Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آپریشن بنیان المرصوص اور پاک فوج کی کامیابیاں ،تحریر :مدثر رتو

    آپریشن بنیان المرصوص اور پاک فوج کی کامیابیاں ،تحریر :مدثر رتو

    قوموں کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف واقعات نہیں رہتے بلکہ قومی شعور، اجتماعی حوصلے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے والے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی لمحات میں آپریشن بنیان المرصوص کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہ آپریشن صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ اس نے پوری قوم کو یہ احساس دلایا کہ جب وطن کی سلامتی، خودمختاری اور وقار کو خطرہ لاحق ہو تو پاکستان کی مسلح افواج فولاد کی دیوار بن کر سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آپریشن قومی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال قربانیوں کی روشن علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
    “بنیان المرصوص” عربی زبان کا ایک بامعنی لفظ ہے جس کا مطلب ہے “سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار”۔ اس نام میں خود ایک پیغام پوشیدہ ہے کہ جب دشمن وطنِ عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے تو پوری قوم اور اس کے محافظ ایک ایسی متحد قوت بن جاتے ہیں جسے کمزور کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ نام ہمارے اجتماعی اتحاد، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔
    پاکستان کی سرزمین کو قدرت نے جغرافیائی اہمیت، تہذیبی گہرائی اور غیر معمولی وسائل سے نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے مختلف اوقات میں دشمن قوتوں نے اس کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ کبھی سرحدوں پر جارحیت ہوئی، کبھی اندرونی انتشار کو ہوا دی گئی، اور کبھی دہشت گردی کے ذریعے قومی زندگی کو مفلوج کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ ان نازک حالات میں پاک فوج نے ہمیشہ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حکمت، بصیرت، قربانی اور عوامی اعتماد سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔
    آپریشن بنیان المرصوص بھی ایسے ہی ایک مرحلے میں سامنے آیا جب دشمن عناصر ملک کے امن کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ حالات نہایت حساس تھے۔ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ خوف، انتشار اور بے یقینی کے ذریعے پاکستان کے قومی حوصلے کو توڑا جا سکتا ہے۔ مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ پاکستانی قوم کے دل میں وطن کی محبت اور اس کے محافظوں کے لیے اعتماد غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔ چنانچہ پاک فوج نے منظم حکمتِ عملی، بروقت منصوبہ بندی اور جدید عسکری مہارت کے ساتھ ایسی کارروائی کی جس نے دشمن کے منصوبے خاک میں ملا دیے۔
    اس آپریشن کی سب سے بڑی کامیابی صرف عسکری برتری نہیں بلکہ اس کی باریک منصوبہ بندی تھی۔ پاک فوج نے دشمن کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور حکمتِ عملی کا گہرا تجزیہ کیا۔ انٹیلی جنس اداروں کی بروقت معلومات، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مضبوط نظام اور زمینی حقائق سے مکمل آگاہی نے کارروائی کو انتہائی مؤثر بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں دشمن کو شدید نقصان پہنچا جبکہ قومی مفادات کا بھرپور تحفظ ممکن ہوا۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی افواج جدید جنگی تقاضوں، پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ذمہ داری کے اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہیں۔
    پاک فوج کی تاریخ کامیابیوں، قربانیوں اور عزیمت سے بھری ہوئی ہے۔ 1965 کی جنگ میں جب دشمن نے یہ سمجھا کہ پاکستان کو دبایا جا سکتا ہے تو پاکستانی سپاہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ 1971 کے کٹھن حالات، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ، قبائلی علاقوں میں امن کے قیام اور داخلی سلامتی کے لیے کیے گئے بے شمار آپریشنز اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ پاکستان کی فوج نے ہر دور میں قوم کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر کارروائیاں اسی تسلسل کی روشن مثالیں ہیں جنہوں نے ملک میں امن کی نئی بنیاد رکھی۔

    آپریشن بنیان المرصوص کی ایک اہم جہت یہ بھی ہے کہ اس نے قوم کے دلوں میں نئی امید پیدا کی۔ جب کوئی سپاہی سرحد پر جاگتا ہے تو دراصل پورا ملک سکون کی نیند سوتا ہے۔ جب کوئی جوان اپنے خاندان، آرام اور خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر وطن کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے تو اس کے پیچھے ایک پورے معاشرے کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔ یہی احساس پاکستانی عوام کو اپنی فوج کے ساتھ مضبوط رشتہ عطا کرتا ہے۔ یہ رشتہ صرف ادارے اور عوام کا نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور مشترکہ ذمہ داری کا رشتہ ہے۔
    اس آپریشن نے نوجوان نسل کو بھی ایک واضح پیغام دیا کہ وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک امانت اور ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ قوموں کی اصل طاقت صرف اسلحہ نہیں بلکہ ان کے نوجوانوں کا کردار، ان کی فکر اور ان کا عزم ہوتا ہے۔ جب نوجوان اپنے وطن سے محبت کریں، قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں، اور اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دیں تو دشمن کی ہر سازش کمزور پڑ جاتی ہ
    یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاک فوج کی کامیابیوں کے پیچھے شہداء کا وہ مقدس لہو شامل ہے جس نے اس سرزمین کو تحفظ دیا۔ کتنے ہی جوان ایسے ہیں جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کتنی ہی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو قومی پرچم میں لپٹا ہوا دیکھا، کتنی ہی بہنوں اور بچوں نے جدائی کے دکھ سہے۔ مگر ان قربانیوں نے قوم کے سر کو فخر سے بلند کیا۔ شہداء ہمارے قومی وقار کا روشن باب ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی۔

    آج جب ہم آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ قومی سلامتی صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ امانت ہے۔ استاد اپنے قلم سے، مزدور اپنی محنت سے، صحافی اپنی ذمہ داری سے، اور نوجوان اپنے کردار سے وطن کے استحکام میں حصہ ڈالتے ہیں۔ جب پوری قوم متحد ہو جائے تو پاکستان ناقابلِ تسخیر قوت بن جاتا ہے۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آپریشن بنیان المرصوص ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ پاک فوج ہمارے قومی وقار، آزادی اور سلامتی کی مضبوط علامت ہے۔ اس کے جوانوں کی جاگتی آنکھوں نے ہمارے خوابوں کو تحفظ دیا ہے۔ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، اپنے شہداء پر ناز ہے اور اپنے وطن سے محبت ہمارا ایمان ہے۔ یہی جذبہ پاکستان کو مضبوط، باوقار اور روشن مستقبل کی طرف لے جائے گا۔

  • ہم  بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ.
    ترجمہ: اللہ یقیناً ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ (سورۃ الصف، آیت 4)

    "بنیان مرصوص” کا مطلب ہے "سیسہ پلائی ہوئی دیوار”۔ یہ قرآنی اصطلاح ایک ایسی مضبوط، متحد اور منظم جماعت کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کے درمیان کوئی دراڑ نہ ہو۔

    بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر کے آپریشن کا نام "سندور” رکھا۔ جواب میں پاکستان نے دن کی روشنی میں 10 مئی 2025ء کو "آپریشن بنیان مرصوص” شروع کیا۔ ٹوئٹر پر دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر امریکہ و یورپ سے پاکستان کو روکنے کی اپیلیں کر رہا تھا، ہر طرف ان کی تباہی جاری تھی۔

    > ہم چپ تھے کہ برباد نہ ہو جائے گلشن کا سکون
    > نادان یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم میں قوتِ للکار نہیں

    آپریشن بنیان مرصوص پاکستانی مسلح افواج کی جانب سے 10 مئی 2025ء کو بھارتی جارحیت کے جواب میں شروع کیا گیا ایک بڑا جوابی فوجی آپریشن تھا۔ "سیسہ پلائی دیوار” کے معنی رکھنے والا یہ آپریشن 22 اپریل سے 10 مئی 2025ء تک جاری رہنے والی کارروائیوں کا تسلسل تھا۔

    حافظ، نمازی سپہ سالار نے حملے کا وقت بھی سنت کے مطابق صبح سویرے کا چنا۔ اللہ کے نبی ﷺ کی یہی ادا ہوتی تھی حملے کے وقت۔

    اس معرکے میں چیف آف آرمی اسٹاف کی حکمتِ عملی دور اندیشی، برق رفتاری اور مربوط منصوبہ بندی کا مظہر رہی۔ مضبوط انٹیلیجنس، فضائی نگرانی اور سائبر صلاحیتوں کو یکجا کر کے ایسا نظام بنایا گیا جس نے دشمن کی پیش قدمی کو ابتدا ہی میں روک دیا۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت پاک فوج نے زمین، فضا اور سائبر محاذ پر بیک وقت جارحانہ اور مؤثر کارروائیاں کیں جنہوں نے دشمن کے اہم ٹھکانوں اور رابطہ نظام کو مفلوج کر دیا۔ جوانوں کی جرات، درست نشانہ بازی اور پیشہ ورانہ مہارت نے ہر محاذ پر برتری قائم رکھی۔ اس بھرپور جواب نے واضح کر دیا کہ وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ہر جارحیت کا جواب فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔

    بنیان مرصوص صرف ایک آپریشن نہیں، یہ ایمان والوں کی وہ للکار ہے جو اب قرآنی آیات کی زبان میں گونجے گی۔ آرمی چیف نے تلاوتِ کلام کے بعد دعا کی اور آپریشن "بنیان مرصوص” کے تحت بھارت پر میزائل حملے شروع کیے گئے۔ "بنیان مرصوص” کا مطلب ‘سیسہ پلائی آہنی دیوار’ ہے۔

