Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رمضان پیکج میں مستحقین نظر انداز کیوں ؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    رمضان پیکج میں مستحقین نظر انداز کیوں ؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی عوام دوست پالیسیوں کا گراس روٹ لیول پر اثر کیوں نہیں ہو رہا؟ رمضان پیکج اور الیکٹرانک سکوٹر برائے طلباء سکیم رنگ کیوں نہیں دکھا رہی ؟ مشاورت کے عمل میں کوئی خامی یا بیورو کریسی کے روایتی فریب سےرمضان نگہبان پیکج میں اُمراء، صاحب ثروت اور متنول گھرانوں شامل ہوگئے، معذور اور انتہائی مستحقین کیسے نظر انداز ہوئے ؟ اساتذہ سے محروم طلباء اور طالبات سرکاری کالجوں سکولوں سے دور رہنے پر مجبور لیکن ان کے لئے آسان قرضوں پر سکوٹیاں کیا رنگ لائیں گی شہری کالجوں ،سکولوں میں اساتذہ کی بھرمار طلباء ناپید ،دیہاتی کالجوں سکولوں میں طلباء کی بھرمار اساتذہ کی عدم دستیابی،قرضوں سے ادا کی جانے والی تنخواہوں کی افادیت کیسے حاصل ہوگی؟ بلاشبہ مریم نواز نے عوامی خدمت اور عوام کی شنوائی کیلئے دن رات ایک کررکھا ہے لیکن ان اقدامات کے اثرات و ثمرات کو گراس روٹ سطح پر پذیرائی تب ملے گی جب بگڑے ہوئے نظام کی درستی اور دور اندیش مشاورت پر انحصار ہوگا،اس امر کی جامع مثالیں رمضان پیکج اور الیکٹرک سکوٹر سکیم ہے، رمضان سکیم میں جو ڈیٹا لیا گیاوہ نادرا سے حاصل کیا گیا اور فیلڈ کے تقسیم کے عمل میں تقریبا50 فیصد ایسے گھرانوں کو رمضان پیکج پہنچانے کی کوشش کی جو صاحب ثروت اور متنول گھرانے ہیں جبکہ معذور افراد اور حقیقی غربا محروم رہ گئے،اس تقسیم کار میں اگر نادرا کی بجائے سوشل ویلفیئر پنجاب، بیت المال اور زکواة کے کھاتوں میں رجسٹرڈ افراد کو شامل کیا جاتا تو عوام کی حقیقی خدمت کا احساس اجاگر ہوتا، جس رفتار سے یونین کونسل اور گائوں محلہ کی سطح تک گھر دروازے تک راشن پہنچایا جا رہا ہے اگر اس سرعت کے ساتھ لوکل انتظامیہ نمبردار نیٹ ورک کے ذریعے حقیقی مستحقین کی رجسٹریشن کرتی تو یہ صرف ایک ہفتہ میں مکمل کی جا سکتی تھی جس کی طرف کسی وزیر مشیر نے توجہ نہیں دی، بیورو کریٹ بھی سب اچھا ہے کی صدائیں بلند کرتے رہے،ادھر الیکٹرک سکوٹروں کی کھیپ پر خطیر رقم خرچ کرکے طلبا و طالبات کو نئے کھلونے دئیے جا رہے ہیں،پنجاب کے کالجوں میں سینکڑوں کالج ایسے ہیں جن میں کمپیوٹر ٹیچرکی پوسٹ ہی موجود نہیں، لاکھوں طلباء وطالبات کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم سے محروم ہیں جو کہ دور جدید کی اہم ترین ضرورت ہےگذشتہ ادوار میں دیہی کا لجوں اور سکولوں میں اساتذہ کی انتہائی کمی واقع ہوئی جبکہ شہری علاقوں کے کالجوں میں طلباء کی تناسب سے کہیں زیادہ اساتذہ مفت کی تنخواہیں ڈکارتے رہے جو قومی اور صوبائی خزانے پر بوجھ ہے،اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے نہ صرف شہری بلکہ دیہات کے کالجوں میں بھی تعیناتیاں کی جائیں ، ججوں کی طرح اساتذہ کی ملازمت کی عمر میں اضافہ ضروری ہےتاکہ ان کے تجربات اور پیشہ وارانہ مہارت سے قوم زیادہ سے زیادہ مفید ہو سکے،

    ایک رپورٹ کے مطابق صرف لاہور میں بڑھتے جرائم جن میں ڈکیتیاں ،گاڑی چوری ،قتل وغارت، قبضہ مافیا اور دیگر معاشرتی جرائم شامل ہیں ، سی سی پی او لاہور کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے جنہیں تمغہ خدمت سے نوازا گیا ہے۔

  • وسیم راشد

    وسیم راشد

    شاہد ریاض خصوصی رپورٹ(باغی ٹی وی)
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کے ملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    وسیم راشد(معروف صحافی، ادیبہ،شاعرہ اوراینکر)
    23 مارچ 1977: یوم پیدائش
    شوہر کا نام:راشد شہاب
    والد کا نام:حافظ عبدالوحید خاں
    والدہ کا نام:سرور جہاں
    جائے ولادت:دہلی
    تعلیم:ایم اے (بی ایڈ)، پی ایچ ڈی ماس کمیونیکیشن
    زبان:انگلش، ہندی، اردو
    پیشہ:معلہ، صحافی، ٹی وی پروڈیوسر، اینکر
    مشاغل:شاعری، نظامت، مقالے پڑھنا، ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا
    موجودہ عہدہ:چیف ایڈیٹر ”صدا ٹوڈے“ نیوز پورٹل
    ممبر گورننگ کونسل، دلی اردو اکادمی
    سابق عہدے:سینئر پی جی ٹی اردو ،صدر شعبۂ اردو (نیو ہورائزن اسکول)وائس پرنسل، کریسنٹ اسکول دریا گنج، نئی دہلی
    ایسوسی ایٹ پروڈیوسر (عالمی سہارا اردو) مدیر (چوتھی دنیا اردو) پرنسپل آور انڈیا انٹر نیشنل اسکول، کاندھلہ، یوپی

    غیرملکی سفر:انگلینڈ، ایران، عراق، کویت، جدہ، پاکستان
    تصنیفات:سرسید کے مخالفین(حقائق کی روشنی میں) 2018ء
    ایوارڈ و اوعزازات

