Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھٹو: ایک خاندان، ایک داستان، ایک المیہ۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھٹو: ایک خاندان، ایک داستان، ایک المیہ۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    چار اپریل محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ باب ہے جسے پڑھتے ہوئے دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک منتخب وزیراعظم، ایک عوامی رہنما، اور ایک عالمی قد کاٹھ رکھنے والی شخصیت ذوالفقار علی بھٹو کو تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا۔ ہر سال اس دن پاکستان پیپلز پارٹی اور لاکھوں چاہنے والے نہ صرف انہیں یاد کرتے ہیں بلکہ اس سوال کو بھی زندہ رکھتے ہیں کہ کیا واقعی انصاف ہوا تھا؟

    ذوالفقار علی بھٹو محض ایک سیاستدان نہیں تھے، وہ ایک سوچ، ایک وژن، اور ایک تحریک کا نام تھے۔ انہوں نے پاکستان کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی،ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، اور عوام کو سیاسی شعور دیا۔ عالمی سطح پر بھی ان کی شخصیت ایک مضبوط اور خوددار رہنما کے طور پر جانی جاتی تھی۔ لیکن ان کی زندگی کا اختتام جس طرح ہوا، وہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گیا۔

    بھٹو کی پھانسی کے بعد جو کچھ ان کے خاندان پر گزرا، وہ کسی ایک خاندان کی نہیں بلکہ ایک عہد کی کہانی ہے۔ بیگم نصرت بھٹو نے ایک ماں اور ایک سیاسی کارکن کے طور پر ناقابلِ بیان صدمات برداشت کیے۔ ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو، جو بعد میں خود وزیراعظم بنیں، جلاوطنی، قید، اور مسلسل خطرات کے سائے میں زندگی گزارتی رہیں۔ ان کے دونوں بیٹے—مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو—بھی پراسرار اور المناک حالات میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    یہ ایک ایسا خاندان تھا جس نے اقتدار بھی دیکھا، عوامی محبت بھی، اور پھر وہ دکھ بھی جھیلے جو تاریخ میں کم ہی خاندانوں کے حصے میں آتے ہیں۔ اس داستان کو قلمبند کرنا آسان نہیں، کیونکہ یہ صرف واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ جذبات، قربانیوں اور ناانصافیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔

    بین الاقوامی سطح پر اگر دیکھا جائے تو بھٹو کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی قوم کے لیے بڑی قیمت ادا کی۔ ان کی پھانسی کو دنیا بھر میں متنازع قرار دیا گیا، اور آج بھی کئی حلقے اسے عدالتی قتل کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی یاد صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاسی تاریخ میں بھی ایک اہم مقام رکھتی ہے۔

    چار اپریل ہمیں صرف ایک رہنما کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ طاقت، انصاف، اور جمہوریت کے درمیان توازن کہاں کھو جاتا ہے۔ بھٹو خاندان کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اقتدار کی راہیں ہمیشہ پھولوں سے نہیں سجی ہوتیں، بلکہ ان میں کانٹے بھی ہوتے ہیں—اور کبھی کبھی یہ کانٹے پورے خاندان کو لہولہان کر دیتے ہیں۔

    آج جب ہم بھٹو کو یاد کرتے ہیں، تو یہ صرف ایک شخص کی یاد نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک جدوجہد، اور ایک قربانی کی یاد ہے

  • اوکاڑہ: انجینئر راؤ وسیم عابد اور راؤ عاصم تسلیم کو شادی کی خوشی پر مبارکباد، نیک تمناؤں کا اظہار

    اوکاڑہ: انجینئر راؤ وسیم عابد اور راؤ عاصم تسلیم کو شادی کی خوشی پر مبارکباد، نیک تمناؤں کا اظہار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) انجینئر راؤ وسیم عابد اور راؤ عاصم تسلیم کو شادی کی پُرمسرت تقریب کے موقع پر عزیز و اقارب، دوست احباب اور سماجی شخصیات کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کی گئی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔

    مبارکباد دینے والوں کا کہنا تھا کہ شادی زندگی کا ایک خوبصورت اور اہم مرحلہ ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نئے جوڑے کی زندگی کو خوشیوں، محبتوں اور کامیابیوں سے بھر دے اور انہیں ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔

    اس موقع پر راؤ عارف، راؤ سجاد، راؤ عامر، راؤ قاسم (سافٹ ویئر انجینئر)، ذیشان مغل، راؤ کلیم، راؤ اسد (سعودیہ عرب)، سینئر مینیجر راؤ شبیر، انجینئر حافظ مختار احمد، آئی ٹی انجینئر راؤ تنویر، راؤ اسد (الیکٹریکل انجینئر)، راؤ کلیم اللہ (مکینیکل انجینئر)، راؤ نجی اللہ (مکینیکل انجینئر)، راؤ اکرام، راؤ معین، راؤ ذیشان، راؤ راشد، محمد آصف (کیمیکل انجینئر)، علی حسن، کیمیکل انجینئر ثقلین عباس، ایم ڈی ابرہیم فائر پروٹیکشن ارشد علی، انجینئر محمد وقار (ملتان)، علی حسن چینوٹی، فیضان علی، حیدر عباس خان فاروق آبادی، ٹرانسپورٹر عرفان علی، نعمان راؤ، میثم بنی، رضائے حسین لاہوری، سردار امتیاز علی بھٹی، عمار بخاری، رانا اکرم ہڑپہ، مشتاق علی ایبٹ آبادی، چوہدری طارق ہڑپہ، یاسر ملک اوکاڑوی، محمد فیصل سمندری، چوہدری سہیل خانقاہ ڈوگراں، ساجد علی مظفرگڑھی، سجاد حسین، مدثر علی، سلطان (گولڈن گگو منڈی)، محمد نواز اوکاڑہ، عامر ریحان شاہ لاہوری، ملک ظفر اقبال بھوہڑ اوکاڑہ، نعیم ظفر گل، احمد شہزاد، بابر علی، سید ارسلان علی شاہ، کنٹریکٹر ادریس تبسم، خالق روکڑی اور کامران راجپوت سمیت دیگر نے بھی مبارکباد دی۔

    تمام شرکاء نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس نئے جوڑے کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے اور ان کی ازدواجی زندگی کو محبت، سکون اور خوشیوں سے بھر دے۔

  • قدرت سے دشمنی نہ کرو،تحریر:ملک سلمان

    قدرت سے دشمنی نہ کرو،تحریر:ملک سلمان

    انسان فطری طور پر خود غرض اور مطلبی ہے، سائنس کے مطابق انسان اور کتے کا تعلق کم از کم 15 ہزار سال پرانا ہے، جو اس رشتے کی گہرائی اور ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم کو ظاہر کرتا ہے۔ جب انسان غار میں رہا کرتا تھا تب اُسے شکار کے لیے ایسے ساتھی کی ضرورت پڑتی تھی جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ تب کتا انسان کی زندگی میں آیا اور دونوں میں دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔

    اسی طرح بلی کو بھی پالتو کا درجہ 6000 سال قبل تب ملا جب انسان نے کاشکاری شروع کی، کیڑے مکوڑوں اور چوہوں پر قابو پانے کے لیے بلیاں کارآمد ثابت ہوئیں۔
    کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے، اگر گھر بدل جائے تو وہ پرانے گھر کو چھوڑ کر مالک کے ساتھ نئے گھر چلا جاتا ہے۔کتا انتہائی وفادار ساتھی ہے۔ وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں اپنے مالک کو چھوڑ کر نہیں جاتا۔ کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ وفادار جانور صدیوں سے انسانوں کے ساتھ مل کر شکار، گھر کی حفاظت اور جذباتی دوست کے طور پر رہ رہے ہیں اور انسان پر انحصار کرتے ہیں۔ تمام جانوروں میں کتوں کا انسانوں کے ساتھ رہن سہن سب سے زیادہ دوستانہ ہوتا ہے۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔
    کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کردینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں یہ ہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں انکو انسانوں سے دور نہ کرو، ظالمو تم نے چند سال بعد مر جانا ہے لیکن یہ انسانیت دشمنی کی لعنت بعد ازمرگ بھی تاریخ کی صورت لعنت بن کر تمہاری نسلوں کا پیچھا کرے گی۔ اس لیے کتوں مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرو۔ شیلٹر ہوم کے نام پر جو "مال” تمہیں نظر آرہا ہے اس لالچ نے تم سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔

    ہم سب کو یاد کرنا چاہئے کہ بچپن میں ان بے گھر و بے زبان کتوں کیلئے ہمارے گھروں میں لازم روٹی پکتی ہوتی تھی، مزے کی بات یہ ہوتی تھی کہ عین مغرب کے وقت کتے گھر کے دروازے کے باہر بیٹھ کر انتظار کرتے تھے اور جیسے ہی انکو روٹی دینی وہ دم ہلا کر شکریہ ادا کرکے چلے جاتے تھے۔دنیا میں سب سے زیادہ پالتو کتے امریکہ، چین اور روس میں پائے جاتے ہیں۔ کتے امریکی ثقافت اور گھرانوں کا اہم حصہ ہیں، جن کی دیکھ بھال اور ان کے جذبات کو سمجھنے کے لیے خصوصی تحقیق بھی کی جاتی ہے۔ قدیم یونانی ادب سمیت دنیا بھر کے ادب میں کتوں کا مثبت ذکر موجود ہے۔ مشہور ہیلتھ ویب سائیٹ ”بولڈ اسکائی‘‘ کے مطابق ایسے افراد جو گھروں میں پالتو کتوں کو رکھنے کا شوق رکھتے ہیں ان کی صحت دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر رہتی ہے۔
    انسان کے علاوہ ہر حیوان یا جاندار صرف خطرے کی صورت میں یا بھوک سے مغلوب ہوکر ہی کسی دوسرے جاندار پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ان بے زبانوں کو روٹی ملنی چاہئے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔

    زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔
    جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔
    حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
    بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔

    اہم سوال ہے کہ برتھ کنٹرول اور ویکسینیشن میں ناکامی پر متعلقہ محکموں اور سرکاری ملازمین کا احتساب کرنے کی بجائے انہی کو منصف بنا کر معصوم کتوں کی نسل کشی پر لگا دینا بدترین ظلم اور بدیانتی نہیں؟
    اگر ان معصوم جانوروں کو ویکسینیشن اور علاج معالجہ کی سہولتیں نہیں ملنی تو تمام تحصیلوں میں ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • کیا امریکی دور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے؟تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    کیا امریکی دور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے؟تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    آبنائے ہرمز، پیٹرو ڈالر اور عالمی طاقت کا مستقبل

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی عالمی طاقت ہمیشہ کے لیے غالب نہیں رہتی۔ سلطنتیں ابھرتی ہیں، اپنے مفادات کے مطابق عالمی نظام کو تشکیل دیتی ہیں اور بالآخر اپنی طاقت کی حدود سے دوچار ہو جاتی ہیں۔
    مثال کے طور پر برطانوی سلطنت نے انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں اپنی عروج کی انتہا کو پہنچا، مگر 1956 میں جب اس کا سویز نہر پر کنٹرول ختم ہوا تو اس کے زوال کے آثار واضح ہونا شروع ہو گئے۔ یہ اسٹریٹجک گزرگاہ برطانیہ کی عالمی تجارت اور اثر و رسوخ کی شہ رگ تھی؛ جیسے ہی اس پر خطرہ پیدا ہوا، سلطنت کی معاشی اور سیاسی قوت کمزور ہونے لگی اور عالمی برتری سے اس کی واپسی تیز ہو گئی۔

    آج کئی تجزیہ کار اس صورتحال کا موازنہ امریکہ کے ساتھ کرتے ہیں۔ جس طرح سویز نہر برطانیہ کے لیے آزمائش ثابت ہوئی، اسی طرح آبنائے ہرمز امریکی عالمی طاقت کے لیے ایک فیصلہ کن امتحان بن سکتی ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار کی گزرگاہ ہے۔ یہاں استحکام عالمی توانائی کی منڈیوں، امریکی معیشت کی طاقت اور پیٹرو ڈالر نظام کی بالادستی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت تیل کی تجارت زیادہ تر امریکی ڈالر میں ہوتی ہے.

    سرد جنگ کے بعد امریکہ دنیا کی بلا مقابلہ سپر پاور کے طور پر ابھرا۔ واشنگٹن کی بحری برتری نے عالمی تجارتی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، کو محفوظ رکھا۔ اسی کنٹرول نے امریکہ کو یہ موقع دیا کہ وہ ڈالر کو دنیا کی بنیادی ریزرو کرنسی کے طور پر برقرار رکھے، عالمی سطح پر اپنی معاشی پالیسیاں نافذ کرے اور بے مثال اسٹریٹجک اثر و رسوخ قائم رکھے۔

    تاہم گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ چین کی معاشی ترقی، روس کی واپسی اور ترکیہ، ایران اور بھارت جیسی علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے اثر نے امریکی یک قطبی نظام کو چیلنج کیا ہے۔

    خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، میزائل صلاحیتیں اور غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں نے آبنائے ہرمز کو پہلے سے زیادہ حساس اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔

    تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس راستے میں طویل رکاوٹ پیدا ہوئی تو پیٹرو ڈالر نظام کی بنیادیں ہل سکتی ہیں اور تیل برآمد کرنے والے ممالک دوسری کرنسیوں میں تجارت کی طرف تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں امریکی معیشت اور ڈالر کی عالمی بالادستی کمزور پڑ سکتی ہے۔

    داؤ بہت بڑا ہے
    اگر امریکہ آبنائے ہرمز میں استحکام برقرار رکھنے اور کنٹرول قائم رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو ڈالر مضبوط رہے گا، پیٹرو ڈالر نظام برقرار رہے گا، امریکی معیشت اپنی مضبوطی برقرار رکھے گی اور امریکہ کا عالمی اثر و رسوخ جاری رہے گا۔ ایسی کامیابی ڈونلڈ ٹرمپ یا کسی بھی امریکی قیادت کو عالمی سطح پر اپنی طاقت دکھانے میں مزید تقویت دے گی۔

    لیکن اگر امریکہ خطے میں اثر و رسوخ کھو بیٹھتا ہے تو نتائج انتہائی ڈرامائی ہو سکتے ہیں۔ پیٹرو ڈالر نظام تیزی سے کمزور ہو سکتا ہے کیونکہ ممالک متبادل کرنسیوں میں تیل کی تجارت شروع کر دیں گے۔ اس کے نتیجے میں ڈالر کمزور پڑے گا، امریکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے اور امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ ایسا منظرنامہ امریکہ کے عالمی سپر پاور کے طور پر زوال کو تیز کر سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سویز بحران کے بعد برطانیہ کی عالمی حیثیت کمزور ہو گئی تھی۔

    یہ صورتحال جغرافیائی سیاست میں محلِ وقوع کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جس طرح سویز نہر نے برطانیہ کے عالمی اثر کو متعین کیا تھا، اسی طرح آبنائے ہرمز اور اس کے ذریعے توانائی کی ترسیل یہ طے کر سکتی ہے کہ آیا امریکی دور جاری رہے گا یا تیز رفتار زوال کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

    پاکستان اور دیگر درمیانی طاقتوں کے لیے بھی یہ پیش رفت براہِ راست اہمیت رکھتی ہے۔ اس گزرگاہ میں استحکام یا خلل توانائی کی سلامتی، تجارتی راستوں اور پورے خطے کی معاشی صورتحال کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں اسٹریٹجک بصیرت، متوازن سفارت کاری اور علاقائی تعاون انتہائی ضروری ہوں گے۔

    نتیجہ
    امریکی دور اچانک ختم نہیں ہو رہا، لیکن اس کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور پیٹرو ڈالر نظام کی پائیداری ممکنہ طور پر وہ اہم عوامل ہوں گے جو امریکہ کی عالمی طاقت کے مستقبل کا تعین کریں گے۔اگر امریکہ کامیاب حکمت عملی اختیار کرتا ہے تو ڈالر مضبوط رہے گا، معیشت محفوظ رہے گی اور امریکی اثر و رسوخ مزید عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ لیکن ناکامی کی صورت میں ڈالر کمزور پڑ سکتا ہے، امریکی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے، ٹرمپ یا اس وقت کی امریکی قیادت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور امریکہ کے زوال کا عمل تیز ہو سکتا ہے—بالکل ویسے ہی جیسے سویز نہر کے بعد برطانیہ کی واپسی تیز ہو گئی تھی۔

    تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی سلطنتوں کا عروج و زوال اکثر اہم اسٹریٹجک گزرگاہوں کے کنٹرول سے جڑا ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی میں دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا آبنائے ہرمز امریکی طاقت کا فیصلہ کن امتحان بنے گی یا وہ مقام جہاں سے عالمی نظام میں اگلی بڑی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔

  • اسرائیل ڈوب رہا ہے: تنہائی کا شکار اور جنگ کے خاتمے کا شدت سے محتاج،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    اسرائیل ڈوب رہا ہے: تنہائی کا شکار اور جنگ کے خاتمے کا شدت سے محتاج،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،دفاعی اور اسٹریٹجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا میں عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹجی اور دفاعی جدیدکاری کے ماہر، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    طویل جنگوں اور علاقائی محاذ آرائی کے مسلسل سلسلے نے اسرائیل کے اندر گہرے ساختی دباؤ کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا ہے۔ جو ریاست کبھی تکنیکی طور پر برتر اور عسکری لحاظ سے غالب سمجھی جاتی تھی، وہ اب بڑھتے ہوئے آبادیاتی، معاشی اور اسٹریٹجک دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جو اس کے مستقبل کے سیکیورٹی منظرنامے کو ازسرِ نو تشکیل دے سکتے ہیں۔

    بڑھتی ہوئی ہجرت اور برین ڈرین
    حالیہ تعلیمی مشاہدات اور ہجرت کے اعداد و شمار اسرائیل کے لیے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد ملک چھوڑ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف 2023 میں تقریباً ایک لاکھ اسرائیلی ملک چھوڑ گئے، جبکہ 2024 میں بھی تقریباً اتنی ہی تعداد میں لوگ ہجرت کر گئے۔

    ان مہاجرین میں بڑی تعداد تعلیم یافتہ اور پیشہ ور طبقے سے تعلق رکھتی ہے—جن میں ڈاکٹر، انجینئر، ماہرین تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ماہر شامل ہیں—جو زیادہ تر United Kingdom، United States اور Europe کے دیگر ممالک میں جا کر آباد ہو رہے ہیں۔جاری جنگی ماحول نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث ہزاروں افراد پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں جبکہ بہت سے دیگر نقل مکانی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ ابھرتا ہوا برین ڈرین اسرائیل کے ٹیکنالوجی اور طبی شعبوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جو اس کی معیشت کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔

    اندرونی اختلافات اور نظریاتی تقسیم
    ایک اور بڑا چیلنج اسرائیلی معاشرے کے اندر سے سامنے آ رہا ہے۔ مختلف طبقات کی جانب سے جنگی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    خاص طور پر آرتھوڈوکس یہودی برادری کے کچھ حلقوں—چاہے وہ اسرائیل کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک—نے Zionism کی سیاسی سوچ کی مخالفت کی ہے۔
    آرتھوڈوکس یہودی گروہوں نے Europe اور United States کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ سیاسی پالیسیاں ان کے مذہبی عقائد کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ یہ نظریاتی اختلافات اب زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں اور اسرائیلی قیادت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

    متعدد محاذوں پر سیکیورٹی دباؤ
    سیکیورٹی کے محاذ پر صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ Lebanon سے ملحقہ شمالی اسرائیل کے علاقوں میں بار بار راکٹ حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جس کے باعث بہت سے شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔
    سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کے باعث بعض شمالی بستیوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے کیونکہ شہری محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

