Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میجر حمزہ شہید اور 29 کا ہندسہ

    میجر حمزہ شہید اور 29 کا ہندسہ

    میجر حمزہ شہید اور 29 کا ہندسہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    میجر حمزہ اسرار شہید کی زندگی میں 29 کا عدد نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ 29 سال کی عمر میں، 29 دسمبر 2024 کو ان کی شادی ہوئی اور 29 جنوری 2025 کو وہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں کے خلاف ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران شہید ہوئے۔

    قدیمی گاؤں توپ مانکیالہ کے رہائشی میجر حمزہ اسرار نے ابتدائی تعلیم پری کیڈٹ اسکول ساگری سے حاصل کی، جہاں سے ان کی محنت و لگن کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں کیڈٹ کالج چکوال میں دو سالہ سخت محنت کے بعد انہوں نے ایف ایس سی مکمل کی اور اسی جذبے کے ساتھ آئی ایس ایس بی کے چیلنجنگ امتحانات کو باآسانی پاس کیا۔

    یہ وہ لمحہ تھا جس کا خواب ان کی ماں نے ہمیشہ دیکھا تھا کہ ان کا بیٹا فوج میں افسر بنے گا۔ 15 مئی 2014 کو انہوں نے پی ایم اے کاکول ایبٹ آباد کے لیے رختِ سفر باندھا اور 17 اکتوبر 2015 کو اپنی محنت کے بل بوتے پر سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔

    سیالکوٹ میں تعیناتی کے دوران لیفٹیننٹ حمزہ اسرار نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور کیپٹن کے عہدے کے لیے کوئٹہ کا کامیاب سفر کیا۔ بہترین خدمات انجام دیتے ہوئے وہ بطور ایڈجوٹنٹ تعینات ہوئے۔

    اپنی مزید پیشہ ورانہ ترقی کے لیے انہوں نے کوئٹہ میں کیپٹن سے میجر کے پروموشن کورس میں شرکت کی، جہاں شاندار کارکردگی کے بعد انہیں شنکیاری میں انسٹرکٹر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ اس وقت ملک کو داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا تھا، بالخصوص افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔

    ان نازک حالات میں میجر حمزہ کی یونٹ کو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا حکم ملا۔ یونٹ پہلے ہی وہاں ڈیڑھ سال سے خدمات انجام دے رہی تھی، اسی دوران ان کے والدین نے ان کے لیے شادی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ 29 دسمبر 2024 کو وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور خوشیوں کی گونج ان کے گھر میں سنائی دینے لگی۔

    مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ شادی کے صرف 17 دن بعد ہی وہ اپنی یونٹ میں واپس چلے گئے۔ 29 جنوری 2025 کو ان کی شادی کو ٹھیک ایک مہینہ مکمل ہوا تھا کہ شمالی وزیرستان کے میر علی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک آپریشن کا آغاز کیا۔

    آپریشن کے دوران پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا مگر فائرنگ کے شدید تبادلے میں میجر حمزہ اسرار اور سپاہی محمد نعیم شدید زخمی ہوگئے۔ شام 7 بج کر 35 منٹ پر مزید کمک پہنچی مگر اس وقت بھی میجر حمزہ شدید زخمی حالت میں دشمن کے خلاف ڈٹے ہوئے تھے۔

    میجر حمزہ اسرار کا تعلق تحصیل گوجرخان ضلع راولپنڈی سے تھا اور انہوں نے 9 سال تک پاک فوج میں خدمات انجام دیں۔ ان کی نماز جنازہ چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں ادا کی گئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع، وزیر اطلاعات سمیت سینئر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران، جوانوں اور شہید کے لواحقین نے شرکت کی۔

    نماز جنازہ کے بعد میجر حمزہ اسرار کو ان کے آبائی گاؤں میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے ان کے آبائی گاؤں کا دورہ کیا سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف بھی ہمراہ تھے اور ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کی۔

    میجر حمزہ اسرار کی زندگی میں 29 کا عدد ایک منفرد تسلسل کے ساتھ موجود رہا، جو ان کی زندگی کے اہم لمحات سے جڑا رہا۔

  • نواز شریف کی بے توقیری کے جرم کا اعتراف ضروری۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف کی بے توقیری کے جرم کا اعتراف ضروری۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)قوموں کے عروج اور زوال کے اسباب قرآن پاک میں موجود ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم کبھی حالت جنگ میں ہوتے ہیں تو کبھی حالت انتشار میں ۔ آخر کب تک پاکستان بطور ریاست اور عوام حالت انتشار میں رہیں گے؟ملائی اور حلوائی کی باتوںسے نکل کر دنیا کی بدلتی ہوئی تازہ ترین حالات کا جائزہ لیں اپنے مفادات کو وطن عزیز کے وقار اور سلامتی پر قربان کریں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز رائٹ مین فار رائٹ جاب ہے ملکی مفادات اور قومی مفادات ہیں۔ ہمارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ذاتی مفادات میں مذاکرات اس لئے کامیاب نہیں ہوتے ان مذاکرات کے پیچھے فردواحد کی شخصیت اور جماعتی مفادات ہیں۔ پیکا قانون کو ہی لے لیں آج میری بات سینیٹر عرفان صدیقی سے ہوئی ، انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ تجاویز ہیں جس پر عمل کرکے صحافیوں کا احتجاج ختم ہو سکتا ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔ حکومت کے پاس عرفان صدیقی جو ایک صحافی ،استاد اور ملک بھر کے صحافی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اُن کے تجربات سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتی۔ اسی طرح ملکی سیاسی عدم استحکام کو دیکھ کر جو قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہا جب کہ قابو کرنے کا ہنر جاننے والے نواز شریف جس نے ملکی ترقی جس میں دفاع بھی شامل ہے اُن کو شاید ہم نظر انداز کرکے کون سی خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟ ملکی معیشت ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے والے نواز شریف کے ساتھ ہم نے کیا کیا ،کون سا زخم ہے جو اُن کو نہیں دیا گیا۔ سیاسی جماعتوں مذہبی جماعتوں کو ملکی ترقی ملکی دفاع کومد نظر رکھتے ہوئے بحیثیت قوم اُن کی خدمات کا اعتراف اور ساتھ اُن کی بے توقیری کے جرم کا اعتراف کرلینا چاہیئے۔
    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے۔ مشکلات میں گرے عوام اور پاکستان کو اُس مقام پرلاکھڑا کیا ہے جہاں سیاسی غبارہ وقت سے پہلے پھٹ جائے تو خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب سے گوادر ائیر پورٹ کا افتتاح ہوا ہے بھارت سمیت بہت سے دوسرے ممالک کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں پاک فوج اور جملہ ادارے دہشت گردی کے عفریت کا تن تنہا سامنا کررہے ہیں۔ قومی جذبہ سے سرشار ہماری پاک فوج اور دیگر جس میں پولیس بھی شامل ہے شہید ہورہے ہیں۔ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک بھی پہنچا رہے ہیں پاک فوج اور جملہ ادارے داخلی سلامتی اور امن وامان کے لئے دن رات فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ذرا سوچئے سیاسی گلیاروں میں کیا ہو رہا ہے۔ کون کس کی اور کیا خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

  • ماہ نیم شب۔تحریر:فرح علوی

    ماہ نیم شب۔تحریر:فرح علوی

    ماہ نیم شب
    تحریر:فرح علوی
    وہ ہسپتال کے ویٹنگ روم میں بیٹھا اپنی باری آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ اندر کو دھنسی آنکھیں اور چہرے پر کرب کی بے شمار کہانیاں لکھی تھیں۔ ملگجی سا میلا کچیلا لباس اور ٹوٹے پھوٹے جوتے پہنے ہوئے، اس کی حالت بہت قابلِ رحم تھی۔

    "شاکر خان۔۔۔۔۔۔!” نرس نے اس کا نام پکارا تو وہ بے تاثر سی خالی خالی نظروں سے ڈاکٹر کے کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے جونہی روم کے اندر داخل ہوا تو اس کی نظر اپنے سامنے بیٹھی ڈاکٹر ادینہ پر پڑی۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر گھوم سا گیا۔ حیرت و بے یقینی کے عالم میں اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ فائل پر جھکا چہرہ، جس پر بلا کا اعتماد تھا۔ بالوں کا بنا بیک کومب اسٹائل اور سادہ سے سوٹ پر اوور آل پہنے ہوئے، وہ بہت باوقار لگ رہی تھی۔

    "آئیے۔۔۔۔۔۔” فائل سے نظریں ہٹا کر اس نے اپنے سامنے کھڑے شاکر خان کی طرف دیکھا تو چہرے پر چھائے اطمینان کی جگہ اضطراب نے لے لی۔ وہ حیرت و بے یقینی کے عالم میں کھڑی ہو گئی۔ جھریوں زدہ چہرے کے پیچھے ماضی کی اندوہناک کہانیاں واضح لکھی ہوئی تھیں۔ وہ ان تحریروں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتی تھی، مگر یہ امر اس کی دسترس سے باہر تھا۔ ماضی نے اسے ایسے زخم دیے تھے، جن پر بظاہر تو کھَرَنڈ آ چکا تھا مگر وہ اندر سے ناسور بن چکے تھے۔ حال نے ایک بار پھر ماضی کا صفحہ پلٹ کر اس کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا۔ وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے والی لڑکی تھی، مگر زندگی شاید اس سے کوئی اور امتحان لینا چاہتی تھی۔

    ماضی میں شاکر خان کی ساری خوشیاں ادینہ کی اذیتوں سے مشروط تھیں اور وہ آج بھی اسی چہرے کے پیچھے چھپے اپنے ہر درد اور اذیت کا مداوا چاہتی تھی۔ شاکر کے ضبط کا بند ٹوٹا تو آنسو خود بخود آنکھوں کے حلقوں سے ابل کر باہر نکل آئے۔ اس نے اپنے جھریوں والے کپکپاتے ہاتھ ادینہ کے سامنے جوڑ دیے، لیکن وہ بے تاثر سی کھڑی ناپسندیدگی کے باوجود ماضی کے ان جھروکوں میں داخل ہو چکی تھی، جن میں وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔
    ……………..
    بیٹے کی خواہش میں پے در پے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ آج بھی حسنہ وہی اذیت سہہ رہی تھی اور پھر وہ چوتھی بیٹی کو جنم دیتے ہی اس جہانِ فانی کو الوداع کہہ گئی۔ بیٹی کو پیدا ہوتے ہی منحوس کے لقب سے نوازا گیا، کیونکہ ماں کے مرنے کی ذمہ دار صرف یہی بچی تھی۔ موت اور زندگی کا اختیار تو صرف اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے تو پھر انسان کیوں دوسرے انسان کو اس امر کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے؟

    وقت اپنی مست خرامی میں گزرتا رہا۔ بڑی دو بہنوں نے باپ کی نفرت کا زیادہ اثر لیا اور چھوٹی بہن سے ہتک آمیز سلوک کرنے لگیں۔ بڑی بہن نے پھر بھی کسی حد تک سمجھوتہ کر لیا تھا۔ وہ بچپن سے ہی دبی دبی اور سہمی ہوئی رہتی۔ پانچ سال کی عمر میں اس نے اسکول جانا شروع کیا تو کچھ وقت سکون کا میسر آنے لگا۔ وہ کتابوں کو اس طرح سینے سے لگا کر رکھتی گویا یہی وہ نیا ہے، جو زندگی کے بیکراں سمندر میں اسے پار لگائیں گی۔ وہ بہت خوشی سے تیار ہو کر اسکول جاتی مگر اپنی خوشی کو کسی پر ظاہر نہ کرتی۔ تلخ حالات، اپنوں کی بیگانگی اور احساسِ تنہائی نے اسے وقت سے پہلے بڑا کر دیا تھا۔ گھر میں جب شاکر خان داخل ہوتا تو ادینہ ایسے چھپتی جیسے اس نے موت کا فرشتہ دیکھ لیا ہو۔ وقت کی مخصوص رفتار کے ساتھ وہ بھی بڑی ہو رہی تھی۔

    آج اسکول میں ایک شاندار پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس میں ادینہ نے بھی حصہ لیا۔ ڈائس پر مائیک کے سامنے اپنی تمام تر متانت اور اعتماد لیے ادینہ نے اظہارِ خیال کرنا شروع کیا۔
    …………….
    میرا ان تمام فوت شدہ ماؤں سے ایک سوال ہے۔ جن روحوں کو جنم دیتے ہی مائیں اس جہان کو چھوڑ جاتی ہیں۔ کیا ان کے مرنے کے ذمہ دار ہم ہوتے ہیں۔۔۔؟
    کیا قانونِ قدرت وہ بے بس بچہ اپنی دسترس میں لے سکتا ہے، جو بولنے، سننے، سمجھنے، چلنے پھرنے اور خود کھانے پینے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔۔۔؟ تو پھر معاشرے کے لوگوں کا رویہ اتنا نفرت آمیز کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟ کیا زندگی اور موت انسانی خواہش پر منحصر ہے۔۔۔؟ میں یہ اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ فوت شدہ اجسام میرے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہیں، تو اس لیے میرا سوال ان زندہ انسانوں سے ہے، جو آج ہر جذبے سے عاری، محسوسات کے عنصر سے خالی ذہن لیے زندہ لاشیں بنے پھرتے ہیں۔ کیا یہ سب ان کو زندہ کر کے واپس لا سکتے ہیں۔۔۔؟ جن کو مارنے کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرایا جاتا ہے۔۔۔؟

    "اس نے اپنے سوالات مکمل کرنے کے بعد سوالیہ نظروں سے حال میں بیٹھے حاضرین کی طرف دیکھا۔ سبھی خاموش تھے۔ حال پر چھائے اس سکوت کو پرنسپل کی تالیوں نے توڑا تو سبھی اٹھ کر ادینہ کو تالیاں بجا بجا کر داد دینے لگے۔ اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو ضبط کرتے ہوئے اس نے سب کی طرف دیکھا۔

    "تمام تر حسیات سے محروم یہ معاشرہ آپ کے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے، بیٹا۔” پرنسپل صاحب نے نظریں جھکا کر رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
    ……………..
    ادینہ گھر میں داخل ہوئی تو ایک ہنگامہ اس کا منتظر تھا۔ باپ کی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت کو محسوس کرتے ہوئے ادینہ کانپ سی گئی۔ وہ نظر بچا کر کمرے میں جانے لگی تو شاکر خان ایک جھٹکے سے اٹھا اور ادینہ کو گردن سے دبوچ لیا۔
    "کیا کہہ کر آئی ہے تُو سکول میں۔۔۔؟ کیا میں نے اس لیے تجھے سکول جانے کی اجازت دی تھی کہ تُو ہماری بدنامیاں کرتی پھرے؟” وہ غم و غصے کی حالت میں سب کچھ فراموش کر چکا تھا۔ بڑی بہن بچانے کے لیے لپکی۔ چھوٹی دونوں سہمی کھڑی تھیں۔
    "ابا، چھوڑ دے اسے، نہیں تو یہ مر جائے گی۔” بڑی بہن نے ادینہ کو اس سنگین گرفت سے آزاد کرانے کی ناکام کوشش کی۔
    "میرے لیے تو یہ کب کی مر چکی ہے۔” یہ کہتے ہوئے شاکر خان نے اسے چوٹی سے پکڑا اور گھر سے باہر نکال دیا۔ وہ آگے بڑھ کر گھر میں داخل ہونے لگی تو دروازہ دھڑاک کی آواز پیدا کر کے اس کے منہ پر بند ہوا۔ وہ روتے ہوئے بہت دیر تک دروازہ پیٹتی رہی، مگر بے سود۔

    اداس شام آہستہ آہستہ رات سے ہم آغوش ہوتی شاکر خان کی حویلی کی دہلیز پر اُتر رہی تھی۔ ادینہ روتی رہی۔ اس نے ملتجی نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا۔ برستی کہر نے اطراف کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ جاڑے کی اس ٹھٹھرتی شب میں وہ ننگے پاؤں یونہی بے سرو سامان چل پڑی۔ انجان رستوں پر منزل سے بے خبر۔ وہ کچی آبادی میں لگے خیموں میں آگئی۔ وہ نڈھال سی ہو کر ایک طرف بیٹھ گئی۔ ایک خانہ بدوش خاتون کی اس پر نظر پڑی، جو زمین پر بیٹھی روٹی ہاتھ پر رکھے پانی کے ساتھ کھا رہی تھی۔ اس نے روٹی ادینہ کی طرف بڑھاتے ہوئے اسے کھانے کی پیشکش کی، جسے اس نے فوراً قبول کر لیا۔ تین دن کی مسلسل بھوک نے اسے ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیا تھا۔ وہ کھانے کی طرف لپکی اور کھانا اس خانہ بدوش خاتون کے ہاتھوں سے جھپٹ کر نوالہ پر نوالہ ٹھونسنے لگی۔ خاتون نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے مٹی کے پیالے میں پانی بھر کر اسے دیا۔ وہ پانی بھی ایک ہی سانس میں ختم کر گئی۔

