Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان عالمی بحرانوں سے نکل آیا،  سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کی ضرورت ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان عالمی بحرانوں سے نکل آیا، سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کی ضرورت ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عسکری و ریاستی اداروں نے ملک کو سنبھالا، اب سیاسی قیادت عوامی خدمت کا امتحان دے

    وی آئی پی سیاست نہیں، عوامی خدمت وقت کی ضرورت — آنے والے انتخابات سے قبل جماعتوں کو خود کو بدلنا ہوگا

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اندرونی استحکام، سیاسی سنجیدگی اور قومی یکجہتی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحران، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستان نے جس تدبر اور حکمت عملی کے ساتھ اپنے مفادات کا دفاع کیا، اس میں بلاشبہ عسکری قیادت، سفارتی اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کا اجتماعی کردار نمایاں رہا۔ ایک مربوط ٹیم ورک کے ذریعے نہ صرف پاکستان کو کئی بین الاقوامی چیلنجز سے نکالا گیا بلکہ دنیا میں پاکستان کا تشخص ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا۔ آج پاکستان بعض اہم عالمی معاملات میں ثالثی اور مصالحتی کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم دوسری جانب ملک کی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ آنے والے انتخابات کی تیاری صرف جلسوں، نعروں اور میڈیا مہمات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی جماعتوں کی حقیقی تنظیم سازی پر توجہ دیں۔ سیاسی جماعتیں کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہیں اور اگر انہی کے اندر انتشار، اقرباپروری، مفاداتی سیاست اور غیر سنجیدہ عناصر شامل ہوں گے تو جمہوریت کا اصل حسن متاثر ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اندر موجود ایسے عناصر کا احتساب کریں جو جماعتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان مخلص، باصلاحیت اور دیانت دار افراد کو آگے لائیں جو واقعی عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں وی آئی پی اور پروٹوکول کلچر نے عوامی رابطے کو کمزور کیا ہے۔ سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی نمائندگی صرف عہدوں، تصاویر اور بیانات سے نہیں بلکہ میدان میں موجود رہنے، عوام کے مسائل سننے اور عملی خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔ جو لوگ خود کو جماعتوں کے مرکزی رہنما کہتے ہیں، انہیں اپنے کارکنوں اور زمینی حقائق سے رابطہ مضبوط کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت ان کے کارکن اور عوامی اعتماد ہوتے ہیں، نہ کہ محض ٹی وی مباحث یا سوشل میڈیا مہمات۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت یا غیر مقبولیت کے بحث سے بالاتر ہو کر قومی سیاست کو سنجیدگی، نظریاتی وابستگی اور خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ عوام اب صرف نعروں سے متاثر نہیں ہوں گے بلکہ وہ کارکردگی، کردار اور خدمت کو ووٹ دیں گے۔ جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ اقتدار کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ ذاتی تشہیر یا مفادات کا۔ اگر سیاسی جماعتیں واقعی مستقبل کی سیاست میں اپنا مقام مضبوط کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اپنی تنظیموں کو فعال، نظریاتی اور عوام دوست بنانا ہوگا۔ یہی مضبوط جمہوریت اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔

  • چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وقت کے وسیع دامن میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جو محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک خوشگوار لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی قیادت ایک ایسے صاحبِ علم، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان کے سپرد کی گئی، جنہیں میں نہ صرف ایک وائس چانسلر کے طور پر بلکہ ایک دیرینہ رفیق، ہم خیال ساتھی اور مخلص دوست کے طور پر جانتا ہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر تقرری بلاشبہ ایک ادارہ جاتی فیصلے سے کہیں بڑھ کر ایک فکری، علمی اور اخلاقی سمت کا تعین ہے—ایک ایسا فیصلہ جو آنے والے برسوں میں اس جامعہ کی شناخت کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرے گا۔

    زندگی کے سفر میں بہت سے لوگ ملتے ہیں، کچھ محض راہگزر کے ساتھی ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی انسان کی سوچ، فکر اور طرزِ عمل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید اُنہی شخصیات میں سے ہیں جن کے ساتھ گزرا ہوا وقت آج بھی ذہن کے دریچوں میں تازہ ہے۔جامع زرعیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر طارق جاوید ،ڈاکٹرمحسن رضا اور راقم شاہد نسیم یک جان تین قالب تھے۔چار دہائیوں سے ذیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اور خود غرض زمانے کے نشیب وفراز نے ہماری دوستی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ ہم آج بھی ایک دوسرے کے لئے ویسے ہی ہیں ۔ڈاکٹر طارق جاوید کی شخصیت میں جو سادگی ہے، وہ بناوٹ سے پاک ہے؛ جو محنت ہے، وہ دکھاوے سے عاری ہے؛ اور جو قابلیت ہے، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہی اوصاف انہیں ایک عام استاد سے ایک غیر معمولی قائد میں ڈھالتے ہیں۔

    تعلیم کے میدان میں اصل کامیابی صرف ڈگریوں کے حصول یا عہدوں کے ارتقاء سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ انسان اپنے علم کو کس حد تک دوسروں کے لیے روشنی بنا پاتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی زندگی اسی اصول کی عملی تصویر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ علم کو بانٹنے، طلبہ کو آگے بڑھانے اور تحقیق کے نئے دروازے کھولنے کو اپنا نصب العین بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ اس عظیم ذمہ داری پر فائز ہوئے ہیں تو دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منصب ان کے لیے نہیں بلکہ وہ اس منصب کے لیے بنے ہیں۔

    چولستان یونیورسٹی، جو پہلے ہی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے، اب ایک ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو نہ صرف ادارے کی علمی ضروریات کو سمجھتا ہے بلکہ دورِ حاضر کے تقاضوں سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ آج کا زمانہ صرف روایتی تعلیم کا نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور عملی مہارت کا زمانہ ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی سوچ میں یہی ہم آہنگی موجود ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک یونیورسٹی کی ترقی صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اسے معاشرے، صنعت اور معیشت کے ساتھ جڑنا ہوگا۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً تحقیق کو تجارتی مواقع میں بدلنے، طلبہ کو عملی میدان کے لیے تیار کرنے اور قومی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوگی۔

    مجھے بخوبی یاد ہے کہ بطور ساتھی انہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں اعتماد اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ وہ مسائل کو رکاوٹ نہیں بلکہ مواقع سمجھتے ہیں۔ یہی رویہ آج ایک وائس چانسلر کے طور پر ان کی سب سے بڑی طاقت بنے گا۔ کیونکہ اداروں کی ترقی صرف وسائل سے نہیں بلکہ وژن، عزم اور قیادت کی مضبوطی سے ہوتی ہے—اور یہ تینوں خوبیاں ان کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

