Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عمران خان کی آئی ایم ایف سے خط و کتابت،حل یا دشمنی؟

    عمران خان کی آئی ایم ایف سے خط و کتابت،حل یا دشمنی؟

    اڈیالہ جیل میں سائفر،توشہ خانہ اور دوران عدت نکاح کیس کی سزا کاٹنے والے سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر آئی ایم ایف سے رجوع کیا ہے ،ایسا تیسری بار ہوا ہے کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا،پہلے 2014 کے دھرنے کے دوران اور پھر 2022 میں عمران خان کی حکومت کی تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف سے پی ٹی آئی نے رجوع کیا تھا،عمران خان خان بار بار آئی ایم ایف سے اس وقت رجوع کرتے ہیں جب وہ خود کو نقصان میں محسوس کرتے ہیں،اور وہ اپنے فائدے کے لئے قوم کے مفادات کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    نسیم زہرہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے خط و کتابت پر ،پاکستان کی انتخابی سیاست میں آئی ایم ایف کو گھیرنے کی کوشش پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ایسا اقدام نہ صرف بے بنیاد اور غیر پیشہ ورانہ ہے بلکہ آئی ایم ایف کے مینڈیٹ سے بھی باہر ہے مزید یہ کہ، یہ پاکستان کو نمایاں طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے، ملک کی سنگین مالی اور اقتصادی حالت کے پیش نظر فوری طور پر درکار مالی امداد میں تاخیر ہو سکتی ہے

    امریکی فرموں کے ساتھ تحریک انصاف کا کام 2001 سے چل رہا ہے جب ایک امریکی لابنگ فرم، ایل جی ایس ایل ایل سی جس کی قیادت اسٹیفن پینے کر رہی تھی، 2024 میں، فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان (FDP) کے فیاض قریشی نے واشنگٹن ڈی سی میں پی ٹی آئی کی ہدایت پر مبینہ طو ر پر اسی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں، یہ اقدام پاکستان کو فنڈز کو "انسانی حقوق کے مسائل” سے جوڑنے کی کوششوں کے الزامات کے درمیان سامنے آیا ہے، جو انہیں بالواسطہ طور پر پی ٹی آئی کے ایجنڈے سے جوڑتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ لابنگ فرم کے ساتھ حالیہ معاہد اس وقت ہوا جب عمران خان نے امریکی حکومت کے خلاف امریکی سفارت کار ڈونلڈ لو اور جنرل باجوہ کی مبینہ سازشوں کے ذریعے اپنی حکومت کو گرانے کے الزامات لگائے۔

    پاکستان کے ممتاز ماہر سیاسیات اور تجزیہ کار فرخ سلیم نے 22 فروری 2024 کو اپنی ٹویٹ میں عمران خان کی آئی ایم ایف کے ساتھ خط و کتابت کے حوالے سے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی ہے۔ کرنسی، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو ممکنہ نقصان، اس نے عمران خان کے کسی بھی قیمت پر اقتدار کے حصول کے بارے میں بھی خطرے کی گھنٹی بجائی،

    عمران خان کے اقدامات سے ان کی قیادت اور پاکستان کے استحکام اور بین الاقوامی تعلقات پر اس کے اثرات کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ کسی کے حقوق کی وکالت کرنا قابل ستائش ہے، عمران خان کی ذاتی اور قومی مفادات میں فرق کرنے میں ناکامی ملک کی فلاح کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔عمران خان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذاتی عزائم اور محاذ آرائی سے بالاتر ہو کر پاکستان کی بھلائی کو ترجیح دیں۔

  • انتقامی سیاست کا باب بند کرنا ضروری، تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتقامی سیاست کا باب بند کرنا ضروری، تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ کہانی آج کی نہیں کئی سال پہلے کی ہے انتخابات میں دھاندلی قوم کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے، سینٹ کے اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی، سینیٹر مشاہد حسین نے بھی اس کا اظہار کیا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب سیاسی قائدین ہی دے سکتے ہیں،اقتدار اور اختیارات کے سوداگر اس میں خود ملوث ہیں، سینیٹر عرفان صدیقی نے 2018ء اور اب 2024ء میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا ذکر کیا اور کے پی کے انتخابات کا بھی ذکر کیونکہ ایک جماعت پی ٹی آئی دھاندلی زدہ انتخابات تو قرار دیتی ہے مگر کے پی کے انتخابات کو شفاف قرار دیتی ہے، تاہم خدا نہ کرے قوم انتشار کی سیاست کے راستوں پر چل کر ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جائے جو پہلے ہی معیشت اور دیگر معاشرتی مسائل کی وجہ سے گرداب میں ہے،تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی جس میں چین بھی شامل ہے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اسلامی جمہوریہ میں عدم استحکام نہیں دیکھنا چاہتے،اب چونکہ مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں جاری انتشار کو روکنے کے لئے اپوزیشن سے انتقامی سیاست کو دفن کر کے اس ملک اور عوام کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں کیوںکہ سیاست میں تشدد ہٹلر کا مذہب تھا، ہٹلر اور ہلاکو خان کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے اسلامی راستوں کا انتخاب کیا جائے،

