Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمن سکوں،  کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ

    جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمن سکوں، کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ

    کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
    وہ ایک خط جو تیرے نام چھوڑ آیا ہوں

    اعجاز رحمانی

    12؍فروری 1940: تاریخ پیدائش

    اردو کے ممتاز شاعر سید اعجاز علی المعروف اعجاز رحمانی 12 فروری 1940ء کو علی گڑھ ہندوستان میں پید اہوئے۔ ان کے والدین کا کم عمری میں انتقال ہوگیا، اس وجہ سے پرائمری اور دینی تعلیم ہی علی گڑھ میں حاصل کرسکے۔ 1954ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔کراچی آنے کے بعد ادیب اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے اور ابراہیم انڈسٹری ، عثمان آباد کراچی میں ملازم ہوگئے۔ اپنے ایک عزیز فضا جلالوی کے ایما پر قمرؔ جلالوی کے شاگرد ہوگئے ایک مقامی روزنامے میں روزانہ قطعات لکھتے رہے۔ تاریخ اسلام کو منظوم کرتے رہے ۔ایک نعت گو کی حیثیت سے انھیں نمایاں مقام حاصل ہے۔

    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اعجاز مصطفی‘‘، ’’پہلی کرن آخری روشنی‘‘ (نعتیہ مجموعے)، ’’کاغذ کے سفینے‘‘، ’’افکار کی خوشبو‘‘، ’’غبار انا‘‘، ’’لہو کا آبشار‘‘، ’’لمحوں کی زنجیر‘‘ (غزلوں کے مجموعے)، ’’چراغ مدحت‘‘، ’’جذبوں کی زبان‘‘، ’’خوشبو کا سفر‘‘۔
    26؍اکتوبر 2019ء کو اعجازؔ رحمانی کا انتقال ہوا۔

    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:311

    اعجازؔ رحمانی کی شاعری سے چند منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا
    سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا

    فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
    خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا

    پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر
    سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا

    ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے
    خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے گا

    میں سوچ رہا ہوں یہ سر شہرِ نگاراں
    یہ اس کی گلی ہے تو ٹھہرنا ہی پڑے گا

    اب شانۂ تدبیر ہے ہاتھوں میں ہمارے
    حالات کی زلفوں کو سنورنا ہی پڑے گا

    اک عمر سے بے نور ہے یہ محفلِ ہستی
    اعجازؔ کوئی رنگ تو بھرنا ہی پڑے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظالم سے مصطفیٰؐ کا عمل چاہتے ہیں لوگ
    سوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ

    کافی ہے جن کے واسطے چھوٹا سا اک مکاں
    پوچھے کوئی تو شیش محل چاہتے ہیں لوگ

    سائے کی مانگتے ہیں ردا آفتاب سے
    پتھر سے آئنے کا بدل چاہتے ہیں لوگ

    کب تک کسی کی زلف پریشاں کا تذکرہ
    کچھ اپنی الجھنوں کا بھی حل چاہتے ہیں لوگ

    بار غم حیات سے شانے ہوئے ہیں شل
    اکتا کے زندگی سے اجل چاہتے ہیں لوگ

    رکھتے نہیں نگاہ تقاضوں پہ وقت کے
    تالاب کے بغیر کنول چاہتے ہیں لوگ

    جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمن سکوں
    کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ

    درکار ہے نجات غم روزگار سے
    مریخ چاہتے ہیں نہ زحل چاہتے ہیں لوگ

    اعجازؔ اپنے عہد کا میں ترجمان ہوں
    میں جانتا ہوں جیسی غزل چاہتے ہیں لوگ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
    دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں

    کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
    وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں

    ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے
    میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں

    کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی
    میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں

    ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے
    میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں

    یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی
    پروں کے رنگ تہہ دام چھوڑ آیا ہوں

    وہاں سے ایک قدم بھی نہ جا سکی آگے
    جہاں پہ گردشِ ایام چھوڑ آیا ہوں

    مجھے جو ڈھونڈھنا چاہے وہ ڈھونڈھ لے اعجازؔ
    کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں

  • تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کی غلطی

    تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کی غلطی

    5 فروری 2023 کو ایک بلاگ میں، میں ان سب سے پہلے لوگوں میں شامل تھی جس نے تحریک انصاف کی جانب سے آزاد امیدواروں کی حمایت کے لیے "پراکسیز” کے استعمال کے امکان کی اطلاع دی تھی کہ تحریک انصاف کے آزاد امیدوار ممکنہ طور پر مجلس وحدت المسلمین یاجے یو پی شیرانی میں شامل ہو ں گے۔ چیئرمین مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس نے آزاد امیدواروں کی شاندار برتری سے قبل عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی۔ اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ تحریک انصاف کے امیدوار ایم ڈبلیو ایم میں شامل ہوں گے، ایم ڈبلیو ایم قومی اسمبلی کی ایک نشست تحریک انصاف کی حمایت سے جیتی ہے

    تحریک انصاف کے آزاد امیدوار وں کی بڑی تعداد الیکشن جیت چکی ہے، خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کو سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے تا ہم تحریک انصاف نے سبق نہیں سیکھا ، تحریک انصاف مسلسل غلطیاں کر رہی، اور انکی غلطیوں کی فہرست میں اضافہ ہو رہا ہے،موجودہ پارلیمان کے مطابق مرکز میں حکومت بنانے کے لئے 169 سیٹوں کی ضرورت ہے،انتخابی نتائج کے مطابق آزاد امیدوار، ن لیگ،پیپلز پارٹی کوئی بھی ایک دوسرے سے اتحاد کئے بغیر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،آزاد امیدواروں کا کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے لئے نتائج کے بعد 72 گھنٹےکا وقت ہوتا ہے، تحریک انصاف کے جو آزاد امیدوار ہیں انکے لئے راستے کھلے ہیں، وہ کسی بھی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں، سابقہ پارٹی کے ساتھ چلنا انکی کوئی قانونی مجبوری نہیں،
    دوم، عمران خان جو اڈیالہ جیل میں ہیں انکی یہ ناقص سیاسی ذہانت کی عکاسی ہے کہ وہ کسی بھی دوسری جماعت سے ہاتھ ملانے سے انکار کر رہے ہیں جو الیکشن جیت چکی ہے، حالانکہ یہ وقت کی ضرورت ہے،ملک کی بھلائی کے لئے عمران خان کو اتحاد کر نا چاہئے
    سوم،تحریک انصاف کو قومی دھارے ، حکومت میں رہنے، مرکز میں مضبوط اتحاد بنانے، اور صوبوں میں مضبوط قدم رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی میں شامل ہونا چاہیے تھا ، تحریک انصاف کو جن سیٹوں‌پر لگتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ، ان پر دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کر سکتے ہیں جہاں سے ان سے مینڈیٹ چھینا گیا،

    تحریک انصاف کی طرح مسلم لیگ (ن) کے پاس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کوئی معاشی وژن نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے متعین کردہ خطوط پر عمل کرتے ہوئے بیک وقت آمدنی پیدا کرنا اور سیکیورٹی استحکام کے ساتھ برآمدات کے لیے منڈیوں کو پھیلانا آنے والی حکومت کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔

    پیپلز پارٹی کیوں؟ وجہ ظاہر ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں عمر کی اس حد تک جا پہنچے کہ انتخابات میں یہ ان کا آخری دور ہوسکتا ہے۔ مریم نواز اب بھی کسی بھی سنجیدہ انتظامی عہدے پر ایک غیر تجربہ شدہ ہیں، بلاول بھٹو زرداری چالیس کی دہائی کے اوائل میں ایک نوجوان ہیں اور ان کے آگے برسوں کی سیاست ہے۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے وہ پہلے ہی اپنے آپ کو شاندار طریقے سے اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ دوم، آصف زرداری اپنے مستقبل کے لیے اپنے دور کو کامیاب بنانے کے لیے بھر پور کوشش و محنت کریں گے، جس میں مالیاتی پہلو سے نمٹنا بھی شامل ہے۔

  • انتخابات ہو گئے،وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں مقابلہ جاری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات ہو گئے،وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں مقابلہ جاری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    قومی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ سیاسی جماعتوں اورمذہبی جماعتوں سمیت آزاد امیدواروں جن کو پی ٹی آئی کی حمایت تھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی ہے، نوازشریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنتے دکھائی دے رہے ہیں یا نہیں جبکہ تادم تحریر بلاول بھٹو بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے لئے دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ آصف علی زرداری آزاد امیدواروں سے رابطے کرر ہے ہیں تاہم نوازشریف نے پاکستان کو مشکل سے نکالنے کے لئے سب کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے آزاد امیدواروں کو بھی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری صرف میری اور اسحاق ڈار کی نہیں سب پر ذمہ داری ہے۔