    ایک سچا معلم ہمیشہ اپنے شاگردوں کے مستقبل کو اپنے حال پر ترجیح دیتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید بھی اُن اساتذہ میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی توانائیاں صرف اپنی ذات کی ترقی پر صرف نہیں کیں بلکہ اپنے طلبہ کو بھی کامیابی کی راہوں پر گامزن کیا۔ ان کے شاگرد آج مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، اور یہ ان کی تربیت کا عملی ثبوت ہے۔ ایسے میں جب وہ ایک بڑے ادارے کی قیادت سنبھالتے ہیں تو یہ توقع بجا ہے کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو روشن کریں گے۔

    چولستان کے وسیع میدان، جو کبھی صرف ریگستان کی پہچان تھے، آج علم و تحقیق کے نئے افق بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس خطے میں تعلیم کا فروغ نہ صرف مقامی سطح پر ترقی لائے گا بلکہ قومی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی تقرری اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی ادارہ بن سکتی ہے۔

    یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کے دور میں تعلیمی اداروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے—وسائل کی کمی، معیارِ تعلیم کا دباؤ، اور عالمی سطح پر مقابلہ۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب قیادت مضبوط ہو تو مشکلات راستہ نہیں روکتی بلکہ راستے بناتی ہیں۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی پیشہ ورانہ بصیرت اور انتظامی صلاحیتیں ان چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد ہیں بلکہ ایک مدبر منتظم بھی ہیں، اور یہی امتزاج کسی بھی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

    بطور دوست، ان کی کامیابی میرے لیے ذاتی خوشی کا باعث ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک اجتماعی مسرت ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک ایسے رہنما کے سپرد ہوا ہے جو دیانت، محنت اور قابلیت کا پیکر ہے۔ میں اور ڈاکٹر محسن رضا دل کی گہرائیوں سے انہیں اس عظیم منصب پر فائز ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، ہمت اور حکمت عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھا سکیں۔
    مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں چولستان یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرے گی بلکہ تحقیق، جدت اور معاشی ترقی کے نئے باب بھی رقم کرے گی۔ ان کا وژن، ان کی محنت اور ان کی قیادت اس ادارے کو ایک نئی شناخت دے گی—ایک ایسی شناخت جو قومی اور عالمی سطح پر باعثِ فخر ہوگی۔

    آخر میں، میں اپنے اس عزیز دوست، قابل ساتھی نو منتخب وائس چانسلر کو یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ کی یہ کامیابی،تعیناتی آپ کی محنت کا ثمر توہے ہی۔۔۔لیکن آج خوشی کے اس موقع پرمجھے آپ کے شریف النفس والد محترم یاد آرہے ہیں جو جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ایڈمن آفس کے قابل رشک ملازم تھے ،جنہوں نے کبھی اپنی خدمات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔۔۔۔۔ میرا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ ان ہی کی دعاؤں کی بدولت یہ ممکن ہوا ہے اور آپ کا مستقبل اس سے بھی زیادہ روشن ہے۔ آپ کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً ترقی کی نئی منازل طے کرے گی، اور آپ کا نام ان رہنماؤں میں شامل ہوگا جنہوں نے نہ صرف اداروں کو سنوارا بلکہ قوموں کے مستقبل کو بھی روشن کیا۔

    اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور آپ کے علم، بصیرت اور قیادت کو اس ملک و قوم کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین۔

  • مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    مزدور کے لیے مزدور ہونا اتنا تلخ احساس نہیں جتنا مجبور ہونا ہے مہنگائی بے روزگاری وہ سیاسی دہشت گردی ہے جو ایک مزدور کو مجبور بنا کر اُسی کے ہاتھوں مروا دیتی ہے اس بے حسی و بے یارو مددگار دور میں جی کر زندگی پہ احسان کرنے والے مزدور کے ہاتھوں کے چھالے ایک عبادت گزار کے ماتھے پر بنے سجدوں کے نشان سے زیادہ خدا کو محبوب ہیں۔

    حقیقی مزدور وہ ہے جو محنت میں دیانتدار ہو مزدور کی اُجرت کے بارے میں ایک حدیث بہت بیان کی جاتی ہے کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو اس حدیث کی حقیقی وضاحت سے آشنا ہونا ہی ایک حقیقی مزدور کی پہچان کرواتا ہے یعنی مزدوری اس ایمانداری سے کی جائے کہ پسینے سے شرابور ہو جائے جو مزدوری کے ساتھ مخلص نہیں وہ محنت چور ہے اُس کی اُجرت برکت سے محروم ہے سب سے بہترین کمائی انسانی ہاتھوں کی محنت ہے مزدور حادثے کا شکار تو ہو سکتا ہے مگر بیماری کا نہیں۔مزدوری کا جسم ورزش کا محتاج نہیں ہوتا۔مزدوری انبیاء اکرام کا پیشہ رہا ہے۔حضرت سلیمان ؑ کو خدا نے زمین کی ہر مخلوق پر حکومت عطا کی تھی مگر وہ اپنا گزارا ٹوکریاں بنانے کی مزدوری سے کیا کرتے تھے۔حضرت داود ؑ نے خدا سے مزدوری مانگ کر لی تھی اُن کے ہاتھوں میں لوہا موم کی طرح نرم ہو جایا کرتا وہ جنگی لباس زرا بناتے گویا بکریاں اونٹ چرانے سمیت ہر قسم کی مزدوری خدا کے محبوب بندوں کا پیشہ رہی وہ پیشہ جو خدا کی دوستی پر فائز کرتا ہے مزدور مزدوری سے نہیں حکومت کی طرف سے پیدا کیے گئے سخت حالات کی مجبوری سے مارا جاتا ہے۔روز کمانا،روز کھانا، مزدور ڈے کی چھٹی کے دن بھی کام پر لا کھڑا کرتا ہے اس دن چھٹی کی بجائے اُجرت دوگنی دے کر مزدور ں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

    میں نے ایسے انصاف پسند مزدور بھی دیکھے ہیں جو اپنی روٹی ساتھ لیکر کام پہ جاتے ہیں مزدور کی روٹی جواس کی ہتھیلی کی چنگیر پر رکھی ہے اس کے اوپر ایک پیاز ہوتا ہے تازہ پیاز وٹامن اے بی اور سی کا مجموعہ ہوتا ہے کسی اور غذا میں یہ تینوں وٹامن یکجا نہیں پائے جاتے پیاز مزدور کی مادری خوراک ہے۔

    مزدور کسی بھی ریاست کے حسن سلوک کا خاص مستحق طبقہ ہے مزدوروں کی تعداد اُس ملک میں سب سے زیادہ ہوتی ہے جہاں عام عوام کے لیے ماہر و قابل احباب کے زیرسایہ تعلیم و تربیت کے معیاری فری انتظامات نہ ہوں اور اگر ہوں تو وہ اتنے مہنگے ہوں کہ ایک مزدور باآسانی اپنے بچوں کو پرائیویٹ طور پر ترقی کے مقام پر نہ پہنچا سکے۔ترقی یافتہ ممالک میں مزدور بھی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ان کی یومیہ اُجرت اتنی پرکشش ہوتی ہے کہ انہیں مزدوری احساس کمتری کی نظر سے دیکھا جانے والا پیشہ نہیں لگتا۔حقوق کی فراوانی میں باوقار زندگی گزارنے والے مزدوری پیشے میں رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو شاندار مستقبل سے ہمکنار کر سکتے ہیں ہمارے ہاں انسانی حقوق کے فقدان نے مزدور کو صلہ رحمی کا مستحق بنا کے رکھا ہوا ہے کسی بھی دولت یافتہ کاروباری شخص کی ترقی کے پیچھے مزدورں کی محنت کا ہاتھ ہوتا ہے۔