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف ایک زیرک سیاستدان ہیں جو کچھ مسلم لیگ ن کے ساتھ بطور جماعت کیا گیا وہ ایک الگ ہی داستان ہے لیکن یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سیاست میں اقتدار کے لئے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے نوازشریف نام کے بھی شریف ہیں اور ایک شریف انسان بھی ہیں،نوازشریف نے موجودہ وقت میں جب ملک و قوم معیشت کی وجہ سے انتہائی نازک اور تکلیف دہ حالات سے گزر رہے ہیں ملک میں جاری نفرت کی فضا کو کم کرنے کے لئے جو کردار ایک بار پھر ادا کیا اور برداشت کیا وہ قابل تحسین ہے تاہم ملکی سیاست میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے تاج و تخت کے حصول کی خاطر بادشاہ اپنے باپ بیٹوں اور بھائیوں تک کا خیال نہیں کرتے، مریم نوازشریف چونکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ بننے جا رہی ہیں ،انہیں پنجاب میں گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا،خوشامدی ٹولے سے بچنا ہوگا قوموں کو مایوس کرنے والے کو تاریخ کے صفحات جگہ نہیں دیتے اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر عام آدمی کے لئے ترقی کا سفر شروع کریں۔

  • لیڈر شپ کا فقدان،مسائل کی اصل وجہ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    لیڈر شپ کا فقدان،مسائل کی اصل وجہ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    فوج اور عدلیہ دنیا میں کسی بھی ریاست کے حتمی ستون ہوتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں ان دونوں اداروں کا ہر معاملہ کو لے کر بے دریغ استعمال ریاست کو کمزر کرنے کے مترادف ہے ۔ ان دو اہم ریاستی اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا ، جلسے ، جلوسوں میں موضوع بحث بنا کر عالمی دنیاکو ہم اپنے ملک کا کیسا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ ہم ایسی چنگاریاں چاروں طرف پھیلا رہے ہیں جس سے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ اصل میں جو اس وقت ملک میں کہرام مچا ہے اس کہرام کی وجہ سیاسی جماعتیں ہیں سیاسی جماعتوں میں یزیدی اور حسینی ٹولے موجود ہیں۔ اقتدار اور اختیارات نے انہیں نیم پاگل بنا دیا ہے۔ایک دوسرے کو زچ کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

    یاد رکھیے عالمی سطح پر سیاسی منظر نامے بدل رہے ہیں جمہوریت کا پنپ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے سیاسی لیڈر شپ کو اُس کی مقبولیت سے محروم کرنے کا نقصان ملک و قوم کا ہوتا ہے نہ ملک ترقی کرتا ہے او رنہ عوام کے بنیادی مسائل حل ہوتے ہیں۔ نہ جمہوریت مستحکم ہوتی ہے جن سیاسی لیڈروں کی اپنی ہی جماعتوں میں یزیدی ٹولے موجود ہیں اور اپنے قائدین کے مخبر ہوں وہ قائدین اپنی مقبولیت کھو بیٹھتے ہیں ۔ ہر سیاسی جماعت میں مخبروں کی لائن لگی ہے۔
    بقول شاعر نہ لو انتقام میرے ساتھ ساتھ چل کے۔
    ہماری سیاست اور جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ ایسے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا جاتا ہے جن کو پاکستان او رعوام کے بنیادی مسائل کا ادراک ہی نہیں۔ صرف دھواں دھار تقریر کرنے سے سیاستدان نہیں کہلایا جا سکتا ۔ ایسے لوگ مخبر او ر خوشامدی کہلو اسکتے ہیں،سیاستدان نہیں۔

  • کمشنر راولپنڈی کا انتخابی دھاندلی کا اعتراف

    کمشنر راولپنڈی کا انتخابی دھاندلی کا اعتراف

    واقعات کے ایک چونکا دینے والے موڑ میں، کمشنر راولپنڈی نے انتخابات کے ایک ہفتے بعد، انتخابی دھاندلی میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ، انہوں نے نہ صرف اپنے ماتحتوں کو اس طرح کی بددیانتی میں ملوث ہونے کی ہدایت دینے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا بلکہ چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر بھی سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ پھانسی کے مستحق ہیں، انہیں پھانسی دی جائے،

