Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی قیادت کا مثبت کردار عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں رنگ لے آئیں

    ایران امریکہ معاملات آخری مرحلے میں، سیز فائر مستقل امن کی طرف اہم پیش رفت

    تجزیہ شہزاد قریشی
    سیز فائر میں توسیع محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار تھا، پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ خصوصاً عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی حکمتِ عملی، تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جو واقعی قابلِ ستائش ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی حمایت بھی ایک مثبت اور عملی قدم ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب تصادم کے بجائے استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور عالمی ممالک کی مشترکہ کوششیں بھی اس پیش رفت میں شامل رہی ہیں، جنہوں نے ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور زمینی حقائق یہی اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق کسی نہ کسی قابلِ قبول حل کے قریب پہنچ چکے ہیں، اور معمولی نکات پر اتفاق رائے بھی جلد ہو سکتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ سیز فائر نہ صرف ایک عارضی سکون بلکہ ایک مستقل امن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

    بلاشبہ، یہ ایک اجتماعی کامیابی ہے جس میں پاکستان، امریکہ اور دیگر تمام شامل ممالک کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ پیش رفت ایک جامع معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی، جو خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا۔

  • یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    عالمی سیاست کے پیچیدہ اور بدلتے ہوئے منظرنامے میں کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو محض سفارتی یا مفاداتی بنیادوں پر قائم نہیں ہوتے بلکہ ان کی جڑیں تاریخ، عقیدے،مذہب اور مشترکہ اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق بھی اسی نوعیت کا ایک لازوال رشتہ ہے ایک ایسا رشتہ جسے بجا طور پر ’’ یک دل و یک جان ‘‘ کہا جاتا ہے۔

    ہر آن، ہر لمحہ اور ہردم بدلتے حالات کے تناظر میں دنیا اس بات کا مشاہدہ کررہی ہے کہ واقعتا سعودی عرب اور پاکستان’’ یک دل ویک جان ‘‘ ہیں ۔ امریکہ کے حملوں کی آڑ میں ایران نے سعودی عرب کی تیل اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ایسے حساس وقت میں جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا وہاں کور کمانڈر کانفرنس میں بھی سعودی عرب کے ساتھ بھر پورطریقے سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا ۔ یہ اظہار یکجہتی نہ صرف ایک بروقت اقدام تھا بلکہ ایک ایسی ذمہ دار ا نہ ا ور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کا بھی عکاس ہے جس کی بنیاد سعودی عرب کے ساتھ بے لوث محبت پر رکھی گئی ہے ۔ یہ یکجہتی محض رسمی بیان نہیں بلکہ اس امر کا واضح اعلان تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی پر خطرات کے منڈلاتے سائے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے ۔ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ پاکستان کی متوازن اور مدبرانہ خارجہ پالیسی کی عکاسی بھی تھا اور اس امر کا اظہار بھی تھا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے ۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی محض رسمی بیان نہ رہا بلکہ چند ہی دن بعد دنیا نے اس وقت اسے حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا جب پاکستان کے شاصہین صفت لڑاکا طیارے سعودی سرزمین پر اترے اور فضائوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ محض ایک عسکری سرگرمی نہ تھی بلکہ ایک بھرپور پیغام تھا۔۔۔۔اتحاد کا۔۔۔۔ اعتماد کا ۔۔۔۔اور مشترکہ دفاع کا۔ یہ لمحہ دراصل اس دیرینہ رفاقت کا عملی اظہار تھا جو آزمائش کی ہر گھڑی میں سرخرو رہی ہے۔یہ طیارے جن میں JF-17 تھنڈر اور F-16 جیسے جدید شاہکار شامل ہیں صرف دھات اور مشینری کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری مہارت، خودانحصاری اور دفاعی خودداری کے جیتے جاگتے مظاہر ہیں۔ جب یہ شاہین فضائوں میں پرواز کرتے ہوئے سعودی عرب پہنچے تو ہر پاکستانی کا دل فخر وانبساط سے بھر گیا ۔ اب الحمد للہ پاک فوج کے چنیدہ اور تربیت یافتہ دستے سعودی عرب میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی موجودگی کسی جارحیت کی علامت نہیں بلکہ امن، تربیت اور دفاعی ہم آہنگی کا استعارہ ہے۔ یہ شاہین صفت جوان اپنی مہارت، نظم و ضبط اور تجربے کے ذریعے سعودی افواج کے ساتھ ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں جو کسی بھی ممکنہ خطرے کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ کنگ عبدالعزیز جیسے اسٹریٹجک ایئر بیس کا انتخاب خود اس تعاون کی سنجیدگی اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خلیجی خطے کے قریب واقع یہ ائیر بیس دفاعی اعتبار سے کلیدی حیثیت بھی رکھتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ایک اہم عسکری مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں پاکستانی طیاروں کی موجودگی دراصل ایک واضح اعلان ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں یک دل اور یک جان ہیں اور دونوں ممالک کسی بھی چیلنج کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ عسکری اشتراک صرف ہتھیاروں اور مشقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط نظریاتی اور جذباتی رشتہ بھی کارفرما ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ پر استوار ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھا ہے یہی جذبہ آج بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔ آج جب دنیا طاقت کے توازن کی نئی صف بندیوں میں مصروف ہے پاکستان کا یہ اقدام سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بھی کرتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور عسکری اعتبار سے مضبوط ومستحکم ریاست ہونے کا تاثر بھی اجاگر کرتا ہے۔دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات سے دنیا کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ آل سعود خادم الحرمین ہیں تو پاکستان کو اللہ نے محافظ الحرمین کا اعزاز بخشا ہے ۔