    پاکستان کی جوابی کارروائی میں بھارت کی ادھم پور، پٹھان کوٹ ایئربیس اور براہموس اسٹوریج تباہ ہو چکی ہیں جبکہ سائبر اٹیک کے ذریعے بھارت کے 70 فیصد بجلی کے گرڈ ناکارہ بنا دیے گئے ہیں۔

    یہ کارروائی 1999ء کے کارگل تنازع کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان سب سے سنگین کشیدگی ہے۔ یہ آپریشن اسلام آباد نے 7 سے 10 مئی تک کے بھارتی میزائل اور ڈرون حملوں کے "مناسب جواب” کے طور پر تیار کیا تھا۔

    > زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    > جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    پاکستان کے شاہین الحمدللہ اس صدی کے وہ زندہ جاوید مجاہد ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔

    > میرے دوستوں کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
    > وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا

    دیر سویر ہو سکتی ہے لیکن میری نمبر ون بدلہ نہیں چھوڑتی، یہ اس کی فطرت میں ہے۔

    > کھلبلی سی مچ گئی ہے کفر کے ایوان میں
    > جان دیکھو آ گئی ہے مومنوں کی جان میں
    > معرکہ ہرگز نہ تھا یہ صرف پاک و ہند کا
    > کفر تھا سارے کا سارا سامنے میدان میں

    مودی نے متکبر اور پرغرور لہجے میں کہا تھا "پاکستان ہم نے توڑا، مکتی باہنی ہم نے بنائی!”
    یقیناً مودی اور پورے بھارت کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ بدلے کا میدان کس کونے میں سجتا ہے۔

    یہ معرکہ صرف سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ نہیں تھا بلکہ یہ پوری قوم کے دلوں میں جلتی ہوئی ایک ایسی آگ تھی جس نے ہر پاکستانی کو ایک صف میں لا کھڑا کیا۔ اس آزمائش کی گھڑی میں قوم کا جذبہ، ماؤں کی دعائیں، بہنوں کے ڈھول، عوام کی محبت اور فوج کے جوانوں کا شوقِ شہادت ایک ایسا باب بن گئے جسے تاریخ صدیوں تک یاد رکھے گی۔

    > عزم تھا اور جوش بھی ہاں ولولہ اور ہوش بھی
    > تھا شہادت کا جنوں افواجِ پاکستان میں

    جب بھی وطن پر مشکل وقت آتا ہے تو سب سے پہلے ماؤں کی دعائیں آسمان تک پہنچتی ہیں۔ اس معرکے میں بھی پاکستان کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو دعاؤں کے حصار میں رخصت کیا۔ کسی ماں نے بیٹے کے ماتھے کو چوما، کسی نے قرآن سر پر رکھا، کسی نے آنسو چھپاتے ہوئے مسکرا کر کہا: بیٹا! سرحد پر جانا، مگر سر جھکنے نہ دینا۔ یہ دعائیں ہی تھیں جو ہمارے جوانوں کے حوصلے کو فولاد بناتی رہیں۔

    دوسری طرف بہنوں کا جذبہ بھی کسی سے کم نہ تھا۔ گلیوں اور محلوں میں جب جوان رخصت ہوتے تو بہنیں ڈھول کی تھاپ پر ان کی ہمت بڑھاتیں۔ یہ ڈھول کی آواز دراصل قوم کے اعتماد کی آواز تھی جو سپاہیوں کے دلوں میں گونجتی رہی کہ وہ اکیلے نہیں، پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    فوج کے جوانوں کا جوش اور شوقِ شہادت اس معرکے کی اصل طاقت تھا۔ جب کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے تو وہ صرف ایک انسان نہیں رہتا بلکہ ایک عہد بن جاتا ہے۔ ان جوانوں نے ثابت کیا کہ وطن کی محبت ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

    عام عوام نے بھی اس معرکے میں اپنی محبت اور تعاون سے مثال قائم کی۔ کوئی اپنے سپاہیوں کے لیے دعائیں کر رہا تھا، کوئی ان کے لیے کھانا اور امداد بھیج رہا تھا، کوئی سوشل میڈیا پر حوصلہ بڑھا رہا تھا۔ ہر جگہ ایک ہی آواز تھی: ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں۔

    اس معرکے نے ثابت کر دیا کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ جذبوں سے جیتی ہیں۔ جب ایک طرف جوان سرحد پر کھڑے ہوں اور دوسری طرف پوری قوم ان کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن جائے تو پھر کوئی طاقت اس قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔

    کسی بھی قوم کے لیے اس کی فوج سر کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب سر سلامت ہو تو پورا وجود محفوظ رہتا ہے۔ ہماری فوج بھی اسی طرح وطن کی عزت، وقار اور سلامتی کی علامت ہے۔ جب سپاہی سرحدوں پر جاگتے ہیں تو شہروں میں چراغ بے خوف جلتے ہیں، بچے سکون سے سوتے ہیں اور مائیں اطمینان کی سانس لیتی ہیں۔ عوام کو یقین ہوتا ہے کہ ہمارے محافظ بیدار ہیں، اس لیے ہمارا کل محفوظ ہے۔ یہی اعتماد قوم کی طاقت بنتا ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو فوج اور عوام کو ایک مضبوط دیوار کی طرح جوڑ دیتا ہے۔

    یہ لمحے، یہ قربانیاں اور یہ جذبے وقت کے ساتھ مٹنے والے نہیں۔ آنے والی نسلیں جب تاریخ پڑھیں گی تو انہیں بتایا جائے گا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب پوری قوم ایک دل، ایک آواز اور ایک پرچم کے نیچے کھڑی ہو گئی تھی۔

    > روشنی بن کے اندھیروں میں اتر جاتے ہیں
    > ہم وہی لوگ ہیں جو جاں سے گزر جاتے ہیں
    > آگے بڑھنا ہے تو رستہ ہے شہادت والا
    > جہاں دستار نہیں جاتی، ہے سر جاتے ہیں

    _پاک فوج پائندہ باد
    پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • معرکہ حق: ہم بنیان مرصوص ہیں.تحریر: عصمت اسامہ

    معرکہ حق: ہم بنیان مرصوص ہیں.تحریر: عصمت اسامہ

    وطن عزیز پاکستان اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت اور امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز و محور ہے۔ہمارے ملک کی قومی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتحاد اور یک جہتی کی بدولت ایک سال کے اندر پاکستان کو وہ اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے جو اس سے قبل حاصل نہیں تھا۔پاکستان "معرکہء حق” میں دنیا کے سامنے اپنی حکمت عملی ، پیشہ ورانہ مہارت اور عسکری طاقت کے جوہر دکھا چکا ہے ۔ گزشتہ سال مئی میں بھارتی سرکار نے انتہا پسند ” ہندوتوا” کےزیر اثر ،اپنے تئیں ریاست پاکستان کو غافل سمجھ کر حملہ کردیا ،شہری آبادیوں میں ڈرون بھیجے گئے اور لڑائی کا ماحول بنادیا۔ بھارت کا دفاعی بجٹ ہم سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن پھر بھی پاکستان اپنے دشمن کے خلاف چوکنا تھا چنانچہ ساری قوم سبز ہلالی پرچم تلے متحد ، یک جان ہوکر ” بنیان مرصوص ” ( سیسہ پلائی دیوار) بن گئی ۔شہریوں نے بھی اپنے ہتھیار نکالے اور فوج کے جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر حملہ آور ڈرون گرانے لگے۔ پاک فورسز نے بھارت کا 400-S دفاعی نظام بھی اڑا کے رکھ دیا ۔ دشمن کے سات طیارے مار گراۓ بلکہ ہمارے شاہینوں نے بھارت کے اندر جاکے گجرات اسلحہ ڈپو بھی تباہ کردیا۔پاکستانی سوشل میڈیا واریئرز اور لکھاریوں نے اپنے قلم اور کی بورڈز کے ساتھ دفاع پاکستان کے بیانیے کی جنگ لڑی اور اپنی حب الوطنی ، دلیری و مضبوط مؤقف کو دنیا کے سامنے ثابت بھی کر دکھایا،آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں نے سائبر فورس کے طور پر مورچہ سنبھالا اور بھارت کے سائبر سسٹم کو ہیک کرلیا۔ جب فرانس سے خریدے گئے طیاروں رافیل کو پاکستانی پائلٹوں نے بفضلِ الہی مار گرایا تو پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکا بج گیا، پاکستانی پائلٹوں کو ” کنگز آف دا سکائیز ” کا لقب دیا گیااور بھارتی وزیراعظم مودی کو امریکی صدر ٹرمپ سے درخواست کرکے جنگ رکوانا پڑی۔

    بھارت کے ” آپریشن سیندور” کو پاکستان کے ” معرکہء حق” نے ” آپریشن تندور” میں بدل دیا ۔ بھارت کو یہ شکست ہضم کرنا مشکل ہوگئی کیوں کہ پوری دنیا نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے جب بیان دیا کہ دریاؤں میں پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے تو ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بروقت جواب دیا کہ اگر تم ہمارا پانی بند کروگے تو ہم تمہارا سانس بند کردیں گے!۔ مؤثر حکمت عملی سےعالمی سطح پر پاکستان کا نہ صرف وقار بلند ہوا ہے بلکہ دیگر ممالک پاکستان سے جنگ سیکھنے کی درخواست کر رہے ہیں ۔ پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر وزراء کے ساتھ مسلمان برادر ممالک کے کئی دورے کیے ہیں ،سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا دفاعی معاہدہ یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ” محافظ _حرمین شریفین” کے اعلی مقام کے لئے چن لیا ہے۔