    مزدور کے حالات زندگی کی عکاسی ایک دردناک کیفیت ہے جیسے بیان کرتے قلم بھی اشک بار ہو جاتا ہے مگر احساس مزدور اجاگر کرنے کے لیے اس کرب سے گزرنا بہت ضروری ہے تاکہ صاحب اختیار لوگ کی رُوحوں کو جھنجھوڑا جا سکے مزدور اور مجبور ایک ہی تصویر کے دورُخ ہیں وہ مزدور ہی ہوتا ہے جو بھیک میں ملے پانی کو ٹھکرا کر صبر کے گھونٹ پی کر سفید پوشی کی لاج رکھتا ہے بھٹے پر مزدوری کرتی ماں کو دیکھ کر اس کا بچہ اپنے نصیب کو اس لیے کوستا ہے کہ وہ اپنی جنت کو دھوپ میں جلتا دیکھ رہا ہوتا ہے اس مزدور ماں کے احساس و جذبات کی قیمت کاغذ کے نوٹ ادا نہیں کر سکتے اسی لیے خدا نے اپنی دوستی کا اجر قائم کر رکھا ہے۔جہاں مزدوری کی اُجرت سے زیادہ ضروریات زندگی مہنگی ہوں وہاں ناانصافی کی حکومت قائم ہوتی ہے۔زمین پر قائم ملکوں کے نام پر اُن انسانوں کی قربانیاں دی جاتیں ہیں جن کے لیے خدا نے زمین تخلیق کی ہے گویا حساب زمین کا نہیں زمین پر بسنے والے انسانوں کا لیا جائے گا۔اس زمین پر بسنے والی مزدورں کی لاتعداد گنتی نے خدا کو بتانا ہے کہ بجلی گیس پانی راشن دوائی انصاف سمیت تمام ضروریات زندگی اتنی مہنگی تھیں کہ ہم پسینے کی جگہ خون بھی بہا دیں تب بھی ساری سہولتیں خرید نہیں سکتے اور جنہوں نے یہ ظلم مسلط کیے ہیں اُن کے لیے یہ سب مفت دستیاب ہوتی ہیں اُس دن محب وطنی کا لبادے میں چھپے انسانی حقوق کے مجرموں کو حسرت ہو گئی کہ کا ش ہم بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھنے کی بجائے وہ مزدور ہی ہوتے جن کا دوست خدا آج ہم سے ان کے حقوق کا حساب مانگ رہا ہے۔مزدور سمیت تمام پیشوں سے وابستہ انسانوں کے جائز حقوق کی زمہ داری ریاست کو چلانے والوں پر ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے وہ ریاست انہی کے حقوق کی چوری سے اپنی نسلوں کے مقدر سنوار رہی ہے اس ناانصافی کے نظام میں کئی صاحب کردار لوگ بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے مزدور ابھی تک جیے جارہے ہیں۔ مزدور ملکی و عوامی ترقی کے معمار ہیں ان کو مہنگائی کی سولی سے اتار کر سستی ضروریات زندگی سے وابستہ کرنا ہی ان کا حق دینا ہے۔

  • رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    تحریروں میں اچھی باتیں لکھنے والا رائٹر ضروری نہیں عملی زندگی میں بھی اچھا آدمی ثابت ہو بہت سے مشہوررائٹر دیکھے ہیں جو رائٹر تو بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں جو اپنی تحریروں میں نفاست پاکیزگی ا حساس و جذبات سے بریزالفاظ و جملوں پر مبنی منظر کشی سے قارئین کی رُوح کو چھو لیتے ہیں گمان ہوتا ہے آسمان سے اترے منظر ہیں مگر وہ ذاتی زندگی میں غیر معیاری گفتگو کرتے ہیں ایک آدمی کے اندر بہت سے آدمی ہوتے ہیں پرتیں ہٹنے یا ہٹانے والے حالات کا سامنا ہو تو پتا چل جاتا ہے۔تین طرح کے لکھاری دریافت ہوئے ہیں ایک جیسا لکھتے ہیں ویسے ہی خود ہوتے ہیں۔دوسراجیسا لکھتے ہیں اُس سے بلکل مختلف ہوتے ہیں تیسرے جو ملے جھلے سے ہیں۔

    سینکڑوں الفاظ بغیر غلطی کے تاثیر سے لبریز لکھنے والے رائٹر خوش بیانی میں ناکام ہوتے ہیں چندجملے کیفیت آمیز لب و لہجے سے لوگوں کے سامنے نہیں بول سکتے اس کے برعکس ایک اداکار جو رائٹر نہیں مگر ایک رائٹر کے جملوں سے ادکاری میں لفطی بیانی کے زریعے انسانی اعصاب پر گہرا اثر چھوڑ دیتے ہیں۔باکرداررائٹرز بہت کم ہیں جو جیسا لکھتے ہیں ویسا بولتے بھی ہیں عام زندگی میں بھی اپنی تحریروں جیسا جیتے ہیں۔دوسرے درجے کے رائٹر جن کی شاعری و تحریروں میں انسانی قدروں کی اعلیٰ ترجمانی ملتی ہے مگر ذاتی طور پر وہ لالچی بدزبان بے فیض ہوتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کے دماغ کا ایک قلمی حصہ خوبصورت ہے اور باقی عملی حصہ غیر معیاری ہے لگتا ہے ساری اچھائی قلم کے زریعے کاغذ پر اتار کر عام زندگی میں اچھائی سے خالی ہوجا تے ہیں ان کا خلوص مفاداتی مال و شہرت کی غرض پر ہے یعنی مصنوعی حسن سلوک کی اداکاری کرتے ہیں یہ فنکار بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں کیمرے کے سامنے بہت متاثر و قیمتی اداکاری کرتے ہیں مگر خدا کے کیمروں کے سامنے اس کی مخلوق سے عملی طور پر بڑے آدمی کے احسا س میں چھوٹے سلوک کرتے ہیں انسانوں میں اداکار بہت ہیں مگر اداکاروں میں انسان بہت کم ملتے ہیں ہر شخص نے اچھائی کا ایک اپناطریقہ اور مقدار مقرر کی ہوتی ہے جو نسلی خصلت کا تعارف ہے کچھ لوگ صرف اتنے ہی اچھے رہتے ہیں کہ ان سے کسی کو فائدہ نہیں مگر نقصان بھی نہیں پہنچ رہا وہ اسی پر مطمن ہیں۔ کچھ بڑی برداشت وہمت کا ظرف رکھتے ہیں فائدہ دے کر نقصان اپنے اعمال نامے میں صلے کے طور پر محفوظ کر لیتے ہیں اس عمل کے اجر کا حسن میرے حسن بیان سے باہر ہے کیونکہ یہ خدائی معاملہ بن جاتا ہے۔

