Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    عوام کسی بھی ملک کی معاشرت، معیشت اور ترقی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ ایک مضبوط اور خوش حال ریاست صرف حکومتی اداروں، قوانین اور پالیسیوں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں باشعور اور ذمہ دار شہریوں کی مشترکہ کاوشیں شامل ہوتی ہیں۔ اگر عوام ذمہ داری کا احساس کر لیں تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہر شخص صرف اپنے مفاد تک محدود ہو جائے تو بہترین نظام بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک منظم قوم کے بجائے افراد کا ایک منتشر ہجوم ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ اجتماعی مفاد، قومی شعور اور باہمی اتحاد کا فقدان ہماری کمزوری بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود ہم ان مسائل سے دوچار ہیں جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ملکی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولیات بدامنی، سیوریج کے ناقص انتظامات، صاف پانی کی قلت، بجلی اور گیس کے مسائل اور بڑھتی ہوئی غربت عوام کے اہم ترین مسائل ہیں۔ روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ والدین بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، علاج معالجے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔یہ تمام مسائل بظاہر حکومتی ناکامی کا نتیجہ محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو ان میں ہماری اجتماعی بے حسی اور غیر ذمہ داری بھی کسی حد تک شامل ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں مگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ قانون کی پاسداری، ٹیکس کی ادائیگی، صفائی ستھرائی، وقت کی پابندی، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام وہ بنیادی اصول ہیں جن پر معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے احتجاج کے نام پر بھی ہمارا طرزِ عمل اکثر ذمہ داری سے عاری ہوتا ہے۔ اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن کسی بھی احتجاج کی صورت میں پرتشدد راستہ اختیار کرنا، سڑکیں بند کرنا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، گاڑیوں کو آگ لگانا اور عوامی سہولیات تباہ کرنا کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں۔ ایسا طرزِ عمل مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے اور قومی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ درحقیقت جس ملک کے وسائل پہلے ہی محدود ہوں، وہاں ملکی املاک کو نقصان پہنچانا اپنے ہی مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    ملکی وسائل کا ضیاع بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی، پانی، گیس اور دیگر قدرتی وسائل اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں، جن کے استعمال میں اعتدال اور ذمہ داری لازم ہے۔ بدقسمتی سے ہم ان وسائل کو بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ غیر ضروری پنکھے اور لائٹس چلتی رہتی ہیں، پانی بہتا رہتا ہے، اور گیس کا بے جا استعمال معمول بن چکا ہے۔ پھر جب قلت پیدا ہوتی ہے تو ہم تمام تر ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔مظفرآباد آزاد کشمیر کی شہری ہونے کے ناطے میں نے خود دیکھا ہے کہ جہاں بجلی کی قیمت نسبتاً کم ہے تقریباً 3 روپے یونٹ وہاں اس سہولت کے باعث ہر دوسرے گھر میں ائیر کنڈیشنر کا استعمال عام ہے۔ سردیوں میں گرم پانی اور کھانا پکانے کے لیے ہیٹرز اور پانی کے ٹینکوں میں برقی راڈز نصب کر دیےجاتے ہیں۔ نتیجتاً بجلی کا غیر معمولی لوڈ بڑھ جاتا ہے اور ٹرانسفارمر بار بار جل جاتے ہیں۔اسی طرح کشمیر میں پانی کی وافر فراوانی کی وجہ سے اکثر گھروں میں پانی کی ٹینکیاں دن رات اوور فلو ہوتی رہتی ہیں۔ پانی مسلسل بہتا رہتا ہے، مگر بہت کم لوگ اس ضیاع کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہی پانی دنیا کے کئی خطوں میں زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کرنا ناشکری کے مترادف ہے اور وسائل کا یہ ضیاع آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے برابر ہے۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی ہمارے اجتماعی رویوں کا عکاس ہے۔ ہم چند لمحوں کا انتظار برداشت نہیں کرتے۔ سگنل توڑنا، ہیلمٹ نہ پہننا، اوور اسپیڈنگ کرنا، ون ویلنگ، ون وے کی خلاف ورزی کرنا اور قطار میں لگنے کے بجائے دوسروں کا حق مارنا ہماری عادت بن چکا ہے۔ یہی جلد بازی اور لاپرواہی آئے دن حادثات کا سبب بنتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ حادثے کے بعد زخمی کی مدد کرنے کے بجائے بہت سے لوگ ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ صفائی کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ دوہرا ہے۔ ہم اپنے گھر تو صاف رکھتے ہیں مگر گلی، بازار اور عوامی مقامات کو گندا کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پھینک دینا، نالیاں بند کرنا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ہماری عادت بنتی جا رہی ہے۔ حالانکہ صفائی نصف ایمان ہے اور ایک صاف ماحول ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔تعلیم اور تربیت کے میدان میں بھی عوام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین اگر بچوں کی صرف تعلیمی کامیابی پر نہیں بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں، انہیں سچائی، دیانت داری، احترامِ انسانیت اور وطن سے محبت کا درس دیں، تو یہی بچے مستقبل میں ایک باکردار قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔ استاد، والدین اور معاشرہ مل کر نئی نسل کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کے عوام کے کردار میں پوشیدہ ہے۔جرمنی،جاپان،چائنہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے صرف جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی نہیں کی، بلکہ وہاں کے شہری قانون کی پابندی کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔قومیں نعروں، تقریروں اور وعدوں سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، نظم و ضبط، قربانی اور احساسِ ذمہ داری سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ نظام ہم سے الگ کوئی شے نہیں ہم خود ہی اس نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی خود بخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے اپنی اصلاح سے آغاز کریں۔ اگر ہم اپنے گھر، گلی، دفتر، سکول اور معاشرے میں دیانت داری، نظم و ضبط، صفائی، قانون کی پابندی اور وسائل کی قدر کو اپنا شعار بنا لیں تو ملکی صورتحال بہتر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔یاد رکھنا چاہیے کہ اندھیروں کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا ایک چراغ روشن کرے تو مسائل کے اندھیرے خود بخود چھٹ جائیں گے۔ کیونکہ نظام کا حصہ ہم خود ہیں اور جب عوام کا کردار مثبت ہو جائے تو کوئی طاقت قوم کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتی

  • سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟خادم حسین بننا ہے یا یزید؟تحریر:ملک سلمان

    سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟خادم حسین بننا ہے یا یزید؟تحریر:ملک سلمان

    قاتل افسران کس کے پیروکار ؟

    پاکستان میں سالانہ ریپ (ذنا بالجبر) کے سات ہزار کیسز درج کرائے جاتے ہیں جبکہ بیس ہزار کے قریب واقعات عزت کے ڈر سے دبا دیے جاتے ہیں۔
    ہزاروں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا سنگین جرم کیا جاتا ہے اور کرنے والے مرد ہیں تو پھر حکومتی اور سرکاری آمرانہ سوچ کے مطابق زیادتی کی روک تھام کا واحد حل یہی ہے کہ سب کے نیفے میں پسٹل چلا کر سارے مرد نامرد کردیے جائیں، بلکہ ستھرا پنجاب کے ورکرز کے زیعے ان کو ڈائریکٹ زہر دیا جائے یا گولیاں مار کر ہلاک کردیا جائے ؟

    پاکستان میں سالانہ پانچ لاکھ روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ تیس ہزار افراد کی اموات ہوتی ہیں جبکہ ہزاروں زندگی بھر کیلئے اپاہج ہوجاتے ہیں۔ اس نقصان سے بچنے کیلئے فوری طور پر سڑکیں کھود دینی چاہئے اور ہر قسم کی ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دینی چاہئے؟پاکستان میں لڑائی جھگڑوں اور دشمنیوں میں سالانہ پندرہ ہزار افراد کا قتل کیا جاتا ہے انسان کیونکہ قتل کرکے بدامنی پھیلا سکتا ہے اس لیے تمام مرد و زن کو مار دینا چاہیے؟
    اگر چند انسانوں کی غلطی کی سزا تمام شہریوں اور انسانوں کو نہیں دی جاسکتی تو پھر کتا کاٹنے کے چند واقعات کی وجہ سے تمام کتوں کی نسل کشی کا کیا جواز ہے؟

    پاکستان میں کتا کاٹنے کے محض چند سو کیسز حقیقی ہیں جبکہ ہزاروں اور لاکھوں کی جعلی اور فرضی تعداد صرف معصوم کتوں کے ناحق قتل کو جسٹیفائڈ کرنے کیلئے بنائی جاتی ہے ۔ پنجاب خاص طور پر لاہور میں جس بے دردی اور سفاکیت سے معصوم کتوں کو مارا جا رہا ہے، حیوانیت اور فرعونیت کی انتہا ہے۔اس حیوانیت، درندگی، سفاکیت اور فاشزم کے ماحول میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین کا فیصلہ انسانیت کی جیت اور اس مقدس ہستی حسین کے نام کی لاج ہے۔

    ایک سفر کے دوران امام حسینؓ کا گزر ایک ایسے باغ کے پاس سے ہوا جہاں ایک کتا موجود تھا اور وہ پیاس کی شدت سے نڈھال تھا۔باغ میں موجود غلام نے کتے کی حالت زار دیکھی تو اسے پیاس بجھانے کے لیے پانی پیش کیا۔ غلام کی بے زبان پیاسے کتے سے ہمدردی و شفقت سے متاثر ہو کر، حضرت امام حسین نے اس غلام کے اچھے اخلاق کے صلے میں اس کے مالک سے بات کر کے اسے آزاد کروا دیا اور باغ بھی اسی غلام کے نام کروا دیا۔ معصوم جانوروں سے پیار اور رحم دلی ہی نبوی ﷺ راستہ اور حسینی سوچ ہے جبکہ ان معصوم جانوروں پر ظلم کرنے والے یزیدی سوچ اور نظریات کے پیروکار ہیں۔

    اے اللہ معصوم اور بے گناہ کتوں سمیت دیگر جانوروں پر ظلم کرنے والوں کا انجام بھی یزید کے ساتھ کرنا۔ آمین
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین سومرو نے بے گھر کتوں کو زہر دینے، گولی مارنے یا تلف کرنے پر مستقل پابندی عائد کرتے ہوئے سٹریٹ ڈاگ کی آبادی پر قابو پانے کے لیے ٹریپ، اسٹریلائز اور ویکسین اپنانے کی ہدایت کی۔ معزز جج نے جانوروں پر ظلم کی رجسٹری قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔ معزز جج کا کہنا تھا کہ جانوروں پرظلم کی روک تھام کا ایکٹ 1890 پرانا ہو چکا ہے، جانوروں پرظلم کی روک تھام کے ایکٹ میں اصلاحات اور سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔معزز جج کا کہنا تھا کہ کتے جاندار اور حساس مخلوق ہیں، ان سے بے رحمانہ سلوک نہیں کیا جاسکتا، آئین میں جانوروں کے حقوق، ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تحفظ بھی شامل ہے۔

    سپریم کورٹ، پنجاب اور دیگر صوبوں کی عدلیہ سے بھی گزارش ہے کہ قیامت کے روز حقیقی منصف کی عدالت میں سرخرو ہونا چاہتے ہو تو معصوم اور بے گناہ کتوں کی قتل و غارت اور ان پر مظالم کی فوری روک تھام کیلئے سخت احکامات صادر کیے جائیں اگر ایسا کرنے میں تاخیر ہوئی تو اس تاخیر کے نتیجے میں ظلم سہنے اور ناحق قتل ہونے والے کتے روز قیامت قاتل ضلعی انتظامیہ کے ساتھ آپ کو بھی اللہ کے سامنے کھڑا کریں گے۔ تمام پاکستانیوں نے بھی فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے ظالم کا ساتھ دینا ہے یا ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر سیدھے راستے کا انتخاب کرنا ہے۔محبت شفقت اور رحمدلی اللہ کے رسول اور امام حسین کا بتایا ہوا صراط مستقیم ہے جبکہ ظلم و بربریت اور سفاکیت یزیدیوں اور لعنتیوں کا راستہ ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    قصاص زندگی ہے۔
    سورۃ البقرہ (آیت 179) میں ہمارے رب نے فرمایا:
    وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    "اور اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، تاکہ تم ناحق قتل سے بچ سکو۔”
    قصاص ظلم نہیں، رحمت ہے۔ یہ بدلہ نہیں حفاظت ہے۔ جب ایک قاتل جان لے کہ ناحق خون کی قیمت اس کی اپنی جان ہے، تو وہ قتل کرنے سے پہلے کانپ جائے گا۔ یہی وہ خوفِ خدا ہے جو معاشرے کو زندہ رکھتا ہے۔ لیکن آج آج انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔

    دسمبر 2019 بھارہ کہو، اسلام آباد پانچ سالہ معصوم عمر راٹھور کو اغواء کیا گیا، اور سفاکیت کی انتہا کر کے قتل کر دیا گیا۔ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے عمر کے خاندان کے حق میں فیصلہ سنا دیاکہ یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ فنگر پرنٹس ملتے ہیں، ڈی این اے بھی میچ کرتا ہے۔ملزمان خود اقرار کرتے ہیں اور عدالت دو دو بار سزائے موت سناتی ہے۔ پھر 13 مئی کو سپریم کورٹ نے وہ سزائے موت عمر قید میں بدل دی! کوئی ٹھوس وجہ؟ کوئی وضاحت؟ کچھ بھی نہیں!عمر کے والد، مختار احمد راٹھور، ٹوٹے ہوئے لہجے میں پکار رہے ہیں:
    "یہ انصاف کا قتل ہے!”
    وہ چیف جسٹس، وزیرِ اعظم، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے نظر ثانی کی درخواست دائر کرتے ہیں ۔اوریہ بھی کہتے ہیں اگر ان کی آواز نہیں سنی گئی، "اگر انصاف نہ ملا تو میں اپنی فیملی سمیت سپریم کورٹ کے سامنے خود کو آگ لگا لوں گا!” سات سال… سات سال سے ایک باپ، ایک ماں، انصاف کے لیے انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں! اور دوسری طرف وہ وکیل ہیں جو چند پیسوں کے عوض، ایک معصوم بچے کے خون میں لتھڑے ہاتھوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہیں شرم نہیں آتی؟ انہیں عمر کی لاش یاد نہیں آتی؟
    انسانیت اس دن مر جاتی ہے، جس دن ظالم کا وکیل مل جاتا ہے!اب آنکھیں بند کیجیےاپنے دل پر ہاتھ رکھیے اور سوچیے: اگر وہ لاشہ آپ کے اپنے کلیجے کا ٹکڑا ہوتا تو کیا آپ معاف کر پاتے؟
    نہیں! ہرگز نہیں!
    تو پھر خاموش کیوں ہیں؟
    عمر کی آواز بنیے۔

    ہر فیس بک پوسٹ پر، ہر ٹویٹ پر، ہر اسٹیٹس پر لکھیے۔
    Justice For Umer
    یہ لڑائی اب صرف عمر کی نہیں رہی۔ وہ تو جنت کا پھول تھا، واپس چلا گیا۔ یہ لڑائی آپ کے بچے کے لیے ہے، میرے بچے کے لیے ہے. تاکہ کل کو کوئی اور عمر، کسی گھر کے باہر سے اغواء ہو کر اتنی بے دردی سے نہ مسلا جائے۔
    انصاف دو، ورنہ یہ معاشرہ مر جائے گا!

  • رہنمائے حج وعمرہ ،تبصرہ نگار عبدالغفار مجاہد

    رہنمائے حج وعمرہ ،تبصرہ نگار عبدالغفار مجاہد

    اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے بیت اللہ کا حج ہے۔بیت اللہ کی زیارت او رفریضہ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے۔ اس کا منکردائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام کتب حدیث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔حدیث نبوی ﷺ ہے کہ ’’ حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ اور نہیں ‘‘ ۔ مگر یہ اجر وثواب تبھی ہے جب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے اور تمام منہیات سے پرہیز کیا جائے ورنہ انسان حج وعمرہ کے ا جروثواب سے محروم رہے گا ۔ حج وعمرہ ایسی عبادت ہے جس میں انسان بڑی مقدار میں مال بھی صرف کرتا ہے ۔ نقل وحرکت بھی کرتا ہے اور شدید قسم کی جسمانی سعی ومشقت بھی کرتا ہے ۔ اسلئے حج وعمرہ میں یہ بات بے حد ضروری ہے کہ انسان انھیں سنت طریقے کے مطابق بجالائے ۔ ان عبادات کا جتنا اجر وثواب ہے ان کے بجالانے میں احتیاط بھی اسی قدر ضروری ہے ۔ حج وعمرہ کے ثواب میں رسول اللہ ﷺ سے بے شمار احادیث موجود ہیں جن سے ان عبادات کی اہمیت وفضیلت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ حج وعمرہ کیلئے جانے والے اکثر لوگ ان کے بجالانے میں بہت سی غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے ارکان حج وعمرہ کے رائیگاں جانے کا خدشہ رہتا ہے ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر دارالسلام نے ’’ رہنمائے حج وعمرہ ‘‘ کتاب تیار کی ہے ۔ یہ کتاب حجم میں جتنی مختصر ہے موضوع کے اعتبار سے اتنی ہی اہم ہے ۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس میں شامل عنوانات سے کیا جاسکتا ہے ۔مثلاََ : ارکان حج کتنے ہیں ؟ فرائض حج کون کون سے ہیں ؟ اقسام حج کتنے ہیں ؟ مردوں اور عورتوں کے لیے احرام حج کی پابندیاں کون سی ہیں ؟وہ کون سے ایسے کام ہیں جو احرام کی حالت میں کیے جاسکتے ہیں ؟ کوئی شخص احرام کی حالت میں فوت ہوجائے تو اس کی تدفین کیسے کی جائے ؟ میقات پر کیا جائے ؟ مکہ کی طرف روانگی کے تقاضے کیا ہیں ؟ مسجد الحرام میں کیسے داخل ہواجائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ حجر اسود کو کیسے بوسہ دیا جائے ؟ طواف کیسے کیا جائے ؟ مقام ابراہیم پر کیا جائے ؟ صفا ومروہ کی سعی کیسے کی جائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ حلق یعنی ٹنڈ کروانے کے احکامات کیا ہیں ؟ حجر اسود کو کیسے بوسہ دیا جائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ طواف کیسے کیا جائے اور دوران طواف کیا پڑھا جائے ؟مقام ابراہیم پر کیا جائے ؟منیٰ کی طرف روانگی ( آٹھ ذی الحجہ ) کے دن کرنے والے کام اور دعائیں ؟ منیٰ پر پہنچے کے بعد کیا جائے اور کون سی دعائیں پڑھی جائیں ؟ میدان عرفات(9ذی الحجہ ) میں کیا جائے اور کون سی دعائیں پڑھی جائیں ؟ مزدلفہ میںرات کیسے گزاری جائے ، اس کے آداب ، تقاضے اور دعائیں ؟ یوم النحر ( 10ذی الحجہ ) والے دن کیا کیا جائے ؟ ایام تشریق ( 11,12,13ذی الحجہ ) میں کرنے والے ؟ طواف وداع اور اس کی دعائیں ؟ حج اکبر کا کیا مطلب ہے ؟ مسجد نبوی شریف کی زیارت کیسے کی جائے اور اس دوران کیا پڑھاجائے ؟ مسجد قبا اور بقیع قبرستان کی زیارت کرتے وقت کیا پڑھا جائے ؟ حج یا عمرے سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کے معمولات کیا تھے ؟ ۔ ان عنوانات سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب اپنے ایک جامع اور رہنما کتاب ہے ۔ حجم میں بالکل مختصر ہے اسے دوران سفر ساتھ رکھنا آسان بھی ہے ۔کتاب کی قیمت 200روپے ۔ اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ باتصویر ہے جس سے حج وعمرہ کی عبادات بجا لانا بالکل آسان ہوگیا ہے ۔ لہذا اب جبکہ حج مبارک کی تیاریاں جاری ہیں حج پر جانے والے تمام مردو وخواتین کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بے مفید ثابت ہوگا ان شاء اللہ ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ ’’ رہنمائے حج وعمرہ ‘‘ کتاب کے علاوہ ’’ مسنون عمرہ ، مکمل طریقہ ، فضیلت وآداب اور دعائیں ‘‘ کے نام سے ایک اذکار کارڈ بھی دستیاب ہے ۔ یہ کارڈ بھی بہت جامع اور نافع ہے ۔ عمرہ کے خواہشمند احباب کے لیے اس کارڈ کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہوگا ان شاء اللہ ۔

  • ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    سورۃ المائدہ میں ارشادِ ربانی ہے:
    ” اور تم انصاف کے ساتھ قائم رہو، یہ تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے۔” انصاف کو تلاش کرنا بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بنجر زمین سے فصل کی امید رکھنا۔ ہمارا نظامِ انصاف گویا بانجھ ہو چکا ہے جو اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔ انصاف کی تلاش میں انسان منوں مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے اور اس کی نسلیں بھی دہائیاں دیتی رہتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔
    سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    "انصاف کرو، کیونکہ انصاف اللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔”
    عدل و انصاف کے بارے میں اس سے بڑھ کر مثال کیا ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتے ہوئے پکڑی جاتی، تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔”انصاف میں تاخیر انسان کے اندر شدید اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ یہی اضطراب بعض اوقات اسے انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتا ہے۔ احاطۂ عدالت میں ہونے والے تشدد اور قتل و غارت اس کی واضح مثال ہیں۔ جب انصاف بروقت نہ ملے تو لوگ خود ہی انصاف کی مسند پر بیٹھنے لگتے ہیں جو معاشرے میں مزید بگاڑ اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔
    لیکن کیا یہ نظام ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟ نظامِ انصاف کو بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اصلاحات کی جائیں۔ سب سے پہلے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کرنا ہو گا۔ مقدمات کا برسوں تک لٹکے رہنا ظلم کے مترادف ہے۔ اس لیے فوری اور بروقت فیصلوں کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔

    دوسرا، عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرنا ہو گا، چاہے وہ سیاسی ہو یا معاشرتی۔ ہمارے آئینِ پاکستان میں بھی عدلیہ کی آزادی پر زور دیا گیا ہے، تاکہ فیصلے صرف حق اور سچ کی بنیاد پر ہوں۔ عدلیہ غیر جانبدار رہ کر فیصلے دے۔
    جب تک انصاف کے اداروں میں بدعنوانی موجود رہے گی، انصاف کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور، سب ایک ہی ترازو میں تولے جائیں۔ یہی حقیقی عدل ہے۔

    ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو جو راہِ انصاف میں رکاوٹ بنیں اور اقربا پروری یا برادری ازم کو فروغ دیں۔حقیقت یہ ہے کہ انصاف کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جہاں انصاف زندہ ہو، وہاں امن، سکون اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اور جہاں انصاف کمزور پڑ جائے، وہاں ظلم، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ کیونکہ ایک منصفانہ معاشرہ فرد کی اصلاح سے ہی وجود میں آتا ہے۔ آج عمر کے خاندان والے صرف عمر کے انصاف کے لیے دہائی نہیں دے رہے۔ ان کی آہوں میں ہر اس ماں کا درد شامل ہے جس کا کلیجہ یوں چیرا گیا ہر اس باپ کی خاموشی شامل ہے جو اپنے لختِ جگر کا جنازہ اٹھانے پر مجبور ہوا۔ یہ نوحہ ہے ہر اس گھر کا، جہاں بچے ہنستے کھیلتے نکلتے ہیں اور پلک جھپکتے میں اوجھل ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے کفن میں لپٹے معصوم چہرے ہی گھر لوٹتے ہیں۔ شاید ظالموں کو اندازہ نہیں کہ اپنے ہاتھوں سے پلے ہوئے ننھے پھول کا جنازہ اٹھانا کاندھوں پر کتنا بھاری ہوتا ہے اور دل پر کتنا زخم۔یہ کفن میں لپٹے شکایت زدہ چہرے آج بھی سسک سسک کر کہہ رہے ہیں:
    اک پھول تھا میں، جو کھل نہ سکا!!
    اپنی منزل سے مل نہ سکا!
    مجھ کو یوں کچل ڈالا تم نے
    اک پل میں مسل ڈالا تم نے
    روئیں گے بدن کے زخم میرے
    جب روح کے زخم دکھاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    جب تک ہم یہ آواز نہ سنیں گے انصاف کا ترازو سیدھا نہیں ہو گا۔ اور ہر جگہ سے ایک ہی آواز آئے گی ۔
    "عمر کو انصاف دو ۔”

  • سیاسی گلیاروں کا بحران باتیں حسین کی، چلن کوفیوں جیسا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں کا بحران باتیں حسین کی، چلن کوفیوں جیسا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    باتیں جمہوریت کی سیاست مفادات کی
    پاکستانی سیاسی گلیاروں کا المیہ

    سیاسی گلیاروں میں اصولوں کے دعوے، مگر عملی رویے مفادات کے تابع

    تجزیہ شہزاد قریشی

    بقولِ شاعر:
    چلن سب کا ہے کوفیوں جیسا،
    باتیں حسینؓ کی کرتے ہیں”
    آج اگر پاکستان کے سیاسی گلیاروں پر نظر ڈالی جائے تو یہ شعر محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک تلخ سیاسی حقیقت محسوس ہوتا ہے۔ ملک کی سیاست میں اصولوں، اخلاقیات اور قومی مفاد کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، مگر عملی سیاست کا منظر اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ الزامات، کردار کشی، ذاتی دشمنیاں، ویڈیو و آڈیو سکینڈلز اور اقتدار کی بے رحم کشمکش نے سیاست کو قومی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کی جنگ بنا دیا ہے۔

    افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس تمام سیاسی شور شرابے میں نہ جمہوریت مستحکم ہوئی اور نہ ہی سیاسی کلچر میں پختگی آئی۔ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل، قومی معیشت، تعلیم، صحت، خارجہ پالیسی یا ادارہ جاتی اصلاحات پر سنجیدہ مکالمے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست میں الجھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست کا مقصد قوم کی رہنمائی نہیں بلکہ صرف اقتدار تک رسائی رہ گیا ہے۔

    میرا خیال ہے کہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں مؤثر تھنک ٹینک کا شدید فقدان ہے۔ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں سیاسی جماعتوں کے پاس ماہرین، دانشوروں، معیشت دانوں اور پالیسی سازوں پر مشتمل ٹیمیں ہوتی ہیں جو مستقبل کی حکمتِ عملی، قومی مسائل کے حل اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں اکثر فیصلے وقتی سیاسی فائدے، جذباتی نعروں یا شخصیات کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ سیاست میں برداشت کم اور انتشار زیادہ نظر آتا ہے۔ جماعتوں کے اندر جمہوریت کمزور، اختلافِ رائے ناپسندیدہ اور میرٹ اکثر مصلحتوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب سیاسی قیادت اپنے اندر فکری تربیت، پالیسی سازی اور نظریاتی استحکام پیدا نہیں کرے گی تو جمہوریت محض انتخابات تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
    پاکستان کو آج الزام تراشی نہیں بلکہ فکری سیاست کی ضرورت ہے؛ ایسی سیاست جو قوم کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرے، نوجوانوں کو مایوسی نہیں بلکہ امید دے، اور اقتدار کے کھیل سے نکل کر قومی تعمیر کا راستہ اختیار کرے۔ ورنہ “باتیں حسینؓ کی” اور “چلن کوفیوں جیسا” والا طعنہ ہمارے سیاسی رویّوں پر مسلسل چسپاں رہے گا۔

  • ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر:  بینا علی

    ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر: بینا علی

    شہرِ اقتدار میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہونے کو ہے، مگر میرا دل آج بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہےاُس شہرِ رونقاں میں جسے میں آنکھوں میں نمی اور دل پر بوجھ لیے پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ شہر بدل لینے سے شاید یادوں کا تعاقب بھی چھوٹ جائے گا مگر یادیں تو سایوں کی مانند ہوتی ہیں؛ انسان جہاں بھی جائے وہ خاموشی سے اس کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ رات کی تنہائی میں جاگتی ہیں۔ میں اپنے ماضی کی کچھ اذیت ناک یادوں سے بچنے، خود کو گمنام کرنے اور ہجوم میں کھو جانے کی تمنا لیے اس اجنبی شہر میں آئی تھی۔ سوچا تھا کہ فاصلے شاید دل کے زخموں پر وقت کا مرہم رکھ دیں گے کہ نئی گلیاں، نئے چہرے، نئی خاموشیاں میرے اندر کے طوفان کو تھما دیں گی۔

    مگر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔یہاں آ کر احساس ہوا کہ بعض رشتے زمین کے فاصلے نہیں مانتے وہ روح کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں اور روح کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جس گھر میں نے خود کو گوشہ نشین کیا، اس کی مالکِ مکان سے پہلی ہی ملاقات میرے لیے غیر متوقع اور بے حد جذباتی ثابت ہوئی۔

    انہیں دیکھتے ہی دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ سانس اٹک گئی، آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک پردہ ہٹایا ہو اور میری مرحوم والدہ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی ہوں وہی نرمی، وہی اپنائیت، وہی بے لوث محبت ۔ان کا آہستہ آہستہ چلنا، بات کرتے ہوئے چہرے کے بدلتے تاثرات، بیٹھنے کا وہی سلیقہ سب کچھ امی جیسا۔

    حتیٰ کہ وہی بیماریاں، وہی احتیاطیں، وہی جسمانی کمزوری، اور اس کے باوجود دوسروں کے لیے وہی بےچین فکر مندی۔ گویا اللہ نے ایک بار پھر میری ماں کا سایہ کسی اور روپ میں میرے سر پر رکھ دیا ہو۔اور پھر ان کی محبت ،میں دروازے تک چھوڑنے جاتی وہ چند قدم واپس جاتیں، مگر دل نہ مانتا تو دوبارہ پلٹ آتیں۔

    پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دیتیں، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وہی سوال کرتیں جو میری ماں کی زبان سے بارہا سنا تھا:
    "بیٹی کچھ کھا لیا کرو،اپنا خیال رکھا کرو۔یہ چند سادہ سے الفاظ سنتے ہی دل کے بند ٹوٹنے لگتے ہیں۔ آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں اور ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں پھر سے اپنی ماں کے آغوشِ محبت میں لوٹ آئی ہوں ۔وہی تحفظ، وہی دعا، وہی بے لوث اپنائیت جس میں دنیا کے سارے غم پگھل جاتے ہیں۔تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے خوبصورت، سب سے نرم مظہر ہے۔

    ماں کی محبت نہ فاصلوں کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ محبت کا کوئی نہ کوئی روپ دھارے سامنے ہوتی ہے۔ مائیں جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں۔ نہ شہر ان کی محبت کو قید کر سکتے ہیں، نہ سمندر ان کی شفقت کو دور کر سکتے ہیں۔ انسان چاہے اجنبی دیس میں ہو یا اپنے ہی وطن میں، ماں کی محبت کسی نہ کسی صورت، کسی نہ کسی چہرے میں، اسے ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔شاید کائنات نے مجھے یہ احساس دلانے کے لیے اس خاتون سے ملوایا کہ:
    "بیٹی ماں کبھی بچھڑتی نہیں۔

    وہ اگر اس دنیا سے رخصت بھی ہو جائے، تو اپنی دعا، اپنی محبت اور اپنی شفقت کسی نہ کسی چہرے میں، کسی نہ کسی لمس میں تمہارے پاس بھیج دیتی ہے۔”آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ماں کو کھونا دراصل اسے مکمل طور پر کھونا نہیں ہوتا۔ وہ دل کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے، سجدوں کی دعاؤں میں بولتی ہے، اور بعض مہربان چہروں کے روپ میں ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ ماں واقعی ایک ایسی ہستی ہے جو مر کر بھی نہیں مرتی۔وہ زندگی کے ہر موڑ پر کسی دعا کی گونج، کسی ہاتھ کے لمس، کسی آواز کی نرمی، یا کسی شفقت بھرے سوال کی صورت میں اچانک سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور دل کو یہ یقین دلا جاتی ہے کہ:
    "میں کہیں نہیں گئی، بیٹی میں آج بھی تمہارے ساتھ ہوں۔ میرے دعا کے ہاتھ ہمیشہ تمہارے سر پر ہیں۔”

  • پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ اور ایک نسل کا مستقبل داؤ پر،تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ اور ایک نسل کا مستقبل داؤ پر،تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    مئی 2026 کے آغازمیں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارے UNICEF نے مشترکہ طور پر ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی جس نے طبی ماہرین، ماحولیاتی ماہرین اور (بظاہر)پالیسی سازوں کے(بھی) ہوش اڑا دیے۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، کوئٹہ اور ہری پور سمیت سات بڑے شہروں میں ایک سے تین سال کی عمر کے دو ہزار سے زائد بچوں کے خون کے نمونے لیے گئے،تقریبا چالیس فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار خطرناک حد سے زیادہ تھی۔

    یعنی پاکستان کے صنعتی شہروں میں ہر دس میں سے چار بچوں کے خون میں ایک ایسی زہریلی دھات جو بغیرکسی علامت کے ان کے دماغ، اعصاب،خون اور ہڈیوں میں جمع ہورہی ہے۔سب سے خطرناک اعداد و شمار ہری پور کے صنعتی علاقے حطار سے سامنے آئے جہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسہ پایا گیا۔یہ ایسی شرح ہے جو صرف پاکستان نہیں بلکہ جو عالمی سطح پر بھی بدترین شرح ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح محض ایک فیصد رہی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صنعتی آلودگی بچوں کی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

    لیڈ یعنی سیسہ ایک بھاری دھات ہے جو زمین میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ صدیوں سے یہ پائپوں، رنگوں، برتنوں، ہتھیاروں اور صنعتی مصنوعات میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک جب اس کے انسانی صحت پر تباہ کن اثرات سامنے آئے تو مغربی ممالک نے اس پر سخت پابندیاں عائد کر دیں تھیں پٹرول، رنگ اور پانی کے پائپوں سے اسے ہٹا دیا گیا۔

    مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ دھات آج بھی مختلف شکلوں میں ماحول کا حصہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے واضح کہا ہے کہ ‘خون میں سیسے کی کوئی بھی محفوظ مقدار نہیں ہوتی’۔ یعنی اس کی ذرہ برابر موجودگی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں کے لیے۔پاکستان کے صنعتی علاقوں میں گاڑیوں، جنریٹرز اور یو پی ایس کی پرانی بیٹریاں چھوٹے غیر رجسٹرڈ یونٹوں میں توڑی اور پگھلائی جاتی ہیں۔ اس عمل کے دوران سیسے کے باریک ذرات پانی اور ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں،ایک اور بڑی وجہ جسے ہم لوگ کم علمی کی وجہ سے مفید سمجھتے آرہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں صدیوں پرانی روایت کے تحت نومولود بچوں اور بڑوں کو آنکھوں میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بعض روایتی سرمے میں سیسے کی خاطر خواہ مقدار پائی جاتی ہے۔ آنکھ کی اندرونی جھلی سے یہ براہ راست خون میں جذب ہو جاتا ہے، اور آنکھ سے ناک کی نالی کے ذریعے نگل بھی لیا جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہ ایک انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

    سیسے کی سب سے بڑی سفاکی یہ ہے کہ یہ خاموشی سے نقصان پہنچاتا ہے۔ کوئی بخار نہیں، کوئی درد نہیں، کوئی فوری علامت نہیں۔ والدین دیکھتے ہیں کہ بچہ معمول کے مطابق ہنستا کھیلتا ہے، مگر اندر ہی اندر اس کا دماغ، اس کا اعصابی نظام آہستہ آہستہ متاثر ہوتا رہتا ہے۔ مگر سیسہ ایک نیوروٹاکسن ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو گہرا نقصان پہنچاتا ہے۔ IQ میں کمی، یادداشت کا کمزور ہونا، سیکھنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا اور توجہ کی کمی جیسے اثرات بعد میں تعلیمی کارکردگی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔WHO کے مطابق سیسہ طویل مدت میں گردوں، دل اور دماغ کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے، اور یہ ایسا نقصان ہے جو اکثر ناقابل علاج ہوتا ہے۔

    دنیا بھر میں تقریبا 80 کروڑ بچے سیسے کی آلودگی سے متاثر ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد جنوبی ایشیا میں رہتی ہے۔ مگر پاکستان کا معاملہ خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ یہاں اس مسئلے کے متعدد ذرائع بیک وقت موجود ہیں، تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کاری، غیر رسمی ری سائیکلنگ، پرانے بنیادی ڈھانچے، کمزور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اس سے بھی بڑھ کر شعور کا فقدان یہاں سب سے بڑا دشمن ہے۔

  • اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی،تحریر:ملک سلمان

    اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی،تحریر:ملک سلمان

    اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی، کتے مارنے کی کمائی اور بے بس عدلیہ،جھاڑو سے پیسے اکٹھا کرتا ستھرا پنجاب

    وزیراعلی نوبل انعام لے سکتی تھیں لیکن نااہل بیوروکریسی کی وجہ سے انہیں بد دعائیں مل رہی ہیں۔ہر ضلع میں پبلک ویلفیئر فنڈز سمیت دیگر مدات سے رقم نکال کر روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے کتے مارنے پر لگائے جا رہے ہیں مجموعی طور پر اربوں روپے کتے مارنے پر اجاڑے جا چکے ہیں لیکن ویکسینیشن کے لیے پیسے نہیں ؟سینٹری ورکرز اور درجہ چہارم کے ملازمین سمیت پرائیویٹ افراد کو کتے مارنے پر لگا دیا گیا، ایک ہزار سے لے کر دو ہزار تک فی کتا پیسے چارج کیے جا رہے ہیں جب کتے مارنے پر پیسے ملیں گے تو قاتل گھروں میں گھس کر بھی زہر دے دیں گے۔ اس کتا مار مہم میں بھی بیوروکریسی اربوں روپے ڈکار رہی ہے۔
    کرپشن میں غرق افسران، صرف پیسہ لوٹنے کے لیے وحشی درندے بن گئے ہو، ظالمو، سفاک قاتلو یہی پیسہ تم ویکسینیشن اور شیلٹر ہوم کی کرپشن سے بھی کما سکتے تھے۔ ساری گیم تو پیسے کی ہے ڈی سیز کو خدشہ تھا کہ Strychnine زہر کی طرح ویکسینیشن میں بھی سینٹرل پرچیز والے کما جائیں گے اور ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ ریونیو میں تھوڑا پیسہ کما رہے ہو جو ان معصوموں کو قتل کر کے نوچ رہے ہو، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کتنا پیسہ چاہیے تمہیں، چھوٹی سے چھوٹی تحصیل اور ضلع میں بھی کچھ نہ کر کے بھی "آٹو سیٹ” رقم اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ دنوں میں امیر ہو جاتے ہو، ضلعی جوڈشری کو مفلوج کر کے اے ڈی سی آر کو فائنل اتھارٹی بنانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ "سپیڈ منی” ریٹ 20 فیصد سے لے کر 50 فیصد تک چل رہا ہے۔

    اے ڈی سی آر کے منہ کھل گئے ہیں فوری کیس کا حل چاہتے ہو تو اتنے فیصد لاؤ، ساتھ دھمکاتے بھی ہیں کہ یاد رکھو میرا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہے۔

    میڈیا پر فخر سے ڈرامہ کرتے ہیں کہ ایک ہفتے میں اتنے فیصلے کیے جبکہ حقیقت میں کیسز کے فوری حل کے پیچھے "سپیڈ منی” کا فگر اتنا بڑا ہے کہ لوکل کیلکولیٹر پر پورا نہیں آ سکتا اہم ضلع کے اے ڈی سی آر کا ڈائلاگ مشہور ہو چکا ہے کہ یہاں کام کروانا ہے تو حصہ دینا ہوگا پچھلا ایماندار تھا تو اس نے دو سال میں کسی کا کام بھی نہیں کیا۔

    اے ڈی سی آر کو عدالتی اختیارات دینا بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ غریب کی کمائی کا 20 سے 50 فیصد تو "سپیڈ منی” میں اے ڈی سی آر لے جاتا ہے کمائی کا یہ عالم ہے کہ پنجاب کے تین بڑے اضلاع کے اے ڈی سی آر مل کر پی آئی اے خرید سکتے ہیں۔ اختیارات میں اضافے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اور ڈپٹی کمشنر معزز شہریوں سے انتہائی بدتمیزی اور حقارت سے بات کرتے ہیں۔
    ایسے میں چند لاکھ کی کرپشن کرنے والے اے ڈی سی جی کو مال بنانے کے لیے کچھ تو چاہیے تھا ایم سی ایل والے بھی ریڑی اور تجاوزات سے پیسہ اکٹھا کر کے تھک گئے تھے اس لیے کتے مارنے کی کمائی کا نیا راستہ آسان منزل لگا، ویسے ستھرا پنجاب والے صفائی کریں نہ کریں لیکن جتنا مال بنا رہے ہیں انہوں نے جھاڑو کے ساتھ پیسہ اکٹھا کرنے والی مثال سچ کر دکھائی تفصیلات اگلے کالم میں۔

    سارے افسران کرپٹ اور بدتمیز نہیں ہوتے بہت سارے اچھے افسران بھی ہیں چند کو میں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں جو واقعی دیانت اور اخلاقی اقدار میں قابل تقلید ہیں۔

    عدالتی احکامات کے باوجود سرعام کتوں کے قتل پر توہین عدالت کی کاروائی کیوں نہیں ہو رہی ؟
    روز قیامت ان معصوم و مقتول کتوں کی قاتل کے طور پر صرف ڈپٹی کمشنر اور میونسپل کمیٹی والے ہی نہیں ہوں گے بلکہ انصاف میں تاخیر کرنے والے ججز ظالم کا ساتھ دینے اور حمایت کرنے والے دیگر افسران و افراد شدید عذاب میں جبکہ اس ظلم کے خلاف خاموش رہنے والے بھی کسی حد تک اللہ کی پکڑ میں ضرور آئیں گے۔
    اگر معصوم کتوں کو قتل کرنے کی بجائے اینیمل قوانین کے مطابق ویکسینیشن کر کے سوسائٹی کا حصہ بنایا جاتا، پنجاب میں "مریم کے مہمان” کے نام سے شیلٹر ہوم بنائے جاتے جہاں پر ان بے گھروں کو گھر اور کھانا ملتا تو آج نہ صرف مریم نواز کو کروڑوں دعائیں ملتی بلکہ انہیں اس نیک کام کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جانا تھا، کتوں اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیمیں وزیراعلی کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے جانور دوست پالیسی پر مریم نواز زندہ باد کے بینرز لگاتیں۔

    بے زبان و بے گھر جانوروں کی آواز اور سہارا بننے پر مریم نواز کو یقینی طور پر نوبل انعام ملنا تھا، دنیاوی عزت و اکرام کے ساتھ ساتھ اطمینان قلب اور اللہ کا خصوصی کرم بھی شامل حال ہونا تھا لیکن بدقسمتی سے بزدار زدہ بیوروکریسی نے وزیراعلی کو ہیرو بنانے کی بجائے معصوم کتوں کی ملزم بنا کر رکھ دیا۔ ڈی سی سرعام کہہ رہے ہیں کہ ہم وزیر اعلی کے حکم پر کتے مار رہے ہیں۔ میڈم وزیراعلی جانوروں پر ظلم بند نہ کیا گیا تو ان بے گناہوں کی سسکیوں سے دنیاوی اور عارضی بادشاہت کا تخت سرکنے لگے گا، ابھی بھی وقت ہے قتل عام کی بجائے ان کو ویکسینیشن کریں، سایہ دیں، روٹی کھلائیں اور ان کی دعائیں لیں مظلوموں کی آہ اور دعا دونوں ہی عرش سے فرش اور فرش عرش پر پہنچا دیتی ہیں۔

    جناب فیلڈ مارشل قوم پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو آپ کا ادارہ محافظ بن کر سامنے آتا ہے آج ان بے زبانوں کو سہارے اور تحفظ کی ضرورت ہے ان معصوم کتوں کا سہارا بنیں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں اس سرزمین پاک کو بے گناہ کتوں کا مقتل نہیں مسکن بنائیں۔

  • پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    کچھ سانحے اور المیے ایسے ہوتے ہیں جن کا بظاہر ہم سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا مگر وہ دل کو اس شدت سے جھنجھوڑ دیتے ہیں کہ خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔ اگر انسان اپنے احساسات کو لفظوں میں نہ ڈھالے تو اندر ہی اندر ایک گھٹن، ایک کرب، ایک بے بسی مسلسل روح کو زخمی کرتی رہتی ہے۔عمر مختار راٹھور سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں۔ میں نے اسے کبھی دیکھا نہیں، اس کی آواز کبھی نہیں سنی مگر اس معصوم بچے کی تصویر اور اس کے ساتھ ہونے والی درندگی نے دل کے نہاں خانوں میں ایسا درد جگایا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سانحہ میرے اپنے گھر کے آنگن میں پیش آیا ہو۔

    پانچ برس پہلے جب میرے والدین کا سایہ سر سے اٹھا تو مجھے لگتا تھا کہ شاید دنیا میں میرے غم سے بڑا کوئی غم نہیں۔ والدین کی جدائی ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتا ہے، مگر اس کا نشان ہمیشہ دل پر باقی رہتا ہے۔ لیکن عمر کے واقعے نے یہ احساس دلایا کہ کچھ دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کے ذاتی غموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میں نے ایک ہفتے تک مختلف ذرائع سے اس مقدمے کی تفصیلات پڑھیں۔ ہر نئی خبر کے ساتھ دل مزید بوجھل ہوتا گیا، اور روح سوال کرتی رہی کہ آخر ایک معصوم بچہ کس جرم کی سزا بھگتا رہا؟

    کل ہی میں نے دو آدم خور بھائیوں کے بارے میں ایک تحریر پڑھی۔ وہ قبروں سے مردے نکالتے، ان کا گوشت پکاتے اور کھاتے تھے۔ چونکہ آئین میں "مردے کا گوشت کھانے” کے حوالے سے کوئی واضح سزا موجود نہ تھی اس لیے انہیں صرف قبروں کی بے حرمتی کے جرم میں چند ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ سزا پوری ہونے کے بعد وہ دوبارہ اسی بھیانک عمل میں مصروف ہو گئے۔یہ مثال ذہن میں ایک سوال پیدا کرتی ہے: کیا فاضل جج صاحبان واقعی یہ یقین رکھتے ہیں کہ جو درندے ایک معصوم بچے پر ظلم کی انتہا کر سکتے ہیں وہ رہائی کے بعد معاشرے کے لیے خطرہ نہیں رہیں گے؟ کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ کل کسی اور ماں کی گود اجڑنے سے محفوظ رہے گی؟

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ محض مجرم نہیں ہوتے بلکہ معاشرے کے ناسور بن جاتے ہیں۔ ناسور اگر وقت پر نہ کاٹا جائے تو پورے جسم کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر ایسے سفاک کرداروں کو سخت ترین سزا نہ دی جائے تو معاشرہ عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔آج عمر کی فیملی صرف اپنے بیٹے کے لیے انصاف نہیں مانگ رہی بلکہ میرے اور آپ کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ لڑ رہی ہے۔ عمر تو جنت کا ایک معصوم پھول تھا جو اپنے رب کے پاس لوٹ گیا۔ مگر اس کے والدین کے آنسو، اس کی ماں کی سسکیاں، اور اس کے گھر کی خاموشی ہم سب سے یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا ہمارے بچے واقعی محفوظ ہیں؟ عمر کو انصاف دلانا دراصل اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ ایک خاندان کی جنگ نہیں، ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید کسی اور ماں کی گود اجڑ جائے، کسی اور باپ کی امیدوں کا چراغ بجھ جائے، اور کسی اور گھر کی ہنسی ہمیشہ کے لیے ماتم میں بدل جائے۔ اسی لیے آج اسلام آباد پریس کلب میں عمر کی فیملی پریس کانفرنس کر رہی ہے تاکہ اس معصوم بچے کے لیے انصاف کی آواز بلند کی جا سکے۔میری تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، اہلِ قلم، اور دردِ دل رکھنے والے انسانوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ آج اپنی ایک پوسٹ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ضرور شیئر کریں: "عمرکوانصاف دو۔”آئیے، ہم سب مل کر آواز اٹھائیں تاکہ قانون کی گرفت اتنی مضبوط ہو کہ کوئی درندہ دوبارہ کسی معصوم کلی کو مسلنے کی جرات نہ کر سکے اور ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ، پُرامن اور باوقار معاشرے میں سانس لے سکیں۔