    ‏ بھارتی وزیراعظم مودی کا بیان ہے کہ آپریشن سندور بند نہیں ہوا ۔ممکنہ طور پر وہ کسی بڑے حملے کی تیاری میں ہے ۔بھارتی جنگ تین اقسام کی ہوسکتی ہے
    1: نفسیاتی و اعصابی جنگ، سفارتی سطح پر لابنگ یا پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشن وغیرہ-
    2: دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے قومی اداروں، فوج اور عوام پر حملے ،دھماکے یا خودکش حملے کروانا-
    3: غلط خبروں ، فیک پروپیگنڈہ اور کردار کشی کی میڈیا وار کے ذریعے بحران برپا کرنا-
    ان حالات میں پاکستانی عوام کو دشمن کی پراکسیز سے ہوشیار رہنے ،حالات حاضرہ سے باخبر رہنے اور اپنی صفوں میں اتحاد و یک جہتی برقرار کی ضرورت ہے۔ سنی سنائی باتوں ،افواہوں اور بے بنیاد پروپیگنڈہ سے اپنا دامن بچانا ہوگا تاکہ بے خبری میں کسی اپنے کو نقصان نہ پہنچا بیٹھیں۔

    آج سے 78 برس قبل ہمارے آباؤ اجداد نے اس آزادی کو حاصل کرنے کے لئے آگ اور خون کے کتنے دریا عبور کئے اور پھر کہیں جا کر وہ اس قابل ہوۓ کہ اپنی آئندہ نسلوں کو ،اپنے بچوں کو آزاد فضا اور زمین دلا سکیں -ہم نے اپنے رب سے مانگا کہ ہمیں ایک خطۂ زمین عطا کر جہاں ہم اپنے دین اور اپنے تشخص کے مطابق زندگی گزار سکیں اور رب نے ہمیں وہ خطہ عطا کردیا !

    الحمدللہ،وطن عزیز پاکستان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تحفۂ خاص ہے بہترین زرخیز زمین ،بہترین آب و ہوا،بہترین موسم ،بہترین انسانی وسائل ،بہترین سمندری بندرگاہیں،بلند ترین پہاڑی چوٹیاں ،ہیرے جواہرات اور معدنی ذخائر سے مالا مال پہاڑ ۔اللہ نے ہم پہ اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں ، کمی اگر ہے تو ہماری کوششوں میں ہے کہ ہم نے اپنے وطن کو جس مقصد کے لیے حاصل کیا تھا ،اس مقصد کے لئے محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ مقصد وطن عزیز پاکستان کو ایک "جدید اسلامی فلاحی ریاست” بنانا ہے جس میں تمام شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق میسر ہوں۔ عدالتیں اپنے فیصلے قرآن وسنت کے مطابق کریں۔ جہاں غریب طبقہ بھی خوش حال ہوسکے ۔جہاں امن وامان قائم ہو ،جہاں کسی کمزور کو کسی طاقت ور سے خطرہ لاحق نہ ہو ۔جہاں معاشرہ خدا خوفی اور انسانی ہمدردی کی اقدار پر چلتا ہو۔جہاں بچوں اور جوانوں کے لئے تعلیم کا حصول ممکن ہو ،جہاں بزرگوں کو سینئیر سیٹیزن وظیفہ ملتا ہو اور انھیں پنشن گھر بیٹھے مل جایا کرے۔ ہسپتالوں میں ہر عام وخاص کو علاج معالجہ کی یکساں سہولیات میسر ہوں۔یہ تاریخ ساز لمحات ہیں کہ چند سال قبل تک ہمیں ایک ناکام ریاست سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ وطن دنیا بھر کی آنکھ کا تارا بن چکا ہے۔ "پاکستان کو امن کے سفیر” کے طور پر سراہا جارہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنا امیج برقرار رکھنے کے ساتھ عوام کی حالتِ زار پر بھی توجہ دی جائے ،مہنگائی ختم کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں،آئی ایم ایف سے قرضے معاف کروائے جائیں ۔ دعا ہے کہ وطنِ عزیز ہمیشہ سلامت رہے اور عالم_اسلام کے دکھوں کا مداوا بھی کرسکے۔آمین۔

    ~ خون دل دے کر نکھاریں گے رخ برگ گلاب ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے!

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر: چوہدری مجاہد حسین

    ہم بنیان مرصوص ہیں ، تحریر: چوہدری مجاہد حسین

    تمہید: ازل کی پکار اور الٰہی انتخاب
    کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بکھر جانا فنا ہے اور جڑ جانا زندگی ہے۔ خالقِ کائنات نے جب شعورِ انسانی کی بنیاد رکھی، تو اسے ‘ اجتماعیت ‘ کے نور سے منور کیا۔ ” بنیانِ مرصوص ۔یہ صرف دو الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جہاں مادہ فنا ہو جاتا ہے اور مقصد زندہ رہتا ہے۔ یہ وہ آہنی دیوار ہے جس کی بنیادیں زمین کی گہرائیوں میں نہیں، بلکہ ایمان کی پختگی میں پیوست ہوتی ہیں۔ جب حق و باطل کا معرکہ برپا ہو، جب طوفانِ بلا خیز صفوں کو درہم برہم کرنے نکلے، اور جب دشمن کی نگاہیں دراڑوں کی تلاش میں ہوں، تب قدرت پکار کر کہتی ہے:

    بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیان مرصوص) ہیں۔(سورۃ الصف: 4)

    لغوی و اصطلاحی تشریح
    لفظ بنیان بنا سے نکلا ہے جس کے معنی عمارت کے ہیں، اور مرصوص کا مادہ ‘ رصص ہے، جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی چیز یا ایسی چیز جسے جوڑ کر ایک جان کر دیا گیا ہو۔ عربی زبان میں اس اصطلاح کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی دیوار کی اینٹوں کے درمیان پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا جائے تاکہ وہ ایک ٹھوس چٹان بن جائے۔ یہ اصطلاح ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مومن کا دوسرے مومن کے ساتھ تعلق محض سماجی نہیں بلکہ ساختاری (Structural) ہے۔ جس طرح ایک بلند و بالا عمارت اپنی مضبوطی کے لیے ہر ہر اینٹ کی مرہونِ منت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح اسلام کا معاشرتی ڈھانچہ بھی ہر فرد کے اخلاص اور ایثار سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی اینٹ اپنی جگہ سے ہٹی یا اس نے کمزوری دکھائی، تو پوری دیوار کے گرنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

    تاریخی تناظر: جب دیواریں سربلند تھیں
    تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے خود کو "بنیانِ مرصوص” کے سانچے میں ڈھالا، تو وقت کے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اٹھے۔ مواخاتِ مدینہ کی صورت میں جو دیوار کھڑی کی گئی، اس نے ثابت کر دیا کہ خون کے رشتوں سے زیادہ طاقتور ‘عقیدے کا رشتہ’ ہوتا ہے۔ وہ انصار اور مہاجرین ہی تھے جنہوں نے اپنی انا، اپنی جائیداد اور اپنے قبیلے کی دیواریں گرا کر ایک ایسی آہنی فصیل تیار کی جس کے سائے میں اسلام کا پودا ایک تناور درخت بنا۔

    غزوہ خندق ‘بنیانِ مرصوص’ کی ایک عظیم الشان عملی تصویر نظر آتی ہے ۔ جب دس ہزار کا لشکرِ کفار مدینہ کے محاصرے کے لیے پہنچا، تو مسلمان تعداد میں کم اور وسائل میں پیچھے تھے، مگر ان کے درمیان جو فکری اور جسمانی اتحاد تھا، اس نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ صحابہ کرام رضی الله تعالٰی عنہما نے بھوک اور سردی کی شدت کے باوجود، خندق کھودتے وقت جس یگانگت کا ثبوت دیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے مثال ہے۔ وہاں کوئی سردار تھا نہ کوئی غلام، بلکہ سب ایک ہی مقصد کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ خود اس دیوار کی سب سے مضبوط اینٹ بن کر اپنے دستِ مبارک سے پتھر توڑ رہے تھے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے ثابت کیا کہ جب ارادے جواں ہوں اور صفیں متحد ہوں، تو مادی قوتیں ہیچ ثابت ہوتی ہیں۔

    بقولِ حکیم الامت علامہ اقبال
    > فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
    > موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