    اسی دوران Israel Defense Forces کئی برسوں سے مسلسل عسکری کارروائیوں میں مصروف ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کو تقریباً 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔
    مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ریزرو فورس کی طلبی پر ردعمل بھی کمزور بتایا جا رہا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ ریزرو فوجیوں کو طلب کیا گیا مگر ان میں سے صرف چند ہزار نے جواب دیا۔ بہت سے افراد سے رابطہ نہیں ہو سکا جبکہ کچھ ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں باقاعدہ فوجیوں کے فرار اور غیر حاضری کے واقعات پر بھی بحث ہو رہی ہے۔

    جنگ کا معاشی بوجھ
    مسلسل جنگ نے اسرائیل کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاری جنگ پر اب تک تقریباً 57 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جس سے قومی بجٹ پر شدید دباؤ پڑا ہے۔
    اگر یہ تنازعہ جاری رہا تو معاشی استحکام کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق کچھ بین الاقوامی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری واپس لے رہے ہیں یا نئے منصوبے روک رہے ہیں جبکہ غیر یقینی صورتحال کے باعث داخلی معاشی سرگرمیاں بھی سست پڑ گئی ہیں۔
    اس کے علاوہ مزدوروں کی کمی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے کیونکہ بہت سے افراد ملک چھوڑ چکے ہیں یا فوجی خدمات کے لیے طلب کیے جا چکے ہیں۔

    اسٹریٹجک تنہائی
    سفارتی سطح پر بھی اسرائیل خود کو بڑھتی ہوئی تنہائی میں محسوس کر رہا ہے۔ اگرچہ United States اس کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور Narendra Modi کی قیادت میں India نے بھی حمایتی مؤقف برقرار رکھا ہے، تاہم کئی یورپی حکومتوں نے جاری جنگ کے حوالے سے زیادہ محتاط یا تنقیدی رویہ اختیار کیا ہے۔
    اسرائیل کے اندر بھی عوامی مباحثے میں جنگ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کچھ حلقے پوچھ رہے ہیں کہ اسرائیل اپنے مخالفین کے خلاف براہِ راست عسکری کارروائی کے بجائے اتحادیوں پر زیادہ انحصار کیوں کر رہا ہے۔

    نتیجہ
    آج اسرائیل بیک وقت کئی غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے: آبادی کا انخلا، بڑھتا ہوا داخلی اختلاف، معاشی دباؤ اور طویل جنگی تھکن۔

    یہ تصور کہ جنگیں تیزی سے اور فیصلہ کن انداز میں لڑی جا سکتی ہیں، اب ایک طویل اور مہنگے تنازعے کی حقیقتوں کے سامنے چیلنج ہو رہا ہے۔
    اگر جنگ بغیر کسی واضح حکمتِ عملی کے جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسرائیل کی معیشت، سماجی ہم آہنگی اور عالمی حیثیت کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔

    اسرائیلی قیادت کے لیے اصل سوال اب صرف جنگ جیتنے کا نہیں رہا بلکہ یہ ہے کہ کیا ملک سیاسی، معاشی اور سماجی اخراجات کو مزید برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

  • پاکستان کی سفارتی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی موجودہ کاوشیں نہ صرف بروقت بلکہ عالمی امن کے لیے ایک امید افزا قدم بھی قرار دی جا سکتی ہیں

    کشیدگی کے دہکتے میدان میں پاکستان کی حکمت و تدبر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے بیچ امن کا ابھرتا ہوا ثالث

    تجزیہ شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جغرافیائی و عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں اسرائیل، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان نے ایک ذمہ دار اور متوازن سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے—ایک ایسا کردار جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال اور سنجیدہ فریق کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ترکی، سعودیہ اورمصر جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پاکستان کی کوششوں کو ایک وسیع تر سفارتی فریم ورک فراہم کر رہی ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی متوازن خارجہ پالیسی ہے، جو اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتی ہے۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ گہرے علاقائی اور ثقافتی روابط ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات اسے دونوں اطراف کے لیے قابلِ قبول رابطہ کار بناتے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو اس پیچیدہ بحران میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ تاہم، سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز کم نہیں۔ فریقین کے درمیان گہری بداعتمادی، متضاد اسٹریٹیجک مفادات، اور زمینی سطح پر جاری عسکری کارروائیاں کسی بھی فوری پیش رفت کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ ایران کی جانب سے مغربی تجاویز پر تحفظات، اسرائیل کی مسلسل فوجی حکمتِ عملی، اور امریکہ کے علاقائی مفادات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، اگرچہ قلیل مدت میں مکمل اور پائیدار جنگ بندی کے امکانات محدود ہیں، تاہم پاکستان اور اس کے شراکت دار ممالک کی کوششیں ایک عارضی سیزفائر یا کم از کم کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس تناظر میں، پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کو ایک مثبت اور تعمیری پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بالآخر، اس بحران کا حل انہی بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے جو براہِ راست اس میں ملوث ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پیچیدہ تنازعات میں اکثر درمیانی قوتیں ہی مکالمے کا دروازہ کھولتی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی موجودہ کاوشیں نہ صرف بروقت بلکہ عالمی امن کے لیے ایک امید افزا قدم بھی قرار دی جا سکتی ہیں۔

  • تبصرہ کتب،دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات

    عبدالمالک مجاہد کانام کسی تعارف کامحتاج نہیں ۔ وہ بلاشبہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں ۔ انہوں نے ’’ دارالسلام ‘‘ کے نام سے ایک ایسے ادارے کی بنیادرکھی جوآج پوری دنیامیں پاکستان کی نیک نامی کا سبب بن رہاہے ۔ عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں کہ آج میں جس مقام پرہوں یہ میرے والدین کی دعائوں کانتیجہ ہے ۔عبدالمالک مجاہد کی پیش نظرکتاب’’ دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات ‘‘ بھی دعائوں کی قبولیت اور فضائل پرلکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے موضوع کے اعتبار اس سے کہیں زیادہ مفید ، دیدہ زیب ، لوں کو موہ لینے والی اور سبق آموز ہے ۔ 150موضوعات و واقعات پر مشتمل اس میں بتایا گیاہے کہ دعا۔۔۔در اصل وہ التجا ہے جو بندہ اپنے رب سے کرتا ہے ۔ بندہ جس وقت بھی رب سے مانگے اس کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا ۔ یوں تو دعا کیلئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔مگر پھر بھی کچھ اوقات ایسے ہیں جن میں اللہ تعالی کی رحمتیں زیادہ وسیع ہوجاتی ہیں ۔ اس کی مہربانیوں کے دروازے مزید کھول دیے جاتے ہیں۔ان اوقات میں دعائوں کی قبولیت کے امکانات یقینی ہو جاتے ہیں ۔کتاب میں ان اوقات کاذکر تفصیل سے کیاگیا ہے۔ اسی طرح کتاب میں روزمرہ کی دعائیں بھی مذکورہیںاور دعائوں کی قبولیت کے نہایت ہی سبق آموز واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں جنہیں پڑھ کریقین کامل ہوجاتاہے کہ سب سے بڑاہتھیاردعا ہی ہے ۔ کتاب میں دعاکی قبولیت کاایک نہایت ہی سبق آموز واقعہ ’’ اے اللہ اس کاخاتمہ بالخیر ہو ‘‘ کے عنوان سے بیان کیاگیا ہے ۔ اس واقعہ میں بتایاگیاہے کہ سعودی عرب کے ایک شخص نے کئی دن تک ایک خواب دیکھا۔ خواب میں اسے کہاجارہاتھاکہ فلاں بستی کے فلاں شخص کو عمرہ کرائو ۔ خواب دیکھنے والے شخص نے مذکورہ شخص سے رابطہ کیااوراسے بتایا کہ مجھے خواب میں تمہیں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیا ہے ۔ یہ سن کروہ شخص زورسے ہنسااور کہنے لگاتم کون سے عمرے کی بات کرتے ہومیں نے توکبھی زندگی میں نماز بھی نہیں پڑھی اور تم مجھے عمرہ کرواناچاہتے ہو۔ جس شخص نے خواب دیکھاتھاوہ کہنے لگابس مجھے خواب میں تمہیں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیا ہے ۔ میں تمہاری منت سماجت کرتاہوں کہ تم عمرے کے لئے تیارہوجائوسارے اخراجات میرے ذمہ ہوں گے ۔ آخر وہ خواب دیکھنے والے کے بے حداصرار پر راضی ہوگیا ۔ غسل کیا، احرام باندھااور حرم شریف کی جانب دونوں روانہ ہوگئے ۔ وہاں پہنچ کر بیت اللہ کاطواف کیا، مقام ابراہیم پردورکعت نماز اداکی، سعی کی ، سروں کومنڈوایااور اس طرح سے عمرہ مکمل ہوگیا ۔ واپسی کے لئے رخت سفرباندھا ۔ حرم سے نکلنے لگے تووہ شخص جسے بہت کوشش سے عمرے پرآمادہ کیاگیاتھاکہنے لگا: دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دورکعت نفل اداکرناچاہتاہوں ۔ سواس نے نفل اداکرناشروع کئے سجدے میں گیاتواس کاسجدہ لمباہوتاچلاگیا جب کافی دیر گزرگئی تواس کے دوست نے اسے بلایا۔ جب کوئی حرکت اس کے جسم میں نہ ہوئی تواس نے اسے ٹٹولا۔ اچانک اس پرانکشاف ہواکہ اس کے ساتھی کی روح حالت سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی ۔اسے آب زم زم سے غسل دیاگیا ، احرام پہناکر حرم میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ لاکھوں فرزندان اسلام نے حرم کعبہ میں اس کاجنازہ پڑھا اوراس کی مغفرت کے لئے دعاکی گئی ۔ ادھر عمرہ کروانے والے کواپنے ساتھی کی ایسی موت پر بڑارشک آیا وہ روپڑاکہ کاش ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی ۔خواب دیکھنے والے شخص نے فوت شدہ کی میت کواس کے گائوں پہنچادیا جہاں اسے دفن کردیاگیا ۔ چند ایام گزرنے کے بعد جس شخص کوخواب میں عمرہ کروانے کاحکم دیاگیاتھا اس نے فوت ہونے والے کی بیوہ کوفون کیا۔تعزیت کے بعداس نے کہامیں جانناچاہتاہوں کہ تمہارے خاوند کی کون سی ایسی نیکی تھی کہ اس کاانجام اس قدرعمدہ ہوا۔ بیوہ نے کہابھائی تم درست کہتے ہومیراخاوندکوئی اچھاآدمی نہ تھا۔ اس نے ایک لمبی مدت سے نمازروزہ چھوڑرکھاتھا ۔ میں اس کی کوئی خاص خوبی بیان نہیں کرسکتی ۔ ہاں ایک خوبی اس میں یہ تھی کہ ہمارے ہمسایہ میں ایک نہایت فقیربیوہ رہتی ہے ۔جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ میراخاوندجب بھی بازارکوجاتاتو جہاں وہ اپنے بچوں کے لئے روزہ مرہ کی اشیا راشن وغیرہ خریدتاتووہاں وہ بیوہ اوراس کے یتیم بچوں کے لئے بھی راشن خریدلاتااوراس کے دروازے پر سامان رکھ کرآوازدیتاکہ سامان اٹھالو۔ بیوہ عورت جب سامان اٹھاتی توساتھ ہی میرے خاوند کے لئے دعاکرتی ’’اللہ تمہاراخاتمہ بخیر کرے ۔‘‘ اللہ تعالی ہم سب کو صرف اپنے ہی در پر جھکنے اور اسی سے مانگنی کی توفیق عطا فرمائے ۔ میرے علم میں خاوندکی یہی ایک نیکی ہے جس وجہ سے اس کاخاتمہ خیر پرہواہے ۔ کتاب میں دعائوں کی قبولیت کے اس طرح کے بیشمار واقعات لکھے ہیں ۔ جنہیں پڑھنی سے ہماری زندگیاں بدل سکتی ہیں ۔ اس طرح کے سب آموز واقعات کے لئے یہ کتاب ہرگھر اور ہرفرد کی ضرورت ہے ۔آرٹ پیپر ، چہار رنگ اور خوبصورت طباعت سے آراستہ کتاب کی قیمت 3750 روپے ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال نزدسیکرٹریٹ سٹاپ پردستیاب ہے یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر042-37324034پر رابطہ کیاجاسکتاہے ۔

  • خاموش بیانیہ، کمزور تاثر: پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    خاموش بیانیہ، کمزور تاثر: پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی کردار مضبوط، مگر بیانیہ کمزور: پاکستان کو کیا کرنا ہوگا؟
    اشتہارات سے آگے: ریاستی ابلاغ کی اصل ذمہ داری
    جب ریاست بولتی نہیں، تو دنیا اس کے بارے میں خود بولتی ہے
    دنیا اس وقت ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے نہ صرف علاقائی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی حرکیات تک پھیل چکے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کی نئی لہریں، اور معاشی غیر یقینی — یہ سب اب کسی ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک مشترکہ عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

    ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور کثیرالجہتی نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک جانب ملکی سرحدوں کا مؤثر دفاع جاری ہے، تو دوسری طرف اندرونی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ خطے میں افغانستان کی صورتحال اور اس سے جڑے پیچیدہ عوامل، پاکستان کے لیے ایک مستقل چیلنج بھی ہیں اور ذمہ داری بھی۔ مزید برآں، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان ایک محتاط مگر فعال سفارتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے۔

    یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر عالمی منظرنامے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
    مگر اس کے ساتھ ایک اہم سوال جنم لیتا ہے:
    کیا یہ کردار دنیا تک صحیح انداز میں پہنچ رہا ہے؟ اور کیا خود پاکستان کے عوام اس سے پوری طرح آگاہ ہیں؟
    بدقسمتی سے، اس کا جواب حوصلہ افزا نہیں۔
    آج کے دور میں ریاستی طاقت کا ایک اہم ستون مؤثر ابلاغ بھی ہے۔ جدید دنیا میں صرف پالیسی بنانا کافی نہیں، بلکہ اس کی وضاحت، تشریح اور درست تناظر میں پیشکش بھی ناگزیر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو ایک واضح خلا کا سامنا ہے۔
    وزارتِ اطلاعات، جو کہ قومی بیانیے کی تشکیل اور ترسیل کا بنیادی ادارہ ہے، بظاہر اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ابلاغ کا عمل محدود ہو کر رسمی بیانات اور اشتہارات تک سمٹ گیا ہے، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اور دنیا دونوں کو باقاعدہ بریفنگز، مدلل مؤقف اور جامع تجزیات کے ذریعے اعتماد میں لیا جائے۔

    اہم قومی و بین الاقوامی معاملات پر صحافیوں، دانشوروں اور پالیسی ماہرین کو منظم انداز میں آگاہ کرنا، ایک مربوط بیانیہ تشکیل دینا، اور بروقت معلومات فراہم کرنا — یہ سب وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی بھی سنجیدہ ریاست کے ابلاغی نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔
    حال ہی میں وزیراعظم کے متوقع خطاب کے حوالے سے جو فضا بنی، وہ اس خلا کی ایک واضح مثال تھی۔ عوام ایک جامع اور رہنمائی فراہم کرنے والے پیغام کے منتظر تھے، مگر جو سامنے آیا وہ ایک رسمی بیان سے زیادہ حیثیت اختیار نہ کر سکا۔ اس موقع پر نہ صرف داخلی سطح پر اعتماد سازی ممکن تھی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا۔

    یہ محض ایک موقع کا ضیاع نہیں، بلکہ ایک بڑی ابلاغی کمزوری کی علامت ہے۔
    اگر ایک ریاست اپنے کردار کو خود مؤثر انداز میں بیان نہ کرے، تو یہ خلا دوسروں کے بیانیے سے پُر ہو جاتا ہے — اور اکثر یہ بیانیہ اس کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔
    پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اس کی پالیسیز، اس کے اقدامات، اور اس کا علاقائی کردار سب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان سب کی اصل قوت تبھی سامنے آئے گی جب انہیں واضح، مربوط اور پُراعتماد انداز میں دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔
    خاموشی بعض اوقات حکمت ہوتی ہے، مگر مسلسل ابہام کمزوری بن جاتا ہے۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے ابلاغی نظام کو محض معلومات کی ترسیل تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مؤثر سفارتی اور قومی طاقت کے طور پر استعمال کرے۔
    کیونکہ آج کی دنیا میں صرف درست ہونا کافی نہیں ،

  • جنگ کے سائے اور بے حس دنیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے اور بے حس دنیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے حس دنیا اور سسکتی انسانیت
    جنگ کے سائے میں خاموش عالمی طاقتیں
    انصاف کی تلاش میں بے بس انسان

    دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی، طاقت اور ٹیکنالوجی کے تمام دعوے انسانی جان کے سامنے بے معنی دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں نہ صرف جغرافیہ کو بدل رہی ہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی شدید زخمی کر رہی ہیں۔ معصوم شہری، بچے، عورتیں اور بزرگ اس کشمکش کا ایندھن بن چکے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں اب بھی تذبذب، مفادات اور خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی ہیں۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کی عالمی سیاست میں اخلاقیات کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔ وہ ممالک جو امن کے داعی اور انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، عملی طور پر یا تو خاموش تماشائی ہیں یا پھر اس کشمکش کو اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس رویے نے عالمی سطح پر انصاف کے تصور کو کمزور کر دیا ہے اور عام انسان کے دل میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے ادارے، جو عالمی امن کے ضامن سمجھے جاتے تھے، آج اپنی افادیت پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ قراردادیں منظور ہوتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، مگر زمین پر حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ یہ ادارہ جاتی کمزوری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی نظام کو ازسرِ نو دیکھنے اور مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    دنیا بھر کا عام آدمی اس صورتحال سے شدید ذہنی دباؤ اور بے بسی کا شکار ہے۔ میڈیا کے ذریعے جب وہ روزانہ تباہی کے مناظر دیکھتا ہے تو اس کے دل میں یہ سوال شدت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر اس ناانصافی کا ازالہ کون کرے گا؟ کس کے دروازے پر جا کر فریاد کی جائے؟ اور کون ہے جو اس آگ کو بجھانے کی حقیقی کوشش کرے گا؟

    حقیقت یہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ یہ صرف نفرت کو بڑھاتی ہے، معاشروں کو تقسیم کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت ذاتی اور قومی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی انسانی بھلائی کو ترجیح دے۔

    آخرکار، جب زمینی قوتیں ناکام نظر آئیں تو انسان کی امید ایک اعلیٰ طاقت کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ یقین کہ خدا دلوں میں رحم پیدا کر سکتا ہے اور حالات کو بدل سکتا ہے، آج بھی انسان کے لیے سب سے بڑی تسلی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان کو خود بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

    اگر دنیا نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ اسے ایک بے حس اور ناکام دور کے طور پر یاد رکھے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جنگ کے بجائے امن کو، نفرت کے بجائے انسانیت کو، اور طاقت کے بجائے انصاف کو ترجیح دی جائے۔

  • کام سے کام رکھنا ضروری کیوں؟تحریر:مبشر حسن شاہ

    کام سے کام رکھنا ضروری کیوں؟تحریر:مبشر حسن شاہ

    آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے اور ٹیکنالوجی ہر لمحہ ہمیں دوسروں کی زندگیوں سے جوڑے ہے، وہاں کام کا ایک بنیادی اصول تیزی سے نظرانداز ہو رہا ہے۔
    اپنے کام سے کام رکھنا۔ بظاہر یہ جملہ سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر زندگی کو پرسکون اور متوازن بنانے کا ایک مکمل فلسفہ چھپا ہوا ہے۔
    ہم میں سے اکثر لوگ اپنی توانائی دوسروں کے معاملات میں مداخلت کر کے ضائع کرتے ہیں۔ کئی بار یہ مداخلت محض دوسروں کی زندگی پر نظر رکھنے تک محدود نہیں رہتی۔ (حالانکہ یہ بھی غلط) بلکہ ہم ان کے کاموں میں دخل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ آپ کی اس دخل اندازی کو اپنے حق میں استعمال کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دفاتر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ساتھی اپنا کام ٹال دیتا ہے اور دوسرے ساتھی کو یہ محسوس کراتا ہے کہ یہ کام صرف آپ ہی کر سکتے ہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب کوئی ہمیں اہمیت دکھاتا ہے۔ہمارا دماغ سکون محسوس کرتا ہے جسے ڈوپامین کہتے ہیں ڈوپامین ریلیز ہونے کے بعد ہمارا جو ایکشن ہوتا ہے، وہ اکثر سیروٹونن ریلیٹڈ انرجی ری ایکشن میں بدل جاتا ہے۔ یعنی وقتی خوشی کے بعد دماغ میں ایک لمبی دورانیے کی توانائی یا سکون کا احساس پیدا ہوتا ہے
    تو ہم خوشی محسوس کرتے ہیں، اور اپنا کام چھوڑ کر یا اوور برڈنائز ہوکر دوسرے کا کام گلے ڈال لیتے ہیں۔ کئی لوگوں کو یہ روحانی سکون بھی لگتا ہوگا کیونکہ دوسروں کے کام آنا بھی عبادت ہے۔*( وہ عبادت اور کام مجبور و لاچار کے لیے ہیں) ، ہم اپنا اصل کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں کود پڑتے ہیں ۔یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ جو ہمیں سمجھنا پڑے گا۔ ہر شخص ہر کام نہیں کر سکتا۔ اور اگر وہ کر سکتا ہے تو نہیں کرنا چاہیے۔
    یہاں ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ جب آپ کہتے ہیں "یہ کام میں کر دوں گا” صرف اس لیے کہ یہ آپ کے لیے مسئلہ نہیں، تو آپ اپنے کسی شخص کے ہاتھوں استعمال ہونے جا رہے ہوتے ہیں اور اسے آپ اسے مستقل عادی بنا رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کام نہ کرے ۔ آپ خود یہ راستہ کھول دیتے ہیں کہ یہ کام مستقبل میں آپ کی ذمہ داری بن جائے۔ چھوٹا سا تعاون وقتی سکون تو دیتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ آپ کے لیے اضافی دباؤ، توجہ کی تقسیم، اور وقت کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ جو کام کبھی آپ نے کسی کو امپریس کرنے یا مروت میں دوسرے کا کیا تھا ایک وقت آتا ہے کہ اسی کام کو درست نہ کرنےپر آپ باقاعدہ قصور وار ٹھہرائے جاتے ہیں وہ شخص آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ کام کرانااس کا حق ہے اور ہمیشہ آپ سے کرایا جا سکتا ہے۔

    مزید یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کام پہلے سے شروع ہو چکا ہو اور ہم اس میں مداخلت کر دیں، چاہے وہ تھوڑے بہت رد و بدل یا بہتری کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ چونکہ کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے، ہم اسے مکمل کر دیتے ہیں اور نتیجتاً دوسروں کے کام کو آسان بناتے ہیں۔ یہ رویہ وقتی آسانی تو فراہم کرتا ہے، لیکن آپ کو اپنے اصل کام پر فوکس کرنے سے روک دیتا ہے اور سیکھنے کے مواقع کم کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ہم مستقل طور پر دوسروں کے کام کا بوجھ اٹھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔دوسرا جاری کام کو اچکنا اور جلدی سے مکمل کر لینا آپ کی محنت کرنے اور فوکس کی صلاحیت ختم کر دیتا ہے ۔

    معاشرتی طور پر ایک اور رجحان بڑھ رہا ہے: ہم فوراً مشورہ دینے لگتے ہیں اور ہر کام میں مداخلت کرتے ہیں، چاہے ہمیں اس کی بیسکس بھی نہ معلوم ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی گاڑی خراب ہے اور آپ کو خرابی نہیں پتا پھر بھی اسے دیکھنا یا اندازے لگانا وہ عادت ہے جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ، مہذب معاشروں میں ایک اصول ہے جب تک آپ سے پوچھا نہ جائے، آپ نے نہیں بولنا ۔یہاں ہم پورے مکینک بن بیٹھتے ہیں۔ اگر آپ کو خرابی کا علم ہے تو کیونکہ آپ کا بنیادی کام گاڑی ٹھیک کرنا نہیں ہے۔لہذا بغیر اوزاروں کے غیر ضروری مداخلت اسی ضمرے میں آئے گی جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ہاں، اگر ایمرجنسی صورتحال ہو تو ضرور مدد کریں، لیکن غیر ضروری مداخلت سے یہ چیز عادت بن جاتی ہے ، اور انسان اپنے ذمہ مستقل طور پر غیر ضروری کام لے لیتا ہے۔

    اصل افیشینسی یہ نہیں کہ آپ کم وقت میں زیادہ کام کر لیں اور ہر لمحے مصروف دکھائی دیں۔ جو کام آپ کر رہے ہیں اسے یکسوئی سے مکمل کرنا اور باقی وقت کو اپنے آپ کو آرام دینے، اپنی فیملی کو وقت دینے اور اپنی زندگی کو توازن میں رکھنے کے لیے استعمال کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ میں کم وقت میں زیادہ کام کر لیتا ہوں تو میں دوسروں سے بہتر ہوں، تو وہ غلط فہمی میں ہیں؛ یہ افیشینسی نہیں بلکہ ایک "اوور افیشینسی” ہے، جو تعریف کی کوٹنگ میں لپیٹ کر ہمیں درست دکھائی جاتی ہے۔
    یہی رجحان سوشل میڈیا میں بھی نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہمارے فون میں موجود نمبرز کے اسٹیٹس چیک کرنا ایک عام عادت ہے۔ بظاہر یہ صرف معلومات حاصل کرنا بے ضرر محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم گھر بیٹھے بیٹھے پچاس یا اس سے زائد لوگوں کے بارے میں ایکٹو معلومات حاصل کر لیتے ہیں: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں، کہاں جا رہے ہیں، اور کیا ہو رہا ہے۔ اس طرح سوشل میڈیا کے سٹیٹس اور اپڈیٹس میں وقت گزارنا بھی غیر ضروری معلومات میں انوال ہونا ہے، جو ہماری توجہ کو منتشر کرتا ہے، ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے اور اصل اہم کاموں میں رکاوٹ بنتا ہے۔
    ریسرچ بھی یہی بتاتی ہے۔ یونیورسٹی آف شکاگو (2021) کے مطابق، جو ملازمین اپنی توانائی دوسروں کے کاموں میں ضائع کرتے ہیں، ان کی پروڈکٹیوٹی تقریباً 30٪ کم ہو جاتی ہے۔ ہارورڈ بزنس ریویو کی تحقیق بھی ظاہر کرتی ہے کہ غیر ضروری ملٹی ٹاسکنگ ذہنی دباؤ، تھکن اور کام کی کوالٹی میں کمی لاتی ہے۔ اسی طرح برطانیہ کی ایگزیکٹو پروڈکٹیویٹی اسٹڈی (2020) میں بتایا گیا کہ جو لوگ بار بار دوسروں کے ضروری کام خود سے سنبھالتے ہیں، ان کے اپنے اہم کام مکمل کرنے کی صلاحیت 25٪ کم ہو جاتی ہے۔