    فن فروش انسان کسی کو مفت میں میسر ہونا خسارہ سمجھتے ہیں شہرت سے دنیا کمانے والوں کو انسانیت کمانے کے گمان میں لانے سے پہلے انہیں معاملات کے ترازو میں تول لیں تاکہ ان کی بات اور ذات کا تضاد واضع ہو سکے۔ادکاری کے ذریعے معاشرے میں مصنوعی رنگ بھرنے سے نام تو کمایا جا سکتا ہے مگر اجر نہیں کیونکہ حقیقی کردار نبھانے سے بلند وقار اوراعلیٰ معیار میسر ہوتا ہے ایسے باکردار لوگوں کے مرنے کے بعد بھی ان کے نیکیاں لکھنے والے فرشتوں کو چھٹی نہیں ملتی۔علم کے سمندر سے عمل کا قطرہ زیادہ قیمتی ہے یہ دنیا بڑی حیرت ناک و پراسرار ہے یہاں اکثریت میں اچھائی کے پیچھے کمائی چھپی ہے جن کا نظریہ یہ ہے کہ پیسا ہو چاہے جیسا ہو۔میرے نزدیک دنیا کی دولت خدا کا انسانی ایمان و معیارچیک کرنے والا ایک ٹیسٹر ہے جیسے انسان بھی استعمال کرکے نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔

    انسان ہو کر انسانیت کمانا ہی اصل خدائی کمائی ہے بے وقعت کر دینے والی دولت کے تالاب میں غوطے کھا کر مرنے سے بہتر ہے غربت کی زمین پر خودداری کے فاقوں میں سینہ تان کر جیا جائے یہ حیات خودداری بڑے لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے جو چھوٹے فن کو بھی منتخب کرتے ہیں تو اسے عزت دلا دیتے ہیں ورنہ زیادہ تر چھوٹے لوگ بڑے فن کا انتخاب کرکے اُس فن کی عزت کا لباس پہنے پھرتے ہیں ان سے جب انسانی حسن سلوک کا واسطہ پڑتا ہے تونتیجہ افسوس نکلتا ہے چھوٹا آدمی بڑے فن کو بھی چھوٹابنا دیتاہے اوربڑا آدمی چھوٹے فن کو بھی بڑا بنا دیتا ہے۔بڑا آدمی بڑے فن سے وابستہ ہوتا ہے تو اس کے گزر جانے کے بعد بھی ان کی تخلیق زمانے میں ٹھہری رہتی ہے۔عام لوگ وقت تخلیق میں محدود وقت کے لیے خاص ہو جاتے ہیں یعنی جب وہ تخلیق کرتے ہیں تو وہ وہ نہیں ہوتے جو عام وقت میں ہوتے ہیں اسی لیے عام وقت میں انہیں ملیں تو دوسرا شخص پاتے ہیں عزت دلانے والا عمل عاجزی کا تقاضا کرتا ہے مگر جب عاجزی کی بجائے غرور تکبر بدسلوکی پاتا ہے تو آسمانی فضاؤں میں اُڑنے والے کو زمینی پستیوں پہ لا کھڑا کر دیتا ہے یہی وجہ ہے اکثر شہرت پانے والے لوگ گمنامی میں نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں جو وقت شہرت میں احترام انسانیت بھول کر لوگوں کا مزاق اُڑایا کرتے تھے وہ مرگ بسترپر آتے ہی آنسوؤں سے باتیں کرتے امداد کے طلبگار ہوجاتے ہیں کتنے ہی ایسے شہکار تھے جنہیں زمین کا معدہ پانی کی طرح پی گیا اور زمانہ دیکھتے کا دیکھتا ہی رہ گیا۔اور کئی ایسے بڑے تخلیق کا رجوساری زندگی فن فروشی سے بچتے ہوئے فاقوں میں زندگی گزار گئے ان کے چلے جانے کے بعد ان کی تخلیقات نے ان کو ایسا زندہ کیا کہ لوگ انہیں مل نہ سکنے پر پچھتا تے ہیں۔ رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے۔

  • آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    جدید ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا، فلٹرز اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثرات نے نوجوان لڑکیوں کی زندگی کو جس طرح بدل دیا ہے، اس پر ایک نئی کتاب نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    برطانوی مصنفہ فرییا انڈیا (Freya India) نے اپنی پہلی کتاب “Girls®” میں دعویٰ کیا ہے کہ آج کی نوجوان خواتین خود کو انسان کے بجائے ایک “پروڈکٹ” کی طرح دیکھنے لگی ہیں، جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر، پیک اور ریٹنگ کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔“لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں”فرییا انڈیا، جو 26 سالہ مصنفہ ہیں، نے امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ “نوجوان خواتین اب اپنے آپ کو ایک ایسی چیز کے طور پر دیکھ رہی ہیں جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ وہ اپنی زندگی کے تجربات کو پیک کرتی ہیں اور پھر آن لائن لوگوں کی رائے اور ریٹنگ کا انتظار کرتی ہیں۔”ان کے مطابق یہ رجحان صرف ذاتی احساسات تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی اور معاشی نظام کا حصہ ہے، جہاں انسانیت کی جگہ “ڈیجیٹل پریزنٹیشن” نے لے لی ہے۔

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح نوجوان لڑکیاں اپنی خود اعتمادی کے مسائل کے دوران ایسے ڈیجیٹل ماحول میں گھری ہوئی ہیں جہاں چہرے بدلنے والے فلٹرز ،مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈیٹنگ ٹولز،انسٹاگرام انفلوئنسرز کے مکمل طور پر ایڈٹ شدہ لائف اسٹائل شامل ہیں،ان کے مطابق یہ سب چیزیں حقیقی زندگی کے احساسات کو مزید پیچیدہ اور غیر حقیقی بنا رہی ہیں۔فرییا انڈیا لکھتی ہیں کہ جب نوجوان ذہنی دباؤ یا جذباتی مسائل کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں ٹک ٹاک تھراپی ویڈیوز، یوٹیوب مشورے، اور آن لائن میڈیکل اشتہارات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اصل علاج کے بجائے “فوری حل” پیش کرتے ہیں۔

