Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "بولنا منع ہے!” .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں انصاف و قانون کی تعریف ذرا مختلف ہے۔ یہاں قانون طاقتور کے لیے سہولت، اور کمزور کے لیے سزا ہوتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے، حکومت نے ایک اور کمال کاریگری دکھاتے ہوئے پیکا ایکٹ متعارف کرایا، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ حکومت جو کہے، وہی سچ ہے، اور جو عام عوام کہے، وہ جھوٹ، پروپیگنڈہ اور فتنہ پروری۔ یعنی اگر آپ کہیے کہ ملک میں سب اچھا نہیں، تو آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے،لیکن اگر کوئی سرکاری ترجمان کہے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، تو اس پر چپ چاپ یقین کرلینا ہے۔ کیونکہ بولنا منع ہے۔

    دوسری طرف، حکومت نے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ پنجاب میں بھکاریوں پر پابندی لگا دی جائے۔ گویا ملک میں غربت ختم ہو چکی ہے، بس ایک مسئلہ باقی تھا کہ سڑکوں پر بیٹھے یہ لوگ جو بھوک سے مجبور ہو کر ہاتھ پھیلا رہے ہیں، انہیں جیل میں ڈال کر غربت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ یعنی مسئلہ غربت نہیں، بلکہ غربت کا نظر آنا ہے!

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ قوانین بناتے کون ہیں؟ یقیناً وہی لوگ جو خود عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کرتے ہیں، ان کے ٹیکسوں سے چلنے والے ایوانوں میں بیٹھ کر ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن بنا دیتی ہیں۔ اگر بھکاریوں پر پابندی لگانی ہے، تو کیا ملک کے وہ "اعلیٰ درجے” کے بھکاری بھی اس میں شامل ہوں گے جو بیرون ملک سے قرضے مانگ کر ملک کو گروی رکھ دیتے ہیں؟ یا یہ قانون صرف عام عوام کے لیے ہے؟

    پیکا ایکٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اب صرف وہی خبر معتبر ہوگی جو حکومت کی نظر میں قابلِ قبول ہو۔ اگر آپ نے کچھ ایسا لکھ دیا جو حکمرانوں کے مزاج کے خلاف ہوا، تو سیدھا جیل کی سیر کرنی ہوگی۔ اب اگر کوئی کہے کہ مہنگائی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی ہے، تو یہ افواہ ہوگی۔ اگر کوئی کہے کہ لوگ فاقے کر رہے ہیں، تو یہ ریاست مخالف بیانیہ ہوگا۔ اور اگر کسی نے لکھ دیا کہ "حکومت نااہل ہے”، تو یہ یقیناً ریاست کے خلاف سازش تصور ہوگا۔یعنی اب عوام کی مرضی کی رائے نہیں چلے گی، صرف حکومت کی پسندیدہ رائے ہی سچ ہوگی۔ اگر سرکاری میڈیا کہے کہ ملک میں سب اچھا ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا۔ اگر حکومتی وزرا بیان دیں کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے، تو آپ کو اپنے خالی ہاتھ اور خالی جیب کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ اور اگر کوئی صحافی یا عام شہری حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے گا، تو وہ ریاست مخالف، ملک دشمن، یا کسی غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والا قرار پائے گا۔

    یہ قانون ایک طرح سے اس خیال کو عملی جامہ پہنا رہا ہے کہ "عوام کو وہی دیکھنا اور سننا چاہیے جو حکومت انہیں دکھانا اور سنوانا چاہتی ہے۔” گویا جمہوریت اب بس ایک دکھاوا ہے، اصل طاقت وہی ہے جو چند طاقتور افراد کے ہاتھ میں ہے۔

    بھکاریوں پر پابندی لگانے کا قانون بھی ایک انوکھا تماشا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر سڑکوں پر بیٹھے فقیر نظر نہیں آئیں گے، تو غربت خودبخود ختم ہو جائے گی۔ بھئی، کوئی ان عقل کے اندھوں کو سمجھائے کہ غربت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے معیشت کو بہتر بنانا پڑتا ہے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے پڑتے ہیں، نہ کہ ان غریبوں کو پولیس کے حوالے کر دینا ہوتا ہے۔

    اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی، تو سب سے پہلے وہ یہ دیکھتی کہ ملک میں لاکھوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے چوراہوں پر بھیک منگوانے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں کے پاس تعلیم، صحت اور روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں، اس لیے وہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے کوئی پالیسی بنانے کے بجائے حکومت نے آسان راستہ اختیار کیا،بھیک مانگنے پر ہی پابندی لگا دو، مسئلہ خود حل ہو جائے گا!