    ایک دفتر کا واقعہ: احمد ہمیشہ ہر ساتھی کے کام میں مداخلت کرتا، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ "یہ کام میں کر دوں گا، مسئلہ نہیں ہے”۔ چند مہینوں میں اس کی اپنی اہم ذمہ داریوں میں تاخیر ہونے لگی، ذہنی دباؤ بڑھ گیا اور وہ اکثر تھکا ہوا محسوس کرنے لگا۔ اس کے ساتھی نے بھی اس رویے کو معمول سمجھ لیا اور ہمیشہ احمد پر انحصار کرنے لگا، جس سے احمد کا وقت اور توانائی مستقل ضائع ہونے لگی۔جب اس نے اس چیز کا شکوہ کیا تو سب نے اسے ذمہ دار ٹھہرایا۔ کیونکہ تمام اضافی کام اسے نہیں دیے جاتے تھے بلکہ وہ خود لیتا تھا۔

    گھر کی مثال: سارہ ہر وقت فون پر نمبرز کے اسٹیٹس چیک کرتی تھی، یہ دیکھتی رہتی تھی کہ دوست یا رشتہ دار کیا کر رہے ہیں۔ دن کے آخر میں اس کے پاس اپنے بچوں یا خود کے لیے صرف چند لمحے رہ جاتے تھے، اور وہ محسوس کرتی تھی کہ اس کا وقت مکمل طور پر منتشر ہو گیا ہے۔

    انٹرفیئر کا اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی کام پہلے سے شروع ہو چکا ہو اور ہم اس میں تھوڑا بہت رد و بدل کر کے اسے مکمل کر دیتے ہیں، تو ہم فوری آسانی حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ ہمیں اپنے اصل کام پر فوکس کرنے سے روک دیتا ہے اور سیکھنے کے مواقع کم کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ہم مستقل طور پر دوسروں کے کام کا بوجھ اٹھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔
    مشورے اور غیر ضروری مداخلت: اگر کوئی شخص بغیر پوچھے ہی ہر مسئلے پر مشورہ دے یا ہر کام میں مداخلت کرے، تو وہ خود اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھاتا ہے اور اپنے اصل کام پر فوکس نہیں کر پاتا۔ ایمرجنسی کی صورت میں مدد ضرور کریں، لیکن غیر ضروری مداخلت طویل عرصے میں نقصان دہ ہوتی ہے۔

    آج کی تیز رفتار زندگی میں کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو اپنی سمت واضح رکھتے ہیں، اپنی توانائی کو یکسوئی سے استعمال کرتے ہیں اور غیر ضروری مداخلت یا سوشل میڈیا کی جزوی مصروفیات میں الجھے نہیں رہتے۔ ارے "میں کر دوں گا” فوری فیصلے، غیر ضروری مشورے یا سوشل میڈیا انگیجمنٹ وقتی اطمینان تو دیتے ہیں، مگر لانگ رن میں یہ آپ کی صحت، توجہ، اور ذاتی وقت کو متاثر کرتے ہیں۔

    مثال کے طور پر آپ کا پیشہ ایک سرکاری دفتر میں ملازمت ہے جہاں فائل رورک یا دماغی کام آپ کو سونپا جاتا ہے تو چاہے آپ کتنے ہی اچھے ڈرائیو ہوں کبھی دفتر میں اپنی خدمات بطور ڈرائیو پیش نہ کریں۔ آپ کو الیکٹرک فالٹس اور دیگر فنی مہارت ہے تو اپنے کام کے دوران کبھی استعمال نہ کریں کیونکہ تمام اضافی مہارت اور توانائی آپ کے اپنے کام کرنے کے لیے ہے نہ کہ ربورٹ بن کر پبلک سروسز دینے کے لیے۔ اپنے اردگرد دیکھیں تو بے شمار لوگ ایسے ہیں جو صرف وہ کام کرتے ہیں جس کے لیے انہیں مقرر کیا جائے۔ اس دوران بجلی چلی گئی ہے تو وہ سکون سے انتظار کریں گے جبکہ کچھ لوگ فورا لائن مین کا کردار ادا کرنا شروع کر دیں گے۔ اب بجلی کی خرابی درست ہو گی جو ورکر خاموش پرسکون تھے وہ فوری کام پر توجہ دیں گے جبکہ اپنے کام سے بجلی کی خرابی دور کرنے والے کئی منٹ مطلوبہ ردھم سے محروم رہیں گے ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر معاملے میں سپاٹ رویہ رکھیں۔ انسانی ہمدردی اور ایمرجنسی حالات میں ضرور اپنی تمام خدمات دیں لیکن عام زندگی کو ایمرجنسی نہ ڈکلئیر کریں۔ اس کا ایک بہت اہم حصہ ہماری زندگی سے جڑا ہے۔ انسان کے جسم میں پوشیدہ توانائی قدرت نے بیماری، بھوک اور دباو سے مقابلے کے لیے رکھی ہے جو کبھی کبھار ہی درکار ہوتے۔ لیکن ملٹی ٹاسکنگ میں جوں ہی دماغ پر دباو بڑھتا وہ جسم کو الرٹ کا میسج بھیج دیتا۔ اور جونہی یہ اوور برڈن روٹین لمبی ہوتی دماغ جسم کی ایمرجنسی توانائیاں طلب کرکے انہیں بھی اوور ورکنگ کے لیے جھونک دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ کام مختلف کام اور افراتفری کا شکار لوگ بیمار جلد ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ان پر اچانک کسی بڑی بیماری کے حملے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔

    کام سے کام رکھنا اور اپنی توانائی کو یکسوئی سے استعمال کرنا نہ صرف ایک اچھی عادت ہے بلکہ ایک کامیاب، مؤثر اور پرسکون زندگی کی کنجی بھی ہے۔ اگر ہم اس اصول کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہمارے مسائل کم ہوں گے بلکہ ہم اپنے وقت، توانائی اور صحت کو بہتر استعمال کرتے ہوئے ایک مضبوط اور متوازن شخصیت کے حامل بھی بنیں گے۔
    مبشر حسن شاہ