Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چترال:صوبائی حکومت کا2024 ءترچ میر چوٹی کے سال کے طور پرمنانے کا فیصلہ،مختلف فیسٹیول منعقد ہوں گے

    چترال:صوبائی حکومت کا2024 ءترچ میر چوٹی کے سال کے طور پرمنانے کا فیصلہ،مختلف فیسٹیول منعقد ہوں گے

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی رپورٹ)خیبرپختونخوا حکومت نے سال 2024-25 کو صوبہ کی بلند ترین چوٹی ترچ میر کو ے سال کے طور پرمنانے کا فیصلہ اورمختلف فیسٹیول شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کو ٹاسک حوالے کرکے فوری طور پر جاندار اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی زیرصدارت سیاحت کی ترقی سے متعلق اجلاس.

    خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے کانفرنس ہال پشاور میں منعقدہ اس اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی برکت اللہ مروت، جنرل منیجر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ محمد علی سید اور جنرل منیجر ٹورازم سجاد حمید کے علاؤہ ٹور آپریٹرز اور سیاحت سے منسلک اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی جنہوں نے صوبائی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سیاحت کی ترقی کیلئے سنگ میل اقدام قرار دیا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
    اجلاس میں سال 2024-25 کیلئے کوہ پیمائی کی رائلٹی اور ٹریکنگ فیس معاف کرنے اور ترچ میر پہاڑ کو خیبرپختونخوا کے سیاحتی علامات میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ترچ میر چوٹی سر کرنے کیلئے مختلف بین الاقوامی کوہ پیماؤں کو مدعو کیا جائے گا جبکہ ان کیلئے ٹریننگ پروگرامزبھی ترتیب دیئے جائینگے۔

    سیاحت سے منسلک صوبہ کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے مسائل اور ان کے حل کیلئے اگلا اجلاس پشاور کی بجائے چترال، کاغان، سوات اوردیگر سیاحتی اضلاع کے صدرمقامات پر منعقد کئے جائیں گے۔

    سیاحت سے منسلک اسٹیک ہولڈرز نے مشیر سیاحت کو اپنے مسائل و مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔ زاہد چن زیب نے انکے معروضات توجہ سے سنے اور انکے ترجیحی بنیادوں پر ازالے کا یقین دلایا۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سیاحتی خدمات کی بطریق احسن ادائیگی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

    مشیر سیاحت نے کہا کہ سیاحوں کے این او سی سے متعلق مسئلے متعلقہ حکام کیساتھ ملاقات کے بعد جلد حل کردیا جائے گا۔ بہتر نتائج کیلئے خیبرپختونخوا ٹورازم پولیس کو فرسٹ ایڈ بکس کیساتھ اپ گریڈ کرکے مزید تربیت دینے کے علاؤہ اضافی موٹر بائیک سے لیس کیا جا رہا ہے۔ سیاحتی مقامات پر تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا جس کیلئے اتھارٹیز کو فعال بنانے کے علاؤہ ضلعی انتظامیہ کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی

    زاہد چن زیب نے کہا کہ اسی طرح سیاحتی مقامات کو جانے والی شاہراہوں کو بھی بہتر بنایا جائے گا جس کیلئے نئے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں۔ ٹور آپریٹرز اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز سیاحت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور صوبائی حکومت انکی حوصلہ افزائی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

  • پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور امریکی مؤقف

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور امریکی مؤقف

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور امریکی مؤقف

    رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی آخری تاریخ میں 180 دن کی توسیع کی ہے اور اسے ستمبر 2024 تک بڑھا دیا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی عدالتوں میں ممکنہ قانونی تنازعات کو ٹالنا ہے۔ یہ اقدام قانونی چارہ جوئی کے خطرے اور پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات پر ممکنہ دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ تہران پائپ لائن منصوبے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔

    ایران سے سستی گیس کی درآمد ان تخمینوں کی روشنی میں بہت اہم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سات سالوں میں پاکستان کا درآمدی بل تقریباً دوگنا ہو کر 31 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ "امن پائپ لائن”، تہران اور اسلام آباد کے درمیان ایک طویل مدتی منصوبہ زیر غور ہے لیکن اسے مختلف سطحوں پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

    اس منصوبے میں بنیادی رکاوٹ امریکہ کی مخالفت ہے، ابھی پچھلے ہفتے ہی امریکہ نے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور تہران کے ساتھ کاروبار میں مشغول ہونے سے متعلق پابندیوں کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا، تاہم، یہ بات قابل غور ہے کہ امریکی موقف صوابدیدی دکھائی دیتا ہے۔ 2019 میں، امریکہ نے عراق کو اپنے پاور گرڈ کو ایندھن دینے کے مقصد سے ایران سے گیس درآمد کرنے کی اجازت دی۔ یہ اقدام 7 اگست 2018 کو ایران اور پانچ طاقتور ریاستوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے بعد ،اور اس کے بعد 5 نومبر 2018 کو امریکا کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں سے متصادم ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود امریکی حکومت نے ایران پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، قریبی اتحادی جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ ساتھ بھارت سمیت آٹھ ممالک کو ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔

    امریکہ پاکستان کے معاشی چیلنجوں سے بخوبی واقف ہے جس میں آمدنی میں شدید خسارہ بھی شامل ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے باوجود، جب کہ دیگر اقوام کو مستثنیات دی گئیں، پاکستان کو اسی طرح کی مراعات سے محروم رکھا گیا۔اگست 2023 میں، ایران اور پاکستان نے پانچ سالہ تجارتی منصوبے پر دستخط کیے، جس میں دو طرفہ تجارت کا ہدف 5 بلین ڈالر مقرر کیا گیا۔
    مغربی اداروں کے قرضوں پر انحصار کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ نیز، ہمارے "دوست” جنہوں نے حال ہی میں آئی ایم ایف کی مدد کو مالی طور پر اس کی پیروی کرنے کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔پاکستان کی اقتصادی ٹیم کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  • 28 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    28 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    28 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1534ء ماہم بیگم ، (21 اپریل 1526ء تا 26 دسمبر 1530ء) پہلی ملکہ مغلیہ سلطنت ہند ، مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کی بیوی اور مغل شہنشاہ نصیرالدین ہمایوں کی والدہ تھی۔