    پیٹ کی بھوک ختم ہوئی تو مستقبل کی فکر نے اسے آ لیا۔ وہ اس خاتون سے ملتجی لہجے میں کہنے لگی۔۔۔
    "مجھے چند دنوں کے لیے اپنے پاس رکھ لو۔ جیسے ہی میرے میٹرک کے پیپر ختم ہوں گے، میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔” ادینہ کی حالت کے پیشِ نظر اس خاتون نے اسے اپنے پاس رکھنے کی ہامی بھر لی۔ یہ ماحول بھی اس کے لیے سازگار نہیں تھا۔ پیٹ کی بھوک کب کسی کے اندر احساس رہنے دیتی ہے! وہ یہاں سے بھاگی اور بھاگتی چلی گئی۔ بل کھاتی سڑک دور دور تک سنسان پڑی تھی۔ کہیں کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ وہ اپنے قدموں کی آواز سے بھی سہمی ہوئی تھی۔ وہ بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گری تو بے ہوش ہو گئی۔

    وہ جب ہوش میں آئی تو خود کو ایک پُرسکون خواب گاہ میں پایا۔
    "میں کہاں ہوں۔۔۔؟” اس نے خودکلامی کرتے ہوئے خود سے سوال کیا۔ اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا تو ایک مکمل لباس زیب تن کیے نفیس اور مدبر سی خاتون لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ سجائے کمرے میں داخل ہوئی۔
    "بچیوں کے بارے میں اس معاشرے میں پھیلے ناسور کو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں، بیٹی۔۔۔ زندگی کے سارے باب تلخیوں سے بھرے ہیں، بس انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جو لوگ ہمت سے کام لیتے ہیں، شکست ان کے آگے خودبخود ہار مان جاتی ہے۔” اس خاتون کے الفاظ گویا زخموں پر مرہم کا کام کر رہے تھے۔ اس نے اس خاتون کو تشکر آمیز نظروں سے دیکھا۔

    گزرتے وقت کے ساتھ اس نے بھی حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔ یہاں اس خاتون کے اصرار اور حوصلہ دینے پر پھر سے تعلیم شروع کر لی۔ وہ گزشتہ تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھ رہی تھی۔ وہ اس شفیق خاتون کا بہت احترام کرتی۔ وہ پرخلوص رہتی اور اس کی بہت خدمت کرتی۔ اس نے ادینہ کو اپنی بیٹی بنا لیا۔ احساس اور خلوص بھرے اس رشتے کی بھی مدت بہت کم تھی اور یہ خاتون اپنا سارا اثاثہ ادینہ کے نام کر کے اس جہان کو الوداع کہہ گئی۔ حالات نے ایک بار پھر ایسی ٹھوکر لگائی کہ وہ بکھر کر چکنا چور ہو گئی۔
    …………..
    اس نے میڈیکل مکمل کرنے کے بعد اپنا کلینک بنا لیا۔ مسلسل محنت نے اسے سب کچھ بھلا دیا۔ وہ دکھی انسانیت کی خدمت میں بےانتہا سکون محسوس کرتی اور اسی خدمتِ خلق کو اس نے نصب العین بنا لیا۔ اس کی زندگی یونہی سبک روی سے رواں دواں تھی کہ آج پھر شاکر خان کی صورت میں ایک اور اذیت اس کی منتظر تھی۔ آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوئیں تو سارے مناظر دھندلا گئے۔ وہ آگے بڑھی تو کرسی سے ٹکرا گئی۔ شاکر خان نے آگے بڑھ کر بیٹی کو تھام لیا۔ آنسوؤں کا سیلاب ایسا امڈا کہ بند باندھنا مشکل ہوگیا۔ الفاظ سارے ختم ہو چکے تھے، کربناک داستانوں کا ابھی اختتام نہیں ہوا تھا اور زندگی کے سارے رنگ مانند پڑ گئے تھے۔ یہ کیسی محرومی تھی، جس کے ختم ہونے کی اسے نہ خوشی ہوئی، نہ اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کا ملال تھا۔

    "مجھے معاف کر دو، بیٹی۔۔۔۔۔” شاکر نے لرزتی ہوئی آواز سے اور کپکپاتے ہوئے ہاتھوں کو اس کے آگے جوڑتے ہوئے کہا۔

    "کیا کر رہے ہیں، بابا۔۔۔۔۔” ادینہ نے اپنے والد کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیا۔

    "تیرے بعد مجھے زندگی میں ایک پل بھی سکون میسر نہیں آیا۔ میں نے تجھے بہت ڈھونڈا، لیکن تو مجھے کہیں نہیں ملی۔ میرے ان ہاتھوں کو چومنے کی بجائے اگر تو ان کو کاٹ دے تو مجھے زیادہ سکون ملے گا، کیونکہ انہیں ہاتھوں نے تجھے دربدر کیا تھا۔” یہ کہتے ہوئے اس کی آواز آنسوؤں میں گم ہونے لگی۔

    اس نے ایک نظر اپنے والد کے چہرے پر چھائے ملال کو دیکھا اور صرف "بابا” کہہ سکی۔ آج تک تنہائی کا عذاب سہتے ہوئے آج وہ کوئی بھی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر والد کے چہرے کی طرف دیکھا۔ چہرہ آنسوؤں سے تر اور آنکھیں معافی کی طلبگار تھیں۔

    وہ چاہ کر بھی آج یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ زندگی اکیلے گزارے یا پھر باقی زندگی کے ایام انہیں پتھروں کے حوالے کر دے، جن سے ٹھوکریں کھاتے ہوئے وہ آج یہاں تک پہنچی تھی۔

  • جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے .تحریر:مجیداحمد جائی

    جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے .تحریر:مجیداحمد جائی

    تاریخ پر نظر رکھنے والے اور لکھنے والے، دل چسپ شخصیات ہوتی ہیں۔ان کی زندگی کے بھی نشیب و فراز ہوتے ہیں لیکن اپنی زندگی کو پس پردہ رکھتے ہوئے ملکی اور غیر ملکی تاریخ کے گم شدہ گوشوں سے اپنے قارئین کو دیدہ دلیری سے آشنا کرتے ہیں۔تاریخ سے دل چسپی رکھنے والے اور تحقیق کرنے والے طالب علموں کے لیے قیمتی خزانے فراہم کرتے ہیں۔کہتے ہیں تاریخ بڑی ظالم ہوتی ہے کسی کو معاف نہیں کرتی۔یہ مورخ ہی ہوتے ہیں جو ان کے گم شدہ اوراق پاتال سے بھی نکال لاتے ہیں۔

    صحافتی پیشہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ہر لمحہ نئی سے نئی خبر اپنے قارئین تک پہچانا،اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر حقائق سامنے لا کر اپنا حق ادا کرتے ہیں۔صحافی ہر گزرتے لمحے اور مستقبل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اور مشاہدے اور تجزیے سے معلومات فراہم کرتا ہے۔تاریخ ایسے صحافیوں کو یاد رکھتی ہے جو حق،سچ پر اپنی جان تک نچھاور کردیتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل بھی انھی شخصیات میں سے ایک ہیں ، ڈاکٹر فاروق عادل کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ان کا قلم حق سچ کا علم بردار ہے۔ملکی و غیر ملکی سیاسی اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور خوب تجزیہ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے پڑھنے والے ان کی کتب کے منتظر رہتے ہیں۔جب کتاب منظر عام پر آتی ہے تو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتی ہے اور تھوڑے ہی عرصے میں ایڈیشن ختم ہو جاتا ہے۔

    حکومت ِپاکستان ان کے کام سے متاثرہوکر تمغۂ امتیاز سے نواز چکی ہے۔آج ہم ان کی تازہ ترین کتاب ”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“پہ لب کشائی کرتے ہیں۔یہ شان دار کتاب حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے اور ہر طرف اس کے چرچے ہیں۔علامہ عبدالستار عاصم اور سلمان علی چودھری نے خاص اہتمام سے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے شائع کی ہے۔علامہ عبدالستار عاصم کتاب دوست ہیں اور کتب بینی کے فروغ کے لیے متحرک شخصیت ہیں۔ادبی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔خود بھی صاحب ِکتاب ہیں اور کتاب دوستوں سے خاص محبت رکھتے ہیں۔انھی کی کاوشوں سے ہم بہترین قلم کاروں اور کتب سے آشنا ہوتے ہیں۔اس حوالے سے ڈاکٹر فاروق عادل ”چند باتیں“میں اس طرح خراج ِتحسین پیش کرتے ہیں:”بردار محترم علامہ عبدالستار عاصم کے دست ہنر نے جادو گری دِکھائی۔انھوں نے چند ہی روز میں دوسرا ایڈیشن بھی شائع کردیا۔ان کے گودام میں اب اس ایڈیشن کا بھی کوئی نسخہ باقی نہیں بچالہٰذا اب وہ تیسری اشاعت کی نیت باندھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت پیدا فرمائے۔آمین۔“

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“کے حوالے سے ”عرفان صدیقی“صاحب لکھتے ہیں ”ڈاکٹر فاروق عادل ایک پختہ کار اور شگفتہ نگار محقق کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“گئے دنوں کا سراغ لگانے کی نہایت عمدہ کاوش ہے۔

    پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود لکھتے ہیں:”پاکستان کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں پر فاروق کی پہلی کتاب ”ہم نے جو بھلا دیا“سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ صحافت کے ہنر کے ساتھ ایوان اقتدار کے مشاہدے نے تجربے کو دو آتشنہ کر دیا ہے۔فاروق کی اس کتاب نے پورے ملک کو متوجہ کیا۔ایک کتاب کے ایک ہی ماہ میں دو ایڈیشن شائع ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اب ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے جس میں میرا یہ شاگرد عزیز تحقیق کے جنگل میں اُتر کر ایسے حقائق تلاش کر لایا ہے جو حیرت انگیز بھی ہیں اور عبرت خیز بھی۔یہ کتاب ایک ایسا آئینہ ہے جس کی مدد سے ہم اپنا چہرہ بھی خوش نما بنا سکتے ہیں اور بہتر مستقبل کی تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔حرف آخر یہ کہ یہ کتاب طالب علموں،صحافیوں،اساتذہ،سیاست دانوں اور حکمرانوں سب کے لیے ہے۔“

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پڑھنے کے بعد ہم بھی ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں۔اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی گم شدہ پہلوؤں سے پردہ چاک ہوا ہے اور حیرت بھی۔اچھا ایسابھی ہوتا ہے۔ایسا بھی ہوا تھا،ایسا بھی ہوتارہا ہے۔جیسے سوچیں پاتال سے سر اٹھاتی ہیں۔اس کا ثبوت”ایپی فقیر“کتاب کا پہلا مضمون ہی بین ثبوت ہے۔پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کے پیچھے ہزاروں داستانیں ہیں۔کہیں ایک ماشکی کا بیٹا حکمران بن جاتا ہے تو کہیں ایک امام مسجد سے حکمران اور طاقت والے سر نگوں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کے قیام کے بعد بھی ہزاروں کہانیاں جنم لے چکی ہیں جو عام انسان سے پسِ پردہ ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل جیسے بے باک،نڈر قلم کار ہی ایسے گم شدہ گوشوں سے پردہ اٹھا سکتے ہیں۔مجھے خوشی ہے ان کا قلم اسی راہ کا مسافر ہے۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“کا انتساب ”ہاتھ پکڑ کر لکھنا سکھانے والوں کے نام ہے جن میں ڈاکٹر فاروق عادل کے استاد گرامی پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود اور پروفیسر ارشاد حسین نقوی کے نام ہے۔ترتیب سے پہلے مسدسِ حالی سے تاریخ کے عکاس اشعار دیے گئے ہیں:
    کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا
    کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
    لب ِجو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا
    کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
    یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں
    یونہی چلتی رہتی تھی تلواران میں
    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“33عنوانات سے تاریخ کے گم شدہ گوشوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔جیسے ”مولانا طارق جمیل کا عشق“۔”صالحین کی نرسری“،”بھٹو اور نواز شریف“،”بھونکنے پر پابندی“،”وہ ایٹمی چھکا“،”الف لیلوی نواب“اور”جب بھارتی شہری وزیراعظم پاکستان بنتے بنتے رہ گیا“۔ان جیسے عنوانات سے آپ باخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے اندر کیا کیا کہانیاں ہیں۔ان کہانیوں سے ڈاکٹر فاروق عادل صاحب نے دلیری سے پردہ اٹھایا ہے۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“290صفحات کی ضخامت رکھتی ہے۔آخری صفحات پر سیاست دانوں،حکمرانوں اور تاریخی شخصیات کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل اپنی مشاہدات اور تجربات بیان کرتے ہوئے مختلف کتب کے حوالے بھی دیتے ہیں۔یہاں سے باخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنے کے لیے مطالعہ بھی ضروری ہے جس طرح ڈاکٹر فاروق عادل کتب بینی کرتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی تحریک ملتی ہے۔اچھی معیاری اور بہترین کتب سے جانکاری ہوتی ہے۔کتب بینی کا ذوق پروان چڑھتا ہے۔ان کے ہر مضمون میں آپ کو تاریخی کتب کے حوالے ملیں گے۔یوں آپ ایک کتاب پڑھتے ہوئے کئی کتب سے متعارف ہو جاتے ہیں۔اپنے ذوق کی تحسین کے لیے ان کتب کا مطالعہ بھی کر سکتے ہیں۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پہ اظہار ِ خیال کرتے ہوئے ”وجاہت مسعود“لکھتے ہیں:”ہر عہد میں چند افراد ہی ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ میں اپنی نسل کا نشان بلکہ جواز قرار پاتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل کے اس دیرینہ نیاز مند کی رائے ہے کہ ہم عصر صحافیوں میں ڈاکٹر صاحب کا شمار ایسے ہی کم یاب قافلے کی صف اول میں ہوتا ہے۔ایسے عبقری اپنے زمانے کی پامال راہوں سے ہٹ کر راستہ نکالا کرتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل نے بھی رائج الوقت صحافت سے انحراف کرتے ہوئے کچھ ایسی خوبیوں کے جلو میں اپنی پہچان بنائی ہے جنھیں اپنانے اور استقلال سے نبھانے کے لیے پہاڑ ایسی استقامت کی گہرائی،صحافتی اقدار کی پیروی،زبان وبیان کی نتھری ہوئی سلاست،رائے کا اعتدال،دوست دشمن میں امتیاز کیے بغیر بے لاگ تجزیہ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لب ولہجے کی ایسی متانت کہ مخالف رائے رکھنے والا بھی قائل ہو یا نہیں،کم از کم بد مزہ نہیں ہو سکتا۔“

    میں یہ کتاب”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پڑھنے کے بعد وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ وجاہت مسعود صاحب نے بالکل حق اور سچ کہا ہے۔میری دعا ہے ڈاکٹر فاروق عادل صاف ستھری صحافت کرتے رہیں اور تاریخ کے گم شدہ اوراق سے پردہ اٹھا کر ہمیں فیض یاب کرتے رہیں آمین۔

  • ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سائنسدان ،تحریر :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سائنسدان ،تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری یکم جولائی 1903ء کو مشرقی پاکستان کے ضلع روہتک کے ایک گاؤں کہنور میں پیدا ہوئے ۔
    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری وائسرائے روفس آئزکس کے وظیفے پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں زیر تعلیم رہے ۔ یہیں سے Msc فزکس میں ٹوپ کیا اور باقی تمام سائنسی مضامین میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر طلائی تمغے حاصل کیے ۔ڈاکٹر صاحب کی کامیابیوں سے متاثر ہو کر بھوپال کے نواب حمیداللہ خان نے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ بھیج دیا ، وہیں کیونڈش لیبارٹری میں” ماہر طبیعات مارک اولیفانٹ” نے نیوکلیئر فزکس کی طرف مائل کیا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے 1932ء میں” کیمسٹری میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان ارنسٹ ردرفورڈ "کی نگرانی میں نیوکلیئر فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ کیونڈش کا یہ ایک شاندار دور تھا کیونکہ وہاں اس دوران ایٹم اور نیوکلیئرفزکس میں بہت پیش رفت ہوئی ۔ کیونڈش لیبارٹری میں اس وقت سر جے جے تھامسن ، لارڈ ردرفورڈ ، آسٹن ولسن ، کک روفٹ والٹن اور سر جیمز چیڈ ویک جیسے سائنسدان کام کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری ہمیشہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ وہ کیونڈش کے سنہری دور میں” ردرفورڈ” کے طالب علم ر ہے ۔

    تیس سال کی عمر میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری برطانوی ہندوستان واپس آئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں فزکس کی تعلیم دینے لگے ۔ 1935ء سے 1938ء تک وہ یہیں شعبہ فزکس کے چیئرمین بھی رہے ۔1938ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری شعبہ طبیعات کے سربراہ کی حیثیت سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تشریف لے گئے جہاں” اولیفانٹ” کی دعوت پر دوبارہ برمنگھم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں بطور نوفلیڈ فیلو کام کرنے کے لئے برطانیہ چلے گئے ۔برطانوی میگزین "ڈاروینین”کے مطابق 1947ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری برمنگھم میں "اولیفانٹ” کی لیبارٹری میں ایک سال گزارنے کے بعد کہنور واپس آ گئے ۔

    قیام پاکستان کے فوراً بعد "اولیفانٹ” نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے نوزائیدہ ملک میں سائنس ، خصوصاََ ایٹمی اور نیوکلیئر فزکس کی تدریس و تحقیق کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ، اور لکھا کہ "اس پروگرام کے کامیاب اطلاق کے لئے پورے برصغیر میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سے بہتر کوئی مسلمان سائنسدان نہیں ہے اور انہیں فوری طور پر پاکستان بلانے پر زور دیا ۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے "اولیفانٹ” کے کہنے پر ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو خط لکھ کر پاکستان آنے کی دعوت دی اور ساتھ ہی گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ فزکس کی سربراہی کی پیش کش کی ۔بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو نیشنل فزکس لیبارٹری میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی پیشکش کردی ، لیکن ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ، اور1948ء میں حکومت پاکستان کے دعوت نامے پر اپنے خاندان سمیت پاکستان آگئے ، اور گورنمنٹ کالج لاہور جوائن کر کے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے استعفیٰ دے دیا ۔

    پاکستان کی ایٹمی سرگرمیوں کی پہلی دہائی کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تین طبیعیات دان ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری ، نذیر احمد اور ڈاکٹر عبدالسلام پر مشتمل ہے ۔1954ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے جوہری تحقیق کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ فزکس میں” ہائی ٹینشن لیبارٹری "کی بنیاد رکھی ۔”ہائی ٹینشن لیبارٹری "میں ایک ایٹم ایکسلریٹر لگایا گیا ہے ، جس میں اعلیٰ سطح پر تحقیق ممکن ہوئی۔ہائی ٹینشن لیبارٹری بہت تیزی سے بین الاقوامی سطح پر جانی پہچانی جانے لگی ، جب غیر ملکی سائنسدان پاکستان کے دورے پر آتے تو اس لیبارٹری کو دیکھنے کی خواہش ضرور کرتے ۔1958ء میں پرنس فلپ نے اس لیبارٹری کا دورہ کیا اور بیس سے زیادہ تجربات کا مشاہدہ کیا ،اور کہا کہ "یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ یہاں کیونڈش کی طرح کا ماحول ہے ۔””ہائی ٹینشن لیبارٹری "کا نام بعد میں تبدیل کر کے "سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز ان فزکس”رکھ دیا گیا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے نیوکلیئر پارٹیکل ایکسلریٹر کی تنصیب میں اہم کردار ادا کیا ، 1967ء میں انہوں نے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تشکیل دی جس نے کامیابی سے” ریڈیو آئسو ٹوپس”کی پہلی کھیپ تیار کی ۔اس لیبارٹری سے تربیت حاصل کرنے والے طلباء پاکستان اور بیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔Msc فزکس کے طلباء تقریباً بیس سے تیس کی تعداد میں جوہری فزکس میں تحقیقی کام کرنے کے لئے لیبارٹری آتے ۔ تمام طلباء کو پروجیکٹ دئیے جاتے ، جن کی نگرانی ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کرتے ۔تحقیقی کام کرنے والے طلباء نے یونیورسٹیز اور راولپنڈی کے قریب نئے بننے والے "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی”میں پوزیشنیں سنبھال لیں ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تیار کی جو اب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی قیادت کر رہی ہے ۔ ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو سائنس میں "استادوں کے استاد”کا خطاب ملا ۔خوارزمی سوسائٹی اور انٹرا ایکٹ کے زیرِ اہتمام 30نومبر 1998ء کو اپنے لیکچر میں ڈاکٹر ثمر مبارک مندنے انہیں "پاکستانی ایٹمی پروگرام کا حقیقی خالق” قرار دیا ۔
    1958ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری 55سال کی عمر میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے عہدے سے ریٹائر ہو گئے ، اور اس کے بعد” ہائی ٹینشن” اور” نیوکلیئر ریسرچ لیبارٹری” کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری "تجرباتی نیوکلیئر فزکس” کے سر خیل بنے اور اپنے شاگرد مصطفیٰ یار خان کے ساتھ مل کر پاکستان کے کامیاب "نیوکلیئر پروگرام "کی بنیاد رکھی ۔1970ء کے اوائل میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے پنجاب یونیورسٹی کے "سنٹر فار سالڈ سٹیٹ فزکس”کو اپنا مسکن بنا لیا ، اور یہاں پر انہوں نے” پلازما فزکس” کی نئی ریسرچ لیبارٹری قائم کی ۔اس لیبارٹری میں انہوں نے یونیورسٹی کے متعدد طلباء کو Msc اور M phill کے لئے تربیت دی ۔ اس کام سے متعلق بڑی تعداد میں مقالہ جات اور تحریریں شائع کروائی گئیں ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کی پنجاب یونیورسٹی سے وابستگی شروع ہی سے تھی ۔1960ء سے 1977ء تک پنجاب یونیورسٹی میں اعزازی پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ۔1977ء میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے انہیں تاحیات پروفیسر ایمریطس مقرر کیاگیا ۔

    پروفیسر ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے 1932ء سے 1988ء کے دوران 53 تحقیقی مقالہ جات لکھے ، جو مختلف بین الاقوامی جرائد کی زینت بنے ۔شاندار سائنسی خدمات پر متعدد ملکی اور غیر ملکی اداروں کی تنظیموں نے ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو رکنیت ، "چئیر مین شپ” سے نوازا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو پاکستان کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ خدمت 1964ء ، ستارہ امتیاز 1982ء اور 2005ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا ۔ بلآخر 4 دسمبر 1988ء کو مختصر علالت کے بعد ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری انتقال کر گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات کے صلے میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔(انشاء اللہ)

  • بلوچستان پر دشمنوں کا پھربزدلانہ وار، تحریر: جان محمد رمضان

    بلوچستان پر دشمنوں کا پھربزدلانہ وار، تحریر: جان محمد رمضان

    بلوچستان کے علاقے قلات میں 31 جنوری 2025 کی شب دہشت گردوں نے ایک بزدلانہ حملہ کیا، جس میں انہوں نے منگوچر کے علاقے میں سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی اور مسافر بسوں پر فائرنگ کی۔ اس حملے کے دوران 18 سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہو گئے۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر کارروائی نے اس حملے کو ناکام بنا دیا اور دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانے کے بعد بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ جوابی کارروائی کے دوران 12 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

    قلات میں دہشت گردوں نے اس حملے میں اپنی بزدلانہ کارروائیوں کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردوں نے مسافر بسوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ تھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایک نجی بینک کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی، تاکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد علاقے میں ترقی اور امن کو سبوتاژ کرنا اور عوام میں خوف پیدا کرنا تھا۔یہ حملے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کو فروغ دینے کی سازش کا حصہ ہیں۔ ان کارروائیوں کے پیچھے بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جو بلوچستان میں امن و سکون کو تباہ کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

    دہشت گردوں کی کارروائیاں ناکام بنانے میں بلوچستان کی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کردار ادا کیا۔ فورسز نے فوراً علاقے کا محاصرہ کیا اور دہشت گردوں کو مؤثر جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی جرات و بہادری کی بدولت دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور انہیں اپنے حملے کی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔شہید ہونے والے 18 جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ عوام کی حفاظت کی جا سکے، اور ان کی قربانیاں بلوچستان کی سرزمین پر امن قائم رکھنے کے لیے ایک سنہری مثال بن گئیں۔

    دہشت گردوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں دہشت اور خوف پیدا کیا جا سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کمزور ہیں اور ان کے تمام تر حربے ناکام ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں اور عوام کی حمایت سے یہ دہشت گرد اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔جب بھی ان دہشت گردوں کو پکڑا گیا، تو انہوں نے بے بسی کا مظاہرہ کیا اور حقیقتاً ان کی تمام تر طاقت جھوٹے پروپیگنڈے اور خوف کو پھیلانے تک محدود ہے۔ بلوچستان میں اب عوام اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے ان دہشت گردوں کی کمر توڑ دی جائے گی اور علاقے میں دیرپا امن قائم کیا جائے گا۔

    بلوچستان کے علاقے قلات میں 31 جنوری 2025 کو ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک اور مثال ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہ تو عوام کے حوصلے کو توڑ سکتی ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی فورسز کی عزم و ہمت کو کم کر سکتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے ان دہشت گردوں کی کارروائی کو ناکام بنایا اور بلوچستان میں امن قائم رکھنے کے لیے ایک اور قدم اٹھایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، لیکن بلوچستان کے عوام اور فورسز کی ہم آہنگی نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔یہ وقت ہے کہ ہم سب بلوچستان میں امن و سکون کے قیام کے لیے مل کر کام کریں اور دہشت گردوں کے تمام منصوبوں کو ناکام بنائیں۔

    jaan

  • مریم نواز کا کھیلتا پنجاب پروگرام .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مریم نواز کا کھیلتا پنجاب پروگرام .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کھیلتا پنجاب گیمز 2025 کے ڈویژنل مقابلے جیتنے والے 2200 کھلاڑی لڑکے، لڑکیوں کے لیے مفت ای بائیکس کا اعلان کیا،جوکہ نہایت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو ہارس اینڈ کیٹل شو میں بھی مفت داخلے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا، "میں پنجاب کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر جیتتے دیکھنا چاہتی ہوں۔” وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیمپئنز کو صرف اپنی کھیلوں کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی اور ملک میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کے لیے شرپسندوں کے ہاتھوں گمراہ نہیں ہونا چاہیے، اگر کوئی آپ سے ملک میں انتشار پھیلانے کا کہے تو نوجوان توجہ نہ دیں۔ اگر کوئی آپ سے رینجرز کو مارنے، میٹرو بس کو جلانے، پیٹرول بم پھینکنے کے لیے کہے، تو آپ کو صاف صاف انکار کر دینا چاہیے۔ صرف تعلیم حاصل کریں تاکہ ترقی کریں۔اس راست پر چلانے والے آپ کے دوست ہیں، جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور آپ کو اپنا حصہ بننے پر آمادہ کرتے ہیں وہ آپ کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی آپ کو اپنے ملک کو آگ لگانے پر اکساتا ہے، اداروں پر حملہ کرنے کا کہتا ہے وہ آپ کا سب سے بڑا دشمن ہے، صرف پاکستان کو سب کی ‘ریڈ لائن’ ہونا چاہیے، وطن عزیز کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی اور صرف ترقی ہوگی۔ انشاالله

    کھیلوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرتے دیکھنا ان کا خواب ہے۔ حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو مفت ای بائیکس فراہم کرنا ایک ایسا عملی اقدام ہے جو نوجوانوں کو نقل و حرکت میں آسانی فراہم کرے گا اور انہیں اپنے کھیل پر زیادہ توجہ دینے میں مدد دے گا۔مریم نواز نے یہ بھی اعلان کیا کہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو ہارس اینڈ کیٹل شو میں مفت داخلے کی سہولت دی جائے گی۔ اس سے نہ صرف ان کھلاڑیوں کی عزت افزائی ہوگی بلکہ انہیں مزید مواقع ملیں گے تاکہ وہ معاشرتی اور ثقافتی سرگرمیوں کا حصہ بن سکیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے نوجوانوں کو واضح پیغام دیا کہ وہ صرف اپنی تعلیم اور کھیلوں پر توجہ دیں اور کسی بھی ایسے عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں جو انہیں ملک میں انتشار اور بدامنی کی طرف لے جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک تاریخی اعلان کیا ہے۔

    "کھیلتا پنجاب گیمز 2025” کے ڈویژنل مقابلے جیتنے والے 2200 کھلاڑیوں کے لیے مفت ای بائیکس دینے کا فیصلہ ایک ایسا اقدام ہے جو نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرے گا اور انہیں مزید محنت کرنے کی ترغیب دے گا۔کھیلوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرتے دیکھنا ان کا خواب ہے۔ حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو مفت ای بائیکس فراہم کرنا ایک ایسا عملی اقدام ہے جو نوجوانوں کو نقل و حرکت میں آسانی فراہم کرے گا اور انہیں اپنے کھیل پر زیادہ توجہ دینے میں مدد دے گا۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کر چکی ہیں۔

    مفت ای بائیکس کی فراہمی، کھیلوں کے لیے اضافی بجٹ اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کا پیغام—یہ تمام فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجاب حکومت نوجوان نسل کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل فراہم کرنا چاہتی ہے۔یہ اقدامات نہ صرف کھیلوں کو فروغ دیں گے بلکہ نوجوانوں میں حب الوطنی اور مثبت سوچ کو بھی پروان چڑھائیں گے، جو ایک ترقی یافتہ اور مستحکم پاکستان کی جانب اہم قدم ہے۔۔”یہ پیغام نوجوانوں کو ایک صاف اور مثبت راہ دکھانے کے لیے دیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنی توانائیاں منفی سرگرمیوں میں ضائع کرنے کے بجائے اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔یہ تمام فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجاب حکومت نوجوان نسل کو ایک روشن اور محفوظ مستقبل فراہم کرنا چاہتی ہے۔یہ اقدامات نہ صرف کھیلوں کو فروغ دیں گے بلکہ نوجوانوں میں حب الوطنی اور مثبت سوچ کو بھی پروان چڑھائیں گے، جو ایک ترقی یافتہ اور مستحکم پاکستان کی جانب اہم قدم ہے۔

  • افغان مہاجرین،پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ

    افغان مہاجرین،پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ

    افغان مہاجرین،پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پا کستان نے 1979 ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے۔ یہ ایک انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات پاکستانی معاشرے پر نمایاں ہوتے گئے اور انسانی ہمدردی میں کیا گیا فیصلہ پاکستانیوں کیلئے گلے کی ہڈی بن گیا ،جس سے جان ہی نہیں چھوٹ رہی ، تقریبا َچار دہائیوں کے بعد یہ مہاجرین ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکے ہیں، جس کے سماجی، اقتصادی اور سیکیورٹی اثرات نے پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔

    افغان مہاجرین کو پاکستان نے ہمیشہ کھلے دل سے قبول کیا، ان کے لیے کیمپ قائم کیے گئے، روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے اور انہیں تعلیم و صحت کی سہولیات دی گئیں۔ لیکن بدلے میں ان افغانیوں نے پاکستان کو منشیات ،ناجائزاسلحہ ،چوری ،ڈکیتی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے تحفے دئے ، جن کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں ،بیشترپاکستانیوں کی رائے ہے کہ افغان مہاجرین ملکی وسائل پر بوجھ بن چکے ہیں۔پاکستان کی معیشت پہلے ہی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔

    افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں غیر رجسٹرڈ ہے، جو مقامی معیشت پربوجھ ہیں۔ ملازمتوں کے مواقع، صحت اور تعلیم کے وسائل پر ان کا بوجھ پاکستانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ایک اور سنگین مسئلہ سیکیورٹی کا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق بہت سے افغان مہاجرین دہشت گردی اور جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ کئی بار ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ افغان مہاجرین کیمپ انتہا پسند عناصر کی پناہ گاہ بن چکے ہیں۔

    30 جنوری 2025 کو افغان صوبہ بادغیس کے نائب گورنر مولوی غلام محمد کا بیٹا بدرالدین عرف یوسف ڈیرہ اسماعیل خان کے کلاچی میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مارے جانے والے تین دہشت گردوں میں شامل تھا، جو فتنہ الخوارج (FAK) کے دہشت گردوں کے ساتھ ہلاک ہوا۔ یوسف کی کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ساتھ ہلاکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان کھلم کھلا پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے، جہاں دہشت گرد گروہوں کو ٹریننگ، اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مسلسل پشت پناہی پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور کابل حکومت کا یہ رویہ دراصل پاکستان کے خلاف ایک کھلی جنگ کے مترادف ہے۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے باہمی روابط اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں.

    اب افغان مہاجرین پاکستان میں سماجی تناؤ اور جرائم کی شرح میں اضافے کی علامت بن چکے ہیں ، جو مقامی آبادی کے لیے تشویشناک ہے۔پاکستان کئی دہائیوں سے افغان حکومت اور عالمی برادری سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ مہاجرین کی واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کرے مگر اس سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پاکستان کا مئوقف واضح ہے کہ مہاجرین کو باعزت طریقے سے ان کے وطن واپس بھیجا جائے تاکہ ملکی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سخت فیصلے کرے اور تمام افغان مہاجرین کو ملک بدر کرے۔ اقوام متحدہ کی ہدایات اور بین الاقوامی مہاجر قوانین کو پس پشت ڈال کر ہمیں اپنے قومی مفاد کو ترجیح دیناہوگی۔ جو ممالک ان افغان مہاجرین سے ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ خود ان دہشت گردوں کو اپنے ممالک میں جگہ دیں۔

    ہمیں اب ان ظالمان دہشت گردوں اور فتنہ الخوارج کے ایجنٹوں سے ہر حال میں چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ بہت ہو گئی مہمان نوازی، اب یہ ہمارے گھر میں بیٹھ کر ہمارے بچوں، بزرگوں، خواتین اور ہماری افواج پر حملوں میں دہشت گردوں کی معاونت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں امن کے قیام اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے افغان دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

    دوسری طرف افغان مہاجرین نے ملک کے اندر موجود مافیاز کے ساتھ ملی بھگت کرکے بھاری رقوم کے عوض پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں۔ یہ ایک نہایت خطرناک معاملہ ہے جو ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ نہ صرف ان افغانوں کے خلاف سخت کارروائی کریں بلکہ نادرا میں موجود ان کے سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کریں جو چند روپوں کی خاطر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا کر غیر ملکیوں کو پاکستانی شہری ہونے کے جعلی دستاویزات فراہم کر رہے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی ناگزیر ہے تاکہ ملک کے اندر کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔

    پاکستان کی بقاء استحکام اور روشن مستقبل کے لیے اب فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا وقت آ چکا ہے۔ ہمیں مزید تاخیر کے بغیر اپنی سرزمین کو غیر قانونی مہاجرین اور ان کے سہولت کاروں سے پاک کرنا ہوگا۔ یہ مسئلہ صرف قانون و انتظام کا نہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا ہے۔ اب اگر ہم نے سنجیدہ اور سخت فیصلے نہ کیے تو ہمارا ملک مسلسل عدم استحکام، دہشت گردی اور معاشی مشکلات کا شکار رہے گا۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، خودمختار اور مستحکم پاکستان چھوڑنا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم بے خوف ہو کر قومی مفاد میں عملی اقدامات کریں۔

  • پیکا ترمیمی ایکٹ ،صحافی برادری سڑکوں پر،تحریر: جان محمد رمضان

    پیکا ترمیمی ایکٹ ،صحافی برادری سڑکوں پر،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں حالیہ دنوں میں حکومت نے پیکا ترمیمی ایکٹ میں تبدیلیوں کی منظوری دی، جس کے بعد صحافیوں اور میڈیا تنظیموں نے اس پر شدید اعتراض کیا۔ اس قانون کی منظوری کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا۔ اس احتجاج کا مقصد حکومت کے اس اقدام کو مسترد کرنا تھا، جو صحافتی آزادی اور اظہار رائے کے حق پر ضرب لگانے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا۔ پیکا ایکٹ کا مقصد سائبر کرائمز اور آن لائن جرائم کے خلاف اقدامات کیے جا سکیں۔ اس کے تحت سوشل میڈیا اور دیگر الیکٹرانک ذرائع پر کسی بھی قسم کے ہتک عزت، جھوٹے مواد یا ریاستی اداروں کی بدنامی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس قانون میں حالیہ ترمیمیں مزید سخت اور وسیع کی گئی ہیں، جس کے باعث صحافتی حلقوں میں اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی اپیل پر، مختلف صحافتی تنظیموں نے جمعہ کو یوم سیاہ کے طور منایا۔ اس دن کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، سکھر، کندھکوٹ، جیکب آباد اور دیگر بڑے شہر شامل تھے۔ صحافتی تنظیموں کے نمائندگان اور میڈیا کارکنان اس احتجاج کا حصہ بنے اور اس قانون کی مخالفت کی۔اسلام آباد میں یوم سیاہ کے سلسلے میں نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر صحافیوں نے سیاہ پرچم لہرائے اور پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس احتجاج میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے نمائندگان، آر آئی یو جے (اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس)، اور دیگر صحافتی تنظیموں کے افراد نے شرکت کی۔ نیشنل پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرا کر اس احتجاج کا اظہار کیا گیا۔لاہور پریس کلب میں بھی یوم سیاہ کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل ،صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے قیادت کی، اس احتجاج میں سی پی این ای، پی بی اے، ایمنڈ، اے پی این ایس، پی یوجے، لاہور پریس کلب، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی اور دیگر صحافتی تنظیموں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ارشد انصاری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ترمیمی ایکٹ ایک کالا قانون ہے جو صحافتی آزادی کو چھیننے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس قانون کے پیچھے حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کو بے نقاب کیا اور اس پر زور دیا کہ حکومت اس قانون کو واپس لے۔ اس قانون کے ذریعے حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پیکا ترمیمی ایکٹ میں کی گئی تبدیلیوں پر صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون صحافیوں کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق، یہ قانون آزادی اظہار رائے اور صحافت کے حق کو متاثر کرتا ہے۔ صحافیوں کا ماننا ہے کہ یہ قانون سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جو کہ ایک جمہوری معاشرت کے لیے خطرناک ہے۔اس قانون کے ذریعے حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف میڈیا کی آزادی متاثر ہوگی بلکہ عوام کی آواز بھی خاموش کر دی جائے گی۔

    یوم سیاہ کے اس احتجاجی مظاہرے کے بعد صحافی تنظیموں نے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اس متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو واپس لے اور صحافت کی آزادی کو یقینی بنائے۔ صحافتی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ آزادی اظہار رائے اور صحافت کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرت کا بنیادی ستون ہے، جسے ہر صورت میں محفوظ رکھا جانا چاہیے۔پیکا ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے خلاف صحافیوں کا احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں صحافتی آزادی کو لے کر ایک سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے۔ حکومت کے اس متنازعہ اقدام کے خلاف صحافتی تنظیموں کی جدوجہد اب ایک بڑے قومی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کا اثر نہ صرف صحافیوں پر پڑے گا بلکہ پورے ملک میں جمہوریت اور آزادی اظہار پر بھی اس کے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔صحافتی تنظیمیں اپنے احتجاج کو مزید بڑھا کر حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں تاکہ اس قانون کو واپس لیا جائے اور میڈیا کی آزادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ پاکستان کے عوام، خاص طور پر میڈیا کارکنان، اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے ایک ہو چکے ہیں اور اس جدوجہد میں ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں

    jaan

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی تیسری وآخری قسط ملاحظہ فرمائیں

    دنیا کے ابتدائی قدیمی ورثے دریائے سرسوتی کنارے آباد سرائیکی تہذیبی شہر گنویری والا کا مستقبل اور چیلنجز
    اللہ رب العزت انسان کے غور و فکر اور عملی فلاحی تحقیقی کام کو پسند فرماتا ہے۔دنیا میں جدت اور خوشحال اکنامک سکلڈ انفارمیشن میرے نزدیک آرکیالوجی سائنس کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔جن قوموں نے قرآن مجید اور دیگر مقدس قدیم کتابوں ویدک لٹریچر،انجیل،تورات،زبور کی بدولت دنیا میں موجود دریائی،میدانی،پہاڑی،سمندری،جنگلات اور ریگستانوں میں چھپے انسانی تمدنی،ثقافتی اور تاریخی قدیم عجوبے تہذیبی خزانوں کو ڈھونڈا اور ان پرانے ورثے آثارقدیمہ کی بدولت نئی حکمت و دانش سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنایا.آج دنیا میں امریکہ،چین، روس،برطانیہ، فرانس،جاپان، قطر،دوبئی، سعودی عرب جیسے عظیم ممالک کی مضبوط شکل میں موجود ہیں۔

    دریائےسرسوتی سرائیکی وسیب روہی چولستان کے ابتدائی انسانی دنیا کے مشترکہ تہذیبی اثاثے کے حوالے سے سرسوتی اور سرائیکی کا سات ہزار سے آٹھ ہزار شہر گنویری کی قدامت بارے اہم شہادت قابل غور بات ہے۔سرائیکی محقق سید نور علی ضامن حسینی بخاری ریٹائرڈ ڈپٹی چیف انجینئر آبپاشی مغربی پاکستان (آل اولاد حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ) نے اپنی کتاب "معارف سرائیکی” ناشر مصطفٰی شاہ اکیڈمی احمدپورشرقیہ، مطبع پنجاب آرٹ پریس لاہور،اول اشاعت 1972ء کے صحفہ نمبر11 پر اپنے ایک بے تکلف پنجابی دوست دانشور پرویز حسن صادق کو انٹرویو میں کہا کہ سرائیکی تو قرآن پاک کے ” اصحاب الرس ” کی زبان ہے۔جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ فرقان، سورہ ق میں موجود ہے۔

    اس کا ثبوت انہوں نے صفحہ نمبر 104 پر سر آرل سٹین کی ریسرچ مطابق دریائے گھاگھرا،سرسوتی جس کی عظمت کے گیت مقدس کتاب رگ وید سنسکرت زبان میں موجود ہیں اور جرمن دانشور پروفیسر آردان راتھ کی تحقیق موجب دریائے سندھو یعنی دریائے انڈس کو رگ وید میں بیان کردہ دریائےسرسوتی کہا گیا ہے۔بہت سے دوسرے دانشوروں اور میری صحیح رائے کے مطابق سرسوتی سے مراد دراصل "سویراس وتی ” ہوسکتا ہے۔یعنی اصحاب الرس کا دریا۔اسی بناء پر یہ یقین غالب ہے کہ سرائیکی کا لفظ دراصل سویراکی تھا جو آہستہ آہستہ بگڑ کر سرائیکی ہوگیا۔

    ان حقائق کی روشنی میں کیا ہمارے مقامی سرائیکی وسیب کے عوامی نمائندے اپنے قدیم تاریخی،تمدنی،ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے ایم این ایز، ایم پی ایز نے کیا کلیدی کردار ادا کیا ہے؟۔یہ اہم سوال ہے۔کیا سرائیکی خطے میں گنویری والا میوزیم قائم ہوا؟کیا سرائیکی وسیب میں سرسوتی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام کے لئے عملی اقدامات ہوئے؟کیا سرائیکی لینگؤیج،آرٹ اینڈ آرکیالوجی کلچرل سنٹر کا قیام قلعہ ڈیراور چولستان پر قائم ہوا؟کیا چولستان کے قدیم تاریخی قلعوں کی تزئین و آرائش کے عملی اقدامات ہوئے؟
    چند گزارشات سے سرائیکی خطے کی روہی میں تعمیر نو اور ترقی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔

    ان تمام اہم مسائل کو سرائیکی وسیب کے ہر شاعر،قصولی،نقاد،دانشور،ادیب،محقق اور صحافی نے اپنے ورثے کے تحفظ کے لئے ایمانداری سے ہر جگہ فریاد کرتے نظر آ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر نوجوان نسل اب اپنے تہذیبی ورثے کی حفاظت اور تعمیر نو کے لیے آگے آرہے ہیں۔سرائیکی شاعر پیشے کے اعتبار سے وکیل ثاقب قریشی کا سرائیکی کلام میں سرائیکی ورثے کے کمال تخیل پیش کیا۔
    گالھ ٹرپئی اے اینکوں پندھ کریندا ڈیکھیں
    اے نہ سمجھیں میڈی منزل کوں زمانے لگسن


    شاعر اپنی دھرتی کے سفیر ہوتے ہیں۔سرائیکی روہی چولستانی احمدپورشرقیہ کے مزاحمتی مزاج شاعر جہانگیر مخلص روہی ریگستان اور سرائیکی تہذیب وتمدن،ثقافت اور شناخت کی بے بسی پر نوحہ خوانی اور عشق کرتے نظر آ رہے ہیں۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)
    سرسوتی تہذیب وتمدن سے محبت اور مزاحمت ان کے کلام کا خاصہ ہے۔سرائیکی دانشور عبدالباسط بھٹی اور شاعر جہانگیر مخلص کا سرائیکی روہی کے تمدنی،ثقافتی قلعہ ڈیراور چولستان کی جیپ ریلی مرکز پر ہر سال سالانہ سرائیکی خواجہ فرید امن میلہ منعقد کرانا دراصل سرائیکی وسیب کی محرومیوں کے اظہار کا سنہڑا ہے۔پرہ باکھ ان کی سرائیکی شاعری کا شاہکار نمونہ ہے۔ان کے کلام کا تخیل کمال حیرت کا سماں پیدا کرتاہے۔

    سرائیکی دھرتی روہی کے آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کا گہوارہ،دکھ درد ان کے جیون کی کتھا ہے۔اپنی سرائیکی ریاست بہاولپور کے نوابوں اور مقامی سیاسی نمائندوں کے نام اہم پیغام دیا ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    اساں مونجھاں تیڈیاں،اساں کونجاں تیڈیاں
    سدھ نی کیئں گول وچ گئے ہیں گاریئے اساں
    کیا ڈسوں جانیاں! تیڈی دھرتی اتے
    دم حیاتی دے کیویں گزاریئے اساں

    دم دلاسے اساں، صرف کاسے اساں
    تیڈے وسبے دے کھل ٹوک ہاسے اساں

    ساکوں کوئی یاد نی کون ہاسے اساں
    سنج دی مانڑی اساں،پنج دی ہاری اساں

    اسی طرح رحیم یار خان سسی دی ماڑی بھٹہ واہن کے مہان کلاسک شاعر سئیں ممتاز حیدر ڈاھر کی شاعری "کشکول وچ سمندر” سرائیکی خطے کی وادی سرسوتی تہذیبی ورثے کے محافظ گنویری والا شہر روہی چولستان سے محبت کو عید مبارک کہتے ہیں۔دھرتی ماں سے محبت ہر سرائیکی شاعر کے تخیل کا خوبصورت عکس ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    جو وی ساہ دا سانگا جوڑے
    سچی سانجھ دے سانگے
    جیئں دل وچ ماء دھرتی دا درد ہے
    رتی بھانویں شارک
    اونکوں عید مبارک

    حکومت وقت کو اپنے قومی ورثے گنویری والا کی فوری حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر عملی اقدامات ہڑپہ و موہنجوداڑو طرز جیسے اٹھانا ہوں گے۔گنویری والا میوزیم اور ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام سے ہی سرائیکی قدیم تہذیبی و تمدنی ثقافتی ورثے کا تحفظ ممکن ہوگا۔خبر خوش آئند ہے کہ ابتدائی مراحل میں قلعہ ڈیراور کو ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کر لیا گیا ہے۔امید ہے کہ نئی نوجوان نسل اپنے قومی ورثے کی منفرد شناخت کے لیے ایمانداری سے عملی طور تحقیق کرے گی اور نئے چھپے خزانوں سے پردہ اٹھائے گی۔

    افسوس کی بات یہ ہے کہ کھدائی سے ملنے قیمتی نوادرات کو بہاولپور میوزیم میں نہیں رکھا گیا۔مقامی روہیلوں کی رپورٹ کے مطابق پرانی تہذیب و تمدن کے مرکزی شہر گنویری والا سے چور قیمتی اثاثہ سے نوادرات چوری کرکے اونے پونے بیچ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے آرکیالوجی اداروں کو پاکستان کے ساتھ مل کر چولستان روہی سرائیکی وسیب کے ورلڈ ہیریٹیج سٹی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے فوری قیام اور ساتھ ہی گنویری والا میوزیم کے قائم سے سرائیکی علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔علاقے میں معاشی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

    سرائیکی ثقافتی تمدنی سات سے آٹھ ہزار سال پرانے گمشدہ شہر گنویری والا کی کھدائی کے لیے مزید ارتقائی ہنگامی بنیادوں پر پراجیکٹس کی گرانٹس جاری کرنا ہوں گی۔تہذیب وتمدن ،رسوم،حکمت و دانش،ترقی یافتہ پالیسیوں کی تلاش،زبان،سرائیکی سماجیات، روایات،ثقافت،ادب اور فنون لطیفہ کے ورلڈ اثاثےکی آگاہی ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔گنویری والا شہر کی کھدائی سے قیمتی خزانوں سے پردہ چاک کرکے ملکی وقار و زر مبادلہ میں بھی بلند اضافہ ہوگا۔

    خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی مہان کلاسک شاعر نے 56 سالہ زندگی میں تقریبا 18 سال روہی چولستان جھوک فرید کنڈا فرید میں گزارے۔ان کو دفن قیمتی خزانوں کا علم تھا اور اپنے شاندار خوشحال مستقبل کا بھی پتہ تھا۔اس لئے خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ریاستی سرائیکی نواب صادق محمد خان عباسی چہارم کو کہا تھا کہ اپنی نگری آپ وسا توں پٹ انگریزی تھانے سے مراد روہی چولستان آپ نے خود آباد کرنا ہےاور پٹ انگریزی تھانے کی اصطلاح دراصل اعلی جدید علم و ٹیکنالوجی کی تحقیق،خود داری،دیانت داری اور محنت کا استعارہ بیان فرمایا۔روہی چولستان کی شادابی اور معاشی ترقی کا حسین خواب حقیقت کا اظہار ایک صدی پہلے کر چکے ہیں۔اب صرف ایمانداری سے عمل کی ضرورت ہے۔سرائیکی وسیب کی نوجوان نسل کو قلم،کتاب،لائیبریری اور ریسرچ لیبارٹری میں دن رات جدید علم و ہنر اور ٹیکنالوجی کے اوزاروں سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہوگا۔سرائیکی مہان کلاسک صوفی شاعر سیئں خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا مکمل دیوان فرید سرائیکی سماجیات کی مضبوط دستاویزات ہیں۔ان کے کلام آفاقیت میں روہی سے عشق محبت،امید اور تصوفانہ فلسفے سے تقویت ملے گی۔

    اگر آج بھی حکمران، مقامی سیاستدان اور سرائیکی وسیب کے دعویدار خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔گنویری والا، جو ہڑپہ و موہنجوداڑو سے بھی زیادہ قدیم ہے،محض داستان بن کر رہ جائے گا۔ اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں بے حسی اور غفلت کا مجرم ٹھہرائیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی عظمت کو مٹی میں دفن ہونے سے بچائیں،ورنہ کل ہمیں اپنی شناخت کے ملبے پر کھڑے ہو کر صرف افسوس ہی کرنا پڑے گا!

    وقت کا پہیہ رکنے والا نہیں مگر تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔جو قومیں اپنی پہچان اور ورثے کی حفاظت نہیں کرتیں، وہ ماضی کے کھنڈرات میں دفن ہو جاتی ہیں۔ گنویری والا ہماری شناخت، تہذیب اور تاریخی ورثے کا نشان ہے، جسے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو کل یہ زمین کسی اور کی نہیں بلکہ ہماری اپنی بے حسی کی گواہی دے گی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، تاریخ میں سر اٹھا کر زندہ رہنا ہے یا مٹ جانے والوں میں شامل ہونا ہے۔