    کمشنر راولپنڈی کے انکشافات کے بعد کئی سوالات سامنے آتے ہیں،ان انکشافات سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہو گا؟ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کو اس تنازع میں کیوں الجھایا گیا؟یہ واضح ہے کہ انتخابی عمل میں فارم 45،47 یا 48 کے اجرا میں عدلیہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا، نہ ہی عدالتی عملے کی انتخابات میں ڈیوٹی لگائی جاتی اور نہ ہی ان سے گنتی کروائی جاتی ، ایسے میں چیف جسٹس پر تو الزام بے بنیاد لگتا ہے، اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کمشنر راولپنڈی کو دھاندلی کا حکم دے اور دوسرا انکار کر دے تو چیف الیکشن کمشنر کو حکم نہ ماننے پر کمشنر کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس الزام میں قانونی میرٹ کا فقدان ہے، کیونکہ چیف الیکشن کمشنر راولپنڈی کے کمشنر پر کوئی اختیار نہیں

    اگرچہ یہ معلوم ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کمشنر راولپنڈی کی جانب سے نامزد کردہ دو افراد کی مخالفت کرتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ راولپنڈی کے کمشنر ان سے استعفیٰ اور سزا کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں،ذرائع کے مطابق کمشنر راولپنڈی ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) کا حصہ نہیں ہیں اور انہوں نے مونس الٰہی کے ذریعے ترقیاں حاصل کیں، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے انہیں ترقیاں فراہم کیں۔ وہ 8 مارچ 2024 کو ریٹائر ہونے والے تھے۔

    اس افسوسناک کہانی نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو داغدار کیا ہے، اور راولپنڈی کے کمشنر کے اس دعوے کی کہ اس نے خودکشی کا سوچا تھا، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے

    فارم 45 اور فارم 47 کے بارے میں جاری تنازعہ بھی کمیشن کی طرف سے ایک جامع انکوائری کی ضمانت دیتا ہے۔ کمشنر کو چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت فراہم کرنا ہوں گے، بصورت دیگر اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

    مزید برآں، سیاسی جماعتوں کو حکومت بنانے کے لیے ایک ڈیڈ لائن دی جانی چاہیے، اور آزاد امیدواروں کو ایک سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنے کے لیے ٹائم فریم دیا جانا چاہیے۔ اس عمل میں تاخیر سے صرف غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • 17 فروری  تاریخ کے آئینے میں

    17 فروری تاریخ کے آئینے میں

    17 فروری ،تاریخ کے آئینے میں

    1370ء – جرمنی نے لیتھوینیا کو شکست دیدی، 1801ء – تھامس جیفرسن امریکا کے دوسرے صدر بنے ،1870ء – مسیسپی خانہ جنگی کے بعد دوبارہ امریکا کی نویں ریاست بن گیا۔

    17 فروری 1967ء کو صدمحمد ایوب خان نے لاہور میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جشن صد سالہ کی تقریبات کا افتتاح کیا اور نئے بلاک کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے بھی 15 پیسے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جسے پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر عبدالرؤف نے ڈیزائن کیا تھا۔

    1971ء – صدر پاکستان یحیی خان نے 3 مارچ 1970ء کو منعقد ہونے والے آئین ساز اسمبلی کے جس اجلاس کا اعلان کیا تھا، ذوالفقار علی بھٹو نے اسے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ یحیی خان نے یہ درخواست منظور کر لی جس پر عوامی لیگ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

    1979ء – چین نے ویتنام پر حملہ کر دیا، 1983ء – ہالینڈ میں آئین کا نفاذ ، 1996ء – عالمی چیمپئن گیری کسپاروف نے سپر کمپیوٹر ڈیپ بلیوکوشطرنج میں ہرا دیا۔

    17 فروری 1997.نواز شریف نے دوسری مرتبہ وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا ۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اس نے پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ تلے الیکشن لڑا اور جیتا تھا ۔حلف سابق صدر مملکت فاروق لغاری نے لیا تھا ۔یہ دور حکومت 12 اکتوبر 1999 تک رہا۔

    2008ء – کوسووہ کی پارلیمنٹ نے آزادی کا اعلان کر دیا۔ سربیا میں ہنگامے شروع، 2000ء – مائیکروسافٹ نے ونڈوز دوہزار جاری کی ۔

    17 فروری 2007.کوئٹہ میں ضلع کچہری میں لائسنس برانچ میں ایس پی ٹریفک کے دفتر کے ساتھ سئنیر سول جج عبد الواحد درانی کی عدالت میں خود کش حملہ ۔سول جج عبدالواحد درانی، 7 وکلاء سمیت 17 افراد جاں بحق اور 35 زخمی۔

    17 فروری 2009..پشاور بڈھ بیر کے علاقے بازید خیل میں مقامی ناظم فہیم الرحمن کے حجرے کے باہر کھڑی کار میں بم دھماکہ ۔8 جان بحق ۔12 افراد زخمی ۔

    17 فروری 2010 ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری کی سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس ثاقب نثار کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کر دیا ۔آصف علی زرداری کے سمری پر دستخط ۔

    17 فروری 2012.کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پارہ چنار کے مین بازار میں واقع جامع مسجد کے باہر بعد نماز جمعہ خود کش حملہ ۔27 جان بحق 36 زخمی،17 فروری 2015.لاہور پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ کے باہر خود کش حملہ ۔5 پولیس اہلکار شہید 27 زخمی،17 فروری 2016.انقرہ میں ترکی پارلیمنٹ کے پاس فوجی قافلے پر کار بم دھماکہ ۔28 جان بحق ۔61 زخمی۔

    17 فروری 2018…36 سال 195 دن کے راجر فیڈر ٹینس کے سب سے عمر رسیدہ ورلڈ نمبر ون بن گئے . اس سے پہلے یہ ریکارڈ آندرے آگاسی (33 سال)کے پاس تھا . سب سے زیادہ 302 ہفتے ورلڈ نمبر ون رہنے کا اعزاز بھی راجر فیڈرر کے پاس ہی ہے .وہ فروری 2004 سے اگست 2008 تک مسلسل 237 ہفتے ورلڈ نمبر ون رہے تھے . کھیل کی تاریخ میں ایسا عروج بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا ہے .

    17 فروری 2018.نائیجیریا کی ریاست بورنو کے شہر میدوگوری کے مقامی بازار میں مجمع کے اندر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ یکے بعد دیگرے تین خودکش حملوں سے 22 افراد ہلاک اور 50 افراد زخمی ۔

  • رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے نصف سے زیادہ دوسرے علاقوں میں لڑائی سے بچنے کے لیے رفح کی طرف گئی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گاہیں اور وسیع خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مصر کو لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد کا خدشہ ہے جنہیں شاید کبھی واپس جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
    مصر نے رفح پر حملے کے امکان پر کہا ہے کہ اگر اس نے رفح میں فوج بھیجی تو وہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو معطل کر دے گا، اس سے محصور علاقے میں سپلائی روٹ بند ہو جائے گا۔ رفح غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحد پر پھیلا ہوا ہے۔

    تل ابیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس بریگیڈ نے خود کو رفح میں رکھا ہوا ہے اور وہ اسرائیلی فوج پر نہ صرف فضائی حملے کر سکتے ہیں بلکہ اسے ایک زمینی اڈے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔یہ صورتحال کسی اور ملک میں حماس اسرائیل جنگ کو بڑھا سکتی ہے۔ اپنے ملک سے فرار ہونے والے پھنسے ہوئے فلسطینیوں کو اسرائیل سینائی میں دھکیل سکتا ہے، جس سے مصر ان دس لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزینوں کو سنبھالنے پر مجبور ہو گا جو ان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے خزانے پر معاشی بوجھ ڈال رہے ہیں۔

    مصر کو 40 ٹینکوں اور بکتر بند اہلکاروں کو غزہ کی سرحد پر منتقل کرنے پر مجبور کرنا پڑا تاکہ اس کی سرحدوں کے اندر کسی بھی منفی جھڑپ سے اس کے علاقے کی حفاظت کی جا سکے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل پہلے ہی رفح پر فضائی حملوں میں روزانہ 100 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر رہا ہے۔ جگہ کی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ رفح کے 64 مربع کلومیٹر میں سے ہر ایک میں 22,000 لوگوں کا ہجوم ہے۔ یہ علاقہ پناہ گزینوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں جن سے صحت کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر ہیپاٹائٹس اے کا پھیلنا،خارش اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں، مناسب بیت الخلاء اور نہانے کی سہولیات کے فقدان سے حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں

    برطانیہ اور امریکہ نے تل ابیب پر زمینی حملے کے لیے دباؤ ڈالا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ یہ حماس کو ختم کرنا اور ان کے اڈے کو تباہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ اس سارے عمل میں غائب ہے، وہ کہاں ہے؟

  • سیاسی جوڑ توڑ اور مریم نواز کی ذمہ داری، تجزیہ: شہزادقریشی

    سیاسی جوڑ توڑ اور مریم نواز کی ذمہ داری، تجزیہ: شہزادقریشی

    تجزیہ،شہزاد قریشی
    ملک میں ایک مخلوط حکومت کے لئے سیاسی جماعتیں جوڑ توڑ میں مصروف ہیں تاہم مخلوط حکومت کو ایک بھرپور مزاحمت کرنے والی اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا، پیپلز پارٹی آدھا تیتر آدھا بٹیر والی سیاست کررہی ہے،وفاقی کابینہ میں تادم تحریر شمولیت سے انکاری ہے، آئینی عہدے لینے کا اعلان کرچکی ہے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف کو ووٹ بھی دینے کا اعلان کرچکی ہے،مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون ہیں جو وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد ہوئی ہیں بطور وزیراعلیٰ پنجاب ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لئے پنجاب میں گڈ گورننس کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں،