    موجودہ دور کا کرب اور فکری انتشار
    آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معرکہِ حق و باطل اپنے عروج پر ہے۔ غزہ کی پکار ہو یا کشمیر کی سسکیاں، ہر جگہ ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ "وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کہاں ہے؟ ۔افسوس کہ ہم نے دیوار کی مضبوطی کے بجائے اینٹوں کے رنگ اور نسل پر بحث شروع کر دی۔ ہمیں کبھی قومیت کے نام پر بانٹا جاتا ہے، کبھی لسانی بنیادوں پر دست و گریبان کیا جاتا ہے اور کبھی فرقہ واریت کی آگ میں جھونکا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کو ہمارے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ہماری صفوں میں بدگمانی کے بیج بوئے جائیں۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑ صرف باہر سے نہیں پڑتی، بلکہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں یا ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہیں، تو ہم دراصل اس آہنی دیوار کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے رکھی تھی۔ دشمن اب براہِ راست حملوں کے بجائے ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    ہم بنیانِ مرصوص کیوں ہیں؟
    ہم بنیانِ مرصوص اس لیے ہیں کیونکہ ہمارا کلمہ ایک ہے، ہمارا قبلہ ایک ہے اور ہمارا غم ایک ہے۔ ہماری قوت کا سرچشمہ وہ ایمان ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو قوت بخشتا ہے۔

    ہمیں آج پھر سے وہی عزم دہرانا ہے کہ ہماری صفوں میں کوئی دراڑ نہیں ہوگی، ہماری آواز میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا، اور ہمارا عمل صرف اور صرف رضائے الٰہی کے لیے ہوگا۔ اقبال نے امت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا:
    > بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
    > نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

    عملِ پیہم اور انفرادی ذمہ داری
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم دوبارہ ‘بنیانِ مرصوص’ کیسے بن سکتے ہیں؟ اس کا آغاز کسی بڑے اجتماع سے نہیں بلکہ ہر فرد کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہر مسلمان کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ اس دیوار کی ایک اینٹ ہے۔ اگر وہ ایماندار ہے، اگر وہ بااخلاق ہے، اور اگر وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے کرتا ہے، تو وہ دیوار مضبوط ہو رہی ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں، اپنی مساجد اور اپنے گھروں میں نفرت کے بجائے محبت کا درس دینا ہوگا۔ ہمیں وہ سیمنٹ فراہم کرنا ہے جو دلوں کو جوڑ دے۔ جب تک ہماری معیشت، ہماری سیاست اور ہماری سماجیات قرآن کے اس اصول کے تابع نہیں ہوں گی، ہم محض ایک ہجوم رہیں گے، قوم نہیں بن سکیں گے۔

    اختتام: فتح کا یقین اور عزمِ صمیم
    "ہم بنیانِ مرصوص ہیں .یہ محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے اس باطل کے خلاف جو ہماری صفوں میں انتشار دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ عہد ہے اس ظلم کے خلاف جو ہمیں تنہا پا کر کچلنا چاہتا ہے۔ معرکہِ حق میں وہی سرخرو ہوتا ہے جو اپنے بھائی کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے۔

    آئیے! آج ہم عہد کریں کہ ہم وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنیں گے جس سے ٹکرا کر وقت کے فرعون پاش پاش ہو جائیں گے۔ ہم وہ فصیل بنیں گے جو انسانیت کی محافظ ہو، جو مظلوم کی پناہ گاہ ہو اور جو باطل کے لیے قہرِ الٰہی ہو۔ اگر ہم ایک ہو گئے، تو پھر زمین و آسمان کی کوئی طاقت ہمیں نیچا نہیں دکھا سکتی۔ ہمارا اتحاد ہی ہماری جیت ہے، ہمارا پیار ہی ہمارا ہتھیار ہے، اور ہماری یگانگت ہی وہ بنیانِ مرصوص ہے جس کا وعدہ اللہ نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے۔

    فتح ہمارا مقدر ہے، کیونکہ ہم حق پر ہیں، اور ہم متحد ہیں-
    *ہم بنیانِ مرصوص تھے، ہم بنیانِ مرصوص ہیں، اور ان شاء اللہ، ہم بنیانِ مرصوص رہیں گے ۔

    اللہ آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو!

  • بنیان مرصوص ،تحریر: فضاء ذولفقار علی

    بنیان مرصوص ،تحریر: فضاء ذولفقار علی

    سن 2095 کا زمانہ تھا۔ زمین پر ٹیکنالوجی بہت ترقی کر چکی تھی، مگر اس کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا تھا انسانوں کے درمیان دوریاں۔ لوگ اب ایک دوسرے سے ملنے کے بجائے مشینوں پر زیادہ انحصار کرنے لگے تھے۔

    شہر “نیورا” اس جدید دنیا کا سب سے ترقی یافتہ شہر تھا۔ یہاں ہر کام روبوٹس کرتے تھے، اور انسان صرف اپنے اپنے کمروں میں بیٹھ کر اسکرینوں کے ذریعے زندگی گزارتے تھے۔ باہر کی دنیا میں سناٹا تھا، اور انسانوں کے درمیان تعلق تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
    اسی شہر میں ایک 16 سالہ لڑکی، عائشہ، رہتی تھی۔ وہ باقی لوگوں سے مختلف تھی۔ اسے پرانی کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا، خاص طور پر وہ کہانیاں جن میں لوگ مل کر کام کرتے تھے، ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔
    ایک دن اسے اپنے دادا کی پرانی ڈائری ملی۔ اس میں ایک لفظ بار بار لکھا تھا:
    “بنیانِ مرصوص”
    عائشہ نے حیرت سے سوچا، “یہ کیا ہے؟”
    ڈائری کے ایک صفحے پر لکھا تھا:
    “جب انسان ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں، تو وہ ایسی مضبوط دیوار بن جاتے ہیں جسے کوئی طاقت نہیں توڑ سکتی۔”
    یہ پڑھ کر عائشہ کے دل میں ایک عجیب سی خواہش پیدا ہوئی کیا آج کے زمانے میں بھی ایسا ممکن ہے؟
    اسی دوران ایک خطرناک خبر پھیلی۔ شہر کے مرکزی سسٹم، جسے “نیوراکور” کہا جاتا تھا، میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ سسٹم پورے شہر کی بجلی، پانی، اور سیکیورٹی کو کنٹرول کرتا تھا۔
    اگر یہ مکمل طور پر بند ہو جاتا، تو شہر میں تباہی پھیل سکتی تھی۔
    حکومت نے روبوٹس کو مسئلہ حل کرنے کا حکم دیا، مگر یہ خرابی بہت پیچیدہ تھی۔ روبوٹس بار بار ناکام ہو رہے تھے۔
    لوگ اپنے کمروں میں بیٹھے گھبرا رہے تھے، مگر کوئی باہر نکلنے کو تیار نہ تھا۔
    عائشہ نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ کرے گی۔ وہ شہر کے کنٹرول سینٹر پہنچی، جہاں چند لوگ پریشان کھڑے تھے۔ سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، مگر کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔
    عائشہ نے بلند آواز میں کہا،
    “ہم سب مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں!”
    ایک آدمی ہنسا،
    “یہ کام مشینیں نہیں کر پا رہیں، ہم کیا کریں گے؟”
    عائشہ نے جواب دیا،
    “مشینوں میں دل نہیں ہوتا، وہ ایک دوسرے کو سمجھ نہیں سکتیں۔ مگر ہم انسان ہیں، اگر ہم اکٹھے ہو جائیں تو کچھ بھی کر سکتے ہیں!”
    اس کی بات سن کر چند لوگ رک گئے۔ ایک انجینئر آگے بڑھا اور بولا،
    “میں سسٹم کو سمجھ سکتا ہوں، مگر مجھے مدد چاہیے ہوگی۔”
    پھر ایک اور لڑکی بولی،
    “میں کوڈنگ جانتی ہوں، میں بھی مدد کر سکتی ہوں۔”
    آہستہ آہستہ لوگ شامل ہونے لگے۔
    کنٹرول سینٹر میں پہلی بار انسان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ کوئی ڈیٹا چیک کر رہا تھا، کوئی وائرنگ ٹھیک کر رہا تھا، کوئی پلان بنا رہا تھا۔

    شروع میں مشکلات آئیں۔ لوگ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے، کبھی غلطیاں ہوتیں، مگر اب وہ رکنے والے نہیں تھے۔
    عائشہ نے سب کو یاد دلایا،
    “ہمیں بنیانِ مرصوص بننا ہے ایک مضبوط دیوار!”
    یہ الفاظ سب کے دلوں میں ہمت پیدا کرتے۔
    گھنٹوں کی محنت کے بعد انہیں مسئلے کی جڑ مل گئی۔ سسٹم کے ایک حصے میں ایسا وائرس داخل ہو گیا تھا جو روبوٹس کو الجھا رہا تھا۔
    اب سب نے مل کر ایک نیا حل تیار کیا۔ انجینئر نے سسٹم کھولا، کوڈر نے وائرس کو ختم کیا، اور باقی لوگوں نے سپورٹ دی۔
    آخرکار ایک لمحہ آیا جب سب نے سانس روک لی…
    اور پھر سسٹم دوبارہ چل پڑا۔
    پورے شہر میں روشنی پھیل گئی۔ بجلی بحال ہو گئی، پانی کا نظام درست ہو گیا، اور خطرہ ٹل گیا۔