    1552ء لہنا جی المعروف گرو انگد دیو ، دیو سکھ مذہب کے آ‎ئے دس گرؤں میں سے (7 ستمبر 1539ء تا 28 مارچ 1552ء) دوسرے ‎آنے والے گرو ، گرو اَنگد دیوتا مہاراج جی بہت ہی ہنرمند شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا جنم پنجاب کے ضلع مکتسر کے گاؤں سرائے نگا میں ہوا ۔ رواج کے مطابق دیوی لہنہ کے نام پر نام رکھا گیا۔ باپ کا نام پھیرو تھا اور وہ ایک چھوٹے دکان دار تھے- انکی ماں کا نام ماتا رامو تھا (یہ بھی ماتا سبہیرائ کے نام سے منصوب تھا۔ تاہم عام طور بر یہ منسا دوی اور دیا کؤر کے روپ میں جانی جاتیں تھیں- (پیدائش : 31 مارچ 1504ء)

    1889ء تاج العلما علامہ مفتی سید محمد عباس موسوی لکھنوی بمعروف محمد عباس شوشتری ، برصغیر کے ایک عظیم شیعہ مجتہد اور متکلم تھے۔ (پیدائش: 15 مئی 1809ء)

    1941ء ورجینیا وولف ، برطانوی خاتون ناول نگار ، جس نے ندی میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی ، مغربی دُنیا میں وہ غالباً پہلی ادیبہ ہیں، جس نے خواتین پر زور دیا کہ وہ محض مرد ادیبوں کی نقالی کرنے کی بجائے اپنے الگ تخلیقی راستے تلاش کریں۔ (پیدائش : 25 جنوری 1882ء)

    1947ء پروفیسر عبدالباری، بھارتی تعلیمی اور سماجی مصلح اور صدر ٹاٹا ورکس یونین 1936ء تا 1947ء (پیدائش : 1892ء)

    1969ء ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور ، امریکی جنرل، منصف، مدبر و سیاستدان ، (20 جنوری 1953ء تا 20 جنوری 1961ء) 34 ویں امریکی صدر (پیدائش : 14 دسمبر 1890ء)

    1982ء ولیم جیوک ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1949ء) یافتہ امریکی کیمیاء دان، انجینئر و استد جامعہ ، جس نے مادے کی خصوصیات کو درجہ حرارت ابسولیوٹ زیرو پر کام کیا۔ (پیدائش : 12 مئی 1895ء)

    2002ء جنرل ٹکا خان ، پاکستانی جرنیل ، (6 اپریل 1971ء تا 31 اگست 1971ء) گورنر مشرقی پاکستان ، (3 مارچ 1972ء تا 1 مارچ 1976ء) 7ویں کمانڈر ان چیف پاک فوج اور پہلے چیف آف آرمی اسٹاف پاک فوج ، (دسمبر 1988ء تا اگست 1990ء) 10ویں گورنر پنجاب (پیدائش: 7 جولا‎ئی 1915ء)

    2006ء بنسی لال ، بھارتی سیاستدان ، بھارتی ہندو جاٹ آزاد سرگرم کارکن، انڈین نیشنل کانگریس کے بزرگ رہنما اور (11 مئی 1996ء تا 23 جولائی 1999ء) وزیر اعلی ہریانہ ، جدید ہریانہ کے معمار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ (پیدائش: 26 اگست 1927ء)

    28 مارچ 1947ء جدوجہد آزادی کی خاتون رہنما بیگم محمد علی جوہر کی تاریخ وفات ہے۔بیگم محمد علی جوہر کا اصل نام امجدی بانو تھا۔ وہ 1885ء میں ریاست رامپور میں پیدا ہوئیں۔ 5 فروری 1902ء کو وہ مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جو رشتے میں آپ کے عزیز تھے۔ 1919ء میں جب مولانا محمد علی جوہر کو خلافت تحریک کے سلسلے میں جیل بھیجا گیا تو بیگم محمد علی جوہرعملی سیاست سے منسلک ہوگئیں۔ اسی برس انہیں خود بھی قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کرنی پڑی، رہائی کے بعد وہ عملی سیاست میں مکمل طور پر فعال ہوگئیں اور 1931ء میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد سیاسی میدان میں ان کی نیابت کرنے لگیں۔ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں انہوں نے ہندوستان کی مسلمان خواتین کی جانب سے قرارداد لاہور کی تائید میں تقریر کی۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی رہنما تھیں جنہوں نے اس قرارداد کو قرارداد پاکستان کا نام دیا۔ ہندوستانی پریس نے طنز کے طور پر اس نام کو ایسا اچھالا کے لفظ پاکستان زبان زد خاص و عام ہوگیا اور 14 اگست 1947ء کو ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنی طویل جدوجہد سے جو وطن حاصل کیا اس کا نام پاکستان ہی ہوگیا۔

    ٭28 مارچ 2006ء کو پاکستان کی مشہور گلوکارہ روبینہ بدر کینسر کے ہاتھوں کراچی میں وفات پاگئیں۔ ان کی عمر 50 سال تھی۔روبینہ بدر نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔پاکستان ٹیلی وژن پر ان کا گایا ہوا نغمہ تم سنگ نیناں لاگے ان کے کیریئر کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔بعدازاں انہوں نے متعدد فلموں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایاجن میں ایماندار، چکر باز، شوکن میلے دی، حکم دا غلام، انتظار، پردہ نہ اٹھائو، عزت اور خانزادہ کے نام سرفہرست ہیں۔

    ٭28 مارچ 1985ء کو سندھ کے مشہور ملہہ پہلوان، رستم سندھ شیر میر بحر دنیا سے رخصت ہوئے۔شیر میر بحر 21 جون 1924ء کو ضلع نوشہروفیروز کی تحصیل کنڈیارو میں پیدا ہوئے تھے۔ گائوں کے لڑکوں کے ساتھ ملاکھڑے کرتے کرتے بہت جلد وہ سندھ کے ایک مشہور ملہہ پہلوان بن گئے۔ 1962ء میں ہالا میں ایک دنگل میں انہوں نے چیکوسلواکیہ کے پہلوان جارج زیبسکو کو شکست دی اور شیر سندھ کا خطاب حاصل کیا۔ بعدازاں انہوں نے بھارت اور جاپان کے کئی نامی پہلوانوں کو بھی ہرایا۔شیر میر بحر کے فن کے قدر دانوں میں سابق والی ریاست خیرپور میر علی مراد خان تالپور، صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔ وزیراعظم بھٹو نے انہیں 1974ء میں ملہہ کا قومی کوچ مقرر کیا تھا مگر ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد شیر میر بحر کی یہ ملازمت ختم ہوگئی۔وہ گوٹھ پہلوان شیر میر بحر تعلقہ کنڈیارو ضلع نوشہرو میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • 28 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    28 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    28 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    2005 سماٹرا میں انیس سو پینسٹھ کے بعد دوسرا بڑا زلزلہ آیا ،جس کی شدت ریکٹر اسکیل پرآٹھ اعشاریہ سات تھی۔زلزلے کے نتیجے میں ایک ہزار تین سوافراد لقمہ جل بنے۔