    پنجاب کی اکثریت کا روزانہ سول انتظامیہ اور پولیس سے واسطہ پڑتا ہے اگر صوبے میں میرا ڈی پی او میرا سی پی او میرا ڈپٹی کمشنر‘ کمشنر کے روایتی تبادلے کروانے والے ایم پی اے اور ایم این اے کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ان کی سفارشات پر عمل کریں گی تو پھر پنجاب میں گڈ گورننس پر سوالیہ نشان ہوگا جبکہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت بھی نہیں ہوگی، صوبے کے دو افسران چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو فری ہینڈ دیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق پنجاب بھر میں تعیناتیاں کریں اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی مقررہ کردہ ٹیم کو ہر ماہ گڈ گورننس کی رپورٹ دیں،یکے بعد دیگرے پنجاب میں حکومتوں کی ناکامی انہی سفارشی ایم پی اے اور ایم این اے کی بدولت ہوئی، لاکھوں کا نذرانہ دے کر اپنی من پسند کی جگہ تبادلہ کروا کر مسلم لیگ ن اور وزیراعلیٰ کی گڈ گورننس کے لئے ایک سوالیہ نشان ہوں گے، نامزد وزیر اعلی کو صوبے کی سول انتظامیہ اور پولیس افسران کو عوام کی خدمت اور ہر خواص و عام کے لئے دروازے کھلے رکھنے اور فرائض کی کما حقہ ادائیگی کاپابند بنانا ہوگا، قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں اگر صوبے کے افسران دن گیارہ بجے دفتر پہنچیں گے تو پنجاب میں گڈ گورننس کیسے قائم ہوگی۔

  • تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    نام کتاب : زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر
    فضائل ، احکام ومسائل
    مئولف : حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ،نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال، لاہور
    صفحات : 135
    قیمت : 220روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    شعبان اور رمضان المبارکی آمد آمد ہے ۔ ان مہینوں میں مسلمان اپنے مال ، زیورات ،سوناچاندی میں سے زکوٰۃ نکالتے ہیں ۔زکوٰۃ ۔۔۔اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ۔یہ نہایت ہی اہم فریضہ ہے جو نہ صرف مال کو پاک کرتا بلکہ مال کو بڑھاتا بھی ہے جبکہ پاکیزہ مال انسان کی صحت سلامتی اور جان ومال میں برکت کااہم ذریعہ ثابت ہوتا ہے ۔ زکوٰۃ جس قدر اہم فریضہ ہے ہمارے مسلمان بھائی بہنیں اس کے نصاب ، مسائل اور فضائل سے اتنے ہی لاعلم ہیں ۔ پیش نظر کتاب ’’ زکوٰۃ ، عشر اور صدقۃ الفطر اسی موضوع پر ایک اہم پیشکش ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ’’ دارالسلام‘‘ نے اپنے روایتی تزک واحتشام ، خوبصورت جاذب نظر ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف مفسر قرآن ، جید عالم دین اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ہیں۔ حافظ صلاح الدین یوسف کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں وہ جس موضوع پر لکھتے تو قرآن وحدیث کی روشنی میں لکھنے کاحق ادا کردیا کرتے تھے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع کے تمام پہلوئووں کاکماحقہ احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

    حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم نے زکوٰۃ ، عشر ، صدقۃ الفطر اور ان سے متعلقہ کسی بھی موضوع کوتشنہ نہیں چھوڑا ۔ کتاب میں بتایاگیا ہے کہ زکوٰۃ کے دو پہلو ہیں ۔ عبادت ہونے کے اعتبار سے اس کاتعلق حقوق اللہ سے ہے اور چونکہ اس سے بندگان الہی بھی مستفید فیض یاب ہوتے ہیں ، لاکھوں کروڑوں فقرا ومساکین ، یتامیٰ ، بیوگان ، معذور اور اپاہج قسم کے افرادکے معاشی مفادات بھی زکوٰۃ سے وابستہ ہیں ۔ اس لحاظ سے زکوٰۃ کاتعلق حقوق العباد سے بھی ہے ۔ اس سے زکوٰۃ کی اہمیت وافادیت واضح ہے ۔ اس کے عبادت ہونے کامطلب یہ ہے کہ اس کی ادائیگی سے انسان کو اللہ کاخصوصی قرب اوراس کی رضا حاصل ہوتی ہے ، مال بڑھتا اور پاک ہوتا ہے ۔ اس کادوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ معاشرے کے معذور اور نادار افراد کی معاشی کفالت کابھی ایک بہت بڑاذریعہ ہے ۔ جس سے ایک انسان کے دل میں ضرورت مندوں کی خبرگیری اوران کی خیرخواہی کاجذبہ بیدارہوتا ہے ۔ چارابواب پر مشتمل کتاب میں بتایاگیا ہے کہ اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت وافادیت کیا ہے ؟ زکوٰۃ نہ دینے کے لئے کیا وعید ہے ؟ زکوٰۃ کے علاوہ دیگر صدقات ، اجتماعی طور پر زکوٰۃ کی تقسیم کے فوائد ، زکوٰۃ وصول کرنے والوں کے لئے نبی ﷺ کی کیا ہدایات ہیں ، کیا مقروض پر زکوٰۃ ہے یانہیں ؟ مشینری پر زکوٰۃ ، سونے ، چاندی ، زیور ، مال تجارت ، نقدی، زرعی پیداوار ، پھلوں کانصاب کتنا ہے، مال ِ تجارت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کاطریقہ کار کیا ہے ، پھلوں اور غلوں کے نصاب کاوقت کیا ہے ؟ جانوروں کی زکوٰۃ کی تفصیل ؟ مصارف زکوٰۃ کیا ہیں ؟ وہ افراد جن کے لئے زکوٰۃ جائز نہیں ۔ صدقۃ الفطر کے کیامسائل ہیں ۔۔۔؟

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان معاشروں میں معاشی ناہمواری انتہاکو پہنچی ہوئی ہے ایک طرف دولت کے جزیرے آباد ہیں اور دوسری طرف غربت وناداری کی گہرائیاں ہیں ۔ گداگری کی لعنت عام ہے ، سفید پوش قسم کے لوگوں سے تعاون کاکوئی آبرومندانہ انتظام نہیں ، گردش دولت کی وہ صورت نہیں ہے جواسلام میں مطلوب ہے بلکہ دولت جمع کرنے کی ہوس ہے جواسلام میں بالعموم ناپسندیدہ ہے ، باہم تعاون کی وہ کیفیت نہیں جن کااہتمام زکوٰۃ کے ذریعے سے کیاجاتاہے اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کاوہ اہتمام بھی نہیں ہے جوزکوٰۃ کے ایک مصرف فی سبیل اللہ کے قدرے وسیع مفہوم ومطلب کاتقاضہ ہے ، اسی طرح تالیف قلب کابھی خاص اہتمام نہیں ہے جس کے ذریعے سے غیر مسلموں کواسلام کی طرف راغب کیاجاسکے ۔ اس کتاب میں ان تمام پہلوئووں کو بھی اجاگر کیاگیا ہے جوعلماکے لئے بھی قابل غورفکر ہیں اور ارباب بست وکشاد کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہیں۔ کتاب کے آخر میں زکوٰۃ کاانکار کرنے والوں کاافکار ونظریات کاذکر اور بالخصوص غلام احمد پرویز کے اشتراکی نظریہ کاقرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لے کر ان کارد کیاگیا ہے ۔ اس طرح سے اس کتاب کی اہمیت وافادیت کئی گنابڑھ گئی ہے جو کہ اہل اسلام کے لئے ایک گرانقدر ہدیہ سے کم نہیں ہے ۔ شعبان اور رمضان کے ایام شروع ہونے سے پہلے اس کتاب کاہر صاحب ِ نصاب زکوٰۃ فرد کے پاس ہونا مفید ہے ۔

  • سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    کچھ خبریں اور باتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں سن کر ایمان بڑھ جاتا اور دل خوشی سے بھر جاتا ہے ۔ انہی میں سے ایک نہایت ہی خوش کن اور خوش آئند خبر یہ ہے کہ سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ہوئے ہیں۔ یہ ایمان افروز خبر سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے دنیا کو بتائی اور سنائی ہے ۔ بلاشبہ یہ بہت ہی خوشی کی خبر ہے جس پر ہم خادم الحرمین ملک سلمان بن عبدالعزیز ، ولیعہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس سعی کو قبول فرمائے ۔دریں حالات جبکہ عالم اسلام سخت ابتلاءوآزمائش کا شکار ہے ان حالات میں اس خبر سے اہل اسلام کے حوصلے بلند ہوئے اور دل خوشی ومسرت سے لبریز ہوئے ہیں ۔اس نوید مسرت سے ایک طرف اسلام کی صداقت وحقانیت واضح ہورہی ہے تو دوسری طرف مملکت سعودی عرب کے حکمرانوں کی اسلام کے ساتھ بے پایاں محبت بھی واضح ہے۔یہ خبر اس امر کااظہار بھی ہے کہ سعودی معاشرہ اور سعودی عرب کے حکمران اسلام کے سچے خادم ہیں ، اسلام سے محبت کرتے ہیں اور اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں ۔جس مقصد کی خاطر سعودی عرب معرض ِ وجود میں آیا آج بھی اس پر قائم ہے ۔سعودی عرب کے بانیوں نے اپنے ملک کے قیام کے وقت اللہ سے جو وعدے کئے تھے۔۔۔۔۔ آج بھی ان ۔۔۔۔۔ وعدوں پر کاربند ہیں ۔

    اب ہم آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ۔ مضمون کی ابتدا میں ہم سعودی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کی پریس کانفرنس کا ذکر کرچکے ہیں ۔ ڈاکٹر عبد اللطیف نے حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں کی جو تفصیل بتائی اس کی ترتیب درج ذیل ہے :سال 2019ءمیں 21654افراد نے اسلام قبول کیا۔ سال 2020ءمیں 41441افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ، سال2021ءمیں3 2733 افراد شرف ِ اسلام سے سرفراز ہوئے ، سال 2022ءمیں 93899افراد نے اسلام قبول کیاجبکہ سال 2023ءمیں 163319 افراد شرف ِ اسلام سے سرفراز ہوئے اس طرح اسلام قبول کرنے والوں کی مجموعی تعداد 3لاکھ 47ہزار 6سو 46بنتی ہے۔ یہ اعداد وشمار صرف 2019ءسے ابتک کے ہیں ۔ اگر سعودی عرب کے قیام سے ابتک اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد جمع کی جائے تو بلاشبہ وہ کروڑوں میں بنتی ہے ۔ اسی طرح دوسرے ممالک میں سعودی داعی اور مبلیغین کی کوششوں سے بھی ہر سال ہزاروں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں ۔۔۔ ۔جیسا کہ یہ بات پہلے ذکر ہوچکی ہے کہ سال 2023ءسعودی عرب میں ایک لاکھ 63ہزار3ہزار 3سو19افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں ۔ اگر اس تعداد کو سال کے 365دنوں پر تقسیم کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سعودی عرب میں ایک دن میں 447افراد نے اسلام قبول کیا جو کہ الحمد للہ بہت بڑی تعداد ہے اور یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اتنی تعداد میں لوگ اسلام قبول نہیں کررہے ہیں ۔

    سعودی عرب میں ہر سال بڑی تعداد میں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں تو اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاََ یہ کہ سعودی عرب کے حکمران اسلام سے محبت کرتے ہیں ۔ حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے کوششیں کی جاتی ہیں۔ حکومتی سطح پر مملکت کے ہر خطے میں داعی اور مبلغین تعینات کئے گئے ہیں ۔اسی طرح سعودی عرب کے اہم ترین کارنامے جو دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے بے حد ممد ومعاون ثابت ہورہے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔۔۔۔

    اولاََ۔۔۔۔۔ سعودی حکومت نے قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کا خاص اہتمام کررکھا ہے۔اس مقصد کی خاطر خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اپنے دور میں ” کنگ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس “ کے نام سے مدینہ منورہ میں ایک عظیم الشان اشاعتی ادارہ قائم کیا جو بلاشبہ دنیا بھر میں قرآن مجید کی طباعت واشاعت کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ اس مبارک پراجیکٹ کا سنگ بنیاد 2 نومبر 1982 ءمیں رکھاگیا ۔ یہ کمپلیکس فن تعمیر کا دلکش اور خوبصورت شاہکار ہے۔ اس پرنٹنگ کمپلیکس میں اعلی معیار کے اور غلطیوں سے پاک قرآن مجید کے نسخے طبع کرکے پوری دنیا میں مفت تقیم کیے جاتے ہیں۔ قیام سے لے کر اب تک اس کمپلیکس سے مختلف انواع سائز کے کروڑوں کی تعداد میں 40سے زبانوں میں نسخے شائع ہو چکے ہیں ۔ شاہ فہد رحمہ اللہ علیہ نے قرآن مجید کو گھر گھر پہنچانے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دنیا کی مختلف زندہ زبانوںمیں اس کے ترجمے و تفاسیر اور اس کی توضیح اور تقسیم کر کے کے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ قیامت تک یاد رکھا جائے گا ۔ قرآن مجید کی طباعت واشاعت کے علاوہ کتب ِ تفاسیر واحادیث اور دیگر کتب بھی شائع کرکے مفت تقسیم کی جاتی ہیں جن پر ہر سال کروڑوں ریال خرچ کئے جاتے ہیں ۔

    ثانیاََ۔۔۔۔ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے 1944ءمیں جامعہ ازہر کی طرز پرمدینہ منورہ میں” الجامعة الاسلامیہ “ کے نام سے یونیورسٹی قائم کی جواس وقت علوم اسلامیہ کے فروغ میں اسلامی دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے جہاں پوری دنیاسے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں اور حصول کے بعد سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔

    ثالثاََ۔۔۔۔۔ سعودی حکومت نے اپنی مملکت سمیت پوری دنیا میں مستقل بنیادوں پراسلام کے مراکز ، مساجد اور مدارس قائم کئے ہیں جن میں داعی ، مبلغین ، اساتذہ کرام، قرائے عظام اور علمائے کرام اور مبعوث تعینات کئے گئے ہیں جن کی تعداد کئی ہزار ہے۔ ان کی سرپرستی سعودی حکومت اور سعودی خیراتی ادارے کرتے ہیں۔ یہ مبلغین ومعلمین خالص توحید اور قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کو صحیح عقیدے کی دعوت دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے عقائد کی اصلاح کرتے اور مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔

    رابعاََ ۔۔۔۔۔۔مملکت سعودی عرب میں دعوت وتبلیغ کیلئے 457 دینی ودعوتی جمعیتیں اور این جی اوز مختلف خطوں میں سرگرم عمل ہیںجو مملکت میں روزگار کےلئے غیر مسلموں کو اور سعودی عرب میں بغرض ِ سیاحت آنے والے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتی ہیں ۔

    آخر میں اس بات کا ذکر بھی بے حد ضروری ہے کہ کچھ لوگ مملکت سعودی عرب کے بارے میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ محمد بن سلمان اب سعودی عرب کو یورپ بنا رہے ہیں، دین اسلام کو مٹا رہے ہیں، مگر وہاں تو عملاً اس جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس کام ہو رہا ہے، اس سے پہلے کسی بھی سعودی بادشاہ کے دور میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ مسلمان نہیں ہوتے تھے جس قدر پچھلے چند سالوں میں ہوئے ہیں اور دن بہ د ن اسلام لانے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے، مطلب یہ ہوا کہ سعودی عرب میں اب دعوت دین پر پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے اور بہتر انداز میں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سعودی حکومت اور وہاں کے سلفی علماءکی دین اسلام کی اشاعت کیلئے محنتوں کو قبول فرمائے اور رب کریم انہیں اس باسعادت مشن کیلئے مزید آگے سے آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین !

  • معاشی، معاشرتی،اخلاقی،سیاسی زوال کیوں؟ کبھی سوچا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی، معاشرتی،اخلاقی،سیاسی زوال کیوں؟ کبھی سوچا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہم پچیس کروڑ عوام شاہ سے لے کر فقیر تک ملکی حالات کو لے کر پریشان رہتے ہیں اور اپنے اوپر آنے والے زوال کی وجوہات کی تلاش میں رہتے ہیں اور یہ زوال مختلف شکلوں میں آتا ہے ۔کبھی معاشی زوال، کبھی معاشرتی زوال ، کبھی اخلاقی زوال، کبھی سیاسی زوال، حیرت ہے آخر ہم سے کون سا گناہ سرزد ہو گیا ہے کہ ہم پر ہی زوال آتاہے۔ منبر و محراب سے دعائوں کی صدائیں بھی سنائی دیتی ہیں پھر بھی زوال۔ تلاش کرنے پر ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے من حیث القوم خدا اور اس کے رسول ؐ کی نافرمانی کی حد تو کراس نہیں کر لی؟ ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ کیا واقعی ہم خدا پاک کے بنائے قانون پر عمل کررہے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ہر کسی زوال کے ہم مستحق ہیں۔

    یاد رکھیئے! سرزمین پاکستان پر اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اللہ ہی اس کا حاکم حقیقی ہے۔ کمال ہے اس زمین پر بسنے والے چند جاگیرداروں ، وڈیروں، صنعتکاروں، دولتمندوں نے خدا کی مخلوق کی زندگیوں کو عذاب بنا کر رکھ دیا ہے۔ اقتدار اور اختیارات کی دوڑ میں اللہ تعالیٰ کے بنائے قانون کو پس پشت ڈال کر اپنی موت سے بے خبر انسانوں نے خدا کی زمین پر اپنے مرضی کے قانون نافذ کر دیئے۔ اللہ تعالیٰ حد کراس کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس وقت ہمارا داخلی بحران، قومی معاملات ذاتیات اور خاندانوں پر مبنی سیاستدانوں نے پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات، اختیارات اور اقتدار کی جنگ شروع کر دی ہے۔

    حیرت ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو صوبائی سطح پر حکومتیں بنانے کا مینڈیٹ عوام نے دے دیا ہے حکومتیں بنائیں مخلوق خدا اور خدا کی ملکیت زمین کی خدمت کریں عوام کو درپیش مسائل اور ریاستی مسائل کو حل کریں عوام نے تو الیکشن میں سب کو برابر پیار دیا اب کس سچے پیار کی کی تلاش میں ہیں؟