    دوسری طرف سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستان کا سچااور مخلص دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ خوشی ہو یا غم سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ہے ۔ آج اگر پاکستان دنیا میں سربلند ہے تو سعودی عرب کی بدولت ہے کہ جس کے تعاون سے پاکستان ایک مضبوط عسکری قوت اور ملک بنا ہے ۔ اس وقت پاکستان معاشی اعتبار سے مشکلات کا شکار ہوا تو سب سے پہلے سعودی عرب ہی پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے آگے بڑھا دو ارب ڈالر امداد دی اور تین ارب ڈالر قرضے روول اوور کئے ۔

    مذہبی ، سفارتی ، دفاعی اور عسکری تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک نہایت اہم ستون ہے۔ 1960 ء کی دہائی سے ہی پاکستان نے سعودی عرب کی فوجی تربیت اور دفاعی صلاحیتوں میں معاونت فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ پاکستانی فوجی ماہرین اور ٹرینرز سعودی عرب میں تعینات رہے جہاں انہوں نے سعودی افواج کو جدید جنگی مہارتوں سے آراستہ کیا۔ 1982 ء میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان نے سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع کی ذمہ داری قبول کی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں تعینات رہی، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    1990 ء کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ دونوں ممالک کا تعلق محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی جھلکتا ہے۔
    حالیہ برسوں میں مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصا امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع نے خطے کو ایک نازک صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔ ایسے حساس موقع پر پاکستان نے نہایت دانشمندانہ اور متوازن پالیسی اپنائی تاہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کو برقرار رکھا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی سعودی موقف کی حمایت کی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بھی فعال کردار ادا کیا۔ یہ ایک نازک توازن تھا، جس میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی پختگی اور بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

    سیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی قابلِ رشک ہے۔ عالمی فورمز پر بھی پاکستان اور سعودی عرب اکثر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو یا امتِ مسلمہ کو درپیش دیگر چیلنجز سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کو اہمیت دی ہے ۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ بھی اسی دیرینہ تعلق کا تسلسل ہے ۔ وزیراعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    آج جب دنیا مختلف سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزر رہی ہے، ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا ’’ یک دل، یک جان ‘‘ کا رشتہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے یہ تعلق نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے استحکام، اتحاد اور امید کی علامت ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض دو ممالک کا تعلق نہیں بلکہ دو دلوں کی دھڑکن، دو قوموں کی امید اور ایک امت کی مشترکہ طاقت کا مظہر ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو ہر آزمائش میں سرخرو ہو کر ابھرتا ہے۔

