باتیں جمہوریت کی سیاست مفادات کی
پاکستانی سیاسی گلیاروں کا المیہ
سیاسی گلیاروں میں اصولوں کے دعوے، مگر عملی رویے مفادات کے تابع
تجزیہ شہزاد قریشی
بقولِ شاعر:
چلن سب کا ہے کوفیوں جیسا،
باتیں حسینؓ کی کرتے ہیں”
آج اگر پاکستان کے سیاسی گلیاروں پر نظر ڈالی جائے تو یہ شعر محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک تلخ سیاسی حقیقت محسوس ہوتا ہے۔ ملک کی سیاست میں اصولوں، اخلاقیات اور قومی مفاد کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، مگر عملی سیاست کا منظر اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ الزامات، کردار کشی، ذاتی دشمنیاں، ویڈیو و آڈیو سکینڈلز اور اقتدار کی بے رحم کشمکش نے سیاست کو قومی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کی جنگ بنا دیا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس تمام سیاسی شور شرابے میں نہ جمہوریت مستحکم ہوئی اور نہ ہی سیاسی کلچر میں پختگی آئی۔ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل، قومی معیشت، تعلیم، صحت، خارجہ پالیسی یا ادارہ جاتی اصلاحات پر سنجیدہ مکالمے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست میں الجھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست کا مقصد قوم کی رہنمائی نہیں بلکہ صرف اقتدار تک رسائی رہ گیا ہے۔
میرا خیال ہے کہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں مؤثر تھنک ٹینک کا شدید فقدان ہے۔ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں سیاسی جماعتوں کے پاس ماہرین، دانشوروں، معیشت دانوں اور پالیسی سازوں پر مشتمل ٹیمیں ہوتی ہیں جو مستقبل کی حکمتِ عملی، قومی مسائل کے حل اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں اکثر فیصلے وقتی سیاسی فائدے، جذباتی نعروں یا شخصیات کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سیاست میں برداشت کم اور انتشار زیادہ نظر آتا ہے۔ جماعتوں کے اندر جمہوریت کمزور، اختلافِ رائے ناپسندیدہ اور میرٹ اکثر مصلحتوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب سیاسی قیادت اپنے اندر فکری تربیت، پالیسی سازی اور نظریاتی استحکام پیدا نہیں کرے گی تو جمہوریت محض انتخابات تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
پاکستان کو آج الزام تراشی نہیں بلکہ فکری سیاست کی ضرورت ہے؛ ایسی سیاست جو قوم کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرے، نوجوانوں کو مایوسی نہیں بلکہ امید دے، اور اقتدار کے کھیل سے نکل کر قومی تعمیر کا راستہ اختیار کرے۔ ورنہ “باتیں حسینؓ کی” اور “چلن کوفیوں جیسا” والا طعنہ ہمارے سیاسی رویّوں پر مسلسل چسپاں رہے گا۔
