نام کتاب : سنہرے نقوش
نام مئولف : عبدالمالک مجاہد
ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
صفحات : 384
قیمت : 1850روپے
زیر نظر کتاب ’’ سنہرے نقوش ‘‘ ایک آئینہ ہے جس میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگوں کی زندگی کے سچے واقعات کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ جو شخص بھی یہ واقعات پڑھے گا اسے یقینا سعادت اور نیکی کی زندگی حاصل ہو گی ۔ نیکی کا لازمی نتیجہ کامیابی اور فتح مندی ہے جبکہ گناہ کا نتیجہ ناکامی ، بدنامی اور رسوائی ہے ۔ گناہ چاہے کتنا ہی چھپ کر کیا جائے وہ ہمارا پیچھا کرتا ہے اپنا تاوان لیتا ہے اور اگرندامت کے ساتھ سچی توبہ نہ کی جائے توگناہ ہمیشہ خون کے آنسو رولاتا ہے ۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ انسان کو نیکی کی طرف راغب کرتا اور دل و دماغ کو راحت بخشتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سنہرے نقوش ‘‘ ایک ایسی ہی کتاب ہے جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نافرمانوں اور بعض سفاک انسانوں کے واقعات درج کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ان کے لرزہ خیز انجام سے عبرت پکڑیں اور توبہ استغفار کا اہتمام کر کے اپنی زندگیاں سنوار لیں ۔ کتاب کے مئولف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں : میری جملہ کتابوں کی طرح اس کتاب کی بھی اصل غرض و غایت یہی ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر فرد اچھے اور برے لوگوں کے واقعات سے اعمال صالحہ کا سبق سیکھے ، نیکی اور ناموس کی زندگی بسر کرے۔ ان شاء اللہ اس طرح زندگی کی مشکلیں آسان ہوجائیں گی اور ماحول کی تاریکیوں میں حسن سیرت کے چراغ روشن کرنا آ سان ہو جائے گا ۔ بات یہ ہے کہ ہم سب کو ناکامی سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی ہر ممکن تدبیر کرنی چاہیے ۔ یہ ہمارا دینی اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے جسے التزام سے ادا کرتے رہنا چاہیے بس اسی احساس کے زیر اثر کامیابی کی صفات اجاگر کرنے اور ناکامی کے اسباب واضح کرنے کے لیے یہ کتاب لکھی گئی ہے۔اس کا انداز بیان سادہ اور سلیس ہے اس لیے اس سے معمولی پڑھے لکھے لوگ بھی خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ قرآن مجید بھی ہمیں اچھے اور منتخب انسانوں کے نورانی اعمال و احوال کے قصے سادہ اور دلکش پیرائے میں سناتا ہے۔ فرعون و نمرود جیسے مغرور و مردود لوگوں کے افعال و انجام کی حکایات پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ایسے ہی اس کتاب میں ایک طرف حضرت سعید بن جبیراور امام احمد بن حنبل جیسے رجال کی سیرت کے جلوے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ایسے سفاک اور بدبخت شخص کا تذکرہ بھی ہے جس نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آشوب وآزمائش کے دور میں ان کی اہلیہ محترمہ کو تھپڑ مارا تھا۔ اس ظالم کا انجام پڑھ کر دل لرزنے لگتا ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ دیے گئے عنوانات سے کیا جا سکتا ہے مثلاََ:تقوی کے ثمرات ، پروردگار کے فیصلے کا خیر مقدم، راہ اخلاص و وفا میں جانوں کا نذرانہ، مرقد نبوی کے خلاف گھنائونی سازش، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا آ خری دن ، بہادر ڈاکو حجاج بن یوسف کی عدالت میں، کس کس کا ہاتھ میرے گریبان میں آ ئے گا، وعدے کی پاسداری ، دجال کا جاسوس ، باپ سے بد سلوکی کا بھیانک انجام ، خبردار دشمن ہمہ وقت موقع کی تلاش میں ہے ، دولت کا نشہ۔۔۔۔۔ ایک سانحہ عبرت، سچی توبہ ، نہلے پر دہلا ، لاجواب دلہن ، جہنم سے فرار ، تاک جھانک کا خمیازہ ، اللہ کی نافرمان ، بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ ، اچھی تربیت کا صحیح طریقہ ، بارگاہ الہی میں جواب دہی کا احساس ، جھوٹی توبہ، کفر و سرکشی کی سزا ، مٹ گئے مٹ جائیں گے اعدا تیرے ، خون ناحق کی ہیبت ، آداب فرزندی کا قابل رشک مظاہرہ ،کہیں عہد شکنی نہ ہو جائے، سلطان جلال الدولہ کی ہوشیاری ، دندان شکن جواب، جو سورہے ہیں ان کو جگانے کی فکر کر، حقیقی طالب علم ،کسری پر عربوں کی پہلی جیت ،اللہ تعالیٰ اس کی گھات میں تھا ،جھوٹی توبہ ، جہنم سے فرار ، اندھیرے سے اجالے کی طرف ، عربوں کی مہمان نوازی، وعدے کی پابندی ، دنیا کی بے ثباتی ، خدائی خون کے گھنائونے دعویدار، ظالم کا عبرتناک انجام، غلاموں کی خوش بختی، اس نے میری آنکھیں کھول کر اپنی آنکھیں بند کر لیں، باپ کی عدالت سے بیٹی کے خلاف فیصلہ، داستان ایک متکبر کی، مالک ارض و سماء کی پہچان ، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ، نو مولود کی گواہی ،فرشتہ صفت نوجوان شیطان کے نرغے میں ، شیر خوار بچے کا اعلان حق ، تربیت اولاد سے غفلت کا نتیجہ، طوفانوں کے مقابل کوہ گراں ۔ قصہ مختصر یہ کتاب نیکی اور بدی کے کرداروں کا حیرت انگیز نگار خانہ ہے جو کردار اور دل و دماغ کے دریچے کھولتے، خیالوں میں انقلاب برپا کرتے ، نیکی سے محبت کا سلیقہ سکھاتے اور بدی سے متنفر کرتے ہیں ۔ اپنی اصلاح اور اپنے گھر کی اصلاح کے خواہشمند احباب کیلئے یہ کتاب نہایت ہی بیش قمیت تحفہ ہے ۔
Category: بلاگ
-

تبصرہ کتب، سنہرے نقوش
-

رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ
ہماری زندگی میں سب سے زیادہ خطرناک دشمن وہ نہیں ہوتے جو سامنے سے وار کرتے ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو دوستوں، رشتہ داروں یا خیرخواہوں کا چہرہ لے کر ہمیں اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی غداریوں سے زیادہ تباہ ہوئیں۔ یہی اصول ہماری ذاتی زندگیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔باہر کے لوگ جب مخالفت کرتے ہیں تو کم از کم ہمیں اس کا علم ہوتا ہے، ہم دفاع کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو اپنائیت کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے وار کرتے ہیں، ان کی چالاکیاں دیر سے سامنے آتی ہیں، اور تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی نفرت، ان کے خیرخواہی بھرے الفاظ کے پیچھے چھپا حسد، اور ان کی خاموشیوں میں چھپے راز،یہ سب ہمیں اندر سے توڑ دیتے ہیں۔
جب کوئی قریبی شخص، جس پر ہم آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں، ہمیں دھوکہ دیتا ہے تو وہ صرف ایک دھوکہ نہیں ہوتا، بلکہ ہماری امید، اعتماد اور دل کو ایک ساتھ توڑ دیتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے راز دوسروں کو بتاتے ہیں، ہماری کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں، اور بظاہر ہماری خوشیوں میں شریک ہو کر اندر سے ان کی جڑیں کاٹتے ہیں۔زندگی میں ہر رشتہ آزمانا چاہیے، لیکن اندھا اعتماد نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کی پہچان ان کے عمل سے کریں، نہ کہ صرف ان کی باتوں سے۔ جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں، جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کا دفاع کریں، وہی آپ کے اصل خیرخواہ ہیں۔
سچے رشتے وہی ہوتے ہیں جن میں خلوص، سچائی اور وفاداری ہو۔ نہ کہ وہ رشتے جو صرف دکھاوے کے لیے ہوں، جہاں مسکراہٹ تو ہو لیکن دل میں کینہ ہو، جہاں بظاہر ساتھ ہو لیکن نیت میں دشمنی ہو۔ ایسے رشتوں کو وقت کے ساتھ پرکھیں، اور دل کی آنکھوں سے دیکھیں۔زندگی میں اندرونی غداروں سے بچنا آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ خود کو مضبوط بنائیں، اپنی ذات پر یقین رکھیں، اور ان لوگوں کا ساتھ دیں جو آپ کے اندر کا سکون برباد نہیں کرتے بلکہ اس کو اور سنوارنے میں مدد دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، سچائی اور خلوص ہمیشہ دیرپا ہوتے ہیں، باقی سب وقتی چمک ہے۔
-

بی ایل اے کی ملک دشمنی،کاروائی ضروری.تحریر:جان محمد رمضان
بلوچستان، پاکستان کا وہ خطہ ہے جو قدرتی وسائل، ثقافت اور حب الوطنی میں بے مثال ہے۔ بلوچ قوم نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا ہے، چاہے وہ دفاع وطن ہو، ترقیاتی منصوبے ہوں یا قومی یکجہتی کی بات۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ شرپسند عناصر اور بیرونی ایجنڈوں پر کام کرنے والی تنظیمیں، خصوصاً بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی)، اس خطے کی خوبصورتی کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔بی ایل اے ایک شدت پسند تنظیم ہے جو خود کو بلوچوں کی نمائندہ ظاہر کرتی ہے، مگر درحقیقت یہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اور دیگر غیر ملکی طاقتوں کی آلہ کار بن چکی ہے۔ ان کا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان میں بدامنی، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے قتل جیسے جرائم میں ملوث ہے۔
بی ایل اے اور ان کے حمایتی "مسنگ پرسن” کے نام پر اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ چلا رہے ہیں۔ یہ ایک پرانی چال ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا، ریاستی اداروں پر بداعتمادی پھیلانا اور دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نام نہاد "لاپتہ افراد” خود دہشت گرد تنظیموں کا حصہ ہوتے ہیں یا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں۔اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست ان اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ بی ایل اے جیسے عناصر اور ان کے بیرونی آقا، چاہے وہ بھارت ہو یا کوئی اور ملک، پاکستان کی سالمیت کے خلاف کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ان کے ناپاک عزائم کو روکنے کے لیے ہر سطح پر قومی اتحاد اور مضبوط پالیسی کی ضرورت ہے۔
ملک کے اندر ہر محب وطن شہری، چاہے وہ بلوچ ہو، پنجابی، سندھی، پٹھان یا کشمیری، سب کی یہی خواہش ہے کہ پاکستان امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ پاکستان دشمن عناصر کے خلاف ایک مضبوط اور منظم ردعمل ہی ہمیں اس منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہاں سے دہشتگرد عناصر کا مکمل صفایا کیا جائے۔بلوچ قوم پاکستان کی ایک غیرت مند اور باوقار قوم ہے۔ بی ایل اے جیسے شدت پسند گروہ اس قوم کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ یہ پاکستان دشمن طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ریاست اور عوام مل کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں اور بلوچستان کو امن، خوشحالی اور ترقی کا گہوارہ بنائیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ غیر ملکی مداخلت کو روکا جائے اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا جائے۔بلوچ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں سے دور رہیں۔ انہیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، اور یہاں کے لوگ محب وطن پاکستانی ہیں۔ ہمیں مل کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
