے۔

    بھارت کے امریکہ اور فرانس سے اچھے مراسم ہیں کیونکہ بھارت ان دونوں ممالک سے اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ بھارت کی آئی ٹی سروسز کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی امریکہ ہے۔ ظاہر ہے، اسلحہ بیچتے ہیں تو کچھ نہ کچھ خریدنا بھی پڑتا ہے۔

    بھارت کا کمزور حساب کتاب
    بھارت کا گیم تھیوری میں حساب کتاب کمزور ہے۔ اس کھیل میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا چال چلی جائے کہ نقصان کم سے کم ہو۔ کیا دو نیوکلیئر ہمسایہ ممالک جنگ لڑ سکتے ہیں؟ بھارت کی نان سٹیٹ ایکٹرز کی پشت پناہی نے خطے کی سیکیورٹی کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی پرورش کرتا ہے۔ یہ تضادات کی بھرمار ہے۔

    امریکہ کا ردعمل اور چین کا کردار
    صدر ٹرمپ کے پہلگام واقعے پر دیے گئے بیان کا بغور جائزہ لیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ٹکراؤ کو سیریس نہ لیا جائے۔ اگر بھارت کی الزام تراشیوں میں کوئی دم ہوتا تو دنیا کی اکلوتی سپر پاور امریکہ کو کچھ فکر تو ہوتی، خاص طور پر جب بھارت امریکہ کا اتحادی اور خطے میں چین کے خلاف اہم پارٹنر ہے۔

    جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین کے کردار کو مت بھولیں۔ چین اس خطے کو میدان جنگ نہیں بننے دے گا۔ چین پاکستان کا اتحادی اور یوریشین ریجن میں امن کا خواہش مند ہے۔ بھارت اب یکطرفہ فیصلوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے خواب بھول جائے۔ عالمی سیاست کے تمام جز معیشت، مصنوعی ذہانت، صحت، تعلیم، کرنسی، تجارت، ریاستیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں، نان سٹیٹ ایکٹرز، اور عالمی ادارے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت-پاکستان کی جنگ پوری دنیا کی تباہی کا عندیہ ہو گی۔ کیا دنیا اس کے لیے تیار ہے؟

    بھارتی ڈسکورس
    جنگیں لڑنے کے تبدیل ہوتے طریقہ کار میں انفارمیشن کی بالادستی بہت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کا ڈسکورس قابل توجہ ہے۔ بھارتی سینما 2014 کے بعد نئی کروٹ لے چکا ہے۔ محبت اور رومانس کی جگہ انتہا پسندی اور پروپیگنڈے نے لے لی ہے۔

    ہر ریاست اپنی کہانی اپنے ملک کے گرد بُنتی ہے، لیکن بھارت وہ واحد ملک ہے جس نے اپنی کہانی پاکستان کے گرد جھوٹ سے بنائی ہے۔ دنیا میں ہیرو اور ولن کی کہانی بہت بکتی ہے۔ بھارت اپنے آپ کو ہیرو اور پاکستان کو خطرہ پیش کرتا ہے۔ یہ سیاسی کہانی اب بھارتی فلم انڈسٹری کی ہٹ سٹوری بن چکی ہے۔

    پاکستان کا سینما اور انٹرٹینمنٹ ٹی وی کمزور ہے۔ ہم اپنی کہانی نہیں بیچ پائے، جس کا فائدہ بھارت نے اٹھایا اور ثقافتی و عالمی سیاسی محاذ پر پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔ اب بھارت OTT پلیٹ فارمز استعمال کر رہا ہے۔بھارت نے ابھینندن کی سبکی کے زخم پر مرہم رکھنے کے لیے فلم "Fighter” بنائی۔ ایسی بے ربط کہانی کا حقیقت سے دور تک کوئی واسطہ نہیں۔
    2010 سے اب تک لگ بھگ 103 بھارتی فلمیں اور ان گنت ویب سیریز پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کے لیے بنائی جا چکی ہیں۔ بھارت نے 2005 سے پاکستان کے خلاف انڈین کرونیکلز آپریشن جاری کر رکھا ہے، جس کا مقصد پاکستان مخالف ایجنڈا ہے۔ یہی کہانی بھارت پوری دنیا کو سنا رہا ہے۔

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ایک طالب علم نے 2018 میں بھارتی فلم انڈسٹری پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھا، جس میں چار فلموں”26/11″، "بیبی”، "ویلکم ٹو کراچی” اور "فینٹم”کا تجزیہ کیا۔ طالب علم نے تحقیق کے مروجہ طریقوں سے ثابت کیا کہ بھارتی فلم انڈسٹری پاکستانی عوام، ریاست اور اداروں کو دہشت گردوں کا سہولت کار پیش کرتی ہے۔ ان کی فلموں کے ڈائیلاگ اور کہانی تحقیق سے نہیں گزرتے بلکہ سیدھے باکس آفس پر جاتی ہیں اور ہٹ کرائی جاتی ہیں۔ عوام کو ورغلانے کے لیے سٹارڈم کا سہارا لیا جاتا ہے۔ہالی ووڈ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی افغانستان پر بننے والی درجنوں فلمیں اور ویب سیریز پاکستان کو ایک خاص رخ سے دکھاتی ہیں،پہلگام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    انڈین کرونیکلز کے بغیر بھارتی پروپیگنڈے کی اصل کہانی ادھوری ہے۔ انڈین کرونیکلز دراصل ڈیجیٹل میڈیا میں جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا بانی پروگرام ہے۔ یورپی یونین کی ڈس انفارمیشن لیب نے 2020 میں اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کا بھانڈا پھوڑا تھا۔ 119 ممالک میں 750 جعلی میڈیا نیٹ ورک، 550 ویب سائٹس اور 10 این جی اوز سے شروع ہونے والا یہ نیٹ ورک اب بہت وسیع ہو چکا ہے۔

    پاکستان اور پاکستانی فوج کی برتری
    ہر قوم کا ایک کردار ہوتا ہے۔ پاکستانی قوم کا خاصہ یہ ہے کہ وہ بحران میں یکجان ہو جاتی ہے، خاص طور پر بھارت کی طرف سے کسی خطرے کے وقت۔ پاکستانی قوم پورے جوش و جذبے سے متحد ہوتی ہے۔میدان حرب سے شناسائی سپاہی کے خوف کو ختم کر دیتی ہے۔ اندازہ کریں کہ جو فوج پچھلے بیس سال سے حالت جنگ میں ہے، وہ کس حد تک بے خوف ہو چکی ہو گی۔
    جنہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دھکیلا، انہوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ یہ حرکت پاک فوج کو ناقابل تسخیر بنا دے گی۔ ہمارے افسران اور جوان بیس سالہ جنگ سے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے لڑاکا سپاہی بن کر نکلے ہیں۔ یہ بے خوف، تربیت یافتہ اور انتہائی پیشہ ور فوج آہنی اعصاب کی مالک ہے۔

    ایک تاریخی واقعہ سناتا ہوں کہ سپاہی میدان حرب میں کیسے بے خوف بنتا ہے:
    جنرل جارج ایس پیٹن، امریکہ کے معزز فوجی خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد امریکی انقلاب اور دیگر اہم جنگوں میں داد شجاعت دے چکے تھے۔ ان کی بہادری کی داستانوں سے متاثر ہو کر پیٹن نے فوج میں کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن پیٹن ایک حساس شخص تھے اور انہیں خوف تھا کہ جنگ میں بزدلی سے ان کے خاندان کا نام بدنام نہ ہو جائے۔
    1918 میں ٹینک ٹروپس کی کمان کرتے ہوئے ایک موقع آیا جب پیٹن کے اعصاب شکست کے خوف سے شل ہو گئے۔ اسی لمحے ان کا دھیان اپنے بزرگوں کی دلیری کی طرف گیا، جو انہیں کہہ رہے تھے کہ لڑتے ہوئے ہمارے پاس آ جاؤ۔ اس ایک لمحے نے پیٹن کی زندگی بدل دی۔ وہ خوف پر قابو پا گئے، نعرہ مارا اور دشمن پر چڑھ دوڑے۔اس کے بعد حتیٰ کہ جب وہ جنرل بن گئے، پیٹن خوفناک وارفرنٹ لائنوں پر جاتے تاکہ خوف ختم ہو جائے۔ انہوں نے خود کو بار بار آزمایااور ہر بار خوف پر قابو پانا آسان ہوتا گیا۔

    پیٹن کی کہانی سے سبق ملتا ہے کہ خوف کا سامنا کریں، اسے سطح پر آنے دیں، نہ کہ نظر انداز کریں۔

    اب اندازہ کریں کہ جو فوج پچھلے بیس سال سے صبح شام موت کا سامنا کر رہی ہے، وہ ایک اور جنگ سے کیا گھبرائے گی؟

  • تقسیم ہند سے سندھ طاس تک، بھارتی دہشت گردی

    تقسیم ہند سے سندھ طاس تک، بھارتی دہشت گردی

    تقسیم ہند سے سندھ طاس تک، بھارتی دہشت گردی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    برصغیر کی تاریخ کبھی ایک متحدہ سیاسی اکائی کی نہیں رہی۔ مختلف سلطنتوں، ریاستوں اور خود مختار حکومتوں پر مشتمل یہ خطہ ہمیشہ ثقافتی، لسانی، نسلی اور مذہبی تنوع کا مرکز رہا ہے۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مرہٹہ کنفڈریسی، سکھ سلطنت، میسور، حیدرآباد اور دیگر چھوٹی بڑی طاقتیں وجود میں آئیں۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے طاقت کے زور پر برصغیر کو اپنے قبضے میں لے لیا تاہم 565 سے زائد پرنسلی اسٹیٹس کو نیم خودمختاری کے ساتھ باقی رکھا۔ "ہندوستان” محض جغرافیائی شناخت تھی، کبھی ایک حقیقی متحدہ قوم یا ملک نہیں تھا۔

    1947 میں برصغیر کی تقسیم عمل میں آئی۔ محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے واضح کر دیا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، جن کی تہذیب، ثقافت، دین اور تاریخ جداگانہ ہے۔ انگریزوں نے تقسیم کے وقت اصول بنایا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں شامل ہوں گے۔ لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو کہ جواہر لال نہرو کی قربت کا فائدہ اٹھا رہے تھے نے بدنیتی سے گورداسپور جیسے علاقے بھارت کے حوالے کر دیے تاکہ کشمیر پر قبضے کی راہ ہموار ہو۔ اس عمل کی نشاندہی برطانوی مؤرخ الیسٹر لیم نے اپنی کتاب "Kashmir: A Disputed Legacy (Alastair Lamb, 1991)” میں بھی کی ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ
    "The transfer of Gurdaspur to India was a political decision to enable access to Kashmir, and not an objective boundary demarcation.”

    پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی ریاستوں میں قلات، مکران، خاران، لسبیلہ، دیر، سوات، چترال، ہنزہ اور نگر جیسی اہم ریاستیں شامل تھیں، جو اپنی اسلامی شناخت اور جغرافیائی قربت کی بنیاد پر پاکستان کا حصہ بنیں۔اس کے برعکس بھارت نے جوناگڑھ، مناوادر، منگرول اور خاص طور پر جموں و کشمیر میں کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ جوناگڑھ کے نواب مہابت خان جی نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا تو بھارت نے فوجی کارروائی کر کے ریاست پر قبضہ کر لیا اور جعلی ریفرنڈم کرایا جس کی کوئی بین الاقوامی حیثیت تسلیم نہیں کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 39 (1948) اور 47 (1948) کے تحت کشمیر اور دیگر متنازعہ علاقوں میں غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے بھارت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

    بھارت کی اس جارحانہ فطرت نے آج بھی اس کے اندر کئی علیحدگی پسند تحریکوں کو جنم دے رکھا ہے۔ پنجاب میں خالصتان تحریک، مشرقی ہندوستان میں ناگا لینڈ، منی پور، میزورم اور آسام کی تحریکیں، جنوبی ہندوستان میں تامل ناڈو کی علیحدگی کی خواہش اور چھتیس گڑھ و جھاڑکھنڈ میں ماو نواز بغاوتیں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ بھارت محض فوجی طاقت سے اپنی مصنوعی وحدت کو قائم رکھے ہوئے ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی رپورٹ "India: Human Rights Challenges” (2022) کے مطابق
    "India faces widespread allegations of human rights abuses in regions like Kashmir, Punjab, and the Northeast, where separatist movements are met with disproportionate force and suppression of dissent.”
    مودی سرکار جو کہ انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی فکری تربیت یافتہ ہے، نے برسر اقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف منظم دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
    آر ایس ایس، جس کے بارے میں بی بی سی نے اپنی تحقیق ("The Men Who Killed Gandhi”, BBC Documentary, 2017) میں کہا
    "The ideology that led to Gandhi’s assassination continues to influence India’s political mainstream through organizations like the RSS and its political wing, BJP.”
    مودی کے ہاتھ پہلے بھی بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہیں۔ 2002 کے گجرات فسادات جن میں 2000 سے زائد مسلمانوں کا قتل عام ہوا، مودی کی وزارت اعلیٰ میں ہوئے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ "India: Justice Denied for Gujarat Riots Victims” (Amnesty, 2012) میں لکھا
    "The Gujarat government, under Narendra Modi, failed to protect minority communities and later obstructed justice for victims of the 2002 pogrom.”

    اسی پس منظر میں امریکہ نے 2005 میں مودی کا ویزہ منسوخ کر دیا تھا، جیسا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا
    "Modi was denied entry to the United States under a provision of the Immigration and Nationality Act which bars entry to foreign officials responsible for severe violations of religious freedom.”

    پلوامہ حملہ 2019 میں بھی مودی سرکار کی سازش کی ایک کڑی تھی۔ دی گارڈین (The Guardian, 2020) نے اپنی رپورٹ میں اشارہ دیا کہ
    "Pulwama attack was exploited by the ruling party to stir nationalist fervor and distract from domestic economic issues.”

    اب ایک بار پھر پہلگام میں فالس فلیگ حملہ کرایا گیا جس کا مقصد بہار سمیت دیگر ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینا ہے۔ اس حملے کے بعد مودی سرکار نے پاکستان پر الزامات عائد کیے اور ساتھ ہی سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے،سندھ طاس معاہدہ جو 1960 میں صدر ایوب خان اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے درمیان ورلڈ بینک کی نگرانی میں طے پایا تھا، پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر حق دیتا ہے۔

    ورلڈ بینک کی رپورٹ "Indus Waters Treaty: A History” (2015) میں وضاحت کی گئی ہے کہ
    "The Indus Waters Treaty is regarded as one of the most successful water-sharing endeavors in the world, surviving wars and hostilities.”
    اگر بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی آبی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہو گی۔

    اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق”Weaponization of water resources during conflicts is considered a violation of international humanitarian law and may amount to a war crime.”

    پاکستان نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی بینک کو باضابطہ شکایات جمع کرائی ہیں اور واضح کر دیا ہے کہ پانی روکنے کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا اور پاکستان نے اپنی مسلح افواج کو الرٹ کردیا ہے ،محکمہ سول ڈیفنس کو بھی ایکٹیو کردیا گیا ہے ،پاکستانی عوام کی مثالی یکجہتی اور جذبہ جوان ہے اگربھارت نے پاکستان کاپانی بند کرنے یاحملہ کرنے کی حماقت تو اسے ایسا جواب دیاجائے گا جس کے بارے میں مودی سرکار نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا.

    بھارت کی تاریخ زبردستی، جارحیت اور بدنیتی پر مبنی پالیسیوں سے بھری پڑی ہے۔ تقسیم کے وقت جوناگڑھ، مناوادر، منگرول اور کشمیر پر قبضے سے لے کر پہلگام فالس فلیگ حملے اور سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کی دھمکیوں تک، بھارت اپنے اندرونی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان دشمنی کو ہتھیار بناتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت واضح ہے کہ اگر بھارت نے پانی روکا یا جنگ مسلط کی تو جنوبی ایشیا ایک تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ پاکستان ایک قدرتی، مستحکم ریاست ہے جو اپنے پانی، اپنے وقار اور اپنی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ عالمی برادری کو بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

    حوالہ جات (References):
    Alastair Lamb, Kashmir: A Disputed Legacy (1991)
    United Nations Security Council Resolutions 39 and 47 (1948)
    Human Rights Watch, India: Human Rights Challenges (2022)
    BBC Documentary, The Men Who Killed Gandhi (2017)
    Amnesty International, India: Justice Denied for Gujarat Riots Victims (2012)
    U.S. Department of State, Statement on Modi’s Visa Denial (2005)
    The Guardian, Pulwama Attack and BJP Strategy (2020)
    World Bank, Indus Waters Treaty: A History (2015)
    United Nations Environment Programme (UNEP), Water and Armed Conflicts Report (2017)

  • کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان

    کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان

    کشمور میں انسانی المیہ، ڈاکو گینگز کا راج اور پولیس کی بے حسی، عوام پریشان
    تحریر: منصور بلوچ، پریس کلب تنگوانی
    ضلع کشمور میں اس وقت امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں عام زندگی مفلوج اور عذاب بن گئی ہے اور علاقے کا امن و امان تباہ ہو گیا ہے۔
    ضلع کشمور میں کئی طاقتور ڈاکو گینگز موجود ہیں لیکن یہاں ہم تحصیل تنگوانی کے ڈاکو گینگز کی بات کریں گے۔

    طاقتور ڈاکو گینگز کے ہاتھوں علاقے کی عوام یرغمال بنی ہوئی ہے، جن میں خاص طور پر بھلکانی گینگ، بھیہ گینگ، کوکاری گینگ، جعفری گینگ، بنگلانی گینگ اور بہت سارے چھوٹے بڑے گروہ شامل ہیں۔ ان گروہوں نے خاص طور پر تحصیل تنگوانی کے امن و امان کو تباہ کر دیا ہے۔
    یہ ڈاکو گینگز بغیر کسی خوف کے دن دہاڑے اور رات کو سڑکوں، دیہاتوں اور بستیوں پر چوری، رہزنی اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں اور کئی وارداتوں میں مفرور ہیں۔

    یہ ڈاکو ہائی ویز اور لنک روڈز پر روزانہ سرعام پولیس کے سامنے ڈاکہ ڈال کر فرار ہو جاتے ہیں۔ انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ان گینگز کی دہشت گردی اور ظلم کی وجہ سے مقامی لوگ مسلسل خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔بچے سکول جانے سے خوفزدہ ہیں، اساتذہ عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ کاروباری طبقہ کاروبار کرنے سے ڈر رہا ہے۔ مزدور اور محنت کش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ ان سب کی زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔

    سب سے افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خصوصاً پولیس اور رینجرز، کہیں نظر نہیں آتے۔پولیس کا کردار انتہائی مشکوک دکھائی دیتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پولیس ان طاقتور گینگز کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے یا اس کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔نتیجتاً گینگز کے ملزم ڈاکو بہت خوفناک ہو چکے ہیں اور پولیس نے عوام کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔

    کیا کشمور کے عوام پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ان لوگوں کو پرامن زندگی گزارنے کا حق حاصل نہیں ہے؟

    اس وقت تنگوانی کے کتنے ہی گھر اُجڑ چکے ہیں، کتنے ہی افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ چکے ہیں یا قتل ہو چکے ہیں۔ کتنے ہی افراد اغوا ہو چکے ہیں جن کی بازیابی کے لیے ریاست کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔

    ہم سندھ حکومت، وفاقی حکومت اور اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدارا کشمور ضلع کی عوام پر رحم کریں اور فوری طور پر بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا جائے۔ ڈاکو گینگز کا خاتمہ کیا جائے۔پولیس فورس کو مزید مضبوط اور بااختیار بنایا جائے، پولیس کو جوابدہ بنایا جائے تاکہ پولیس اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا کرے۔

    کشمور کی عوام اس عذاب سے نجات چاہتی ہے، امن و امان چاہتی ہے پر سکون زندگی گزارنا چاہتی ہے اور ڈاکو گینگز اور دہشت گردی کے عذاب سے آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے۔کوئی ہے جو عوام کو ڈاکوؤں سے آزادی اور تحفظ دلائے؟؟؟

  • مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مودی پھنس چکا،پانی زندگی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے حق میں نہیں تاہم کشمیر میں ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا کر مودی حکومت خود پھنس چکی ہے بلاشبہ عالمی دنیا نے اس واقعہ کی مذمت کی مگر عالمی دنیا سوال اٹھا رہی ہے کہ بغیر ثبوت بھارت کس طرح پاکستان پر الزام تراشی کر سکتا ہے بھارت کو اب عالمی دنیا کو جواب دینا ہوگا۔ وطن عزیز کی علاقائی و صوبائی سیاسی جماعتیں پانی کی نہروں کو لے کر سینہ کوبی کرتی نظر آرہی ہیں کالا باغ ڈیم جیسے عظیم قومی منصوبے کی مخالفت کس نے کی اس قومی منصوبے کو پیپلزپارٹی نے دفن کیوں کیا؟ کون سی سیاسی جماعت یہ نہیں جانتی تھی کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہوگا ڈیمز بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ نوازشریف نے اپنے دور اقتدار میں ایک ٹیم کی رپورٹ پر بھی عملی اقدامات اٹھائے جس رپورٹ میں کہا گیا کہ ریت کے نیچے پانی ہے پر عمل کرنا چاہا جس سے چولستان کو زرخیز بنایا جا سکتا ہے سیاسی افراتفری کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرنے دیا گیا پھر دوبارہ پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے نوازشریف نے قدم بڑھایا تو نام نہاد پانامہ لیکس اور سیاسی افراتفری نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا۔ پانی کو لے کر سینیٹر پرویز رشید اس وقت بار بار اپنی آواز بلند کرتے رہے مگر حوس اقتدار اور حکومت کرنے کے خواہشمندوں نے اس قومی منصوبے پر عمل نہیں ہونے دیا نہروں کو لے کر پیپلزپارٹی اج سینہ کوبی کر رہی ہے 1990ء میں نہروں کو لے کر جو منصوبہ نوازشریف نے بنایا تھا اس پر صوبہ سندھ سے لے کر تمام صوبوں کا اتفاق تھا۔

    2022ء میں ایک آبی ماہر حسن عباس نے ایک رپورٹ بنائی جس کو گرین پاکستان کا نام دیا گیا تھا اس منصوبے پر جناب آصف زرداری نے اتفاق کیا تھا منصوبے کے تحت چار نہریں پنجاب دو سندھ تھرپارکر میں بنائی جانی تھیں پی پی پی آج سیاسی منافقت سے کام لے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی یاد رکھے گرین پاکستان منصوبہ ترک نہیں کیا جا سکتا اس میں وطن عزیز اور کروڑوں پاکستانیوں کی بقا کا مسئلہ ہے ویسے بھی دریائے سندھ پر صرف سندھ کا لفظ ہونے کی بنا پر سندھ کا قبضہ نہیں ہو جاتا یہ دریا کے پی کے بالائی علاقوں سے نکلتا ہے اس منصوبے سے پاکستان کی بھلائی ہے، یاد رکھیئے! پاکستان اور عوام کی ضروریات کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ سمجھ نہیں آتا ہماری سیاست اور جمہوریت کیسی ہے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لئے ملک و قوم کے مفادات کو پس پشت کیوں ڈال دیتے ہیں آپ نوازشریف سے اختلاف کر سکتے ہیں نوازشریف کسی ولی یا فرشتہ کا نام نہیں لیکن وطن عزیز اور قوم کے لئے ان کی خدمات قابل تحسین ہیں اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی ملک و قوم کے لئے خدمات کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی کرتے ہیں بلاول بھٹو اگر اپنے نانا اور اپنی والدہ محترمہ کی سیاسی زندگی پر عمل کریں تو پیپلزپارٹی دوبارہ قومی جماعت بن سکتی ہے ورنہ ایک صوبے تک ہی محدود رہے گی۔

  • ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی میں انسان کو بہت ساری چیزوں کا سامنا ہوتا ہے: محبت، نفرت، خوشی، غم، کامیابیاں، ناکامیاں، ان سب کے درمیان انسان اکثر بھول جاتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری اللہ کے ساتھ تعلق اور اُس سے ڈرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوف انسان کے دل میں ہونا چاہیے، کیونکہ جب اللہ کا خوف دل میں ہو، تو انسان کی زندگی ایک نیا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اللہ سے ڈرنا ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو اپنی زندگی کی ہر حرکت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جب اللہ سے ڈرنے کا خوف انسان کے دل میں ہوتا ہے، تو وہ برائیوں سے بچتا ہے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور اللہ کی رضا کے مطابق عمل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے متعدد بار اپنے بندوں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ صرف اُس سے ڈریں، کیونکہ وہی سچا مالک ہے، اُس کا عذاب بہت سخت ہے، اور اُس کی رضا میں ہی اصل سکون اور کامیابی ہے۔

    اللہ کا خوف انسان کو اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی رضا کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے دل میں فکریں اور پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو بھی ہو، اللہ کے فیصلے میں بہتری ہے۔ اللہ کا خوف انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ جب دل میں اللہ کا خوف ہو، تو انسان برے کاموں سے دور رہتا ہے اور نیک عملوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ کا ڈر انسان کو دونوں جہانوں میں کامیاب کرتا ہے۔ دنیا میں اللہ کی رضا سے انسان کو سکون، خوشی اور کامیابی حاصل ہوتی ہے، اور آخرت میں اللہ کی مغفرت اور جنت کی بشارت ملتی ہے۔

    نماز اللہ سے تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اگر ہم اپنی نمازوں میں خشوع اور خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکیں، تو ہمارا دل اُس سے جڑ جائے گا اور ہمیں اللہ کا خوف اور محبت محسوس ہوگی۔اللہ کا ذکر کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔ قرآن پاک اور اذکار کی تلاوت انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔ اللہ کی کتاب قرآن کا مطالعہ کرنے سے ہمیں اللہ کی رضا، اس کے راستوں اور اُس کے عذاب سے بچنے کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ قرآن انسان کو اُس کے عمل پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔: اللہ کے خوف کے ساتھ انسان جب نیک عمل کرتا ہے، تو اُس کی زندگی میں بہت ساری خوشیاں آتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے عملوں میں اللہ کی رضا کی کوشش کرنا انسان کے ایمان کو مضبوط بناتا ہے۔

    جو شخص اللہ کا ڈر رکھتا ہے، اُس کی زندگی میں کامیابیاں اور برکتیں آتی ہیں۔ اللہ کے ڈر کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ کی رضا اور خوف میں ہی انسان کی کامیابی اور سکون ہے۔اللہ کا ڈر ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو ہمیشہ درست راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں اس خوف کو پیدا کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے قریب جا سکیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ،”ہمیں تو بس اللہ سے ڈرنا تھا”۔اس خوف کے ساتھ جینے سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔

  • ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ہر مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومت کو اپنے ملکی فرائض کی ادائیگی کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کی آمدنی کے تین اہم ذرائع ہیں۔ ٹیکس ،ملکی افراد کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی وہ قانونی ادائیگی جو کہ وہ اپنی سالانہ آمدنی و منافع جات اور اشیا و خدمات کی خریداری پہ ادا کرتے ہیں۔سرچارجز،حکومت کی جانب سے اشیاء و خدمات کے بنیادی اخراجات میں شامل کردہ وہ اضافی فیس جو کہ ان اشیاء و خدمات کی قیمت میں شامل ہوتی ہے۔ نان ٹیکس ذرائع ،ٹیکسوں کے علاؤہ بھی حکومت کی آمدنی کے ذرائع ہوتے ہیں ۔ جو بوقت ضرورت استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ جیسے بیرونی تحائف ، اندرونی و بیرونی قرضہ جات ،بیرونی قرضہ جات پہ منافع جات، جرمانے و فیسیں اور سرکاری املاک کی نجکاری و فروخت کاری وغیرہ

    ٹیکس ،ٹیکس لاطینی زبان کے لفظ”Taxare”سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی قدر یا اندازہ کے ہیں۔ٹیکس حکومت کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ٹیکس عوام کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی ایسی ادائیگی ہے۔ کہ جس کے بدلے انہیں براہء راست تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ تاہم ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی حکومت اجتماعی طور پہ عوام کی بھلائی و ملکی ترقی کے لئیے خرچ کرتی ہے۔ٹیکسوں کو صارفین/ ٹیکس ادا کنندگان پہ ایک بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی ماہر معاشیات میںسگریو نے اسے تین بوجھوں میں تقسیم کیا ہے۔ مخصوص بوجھ ،اس ٹیکس بوجھ میں عوام پہ تو ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے ۔ تاہم حکومتی اخراجات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ تفرقی بوجھ ،یہ بوجھ ایک ٹیکس کی جگہ دوسرا ٹیکس لاگو کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس بوجھ کا تعلق سرکاری اخراجات کے برقرار رہتے ہوئے ایک ٹیکس کی جگہ دوسرے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات کے تجزیے سے ہے۔متوازن بجٹ بوجھ،جب حکومت اپنے اخراجات بڑھانے کے لئیے کوئی نیا ٹیکس عائد کرتی ہے۔ تو اس ٹیکس بوجھ کو متوازن ٹیکس بوجھ کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق نئے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات اور سرکاری اخراجات میں تبدیلی کے تجزیے سے ہے۔مگر درحقیقت یہ متوازن بوجھ اسی وقت ہو گا ۔ کہ جب یہ حکومتی اضافی اخراجات عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی معاشی ترقی کے لئیے ہوں۔

    ایک سروے کے مطابق ترقی پزیر ممالک جن کی فی کس آمدنی کم تھی۔ وہاں بالواسطہ ٹیکس یا صرفی ٹیکس، کل ٹیکس ریونیو کا 2 تہائی، جبکہ ترقی یافتہ و بلند فی کس آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 1/2 رہی۔ کیونکہ کم ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی فی کس آمدنی کم ہونے کی بنا پہ ان پہ انکم ٹیکس کم اور بالواسطہ ٹیکس/صرفی ٹیکس زیادہ لگایا جاتا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہونے کی بنا پہ انکم ٹیکس و منافع ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔

    کلاسیکل ماہرین معاشیات کے نظریات میں ٹیکس محض حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ تھے۔ مگر جدید معاشیات میں ٹیکس حکومتی آمدنی کے ذریعے کے ساتھ ساتھ معیشت کے اور بھی اہم معاشی متغیرات پہ ضاربی اثرات کے حامل ہیں ۔ اور انہیں ، ان معاشی و حقیقی متغیرات کے کنٹرول کے لئیے بھی بطور ٹولز استعمال کیا جاتا ہے۔

    ٹیکس اور نظامِ ٹیکس معیشت کے مختلف اہم شعبوں پہ درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔جب افراد کی آمدنی پہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ تو اس سے ان کی قابل تصرف شخصی آمدنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے ان کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اور وہ اپنے صرف یعنی اخراجات میں کمی کر دیتے ہیں۔اسی طرح بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کی بنا پہ بھی صارفین کی قوتِ خرید گر جاتی ہے۔ جس سے صرف میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ٹیکس خواہ براہِ راست ہوں یا کہ بالواسطہ یہ صرف میں کمی کا موجب بنتے ہیں۔ اس لئیے جب کبھی حکومت کسی شے کے صرف کو کم کرنا چاہے ۔ تو بھی اس پہ ٹیکس عائد کر دیتی ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی آمدنیاں کم ہو جاتی ہیں۔ جس میں وہ اپنی ضروریاتِ زندگی ہی بمشکل پوری کر پاتے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ بچتوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اور ضاربی اثرات کا حامل ہے۔ کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی بچتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بچتوں میں کمی سرمایہ اندوزی میں کمی کا موجب بنتی ہے۔ جو آگے سرمایہ کاری میں کمی پھر ملکی پیداراوار میں کمی اور ملکی پیداوار میں کمی لوگوں کی آمدنیوں میں کمی کا باعث بن جاتی ہے۔ دوبارہ آمدنیوں میں کمی دوبارہ بچتوں میں مزید کمی کی وجہ بنتی ہے۔ اس طرح یہ منفی اثرات جب تک کہ گورنمنٹ اعانوں اور ملکی فلاح و ترقی کی صورت میں اپنے اخراجات میں اضافہ نہ کر دے، بڑھتے رہتے ہیں۔

    ماہر معاشیات جے_ایم_کنیز نے ٹیکسوں کو ‘لیک ایج’ کا نام دیا ہے۔ کیونکہ یہ آمدنی کا غیر پیداواری استعمال ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے سے بچتوں اور سرمایہ اندوزی میں کمی، سرمایہ کاری میں کمی کا موجب بن جاتی ہے۔ منافعوں پہ ٹیکسوں کے نفاذ سے سرمایہ کار ایک طرف تو بددل ہو جاتے ہیں۔ کہ ان کی آمدنی گورنمنٹ لے گئی تو دوسری طرف وہ ٹیکسوں کے اضافے کے منفی اثرِ آمدنی و اثرِ دولت کے تحت سرمایہ کاری میں کمی کر دیتے ہیں۔ جس سے ملکی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو مزید منفی ضاربی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اگر حکومت ملکی انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعتوں کے لئیے اعانوں کی فراہمی کے لئیے اپنے اخراجات میں بھی اضافہ کر دے ۔ تو سرمایہ کاری و معاشی ترقی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے جب سرمایہ کاری میں کمی ہوتی ہے ۔ تو روزگار و معیارِ زندگی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم ٹیکسوں کے نفاذ کا ایک اہم مقصد ملکی فلاح و ترقی کے لئیے وسائل کا حصول ہے۔ اور اگر حکومت ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی ملکی فلاح و ترقی کے لئیے خرچ کرے ۔ تو ملکی روزگار و معیار زندگی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

    ٹیکس معیشت میں مساویانہ تقسیمِ دولت کے حصول کا بہترین ذریعہ ییں۔ اگر ان کا نفاذ مساویانہ ہو۔ یعنی امیروں پہ زیادہ شرح سے ٹیکس عائد ہو اور متوسط آمدنی والے افراد پہ کم شرح سے، مزید غریب افراد کو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دیا جائے۔بابائے معاشیات ایڈم سمتھ نے اس سلسلہ میں چار اہم اصول وضع کیئے ہیں۔ٹیکس جہاں منفی اثرات کے حامل ہیں۔ تو ان کے مثبت اثرات بھی ہیں۔ اگر ان سے حاصل کردہ آمدنی عوام کے فلاح و بہبود اور معاشی ترقی پہ خرچ کی جائے۔ تو ٹیکس "فائدہ مند بوجھ” بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورنہ عوام پہ محض ایک "تکلیف دہ بوجھ” ہیں

  • نہ کوئی سمجھوتہ، نہ پسپائی،صرف سخت جوابی کارروائی!

    نہ کوئی سمجھوتہ، نہ پسپائی،صرف سخت جوابی کارروائی!

    اب نہ کوئی سمجھوتہ، نہ کوئی پسپائی،صرف سخت جوابی کارروائی!
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی

    پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ خونی، دھوکے اور بداعتمادی کی داستان ہے۔ تقسیم ہند سے لے کر آج تک بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگوں، دراندازی اور دہشت گردی کے ذریعے اپنی دشمنی کو بارہا ثابت کیا ہے۔ حالیہ پہلگام حملہ اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی نے بھارتی عزائم کا پول ایک بار پھر کھول دیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان بھارتی خطرے کا مقابلہ پوری قوت، جرأت اور عزم کے ساتھ کرے کیونکہ اب خاموشی یا دفاعی پوزیشن کوئی آپشن نہیں!

    1947 کی تقسیم کے بعد سے بھارت نے پاکستان کے خلاف چار بڑی جنگیں لڑیں 1948، 1965، 1971 اور 1999 کی کارگل جنگ۔ کشمیر کا تنازعہ ان جنگوں کا مرکز رہا، سوائے 1971 کے جب بھارت نے مکتی باہنی کو ہتھیار اور تربیت دے کر مشرقی پاکستان کو دولخت کیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خود اس "فتح” کا ڈھنڈورا پیٹا۔ بھارت نے 1965 میں مغربی پاکستان پر حملہ کیا، جو ناکام رہا اور کارگل میں پاکستانی فوج کی محدود پیش قدمی کو عالمی دباؤ سے روکا لیکن اس تنازعے نے بھارتی فوج کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔

    بھارت کی پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کا ہاتھ ہے۔ 2016 میں گرفتار بھارتی نیوی افسر کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو فنڈز اور ہتھیار دے رہا تھا۔ یہ ناقابل تردید ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی کو ہتھیار بناتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان کو بھارتی سرپرستی کے شواہد بھی عیاں ہیں۔ جعفر ایکسپریس جیسے واقعات بھارتی کردار کی گواہی دیتے ہیں۔

    بھارت کی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ شرمناک ہے۔ 2007 کے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں میں 68 پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ ابتدا میں پاکستان پر الزام لگایاگیا لیکن ثابت ہوا کہ ہندو انتہا پسند تنظیموں نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے یہ حملہ کیا تاکہ پاکستان کے خلاف عالمی رائے ہموار ہو اور امن عمل تباہ ہو۔ 2019 کا پلوامہ حملہ بھی ایک ڈرامہ تھا۔ بھارت نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا کر بالاکوٹ میں نام نہاد "سرجیکل سٹرائیک” کی۔ جس پرپاکستان نے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کیا۔ ارنب گوسوامی کی لیک چیٹ نے ثابت کیا کہ پلوامہ ڈرامہ انتخابات میں سیاسی فائدے کے لیے رچایا گیا۔

    حالیہ پہلگام حملہ جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے ایک اور فالس فلیگ آپریشن ہے۔ تھانے کی ایف آئی آر نے اس ڈرامے کا پردہ چاک کر دیا۔ بھارت نے اسے جواز بنا کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا جو بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا اور اس کی معطلی کے لیے دونوں فریقوں کی رضامندی درکار ہے۔ بھارت کا یہ اقدام پاکستان کی زراعت اور معیشت کے خلاف آبی جارحیت ہے جو خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے۔

    پہلگام حملے کے بعد بھارت نے پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے اور پاکستانی سفارتی عملے کو "ناپسندیدہ” قرار دے کر واپس جانے کا حکم دیا۔ واہگہ اٹاری بارڈر کی بندش اور سارک ویزوں کا خاتمہ بھارتی دشمنی کا عروج ہے۔ یہ سفارتی اصولوں کی توہین اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے۔

    اب وقت ہے کہ پاکستان بھارت کے اس جارحانہ رویے کا مقابلہ پوری طاقت سے کرے۔ پاکستان نے حال ہی میں فضائی حدود بند کیں، میزائل تجربہ کیا اور بھارتی دہشت گردی کا سخت جواب دیا۔ یہ اقدامات درست ہیں لیکن کافی نہیں۔ پاکستان کو عالمی فورمز پر بھارت کی غیر قانونی معطلی اور آبی جارحیت کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ فوج کو ہائی الرٹ پر رکھ کر ایل او سی، انٹرنیشنل بارڈر پر کسی بھی قسم کی بھارتی حرکت کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ بھارتی ہائی کمیشن کو بند کیا جائے اور بھارتی شہریوں کے ویزوں پر پابندی لگائی جائے۔ بھارت کے ساتھ تجارت مکمل طور پر معطل ہو اور سارک جیسے فورمز میں اس کی شرکت روکی جائے۔ چین، ترکی اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف سفارتی اور اسٹریٹجک اتحاد مضبوط کیا جائے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ بھارت فریب کاری، ریاستی دہشت گردی اور علاقائی جارحیت سے کبھی بھی گریزاں نہیں رہا۔ پہلگام میں نہتے کشمیریوں پر بزدلانہ حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی، اسی مذموم سلسلے کی ناقابل تردید کڑیاں ہیں۔ یہ واقعات خطے میں بھارت کی توسیع پسندانہ عزائم اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی مسلسل کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

    اب یہ پاکستان پر لازم ہے کہ وہ سفارتی، عسکری اور اقتصادی محاذوں پر انتہائی سنجیدگی اور دوراندیشی کے ساتھ فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔ یہ لمحہ کسی بھی قسم کی تذبذب یا کمزوری دکھانے کا نہیں، بلکہ قومی یکجہتی، بے مثال اتحاد اورغیر متزلزل عزم کا متقاضی ہے۔ بھارتی خطرے کا مؤثر اور دائمی سدباب صرف اور صرف ناقابل تسخیر قوت کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔

    پاکستان کا استحکام اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اب نہ کسی مصلحت آمیز سمجھوتے کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی قسم کی پسپائی اختیار کی جا سکتی ہے۔ وقت کاتقاضا ا ہے کہ ہم ایک واضح اور دو ٹوک پیغام دیں کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب صرف سخت اور مؤثر جوابی کارروائی سے دیا جائے گا۔ یہ ہماری بقا، ہماری خودمختاری اور ہمارے قومی وقار کا معاملہ ہے۔ اب نہ کوئی سمجھوتہ، نہ کوئی پسپائی، صرف سخت جوابی کارروائی!

  • بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ دینا محض ایک سیاسی چال نہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے امن پر کھلا وار اور آبی دہشتگردی کے مترادف ہے۔ یہ اقدام بھارت کے اُس توسیع پسندانہ عزائم کی ایک نئی قسط ہے جس کی ابتدا مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور پاکستان دشمنی پر مبنی بیانات سے ہو چکی ہے۔ اب پانی جیسی قدرتی نعمت کو ہتھیار بنا کر بھارت نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ اسے بین الاقوامی قوانین کی پروا ہے اور نہ ہی انسانیت کا لحاظ۔
    1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی معاونت سے سندھ طاس معاہدہ طے پایا، جس کے تحت تین مشرقی دریا (ستلج، بیاس، راوی) بھارت کو جبکہ تین مغربی دریا (جہلم، چناب، سندھ) پاکستان کو دیے گئے۔ اس معاہدے نے پاکستان کی زراعت اور معیشت کو وہ پانی فراہم کیا جس پر ہماری لاکھوں ایکڑ زمین انحصار کرتی ہے۔ بھارت کو اس معاہدے کی بدولت مشرقی دریا مکمل طور پر ملے، جب کہ پاکستان نے اعتماد، مروت اور عالمی ثالثی پر بھروسا کرتے ہوئے اس تاریخی دستاویز پر دستخط کیے۔بھارت کا اس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان، دراصل اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ سندھ طاس معاہدہ کسی عام دو طرفہ مفاہمت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی حیثیت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی ثالثی قوانین کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا مطلب ہے کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف آبی جنگ کا آغاز کر رہا ہے بلکہ وہ جنوبی ایشیا میں تباہ کن تنازع کی بنیاد رکھ رہا ہے۔
    پاکستان کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ہم نے ہمیشہ سفارتکاری کو ترجیح دی، لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے اگر جواب دینے کا فیصلہ کر لیا، تو وہ محض الفاظ یا احتجاج تک محدود نہ ہوگا۔ اگر ہماری زمینیں بنجر ہوئیں، تو بھارت کی فضائیں بھی محفوظ نہ رہیں گی۔ اگر ہمارے کسان پیاسے مرے، تو بھارتی معیشت بھی پانی کے ایک قطرے کو ترسے گی۔ جنگ ہم نہیں چاہتے، لیکن اگر دشمن ہم پر مسلط کرے گا تو ہم تاریخ کو یہ بھی دکھا دیں گے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے کیسے دیا جاتا ہے۔بدقسمتی سے بین الاقوامی طاقتیں، جو ہر چھوٹے مسئلے پر بیان بازی کرتی ہیں، آج بھارت کے اس سنگین اقدام پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کو اب جاگنا ہو گا، کیونکہ اگر بھارت کو کھلی چھوٹ دی گئی تو دنیا کے کئی خطوں میں آبی وسائل کی جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔
    بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان صرف زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے گا تو یہ اُس کی سب سے بڑی بھول ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن کمزوری نہیں۔ اگر بھارت نے کسی بھی مغربی دریا پر پانی روکا، تو یہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ہم نہ صرف بھرپور سفارتی، قانونی اور عسکری جواب دیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کو آبی دہشتگرد اور معاہدہ شکن ملک کے طور پر بے نقاب کریں گے۔سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، بقاء کا مسئلہ ہے۔ بھارت اگر سمجھتا ہے کہ وہ پانی روک کر پاکستان کو زیر کر لے گا تو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے ایٹمی دھماکے بھی اپنے دفاع میں کیے تھے، پانی کے ایک قطرے کے لیے بھی ہم وہی جذبہ رکھیں گے۔ دشمن کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم متحد ہو جائے تو نہ صرف دریاؤں کا رخ موڑ سکتی ہے بلکہ تاریخ کا دھارا بھی بدل سکتی ہے۔
    اب جب کہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی بھارت کو سخت جواب دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ اب صرف الفاظ سے کام نہیں چلے گا۔ قومی سلامتی کے ادارے، عسکری قیادت اور سیاسی قیادت سب ایک صفحے پر ہیں اور یہ پیغام بھارت سمیت پوری دنیا کو پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی آبی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دشمن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم امن پسند ضرور ہیں، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو پھر ہر میدان، ہر محاذ اور ہر دریا پر پاکستان کی جیت ہو گی۔ سندھ طاس معاہدہ ہماری زندگی کی ضمانت ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے ہم ہر حد تک جائیں گے — چاہے وہ سفارتی محاذ ہو یا سرحدی مورچے۔