    کتاب میں ڈیٹنگ ایپس اور پورن انڈسٹری کے اثرات پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ مصنفہ کے مطابق آج کی نوجوان نسل کو محبت اور رشتوں کے حوالے سے بھی ایک مصنوعی دنیا میں رکھا جا رہا ہے، جہاں ٹنڈر جیسے ایپس انسانی تعلقات کو “سوائپ کلچر” میں بدل دیتے ہیں،انفلوئنسرز خوف اور کنفیوژن کو منافع میں تبدیل کرتے ہیں،نوجوان لڑکیوں کو اپنی فطری خواہشات پر بھی شرمندہ کیا جاتا ہے،فرییا انڈیا کے مطابق موجودہ بحران صرف ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سماجی تبدیلیاں بھی ہیں، جیسے مذہبی اور اخلاقی نظام کا کمزور ہونا،خاندانی ڈھانچے میں بگاڑ،کمیونٹی اور اجتماعی زندگی کا خاتمہ ہے،ان کے مطابق یہی خلا سوشل میڈیا نے پر کیا، مگر اس نے “حقیقی تعلق” کے بجائے “ڈیجیٹل متبادل” فراہم کیے۔ مصنفہ کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ کس چیز کو نقل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے “ہم صرف اسکرول کر رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، خرید رہے ہیں اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن تنہائی کے ساتھ۔”

    فرییا انڈیا نے بتایا کہ انہوں نے یہ خیال 2021 میں اس وقت محسوس کیا جب وہ ایک کیفے میں کام کر رہی تھیں اور نوجوان لڑکیوں کے رویوں کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ یہی مشاہدات بعد میں ان کی کتاب کی بنیاد بنے۔

  • ایٹمی پاکستان سے فاتح پاکستان،قوم بنیان مرصوص،تحریر:نور فاطمہ

    ایٹمی پاکستان سے فاتح پاکستان،قوم بنیان مرصوص،تحریر:نور فاطمہ

    مئی کی نرم دھوپ جب وطنِ عزیز کی فضاؤں پر اترتی ہے تو یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں لاتی، بلکہ یہ یاد دلاتی ہے اُس عظیم لمحے کی جب اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دفاعی قوت، حوصلے اور ناقابلِ تسخیر استقامت کی وہ نعمت عطا کی جس پر پوری قوم سربسجود ہے۔ یہ مہینہ ایمان، اتحاد اور قربانی کی داستان ہے،ایک ایسی داستان جس میں قوم نے مل کر اپنے وجود کا دفاع کیا اور سرخرو ٹھہری۔یہ وہی مہینہ ہے جس کی یادوں میں آپریشن بنیان مرصوص کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ایک ایسا مرحلہ جہاں پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ سرزمین صرف جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے اور نظریے کا دفاع ہمیشہ جانوں سے کیا جاتا ہے۔

    ناقابلِ تسخیر دفاع ، اللہ کی عطا، قوم کا فخر،مئی میں ہی پاکستان ایٹمی پاکستان بنا اور مئی میں ہی جب بھارت نے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کی تو پاکستان نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ دنیا دنگ رہ گئی،آٹھ دہائیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جو دفاعی قوت عطا کی، وہ کسی ایک ادارے یا حکومت کی کامیابی نہیں، بلکہ یہ پوری قوم کے ایمان، قربانیوں اور اتحاد کا ثمر ہے۔ میدانِ جنگ میں فتح صرف ہتھیاروں سے نہیں ملتی، بلکہ وہ دلوں کے یقین، نیت کی سچائی اور اللہ کی نصرت سے حاصل ہوتی ہے۔پاکستان کی مسلح افواج،خصوصاً بری، بحری اور فضائیہ نے جس پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور جرات کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کے سنہرے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ دشمن کی ہر چال ناکام ہوئی اور ہر وار بے اثر ثابت ہوا۔جب بات دفاعِ وطن کی ہو تو پاک فضائیہ کے شاہینوں کا ذکر کیے بغیر یہ داستان مکمل نہیں ہوتی۔ یہ وہ جانباز ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر فضاؤں میں دشمن کو للکارا اور اپنی مہارت سے دنیا کو حیران کر دیا۔جدید فضائی جنگ کے اس دور میں، جب ٹیکنالوجی اور مہارت کا امتحان ہوتا ہے، پاک فضائیہ نے دشمن کے جدید ترین طیاروں کو بھی ناکام بنایا۔ خاص طور پر دشمن کے جدید رافیل طیارہ کو گرانا نہ صرف ایک عسکری کامیابی تھی بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی تھا کہ پاکستان کے شاہین صرف پرواز ہی نہیں کرتے، بلکہ فتح کے پرچم بھی لہراتے ہیں۔

    پاکستان کی عسکری میدان میں یہ کامیابی ایک پیغام ہے کہ جب ایمان، مہارت اور حب الوطنی ایک ہو جائیں تو کوئی طاقت ناقابلِ شکست نہیں رہتی۔ہر فتح کے پیچھے کچھ ایسے نام ہوتے ہیں جو تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھے جاتے ہیں۔ وہ شہداء جنہوں نے وطن کی مٹی پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، درحقیقت وہی اس فتح کے اصل معمار ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ آزادی اور سلامتی کی قیمت ہمیشہ بلند ہوتی ہے۔ان شہداء کو سلام پیش کرنا محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم ان کے مشن کو جاری رکھیں گے اور اس وطن کے دفاع میں کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    آپریشن بنیان مرصوص،معرکہ حق،یہ فتح ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتی ہے،جب قوم ایک ہو جائے، جب اختلافات پسِ پشت ڈال دیے جائیں، جب نفرت کی دیواریں گر جائیں تب ہی اصل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اس عظیم کامیابی کو صرف جشن تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے اتحاد، شعور اور نظریاتی مضبوطی میں ڈھالا جائے۔یہ دن صرف خوشی منانے کے نہیں، بلکہ تجدیدِ عہد کے ہیں۔یہ وقت ہے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اس نظریے کو مضبوط کریں جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا تھا۔میڈیا، تعلیمی ادارے اور معاشرے کے تمام طبقات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم میں شعور بیدار کریں، نوجوانوں میں جذبۂ حب الوطنی کو فروغ دیں اور اس پیغام کو عام کریں کہ "ہم متحد بھی ہیں، ہم فاتح بھی ہیں اور ہمارا مستقبل بھی ہمارا ہے۔”

    مئی کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ ان قوموں کے ساتھ ہوتی ہے جو اپنے مقصد پر قائم رہتی ہیں۔یہ فتح کسی ایک جماعت یا ادارے کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی فتح ہے۔آئیے! اس عشرۂ فتح میں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک قوم بنیں گے،ہم اپنے نظریے کا تحفظ کریں گے،اور ہم دفاعِ پاکستان کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہیں گے،کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں نہ صرف حال میں کامیاب بنائے گا بلکہ مستقبل میں بھی سرخرو کرے گا۔

  • خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    خوف سے سکون تک،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ حال کے خیمے میں بیٹھ کر مستقبل کے سرابوں کا پیچھا کرتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسا معمار ہے جو اپنی زندگی کی عمارت کو مستقبل کے نامعلوم گوشوں میں محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ اس عمل میں ہم اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اس ’لمحے‘ کی مٹھاس سے محروم ہو جاتے ہیں، جو حقیقت میں ہماری زندگی کا واحد حقیقی اثاثہ ہے۔ ہم سب ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جس کا اختتام کہیں نہیں ہے، اور اس دوڑ میں ہم اپنی خوشیوں، اپنے سکون، اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دھیرے دھیرے قربان کرتے جا رہے ہیں۔
    آج کے تیز رفتار دور میں، ہم نے ’منصوبہ بندی‘ اور ’اضطراب‘ کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ مستقبل کا خوف، دراصل ان واقعات کا خوف ہے جو ابھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے۔ ہم ان اندیشوں میں گھلے جاتے ہیں جو شاید کبھی حقیقت کا روپ دھاریں ہی نہیں۔ ہم اپنی توانائی کا ایک بڑا حصہ ان خدشات پر صرف کر دیتے ہیں جو ہمارے کل کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ہم اپنی پڑھائی، اپنے کیریئر، اپنے امتحانات، اور اپنی سماجی حیثیت کو لے کر اس قدر فکرمند رہتے ہیں کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ’زندہ‘ بھی ہیں۔ یہ فکر، جو ایک حد تک تو اصلاحی ہو سکتی ہے، جب حد سے بڑھ جائے تو ایک بیماری بن جاتی ہے جسے ہم ’مستقبل کا خوف‘ کہتے ہیں۔

    ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کو ’مستقبل کا ایک جزیرہ‘ بنا دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سکون تب ملے گا جب ہم ڈگری مکمل کر لیں گے، جب ہمیں ملازمت مل جائے گی، جب ہم کسی بڑے عہدے تک پہنچ جائیں گے۔ اس سوچ کے تحت ہم اپنی موجودہ زمین پر قدم جمانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم ایک ایسی انتظار گاہ میں بیٹھے ہیں جہاں ہم زندگی شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ زندگی کوئی منزل نہیں، یہ تو وہ راستہ ہے جس پر ہم اس وقت چل رہے ہیں۔ اگر ہم راستے کے مناظر سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے، تو منزل پر پہنچ کر بھی ہمیں وہ سکون نہیں ملے گا جس کی ہمیں تلاش ہے۔

    ہم اکثر سوچتے ہیں کہ کیا ہم کل کے امتحان میں کامیاب ہو پائیں گے؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں نبھا پائیں گے؟ کیا ہمارا مستقبل محفوظ ہے؟ یہ سوالات فطری ہیں، مگر جب یہ سوالات ہمارے دماغ پر سوار ہو جائیں، تو یہ حال کی کارکردگی کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ ایک طالب علم جو سی ایس ایس (CSS) یا کسی بھی مشکل امتحان کی تیاری کر رہا ہو، وہ اگر ہر وقت ناکامی کے خوف میں مبتلا رہے گا، تو وہ اپنی تیاری پر پوری توجہ نہیں دے پائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل کا حد سے زیادہ خوف، ہمارے حال کو بھی برباد کر رہا ہے۔

    حال میں جینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کریں یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کریں۔ منصوبہ بندی کرنا دانشمندی ہے، مگر اس میں ڈوب جانا حماقت ہے۔ حال میں جینے کا مطلب ہے کہ ہم اپنی پوری توجہ، اپنی پوری توانائی اور اپنے تمام تر حواس کو اپنے موجودہ کام پر مرکوز کریں۔ جب ہم فکرِ فردا سے آزاد ہو کر اپنے کام میں ڈوب جاتے ہیں، تو ہمارا کام نہ صرف زیادہ معیاری ہوتا ہے بلکہ ہمارا ذہنی سکون بھی برقرار رہتا ہے۔
    ایک مشہور قول ہے کہ ’’جو گزر گیا وہ خواب تھا، جو آنے والا ہے وہ خیال ہے، اصل میں وہی ہے جو تیرے سامنے، تیرے حال میں ہے۔‘‘

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا دماغ ایک وقت میں ایک ہی چیز پر توجہ دے سکتا ہے۔ اگر ہمارا دماغ کل کی فکروں میں الجھا ہوا ہے، تو ہم آج کے کام کو کیسے مکمل کر سکتے ہیں؟ یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی تضاد ہے۔ ہم آج کو کل کے لیے قربان کر رہے ہیں، اور پھر کل جب آئے گا تو وہ بھی تو ’آج‘ ہی بن جائے گا۔ تب ہم پھر کسی اور ’کل‘ کی فکر میں مبتلا ہوں گے۔ اس طرح ہماری پوری زندگی ایک ایسی لکیر بن کر رہ جاتی ہے جس میں صرف بھاگ دوڑ ہے اور ٹھہر کر سانس لینے کا کوئی وقفہ نہیں۔

    حال کے سکون کو پانے کے لیے ہمیں ’شکر گزاری‘ (Gratitude) کے فلسفے کو اپنانا ہوگا۔ جب ہم ان چیزوں پر غور کرتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں، تو ہمارا ذہن خود بخود سکون کی حالت میں آ جاتا ہے۔ ہم اکثر ان چیزوں کے بارے میں سوچ کر دکھی ہوتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں یا جن کے چھن جانے کا ہمیں ڈر ہے۔ یہ فکر ہمیں ناشکرا بناتی ہے۔ حال میں جینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کی قدر کریں۔ ایک کپ چائے کی چسکی، کسی عزیز سے کی گئی گفتگو، یا کوئی کتاب پڑھتے ہوئے ملنے والی خوشی—یہ وہ چھوٹے چھوٹے لمحات ہیں جو ہماری زندگی کو روشن بناتے ہیں۔

    نفسیاتی طور پر دیکھیں تو مستقبل کا خوف انسان کو ’مستقبل بین‘ (Visionary) نہیں، بلکہ ’مستقبل زدہ‘ (Future-Anxious) بنا دیتا ہے۔ ایک صاحبِ قلم کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جو وقت آپ کے ہاتھ میں ہے، وہ ایک امانت ہے۔ اسے مستقبل کے غیر یقینی خدوخال کو سنوارنے کی فکر میں ضائع کرنا، وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے گراف کو دیکھیں۔ کیا ہم صرف پریشانیوں کا گراف بنا رہے ہیں یا ہم سکون اور اطمینان کے پل بھی تعمیر کر رہے ہیں؟
    توازن کا فلسفہ ہی زندگی کا حسن ہے۔ ہمیں ایک ویژن تو رکھنا چاہیے، مستقبل کے خواب بھی دیکھنے چاہئیں، لیکن ان خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے جو محنت درکار ہے، اسے موجودہ لمحے میں ادا کرنا چاہیے۔ جب آپ آج کا کام خلوص اور ایمانداری سے کرتے ہیں، تو آپ کا کل خود بخود سنور جاتا ہے۔ آپ کا آج، آپ کے کل کی بنیاد ہے۔ اگر آپ کی آج کی اینٹیں مضبوط ہوں گی، تو کل کی دیواریں خود بخود مستحکم ہوں گی۔