  • تبصرہ کتب،حجیت ِ حدیث یعنی شریعتِ اسلامیہ میں حدیثِ رسول ﷺ کا مقام ومرتبہ

    تبصرہ کتب،حجیت ِ حدیث یعنی شریعتِ اسلامیہ میں حدیثِ رسول ﷺ کا مقام ومرتبہ

    اسلامی علوم میں سب سے اہم اور بنیادی حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے۔ قرآنِ کریم شریعتِ اسلامیہ کی اساس ہے تو حدیثِ رسول ﷺ اس کی شرح، وضاحت اور عملی تفسیر ہے ۔ انہی دو سرچشموں سے امتِ مسلمہ کا دینی و اخلاقی نظام تشکیل پاتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب "جیتِ حدیث” میں نامور محدث و محقق شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبد الستار حماد نے نہایت مدلل، علمی اور تحقیقی انداز میں سنتِ رسول ﷺ کی حجیت، اہمیت اور استنادی حیثیت کو ثابت کیا ہے۔یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے پہلے باب میں ’’ حدیث کی استنادی حیثیت قرآن و سنت اور عملِ صحابہ کی روشنی میں ‘‘ پر گفتگو کی گئی ہے ۔ شیخ الحدیث ابو حماد حافظ عبدالستار حماد نے حدیثِ نبوی ﷺ کی حیثیت کو قرآنِ مجید کے ساتھ تعلق کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ صاحب کتاب نے عملِ صحابہ رضی اللہ عنہ کی روشنی میں مدلل انداز میں بتایا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہر معاملے میں حدیثِ رسول ﷺ کو فیصلہ کن حجت مانا۔ وہ قرآن کے بعد سنت کو ہی قانون و شریعت کا دوسرا بنیادی ماخذ سمجھتے تھے۔کتاب کا دوسرا حصہ ’’ فتنہ انکارِ حدیث ،اسباب، شبہات و مغالطات کا مدلل جواب‘‘ پر مشتمل ہے ۔ یہ باب آج کے فکری و اعتقادی انتشار کے پس منظر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انکارِ حدیث کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اس فتنہ کی جڑیں ابتدا میں خارجی اور معتزلی فکر میں پائی جاتی ہیں۔اس باب میں انھوں نے انکارِ حدیث کے اہم شبہات جیسے:حدیث انسانی یادداشت کا نتیجہ ہے، وحی نہیں، قرآن کافی ہے، منصب رسالت سے بے اعتنائی ، سنت کی ضرورت نہیں، محدثین نے حدیث بعد میں جمع کی اور منکرین حدیث کی خود ساختہ اصطلاح ’’ مرکزملت ‘‘ کا نہایت علمی و عقلی تجزیہ کرتے ہوئے دلائلِ قرآن و سنت، تاریخِ حدیث اور علمِ رجال کی روشنی میں مکمل اور مدلل رد کیا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ حدیث دراصل وحیِ غیر متلو ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے قلب پر نازل فرمایا۔اس باب میں منکرین کے دس اعتراضات کے مدلل جوابات بھی دیے گئے ہیں ۔انھوں نے مثالوں کے ذریعے واضح کیا ہے کہ اگر سنت کو نظر انداز کر دیا جائے تو قرآنِ کریم کی بہت سی آیات کا عملی فہم ممکن ہی نہیں رہتا مثلاً نماز، زکوٰۃ، حج، نکاح، طلاق اور حدود کے احکام۔حقیقت یہ ہے کہ شیخ عبد الستار حماد کا اسلوب واضح، مدلل، اور اعتدال پر مبنی ہے ایک طرف یہ کتاب حدیث کے علمی مقام کو سمجھنے کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف فتنہ انکارِ حدیث کا توڑ بھی ہے ۔مختصر یہ کہ "حجیت ِ حدیث ” ایک ایسی جامع، مدلل اور ایمان افروز تصنیف ہے جو علمِ حدیث کے دفاع میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ کتاب صرف محدثین اور طلبہ کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس مسلمان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ سنتِ رسول ﷺ شریعت کا زندہ اور لازمی حصہ ہے۔کتاب میں جہاں عقلی استدلال موجود ہے، وہاں نقلی دلائل کی روشنی میں ایمان افروز تاثر بھی نمایاں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر نکتے کو قرآن، حدیث اور آثارِ سلف سے مضبوط کیا گیا ہے۔ہر صفحے پر علمی وقار، ترتیب اور تحقیقی توازن جھلکتا ہے۔جبکہ دارالسلام نے حسبِ روایت اس کتاب کو نہایت معیاری طباعت، دیدہ زیب سرورق اور مستند حوالہ جاتی انداز میں شائع کیا ہے۔اس بیش قیمت علمی کتاب کی قیمت 250روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور سے حاصل کی جاسکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • ایران جوہری تنازع: اصل کشمکش یورینیم پر، آبنائے ہرمز ثانوی دباؤ کا ہتھیار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ایران جوہری تنازع: اصل کشمکش یورینیم پر، آبنائے ہرمز ثانوی دباؤ کا ہتھیار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی کشیدگی: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اعتماد کا بحران
    ممکنہ معاہدہ یا قیاس آرائیاں؟ آنے والے دن عالمی سیاست کے لیے فیصلہ کن مرحلہ
    تجزیہ شہزاد قریشی
    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سطحی خبروں سے ہٹ کر اصل محرکات کا جائزہ لیا جائے۔ بظاہر توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے اور جس کے بارے میں وقتاً فوقتاً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایران اسے بند یا کھول کر عالمی دباؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ جتنا نمایاں دکھائی دیتا ہے، اتنا سادہ نہیں۔ اس راستے کی کسی بھی ممکنہ بندش یا کشیدگی کا فوری ردعمل عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے سامنے آتا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مکمل طور پر ایران کے یکطرفہ کنٹرول میں نہیں رہتا۔

    اصل اور بنیادی تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کی حکمت عملی اس کے سیکیورٹی خدشات کے گرد گھومتی ہے، خاص طور پر اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ اقدامات کے تناظر میں۔ ایران یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ یورینیم افزودگی کے معاملے میں مکمل لچک دکھاتا ہے یا کسی سخت معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو اس کی دفاعی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ میں سیاسی تبدیلیاں—مثلاً انتخابات—اس کی پالیسیوں کو مزید غیر یقینی بنا سکتی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود رکھا جائے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے اور ایٹمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ یہی بنیادی تضاد کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    اس تناظر میں مختلف تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ آنے والے دن—خاص طور پر منگل، بدھ اور جمعرات—اہم ثابت ہو سکتے ہیں اور کسی ممکنہ پیش رفت یا معاہدے کی صورت سامنے آ سکتی ہے۔ بعض اطلاعات میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پس پردہ سفارتکاری کے نتیجے میں کوئی فریم ورک تیار ہو رہا ہے، جس میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو اعلیٰ سطحی امریکی شخصیات، حتیٰ کہ صدر، مختصر دورے پر آ کر اس کی توثیق کر سکتے ہیں۔

    تاہم تاریخی اور سفارتی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو ایسے بڑے معاہدے عموماً طویل مذاکرات کے بعد طے پاتے ہیں اور ان کے لیے مخصوص سفارتی مراکز کا انتخاب کیا جاتا ہے، جیسا کہ Joint Comprehensive Plan of Action کے دوران دیکھا گیا۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اگرچہ پیش رفت ممکن ہے، لیکن چند دنوں میں کسی حتمی اور بڑے معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل اور کم امکان والا عمل ہے۔ پاکستان یا کسی اور ملک کا کردار ثالثی یا سہولت کاری تک ہو سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ بحران کی جڑیں گہری اسٹریٹیجک بے اعتمادی میں پیوست ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک اہم دباؤ کا ذریعہ ضرور ہے، مگر اصل فیصلہ کن عنصر ایران کا جوہری پروگرام اور اس پر عالمی طاقتوں کا ردعمل ہے۔ آنے والے دن اہم ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن کسی بھی نتیجے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے محتاط اور حقیقت پسندانہ تجزیہ ہی زیادہ مناسب ہوگا۔

  • مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: راشد عمر اولکھ ایڈووکیٹ

    مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: راشد عمر اولکھ ایڈووکیٹ

    نظریات یا مفادات، مذاکرات کار یا ثالث ؟ عالمی شطرنج کے کھیل میں مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟

    عالمی سیاست کے ایوانوں میں دوستیوں کے نعرے بہت بلند ہوتے ہیں، مگر تاریخ کی گرد جھاڑیں تو ایک ہی سچ نمایاں ہوتا ہے: ریاستیں جذبات، مذہبی نظریات سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔ یہاں تعلقات کی بنیاد نہ نظریاتی ہم آہنگی ہوتی ہے، نہ مذہبی قربت—بلکہ سرد حساب کتاب اور قومی مفاد کا بے رحم تقاضا ہوتا ہے۔