    یہاں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا واقعی یہ قانون پیشہ ور بھکاریوں کے لیے ہے؟ یا پھر اس کے ذریعے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو حقیقتاً مجبور ہیں؟ پاکستان میں کئی ایسے گروہ موجود ہیں جو بھکاریوں کے نام پر مافیا چلا رہے ہیں، بچوں کو اغوا کر کے ان سے زبردستی بھیک منگوائی جاتی ہے۔ لیکن کیا یہ قانون ان مافیاز کے خلاف استعمال ہوگا؟ یا پھر صرف سڑک کنارے بیٹھے اس بوڑھے شخص کے خلاف، جو دو وقت کی روٹی کے لیے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے؟
    اب اگر ہم یہ دیکھیں کہ ہمارے حکمران عوام کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں، تو ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ جب بات اپنی تنخواہوں اور مراعات بڑھانے کی ہو، تو حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آ جاتی ہے۔ ان کے بل چند منٹوں میں منظور ہو جاتے ہیں، کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ لیکن جب عوام کی فلاح کے لیے کوئی پالیسی بنانے کی بات آتی ہے، تو یہی سیاستدان ایک دوسرے کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ وہی لوگ ہیں جو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، مگر عوام کو کہتے ہیں کہ صبر کرو، قربانی دو، اور حب الوطنی کا ثبوت دو۔ ان کے اپنے گھروں میں دنیا کی ہر سہولت موجود ہے، ان کے بچوں کے لیے بہترین تعلیمی ادارے ہیں، ان کے علاج کے لیے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عوام کے لیے نہ صحت کی کوئی سہولت ہے، نہ تعلیم، نہ روزگار۔

    یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے کتوں کے لیے بھی خصوصی خوراک درآمد کرواتے ہیں، لیکن عوام کو روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ جنہیں دو وقت کا کھانا میسر نہیں، انہیں یہ لوگ سمجھاتے ہیں کہ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کم کر دیں۔ سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ غریب ہی کیوں دے؟ حکمران اپنی عیاشیوں میں کمی کیوں نہیں کرتے؟ خیر بات کسی اور طرف چل نکلی ہے۔یہ دونوں قوانین پیکا ایکٹ اور بھکاریوں پر پابندی۔۔۔۔۔۔درحقیقت اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں قوانین بنانے کا مقصد عوام کی زندگی آسان بنانا نہیں، بلکہ ان پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے حکومت نے یہ واضح کر دیا کہ آزادیٔ اظہار صرف طاقتوروں کے لیے ہے، اور بھکاریوں پر پابندی کے قانون کے ذریعے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ غربت کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ غریبوں کو جیل میں ڈال دیا جائے۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بھکاریوں پر پابندی لگانی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں غربت کی وجوہات ختم کیے بغیر صرف بھیک مانگنے پر پابندی لگانا سراسر ظلم ہے۔ اور یہی حال پیکا ایکٹ کا ہے۔ اگر حکومت واقعی صحافت اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کو روکنا چاہتی ہے، تو اسے شفاف نظام بنانا ہوگا، نہ کہ ایسا قانون جس سے سچ بولنے والوں کی زبان بندی کی جائے۔

    لیکن ہوگا تو وہی جو "وہ” چاہیں گے۔ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب تک حکمران عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی طاقت کو مزید مضبوط کرنے میں لگے رہیں گے، تب تک یہی صورتحال رہے گی۔ جو سوال کرے گا، وہ مجرم ٹھہرے گا۔ جو بھوکا ہوگا، وہ قید میں جائے گا۔ اور جو حکمران ہوگا، وہ ہمیشہ دودھ اور شہد کی نہروں میں نہاتا رہے گا۔ یہی ہے پاکستان میں قوانین کا تلخ مگر اصل چہرہ ہے…

  • مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں

    مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں

    سرینگر(باغی ٹی وی رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام نے پاکستان کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر منانے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے پوسٹرز آویزاں کر دیے۔

    کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق سری نگر سمیت مقبوضہ وادی کے مختلف شہروں اور قصبوں میں یہ پوسٹرز لگائے گئے ہیں، جن میں کشمیری عوام نے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    ان پوسٹرز پر پاکستانی قیادت کی تصاویر کے ساتھ ساتھ مختلف نعرے بھی درج ہیں، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری عوام ہر سال 5 فروری کو پاکستان کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر منانے کو امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ دن پہلی مرتبہ 1990 میں منایا گیا تھا اور تب سے ہر سال پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جانب سے والہانہ پذیرائی کی جاتی ہے۔

    مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقبوضہ وادی میں ایسے پوسٹرز لگانے پر بھارتی فورسز کی جانب سے سخت ردِ عمل متوقع ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کسی بھی اظہارِ یکجہتی پر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کی ہیں اور درجنوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف کشمیری عوام طویل عرصے سے مزاحمت کر رہے ہیں، اور پاکستان ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • چنیوٹ: دھول کے طوفان میں پھنسی عوام، منتخب نمائندے غائب

    چنیوٹ: دھول کے طوفان میں پھنسی عوام، منتخب نمائندے غائب

    چنیوٹ: دھول کے طوفان میں پھنسی عوام، منتخب نمائندے غائب
    تحریر:حسن معاویہ جٹ
    رجوعہ/بہادری والا کارپٹ روڈ جس کے دونوں طرف کچا راستہ ہے، ماضی میں اس کچے راستے کی حالت خراب تھی یعنی اس پر وقفے وقفے سے کھڈے پڑے ہوئے تھے، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا تھا۔ پھر کسی نے اس راستے کو بہتر بنانے کی کوشش کی، اور کچے راستے پر مٹی ڈالی گئی، یہ امید کرتے ہوئے کہ شاید اس سے راستہ بہتر ہو جائے۔ کھڈے تو ختم ہوگئے، مگر نتیجہ کچھ اور نکلا۔ روڈ ذرا وسیع ہوگیا مگر مٹی ڈالنے کے بعد یہ صورتحال بن گئی کہ بائیکرز، سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے مٹی کے طوفان میں سے گزرتے ہیں۔