    ۔ (1)پرم شری میڈیا ایکسی لنسی ایوارڈ
    ۔ 2017ء-(برائے اردو صحافت)
    ۔ (2)رانی جھانسی لکشمی بائی ایوارڈ (برائے اردو صحافت)
    ۔ (3)ناہید صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (4)آفتابِ صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (5)مولانا ابواکلام آزادایوارڈ(برائے اردو صحافت)
    ۔ (6)قرۃ العین حیدر ایوارڈ (برائے اردو فکشن)
    ۔ (7)بہترین استاد ایوارڈ-2004ء(دلی اردو اکاڈمی)
    ۔ (8)بہترین استاد ایوارڈز 2004ء(نیو ہورائزن اسکول)
    ۔ (9)پروین شاکر ایوارڈ، پونہ (برائے اردو شاعری)
    ۔ (10)عصمت چغتائی ایوارڈ (برائے اردو ادب)
    ۔ (11)گولڈ میڈل، پوزیشن، دوئم ، ایم اے اردو، دہلی یونیورسٹی
    ۔ (12)مرزا غالب ایوارڈ( بی اے، اول پوزیشن، دہلی یونیورسٹی)
    گھر کا پتا:C1/9، فلیٹ نمبر 401، چوتھا فلور پاکٹ 11، جسولہ وہار، نئی دہلی-25

    غزل

    تیرا خیال میری انجمن میں رہتا ہے
    عجیب پھول ہے تنہا چمن میں رہتاہے
    میں اس سے دور بھی جاؤں تو کس طرح جاؤں
    وہ عطر بن کے میرے پیرہن میں رہتا ہے
    وہ اپنی روح کے زخموں کو کس طرح گنتا
    ہمیشہ الجھا ہوا وہ بدن میں رہتا ہے
    تری تلاش میں تھک جاتے ہیں قدم لیکن
    سکون قلب بھی شامل تھکن میں رہتا ہے
    یہ بات سچ ہے نظریات جس کے چھوٹے ہوں
    بڑے مکان میں بھی وہ گھٹن میں رہتا ہے
    وسیم ہند کی مٹی میں کیسا جادو ہے
    کہیں بھی جاؤں مرا دل وطن میں رہتا ہے

    غزل

    زندگی جن کی گزرتی ہے اجالوں کی طرح
    یاد رکھتے ہیں انھیں لوگ مثالوں کی طرح
    علم والوں کو کبھی موت نہیں آتی وہ
    زندہ رہتے ہیں کتابوں کے حوالوں کی طرح
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کےملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    غزل

    نہ وہ کہانی نہ اب داستان باقی ہے
    بس ایک زخم کا دل پر نشان باقی ہے
    تمھاری یاد کا سایہ تھا جب تلک سر پر
    ہمیں بھی لگتا رہا آسمان باقی ہے
    نہ کوئی آس نہ امید تیرے آنے کی
    نہ جانے کس لیے آنکھوں میں جان باقی ہے
    اسی لیے چلے آتے ہیں اس کے کوچےمیں
    وہ چاہتا ہےہمیں یہ گمان باقی ہے
    ہمیں نصیب تھا جیسا وسیم بچپن میں
    نہ ویسا گھر ہے نہ وہ خاندان باقی ہے

    غزل

    دل کا قصہ نہ کبھی بیچ میں چھوڑا جائے
    یہ ورق ایسا نہیں ہےجسے موڑا جائے
    چاہے شیشہ ہو کہ کھلونا ہو کہ دل ہو میرا
    اسکی قسمت میں ہی لکھا ہے کہ توڑا جائے
    اپنی دہلی سے ہٹوادیے پتھر اس نے
    میں پریشاں ہوں کہ سر اب کہاں پھوڑا جائے
    بعد میں جوڑیں گے ہم ٹوٹے ہوئے جام وسبو
    پہلے ٹوٹے ہوئے ہر رشتے کو جوڑا جائے
    کیوں میرے اشکوں کی محفل میں نمائش ہو وسیم
    کیوں بھری بزم میں آنچل کو نچوڑا جائے

  • 23 مارچ کو پیدا ہونے اور وفات پانے  والی چند مشہور شخصیات

    23 مارچ کو پیدا ہونے اور وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    23 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1142ء المستضی بامر اللہ حسن ، خلافت عباسیہ کا (حکومت18 دسمبر 1170ء تا 27 مارچ 1180ء) 33واں خلیفہ ، مستضی کے دور میں صلاح الدین ایوبی نے دنیائے اسلام میں شہرت پائی۔ مستضی کی بیماری کے دوران ہی الناصرالدین اللہ کی خلافت کی بیعت کر لی گئی۔ (وفات: 30 مارچ 1180ء)

    1749ء پِئیر سِیموں لاپلاس ، اثر انداز فرانسیسی عالِم ، جن کا کام ریاضیات، شماریات، طبیعیات اور فلکیات کی نشو و نما میں نہایت اہم تھا، انہیں فرانس کے نیوٹن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1812ء میں لاپلاس نے شماریات (Statistics) میں کئی بنیادی نظریات پیش کئے۔ انہوں نے حسابی نظام میں امکان (probability) کی بنیاد پر استقرائی منطق (Inductive reasoning) کو پیش کیا۔ (وفات: 5 مارچ 1827ء)

    1853ء مظفر الدین شاہ قاجار ، فارس کے قاجار خاندان کا (1 مئی 1896ء تا 3 جنوری 1907ء) پانچواں شہنشاہ (وفات : 3 جنوری 1907ء)

    1858ء لڈوگ کویڈ ، نوبل امن انعام (1927ء) یافتہ جرمن کارکن، مؤرخ اور سیاستدان ۔ جو جرمن بادشاہ وہلیم دوم پر تنقید کی وجہ سے شہرت پائی ۔ (وفات: 4 مارچ 1941ء)

    1875ء سید حسین بروجردی یا سید حسین بن علی طباطبائی بروجردی ، شیعہ مجتہد ،آیت اللہ اور مرجع تقلید ، سید حسین طباطبائی کا شجرہ نسب حسن مثنی، امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ملتا ہے۔ سید حسین طباطبائی 15 سال کی عمر میں دنیا کے تمام شیعوں کے اکیلے مرجع تقلید اور مجتہد تھے اور 17 سال کی عمر میں قم کے حوزہ علمیہ کے سربراہ بنے۔ (وفات: 30 مارچ 1961ء)

    1876ء محمد ضیاء المعروف ضیاء گوک الپ ، ترک ماہر عمرانیات، مصنف، شاعر اور سیاسی شخصیت ، 1908ء میں انقلاب نوجوانان ترک کے بعد آپ نے گوک الپ (قہرمانِ آسمانی یا آسمانی ہیرو) کا قلمی نام اختیار کیا جو تاحیات برقرار رکھا۔ (وفات : 25 اکتوبر 1924ء)

    1881ء ہرمن سٹاوڈنگر ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1953ء) یافتہ جرمن کیمیاء دان، انجینئر و استاد جامعہ، جو پولیمر کیمیاء کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ (وفات : 8 ستمبر 1965ء)

    1881ء روگر ماٹن ڈو گاڈ ، نوبل ادب انعام (1937ء) یافتہ فرانسیسی ناول نگار (وفات : 22 اگست 1958ء)

    1904ء جوآن کرافورڈ ، امریکی فلمی اداکارہ، ماڈل و رقاصہ (وفات: 10 مئی 1977ء)

    1907ء ڈینئیل بوٹایک ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1957ء) یافتہ سوئس نژاد اطالوئی طبیب، ماہرِ دوا سازی، ماہرِ اعصابیات، حیاتی کیمیا دان، ماہرِ اسپرانٹو و استاد جامعہ ، انھوں نے ایسی ادویہ تیار کی تھی جو خاص قسم کی عصبیاتی پیغام کو روکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ (وفات: 8 اپریل 1992ء)

    1910ء اکیرا کروساوا ، جاپانی ہدایتکار اور مصنف (وفات: 6 ستمبر 1998ء)

    1914ء سید رئیس احمد جعفری ندوی ، صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی (1966ء) یافتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور صحافی، مؤرخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار ، (وفات: 27 اکتوبر، 1968ء)

    1916ء ہرکشن سنگھ سُرجیت ، بھارتی کمیونسٹ سیستدان ، (1992ء تا2005ء) مارکسی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا یعنی سی پی ایم کے سابق جنرل سیکریٹری اور سیاسی رہنما (وفات: 1 اگست 2008ء)

    1923ء شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز ، ہلال امتیاز (1994ء) اور فیض احمد فیض ایوارڈ (1994ء) یافتہ سندھی شاعر و استاد جامعہ ، آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ (وفات: 28 دسمبر 1997ء)

    1924ء خواجہ معین الدین ، صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی یافتہ پاکستانی ڈراما نویس جس نے اپنے ڈرامے مرزا غالب بندر روڈ پر کی وجہ سے شہرت پائی ۔ (وفات: 9 نومبر 1971ء)

    1927ء پروفیسر محمد منور مرزا ، ستارہ امتیاز یافتہ پاکستانی ماہرِ اقبالیات ، محقق ، مؤرخ ، شاعر اور اردو کے پروفیسر ( وفات : 7 فروری 2000ء)

    1933ء صوبیدار عبدالخالق المعروف پرندہ ایشیاء ، پاکستانی آرمی ریٹائرڈ کھلاڑی جس نے 1954ء کے ایشیائی کھیلوں میں 100میٹر کی دوڑ 10.6 سیکنڈز میں عبور کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ‘فلائنگ برڈ آف ایشیا’ کا خطاب اسے جواہرلعل نہرو نے دیا۔ (وفات : 10 مارچ 1988ء)

    1935ء ڈاکٹر جگتار ، بھارت سے تعلق رکھنے والے پنجابی شاعر (وفات : 3ہ مارچ 2010ء)

    1945ء احسان مانی ، آئی سی سی کے سابق صدر اور اگست 2018ء سے 27ویں چیئرمین پی سی بی,1948ء وسیم باری ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی, 1964ء ہوپ ڈیوس ، امریکی اداکارہ, 1972ء سمرتی ملہوترا المعروف اسمرتی ایرانی ، بھارتی فلمی اداکارہ اور سیاست دان

    1973ء میر واعظ عمر فاروق ، مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما جو عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ، جامع مسجد کے خطیب اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اہم رہنما بھی ہیں۔

    1977ء جنید اکبر ، پاکستانی سیاستدان ، وہ (1 جون 2013ء تا 31 مئی 2018ء) قومی اسمبلی پاکستان کے رکن بھی رہے۔

    1987ء کنگنا راناوت ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1990ء سونو ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1929.نصرت بھٹو کی شہرت ذولفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی کے بطور ہے۔ اس کی اولاد بینظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو، اور صنم بھٹو ہیں۔ نصرت بھٹو نسلاً ایرانی صوبہ کردستان سے تعلق رکھتی ہے۔ بھٹو کو پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کی سربراہ بھی رہی۔ 1996ء میں بینظیر کے حکومتی دور میں مرتضٰی کے ماروائے عدالت قتل کے بعد ذہنی توازن کھو بیٹھی اور اس کے بعد مرنے تک بےنظیر کے خاندان کے ساتھ دبئی میں مقید رہی۔ 23 اکتوبر 2011 ء اتوار کو دبئی میں انتقال کر گئی.

    1983ء – مصلح الدین صدیقی، (پیدائش۔ 1918ء)

    23 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1369ء پیٹر ، شاہ قشتالہ ، ظالم (ال ظالم) یا صرف (ال Justo) کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ وہ (1350ء تا 1369ء) کاسٹایل اور لیون کا بادشاہ تھا۔ وہ آئیوریا گھرانہ کی مرکزی شاخ کا آخری حکمران تھا۔ (پیدائش : 30 اگست 1334ء)

    1827ء پئیر سیموں لاپلاس، اثر انداز فرانسیسی عالِم تھے، جن کا کام ریاضیات، شماریات، طبیعیات اور فلکیات کی نشوونما میں نہایت اہم تھا۔ وہ تمام وقت کا ایک عظیم ترین سائنس دان سمجھا جاتا ہے۔ (پیدائش : 1749ء)

    1887ء نواب کلب علی خان ، ریاست رام پور کے (21 اپریل 1865ء تا 23 مارچ 1887ء) دسویں نواب رام پور ، نواب یوسف علی خان کا فرزند ، رام پورکی جامع مسجد تعمیر کروائی۔ رضا لائبریری، رام پور کو جدید طرز پر تعمیر کروایا اور رام پور میں کتابوں کا عظیم ذخیرہ جمع کیا۔ نواب کلب علی خان کو عربی اور فارسی زبان میں کافی عبور حاصل تھا اور اسلامی دنیا کے بیشتر نادر مخطوطات اُن کی سعی سے رضا لائبریری، رام پورمیں جمع کیے گئے۔ (پیدائش: 1832ء)

    محمد علی محمد خان محب ، محمود آباد بھارت کے سیاستدان، شاعر اور (28 جون 1903ء تا 23 مارچ 1931ء) راجا محمود آباد (پیدائش: 4 جون 1878ء)

    1959ء بدیع الزماں سعید نوری ، ترک ماہر عالم دین، صوفی و محقق (پیدائش : 1878ء)

    1992ء فریڈریک آگسٹ وان ہایک ، نوبل انعام برائے معاشیات (1984ء) یافتہ آسٹریائی برطانوی ماہر معاشیات، ماہر، فلسفی، عمرانیات و استاد جامعہ ، انہیں یہ انعام سوئیڈش ماہر اقتصادیات گونر مائرڈل کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ (پیدائش: 8 مئی 1899ء)

    2011ء الزبتھ ٹیلر ، برطانوی نژاد امریکی اداکارہ، (پیدائش : 27 فروری 1932ء)

    2015ء ہیری لی کوان یئو ، سنگا پوری وکیل اور سیاست دان، (3 جون 1959ء تا 28 نومبر 1990ء) وزیر اعظم سنگا پور اور (28 نومبر 1990ء تا 12 اگست 2004ء) سینئر وزیر سنگا پور ، وہ پہلے وزیراعظم سنگا پور ہیں جنہوں نے تین دہائیوں تک حکمرانی کی۔ انہیں جدید سنگاپور کا بانی مانا جاتا ہے۔ اور یہ تیسری دنیا سے واحد مثال ہے کہ صرف ایک نسل کو جدید دنیا کے مقابل لا کھڑا کیا۔ (پیدائش : 16 ستمبر 1923ء)

    1843ء۔۔ہوش محمد شیدی۔ہوشو کے والد کا نام سبھاگو اور والدہ کا نام دائی تھا . اس کے بھائی کا نام نصیبو جبکہ بہن کا نام سیتاجی تھا . یہ سندھی نام ہیں جن سے ان کی سندھ سے محبت کی ایک جھلک نظر آتی ہے ہوشو کی پیدائش اور مزار کے حوالے سے متضاد رائے ہیں مگر جو سب سے زیادہ عام ہے وہ ہے کہ ہوش محمد عرف ہوشو شیدی کی پیدائش میر فتح علی ٹالپور کے گھر ہوئی کیونکہ ہوشو شیدی کی والدہ وہاں ملازمہ تھی .

    ہوشو شیدی نے اپنا بچپن میروں کے گھر میں ہی گزارہ اور جب جوان ہوئے تو فوج میں بھرتی ہوگئے .ا س وقت سندھ میں تالپوروں کی حکومت تھی . اور ہوشو کا خاندان تالپوروں کا عقیدت مند اور وفادار تھا .ہوشو اپنی بہادری اور وفاداری کی وجہ سے جلد ہی فوج میں جرنیل کے عہدے تک پہنچ گیا . یہ وہ دور ہے جب میر فتح علی کا بیٹا میر صوبیدار سندھ کا حاکم تھا . سندھ کی خوشحالی دیکھ کر انگریزوں نے سندھ پر.قبضے کا منصوبہ بنایا . اس سلسلے میں انگریزوں نے تالپور حکومت میں سے چند غداروں کو ساتھ ملا کر میر صوبیدار کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور میر صوبیدار کے قریب ہوگئے جب ہوشو شیدی کو انگریزوں کی نیت پر شک ہوا اور اس نے میر صوبیدار کو انگریزوں کے منصوبے کے بارے میں بتایا تو میر صاحب نے اس پر یقین نہیں کیا. 11 جنوری 1843 کو انگریزوں نے ٹالپور حکومت پر شب خون مار دیا اور میانی کی جگہ پر پہلا معرکہ ہوا میر صوبیدار نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور انگریزوں نے جلد ہی میر صوبیدار اور دوسرے سرداروں کو قید کرلیا .ہوشو شیدی کے لیے یہ صورتحال بہت تکلیف دہ تھی اس نے اپنے قابل اعتماد دوستوں اور بہادر سپاہیوں کو جمع کرنا شروع کردیا اور 11 مارچ 1843 کو اپنی فوج کو لیکر نکل پڑا 23 مارچ 1843 کو ہوش محمد شیدی کی فوج اور انگریزوں کی فوج کا آمنا سامنا پھلیلی واہ کے قریب ہوا ہوشو نڈر جرنیل تھا وہ نعرہ لگاتے ہوئے مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں انگریز فوج کی صفوں میں گھس گیا اور اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے امر ہوگیا .

    1931ء – بھگت سنگھ، برصغیر کی جنگ آزادی کی ایک مشہور شخصیت ۔بھگت سنگھ 28 ستمبر 1907 کو ضلع لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے موضع بنگہ میں پیدا ہوئے۔ کاما گاٹا جہاز والے اجیت سنگھ ان کے چچا تھے۔جلیانوالہ باغ قتل عام اور عدم تعاون کی تحریک کے خونیں واقعات سے اثر قبول کیا۔ 1921ء میں اسکول چھوڑ دی اور نیشنل کالج میں تعلیم شروع کی۔ 1927ءمیں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوے اور شاہی قلعہ لاہور میں رکھےگیے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نوجوان بھارت سبھا بنائی اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگیے۔ دہلی میں عین اس وقت، جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا انھوں نے اور بے کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا۔ دونوں گرفتار کرلیے گئے۔ عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔1928ء میں سائمن کمیشن کی آمد پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاجپت رائے زخمی ہو گئے۔ اس وقت لاہور کے سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ انقلاب پسندوں نے ان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ایک دن پچھلے پہر جب مسٹر سانڈرس اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ پولیس لاہور اپنے دفتر سے موٹر سائیکل پر دفتر سے نکلے تو راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔ حوالدار جین نے سنگھ کا تعاقب کیا۔ انہوں نے اس کو بھی گولی مار دی اور ڈی اے وی کالج ہاسٹل میں کپڑے بدل کر منتشر ہو گئے۔ آخر خان بہادر شیخ عبد العزیز نے کشمیر بلڈنگ لاہور سے ایک رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا۔ لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ، 1931ء کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ فیروز پور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے، ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ بعد میں یہاں ان کی یادگار قائم کی گئی۔

  • ملکی سلامتی کے اداروں کیخلاف افواہ سازی کی  مہم کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی کے اداروں کیخلاف افواہ سازی کی مہم کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے جبکہ افغانستان کو بھی غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے ۔دونوں اسلامی ممالک کو غیر مستحکم کرنے کا مقصد چین ہے اور چین کو کمزور کرنے کا مقصد امریکہ کی پالیسی ہے۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں میں موجود چند سیاستدان اپنے مفادات کیلئے بہت کچھ کر رہے ہیں اور کہہ بھی رہے ہیں کچھ سیاستدان حقائق کو دانستہ یا نادانستہ طور پر نظرانداز کر رہے ہیں۔ حیرت ہے ملک کی سیاسی جماعتیں اور ان سیاسی جماعتوں میں چند سیاستدان ملکی سلامتی کے اداروں پر چڑھ دوڑے ہیں ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر وہ کون سا قومی فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کر رہی ہیں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے پاک فوج اور جملہ ادارے جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں ملک و قوم کی سلامتی کی خاطر جام شہادت مگر دوسری طرف سوشل میڈیا، وی لاگرز، یوٹیوبر اور الیکٹرانک میڈیا پر انہی ملکی سلامتی کے اداروں پر افواہ سازی کی ایک مہم شروع کر رکھی ہے جسے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    پاکستان اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لئے پاک چین راہداری کے منصوبے پر تکیہ کئے بیٹھا ہے جن ممالک کو ہمارا یہ منصوبہ کھٹک رہا ہے وہ اپنی کوششوں میں مصروف ہیں پاکستان میں بدامنی پھیلا کر اس اہم منصوبے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم میں اس تاثر کو اجاگر کیا جا رہا ہے اور ایک منصوبے کے تحت ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے قوم کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر توجہ نہیں دینی چاہئے، بلاشبہ سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورت حال ہے تاہم ملکی سلامتی کے ادارے ملک و قوم کی سلامتی کی خاطر اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو سیاستدان، دانشور، ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر اپنے ہی سلامتی کے اداروں کے بارے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں وہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔ فوجی بھائی فوجی بھائی ہوتے ہیں یہ شہید ہوتے ہیں یا غازی ہوتے ہیں۔ قوم اپنے فوجی بھائیوں کے حق میں دعائیں کیا کریں۔

  • چڑیوں کے عالمی دن کو سمجھنا

    چڑیوں کے عالمی دن کو سمجھنا

    چڑیوں کا عالمی دن، ہر سال 20 مارچ کو منایا جاتا ہے، یہ ایک عالمی اقدام ہے جس کا مقصد چڑیوں کے تحفظ اور ان کی رہائش گاہوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ یہ دن ان چھوٹے لیکن اہم پرندوں اور ان کے رہنے والے ماحولیاتی نظام کی حفاظت کی اہمیت کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔ چڑیاں صدیوں سے انسانوں کی ہمہ گیر ساتھی رہی ہیں، ان کی موجودگی کو مختلف ثقافتوں میں لوک داستانوں، ادب اور آرٹ میں دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ ہم چڑیا کے عالمی دن کی تاریخ، چڑیا کی آبادی میں کمی کی وجوہات، اور ان کے لیے مستقبل کے نقطہ نظر کا جائزہ لیتے ہیں اور زمین پر ان مشہور پرندوں کے مستقبل پر بحث کی گئی ہے۔

    چڑیا کے عالمی دن کی اہمیت
    چڑیاں، جنہیں اکثر فطرت کے سانگ برڈز کہا جاتا ہے، مختلف ثقافتوں میں ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں اور صدیوں سے انسانی معاشرے کا ایک لازمی حصہ رہی ہیں۔ چڑیا کا عالمی دن ہمارے ماحولیاتی نظام میں چڑیوں کی خوبصورتی اور اہمیت کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ چڑیا مختلف ثقافتوں میں ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں اور صدیوں سے انسانی معاشرے کا ایک لازمی حصہ رہی ہیں۔ چڑیا کا عالمی دن ہمارے ماحولیاتی نظام میں چڑیوں کی خوبصورتی اور اہمیت کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
    بیداری پیدا کرنا
    چڑیا کے عالمی دن کا ایک بنیادی مقصد دنیا بھر میں چڑیوں کی آبادی میں کمی کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ چڑیوں کو درپیش خطرات، جیسے رہائش گاہ کے نقصان، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے، یہ دن افراد، برادریوں اور حکومتوں کو ان پیارے پرندوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
    چڑیوں کے زوال کی وجوہات
    رہائش کا نقصان

    شہری آبادی اور جنگلات کی کٹائی کے نتیجے میں چڑیوں کی قدرتی رہائش گاہیں ختم ہو گئی ہیں۔ گھونسلے بنانے کی جگہوں اور خوراک کے ذرائع کی تباہی نے چڑیوں کو شہری ماحول کے مطابق ڈھالنے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں انہیں آلودگی اور پرندوں کی دوسری نسلوں کے ساتھ مسابقت جیسے اضافی چیلنجز کا سامنا ہے۔
    آلودگی
    فضائی اور آبی آلودگی سمیت ماحولیاتی آلودگی چڑیوں کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ ماحول میں آلودگی چڑیوں کی صحت اور تولیدی کامیابی کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے آبادی کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے۔ آلودگی کو کم کرنے اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کی کوششیں چڑیا کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔
    موسمیاتی تبدیلی
    موسمیاتی تبدیلی چڑیوں کے رہائش گاہوں اور نقل مکانی کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے، جس سے ان کی افزائش نسل اور خوراک کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، اور بارش کے نمونوں میں تبدیلی ماحولیاتی نظام میں خلل ڈال سکتی ہے اور چڑیوں کے پنپنے کی صلاحیت کو منفی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔
    زمین پر چڑیوں کا مستقبل
    تحفظ کی کوششیں

    درپیش چیلنجوں کے باوجود چڑیوں نے بدلتے ہوئے ماحول کو اپنانے میں لچک دکھائی ہے۔ تحفظ کی کوششیں، بشمول رہائش گاہ کی بحالی، افزائش نسل کے پروگرام، اور عوامی بیداری کی مہمیں، چڑیوں کے مستقبل کے لیے امید کی پیش کش کرتی ہیں۔ چڑیا کے زوال کی بنیادی وجوہات کو حل کرکے اور تحفظ کے ہدف کے اقدامات کو نافذ کرکے، ہم ان مشہور پرندوں کی طویل مدتی بقا کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ چڑیا کے تحفظ کے اقدامات میں مقامی کمیونٹیز کو شامل کرنا کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے۔ چڑیوں کی اہمیت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا، رہائش میں اضافے کے لیے وسائل فراہم کرنا، اور فطرت کی طرف ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینا افراد کو چڑیوں اور ان کے رہائش گاہوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کے لیے بااختیار بنا سکتا ہے۔
    نتیجہ
    چڑیا کا عالمی دن چڑیوں کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے کی فوری ضرورت کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔ بیداری بڑھانے، خطرات سے نمٹنے اور تحفظ کی کوششوں کو فروغ دے کر، ہم چڑیوں کے لیے روشن مستقبل محفوظ کر سکتے ہیں اور زمین پر ان کی مسلسل موجودگی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔چڑیا کا عالمی دن چڑیوں اور ان کے رہائش گاہوں کے تحفظ کی ضرورت کی بروقت یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔ ان کے زوال میں کردار ادا کرنے والے عوامل پر توجہ دے کر اور ان کے تحفظ کی وکالت کرتے ہوئے ہم چڑیوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھ سکتے ہیں جس میں وہ تعاون کرتے ہیں۔ آئیے ہم مل کر چڑیا کا عالمی دن منائیں اور ان پیارے پرندوں کو آنے والی نسلوں تک محفوظ رکھنے کے لیے بامعنی اقدام کریں۔

  • تحریک پاکستان والے جذبے آج بھی چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    تحریک پاکستان والے جذبے آج بھی چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کی جنگ امریکہ سے لے کر مغربی ممالک جنگ روکنے میں ناکام کیوں ہیں؟ عرب دنیا اور دیگر اسلامی ممالک بھی ناکام ہی ہیں اس کی بنیادی وجہ امریکہ سے لے کر مغربی ممالک بھی عظیم عالمی رہنمائوں سے محروم ہیں۔ عرب ممالک اور دیگر اسلامی ماملک بھی رہنمائوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جو عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک صدیوں سے بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے بہتے لہو کو نہیں روک سکا وہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کوکیا کردار ادا کرے گا؟ عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک کے سامنے کشمیر کو لے کر پاک بھارت جنگیں بھی ہوئیں اقوام متحدہ دیگر عالمی ادارے کچھ نہیں کرسکے۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کا بھی یہی حال ہے ان ممالک کا بھی ایسا ہی حال ہے ۔ ان قوموں کی رہنمائی بڑی بڑی قد آور سیاسی شخصیات کے ہاتھوں میں تھی۔ ونسٹن چرچل ، جرمن چانسلر ولی برپنڈٹ مارگریٹ تھیچر، چارلس ڈی گال ، جان ایف کینیڈی ، ہیلمٹ کوہل اور حال ہی میں انجیلا مرکل ، عرب ممالک دیگر اسلامی ممالک امریکہ سمیت مغربی ممالک میں شاندار لیڈروں کا دور اب ختم ہو گیاہے ۔

    امریکہ سمیت پوری دنیا میں اب سیاسی لیڈروں کے بڑے بڑے مالیاتی اسیکنڈل سامنے آتے ہیں۔ موجودہ دور میں بین الاقوامی برادری غیر مستحکم دور سے گزرر ہی ہے امریکہ اور چین کے تعلقات کا جائزہ لیں دونوں ممالک کے تعلقات ٹھیک نہیں۔ چین امریکہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے چین کو کمزور کرنے کے لئے امریکہ طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے ۔ بھارت کی پشت پناہی ہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ بھارت امریکہ کی پشت پناہی میں افغانستان کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پشت پناہی بھارت ہی کرتا ہے۔ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر اپنی فوج کے ذریعے ظلم کررہا ہے۔ 23 مارچ قریب ہے ۔ 23 مارچ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کا درس دیتا ہے ۔تاریخ کا سبق یاد رکھنے کی آواز لگتا ہے 23 مارچ دشمن کے سامنے سراُٹھا کر بات کرنے کا جذبہ عطا کرتا ہے۔ ارض وطن میں خون کی ہولی بند ہونے کی دہائی دیتا ہے ۔ جس طرح مسلمانوں کو ایک الگ ریاست کی ضرورت تھی آج پاکستان کو اُسی جذبے کی ضرورت ہے جو اُس وقت کے مسلمانوں میں موجود تھا۔

  • سوشل میڈیا کی بے احتیاطی کے نتائج

    سوشل میڈیا کی بے احتیاطی کے نتائج

    سوشل میڈیا کی بے احتیاطی کے نتائج
    از قلم غنی محمود قصوری

    موجودہ دور بہت زیادہ تیز اور حساس نوعیت کا ہے جس میں ہمیں ہر لمحہ محتاط رہنا پڑتا ہے، چونکہ کمیونیکیشن اور سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں جہاں باخبر رہنے کے فوائد بھی بہت ہیں تو وہیں ذرا سی لا پرواہی عمر بھر کی شرمندگی بھی دے سکتی ہے

    آئے روز سوشل میڈیا پر گھریلوں خواتین کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہو جاتی ہیں جو کہ دانستہ بھی ہوتی ہیں اور بعض مرتبہ غیر دانستہ بھی ہوتی ہیں
    ایسا ہی ایک واقعہ پیش ہے

    اس (ج) کی شادی لگ بھگ دس سال قبل ہوئی اور وہ دونوں بہت اچھی زندگی بسر کر رہے تھے،اس کی بیوی دیندار اور گھریلوں خاتون تھی جو کہ صوم و صلوٰۃ کیساتھ محرم و غیر محرم رشتے کا بھی خاص خیال رکھتی تھی گھر سے باہر وہ کبھی پردے کے نہیں گئی تھی اور کسی غیر محرم نے اس اللہ والی کا چہرہ نا دیکھا تھا

    اس کے شوہر کی عادت تھی کہ اپنی اور اپنی بیوی بچوں کی ویڈیوز اور تصاویر بناتا اور خوشگوار لمحات کو عکس بند کرتا جو کہ قطعاً غیر اخلاقی نہیں بلکہ میاں بیوی و فیملی کیساتھ محبت کا بہترین اظہار و انداز ہے

    ایک دن اس شحض کا موبائل اس کے چھوٹے بیٹے کے پاس تھا جو کہ موبائل پر کارٹون دیکھ رہا تھا،بچے نے یوٹیوب کو کسی طریقے سے ہائیڈ کر دیا اور دوبارہ کارٹون چلانے کی کوشش کی مگر غلطی سے اس بچے کی انگلی فیسبک ایپلی کیشن کو چھو گئی اور نیوز سٹوریز چلنا شروع ہو گئیں،بچہ موبائل کو چھیڑتا گیا اور ایسے میں فیسبک ایپلیکیشن نے گیلری سے رسائی پا کر اس کی بیوی کی چند تصاویر اپلوڈ کر دیں جو کہ گیلری میں سر فہرست تھیں

    تصاویر میں کچھ بچوں کیساتھ تھیں اور کچھ اس اکیلی کی بغیر ڈوپٹہ اور حجاب کے تھیں،بچہ اس سارے معاملے سے قطعاً بے خبر تھا اور وہ شحض خود بھی بےخبر تھا،پوسٹ اپلوڈ ہوئی اور اس کے ساتھ منسلک اس کے رشتہ داروں و دوستوں تک وہ تصاویر پہنچ گئیں،اس کے ایک قریبی دوست نے اسے کال کی تو اس کو اس معاملے کا علم ہوا

    جلدی سے اس نے پوسٹ ڈیلیٹ کی مگر تب تک ہزاروں لوگ ان تصاویر کو ڈاؤن لوڈ کر چکے تھے جس عورت کو کبھی قریبی رشتہ داروں نے بغیر پردہ نا دیکھا تھا آج ہزاروں،لاکھوں لوگوں نے اسے بغیر پردے کے دیکھ لیا ،خیز بات ختم ہوئی اور وہ بھول گیا

    چند دنوں بعد کسی نامعلوم آئی ڈی سے کوئی اس کے ساتھ ایڈ ہوا اور اس کی بیوی کی تصاویر نازیبا حالت میں اسے سینڈ کیں اور اسے بتلایا کہ اس کی بیوی کی اس سے بات چیت ہے اور اسی نے یہ تصاویر اسے سینڈ کی ہیں

    ان تصاویر کو دیکھ کر وہ صدمے میں چلا گیا اور اپنی بیوی سے پوچھا تو اس پر اس کی بیوی کا انکار سامنے آیا تاہم بطور بشر و مطمئن نہ ہوا اور جلد بازی میں بیوی کو گھر سے نکال دیا،اس کی پاکدامن بیوی لاکھ قسمیں کھاتی رہی اپنی بیگناہی کا رونا روتی رہی مگر وہ نہ مانا،بات رشتہ داروں تک پہنچی اور باتیں ہونے لگیں ،اسے اپنی بیوی پر بہت غصہ آ رہا تھا اور اسے طلاق دینا چاہتا تھا

    اس کے ایک بہت قریبی دوست نے اسے مشورہ دیا کہ ان تصویروں کی فرانزک لیب سے تصدیق کروا لو پھر آگے کا سوچنا ،وہ اپنے دوست کیساتھ فرانزک کروانے گیا جس میں وہ تصویریں ایڈیٹڈ بتلائی گئیں یعنی کسی نے ان ڈاؤن لوڈ تصاویر کو غلط طریقے سے بنایا اور اسے سینڈ کی تھیں

    اس کو فوری اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اپنی پاک دامن بیوی کو واپس لے کر گھر آیا اور اس سے معافی مانگی اور تصویریں بھیجنے والی آئی ڈی کا لنک اور رپورٹ سائبر کرائم ایف آئی اے کو دی جنہوں نے اس بندے کو ٹریس کیا اور قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا

    قارئین ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جس کا سبب ہماری لاپرواہی ہے ،اول تو بچوں کو کارٹون وغیرہ دیکھنے کی عادت ہی نہ ڈالیں اور اگر بفرض ایسا کرنا لازم ہے تو ہر ایپلیکیشن کو پرائیویسی لاک لگائیں اور کوشش کریں ہر ایپلیکیشن کو گیلری تک پرمیشن نہ دیں کیونکہ جب بھی آپ کوئی ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو وہ آپ سے آپ کی گیلری، آپ کے کیمرے،مائیک اور کانٹیکٹ وغیرہ کی پرمیشن مانگتی ہے جسے ہم بغیر پڑھے قبول کر لیتے ہیں ،جس سے ہماری پرائیویسی متاثر ہوتی ہے

    دوسری بات ان شیطان صفت لوگوں سے کہ اگر آپ ایسی کوئی ویڈیوز یا تصاویر دیکھیں تو خدارا ہرگز ڈاؤن لوڈ نہ کریں کیونکہ اس بارے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

    لا یستر عبد عبدا فی الدنیا الاسترہ اللہ یوم القیامۃ (مسلم)
    جو شخص دنیا میں کسی دوسرے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا

    سوچ لیں آج کسی کو ذلیل کریں گے تو آپ یہاں اس جہان میں خود بھی ذلیل ہو سکتے ہیں بصورت دیگر آخرت میں رسوائی تو لازم ہے

    میری فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی پاکستان( ایف آئی اے) سے گزارش ہے کہ اس بارے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ راہنمائی فراہم کریں اور ایسے واقعات سے بچنے کیلئے لوگوں میں آگاہی مہم چلائیں تاکہ ہمارے لوگ اپنی پرائیویسی کو سخت کر سکیں اور ایسے سانحات سے بچا جا سکے

  • تبصرہ کتب،خواتین اور رمضان المبارک

    تبصرہ کتب،خواتین اور رمضان المبارک

    تیس دروس اور مخصوص مسائل پر مستند فتوی
    مصنف : ابو انس حسین بن علی
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 96
    قیمت : 190روپے
    احکام ومسائل میں خواتین مردوں کے تابع ہیں ، اس لئے کتاب وسنت میں عمومی طور پر مردوں کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ لیکن کئی مسائل عورتوں کے ساتھ خاص ہیں ۔ خصوصاََ رمضان المبارک کے حوالے سے خواتین کو کئی ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں جو عام طور پر بیان نہیں کئے جاتے ۔ خصوصاََ جو خواتین مسجد نہیں جاتیں وہ زندگی بھر ان مسائل سے ناآشنا رہتی ہیں ۔ اس ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب دارالسلام نے شائع کی ہے ۔ اس کتاب میں مختصراََ ان تمام مسائل کااحاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تعلق خواتین اور رمضان المبارک سے ہے۔ تمام مسائل قرآن مجید اور مستند احادیث سے بیان کئے گئے ہیں ۔ انداز بیان بہت دلچسپ، عام فہم اور عام کتابوں سے منفرد ہے ۔ کتاب روزوں کے ایام کی مناسبت سے تیس دروس پر مشتمل ہے ۔ سب سے پہلے بتایا گیا ہے کہ رمضان المبارک کااستقبال کیسے کیا جائے؟ ماہ رمضان سے استفادے کا پروگرام کیسے ترتیب دیا جائے؟

    رمضان کے حوالے سے خواتین کے لئے نہایت بیش قیمت نصیحتیں بھی کتاب میں شامل ہیں ۔ بتایاگیا ہے کہ مرد اور عورت اعمال وثواب میں برابر ہیں ، مسلمان خواتین کے لئے جنت کاآسان راستہ ، خواتین اور زیورات کی زکوة ، زیورات کی زکوة نکالنے کا کیا طریقہ ہے ؟ خاتون خانہ کے لئے نماز تراویح ، حیض ونفاس ، حاملہ اور دودھ پلانے والے خاتون ، بوڑھی عورت جس میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ، مانع حیض گولیوں کے استعمال کے کیا احکام ہیں ، بچی پر روازہ کب واجب ہوتا ہے ؟ جنتی خواتین کون ہیں ۔۔۔۔؟ بعض ایسی گھریلو برائیوں کی نشاندھی کی گئی ہے جن سے ایمان اور روزے کی حفاظت کے لئے اجتناب ضروری ہے ۔ خواتین اور صدقہ ، اخراجات میں اعتدال اور افراط وتفریط سے اجتناب کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت ، خواتین کے مسائل کے حوالے سے چنداہم فتوے خواتین کے ذوق مطالعہ کی نذر کئے گئے ہیں ۔ خواتین کی مجالس ، فرماں بردار خواتین کی دعائیں ، بچوں کی تربیت اور خاتون خانہ ، دعا کامرتبہ ومقام اور آداب ، چندقرآنی دعائیں ، رسول ﷺ کی مسنون دعائیں ، مسلم خاتون اور عید ، رمضان کے بعد عمل قبول ہونے کی علامات ، رمضان کے روزے اور قیام کی فضیلت ، کیا عورت عورتوں کو نماز تراویح کی امامت کرواسکتی ہے۔۔۔۔؟ حیض ونفاس والی عورت کاقرآن مجید، کتب حدیث پڑھنااور دعائیں کرنا ، نماز تراویح میں قرآن مجید سے دیکھ کر قرآت کرنا ، مستورات کااعتکاف جیسے اہم مسائل بیان کئے گئے ہیں ۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ہماری ہر ماں ، بہن ، بیٹی اس کتاب کا مطالعہ کرلے تو وہ جہاں بہترین مومنہ صالحہ بن سکتی ہے وہاں وہ رمضان لمبارک کی رحمتوں ، سعادتوں اور برکتوں کو بھی سمیٹ کر جنت کی حقدار بن سکتی ہے ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • جمہوریت کے بغیر پاکستانی سیاسی جماعتوں کا مستقبل

    جمہوریت کے بغیر پاکستانی سیاسی جماعتوں کا مستقبل

    پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے میں جمہوری اصولوں جیسی کوئی چیز نظر نہیں آتی، جماعت اسلامی کے علاوہ، جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچے میں جمہوری اصولوں کی خلاف ورزیاں ملتی ہیں،میں نے اسکرین پر اور اپنے مضامین میں، پارٹیوں کے اندر افراد کی مدت کو محدود کرنے کی لازمی ضرورت پر مسلسل زور دیا ہے۔ خاص طور پر کسی بھی فرد کو پارٹی کے کسی عہدے پر دو بار سے زیادہ فائز نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ انتخاب کے ذریعے ہو یا تقرری کے ذریعے، انتخابات میں ناکام رہنے والے افراد کو سینیٹ کے ٹکٹوں، مخصوص نشستوں، مشاورتی امور، وزارتی عہدوں، یا کسی دوسری انتظامی تقرری کے ذریعے اقتدار کے عہدوں تک رسائی حاصل کرکے جمہوری عمل کو روکنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس اصول کو پارٹی قیادت کے کردار تک لاگو کرنا چاہئے، ان بنیادی اصولوں کی پاسداری کے بغیر سیاسی جماعتیں جمہوری ادارے ہونے کا قانونی دعویٰ نہیں کر سکتیں۔ جو لوگ اپنی صفوں میں جمہوریت پر عمل کرنے سے قاصر ہیں وہ فطری طور پر میرٹ کی بنیاد پر جمہوری تقرریاں کرنے سے قاصر ہیں۔

    ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر بنیادی خامیوں میں سے ایک مربوط درجہ بندی کا فقدان ہے۔ کسی ایک فرد کی خواہش پوری پالیسیوں کو الٹ سکتی ہے، چاہے وہ پارٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہوں یا بیرونی معاملات ، دو حالیہ واقعات مثال کے طور پر سامنے ہیں،سب سے پہلے، عمران خان کی تحریک انصاف کی طرف سے مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ ہوا، پھر اس کے بجائے پی ٹی آئی نے سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) میں شمولیت اختیار کی۔ اتحادوں میں اس اچانک تبدیلی نے نہ صرف پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کو جنم دیا بلکہ مربوط پالیسی فریم ورک کی عدم موجودگی کو بھی اجاگر کیا۔ حسین حقانی کے ساتھ ایک حالیہ ویلاگ میں، میں نے غیر تصدیق شدہ رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جس میں تحریک انصاف کی ایم ڈبلیو ایم کے ساتھ ممکنہ اتحاد کی تجویز پیش کی گئی تھی، جو کہ اس کے بعد حقیقت میں بن گئی، تاہم تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی، حسین حقانی نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ ہر پارٹی کی اپنی پالیسی ہوتی ہے، اور پی ٹی آئی کی جانب سے غیر مانوس سیاسی میدانوں میں جانے کی کوشش کو لامحالہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    لنک: https://www.youtube.com/watch?v=LGjs10YNcos

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مختلف خیالات ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ عمران خان سنی اتحاد کونسل میں نہیں بلکہ ایم ڈبلیو ایم میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ دوسرے اس سے متفق نہیں ہیں۔ اس سے تحریک انصاف کی مسلسل اور مربوط نقطہ نظر کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کی نشاندہی ہوتی ہےجس سے تنظیمی تنظیم میں نمایاں کمی ظاہر ہوتی ہے۔

    دوسری،مسلم لیگ ن کے معاملے پر غور کریں۔ وزیر خزانہ کے طور پر اسحاق ڈار کی واضح ناکامی کے باوجود، انہیں پارٹی کے اندر مسلسل اہمیت دی گئی ہے۔ ان پر احتساب اور ٹیکس دہندگان کے وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔ اسی طرح این اے 67 حافظ آباد میں ان کی انتخابی شکست کے بعد سائرہ افضل تارڑ کو قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پر پہنچانا براہ راست جمہوری اصولوں کے منافی ہے اور انتخابی عمل کی سالمیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    پاکستانی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری اصولوں کی وسیع پیمانے پر عدم موجودگی ان کی حکمرانی کے جواز کو مجروح کرتی ہے اور عوامی اعتماد کو ختم کرتی ہے۔ پارٹی ڈھانچے میں احتساب، شفافیت اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی اصلاحات کے بغیر حقیقی جمہوری پاکستان کی امنگیں معدوم رہیں گی۔

  • مفاداتی سیاست  کرنے والے  ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفاداتی سیاست کرنے والے ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی دنیا کی طرح پاکستان میں ایسے ادوار آئے اور چلے گئے مضبوط سیاسی لیڈر موجود تھے۔پاکستان ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں لیڈر نظر نہیں آتے تاہم ناقص ترین کارکردگی کے نام نہاد رہنما نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور قوم اب ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں، سیاسی نظریات کو دفن کرکے مفاداتی سیاست کرنے والے کو ہی لیڈر کہا جانے لگا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی لیڈرشپ کا فقدان کیوں ہو رہاہے۔ شاندارلیڈر شپ کا دور بظاہر ختم ہورہا ہے ۔ نواز شریف جو اس ملک کے سینئر ترین سیاستدان ہیں ،عمران خان بلاشبہ جو اس وقت جیل میں ہیں بین الاقوامی سطح پر بھی مقبول ہیں۔انہوں نے سینئر ترین سیاستدان نواز شریف کے خلاف ایسی سازش کی کہ ان کو لندن ان کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ ہائوس اور گلی چوراہوں میں منی لانڈرنگ اور چور ثابت کرنے میں اپنا وقت ضائع کیا اسے پاکستان اور قوم کے ساتھ زیادتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے آج وہ خود اور ان کی جماعت بھگت رہی ہے۔ بلاشبہ نواز شریف کے خلاف اس سازش میں ان کی اپنی ہی جماعت کے مبینہ طور پر چند اشخاص بھی شامل تھے۔

    ملکی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کے دعویداروں نے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے کیا کردار ادا کیا ؟ جمہوریت کو مستحکم کرنے، آئین اور قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے جس کے ذمہ دار خود سیاستدان ہیں۔ سیاستدانوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آئین و قانون کے تحت ان کی تابع رہے۔ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی اپنا قبلہ درست رکھیں۔ آپ کے لاکھ سیاسی اختلافات ہوں گے آپ کی پسند وناپسند مختلف ہوگی لیکن فوج تو اپنی ہے اور ملک وقوم کی حفاظت پر مامور ہے۔ جن کی وجہ سے آپ کی سیاست بھی قائم ہے ۔ سیاستدانوں کی جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ افسو س کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمارے کم عقل سیاستدان ملک میں اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دارفوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں جو سراسر غلط ہے ۔ ملکی سلامتی کے پیش نظر اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ماضی اور حال میں فوج کو سیاستدا ن سو کنوں کی طرح طعنے ہی دیتے ہیں ، سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے ایک نئی نسل کی ضرورت ہے۔