    آئیے، آج سے ایک عہد کریں۔ ہم کل کے اندیشوں کو اللہ پر چھوڑ دیں گے۔ ہم منصوبہ بندی کریں گے، ہم محنت کریں گے، لیکن نتائج کے خوف کو اپنی ذات پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ جب ہم کسی کام کو عبادت کی طرح کرتے ہیں، تو نتیجہ خود بخود بہتری کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور اگر نتیجہ ہماری توقع کے مطابق نہ بھی ہو، تو بھی ہم اس اطمینان کے ساتھ جی سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا آج پوری دیانتداری سے گزارا ہے۔
    یاد رکھیے، زندگی گزر جانے کا نام نہیں، بلکہ پھلنے پھولنے کا نام ہے۔ مستقبل کا خوف ایک سراب ہے، اور اس سراب سے بچنے کا واحد راستہ، حال میں اپنے قدموں کو مضبوطی سے جمانا ہے۔ آیئے، کل کے نامعلوم اندیشوں کو ایک طرف رکھ کر آج کے سورج کو خوش آمدید کہیں۔ اپنی محنت کو اپنا مقصد بنائیں، مگر نتائج کی فکر کو اپنی ذات کا حصہ نہ بنائیں۔ کیونکہ جب آپ کا ’حال‘ پرسکون اور مستحکم ہوتا ہے، تو آپ کا ’مستقبل‘ خود بخود ایک محفوظ سمت کا تعین کر لیتا ہے۔

    اب ہمیں فردا کے خواب دیکھنے سے زیادہ حال کے چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر لمحے میں ایک ایسی روشنی پوشیدہ ہے جسے ہم کل کی فکر میں دھندلا دیتے ہیں۔ اپنے ذہن کو اس غیر ضروری بوجھ سے آزاد کریں، گہری سانس لیں اور ارد گرد کی دنیا کو دیکھیں، جہاں ہزاروں امکانات آپ کے منتظر ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی زندگی کا اصل رقبہ وہی ہے جو اس وقت آپ کے قدموں تلے ہے۔ اسے خوف کی دھول سے نہیں، اطمینان کے پھولوں سے مہکائیں۔ کیونکہ یہی آج ہے، جو کل کی تاریخ بنے گا۔

  • بحیرہ عرب میں  پاکستان نیوی کا کامیاب ریسکیو آپریشن،تحریر:جان محمد رمضان

    بحیرہ عرب میں پاکستان نیوی کا کامیاب ریسکیو آپریشن،تحریر:جان محمد رمضان

    بحیرہ عرب میں پیش آنے والی ایک ہنگامی صورتحال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نیوی نہ صرف دفاعی محاذ پر مستعد ہے بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتی ہے۔ ایک مال بردار جہاز MV GAUTAM، جو عمان سے بھارت کی جانب رواں دواں تھا، دورانِ سفر اچانک تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر کھلے سمندر میں پھنس گیا۔ ایسے حالات میں فوری ردعمل نہ ہو تو یہ صورتحال سنگین حادثے کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔جیسے ہی جہاز کی جانب سے ہنگامی کال موصول ہوئی، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بغیر کسی تاخیر کے اپنے جہاز PMSA Ship KASHMIR کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم سے کم وقت میں متاثرہ جہاز تک رسائی حاصل کی اور صورتحال کا مکمل جائزہ لیا۔

    متاثرہ جہاز پر کل 7 افراد سوار تھے، جن میں 6 بھارتی اور ایک انڈونیشی شہری شامل تھا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران تمام افراد کو بروقت خوراک، ابتدائی طبی امداد اور ضروری تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ اس فوری امداد نے نہ صرف عملے کی جانوں کو محفوظ بنایا بلکہ ممکنہ بڑے حادثے کو بھی ٹال دیا۔پاکستان نیوی کی ٹیم نے صرف انسانی امداد تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جہاز کے ضروری نظام کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے۔ تکنیکی خرابی کو دور کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ جہاز اور اس کے عملے کی مکمل حفاظت کو یقینی بنایا گیا، جو اس آپریشن کی کامیابی کا اہم پہلو ہے۔

    یہ کامیاب ریسکیو آپریشن پاکستان کی بحری صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی ہمدردی کا واضح ثبوت ہے۔ کھلے سمندر میں اس نوعیت کے واقعات میں بروقت کارروائی نہ ہو تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان نیوی نے نہ صرف اس خطرے کو ختم کیا بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی عالمی ساکھ کو بھی مضبوط کیا۔اس واقعے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ امداد حاصل کرنے والے افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے، لیکن پاکستان نیوی نے کسی تفریق کے بغیر انسانیت کی بنیاد پر ان کی مدد کی۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سمندری قوانین اور انسانی اقدار کے تحت پاکستان ہر مشکل گھڑی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا ہے۔یہ ریسکیو آپریشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت، بروقت فیصلہ سازی اور انسانی ہمدردی کا امتزاج ہی وہ خصوصیات ہیں جو پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار بحری قوت کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔

    پاکستان نیوی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ملکی سمندری حدود کی محافظ ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ایک قابلِ اعتماد ادارہ ہے۔

  • پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی وقار بمقابلہ داخلی اسکینڈلز پاکستان کے امیج کو دوہرا چیلنج

    سفارتی کامیابیاں یا گورننس کا بحران؟ غیر قانونی تعمیرات نے سوالات کھڑے کر دیے

    وقار کی تعمیر، اعتماد کی شکست بااثر شخصیات اور غیر قانونی فلیٹس کا تنازع

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کا ابھرتا وقار اور داخلی تضادات ایک دوہرا بیانیہ
    بین الاقوامی سیاست میں کسی بھی ریاست کی ساکھ محض سفارتی کامیابیوں سے نہیں بلکہ داخلی طرزِ حکمرانی، شفافیت اور قانون کی بالادستی سے تشکیل پاتی ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمتِ عملی کے ذریعے ایک فعال اور ذمہ دار ریاست کا تاثر دینے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ، عسکری قیادت اور دیگر ریاستی اداروں کی مربوط کاوشوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر علاقائی کشیدگیوں میں ثالثی اور توازن کی پالیسی نے اسے ایک ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کے طور پر پیش کیا۔

    تاہم اسی مثبت بیانیے کے ساتھ ایک متوازی اور تشویشناک حقیقت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے غیر قانونی تعمیرات اور مبینہ طور پر بااثر شخصیات کی ان میں شمولیت۔ اربوں روپے مالیت کے فلیٹس اور ان میں اعلیٰ شخصیات کی سرمایہ کاری کے انکشافات نے نہ صرف عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان کے لیے بھی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ تضاد پاکستان کے امیج کے لیے ایک بنیادی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف ریاست خود کو شفافیت، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے علمبردار کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف داخلی سطح پر ایسے اسکینڈلز اس بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے صرف معاشی اعداد و شمار نہیں دیکھتے بلکہ گورننس، احتساب اور ادارہ جاتی شفافیت کو بھی بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ایسے اسکینڈلز داخلی سطح پر بھی خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عام شہری، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے، جب دیکھتا ہے کہ طاقتور طبقے قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں، تو ریاستی نظام پر اس کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ یہ عدم اعتماد طویل المدتی طور پر سماجی استحکام اور ریاستی رٹ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے اثرات کم اہم نہیں۔ جب ایک ملک بیک وقت مثبت سفارتی کردار اور داخلی بدعنوانی کے الزامات کا حامل ہو، تو عالمی بیانیہ غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، وہ سفارتی کامیابیاں جو بڑی محنت سے حاصل کی جاتی ہیں، ایسے تنازعات کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کا حل محض تردید یا وقتی بیانیے میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ شفاف تحقیقات، بلاامتیاز احتساب، اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف واضح کارروائی نہ صرف داخلی اعتماد بحال کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دے سکتی ہے کہ پاکستان اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے اور درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    آخرکار ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں کی کارکردگی اور اس کی قیادت کی دیانت داری میں ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے داخلی تضادات کو مؤثر انداز میں حل کر لیتا ہے، تو اس کی سفارتی کامیابیاں نہ صرف برقرار رہیں گی بلکہ مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکیں گی۔