    جی ہاں، جب گاڑیاں تیز رفتاری سے گزرتی ہیں تو مٹی کا طوفان اڑتا ہوا ہر "بے کار” کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے۔ پہلے لوگ ڈرتے تھے کہ کہیں کپڑے گندے نہ ہو جائیں لیکن اب ہر کوئی اس دھول کے "خوبصورت تحفے” کا عادی ہو چکا ہے۔ ہر کوئی بے خوف ہو کر پھیپھڑوں کو تگڑا کرکے گھر سے نکلتا ہے۔ وہ لوگ جو ٹھٹھہ ٹھاکر، باغ، ابووالا، رتھانوالہ، رجوعہ اور دیگر علاقوں کے رہائشی ہیں، وہی جانتے ہیں کہ اس راستے سے گزرنا "بے کار” افراد کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں، بالخصوص جب لوگ نہا دھو کر کام کاج پر جا رہے ہوں یا عمدہ قسم کی تیاری کرکے کسی فنکشن میں جا رہے ہوں، تو غریب سواری یعنی بائیک یا سائیکل والوں کے لیے یہ سفر ایک نیا چیلنج بن جاتا ہے۔ یہاں دھول اور مٹی کے طوفان سے گزر کر اپنا حلیہ بگاڑنا روز کا معمول بن چکا ہے۔

    شروع کے چند دنوں تک پانی ڈال کر اس صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ ناکام رہی۔ کئی مہینے گزر چکے ہیں اور اب گزرنے والے "بے کار” افراد اس کے عادی ہو چکے ہیں، پھیپھڑے فولادی ہو گئے ہیں اور ضمیر سو چکے ہیں۔ سب نے اس "دھول اور مٹی کے فوائد” کو خوشی خوشی قبول کیا ہے۔ یہاں سب اچھا ہے کیونکہ شاید اب دھول کا کوئی "مفید” پہلو سامنے آ چکا ہے۔ اس راستے کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، کھڈے اب بھی نظر آتے ہیں اور ساتھ دھول بونس کے طور پر موجود ہے۔ "سب کچھ ٹھیک ہے” کے نعرے کے ساتھ، لوگ اب ہر روز اپنے گندے کپڑے اور بگڑے حلیے لے کر کام پر روانہ ہوتے ہیں اور واپسی پر مزید دھول پھانک کر گھروں کو پہنچ کر حکام کو کوستے ہیں۔

    عوام کو یہ بات معلوم ہے کہ انتظامیہ کو دیگر بہت سے بڑے مسائل کا سامنا ہے جس پر وہ کام کر رہی ہے، لیکن ایسے مسائل کی جانب متوجہ ہونا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ دھول مٹی ہر ایک کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں، کیونکہ جہاں دو تندرست افراد دھول کو نظر انداز کر دیتے ہیں، وہیں دو چار دھول سے کسی مسئلے کا شکار ہونے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے اس راستے کو مستقل بنیادوں پر استعمال کرنے والے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

    رہے نام اللہ کا

  • بتی چلی گئی،بتی آگئی،توہاڈا بل کتنا آیا،گیس آرہی یا نہیں،یہ ہیں قوم کے دکھ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    بتی چلی گئی،بتی آگئی،توہاڈا بل کتنا آیا،گیس آرہی یا نہیں،یہ ہیں قوم کے دکھ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    دنیا مریخ پر گھر بنانے میں مصروف،ہمیں خوشامدی لے ڈوبے
    خوشامد کے جراثیم سیاست کا حصہ،سائیکل پر آیا سیاسی کار بنگلے کا مالک بن گیا
    ذرا نہیں پورا سوچئے احکامات خداوندی اور سیرت النبیﷺ پر کتنا عمل ہورہا
    ملکی قرض آسمان پر پہنچ جائے دینا قوم نے ہی ہے،لینے والے ذمہ دار نہیں
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہم وہ بدنصیب قوم ہیں آج تک گیس چلی گئی ،گیس آ گئی ، بجلی چلی گئی ،بجلی آگئی،ہر سو انتشار ہی انتشار ، ذاتی مفادات ،اقربا پروری ، علم اور عمل سے دور،علم اور عمل والوں کی قدر نہیں، خوشامد ایک ایسا ہنر ہے جس سے سب کو کاٹا جا سکتا ہے جو تیز دھار تلواروں سے کٹ سکے،انہیں خوشا مد اور قصیدہ خوانی نے بام عروج پر پہنچا دیا زمانہ ہی خوشامد خوروں کا ہے؟اگرسیاست کی بات کی جائے تو غربت سیاسی گلیاروں میں نہیں ہوتی ، بے روزگاری ،سیاسی گلیاروں میں نہیں دیکھی جا سکتی ، نہ کبھی نظر آئی ، ریاست کے سارے وسائل اس سیاست کی دسترس میں ہوتے ہیں، قرضے جتنے بھی بڑھ جائیں وہ عوام نے اُتارنے ہیں، سیاسی گلیاروں میں دیکھاجائے تو سیاستدانوں کی اکثریت اپنے آپ کو ملائکہ کرام کہلوانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیتی ہے، دنیا بھرمیں جمہوریت ،جمہور کی خدمت ہے ریاستی مفادات میں ہماری جمہوریت ذاتی مفادات،اقربا پروری ،جھوٹ ، فریب ،دھوکے ، خوشامد پر قائم ہے،مفاد پرستی کی سیاست نے اتنے پَر پھیلائے کہ فوج محفوظ نہ عدلیہ،ان حالات میں سیاسی عدم استحکام نہ ہو تو کیا ہو، ایک طرف آئین کھڑا ہے وہ اپنی بے بسی کا رونا رو رہا ہے،معیشت کا حال تو مت پوچھیئے وہ اس وقت کہاں کھڑی ہے خود ساختہ خوشحالی کے قصے اور کہانیاں سنانے والے سنا رہے ہیں،المیہ یہ ہے کہ عوام ان مفادات پرست سیاستدانوں کو مسیحا اور ہیرو مانتی ہے، کل تک 1980 ء میں جن کے پاس موٹر سائیکل اور سائیکل تھی آج اُن کے پوش علاقوں میں محل نما گھر ، پلازے ، مارکیٹیں ، کروڑوں روپے کی گاڑیاں کہاں سے آگئیں ؟سیاسی جماعتوں میں خود ساختہ ا یسے رہنمائوں کو میں جانتا ہوں جن کو اپنا راستہ معلوم نہیں وہ قوم یا اپنے حلقے کےعوام کو کیسے راستہ دکھائیں گے یا رہنمائی کریں گے، کہیں فکر اسلام کی باتیں ہوتی ہیں،لیکن اسلامی مملکت میں احکامات خدا وندی سیرت النبی ؐ پر کتنا عمل کیا جاتا ہے ؟ عدل وانصاف کی بات کی جائے تو آج بھی جسٹس رانا بھگوان داس ،جسٹس کارنولیئس،جسٹس دراب پٹیل کا نام سنہری الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور عوام کو رائٹ مین فار جاب حقیقت پسندی اور اخلاص کے پیمانوں پر شخصیات کو تولہ جائے اور شعبہ ہائے زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ قوم کی تعمیر اور ترقی کا سفر جاری ہو سکے۔