    مسلم دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی تلخ مگر واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تعین میں کبھی ابہام کا شکار نہیں ہوتیں، وہیں وقت کی مسلم ریاستیں اکثر جذباتی بیانیوں، وقتی نعروں اور غیر مستقل اتحادوں میں الجھ کر اپنے طویل المدتی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔

    سرد جنگ کے ہنگاموں میں United States اور Soviet Union کی کشمکش نے دنیا کو دو بلاکس میں تقسیم کر رکھا تھا۔ Soviet–Afghan War میں پاکستان کو فرنٹ لائن ریاست بنایا گیا۔ اس وقت دوستی کے چرچے تھے، تعاون کے وعدے تھے، اور مشترکہ جدوجہد کا بیانیہ تھا۔ مگر یہ سب کسی اصولی رفاقت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مفادات کا عارضی اشتراک تھا۔

    پاکستان نے بھی اس موقع کو ایک اسٹریٹجک موقع کے طور پر استعمال کیا، مگر جیسے ہی Collapse of the Soviet Union ہوا، تعلقات کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ پاکستان پر عالمی پابندیاں، نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ، بداعتمادی اور فاصلے—یہی اس “دوستی” کا انجام تھا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل کچھ نہیں ہوتا، سوائے مفادات کے۔

    ایران کی داستان بھی اسی اصول کی ایک اور شکل ہے۔ ایران جو کبھی امریکہ کا قریبی اتحادی تھا، Iranian Revolution کے بعد یکسر مخالف سمت میں کھڑا ہو گیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے نہ صرف اپنی خارجہ پالیسی بدلی بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد ہی تبدیل کر دی۔ یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ نئے ریاستی مفاد کا تعین تھا—خودمختاری، اثر و رسوخ اور مزاحمت۔

    ترکی اگرچہ نیٹو امریکہ اتحاد کا حصہ بنا مگر اس سب کے باوجود کمال دانشمندی سے ترکی نے نیٹو رکن ہونے کے باوجود اپنی پالیسی کو کسی ایک بلاک تک محدود نہیں رکھا۔ شام کے بحران میں اس کی مداخلت، روس کے ساتھ تعلقات، اور مغرب کے ساتھ توازن—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ کامیاب ریاستیں لچکدار ہوتی ہیں، وابستہ نہیں۔

    دوسری طرف شام، عراق، یمن اور لیبیا وہ بدنصیب خطے ہیں جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات نے ریاستی ڈھانچوں کو کمزور کر کے انہیں جنگی میدان بنا دیا۔ عراق جنگ کے بعد عراق کا بکھرنا، شام کی خانہ جنگی کا عالمی شطرنج میں بدل جانا، اور یمن کی خاموش تباہی—یہ سب اس امر کی دلیل ہیں کہ جب ریاست کمزور ہو جائے تو اس کے فیصلے اس کے اپنے نہیں رہتے۔

    یہ تمام مثالیں ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہیں: کیا مسلم دنیا ہمیشہ دوسروں کے کھیل کا حصہ بنی رہے گی؟
    اگر پاکستان، ایران، سعودی عرب، مصر ترکی اور قطر اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک مشترکہ تزویراتی بلاک تشکیل دیں تو یہ عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ توانائی کے ذخائر، جغرافیائی اہمیت، عسکری صلاحیت اور افرادی قوت—یہ سب عناصر اگر یکجا ہو جائیں تو ایک نئی طاقت ابھر سکتی ہے۔
    مگر اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ وہی پرانی بیماریاں ہیں: فرقہ واریت، باہمی عدم اعتماد اور قلیل المدتی سوچ۔

    حالیہ عالمی کشیدگی، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کے تناظر میں پاکستان نے جس فعال سفارتی کردار کا مظاہرہ کیا، وہ محض روایتی بیان بازی نہیں بلکہ ایک نئی حکمت عملی کی جھلک ہے۔
    وزیراعظم شہباز شریف کی مسلسل سفارتی کاوشیں، روزانہ کی بنیاد پر رابطے، اور سعودی عرب ، قطر اور پھر ترکی کے اہم دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان محض ایک ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ ایک "فعال ثالث” کے طور پر ابھر رہا ہے۔
    اسی تسلسل میں ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب کا فوری طور پر ایران کا دورہ ایک غیر معمولی تزویراتی اشارہ تھا—یہ پیغام کہ پاکستان نہ صرف خطے کی حساسیت کو سمجھتا ہے بلکہ فوری اور مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ وہ کردار جس کو ادا کرنے کی اس سے توقع کی جا سکتی ہے۔
    اگرچہ عالمی سفارت کاری میں “کریڈٹ” اکثر طاقتور ریاستیں لے جاتی ہیں، مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کشیدگی میں کمی، رابطوں کی بحالی اور جنگ بندی کی فضا پیدا کرنے میں پاکستان کی خاموش مگر مسلسل کوششیں ایک اہم عنصر بن رہی ہیں۔ اعتماد بحال ہو رہا ہے، مسلم ممالک کے درمیان بہترین تعلقات اور کوآرڈینیشن اپنا رنگ جما رہی ہے۔

    یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع موجود ہے:
    وہ مسلم دنیا میں محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک "پل (bridge) اور ممکنہ "قائدانہ کردار” ادا کر سکتا ہے۔
    اگر مجوزہ اسلامی بلاک حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو پاکستان کی حیثیت محض ایک رکن کی نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسے ملک کی ہوگی جو:
    مختلف بلاکس (ایران-سعودی، ترکی-عرب) کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے
    ایٹمی طاقت ہونے کے باعث دفاعی اعتماد فراہم کر سکتا ہے
    چین، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سفارتی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے
    یہ کردار پاکستان کو اس پوزیشن پر لا سکتا ہے جہاں وہ نہ صرف اتحاد کا حصہ ہو بلکہ اس کی سمت متعین کرنے والوں میں شامل ہو۔ اور یہ کوئی معمولی بات یا عمومی پیش رفت نہیں۔
    بین الاقوامی سیاست شطرنج کی ایک بساط ہے۔ یہاں یا تو آپ چال چلتے ہیں، یا آپ پر چال چلی جاتی ہے۔
    مسلم دنیا نے طویل عرصہ مہرے کا کردار ادا کیا ہے، مگر حالات بدل رہے ہیں۔
    اگر ریاستیں اپنے مفادات کو سمجھتے ہوئے اجتماعی حکمت عملی اپنائیں، اور پاکستان جیسے ممالک ثالثی سے قیادت تک کا سفر طے کریں، تو ایک نیا عالمی توازن جنم لے سکتا ہے۔
    اور موجودہ عالمی حالات میں، جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اگر ریاستیں اپنے انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کر اجتماعی حکمتِ عملی اپنائیں تو ایک نیا اور زیادہ متوازن عالمی نظم تشکیل پا سکتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان اپنی عسکری صلاحیت اور اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کے ذریعے سیکیورٹی اور علاقائی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی مالی طاقت اور سرمایہ کاری کی استعداد سے اس بلاک کو معاشی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ترکی اپنی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صنعت اور جنگی تجربے کے ساتھ عملی عسکری و سفارتی وزن بڑھا سکتا ہے، قطر اپنے توانائی کے وسیع وسائل اور ثالثی کی مؤثر پالیسی کے ذریعے مالی و سفارتی معاونت فراہم کر سکتا ہے، جبکہ مصر اپنی تاریخی، آبادیاتی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث عرب و افریقی دنیا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایران اپنی تزویراتی گہرائی اور علاقائی اثر و رسوخ کے ذریعے اس خطے کی جیو اسٹریٹجک تکمیل کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگر یہ تمام عوامل ایک مربوط اور ادارہ جاتی تعاون کے فریم ورک میں یکجا ہو جائیں تو یہ اتحاد محض علامتی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک عملی اور مؤثر تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
    یہ صرف ایک امکان نہیں—یہ ایک موقع ہے۔
    سوال اب بھی وہی ہے:
    کیا مسلم دنیا اس موقع کو پہچان پائے گی؟
    تاریخ کا اگلا باب اسی جواب کا منتظر ہے۔
    اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔
    نقشِ کہن مٹ رہا ہے، نئی تقدیر کے ہاتھ میں
    وقت کے ماتھے پہ لکھا اب ترا اعجاز ہے۔

  • کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی،تحریر:ملک سلمان

    کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی دوسال کی کارگردگی کی دھوم ناصرف پنجاب اور پورے پاکستان بلکہ دنیا کے متعدد ممالک تک جاپہنچی۔ فلاحی و ترقیاتی کاموں کی ایسی تاریخ رقم کی, جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ ایسے میں ہر کوئی مریم نواز کی کارگردگی کا معترف نظر آرہا تھا۔ دو سال کے مختصر دورانیے میں پنجاب کی بے مثال ترقی نے پنجاب اور پاکستانی عوام کو ان کا گرویدہ بنا لیا تھا دیگر صوبوں کی عوام کہتے تھے کہ خداداصلاحیتوں اور عوامی فلاح و بہبود کی تاریخ رقم کرنی والی مریم نواز کو وزیراعظم ہونا چاہئے تاکہ پورے پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔
    مریم نواز شریف طلبہ و طالبات کی پسندیدہ سیاسی شخصیت بن چکی تھیں۔

    بدقسمتی سے کتے کے کاٹنے سے ایک بچے کی ہلاکت کا واقع ہوتا ہے تو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف انتظامی افسران کی سخت سرزنش کرتی ہیں کہ پنجاب کے ہر بچے اور شہری کی حفاظت کو پہلی ترجیح بنایا جائے ساتھ ہی انہوں نے انتظامی افسران کو وارننگ جاری کی کہ کہیں بھی انسانی جان کا نقصان ہوا تو متعلقہ افسر کو سزا ملے گی۔
    شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے زخمی کتوں کا علاج معالجہ اور انکی ویکسینیشن کرنے کی بجائے ہمیشہ سے اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی ماہر بیوروکریسی نے انسانیت اور ضمیر کو مردہ کرکے وحشی جلاد کا روپ دھار لیا اور کتوں کی لاشوں کے ڈھیڑ لگادیے۔ ستھرا پنجاب جس کی دھوم مچی ہوئی تھی اس کے ورکرز کے ہاتھوں میں جھاڑو کی بجائے بندوق دے کر کتے مارنے پر لگادیا گیا جبکہ کچرا اٹھانے والی گاڑیوں میں کتوں کی لاشوں کی تصایر کو قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کے ساتھ شئیر کیا۔

