Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جمہوریت کا قاتل ،عوامی محرومیاں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جمہوریت کا قاتل ،عوامی محرومیاں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کی تمام جماعتیں جمہوریت کی خود قاتل ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ بھٹو کا قتل جمہوریت کا قتل تھا ،محترمہ بے نظیر بھٹو کا راولپنڈی میں قتل جمہوریت کا قتل تھا۔ نواز شریف کو تین بار وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردیا گیا جمہوریت کا قتل تھا۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کی قاتل ہی ہیں ۔ آئین کی خود قاتل ہیں۔ ملک کا ہر نظام تباہی کے دہانے پر اگر آج نظر آرہا ہے تو اسکے ذمہ دار خود سیاستدان ہی ہیں۔ آج جس جماعت کو آئین قانون پارلیمنٹ کی آزادی نظر آرہی ہے۔ نظام میں خرابیاں نظر آرہی ہیں اسی جماعت نے آئین قانون جمہوریت کے خلاف سازش کی اور ایک جمہوری حکومت کے خاتمے کا سبب بنی ( نواز شریف کی حکومت) اگر بھٹو عدالتی قتل تھا تو نواز شریف کی حکومت کو بھی عدالتی قتل ہی قرار دیا جا سکتا ہے ایک جمہوری حکومت کا خاتمہ جمہوریت کا قتل تھا۔ ملک میں جمہور کے قاتل سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں،

    خدا کی پناہ 75 سال کا عرصہ گزر گیا کروڑوں عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ، بنیادی تعلیم ، طبی سہولتوں سے محروم،نوجوان بے روزگار ،معیشت ،زراعت ،ملکی وسائل پر توجہ نہیں ۔ میرٹ کی دھجیاں ، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات سے عوام محروم اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ جمہوریت اور آئین کے علمبرداروں سے سوال ہے کہ عوام کا کیا قصور ہے جو عوام آپ کو ووٹ دے کر اقتدار فراہم کرتی ہے اس عوام کے لئے بھی آئین میں لکھا ہے کیا اٰن شقوں پر عمل کیا جا تاہے ۔ عوام کو فوری اور سستاانصاف فراہم کرنے کی صدائیں بلند ہوتیں ہیں کیا ایسا ممکن ہوا ؟ جمہوری حکومت وہ ہوتی ہے جو اعلٰی اخلاقی اورجمہوری قدروں کی حامل ہو ۔ وہ حکومت سب کی ہو اور سب کے لئے ہو ،سب کے ساتھ عدل وانصاف کیا جائے۔

    بدقسمتی سے آج بھی ہم نے تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا ۔ اعلی پولیس افسران سینئر ترین جنہیں فیلڈ میں ہونا چاہیے وہ دفاتروں میں بیٹھے ہیں۔ سول بیورو کریسی سے لے کر سول انتظامیہ میں بھی میرٹ کو دفن کرد یا گیا ہے ۔ پنجاب ، وفاق ،سندھ ، کے پی کے میں میرٹ دفن کردیا گیا۔ سینئر افسران کو کھڈے لائن اور جونیئر کو آگے کیاجا رہا ہے ۔ جب تک رائٹ میں فار رائٹ جاب پر عمل نہیں ہوگا ۔ ترقی نہیں ہوگی۔ وفاقی وزراء کے قلمدان بھی کچھ اس صورت حال سے گزر رہے ہیں۔

  • 01 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    01 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    01 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1578ء ولیم ہاروے، انگریز سائنسدان، جس نے خون کی گردش اور دل کا افعال بیان کئے ۔ (وفات : 1657ء)

    1621ء گرو تیغ بہادر، 9ویں نانک کے طور پر جانا جاتا ہے، 9ویں سکھ گرو (وفات : 1675ء)

    1815ء اوتو وان بسمارک، جرمن سیاستدان، سفیر، مفسرِ قانون (وفات : 1898ء)

    1865ء رچرڈ اڈولف زگمونڈی، نوبل انعام (1925ء) یافتہ آسٹرین-ہنگرین ماہرِ کیمسٹری، انھوں نے کولائڈاپر کام کیا۔ (1929ء)

    01 اپریل 1879ء اردو کے نامور ڈرامہ نگار آغا حشر کاشمیری کی تاریخ پیدائش ہے۔ آغا حشر کاشمیری امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام محمد شاہ تھا۔1897ء میں انہوں نے ایک پارسی تھیٹر کے ڈرامے دیکھے تو خود بھی ڈرامہ لکھنے کی طرف مائل ہوئے اور بمبئی کی الفریڈ تھیٹریکل کمپنی سے وابستہ ہوکر ڈرامہ لکھنے لگے۔ انہوں نے شیکسپیئر کے مختلف ڈراموں کے اردو ترجمے بھی کیے جو بہت مقبول ہوئے۔ 1910ء میں انہوں نے اپنی تھیٹریکل کمپنی قائم کی جس میں پیش کیے جانے والے ڈرامے وہ لکھتے بھی خود تھے اور ان کی ہدایات بھی خود دیتے تھے۔ آغا حشر کاشمیری اردو ڈرامے کی تاریخ میں بڑا اہم مقام رکھتے ہیں۔ انہیں ہندوستان کا شیکسپیئر بھی کہا جاتا ہے۔ آغا حشر کاشمیری کا انتقال 28 اپریل 1935ء کو لاہور میں ہوا اور وہ میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے

    1889ء ڈاکٹر کیشو رام بالی رام ہیڈ گیوار، انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے بانی۔

    1911ء فوجا سنگھ، بھارتی نژاد برطانوی 101 سال کی عمر میں وہ لندن میراتھن میں دوڑا اور اُسے 7 گھنٹوں میں مکمل کرلیا، جو عالمی ریکارڈ ہے۔

    1919ء جوزف میورے، نوبل انعام (1990ء) یافتہ امریکی پلاسٹک سرجن، معلم جامعہ (وفات : 2012ء)

    1920ء توشیرو میفونی، جاپانی اداکار (وفات : 1997ء)

    1930ء نیاز ہمایونی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے ادیب، شاعر، مترجم اور محقق (وفات : 2003ء)

    1933ء کلاؤڈ کوہن-ٹناڈجی، صتیون چھو نوبل انعام (1997ء) یافتہ فرانسیسی طبیعیات دان، یہ انعام انہوں نے امریکی سائنس دان ولیم ڈینیل فلپس اور صتیون چھو کے ہمراہ لیزر کی روشنی کے ذریعے ایٹم کو پھانسنے اور انہیں ٹھنڈے کرنے کے طریقے کو بہتر کرنے پر حاصل کیا تھا۔