  • شہزادی زیب النساء تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    شہزادی زیب النساء تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    لاہور میں سمن آباد کے علاقے موڑ سمن آباد میں ایک احاطے میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی بیٹی شہزادی زیب النساء کی قبر موجود ہے
    شہزادی زیب النساء شاعرہ تھیں اور ان کا تخلص مخفی تھا
    اور یہ فارسی میں شعر کہتی تھیں ان کے بارے میں
    میں نے کہیں یہ قصہ پڑھا تھا کہ ایک بار اورنگ زیب عالمگیر تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد محو خواب تھے کہ ان کی ایک کنیز نے غلطی سے انہیں جگا دیا وہ بے چاری سمھجی کہ شاید فجر ہوگئی ہے
    کنیز کی اس فاش غلطی پر بادشاہ سلامت جلال میں آ گئے
    اور اس کا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا
    جب شہزادی زیب النساء تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے والد بادشاہ سلامت کو یہ اشعار لکھ کر بھیجے
    سر بریدن لازم است مرغ بے ہنگام را
    این پری پیکر چہ فرق صبح وشام را
    ( سر قلم کروانا ہے تو اس مرغ کا کروائیے جس نے بے وقت ازان دی ، اس پری پیکر کو صبح و شام کا فرق کیا معلوم)

    شنید ہے کہ پھر بادشاہ سلامت نے ،، پری پیکر ،، کو بخش دیا ، مغلوں کی حکومت شان وشوکت اقتدار ، اختیار وقت کی دھول میں گم ہوگیا اب بہت سے مغل شہزادے شہزادیوں کی قبروں کا نشان بھی نہیں ملتا جو قبریں ہیں وہ بھی ،، نے چراغ نے گلے ،، کے مصداق ویران ہیں ،

    شہزادی زیب النساء کی یہ قبر جس کے بارے میں مختلف روایات ہیں کہ ان کی ایک قبر دہلی میں بھی ہے پتہ نہیں کون سی اصلی ہے یہ لاہور والی یا دہلی والی بہرحال شہزادی زیب النساء کا ذکر تاریخ میں موجود ہے اور ان کا کلام بھی

  • آغا محمد شاہ حشر کاشمیری .تحریر   : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری 3 اپریل 1879ءکو بنارس میں پیدا ہوئے ۔ان کا نام آغا محمد شاہ،اورتخلص حشر تھا ۔وہ ایک مشہور و معروف کشمیری خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ان کے والد کا نام آغا محمد غنی شاہ تھا۔ جو کشمیر میں شالوں کا کاروبار کرتے تھے ۔

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری نے ابتدائی تعلیم مدرسہ سے حاصل کی ۔اسی مدرسہ کے حافظ عبد الصمد سے عربی ،فارسی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی اور سولہ سپارے بھی حفظ کر لئے تھے ۔اس کے بعد جے نارائن سکول میں داخلہ لیا لیکن نصاب میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم مکمل نہ کرسکے اور ڈرامہ نگاری کے شوق میں بمبئی چلے گئے ۔اور کم عمر میں ہی شاعری شروع کردی۔1897ءمیں محض 18سال کی عمر میں ایک ڈرامہ "افتاب محبت”لکھا اور اصلاح کے لئے مہدی حسن لکھنوی کے پاس لے گئے تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ لکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔اس کو آغا حشر نے بطور چیلنج قبول کیا اور اس کے بعد اس طنز کا ایسا جواب دیا کہ آغا حشر کے بغیر اردو ڈرامہ کی تاریخ مکمل ہو ہی نہیں سکتی ۔آغا محمد شاہ حشر کو جو شہرت ،مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی ۔

    آغا حشر نے 19سال کی عمر میں ڈرامہ نگاری میں نام پیدا کر لیا تھا ۔اس کے بعد آپ نے انگریزی زبان سیکھی اور شیکسپئر اور دیگر مغربی ڈرامہ نگاروں کو پڑھا اور بعض کا اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا ۔
    ڈرامہ سیریل "آفتاب محبت”کے بعد آغا حشر نے بے شمار ڈرامے لکھے جن میں خواب ہستی ،رستم وسہراب،مرید شک ،اسیر حرص ،ترکی حور ،آنکھ کا نشہ ،یہودی کی لڑکی ،خوبصورت بلا ،سفید خون اور میٹھی چھری جیسے لازوال کردار تخلیق کیے ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے آغا محمد شاہ حشر کاشمیری کو ہندوستان کے شیکسپیئر کا خطاب بھی مل گیا ۔اور پورے ہندوستان میں آغا محمد شاہ حشر کاشمیری کی مقبولیت کے چرچے زبان زدِ عام ہونے لگے۔ مکالمہ نگاری میں بھی آغا حشر کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔آغا حشر مکالمہ نگاری کے بانی ہیں ،ان کے مکالمے زبان سے نکلتے ہیں اور دل میں اترتے چلے جاتے ہیں ۔دیکھنے اور سننے والے ان کا وہی تاثر لیتے ہیں جو آغا حشر دینا چاہتے ہیں ۔

    چراغ حسن حسرت آغا حشر کی مقبولیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ:
    ” ابھی ہندوستان میں فلموں کا رواج نہیں تھا ،جو کچھ تھا تھیٹر ہی تھیٹر تھا ۔یوں تو اور بھی اچھے ڈرامہ آرٹسٹ موجود تھے ،لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے ۔اور آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی ؟بچارےسارے ڈرامہ آرٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے ۔”

    پروفیسر حفیظ احسن اپنی راۓ کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ:
    "ایک قادر الکلام اور شیریں بیان شاعر ہونے کی وجہ سے آغا حشر کے ڈراموں کی زبان میں بلا کی روانی ہے ۔”
    بقول پروفیسر طاہر شادانی کہ:
    "جذبات کی تصویر کشی میں آغا حشر ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔”

    آغا محمد شاہ نے جب اپنی ڈرامہ کمپنی کا آغاز کیا تو اس کا نام بھی انڈین شیکسپیئر تھریٹیکل کمپنی رکھا ۔آغا حشر نے اپنے عہد میں سماج کے ہر طبقے کے لوگوں اور ہر طرح کے موضوع پر اپنی بےباک راۓ کو اپنے قلم کے ذریعے ڈرامے کی شکل میں لوگوں تک پہنچایا ۔آغا حشر کاشمیری نے اردو ڈراموں میں ایک نئی جہت پیدا کی اور سٹیج ڈراموں کو بازاری پن اور عامیانہ ماحول سے نکال کر خالص ادبی صنف بنایا ۔آغا حشر کو شاعری پر بھی عبور حاصل تھا ۔وہ شاعرانہ تخیل کو سیدھے الفاظ اور عام بول چال میں بیان کرتے ۔وہ اتنے جلدی اشعار کہتے تھے کہ سننے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ۔ان کے ڈراموں کی کامیابی میں ان کا شاعرانہ اسلوب بھی کار فرما ہے ۔آغا حشر کے ڈراموں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مصائب اور پریشانی میں احساس شکست پیدا کرنے کی بجائے ان مصائب سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ اور زندگی کی شمع روشن کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ۔
    آغا حشر کاشمیری ایک اچھے مصنف اور شاعر کے علاوہ ایک اچھے اداکار بھی تھے ۔
    بہرحال جب فن فنکار کی پہچان بن جاتا ہے تو یہی فن اسے صدیوں تک زندہ رکھنے کا ضامن بن جاتا ہے ۔
    آغا حشر کاشمیری اُفق کے اس ستارے کا نام ہے جس کی روشنی میں اردو ادب کی روایت ہمیشہ قائم و دائم رہے گی ۔ بلآخر فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ 28اپریل 1935ءکو غروب ہو گیا۔
    (انا للہ وانا الیہ راجعون)
    آغا حشر کاشمیری لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔اللہ تعالیٰ آغا حشر کاشمیری کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)

  • شہہ رگ کشمیر کے ساتھ ایک دن کی یکجہتی کافی؟تحریر: جان محمد رمضان

    شہہ رگ کشمیر کے ساتھ ایک دن کی یکجہتی کافی؟تحریر: جان محمد رمضان

    کشمیر، پاکستان کی شہ رگ ہے، اور یہ صرف ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ ایک جذباتی اور نظریاتی رشتہ بھی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ ہر مسلمان کے دل میں گہرائی سے بیٹھا ہوا ہے، کیونکہ ہمارے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ دینِ اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ہم سب کا عقیدہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اور یہ رشتہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ہماری حمایت کو مضبوط کرتا ہے۔

    کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کشمیری بھائیوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ کئی دہائیوں سے بھارت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیری عوام اپنے حقِ خود ارادیت کے لئے مسلسل لڑ رہے ہیں۔ ان کی قربانیاں، ان کا خون، اور ان کی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی آزادی تک ان کا ساتھ دیتے رہیں گے۔یوم یکجہتی کشمیر ہر سال منایا جاتا ہے، اور دنیا بھر میں مختلف ممالک میں کشمیریوں کی آزادی کے لئے جلوس، ریلیاں اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس سے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے، مگر اس مسئلے کا حل صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ عملی اقدام سے ممکن ہے۔ آزادی کے لیے صرف باتیں نہیں کرنی ہوںگی، بلکہ میدانِ عمل میں قدم اٹھانا ہوگا۔

    پاکستانی قوم کا یقین ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کے بغیر کوئی راہ نہیں۔ بھارتی افواج نے کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کی انتہاء کر رکھی ہے، اور اس ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے جہاد ایک لازمی اقدام بن چکا ہے۔ اس مقصد کے لئے پوری قوم کو متحد ہو کر ایک نظریے کے تحت کام کرنا ہوگا۔ حکومتِ پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ عالمی سطح پر کشمیریوں کی حمایت کے لئے پاکستان کو ہر ممکن سفارتی ذرائع استعمال کرنا ہوں گے تاکہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کا حل نکالیں۔ اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کرنا چاہیے کہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دیا جائے اور بھارت کے غیر قانونی قبضے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔

    یوم یکجہتی کشمیر ہر سال منایا جاتا ہے، مگر ہمیں اس دن کو صرف یادگار نہیں بلکہ عملی اقدامات کے طور پر منانا ہوگا۔ ہمیں کشمیر کے لوگوں کی مدد کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانا ہوگا۔ کشمیر کی آزادی تک اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی، دنیا کو بتانا ہوگا کہ کشمیر کی آزادی ہمارے لئے ایک مقدس مقصد ہے۔کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور کشمیریوں کے لئے صرف ایک سیاسی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک نظریاتی جنگ ہے۔ ہمیں اس جنگ کو شعور، جذبے اور عمل کے ساتھ لڑنا ہوگا۔ کشمیر کی آزادی کا خواب تب ہی حقیقت بنے گا جب ہم اس مسئلے کے حل کے لیے خود کو میدانِ عمل میں شامل کریں گے اور عالمی برادری پر دباؤ ڈالیں گے۔

    jaan

  • سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟

    سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ایک علیحدہ سرائیکی صوبے کا مطالبہ ایک عرصے سے زیر بحث ہے لیکن حالیہ دنوں میں کچھ واقعات نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ خواجہ غلام فرید کے مزار پر منعقد ہونے والی "روہی انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس” کے دوران دیے گئے متنازع بیانات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان تنازع کو ہوا دی ہے۔ ان بیانات میں سرائیکی عوام کو "پناہ گزین” کہہ کر پنجاب چھوڑنے کی دھمکیاں دی گئیں جو نہ صرف ایک سنگین مسئلہ ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش کا بھی اشارہ دیتا ہے۔ ایسے بیانات عوام میں نفرت کو بڑھاتے ہیں اور ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جو معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

    یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تنازع کس کے مفاد میں ہے اور اس کے پیچھے کون سے عناصر سرگرم ہیں؟ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں نے ہمیشہ لسانی اور نسلی بنیادوں پر ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دینا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا فروغ، سندھ میں قوم پرستی کو بڑھانا اور اب پنجاب میں سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان اختلافات کو جنم دینا اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ ماضی میں ایسی کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں لیکن اب ایک بار پھر ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

    سرائیکی قوم اپنی قدیم ثقافت، زبان اور تاریخی ورثے پر فخر کرتی ہے۔ چولستان کے قدیم شہر گنویری والا کی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ سرائیکی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس علاقے کے لوگ اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں۔ سرائیکی وسیب کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں علیحدہ صوبہ دیا جائے تاکہ وہ اپنی ثقافت، زبان اور تشخص کا بہتر تحفظ کر سکیں۔ اس کے علاوہ سرائیکی وسیب کی معاشی پسماندگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں کے عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع حاصل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ خطہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ ایک علیحدہ صوبہ اس علاقے کی ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور عوام کو وہ حقوق دلوا سکتا ہے جن سے وہ طویل عرصے سے محروم ہیں۔
    سرائیکی عوام کو جنوبی پنجاب یا پنجاب کہلانے پر بھی اعتراض ہے کیونکہ وہ اپنی الگ ثقافتی اور لسانی شناخت رکھتے ہیں۔ وہ خود کو پنجابی نہیں سمجھتے اور ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں ایک علیحدہ شناخت دی جائے۔ ماضی میں کئی سیاسی جماعتوں نے سرائیکی صوبے کے قیام کے وعدے کیے لیکن کوئی بھی حکومت ان وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے سرائیکی عوام کو خوش کرنے کے لیے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا، لیکن یہ محض ایک نمائشی اقدام ثابت ہوا۔ موجودہ حکومت تو سرائیکی سیکرٹریٹ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے عوام میں مزید مایوسی اور غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔

    سرائیکی صوبے کے قیام کے لیے ایک طویل جدوجہد جاری ہے جو 1970 کی دہائی سے مختلف ادوار میں چلتی آ رہی ہے۔ سرائیکی قوم پرست جماعتیں اور دانشور مسلسل یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ سرائیکی وسیب کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں اور ایک علیحدہ صوبہ ہی ان مسائل کا واحد حل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بہاولپور ریاست کے پنجاب میں انضمام کو بھی متنازع سمجھا جاتا ہے اور بعض لوگ اس فیصلے کو زبردستی مسلط کیا گیا قدم قرار دیتے ہیں۔

    سرائیکی عوام کو طویل عرصے سے سیاسی جماعتوں کی وعدہ خلافیوں کا سامنا رہا ہے اور اس وقت وسیب کے عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ ہر انتخابات میں سیاستدان سرائیکی علاقوں میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے سبز باغ دکھاتے ہیں، لیکن انتخابات کے بعد ان کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سرائیکی عوام کے اندر یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ انہیں سیاسی جماعتوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے خود آواز اٹھانی چاہیے۔

    سرائیکی عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں دیگر قوموں کی طرح مکمل حقوق دیے جائیں، لیکن عملی طور پر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سرائیکی صوبے کا قیام پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے کیونکہ اگر سرائیکی عوام کو ان کے حقوق نہ دیے گئے تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے جو قومی وحدت کو کمزور کر سکتا ہے۔ کچھ لوگ موجودہ حکومت کے طرز عمل کو 1971 میں مشرقی پاکستان کے ساتھ ہونے والے سلوک سے تشبیہ دے رہے ہیں کیونکہ اس وقت بھی بنگالی عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا تھا جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا تھا۔

    سرائیکی دانشوروں اور قوم پرست رہنمائوں کا موقف واضح ہے کہ ایک علیحدہ صوبہ ہی سرائیکی عوام کے مسائل کا حل ہے۔ موجودہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں مخلص نظر نہیں آتی اور پارلیمنٹ میں بھی اس حوالے سے سنجیدہ پیش رفت نہیں ہو رہی۔ اگر سرائیکی عوام کو ان کے حقوق نہ دیے گئے تو اس کے نتیجے میں مزید بے چینی اور عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ سرائیکی عوام بغیر کسی سیاسی مفاد کے اپنے حقوق کے لیے خود آواز بلند کریں اور اپنی شناخت، ثقافت اور حقوق کے لیے منظم جدوجہد کریں۔

    سرائیکی عوام کا علیحدہ صوبے کا مطالبہ کسی تعصب یا علیحدگی پسندی پر مبنی نہیں بلکہ یہ ان کے جائز حقوق کے حصول کی جدوجہد ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ تمام قومیتوں کو مساوی حقوق دیے جائیں۔ اگر سرائیکی صوبہ بنایا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف وسیب کے عوام کو انصاف ملے گا بلکہ وفاق پاکستان مزید مستحکم ہوگا۔ ایک نئے صوبے کا قیام ملکی انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنائے گا اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے گا، جس سے قومی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ یہی وقت ہے کہ اس دیرینہ مطالبے کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ وسیب کے عوام کو احساس محرومی سے نجات ملے اور پاکستان مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔

  • افغانستان میں افراتفری اور اس کے علاقائی اثرات

    افغانستان میں افراتفری اور اس کے علاقائی اثرات

    اگست 2021 میں امریکہ کی واپسی کے بعد سے، واشنگٹن نے افغانستان کے لیے 3.71 بلین ڈالر کی امداد مختص کی ہے، جس میں سے 64.2% اقوام متحدہ کے ایجنسیوں، UNAMA اور ورلڈ بینک کے ذریعے تقسیم کی گئی،

    طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے، ان کی جابرانہ حکمرانی مزید سخت ہو گئی ہے، جس کا سبب ان کی حکومتی پالیسیوں اور دہشت گرد گروپوں جیسے فتنے الخوارج (فاك ٹی ٹی پی)، داعش (ISIS) اور القاعدہ کی حمایت ہے۔ طالبان کی حکمرانی نے خواتین کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ SIGAR نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ افغانستان سے بے خوف ہو کر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جیسا کہ ISIS-K نے 2024 میں افغانستان، ایران، روس، پاکستان اور ترکی میں 60 حملے کیے، جو 2023 کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہیں۔

    پاکستان نے 2024 میں 640 سے زیادہ (ٹی ٹی پی) حملوں کا سامنا کیا، جن میں دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 2,500 سے زائد افرادکی موت ہوئی، جو 2023 کے مقابلے میں 66 فیصد اضافہ ہے، پاکستان کی حکومت نے طالبان کے جابرانہ دور حکومت کی جانب سے (ٹی ٹی پی) کے انتہاپسند گروپ کو خاموشی سے سپورٹ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جو افغان سرزمین پر بے خوف پناہ گزین ہیں۔ پاکستان نے یہ بھی ثبوت فراہم کیا ہے کہ (ٹی ٹی پی) کے جنگجو امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں، جو امریکہ کی واپسی کے بعد افغانستان میں چھوڑا گیا تھا۔