  • فتح ٹو بمقابلہ Pinaka اور Pralay: جنوبی ایشیا میں پریسژن اسٹرائیک کی بدلتی ہوئی حرکیات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    فتح ٹو بمقابلہ Pinaka اور Pralay: جنوبی ایشیا میں پریسژن اسٹرائیک کی بدلتی ہوئی حرکیات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان کی جانب سے حالیہ کامیاب تجربہ، FATEH-II گائیڈڈ میزائل کا، جنوبی ایشیا میں روایتی ڈیٹرنس (deterrence) میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اپنی بڑھائی گئی رینج، اعلیٰ درستی (precision) اور maneuverability کے باعث یہ نظام روایتی توپ خانے سے نکل کر پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت کی جانب ایک واضح نظریاتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جو خطے کے عسکری توازن کو نئی شکل دے رہا ہے۔

    FATEH-II: پاکستان کی پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت

    FATEH-II ایک جدید گائیڈڈ راکٹ سسٹم ہے جس کی رینج تقریباً 400 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جو اسے quasi-theatre strike ہتھیاروں کے زمرے میں شامل کرتی ہے۔
    روایتی آرٹلری راکٹس کے برعکس، اس میں شامل ہیں
    * جدید ایویونکس اور نیویگیشن سسٹمز
    * اعلیٰ درجے کی ہدفی درستگی
    * میزائل دفاعی نظام سے بچنے کے لیے maneuverable trajectory

    یہ نظام پاکستان کے راکٹ آرٹلری کو ایک ایسے پریسژن اسٹرائیک پلیٹ فارم میں تبدیل کرتا ہے جو دشمن کے علاقے کے اندر گہرائی میں موجود اہم اہداف جیسے ایئر بیسز، لاجسٹک مراکز اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ FATEH-II، ایک قابلِ اعتماد روایتی متبادل فراہم کرکے اسٹریٹجک (جوہری) آپشنز پر انحصار کم کرتا ہے۔

    بھارتی نظام: Pinaka اور Pralay
    بھارت اس میدان میں دو اہم نظام رکھتا ہے:
    1. Pinaka MLRS
    * بنیادی طور پر ملٹی بیرل راکٹ لانچر (MBRL) سسٹم
    * روایتی طور پر کم رینج، تاہم بھارت 400–500 کلومیٹر تک توسیع شدہ ورژنز پر کام کر رہا ہے
    * بنیادی مقصد ایریا سیچوریشن، نہ کہ نقطہ وار درستگی

    2. Pralay میزائل
    * ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل جس کی رینج 150–500 کلومیٹر ہے
    * بھاری وارہیڈ (350–1000 کلوگرام) لے جانے کی صلاحیت
    * اہم اسٹریٹجک اہداف جیسے رن ویز اور کمانڈ انفراسٹرکچر کے لیے ڈیزائن کیا گیا

    تقابلی جائزہ
    خصوصیت FATEH-II (پاکستان) Pinaka (بھارت) Pralay (بھارت)قسم گائیڈڈ راکٹ / quasi-ballistic MLRS (راکٹ آرٹلری) ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل رینج تقریباً 400 کلومیٹر 40–75 کلومیٹر (موجودہ) 150–500 کلومیٹر،درستگی اعلیٰ (گائیڈڈ) کم (ایریا سیچوریشن) اعلیٰ،کردار پریسژن ڈیپ اسٹرائیک میدانِ جنگ سپورٹ اسٹریٹجک روایتی حملہ،موبلٹی زیادہ زیادہ زیادہ

    اہم نکات
    * FATEH-II بمقابلہ Pinaka:
    FATEH-II رینج اور درستگی دونوں میں Pinaka سے واضح طور پر برتر ہے۔
    * FATEH-II بمقابلہ Pralay:
    Pralay زیادہ طاقتور اور بھاری بیلسٹک میزائل ہے، لیکن FATEH-II لچک، بقا (survivability) اور لاگت کے لحاظ سے بہتر ہے۔
    * نظریاتی فرق:
    * پاکستان: پریسژن روایتی ڈیٹرنس کی طرف پیش رفت
    * بھارت: سیچوریشن (Pinaka) اور بیلسٹک اسٹرائیک (Pralay) کا امتزاج

    پاکستان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت
    1. روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا
    FATEH-II پاکستان کو جوہری سطح تک گئے بغیر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے بحران میں استحکام بڑھتا ہے۔

    2. کاؤنٹر فورس صلاحیت

    یہ درج ذیل اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے:
    * ایئر بیسز
    * لاجسٹک مراکز
    * میزائل سائٹس

    3. بقا اور لچک
    موبائل لانچ پلیٹ فارمز اور maneuverable پرواز اسے میزائل دفاعی نظام کے خلاف زیادہ محفوظ بناتے ہیں۔

    4. کم لاگت پریسژن جنگ
    بیلسٹک میزائلز کے مقابلے میں، یہ کم لاگت پر زیادہ حملوں کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
    5. اسٹریٹجک سگنلنگ

    یہ نظام تکنیکی صلاحیت اور دفاعی تیاری کا واضح پیغام دیتا ہے۔

    نتیجہ
    FATEH-II پاکستان کی روایتی اسٹرائیک صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اگرچہ بھارت کا Pralay زیادہ بھاری اور طاقتور ہے، لیکن FATEH-II آرٹلری اور اسٹریٹجک میزائلز کے درمیان خلا کو پُر کرتا ہے اور درستگی، لچک اور قابلِ اعتماد ڈیٹرنس فراہم کرتا ہے۔

    جدید جنگ میں طاقت سے زیادہ اہمیت رفتار اور درستگی کی ہو گئی ہے۔ اس میدان میں FATEH-II پاکستان کو ان ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے جو بغیر جوہری حد عبور کیے پریسژن ڈیپ اسٹرائیک کر سکتے ہیں۔

    جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب صرف جوہری ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہو رہا ہے کہ کون پہلے، تیزی سے اور درست حملہ کر سکتا ہے۔

    مصنف کے بارے میں
    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار ہیں جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری پر مہارت رکھتے ہیں، اور Research and Evaluation Cell for Advancing Basic Amenities and Development کے رکن ہیں۔