    لوگوں کے چہروں پر خوشی تھی، مگر اس بار یہ خوشی مختلف تھی۔ یہ صرف کامیابی کی خوشی نہیں تھی، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہونے کی خوشی تھی۔
    ایک بوڑھے آدمی نے کہا،
    “ہم نے سالوں بعد آج ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا ہے… اور ہم کامیاب ہو گئے!”
    عائشہ مسکرائی اور بولی،
    “کیونکہ ہم بنیانِ مرصوص بن گئے تھے۔”
    اس واقعے کے بعد شہر “نیورا” بدل گیا۔ لوگ اب صرف مشینوں پر انحصار نہیں کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے سے ملتے، بات کرتے، اور مل کر کام کرتے۔
    شہر میں دوبارہ زندگی آ گئی تھی۔
    عائشہ نے اپنے دادا کی ڈائری بند کی اور آسمان کی طرف دیکھا۔
    “آپ ٹھیک کہتے تھے… اصل طاقت اتحاد میں ہے۔”
    چاہے زمانہ کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، انسان کی اصل طاقت اس کے اتحاد میں ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، تو وہ بنیانِ مرصوص بن جاتے ہیں—ایک ایسی مضبوط قوت جسے کوئی مشکل شکست نہیں دے سکتی۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مقیتہ وسیم

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مقیتہ وسیم

    قرآنِ حکیم میں "بنیان مرصوص” ایک ایسی مضبوط، منظم اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کو کہا گیا ہے جس کی اینٹیں ایک دوسرے سے اس طرح جڑی ہوں کہ کوئی طاقت انہیں کمزور نہ کر سکے۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں بلکہ اجتماعی قوت، اتحاد، نظم، قربانی اور مشترکہ مقصد کا عظیم استعارہ ہے۔ جب افراد اپنی انا، مفاد اور اختلافات سے بلند ہو کر ایک نصب العین کے لیے یکجا ہوتے ہیں تو وہی قوم "بنیان مرصوص” بن جاتی ہے۔ آج کے منتشر دور میں یہ پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ انفرادی طاقت محدود ہوتی ہے مگر متحد قومیں تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں۔

    ہماری زندگی کا ہر شعبہ ہمیں اتحاد کی اہمیت سکھاتا ہے۔ ایک گھر اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے افراد محبت، احترام اور تعاون سے جڑے ہوں۔ ایک معاشرہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے شہری ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ایک قوم اس وقت ناقابلِ شکست بنتی ہے جب اس کے افراد ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ اگر اینٹیں بکھری رہیں تو دیوار نہیں بنتی مگر جب یہی اینٹیں مضبوط ربط میں آ جائیں تو بڑے سے بڑا طوفان بھی انہیں گرا نہیں سکتا۔ یہی فلسفہ قوموں کی تعمیر کا بنیادی اصول ہے۔

    اسلام نے بھی اجتماعیت، اخوت اور اتحاد کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ نماز باجماعت سے لے کر حج کے عالمی اجتماع تک، ہر عبادت مسلمانوں کو وحدت کا درس دیتی ہے۔ صفوں میں کھڑے نمازی اس حقیقت کی عملی تصویر ہوتے ہیں کہ رنگ، نسل، زبان اور مقام سے بالاتر ہو کر سب ایک مقصد کے لیے متحد ہیں۔ یہی اتحاد مسلمانوں کی اصل قوت ہے۔ جب قومیں اپنے باہمی اختلافات میں الجھ جاتی ہیں تو ان کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے مگر جب وہ مشترکہ نصب العین کے تحت متحد ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔

    تاریخ گواہ ہے کہ بڑی کامیابیاں ہمیشہ اجتماعی قوت سے حاصل ہوئیں۔ جنگیں ہوں، تحریکیں ہوں یا قوموں کی تعمیر، کامیابی انہی کو ملی جنہوں نے اتحاد کو اپنایا۔ قیامِ پاکستان بھی اسی "بنیان مرصوص” کی روشن مثال ہے، جہاں بے شمار قربانیوں، مشترکہ جدوجہد اور ایک واضح مقصد نے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن عطا کیا۔ اگر اس وقت مسلمان منتشر رہتے تو شاید تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ یہ سبق آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ قومی ترقی کا راز باہمی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔

    بدقسمتی سے موجودہ دور میں فرقہ واریت، لسانیت، تعصب اور ذاتی مفاد نے اجتماعی قوت کو کمزور کیا ہے۔ ہم نے اپنی صفوں میں ایسی دراڑیں پیدا کر لی ہیں جو ہماری قومی بنیادوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ بھلائی کے لیے سوچیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرے اور معاشرتی بہتری میں اپنا کردار ادا کرے تو ہم ایک بار پھر مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔

    نوجوان نسل اس خواب کی تعبیر میں کلیدی کردار رکھتی ہے۔ نوجوان اگر علم، کردار، دیانت اور قومی شعور سے آراستہ ہوں تو وہ قوم کی منتشر اینٹوں کو دوبارہ جوڑ سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ نفرت کے بجائے محبت، تقسیم کے بجائے وحدت اور مایوسی کے بجائے امید کو فروغ دیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی نوجوان مثبت سوچ، تعمیری گفتگو اور قومی یکجہتی کے سفیر بن سکتے ہیں۔

    "ہم بنیان مرصوص ہیں” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے کہ ہم ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے، کمزوری نہیں۔ ہم نفرت کے بجائے محبت، انتشار کے بجائے اتحاد اور خود غرضی کے بجائے اجتماعی بھلائی کو فروغ دیں گے۔ جب ہر فرد اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا ہو اور دوسروں کے ساتھ جڑا ہو تو پوری قوم ناقابلِ تسخیر بن جاتی ہے۔

    آج ہمیں اس پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مضبوط قومیں صرف وسائل سے نہیں بنتیں بلکہ مضبوط کردار، باہمی اعتماد اور اجتماعی شعور سے وجود میں آتی ہیں۔ اگر ہم واقعی ترقی، استحکام اور عزت چاہتے ہیں تو ہمیں "بنیان مرصوص” بننا ہوگا۔ ایک ایسی مضبوط دیوار، جسے کوئی دشمن، کوئی بحران اور کوئی سازش کمزور نہ کر سکے۔

    یقیناً، ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ایک ہوں، مضبوط ہوں اور اپنے مقصد میں ثابت قدم رہیں۔ کیونکہ جب قومیں "بنیان مرصوص” بن جاتی ہیں تو تاریخ انہیں ہمیشہ عزت، وقار اور کامیابی کے الفاظ میں یاد رکھتی ہے۔

    یہ وقت خواب دیکھنے کا نہیں بلکہ عملی بیداری کا ہے۔ ہمیں اپنے رویوں، ترجیحات اور قومی کردار کو ازسر نو ترتیب دینا ہوگا۔ ہر شہری اگر اپنے حصے کی شمع روشن کرے تو اجتماعی روشنی پورے وطن کو منور کر سکتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قوموں کی عظمت ان کے اتحاد، نظم و ضبط اور مشترکہ جدوجہد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ہم ایک مضبوط دیوار کی مانند جڑ جائیں گے تو نہ صرف اپنی بقا یقینی بنائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی استحکام، ترقی اور سربلندی کی نئی بنیاد رکھ سکیں گے۔

  • معرکہ حق بنیان المرصوص ،تحریر:تابندہ طارق عکس

    معرکہ حق بنیان المرصوص ،تحریر:تابندہ طارق عکس

    گاؤں کی پرانی مسجد کے صحن میں شام ڈھلتے ہوئے آسمان پر سنہری روشنی پھیل رہی تھی اور بچے ہمیشہ کی طرح عادل صاحب کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے سوائے حمزہ کے وہ ایک جگہ پرسکون حالت میں براجمان ہونے سے قاصر تھا۔حمزہ جتنا زیادہ شرارتی تھا اس سے کئی گنا زیادہ ذہین تھا۔صحن میں اچھلتے کودتے اسے ایک اخبار ملا وہ اس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ایک لفظ پر اٹک گیا اور کہنے لگا۔
    "دادا ابو! بنیان المرصوص کیا ہوتا ہے؟” حمزہ نے معصومیت سے پوچھا۔
    عادل صاحب نے اپنی عینک درست کی اور مسکرا کر بولے۔
    "بیٹا! بنیان المرصوص کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ایسی دیوار جس میں دراڑ نہ ہو، جس کی اینٹ سے اینٹ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہو۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:-”
    "مومن آپس میں بنیان المرصوص کی مانند ہیں۔”
    عائشہ تجسّس بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔ "تو کیا ہمارے سپاہی بھی ایسے ہوتے ہیں؟”
    عادل صاحب نے گہرا سانس لیا۔ "ہاں بیٹا! جب وطن پر مشکل وقت آتا ہے تو ہمارے سپاہی، ہمارے سائنسدان، ہمارے ڈاکٹر، ہمارے انجینئر سب ایک دیوار بن جاتے ہیں۔ یہی ہے معرکۂ حق بنیان المرصوص۔”
    بچوں کی دلچسپی بڑھ گئی۔ دادا ابو نے کہانی شروع کی۔

    "بچوں!یہ ان دنوں کی بات ہے جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ دشمن نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ ہمیں خوفزدہ کر سکتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وہ قوم ہے جس کے جوانوں نے 1965ء اور 1971ء میں بھی تاریخ رقم کی تھی اور جس کی افواج کا نظم و ضبط دنیا میں مثال سمجھا جاتا ہے۔”
    حمزہ حیرت سے کہنے لگا۔
    "دادا جان! پھر کیا ہوا تھا؟”
    "میرا بڑا بیٹا علی رضا! سرحد پر تعینات ہے لیکن جب اس نے ماں کی آواز فون پر سنی تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔وہ اپنی ماں سے کچھ نہیں کہہ سکا۔اس نے مجھ سے بات کی لیکن میں بس اتنا ہی کہہ پایا تھا۔”
    "بیٹا!اپنا خیال رکھنا۔”
    "بابا! آپ دعا کریں ہم سب مل کر دشمن کو دھول چٹوا دیں گے دشمن کے ارادے خاک میں ملا دیں گے ہم اپنی عرض پاک کے محافظ ہیں۔ دشمن ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائے گا۔”
    سب بچے یکسوئی سے دادا جی کی باتوں سے استفادہ حاصل کر رہے تھے۔