    معصوم و بے زبان کتوں کے قتل عام نے ہر باضمیر انسان کو دکھی کردیا۔
    گذشتہ دنوں ایک دوست ملنے آئے تو کہنے لگے کہ چند دن قبل ڈپٹی کمشنرز کے انٹرویو تھے تو اس نے ڈی سی شپ سے انکار کردیا کہ اگر ڈی سی لگ کر ان معصوم جانوں کو قتل کرنا ہے تو ایسی ڈی سی شپ سے معذرت۔
    لاکھوں طلبہ و طالبات نے سوشل میڈیا پر
    ” 💔Broken Heart💔“
    کے ساتھ "سٹاپ ڈاگ کلنگ” کے سٹیٹس لگائے۔ ہزاروں طلبہ کے سوشل میڈیا سٹیٹس تھے کہ مریم نواز اگر آپ ان معصوموں کے قتل کا حکم دے رہی ہیں تو
    we no more love you 😞🙏

    اندرون لاہور کی چند خواتین کا انٹرویو وائرل ہورہا ہے کہ کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی، مذکورہ ویڈیو میں خواتین مادر جمہوریت کلثوم نواز کی رحم دلی اور شخصیت کے حوالے سے بتا رہی تھی کہ مرحوم کلثوم نواز تو باقاعدگی سے ان بے گھر کتوں کیلئے روٹی کا اہتمام کرتی تھیں۔مختلف دیہاتوں سے ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں ستھرا پنجاب اور میونسپل کمیٹی کے اہلکار جانوروں کی حفاظت کیلے رکھے گئے پالتو کتوں کو بھی زہر دے کر چلے گئے۔

    سپیشل برانچ اور انٹیلیجنس بیورو سے رپورٹ لیں آپ کو خوفناک حقائق ملیں گے کہ کتوں کو مارنے کے واقعات کے دوران کتنے شہری فائرنگ سے زخمی ہوئے اسی طرح کتوں کو مارنے کیلئے پھینکے گئے strychnine زہر سے چار بچوں کی ہلاکت اور درجنوں بچوں کے ہسپتال میں جانے کی اطلاعات ہیں۔ فائرنگ اور زہر سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کا کون ذمہ دار؟پنجاب بھر کے اضلاع کیلے ایک ہی ٹھیکیدار سے خریدے گئے strychnine زہر کی وجہ سے فضا زہریلی ہوچکی ہے۔

    جب سے کتا مار مہم شروع گئی کی گئی ہے تب سے کتا کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا کتا اگر مرتا نہیں ہے تو وہ زخموں کی وجہ سے باؤلا ہو جاتا ہے ۔
    گزارش ہے کہ کتوں کو فائرنگ اور زہر سے باؤلا کرنے یا تڑپا تڑپا کر مارنے کی بجائے ویکسینیشن کریں۔

    وزیر اعلیٰ تک کوئی بھی حقائق پہنچانے کی زحمت نہیں کرتا کہ آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔ بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔

    کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کر دینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں اس لیے کتوں کو مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرنی چاہئے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔ زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔

    بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔
    کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے اور انتہائی وفادار ساتھی سمجھا جاتاہے۔
    کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ہزاروں سالوں سے انسانی ابادی میں رہنے والے کتوں کو ختم کرنے سے ایکو سسٹم بری طرح متاثر ہوگا۔ ماضی میں اسی طرح ان سرکاری بے عقلوں نے چیلوں کا خاتمہ کیا تھا تو بعد میں ہمیں بیرون ملک سے چیلیں امپورٹ کرنی پڑی تھی۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان نے جس ذمہ داری، دانشمندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین اور ناقابلِ فراموش ہے

    ممتاز تجزیہ شہزاد قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ سے لے کر یورپ، مڈل ایسٹ اور دیگر عالمی خطوں تک پاکستان کا مثبت امیج بہتر بنانے میں ہماری عسکری قیادت، بالخصوص آرمی چیف، اور ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ سویلین حکومت، وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ نے نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دی ہے، اور حالیہ حالات میں بھی یہی پالیسی دنیا کے سامنے واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر آج دنیا ایک بڑے تصادم سے محفوظ ہے اور کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے تو اس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ذمہ دارانہ کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    شہزاد قریشی کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بھارت مسلسل پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے، جو دراصل اس کی بوکھلاہٹ اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اب پاکستان کے امن پسند کردار کو تسلیم کر رہی ہے، اور بے بنیاد الزامات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حقیقت کو تسلیم کرے، خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرے اور پاکستان کے خلاف منفی مہم بند کرے۔ پاکستان ایک ذمہ دار، پرامن اور باوقار ریاست ہے، اور اس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عزت اور مقام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    SMASH میزائل ٹیسٹ: جنوبی ایشیا کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشی

    میجر (ر) ہارون رشید — دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان کی جانب سے حال ہی میں اپنے مقامی طور پر تیار کردہ SMASH میزائل کا بحری پلیٹ فارم سے کامیاب تجربہ ملکی دفاعی صلاحیتوں میں ایک نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی رفتار اور حدِ مار سے متعلق سرکاری تفصیلات محدود ہیں، تاہم دستیاب اشارے بتاتے ہیں کہ یہ نظام ایک جدید اور زیادہ مؤثر ورژن ہے—جسے غیر رسمی طور پر SMASH-II کہا جا رہا ہے—جو ممکنہ طور پر میخ 10 سے زیادہ رفتار (ہائپر سونک) اور 400 کلومیٹر سے زائد رینج کا حامل ہو سکتا ہے۔

    یہ پیش رفت کوئی الگ تھلگ کامیابی نہیں بلکہ دفاعی جدیدکاری کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔ SMASH میزائل کے تجربے کی اصل اہمیت اس کی بحری تعیناتی میں ہے، جو ایسے وقت میں پاکستان کی بحری ڈیٹرنس کو مضبوط بناتی ہے جب جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک ماحول مزید پیچیدہ اور مسابقتی ہوتا جا رہا ہے۔