    1970ء۔۔ ترکی میں سات اعشاریہ چار کی شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں ایک ہزار چھیاسی افراد ہلاک جبکہ دوسوچوون دیہات تباہ ہوئے۔

    1854 کریمین جنگ:فرانس نے روس کے خلاف جنگ کااعلان کیا۔

    1845 میکسیکو نے امریکا سے سفارتی تعلقات منقطع کیے۔

    1738 برطانیہ نے اسپین کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

    1970ء – پاکستان کے صدر یحیی خان نے لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کو آئینی عمل کے لیے ایک لائحۂ عمل کے طور پر استعمال کیا جانا تھا۔ اس کے تحت قومی اسمبلی کی 313 نشستوں میں سے 169 نشستیں مشرقی پاکستان کو دی گئیں۔

    1977ء – ذوالفقار علی بھٹو دوسری مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔

    1868 ریڈیو کے موجد مارکونی نے پہلی بار انگلینڈ سے ایک ٹیلی گراف یورپ بھیجا ۔

    1959 کو تبت میں دلائی لامہ کی حکومت کو چین نے بر طرف کرکے اپنے حمایت یافتہ پنچن لامہ کو سربراہ کا مقرر کیا ۔

    1973 کو ویت نام میں متعین آخری فوجی اپنے وطن روانہ ہوا جس سے ویت نام میں 10 ویت امریکہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی ۔

    28 مارچ 1968ء کو ڈھاکا میں ایسٹ پاکستان ایگریکلچریونیورسٹی کا پہلا کانووکیشن منعقد ہوا۔ اس موقع پرپاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر یونیورسٹی کی ایک عمارت کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت 15پیسے تھی اور اسے پاکستان سیکیورٹی پیپرز کے ڈیزائنر سلیم غوری نے ڈیزائن کیا تھا۔

    28مارچ 1972ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اکنامک کمیشن فار ایشیا اینڈ دی فار ایسٹ( ایکیفے) کے قیام کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر 20پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پراس ادارے کا لوگو بنا تھا ۔ایشیااور مشرق بعید کی ترقی کے لیے یہ ادارہ اقوام متحدہ نے 28مارچ 1947ء کو قائم کیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرفضل کریم نے تیار کیا تھا۔

    28 مارچ 1955 ء۔۔نیوزی لینڈ کی ٹیم صرف 26 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی تھی .. یہ ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے کم ترین اننگز ٹوٹل ہے .. یہ ایسا حیران کن ریکارڈ ہے کہ ایک ٹیم میں گیارہ محمد عرفان بھی بیٹنگ کے لئے بھیج دئے جائیں شائد تب بھی اس سے زیادہ سکور کر لیں .. اس میچ میں ایک حیران کن واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ انگلینڈ کے باولر ایپل یارڈ دو بار ہیٹرک پر آئے اور دونوں بار ان کو ہیٹرک مکمل کرنے سے روکنے کا کارنامہ ( میچ کے حساب سے یہ بھی کارنامہ ہی تھا ) نیوزی لینڈ ایلکس مائر کے حصے میں آٰیا ۔نیوزی لینڈ کے ایلکس مائر ہی نے 28 مارچ 1951 کو مسلسل دو اوور پھینکے تھے یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقع تھا ایک اوور انہوں نے چائے کے وقفے سے پہلے پھینکا تھا اور دوسرا چائے کے وقفے کے فورا بعد ..

    28 مارچ 2005ء۔۔پاکستان نے بنگلور میں انڈیا کو شکست دے کر نا صرف سیریز برابر کی تھی بلکہ یہ انضمام الحق کا 100 واں ٹیسٹ میچ بھی تھا جسے انہوں نے شاندار 184 رنز بنا کر یادگار بھی بنا لیا تھا ۔ یہ 100 ویں ٹیسٹ میں کسی بھی کھلاڑی کی سب سے بڑی اننگز کا ریکارڈ بھی ہے .. اس میچ کی اصل بات یونس خان کا دونوں اننگز میں ٹیم کے لئے کھیلنا تھا .. پہلی اننگز میں انہوں نے 267 رنز بنائے تھے لیکن جتنے مزے سے وہ بیٹنگ کر رہے تھے بڑی آسانی سے ٹرپل سنچری بنا سکتے پر ٹیم نے اننگز ڈیکلئیر کرنی تھی اس لئے تیز کھیلنے کے چکر میں آوٹ ہوگئے ۔۔ دوسری اننگز میں وہ 84 پر ناٹ آوٹ تھے جب اننگز ڈیکلئیر کرنا پڑی۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔””””””””””””””””””

    جمہوریہ چیک میں یوم اساتذہ

    جمہوریہ سلواکیہ میں یوم اساتذہ

  • 27 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    27 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    27 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1677ء ملا نظام الدین محمد بن ملا قطب الدین سہالوی ، فاضلِ جید،عارف فنون رسمیہ، ماہر علوم نقلیہ و عقلیہ، فقیہ اصولی و بانی درسِ نظامیہ ۔ (وفات: 8 مئی 1748ء)

    1845ء ولہیلم رونٹیگن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1901ء) یافتہ جرمن ماہر طبعیات و استاد جامعہ ، جس نے 1895ء میں اس نے ایکس شعاع دریافت کیں۔ ان شعاعوں کو اس کے نام کی مناسبت سے رونتجن شعاع بھی کہتے ہیں ۔ (وفات: 10 فروری 1923ء)

    1847ء اوتو والاخ ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1910ء) یافتہ جرمن کیمیاء دان و استاد جامعہ ، جس نے نامیاتی کیمیاء اور کیمیائی صنعت میں تحقیق کی اور ایک الیسائیکلک کمپاونڈ کی گئی اولین تحقیقات تھی۔ (وفات : 26 فروری 1931ء)

    1901ء ایساکو ساٹو ، نوبل امن انعام (1974ء) یافتہ جاپانی سیاستدان ، (7 نومبر 1964ء تا 9 جولائی 1972ء) 39 ویں وزیراعظم جاپان (وفات : 3 جون 1975ء)