    اسی وقت محاذ کے دوسری طرف بری فوج کے جوان مستعد کھڑے تھے۔ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کی داستانیں نئی نہیں تھیں۔ پاک فوج کے جوانوں کے چہروں پر عزم کی روشنی تھی۔
    فضا میں گرج کی آواز گونجی یہ پاک فضائیہ کے شاہین تھے۔
    پاک فضائیہ کے پائلٹ آسمانوں میں دشمن کی ہر چال کا جواب دے رہے تھے۔ اسکواڈرن لیڈر سارہ کی آواز ریڈیو پر گونجی جس نے سب کے حوصلے اور بلند کر دیے تھے۔
    "ہم تیار ہیں وطن کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔”
    سمندر کی لہروں میں پاک بحریہ کے جہاز گہرے پانیوں میں مستعد تھے۔ کمانڈر فہد اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔
    "ہماری نگاہیں ہر سمت ہیں۔ دشمن سمندر کے ذریعے بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔”
    لیکن یہ معرکہ صرف بندوقوں اور جہازوں کا نہیں تھا۔دور ایک خفیہ تحقیقی مرکز میں پاکستانی سائنسدان مصروف تھے۔ وہ دن رات جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہے تھے۔ ڈاکٹر حارث نے اپنی ٹیم کو جوش دلاتے ہوئے کہا۔
    "ہماری محنت بھی اسی دیوار میں سنجوئی ہوئی اینٹ کی طرح ہے۔ اگر ہم ان کی ہمت بڑھائیں گے تو سپاہیوں کے حوصلے اور بھی مضبوط ہوں گے۔”
    ان سائنسدانوں کو اپنے محسنوں کی یاد تھی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے عظیم سائنسدان جنہوں نے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر بنایا اور انہیں وہ دن بھی یاد تھے جب ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی قیادت میں قوم نے سائنسی میدان میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا تھا۔ڈاکٹر حارث نے مسکرا کر کہا۔
    "ہم صرف ہتھیار نہیں بناتے بلکہ ہم امن کی ضمانت بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”

    گاؤں کے اسکول میں اسمبلی ہو رہی تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے بچوں سے مخاطب ہوئی۔
    "بچو! وطن صرف جنگ جیتنے سے نہیں بنتا بلکہ ہم سب کے اتحاد،ایمان،بھائی چارہ اور یکتا ہوکر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ایک دیوار کی مانند مضبوطی سے کھڑا ہونے سے بنتا ہے۔”
    حمزہ نے ہاتھ اٹھایا اور سنجیدگی سے کہنے لگا۔ "میم! ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
    "بچوں! تم محنت سے پڑھو، سچ بولو، ملک سے محبت کرو، یہی تمہارا معرکہ ہے۔”
    بچے یک زبان ہو کر بولے، "پاکستان زندہ باد!”

    سرحد پر رات گہری ہو چکی تھی۔ دشمن نے ایک بار پھر پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تھی مگر ہر سمت سے اسے مضبوط مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بری فوج زمین پر ڈٹی ہوئی تھی، فضائیہ نے فضاؤں کے ذریعے جم کر مقابلہ کیا،بحریہ نے سمندر کی راہوں پر پہرہ سخت کر دیا اور سائنسدانوں کی ٹیکنالوجی نے دشمن کی ہر چال ناکام بنا دی تھی۔اپنی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے ان کے سارے سسٹم ہیک کر کے تباہ کر دیے تھے۔یہ صرف جنگ نہ تھی، یہ اتحاد کی قوت تھی۔ایک لمحے کو ایسا لگا جیسے پوری قوم کئی جسم اور ایک جان بن گئے ہوں۔ مسجدوں میں دعائیں ہو رہی تھیں، مائیں سجدوں میں بیٹھی تھیں، بچے اپنے سپاہیوں کے لیے کارڈ بنا رہے تھے۔آخرکار دشمن کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔صبح کی اذان کے ساتھ فضا میں امن کی خوشبو پھیل گئی۔ سپاہی علی رضا نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر زمین پر ماتھا ٹیک کر سجدہ شکر ادا کیا۔سارے سپاہی ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارکباد پیش کرنے لگے۔علی رضا نے ہاتھ اٹھا کر نعرہ بلند کیا۔
    "نعرہ تکبیر!”
    سارے سپاہی علی رضا کی آواز پر یک زبان ہو کر جوابا نعرہ بلند کرنے لگے۔
    "اللّٰہ اکبر!”
    "پاکستان کا مطلب کیا؟”
    سارے سپاہی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کہنے لگے۔
    "لا اله الا اللّٰہ!”
    وطن کے محافظ اپنی جانوں کی پراہ کئے بغیر دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے رہے ان کے ماتھے پر ڈر کی ہلکی شکن بھی نہ پڑی جس جرأت سے دشمن کے ہر وار کو ناکام بنایا تھا وہ قابل تحسین تھا۔

    معمول کے مطابق شام کے وقت بچے عادل صاحب کے پاس آنا شروع ہو گئے تھے۔آج حمزہ حیرت سے دادا ابو کو دیکھ رہا تھا۔عادل صاحب بھی حمزہ کی حیرت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ کچھ نہ سمجھ پائے پھر حمزہ سے برائے راست ہی پوچھ لیا۔
    "حمزہ بیٹا! کیا ہوا ہے؟آج کوئی شرارت نہیں سب ٹھیک ہے نا؟”
    "دادا ابو! میں کچھ سوچ رہا ہوں۔”
    عادل صاحب اس کی مستقل مزاجی سے تجسّس کا شکار ہوتے ہوئے کہنے لگے۔
    "بیٹا! کیا سوچ رہے ہو ہمیں بھی اپنی قیمتی سوچ سے آگاہ کرو تاکہ ہمیں بھی علم ہو سکے۔”
    حمزہ عادل صاحب کے پوچھنے پر ان کے سامنے آکر کھڑا ہو کر کہنے لگا۔
    "دادا ابو! تو کیا ہم بھی بنیان المرصوص بن سکتے ہیں؟” عادل صاحب نے شفقت سے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    "ہاں بیٹا!کیوں نہیں۔”
    حمزہ ہاتھ کے اشارے سے کہنے لگا۔
    "لیکن دادا ابو! کیسے؟”
    "بیٹا!جب ہم آپس میں نفرت چھوڑ دیں ایک دوسرے کی مدد کریں، سچائی اور محنت کو اپنا شعار بنا لیں، تب ہم سب بنیان المرصوص بن جاتے ہیں۔”
    حمزہ کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری اس کے ہونٹوں پر ہلکی مسکان کے ساتھ ایک عہد بھی تھا حمزہ عزم سے گویا ہوا۔”دادا جان!میں بڑا ہو کر سائنسدان بنوں گا اور اپنے وطن کا محافظ بنوں گا۔”
    عائشہ کی سماعتوں سے جہاز کی آواز نے سرگوشی کی اسی لمحے عائشہ کی آنکھوں میں نئے خواب نے دستک دی اور وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔
    "دادا جان!میں پائلٹ بنوں گی اور دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام کر دوں گی۔”

    عادل صاحب بچوں کی باتوں سے مستفید ہوتے ہوئے ہنس پڑے وہ سمجھ چکے تھے اس وطن کو کوئی زیر نہیں کر سکتا ہے کیوں کہ آنے والے وقت میں کئی نئے محافظ اپنے وطن کی حفاظت کے لیے سینہ تان کر کھڑے ہوں گے۔عادل صاحب کی آنکھوں میں نمی اُترنے لگی انھوں نے آنکھوں کو موند کر نمی ضبط کرنے کی کوشش کی اور بچوں کی ہمت کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔
    "شاباش میرے بچوں! تم سب اس عرض پاک کی شان ہو اور میں تم سب کے لیے دعائیں کروں گا۔”
    فون پر گھنٹی بجی سکرین پر ابھرنے والا نام عادل صاحب کے لیے ایک نئی زندگی کی نوید تھا انھوں نے فون اٹھایا دوسری طرف سے جو آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی اس نے کئی نئے چراغ روشن کر دیے تھے۔
    "بابا! آپ کا بیٹا جلد ہی سر خرو ہو کر واپس آ رہا ہے۔”
    "بیٹا! مجھے تم پر فخر ہے۔”
    اسی لمحے مسجد کے مینار سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہو رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے روشنی خود اعلان کر رہی ہو۔
    "یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہے یہ قربانیوں، محنتوں اور دعاؤں سے بنی ہوئی ایک مضبوط دیوار ہے بنیان المرصوص۔”