    اس تجربے کا ایک اہم پہلو پاکستان کی سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت اور مجموعی ڈیٹرنس پوزیشن میں اضافہ ہے۔ اس سے قبل آبدوز سے داغے جانے والے ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز کے تجربات ایک قابلِ اعتبار سمندری ڈیٹرنس کی جانب پیش رفت کا عندیہ دے چکے ہیں۔ SMASH جیسے جدید میزائل سسٹمز کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کرنا اس صلاحیت کو مزید تقویت دیتا ہے، جو مستقبل میں روایتی اور ممکنہ طور پر ٹیکٹیکل ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی فراہم کر سکتا ہے۔

    اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے پاکستان بتدریج ایک ایسے “ٹرائیڈ نما ڈیٹرنس فریم ورک” کو مستحکم کر رہا ہے جو فضاء، زمین اور سمندر تینوں جہتوں پر محیط ہے۔ اگرچہ یہ بڑی طاقتوں کے روایتی نیوکلیئر ٹرائیڈ جیسا مکمل نظام نہیں، تاہم یہ کثیر جہتی ڈیٹرنس بقا، متبادل صلاحیت اور فوری ردعمل کی لچک میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    جنوبی ایشیا کے تناظر میں، جہاں سلامتی کے معاملات دیرینہ رقابتوں—خصوصاً بھارت کے ساتھ—سے متاثر ہوتے ہیں، ایسی پیش رفت کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ SMASH میزائل کی بحری جہازوں سے تعیناتی دشمن کی منصوبہ بندی میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کرتی ہے۔ یہ عملی طور پر جنگی میدان کو سمندری حدود تک پھیلا دیتی ہے اور مخالف کو سمندر سے آنے والے تیز رفتار اور طویل فاصلے کے خطرات کو مدنظر رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

    یہ پیش رفت خاص طور پر بھارت کی بڑھتی ہوئی بحری قوت اور بحرِ ہند میں اس کے اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے تناظر میں اہم ہے۔ پاکستانی بحری اثاثوں پر جدید میزائل سسٹمز کی موجودگی ایک مؤثر جوابی حکمتِ عملی کے طور پر کام کرتی ہے، جو “ڈیٹرنس بائی ڈینائل” کو مضبوط بناتی ہے۔ اس سے کسی بھی ممکنہ سمندری مداخلت کی لاگت اور خطرہ بڑھ جاتا ہے، یوں باہمی کمزوری کے اصول کے تحت اسٹریٹجک استحکام کو تقویت ملتی ہے۔

    تاہم، اس طرح کی پیش رفت خطے میں جاری اسلحہ جاتی مقابلے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے جیسے پاکستان اور بھارت اپنے عسکری نظام—بشمول میزائل، بحری پلیٹ فارمز اور نگرانی کی ٹیکنالوجیز—کو جدید بنا رہے ہیں، غلط اندازے یا غلط فہمی کے خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال میں اعتماد سازی کے اقدامات، مؤثر مواصلاتی ذرائع اور اسٹریٹجک تحمل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

    آخر میں، SMASH میزائل کا تجربہ محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ کثیر جہتی میدانوں میں ایک قابلِ اعتماد اور لچکدار ڈیٹرنس برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ جہاں قومی دفاع کو مضبوط بناتا ہے اور اسٹریٹجک توازن کو بہتر کرتا ہے، وہیں جنوبی ایشیا میں عسکری مسابقت کی بدلتی نوعیت کو بھی اجاگر کرتا ہے—جہاں ایک شعبے میں پیش رفت پورے خطے کے سکیورٹی توازن کو متاثر کرتی ہے

  • لوڈشیڈنگ کا عذاب: وعدوں سے آگے حل کب؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    لوڈشیڈنگ کا عذاب: وعدوں سے آگے حل کب؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    توانائی بحران: عوام کی آزمائش یا حکومتی ناکامی؟
    بجلی، گیس اور بے بسی: نظام کب بدلے گا؟
    تجزیہ شہزاد قریشی
    بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بنیادی ہیں، اور ان کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی، صحت اور معیشت پر پڑتا ہے۔ لیکن اس معاملے کو صرف یہ کہہ کر ختم کر دینا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران ایک دن یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط پالیسیوں، ناقص منصوبہ بندی، درآمدی ایندھن پر انحصار اور بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔

    یہ ماننا پڑے گا کہ ہر سال گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی وہی پرانے وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ بیانات دیے جاتے ہیں، تسلیاں دی جاتی ہیں، مگر عملی طور پر عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔ شدید گرمی میں بجلی کی بندش نہ صرف اذیت کا باعث بنتی ہے بلکہ اسپتالوں، گھروں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ گیس کی قلت سردیوں میں الگ مصیبت بن کر سامنے آتی ہے۔ ایسے میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔

    تاہم اصل مسئلہ محض ایک حکومت یا چند سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں۔ توانائی کے شعبے میں مستقل مزاجی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ہر نئی حکومت پچھلی پالیسیوں کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے، جس سے نہ صرف تسلسل ختم ہوتا ہے بلکہ وسائل کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، لائن لاسز اور بجلی چوری جیسے مسائل بھی اس بحران کو مزید سنگین بناتے ہیں۔

    اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس مسئلے کا حل موجود ہے، مگر اس کے لیے سیاسی عزم، ادارہ جاتی مضبوطی اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔ پاکستان کو مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے متبادل ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی کی طرف تیزی سے جانا ہوگا۔ یہی واحد راستہ ہے جو نہ صرف بجلی کو سستا بنا سکتا ہے بلکہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بھی نجات دلا سکتا ہے۔ساتھ ہی گورننس کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب تک اداروں میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک بہترین منصوبے بھی کاغذوں تک محدود رہتے ہیں۔ عوام کو محض وعدوں اور بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مطمئن کرنا ہوگا۔

    جمہوریت ایک خوبصورت نظام ہے، مگر اس کی خوبصورتی اسی وقت برقرار رہتی ہے جب یہ عوامی مسائل کو حل کرے اور لوگوں کی زندگی میں بہتری لائے۔ اگر بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں محض الزام تراشی سے آگے بڑھ کر قومی مفاد میں مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تاکہ عوام کو اس دیرینہ مسئلے سے حقیقی نجات مل سکے۔

  • نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    نوحہِ عصر، مادی اتصال، روحانی انفصال ،تحریر: اقصیٰ جبار

    عصرِ حاضر کی بساط پر بچھا ہوا انسانی معاشرہ ایک ایسے تضاد کا شکار ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی کے کسی بھی ورق میں نہیں ملتی۔ یہ صدی اپنے جلو میں ترقی کے جو چراغ لے کر آئی تھی، ان کی چکا چوند نے انسانی بصیرت کو اس حد تک خیرہ کر دیا ہے کہ اب ہمیں روشنی تو دکھائی دیتی ہے مگر راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ہم ایک ایسے ہجومِ ناآشنائی کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے سے جڑا ہوا (Connected) ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر حقیقت میں ہر فرد تنہائی کے ایک ایسے جزیرے پر مقیم ہے جس کے چاروں طرف خاموشی کا سمندر موجزن ہے۔

    قدیم یونانی فلسفہ ہو یا مشرقی تصوف، انسان کو ہمیشہ "حیوانِ ناطق” یا "اشرف المخلوقات” کے طور پر اس کے سماجی اور روحانی رشتوں سے پہچانا گیا، مگر آج کا انسان "حیوانِ مشینی” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہماری زندگیوں میں رفتار کا وہ تلاطم ہے جس نے سکونِ قلب کی متاع چھین لی ہے۔ ہم وقت کی دھول اڑاتے ہوئے اس منزل کی طرف گامزن ہیں جس کا کوئی نشان نہیں، اور اس بھاگ دوڑ میں ہم وہ لمحہ کھو بیٹھے ہیں جسے "ادراکِ ذات” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ان کہی اور ان دیکھی تھکن ہے جو ہڈیوں میں نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں میں سرایت کر چکی ہے۔

    ٹیکنالوجی کے اس عہدِ غلبہ میں انسانی جذبات کو "مصنوعی بصارت” (Artificial Vision) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ وہ احساسات جن کے اظہار کے لیے کبھی غزل کے قافیے اور نظموں کے استعارے بھی کم پڑ جایا کرتے تھے، اب محض ایک "ایموجی” یا "ری ایکشن” کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ لفظوں کی حرمت پامال ہو چکی ہے کیونکہ اب وہ دل سے نہیں بلکہ مصلحتوں کی اسکرین سے جنم لیتے ہیں۔ ہم نے رفاقتوں کو "ڈیجیٹل سگنلز” میں مقید کر دیا ہے؛ ملاقاتیں اب باہمی لمس اور آنکھوں کی گفتگو سے عاری ہو کر بے جان پکسلز (Pixels) میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

    ادب ہمیشہ سے انسانی ضمیر کا آئینہ دار رہا ہے، مگر آج کا انسان خارجی دنیا کے مصنوعی شور میں اتنا محو ہے کہ اسے اپنے اندر سے اٹھنے والی کراہیں سنائی نہیں دیتیں۔ ہم دوسروں کے "ڈیجیٹل اسٹیٹس” کو دیکھ کر اپنی زندگی کے معیار مقرر کرتے ہیں، مگر اپنی روح کے اس بوجھ کو بانٹنے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں پاتے جو اسے روز بروز کچل رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب آنسو بھی اسٹوریز میں "نمائش” کے لیے رکھے جاتے ہیں اور دکھ کو بھی "پبلک ڈسپلے” کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ کرب جو کبھی صیغہِ راز میں رہ کر انسان کو کندن بناتا تھا، اب محض سستی شہرت کا ذریعہ بن گیا ہے۔

    یہ دورِ ترقی دراصل "اجتماعی بیگانگی” کا عہد ہے۔ ہم ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے کئی افراد کے درمیان رہ کر بھی ان سے میلوں دور ہوتے ہیں۔ قربت کا مفہوم اب جسمانی موجودگی نہیں بلکہ "آن لائن” ہونا رہ گیا ہے۔ یہ ایک ایسی تنہائی ہے جو صحراؤں میں نہیں بلکہ بھرے مجمعوں میں پیدا ہوتی ہے—ایسی تنہائی جہاں آپ کے پاس "فرینڈ لسٹ” میں تو ہزاروں لوگ ہوں، مگر دستک دینے کے لیے کوئی ایک بھی دروازہ حقیقی نہ ہو۔
    شاید مستقبل کا مورخ ہماری اس تہذیب پر نوحہ لکھتے ہوئے کہے گا کہ وہ لوگ کائنات کی تسخیر کے خواب دیکھتے تھے مگر اپنے وجود کی سرحدوں سے ناواقف تھے۔ انہوں نے جینے کے تمام اسباب تو فراہم کر لیے تھے، مگر "جینے کے ڈھنگ” سے محروم رہے۔ ہم نے سب کچھ پا لیا، مگر افسوس کہ اس سارے عمل میں ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا۔ یہ عہد دراصل اس حقیقت کا شاہد ہے کہ اگر احساس مر جائے تو انسان محض ایک گوشت پوست کا مشینی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے