Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ایک بہترین معاشرے کی تکمیل بغیر بہترین تعلیمی نظام کے بغیر ناممکن ہے ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور جتنا زور اسلام میں تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے پہ دیا گیا ہے اتنا کسی اور مذہب میں نہیں

    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ بھی ان الفاظ سے تھی

    اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ1 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ2 اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ3 الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ4 عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ5 (العلق)

    (اے پیغمبر) پڑھ اپنے رب کے نام سے ( آغاز کرتے ہوئے) پڑھ جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ،پڑھ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا

    آپ دنیا میں نظر دوڑائیں تو آپکو وہی قوم ترقی یافتہ ملے گی جس کا تعلیمی نظام اچھا ہے وگرنہ بغیر تعلیمی ترقی کے قومیں ترقی پذیر ہی رہی ہیں جب تعلیمی نظام اچھا ہو گا تو صحت مند معاشرہ تکمیل پائے گا اوردیگر شعبہ زندگی میں خدمات سرانجام دینے والے لوگ باعمل اور محنتی ہونگے

    اس وقت دنیا بھر کے تمام ممالک میں سے خواندگی کے لحاظ سے برطانیہ پہلے امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان اس وقت 79 ویں نمبر پہ ہے

    پاکستان میں شرع خواندگی 62 فیصد ہے جو کہ انتہائی کم درجہ پہ ہے مذید ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے جی ڈی پی کا محض 1.7 فیصد تعلیم پہ خرچ کرتے ہیں جو کہ بہت ہی کم تر ہے

    پاکستان میں اس وقت خواندگی کی شرح 62.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس میں مردوں کی شرح 73.4 فیصد جبکہ خواتین کی 51.9 فیصد ہے
    ہمارے ہاں سکول نہ جانے والے بچے 32 فیصد ہیں جن میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ تعداد میں تعلیم سے محروم ہیں جو کہ سب سے بڑا المیہ ہے
    جبکہ سکول نا جانے والے بچوں کی شرح بلوچستان میں 47 فیصد ،سندھ میں 44 فیصد، خیبرپختونخوا میں 32 فیصد اور پنجاب میں 24 فیصد ہے
    ہمارے ہاں جہاں غربت و مہنگائی،بیروزگاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہیں ہمارا پرانا فرسودہ نظام تعلیم بھی ہے
    ہمارے ہاں کلاس اول کا بچہ صبح اٹھتے ہی سپارہ پڑھنے پھر 8 بجے سکول اور سکول سے واپس آتے ہی ٹیوشن میں مگن رہتا ہے جسے کھیلنے کودنے کا موقع بلکل نہیں ملتا اور اسے اپنی جسمانی و دماغی صحت کو اچھا کرنے کا موقع نہیں ملتا جس کے باعث بیشتر بچے بیمار رہتے ہیں اور تعلیم سے بھاگتے ہیں
    ہونا تو یہ چائیے کہ بطور مسلمان ملک جسطرح سکول و کالجز میں بچوں کی پڑھائی لازم ہے ایسے ہی صبح فجر کے بعد بچے کو مسجد میں ایک مستند قاری قرآن سے سپارہ پڑھنے کیساتھ نماز پڑھنے کا بھی پابند کیا جائے اور پھر سکول وقت میں اسی بچے کو لازمی طور پہ کم سے کم 30 سے 45 منٹ تک جسمانی کھیل کود کا موقع دیا جائے تاکہ اس کی جسمانی و دماغی صحت اچھی رہے اور وہ تعلیم کو تفریح سمجھ کر حاصل کرے
    مگر افسوس کہ ہمارے ہاں سب الٹ سسٹم چل رہا ہے بچوں کو رٹا لگوا لگوا کر پڑھایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ اتنے نمبر لازمی لینے ہیں چاہے جو مرضی کرو

    ہم ساری زندگی میٹرک تک بچوں کو وہ مضامین پڑھاتے ہیں کہ میٹرک کرنے کے بعد جن سے ہمارا پوری زندگی واسطہ ہی نہیں پڑتا
    جیسے کہ ریاضی کی جمع تفریق نفی کے علاوہ جو کچھ سکھلایا جاتا ہے میرا نہیں خیال کے زیادہ تر وہ ہماری زندگی کا حصہ بنا ہو
    مطلب بےمقصد پڑھائی پہ ہم اپنا سارا ٹائم لگا دیتے ہیں

    پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی خاطر میٹرک تک یکساں تعلیمی نظام ہونا چائیے جس میں میٹرک تک تعلیم کا سارا خرچ گورنمنٹ برداشت کرے
    جنرل سائنس ( آرٹسٹ) گروپ ختم کرکے میٹرک تک سائنس لازمی قرار دی جائے جس میں بچے کو اول کلاس سے میٹرک تک دین اسلام کیساتھ اپنی صحت بارے زیادہ سے زیادہ تعلیم دی جائے
    کلاس اول سے میٹرک تک کے نصاب میں فرسٹ ایڈ،تیراکی،نشانہ بازی،سیلف ڈیفنس،زراعت،الیکٹرک و آٹو مکینک جیسے مضامین شامل کئے جائیں تاکہ ایک بچہ اپنے بچپن سے نوجوانی تک میٹرک کا طالب علم پہنچتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے استعمال کی ہر چیز کی ابتدائی مہارت رکھتا ہو
    اس کے بعد اگر اس بچے کا دل آگے پڑھنے کو کرے تو اس کو اپنی مرضی کا شعبہ چننے کا مکمل اختیار دیا جائے بلکہ ماہر نفیسات سے اس کا سیشن کروا کر اس کا ذہن پڑھ کر اسے اس کے پسندیدہ شعبے میں تعلیم کا پورا موقع دیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو باپ اسے وکیل بنانا چاہتا ہے مگر ماں اسے پائلٹ بننے کا عندیہ دیتی ہے تو اس ساری صورتحال اور ماں باپ کی خواہشات میں وہ بچہ ذہنی کشیدگی کا شکار ہو کر تعلیم سے دور ہو جاتا ہے بجائے کچھ بننے کے وہ اس معاشرے پہ بوجھ بن جاتا ہے
    ہمارے ہاں سب سے بڑی خرابی بچوں کو سکولوں میں سہولیات نا دینا ہے جیسے کہ گرمی میں بچے بغیر پنکھے کے پڑھتی ہیں اور سردی میں سرد ہوا کا مقابلہ کرتے ان کا ذہن پڑھائی کی بجائے موسم سے زور آزمائی میں ہوتا ہے اگر سکولوں میں زیادہ چھٹیوں کی بجائے موسم کے مطابق سہولیات جیسے اے سی و پنکھے وغیرہ دی جائیں تو بچے پڑھائی میں زیادہ توجہ دیں گے
    ہمارے ہاں اشرافیہ کیلئے آئے روز نئی سے نئی ٹیکنالوجی بیرون ممالک سے لا کر دی جاتی ہے حتی کہ ایک آفیسر کیلئے اس کی چھتری پکڑنے والا الگ ملازم دیا جاتا ہے مگر سکولوں میں سہولیات نہیں جس کے باعث اس پرانے فرسودہ نظام تعلیم سے کافی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا
    اگر ملک کو شاہراہِ ترقی پہ ڈالنا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کرنا ہو گا

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی وژنری ترجیحات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی وژنری ترجیحات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی وژنری ترجیحات
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفٰے بڈانی
    پنجاب میں مسلم لیگ(ن)کی حکومت بن چکی ہے اور واضح اکثریت سے مریم نواز شریف وزیراعلی منتخب ہونے کے بعد عوامی مشکلات کیلئے متحرک ہوگئی ہیں،عوام اور صوبے کی ترقی کیلئے ان کی ترجیحات عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے ،صحت اورتعلیم کے ساتھ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے جو حکمت عملی طے کی گئی ہے، اس سے پنجاب میں خوشحالی کے سنہری دورکاآغاز ہوچکاہے ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے وزارت اعلیٰ کاحلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے بڑے اقدام،نگہبان رمضان پیکیج کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے جس میںمستحقین کو راشن بیگ گھر کی دہلیزپرملیں گے، نگہبان رمضان پیکج کیلئے 10کلو آٹے کے تھیلے پرسابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی تصویر کا لوگو بنایاگیاہے۔پروگرام نگہبان کے تحت رجسٹرڈ گھرانوں کو رمضان راشن بیگ دیے جائیں گے، پنجاب بھر سے 70 لاکھ خاندان رمضان راشن بیگ سے مستفید ہونگے۔

    اس کے علاوہ ویراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے غریب عوام کیلئے شمسی توانائی کے منصوبے کااعلان کیا ہے جس سے عوام کو بجلی کے زیادہ بلوں سے نجات ملے گی اور صنعتکاروں،تاجروں اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور سرخ فیتے کے خاتمے کیلئے ون ونڈو منصوبے کا اعلان خوش آئند ہے۔

    نومنتخب وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف بڑی محنت اور جانفشانی کیساتھ ہنگامی بنیاد وں پر عوام کو گذشتہ سالہاسال سے درپیش اہم مسائل مہنگائی سمیت دیگر عوامی فلاحی ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ تعلیم وصحت کے علاوہ پڑھے لکھے بیروزگارنوجوانوں کیلئے بہتر حکمت عملی سے تعلیم کیساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کئے جائینگے تاکہ تعلیم کے حصول کے بعد انہیں بیروزگاری کو سامنانہ کرناپڑے،پنجاب میں عوام دوست حکمت عملی اور قائدانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر سابقہ حکومتوں کی بہ نسبت بہتر ریلیف محسوس کرینگے، جبکہ عوام کودرپیش اہم مسئلہ بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ کو بھی کافی حد تک کنٹرول کرکے خصوصی ریلیف دیاجائے گا جس سے عوام کی مشکلات میں کمی واقع ہوگی۔

    اس کے علاوہ نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ لاہور میں پاکستان کا پہلا جدید ترین کینسر کا سرکاری ہسپتال بنایا جائے گا،کینسر ہسپتال سٹیٹ آف دی آرٹ ہوگا جہاں تمام مریضوں کا بلاتفریق مفت علاج ہوگا

    نومنتخب وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں پارٹی منشور پر عمل درآمد کا اعلان کرتے ہوئے صوبے کے عوام کے لیے بے تحاشا فلاحی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ان کی تقریر کے اہم نکات جس میں انہوں نے کہا کہ جن مخالفین نے ہم پر ظلم کے پہاڑتوڑے ان سے انتقام نہیں لوں گی،یہ ایوان جمہوریت کے اصولوں پر کاربند رہے گا،اپوزیشن کے لیے میرے آفس، دل اور چیمبر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں،رمضان کے لیے نگہبان کے نام سے ریلیف پیکیج بنایا ہے جو مستحق افراد کو گھر کی دہلیز پر ملے گا،رمضان میں سستے بازار بھی قائم کیے جائیں گے،عوا م کو قطاروں میں کھڑا دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے،

    انہوں نے کہا کہ پارلیمانی میٹنگ میں کہہ چکی ہوں کہ کرپشن پر میری زیرو ٹالیرنس ہے،پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس آج سے شروع ہوں گے۔مسلم لیگ (ن) کی وزیراعلی نہیں پنجاب کے 12کروڑ عوام کی وزیراعلی ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میرے سامنے آج ہر وہ ماں اور بچہ ہے جو غذائی کمی شکار ہیں،آج میرے سامنے کسان ہے جس کی محنت سے معیشت چلتی ہے،آج میرے سامنے سڑک کنارے کھڑے بے روزگار مزدور ہیں،میرے سامنے بے روزگار نوجوان اور یتیم بچے ہیں جو ریاست کی ذمے داری تھے،عوام کے مسائل کو سامنے رکھ کر ایجنڈا ترتیب دیا ہے، آج سے عمل شروع ہوگا،حلف اٹھانے کے بعد سے منشور پر عمل درآمد شروع ہوگا۔میرا وژن ہے کہ پنجاب کو بزنس حب بنائیں،حکومت کا کام کاروبار نہیں پالیسی بنانا اور کاروبار کرنے والوں کو اچھا ماحول دینا ہے،چاہتی ہوں ایسا نظام لائوں جس سے کاروباری افراد کو سہولتیں ملیں،کوشش ہے کہ عوام سے رابطے کے لیے ہیلپ لائنز کھلی ہوں،

    ہر پروجیکٹ پر عوامی فیڈ بیک اور تجاویز سنوں گی،60 ہزار روپے سے کم آمدنی والے مستحقین ہیں، ان کی مدد ہم پر فرض ہے،ابھی ہمارے پاس تمام مستحقین کا ڈیٹا نہیں، ڈیٹا فراہم کرنے کا کہا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا کہناتھا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور ٹیلیٹس دیں گے،نوجوانوں اور طلبہ کے لیے انٹرن شپ پروگرام لائیں گے،پولیس اور دیگر اداروں کو کہا کہ انٹرن شپ پروگرام بڑھائیں،محدود وسائل میں کچھ بچوں کو دنیا کی معروف یونیورسٹیوں میں تعلیم دلائیں گے،وزیراعلی ہائوس اور دفاتر کے دروازے طلبہ کے لیے کھلے ہوں گے،میرا خواب ہے کہ پنجاب کا میرا کوئی بچہ سکول سے باہر نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ چاہتی ہوں بچوں کو سکول میں اچھا ماحول اور تعلیم ملے،طلبہ اور نوجوانوں کو الیکٹرک موٹر بائیکس دیں گے،پبلک پرائیویٹ پارنٹر شپ میں سکولوں کو اساتذہ اور وسائل فراہم کریں گے،ٹیچرز ٹریننگ پروگرام شروع کریں گے، نئے اساتذہ بھی شامل کریں گے،بھٹے میں کام کرنے والے مزدور بچوں کے تعلیمی وظائف بحال کریں گے۔

    ان کا کہناتھا کہ چاہتی ہوں کہ ہر ضلع میں ایک دانش سکول ضرور ہو،سرکاری سکولوں کا نصاب بہتر کرنے کی ضرورت ہے،سکلز ڈویلپمنٹ کی اپ گریڈیشن پر بھی خصوصی توجہ ہوگی،وقت پر تشخیص ہو تو بہت سارے خصوصی بچے معذوری سے بچ سکتے ہیں،پنجاب کے ہر ضلع میں خصوصی بچوں کو تعلیم، علاج اور ٹرانسپورٹ فراہم کریں گے،ہر شہر میں اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال بنائیں گے تاکہ کوئی علاج کے لیے دوسرے شہر نہ جائے،سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں آج سے مفت ادویات دینا شروع کریں گے،بنیادی صحت مراکز میں ڈاکٹرز کی موجودگی یقینی بنائی جائے گی۔

    بہت سارے واقعات میں لوگ بروقت ہسپتال نہ پہنچنے سے جاں بحق یا معذور ہو جاتے ہیں، بہت جلد ایئر ایمبولینس سروس شروع کریں گے،موٹروے پر جلد ایمبولینس سروس سسٹم شروع کریں گے،بیماری کی بروقت اسکریننگ ہو تو علاج آسان ہوجاتا ہے، آبادی کی اسکریننگ کریں گے۔

    نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا کہناتھاکہ ہیلتھ کارڈ کرپشن کا شکار ہوا، ری ڈیزائننگ کرکے دوبارہ لے کر آئیں گے،زچہ بچہ کے لیے سہولیات کی فراہمی پوری توجہ ہوگی،خواتین کے لیے بہتر اور محفوظ پنجاب بنانا چاہتی ہوں،خواتین کے لیے مختص ہیلپ لائن بنائیں گے،چاہتی ہوں لڑکیوں کو بھی موٹر بائیکس اور اسکوٹی ملے،کسی خاتون کو ہراساں کرنا میری ریڈ لائن ہے۔

    وزریراعلی پنجاب نے کہا کہ اقلتیں ہمارے سروں کا تاج ہیں، ان کے لیے محفوظ پنجاب اور پاکستان دیکھنا چاہتی ہوں،ٹرانسجیڈرز کو جلد عزت والا روزگار فراہم کریں گے،چاہتی ہوں ہر یونین کونسل میں ایک گرائونڈ ہو جہاں بچے کھیل سکیں،بچوں کے لیے کھیلتا پنجاب کا پروگرام شروع کریں گے،وژن ہے کہ ڈیجیٹل پنجاب بنائیں تاکہ انتظار اور قطاروں سے جان چھڑائیں،پاسپورٹ سمیت 43 بنیادی خدمات کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کاکہناتھا کہ پہلے مرحلے میں 10 بنیادی خدمات گھروں کی دہلیز پر پہنچائیں گے،وژن ہے کہ 5 سال بعد کوئی ایسی سڑک نہ ہو جو خراب ہو،شہباز شریف کے پکی سڑکیں منصوبے کو آگے لے کر جائیں گے،تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں میٹروبس منصوبے شروع کریں گے،جنوبی پنجاب پر میری خصوصی توجہ ہوگی،پولیس کا رسپانس ٹائم 20 منٹ سے بھی کم کریں گے

    انہوں نے کہاکہ چاہتی ہوں کہ پورے پنجاب میں مساوی ترقی ہو،الیکٹرک بسوں کے لیے چارجنگ پوائنٹس پلان کر رہے ہیں،محفوظ پنجاب میرا خواب ہے، سیف سٹی بننے کے بعد لاہور میں 20 فیصد جرائم کم ہوئے،ایسا سیف سٹی سسٹم لائیں گے جس سے ٹریفک مینجمنٹ بھی آسان ہو،تھانہ کلچر بہتر بنائیں گے، خود تھانے کا دورہ کروں گی، ماڈل ویمن پولیس اسٹیشن بنائیں گے،جیل میں طبی سہولتوں کی فراہمی بھی ترجیح ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ زرعی مشینری رعایتی نرخ پر فراہم کریں گے،زراعت میں زیادہ توجہ چھوٹے کسان پر ہوگی،کسان کو جو مشینری چاہیے پنجاب حکومت اس کے لیے ون ونڈو آپریشن شروع کرے گی،کسان کو بہتر بیج اور کھاد فراہم کریں گے،
    لائیو اسٹاک کے لیے خصوصی پیکیج لا رہے ہیں، لوگوں کو مویشی فراہم کریں گے جہاں ضرورت ہوئی مفت دیں گے۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کہا کہ آسان قسطوں پر 300 یونٹ سے کم والے بجلی صارفین کو سولر سسٹم دیں گے،بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے ٹیمیں بٹھا دی ہیں، کوشش کریں گے کہ عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دیا جا سکے،اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے،صاف ستھرا پنجاب اسکیم کے تحت اضلاع کے درمیان مقابلے کا رجحان پیدا کیا جائے گا،آلودگی سے نجات کے لیے ٹیمیں بٹھا دی ہیں،اوورسیز پاکستانیوں کے لیے زمین کے کاغذات وغیرہ کے لیے سسٹم بنائیں گے،ہم 5 سال بعد آپ کو بہتر پنجاب دے کر جائیں گے

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ چاہتی ہوں کہ میڈیا کی سیفٹی، سیکیورٹی، ہیلتھ انشورنس اور میڈیا ورکرز کے بچوں کی کفالت ہوسکے،ایک ماہ کا وقت دیا ہے کہ مجھے کہیں بھی کچرا یا غلاظت کا ڈھیر نظر نہ آئے،وعدہ کرتی ہوں کہ محنت اور توجہ عوام پر وقف ہوگی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اپنے پہلے خطاب میں اپنی حکومت کی جو ترجیحات واضح کی ہیں اس سے مریم نوازشریف کی قیادت میں پنجاب صحیح معنوں میں ترقی کی روشن منزلوں پر رواں ہوجائیگا اور عوام مشکلات کے سابقہ ادوار کو بھول جائیں گے اورمریم نوازشریف کا نام بطوروزیراعلیٰ پنجاب تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوجائے گا !

  • اوچ شریف:اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی

    اوچ شریف:اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں،جو قومیں اپنی ثقافت، تہذیب کو بھلا دیتی ہیں وہ تاریخ سے ہی مٹ جاتی ہیں

    ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ قبیلہ کے عامل صحافی ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی بلوچ ،شمس خان رند بلوچ ،اجمل خان بلوچ، ساجد خان بلوچ ،مجتہد رضوی ۔حفیظ خان بلوچ، آمنہ نذر بلوچ کا بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معاشرتی نا ہمواریوں کے خاتمے کے لئے قوموں کا اتحاد نا گزیر ہو چکا ہے ۔

    انہوں نے بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر بلوچی پگڑ ی پہن کے ثقافتی ریت بحال رکھی۔ان کا مزید بلوچ قبیلہ کے تعارف میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچ کے لفظی معنی”بلند تاج”کے ہیں ۔ بلوچ نسلاََ عرب ہیں تاہم بلوچ کو مختلف ادوار میں مختلف قوموں نے بعل، بلوص، بلوس ، بلوث اور بلوچ لکھا ۔ اہل بابل اپنے قومی دیوتا کوبعل یعنی عظیم کہا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں لفظ بلوچ فارسی سے مشہور ہوا۔

    انہوں نے کلچر ڈے کے موقع پر پوری بلوچ قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی اور اب وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچ قوم اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے اتحاد قائم کریں اور اپنے کلچر کو فروغ دیں۔

  • پاکستان کی گورننس مضبوط بنانے کی ضرورت،پالیسی بدلنی ہو گی

    پاکستان کی گورننس مضبوط بنانے کی ضرورت،پالیسی بدلنی ہو گی

    مختلف ڈومینز میں کسی ملک کے مستقبل کے لائحہ عمل کو ترتیب دینے کے لیے پالیسی کی منصوبہ بندی سب سے اہم ہے۔ اس میں ترقیاتی ترجیحات، خارجہ تعلقات، مہارت کی ترقی کے اقدامات اور اقتصادی حکمت عملی شامل ہیں۔ ان منصوبوں کو سیاسی قیادت میں تبدیلیوں کے باوجود مستقل رہنا چاہیے جو کہ قلیل مدتی سیاسی خواہشات کی بجائے اسٹریٹجک دور اندیشی پر مبنی ہوں۔

    اگرچہ اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا دائرہ وسیع ہے، مربوط پالیسیوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے تین اہم شعبوں کا جائزہ لیتے ہیں، سب سے پہلے اور اہم بات، خارجہ پالیسی ایک فعال نقطہ نظر کی متقاضی ہے۔ جن ممالک میں عالمی حرکیات کو تبدیل کرنے کا علم ہے، ماہرین اور تجزیہ کاروں کے ساتھ مشاورت معمول کی بات ہے، جس کے نتیجے میں جامع حکمت عملی تشکیل دی جاتی ہے۔ حالیہ عالمی واقعات جیسے یوکرین پر روس کے حملے اور غزہ میں جاری بحران، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تصفیہ کے امکانات پر ایک اہم نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ تاہم، پاکستان میں، خارجہ پالیسیاں اکثر غیر متوقع طور پر، عارضی سیاسی حکام کے جھکاؤ کے تابع ہوتی ہیں۔اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات نے عالمی تجارتی شراکت داری اور علاقائی استحکام پر زور دیتے ہوئے، فوجی مداخلت پر سفارت کاری اور تجارتی اقدامات کو ترجیح دینے کے لیے اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد کو دوبارہ ترتیب دیا ہے۔

    دوم، مہارت کی ترقی، ایک اہم تشویش کے طور پرسامنے آئی ہے، مؤثر پالیسیوں کو قابل رسائی پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کو یقینی بنانا چاہیے، جو افراد کو ایسی ڈگریوں سے دور رکھیں جو محدود یا کوئی روزگار کے امکانات پیش نہیں کرتے ۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ پیچیدہ بات چیت میں شامل ہونا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قلیل مدتی، درمیانی مدت اور طویل مدتی حکمت عملیوں کی تشکیل میں سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

    سوم، بین الاقوامی مالیاتی ذمہ داریوں پر عمل کرتے ہوئے آمدنی بڑھانے والی پالیسیاں وضع کرنے کے لیے متنوع کاروباری اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران ملکی قرضوں میں اضافہ جامع معاشی حکمت عملیوں کی فوری ضرورت کو واضح کرتا ہے۔مستحکم حل تیار کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں ماہرین اقتصادیات کو شامل کرنا ضروری ہے۔

    یہ واضح ہے کہ پاکستان عوامیت پسندی کو سمجھدار طرز حکمرانی پر ترجیح دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے اسٹریٹجک دور اندیشی اور جامع پالیسی سازی کے عمل کو اپنانا ناگزیر ہے۔

  • ملکی ترقی کا راستہ،ذاتی نہیں عوامی مفادات،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی ترقی کا راستہ،ذاتی نہیں عوامی مفادات،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں ن لیگ ، سندھ پیپلزپارٹی، کے پی کے پی ٹی آئی اور وفاق میں مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے، کوئی بھی سیاسی جماعت سچا پیار نہ ملنے کا گلہ نہیں کر سکتی، اب پارلیمانی سیاست کے پلیٹ فارم یعنی اسمبلیوں میں عوام کے حقو ق کا دفاع کیا جائے، دھرنوں غل غپاڑے، دھینگا مشتی کے ذریعے وطن عزیز اور جمہوری روایات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے، وطن عزیز اور عوام کو بحرانوں سے نکالنے کا وقت آ گیا ہے، غیر سنجیدہ رویوں سے اجتناب کیا جائے ،قومیں کبھی دو عملی اور دو رخی پالیسی سے سرخرو نہیں ہوتیں،اپنے وسائل پر توجہ دیں، کشکول پکڑے ہم کب تک عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے قطار بنائے کھڑے رہیں گے؟ بین الاقوامی مالیاتی ادارے وطن عزیز کو اپنی انگلیوں پر کس اطمینان سے نچاتے ہیں ،اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے ،واحد حل یہی ہے کہ ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کیلئے ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہوگا، وطن عزیز کی ترقی کا واحد راستہ یہی ہے کہ سیاسی قیادتیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائیں، الزام تراشیوں کی سیاست سے نکل کر پاکستان کو بطور ریاست مستحکم کرنےاور عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں، وطن عزیز اور عوام کے مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا،سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے،

    ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے،کہاں غلطیاں ہیں ہم آج تک عالمی مالیاتی اداروں کے مقروض کیوں ہیں؟ ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے کیوں نہیں،ہم آج تک بجلی اور گیس کے بحران سے دوچار ہیں کیوں؟ عوام کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے،اب وقت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر پاکستان اور عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں باقی سب راستے غلط ہیں۔

  • لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر،ڈاکٹر صغریٰ صدف کا یوم پیدائش

    لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر،ڈاکٹر صغریٰ صدف کا یوم پیدائش

    لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر
    وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا

    ڈاکٹر صغری صدف
    28 فروری 1963: تاریخ پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر صغریٰ صدف صاحبہ ایک ہمہ جہت اور فعال ادبی شخصیت ہیں۔ اردو اور پنجابی زبان میں شاعری اور افسانہ نگاری کرتی ہیں جبکہ پاکستان کے مشہور اخبار ’جنگ‘ میں سماجی، سیاسی، لسانی اور صوفیانہ موضوعات پر کالم لکھتی ہیں۔ فلسفہ، سماجیات اور اردو میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے کئے ہیں۔ وہ 28 فروری 1963 میں ضلع گجرات پاکستان کی تحصیل کھاریاں کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے خاندان خواہ برداری میں لڑکیوں کو پڑھانا معیوب سمجھا جاتا تھا مگر ڈاکٹر صاحبہ کے والد صاحب جو کہ تعلیمی لحاظ سے مڈل پاس تھے انہوں نے اپنی بیٹی صغرا کی خواہش پر اعلی تعلیم دلوائی ۔ ڈاکٹر صاحبہ کا اصل نام صغری ہے قلمی نام صغرا صدف ہے ۔ صدف کا تخلص انہوں نے چھٹی جماعت میں اختیار کیا اس وقت انہیں صدف کے معنی بھی معلوم نہ تھا۔ شاعری میں ڈاکٹر شاہین مفتی صاحبہ سے انہوں نے رہنمائی حاصل کی ۔ وہ اپنی شاعری کو ” دل کی واردات” قرار دیتی ہیں ۔

    ڈاکٹر صاحبہ نے صوفی شاعر میاں محمد بخش پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تصنیف کیا ہے۔ پنجاب انسٹیٹوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی سماجی اور علمی اداروں اور تنظیموں کی رکن ہیں۔ پی ٹی وی کے لئے کئی پروگراموں کے اسکرپٹ لکھ اور پیش کر چکی ہیں ۔ ان کی اب تک شائع ہونے والی کتابوں میں : ’میں کیوں مانوں ہار‘ ’وعدہ‘ ’مورکھ من‘۔ ’جدا ہیں چاہتیں اپنی‘ ۔ ’مائے میں کنوں آنکھاں‘ (شعری مجموعے ) ’قلم‘ ’نقطہ‘ ’استغراق‘ (کالموں کے مجموعے) ’فیض کا عمرانی فلسفہ‘ اور ’میاں محمد بخش‘ ’فلاسفی آف ڈوائن لو‘(تحقیق اور تنقید) اس کے علاوہ چھ کتابیں انگریزی اور پنجابی سے اردو تراجم کی اور پنجابی میں افسانوں کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ علامہ اقبال ٹاون لاہور میں مستقل طور منتقل ہو چکی ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مدتوں جس سے ملاقات نہ تھی
    جب وہ آیا تو کوئی بات نہ تھی

    دل بھی کچھ سرد ہوا جاتا ہے
    مجھ میں بھی شدت جذبات نہ تھی

    وہ کہ سمجھا ہی نہیں نظروں کو
    میری آنکھوں میں کوئی رات نہ تھی

    کیسے ممکن تھا کہ ہوتی مجھ کو
    میری قسمت میں اگر مات نہ تھی

    میں کہ کھوئی رہی اپنے من میں
    میرے رستے میں مری ذات نہ تھی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے
    طوفاں کے بعد کوئی کنارا ملے مجھے

    جیون میں حادثوں کی ہی تکرار کیوں رہے
    لمحہ کوئی خوشی کا دوبارہ ملے مجھے

    بن چاہے میری راہ میں کیوں آ رہے ہیں لوگ
    جو چاہتی ہوں میں وہ نظارا ملے مجھے

    سارے جہاں کی روشنی کب مانگتی ہوں میں
    بس میری زندگی کا ستارا ملے مجھے

    دنیا میں کون ہے جو صدفؔ سکھ سمیٹ لے
    دیکھا جسے بھی درد کا مارا ملے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دکھ اپنا چھپانے میں ذرا وقت لگے گا
    اب اس کو بھلانے میں ذرا وقت لگے گا

    تو نے جو پکارا تو پلٹ آؤں گی واپس
    ہاں لوٹ کے آنے میں ذرا وقت لگے گا

    لکھا تھا بڑے چاؤ سے جس نام کو دل پر
    وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا

    دیتا ہے کسی اور کو ترجیح وہ مجھ پر
    اس کو یہ جتانے میں ذرا وقت لگے گا

    جس شاخ پہ پھل پھول نہیں آئے ہیں اب تک
    وہ شاخ جھکانے میں ذرا وقت لگے گا

    سب رنج و الم ملنے چلے آئے ہیں مجھ سے
    محفل کو سجانے میں ذرا وقت لگے گا

    میں دیکھ بھی سکتی ہوں کسی اور کو تجھ سنگ
    یہ درد کمانے میں ذرا وقت لگے گا

    جو آگ صدفؔ ہجر نے ہے دل میں لگائی
    وہ آگ بجھانے میں ذرا وقت لگے گا

  • غزہ،عالمی عدالت انصاف اور حکمرانوں کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ،عالمی عدالت انصاف اور حکمرانوں کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت کے تابوت میں کیل ٹھونک رہی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں سماعت جاری ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک اس عالمی عدالت میں اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ امریکی صدر بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کی پالیسی نے امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات بائیڈن کی دوبارہ کامیابی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ میں جنگ مخالف غصہ ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہائوس واپسی کا اشارہ دے رہا ہے۔

    غزہ کی تازہ ترین صورتحال کو دیکھتے ہوئے ذرا چند ثانیوں کے لئے رک جایئے اگر آپ باپ بھی ہیں تو تھوڑا تصور کیجئے کہ جیتے جاگتے بچوں میں اور اس معصوم میں کیا فرق ہے سبھی کے دو ہاتھ ،دو پائوں، دو آنکھیں. ایک جیسے مگر غزہ میں اس پھول کو کھلنے کی اجازت نہیں۔ سوال نیتن یاہو اور امریکی صدر بائیڈن سے ہے کیا ان بچوں کا قصور یہ ہے کہ فلسطین میں پیدا ہوئے ہیں؟ تم سب اہل کتاب ہو یہ ساری کائنات اور یہ سارے گورکھ دھندے اور نظام ارض و سما کسی دیوانے، (نعوذ باللہ) کا کھیل بھی نہیں ہے اور نہ کسی جادو گر کی ساحری کا امتیاز، بلکہ یہ مالک ارض و سما کے حکم کا ایک ادنیٰ سا نمونہ اور شاہکار ہے ۔ادھر کن کہا اور ادھر ہو گیا۔ اس کی طاقت آج بھی وہی ہے اس کا دائرہ اختیار بھی لامحدود ہے اور اس کے سامنے ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹے سے چھوٹی چیز بھی اسی طرح اس کے حکم کی محتاج ہے جس طرح روز آفرینش کو تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے معاملات جدا جدا ہیں کبھی کوئی عروج پر ہے اور کبھی کوئی۔ دنیا بھر کے وہ حکمران جو ضمیر فروش ہیں،

    فطرت الٰہی کے سرکشو، دولت کے پجاریو تمہیں نوشتہ دیوار نظر نہیں آتا۔ تم سے پہلوں کا کیا حشر ہوا؟ ذرا ڈھونڈو کہاں ہیں وہ سارے۔ اس عالم فانی سے ایک دن کوچ کرنا ہے خدا کی زمین پر قتل و غارت اور فساد پھیلا کر تم کس منہ سے روز محشر میں خدا کا سامنا کرو گے۔ ملکی اہل سیاست سے، سیاستدانوں کے طاقتور حلقوں سے، یہ پاکستان کی زمین خدا پاک کی ملکیت ہے، دھرنوں، غل غپاڑے، دھینگا مشتی، سوشل میڈیا پر خیال پروروں کے ذریعے وطن عزیز کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے وطن عزیز کی اپنے گھر کی طرح حفاظت کی جائے۔ غیر سنجیدہ رویوں سے اجتناب کیا جائے۔ دنیا کے حالات دیکھ کر ہوش کیا جائے۔

  • آہ . ظفر صدیقی بھی چل بسے،کچھ یادیں، کچھ باتیں

    آہ . ظفر صدیقی بھی چل بسے،کچھ یادیں، کچھ باتیں

    یہ مضمون ٹیلی بز پروڈکشن کے معروف سی ای او، سی این بی سی پاکستان کے چیئرمین، سماء ٹی وی کے بانی، کے پی ایم جی کے جنوبی ایشیا کے نائب صدر کے بارے میں نہیں بلکہ یہ ان کامیابیوں کے پیچھے آدمی کے جوہر کو تلاش کرتا ہے۔ آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا جن میں میری والدہ ایک تھیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جس نے 25 سال کی عمر میں اپنے کزن کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 35 سال تک وہ ایک کمپنی کا سربراہ بن جائے گا اور 45 سال تک وہ ایک کمپنی کا مالک ہو گا۔

    ظفر صدیقی کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا شوخ انداز لباس تھا، جو رنگوں سے مزین تھا جسے بہت کم لوگ اپنے مزاج کے ساتھ لے جا سکتے تھے۔ اس کی مسکراہٹ، زندگی کے لیے اس کے جذبے، خطرات مول لینے کی خواہش اور زندگی کے بے شمار تجربات سے لطف اندوز ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔

    بچپن سے ہی وہ شرارتی تھے،وہ چیلنجز قبول کرتے تھے اور اپنے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے تھے، وہ یوکے میں چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے لئے گئے تو انہوں نے اپنی پوری توجہ ڈگری حاصل کرنے رکھی، انہوں نے اپنے اہداف حاصل کیے، اپنی پیشہ ورانہ کامیابی سے آگے اس میں ایک غیر معمولی خوبی تھی۔ اس نے اپنی بیوی، خاندان، بہن بھائیوں اور ان کے بچوں کے لیے محبت اور حمایت کی چھتری بڑھا دی۔ اس نے واپسی کی توقع کے بغیر غیر متزلزل دیکھ بھال، اخلاقی مدد اور مالی مدد کی پیشکش کی۔

    جس چیز نے اسے سب سے ممتاز کیا وہ تھا اس کا وقت بانٹنے کی سخاوت تھی، نو سال سے زیادہ عرصے تک میرے شوہر کے کھونے کے بعد، ہم تقریباً روزانہ بات چیت کرتے رہے۔ وہ میرا بااعتماد، میری طاقت کا ستون بن گیا۔ ان کے حسن سلوک بہت گہرے تھے، لاہور میں میری بیٹی کی سالگرہ پر پھول بھیجنے سے لے کر جب وہ دبئی میں رہتے تھے تو نقد تحائف تک، ان کی بے پناہ سخاوت کی عکاسی کرتا تھا۔
    1985 میں، وہ بیرون ملک سے دو شاندار برانڈڈ ہینڈ بیگ واپس لائے، ایک اپنی بیوی کے لیے اور ایک میرے لیے۔ جب میں انتخاب کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا تھا، تو اس نے اصرار کیا کہ میں دونوں کو لے لوں،یہ اس کی بے لوثی کی مثال دے رہی ہوں

    ہر کزن اپنے ساتھ پیاری یادیں رکھتا ہے، ہر ایک کا احساس منفرد طور پر پیار کرتا ہے، پھر بھی یہ سب اس کے بے پناہ دل اور خاندان سے عقیدت کا ثبوت ہے۔
    اب جب ہم اسے الوداع کہہ رہے ہیں، کینسر کی وجہ سے وہ بہت جلد چلا گیا "اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا فرمائے” کے جذبات مسکراہٹ لاتے ہیں۔ وہ نہیں تو اور کون؟ وہ ایک ایسا آدمی تھا جس نے خدا کی تخلیق کی قدر کی۔
    میں نے اپنا گلاس سلامی میں اٹھایا،ایک ہی سطر میں، اس کی زندگی کا خلاصہ اس طرح کیا جا سکتا ہے: "اس نے زندگی گزاری۔”

  • ملکی حالات اور اقتدار کی جنگ، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملکی حالات اور اقتدار کی جنگ، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملک کے حالات دن بدن ابتر ہوتے جارہے ہیں،اقتدار اور اختیارات کی جنگ ہمیں کہاں لے جائیگی یہ کہنا قبل از وقت ہے،تاہم سیاستدانوں کی اکثریت ایسی ہے،جنہوں نے جمہوریت کے نام پر ملک وقوم سے کھلواڑ کیا،آج پاکستان اور قوم جن مسائل سے گزر رہی ہے اس کے ذمہ دار بھی سیاستدان ہی ہیں اس وقت ملک میں سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہے،دوسری جانب سوشل میڈیا، وی لاگرز،یوٹیوبزر نے وہ ہنگامہ کھڑا کیا ہے کہ خدا کی پناہ ،ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے،جس ملک میں سیاستدان ایک دوسرے کو غدار اور عالمی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیں-

    کیا وہاں جمہوریت ، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رہ سکتی ہے وہاں عوام کیسے خوشحال ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں ،جمہوریت کے دعویداروں سے سوال ہے، پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایک قومی لیڈر کے خلاف جو نعرے بازی کی گئی کیا جمہوری اصول اس کی اجازت دیتے ہیں؟بلاشبہ نواز شریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں لیکن ایک جمہوریت کے دعویدار جماعت کے چہیتوں نے جس زبان میں اور کلمات میں پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں نواز شریف کے خلاف نعرے بازی کی ہے وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ قابل نفرت بھی ہے، یہ وہی نواز شریف ہیں جنہوں نے اس ملک کودفاعی لحاظ سے مضبوط کیا ایٹمی طاقت دیکر نہ صرف دشمن کو منہ توڑ جوب دیا بلکہ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا،لیکن اس ملک کی سیاست کی ستم ظریفی دیکھیں اسی نواز شریف کو کبھی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی –

    نوازشریف 1985 ء سے پاکستان کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں،ملک کی خوشحالی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا،سی پیک جیسے میگا منصوبے دئیے، شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی سابقہ حکومت بنائی گئی جس میں پیپلزپارٹی برابر کی شریک تھی،اس نے نواز شریف جیسے مدبر سیاستدان کی شہرت کو بھی داغدار کردیا،نواز شریف پاکستان ہی نہیں اس خطے کے تجربہ کار سیاسی لیڈر ہی-

    افسوس کہ ہم نےاپنے سیاسی لیڈروں کی قدر نہیں کی جس کا خمیازہ آج ملک وقوم دونوں بھگت رہے ہیں-جس طرح نواز شریف کے خلاف لندن سے لے کر پنجاب اسمبلی تک نعرے بازی کی گئی ،یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک پلان کے تحت قوم کوسیاسی یتیم بنا یا جا رہاہے،جس طرح ان کے خلاف کیا جا رہا ہے ،وہ ہرگز مناسب نہیں، شہباز شریف سمیت مسلم لیگ ن کے وہ افراد جنہیں صرف اقتدار میں رہنے کا شوق ہے وہ اپنے قائد کا دفاع کریں،جن حالات کاعوام کو سامنا ہے ، افق پر گہرے بادل دکھائی دے رہے ہیں کیسے لکھوں کہ ان گھنگور اور تاریک گھٹائوں کے حاشیے پر سنہری کرن دکھائی دے رہی ہے جو تابناک سحرکی نوید دیتی ہے ہرگز نہیں۔

  • تبصرہ کتب، مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں
    مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور
    قیمت : پاکٹ سائز 190روپے ، میڈیم سائز 250روپے ،لارج سائز 390روپے
    برائے رابطہ : 024-37324034
    رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ رمضان المبارک میں فرضی نماز ہو یا نوافل یا روزمرہ کی دعائیں ان کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے تاہم اسکے لئے ضروری ہے کہ انسان یہ سب عبادات مسنون طریقے کے مطابق بجا لائے ۔ عبادات میں سے نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے ۔ حدیث کی رو سے یہ دین کا ستون اور معراج کا عظیم تحفہ ہے ، روزِ قیامت سب سے پہلے نماز ہی کی پرشس ہوگی ، لہٰذا نماز کی حفاظت کے پیش نظر دارالسلام انٹر نیشنل نے زیر نظر کتاب ” مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں “ شائع کی ہے ۔ یہ کتاب مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی تالیف ہے ۔ محترم حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کا نام علمی دینی حلقوں کے لئے محتاج تعارف نہیں ہے ۔ وہ جید عالم دین، محقق، مفسر ، اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر ، وفاقی شرعی عدالت کے جج اور کتب کثیرہ کے مصنف تھے ۔اردو کے علاوہ دیگر کئی زبانوں میں بھی ان کی کتابوں کے تراجم شائع ہوچکے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ” مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں “ کے عنوان سے حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی مختصر مگر بہت جامع کتاب ہے جس میں نماز کے احکام کے علاوہ طہارت اور وضو کے مسائل ، نیز مسنون اذکار اور دعائیں بھی شامل کی گئیں ہیں ۔ یہ بات خلاصہ کلام کی حیثیت رکھتی ہے کہ نماز ہی مسلم و غیر مسلم کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے ۔ اسی لیے ہر مسلمان پرلازم ہے کہ وہ نماز پابندی سے اور مسنون طریقے سے ادا کرے ۔ زیر نظر کتاب ” مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں “ اس مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے ۔ کتاب میں غیر ضروری اور پیچیدہ مباحث سے پرہیز کیا گیا ہے ۔یہ بات بلا خوف تردید کی جاسکتی ہے کہ نماز کے متعلق کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو اس کتاب میں بیان نہ کیا گیا ہو ۔ کتاب کے معنوی حسن کے ساتھ ساتھ اس کے ظاہری حسن کو خوبصورت کتابت نے چار چاند لگا دیے ہیں ۔ الحمد اللہ ، ان خوبیوں نے اس کتاب کو نماز کے موضوع پر لکھی گئی تمام کتب میں منفرد بنا دیا ہے ۔ کتاب میں نماز کے طریقہ نبوی کے علاوہ نماز پنجگانہ یعنی پانچ فرض نمازوں اور دیگر نمازوں کی تفصیل، ان کے ضروری احکام و مسائل اور روز مرہ کی دعائیں شامل ہیں ۔

    کتاب کی چند امتیازی خصوصیات درج ذیل ہیں :
    کتاب میں صرف صحیح احادیث سے استدلال کیا گیا ہے ۔ تفصیل کی بجائے اختصار سے کام لیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ بعض جگہ حوالوں کے بغیر بھی بہت سے مسائل بیان کیے گئے ہیں لیکن ایسا صرف اختصار کے پیش نظر کیا گیا ہے ورنہ کوئی مسئلہ بے دلیل نہیں ہے ۔ اکثر جگہوں پر حوالے موجود ہیں اور وہ مکمل شکل میں ہیں یعنی کتاب ، باب او ر حدیث نمبر تاکہ دلیل اور حوالہ کا متلاشی آسانی سے اصل کتاب تک رسائی حاصل کرسکے ۔ نماز اور دعاﺅں کا ترجمہ لفظی کیا گیا ہے تاکہ ہر لفظ کا ترجمہ سمجھ میں آجائے ۔ نماز اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے لیکن بد قسمتی سے اس سے بے اعتنائی بھی عام ہے ۔ اکثر لوگ تو اس فریضے سے بالکل ہی غافل ہیں او ر جو نمازی ہیں وہ بھی نماز میں تعدیل ارکان اور خشوع خضوع کا قطعاََ اہتمام نہیں کرتے ۔ اس لیے نماز کی حقیقت سے وہ بھی بے خبر اور اس کے فوائد سے یکسر محروم ہیں ۔ حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کامیابی کی نوید انہی اہل ایمان کے لیے بیان کی ہے جو اپنی نمازوں میں خشوع کا اہتمام کرتے ہیں ۔ نماز میں خشوع اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک سنت نبوی کے مطابق نماز نہ پڑھی جائے ۔ اس کتاب میں نماز کا طریقہ اس کے دیگر احکام و مسائل ، سب سنت رسول ﷺ ہی کی روشنی میں بیان کئے گئے ہیں ۔ رمضان المبارک کی آمد سے قبل اس کتاب کا مطالعہ تمام مردو خواتین ، بچوں بزرگوں کےلئے بے حد مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات