Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    اللہ کریم نے آپ کو عزت دی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی محنت سے زیادہ اس رب کا آپ پہ کرم ہے۔
    سو اسی ودود کی محبتوں کو سمیٹتے ہوئے مخلوق خدا کو بھی اسی عزت سے نوازیں جس کے آپ خود کو حقدار سمجھتے ہیں۔
    اگر آپ کسی کو عزت نہیں دے سکتے تو آپ کو کسی کی بھی عزت نفس سے کھیلنے کا حق حاصل نہیں ہے۔جیسے آپ اپنی فیلڈ کے شاہ سوار ہیں،ہو سکتا ہے سامنے والا اپنی فیلڈ میں آپ کی توقع سے بڑھ کر کامیاب ہو!!!!
    اپنی نظر سے دنیا کو مت دیکھیں۔اپ کا نظریہ آپکی رائے آپکا جمہوری حق ضرور ہے مگر ضروری نہیں درست بھی ہو!!!
    دنیا کو اس نظر سے بھی مت دیکھیں کہ جس نظر سے دنیا اپکو دیکھے گی تو اپکو برا لگے گا۔

    مجھے قلم کے میدان میں لکھتے، سیکھتے دو دہائیاں ہو گئی ہیں۔۔۔۔میں نیشنل جرنلسٹ بھی ہوں۔یہ مقام میں نے بہت رگڑے کھانے،زندگی کی بہت سی ماریں کھا کر حاصل کیا ہے۔صرف میں وہ تکلیف سمجھ سکتی ہوں جو کسی لڑکی کو اک محدود ماحول میں سہنا پڑی ،اک ایسے چھوٹے علاقے میں جہاں مردانہ راج ہے،جہاں میٹریکولیٹ صحافت ہے،جہاں تھانے کچہری کی سیاست ہی صحافت ہے،جہاں پولیس کے اک کانسٹیبل کے ساتھ اک تصویر ہی ڈی پی کا فخر سمجھی جاتی ہے،جہاں انتظامیہ سے تعلقات ہی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں،جہاں کورٹ کچہری سے بھی زیادہ کیسز میٹرک پاس انتظامیہ کا سر چڑھا لفافہ "صوحافی” دونوں طرف سے پیسے بٹور کر حل کرلیتا ہے،اور ایمانداری سے اپنا حصہ نکال کر باقیوں کا تقسیم کرتا ہے۔۔۔جہاں کی رپورٹنگ قل خوانی،ککڑ کڑاہیاں،فاتحہ جنازہ،ولیمے کی تصاویر لگا کے ساتھ "سنئیر جرنلسٹ کی فلاں ولیمے میں شرکت” کے کیپشن کے ساتھ کی جاتی ہے۔۔۔۔

    وہاں سات سال باقاعدہ اک میڈیا گروپ آفس میں رہنا اور تن تنہا ہزاروں مخالفتیں سہہ کر بھی شفاف صحافت جاری رکھنا اک عورت کے لیے کتنا مشکل تھا۔۔۔۔
    صرف میں جان سکتی ہوں۔۔۔۔آپ نہیں!!!
    سو آپ کو میرے بارے بنا جانے رائے دینے کا حق بھی نہیں!
    حق سچ پہ کالمز لکھنے پہ اغوا میں ہوئی تھی،اپ نہیں
    سو آپ کو حقیقت جاننی چاہیے
    حق لکھنے،حق کے ساتھ کھڑے ہونے اور سیاسی شخصیات کا نام لے کر کالم لکھنے والی اس لڑکی جسے اسی پاداش میں ایک ہی ہفتے میں مسلسل سات بار ایکسیڈنٹ کے زریعے مارنے کی کوشش کی گئی ،میں ہوں۔۔۔میں نمرہ ملک۔۔۔
    اور اس بات کے دوستوں کے ساتھ دشمن بھی گواہ ہیں۔۔۔۔میری زبان تک کٹ گئی تھی۔۔۔۔لیکن قلم نے ہار نہیں مانی تھی۔۔۔( اس حوالے سے کسی کو بھی شک ہو تو وہ پریس فورم میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو ریاض انجم سمیت کسی بھی زمہ دار شخص سے تصدیق کر سکتا ہے)
    مجھے یہ نو سو کے قریب شیلڈز، قومی و سرکاری اعزازات،سوموٹو اور پندرہ کتب کا خالق ہو جانا کسی سیاسی پارٹی کی چاپلوسی کی وجہ سے نہیں ملے۔۔۔۔۔اگر ملتے اور مجھے کھاؤ اور کھلاؤ پالیسی آ جاتی تو آج میں صحافتی پابندیوں کی زد میں نہ ہوتی۔۔۔۔
    یہ مجھے میرے قلم کی کمائی سے ملے ہیں۔وہ قلم جسے میں نے چوری چوری استعمال کرنا شروع کیا تھا،اور پھر وقت نےاسی قلم کی بدولت مجھے اس دور کے سب سے بڑے میڈیا میں لا کھڑا کیا!!!
    سچ کہوں ناں تو یہ مجھ سے بھی زیادہ میرے والدین کا قصور ہے جنہوں نے حرام نہیں کھلایا اور نہ کھانے کی ترغیب دی،ورنہ میں بھی رچ بس جاتی،مس فٹ نہ ہوتی!!!

    جب آپ لوکل سطح پہ سالوں اک میڈیا گروپ کو رن کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں تو خود بہ خود نظروں میں رہتے ہیں، کہیں آپ کی بے حد عزت کی جاتی ہے تو کہیں آپ کے پیٹھ پیچھے برائیاں ،کردار کشی اور پاؤں کے نیچے زمین کھینچ لینے کی بھرپور کوشش کی جاتی یے۔۔۔
    مجھے بھی یہ سب دیکھنا پڑا!!!دیکھتی آئی ہوں اور اب بھی دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔

    جہاں میری کامیابیوں سے تعصب زدہ معاشرے میں تکلیف دہ حالات نے مجھے ہر موڑ پہ آزمایا وہاں میرے علاقے کا۔۔۔۔میں دہراتی ہوں۔۔۔۔۔
    میرے اپنے علاقے کا
    میرے تلہ گنگ چکوال پنڈی ڈویژن کا ہر وہ شخص جو میری قلمی فتوحات کو سمجھتا ہے وہ مجھے بہت محبت اور عزت دیتا ہے۔کیونکہ میں نے جب جب لکھا،عام آدمی کے لیے لکھا
    ٹوٹی سڑکیں کھڈے بنیں تو قلمکار نے ٹوٹے ہوئے قلم کو تلوار بنایا۔۔۔
    تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کی بات آئی تو قلم نے بھرپور آواز اٹھائی،جہاں کہیں کسی کو ضرورت پڑی،قلمکار نے اپنا ہنر بیچا نہیں ،آزمایا اور فتح پائی ۔۔۔۔
    وہ ٹرانسپورٹ والے ہوں
    وہ عام دکاندار ہوں ،مجھے عزت دیتے ہیں،میرے لیے سیٹ خالی چھوڑ دیتے ہیں،کیونکہ یہ ہی میرے قلم کی کل خرید ہے،کل سرمایہ ہے،کل کائنات ہے!!!
    وہ سٹی ہاسپٹل کا ٹراما سینٹر ہو یا سٹاف۔۔۔
    وہ بائی پاس کے سٹے ہوں یا روڈز
    وہ ملکی و قومی نمائندگی ہو یا علاقے کی ترجمانی۔۔۔۔
    وہ صحافت ہو ناول نگاری۔۔۔میں نے اپنی طرف سے جو حق ادا کرنے کی کوشش کی سو کی،لیکن میرے عام لوگوں نے مجھے بے حد عزت دی ہے
    اور جب عام آدمی آپ کو عزت دینے لگ جائے تو آپ سمجھ جائیں ،آپ کا ایلیٹ طبقہ جتنا مرضی آپ کے خلاف ہو،حق کا ساتھ ہمیشہ چھوٹے لوگ دیتے ہیں۔
    جب میری کسی پزیرائی پہ مجھے طنزا کہا جائے کہ”تم کیا کوئی وزیراعظم لگی ہوئی ہو؟؟؟ جو تمہیں لوگ پروٹوکول دیں،” تومجھے ان لفظوں سے تکلیف ضرور ہوتی یے۔لیکن یہ احساس بھی ساتھ رہتا ہے کہ سامنے والے نے وہ دکھ،وہ تکلیف نہیں دیکھی جو بحثیت اک خاتون صحافی کے میں نے دیکھی ہے۔سو جب کوئی میرے قلم کی بدولت مجھے عزت دیتا ہے تو مجھے وہ انسلٹ یاد نہیں رہتی جو کسی تعصب یا بنا کچھ جانے کسی کے لفظوں سے محسوس ہوتی ہے۔مجھے وہ محبتیں یاد رہتی ہیں،وہ دعائیں یاد رہتی ہیں جو میں نے کہیں نہ کہیں اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کر کے بلا معاوضہ اپنے نام کی ہیں۔
    "چھوٹے لوگوں کے لیے بڑی باتیں مت کرنا شروع کر دیا کرو” کہنے والو!!!
    میں نمرہ ملک وزیراعظم نہیں ہوں،بہت چھوٹے قد کی چھوٹی سی قلمکار ہوں مگر مجھے فخر ہے کہ میں بہت سے چھوٹے لوگوں کی بڑی محبتوں کی آمین ہوں ۔

  • عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر

    عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر

    عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر
    تحریر:ظفر اقبال ظفر
    ان کا اصل نام چراغ دین ہے۔ آپ برصغیر کے پنجابی حلقوں کے مقبول ترین شاعر تھے۔ ان کی شاعری عوام کے دلوں کی دھڑکنوں کا حصہ ہے۔ وہ اپنی جرأت اظہار اور بے باک صلاحیتوں کی بدولت پنجابی ادبی تاریخ میں صفِ اول کے شاعر تھے۔ انہوں نے جہاں بہت سی ہنگامی صورتحال کی عکاسی کرنے والی نظمیں لکھی ہیں وہاں پائیدار اور لافانی نظمیں بھی تخلیق کی ہیں۔ ہیر رانجھے کی داستان کو اپنے مخصوص انداز میں لکھ کر پنجابی شاعری کے ذخیرے میں بیش قیمت اضافہ کیا۔

    آپ اندرون لاہور چوک مستی میں پیدا ہوئے، تیرہ سال کی عمر میں آپ کا محنتی غریب درزی گھرانہ چوک مستی سے باغبان پورہ منتقل ہو گیا۔ آپ کے والد میراں بخش لوہاری دروازے کے باہر ایک دوکان پر درزی کا کام کرتے تھے ۔ استاد دامن کا ایک بھائی اور ایک بہن تھی جو آپ سے عمر میں بڑے تھے ۔ استاد دامن کا رنگ گورا، گرج دار آواز، سر کے بال استرے سے صاف کروا کے رکھتے ، دوتہی کرتہ نیچے سلوکہ کندھے پہ چادر، سر پر پگڑی نما پٹکا تن زیب رکھتے تھے ۔

    بچپن سے ہی پڑھائی کے شوقین ساندھادیو سماج سکول لاہور سے میٹرک کر کے دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا مگر چھ ماہ بعد ہی والد کی بیماری اور گھریلوحالات کے پیش نظرتعلیم جاری نہ رکھ سکے، قرآن پاک حفظ کیا ، والد کی خواہش و کوشش تھی کہ ان کا بیٹا ان کی زندگی میںہی سلائی کا سارا ہنر سیکھ کر روزی روٹی کمانے کے قابل ہو جائے ، والد کی تکمیل خواہش اور ضروریات زندگی کے وسائل بڑھانے کے لیے آپ نے استاد وہاب نامی ٹیلر کی شاگردی میں کوٹ پتلون ، اچکن ، شلوار، قیمض بنانے میں کمال مہارت حاصل کی، اُس وقت شلوار قمیض کی سلائی دس آنے ہوتی تھی مگر استاد دامن دس روپے لیتے تھے کیونکہ وہ نلکی کے دھاگے کی بجائے کپڑے کے اندر سے دھاگہ نکال کر سوٹ سلائی کرتے تھے جس کی وجہ سے سلائی نظر نہیں آتی تھی ۔ آزادی کی بڑی بڑی تحریکوں کے راہنما لیڈرآپ سے اپنے کپڑے سلواتے تھے۔

    آپ نے اپنے دور میں تجویز خطی کے بڑے شاعر باؤ ہمدم کی شاگردی میں اپنے خیالوں کو شاعری میں مزید نکھارا، مگر استاد دامن پیدائشی شاعر تھے انہوں نے دس برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دئیے ۔آپ کے والد میراں بخش خود صوفیانہ شاعری کے دیوانے تھے جنہیں ہیر وارث شاہ اور فضل شاہ کی سوہنی زبانی یاد تھی جبکہ استاد دامن بھی ہیر وارث شاہ کی بحر میں لکھتے۔ پہلا مشاعرہ پندرہ سالہ عمر میں باغبان پورہ لاہور میں پڑھا جس کی صدارت استاد دامن سے اپنے کپڑے سلوانے والے کانگرس رہنما میاں افتخار الدین نے کی ۔اس موقع پر سردار گیانی گرمکھ سنگھ مسافر نے صدر مشاعرہ سے کہا کہ استاد دامن نے بہت کمال شعر پڑھے ہیں ۔

    انہیں سو روپیہ انعام دیا جائے پہلے مشاعرہ میںہی نامور استاد شاعروں میں اپنا آپ منوانا اور انعام پانا استاد دامن کے فن شاعری کا قد بتاتا ہے ۔ آپ نے عطا اللہ شاہ بخاری ؒ جیسے لوگوں کی موجودگی میں سیاسی ،سماجی اور مذہبی جلسوں میں اپنے کلام پڑھے اور عوام کے دلوں کی آواز بن کر اُبھرتے چلے گئے ۔ پنجابی کے علاوہ کسی اور زبان میں شعر نہیں کہے جبکہ وہ فارسی، عربی، روسی، اردو، ہندی، انگلش اور سنسکرت زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔ استاد دامن نے شاعری کی فنی خوبیوں پر قدرت رکھنے کی بدولت اہل علم و فن سے استاد کا خطاب حاصل کیا ۔ استاد دامن غریبوں، مظلوموں ،مزدروں، کسانوں جیسے پسے ہوئے طبقوںکے لیے آواز اُٹھانے اور استحصالی طبقوں کی مزحمت کرنے والے بااثر شاعرتھے ۔

    میرے ہنجواں دا پانی پی پی کے

    ہری بھری اے بنجر زمین ہو جائے

    ایدے منہ تے سرکھی چاہی دی اے

    میرے لہو توں پاوئیں رنگین ہو جائے

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہ گوئی تھی، وہ موقعوں کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے، آزادی کے کچھ عرصے بعد انہوں نے دہلی میں منعقد مشاعرے میں شرکت کر کے یہ نظم پڑھی۔

    ایناں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا

    ہوئے تسی وی او ہوئے ایسی وی آں

    کج امید اے زندگی مل جائے گی

    موئے تسی وی او موئے اسی وی آں

    جیوندی جان ای موت دے منہ اندر

    ڈھوئے تسی وی او ڈھوئے اسی وی آں

    جاگن والیا رج کے لٹیا اے

    سوئے تسی وی او سوئے اسی وی آں

    لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے

    روئے تسی وی او روئے اسی وی آں

    انسانی جان پر آزادی کے نام سے ٹوٹنے والی قیامت کے شکار حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے، مشاعرے میںموجودبھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھی آبدیدہ ہو گئے ، انہوں نے استاد دامن کو آزادی کا شاعر کے خطاب سے نوازتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام پذیر ہو جائیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ میرا وطن پاکستان ہے ، میں لاہور میں ہی رہو ں گا، بیشک جیل میں ہی کیوں نہ رہوں، 1962میں بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو لاہور آئے۔

    ائرپورٹ پر اترے تو انہوں نے پاکستانی گورنر اختر حسین سے کہا کہ میں استاد دامن سے ملنا چاہتا ہوں مگر ادب کی دولت سے ناآشنا گورنر اختر حسین نے اپنے لوگوں سے پوچھا کہ کون ہے استاد دامن؟اس درویش سے ناواقف حکمرانوں کی موجودگی کے باوجود اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی غربت و افلاس میں گزارنے کے باوجود پاکستان کے ہی گیت گائے، اس پاک دھرتی کو نفرتوں بے ایمانیوں عیاریوں سے پاک کرنے کے لیے عوام میںاپنی شاعری کے زریعے انسانی حقوق کی صدائیں بلند کیں اور امن و محبت کے پھول نچھاور کرتے رہے اور ساتھ ساتھ اُن برائیوں کی بھی مزاحمت کرتے رہے جو عوامی مفاد کے نقصان میں تھیں، استاد دامن نے حکمرانوں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بھرپور تنقید کے ساتھ عوامی شعور کو بیدا ر کیا، عوامی حقوق کے کھوکھلے نعروں اور ملکی زوال پہ لکھتے ہیں ۔

    کھائی جاؤ کھائی جاؤ بھیت کنھے کھولنے

    وچوں وچ کھائی جاؤ اُتوں رولا پائی جاؤ

    انا مارے انی نوں کسن وجے تھمی نوں

    جنی تواتھوں انی پیندی اُنی انی پائی جاؤ

    کھائی جاؤ بھئی کھائی جاؤ بھیت کنھے کھولنا

    لڑکی والوں پر رسم و رواج اور بارات کے کھانے کا بوجھ ڈالنے کی مخالفت رکھنے والے استاد دامن نے1949میں ایک قطرین نامی لڑکی سے سادگی و پوشیدگی میںشادی کی جس سے ایک بیٹا بھی تھا جو پیدائش کے بعد مر گیا اور بیوی کے پیٹ میں رسولی تھی جس کا علاج کروایا مگر وہ بچ نہ سکی۔ استاد دامن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ کوئی بھی انسان تنہائی کی زندگی نہیں گزارنا چاہتا مگر حالات و واقعات اسے اکیلے پن پر مجبور کر دیتے ہیں، میری پہلی شادی قدرت کو منظور نہ تھی اور دوسری شادی میرے نزدیک سودے بازی ہے۔ 1977کے فسادات میں ان کی دُکان کو آگ لگا دی گئی جس کے سبب مشکل مالی بحران کا شکار ہو کر باغبان پورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب ٹیکسالی گیٹ میں واقع اُس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں اکبر بادشاہ کے زمانے میں حضرت شاہ حسین ؒبھی مقیم رہے، پھر تادم مرگ یہی حجرہ استاد دامن کا مسکن رہا ۔

    دامن دی بیٹھک نامی اس حجرے میںہند و پاک کے نامور ادیب ، گلوکار، اداکار اور سیاسی وسماجی احباب شاعر فیض احمد فیض، صوفی تبسم، حبیب جالب، امجد اسلام امجد، منو بھائی، ملکہ ترنم نور جہاں، ادکار محمد علی اور فلمسٹار علاؤ الدین جیسی عام و خاص قد آورشخصیات سیاسی ادبی فکری گفتگو کے لیے آیا کرتیں جن کے لیے استاد دامن مختلف ذائقہ دار خوراکیں اپنے ہاتھوں سے بنا کر پیش کیا کرتے، ٹیکسالی گیٹ کے اس حجرے میں استاد دامن 1950سے لیکر 1984تک رہائش پذیر رہے، یہیں سے ہی استاد دامن نے عوام کے حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر حکومتی بیماریوں کی نشاندہی کی، استاد دامن کے سارے اشعار اپنی تاثیر کی وجہ سے ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔

    استاد دامن نے زندگی اور معاشرے کا مطالعہ کھلی آنکھوں سے کیا، ان کے تجربات کی سلطنت انتہائی وسیع تھی، وہ کمال خوش اصلوبی سے عمومی سطح کے تجربوں کو بیان کرتے، دانائی کے موتی بکھیرتے چلے جاتے، ایک سچا شاعر ادیب ہر دور میں اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتا ہوا انجام کے خطرے سے بے خوف رہتا ہے ۔ استاد دامن کے بقول بڑے لکھاری کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کی غلامی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے ۔ استاد دامن کے شعور میں جوں جوں پختگی آتی گئی اُن کا ذہن دنیا سماج کائنات کے مسائل پر سفر کرتا گیا، وہ پسے ہوئے غریبوں پہ گزرنے والے حالات یوں بیان کرتے ہیں کہ

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ساڈے ہتھاں دیاں ریکھاں

    پیراں نال میٹن والیو

    او دو دو ہتھی

    دولتاں نوں اج سمیٹن والیو

    او لٹے پٹے ہویاں دی

    صف نوں سمیٹن والیو

    کر لووکوٹھیاں وچ چاننے

    کھو کے غریباں دا نور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    استاد دامن نے جرمن کمپنی جان ولیم ٹیلر سے سلائی کٹائی کا ڈپلومہ حاصل کر کے باغبان پورہ لاہور میں دامن ٹیلرنگ ہاؤس نامی اپنی دوکان کھولی، یہ درزی خانہ استاد دامن کی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی تھا مگر روحانی خوشی شاعری سے ہی حاصل ہوتی اور دیکھتے ہی دیکھتے استاد دامن کا درزی خانہ شاعری کا شوق رکھنے والوں کے لیے ایک درس گاہ کا روپ دھار گیا۔

    استاد دامن کی قلمی شخصیت پرفیض احمد فیض کہتے ہیں کہ میں پنجابی شاعری اس لیے نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ؒ ، وارث شاہؒ اور بلھے شاہؒ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں اس کے علاوہ فیض صاحب نے استاد دامن کو پنجابی شاعری کا حبیب جالب بھی کہا۔ قیام پاکستان کے وقت جب شرپسندوں نے استاد دامن کی دُکان لائبریری اور کتابوں کو آگ لگا دی تھی جس میں ان کی ذاتی تحریریں اور ہیر کا مسودہ بھی شامل تھا جل کر راکھ ہو گئے تو انہوں نے اپنی قلمی کاوشیں کاغذ کے ٹکڑوں پہ لکھنے کی بجائے عوام کو سونپنی شروع کر دیں

    اسٹیجاں تے ہوئیے سکندر ہوئی دا اے

    اسٹیجوں اتر کے قلندر ہوئی دا اے

    الجھے جے دامن حکومت کسے نال

    بس اینا ای ہوندا اندر ہوئی دا اے

    ایوبی بھٹو اور ضیا دور میں قید کاٹنے والے استاد دامن نے بھٹو دور میں بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقیدی نظمیں لکھیں جب ایک طرف بھارت سے سو سال جنگ کرنے کی بات کرنے والے بھٹو صاحب اندرا گاندھی سے ملنے شملہ گئے تو اس پر استاد دامن نے بھٹو صاحب کو مخاطب کر کے یہ نظم لکھی

    ایہہ کیہ کری جانا ایں ایہہ کہ کری جانا ایں

    کدی چین جانا ایں کدی روس جانا ایں

    کدی شملے جانا ایں کدی مری جانا ایں

    جتھے جانا ایں بن کے جلوس جانا ایں

    دھسا دھس جانا دھسا دھوس جانا ایں

    لائی کھیس جانا اے کھچی دری جانا ایں

    ایہہ کی کری جانا ایں ایہہ کی کری جانا ایں

    یہ نظم جب بہت مشہور ہو گئی تو استاد دامن کو جیل میں ڈال دیا گیا، فیض صاحب کو یقین ہی نہ آئے کہ کوئی شخص استاد دامن کو جیل میں ڈال سکتا ہے ، استاد دامن پر جھوٹا الزام لگا کر مقدمہ بنایا گیا کہ ان کے پاس سے ریوالور بم برآمد ہوئے ہیں، جب مجسٹریٹ نے ان کو یہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ میرے حجرے کا تو دروازہ چھوٹا تھا ورنہ وہاں سے تو ٹینک نکلنے چاہیئں تھے جس پر استاد دامن نے یہ نظم لکھی کہ

    چوکی تھانے حوالات کچہریاں نیں

    کتھے کتھے جا کے میرے کم نکلے

    نکلے کوئی میدان وچ نکل سکدا اے

    سینہ ٹھوک کے تے جم جم نکلے

    نکلے پر کوئی مینوں دبا سکدا اے

    پاویں کوئی لے کے دم خم نکلے

    تے دامن شاعر دے قبضے وچ ویکھیا جے

    دو ۔ ریوالور تے دستی بم نکلے

    استاد دامن کی مشہور زمانہ کتاب دامن دے موتی ان کی باکمال شاعری کا لطف اندوز مجموعہ ہے جو اپنے پڑھنے والوں کو ان کے دور کے حالات و واقعات سے ملوانے کا سچا آئینہ ہے ۔ استاد دامن فیض اور جالب کے چاہنے والوں میں سے تھے۔

    80 کی دہائی میں جب ان کے منہ بولے بیٹے فلمسٹار علاؤدین کا انتقال ہوا تو استاد دامن کی جیسے اپنی روح پرواز کر گئی ہو۔ کبھی بستر کبھی اسپتال کبھی گھر، کمزور پڑتی صحت کے ان ایام میںکچھ ہی عرصے بعد فیض احمد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جا ملے، استاد دامن چاہنے والوں کے روکنے کے باوجود اپنے قلمی یار کے جنازے میں شریک ہوئے، جہاں لوگوں نے پہلی بار استاد دامن کو دھاڑیں مار کر روتے ہوئے دیکھا، ایسے معلوم ہوتا تھاگویا تقسیم ہند سے لیکر آج تک ٹوٹنے والی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے رخصت ہونے کے بعد ہی ان تک آئی ہے، فیض صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984کو ہوا اور اُسی شام استاد دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی، ایسے ٹوٹے کہ صرف تیرہ دن بعد ہی بروز سوموار3 دسمبر 1984کو فیض صاحب کے پیچھے ان کی رُوح بھی آسمانی سفر پہ روانہ ہو گئی۔ استاد دامن کی وصیت کے مطابق قبرستان مادھو لال حسینؒ مین گیٹ لاہور میں شاہ حسین ؒ کے مزار کے سائے میں دفن کیا گیا۔

    ماری سرسری نظر جہان اندر

    تے زندگی ورق اُتھلیا میں

    دامن ملیا نہ کوئی رفیق مینوں

    ماری کفن دی بُکل تے چلیا میں

  • مذہبی ٹچ،غربت کارڈ اور بدمعاشی نہیں حکومتی رٹ بحال کریں۔تحریر:ملک سلمان

    مذہبی ٹچ،غربت کارڈ اور بدمعاشی نہیں حکومتی رٹ بحال کریں۔تحریر:ملک سلمان

    این ایم سی، ایس ایم سی اور ایم سی ایم سی پرموشن ٹریننگ کورس پر لاہور آئے آفیسر مجھ سے ملنے گھر آئے تو وزیراعلیٰ پنجاب کے درجنوں کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تجاوزات کے خلاف ایکشن سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ سنئیر افسران کا کہنا تھا کہ انکے صوبوں کے وزراء اعلیٰ تجاوزات کے خلاف اس لیے جرات نہیں کر رہے کہ ان کے قریبی عزیز و اقارب کروڑوں اور اربوں روپے کی تجاوزات کے بینیفشریز ہیں دوسرا ووٹ بینک خراب ہونے کا خدشہ۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تجاوزات اور ریڑی والوں کا ووٹ کبھی بھی کسی کو میرٹ پر نہیں ملا، ریڑی والوں نے ہر دفعہ پیسوں کے عوض شناختی کارڈ ہی بیچا ہے۔
    وزیراعلیٰ پنجاب کی تجاوزات اور لاقانونیت کے خلاف زیروٹالریشن کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور پڑھے لکھے طبقے کا اچھا خاصا ووٹ بینک ان کی طرف آیا ہے۔ سنئیر افسران کا کہنا تھا کہ انکی خواہش ہے کہ وہ ٹریننگ کے بعد ویژنری وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں کام کرنے کیلئے پنجاب آجائیں۔

    سوشل میڈیا پر تجاوزات کی صورت ہٹائے گئے ایک بورڈ کی تصویر کے ساتھ کیپشن تھا کہ ختم نبوت کا بورڈ زمین پر گرانے والے ڈپٹی کمشنر اور انتظامی افسران توہین مذہب کررہے ہیں،ان پر اللہ کا عذاب ہو۔
    میں نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو وہ پوسٹ شئیر کرتے ہوئے کال کی کہ بھائی ان سب کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کروا کر انکا سارا مذہبی ٹچ نکالا جائے کہ ذاتی فائدے کیلئے جس پر مرضی توہین مذہب کا الزام لگادیتے ہیں۔ علماء اکرام سے گزارش ہے کہ جذباتی اور جنونی مذہبی ٹچ کی بجائے اصل دین سیکھایا جائے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ راستے سے پتھر ہٹانا بھی نیکی ہے۔ جب پتھر ہٹانا نیکی ہے تو راستوں میں پتھر لگانا اور تجاوزات قائم کرنا گناہ نہیں تو اور کیا ہے؟سرکاری سڑک اور زمین پر ختم نبوت کا بورڈ لگا کر قائم کی گئی تجاوزات کو ہٹانا توہین مذہب نہیں بلکہ تجاوزات قائم کرنا اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی ہے۔ بیچ سڑک مسافروں کو تنگ کرکے دکانداری کرنا حرام عمل نہیں؟

    سب سے زیادہ ٹریفک حادثات رمضان کے مہینے اور افطاری کے وقت ہوتے ہیں، افطاری سے گھنٹہ پہلے ٹریفک پولیس سڑکوں سے غائب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے فل سپیڈ سے گرم گرم سموسے پکوڑے لیکر گھر پہنچ جائے لیکن راستے میں موجود تجاوزات سے ٹکرا کر گھر کی بجائے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔رمضان کے مبارک مہینے میں تجاوزات قائم کرکے آپ شیطان کے چیلے والا کام کرتے ہو۔
    درجنوں نہیں سینکڑوں کی تعداد میں دربار اور مسجدیں سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے قائم کی گئی ہیں۔ علماء کو چاہئے کہ انتظامیہ اور حکومت کو خود سے آفر کریں کے وہ درباروں اور مسجدوں کا غیرقانونی حصہ مسمار کرکے باقیوں کیلیے بھی مثال قائم کریں کہ عبادت بھی تب قبول ہوگی جب غیرقانونی قبضہ کی گئی جگہ چھوڑ کر قانون کی پاسداری کریں گے۔ ایسا کرنا کوئی احسان نہیں علماء کا فرض ہے اگر وہ یہ فرض ادا نہیں کریں گے تو اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے اور اپنے سارے نیک اعمال ضائع کروا لیں گے۔

    راجہ مارکیٹ گارڈن ٹاؤن جہاں سپیکر پنجاب اسمبلی میرے ہمسائے ہیں اب تک آٹھ دفعہ ریڑی والوں کو ہٹایا گیا ہے پھر واپس آجاتے ہیں جب ان کی ریڑی کو زبردستی سرکاری تحویل میں لیا جائے گا تو سوشل میڈیا پر غربت کارڈ شروع ہوجائے گا غریب پر ظلم ہے اس کو وارننگ دے دیتے۔ آٹھ دفعہ ہٹایا گیا، کیا وہ وارننگ نہیں؟
    سرکاری زمینوں پر قبضے اور شاہرائیں بند کرنا غربت کا علاج نہیں۔ باعزت روزگار کیلئے حکومت پنجاب نے بہترین ریڑی بازار قائم کیے ہیں ان کے علاوہ تمام ریڑیاں اور رکشے قبضے میں لے لینے چاہئے۔ ریڑی بازار میں بھی سختی کی ضرورت ہے کوئی بھی ریڑی سے باہر سڑک پر نا تو سامان رکھے اور نہ ہی ریڈ لائن سے باہر نکلے۔
    مذہبی راہنماؤں کو چاہئے کہ درس قران اور جمعہ کے خطبات بھی ناحق زمین پر قبضے کرنے اور راستوں کی بندش کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالیں۔

    حقیقی بات یہی ہے کہ ہمارا معاشرہ اس قدر بے حس اور بے شرم ہوچکا ہے کہ اپنے مفاد کے خلاف احکامات الہی اور فرمان نبوی کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس لیے اس قوم کا ایک ہی علاج ہے وہ ہے بھاری جرمانے اور سخت سزائیں۔ اگر تجاوزات قائم کرنے والوں کو پتا ہوگا کہ انتظامی افسران ہر بار انکی منتیں نہیں کریں گے بلکہ تجاوزات کے جرم میں انکو جرمانہ ہوگا یا جیل جانا پڑسکتا ہے تو تین دن میں سارے ٹھیک ہوجائیں گے۔ سب سے ضروری بات تجاوزات قائم کرنے والوں کیلئے تو سزا ہے لیکن تجاوزات کو ہٹانے میں ناکام ہونے والے انتظامی افسران کیلئے بھی عہدوں سے معطلیاں اور نوکری سے برخاستگی کی کاروائی کیے بن یہ مشن ادھورا ہی رہ جائے گا۔
    میرے آبائی ضلع قصور میں سابق ڈپٹی کمشنر قصور نے تجاوزات کے خلاف اچھا آپریشن شروع کیا تھا لیکن جیسے ہی وہ گئے ہیں ایک دفعہ پھر سے ضلع قصور تجاوزستان بن گیا ہے۔ فیصل آباد اور ڈی جی خان کے اضلاع میں تجاوزات کے خلاف مثالی کاروائی کی جارہی ہے۔

    ملک سلمان

  • خیبرپختونخوا میں تعلیم کا جنازہ.تحریر: جان محمد رمضان

    خیبرپختونخوا میں تعلیم کا جنازہ.تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں تعلیمی شعبہ ایک بدترین بحران سے گزر رہا ہے، جس کی ایک جھلک ہمیں مختلف اعداد و شمار میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ بحران صرف نظام تعلیم کے بگڑنے کا نہیں، بلکہ ایک سنگین قومی مسئلے کا عکاس ہے جس کا اثر نہ صرف ہمارے بچوں کی تعلیم بلکہ ان کے مستقبل پر بھی پڑ رہا ہے۔آج خیبرپختونخوا میں 5.5 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جو کسی بھی قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ جب بچے اسکول سے باہر ہوں، تو نہ صرف ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اسکولوں کی کمی اور معیار کی پستی کے باعث بہت سے بچے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے محروم ہو گئے ہیں، اور یہ ایک نسل کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے اندر 591 سرکاری اسکول ایسے ہیں جو خالی پڑے ہیں۔ ان اسکولوں کی عمارتیں ویران پڑی ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ مقامی سطح پر اساتذہ کی کمی اور مناسب انتظامیہ کا نہ ہونا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 3,000 سے زیادہ اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جیسے پینے کا صاف پانی، باتھرومز، مناسب کلاس رومز، اور درسی کتابیں وغیرہ۔جنوبی وزیرستان جیسے علاقے خصوصاً تعلیم کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان علاقوں میں امن و امان کی خرابی کی وجہ سے بچوں کے لیے اسکول جانا ایک خواب بن چکا ہے۔ یہاں نہ صرف اسکولوں کی تعداد کم ہے بلکہ بچوں کو اسکول پہنچنے کے لیے خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اگر ان علاقوں میں تعلیم کی حالت بہتر نہ کی گئی تو آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا عمل مزید متاثر ہو گا۔

    خیبرپختونخوا کے اساتذہ کا احتجاج اور ہڑتال بھی تعلیم کے بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور بہتر کام کے حالات کے مطالبات پر حکومت کی طرف سے سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ، تعلیمی بجٹ کی بدانتظامی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اسکولوں کی حالت مزید بگڑ چکی ہے۔اس تمام تر تباہی کے باوجود، خیبر پختونخوا کے حکمران سوشل میڈیا پر انقلاب کے خواب بیچ رہے ہیں۔ وہ عوام کو نئے منصوبوں اور تعلیمی اصلاحات کی امید دلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان منصوبوں کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر انقلاب کا نعرہ لگانا اور عملی طور پر کسی تبدیلی کے بغیر کچھ کرنا صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

    اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ اثر پشتون بچوں پر پڑ رہا ہے۔ یہ بچے اس بدترین تعلیمی بحران کا شکار ہیں اور ان کا مستقبل دن بہ دن مزید تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ بچے نہ صرف تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی میں بھی پیچھے رہ جائیں گے۔ہماری حکومتی قیادت اس صورتحال کے لیے ذمہ دار ہے۔ تعلیمی بحران کو حل کرنے کے بجائے، وہ صرف بیانات دیتے ہیں اور کسی بھی عملی قدم سے گریز کرتے ہیں۔ ان کی نااہلی کی وجہ سے اس وقت خیبرپختونخوا کے بچے تعلیم سے محروم ہیں اور ان کے مستقبل کا کوئی چہرہ نظر نہیں آ رہا۔

    یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں آتا ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ حکومتی ناکامی ہے؟ یا یہ تعلیم کے نظام کی بنیاد میں موجود گڑبڑ ہے؟ ہر حال میں، ہمیں اس بدترین صورتحال سے نکلنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں نہ صرف تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانی ہے بلکہ اساتذہ کی فلاح و بہبود اور بچوں کی تعلیم کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے ہوں گے۔تعلیمی بحران کا حل صرف حکومتی اقدامات سے ممکن ہے، جو اس وقت نااہلی اور بدانتظامی کا شکار ہیں۔ اس بحران کو حل کرنے کے لیے ہمیں ایک مضبوط حکومتی پالیسی اور قوم کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں اور انہیں ایک بہتر تعلیم فراہم کر سکیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ہم اپنے بچوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچانے میں ناکام رہیں گے۔

    jaan

  • والدین کی اہمیت،تحریر:   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    والدین کی اہمیت،تحریر: ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے دوسری شادی کا مشورہ دیا تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ ایک بیٹے کا ہونا ہے، اور وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے گا۔
    بیٹے کی تربیت
    جب بیٹا بڑا ہوا، تو اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کو سونپ دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا۔
    تنہائی کا احساس
    بیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے اپنے گھر کا مکمل کنٹرول اپنی بہو کے حوالے کر دیا۔
    ایک دن کا واقعہ
    بیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا بھی دفتر سے آیا۔ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی، تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے۔
    کھانا کھانے کے بعد، والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا۔
    حیرت انگیز خبر
    کچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!” والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں اور اب تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟”
    حقیقت کا انکشاف
    لڑکے نے جواب دیا، "بابا، میں اپنی ماں کو آپ کے لیے نہیں لا رہا، نہ ہی ایک ساس کو اپنی بیوی کے لیے لا رہا ہوں! میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکے۔”

  • قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    السلام علیکم ، یاسمین صاحبہ ، کیسی ہیں ؟
    الحمدللہ ، بالکل ٹھیک
    کچھ اپنی تعلیم کے بارے میں بتائیے کن اداروں سے تعلیم حاصل کی ؟
    کانونٹ جیسز اینڈ میری اور اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فائن آرٹس سٹڈیز میں تعلیم مکمل کی
    پہلی پینٹنگ کب بنائی ؟
    پہلی پینٹنگ دس سال کی عمر میں بنائی جو والد صاحب نے دیکھی اور اینا مولکا کو دکھائی ( اینا مولکا احمد مشہور مصورہ اور پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ فائن آرٹس کی بانی)
    اور پھر مصوری میں میں اینا مولکا صاحبہ کی پرائیویٹ سٹوڈنٹ رہی
    کانونٹ میں تعلیم اور فائن آرٹس میں دلچسپی کے باوجود اردو شاعری کی طرف کیسے ا ئیں؟
    کانونٹ میں پڑھنے کی وجہ سے میری اردو زرا کمزور تھی وہ میں نے اپنی والدہ صفیہ بیگم صاحبہ سے سیکھی وہ لکھتی تھیں شاعری بھی کرتی تھیں میرے ننھیال کا ماحول بہت علمی و ادبی تھا میرے نانا ماموں سب علامہ اقبال کی شاعری کو بہت پسند کرتے تھے اور گھر میں مولانا ظفر علی خان کا بھی آ نا جانا تھا شاعری میں علامہ اقبال سے متاثر ہوئی .

    شاعری اور مصوری میں کیا قدر مشترک ہے ؟
    میرے خیال میں شاعر اپنے تخیل میں الفاظ سے رنگ بھر کر کے غزل و نظم کہتا ہے اور مصور اپنے تخیل کو رنگوں کی صورت کینوس پر اتارتا ہے دونوں اپنے اپنے تخیل میں رنگ بھرتے ہیں
    بہت خوبصورت بات ہے یاسمین صاحبہ ، یہ بتائیے جب آ پ نے قائد اعظم کی پینٹنگ بنای تو تخیل میں وہ کیسے تھے ؟
    بالکل ویسے تھے جیسے میں نے انہیں زندہ و سلامت دیکھا تھا انہیں ملی تھی اور ان کا دست شفقت آ ج بھی میں اپنے سر پر محسوس کرتی ہوں
    yasmeen
    یاسمین صاحبہ آ پ کا پاکستان کے اہم خانوادہ سے تعلق ہے آ پ کے والد محترم ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے اور آ خری وقت میں ان کے ساتھ تھے اس حوالے سے تفصیل سے بتائیے
    جب تحریک پاکستان زوروں پر تھی تو ان دنوں میری عمر سات آ ٹھ سال تھی اتنا بچہ سمجھ دار ہوتا ہے اسے سب یاد ہوتا ہے میں نے اپنے گھر میں قائد اعظم اور پاکستان کا بہت نام سنا تھا میں سب بچوں کو جمع کرلیتی تھی اور جلوس نکالتی تھی ہلیپرز کے بچے بھی آ جاتے تھے اور میری قیادت میں سب بچے مل کر نعرے لگاتے تھے
    لے کے رہیں گے پاکستان
    دینا پڑے گا پاکستان
    پاکستان ہمارا ہے
    جان سے بڑھ کر پیارا ہے
    بہت جوش وخروش کا عالم تھا میرے تصور میں پاکستان ایسا تھا کہ جہاں پھول کھلے ہونگے اور بہت خوبصورت ہوگا جہاں مسلمان خوش رہیں گے اور قائد اعظم مجھے ہمالیہ سے بھی بلند لگتے تھے اور واقعی وہ بہت بڑے عظیم لیڈر تھے آ ج تک کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آ یا
    اور پھر ایک دن وہ بھی آ یا جب ابا نے سب بچوں بڑوں کو ڈراینگ روم میں بلایا سب وہاں جمع تھے اور خاموش تھے ابا نے ریڈیو آ ن کردیا کچھ دیر بعد ایک آ واز گونجی پہ آ ل انڈیا ریڈیو ہے کچھ دیر بعد اہم اعلان کیا جاے گا
    اور پھر بارہ بج کر سات منٹ پر مصطفی ہمدانی نے اعلان کیا ،، یہ ریڈیو پاکستان ہے ،،
    یہ آ واز اب تک میرے کانوں سے نکلتی نہیں ، سب کی آ نکھوں میں خوشی کے آ نسو تھے ، قائد اعظم جب بمبئی میں تھے تو ڈاکٹر پیٹل کے زیر علاج تھے وہ ایک مہلک بیماری ٹی بی میں مبتلا تھے ڈاکٹر پیٹل نے میرے والد صاحب ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے ھیینڈ اوور کردیا کیونکہ والد صاحب اس وقت برصغیر کے نامور ٹی بی سپشلسٹ تھے اور اس سلسلے میں ایوارڈ حاصل کر چکے تھے امریکہ سے انہوں نے اس بیماری پر ریسرچ کی تھی
    اب وہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے قائد اعظم نے میرے والد سے کہا تھا کہ ڈاکٹر شاہ میری بیماری کو سیکرٹ رکھنا ہے اور میرے والد صاحب نے اسے بہت راز میں رکھا قائد اعظم کی حالت ایسی تھی کہ اب وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے ان کی زندگی کی جتنی مدت ڈاکٹرز نے بتا دی تھی والد صاحب کے علاج کے بعد اس مدت میں کچھ اضافہ ہوا اور وہ مزید اٹھارہ ماہ زندہ رہے
    لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر جناح کی بیماری کا علم ہو جاتا تو پاکستان نہ بنتا
    انگریز اور ہندو یہی چاہتے تھے میرے والد صاحب نے بہت رازداری سے علاج کیا اور کسی کو ان کی حالت کی ہوا نہیں لگنے دی یہ میرے والد صاحب کی پاکستان کے لیے خدمت تھی لیکن انہوں نے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا کسی بڑائی کا اظہار نہیں کیا،جب قائد اعظم کراچی آ گئے اور یہیں رہنا چاہتے تھے لیکن ان کی حالت کے پیش نظر والد صاحب اور دوسرے ڈاکٹرز نے آ ب وہوا کی تبدیلی کے لیے انہیں کوئیٹہ زیارت لے جانے کا فیصلہ کیا،کوئٹہ منتقل ہونے کے بعد ان کا علاج جاری تھا ڈاکٹرز کو بہتری کی امید تھی محترمہ فاطمہ جناح بھی ان کے ساتھ تھیں ، اب والد صاحب قائد کے علاج کے سلسلے میں لاہور سے کوئٹہ آ تے جاتے رہتے تھے چونکہ قائد ایسے انسان تھے جو دوسروں کا سوچتے تھے کسی کی تکلیف انہیں گوارا نہیں تھی انہوں نے والد صاحب سے کہا ڈاکٹر شاہ آ پ کی فیملی لاہور میں ہے آ پکو کوئیٹہ آ نا پڑتا ہے آ پ فیملی کو بھی یہاں بلا لیں اس طرح والد صاحب نے ہمیں کوئیٹہ بلوا لیا ہم وہاں چلتان ہوٹل میں رہے ان دنوں میری والدہ کی فاطمہ جناح سے بہت دوستی ہو گئی ہم بچوں کو جہاں قائد اعظم تھے زیارت ریزیڈنسی میں نہیں لے جایا جاتا تھا ایک دن میں اور میرا بھائی ضد کر کے والد صاحب کے ساتھ چلے گئے اس دن قائد اعظم کو وہیل چیئر پر لایا گیا ان کے ایک طرف برٹش نرس اور دوسری طرف محترمہ فاطمہ جناح تھیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا کہ وہ کتنے کمزور ہو گئے تھے جب میں پہلے ان سے ملی تھی تو وہ بہت شاندار نظر آ ئے تھے اور انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا،جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں کراچی واپس لایا گیا وہ اپنے جہاز میں جو پہلے ماؤنٹ بیٹن کا تھا ڈکوٹا اس میں کراچی آ ئے اور ایئر پورٹ سے ایمبولینس روانہ ہوئی جس میں میرے والد صاحب محترمہ فاطمہ جناح اور دوسرے ڈاکٹرز تھے اور اس سے تھوڑے فاصلے پر ہماری گاڑی تھی جس میں ہماری فیملی تھی کچھ دور جانے کے بعد ایمبولینس رک گئی اس کا پچھلا دروازہ کھلا برٹش نرس باہر آ ئیں فاطمہ جناح بھی اتریں ہم پریشان ہوے پھر پتہ چلا کہ ٹکنیکل فالٹ ہے ابھی دوسری ایمبولینس آ جائے گی ، یہاں میں ایک بات بتانا چاہتی ہوں کہ قائد اعظم کا ایمبولینس میں انتقال نہیں ہوا اکثر لوگوں نے کہا اور یہ لکھا ہے لیکن یہ غلط ہے میں نے اپنی آ نکھوں سے ایمبولینس میں قائد اعظم کو دیکھا وہ بے چین تھے ہاتھ ہلا رہے تھے محترمہ سے بات کرنے کی کوشش کر رہے تھے ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھلا تھا قائد اسٹریچر پر تھے اور پیچھے ہماری گاڑی تھی میں رونے لگی اور والدہ نے مجھے تسلی دی کہ قائد کو کچھ نہیں ہوگا ، پھر دوسری ایمبولینس آ گئی اور ہم وہاں سے روانہ ہوئے.کراچی پہنچنے کے تھوڑے دنوں بعد ایک رات محترمہ فاطمہ جناح کا والد صاحب کو فون آ یا کہ کہ قائد کی طبیعت بہت خراب ہے آ پ آ جائیں.میرے والد صاحب نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ جب میں وہاں پہنچا تو محترمہ فاطمہ جناح کی گود میں قائد کا سر تھا ان کا آ خری وقت تھا ان کی آ واز مدھم ہوگئی تھی لیکن موت سے پہلے شاید ایک سنھبالا آ یا اور ان کے آ خری الفاظ تھے اللہ اور پاکستان..

    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ
    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ

    یاسمین صاحبہ ، آ پ خؤش قسمت ہیں آ پ نے عظیم لیڈر کو نہ صرف دیکھا بلکہ آ پ کا بچپن ان کے ساتھ گزرا کچھ محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں بتائیے ؟
    فاطمہ جناح بہت گریس فل ، بہت اچھی شخصیت کی مالک تھیں ہمیشہ سفید یا گرے لباس میں ملبوس ہوتیں مجھے بہت اچھی لگتی تھیں لاہور میں ہمارا فارم ہاؤس تھا دلکشا گارڈن وہ جب بھی لاہور آ تیں وہیں ٹھہرتیں اور میں سب سے پہلے جاکر ان سے ہاتھ ملاتی میرا دل چاہتا تھا میں بھی ان جیسی بنوں ایک دن میرا دل چاھا میں ان کے سفید خوبصورت لباس کو ہاتھ لگا کر دیکھوں میں نے ان کی چادر کو چھوا تو انہیں مجھ پر پیار آ یا انہوں نے مجھے پیار کیا اور کہا تم بڑی ہو جاؤ گی تو اپنے ملک کے لیے کام کرنا ، اور مجھے امید ہے تم ضرور کرو گی

    ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور فاطمہ جناح
    یاسمین صاحبہ اب اپنے سوشل ورک کے بارے میں بتائیے اس سلسلے میں آ پ کی بہت خدمات ہیں ؟
    میں امریکہ میں پندرہ سال رہی ہوں وہاں سے صرف اپنے وطن کی خدمت کے لیے واپس آ ئی ہوں اس کا سہرا شمسی صاحب کو جاتا ہے وہ میرے استاد بھی ہیں ہم نے مل کر ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، ا کے نام سے ادارہ بنایا جس کے تحت غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے اور گھر گھر جاکر مستحق لوگوں کی مدد کی جاتی ہے ، غریب جھگیوں والوں کی مدد کی جاتی ہے ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، کے پریذیڈنٹ زاہد شمسی صاحب اور میں وائس پریزیڈنٹ ہوں
    یاسمین صاحبہ نئی نسل کے لیے کوئی پیغام ؟
    میں ساری دنیا میں گھومی ہوں لیکن میں نے اپنی یوتھ کو سب سے اچھا پایا یہ سب کرسکتے ہیں بس انہیں قائد اعظم کے سنہری اصولوں ، اتحاد ، ایمان ، تنظیم کو اپنانا ہوگا
    میرا خیال ہے اب میں ہی زندہ ہوں جس نے پاکستان بنتے دیکھا ان دنوں کا جوش و جذبہ محسوس کیا اور قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح جیسی عظیم شخصیات کو قریب سے دیکھا والد صاحب قائد اعظم کے صرف پرسنل ڈاکٹر ہی نہیں دوست بھی تھے اور انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن کے دنوں میں ان کی حمایت میں ورک بھی کیا تھا پھر میرے نانا اور ماموں علامہ اقبال کی زندگی میں ان سے مل چکے تھے اور گھر میں علامہ اقبال کی شاعری کا بہت ذکر ہوتا تھا سب انہیں بہت پسند کرتے تھے پھر پاکستان اور قائد اعظم کا بہت ذکر ہوتا تھا اس کے علاؤہ مولانا ظفر علی میرے والد کے پیشنٹ بھی تھے پڑوس میں رہتے تھے ان کے گھر بھی آ نا جانا تھا ان کی شاعری اس وقت میری سمجھ میں نہیں آ تی تھی ، بس ان عظیم شخصیات کے ساتھ گزرا میرا بچپن بہت حسین تھا اور میں انہی یادوں کے ساتھ زندہ ہوں اور نئی نسل سے توقع ہے کہ قیام پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے
    اپنے شوہر محترم اور بچوں کے بارے میں بتائیے ؟
    میرے شوہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید سجاد بخاری صاحب ستارہ امتیاز حاصل کر چکے ہیں بیٹا ڈاکٹر احمد جمال بخاری بیسٹ ڈاکٹر کے متعدد ایوارڈز حاصل کر چکا ہے دو بیٹیاں ہیں بڑی عائشہ بخاری اور چھوٹی شہرزادے بخآری
    یاسمین بخاری صاحبہ آ پ سے مل کر بہت اچھا لگا میں خوش قسمت ہوں کہ آ پ جیسی شخصیت سے ملی اور بات چیت کی
    مجھے بھی اچھا لگا
    یہ میرے لیے اعزاز ہے ، بہت شکریہ

  • پرچی کلچر اور میرٹ کے بغیر کھلاڑیوں کی سلیکشن نے کرکٹ کو تباہ کردیا، شائقین برہم

    پرچی کلچر اور میرٹ کے بغیر کھلاڑیوں کی سلیکشن نے کرکٹ کو تباہ کردیا، شائقین برہم

    باغی ٹی وی.انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) چیمپئنز ٹرافی 2025 کے اہم میچ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 6 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد شائقین میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ کرکٹ مداحوں نے ٹیم کی ناقص کارکردگی، غیر معیاری سلیکشن اور کپتان محمد رضوان کی حکمت عملی پر کڑی تنقید کی۔

    اتوار کے روز دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 241 رنز بنائے، تاہم بھارتی ٹیم نے ویرات کوہلی کی نصف سنچری کی بدولت یہ ہدف صرف 4 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ پاکستانی باؤلرز بھارتی بیٹنگ لائن کے سامنے بے بس نظر آئے، جبکہ بیٹنگ میں بھی کوئی کھلاڑی بڑی اننگز نہ کھیل سکا۔

    پاکستان کی شکست کے بعد شائقین نے سوشل میڈیا اور عوامی مقامات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک مداح نے کہا کہ یہ کھلاڑی اپنی تنخواہ لیں اور کرکٹ چھوڑ دیں کیونکہ ان کی کارکردگی کسی کلب ٹیم سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔ کچھ شائقین نے الزام لگایا کہ ٹیم میں پرچی کلچر عام ہو چکا ہے، اور میرٹ پر کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے کرکٹ زوال پذیر ہے۔

    سابق کپتان بابر اعظم بھی شائقین کی تنقید کا شکار ہوئے۔ ایک مداح نے طنزیہ انداز میں کہا کہ لوگ بابر کو کنگ کہتے ہیں، مگر اس کی پرفارمنس کسی عام کھلاڑی جیسی بھی نہیں۔ ایک اور شائق نے کہا کہ بابر اعظم صرف کمزور ٹیموں کے خلاف رنز بناتا ہے اور بڑے میچوں میں ہمیشہ ناکام ہو جاتا ہے۔

    کپتان محمد رضوان کی قیادت پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور ان کے فیصلوں کو ناقص قرار دیا گیا۔ شائقین نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی اور ٹیم بغیر کسی پلاننگ کے کھیل رہی ہے۔ باؤلنگ میں اہم مواقع پر شاہین شاہ آفریدی کو بروقت نہ لانے اور بیٹنگ آرڈر میں غیر ضروری تبدیلیوں کو شکست کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔

    سلیکشن پالیسی پر بھی سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کرکٹ تجزیہ کاروں اور مداحوں کا کہنا ہے کہ جب تک پسند و ناپسند کی بنیاد پر کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے جائیں گے، پاکستان کی کارکردگی میں بہتری ممکن نہیں۔ ایک سابق کرکٹر نے تبصرہ کیا کہ اگر قومی ٹیم کو عالمی معیار پر واپس لانا ہے تو سلیکشن میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہوگا۔

    پاکستانی ٹیم کی اس شکست کے بعد کرکٹ ماہرین اور سابق کھلاڑی بھی ٹیم مینجمنٹ پر کڑی تنقید کر رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  • برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف خوش آئند ،تحریر: جان محمد رمضان

    برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف خوش آئند ،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے وزیر خزانہ کی جانب سے 3 سے 5 سال کے دوران برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ یہ ہدف صنعتی شعبے کی ترقی اور ملکی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، مگر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کچھ اہم مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔پاکستان کی حکومت نے گزشتہ 12 سے 14 ماہ کے دوران معیشت کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں کمی کے فیصلے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اور دوہرے خسارے کو قابو کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ سرکاری نقصانات کو کم کرنے کے لیے اداروں کی رائٹ سائزنگ کی گئی ہے، جس سے حکومتی اخراجات میں واضح کمی آئی ہے۔

    پاکستان کا صنعتی شعبہ ہمیشہ سے برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اگر حکومت پاکستان کی تجارتی شراکت داریوں کو بڑھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہو گا۔ تاہم، پاکستانی معیشت کو ایک بڑی پریشانی کا سامنا برآمدات میں جمود کی صورت میں ہے۔ پاکستان کو اپنے تجارتی خسارے کو پورا کرنے، بیرونی شعبے کو بہتر بنانے اور مالیاتی ترقی کے لیے برآمدات کو بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔حکومت کے حالیہ اقدامات کے برخلاف، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا جا رہا ہے، جو کہ صنعتی شعبے کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ صنعتی مقاصد کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ماہانہ، سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ اور نئے ٹیکسوں کی بھرمار نے صنعتی شعبے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل ملز اور بڑی فیکٹریوں کا بند ہونا ہزاروں مزدوروں کی بے روزگاری کا سبب بن رہا ہے۔آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں، جس کا اثر بیرون ملک ان کی مانگ پر پڑتا ہے۔ نتیجتاً، برآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں تنزلی کا سامنا ہوتا ہے۔

    اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو فوری طور پر صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں کمی لانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، فیول ایڈجسٹمنٹ کے نظام میں اصلاحات اور صنعتوں کو سہولت دینے کے لیے ٹیکسوں میں کمی ضروری ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور 60 ارب ڈالر تک برآمدات کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔پاکستان کی حکومت کو صنعتی شعبے کی حمایت میں فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ وہ 60 ارب ڈالر کے برآمداتی ہدف کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔ اگر ان چیلنجز پر قابو پایا جاتا ہے تو پاکستان کی معیشت میں بہتری ممکن ہو گی اور برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔

  • ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کے زیر اہتمام امریکہ سے تشریف لائیں منفرد لہجے کی خوش الحان شاعرہ محترمہ قانع ادا کے اعزاز میں سجی ایک ست رنگی شعری نشست جس کی صدارت فرزند لاہور عالی جناب خواجہ جمشید امام نے کی،تقریب کی میزبانی چئیرمین سپریم کونسل ملی ادبی پنچائیت عزت مآب چوہدری رضوان کاہلوں کا مقدر بنی اور نظامت کے فرائض ریاض احمد احسان نے نبھائے- ادب،صحافت،تجارت اور سیاست کے میدان سے تعلق رکھنے والے پانچ درجن سے زائد معززین شہر اور سفیران ادب کی شرکت سے تقریب معتبر ہوئی-

    سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق لاہور عظیم البرکت محمد نواز کھرل کی خصوصی آمد اور گفتگو نے ماحول معطر کیا،ولائت احمد فاروقی نے نعت رسول ﷺ مقبول اس انداز سے پیش کی کہ ساری محفل سبحان اللہ سبحان اللہ کہتی رہی،استاد نذر عباس کی پرفارمنس نے قلب ونگاہ ہی نہیں روح کو بھی سرشار کیا،استاد محترم ممتاز راشد لاہوری نے خوب داد پائی،ڈاکٹر طارق حسین طارق نے فیاضی بانٹی،پروفیسر ضیغم عباس گوندل نے خوشبو بکھیری،فارحہ نوید نے سخن کے پھول نچھاور کیے،سعدیہ ہما شیخ نے مملو و مرصع نظم پیش کی،ڈیوڈ پرسی نے دلوں میں اترنے والا کلام پیش کیا،محترمہ عتیقہ اشرف نے عارفانہ کلام پیش کیا،”بلبل سخن” سجاد بھنڈر نے ولولہ انگیز خطاب فرمایا،طارق حسین لک ایڈووکیٹ نے کلاسیکی لہجے کی خوب ترجمانی کی،چوہدری رضوان کاہلوں نے موٹیویشنل خطاب کیا،گل بات ود چوہدری اسداللہ کاہلوں کے میزبان چوہدری اسد اللہ کاہلوں اور چوہدری ذیشان کاہلوں کی آمد پر ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا،یوسف نثر محترم ناصف اعوان،کیپٹن ر صماد گریوال،معروف سیاسی و سماجی رہنما اسد علی خان،معروف کاروباری شخصیت ہمایوں یوسف کھچی،پنجاب پولٹری ایسوسی ایشن کے ممبر اشفاق حسین،قومی چیمپئن عبداللہ باکسر اور درجنوں خواتین و حضرات نے داد و تحسین کے وہ پھول نچھاور کیے کہ تخلیق کاروں کی آنکھوں کی مقدس جھالریں بار بار شبنمی ہوتی رہیں-

    شہزادہ علی ذوالقرنین نے مختصر اور جامع گفتگو کرتے ہوئے صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا کے فن اور شخصیت پر گفتگو کی- صاحب صدر خواجہ جمشید امام نے خطبہ صدارت میں صاحبہ جشن کی تخلیقات اور ملی ادبی پنچائیت کے کردار پر خوب روشنی ڈالی—– آخر میں صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا نے خوشگوار ماحول میں سازگار گفتگو کرتے ہوئے ملی ادبی پنچائیت کا شکریہ ادا کیا اور شاعری سنائی- محترمہ قانع ادا نے حاضرین کی فرمائش پر ترنم میں پنجابی کلام بھی سنایا جسے خوب پذیرائی ملی-

    ملی ادبی پنچائیت کسی فرد یا ادارے سے کسی قسم کی مالی مدد یا سہولت نہیں لیتی سو ملی ادبی پنچائیت اپنی مدد آپکے تحت معززین شہر سخن کے اعزاز میں اُن کی زندگی میں انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تقریبات کا اہتمام کرتی رہے گی- ان شاءللہ

    ہم ملی ادبی پنچائیت کی تقریبات میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں،عظیم حافیوں،سیاستدانوں،شاعروں،ادیبوں،دانش وروں،خطیبوں اور صنعت و تجارت کی نمائندگی کرنے والے عظیم پاکستانیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں-
    ریاض احمد احسان
    بانی چیئرمین ملی ادبی پنچائیت

  • اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اکیس فروری کو آ واری ہوٹل کے خوبصورت ہال میں ایک منفرد اور یادگار اہل قلم کی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست بہت ہی خاص تھی، جس کا اہتمام دو اہم شخصیات، منزہ سہام صاحبہ اور ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے کیا تھا۔ دونوں خواتین اپنی اپنی شعبوں میں انتہائی قابل اور فعال ہیں۔

    منزہ سہام صاحبہ، جو کہ معروف صحافی اور پچاس سال سے زائد عرصے سے شائع ہونے والے ماہنامہ "دوشیزہ ڈائجسٹ” کی چیف ایڈیٹر ہیں، اس محفل میں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کی صحافت اور ادب میں خدمات کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔ منزہ صاحبہ نے ہمیشہ قلم کی طاقت کو فروغ دیا ہے اور ان کے والدین، سہام مرزا صاحب اور رخسانہ سہام مرزا کے میگزین نے کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہونے کے بجائے ہمیشہ ایک نئی روشنی کی کرن بن کر ادب کی خدمت کی ہے۔

    دوسری جانب، ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ جو آئرلینڈ سے پاکستان آئی ہوئی ہیں، نہ صرف ایک ماہر ڈاکٹر ہیں بلکہ ادب کے میدان میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔ ان کی کتابوں میں "باد سموم”، "ایک تھی ستارہ”، اور "زرد پتوں کی بارش” شامل ہیں، جن میں سے "باد سموم” پر خاصی توجہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی کتاب کا دیباچہ بھی معروف مصنفہ سلمہ اعوان صاحبہ نے لکھا ہے۔

    اس نشست میں سلمہ اعوان صاحبہ کی شرکت نے محفل کو مزید پر رونق بنا دیا۔ سلمہ اعوان صاحبہ جو کہ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد صحت یاب ہو کر آئی تھیں، ان کی موجودگی نے سب کو خوشی کا موقع فراہم کیا۔ ان کے علاوہ مسرت کلانچوی صاحبہ بھی اس محفل میں شریک ہوئیں اور اپنی نئی کتاب "تیرگی میں تارہ” کا تحفہ پیش کیا۔ یہ کتاب ایک نیا سنگ میل ہے اور ادب میں ان کی کامیاب کوششوں کا ثبوت ہے۔اس محفل میں بہت سی اہم شخصیات بھی شریک تھیں جن میں شاہین اشرف علی، فرح ہاشمی، کنول بہزاد، نسیم سکینہ صدف، حبیبہ عمیر، غزالہ فرخ، سعدیہ سیٹھی اور دیگر قلمکار شامل تھے۔ ان تمام اہل قلم نے اس نشست کو کامیاب بنانے میں اپنی اہمیت کا بھرپور اظہار کیا۔

    اس نشست میں مختلف موضوعات پر گہری گفتگو ہوئی۔ منزہ سہام صاحبہ جو کہ کراچی سے آئی تھیں، نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی۔ ان کی باتوں میں کراچی کی مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی حالت کے بارے میں آگاہی تھی۔ ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے آئرلینڈ اور پاکستان کے مابین صحت کے شعبے میں فرق پر بھی روشنی ڈالی اور وہاں کی پریکٹسنگ ڈاکٹری کے تجربات کو شیئر کیا۔محفل کے اختتام پر ایک شاندار اور مزیدار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ اس ڈنر میں اہل قلم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار ماحول میں بات چیت کرتے رہے۔ ڈنر کی تکمیل نے محفل کو ایک خوشگوار یادگار لمحے میں تبدیل کر دیا۔

    یہ نشست ایک بھرپور اور کامیاب محفل تھی جہاں اہل قلم نے ایک دوسرے سے ملاقات کی، مختلف موضوعات پر بات چیت کی اور اپنے تخلیقی کاموں میں مزید ترقی کی دعا کی۔ منزہ سہام صاحبہ کی شخصیت واقعی متاثر کن ہے، جنہوں نے کم عمری میں ہی بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت اور ادب کی دنیا میں ایک نیا مقام بنایا ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو سلامت رکھے اور ان کے تخلیقی کاموں میں کامیابی دے۔ آمین۔