    1942ء جان ایڈورڈ سلسٹن ، نوبل انعام برائے فزیالوجی و طِب (2002ء) یافتہ برطانوی حیاتیات دان، ماہرِ جینیات و استاد جامعہ (وفات : 6 مارچ 2018ء)

    1961ء سید سردار احمد پیرزادہ ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے پہلے نابینا صحافی، دانشور، تجزیہ و کالم نگار، مقتدرہ قومی زبان کے ماہانہ جریدہ اخبار اردو کے ایڈیٹر اور ریڈیو، ٹی وی کے اینکر پرسن

    1963ء قوینٹن ٹیرنٹینو ، امریکی فلمساز

    1965ء رینوکا شاہانے ، بھارتی فلمی اداکارہ اور ٹی وی اینکر

    1970ء رانا محمود الحسن ، ملتان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاستدان، مارچ 2018ء رکنِ ایوان بالا پاکستان

    1975ء سٹیسی فرگوسن، امریکی اداکارہ و گلوکارہ

    1979ء عمران طاہر ، پاکستانی نژاد جنوبی افریقی کرکٹ کھلاڑی

    1982ء تہمینہ افضل ، پاکستانی نژاد امریکی ماڈل، اداکارہ اور گلوکارہ ، وہ کھیل کے میدان میں بھی شہرت رکھتی ہیں۔

    1987ء نور العین خالد المعروف عینی جاں عینی خالد ، پاکستانی نژاد برطانوی موسیقار اور ماڈل

  • 27 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    27 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    27 مارچ تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1668ء انگلینڈ کے حکمران چارلس دوئم نے ممبئی کو ایسٹ انڈیا کمپنی سونپی۔

    1721ء فرانس اور اسپین نے میڈرڈ معاہدے پر دستخط کئے۔

    1794ء امریکی کانگریس نے ملک میں بحری فوج قائم کرنے کی منظوری دی۔

    1824ء کینیڈا نے سوویت یونین کو تسلیم کیا۔

    1854ء کریمین جنگ میں برطانیہ نے روس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

    1855ء امریکی ابراہام گیسز نے کوئلے سے ایک نئی قسم کا تیل کیروسین آئل (مٹی کا تیل) کے نام سے ایجاد کر کے پیٹنٹ کروایا۔

    1871ء پہلا بین الاقوامی رگبی میچ اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا جو اسكاٹ لینڈ نے جیتا۔

    1884ء بوسٹن سے نیویارک کے درمیان پہلی بار فون پر لمبی بات چیت ہوئی۔

    1899ء انگلینڈ اور فرانس کے درمیان پہلی بین الاقوامی ریڈیو نشریات اطالوی موجد جی مارکونی کی طرف سے کیا گیا۔

    1901ء امریکہ نے فلپائن کے باغی لیڈر ایمیلیو ایگونالڈو کو اپنے قبضے میں لیا۔

    1905ء برطانیہ میں پہلی بار قتل کے ایک مقدمے میں انگلیوں کے نشانات کو بطور ثبوت استعمال کیا۔

    1933ء جاپان نے لیگ آف نیشنز سے خود کو الگ کر لیا۔

    1944ء لتھوانیا میں دو ہزار یہودیوں کو قتل کیا گیا ۔

    1956ء امریکی حکومت نے کمیونسٹ اخبار ڈیلی ورکر پر قبضہ کر لیا۔

    1958ء نکیتا خروشیف سوویت یونین کے وزیر اعظم بنے۔

    1964ء الاسکا میں 4ء7؍کی شدت والے زلزلے سے ۱۱۸؍افراد ہلاک۔

    27 مارچ 1964ء کو حکومت نے نیشنل پریس ٹرسٹ (این پی ٹی) کے قیام کا اعلان کردیا۔ بعض سینئر صحافیوں کے مطابق این پی ٹی خواجہ شہاب الدین کے اور بعض کے مطابق الطاف گوہر کے ذہن کی پیداوار تھا مگر قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس ٹرسٹ کے خالق ایوب خان کے عہد کے ’’سپر بیوروکریٹ‘‘ غلام فاروق تھے جنہوں نے ایوب خان کے ایما پر اس کے خدوخال اور دائرہ کار متعین کیے تھے۔ این پی ٹی کے قیام کی مزاحمت سب سے پہلے پی ایف یو جے کی جانب سے ہوئی اس کے بعد ملک بھر کے مدیران اخبار و جرائد‘ ناشروں اور (کنونشن مسلم لیگ کے علاوہ) تمام سیاسی پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی مگر حکمران جنتا نے اپنے منصوبے پر عمل کیا۔ غلام فاروق نے این پی ٹی کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کی غرض سے ’’مخیر حضرات‘‘ کا ایک ڈھونگ تیار کیا اور 27 مارچ 1964ء کو اس کے قیام کا اعلان کردیا۔ ٹرسٹ کا ابتدائی سرمایہ پچاس لاکھ روپے تھا تاہم حکومت کی ایما پر نیشنل بنک آف پاکستان نے اسے ایک کروڑ روپے کا قرضہ بھی فراہم کیا تھا۔ این پی ٹی میں شروع شروع میں وہی اخبارات و جرائد شامل تھے جو میاں افتخار الدین کے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر قبضے کے ذریعے ہتھیائے گئے تھے لیکن بعد میں اس کے دائرے میں مارننگ نیوز‘ مشرق‘ دینک پاکستان‘ اخبار خواتین‘ اسپورٹس ٹائمز اور انجام بھی شامل ہوگئے۔ ابتدا ہی سے ٹرسٹ کے اخباروں نے سرکاری ترجمان کا کردار ادا کرنا شروع کردیا اور بغیر کسی خلش کے سرکاری موقف کی پیروی کرنے لگے۔ خوشامد اور چاکری نے اسم اعظم کی حیثیت اختیار کرلی اور وہ اخبارات جو کبھی حکومت کی کڑی نگرانی کیا کرتے تھے اب انتظامیہ کے پالتو بن کر رہ گئے۔ این پی ٹی لفظی اور کاغذی طور پر ایک آزاد ادارہ تھا لیکن حقیقت میں اس کے اخباروں نے ہمیشہ انتظامیہ کے ترجمان کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے مالکان ایوب اور یحییٰ کی‘ یکساں جوش اور جذبے کے ساتھ غلامی کی۔ عوامی مارشل لا نافذ ہونے پر انہوں نے اپنی وفاداری کا رخ ’’عوامی صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر‘‘ کی جانب موڑ دیا‘ جن کے نامساعد دور میں وہ دن رات ان کی بدگوئی کیا کرتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خود پاکستان پیپلز پارٹی‘ جس کے منشور میں‘ این پی ٹی کا توڑا جانا شامل تھا‘ این پی ٹی کو قومی تحویل میں رکھنے کی سب سے بڑی حامی بن گئی جس کا منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جب جولائی 1977ء میں پیپلز پارٹی کے خلاف فوجی بغاوت برپا ہوئی تو یہ اخبارات اتنی ہی خوشی اور سہولت کے ساتھ پیپلزپارٹی کے مخالف بن گئے جیسے اس کی حکومت قائم ہونے پر اس کے حامی بن گئے تھے۔ 1988ء میں نیشنل پریس ٹرسٹ توڑے جانے کا عمل پاکستان کے اس وزیر اعظم کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچا جسے بظاہر پاکستان کا سب سے کمزور وزیر اعظم سمجھا جاتا تھا، یہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو تھے۔ بقول میر تقی میر: سب پہ جس بار نے گرانی کی اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا

    1977ء ہوا بازی کی تاریخ کا سب سے بڑا اور خوفناک حادثہ پیش آيا جب جزائر کینرلی کے ایئر پورٹ پر دو 747 جیٹ طیارے آپس میں ٹکرائے۔ اس حادثے میں 852 افراد ہلاک ہوئے۔

    ملک معراج خالد 27 مارچ 1977ء سے 05 جولائی 1977 تک پاکستان کی قومی اسمبلی کے دسویں اسپیکر رہے۔ملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے۔ 2 مئی1972ء سے 10نومبر 1973ء تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ مارچ 1977ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن اور 27مارچ 1977ء کو قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے اور 5 جولائی 1977ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء میں جب پیپلز پارٹی دوبارہ برسر اقتدار آئی تو ملک معراج خالد ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن اور اسپیکر منتخب ہوئے۔ اس مرتبہ وہ اس عہدے پر 3 دسمبر 1988ء سے 4 نومبر 1990ء تک فائز رہے۔ 5 نومبر1996ء کو صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا ملک معراج خالد نگراں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس عہدے پر وہ 16فروری 1997ء تک فائز رہے۔ ملک معراج خالد کا انتقال 13جون 2003ء کو ہوا۔

    1989ء خلا میں امریکہ کے میزائل اینٹی سیٹلائٹ تجربہ ناکام ہوا۔

    27 مارچ 1998ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے سر سید احمد خان کی صد سالہ برسی کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت سات روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پرسر سید احمد خان کا خوب صورت پورٹریٹ بنا تھا اور انگریزی میں DEATH CENTENARY OF SIR SYED AHMAED KHAN 1898-1998 کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔

    2002ء اسرائیل کے نتنيا میں خود کش حملے میں 29؍ افراد مارے گئے ۔

    2008ء ناروے اور جنوبی کوریا نے کوسوو کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔

    2008ء لاہور کے ریس کورس پارک میں بم دھماکہ ہوا جس میں 67 افراد شہید اور 50 کے قریب زخمی ہوئے۔

    2016ء۔اقبال پارک لاہور میں ایسٹر کے موقع پہ خودکش حملہ۔74 افراد جاں سے گئے اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے

    2023ء۔۔اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں منعقد جلسہ عام میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے امریکی حکومت کی جانب سے دی گئی دھمکی کا انکشاف کیا جو امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید نے مشہور زمانہ سائفر میں بھیجی تھی۔

  • کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پی ڈی ایم ٹو،پی ٹی آئی سے سوال ہے کہ عوام کی اقتصادی حالت کو ٹھیک کرنے کے لئے بھی کوئی پالیسی بنائی گئی ہے،بالخصوص نئے وزیر خزانہ سے سوال ہے کہ آپ کو عام آدمی جس کرب میں مبتلا ہے اس کا احساس ہے ،عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی پالیسی موجود ہے؟ عام آدمی کے بنیادی مسائل میں آئے روز اضافہ ہی ہو رہا ہے، مرکز میں پی ڈی ایم ٹو، سندھ میں پی پی، پنجاب میں ن لیگ ،کے پی کے میں پی ٹی آئی، ان سب کے پاس اگر عام آدمی کے لئے کوئی پالیسی نہیں تو پھر یہ ملک میں الیکشن کا ڈرامہ کس لئے رچایا گیا؟ اس کا مقصد کیا تھا؟

    ملک و قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہے،ایک طرف دہشت گرد دوبارہ ارض وطن میں سر اٹھا رہے ہیں، عین اسی وقت اعلیٰ عدلیہ کے چھ ججوں پر مشتمل ایک لیٹر سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر نظر آیا ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا، آیئے مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے، کہاں غلطیاں ہیں،کون سی کل انفرادی اور اجتماعی ٹیڑھی ہے اور ایسا کونسا گناہ ہے کہ سختیاں، پریشانیاں، امتحان ، آزمائش ختم ہونے کو نہیں آتیں، ایک سانحہ کا گرد و غبار نہیں جھڑتا کہ دوسرا جنم لے لیتا ہے، گویا ایک تسلسل ہے جو پے در پے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہمارے تعاقب میں ہے، ارض وطن کے لئے ملک کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں عسکری قیادت، بیورو کریٹ، بیورو کریسی، پولیس کے اعلیٰ افسران، ملک کی مقتدر ایجنسیاں منبر و محراب سب اکٹھے ہوں سرجوڑ کر صلاح مشورے سے جامع حکمت عملی تیار کریں ، قوم کابھی فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کےلئے اپنا کردار ادا کرے.

    یاد رکھیے دہشت گردی کو لے کر ارض وطن حالت جنگ میں ہے ،حالت جنگ میں کمانڈروں کے خلاف کسی قسم کی سازش نہیں کی جاتی ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہیں ، فوج ہو یا پولیس یا دیگر ادارے، پنجاب پولیس کے آئی جی کا کل کے واقعہ پر اپنی فورس کو الرٹ رہنے کا پیغام ہر قسم کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کی تجدید ہے، بلاشبہ ان حالات میں پنجاب حکومت بھی اپنی سکیورٹی اداروں کی پشت پر ہے، ملکی حالات کے پیش نظر بین الاقوامی سیاسی کھلاڑیوں کی تبدیل ہوتی پالیسی کو مدنظررکھتے ہوئے ہمارے پالیسی سازوں دفاعی اور خارجہ پالیسی سازوں کو سرجوڑ کر غور کرنا چاہیے کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟

  • سندھ کے تین اضلاع ڈاکوؤں کی ریاست بن گئے

    سندھ کے تین اضلاع ڈاکوؤں کی ریاست بن گئے

    سندھ کے تین اضلاع ڈاکوؤں کی ریاست بن گئے
    تحریر : ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    ڈاکوؤں کی یہ ریاست سندھ ، پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پر واقع سندھ کے ضلع کشمور میں واقع ہے،ڈاکوئوں کی یہ ریاست گبلو ، درانی مہر ، کچو کیٹی ، میانی ، حاجی خان شر ، گڑھی تیغو ، ناپر کوٹ ، ڈیرا سرکی سمیت کئی چھوٹے چھوٹے علاقوں پر مشتمل ہے،اس وقت سندھ کے تین اضلاع عملاََ ڈاکوئوں کے قبضے میں ہیں، ان اضلاع میں کشمور ، شکارپور اور گھوٹکی شامل ہے،یہ ڈاکوسٹیٹ صدرپاکستان آصف علی زرداری،وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف اور آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیر کیلئے کھلاچیلنج بن کر سینہ تانے کھڑی ہے،ڈاکوئوں کی اس ریاست میں نوجوان نسل برسر روزگار ہورہی ہے، جن کا عزم امن کو برباد کرنا ہے،ان ڈاکوئوں نے لوگوں سے لاکھوں کروڑوں لوٹنے کے نت نئے طریقے ایجاد کئے ہوئے ہیں

    لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ بدامنی کی سنگینیت سے بھی دو چار ہیں، ہر آدمی اپنا تحفظ کرنے کے لیے اسلحہ استعمال کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔چند روز قبلسکول ٹیچر ا اللہ رکھیو نندوانی نے سکول جاتے ہوئے بندوق ہاتھوں میں لیے ایک وڈیو بیان جاری کیا تھا جسے ایک ہفتے کے اندر ڈاکوئوں نے سر عام قتل کردیا۔

    اسی طرح آج گذشتہ رات تنگوانی کے قریب تنگوانی غوث پور لنک لنک روڈ گائوں لشکر خان کے نزدیک لاڑو پولیس کی گشت پرمامورموبائل پر نامعلوم ڈاکوئوں نے حملہ کر دیا ،اس حملے کے نتیجے میں پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔شہید پولیس اہلکار کی شناخت محمد اسماعیل ڈاہانی کے نام سے ہوئی ہے،اس قبل بھی اسی شہید پولیس اہلکارجوپولیس ملازم تھا اسے بھی ڈاکوئوں نے شہید کردیا تھا،ان ڈاکوئوں سے جہاں پولیس محفوظ نہیں وہاں عوام کے کیا حالات ہوں گے ،اس کااندازہ لگانا مشکل نہیں ہے

    ان علاقوں میں ماہ رمضان میں اغوا، ڈکیتی اور قتل کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ اغوا ہونے والوں کی تعداد 20 سے تجاوز کر گئی،اکثرشادی کاجھانسہ دیکر لوگوں کو اغوا ء جاتا ہے۔اغوا ء ہونے والوں میں بی سیکشن تھانہ کی حدود سے در محمد گولو ، علی بہارسہریانی ، شمن علی سہریانی ، ذیشان سہریانی ، صدر الدین میرانی ، خالد علی میرانی کو اغوا کیا گیا۔تھانہ غوث پور کی حدودسے جاوید شیخ ، محمد رافع سمیجو ، گل محمد گولو ، منور علی چنو، مجید ٹانوری کو اغوا کیا گیا۔تھانہ تنگوانی کی حدود سے عباس جعفری اور تھانہ میانی سے شیر محمد بھٹو نا می شخص کو اغوا کیا گیا۔تھانہ کشمور سے علی داد کلوڑ ، تھانہ کرم پور سے عبید اللہ سمیجو ، علی شیر شیخ ، سہراب شیخ ، میر خان شیخ کو اغوا ء کیا گیا۔اور تھانہ بخشاپور سے محمد ظہیر عرف ننڈو جکھرانی کو جبکہتھانہ ای سیکشن سے شاہ محمد چاچڑ کو اغوا ء کیا گیا۔

    ان مغویوں میں محمد رافع سمیجو سے ڈاکوئوں نے ایک کروڑ تاوان طلب کیا اور نہ ملنے کی صورت میں 07 مارچ کے صبح جنگن تھانہ کی حدود میں بے دردی سے قتل کرکے لاش پھینک دی۔

    گذشتہ دو ماہ سے کچے اورپکے کے علاقوں میں پولیس اور رینجرز کا آپریشن ڈاکوئوں کا بال بیکا تک نہ کرسکااور ڈاکو دیدہ دلیری دکھاتے ہوئے کچے سے پکے میں آکر لوگوں کا اغواء اور لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    مغویوں کے ورثا غم سے نڈہال ہیں، پولیس ان مغویوں میں سے خالد میرانی ، صدر الدین میرانی اور منور علی چنو کو بازیاب کراسکی ہے۔استاد اللہ رکھیو کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے شبیر آباد کے علاقے میں چھٹے روز بھی آپریشن میں قاتلوں کی گرفتاری ممکن نہ ہوسکی ہے، تاہم 40 سے زائد مشتنہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ایس ایس پی بشیر احمد بروہی کے ترجمان کے مطابق رواں ماہ 26 پولیس آپریشن ہوئے ہیں، جن میں دو ڈاکو ہلاک اور 12 زخمی ہوئے، پولیس ریکارڈ میں 39 افراد کو بازیاب کرانے کا دعوی کیا گیا۔

    گزشتہ ایک سال میں پانچ پولیس اہلکار، تین سکول ٹیچر، سمیت 10 افراد کو ڈاکوئوں نے تاوان نہ ملنے پر قتل کردیا،قتل ہونے والوں میں ہیڈ محرر مقصود احمد بنگوار، ہیڈ محرر حاندل ڈومکی، اہلکار صابر علی، ہیڈ کانسٹیبل ادب علی جکھرانی، اہلکار روشن الدین، استاد جمن جکھرانی، استاد مراد علی بنگوار، استاد اللہ رکھیو نندوانی، محمد رافع سمیجو اور حاجی محمد پناہ شامل ہیں۔

    اب عوام مہنگائی بے روزگاری کو بھول گئے ہیں وہ اپنے بچوں کا تحفظ چاہتے ہیں،ان علاقوں ریاست اپنی رٹ کھوچکی ہے ڈاکواتنا طاقت ور بن گئے ہیں اور انہوں نے اپنی ریاست قائم کرلی ،ان کے خلاف پولیس اور رینجرزکامشترکہ اپریشن ناکامی سے دوچارہوچکا ہے ،ان تینوں اضلاع کشمور،شکار پوراور گھوٹکی میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے، کوئی آواز اٹھاتا ہے تو اسی کو قتل کردیا جاتا ہے، پولیس اوررینجرزسے بدامنی کنٹرول نہیں ہو رہی ہے، اب عوام کاصرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ڈاکوئوں کے خاتمہ کیلئے پاک فوج کااپریشن ناگزیرہوگیا ہے ، صدرپاکستان آصف علی زرداری ،وزیراعظم میاں شہبازشریف اورچیف آف آرمی سٹاف جنرل سیدعاصم منیر سندھ کے ان تینوں اضلاع میںپاک فوج کے ذریعے امن دشمنوں کا صفایا کرکے ان علاقوں کو امن کا گہوارہ بنایا جائے۔

  • افغان مہاجرین کی پاکستان بدری،ایک تجزیہ

    افغان مہاجرین کی پاکستان بدری،ایک تجزیہ

    افغان مہاجرین کی پاکستان بدری
    افغان مہاجرین کے پاکستان بدری کے لئے حکومت نے گزشتہ برس کے آخر تک کی ڈیڈ لائن دی تھی تاہم اس ڈیڈ لائن کو بعد ازاں 29 فروری 2024 تک بڑھا دیا گیا تھا، آخری ڈیڈ لائن کے بعد پاکستان میں رہنے والے افغان مہاجرین پر ہر ماہ 100 سے 800 ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جائے گا.

    پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی نے سیکیورٹی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ انہیں ملک بھر میں نقل و حرکت کی آزادی دی گئی ہے ، وہ پاکستان کے تمام شہروں میں اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں اور بغیر کسی سخت نگرانی کے انہوں نے جائیدادیں حاصل کر رکھی ہیں۔ تاہم، یکے بعد دیگرے حکومتیں ان کے انضمام کے انتظام میں جامع منصوبہ بندی پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہیں۔ نتیجتاً، انہوں نے نادانستہ طور پر منشیات اور کلاشنکوف کلچر درآمد کر لیا۔

    13 مارچ 1996 کے اوائل میں، واشنگٹن پوسٹ نے افغان فوجیوں کی خودکار رائفلوں اور بھاری ہتھیاروں کو سرحد پار سے اسمگل کرنے کے واقعات کی اطلاع دی تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے افغانستان سے سوویت فوجیوں کو نکالنے میں پاکستان کی بندوق کی خرابی کو اس کے ملوث ہونے سے منسوب کرتے ہوئے اس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ، اور افغان تنازع سے پیدا ہونے والی مذہبی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان پر بوجھ پڑا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق، افغان سرحد سے صرف پانچ میل کے فاصلے پر واقع لنڈی کوتل میں تین اسلحہ ڈیلرز نے اپنی پوری انوینٹری افغانستان سے حاصل کرنے کا اعتراف کیا، جن کی کچھ نقلیں پشاور سے 25 میل جنوب میں واقع درہ آدم خیل میں مقامی بندوق کی دکانوں سے نکلتی ہیں۔

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان غیر محفوظ سرحد سیکورٹی کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے، جس سے ملک میں دراندازی کے ممکنہ خطرات کا پتہ نہیں چل سکا۔ جس آسانی کے ساتھ لوگ افغان تارکین وطن میں گھل مل سکتے ہیں اور سلیپر سیل کے حملوں کو انجام دے سکتے ہیں وہ سرحدی سلامتی سے نمٹنے کی فوری ضرورت کو واضح کرتا ہے۔

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر نومبر 2023 ،پاکستان کی جانب سے جب تحریک طالبان پاکستان پر پابندی لگائی گئی ،اسکے بعد خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقوں میں سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے،سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 2023 میں دہشت گردی کے 789 واقعات ہوئے جن میں 1,524 ہلاکتوں اور 1,463 زخمیوں کی 6 سال کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی ،”ڈان نیوز”

    پاکستان کے افغان حکومت کے ساتھ مشترکہ سیکورٹی خدشات کے حوالے سے مسلسل رابطے کے باوجود سرحد پار حملوں سے نمٹنے کے لیے ٹھوس کوششوں کا فقدان ہے۔ معاشی مشکلات کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان میں رہائش،پاکستان کی مہمان نوازی کے پیش نظر یہ خاص طور پر پریشان کن ہے۔افغان مہاجرین کی وطن واپسی کو کئی دہائیوں پہلے ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔ اگرچہ اس فیصلے سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں لیکن یہ پاکستان کی طویل مدتی سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

  • ریاست کے اندد ریاست کی وجوہات

    ریاست کے اندد ریاست کی وجوہات

    ریاست کے اندد ریاست کی وجوہات
    از قلم غنی محمود قصوری
    آئے روز سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں نے اتنے بندوں کو اغواء کرنے کے بعد تاوان نا ملنے پر مار دیا ،آجکل بہت زیادہ ویڈیوز آ رہی ہیں جس میں کچے کے ڈاکو مغویوں کو درندوں کی طرح مار پیٹ کرتے ہوئے ان کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہیں جس سے ملک کے اندر عدم اعتمادی اور خوف کی فضاء بڑھ رہی ہے

    یہ کچے کے ڈاکو کوئی نئے نہیں ہیں یہ بہت پرانے ہیں اتنے پرانے کے 1991 میں انہوں نے سندھ سے 3 چینی انجینئرز کو اغواء کیا تھا،یہ پرانے ڈاکو اب اس قدر جدت پسند ہوگئے ہیں کہ اب ان کی جانب سے لوگوں کو اغواء کرنے کی 90 فیصد وارداتیں سوشل میڈیا پرسرانجام دی جاتی ہیں

    سندھ پولیس کے پاس جب سیمی آٹو میٹک کاربن سیمونوف جیسی پرانی گنیں تھیں تب ان ڈاکوؤں کے پاس جدید ترین کلاشنکوفیں تھیں اور آج ان ڈاکوؤں کے پاس ایم فور سے لے کر جدید سنائپر گنز،طیارہ شکن گنز،اینٹی ٹینک راکٹ لانچرز،ہینڈ گرنیڈز اور مائنز تک موجود ہیں، نیز یہ لوگ جدید ترین کمیونیکیشن کا نظام بھی رکھتے ہیں

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ کچے کے علاقے میں فور جی انٹرنیٹ سروس بلا تعطل چلتی ہے اور یہ ڈاکو بڑے آرام سے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے پاکستان بھر سے لوگوں کو سستی چیزیں بیچنے کا لالچ دے کر اپنے علاقوں میں بلاتے ہیں اور پھر انہیں ہنی ٹریپ کرتے ہیں،یعنی پہلے یہ ڈاکو خود جا کر لوگوں کو شاہراہوں،دفتروں، بازاروں،گھروں سے اغواء کیا کرتے تھے اب اس کے برعکس لوگ خود چل کر ان کے پاس اغوا ہونے جاتے ہیں

    بہت سی ایسی وارداتیں بھی دیکھنے کو ملی ہیں جس میں یہ لوگ سستی چیزیں بیچنے کی لوکیشن کسی اور شہر کی ڈالتے ہیں اور پھر وہاں سے لوگوں کو اغواء کر لیتے ہیں جیسے کہ دو ماہ قبل قصور سے دو نوجوان اغواء ہوئے جو کہ مری سے سستی گاڑی کا اشتہار دیکھ کر قصور پہنچے اور پھر وہاں سے اغواء ہو کر کچے کے ڈاکوؤں تک پہنچائے گئے جس سے لگتا ہے کہ کچے کے ڈاکو کچے کے علاقے تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے پاکستان میں اپنا نیٹ ورک بنا چکے ہیں

    کچے کا علاقہ تین صوبوں کے بارڈرز کیساتھ ہے،پنجاب کا ضلع صادق آباد و ذیلی علاقے،سندھ کا ضلع کشمور و ذیلی علاقے اور سندھ سے بلوچستان کی جانب منگھو پیر،نادرن بائی پاس ،گڈاپ کے علاقے ان ڈاکوؤں کی آماجگاہ ہیں

    ماضی میں بھی کبھی سندھ کے علاقے میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ہوئے تو کبھی پنجاب میں مگر کوئی خاطر خواہ نتائج نا نکلے جس کی وجہ ان ڈاکوؤں کی پناہگاہیں ہزاروں ایکڑ جنگلات میں ہونا،اعلی سول و پولیس افسران کیساتھ سیاستدانوں کی پشت پناہی اور کمزور ترین عدالتی نظام کا ہونا ہے

    اب ایک بار پھر سے ان ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری ہے جو کہ بہت اچھی اور خوش آئند بات ہے ،جہاں ان ڈاکوؤں کو ختم کرنا بہت ضروری ہے وہاں وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ ان ڈاکوؤں کو بننے سے روکا جائے،جی بالکل عام انسانوں کو ڈاکو بننے سے روکا جائے

    ہمارے معاشرے میں ظلم وجبرکرکے ڈاکو بنائے جاتے ہیں،جب وڈیرے جاگیردار سرعام عزتوں کو تار تار کریں،سرعام زمینوں پر قبضے کریں اور لوگوں کو کمتر جان کر سرعام رسوا کریں وہ مظلوم اپنی شنوائی کی خاطر تھانے کا رخ کریں جہاں اس وڈیرے جاگیر دار ،سیاست دان ،چوہدری کا حمایتی تھانے دار مزید رسوا کرکے تھانے سے نکال دے،بفرض کوئی تھانے سے انصاف لے بھی لے تو سالوں تک عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر ذلیل و رسوا ہو کربالآخر انصاف بک جائے اورفیصلہ اسی کے خلاف آئے تو وہاں ڈاکو بننا بعض اوقات ضروری ہوتا ہے

    ایک بار کچے کے ایک ڈاکو نے پاکستان کے مشہور صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں انصاف کی امید ہو تو ہم کیوں جنگلوں میں مارے مارے پھریں؟ ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہمارے بچے سکولوں،کالجوں میں پڑھیں،اچھا کمائیں،اچھا کھائیں اور ایک باوقار شہری بنیں،اس ڈاکو نے صحافی سے سوال کیا تھا کہ آپ قسم اٹھا کر بتلائیں کیا یہ سب کچھ معاشرے میں رہتے ہوئے ہم عام آدمیوں کیساتھ ہونے نہیں دیا جاتا قانون کی پشت پناہی میں؟

    یہ ڈاکو بڑے ظالم ہوتے ہیں لوگوں کا مال ناجائز کھاتے ہیں اور ان کی جانوں کو ختم کرتے ہیں جس کی شرعی و قانونی سخت ترین سزا ہے مگر یہ بھی سوچئے کہ جب انہی ڈاکوؤں سے عام آدمی کی صورت میں دوسروں کی جانب سے سخت زیادتی کی جاتی ہے اگر تب ہی کنٹرول کر لیا ہوتا تو آج یقیناً ہر عام انسان کبھی ڈاکو نا بنتا

    جہاں اس معاشرے کا ناسور یہ ڈاکو ہیں وہاں ذات پات کی اونچ نیچ،جاگیرداری کے نشے میں مست ظالم لوگ اور اندھا قانون بھی ڈاکو بناتا ہے
    جہاں ان ڈاکو ؤں کا قلع قمع ضروری ہے وہاں اس نظام کا خاتمہ بھی ضروری ہے،اکثر و بیشتر ظالم کا ظلم سہہ کر اس راہ پر چلنے والے لوگ اپنے اوپر ہوئے ظلم کا بدلہ لینے کی خاطر کمزور لوگوں سے بدلہ لیتے ہیں اور پھر دہشت و شہرت حاصل کرکے انہی لوگوں کی پشت پناہی حاصل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جنہوں نے ماضی میں ان پر ظلم کرکے انہیں مظلوم سے ظالم بنایا ہوتا ہے

    اس وقت گورنمنٹ کو چائیے کہ آپریشن کیساتھ ان سے مذکرات بھی کئے جائیں تاکہ ان کو احساس ہو کہ قانون مارنا ہی نہیں پالنا بھی جانتا ہے
    تاکہ آئندہ کبھی بھی ریاست کوئی چیلنج نہ کرسکے اور "ریاست کے اندد ریاست” بنانے کی کسی کوجراََت نہ ہو اور وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی ہو اورشہری امن وسکون سے بلاخوف اپنی زندگی گذارسکیں.