-

عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان
ایک ایڈیشنل سیکرٹری مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ بھائی آپ سے ایک درخواست کرنی ہے کہ بیوروکریسی میں سنئیر افسران کی اخلاقی تربیت پر بھی آرٹیکل لکھیں۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے صرف عزت کیلئے سول سروس جوائن کی تھی لیکن وہ سنئیر افسران کے رویے سے شدید مایوس ہے کیونکہ دو تین بیج سنئیر افسر بھی اپنے سے جونئیر کو تحقیر امیز انداز میں بائی نام بلاتا ہے۔ زیادہ برا اس وقت لگتا ہے جب کسی عوامی جگہ یا ماتحتوں کے سامنے بھی سنئیر افیسر صرف نام لیکر بلاتا اور آرڈر کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کم از کم بیوروکریسی کے افسران کو باہم اتنی تمیز اور شرم تو ہونی چاہئے کہ اپنے افسر کو بائی نام بلانے کی بجائے تھوڑی عزت دیتے ہوئے نام کے ساتھ صاحب لگا لیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے جونئیر افسر نہیں سیکرٹری کا ذاتی ملازم ہوں۔ ہم تحصیل اور ضلع کمانڈ کرچکے ہیں اتنے بھی جونئیر نہیں کہ "فار گرانٹڈ” لیا جائے۔
میں نے اسے کہا کہ میں اس پر ایک دفعہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔مذکورہ آفیسر نے کہا کہ اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ نے اس ٹاپک پر لکھا تھا میں چاہتا ہوں کہ آپ دوبارہ سے لکھیں سوکالڈ سنئیرز کو تھوڑی شرم دلائیں کہ ”ایس او پی“ ہونی چاہئے کہ کم از کم پی ایم ایس اور سی ایس ایس افسران اپنی کمیونٹی کے جونئیرز کو صرف نام لیکر بلانے کی بجائے صاحب لگا لیں اس سے ان کی شان اور سنیارٹی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
میں نے اسے کہا کہ آپ جس کا ذکر کررہے ہیں اسے تو خود اپنے سنئیر افسران کا بچہ کہلانے پر فخر ہے۔ ایسے بہت سارے نمونے ہیں جو سیاسی شخصیات، اہم ادارے کے عہدیداران اور سنئیر افسران کا ناصرف بچہ کہلانا پسند کرتے ہیں بلکہ خود مشہور کرتے ہیں کہ وہ فلاں کا تعلق دار ہے اور دوسری طرف باقی افسران کے ساتھ ”تم“ کہہ کر بات کرتے ہیں۔
میں نے اسے بتایا کہ بھائی افسران کی تو مجبوری ہے کہ وہ تم اور بائی نام بلانے والوں کو منہ پر جواب نہیں دے سکتے پیچھے ضرور گالیاں دیتے ہیں کہ گھٹیا انسان کو بولنے کی تمیز نہیں۔
میں تو زیروٹالرینس کا عادی ہوں جو جس لہجے میں بات کرے اسی لہجے میں جواب دیتا ہوں۔
احترام سے بلائے تو ڈبل احترام، چکڑ چوہدری بنے تو اسی کے لہجے میں ”اوئے توئے“
میں نے پہلے بھی ایک دفعہ ٹیلیفونک کال کے حوالے سے ذکر کیا تھا
ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کیا حال ہے۔
میں نے کہا کہ الحمد اللہ۔
وہ دوبارہ مخاطب ہوا۔۔کہاں گم ہو تم آج کل؟
میں نے کہا جی۔۔۔
اس نے دوبارہ رپیٹ کرتے ہوئے بھائی کا اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ بھائی تم کہاں لاپتہ ہو
میں نے کہا کہ یہیں، کہاں جانا، تم سناؤ
اس دفعہ سرپرائز ہونے کی باری اس کی تھی
ذرا شرمندہ ہوتے ہوئے دوبارہ مخاطب ہوا۔۔۔ تو چھوٹا بھائی ہے
میں نے پھر ریپلائی کیا۔۔۔۔ تیری مہربانی ہے اگر تو سمجھتا ہے تو۔اگر تم بھائی سمجھتے ہو تو میں بھی تمہیں بالکل ویسے ہی سمجھتا ہوں۔
وہ سمجھ گیا اور فوری تم سے آپ پر آگیا۔
ایسے ہی ایک دفعہ ایک اور خودساختہ سنئیر کو ”شٹ اپ“ کال دے کر بلاک کیا۔ہمارے ہاں روٹین میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ اپنا چھوٹا بھائی ہے، تابعدار ہے اپنا، برخوردار ہے، بچہ ہے اپنا۔
اگر کوئی آپ کی عزت کرتا ہے تو اس کو ڈائجسٹ کرنا سیکھیں نا کہ اس طرح کی فضولیات بکنا شروع کردیں۔
ایم پی اے، ایم این اے، منسٹر، بیوروکریٹ، جج، اینکر، کالم نویس، آرمی آفیسر یا بزنس ٹائیکون غرض اگر آپ کسی بھی اچھی جگہ ہیں تو ہر کوئی آپ کا رشتہ دار ہے۔ضروت طے کرتی ہے کہ اس نے کس کو، کونسا رشتہ دینا ہے اور مشہور کرنا ہے کہ فلاں تو میرا چاچا، ماما، پھوپھا ہے حتٰی کہ بوقت ضرورت اسے بہنوئی اور تایا ابو بھی بنا لیتے ہیں تایا مجبوری کی وجہ سے لگاتے ہیں ورنہ وہ ابو کہنے کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔ہمیں اس منافقت اور احساس کمتری سے باہر نکلنا ہو گا خود کو اہم ثابت کرنے کیلئے دوسروں کو ان کو غیر موجودگی میں نیچا دکھانا چھوڑ دیں۔جیسی عزت آپ منہ پر کرتے ہیں ویسی ہی عزت انکی غیر موجودگی میں کریں۔ اہم کا وہم پالے ہم اس قدر احسان فراموش اور بے شرم ہوجاتے ہیں کہ اپنے ہی دوستوں اور رشتہ داروں کو پہچاننے سے انکاری ہوتے ہیں۔جس سے آپکی متعدد ملاقاتیں اور تعلق ہو لیکن اس کی غیر موجودگی میں اس طرح ڈرامے کریں گے کہ جیسے اسے جانتے ہی نہیں۔
آج کے دور میں کوئی بھی برخوردار اور تابعدار کہلانا تو دور، بھائی یا صاحب جیسے تکریمی القابات کے بغیر ڈائریکٹ بائی نام بلانا بھی توہین اور گستاخی سمجھتا ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کی طرف آئیے عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ملک سلمان
-

خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی
نوازشریف نے 1985ء میں ترقی کے سفر کی بنیاد رکھی ،آج تک جاری ہے
پاکستان میں کئی لیڈرآئے اور گئے،قوم کو نواز شریف جیسا کوئی نہ مل سکا
ٹرمپ غیر مسلم،اللہ پر یقین پختہ،ہم مسلمان ہوکر اللہ کی جانب راغب کیوں نہیں ہوتے
تجزیہ،شہزا د قریشیقوموں کے عروج و زوال ترقی و تنزلی میں قائدین کا اہم کرادر ہوتا ہے،قوموں کی ترقی میں قائدین کی بصیرت اور حکمت عملی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،جو قائدین اپنی قوم اور ملک کے لئے فکر مند ہوں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ قوم بھی اپنے قائدین کی قدر اور ان پر اعتماد کرے،بلاشبہ وطن عزیز میں ایسے قائدین رہے ہیں جنہیں ملک وقوم کی فکر تھی، جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے تھے،وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی دیکھنا چاہتے تھے، آج کی سیاست میں اقتدار ،اختیارات ،غرور وتکبر ،ہوس زر کے پیچھے بھاگتی نظر آتی ہے،ماضی میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک و قوم کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا،1985 ء سے شروع ہونے والا تعمیر وترقی کا یہ سلسلہ تین بار وزارت عظمیٰ تک جاری رہا ،نواز شریف کابطور وزیراعظم تعمیر و ترقی میں بلوچستان اور گلگت بلتستان تک جاری رہا، گلگت بلتستان کو شناخت دی ، تعمیر وترقی کے لئے بجٹ مختص کیا،بجٹ میں اضافہ کیا ، جس سے گلگت بلتستان کی عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آئی، جب سے امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی سطح کے فیصلے کرنا شروع کئے ہیں،دنیا میں افراتفری کا سماں ہے تاہم امریکی عوام ٹرمپ کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں،ٹرمپ کی زندگی کی کہانی اور ان کی جدوجہد کئی عشروں سے لوگوں کے سامنے ہے، ٹرمپ ونڈر فل سیاستدان ہونے کے ساتھ ونڈر فل کرسچین بھی ہیں ، ان کے کان کے نزدیک گولی گزری تو کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے بچایا ،ہر فیصلے کے بعد ٹرمپ کی زبان پرGOD HELP ME ہوتا ہے،روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طے ہونے والے ہیں بلکہ بہت ہی قریب ہیں، ایران کو امریکہ نے دھمکی ضرور دی ہے تاہم ایران کے تین یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات جنیوا میں جاری ہیں، اندازہ ہے کہ امریکہ اور ایران بات چیت سے اپنے مسائل حل کرلیں گے
-

پارکھ اور نقاد . تحریر:کنزہ محمد رفیق
ادب کی دنیا میں ادبی فن پارے کو پرکھنے والا پارکھ کہلاتا یے، اور ادبی تخلیقات کو سنوارنے کا کام نقاد کے ذمہ ہوتا یے۔
یہ پارکھ، یہ مبصر اور یہ نقاد سب ادب کی دنیا میں بھلے لگتے ہیں۔ حقیقی دنیا میں کسی کو بھی ایسے نقاد اور پارکھ کی حاجت نہیں ہوتی، جو تحقیق کے بغیر تنقید کرے یا کچھ بھی جانے بغیر آپ کے بارے میں رائے قائم کرے۔
اس دُنیا میں انواع و اقسام کے نفوس موجود ہیں۔
کسی کے والدین کیسے ہیں ؟
آپ اس بات سے ناواقف ہیں۔
کسی کے بہن بھائی کا رویہ کیسا ہے؟
آپ اس بات سے بے بہرہ ہیں۔
کسی کے خاندان والے کیسے ہیں؟
آپ کو اس بات کاذرا علم نہیں۔
جب تک یہ تمام باتیں آپ کو نہیں معلوم ، خدا کے لیے کسی کو غلط نہ کہیں۔
یہ بگڑا ہوا، منفی اور عجیب وغیرہ وغیرہ۔۔۔
کیا پتا ان کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں اپنے بچوں سے زیادہ دنیا کے بچے عزیز ہوں؟
کیا پتا انہیں اپنے بچّوں کی کامرانی پر جشن منانا نہیں آتا ہو ؟
کیا پتا انہیں اپنے بچے سدا کے نالائق لگتے ہو ؟
اور کیا پتا کسی کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں کچھ سوچنے سمجھنے کی فرصت ہی نہ ہو وہ اپنے اپنے دائروں میں گردش کر رہے ہو، اور زندگی کو سمجھنے کی بجائے بس کھانے، پینے اور سونے تک اپنی زندگی محدود کر رکھی ہو۔
زندگی میں موڑ کیا ہوتے ہیں ؟ اور فیصلے کس بلا کا نام ہے وہ ان تمام باتوں سے بے بہرہ ہو۔
اور ایسے ہی والدین کے بچے جب اپنے بل بوتے پر مسلسل تگ و دو کے بعد کچھ حاصل کرتے ہیں، تو دنیا والدین کے سر پر تاج سجا دیتی یے۔ہر کسی کے والدین ساتھ کھڑے ہونے والے، اور ہمت بڑھانے والے نہیں ہوتے، یہ دنیا ہے اور یہاں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ تو لہذا لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں، آپ کے پاس اچھے لوگ موجود ہیں تو یہ نہ سمجھیں سب کے پاس حوصلے بلند کرنے والے والدین موجود ہوں گے، یہ اپنے پاس کہیں لکھ کر رکھ لیجیے کہ اسی دنیا میں کچھ لوگوں کے پاس والدین محض حوصلے پست کرنے والے ہوتے ہیں، اور ایسے ہی بچے ہوتے ہیں، جن کی کامیابی دنیا میں امر ہوجاتی یے، ورنہ وہی دہرائی ہوتی یے۔ کچھ کو اچھے ماحول کے سبب کامیابی مل جاتی ہے اور کچھ لوگوں کا سفارش سے کام بن جاتا یے۔ مگر خدا سے بڑا منصف اور کون ہوسکتا ہے بھلا ؟
اس جہانِ تگ و دو میں کس نے کتنی اور کس حد تگ و دو کی ہے، یہ صرف اللّٰہ کے علم میں ہے۔
اور کیا کوئی اللّٰہ کے مقابل آسکتا ہے ؟ -

ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین
پاکستان کی تاریخ میں بہت سی اہم ہستیاں گزری ہیں جن کے نام آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ ہیں، لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام ایک الگ ہی نوعیت کی کہانی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عافیہ صدیقی ایک ایسی شخصیت ہیں جو نہ صرف اپنے ملک کی بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی کا قصہ ایک ایسی المیہ کہانی ہے جس میں ظلم، بربریت اور بے گناہی کے تمام پہلو سامنے آتے ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی کے ایک تعلیم یافتہ اور معتبر گھرانے سے تھا۔ 1972 میں کراچی میں پیدا ہونے والی عافیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔ ان کی ذہانت اور محنت نے انہیں تعلیم کے میدان میں نمایاں مقام دلایا۔ 1992 میں عافیہ نے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں ٹیکساس میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔عافیہ نے امریکہ میں رہ کر ایک ایسی اہم تحقیق کی جس کے بعد وہ عالمی سطح پر شناحت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کی تحقیق میں ایک ایسا فارمولا دریافت کیا گیا جو کہ مہلک ہتھیار تیار کرنے کی بنیاد بن سکتا تھا۔ عافیہ کی اس تحقیق کو امریکہ کے لیے اہمیت حاصل تھی، لیکن عافیہ نے اس فارمولا کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فارمولا امریکہ کے ہاتھ لگ گیا تو یہ اسلام اور اسلامی ممالک کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔عافیہ کی ذاتی زندگی بھی اتنی آسان نہیں تھی۔ 1995 میں ان کی شادی ایک پاکستانی سائنسدان امجد محمد خان سے ہوئی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ 2002 میں ان کے درمیان اختلافات شدید ہو گئے اور بالآخر طلاق ہو گئی۔ ان اختلافات کے دوران امجد خان نے عافیہ پر مختلف الزامات عائد کیے۔
عافیہ کا سفر ایک سنگین موڑ پر 2003 میں آیا جب امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد عافیہ کو پاکستان سے گرفتار کر کے افغانستان پھر امریکہ منتقل کر دیا گیا۔عافیہ کی گرفتاری کے پانچ سال بعد، اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ امریکی جیل میں قید ہیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس دوران امریکہ نے عافیہ پر شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کیا تاکہ وہ اپنے فارمولا کے بارے میں بتائے۔ عافیہ نے اپنے عزم کو قائم رکھا اور امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔عافیہ کو اتنے سخت سزاؤں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کی ذہنی حالت مفلوج ہو گئی۔ امریکہ نے بار بار کوشش کی کہ وہ عافیہ سے اس تحقیق کا فارمولا حاصل کرے، مگر عافیہ کا جواب ہمیشہ یہی رہا کہ وہ یہ فارمولا کسی قیمت پر نہیں دے گی۔
دوران قید، امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی رہائی کے لیے بات کی، اور 2012 میں امریکہ کے صدر بارک اوباما نے پاکستان سے کہا کہ وہ عافیہ کی واپسی کے لیے تیار ہیں، مگر پاکستانی حکومت نے اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ اس طرح عافیہ آج بھی امریکہ کی قید میں ہیں، اور ان کے خاندان والے ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی نہ صرف ظلم اور جبر کی کہانی ہے، بلکہ اس میں ایک ایسی عورت کی قربانی کی داستان بھی چھپی ہوئی ہے جس نے اپنے وطن، اپنے نظریات اور اپنی قوم کے لیے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ قربان کر دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں اور عالمی سطح پر اس کی آزادی کے لیے کوششیں کریں۔عافیہ کے خاندان کی جدو جہد اور ان کے صبر و استقلال نے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ ظلم کے باوجود سچ اور اصول کی جیت ہوتی ہے۔ ہمیں ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے تاکہ ان کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔
-

ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا
ریحانہ کنول کا نام اردو ادب میں ہمیشہ احترام اور محبت سے لیا جائے گا۔ وہ ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کے الفاظ نہ صرف جذبات کے عکاس تھے بلکہ معاشرے کے دکھوں اور ناانصافیوں کو بھی قلم کی نوک پر لا کر ایک سچائی کے آئینے میں سجا دیتے تھے۔ ان کی شاعری ایک مجبور ماں کی مامتا، زندگی کے نشیب و فراز، اور ایک حساس دل کی گہرائیوں کی ترجمانی کرتی رہی۔ آج وہ ہم میں نہیں رہیں، مگر ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گےریحانہ کنول کی زندگی کسی کہانی سے کم نہ تھی۔ ان کا ہر لمحہ، ہر دن ایک جدوجہد کی مانند گزرا، لیکن انہوں نے صبر و استقامت کو اپنا شعار بنایا۔ وہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے بے پناہ مشکلات کے باوجود اپنی اولاد کی بہترین پرورش کی اور ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کی تحریروں میں سچائی اور درد کی خوشبو محسوس کی جا سکتی تھی ان کی زندگی مشکلات اور آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ایک بیوہ ماں ہونے کے باوجود انہوں نے نہایت صبر اور ہمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ وہ نہ صرف اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط سہارا تھیں بلکہ ان کے خیالات اور نظریات سے بے شمار لوگوں کو روشنی ملی۔ ان کے دل میں درد بھی تھا اور اس درد کی بازگشت ان کی شاعری میں سنائی دیتی تھی۔ وہ لفظوں کے ذریعے وہ سب کچھ بیان کر دیتی تھیں جو ایک عام انسان محسوس تو کر سکتا ہے مگر الفاظ میں ڈھالنے کی سکت نہیں رکھتا2024 میں جب بزمِ اوج کے سالانہ مشاعرے میں انہیں جہانیاں منڈی آنا تھا، تو ان کی کمر کی تکلیف نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے معذرت کی، مگر جلد آنے کا وعدہ کیا۔ کچھ دن بعد وہ میرے گھر تشریف لائیں اور ایک پورا دن ہماری فیملی کے ساتھ گزارا۔ یہ ان کی محبت اور خلوص کا عملی مظاہرہ تھا۔ وہ الفاظ کی دنیا میں منفرد مقام رکھتی تھیں، مگر اپنی ذات میں بھی ایک عظیم انسان تھیں۔ ان کی سادگی، محبت اور خلوص ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی گفتگو میں ایسی تاثیر تھی کہ سننے والا ان کے الفاظ میں کھو جاتا تھاکچھ ماہ قبل انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، جہاں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا، مگر کسی مجبوری کی بنا پر میں شریک نہ ہو سکا۔ وہ ایک ماں ہونے کے ناطے اپنی اولاد کی خوشیوں میں سب سے آگے رہیں، مگر ان کی زندگی کے کئی پہلو ایسے بھی تھے جو ان کے حساس دل اور گہرے درد کی عکاسی کرتے تھےوہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی تمام خواہشات اور ضروریات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے خود تکالیف سہیں مگر اپنی اولاد کو ہر ممکن خوشی دینے کی کوشش کی۔ یہ ایک ایسی قربانی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ راتوں کو جاگتی رہیں، دکھوں کو سہتی رہیں، مگر اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑی رہیں ریحانہ کنول کی وفات کے بعد ان کے بچے ایک بار پھر آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیے گئے۔ پہلے ہی والد کی جدائی کا زخم سہنے والے یہ معصوم اب اپنی ماں کے سائے سے بھی محروم ہو گئے۔ والدہ کی ممتا، شفقت، اور دعاؤں کی چھاؤں سے نکل کر وہ بے رحم زمانے کی بے حسی اور تلخ رویوں کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ زندگی کے اس بے رحم کھیل میں وہ مزید تنہا ہوگئے، جہاں انہیں ماں کی مسکراہٹ، اس کے نصیحت بھرے الفاظ، اور اس کے سائے کی ضرورت تھی، وہی سب کچھ ان سے چھن چکا تھاریحانہ کنول کی شاعری محض لفظوں کا امتزاج نہیں تھی بلکہ ایک ایسے حساس دل کی آواز تھی جو معاشرتی ناانصافیوں، اپنوں کی بے حسی اور زندگی کی تلخیوں کو شدت سے محسوس کرتا تھا۔ وہ ان جذبات کو اپنی شاعری میں اس طرح پروتی تھیں کہ قاری کے دل پر براہِ راست اثر ہوتا تھا۔ ان کے اشعار میں المیہ، بغاوت، اور سچائی کا حسین امتزاج تھا۔ ان کے الفاظ کا چناؤ اتنا گہرا ہوتا کہ ایک عام قاری بھی ان کے جذبات کو شدت سے محسوس کرنے لگتا
یادگار غزل
چوڑیاں پہنی نہ مہندی ہی لگائی میں نے
ایک مدت سے نہیں عید منائی میں نےبیٹیاں پالنا جنت کی خریداری ہے
بیٹیاں پال کے جنت ہے کمائی میں نےسنتی آئی ہوں کہ ہیرے سے ہے ہیرا کٹتا
پیٹ کی آگ ہے فاقوں سے بجھائی میں نےوہ محبت مِری تکلیف کا سامان ہوئی
جس محبت کے لئے چھوڑی خدائی میں نےکون سا جرم ہے میرا کہ ہوئے ہو دشمن
اپنا حصہ ہی تو بس مانگا ہے بھائی میں نےخالقِ کون و مکاں تیری بھری دنیا سے
ایک تسکین کی ساعت ہے چرائی میں نےدنیا کی آنکھ نے زخمایا مِرے ہونے کو
اپنی میت ہے کئی بار اٹھائی میں نےخوش گمانی نے سہولت کو اذیت جانا
اپنے حصے کی سہولت بھی نہ پائی میں نےصرف ایسا تو نہیں ہے کہ ہوں کپڑے سیتی
دکھ کی پوشاک کی بھی کی ہے سلائی میں نےایک احساس یہی باعثِ تسکین رہا
اپنی خاطر نہ لڑی کوئی لڑائی میں نےمیں نے ہر شخص کو انسان سے تعبیر کِیا
جتنی دولت تھی بھروسے کی، لٹائی میں نےساعتِ وصل کی دستک پہ بھی در وا نہ کِیا
رسمِ ہجراں ہے کنول ایسے نبھائی میں نےریحانہ کنول کی جدائی اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں، ان کی تحریریں آج بھی روشنی دے رہی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک شاعرہ تھیں بلکہ ایک بہترین انسان بھی تھیں جن کی موجودگی دوسروں کے لیے ایک نعمت تھی آج جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، تو ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کے اشعار اور ان کا اندازِ فکر ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ وہ چلی گئیں مگر اپنی تحریروں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کی شاعری کے ذریعے ہم ان کی روح کے درد اور احساسات کو محسوس کر سکتے ہیں ریحانہ کنول ایک ایسی ہستی تھیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ ان کی جدائی ایک ذاتی نقصان بھی ہے اور ادبی دنیا کے لیے بھی ایک ناقابلِ تلافی نقصان۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے بچوں کو صبر اور حوصلہ عطا کرے۔ آمین
-

پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور بڑھتا ہوا سیاسی و معاشی بحران
پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور بڑھتا ہوا سیاسی و معاشی بحران
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰبڈانی
گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے تازہ اعداد و شمار نے پاکستان کو دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر رکھا ہے۔ 2011 سے 2024 تک کے عرصے میں 1098 دہشت گردانہ واقعات میں ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ رواں سال کے آغاز سے ہی دہشت گردی کی نئی لہر نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہواہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے دہشت گردی میں خطرناک اضافہ ہوا جو پاکستان کے لیے نہایت تشویشناک ہے۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا کہ دشمن قوتیں خطے میں انتشار پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی ہیں۔افغانستان میں طالبان کی حکومت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس شکست سے پیدا ہونے والی خفت کو مٹانے کے لیے خطے میں نئی سازشوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو قربانیاں دیں وہ شاید ہی کسی اور ملک نے دی ہوں۔ ان حملوں کے پیچھے بھارت کا کردار اب کوئی راز نہیں رہا۔ کلبھوشن یادو نیٹ ورک کے ثبوت اقوام متحدہ، امریکی دفتر خارجہ اور یورپی پارلیمنٹ سمیت عالمی اداروں کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی مودی حکومت اور داعش کے گہرے روابط کی نشاندہی کی ہے جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
امریکہ ایشیا میں سرمایہ کاری، تجارت اور سفارت کاری کے ذریعے اپنا اثر بڑھا رہا ہے جبکہ بھارت اس کا ہمنوا بن کر خطے کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک جیسے اربوں ڈالرز کے معاہدوں نے جہاں ترقی کی نوید سنائی، وہیں امریکہ اور بھارت گوادر بندرگاہ اور اقتصادی راہداری میں روڑے اٹکا رہےہیں۔ چینی انجینئرز اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اسی سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ بھارت نے گزشتہ دو دہائیوں سے امریکی پشت پناہی کے ساتھ منظم تخریب کاری کو فروغ دیا۔
افغانستان میں امریکی ناکامی کے بعد مودی نے داعش کے ذریعے دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ اس صورتحال نے افغان قیادت اور انٹیلی جنس کو زہر آلود کر دیا، جس سے خطے میں امن کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ پاکستان مسلسل عالمی برادری سے مطالبہ کرتا رہا کہ حالات کو اس نہج پر نہ لایا جائے جہاں خطے کی سلامتی داؤ پر لگ جائے مگرپاکستان کی ان کوششوں کو مسلسل نظرانداز کیا گیاہے۔
دہشت گردی کی وجہ سے سرمایہ کار پاکستان سے منہ موڑ رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو باقی کاروباری افراد بھی بیرون ملک منتقل ہو جائیں گے۔افغانستان میں گوریلا جنگ کے دوران افغانیوں کی آمد نے پاکستان میں منشیات اورکلاشنکوف کلچر کو فروغ دیا اور معیشت پر بوجھ بڑھایا۔ فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اس کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔ دو دہائیوں میں 80 ہزار سے زائد شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور اربوں ڈالرز کا مالی نقصان اس کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان کو افغان جنگ سے کتنا ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
بلوچستان میں ٹرین پر حملہ اور خودکش بم دھماکے اور خیبرپختون خوا میں ہونے والے حالیہ حملوں میں پولیس اور معصوم بچوں کے علاوہ جیدعلمائے کرام کو نشانہ بنایاگیا، جس سے ملک میں خوف کی فضا پھیل گئی۔ یہ سفاکانہ کارروائیاں پاکستان کو غیر محفوظ ملک کے طور پر پیش کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ اس نازک صورتحال میں اندرونی سیاسی عدم استحکام نے حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہر وقت احتجاج اور افراتفری کی سیاست ملک کو کمزور کرنے والے عناصر کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا ملک میں عدم استحکام پھیلانے والوں کے لیے نرم گوشہ اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی افغان طالبان سے ڈائیلاگ کی خواہش وفاق کو کمزور کرنے کی سازش کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
پی ٹی آئی کو ضدی بچے والے کردار سے ہٹ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ انتشار کی سیاست چھوڑ کر قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرسکتی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا اس کی اولین ذمہ داری ہے۔ پی ٹی آئی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان سلامت رہا تو سیاست بھی جاری رہے گی۔ تمام سیاسی جماعتوں اور محب وطن قوتوں کا مطمع نظر سب سے پہلے پاکستان کی بقا اور سلامتی ہونی چاہیے۔
ماضی میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑچکا ہے لیکن موجودہ حملوں نے سکیورٹی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ اگر اس ناسور کا علاج نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات بھلا کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جائیں۔ قومی سلامتی کے معاملات پر یکجہتی اور سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہی اس بحران سے نکلنے کا راستہ ہے۔ پاکستانی قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور اس عزم کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ اگر ہم آج انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو کل اس کی قیمت ہماری نسلوں کو چکانا پڑے گی۔

-

تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان
گذشتہ روز ہر کوئی نئے کپڑے زیب تن کیے عید کی خوشیاں منانے میں مشغول تھا، بینک کے اے ٹی ایم پر گیا تو بینک گارڈ کو دیکھا کہ وہ نئے کپڑوں کی جگہ اپنی وردی میں کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا کہ انکل جی آپ کو عید کی چھٹی نہیں ملی اس نے کہا کہ سر اتنی قسمت کہاں دو میں سے کسی ایک عید کی ہی چھٹی ملتی ہے۔ میں نے پیسے نکلواتے وقت فیصلہ کیا کہ اگر کوئی عیدی کا حقدار ہے تو ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر اور خاندان سے دور رہ کر اپنی عید قربان کرکے رزق حلال کما رہے ہیں۔میں نے اسے پیسے تھماتے ہوئے کہا کہ چاچا عیدی اس نے دعائیں دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح چند اور مقامات پر ڈیوٹی پر مامور افراد کو عیدی دی۔ خاص طور پر لاہور اور گاؤں دونوں جگہ گھریلو ملازمین اور محلے کے گارڈ کو عیدی دی۔ رات کو دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے ریسٹوران کا رخ کیا تو وہاں بھی ویٹر کو روٹین سے زیادہ ٹپ بطور عیدی دی۔ ان تھوڑی تنخواہ والے ملازمین کو تھوڑی سی رقم بطور عیدی دیکر نیکی کی فوری قبولیت کا احساس ہوا۔ یقین کریں قبولیت کا احساس نماز، روزہ اور عبادات سے بھی زیادہ تھا، حقیقی سکون اور خوشی۔
نماز، روزہ اور عبادات لازم ہیں اور ریگولر کرتے بھی ہیں اس کے باوجود اللہ سے قبولیت کیلئے دعا گو بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے وقت پتا نہیں کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ عبادات بھی ایسے اعمال سے ہی قبول کرے گا۔ چند ہفتے قبل دوران سفر ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کیلئے رکا، گاڑی سے مصلیٰ (جائے نماز) لی، جمعہ کی دوسری اور آخری رکعت میں سلام پھیرنے سے چند لمحے قبل ایک نمازی ساتھ شامل ہوا اور میرے ساتھ سڑک پر تشہد کی حالت میں بیٹھ گیا، میں سفر میں بھی تھا اور جلدی بھی تھی لیکن سوچا کہ ”سلمان“ اللہ ایسا جلدی والا جمعہ قبول کرے نہ کرے لیکن اس بندے کو نماز کیلئے مصلیٰ دینے سے اللہ ضرور راضی ہو گا، میں سلام پھیر کر کھڑا ہوگیا اور جائے نماز اسکی طرف کردی کہ اپنی نماز مکمل کرلو یقین کریں واقعی ایسا ہوا، بہت سکون ملا کہ اللہ نے یہ عمل ضرور قبول کیا ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے عبادات کا اصل مقصد انسانیت ہی رکھا ہے اگر نماز اور عبادات کے بعد بھی ہم میں احترام انسانیت نہیں تو پھر اپنا محاسبہ اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ مجھے بینک کے پریمئم ورلڈ کارڈ پر اچھا خاصا ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، روٹین میں کسی نہ کسی بیکری سے ڈسکائنٹ پر بریڈ لیکر گاڑی میں رکھ لیتا ہوں جہاں کوئی کتا، بلی یا جانور نظر آتا ہے گاڑی آہستہ یا روک کر اسے کھلا دیتا ہوں یقین کریں ان بے زبان جانوروں کو معمولی سا کھانا کھلا کر جو تسکین ملتی ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ ریسٹوران پر جاتا ہوں تو اگر کھانا بچ جائے تو پیک کروا کر خود راستے میں کسی نہ کسی جانور کو کھلا دیتا ہوں۔
ہر عید پر نئے کپڑے پہنتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں، عید آتی ہے اور گزر جاتی ہیں لیکن جس عید پر حقیقی خوشی ملی وہ 2005کی عید ہے۔ اکتوبر2005کے زلزلے میں اپنے گھر سے کمبل رضائیاں، کھانے کی اشیاء سمیت اچھا خاصاسامان لیا۔ ابو، امی، بہن بھائیوں سب کے نئے کپڑے اور جوتیاں زلزلہ زدگان کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور پڑھتا تھا تو اسلامی جمیعت طلبہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے ”عید کاروان“ روانہ کرنا تھا۔ عید کاروان کیلئے بہت سارے طلبہ رضاکارانہ طور پر مدد کیلئے جارہے تھے ضلع قصور سے میں، جواد سلیم اور عرفان چوہدری بھی کاروان میں شامل ہوگئے۔ اپنے نئے کپڑے زلزلہ زدگان کو عطیہ کرکے خود پرانے کپڑوں کے ساتھ گھڑھی حبیب اللہ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے گزاری اس عید کی حقیقی خوشی کو آج بھی محسوس کرسکتا ہوں۔
میرے قریبی دوست اکثر کہتے ہیں کہ آپ اشرافیہ اور بدمعاشیہ سے جتنے پنگے لیتے ہیں غریبوں اور بے زبان جانوروں کی دعائیں ہی ہیں جو آپ کو بچا دیتی ہیں۔