    امریکی محکمہ دفاع نے اندازہ لگایا ہے کہ افغانستان میں 7 بلین ڈالر کا فوجی سامان چھوڑا گیا تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مستقبل کی امداد اس بات پر مشروط کی کہ امریکی فوجی سامان واپس کیا جائے۔ چار ملکی گروپ (پاکستان، چین، ایران اور روس) نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کریں۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے کوئی بڑا حملہ ہوا تو اس کا فوری جواب دیا جائے گا اور (ٹی ٹی پی) کے محفوظ ٹھکانوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ (ٹی ٹی پی) طالبان کی حکمرانی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے، جس میں 6,000 سے 6,500 جنگجو پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان کی حکمت عملی سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے اور طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے چین اور دیگر علاقائی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر مضبوط دفاعی اقدام پر مرکوز ہے۔ اسلام آباد اپنے اقتدار اعلیٰ اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز نہ بننے دیا جائے۔

  • "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "ٹرمپ کی واپسی،امریکی سیاست اور عالمی منظرنامے پر اثرات”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا کے سیاسی نقشے پر امریکہ کی اہمیت اور اس کے فیصلوں کی گونج کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسی شخصیت دوبارہ امریکی صدارت کی گدی پر بیٹھتی ہے، تو دنیا کے کئی ملکوں کے سیاسی و معاشی نظاموں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ 20 جنوری 2025 کو ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان کامیابی اور امن کی ہوگی یا تنازعات اور مشکلات کی؟

    ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی کا بنیادی اصول ان کے معروف نعرے "امریکہ فرسٹ” میں مضمر ہے۔ وہ اپنی مہم میں ہمیشہ یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ امریکہ کو باقی دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں، بلکہ اسے اپنے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی فلسفے کے تحت انہوں نے 2016 میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد کئی عالمی معاہدوں سے امریکہ کو نکال دیا، جن میں پیرس ماحولیاتی معاہدہ اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ شامل تھے۔ یہی فلسفہ ان کے دوسرے دور اقتدار میں بھی غالب نظر آتا ہے۔ ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ وہ امریکہ کی معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدام کریں، چاہے اس سے ماحولیات، انسانی حقوق، یا عالمی تعلقات پر کتنا ہی برا اثر پڑے۔ ان کی پالیسیوں کے مطابق امریکہ کا سب سے بڑا دشمن غیر ملکی مداخلت، امیگریشن، اور صنعتی معیشت پر لگائی گئی قدغنیں ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں ان کی امیگریشن پالیسی نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا اعلان ان کی سب سے متنازع اور پہچانی جانے والی پالیسی تھی۔ یہ دیوار محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں، بلکہ ٹرمپ کی سیاست کا علامتی مظہر تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقریباً دو ہزار میل طویل سرحد پر وہ محض ساڑھے چار سو میل کی دیوار بنا سکے۔ کانگرس اور عدلیہ کی مخالفت نے اس منصوبے کو مکمل طور پر ناکام کر دیا۔ اب دوسرے دور اقتدار میں ٹرمپ اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ساتھ ہی وہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی ماحولیاتی پالیسی کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صنعتی ترقی کو کسی بھی قیمت پر روکنا نہیں چاہتے۔ پیرس معاہدے سے نکلنے کا ان کا فیصلہ عالمی ماحولیات کے تحفظ کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا تھا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ماحولیات کے حوالے سے عائد کردہ قوانین امریکی معیشت پر غیر ضروری بوجھ ہیں۔ وہ گیس اور تیل کی پیداوار کو بڑھانے اور توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ پالیسی طویل مدت میں امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ بڑھتا ہوا ماحولیاتی بحران اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال عالمی معیشت اور ماحول کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تعلقات کا انداز روایتی سفارت کاری سے بالکل مختلف ہے۔ وہ اقوام متحدہ اور نیٹو جیسے اداروں کو غیر ضروری قرار دے چکے ہیں اور چین، روس، اور ایران جیسے ملکوں کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسی کا ایک بڑا امتحان مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ہوگا۔ ایران کے ساتھ تعلقات پہلے ہی خراب ہیں، اور ٹرمپ کی پالیسی انہیں مزید بگاڑ سکتی ہے۔ اسی طرح چین کے ساتھ تجارتی جنگ اور روس کے ساتھ تعلقات کی غیر یقینی صورتحال بھی ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔

    ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکی معیشت کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔ ان کے دور میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھنے کو ملا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیوں کا طویل مدتی اثر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکس میں کمی،غیر ضروری اخراجات، اور صنعتی قوانین میں نرمی امریکی معیشت کو عارضی طور پر فائدہ پہنچا سکتے ہیں، لیکن قرضوں کا بوجھ بڑھنے اور اقتصادی عدم توازن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ٹرمپ کی سیاست کا ایک تاریک پہلو ان کا انتقامی رویہ ہے۔ 6 جنوری 2021 کو کانگرس پر حملے کے بعد ان کے حامیوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب ٹرمپ نےان افراد کو معاف کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے نئے قوانین اور احکامات جاری کر سکتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت امریکی جمہوریت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کی پالیسیاں نہ صرف داخلی بلکہ خارجی سطح پر بھی تنازعات کو ہوا دے سکتی ہیں۔ اگرچہ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا طرز حکمرانی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے چار سالوں میں ٹرمپ دنیا میں کتنی بڑی تبدیلی لا سکیں گے، لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کا دوسرا دور اقتدار امریکہ اور دنیا دونوں کے لیے چیلنجز کا باعث بنے گا