  • ہم  بنیان مرصوص ہیں،تحریر:  بابر امین ابر

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: بابر امین ابر

    ” ریڈ فائل کہاں ہے؟ وہ فائل ہماری بقاء کا ثبوت ہے۔ اگر وہ دشمن کے ہاتھ لگ گئی تو ہمارا بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔” آفیسر حیدر علی ایک کمرے میں بیٹھا اپنے ماتحتوں سے مخاطب تھا۔ کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ کمرے میں مختلف مشینیں موجود تھیں۔ دیواروں پر نقشے ابھرے ہوئے تھے۔
    ” سر! آخر وہ فائل گئی کہاں اور اس میں ایسا کیا خاص ہے کہ وہ فائل ہماری بقاء سے مربوط ہے؟” ایک ماتحت ذیشان صفی نے پوچھا۔ باقی سب کے چہروں پر بھی حیرانی براجمان تھی۔
    ” میں تمھیں بتاتا ہوں کچھ دیر میں۔ پہلے میری ایک بات سن لو۔ مجھے شک ہے کہ ہم میں سے ہی کوئی غدار ہے۔ جو وطنِ عزیز کے قیمتی راز چوری کر کے دشمن کو پہنچا رہا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس کی بیخ کنی کرنی چاہیے۔” آفیسر حیدر علی نے کہا۔ سب اس کی بات سے متفق ہو گئے اور سر ہلاتے ہوئے اس کی تصدیق کرنے لگے۔

    ” جب تک اس ارضِ پاک کے شیر دلیر زندہ ہیں۔ کوئی بھی اس ملک کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی آنکھ پھوڑ دی جائے گی۔ وہ غدار سائے جو ملک کی سالمیت داؤ پر لگا رہے تھے، ان کی بیخ کنی کی جا چکی ہے۔” ایک آواز کمرے میں گونجی تو سب چونک اٹھے۔ وہ ایک سیکرٹ میٹنگ روم میں موجود تھے۔ یہاں ایسے حفاظتی انتظامات کے باوجود یوں اجنبی آواز گونجنا بہت بڑے معنیٰ رکھتا تھا۔ ایک چہرہ اور دو آنکھیں خوف سے لبریز اس آواز کو پہچان چکے تھے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میٹنگ روم کا کمرہ اچانک کھلا اور ایک سنہری نقاب اوڑھے ایک لمبا تڑنگا آدمی اندر داخل ہوا۔ اس نے چست پتلون اور کوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کے سر پر فلیٹ ہیٹ تھا۔ سب اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ اس کے سینے پر ایک بیج جگمگا رہا تھا۔ جس پر گولڈن ایگل لکھا ہوا تھا۔
    ” تم کون ہو اور ایسے سخت ترین حفاظتی اقدامات کے باوجود تم یہاں اندر کیسے آ گئے؟” آفیسر حیدر علی نے پوچھا۔
    ” یہی تھی ناں وہ ریڈ فائل جس کے بارے میں تم اتاولے ہو رہے تھے؟” سنہری نقاب پوش نے جواب دینے کی بجائے کہا۔ ریڈ فائل دیکھ کر آفیسر حیدر علی کی آنکھوں میں شدید حیرت عود کر آئی۔

    ” میں تم سب کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ ایک جانباز اور محبِ وطن آفیسر تھا، جس کی بہادری کی مثالیں ہمارے کورس میں بطور نصاب شامل تھیں۔ پھر وہ محبِ وطن چند کاغذی ٹکڑوں کے عوض اپنی ماں یعنی مملکت کا سودا کر بیٹھا اور اس نے ملک کی سب سے قیمتی فائل جسے ریڈ فائل کہا جاتا ہے، کو دشمن کے ہاتھوں بیچ دیا۔ لیکن وہ ایک بات بھول گیا کہ ملکِ عزیز بنیان مرصوص کے حصار میں پوشیدہ ہے اور اس بنیان مرصوص میں دراڑیں کوئی مائی کا لال نہیں ڈال سکتا۔” سنہری نقاب پوش کی آواز میں بادلوں کی سی گھن گرج تھی۔ دو آنکھیں اور ایک چہرہ اب بھی خوف اپنے روم روم میں سموئے ہوئے تھا۔

    ” لیکن تم آخر ہو کون اور وہ غدار کون ہے؟” آفیسر حیدر علی نے پوچھا۔
    ” میں ملکِ عزیز کی بنیان مرصوص کی ایک پوشیدہ اینٹ گولڈن ایگل ہوں۔ جسے کچھ عرصہ پہلے دشمن اپنے تئیں مٹا چکے تھے۔” سنہری نقاب پوش نے کہا اور چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ اسے دیکھ کر سب کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔
    ” تم؟” آفیسر حیدر علی کے منھ سے نکلا۔ باقی سب کے منھ بھی کھلے کے کھلے تھے۔ اب ان کے سامنے دو دو آفیسر حیدر علی موجود تھے۔ پھر اس سے پہلے کوئی کچھ سمجھ پاتا، سنہری نقاب پوش نے بجلی کی سی تیزی پسٹل نکال کر آفیسر حیدر علی اور اس کے ماتحت ذیشان صفی کو گولیوں کی نظر کر دیا۔

    ” یہ دونوں میک اپ کے ماہر دشمن ملک کے ایجنٹ تھے۔ انھوں نے مجھے اغواء کر کے اپنے تئیں مار ڈالا تھا۔ یہ ریڈ فائل لے اڑے تھے۔ لیکن خدا کو میری زندگی ابھی منظور تھی۔ میں بچ گیا۔ پھر یہ فائل دشمن ملک کے افسران کے ہتھے چڑھنے سے پہلے پہلے میں واپس نکال لایا۔ وہاں ان کے ہی اڈوں کی تفصیل والی فائل رکھ آیا۔ یہ دوہری گیم چلنے کے چکر میں تھے۔ انھوں نے ہمارے محافظوں کو مروانے کی پلاننگ کر رکھی تھی۔” سنہری نقاب پوش جو اصلی آفیسر حیدر علی تھا، نے اپنی روداد بتاتے ہوئے کہا۔
    ” مگر سر! اس فائل میں آخر ہے کیا؟” ایک ماتحت نے پوچھا۔

    ” اس فائل میں ہمارے تمام ریڈار سسٹمز اور ہیکنگ تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایٹمی اثاثوں کی تفصیلات ہیں۔ وہی ریڈار سسٹمز جن کی بدولت ہم نے دشمن کے جدید جنگی طیاروں کو مٹی کا ڈھیر بنایا ہے۔” سنہری نقاب پوش آفیسر حیدر علی نے جواب دیا تو حالات کی سنگینی کا اندازہ کر کے سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ آفیسر حیدر علی نے ثابت کر دیا تھا کہ ملکِ عزیز حقیقی معنوں میں بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی دیوار کے حصار میں محفوظ ہے۔ سب ستائشی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ دونوں مردہ اشخاص کو کراہت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر :نور فاطمہ

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر :نور فاطمہ

    معرکہ حق، بنیان مرصوص، قوم کا اتحاد، مسلح افواج کا جذبہ جہاد،عسکری و سول قیادت،حکومت و اپوزیشن ایک پیج پر …یہ وہ موقع جب بھارت نے پہلگام فالس فلیگ کا ڈرامہ رچایا اور پھر خطے کا ٹھیکیدار بننے کی ناکام کوشش میں دنیا بھر میں رسوا ہو گیا….معرکہ حق …اک ایسی جنگ جس میں جذبے جیتے، اتحاد جیتا،پاکستان جیتا، قوم جیتی، افواج جیتی، ہارا تو ہندوبنیا ہارا، شکست ہوئی تو مودی سرکار کو، رسوائی ہوئی تو گائے کے پجاری کو…معرکہ حق یہ سچ اور جھوٹ کے درمیان لکھی گئی وہ داستان تھی جس نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، ایک نظریہ ہے، ایک جذبہ ہے، ایک ایسی حقیقت ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا۔

    معرکۂ حق کی فتح کو آج ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر اس معرکے کی گونج آج بھی دشمن کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم ایک پرچم تلے جمع ہوئی، جب سیاسی اختلافات مٹ گئے، جب ہر زبان پر صرف پاکستان تھا اور ہر دل میں صرف سبز ہلالی پرچم کی حرمت،بھارت نے ہمیشہ کی طرح جھوٹ، پروپیگنڈے اور فالس فلیگ آپریشنز کے سہارے پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش کی، مگر اس بار مقابلہ بھارت کے لئے جس طرح وہ سمجھ رہے تھے آسان ہر گز نہ تھا، یہ معرکہ بیانئے کا،سچائی کا شعور کا ،حب الوطنی کا تھا اورایٹمی پاکستان اس معرکے میں‌ اللہ کے فضل و کرم، خدا کی غیبی مدد سے فاتح ٹھہرا،

    جب بھارتی میڈیا چیخ رہا تھا، پاکستان دلیل سے بول رہا تھا،جب وہاں نفرت کا بازار گرم تھا، یہاں سچائی کا چراغ روشن تھا،جب بھارت نے پاکستانی آوازوں کو دبانے کیلئے یوٹیوب چینلز پر پابندیاں لگائیں، تب پاکستان نے ذہانت، حکمت اور ڈیجیٹل قوت سے دشمن کے اپنے گھر تک سچ پہنچایا،پاکستانی نوجوانوں، خصوصاً جنریشن زی نے اس معرکے میں جو کردار ادا کیا، وہ تاریخ کا سنہری باب ہے۔ میمز، ویڈیوز، ملی نغموں اور تخلیقی انداز کے ذریعے نوجوانوں نے دنیا کو بتایا کہ پاکستانی قوم سچ کو خوبصورتی سے پیش کرنا بھی جانتی ہے۔

    معرکہ حق کے دوران جے ایف 17 تھنڈر کی گونج، سبز پرچم کی شان، اور قومی ترانوں کی آواز جب بھارتی شہروں تک پہنچی تو وہاں کے عوام خود مودی سرکار سے سوال کرنے لگے،دہلی میں اڑتے پاکستانی ڈرون ،بھارتی سرزمین پر ٹکراتے پاکستانی میزائل ،بھارتی فضاؤں میں پاکستان کا راج، میڈیا و سوشل میڈیا پر سچے بیانیے کی جنگ، قوم کا اتحاد، مسلح افواج کا بھر پور وار، منہ توڑ جواب، یہ درحقیقت نظریے کی فتح تھی،قوم کی فتح تھی، افواج کی فتح تھی، پاکستان کی فتح تھی.

    پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت نے حسب روایت پاکستان پر الزامات کی بارش کر دی، مگر پاکستان نے جواب میں دنیا کو حقائق دکھائے۔ بین الاقوامی صحافیوں کو ان علاقوں کا دورہ کروایا گیا جہاں بھارت دہشت گرد کیمپوں کا دعویٰ کرتا تھا۔ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہاں زندگی معمول کے مطابق رواں تھی۔ بچوں کی ہنسی، لوگوں کی مصروفیات اور پُرامن فضا بھارتی جھوٹ کے منہ پر طمانچہ تھی۔بھارتی مذموم حملوں،آپریشن سندور کے بعد معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص…تاریخی بن گیا کیونکہ اس میں افواجِ پاکستان کے ہمراہ پوری قوم شریک تھی، بھارتی ڈرون آئے تو قوم کا بچہ بچہ ڈرون گرانے نکل پڑا،لاہور کی فضاؤں، گلیوں کوچوں میں پاک فوج زندہ باد کے نعروں نے افواج پاکستان کے جذبے کو بڑھایا،اتحاد کی فضا بنی ،وزارتِ اطلاعات، آئی ایس پی آر، میڈیا، نوجوان، صحافی، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس، حتیٰ کہ عام شہری بھی اس جنگ کے سپاہی تھے۔ ہر طرف ایک ہی آواز تھی “پاکستان زندہ باد!”پاکستان ہمیشہ زندہ باد

    دنیا نے پہلی بار اتنے واضح انداز میں دیکھا کہ پاکستان ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے،جب وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام فالس فلیگ کے بعد غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی تو دنیا نے پاکستان کا اعتماد دیکھا، اور جب بھارت کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا تو اس کا جھوٹ خود اس کے گلے کا پھندا بن گیا،بھارت آج بھی دو قومی نظریے کو تسلیم نہیں کر پایا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان مزید مضبوط، مزید متحد اور مزید ناقابلِ تسخیر ہو رہا ہے،دوسری طرف ہندوتوا کی آگ میں جلتا بھارت اپنے ہی تعصبات، انتہا پسندی اور نفرت کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف وہ قربانیاں دی ہیں جن کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کا لہو، شہداء کی ماؤں کے آنسو، جوانوں کی قربانیاں،ضرب عضب،ردالفساد، یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان نے صرف اپنی نہیں، پوری دنیا کی جنگ لڑی ہے،پاکستان امن کا خواہاں‌لیکن دہشتگردی کے خلاف طویل ترین جنگ جیتی ہے،افواج پاکستان کے جانبازوں اور عوام پاکستان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں،رب نے پاکستان کو سرخرو کیا، دنیا نے وہ منظر دیکھا کہ بھارتی رافیل بھی پاکستان نے گرائے اور مودی جنگ بندی کی بھیک مانگنے کے لئے ٹرمپ کے پاؤں بھی پڑ گیا، کل تک دھمکیاں دینے والا مودی، آپریشن سندور شروع کر کے اپنی خواتین کے سندور مٹوا چکا تھا،پاکستان کو معرکہ حق میں وہ شان و عزت ملی کہ آج جب دنیا پاکستان کی طرف دیکھتی ہے تو اسے ایک باوقار، مضبوط اور باشعور قوم نظر آتی ہے،معرکۂ حق ہمیں یہ سبق دے گیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں،قوموں کا اتحاد، سچائی کی طاقت، اور نظریے پر یقین ہی اصل فتح دلاتا ہے۔

    آج معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر ہر پاکستانی سر اٹھا کر یہ کہہ سکتا ہے ہم نے صرف دشمن کو جواب نہیں دیا بلکہ ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان کبھی جھکتا نہیں،یہ وطن شہیدوں کی امانت ہے، اور اس کی حفاظت کیلئے پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔پاکستان ہمیشہ قائم رہے گا، کیونکہ یہ لاکھوں قربانیوں، دعاؤں اور خوابوں کی تعبیر ہے،اور جب تک اس دھرتی پر سبز ہلالی پرچم لہراتا رہے گا،حق کا یہ معرکہ ہمیشہ پاکستان کے نام رہے گا

  • ہم بنیان مرصوص ہیں۔تحریر: نظام درانی

    ہم بنیان مرصوص ہیں۔تحریر: نظام درانی

    انسانی تاریخ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ وہ قومیں کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوتیں جو اتحاد نظم و ضبط اور باہمی اعتماد کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں "بنیان مرصوص” کی مثال دے کر مومنوں کو ایک ایسی جماعت قرار دیا گیا ہے جو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند مضبوط مربوط اور ناقابلِ تسخیر ہوتی ہے۔ یہ محض ایک خوبصورت تشبیہ نہیں بلکہ ایک ایسا عملی پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ انفرادی کمزوریاں اجتماعی طاقت میں ڈھل سکتی ہیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں۔

    آج کا دور بے شمار چیلنجز سے بھرا ہوا ہے۔ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی انتشار نفرت اور تقسیم بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا تصور ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کر لیں تو کوئی رکاوٹ ہمیں ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

    ایک مضبوط عمارت ہمیشہ مضبوط اینٹوں اور ان کے باہمی ربط سے قائم ہوتی ہے۔ اگر ایک اینٹ بھی کمزور ہو یا اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو پوری عمارت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہی اصول ایک قوم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ قوم افراد سے بنتی ہے۔ اور ہر فرد اس کی بنیاد کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے دیانت داری محنت اور اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے تو قوم ترقی کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم خود غرضی حسد اور نفرت کو فروغ دیں تو ہم اپنی ہی بنیادوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ مختلف قسم کی تقسیم کا شکار ہے۔ کبھی زبان کے نام پر، کبھی علاقے کے نام پر، اور کبھی مسلک کے نام پر ہم ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ اختلافات ہمیں کمزور کرتے ہیں اور ہماری اجتماعی طاقت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلاف رائے فطری ہے۔ مگر اس اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اگر ہم برداشت رواداری اور احترام کو اپنا لیں تو یہی اختلاف ہماری طاقت بن سکتا ہے۔

    نوجوان نسل اس تبدیلی کی سب سے بڑی امید ہے۔ نوجوانوں کے پاس توانائی جذبہ اور نئے خیالات ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کریں اور اتحاد و یگانگت کا پیغام عام کریں تو معاشرہ ایک نئی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ آج سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک نوجوان کا ایک مثبت پیغام ہزاروں لوگوں کے دلوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم کو نفرت پھیلانے کے بجائے محبت امن اور اتحاد کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔

    تعلیم بھی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔ ایک ایسا تعلیمی نظام جو طلبہ کو صرف نصابی علم ہی نہ دے بلکہ انہیں اخلاقیات برداشت اور اجتماعی سوچ بھی سکھائے۔ وہی ایک حقیقی بنیان مرصوص تشکیل دے سکتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف ذاتی ترقی میں نہیں بلکہ اجتماعی بہتری میں بھی ہے۔ جب ایک فرد کامیاب ہوتا ہے تو اس کا فائدہ محدود ہوتا ہے۔ مگر جب پوری قوم ترقی کرتی ہے تو اس کا اثر ہر فرد تک پہنچتا ہے۔

    ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب ہم متحد ہوئے تو ہم نے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے۔ تحریکِ آزادی کے دوران مختلف زبانوں ثقافتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک مقصد کے لیے قربانیاں دیں۔ ان کا اتحاد ہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔ یہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ اگر ہم آج بھی اسی جذبے کو زندہ کریں تو ہم ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔

    "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی انفرادیت کھو دیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی مختلف شناختوں کے باوجود ایک مضبوط رشتہ قائم کریں۔ جیسے ایک خوبصورت باغ میں مختلف رنگوں کے پھول اپنی اپنی خوشبو کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ مگر سب مل کر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہماری مختلف ثقافتیں اور روایات بھی ہماری طاقت بن سکتی ہیں۔ اگر ہم انہیں قبول کریں اور ان کا احترام کریں۔

    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک مضبوط متحد اور کامیاب قوم بننے کے لیے ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔ ہمیں اپنے رویوں کو بہتر بنانا ہوگا۔ ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ جب ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں گے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں گے اور ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے۔ تبھی ہم حقیقی معنوں میں "بنیان مرصوص” بن سکیں گے۔
    آئیے عہد کریں کہ ہم نفرت کے اندھیروں کو محبت کی روشنی سے بدلیں گے۔ تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں گے۔ اور ایک ایسی قوم کی بنیاد رکھیں گے جو واقعی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند مضبوط ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی استحکام اور عزت کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