    1936ء عبدالقدیر خان، محسن پاکستان جنہوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ ایٹم بم کے خالق، ماہرِ طبیعیات، جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ٭یکم اپریل 1936ء پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تاریخ پیدائش ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھوپال میں پیدا ہوئے۔ 1952ء میں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کرکے کراچی آگئے جہاں انہوں نے ڈی جے کالج کراچی سے بی ایس سی کیا۔ 196ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ یورپ چلے گئے جہاں انہوں نے جرمنی اور ہالینڈ کی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کیا۔ 1974ء میں انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے رابطہ قائم کیا اور انہیں بتایا کہ وہ یورینیم کی افزودگی جیسے پیچیدہ اور مشکل ترین کام میں مہارت رکھتے ہیں اور ملک کی خدمت کے لیے وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر قدیر خان کو فوراً وطن واپس آنے کی ہدایت کی ۔ بھٹو نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیںاپنا پروجیکٹ شروع کرنے کی تمام سہولیات فراہم کردیں اور31 جولائی 1976ء کو راولپنڈی میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کا قیام عمل میں آگیا جو اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان ریسرچ لیبارٹری کہلاتا ہے۔ دو سال کی ریاضت کے بعدڈاکٹر عبدالقدیر خان اس لیبارٹری میں یورینیم کو افزودہ کرنے کے تجربے میں کامیاب ہوگئے۔ تقریباً اسی زمانے میں کہوٹہ کے مقام پرایٹمی پلانٹ کی تنصیب مکمل ہوگئی جہاں پاکستان نے اپناسب سے بڑا ہتھیار ایٹم بم تیار کیا۔ 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے پہلا ایٹمی دھماکا کیا اور یوںایٹمی طاقت رکھنے والے ملکوں کی صف میں شامل ہوگیا۔ 2003ء میں امریکا نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے رقفا پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان کے ایٹمی راز شمالی کوریا ، ایران اور لیبیا کو فروخت کررہے ہیں اور ان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل میں مدد دے رہے ہیں۔ امریکا نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا مگر حکومت پاکستان نے عوام اور پریس کے شدید دبائو کے باعث ایسا کرنے سے انکار کردیا اور وفاقی کابینہ کی سفارش پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی معافی کی اپیل منظور کرلی اور ان کے نقل و حرکت ان کی حفاظت کے پیش نظر ان کے گھر تک محدود کردی۔

    1937ء محمد حامد انصاری، بھارت کے بارہویں نائب صدر (11 اگست 2007 تا 10 اگست 2017)

    1940ء ونگری ماتھی، کینیا کی خاتون سیاست دان۔ پہلی افریقی خاتون جنہوں نے نوبل انعام حاصل کیا، ان کا سب سے بڑا کارنامہ گرین بیلٹ مومنٹ ہے۔ جس میں 30 ملین سے زیادہ درخت لگائے گئے۔ اور انھیں ٹری وومن کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ ماحول کے حوالے سے ان کی خدمات کے صلے میں 2004ء کا امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ ونگری ماتھی 2003ء سے لے کر 2005ء تک کینیا کی حکومت میں وزیر کے عہدے پر فائز رہیں۔ (وفات : 2011ء)

    1941ء ایت ودےکار، بھارتی کرکٹر

    1942ء آصف احمد، پاکستانی سابقہ 1960 تا 1972ء فرسٹ کلاس کرکٹر

    1946ء اقبال مہدی، پاکستانی آئل پینٹنگ اور پین اینڈ انک اسکیچ میں تخصیص رکھنے والے مصور ٭ پاکستان کے نامور مصور اقبال مہدی یکم اپریل 1946ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔قیام پاکستان کے بعد 1962ء میں وہ کراچی آگئے جہاں انہیں ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کی صحبت میسر آئی۔ ابتدا میں وہ اپنے عزیز اور مشہور مصور صادقین کے انداز مصوری سے بہت متاثر تھے مگر پھر انہوں نے اپنا ایک الگ اسلوب مصوری تشکیل دیا۔ 1969ء میں ان کی مصوری کی پہلی نمائش آرٹس کونسل آف پاکستان میں ہوئی اسی زمانے میں انہوں نے مشہور ترقی پسند دانشور سید سبط حسن کے جریدے لیل و نہار سے وابستگی اختیار کی جس میں ان کے بنائے ہوئے سرورق اور اسکیچز بہت پسند کئے گئے۔ 1970ء میں جب اردو کا مشہور جریدہ ’’سب رنگ‘‘ جاری ہوا تو انہوں نے اس جریدے میں اسکیچز بنانا شروع کئے جس نے اردو جرائد کی دنیا میں مصوری کے ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ ساتھ ہی ساتھ اقبال مہدی کا پینٹنگز بنانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ 1976ء میں جب قائداعظم محمد علی جناح کی پیدائش کا صد سالہ جشن منایا گیاتو اس موقع پر اقبال مہدی نے قائداعظم کی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی پینٹنگز تیار کیں جن کی نمائش پورے ملک میں ہوئی۔ 1977ء میں انہوں نے علامہ اقبال کے صد سالہ جشن پیدائش کے موقع پر ان کی شخصیت کے حوالے سے بھی ایسی ہی متعدد پینٹنگز تیار کیں۔ اقبال مہدی رئیلسٹک انداز مصوری کے بہت بڑے پینٹر تھے۔ ان کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی نمائش نہ صرف پورے پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہوئی تھی۔ وہ نہ صرف انسانی چہروں کو پینٹ کرنے میں مہارت رکھتے تھے بلکہ انہوں نے گھوڑوں کی جو پینٹنگز بنائی تھیں وہ بھی ان کی مصورانہ مہارت کا شاہکار تھیں۔ 19مئی 2008ء کو اقبال مہدی اسلام آباد میں وفات پاگئے ۔ ان کی میت کو کراچی لایا گیا جہاں وہ سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    1994ء ناصر اقبال، پاکستانی اسکواش کھلاڑی، 2007ء میں ناصر اقبال نے فیڈی تھروٹ کو ہرا کر بریٹش جونئر اوپن چیمپین شپ جیتی۔ 2015ء میں ٹوڈ ہیریٹی کو شکست دے کر انہوں نے پریزڈنٹ گولڈ کپ چیمپئن شپ جیتی۔

    1971 : پناہ بلوچ بلوچستان کے معروف ادیب، محقق اور مصنف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • 01 اپریل  تاریخ کے آئینے میں

    01 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    01 اپریل تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1826ء سیمیول مارلی نے انٹرنل کمبسشن انجن کو پیٹنٹ کرایا۔

    1867ء سنگاپور، پینانگ اور ملکا کے علاقہ برطانیہ کی کالونی بنے۔

    1878ء کلکتہ میوزیم کی نئی عمارت کو عوام کے لئے کھولا گیا۔

    1881ء یروشلم میں یہودیوں کے خلاف فساد بھڑکا۔

    1891ء لندن اور پیرس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ شروع ہوا۔

    1893ء جاپان میں انسین آتش فشاں کے پھٹنے سے 53؍ افراد ہلاک ہو گئے۔

    1912ء کلکتہ کی بجائے پرانی دہلی کو ہندوستان کا دارالحکومت بنایا گیا اور دہلی کو ایک صوبہ قرار دیا گیا۔

    1930ء ہندوستان میں شادی کے لئے لڑکیوں کی کم از کم عمر چودہ اور لڑکوں کی اٹھارہ سال کی گئی۔

    1931ء نکاراگوا کے ماناگوا کے علاقے میں زلزلہ سے دو ہزار افراد کی موت ہو گئی۔

    1933ء کراچی میں ہندوستانی فضائیہ قائم کی گئی۔

    1937ء اردن برطانیہ کی کراؤن کالونی بن گیا۔

    1949ء نیو فاؤنڈ لینڈ کینیڈا کا حصہ بن گیا۔

    1976ء اسٹیو جابز اور اسٹیو وزنیاک نے ایپل کمپیوٹر بنایا ۔

    1979ء ایران میں رائے شماری میں 98٪ ووٹ کے بعد شاہ کو برطرف کر دیا اور ایران اسلامی جمہوریہ بن گیا۔

    1997ء پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین کی 13ویں ترمیم منظور کر لی جس کے تحت 8ویں ترمیم کو ختم کر کے مکمل پارلیمانی نظام بحال کر دیا گیا۔

    2008ء پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر پر پانچ سال کے لئے پابندی لگا دی۔

    یکم اپریل2012 ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایشین پیسیفک پوسٹل یونین کے قیام کی پچاس ویں سالگرہ کے موقع پر آٹھ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر انگریزی میں 50 YEARS OF ASIAN – PACIFIC POSTAL UNION (APPU) 1962 -2012 اور Taking POST into the future کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔””””””””””””””””””

    دنیا بھر میں لوگوں کو بیوقوف بنانے کا دن اپریل فول ڈے منایا جاتا ہے جو کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے حرام ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سعودی وزیر دفاع  کی یوم پاکستان تقریب میں شرکت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی وزیر دفاع کی یوم پاکستان تقریب میں شرکت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اس میں شک نہیں کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ صرف پاکستان ہی واحد ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا تو یہ بات قابل اصلاح ہے اسلئے کہ سعودی عرب بھی اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے بلکہ قیام پاکستان سے پہلے ہی سعودی عرب منصہ شہود پر آچکا تھا البتہ جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی اور یہ نعرہ لگا کہ ’’ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ ‘‘ تو اس نعرہ کی گونج سعودی عرب تک بھی پہنچی اب چونکہ سعودی عرب بھی کلمہ توحید اور دین کی بنیاد پر قائم ہوا تھا جبکہ ہمارا دین دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد وحمایت کا حکم بھی دیتا ہے اسی بنیاد پر سعودی عرب کے حکمرانوں نے قیام پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی اور جب پاکستان بن گیا تو بھی ہمارے ملک کی ہمیشہ اور ہر مشکل وقت میں مدد وحمایت کی ہے ۔

    سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ جو محبت اور دوستی ہے اس کے اظہار کیلئے 23مارچ یوم پاکستان کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعودکو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ۔یہ اسلئے کہ 23مارچ ۔۔۔۔۔پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ اس دن ملک بھر میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں سے سب اہم تقریب مسلح افواج کی پریڈ ہے ۔ جس میں پاکستان اپنی فوجی طاقت کا بھرپور اور اعلانیہ اظہار کرتا ہے ۔ ٹینک ، لڑاکا طیارے ، توپیں اور میزائل نمائش کیلئے پیش کئے جاتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کے بہترین کمانڈو دستے ، سپیشل سروسز گروپ کے جوان بھی فوجی پریڈ میں اپنی قوت اور طاقت کااظہار کرتے ہیں ۔ پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ 23مارچ کی فوجی پریڈ میں بہترین دوست ملک کی کسی اہم شخصیت کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جائے ۔دوست ملک کی اہم شخصیت کا تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا بلاشبہ پاکستان کیلئے اعزازا ورافتخار کی بات ہوتی ہے ۔

    چنانچہ امسال 23مارچ کی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے بہترین دوست سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود تھے ۔ شہزادہ خالد بن سلمان۔۔۔۔۔سعودی عرب کی اہم ترین شخصیت ہیں وہ ۔۔۔۔ سعودی بادشاہ کے بیٹے اور ولیعہد محمد بن سلمان کے سگے بھائی ہیں ۔ وہ 2017ء میں امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر بھی رہ چکے ہیں ۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے دورے کے دوران ولیعہد شہزادہ محمد سلمان سے ملاقات کی اور سعودی وزیر دفاع کو دورے کی دعوت دی تھی ۔ شہزادہ خالد بن سلمان مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں بطور گیسٹ آف آنر شرکت کیلئے پہنچے تو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔یہ ایک شاندار اور پروقار تقریب تھی جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، سروسزچیفس نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وفاقی وزرا ارکان اسمبلی اور پاکستان میں غیرملکی سفرا بھی شریک ہوئے۔تقریب کے مہمان خصوصی شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیزالسعود نے شاندار جوائنٹ سروسز پریڈ کا مشاہدہ کیا۔پاک فوج کے مختلف یونٹوں کے دستوں نے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی جبکہ پاک فضائیہ کے جدید طیاروں جے ایف 17، ایف سولہ اور میراج طیارے نے فضائی مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ میںنئے شامل کردہ جے 10 سی، مقامی طور پر بنائے گئے ایف 16، جے ایف 17 اور میراج لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ AWACs، P-3C اورین اور ATR نے بھی فلائی پاسٹ میں حصہ لیا اور حاضرین وسامعین کے لہو کو گرماکر دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ
    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

    مسلح افواج کی پریڈ کے بعد دوسری اہم ترین تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت دیگر اعلی شخصیات نے شرکت کی جبکہ اس تقریب میں پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بھی موجود تھے ۔اس شاندار اور پروقار تقریب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’ نشان پاکستان ‘‘ سے نوازا گیا۔ وزیر اعظم نے پاکستان کا سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ ’’ نشان پاکستان ‘‘ ملنے پر سعودی وزیر دفاع کو مبارک باد دی جبکہ وزیر دفاع نے وزیر اعظم کو منصب سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اوران کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا ۔

    بعد ازاں سعودی وزیر دفاع کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی اور مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں، سعودی عرب اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے خیر خواہ رہے ہیں۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں بالخصوص دفاع میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی وزیر دفاع نے پاکستان کے دورے کی دعوت پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا ۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے سعودی عرب کے وزیر دفاع عزت مآب شہزادہ خالد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ امور پر تفصیلی بات چیت، علاقائی امن و سلامتی اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاع ، سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور سعودی وزیر دفاع سے کہا کہ ہم آپ کے بڑے بھائی سعودی ولی عہد عزت مآب جناب محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ دشمن پاکستان کو تنہا کرنے کے درپے ان حالات میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کی یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت اور پھر پاکستانی عہدیداران سے ملاقاتین صدر پاکستان کی طرف اعلی ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان سے نوازنا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا بذات خود سعودی عرب جا کر شہزادہ خالد کو تقریب کی دعوت دینا پاک سعودی تعلقات اور بلخصوص موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ سعودی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں ۔اللہ نے چاہا تو پاک سعودی تعلقات مضبوط تر ہوں گے ان شاء اللہ ۔

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اک خطرہ

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اک خطرہ

    پاکستان میں مہنگائی انتہائی تیزی سے بڑھی ہے، مہنگائی کی شرح اپریل 2023 تک 36.4 فیصد تک پہنچ گئی ، مینگائی میں سات ماہ کے اندر اندر 13.2 فیصد پوائنٹس کا حیران کن اضافہ ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر کے لیے پاکستان کا صارف قیمت انڈیکس (سی پی آئی) پچھلے سال کے مقابلے میں 29.7 فیصد بڑھ گیا ہے

    1. مہنگائی کی وجوہات:
    حکومت کی لاپرواہی: یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں موجودہ کاروباروں کی حمایت اور نئے کاروباروں کی ترقی کو فروغ دے کر آمدنی کی سطح کو بڑھانے کے لیے اقدامات کو ترجیح دینے میں ناکام رہی ہیں۔
    آئی ایم ایف کی پابندیاں: آئی ایم ایف کی طرف سے عائد کردہ سخت شرائط نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر بجلی کے ٹیرف، صارفین کی قوت خرید کے جمود کے درمیان بڑھے ہوئے آپریشنل اخراجات کی وجہ سے بہت سے پیداواری یونٹ ناقابل عمل ہیں۔
    کرنسی کی قدر میں کمی: پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے افراط زر کو مزید بڑھا دیا ہے، خاص طور پر درآمدی اشیا کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔
    غیر ملکی ذخائر کی کمی: غیر ملکی ذخائر کی شدید کمی کے نتیجے میں درآمدات پر پابندیاں لگ گئی ہیں، بشمول زندگی بچانے والی ادویات جیسی ضروری اشیاء،
    جمود کا شکار برآمدی منڈیاں: پاکستان کی اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع اور وسعت دینے میں ناکامی نے اسے دیگر معیشتوں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مثال کے طور پر چین اور بھارت جیسے ممالک نے افریقہ میں اپنے برآمدی قدموں کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے، براعظم میں پاکستان کی برآمدات کم سے کم ہیں، جو برآمدی حکمت عملیوں میں تنوع اور جدت کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
    اقتصادی تنہائی: پاکستان کی معیشت اپنے ہم عصروں کے مقابلے نسبتاً بند ہے، محدود برآمدی تنوع اور محصولات کے حصول کے لیے درآمدی محصولات پر زیادہ انحصار، جو تجارتی انضمام کو نقصان پہنچاتا ہے اور برآمدی مسابقت کو کمزور کرتا ہے۔ مسابقت کو بڑھانے اور برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔

    2. اسٹریٹجک ردعمل کی فوری ضرورت:
    پیداواری صلاحیت کو ترجیح دینا: پیداواری کوششوں کی طرف فنڈز کو ری ڈائریکٹ کرنا سب سے اہم ہے، معاشی بحالی کی شدید ضرورت کے درمیان پنجاب میں سرکاری مکانات کی تعمیر نو جیسی کوششیں غلط لگتی ہیں۔
    موجودہ منظر نامہ صورتحال کی سنگینی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ حکمران جماعت، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی سے نمٹنے اور معیشت کو استحکام اور ترقی کی طرف لے جانے کے لیے ٹھوس حل فراہم کرے۔

  • افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور  مولف سید قاسم محمود

    افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور مولف سید قاسم محمود

    سید قاسم محمود

    ممتاز افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور مولف سید قاسم محمود 17 نومبر 1928ء کو کھرکھودہ ضلع روہتک میں پیدا ہوئے تھے۔ مڈل کے بعد 1946 میں ہمدرد دواخانہ اور مکتبہ جامعہ دہلی میں ملازمتیں کیں. 1947 میں میٹرک پاس کیا. قیام پاکستان کے بعد لاہور میں ابتدائی عرصہ مہاجر کیمپ میں رضاکار کے طور پر خدمات انجام دیں. بعد میں بجلی کے لائن مینوں کے سیڑھی بردار معاون، اخبار زمیندار میں چپراسی اور ناشرین اور کتب فروشوں کے ملازم رہے. 1950 میں پنجاب یونیورسٹی میں کلرک ہوگئے. 1951ء میں مجلس زبان دفتری،حکومت پنجاب میں مترجم کی اسامی کا اشتہار آیا تو انہوں نے خط لکھا کہ اپنے شوق سے کیے ہوئے اصطلاحات کے تراجم پیش کرنا چاہتا ہوں. وہ مطلوبہ تعلیمی سنا نہیں رکھتے تھے لیکن انہیں غلطی سے ٹیسٹ کیلئے بلالیا گیا. مقابلے میں گریجویٹ اور ایم اے تھے لیکن یہ اول آگئے. بہت سوچ بچار کے بعد انہیں مترجم رکھ لیا گیا۔بعدازاں صادق، لیل و نہار، صحیفہ،علم، کتاب، سیارہ ڈائجسٹ، ادب لطیف، قافلہ، عالمی ڈائجسٹ، روزنامہ نوائے وقت کراچی کے مدیر یا نائب مدیر رہے۔ 1970ء میں لاہور سے انسائیکلو پیڈیا معلومات کا اجرا کیا۔ 1975ء میں مکتبہ شاہکار کے زیر اہتمام شاہکار جریدی کتب شائع کرنا شروع کیں۔ 1980ء سے 1998ء تک کراچی میں مقیم رہے جہاں انہوں نے ماہنامہ افسانہ ڈائجسٹ، طالب علم اور سائنس میگزین کے نام سے مختلف جرائد جاری کئے اور اسلامی انسائیکلو پیڈیا، انسائیکلو پیڈیا فلکیات، انسائیکلو پیڈیا ایجادات، بچوں کا انسائیکلو پیڈیا اور انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا شائع کئے۔ متعدد کام ان کی وفات کی وجہ سے ادھورے رہ گئے۔ ان کے افسانوں کے مجموعے دیوار پتھر کی، قاسم کی مہندی اور وصیت نامہ کے نام سے شائع ہوئے ،انہوں نے 31 مارچ 2010ء کو لاہور میں وفات پائی اور جوہر ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے.

    تصانیف
    انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا
    اسلامی انسائیکلوپیڈیا
    مسلم سائینس
    اسلامی دنیا
    سیرت النبی کا انسائیکلوپیڈیا
    پیام اقبال
    دیوار پتھر کی(افسانے)
    قاسم کی مہندی (افسانے)
    وصیت نامہ (افسانے)
    چلے دن بہار کے(ناول)
    پنڈت جلال الدین نہرو(ناولٹ)
    آدم اور آدمی
    داستان گلکامش
    مذہب اور دیوتا
    قلوپطرہ ہفتم
    اصول سیاسیات
    ہٹلر کی خفیہ زندگی
    وادی دجلہ و فرات
    حکومت اور فرعونیت
    ابراہیم سے یوسف تک
    داستان فرعون
    معاشیات کے جدید نظریے
    تراجم
    شیکسپیئر کے میکبتھ، اوتھیلو، ہیملٹ ،جیولیٹ سیزر،
    صوفیہ لورین اور شاہ ایران کی آپ بیتیاں، ٹالسٹائی، موپاساں، دوستووسکی، ایملی برونٹ، چارلس ڈکنز، جان گالسوردی، ارونگ سٹون، ٹی ایس ایلیٹ، سی ای ایم جوڈ، جان ماسٹرز کے ناول اور دوسری کتابیں

  • زندیقِ قادیان کے نئے وار

    زندیقِ قادیان کے نئے وار

    زندیق قادیان کے نئے وار
    از قلم غنی محمود قصوری
    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر نبی ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے اور عقیدہ بھی جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے
    مسلمانوں کا جذبہ جہاد کسی سے چھپا نہیں جس سے غیر مسلم بہت تنگ تھے، سو کسی نا کسی ہر دور میں غیر مسلموں نے اس جذبے کو ختم کرنا چاہا اور مسلمانوں کو ان کے اصل دین سے دور کرنے کی تدبیریں کیں جس کی راہ میں ہمیشہ علمائے حق نے اپنی جانوں تک کی قربانیاں دے کر لوگوں کو فتنوں سے آگاہ فرمایا "خاص طور پہ علمائے کرام نے ختم نبوت پر دن رات ایک کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی ”

    1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں میں اصل دین اسلام سے دوری پیدا کرنے اور راہ جہاد سے فرار کروانے کیلئے برصغیر پر قابض انگریز بے ایمان نے ایک فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں کھڑا کیا جو انگریز سرکار کا پالتو تھا اور ضلع کچہری سیالکوٹ میں منشی تھا

    مرزا غلام احمد قادیانی زندیق 13 فروری 1835 کو بھارتی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے گاؤں قادیان میں پیدا ہوا جس نے پہلے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر 1888 کو آخری نبی ہونے کا دعویٰ کیااور آخر کار اس زندیق نے 23 مارچ 1889 کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی اور خود کو آخری نبی ظاہر کرکے لوگوں کو اپنے خودساختہ احمدی،قادیانی دین کی دعوت دی جس میں انگریز سرکار نے اس کی معاونت کی اور اسے مالی معاونت بھی فراہم کی

    مزرا زندیق مر گیا تو اس کے بعد مزید زندیق اس کے جانشین بنتے گئے ،یہ سلسلہ چلتا رہا اور آخر کار پاکستان معرض وجود میں آ گیا،اس وقت تک قادیانی بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے تھے اور پاکستان کیساتھ پوری دنیا میں پھیل چکے تھے،یہ زندیق اپنے دین کی تبلیغ کرتے اور پاکستان میں اعلی عہدوں پہ فائز ہوتے گئے اور دین اسلام سے سادہ لوح لوگوں کو دور کرتے چلے گئے

    علمائے حق اور غیور مسلمانوں و سیاستدانوں نے اس فتنے کی سرکوبی کے لئے ان کی تبلیغ کو ختم کرنے کی خاطر اور ان کو غیر مسلم قرار دینے کیلئے 7 ستمبر 1974 کو متفقہ طور پہ قرار داد منظور کی
    آئین پاکستان کی شق 106 (2) اور 260 (3) میں اس کا اندارج کیا اور ان کو ان کی اصل اوقات دکھلائی ، بالآخر 26 اپریل 1984 کو حکومت پاکستان نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا اور ایک نئی فوجداری دفعہ 298/C کا اضافہ کیا جس کی رو سے قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور اپنے مذہب کو اسلامی شعائر سے تشبیہہ نہیں دے سکتے

    1993 میں SCMR 1718 کی رو سے کوئی قادیانی خود کو نا تو مسلمان کہلوا سکتا ہے نا ہی اپنے قادیانی مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے اور کوئی قادیانی ایسا کرتا ثابت ہوا تو وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C اور 298-C کے تحت سزائے موت کا مرتکب ہو گیا

    جب سے یہ آرڈیننس جاری ہوا تب سے قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ میں رکاوٹ محسوس ہونے لگی اور ان زندیقوں نے اپنا طریقہ کار بدلا اور سادا لوح مسلمانوں کو پیسے و عورتوں کا لالچ دے کر اپنی تبلیغ شروع کی،وقت بدلتا گیا علمائے کرام اور غیور مسلمان ان زندیقوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر ان کی گندی تبلیغ آگے بند باندھ کر کھڑے رہے

    اب ان زندیقوں نے ڈیجیٹل دور کا سہارا لیا اور اپنے جعلی دین کی تبلیغ کرنے اور دین اسلام کو بدنام کرنے کی خاطر سوشل میڈیا پر لوگوں کو ورغلانا شروع کر دیا،گذشتہ دنوں معروف سوشل ویب سائٹ ٹک ٹاک پر کام کرنے والی ایک غیر مسلم لڑکی کا انٹرویو سامنے آیا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایک غیر مسلم ہے اور ٹک ٹاک پہ کافی مشہور بھی ہے

    اس کی مشہوری کا فائدہ اٹھا کر قادیانیوں نے اسے تحفے تحائف دے کر اس کی ٹک ٹاک آئی ڈی کا نام مسلمان عورت کے نام سے رکھوایا اور اسے مالی سپورٹ کرتے ہوئے اس سے فحش ویڈیوز بنوائیں اور قادیانیت کی تبلیغ کا کام بھی لیا،اس جیسی کئی وارداتیں سامنے آ چکی ہیں ،نیز یہ لوگ سکول و کالج و یونیورسٹی سے ہی لوگوں میں پیسے،عہدے اور عورت کا لالچ بھرتے ہیں اور لوگوں کو قادیانی بنا رہے ہیں

    ان زندیقوں کا مقصد مملکت خداداد پاکستان میں قادیانیت کو فروغ دے کر تمام عہدوں تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ غیر مسلم ممالک کے پاکستان بارے نظریات کو عملی جامع پہنایا جا سکے

    یہ سلسلہ گذشتہ چند سالوں سے قادیانیوں نے اپنایا ہوا ہے جس کے نتائج بڑے خطرناک نکل سکتے ہیں اس لئے ان زندیقوں کے خلاف فوری سخت ترین کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو ان کے مذموم عزائم سے باز رکھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو بچایا جا سکے

    اس وقت دنیا بھر میں قادیانیوں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے جو اپنے مذہب کی تبلیغ کی خاطر پوری دنیا میں سرعام پیسے،عورت،عہدے کا لالچ دے کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ہمیں بطور سچے مسلمان ان کے مذموم عزائم کو عملی زندگی کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی روکنا ہو گا کیونکہ ایک مسلمان کے نزدیک عقیدہ ختم نبوت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

    ان شاءاللہ ان زندیقوں کا مقابلہ ہر محاذ پر کرینگے

  • اسٹیبلشمنٹ  سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود قوم کی نجات دہندہ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسٹیبلشمنٹ سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود قوم کی نجات دہندہ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ملکی سیاسی جماعتیں، وی لاگرز، یوٹیوبرز، بعض دانشور، سوشل میڈیا پر جمہوریت کو لے کر اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کو کسی بھی زاویئے سے درست نہیں کہا جا سکتا۔ ملکی سلامتی کے پیش نظر اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے ۔ سیاسی حکومتیں اور ان حکومتوں کا نظام کچھ عرصے کے لئے ہوتا ہے تاہم بنیادی قومی مفادات اور متعلقہ پالیسیوں کے بارے میں بنیادی مفروضے ہمیشہ تبدیل نہیں ہوتے۔ دنیا کے تمام ممالک اپنی سالمیت اور خودمختاری کو برقرار رکھنے اور اپنے قومی مفادات کی جراتمندی سے حفاظت کرتے ہیں۔

    تاریخ کا مطالعہ کریں ملک کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی طنزیہ انداز میں ریاست کے اندر ریاست کہا کرتے تھے کیونکہ یہ حکومتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہے۔ یاد رکھیئے یہ نادیدہ قوت عوام کے مفادکے لئے حکومتوں پر نظر رکھتی ہے۔ سب سے طاقتور اسٹیبلشمنٹ امریکہ کی ہے امریکی سلامتی کا تقاضا ہے کہ امریکہ یورپی دنیا میں مستقل مسلح موجودگی رکھنا اپنی افواج کو دور دراز علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے لئے تیار کرنا اور کسی بھی وقت کہیں بھی مداخلت کرنے کے لئے تیار رہنا سابق امریکی صدر اوباما اور بش کا دور حکومت یاد کریں دنیا کے کسی بھی ملک کی اسٹیبلشمنٹ دفاع کی پہلی لائن ہے اور قومی مفادات پر کسی بھی طرف سے کسی بھی حملے کی راہ میں پہلی رکاوٹ ہے۔ اس کے مقاصد ان سیاستدانوں کے مخالف ہیں جو قومی مفاد کے وژن کو ذاتی مفاد کو مقدم سمجھتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت شاید ہی اگلے انتخابات سے آگے سوچتے ہیں ان کی پالیسیاں انتخابات جیتنے اور اقتدار میں رہنے کی خواہش سے چلتی ہیں۔ اقتدار میں رہنے کی خواہش اپنی روح شیطان کے ہاتھ فروخت کرنے اور قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے اس شیطانی کوشش کو اسٹیبلشمنٹ نہ صرف روکتی بلکہ ہر دم چوکنا رہتی ہے۔

    ملکی تاریخ میں دو مثالیں واضح ہیں کیری لوگر بھی دوسرا بدنام زمانہ میمو اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ چوکنا نہ ہوتی تو سوچئے کیا ہوتا؟ دوسرا تاثر عام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خارجہ پالیسی کے معاملات خاص طور پر افغانستان، بھارت اور امریکہ سے متعلق اثرانداز ہوتی ہے جبکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی جہاں امریکی سلامتی کے مفادات شامل ہیں وہاں پینٹاگان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ملک میں موجود امریکی ہمدردوں نے ہر قابل فہم جرم میں اپنی سلامتی کے اداروں کو ملوث کیا ہے پاک فوج اور جملہ اداروں کوئی بھی منفی خبر بھارتی اور امریکی میڈیا میں بریکنگ نیوز کے طور پر دکھائی جاتی ہے۔ غیر ملکی منفی پروپیگنڈہ سیاستدانوں کی ایماء پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات انتہائی لطیف انداز میں اسٹیبلشمنٹ کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے آج کے پاکستان میں کچھ بین الاقوامی اور کچھ ملکی سطح پر افراد اپنے قومی سلامتی کے اداروں پر روزانہ کی بنیاد پر زہریلا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کی اکثریت اپنی عسکری قیادت پر اعتماد کرتی ہے عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہر دور میں سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود قوم کی نجات دہندہ ہے۔

  • 30 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    30 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    30 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1180ء المستضی بامر اللہ حسن بن یوسف ، خلافت عباسیہ کا (18 دسمبر 1170ء تا 27 مارچ 1180ء) 33واں خلیفہ ، مستضی کے دور میں صلاح الدین ایوبی نے دنیائے اسلام میں شہرت پائی۔ مستضی کی بیماری کے دوران ہی الناصرالدین اللہ کی خلافت کی بیعت کر لی گئی۔ (پیدائش: 23 مارچ 1142ء)

    1664ء گرو ہرکرشن بمعروف بال گرو یعنی بچہ گرو ، سکھوں کے دس میں سے آٹھویں سکھ گرو۔ گرو ہرکشن کو 5 سال کی عمر میں ہی اپنے باپ گرو ہررائے کے مرنے کے بعد 7 اکتوبر 1661ء کو گرو بنایا گیا۔ وہ 8 سال کی عمر میں دہلی میں پھیلنے والی وبا کی وجہ سے مر گئے۔ اُن کا گرو ہونے کا دور صرف 2 سال 5 ماہ اور 24 دن ہے۔ (پیدائش : 23 جولائی 1656ء)

    1813ء جوہان فریڈرک ہینرٹ ، جرمن ریاضی دان، ماہر فلکیات، استاد جامعہ (پیدائش : 19 اکتوبر 1733ء)

    1842ء میری وجی لی برن ، فرانسیسی مصورہ (پیدائش: 16 اپریل 1755ء)

    1949ء فریڈرخ برجیاس ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1931ء) یافتہ جرمن کیمسٹ و استاد جامعہ ، جس نے کوئلے سے توں ایندھن بنانے کا طریقہ ایجاد کیا۔ انہیں یہ انعام جرمن کیمیاء دان کارل بوش کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا ۔ (پیدائش : 11 اکتوبر 1884ء)

    1950ء لیون بلوم ، فرانسیسی صحافی، ادبی تنقیدنگار و سیاستدان ، فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی کا لیڈر اورفرانس کا پہلا سوشلسٹ وزیر اعظم ، 1946ء میں چند ہفتے وزیر اعظم رہا۔ پھر اقوام متحدہ میں فرانسیسی مندوب مقرر کیا گیا۔ (پیدائش: 9 اپریل 1872ء)

    1961ء سید حسین بروجردی یا سید حسین بن علی طباطبائی بروجردی ، شیعہ مجتہد ،آیت اللہ اور مرجع تقلید ، سید حسین طباطبائی کا شجرہ نسب حسن مثنی، امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ملتا ہے۔ سید حسین طباطبائی 15 سال کی عمر میں دنیا کے تمام شیعوں کے اکیلے مرجع تقلید اور مجتہد تھے اور 17 سال کی عمر میں قم کے حوزہ علمیہ کے سربراہ بنے۔ (پیدائش : 23 مارچ 1875ء)

    1965ء فلپ شوالٹر ہنچ ، نوبل انعام برائے فزیالوجی و طب (1950ء) یافتہ امریکی کیمیاء دان و استاد جامعہ (پیدائش: 28 فروری 1896ء)

    1977ء عبد الحلیم علی شبانہ المعروف عبد الحلیم حافظ ، مصری اداکار اور گلو کار ، انہیں مصری اور عربی موسیقی کے چار بڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جن میں عبد الحلیم حافظ، ام کلثوم، محمد عبدالوہاب اور فرید الاطرش شامل ہیں۔ (پیدائش: 21 جون 1929ء)

    1972ء۔۔۔حافظ محمد صدیق الماس رقم ٭ پاکستان کے نامور خطاط حافظ محمد صدیق الماس رقم 15 اگست 1907ء کو جامکے چیمہ، گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے فن خطاطی کی تعلیم حکیم محمد عالم گھڑیالوی سے حاصل کی اور بہت جلد خود بھی نامور خطاطوں میں شمار ہونے لگے۔ 1934ء میں انہوں نے علامہ اقبال کی کتاب زبورعجم کی خطاطی کی جس کے بعد مولانا ظفر علی خان نے ان سے اپنی کئی کتابوں کی خطاطی بھی کروائی اورانہیں خطاط العصر کا خطاب عطا کیا۔ حافظ محمد صدیق الماس رقم کو زبورعجم کے علاوہ جن مشہور کتابوں کی خطاطی کا اعزاز حاصل ہوا ان میں علامہ عنایت اللہ مشرقی تذکرہ اور حفیظ جالندھری کا شاہنامہ اسلام شامل تھے۔ 30 مارچ 1972ء کو حافظ محمد صدیق الماس رقم انتقال کرگئے۔ حافظ محمد صدیق الماس رقم لاہور میں حضرت طاہر بندگی کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

    1987ء علامہ احسان الہی ظہیر، عالمِ دین اور خطیب اِسلام۔علامہ احسان الہی ظہیر بن حاجی ظہور الہی ظہیر 31 مئی 1941 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔

    ابتدائی تعلیم حفظِ قرآن سے لے کردرسِ نظامیہ اور عالم فاضل تک جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے حاصل کیں،اعلیٰ تعلیم کے لیے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لے گئے، سن 1969 میں ممتاز ڈویژن سے پاس ہوکر وطن آ گئے اورجامعہ پنجاب سے چھ مضامین میں ایم اے کیا یعنی عربی،اردو،فارسی،فلسفۂ تاریخ،ایم او ایل(قانون)اور اسلامیات۔ ۔۔ تمام امتحانات میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کی،آپ کئی زبانوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے. زمانۂ تعلیم ہی سے تصنیف و تالیف کا کام شروع کر دیا تھا،کم وبیش بیس ضخیم کتابیں تالیف کیں اس کے علاوہ بے شمار مقالات و مضامین لکھے،ان کی آخری کتاب قتل سے صرف آٹھ گھنٹے قبل مکمل ہوئی تھی،آپ کی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں : 1-القادیانیہ دراسات و تحلیل(عربی) 2-التصوف (عربی) 3-مرزائیت اور اسلام (اردو) 4-البابیہ عرض ونقد (عربی) 5-البہائیہ نقد وتحلیل (عربی) 6-الشیعۃ والسنۃ (عربی،فارسی،انگریزی) 7-الشیعہ و اہل البیت (عربی) 8-الشیعہ و القرآن (عربی) 9-البریلویہ عقائد و تاریخ(عربی) 10-الاسماعیلیہ (عربی) ان میں سے اکثر کتب کے دس سے زیادہ ایڈیشن نکل چکے ہیں، دنیا کی کئی زندہ زبانوں میں ان کتابوں کے ترجمے ہوئے ہیں۔ عربی، اردو، فارسی، انگریزی کے علاوہ ترکی، تھائی، انڈونیشی اور مالدیپی زبانوں میں ان کی کئی کتابیں کئی بار اور کئی کئی ترجموں کے ساتھ نکل چکی ہیں،”الشیعۃ والسنۃ”کے صرف انڈونیشی زبان میں تین ترجمے ہوئے، جن میں ایک پر "پیشِ لفظ” انڈونیشیا کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر محمد ناصر نے لکھاہے۔میدانِ صحافت میں طویل عرصہ رہے اور مختلف اوقات میں ہفت روزہ "الاعتصام”ہفت روزہ "اہلِ حدیث”ہفت روزہ "الاسلام”کے مدیر رہے اور پھر اپنا ذاتی ماہنامہ "ترجمان الحدیث”نکالا،جس کے تاحیات مدیر رہے۔علامہ احسان الہی ظہیر 23 مارچ 1987 کی شب موچی دروازہ لاہور میں جمعیۃ اہلِ حدیث کے ایک جلسے میں خطاب کر رہے تھے کہ ایک زور دار دھماکا ہوا ،جس میں آپ شدید زخمی ہوئے،فورا اسپتال لے جایا گیا،جب یہ خبر سعودی عرب پہنچی تو شاہ فہد بن عبدالعزیز ابن سعود کے حکم سے ریاض منتقل کیا گیا ،مگر ہزار کوششوں کے باوجود آپ جانبر نہ ہو سکے اور 30 مارچ 1987 کو شہید ہو گئے۔۔ آپ کو جنت البقیع مدینہ منورہ میں ہزاروں علما مشائخ اور سوگواروں کی موجودگی میں امام مالک کے قدموں میں سپردِ خاک کیا گیا۔

    2002ء سید شرافت علی المعروف صہبا لکھنوی، پاکستانی شاعر، نقاد۔ اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہنامہ افکار کے مدیر صہبا لکھنوی کا اصل نام سید شرافت علی تھا۔ ان کا آبائی وطن لکھنؤ تھا تاہم وہ 25 دسمبر 1919ء کو ریاست بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بھوپال، لکھنؤ اور بمبئی سے تعلیمی مدارج طے کئے اور 1945ء میں بھوپال سے ماہنامہ افکار کا اجرا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں سکونت پذیر ہوئے اور یہاں 1951ء میں افکار کا دوبارہ اجرا کیا۔ افکار کے ساتھ ان کی یہ وابستگی ان کی وفات تک جاری رہی اور یہ رسالہ مسلسل 57 برس تک بغیر کسی تعطل کے شائع ہوتا رہا۔ صہبا لکھنوی کے شعری مجموعے ماہ پارے اور زیر آسماں کے نام اشاعت پذیر ہوئے جبکہ ان کی نثری کتب میں میرے خوابوں کی سرزمین (سفرنامہ مشرقی پاکستان)، اقبال اور بھوپال، مجاز ایک آہنگ، ارمغان مجنوں، رئیس امروہوی فن و شخصیت اور منٹو ایک کتاب شامل ہیں۔ ٭30 مارچ 2002ء کو صہبا لکھنوی کراچی میں وفات پا گئے۔

  • قحط ،خشک سالی کی دستک،ہوش کب آئیگا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    قحط ،خشک سالی کی دستک،ہوش کب آئیگا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    صاحبان اختیارات ،ذمہ داران ریاست ،اعلٰی عہدوں پر فائز بیورو کریٹ ،بیورو کریسی کے افسران ، سیاسی گلیاروں میں جدید دور کے مسیحا، ہیروز ، اعلیٰ عدلیہ کے ججز ، یہ ارض وطن کی زمین کی ملکیت خدا پاک کی ہے اس میں بسنے والے یعنی رعایا ،بچاری ،مظلوم بے بس ، لاچار ، غریب ،کسمپرسی ،بھوک ، بیمار ی اور دیگر بنیادی مسائل میں مبتلا ہے۔ صاحبان اختیارات سے التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ ارض وطن پانی کی شدید کمی والے ممالک میں دنیا میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے ۔ ملک میں قحط اورخشک سالی کی دستک کی آواز بلند ہو رہی ہے اس آواز پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اگر اس پر توجہ نہ د ی تو پاکستان پانی کی مکمل قلت والے ممالک میں شامل ہو جائے گا بہت سی وجوہات ہیں جو پانی کی کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی سرفہرست ہے فیکٹریوں اور کارخانوں کا ناقص زیر زمین پانی کو بے حد گندا کررہا ہے امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات موجود ہیں۔ پاکستان اس حوالے سے دنیا سے بہت پیچھے ہے ۔ یہ ا یک سنگین مسئلہ ہے ملک کے سیاستدان اس سنگین مسئلے کو مد نظر رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر اس سر زمین کی زندگی بچانے کے لئے آنے والی نسلوں کے لئے سر جوڑ کر فیصلہ کریں

    یہ مسئلہ خدا پاک کی ملکیت سرزمین کا ہے ۔ اس میں بسنے والے دانشوروں کو خوراک کی کمی ، قلت اور قحط جیسے حالات کے خطرات منڈلاتے کیوں نہیں دکھائی دیتے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔ زراعت کے لئے بھی پانی درکار ہے ۔زرعی شعور رکھنے والے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پانی کولے کر یہ صورت حال کس قدر تشویش ناک ہے۔ معیشت کومستحکم کرنے کے لئے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارو کو قسط دینے کے لئے ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔ مگر پانی کی قلت اور زراعت کو فروغ دینے کے لئے پانی کس سے اُدھار لیا جائے گا؟ کس ملک سے پانی مانگا جائے گا؟ خدارا سیاسی لڑائیاں اقتدار اور اختیارات کے لئے تو لڑی جا رہی ہیں کبھی اس ریاست کے سنگین مسائل پر بھی توجہ دیں۔