Baaghi TV

Category: بلاگ

  • طوفان الاقصیٰ اور غزہ میٹرو

    طوفان الاقصیٰ اور غزہ میٹرو

    طوفان الاقصیٰ اور غزہ میٹرو
    از قلم غنی محمود قصوری
    گذشتہ سال 7 اکتوبر 2023 سے ابتک حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ جاری ہے جس میں ہر آنے والے دن کیساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، وزارت صحت غزہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے باعث ابتک اس جنگ میں فلسطینی شہداء کی تعداد 31,553 اور زخمیوں کی تعداد 73,546 ہو گئی ہے جن میں 70 فیصد عورتیں اور بچے شامل ہیں جبکہ 23 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں رہائشی عمارتیں،مساجد،سکول، ہسپتال و دیگر املاک مکمل تباہ ہو چکی ہیں،حماس نے اس جنگ کو طوفان الاقصیٰ کا نام دیا ہے

    اسرائیل اور حماس کے مابین یہ جنگ کوئی پہلی نہیں اس سے پہلے بھی یہ جنگیں ہو چکی ہیں مگر موجودہ جنگ سب سے زیادہ خطرناک ترین ہے
    حماس کا مقصد اسرائیل کا جدید ترین دفاعی نظام آئرن ڈوم تباہ کرنا ہے جو کہ راکٹ شکن دفاعی نظام ہے جو اپنی 300 کلومیٹر کی حدود میں آنے والے مخالف راکٹ وغیرہ کو فضاء میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

    اسے اسرائیلی Advance Defance System Rafael نے 210 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کیا جس کا وزن 90 کلوگرام اور اس کی لمبائی 3 میٹر ہے،اس وقت تقریباً 6 ممالک آئرن ڈوم استعمال کر رہے ہیں مگر اسرائیل میں نصب آئرن ڈوم دنیا کا جدید ترین مانا جاتا ہے کیونکہ یہ 20 سے 45 سیکنڈ تک ریڈار کے ذریعے اپنے مخالف ہدف کو تلاش کرکے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

    ویسے تو اس نظام کو 2005 میں اسرائیل میں تیار کیا گیا تاہم اسے 2007 میں نصب کیا گیا جس کے خاطر خواہ نتائج نا نکلے تو 2012 میں امریکہ کی مدد سے اسے اپ گریڈ کرکے کامیاب ترین قرار دیا گیا ،اسرائیلی ٹیکنالوجی میں آئرن ڈوم کلیدی اہمیت رکھتا ہے

    جس طرح اسرائیل کے دفاع میں آئرن ڈوم کلیدی اہمیت رکھتا ہے بالکل اسی طرح حماس کی سرنگیں حماس کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں اور اسرائیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی سرنگیں ہیں

    اسرائیل کا مقصد ان سرنگوں کو تباہ کرنا ہے اور اسرائیل ان سرنگوں کو غزہ میٹرو کا نام دیتا ہے، 5 ماہ سے زیادہ کی اس جنگ میں اسرائیل ان سرنگوں کا 20 فیصد بھی تباہ نہیں کر سکا،اسرائیلی فوج نے ان سرنگوں کو تباہ کرنے کے لئے بے پناہ فضائی بمباری کی،ٹینکوں کا استعمال کیا اور جدید ترین ڈرونز کے ذریعے ان سرنگوں کا کھوج لگانے کوشش کی اور کچھ پکڑی جانے والی سرنگوں میں سمندر کا پانی داخل کیا تاہم ناکام رہا،

    حماس نے اسرائیلی کے 132 سے زیادہ قیدی انہی سرنگوں میں رکھے ہوئے ہیں جن میں سے 28 ہلاک ہو چکے ہیں

    امریکی فوجی اکیڈمی کے مطابق اس وقت غزہ میں 500 کلومیٹر تک لمبی 1300 جدید ترین سرنگیں موجود ہیں جو کہ 30 میٹر گہری ہیں اور ان کے نیچے مکانات،مساجد اور حماس کے ٹریننگ کیمپوں کے علاوہ اسلحہ ساز فیکٹریاں بھی موجود ہیں،یہ سرنگیں اس قدر جدید ہیں کہ فضاء سے ان کی نشاندہی ممکن نہیں ان کی نشاندہی کیلئے پورے غزہ کی تلاشی ضروری ہے،ان میں سے بیشتر سرنگیں اسرائیل کے اندر تک موجود ہیں ،اگر ہم ان سرنگوں کی جدت کا اندازہ لگائیں تو ذہن نشین کر لیں کہ لندن میں انڈر گراؤنڈ ٹرین سسٹم 400 کلومیٹر لمبا ہے مگر یہ سرنگیں 500 کلومیٹر تک لمبی ہیں

    ایک طرف دنیا کا جدید ترین ایٹمی ملک اسرائیل ہے تو دوسری طرف اس کے مدمقابل 35 سے 40 ہزار حماس کے تربیت یافتہ افراد جن کے بارے اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ 10 ہزار سے زائد حماس جنگجو شہید ہو چکے ہیں مگر دوسری طرف عسکری تجزیہ نگار پوچھتے ہیں کہ اگر اتنی تعداد میں حماس کے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں تو ابتک اسرائیل خاطر خواہ نتائج کیوں نہیں حاصل کر سکا اور ابتک 1200 سے زائد اسرائیلی کیوں مر چکے ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اسرائیلی ڈیفینس فورسز کے پاس نہیں

    گمان ہوتا ہے کہ یہ جنگ لمبا عرصہ چلے گی کیونکہ دونوں طرف ٹیکنالوجی میں جدت ہے، ہاں اسرائیل کے پاس فوجی قوت اور اسلحہ زیادہ ہے مگر اس کے مدمقابل حماس کے مجاہدین بہت کم ہیں مگر حماس کے مجاہدین وہ ہیں جو 2014 کی حماس اسرائیل جنگ میں 18 سال سے کم عمر کے نوجوان تھے اور جنہوں نے اپنے خاندانوں کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں بہت برے طریقے سے شہید ہوتے دیکھا اور اب وہ انتقام کیلئے ہر حد تک جاسکتے ہیں

  • دھاندلی کے الزام، نواز شریف کا دکھ، قومی مسائل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    دھاندلی کے الزام، نواز شریف کا دکھ، قومی مسائل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسلم لیگ (ن) کے اصل میرکاررواں نوازشریف تھے مگر اس کاررواں میں شامل (ن) لیگ کے کسی رہنما کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملک کی عدالت عظمیٰ میں جاکر درخواست دائر کرتا کہ نواشریف کو تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا اس کے اسباب کیا تھے؟ بھٹو کا مقدمہ پیپلزپارٹی لے کر عدالت میں گئی ۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بھٹو کا ٹرائل درست نہیں تھا۔ بھٹو کے عدالتی قتل ، محترمہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف کا تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دینا اس کا نقصان ملک و قوم کو جو ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ نوازشریف نے استحکام پاکستان اور قوم کے سہانے مستقبل کا خواب دے کر بھاری قیمت ادا کی ۔قربانیوں کی اس داستان میں اپنے والدین سے جدائیاں اپنی شریک حیات سے نزع کے عالم میں پابند سلاسل کی کال کو لبیک کہا یہ وہ واقعات ہیں جن کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے اور اس پر ستم یہ ہے کہ اقتدار کے پجاری اقرباء اور رفقاء نے جس تیزی سے پیٹھ دکھائی وہ کہانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے میر کاررواں کی کشتی میں سوار، تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو کشتی میں سوراخ کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پاک فوج اور جملہ اداروں پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے والے غور کریں اگر انتخابات میں دھاندلی ہوتی یا فوج دھاندلی کرتی تو کے پی کے کیا پہنچ سے دور تھی ،وہاں حکومت پی ٹی آئی کی ہے، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی نے نشستیں حاصل کیں اگر پاک فوج اور جملہ ادارے دھاندلی کرتے تو کیا بانی پی ٹی آئی کو اتنی پذیرائی ملتی؟

    سیاست چونکہ ایمانی باتوں سے دور ہے اس لئے شکوک کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ بلاشبہ سابق ادوار میں نظریہ ضرورت کو مدنظر رکھ کر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے رہے لیکن حالیہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی نشستیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ اسٹیبلشمنٹ نے دھاندلی کروائی۔ ملک کے معاشی، سیاسی حالات کے پیش نظر اپوزیشن اگر حکومت کے ہمرکاب ہونا نہیں چاہتی تو قومی مسائل جس میں معیشت اہم ہے رخنہ اندازی نہ کرے اداروں کو متنازعہ بنانے کے عمل سے گریز کیا جائے عوام کی اکثریت مہنگائی ، بیروزگاری اور دیگر مسائل جن کا عوام کو سامنا ہے بیزار ہے۔ اپنا رخ شور شرابے کے بجائے ملک و قوم کی طرف موڑ دیا جائے

  • اسلام خطرے میں

    اسلام خطرے میں

    اسلام خطرے میں

    14 مارچ 2024 کو احسان اللہ ٹیپو محسود، احسان ٹیپو نے ایک ٹویٹ کی ،جس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان کے میئر حمیت اللہ مایار نے مردان میں کے ایف سی ریسٹورنٹ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سٹی لوکل کونسل کے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی قرارداد میں مقامی تاجر برادری کو مردان میں تمام اسرائیلی مصنوعات کی فروخت بند کرنے کی ہدایات کی گئیں،

    میرے ایک دوست نے جواب دیا، "وہ ایسا کر رہا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا نے تقریباً 2 سالوں میں بلدیاتی اداروں کو کوئی فنڈ جاری نہیں کیا۔ ان لوگوں کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔ زیادہ تر، ان کا کردار پرائمری اسکولوں کا "دورہ”ہوتا ہے ،تقرری و تبادلوں کے لئے لڑنا اور نلکے و نالے کو ٹھیک کرنا، انکا یہ کام ہوتا ہے، اگر انہیں اور بہت ساری مقامی حکومتوں کو وعدے کے مطابق وسائل فراہم کیے جاتے تو وہ کام کرتے اور پھر ان کے پاس کے ایف سی پر پابندی کی قراردادیں پاس کرنے کا وقت نہیں ہوگا۔

    کوئی بھی وجہ ہو، پاکستان جیسے انتہائی غیر مستحکم ملک میں کسی بھی طرح سے مذہبی کارڈ کھیلنا انتہائی خطرناک ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں لاہور کے بازار میں میں عربی تحریر والی قمیض پہننے پرخاتون پر تشدد کیا گیا ،لباس پر عربی میں حلوہ لکھا گیا تھا جس کا مطلب خوبصورتی ہے ،

    امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی ابوظہبی میں انور گرگاش ڈپلومیٹک اکیڈمی میں سفارت کار اور واشنگٹن ڈی سی میں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو ہیں، ایک حالیہ مضمون میں انہوں نے اچھرا واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فوراً اپنی بیوی اور بیٹیوں کا خیال آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا لباس پہنتے ہیں جس میں عربی خطاطی کے ڈیزائن ہوتے ہیں، میں اپنے کاروبار کو پاکستان تک بڑھانے بارے سوچ رہا تھا تا ہم کیا میں اس طرح کے حملوں کا خطرہ دیکھ کر اپنی بیوی یا بیٹیوں کے ساتھ لاہور یا کراچی رہ سکتا ہوں؟ (14 مارچ 2024)

    بدقسمتی سے عمران خان ان کی نبض کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے عوام کے سامنے جذبات کو بھڑکانے کے لیے بارہا مذہبی بیانیے کو سامنے لے کر آیا، اس نے اپنی سیاسی جدوجہد کا موازنہ خلفائے راشدین سے کیا تھا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ عمران خان اکثر متضاد بیانات دیتے رہتے ہیں۔ جب کہ اس کے اپنے بچے مغربی ثقافت میں پرتعیش طرز زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس نے خود اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ بھی ادھر گزارا ہے، اور اب وہ اسلامی سماجی، ثقافتی اور سیاسی اقدار کی وکالت کرتا ہے، بدقسمتی سے، وہ سیاسی فائدے کے لیے مذہبی جذبات کا استحصال کرتا ہے، مسلم ریاستوں میں مثبت شراکت کی کمی کے باوجود خود کو مسلم دنیا میں ایک رہنما کے طور پر کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مذہبی اور سیاسی تقسیم پر کھیل کر اس نے ہمارے معاشرے کو پولرائز کر دیا ہے۔

    ہم سب کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اپنے سیاسی فائدے کے لیے ہم اپنے معاشرے کے تانے بانے کو کمزور نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ حکومت کو لوگوں کی ضروریات، معاشی ترقی اور ہمارے معاشرے کو ایک مربوط اکائی میں یکجا کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔

  • ناجائز اوور بلنگ اور مہنگی بجلی, حکومت عملی اقدامات کرے

    ناجائز اوور بلنگ اور مہنگی بجلی, حکومت عملی اقدامات کرے

    ناجائز اوور بلنگ اور مہنگی بجلی, حکومت عملی اقدامات کرے
    تحریر:میاں عدیل اشرف
    پوری دنیا میں جہاں بھی، جس ملک میں بھی ترقی ہو رہی وہاں لوگوں کی زندگیاں آسان ہو رہی ہیں لیکن بد قسمتی سے پاکستان واحد ملک ہے جہاں ظاہری طور پر ترقی تو ہو رہی ہے لیکن لوگوں کی زندگیاں مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہیں۔

    ہر ملک بجلی پیدا کرکے عوام کو سستی بجلی مہیا کر رہا ہے لیکن پاکستان میں آئے روز بجلی مہنگی ہو رہی، ایک طرف لوگوں کو مہنگی بجلی نے پریشان کر رکھا ہے تو دوسری جانب واپڈا ملازمین کی ناجائز اوور بلنگ کی وجہ سے نہ صرف عوام پریشان ہے بلکہ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے کسان بھی بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔

    واپڈا ملازمین جان بوجھ کر لوگوں کے بجلی بلوں میں ناجائز طور پر زائد یونٹ ڈال کر لاکھوں روپے کا بل بھیج دیتے ہیں، جو کسان اور عام عوام بالکل بھی ادا نہیں کر سکتے۔ عام مزدور جس کی یومیہ اجرت اتنی کم ہے کہ وہ گھر کے افراد کا کھانا پورا نہیں کر سکتا ،جب اسے مہینے کا ہزاروں روپے بل آتا تو وہ فاقے کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    اسی طرح کسان جو اپنی بوئی ہوئی فصل کو چار یا پانچ ماہ بعد برداشت کرتے ہیں تو اس کی بچت اتنی زیادہ نہیں ہوتی بلکہ بجلی کے بل اس کی بچت سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسان زرعی زمینوں میں لگے بجلی کے کنیکشن منقطع کروانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    غریب مزدور لوگ اپنے گھروں کے کنیکشن منقطع کروا رہے ہیں لیکن محکمہ واپڈا کے ملازمین کی عیاشیاں عروج پر ہیں، ملک میں بجلی مہنگی ہونے اور پیداوار کم ہونے کے باوجود واپڈا ملازمین کی فری بجلی بند نہیں ہو سکی، انہیں ہر مہینے اربوں روپے کی فری بجلی دی جا رہی جس سے نہ صرف وہ اپنے گھروں میں ہیٹر، گیزر، اور اے سی چلاتے بلکہ دیگر گھروں کو ناجائز طور پر بجلی چوری کر کے فراہم کرتے ہیں اور بدلے میں پیسے وصول کرتے ہیں۔

    بجلی چوری کروانے میں بھی محکمہ واپڈا ملازمین ہی ملوث ہیں ان کے بغیر بجلی چوری ہو ہی نہیں سکتی لیکن حکومت ان ملازمین کی فری بجلی بند کرنے کی بجائے آئے روز عام عوام پر بوجھ ڈال رہی، واپڈا ملازمین چوری کی بجلی چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بجائے وقتی طور پر ان کا کنیکشن کاٹتے ہیں اور دوسرے روز ہی چوروں کا کنیکشن لگا دیتے اور رشوت وصول کرتے ہیں۔ ہر طرف سے عوام کو ہی لوٹا جا رہا ہے اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا جو کہ عام عوام کے ساتھ سخت زیادتی ہے۔

    محکمہ واپڈا کو اگر پرائیویٹ کر دیا جائے اور ملازمین کی فری بجلی ختم کر دی جائے تو ملک میں بجلی چوری بھی کم ہو جائے گی اور پیداوار بھی پوری ہو جائے گی۔ کیونکہ بجلی چوری کروانے میں خود محکمہ واپڈا کےملازمین ہی ملوث ہیں۔

    پاکستان میں سب سے اہم شعبہ جس پر ملک کا دارومدار ہے وہ زراعت ہے، حکومت کو چاہیے کسانوں کو سستی بجلی اور دیگر زرعی اشیاء سستے داموں فراہم کریں لیکن حکومت پاکستان آئے روز اپنی بری پالیسیوں کے ذریعے کسانوں کے لیے مشکلات ہی بڑھا رہی ہے، اس طرح نہ صرف کسانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ رہے ہیں، بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔

    سستی بجلی کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سولر لگاوانا شروع کر رہے ہیں جو کہ موجودہ دور میں تو فائدہ مند نظر آتے ہیں لیکن مستقبل میں اس سولر کی وجہ سے موسمیاتی طور پر نقصان ہو گا،اس لیے گورنمنٹ کو چاہیے کہ محکمہ واپڈا کی نج کاری کر کے ملازمین کی فری بجلی بند کریں۔ جہاں باقی سارے محکموں کے ملازمین بجلی بل ادا کرتے ہیں واپڈا ملازمین بل کیوں نہیں ادا کر سکتے۔

    عام عوام اور کسانوں نے کئی بار ملک گیر احتجاج کیا لیکن ناجائز لاکھوں روپے کی اوور بلنگ کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ حکومت پاکستان اس حوالے سے عملی اقدامات کرے اوور بلنگ کا خاتمہ کر کے صرف استعمال شدہ یونٹ کا ہی بل عوام کو بھجیں۔ تاکہ ہر فرد آسانی سے بجلی کا بل ادا کر سکے۔

    ریاست پاکستان عام مزدوروں کے حالات پر رحم کرے ان کی اجرت سے زیادہ بجلی مہنگی نہ کرے۔

    اور کسانوں کو سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ وہ زرعی اجناس کی زیادہ پیداوار حاصل کریں اور ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے اپنا بہتر کردار ادا کر سکیں۔ سستی بجلی کی فراہمی اور ناجائز اوور بلنگ کا خاتمہ حکومت پاکستان کا عوام پر بہت بڑا احسان ہو گا۔

  • وقت کی پابندی اور مریم نواز کی نئی روایت، تجزیہ: شہزاد قریشی

    وقت کی پابندی اور مریم نواز کی نئی روایت، تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر یورپ عرب ممالک کی ترقی کے راز میں جہاں بہت سے دوسرے عوامل شامل ہیں و ہاں وقت کی پابندی شامل ہے۔ نظام کائنات بھی پابندی وقت کا درس دیتا ہے۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتا ہے ۔ دن رات مقررہ وقت کے پابند ہوتے ہیں۔ چاند سورج کا ایک مقررہ وقت ہے۔ انسان اگر وقت کی پابندی کا عادی نہیں ہوتا تو یہ اس کی نا سمجھی یا نااہلی کے سوا کچھ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں وقت کی پابندی کا حکم دیاہے۔ وقت کی پابندی بیدار قوموں کی نشانی ہے۔ ملک میں حکومتوں کی ناکامی کی ا یک وجہ وقت کی پابندی ہے بالخصوص بیورو کریٹ، سول انتظامیہ ، وقت کی پابندی کرنا شاید اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

    بلاشبہ مریم نواز نے صوبے میں نئی روایت ڈالی ہے۔ صوبائی کابینہ کی اکثریت نئے اور پڑھے لکھے وزراء کی ہے جو قابل تحسین ہے ۔ پنجاب میں گڈ گورننس اور عوامی فلاح ا ورترقیاتی عمل کی بحالی بلاشبہ عوام میں اُمید کی کرن پیدا ہو گئی ہے مگر اس سمت میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مزید اقدامات اٹھانا ہوںگے۔ چیف سیکرٹری ، صوبائی سیکرٹری ، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ، تحصیل آفس میں اسسٹنٹ کمشنر ، تحصیلدار ، پنجاب میں ہر سرکاری محکمے میں کسی بھی دفتر میں عملہ حکومت کا چہرہ ہوتا ہے تمام حکومتی عملہ کو وقت کا پابند بنایا جائے ۔ قومی فریضہ جان کر حکومتی عملہ عام آدمی کے مسائل حل کرے عام آدمی کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ عام آدمی کو غلام سمجھنے کی بجائے خادم بن کر اُن کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردارا دا کرے۔ عوام تک حکومت کی رسائی اور رہنمائی یقینی بنائے تاکہ حقیقی معنوں میں عوامی حکومت اور گڈ گورننس کا عمل نظر آئے ۔

    آج بھی پنجاب میں چیف سیکرٹری کے ماتحت سول انتظامیہ مغلیہ دور کے شہزادوں کے طرز پر زندگی گزار رہی ہے ۔ کسی بھی ضلع میں کمشنر سے لے کر تحصیلدار تک وقت پر دفتر نہیں آتے ،عام آدمی کی رسائی نہ دربار میں اور نہ سرکار میں اگر سول انتظامیہ کا مغلیہ دور کے شہزادوں کا طرز ندگی رہا تو پھر گڈ گورننس ایک سوالیہ نشان رہے گا۔

  • تبصرہ کتب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام

    تبصرہ کتب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام

    نام کتاب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام
    مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    قیمت : 190روپے
    صفحات : 188
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” رمضان المبارک فضائل ، فوائد وثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام “ سے واضح ہے کہ اپنے موضوع پر یہ نہایت ہی مفید، جامع اور رہنما کتاب ہے۔ یہ کتاب دینی کتابوں کے مستند عالمی ادارہ ” دارالسلام انٹر نیشنل کی شائع کردہ ہے ۔ کتاب کے مصنف معروف عالم دین، مفسر قرآن فضیلتہ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ہیں ۔ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے لکھنے کاحق ادا کردیتے ہیں ۔ انھیں اللہ تعالی نے دین و شریعت کے علم کا پختہ رسوخ عطا فرمایا تھا ۔ ایک مصنف کی حیثیت سے ان کے قلم میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہر موضوع کو جہاں کتاب و سنت کے استد لال سے مزین کرتے ہیں ‘ وہاں اس کی پیش کش میں ایک ایسا اسلوب اختیار کرتے ہیں جس میں سلامت ‘ روانی ‘ شگفتگی‘ وضاحت اور تحریر و انشاءکے تمام اوصاف موجود ہوتے ہیں ۔حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی پیش نظر کتاب۔۔۔۔ تین ابواب پر مشتمل ہے ۔

    کتاب میں بتایا گیا کہ ہم رمضان المبارک کااستقبال کیسے کریں ، رمضان المبارک کے خصوصی اعمال وظائف ،صحیح احادیث کی روشنی میں روزوں کی فضیلت وفرضیت ، روزے کے فوائد وثمرات ، روزے کے احکام ومسائل ،روزے کی تعریف ، روزے کے ضروری احکام ، کن کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، قضائے روزہ، اعتکاف ، تروایح ، صدقة الفطر کے مسائل جیسے اہم موضوعات کتاب میں بیان کئے گئے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں روزے کی فرضیت اور اس کے مختصر احکام بیا ن کیے گئے ہیں مگر روزوں کا مکمل نقشہ احادیث کی کتابوں میں پوری تفصیل اور تشریح کے ساتھ موجود ہے جبکہ روزوں سے متعلق تقریباََ تمام صحیح احادیث اس کتاب میں جمع کردی گئی ہیں ۔ جہاں تک رمضان المبارک کی عبادات اور فضائل و برکات کا تعلق ہے اس پر درجنوں صحیح احادیث پیش کی جاتی ہیں مگر رسول ﷺ کا یہ فرمان کہ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے ‘ اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ‘ یہ ایک عظیم خوشخبری اور بشارت ہے ‘ جس سے محرومی کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ لیکن یہاں ایک بات پر خصوصی توجہ رہنی چاہیے کہ اتنے بڑے انعام کا استحقاق صرف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب رمضان المبارک کے روزے مسنون طریقہ پر رکھے جائیں اور ایمان و احتساب کی شرائط کو پورا کیا جائے‘ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔؟ اس مقصد کیلئے دارالسلام کی یہ کتاب اہل ایمان کے لئے لاجواب اور نہایت ہی عمدہ پیشکش ہے ۔

    دارالسلام انٹر نیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں مجھے یقین ہے کہ اس مختصر کتاب کے مطالعے سے ہر مسلمان رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کر سکتا ہے، اس مقدس مہینے کے تمام شرعی اور مسنوں احکامات کو جان سکتا ہے ۔ اس کتاب میں جہاں روزے کے احکام و مسائل کو واضح کیاگیا ہے وہاں قیام الیل ( تراویح ) ‘ لیلتہ القدر ‘ اعتکاف اور صدقہ الفطر کے حوالے سے بھی کافی اور شافی مواد پیش کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب درحقیقت اہل ایمان کے لئے دارالسلام کی طرف سے رمضان المبارک کے مہینہ میں خصوصی سوغات اور تحفہ خاص ہے ۔ یہ کتاب دیکھنے میں اگر چہ مختصر ہے لیکن اختصار کے باوجود اس میں اتنی جامعیت ہے کہ ا س میں تمام ضروری اور اہم مسائل بیان کردیے گئے ہیں۔ کتاب میں احادیث ِ صحیحہ کی روشنی میں روزوں کی فضیلت کی تفصیل موجود ہے ۔اسی طرح کتاب میں رمضان المبارک سے متعلق بعض مشہور مگر ضعیف احادیث کی وضاحت بھی موجود ہے ۔ روزے کے فوائد و ثمرات کا تذکرہ ہے ‘ یعنی تقویٰ کیا ہے جو روزوں سے انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے ؟ روزوں سے تقویٰ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟ اور تقویٰ سے کیا فوائد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں ؟ قیام الیل یعنی نماز تراویح کے مسائل اور اس کی تعداد کی تحقیق بھی کتاب میں شامل ہے جو قابل مطالعہ ہے ۔ اعتکاف کے مسائل اور لیلتہ القدر کے فضائل کی وضاحت بھی کتاب میں شامل ہے ۔ اس اعتبار سے یہ کتاب بلا شبہ ” بقامت کہتربہ قیمت “ کے مصداق اور اس لائق ہے کہ ہر مسلمان اس کا مطالعہ کرے اور رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے اپنا دامن بھرنے اور رحمت و مغفرت الٰہی کا مستحق بننے کی کوشش کرے ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • آصف علی زرداری، پاکستان کے 14ویں صدر

    آصف علی زرداری، پاکستان کے 14ویں صدر

    آصف علی زرداری، پاکستان کے 14ویں صدر
    آصف علی زرداری کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ دوسری بار پاکستان کے صدر منتخب ہوئے ہیں، انہوں نے 255 ووٹ لئے اور 68 سال کی عمر میں کامیابی حاصل کی، جب کہ ان کے مدمقابل امیدوار 75 سالہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 119 ووٹ ملے۔

    آصف زرداری کو کافی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، تحریک انصاف نے پارلیمانی کارروائی میں خلل ڈالنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے، جس سے پاکستان کی پہلے سے مخدوش معاشی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔پاکستان ایک نازک معاشی صورتحال سے دوچار ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قوم اپنے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے پارلیمانی غنڈہ گردی کو برداشت کر سکتی ہے؟

    آصف زرداری کے لیے ایک اہم کام عمران خان اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ قانون سازوں کو فعال موقف اپنانے پر آمادہ کرنا ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ حالات کے پیش نظر وہ یکساں کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ آصف زرداری کے بارے میں کسی کی ذاتی رائے سے قطع نظر، وہ اقتدار میں رہنے والوں کو مختلف تجاویز کے ساتھ تعاون کے فوائد کو تسلیم کرنے پر قائل کرنے کی منفرد صلاحیت کے مالک ہیں۔آصف زرداری کو حکومت کے لئے ضروری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔آصف زرداری کو غیر معمولی ڈیل میکر مانا جاتا ہے، آصف زرداری کو ہنگامہ خیز وقت میں حکومت کو ساتھ رکھنے کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

    جہاں شہباز شریف نے اپنے 16 ماہ کے دور میں مدبرانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا، وہیں سیاسی منظر نامے میں تحریک انصاف کی شمولیت نئی حرکیات پیش کرتی ہے۔ اس ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے کو آگے بڑھانے اور پاکستان کی عظیم تر بھلائی کے لیے مسابقتی دھڑوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں آصف زرداری کی قیادت اہم ہوگی۔

  • سردار کی آمد مرحبا

    سردار کی آمد مرحبا

    سردار کی آمد مرحبا
    از قلم غنی محمود قصوری
    سردار لفظ عربی کا ہے جس کے معنی قائد،امیر اور حاکم کے ہیں،سردار وہ ہوتا ہے جو بڑا اور اعلی ظرف ہوتا ہے اور جس میں ایثار و قربانی دینے کا جذبہ زیادہ ہو اور جو اپنے ماتحتوں کی حفاظت کرنا جانتا ہو ،ایسا سمجھیں کہ جب کوئی عام شحض لڑنے کی ٹریننگ کرکے واپس آتا ہے تو وہ لڑنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اپنی باقی زندگی خود کی اور دوسروں کی حفاظت کے قابل ہو جاتا ہے تو وہ سردار ہوتا ہے اور محافظ ہوتا ہے

    اس جہان میں ہر چیز کا سردار ہے سو اسی لئے مہینوں کا بھی سردار مہینہ ماہ رمضان ہے اور ماہ رمضان کی آمد بالکل قریب تر ہے،یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم بھوکے پیاسے رہ کر اور عبادات میں پختگی حاصل کرکے باقی سارا سال حالات سے لڑنے کے قابل ہو کر اپنے رب سے سرٹیفکیٹ حاصل کرتے ہیں کہ یاالہی ہماری عبادات اور صبر سب آپ ہی کے لئے ہے ہم آپکی رضا کی خاطر جہاں بھوکے پیاسے رہ سکتے ہیں وہاں فرضی عبادات کیساتھ نفلی عبادات بھی کرنے کی توفیق مانگتے ہیں،

    اس ماہ مبارک کی بہت زیادہ حرمت ہے جس بابت سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اُتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ

    اللہ تعالی نے ہمیں بتلا دیا کہ یہ ماہ مبارک ہمارے لئے گناہوں سے بچنے اور اجر و بلند مقام حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور ہم اس ماہ کی مشقت سے ایک مضبوط اور پکے مومن بن سکتے ہیں اور بھوک و پیاس کی برداشت کی گئی سختیاں ہمیں احساس دلاتی ہے کہ رب نے کس قدر نعمتیں ہمارے لئے پیدا کی ہیں اور ان نعمتوں کو کمزور لوگوں میں بانٹا جائے تاکہ ہمارے اندر ایثار و قربانی کا جذبہ پروان چڑھے

    ویسے تو سارا سال ہی ہر اچھے کام پہ نیکی ملتی ہے مگر اس ماہ میں نیکیوں کے اجر میں انتہاء کا اضافہ ہو جاتا ہے مگر روزے دار کی فضیلت اور روزے کے اجر بارے حدیث رسول ہے کہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل دوگنا ہو تا ہے نیکی کا اجر دس سے لیکر سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے

    اللہ عزّوجل نے فرمایا روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا اجر دوں گا کیونکہ اس میں میرا بندہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اسکے افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت اسکے منہ کی بو اللہ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے

    ہمیں چائیے کہ اس ماہ مقدس میں روزے رکھنے کے ساتھ عبادات میں پختگی حاصل کریں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائیں تاکہ ہمارے سال کے باقی ماہ رمضان جیسے گزریں اور بعد از مرگ ہم اپنے رب سے اس کے وعدے کے مطابق انعام حاصل کریں،اس ماہ مقدس میں خود بھی روزہ رکھیں اور اپنے ارگرد کے غرباء کو بھی سحری و افطاری میں شامل کریں اور لوگوں میں راشن پیک تقیسم کریں کیونکہ جو کسی کو روزہ رکھواتا یا افطار کرواتا ہے اسے بھی اس کے برابر اجر دیا جاتا ہے اور اس روزہ دار کے اجر میں سے کوئی کٹوتی نہیں کی جاتی

    نیز ماہ مبارک کی برکت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ایک ندا دینے والا پکارتا ہے اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا، اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے

    تو ہمیں چائیے اس ماہ مقدس میں اپنے رب کو زیادہ سے زیادہ منا کر اپنے اوپر جنت کے دروازے کھولیں اور جہنم کے دروازے بند کروا لیں
    اللہ تعالی ہم سب کو اس ماہ مقدس کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین

  • نواز  شریف  کی مقبولیت آٹے کے تھیلے پر فوٹو کی محتاج نہیں ، تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت آٹے کے تھیلے پر فوٹو کی محتاج نہیں ، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)
    نواز شریف محسن پاکستان ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے میں کردار ادا کیا تووہ میاں محمد نواز شریف ہی ہیں۔ موٹر ویز ،میٹرو بسیں اور رینج ٹرین۔ مضبوط دفاعی نظام ۔ تعلیم صحت میں منصوبہ بندی ، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی سے نجات سمیت صنعتی اور معاشی ترقی کے اقدامات اگر دھرنا کلچر سازسوں کے ذریعے نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ نہ کیا جاتا تو سی پیک کی تکمیل کے بل بوتے پر ملک کی تقدیر کچھ اور ہوتی ۔ غربت افلاس بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے اندھیرے چھٹ چکے ہوتے۔ بلاشبہ مریم نوازاپنے والد کی طرح پنجاب میں عوام کی فلاح اور معاشی استحکام کاشروع کر چکی ہیں۔

    لیکن صد افسوس کہ رمضان پیکج کے تحت تقسیم ہونے والی آٹے کی تھیلوں پر میا ں محمد نواز شریف کی تصویر لگا کر محسن پاکستان نواز شریف جنہوں نے ایٹمی دھماکے کئے ان کی بے توقیری کی جا رہی ہے نواز شریف کی مقبولیت آٹے کے تھیلے پر فوٹو کی محتاج نہیں ہے۔ نہ نواز شریف کا وژن ایسی سستی شہرت ہے نہ نواز شریف کا قد کاٹھ اتنا چھوٹا ہے کہ اُن کو اس طرح کے حربوں کے ذریعے عوام کی فلاح کے منصوبوں پر ذاتی تشہیر کا سہارا لینا پڑے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نواز شریف کی پنجاب میں سرگرم ٹیم ہوش کے ناخن لیں چاپلوس بیورو کریٹس کے خوشامدی حربوں سے چوکنا رہنا ہوگا۔ یہی بیورو کریسی تھی جنہوں نے تقرریوں اور تبادلوں میں کروڑوں روپے کھائے خوشامدی حربوں کے ذریعے میاں محمد نواز شریف کی بے لوث خدمت انتھک مخلصانہ کوششوں کو ٹھیس پہنچانے کے درپے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ان خوشامدی ٹولے سے بچ کررہنا ہوگا۔
    Nawaz sharif

  • انتخابات، دھاندلی کا شور اور جمہوریت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    انتخابات، دھاندلی کا شور اور جمہوریت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات سے متعلق کہا ہے کہ ہمارا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں ۔ سیکورٹی دینے کے سوا۔ بلاشبہ فوج کا کام سیکورٹی کی فراہمی تھی ۔ عوام کو بھی الزام لگانے والوں سے سوال کرنا چاہیئے کہ فوج جو سیکورٹی پر مامور تھی اُس نے جعلی ووٹ ڈالنے میں اپنا کردار ادا کیا ؟ پھر سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں پر یلغار کیسی ؟ الیکشن کروانا ،الیکشن کمیشن کا کام ہے ۔ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اگر الیکشن کمیشن ملک میں آزادانہ ، منصفانہ الیکشن نہیں کروا سکتا تھا اس پر سوالیہ نشان ہے ؟ فوج اورجملہ ادواروں پر نہیں۔ تاہم سیاستدانوں میں ابھی تک اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ کہ ان کی نظر میں حقیقی جمہوریت کیا ہے؟ جمہوریت نہیں۔ اور یہ مغالطہ مدت سے چلاآرہا ہے آج سے نہیں ؟ 1977 کے الیکشن میں دھاندلی کا شور۔ 2018 دھاندلی کا شور ۔ آج ایک بار پھر یعنی 2024 دھاندلی کا شور۔ کے پی کے میں عین اسلامی اصولوں کے مطابق الیکشن جبکہ باقی صوبوں میں غیر اسلامی اصولوں کے مطابق الیکشن ۔

    ملکی سیاسی جماعتیں یاد رکھیں شور شرابے ، دھرنوں ، غل غپاڑے ، سینہ کوبی سے ملکی معیشت مستحکم نہیں ہو گی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ ملکی معیشت مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ضد ، انا ، ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر بھرپور توجہ ملکی معیشت اور عوام کے بنیادی مسائل پر دیں۔

    فی زمانہ عالمی سیاست بھی معیشت کے گرد گھومتی ہے۔ اس لئے اپنے وسائل اور معیشت پر توجہ دیں۔ گلے پھاڑ کر نعرے لگانے سے نہ معیشت مستحکم ہوگی اور نہ ہی آسمان سے من و سلوا اُترے گا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس عوام اور اس ملک پر رحم کریں۔ نواز شریف ایک مدبر زیرک سیاستدان ہیں وہ مسلم لیگ (ن) بطور سیاسی جماعت کی مقبولیت میں اضافے اور مستبل کے لئے جو کردار ادا کررہے ہین وہ (ن) لیگ کے لئے بطور سیاسی جماعت قابل ستائش ہے ورنہ اس جماعت کے چند لوگوں کا ایسا کردار ہے جنہوں نے جن کے کردار سے بدبو آنے لگی ہے ۔ا ن چند کرداروں کی وجہ سے مسلم لیگ(ں) مقبول نہیں غیر مقبول ہوئی ہے۔اسی طرح جیسے کہاں بھٹو کی پیپلزپارٹی اور کہاں آج کی پیپلزپارٹی ۔۔۔۔ایک بھٹو کے اور نواز شریف کا تھا؟