Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مسلمانان جموں کشمیر کی تاریخی جدوجہد اور یکجہتی کشمیر کے تقاضے

    مسلمانان جموں کشمیر کی تاریخی جدوجہد اور یکجہتی کشمیر کے تقاضے

    تحریر: تنویرالاسلام (سابق چئیرمین متحدہ جہاد کونسل جموں کشمیر)

    ریاست جموں و کشمیر دلکش قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے سبب ”جنتِ نظیر” کہلاتی ہے حقیقت میں صدیوں پر محیط ظلم و جبر اور انسانی تکالیف کی وجہ سے ”دکھوں کی سر زمین” ہے جہاں لوگ مدت مدید سے اپنی بقاءاور حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی جدوجہد” مزاحمت اور استقامت” کی ایک روشن مثال بنی ہوئی ہے ۔کشمیری مسلمانوں کی لازوال قربانیاں اور غیر متزلزل عزم اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنی عزت، وقار اور حق خودارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔کشمیری مسلمانوں کو پشت در پشت سیاسی محرومی، معاشی استحصال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا رہا ہے اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اپنے تشخص اور اسلامی اقدار کو بچائے ر کھا ہے۔
    کشمیری مسلمانوں پر منظم جبر کا آغاز 1819ءمیں سکھ حکمرانی کے دور سے ہوا ۔اس دور میں بھاری ٹیکسوں، مذہبی بغض و عناد، سماجی و قانونی استحصال اور ظلم و جبر نے مسلمانوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بدحال کیا ۔1846ءمیں برطانوی سامراج نے معاہدہ امرتسر کے تحت کشمیر کو 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا جس کے نتیجے میں کشمیر میں ظلم و جبر کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔ڈوگرہ حکمرانی کے دوران کشمیری مسلمانوں کو ناقابلِ بیان مظالم، مذہبی پابندیوں، جبری مشقت (بیگار)، بھاری ٹیکسوں اور معاشی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔
    29 اپریل 1865 ءکو کشمیری شال بافوں نے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف صدائے احتجاج بلندکی ۔ اس احتجاج کے دوران 28 معصوم کاریگروں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ 21 جولائی 1924 ءکو سرینگر ریشم خانہ کے مزدوروں نے اجرتوں میں اضافے کے لیے پرامن احتجاج کیا جس کو ڈوگرہ حکمرانوں نے طاقت کے زور پر دبایا۔اس احتجاج کے دوران گولیوں کی بوچھاڑ سے 10 مزدور شہید اور 20 زخمی ہوگئے ۔یہ مظاہرہ جنو بی ایشاءکی تاریخ میں مزدوروں کے حقوق کے لیے اپنی نوعیت کا پہلاواقعہ تھا جس کو بزور طاقت کچلا گیا ۔ریاستی مسلمانوں نے اس ظلم کے خلاف 1930ءمیں ایک موثر تحریک شروع کی۔ 13 جولائی 1931ءکو سرینگر کی سنٹرل جیل کے باہر مظاہرین پر اندھا دھند گولیاںچلائی گئی جس سے 21 معصوم مسلمان شہید کر دئے گئے ۔اس سانحہ نے کشمیری عوام کی تحریک کو جلا بخشی اور اس تحریک کو برصغیر کے مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی جس کے نتےجے میں پنجاب میں مقیم کشمیری مسلمانوں نے ”آل انڈیا مسلم کشمیر کمیٹی” کا قیام عمل میں لایا ۔اس کمیٹی نے کشمیری مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کے لیے 14 اگست 1931ءکو لاہور کے موچی دروازہ میں ڈاکٹر علامہ اقبال ؒکی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقا د کیا ۔اس دن کو ”یومِ کشمیر” کے طورپر منایا گیا اور یہ دن کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی میں تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ۔کشمیر کمیٹی کے خاتمے تک ہر سال 14 اگست کو یوم کشمیر کے طور منایا جاتا رہا ۔کشمیری عوام کے حقوق اور حق حکمرانی کی تحریک اپنے عروج پر تھی جب برصغیر کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کی منظم تحریک کا آغازکیا اور اس دوران قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 1944ءمیں کشمیر کا دورہ کیا ۔کشمیری مسلمانوں نے علامہ اقبال ؒکے ملی نظریے کی تقلید کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے ساتھ وحدت کا مظاہرہ کرکے تحریکِ پاکستان میںبھر پور شمولیت اختیار کی جو اس عزم کی عکاسی تھی کہ کشمیری اپنے مستقبل کو آزادی اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والے مملکت پاکستان کے ساتھ وابستہ دیکھتے تھے ۔بدقسمتی سے برصغیر کی آزادی اور قیام پاکستان کے بعد برطانوی سامراج اور کانگریسی قیادت کی ملی بھگت کے سبب کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننے نہیں دیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتدا ءمیں پاکستان کے ساتھ ‘ا’سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ” کیا مگر بعد میں بھارت سے الحاق کرلیا۔ 27 اکتوبر 1947ءکو بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموںکشمیر میں داخل کر کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ۔کشمیریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور صوبہ سرحد کے قبائلی عوام کی مدد سے ریاست کے ایک حصے کو آزاد کرایا جو آج آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔
    بھارت نے پاکستان پر دراندازی کا الزام لگا کر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جس کے نتےجے میں اقوام متحدہ نے 5 جنوری 1949ءکو کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے ایک تاریخی قرارداد منظور کی جس میں آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا۔ تاہم بھارت نے آج تک ان قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیالیکن جموں کشمیر کی غیور عوام نے حق خودارادیت کے حصول کے لئے سیاسی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھی لیکن حق آزادی سے محروم رہے۔ تنگ آمدبہ جنگ آمد کے مصداق سال 1989ءمیںمسلح جدوجہد کا آغاز کیاسال 1990 ءمیں مقبوضہ کشمیر میں عسکری تحریک عروج پر پہنچی ۔جب بھارتی مظالم میں شدت آگئی تو 5 فروری 1990 ءکو جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے کشمیریوں کی حمایت میں ہڑتال کی اپیل کی جسے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی مکمل حمایت حاصل ہوئی جب سے یہ دن ہر سال”  یوم یکجہتی کشمیر "کے طور پر پاکستان میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینارز، اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس دوران مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی مظالم کی تاریخ ایک لاکھ سے زائد شہداء، ہزاروں زخمی اور بے شمار نقل مکانی کرنے والے افراد کی قربانیوںاور کھربوں روپے کے املاک اور کاروباری نقصانات سے عبارت ہیں ۔بھارت نے کشمیریوں کے جائز مطالبے حق خودارادیت دینے کے بجائے کشمیر کی داخلی خودمختاری سلب کرکے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے بھارت میں ضم کردیا
    مسلمانان جموں و کشمیر 5اگست 2019ءکے بعد بھارت کی پاکستان اور مسلم دشمنی، سخت گیر انتقامی پالسیوں اور امتیازی قانون سازی کی وجہ سے مذہبی آزادی، انسانی حقوق کی شدید پامالیوں ، ثقافتی استحصال کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی تنزلی کے شکار ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کو مزید گمبھیربنایا ہے جو بنیادی طور پر آزادی کشمیر، پاکستان کی سلامتی و استحکام اورہر پاکستانی کے امن و خوشحالی کا مسئلہ ہے۔ بھارتی حکومت کے ”ہندو توا نظریہ“ اور خطرناک منصوبوں کے پیش نظر جہاں آج کشمیری مسلمانوں کاتحفظ و بقا،اسلامی تشخص اور تحریک آزادی کشمیر کا تسلسل انتہائی مشکلات کا شکار ہے وہاں آزاد کشمیر کی سلامتی ،پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات ، سندھ طاس معاہدہ اور سی پیک کا منصوبہ بھی سنگین خطرات کے زد میں ہے۔
    ہندوتوا نظریے کی علمبردار بھارتی حکومت کے جارحانہ عزائم اور کشمیری مسلمانوں کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محض بیانات کافی نہیںبلکہ عملی اقدامات ناگزیر بن چکے ہیں ۔کشمیریوں کے ساتھ حقیقی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ رسمی تقاریب کے بجائے موثر حکمت عملی اپنا کر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحرک کرنے ، کشمیری عوام کی معاشی بدحالی اور متاثرین تحریک کی بحالی کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے ۔کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقاءو ترقی کے لئے حکمت و دانائی سے دور جدید کے تقاضوں کے ہم آہنگ اقدامات کرنے ہوں گے اور دنیا کو باورکرا نا ہوگا کہ کشمیر اور پاکستان ملت واحدہ ہیں اور مسئلہ کشمیر کا عوامی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل جنوبی ایشاءکی امن و ترقی کے لئے لازم و ملزوم ہے

  • سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت. تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت. تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    علامہ اقبال نہ صرف ایک آفاقی شاعر تھے بلکہ وہ عظیم مفکر ، فلسفی ، صوفی ، قانون دان اور مصنف تھے پوری دنیا میں ان کا کلام پسند کرنے والے اور ان کے چاہنے والے موجود ہیں اور اقبالیات ایک وسیع موضوع بن چکا ہے وہ ہر دور کے شاعر ہیں پیغبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں سرشار تھے اور قرآن سے وابستگی نے ان کا اقبال مزید بلند کیا اردؤ شاعری کی طرح ان کی فارسی شاعری بھی لاجواب ہے لیکن فارسی عام زبان نہ ہونے کی وجہ سے ان کا یہ کلام زیادہ منظر عام پر نہیں آ تا

    علامہ اقبال کی ایک شاہکار فارسی نظم جو ،، رموز بےخودی ،، میں موجود ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کو جناب سیدہ کی کتنی معرفتِ تھی وہ جناب رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی گہرائی کو سمجھ گئے تھے کہ ،، فاطمہ بضعتہ منی ،، ( فاطمہ میرا ٹکڑا ہے ) اور یہ حدیث مبارکہ بھی کہ ،، فاطمہ سیدہ ۃ نساء عالمین ( فاطمہ سارے جہان کی عورتوں کی سردار ہے )

    اقبال کہتے ہیں
    مریم از یک نسبت عیسی عزیز
    از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
    ( بی بی مریم سلام اللہ علیہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بزرگ وبرتر ہیں جبکہ فاطمہ زاہرا تین نسبتوں سے بزرگ وعزیز ہیں آ پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نور چشم ہیں جو اولین و آخرین عالم کے رہبر و امام ہیں
    آ نکہ جان در پیکر گیتی دمید
    روز گار تازہ آ ئین آ فرید
    ( وہی رحمت للعالمین جنہوں نے کائنات کے پیکر میں روح پھونک دی اور ایک تازہ دین سے معمور زمانے کی تخلیق فرمائی )
    بانوے آ ن تاجدار ھل اتیٰ
    مرتضیٰ مشکل کشا شیرِ خدا
    ( آ پ ھل اتیٰ کے تاجدار مرتضیٰ شیر خدا کی زوجہ معظمہ ہیں)

    مادر آ ن مرکز پرکار عشق
    مادر آ ن کاروان سالار عشق
    ( ان کی ماں ہیں جو عشق کا مرکزی نقطہ اور پرکار عشق ہیں اور ماں ہیں ان کی جو کاروان عشق کے سردار ہیں )

    آ ن ادب پروردہ ء صبر ورضا
    آ سیا گردان ولب قرآن سرا
    ( صبر ورضا کا یہ عالم تھا کہ چکی پیستی جاتی تھیں اور لبوں پر قرآن جاری رہتا)

    بہر محتاجی دلش آ ن گونہ سوخت
    با یہودی چادر خود را فروخت
    ایک محتاج اور مسکین کی حالت پر ان کو اس قدر ترس آ یا کہ اپنی چادر یہودی کو بیچ ڈالی)

    رشتہ آ ئین حق زنجیر پاست
    پاس فرمان جناب مصطفیٰ است
    (آ ئین حق سے رشتہ تعلیماتِ اِسلام اور رسول اللہ کا فرمان میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دیتا ہے)
    ورنہ گرد تر بتش گردید می
    سجدہ ہا بر خاک او پاشید می
    ( ورنہ میں آ پ کی تربت کے گرد طواف کرتا اور اس خاک پر سجدے کرتا )

    علامہ اقبال کی اس نظم کے آ خری اشعار حیرت انگیز اور بے حد متاثر کن ہیں انہوں نے سیرت جناب سیدہ فاطمہ کا کتنا گہرا مطالعہ کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ میرے پاؤں میں شریعت کی زنجیر نہ ہوتی تو میں ان کی قبر مبارک کا طواف کرتا اور سجدے کرتا ،یقننا جناب سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا ایسی ہی قدر و منزلت والی ہستی تھیں رسول اللہ ان کے آ نے پر کھڑے ہو جاتے تھے ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے تھے اور اپنی جگہ پر بٹھا لیتے تھے وہ شہر علم تھے علم نبوت کی رو سے جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کے پیارے بیٹے اپنے نانا کے دین پر قربان ہونگے اور وہ کفار مکہ جو ان کو طعنے دیتے تھے کہ آ پ کا کوئی بیٹا نہیں ہے آ پ کی نسل ختم ہوجائے گی اللہ نے اپنے پیارے حبیب کی نسل ان کی بیٹی سے چلائی ،اس زمانے میں جب جاہل عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کی قدر و منزلت فرمائی ان کو ہر طرح کے حقوق دینے بیٹی کے بچوں کو کندھے پر بٹھایا اور کہا حسن وحسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ،مدینے کے عیسائی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے انکار کرتے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں فرمایا کہ
    ،، اے رسول یہ تم سے عیسیٰ کے بارے میں بات کرتے ہیں تم ان سے کہہ دو کہ تم اپنے بیٹوں کو لاؤ ہم اپنے بیٹوں کو لاتے ہیں تم اپنی عورتوں کو لاؤ ہم اپنی عورتوں کو لاتے ہیں تم اپنے نفسوں کو لاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو لاتے ہیں اور پھر عیسیٰ کے بارے میں مباہلہ کرتے ہیں اور پھر جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ،،
    ( آیت نمبر 61 ، پارہ تیسرا ، محل نزول مدینہ)

    سورۃ آل عمران کی ان آ یات کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی حکم کے مطابق اپنے بیٹوں کے طور پر اپنے نواسوں حسن وحسین علیھم السلام اور فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیھا اور حضرت علی علیہ السلام کو لے کر میدان مباہلہ میں نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کرنے گئے تھے ،فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے بچوں نے بچپن میں ہی اپنے نانا جان کے ہمراہ توحید کی روشنی سے جہان کو منور کیا اور اپنی عالی مرتبت ماں کی تربیت سے ایک زمانے کو حریت وصداقت کا درس دیا

    اقبال فرماتے ہیں
    سیرت فرزند ہا از امات
    جوہر صدق وصفا از امات
    مزرع تسلیم را حاصل بتول
    مادران را اسوہ کامل بتول
    ( فرزندوں کوسیرت اور روش زندگی ماؤں سے ورثے میں ملتی ہے صدق وخلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے اور تسلیم اور عبودیت کی کھیتی کا حاصل بتول ہیں اور ماؤں کے لیے نمونہ کامل بتول ہیں)

    ( 3 جمادی الثانی جناب سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے یوم رحلت پر لکھا گیا مضمون)

  • ظرافت نگاری کی شان شوکت تھانوی .تحریر :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ظرافت نگاری کی شان شوکت تھانوی .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں ۔اور یہی خوبی انہیں باقی تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ایک ایسی ہی شخصیت شوکت تھانوی کی بھی تھی جو اپنے فن سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔شوکت تھانوی نے اردو ادب کی ہر صنف میں اپنا مقام بنایا ۔شوکت تھانوی مزاح نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں ۔وہ اردو ادب میں بہترین ناول نگار تھے افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے ۔

    شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا ۔وہ 3فروری 1904ءکو بھارت کی ریاست اتر پردیش میں پیدا ہوئے ۔ان کا آبائی وطن تھانہ بھون تھا اس لیے اپنے نام کے ساتھ تھانوی لکھتے ۔اردو ادب میں شوکت تھانوی کی کئی جہتیں ہیں وہ ادیب ،صحافی،شاعر،ڈرامہ نگار ،افسانہ نویس ،کالم نویس ،فلمی مکالمہ نویس ،فلمی کہانی نویس ،ناول نگار صدا کار اور ریڈیو فیچر نگار تھے ۔یہاں تک کہ انہوں نے ایک فلم میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ۔شوکت تھانوی ان شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے ذوق و شوق ،محنت و لگن ہمت و کوشش اور اہل فیض و صحبت سے ادب میں اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا ہے ۔بڑے سے بڑے اور سنجیدہ سے سنجیدہ مسلے کو وہ اپنے مخصوص ظریفانہ انداز میں حل کر لیتے تھے ۔

    عام طور پر ایک مزاح نگار کے بارے میں یہ تاثر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بھی سنجیدہ نہیں ہوگا لیکن شوکت صاحب اپنی زندگی میں نہایت سنجیدہ انسان تھے ۔وہ اپنے ایک خاکے "عشرت رحمانی”میں لکھتے ہیں کہ جن حضرات نے ان کے افسانے ،ناول اور مزاحیہ مضامین پڑھے ہیں وہ سمجھتے ہوں گے کہ شوکت صاحب کی زندگی کا کوئی لمحہ سنجیدگی سے نہیں گزرا ہو گا ،مگر یہ ان کی خام خیالی ہے ۔شوکت تھانوی جیسے مزاح نگار تھے اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے ۔

    شوکت تھانوی نے ادب کی جن اصناف میں طبع آزمائی کی ان میں خاکہ نگاری بھی شامل ہے ۔اس میں انہوں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے اور نمونے کے طور پر دو مجموعے "شیش محل”اور "قاعدہ بے قاعدہ”پیش کئے ۔ان دو مجموعوں کو بیحد شہرت ملی ۔ان کا ہر ناول دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ شگفتگی کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ان کی خصوصیات معاشرتی تصور ہے ۔

    ان کا مزاح تجربات اور مشاہدات کی عکاسی کرتا ہے ۔
    وہ زیادہ تر عملی زندگی کے واقعات سے مزاح پیدا کرتے تھے اور ان کے کرداروں کی تخلیق وہ اپنی آس پاس کی زندگی زندگی سے ہی کرتے تھے ۔
    شوکت تھانوی میں قوت مشاہدہ ،باریک بینی اور قوتِ اظہارکی خوبیاں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں ۔
    ان کی نظموں کے موضوعات گھریلو ،سماجی،سیاسی اور غیر سیاسی ہیں جس میں ہر برائی ،خامی اور ناہمواری کو ظریفانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ان کی ایک نظم فیملی پلاننگ ،مفلسی اور کثرت اولاد سے متعلق ہے ۔اس نظم میں ایک غریب آدمی کثرت اولاد کے مخالف ہے۔
    اور اپنے لخت جگر کو دنیا میں آنے سے پہلے کہتا ہے کہ وہ مفلسی کے اس حال میں پیدا نہ ہو ۔
    اے میرے بچے میرے لخت جگر پیدا نہ ہو
    یاد رکھ پچھتاۓ گا تو میرے گھر پیدا نہ ہو
    شوکت تھانوی اس صورتحال کو ظرافت کے پیرائے میں بڑی خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

    شوکت تھانوی ایک مزاح نگار ،شاعر،افسانہ نگار اور ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ صحافی بھی تھے ۔ان کی زیادہ تر تخلیقات اخبار اور رسائل کے ذریعے عوام کے سامنے آئیں ۔
    ان کی صحافتی زندگی کے متعلق احمد جمال پاشا لکھتے ہیں کہ شوکت تھانوی پیدائشی صحافی تھے ۔ان کی صحافتی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی میں 1920ءسے ہوا ۔اس وقت ان کی عمر صرف 16سال تھی جب شوکت تھانوی نے ذاتی طور پر اپنا قلمی رسالہ نکالا ۔منشی واجد علی لطف لکھنوی رسالہ "حسن ادب”لکھنؤ سے نکالتے تھے ۔1925ءمیں شوکت تھانوی نے اس رسالے کی بھی ادارت کی ۔اس کے علاوہ ان کے چچا زاد بھائی ارشد تھانوی 1928ءمیں ایک پرچہ "تحریک ہفتہ وار یار” بھوپال سے نکالا کرتے تھے اور جب وہ لکھنؤ منتقل ہوۓ تو اس پرچے کو لکھنؤ سے جاری کیا اور اس میں شوکت تھانوی کو بھی شامل کیا ۔اس اخبار کا فقاہیہ کالم جو
    "لالہ زار "کے عنوان سے لکھا جاتا تھا اس کو شوکت تھانوی کے سپرد کر دیا ۔وہ مختلف اخبارات میں
    "حرف و حکایت "اور "پہاڑ تلے”کے عنوان سے کالم نویسی بھی کیا کرتے تھے ۔

    شوکت تھانوی ریڈیو سے بھی وابستہ رہے ۔انہوں نے ریڈیو پر نشری اصناف پر طبع آزمائی کی شگفتہ اور دلچسپ تحریروں کو نشر کیا ۔اس طرح شوکت تھانوی کے تخلیقی سرمائے میں غیر نشریاتی ادب کے ساتھ ساتھ نشریاتی ادب کا ذخیرہ بھی ملتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شوکت تھانوی براڈکاسٹنگ کا بھی ایک روشن ستارہ تھے ۔1938ءمیں انہوں نے صحافت سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔آل انڈیا ریڈیو سے ڈرامہ نگار کی حیثیت سے وابستہ ہوگئے ۔ساتھ ہی ساتھ صدا کاری بھی کرنے لگے ۔پھر جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو آپ لاہور آگئے اور ریڈیو پاکستان لاہور سے منسلک ہو گئے فیچر نگاری کرنے لگے اور مختلف پروگرامز کے علاوہ اپنا معروف پروگرام "قاضی جی”بھی پیش کرتے تھے ۔ان کا یہ پروگرام ریڈیو کا مقبول ترین پروگرام تھا ۔جس کا اسکرپٹ خود شوکت تھانوی لکھتے تھے اور قاضی جی کا کردار بھی خود ہی ادا کرتے تھے ۔

    ریڈیو کی نشریاتی اصناف میں ریڈیو تقاریر ،ریڈیو ڈرامہ اور مضامین شامل ہیں ۔ان سبھی پر شوکت تھانوی نے لکھا ہے لیکن نشریاتی ادب میں شوکت تھانوی کو خاص شہرت و مقبولیت ریڈیو ڈرامہ کی وجہ سے ملی ۔کیونکہ ریڈیو ڈرامہ نشریات اور ادبی حیثیت سے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ریڈیو پر شوکت تھانوی کا پہلا ڈرامہ "خدا حافظ”نشر ہوا جس میں ہیرو کا کردار بھی خود شوکت تھانوی نے ہی ادا کیا ۔اس کے بعد انہوں نے ریڈیو سٹیشن کی طرف سے ایک منفرد سیریز بھی پیش کی جس کا عنوان "منشی جی”تھا ۔

    ڈراموں میں شوکت تھانوی نے ایک مزاحیہ کردار کا سہارا لے کر معاشرتی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو ظرافت کے پیرائے میں نہ صرف پیش کیا بلکہ نہایت لطیف اور دلکش انداز میں روزمرہ کی زندگی پر طنز کیا۔
    شوکت تھانوی چھوٹی بڑی تخلیق میں جدت اور نیا پن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔شوکت تھانوی کے ہر مکالمے اور جملے برجستہ اور دلچسپ ہوتے ۔شوکت تھانوی کے ریڈیو ڈراموں کی ایک کتاب "سنی سنائی”بھی ہے ۔کم وقت میں زیادہ لکھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ان کی تصانیف کی کثیر تعداد ہے ۔ان کی تصانیف میں سو دیشی ریل سب سے زیادہ مشہور ہے ۔اس کے علاوہ موج تبسم ،طبر تبسم ،سیلابی تبسم ،بحرتبسم ،طوفان تبسم ،بار خاطر ،جوڑ توڑ ،سنی سنائی ،خدا نخواستہ،بقراط،قاعدہ باقاعدہ ،الٹ پھیر ،لاہور یار ،قاضی جی،منشی جی،بھابھی،کچھ یادیں کچھ باتیں ،غالب کےڈرامے ،کٹیا ، بیگم ، داماد،خامخواہ ،نیلوفر،غزالہ،وفا کی دیوی ،مولانا ،شیطان کی ڈائری اور پگلی وغیرہ شامل ہیں ۔شوکت تھانوی کی کئی تصانیف نصاب میں بھی شامل ہیں جن میں شاہین بچے اور لاڈلا بیٹا سر فہرست ہے ۔ان کے خاکوں کا مجموعہ "شیش محل” کے نام سے شائع ہوا ۔
    اسی طرح ان کی خود نوشت سوانح عمری بھی تحریر کی جس کا نام ہے”ما بدولت ” ۔
    یادداشتوں پر مشتمل کتاب”کچھ یادیں”کے عنوان سے شائع ہوئیں ۔
    حکومت پاکستان نے شوکت تھانوی کی خدمات کے صلے میں تمغہ امتیاز سے نوازا ۔ادب کی دنیا میں شوکت تھانوی کا نام روشن ستارے کی طرح چمکتا رہے گا (انشاء اللہ)
    اردو ادب کے اس نامور ادیب اور مزاح نگار کا انتقال 4مئی 1963ءکوانسٹھ سال کی عمر میں ہوا ۔ان کی آخری آرام گاہ لاہور کے میاں میر قبرستان میں واقع ہے ۔

  • ایک کالم صرف لڑکیوں کیلئے۔۔۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ایک کالم صرف لڑکیوں کیلئے۔۔۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    یہ دور سوشل میڈیا کا ہے، جہاں فاصلے سمٹ چکے ہیں، اور ہر کوئی دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کسی سے بھی رابطہ کر سکتا ہے۔ محبت کے جذبات بھی ان ڈیجیٹل راستوں پر بہنے لگے ہیں، جہاں ایک تصویر، ایک میسج، ایک ویڈیو کال کسی کو دل کے قریب کر دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ محبت حقیقت میں بھی اتنی ہی گہری اور سچی ہوتی ہے جتنی کہ دکھائی دیتی ہے؟اونیجا اینڈریو رابنس نامی یہ امریکی خاتون گذشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں موجود ہیں اور اُس کی موجودگی خبروں اور تبصروں کی زینت بن رہی ہے۔ویزا کی معیاد پوری ہونے اور پاکستانی اور امریکی حکام کی متعدد کوششوں کے باوجود وہ واپس امریکہ جانے سے انکاری ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی میں ایک پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا ہو کر اُس کی تلاش میں پہنچی تھیں۔

    یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو امریکہ میں پلی بڑھی، آزادی اور خودمختاری کی زندگی گزار رہی تھی۔ مگر دل پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔ فیس بک پر ایک پاکستانی نوجوان سے دوستی ہوئی، اور پھر یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ دن رات کی گفتگو، وعدے، خواب، اور یقین دہانیاں اسے اس حد تک لے آئیں کہ اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔یہ اس کامحبت کا سفر تھا یا زندگی کی سب سے بڑی غلطی؟۔یہ لڑکی سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئی، دل میں خوشی، امید، اور محبت کا چراغ جلائے۔ اس نے یقین کر لیا تھا کہ جس شخص سے وہ ملنے جا رہی ہے، وہ اس کا سچا محبت کرنے والا ہے، جو اسے عزت، خوشی اور تحفظ دے گا۔ لیکن جیسے ہی وہ پاکستان پہنچی، اس کا خواب ٹوٹ گیا۔ وہ لڑکا جو اسے ایئرپورٹ پر لینے آنا تھا، غائب ہو چکا تھا۔بار بار کال کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں، میسجز بھیجنے پر کوئی ردعمل نہیں، اور جب اس نے گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ وہ لڑکا حقیقت میں کہیں اور مصروف تھا، اور اس کے جذبات محض ایک کھیل تھے۔ وہ لڑکی ایک اجنبی ملک میں، اکیلی، بے سہارا، اور دل شکستہ کھڑی رہ گئی۔

    یہ کہانی ایک سبق ہے۔یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک سبق ہے ان تمام لڑکیوں کے لیے جو سوشل میڈیا کی محبت کو حقیقت سمجھ کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر بیٹھتی ہیں۔محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ محبت اور دھوکہ میں فرق کیا جائے۔ فیس بک، انسٹاگرام، یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی کے میٹھے بول اور جھوٹی محبت کے جال میں آ کر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ایک بڑی نادانی ہے۔آنکھیں بند کر کے اعتبار نہ کریں۔سوشل میڈیا پر کسی سے تعلق بنانا آسان ہے، لیکن اعتبار کرنے سے پہلے تحقیق کرنا ضروری ہے۔ جو شخص آپ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ حقیقت میں کیسا ہے؟ کیا اس کی باتوں میں سچائی ہے؟ کیا وہ واقعی آپ کے لیے کچھ کر سکتا ہے یا محض وقت گزاری کر رہا ہے؟ یہ سب جانچنا ضروری ہے۔محبت میں جلد بازی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔محبت ایک خوبصورت احساس ہے، لیکن اگر یہ جذبات میں بہہ کر کی جائے تو نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ کسی سے محض آن لائن بات چیت کے بعد اس پر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا حماقت ہے۔اپنے خاندان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔اگر کوئی واقعی آپ سے محبت کرتا ہے تو وہ آپ کے خاندان کے سامنے آنے سے نہیں گھبرائے گا۔ اگر کوئی شخص آپ کو چھپ کر، خفیہ طور پر ملنے یا کسی اور ملک آنے کے لیے مجبور کر رہا ہے تو یہ واضح اشارہ ہے کہ کچھ غلط ہے۔ خود کو قیمتی سمجھیں ،کسی بھی لڑکی کی عزت، خودداری، اور زندگی کسی کے جھوٹے وعدوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ کوئی بھی شخص جو آپ کی سچائی کا فائدہ اٹھا کر آپ کے جذبات سے کھیل رہا ہو، وہ آپ کے لائق نہیں۔ایسی کہانیوں کو دہرانے سے کیسے بچا جائے؟یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر ہونے والے ان گنت دھوکوں میں سے ایک ہے۔

    آئے دن ہم ایسی خبریں سنتے ہیں کہ کسی لڑکی نے کسی اجنبی پر بھروسہ کر کے اپنی زندگی برباد کر لی۔ اس سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں: کسی سے آن لائن دوستی ہونے پر پہلے مکمل تحقیق کریں۔ محبت کے جذبات میں جلد بازی نہ کریں۔کسی اجنبی پر بغیر ملے اور سمجھے اعتبار نہ کریں۔اگر کوئی شخص سچی محبت کرتا ہے تو وہ کبھی بھی آپ کو خود سے الگ نہیں کرے گ۔ااپنی عزت نفس، خودمختاری اور وقار کو ہر چیز سے زیادہ اہم رکھیں۔اس کے نتیجہ میں سچی محبت وہی ہے جو عزت دے۔سچی محبت وہی ہوتی ہے جو عزت دے، اعتماد دے، اور سب کے سامنے ہو۔ جو محبت چھپانی پڑے، جو آن لائن وعدوں اور جھوٹے خوابوں پر قائم ہو، وہ محض ایک دھوکہ ہوتی ہے۔وہ امریکی لڑکی شاید اب اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی پر پچھتا رہی ہو گی، لیکن اگر اس کی کہانی کسی اور لڑکی کے لیے سبق بن جائے، تو شاید وہ اپنی زندگی برباد ہونے سے بچا سکے۔ محبت خوبصورت ہے، لیکن اس کے لیے آنکھیں کھلی رکھنا ضروری ہیں۔یاد رکھیں عزت ہی سب کچھ ہے۔عزت وہ اثاثہ ہے جو نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ کسی کو دے کر واپس لیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ قیمتی متاع ہے جو اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو پوری زندگی کی تگ و دو بھی اسے واپس نہیں لا سکتی۔ دولت، شہرت، محبت سب کچھ فانی ہے، مگر عزت وہ دائمی دولت ہے جو انسان کی پہچان بنتی ہے۔ جو عزت کو قربان کر دے، وہ سب کچھ کھو دیتا ہے۔ اپنی عزت کی حفاظت کرنا ہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے قیمتی ہے، تو وہ عزت ہے—اور عزت ہی سب کچھ ہے!یہ کالم صرف لڑکیوں کے لئے ہے، امریکن لڑکی کی حالت پر غور کریں اس سے سبق سیکھیں،کیونکہ جو آپکے لئے آپ کے والدین سوچتے ہیں ، اسی میں عافیت اور بھلائی ہے، وگرنہ فیس بک کی دوستی پرامریکن لڑکی کی پاکستانی لڑکے سے شادی کے نام پر ذلالت تو آپ نے دیکھ ہی لی ہے

  • انقلابی شاعر    فیض احمد فیض کی داستان حیات

    انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی داستان حیات

    اردوشاعری کو بین الاقوامی سطح دینے والے انقلابی شاعر
    فیض احمد فیض
    کے حالات زندگی اور قلم و کتاب سے ملواتی تحریر

    تحریر:ظفر اقبال ظفر
    قوت شفا سے لبریز نرم دل آویزدھیمہ لہجہ جن کی آواز جیسے کوئی بہت پیار سے دل کے رخسار پر ہاتھ رکھ دے جنہوں نے اپنے اور اگلے دور کی عوام کے جذباتوں کی ترجمانی کی معاشرے کے مسائل سمیت سیاسی تقاضوں کو شاعری کا مرکز بنایا ان کا شعر درد محبت سے بھی چُورہے کلاسیقی سطح پر ایک نیا جہاں روشن کیا ان کی ہر نظم غزل شعر لفظ میں خیال کی پھل جڑی ہے اپنے معنی کے تخلیقی تجربے سے اردو کی کائنات کو روشن کیا ماضی کی تمام بڑی شخصیات کا شعری خون کلام فیض کی رگوں میں دوڑتا ہے انسانی دوستی عدل و انصاف کا مسیحا محبتوں کا سفیر جذبات و احساسات کا ترجمان اردو کا فخر و ناز جرت اظہار کا معتبر نام فیض احمد فیض جن کا اصلی نام فیض محمد خان تھا۔

    آپ 13 فروری 1911کو سیالکوٹ کے نواحی قصبے کالا قادرمیں پیدا ہوئے والد کا نام بیرسٹرچوہدری سلطان محمد خان تھا جن کی دوستی علامہ اقبال ،سر سلمان ندوی، سر عبدالقادر، ڈاکٹر ضیا الدین جیسی قدآور شخصیات سے تھی، والد فیض والی افغانستان کے چیف سیکرٹری اوربرطانیہ میں افغان سفیر رہ چکے تھے والدہ سلطان فاطمہ گھریلو خاتون تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کی مثالی تربیت کی، فیض صاحب اور ان کے دونوں بھائیوں کو ایک چوینی جو خرچ کے لیے ملتی تھی ان کے بھائی وہ لٹو اور پتنگ جیسے کھیلوں میں خرچ کر دیتے مگر فیض صاحب دو پیسے میں محلے کی لائبریری سے کتابیں کرائے پر لا کر پڑھا کرتے تھے ،فیض صاحب نے چھوٹی سی عمر میں کلاسیقی نظم اور نثر کی بیشتر کتابیں پڑھ لی تھیں۔طلسم ہوش رُبا۔فسانہ آزاد۔عبدالحلیم شرر کے ناول سمیت موجود ادب کی تمام مشہور کتابوں کا مطالعہ ان کا جنون بن گیا اردو کے تمام استادوں کے شعری نظری مجموعے ان کے زہن کی زمین پر نصب ہو چکے تھے سادگی زبان میں امیر مینائی اور داغ سے بے حد متاثر ہوئے زمانہ سکول میں خواہش والد پر انگلش فنکشن کا مطالعہ بھی کیا جس میں چازڈیکن۔رائٹ ہیگز۔آرتھر کونل ڈویل جیسے رائٹر ز کو پڑھ ڈالا تھا۔

    مادری زبان پنجابی تھی قرآن پاک کی تعلیم گھر میں حاصل کی تین سپارے حفظ کیے زندگی کے پچھتاوے میں ایک یہ بھی ہے کہ مرض چشم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مکمل قرآن پاک حفظ نہ کر سکے عربی اور فارسی کی تعلیم علامہ محمد اقبال ؒ کے استاد شمس العلما مولوی میر حسن سے حاصل کی مشن سکول سیالکوٹ میں ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا جہاں سے پہلی پوزیشن میں میڑک کا امتحان پاس کیا۔علامہ اقبال ؒ کی معرفت سے گورنمنٹ کالج لاہورمیں داخلہ ملا یہاں انگریزی ادب اور نیشنل کالج لاہور سے عربی میں ایم اے کیافیض صاحب شاعر جرنلسٹ استادکے علاوہ ہر انسانی حال کی الگ الگ خوشبو تھے۔

    فیض صاحب کو بچپن میں مقابلہ کلام میں پہلا کلام لکھنے پرشمس العلما مولوی میر حسن صاحب سے ایک روپیہ بطورانعام ملا۔”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ” اپنے جذبات کے اظہار کے لیے یہ ان کی پہلی نظم تھی جیسے اُن کی شاعری کا اہم ترین سنگ میل سمجھا جاتا ہے ایک ابھرتے ہوئے شاعر کا پیغام تھا کہ اُس کے شعرو خیالات عوام کی امانت ہیں فیض صاحب کا پہلا مجموعہ نقش فریادی کے نام سے چھپاجو 1940میں منظر عام پر آیا اور ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گیا ،فیض صاحب کہتے ہیں پیام ایک ہی ہے کہ پروش لوح و قلم کرتے رہیں گے صرف وہی لکھو جو دل پہ گزرتی ہے کیونکہ وہی دوسرے دل پر اثر کرتی ہے، فیشن و ثواب کے لیے مت لکھوکیونکہ آپ قلم کے جتنے بڑے بھی کاریگر ہوں آپ کا لکھا ہوا مصنوعی خیال کا پردہ چاک کر دیتا ہے اور معلوم پڑ ہی جاتا ہے کہ اپنے دل سے بات کہی ہے یا یہ کسی لالچ خوشامد نقالی میں کہی ہے، بس بنیادی بات یہی ہے دل پہ گزری لکھو،انسان کی اپنی ذات بہت حقیر چیز ہے، اس کی اپنی ذات کا وقار توقدرت کے کاروبار زندگی میں اک زرہ ہے وہ قدرت کے دریا کی اک بوند ہے اگر قطرے میں دریا دیکھائی نہ دے تو واسطہ نقلی ہے لکھاری کو تو قطرے کو دجلہ دیکھنا ہوتا ہے یہی حقیقی لکھاری کا حسن قلم ہوتا ہے۔

    فیض صاحب کو پہلا عشق اٹھارہ برس کی عمر میں ہوا سوال ہوا کہ اسے زندگی میں حاصل کیوں نہ کیا فیض صاحب شرم و حیا کا پہرہ دینے والے خون و تربیت کے مالک تھے جس سے عشق ہوا اُس کے سامنے زبان اظہار کی ہمت ہی نہ کر سکے، یک طرفہ پیار کی آگ مین جلتے رہے اور اُس لڑکی کی شادی کسی جاگیردار سے ہو گئی اس لڑکی کا تعلق افغان گھرانے سے تھا، یہ نو عمر لڑکی ان کے ہمسائے میں رہتی تھی، فیض صاحب اپنے کمرے کی کھڑی سے اسے آتے جاتے دیکھا کرتے تھے، فیض صاحب نے اُس لڑکی سے منسلک اپنی خاموش محبت کی دیوانگی میں شعروں کے ڈھیر لگا دئیے ،اُن کا عشق اپنے شباب پر تھا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ان کو سیالکوٹ سے لاہور جانا پڑا،پھر فیض صاحب چھٹیوں میں لاہور سے سیالکوٹ آئے تو کھڑکی کی دوسری جانب انہیں وہ چہرہ نظر نہ آیا ،انہوں نے کسی سے دریافت کیا تو علم ہوا کہ اُس کی شادی ہو گئی ہے ،فیض صاحب اس خبر سے ٹوٹے دل کے ساتھ واپس لاہور آ گئے .

    معزز قارئین میں آپ کو بتاتا چلوں کہ دل کا ٹوٹنااور ناکامی کا حادثہ یہ قدرت کے وہ مراحل ہوتے ہیں جو انسان کو مضبوط و منفرد بناتے ہیں تاکہ وہ بڑے مقام پر بڑی عوامی تعداد کا ترجمان بننے کے لیے تیار ہو سکے کہتے ہیں، خدا ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے یہ دلیل دل ٹوٹنے کو فائدے کا سودا بتاتی ہے کیونکہ جس دل میں خدا کا بسیرا ہو جائے وہی انسان مخلوق خدا کا محبوب بنتا ہے اور ناکامی ایک مقام سے گزر کر اُس سے بڑے مقام پر پہنچنے کا راستہ دیکھاتی ہے ایک بندی فیض صاحب کی نہ ہوئی مگر فیض صاحب زمانے کے ہو کر رہ گئے آئیے اب آگے بڑھتے ہیں اُس عورت کی جانب جس نے فیض صاحب کی زندگی کو مکمل و شاداب کر دیا۔

    1941میں الیس جوج سے فیض صاحب نے والدہ کی رضامندی سے شادی کر لی الیس جوج نے فیض دوستی میں دیس کے ساتھ بیس اور وطن کے ساتھ زبان بدل لی الیس جوج سے پہلی ملاقات ہندوستان میں ہوئی تب فیض صاحب امرتسر کے ایم او کالج میں انگریزی کے لیکچرار تھے پرنسپل ایس پی کالج تاثیر صاحب کے ہاں اکثر شاعر ادیب لکھاری اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ ہفتہ اتوار کو جمع ہوا کرتے تھے جن میں فیض صاحب بھی تشریف لاتے وہاں الیس جوج سے ملاقات دوستی میں بدلی، دوستی شادی میں بدل گئی، فیض صاحب کا خاندان پنجابی چوہدری جٹ جو فیملی سے باہر شادی نہیں کرتے تھے مگرفیض صاحب پابند و تنگ سوچ سے پاک تھے، الیس جوج نے اسلام قبول کیا اور الیس سے مسلمان ہو کر کلثوم بن گئیں ،کلثوم اور فیض صاحب کا نکاح شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کشمیر کے سری نگر میں پڑھوایا،جس میں ایک تحریری معاہدہ بھی ہوا ،جس میں فیض صاحب نے دوسری شادی نہ کرنے اور طلاق کا حق الیس یعنی کلثوم کو سونپ دیا ،اُس وقت شادی کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں کیونکہ جنگ عظیم چھڑ چکی تھی، بحری راستے بند ہونے کی وجہ سے دلہن کو برطانیہ سے لانے کا خواب من چاہے ارادے کے مطابق پورا نہ ہو سکا، اس لیے بارات میں چندلوگ ہی تھے جن میں فیض صاحب کے چھوٹے بھائی اور ایک دوست تھے بعد میں اس موقع پر مشاعرہ ہوا تھا جس میں جوش ملیح آبادی بھی شریک تھے

    فیض صاحب کی زاتی پسند کے خلاف وقت و حالات نے پانچ برس تک برٹش آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ میں بطورکیپٹن رہنے پر مجبور کیا ،فیض صاحب بتاتے ہیں کہ فوج کی تربیت یہ تھی کہ یہ نمک جو تم کھاتے ہو یہ اس لیے ہے کہ تم اس کا تقاضہ پورا کرو یعنی نمک حرام نہ بنواور فرض پورا کرو اس کے برعکس فیض صاحب یہ اپنی بات منوائی کہ اس طریقے سے کام نہیں چلے گا اورسپاہوں سے یہ کہنا چاہیے کہ اپنے وطن کی خاطر حفاظت کے لیے تم لڑ رہے ہو ،تم نمک کے لیے نہیں لڑ رہے ہو اور فیض صاحب کی یہ بات نہ صرف مانی گئی بلکہ سپاہوں کو اس کے تابع بھی کیا گیا ،فیض صاحب اپنی قابلیت و عقل کی وجہ سے کچھ ہی عرصہ میں میجر پھر کرنل بھی گئے ،پھر 1947میں پاکستان بنتے ہی انہوں نے فوج سے محکمے کو چھوڑ دیا اورفوج سے صحافت کی جانب اپنا رخ کر لیا اپنے دوست میاں افتخار الدین کے کہنے پر انگریزی اخبارپاکستان ٹائم کے ایڈیٹر بن گئے، ان کی دور اندیش نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ آزادی کے خواب کی تعبیر ابھی کوسوں دُور ہے تقسیم کے نام پر انسانیت کی تزلیل اور خون ریزی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے قیام پاکستان کے وقت ہی آزادی کا مرثیہ لکھ دیا تھا وہ پاکستان ٹائم اور اردو روزنامہ امروز کے اداروں میں ارباب اختیار کی توجہ مقصد کی جانب دلاتے رہے یو ں ان کا قلم آزادی کی حقیقی ترجمانی میں فکر اقبال کا فرض بھی نبھاتا رہا ،فیض صاحب مزدوروں کے درد کو بھی اپنے سینے میں محسوس کرتے ہوئے وہ حقوق مزدور کی آواز بن کر پانچ سال لیبر ایڈویزری کمیٹی کے سرپرست رہے ٹریڈ یونین قائم کی انہیں منظم کیا اور فیڈریشن کے صدر بھی منتخب ہوئے۔

    جنوری 1959کی ایک دوپہر لاہور کی سڑک پر ایک عجیب منظر تھا ایک تانگہ دوڑے چلا جا رہا ہے ،پیچھے دو سپاہیوں کے درمیان ایک شخص ہاتھ کڑی پہنے بیٹھا ہے جس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چہرے پر بلا کا اعتماد ہے جیسے غریب مزدورریڑھی والے سب اپنے محبوب کوپہچانتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اورتانگے کے ساتھ ساتھ ایک بڑھتا ہوا ہجوم دوڑ رہا ہے ،تانگے کی یہ سواری عاشقوں کے جھرمٹ میں سینٹرل جیل لاہور سے ڈینٹل کلینک کی جانب چلی جا رہی ہے ،تانگے میں سوار یہ وہ شخصیت ہے جیسے علامہ اقبال ؒ کے بعد ملک کاسب سے مشہور ترین شاعرفیض احمد فیض کہا جاتا ہے، نہ کوئی جرم نہ کوئی گناہ 1958میں جنرل ایوب کا مارشل لا لگایا گیا تو انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا کہ یہ عوامی آواز ہی نہیں بلکہ طاقت بھی تھے، اسی لیے اس عوامی پکار کو دبانے کے لیے جمہوری ہیرو فیض احمد فیض صاحب کو جیل میں قید کر لیا گیااور کہا گیا ایک بار لکھ کر دے دیں کہ مارشل لا حکومت کے خلاف کچھ نہیں بولیں گے مگر فیض صاحب نے صاف انکار کر دیا اور چار ماہ کی قید کاٹنے کے بعد رہائی ملی ،فیض صاحب پر بغاوت اور حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگایا جاتا،9مارچ 1951 فیض صاحب راولپنڈی سازش میں گرفتار ہوئے، ان کی دونو ں صاحبزادیاں دس سالہ سلیمہ اور چھ سالہ منیزہ کبھی والد کوہاتھ کڑیوں میں تو کبھی جیل کی سلاخیوں کے پیچھے دیکھتی ہوئی کئی برس والد سے جدائی کی تکلیف برداشت کرتی رہیں بالآخرچار سال سے زائد مدت کے بعد 1955میں انہیں رہائی ملی۔

    فیض صاحب خود کو اپنے بھائی طفیل کی موت کا ذمہ دار سمجھتے رہے، 1952میں طفیل فیض صاحب سے ملنے حیدرآبادجیل میں آنے والے تھے کہ فجر کی نماز کے وقت دل کا دورہ پڑا جس نے بھائی طفیل کی جان لے لی، فیض صاحب کو حادثے کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیوی الیس کلثوم کوجیل سے خط لکھاکہ آج صبح میرے بھائی کی جگہ موت میری ملاقات کو آئی تھی یہ لوگ میری زندگی کے عزیز ترین متاع مجھے دیکھانے لے گئے ،وہ متاع جو اب خاک ہو چکی ہے اور پھر وہ اسے ساتھ لے گئے ،میں نے اپنے غم کے غرورمیں سر اونچا رکھا اور کسی کے سامنے نظر نہیں جھکائی یہ کتنا مشکل اور کتنا اذیت ناک کام تھا ،یہ میرا دل ہی جانتا ہے۔اگلے خط میں انہوں نے لکھا کہ میں اُن کے بیوی بچوں اور ماں کے خیال کو دل سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہوں میں نے اپنی ماں کی پہلی اولاد چھین لی ہے ،ہاں میں نے ہی سب کو اُن کی زندگی سے محروم کر دیا ہے حواس اس قدر پراگندہ ہیں کہ زیادہ لکھ نہیں سکتا ،یہ غم بہت اچانک اور بے سبب لگا ہے لیکن اسے سہنے کا حوصلہ مجھ میں ہے میرا سر نہیں جھکے گا۔اس صدمے کا اثر فیض صاحب پر کافی عرصہ طاری رہا انہوں نے کچھ دن بعد اپنے بھائی کا نوحہ ایک نظم کی صورت میں لکھ کر اپنی زوجہ کو روانہ کیا۔

    فیض صاحب کو ملکی و عالمی حالات کی خبریں جیل میں بھی ملا کرتی تھیں وہ ان پر غزلیں اور نظمیں لکھا کرتے تھے فیض صاحب کی شاعری ہنگامی یا وقتی نہیں بلکہ آفاقی اور دائمی ہوتی فیض صاحب کے شہرہ آفاق شعری مجموعے،دست صبا،اور،زندہ نامہ، قیام اسیری کی ہی لازوال تخلیقات ہیں، قید خانے سے بیوی اور بچیوں کے نام لکھے خطوط کا مجموعہ صلیبیں میرے دریچے میں کے نام سے لکھا قیدو بند کی جن جن آزمائشوں سے فیض صاحب گزرے ہیں ان میں آپ کی زوجہ الیس جوج کی غمخواری حوصلہ مندی کے بغیر ان جان لیوا مراحل سے یوں اعتماد اور یقین محکم سے گزرنا ناممکن تھا ،ساری زندگی اپنے محبوب شاعر شوہر کی ہمت بننے والی الیس جوج نے وفا کی مثال تو رقم کی ہی تھی مگر سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی کی صورت میں جو دوکلیاں فیض صاحب کے دامن میں ڈالیں جن کی مہک سے فیض صاحب کی زندگی معطر ہو گئی الیس جوج کی دل کشی اور حسن سیرت نے فیض صاحب کو ہمیشہ نہال رکھا دونوں ہونہار بیٹیوں نے والد کی میراث میں ملنے والے تحفے علم و ادب اور فنون لطیفہ کے شاندار تابناک ورثے کی دل و جان سے ناصرف حفاظت کی بلکہ اس سے اپنے ملک و قوم کو مستفید بھی کیاپاکستان ٹیلی وژن کو منزہ فیض نے اپنے پانچ سالہ دور میں جس طرح چلایا اور دیکھایا وہ وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

    وہ عبداللہ ہارون تعلیمی ادارہ لیاری کراچی کے پرنسپل ہوئے توعلم کی روشنی سے اس علاقے کو روشن کر ڈالا کھڈا مارکیٹ میں جہاں غربت جہالت اور منشیات کا راج تھا وہاں ٹیکنیکل سکول اور آڈٹیوریم قائم کیا اپنی جمع پونجی اسی کام پر لگا دی فیشرمین کارپوریٹو سوسائٹی قائم کی تو ادارے کی آمدن سے سو بچے مفت تعلیم حاصل کرتے فیض صاحب پاکستان ٹائم،امروز، لیل ونہار جیسے اُس دور کے نامور اخبارات و میگزین کے مدیر اعلیٰ بھی رہے 1959سے1962تک فیض صاحب نیشنل کونسل آف آرٹ کے سیکرٹری اور بعد میں نائب صدر بھی رہے ،انہوں نے 1959میں جاگو ہوا سویرا کے نام سے ایک فلم کی کہانی بھی لکھی جو مشرقی پاکستان میں بننے والی پہلی اردو فلم تھی، جنرل ایوب حکومت نے اس فلم کو کیمونسٹ پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اس فلم پر پابندی لگا دی تھی ،مگر ان کی شاعری و افکار کی روشنی مشرق و مغرب تک پھیل چکی تھی ،وطن پاکستان کی حاطر1965کی جنگ میں فوج سے وابستہ ہوئے اور سپاہوں کے لیے نظمیں اور گیت لکھ کر ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے ان کی کتاب دست تہ سنگ بھی انہی دنوں شائع ہو کر منظر عام پر آئی۔

    وہ دامن وطن کے تار تار کی خیر مانگتے رہے اور طاقت کے نشے میں ڈوبے لوگوں نے ان کی آواز حق کو نظر انداز کر دیا اور اقتدار کی چھینا جھپٹی میں پاکستان ایک بازو سے محروم ہو گیا اور عوام دیکھی کی دیکھتی رہ گئی، فیض صاحب کی واقفیت ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان دونوں سے تھی اس کے باوجود وہ اس واقعے پر دونو ں کو ذمہ دار سمجھتے رہے ،مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر فیض صاحب کی روح زخمی ہو گئی اور وہ اس موضوع پر اپنے احساسات و جذبات سپرد قلم کرتے رہے، ان کی وہ درد ناک نظمیں آج بھی ان کے درد کو پڑھنے والے سینے میں محسوس ہوتی ہیں۔

    بھٹو دور میں مشیرثقافت بنے پاکستان کے ٹوٹے اور روٹھے حصے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کو معافی تلافی صلح صفائی کی گراہوں سے دو حصوں کو جوڑنے کا وفد لے کر وہاں پہنچے، اُس وقت یہ افواہ تھی کہ بھٹو فیض صاحب کو بنگلہ دیش میں پاکستان کا سفیر مقرر کرنا چاہتے تھے ،مگر بنگلہ دیشی قیادت نے پاکستان سے تعلقات قائم کرنے میں کوئی گرمجوشی نہ دیکھائی، جس کا فیض صاحب کو تاحیات دکھ رہا آپ نے اس موقع پر کہا کہ ہم تو یہ سوچ کر گئے تھے کہ احباب سے ملیں گے، اپنی سنائیں گے ،اُن کی سنیں گئے ،گلہ گزاریاں ہوں، گئی دوستی و محبت کے رشتے استوار کریں گے مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا ،جیسے گئے ویسے ہی لوٹ آئے ،5جولائی 1977کو جنرل ضیا نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا اور فیض صاحب کی جلا وطنی کا نیا دور شروع ہو گیا

    معززقارئین آپ نے کبھی بھی ماضی کا کوئی بھی دور حکومت جاننا ہو تو آپ کو چاہیے کہ اُس دور کا ادب پڑھیں فقط ادب ہی ایک ایک سچی و مضبوط روشنی ہوتی ہے تو آپ کو اندھیروں میں حقائق تک آشنائی دیتی ہے ،سچے لکھاری محب انسانیت ہوتے ہیں، انہیں سچ کا قلم تھام کر عوام کے درد کو لکھنا ہوتا ہے، یہی وجہ تھی کہ شاعروں کی نئی و پرانی نسل ان سے اس قدر متاثر تھی کہ فیض صاحب ان کے اندر درجہ محبوبیت پر فائز تھے ،فیض صاحب کی بے پناہ مقبولیت کا ایک اور انداز ان کی لازوال بے مثال نظموں وغزلوں کی گلوکاری ہے، فیض صاحب بلاشبہ ایک عظیم لجینڈباکمال شاعر ،عظیم انسان جو اپنی زندگی سے منسلک ہر کردار کو اس خوبصورتی سے نبھاتے کہ وفا ان پر ناز کرتی ،پہلی محبت میں ناکامی کے باوجود فیض صاحب کا کہنا کہ محبت ہوتی ہی پہلی ہے، اس کے بعد ہیرا پھیری ہوتی ہے وہ ہر کسی سے احساس اپنائیت میں ملتے اور ملنے والے کو لگتا کہ جانے کب کا رشتہ ہے ،رائٹر لوگ کائنات کے ہر ذرے کو اہمیت وعزت دیتے ہیں ،حیات کے ہر تلخ و شیریں منظر کو قبول کر کے زندگی کو شکریہ کا موقع دیتے ہیں ،یہ ممکن نہیں کہ آپ اردو جانتے ہوں اور فیض احمد فیض کو نا جانتے ہوں ،مجھے پڑھنے کے دنوں میں ہی ان کا تعارف حاصل تھا میں ترقی پسندتحریک کا ممبر تھا جو پی ڈبلیو اے رائٹر ایسوسی ایشن تھی ،یہاں سیکھنے والوں کا ایک حصہ میں بھی تھا، اس وقت اردو ادب کے ستارے ستار جعفری، ساحر لدھیانوی، کرشن چندربیدی جیسے دیگر احباب تھے جو گھر والے تھے اورگھر والوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کس کا کیا مقام ہے یہ ادب کے ستارے جس کا نام عبادت کی طرح لیا کرتے تھے وہ فیض احمد فیض صاحب تھے جن کی شاعری پر مبنی کتاب یہاں سب پڑھتے تھے ،اس لیے ان کا مقام ذہن نشین ہو چکا تھا، وہ فقط استاد ہی نہیں تھے بلکہ ایسے لیڈر و راہنما تھے جوتحریک کومحبوبہ کی طرح مخاطب کرتے تھے، وقت کی نبض رکتی ہے توملکہ ترنم نورجہاں اُن کی نظم گاتی ہیں اور وقت کی نبض چلنے لگتی ہے۔

    فیض صاحب کی شاعری بڑے بلند قد کی ہے جسے سمجھنے کے لیے علم و شعور کا وسیع ہونا لطف اندوز کرتا ہے جن کی سمجھ میں کچھ آئی اور کچھ نہ آئی اُن میں سے ایک میں بھی ہوں فیض صاحب استاد ہیں جن کے ہر پہلو تک ہماری رسائی نہیں پہنچ سکتی جبکہ ان کے کلام میں وسیع معانہ افرنی دل سوزی ترجمانی محبت شامل ہیں، میرا مطالعہ کم ہے اور مشاہدہ اس سے بھی کم ہے مگر پھر بھی میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے زبان کا حسن طرز بیاں کسی اور قلم میں نہیں دیکھا،انجمن ترقی پسند مصنفین چاہتے تھے کہ ادیب خیالی محل کی بجائے زمینی حقائق پر نظم اور نثر کی بنیاد رکھیں، فیض صاحب نے تن من دھن لگا کر ایک شعوری گروپ تشکیل دیا جن کے زیرسایہ گاؤں گاؤں جا کر مزدوروں کسانوں کو حالات وجغرافیہ کا علم دینے لگے ،شام تک کالج میں فروغ تعلیم کی ذمہ داری نبھاتے، اس کے بعد رات گئے تک خدمت خلق میں مصروف رہتے، فیض صاحب دیہاتی زندگی کے مسائل سے واقفیت رکھتے تھے، معاشرے کا سب سے نچلاطبقہ ان کی خدمت کا مرکز رہا ،غریبوں مزدوروں کے دکھ کو ذاتی غم بنا کر دور کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے، فیض صاحب ایشاءکے پہلے شاعر ہیں جنہیں روس نے” لیلن امن ایوارڈ”سے نوازاجو نوبل انعام کا ہم پلا مانا جاتا ہے ،73سالہ زندگی کے ہمیشہ رہنے والے نشان چھوڑنے والے فیض صاحب 20نومبر 1984میں انتقال کر گئے ،ان کو ماڈل ٹاؤن لاہورکے قبرستان میں دفن کیا گیا، ان کی رحلت کے ساتھ ہی روایات غم جاناں، غم دوراں اور رومان کا منفرو دل کش عہد تمام ہو گیا ،مگر فیض صاحب کی شخصیت و کلام ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا ان کے انتقال کے بعد حکومت پاکستان کی فیض صاحب کی اردو ادب کی خدمات پر انہیں ہلال امتیاز سے نوازاجسے ان کی زوجہ کلثوم نے قبول کیاتھا۔

  • ٹرمپ پالیسیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی،چوکنا رہنا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ پالیسیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی،چوکنا رہنا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں مسخرے پن کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا،بھانت بھانت کی بولیاں
    دنیا بھر میں بدلتی صورتحال پر پاکستان کیلئے زیادہ احتیاط کی ضرورت،سب ایک ہوجائیں
    تجزیہ شہزاد قریشی
    بین الاقوامی بدلتی ہوئی پالیسیوں کے پیش نظر پاکستان کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی گلیاروں میں مسخر ے پن کی حدوں کو کراس کرنے والوں کی اکثریت میں اضافہ ہو چکاہے۔ لہذا ذمہ داران ریاست کو بہت ہی زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان خطے کا ایک انتہائی ملک ہے۔ بین الاقوامی پالیسیاں بالخصوص نئے امریکی صدر ٹرمپ کے تابڑ توڑ فیصلوں سے عالمی سیاست میں ہلچل سی پیدا کردی ہے۔ امریکی صدر کے فیصلوں کااثر دنیا کے کئی ملکوںپر پڑنے والا ہے۔ جس سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایران کو دھمکی دے دی گئی ہے۔ بھارت کی مثال لے لیں ،ٹرمپ کی کامیابی پر بھارتی میڈیا ڈھول کی تھاپ پر ناچنے کے مترادف اُچھل رہا تھا۔ ٹرمپ اور مودی کی دوستی کے چرچے ہو رہے تھے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ امریکہ سے غیر قانونی بھارتی شہریوں کو پکڑ پکڑ کرنکالا جا رہا ۔ ابھی مودی حکومت جو روس اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر برکس میں شامل ہوا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ اسکا بھی بھارت سے جواب طلبی کرنے والا ہے ۔ غزہ میں جنگ بندی تو ہو گئی ہے تاہم مشرق وسطی کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ روس اور یو کرین کا کیا ہوگا ان دنیا کے بدلتے ہوئے حالات پر اور امریکی سیاست نے جو انگڑائی لی ہے اس سلسلے میں سردست کچھ لکھنے کی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں نفرت کی سیاست میں اضافہ ہورہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ دور کی نفرت کی سیاست میں ملک وقوم کا خیر خواہ کون ہے؟ موجودہ نفرت کی سیاست میں اور بین الاقوامی بدلتی پالیسیوں کو دیکھ کر پاک فوج اور جملہ اداروں پر ملک وقوم کی حفاظت ان کی سلامتی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ امریکہ نے چین ،کینیڈا، میکسیکواور دوسرے ممالک پر ٹیرف لگا کر ایک نیا پنڈورہ بکس کھول دیا ہے۔ اس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑیں گے ۔ ادھر یورپی یونین ایک نیا اقتصادی ماڈل بنا رہا ہے ۔ بین الاقوامی حالات اور پالیسیوں کے موجودہ دور میں فہم فراست اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا جائے۔ سیاستدان مسخرے پن کی سیاست سے باہر نکل کر ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر سیاست کریں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں کے بارے میں افوا ہ سازی سے گریز کریں ۔

    یادرکھیئے اداروں کو بقا اور شخصیات کوفناحاصل ہے جس ملک میں ادارے مضبوط ہوں وہاں فیوڈل روئیے دم توڑ دیتے ہیں جہاں فیوڈل نفسیات غالب ہوں وہاں اداروں کے لئے آکاس بیل بنی رہتی ہےنہ خودبرگ و آب ہوتی ہے اور نہ کسی کو ثمر آور ہونے دیتی ہے۔بین الاقوامی اُفق پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کو زمانہ حاضر کے مطابق ترجیحات اور اہداف مقررکرنا ہو

  • فساد کا ذمہ دار کون؟ مسلم یا غیر مسلم؟

    فساد کا ذمہ دار کون؟ مسلم یا غیر مسلم؟

    فساد کا ذمہ دار کون؟ مسلم یا غیر مسلم؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    دنیا میں فساد اور بدامنی کا مسئلہ ایک عالمی حقیقت ہے، جس کے بارے میں مختلف نظریات اور خیالات پیش کیے جاتے ہیں۔ مغربی میڈیا اور کچھ مخصوص حلقے بار بار یہ بیانیہ دہراتے ہیں کہ دہشت گردی اور جرائم کے زیادہ تر واقعات میں مسلمان ملوث ہوتے ہیں، لیکن جب ہم اعداد و شمار اور حقائق کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں تو یہ دعوی بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ دنیا میں فساد اور دہشت گردی کے اصل عوامل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مختلف جرائم کے حوالے سے مستند اعداد و شمار کا تجزیہ کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ دنیا میں بدامنی اور جرائم میں زیادہ تر کون لوگ ملوث ہیں۔

    اگر ہم دنیا میں جسم فروشی، چوری، ڈکیتی، شراب نوشی، قتل، منشیات اسمگلنگ اور منظم جرائم کی فہرستوں کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان جرائم میں ملوث افراد کی اکثریت غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق دنیا کے وہ ممالک جہاں جسم فروشی سب سے زیادہ عام ہے، وہ زیادہ تر عیسائی یا دیگر غیر مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ اسی طرح، وہ ممالک جہاں چوری، ڈکیتی اور قتل کی شرح سب سے زیادہ ہے، ان میں بھی زیادہ تر غیر مسلم آبادی والے ممالک شامل ہیں۔ اگر ہم دنیا میں سرگرم خطرناک غنڈہ گرد گروہوں اور منشیات اسمگلنگ مافیاز کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان گروہوں کے زیادہ تر سرغنہ غیر مسلم ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود مغربی میڈیا مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مغربی میڈیا جان بوجھ کر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ تشکیل دیتا ہے اور انہیں بنیاد پرست اور شدت پسند قرار دیتا ہے۔ جب کوئی غیر مسلم کسی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث پایا جائے تو اسے ذہنی مریض، نفسیاتی طور پر غیر مستحکم یا کسی ذاتی محرومی کا شکار فرد قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اگر کوئی مسلمان کسی جرم میں ملوث ہو جائے تو فورا پوری مسلم کمیونٹی کو اس سے جوڑ دیا جاتا ہے اور اسلام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار صرف میڈیا تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پالیسیوں میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مسلمانوں کو بلاوجہ مشتبہ قرار دے کر ان کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، جبکہ غیر مسلم مجرموں کے جرائم کو زیادہ تر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو مکمل طور پر امن، بھائی چارے اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بھی قسم کے تشدد، قتل و غارت اور معاشرتی بگاڑ کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ قرآن اور حدیث میں واضح ہدایات موجود ہیں کہ کسی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود اگر کچھ افراد جو مسلمان کہلاتے ہیں، جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پوری امت مسلمہ کو ان کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ کسی بھی معاشرے میں کچھ افراد ایسے ضرور ہوتے ہیں جو قانون شکنی کرتے ہیں، لیکن کسی مخصوص قوم یا مذہب کو جرائم سے جوڑنا سراسر تعصب اور غیر منطقی رویہ ہے۔

    ہمیں اپنی شناخت اور اسلامی اقدار پر فخر کرنا چاہیے اور دنیا کو یہ باور کرانا چاہیے کہ اسلام واقعی امن و سلامتی کا دین ہے۔اسلام امن، بھائی چارے اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بھی قسم کے تشدد، قتل و غارت اور معاشرتی بگاڑ کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اگر کچھ مسلمان جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری امت مسلمہ کو ان کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ ہمیں چاہیے کہ مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں اور دنیا کے سامنے اسلام کا اصل پیغام پیش کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم تحقیق اور مستند معلومات کو فروغ دیں اور اپنے نوجوانوں کو تعلیم اور شعور سے آراستہ کریں۔ دنیا میں فساد پھیلانے والے کسی ایک مذہب یا قوم سے تعلق نہیں رکھتے، بلکہ جرائم میں ملوث افراد ہر مذہب اور قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ تعصب اور نفرت سے بالاتر ہو کر حقائق کا جائزہ لیں اور دنیا کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔

  • ڈاکٹر عطش درانی .انتخاب:  ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر عطش درانی .انتخاب: ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    22 جنوری 1952ء
    یوم پیدائش عطاء اللہ
    30 نومبر 2018ء
    یوم وفات اردو کو کمپیوٹر کی زبان بنانے والے ڈاکٹر عطش درانی،ہمارے کمپیوٹر پر فیس بُک/ٹویٹر پر لکھا گیا ہر اردو لفظ اسی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ﷲ پاک انہیں جوار رحمت میں جگہ دے جنہوں نے کمپیوٹر کی دنیا میں ہم گونگوں کو زبان بخشی اور قومی زبان ڈیجیٹل میڈیا پر پروان چڑھی۔جس نے ہمیں اردو سے محبت کرنیوالے کئی نئے ہیرے اور موتی دیئے۔
    ڈاکٹر عطش درانی پاکستان کے ایک ماہر لسانیات، محقق،تنقید نگار، مصنف، ماہر تعلیم اور ماہر علم جوہریات تھے۔
    ان کا پیدائشی نام عطا اللہ خان تھا۔انہوں نے 275 کتابیں لکھیں اور متعدد اطلاقیے بنائے۔نیز اردو اور انگریزی میں 500 مقالے لکھے۔عطش درانی کی ان علمی و تحقیقی خدمات پر انہیں تمغہ امتیاز اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
    احسان دانش سے شاعری میں اصلاح لیا کرتے تھے پھر انہی کی کہنے پر شاعری چھوڑ کر نثر پر توجہ دی۔ 1976ء میں سید قاسم محمود کی سربراہی میں مکتبہ شاہکار میں اسلامی انسائیکلو پیڈیا اور متعدد کتابوں پر کام کیا۔سیارہ ڈائجسٹ کی ادارت تین برس تک کی اور مجلس زبان دفتری کے حوالے سے لاہور میں گورنمنٹ سروس اور اردو نامہ کی ادارت کی۔حکومت پنجاب کے رسالے ”اردو نامہ“ کی ادارت سنبھالی اور ایک سرکاری جریدے کو علمی تحقیقی جریدے میں تبدیل کر دیا۔ حکومت پنجاب کی ملازمت سے پھر قومی مقتدرہ زبان میں چلے گئے اور وہاں طویل عرصہ گزار کر لسانیات کے حوالے سے خاطر خواہ کام کیا۔قومی مقتدرہ زبان کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ ’’پاکستانی زبانیں‘‘ کے سربراہ رہے، نیشنل بک کاؤنسل کی نوکری سال ڈیڑھ سال کے لیے کی۔

    اصطلاحات سازی
    خادم علی ہاشمی اور منور ابن صادق کے ساتھ مل کر علم التعلیم، سائنس اور فنیات کے اصطلاحات سازی پر اصطلاحات مرتب کیں جنہیں مقتدرہ قومی زبان نے اصطلاحات فنیات اور تعلیمی اصطلاحات کے عنوانات کے تحت شائع کیا۔
    گھوسٹ حرف تھیوری (Ghost Character Theory)
    اس تھیوری کے مطابق تمام عربی، فارسی اور پاکستانی زبانوں کے بنیادی 52 حروف میں بیس ہزار حروف تہجی تیار ہو سکتے ہیں۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ اب ایک ہی سافٹ وئیر اور کی بورڈ پر تمام زبانوں میں کام ہو سکتا ہے۔
    جسے ‘خالی کشتیوں’ کی تھیوری بھی کہتے ہیں۔گھوسٹ کریکٹرز وہ حروف ہیں جو بے نقط ہوں اور انہیں تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ استعمال کیا جا سکے۔ڈاکٹر عطش درّانی کے مطابق ان کریکٹرز کی تعداد 19 ہے:، ا، ب، ح ، د ، ر، س، ص، ط، ع ، ف، ق، ک، ل، م، ں، ہ، و ، ی۔
    یہ کریکٹرز عربی رسم الخط سے آئے جب ایران نے عربی رسم الخط اپنایا تو انہوں نے چند نئے حروف متعارف کروائے جن میں نقطے اور ایک لائن ہو۔
    یہی رسم الخط ہندوستان آیا تو ان پر چار نقطوں کا اضافہ ہو گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، عربی اور فارسی زبانوں میں تین بنیادی گھوسٹ کریکٹرز شامل ہو گئے۔و، ہ، گ ، ھ، ے، تھے۔وہ زبانیں جو عربی رسم الخط استعمال کرتی ہیں۔ان میں گھوسٹ کریکٹرز کی تعداد 22 ہے جو یہ ہیں:ا ب ح د ر س ص ط ع ف ک گ ل م ن ں و ہ ء ی ھ ے

    مکمل 52 بنیادی کریکٹرز کم از کم 660 بنیادی حروف بناتے ہیں۔
    660 گھوسٹ بنیادی حروف 19800 رسمی حروف بناتے ہیں۔
    کل ملا کر 20600 حروف بنتے ہیں۔
    ان کی پیش کردہ اس گھوسٹ تھیوری سے انٹرنیشنل Unicode پر مختلف الفاظ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
    اس کے علاوہ اس کی مدد سے ڈاکٹر عطش درّانی نے کمپیوٹر پر مختلف زبانوں کے الفاظ کے استعمال کو بہتر بنایا ہے۔تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ سندھی، پنجابی، سرائیکی، پشتو، براہوی، بلتی، شنا، کشمیری، گوجری کو کمپیوٹر پر لکھا جا سکتا ہے

    خراج تحسین:
    معروف ڈراما نویس، شاعر اور کالم نویس امجد اسلام امجد نے ان الفاظ میں انہیں خراج تحسین پیش کیا:
    "اردو کے ایک جدید اور بین الاقوامی معیارات کے درجے اور صلاحیت کی زبان بنانے کے سلسلے میں ان کا کام بے حد وقیع ہی نہیں مستقبل گیر اور سمت نما بھی ہے۔
    وہ اپنے بھاری بھرکم جسمانی وجود کی طرح ایک غیر معمولی اور وسیع تر ذہن کے مالک تھے اور اردو رسم الخط کو کمپیوٹر کے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق بنانے کے سلسلے میں ان کی تحقیق اور علمی اجتہادات یقیناً ایک بہت قیمتی تحفہ ہیں اور ان کی خدمات کو صحیح معنوں میں خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہتر طریقہ بھی غالباً یہی ہے کہ ان کی جلائی ہوئی شمعوں کو روشن رکھا جائے۔”
    تصانیف
    عطش کی آخری تصنیف کتاب الجواہر جو البیرونی کی تصنیف کتاب الجماہر فی معرفة الجواہر کے اُس حصے کا ترجمہ ہے جو جواہرات سے متعلق ہے، نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے جولائی 2018ء میں شائع کی۔اسلامی فکر و ثقافت ، مکتبہ عالیہ لاہور نے 1980ء میں شائع کی۔مغربی ممالک میں ترجمے کے قومی اور عالمی مراکز، قومی مقتدرہ زبان نے 1986ء میں شائع کی۔”لسانی و ادبی تحقیق وتدوین کے اصول” ، 19 ابواب اور 419 صفحات پر مشتمل کتاب نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کی۔
    کتابیات قانون ، قومی مقتدرہ زبان، 1984ء
    پاکستانی اردو کے خد و خال ، قومی مقتدرہ زبان، 1997ء
    لغات و اصطلاحات میں مقتدرہ کی خدمات ، قومی مقتدرہ زبان، 1993ء
    اردو اصطلاحات نگاری (کتابیاتی جائزہ) ، قومی مقتدرہ زبان، 1993ء
    اردو اصطلاحات نگاری (تحقیقی و تنقیدی جائزہ) ، قومی مقتدرہ زبان، 1993ء
    اصناف ادب کی مختصر تاریخ ، 1982ء
    اماں سین ، 2002ء شامل ہیں
    30 نومبر 2018 ء کو عطاء اللہ المعروف ڈاکٹر عطش درانی انتقال کر گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون)
    اللّٰہ تعالیٰ ڈاکٹر عطش درانی کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین)

  • سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سرحد کے اس پار .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی برف باری بھی بڑھ چکی تھی۔ کشمیر کی پہاڑیوں پر ہر طرف سفید چادر تنی ہوئی تھی۔ برف کے ننھے گالے آسمان سے گرتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی نرمی سے چھو رہا ہو، مگر حقیقت میں یہ لمس بے حد ٹھنڈا تھا، بالکل ویسا ہی جیسا نصیب کے تھپڑ ہوتے ہیں۔

    ریحان اپنی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں ان پہاڑوں پر جمی تھیں جن کے اس پار وہ دنیا تھی جس سے اس کا ناطہ خون کے رشتے کی طرح تھا، مگر وہ وہاں جا نہیں سکتا تھا۔ اس کا گھر، اس کا بچپن، اس کے خواب… سب وہیں کہیں رہ گئے تھے، لکیر کے اس پار۔پانچ فروری کی صبح تھی۔ پورے علاقے میں احتجاج کا شور تھا۔ کشمیر کی آزادی کے نعرے گونج رہے تھے۔ بچے، بوڑھے، جوان سبھی سڑکوں پر تھے۔ ریحان کا دل بھی چاہا کہ وہ بھی باہر جائے، چیخے، چلاّئے، مگر وہ جانتا تھا کہ چیخنے سے زنجیریں نہیں ٹوٹتیں۔ وہ سوچنے لگا کہ آخر یہ دن صرف ایک دن کیوں محسوس ہوتا ہے؟ یہ دن تو سال کے ہر دن ہونا چاہیے، ہر لمحہ، ہر سانس کے ساتھ۔ریحان کی زندگی ایک عام کشمیری نوجوان کی طرح ہی تھی، مگر جب اس کے والد کو رات کے اندھیرے میں گھر سے اٹھا کر لے جایا گیا، تو وہ عام زندگی نہیں رہی تھی۔ والد کے غائب ہونے کے بعد اس کی ماں صرف چند مہینے زندہ رہ سکی۔ وہ خاموشی سے مر گئی۔ کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ بیماری نے مارا یا غم نے۔اب ریحان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا، سوائے اس امید کے جو وہ برسوں سے سینے میں دبائے جی رہا تھا۔ وہ ہر روز اپنی بہن حنا کی تصویریں دیکھتا، جو سرحد پار رہ گئی تھی۔ جب ہجرت کے وقت وہ دونوں بچھڑ گئے، تب حنا صرف چھ سال کی تھی۔ آج وہ کیسی ہوگی؟ شاید بڑی ہو گئی ہو، شاید اس نے بھائی کو بھلا دیا ہو، یا شاید وہ بھی ہر روز کھڑکی سے اسی پہاڑ کو دیکھتی ہو جس پر وہ نظریں جمائے بیٹھا تھا۔آج وہ سڑک پر نکل آیا۔ مظاہرے میں شامل ہونا اس کا خواب تھا، مگر حقیقت میں یہ خواب ایک خطرہ بھی تھا۔ باہر فوجی موجود تھے، آنسو گیس کے شیل برس رہے تھے، گولیاں چل رہی تھیں، مگر لوگوں کی آواز دب نہیں رہی تھی۔ نعرے بلند ہو رہے تھے، "ہم کیا چاہتے؟ آزادی!”

    اچانک گولیوں کی آواز گونجی۔ ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی۔ آنکھوں میں دھواں، کانوں میں چیخیں اور دل میں ایک عجیب سا خوف تھا۔ مگر ریحان نہیں رُکا۔ وہ آگے بڑھا۔ اسے اپنے والد کی گمشدگی، ماں کی خاموش موت، بہن کی جدائی، سب یاد آ رہا تھا۔ایک دم، سب کچھ ساکت ہو گیا۔ ایک دھماکہ ہوا اور ریحان کے قدم لڑکھڑا گئے۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔ گرم خون اس کی انگلیوں سے بہنے لگا۔ وہ زمین پر گرنے ہی والا تھا کہ کسی نے اسے تھام لیا۔آنکھ کھلی تو وہ ایک خیمے میں تھا۔ زخموں کی جلن شدت اختیار کر چکی تھی۔ آس پاس کچھ لوگ زخمی پڑے تھے۔ ایک بوڑھا شخص قریب آیا، "بیٹا، تم بہت بہادر ہو۔ اللہ تمہیں سلامت رکھے۔”

    ریحان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، "یہ کب تک چلے گا؟ کب تک ہم ایسے ہی تڑپتے رہیں گے؟”بوڑھے نے آہ بھری، "جب تک ہم خاموش نہیں ہوتے، جب تک ہم اپنے حق کے لیے لڑتے رہتے ہیں۔ پانچ فروری ایک دن نہیں، ایک عہد ہے، ایک وعدہ کہ ہم اپنی زمین، اپنے خون، اپنی پہچان کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔”ریحان نے زخمی ہاتھ سے اپنی جیب میں رکھا ایک کاغذ نکالا۔ یہ ایک خط تھا جو اس نے کبھی اپنی بہن حنا کے لیے لکھا تھا، مگر بھیج نہیں سکا تھا۔

    "پیاری بہن،
    مجھے نہیں معلوم کہ تم کیسی ہو، کہاں ہو، مگر میں جانتا ہوں کہ تمہیں بھی میرا انتظار ہوگا۔ میں نے کبھی تمہیں بھلایا نہیں، اور نہ کبھی بھلا سکوں گا۔ جب بھی تم آسمان میں چاند دیکھو، سمجھ لینا کہ میں بھی وہی چاند دیکھ رہا ہوں۔ ایک دن، ہم ضرور ملیں گے… سرحد کے اس پار یا اس پار نہیں، بلکہ ایک آزاد سرزمین پر!”
    ریحان نے خط کو چوم کر آنکھوں سے لگایا۔ باہر نعرے اب بھی گونج رہے تھے۔ "ہم لے کر رہیں گے آزادی!”وہ جانتا تھا کہ یہ سفر طویل ہے، مگر وہ تھکنے والا نہیں تھا۔ اس کا خواب، اس کی امید، اس کی جدوجہد… سب زندہ تھے۔ پانچ فروری محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی تھی کہ آزادی کا سورج جلد یا بدیر طلوع ہوگا۔انشاالله

    ریحان نے زخمی ہاتھ سے آنکھوں کے کنارے پر آئے آنسو صاف کیے اور آسمان کی طرف دیکھا۔ برف باری رک چکی تھی، مگر سرد ہوا اب بھی چل رہی تھی، جیسے شہداء کی سرگوشیاں فضا میں گھل رہی ہوں۔
    اس نے دل میں ایک دعا کی:”یا اللہ! یہ جو زمین تیرے نام پر بنی ہے، اسے آزادی نصیب کر۔ ان آنکھوں میں جو خواب ہیں، انہیں تعبیر دے۔ جو مائیں اپنے بیٹوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں، انہیں خوشخبریاں دے۔ جو بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ دیکھ رہی ہیں، ان کے دروازے خوشیوں سے بھر دے۔ اے رب! ہمیں وہ دن دکھا، جب یہ سرزمین پھر سے آزاد ہو، جب کوئی دیوار، کوئی لکیر ہمارے پیاروں کو ہم سے جدا نہ کرے۔ جب ہم اپنی وادی میں سکون سے سانس لے سکیں، جب کشمیر کے دریا صرف پانی نہیں بلکہ خوشی کے ترانے بہائیں۔ یا اللہ! ہمیں وہ آزادی دے جس کا وعدہ تو نے مظلوموں سے کیا ہے، اور جس کی گواہی یہ برف پوش پہاڑ صدیوں سے دے رہے ہیں۔ آمین!”

    ریحان نے آنکھیں کھولیں۔ خیمے کے باہر آزادی کے نعروں کی گونج تھی۔ اس کے لبوں پر ایک زخمی مگر پُرعزم مسکراہٹ آگئی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ جنگ لمبی ہے، مگر اسے یقین تھا کہ دعا اور جدوجہد کی روشنی کبھی بجھنے نہیں دی جائے گی۔ ایک دن، کشمیر ضرور آزاد ہوگا، ضرور آزاد ہوگا

  • معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

    معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

    پاکستان کے معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر اور صحافی مبشر لقمان صاحب سے میری ملاقات ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ یہ ملاقات مجھے باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی، جب میرے دیرینہ دوست اور باغی ٹی وی کے ایڈیٹر، ممتاز اعوان نے مجھے یاد کیا۔ ان کی محبت اور سرپرستی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس موقع پر لکھاریوں اور دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر اعزازی اسناد دینے کا فیصلہ کیا۔

    چونکہ میری مصروفیت کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہ کرسکا، اس لئے ممتاز اعوان نے گزشتہ روز مجھے ایک نجی ٹی وی چینل پر مدعو کیا۔ یہ کسی بھی ٹی وی چینل میں میری پہلی آمد تھی، اور میں اس موقع پر بے حد پرجوش تھا۔ چینل کے مختلف شعبوں سے گزرتے ہوئے ہم تین لوگ مبشر لقمان کے کمرے تک پہنچے۔ پہلی بار براہ راست مبشر لقمان صاحب سے ملاقات ہوئی، اس سے قبل صرف ان کو ٹی وی اسکرین پر ہی دیکھتا تھا۔

    مبشر لقمان ٹی وی اسکرین پر ہمیشہ نوجوان نظر آتے ہیں، لیکن جب ان سے ملے تو معلوم ہوا کہ عمر میں ہم سے کافی بڑے ہیں۔ ممتاز اعوان صاحب نے ہمارا تعارف کروایا اور بتایا کہ ملک فیصل رمضان اعوان باغی ٹی وی میں بھی لکھتے ہیں۔ اس کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔

    مبشر لقمان صاحب نے ہمیں سب سے پہلا سوال کیا: "ملک صاحب، آپ صرف یہی کام کرتے ہیں یعنی لکھتے ہیں، یا کچھ اور بھی کرتے ہیں؟” ہم نے جواب دیا، "جناب والا، میں ایک نجی کمپنی میں جنرل منیجر ہوں، لیکن علم و ادب کی پیاس کو بجھانے کے لئے رات کے پچھلے پہر لکھنے پڑھنے کو وقت دیتا ہوں۔ گاہے بگاہے ادبی پروگراموں میں بھی شرکت کرتا ہوں۔ شاعری کا بھی جنون کی حد تک شوق ہے، لیکن عشق کی ادھوری داستانوں نے شاید یہ ذوق اب تتر بتر کر دیا ہے۔”مبشر لقمان صاحب نے حیرانی سے ہمارا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا کہ شاید انہیں پہلی دفعہ ایک ایسے محنتی لکھاری کا سامنا ہوا ہے جو دن میں آفس کا کام کرتا ہے اور رات کو اپنے ذوق کی تسکین کے لیے لکھائی کرتا ہے۔ یہ گفتگو کافی دیر تک جاری رہی اور پھر چائے کا دور ختم ہوا۔ اس کے بعد وہ اپنے پروگرام "کھرا سچ” کی ریکارڈنگ کے لئے سٹوڈیو کی جانب چل پڑے، اور ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے تاکہ سٹوڈیو کی تیز روشنیوں کا مشاہدہ کر سکیں۔

    چالیس منٹ کی "کھرا سچ” پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد، ہم واپس ان کے آفس واپس آگئے، جہاں انہوں نے ہمیں اعزازی سند عطا کی۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا، خاص طور پر ایسے لکھاریوں کے لئے جو لکیر کے فقیر بن کر اپنا کام کرتے ہیں۔مبشر لقمان صاحب سے ہماری کچھ اختلافات بھی ہیں، مگر ایک لکھاری کی حیثیت سے ہم کبھی بھی ان کے نظریات کو ذاتی طور پر نہیں لائیں گے، کیونکہ ہر کسی کا اپنا نظریہ اور نقطہ نظر ہوتا ہے۔ بہرحال، مبشر لقمان صاحب ایک علم دوست، سچے انسان اور محنتی شخصیت ہیں۔ ان سے ملاقات نے ہمیں نہ صرف خوشی دی بلکہ مزید لکھنے کا حوصلہ بھی بخشا۔

    آخر میں، یہ ملاقات ہمارے لئے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوئی اور ہمیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ علم کی دنیا میں ہمیں ہمیشہ نئی راہیں ملتی رہتی ہیں، بشرطیکہ ہم اپنی جستجو کو قائم رکھیں۔