    امریکہ میں بھی صدارتی انتخابات کا وقت قریب ہے امریکی عوام بے چین ہے اور وقت کا انتظار کر رہے ہیں بائیڈن کا دور مہنگائی اور جنگوں کا غلبہ رہا۔ بائیڈن اور ٹرمپ ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہیں امریکہ اور امریکی عوام کے مفادات کے لئے دونوں میں کون فیورٹ ہے اس کا پوری دنیا کو انتظار ہے تاہم امریکی عوام کا اور صدارتی امیدواروں کا انحصار گیتوں پر نہیں منشور پر ہے ملک کی تمام جماعتوں نے منشور دیا مگر کیا کہنے پاکستان قوم کے منشور پڑھنے کے بجائے انتخابی گیتوں پر انحصار کیا کس جماعت کا گیت اور فنکار اچھا ہے تاہم ہماری انتخابی مہم کا دار و مدار منشور نہیں گیتوں پر رہا ہے۔ جو قوم کئی سالوں سے بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ سے ذہنی و مالی اذیت کا شکار ہے وہ الیکشن میں اگر منشور کے بجائے گیتوں پر انحصار کرے گی تو پھر ایسی قوم کا خدا ہی حافظ ہے ۔

  • تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    نام کتاب : واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات
    مئولف : حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 122
    قیمت : 190روپے

    پیش نظر کتاب ’’ واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات ‘‘ مفسر قرآن ، بزرگ عالم دین حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی تصنیف ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ’’ دارالسلام ‘‘ نے شائع کیا ہے ۔ یہ کتاب اگرچہ حجم میں مختصر ہے لیکن اپنے موضوع پر ایک جامع، مستند داور علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہی ۔ کتاب چھ ابواب پر مشتمل پر ہے ۔ پہلے باب میں بتایاگیاہے کہ معراج کے دو حصے ہیں پہلے کو ’’ اسرا ‘‘ اور دوسرے کو ’’ معراج ‘‘ کہاجاتا ہے ۔ واقعہ معراج کشف ، مشاہدہ یا خواب کا واقعہ نہیں بلکہ روح اور بدن کے ساتھ عالم بیداری کاواقعہ ہے ۔ کتاب کے دوسرے باب میں واقعہ معراج کی بابت تمام صحیح احادیث یکجا کردی گئی ہیں ۔ بعدازاں ان تمام احادیث کی توضیح بھی بیان کردی گئی ہے جس سے ایک عام قاری کے لئے واقعہ معراج کو سمجھنا انتہائی آسان ہوجاتا ہے ۔ شب معراج میں نماز کی فرضیت کی حکمت پر بات کی گئی ہے ۔ یہ بھی بتایاگیا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ میں اللہ نے امت محمدیہ کونماز کے علاوہ بھی دیگر دو تحفے دیے ہیں ۔ تیسرے باب میں تفصیل کے ساتھ مشاہدات ِ معراج یعنی روئت باری تعالیٰ اور ا للہ سے کلام کاذکر کیاگیا ہے۔ قائلین روئت باری تعالیٰ کے دلائل اور ان کاتجزیہ بیان کیاگیا ہے ۔چوتھے باب میں معراج کی عظیم نشانیاں ، حضرت موسی علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا ، داروغہ جہنم ، دجال کامشاہدہ ، نہر کوثر کامشاہدہ ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کاامت محمدیہ کے نام خصوصی پیغام ، سینگی لگوانے کی اہمیت اور دیگر امورکاذکر کیاگیا ہے ۔ پانچویں باب میں جہنم کے مشاہدات یعنی غیبت کرنے والوں ، بے عمل خطبا کاانجام اور ناقۃ اللہ ( حضرت صالح علیہ السلام ) کی اونٹنی کے قاتل کے انجام کے مشاہدے کاذکر کیاگیا ہے ۔ چھٹے اور آخری باب میں واقعہ معراج کے بارے میں ایسے تمام واقعات جمع کردیے گے ہیں جو اگرچہ بہت مشہور ہیں لیکن غیر مستند ہیں ۔ کتاب میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ واقعہ معراج ہمارے پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد رسول ﷺ کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے، یہ عظیم تر معجزہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو چشم زدن میں رونما ہوا لیکن حقیقت میں اس میں کتنا وقت لگا یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔واقعہ معراج دنیا کاایک ایسا واقعہ ہے کہ جس کا وقت مختصر ترین ہے لیکن سفر دنیا کاطویل ترین ہے ایسا طویل ترین سفر کہ جسے کسی پیمانے کے ساتھ ماپا نہیں جاسکتا ۔ ہماراایمان ہے کہ یہ سب ہوا۔۔۔۔لیکن یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔ کیوں کر ہوا ۔۔۔۔اس کے بارے میںہمارا اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی قدرت کاملہ کے بیشمار مشاہدات بھی کروائے ۔واقعہ معراج کا ثبوت اور ذکر قرآن کریم اوراحادیث صحیحہ دونوں میں ہے ۔ لیکن مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو اسے ایک کشفی ، روحانی یا خواب کے مشاہدے سے تعبیر کر کے اسکی معجزانہ حیثیت کا انکار کرتا ہے ۔ ایک دوسراگروہ ہے جو اس میں بہت سی بے سرو پار وایات شامل کر کے اسے کچھ کاکچھ بنا دیتا ہے ۔ ظاہر بات یہ ہے کہ دونوں ہی گروہ افراط و تفریط و شکار ہیں ۔اردو زبان میں اس موضوع پر آج تک کوئی مستند اور معیاری کام نہیں ہوا جس کی تشنگی مدت اور شدت سے محسوس کی جارہی تھی ۔ خاص طور پر روایات عامہ کی صحت و ضعف کا خیال رکھتے ہوئے اس واقعے کے حقائق بیان کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی ۔ یہ بڑی مسرت کی بات ہے کہ اس اہم موضوع پر بر گزیدہ عالم دین ، مصنف کتب ِ کثیرہ ، مفسر قرآن الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم نے قلم اٹھایا اور علم ونظر کے اعلیٰ پیمانے اور تحقیق و جستجو کی کسوٹی پر رکھ کر یہ واقعہ مستند حقائق سمیت قارئین کے سامنے پیش کر دیاہے۔اردو زبان میں پہلی کتاب ہے جو واقعہ معراج کو اس کے صحیح تناظر میں پیش کرتی اور اس کے واقعاتی مشاہدات کو غیر مستند روایات سے ممیز کرتی ہے ۔ دارالسلام نے اپنے روایتی معیار طباعت کے مطابق یہ کتاب نہایت خوبصورت پیرائے میں شائع کی ہے ۔یہ کتاب ہر لائبریری ، خطیب ، واعظ کی ضرورت ہے عام آدمی کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔ کتاب کی قیمت 135روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ لاہور پر دستیاب ہے یا براہ راست کتاب حاصل کرنے کے لئے درج ذیل فون نمبر 042-37324034پر رابطہ کیاجاسکتا ہے ۔ اس کتاب میں پہلی مرتبہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ روایات معراج کی توضیح اس انداز سے کی جائے کے واقعے کی صحیح شکل واضح ہوکر سامنے آجائے ۔ عام طور پر اس کے لئے ’’ معراج‘‘ کالفظ استعمال کیا جاتاہے

  • انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عین الیکشن کے وقت الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات کا اٹھنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شفاف الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے پریزائیڈنگ آفیسرز سے حلف اٹھانے کے بعد الیکشن کے عمل کا آغاز ایک احسن اقدام ہے۔ ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے نعروں سے فضا گونج رہی ہے مگر ملک کی ترقی آسان نہیں ہے۔ جب تک ملکی وسائل، تعلیم پر خصوصی توجہ نہیں دی جائے گی ترقی ممکن نہیں۔

    پاکستان زرعی ملک ہے اس پر توجہ کی ضرورت ہے اس وقت ملک کی بظاہر تین بڑی سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، جبکہ مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی، تحریک لبیک، جمعیت علمائے پاکستان، تمام جماعتوں کے حامی اپنے قائدین کو معاشی بحران سے دوچار پاکستان کو آخری امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آخری امید سے مرادمعیشت کو مستحکم کرنے والا قائد، پاک فوج اور جملہ اداروں کا کردار ملکی سلامتی ملکی بقا پر مرکوز ہے جس کا بھرپور عملی مظاہرہ ایران سے ہونے والی دراندازی پر منہ توڑ جواب دے کر کیا گیا۔ آٹھ فروری کے بعد منتخب ہونے والی سیاسی جماعت کو ملکی معیشت پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے عوام مہنگائی ، نوجوان بیروزگاری اور دیگر معاشرتی مسائل میں مبتلا ہیں ان کو مسائل سے نکالنے کی ذمہ داری نئی حکومت پر ہوگی۔ آیئے نئے وزیراعظم عہد کریں، ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کا عہد کریں۔

  • اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سیکنڈل اور حقائق،تحریر: ارشاد احمد ارشد

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سیکنڈل اور حقائق،تحریر: ارشاد احمد ارشد

    پاکستان کی معروف قدیمی درس گاہ ۔۔۔۔اسلامیہ یونیورسٹی بہالپور اور اس کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو بدنام کرنے کےلئے جو جھوٹ بولے گئے ۔۔۔وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب اور یونیورسٹی کو بدنام کرنے کا اسیکنڈل جب منظر عام پر آیا تو اسی وقت ہی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر شخص سمجھ گیا تھا کہ یہ سازش ہے اور الزام تراشی ہے ۔اس کے بعد جو حقائق منظر عام پر آئے اور خاص کر وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جو ٹربیونل بنایا اس نے بھی اپنی آزادا نہ تحقیقات کے بعد یہ بتا دیا ہے کہ آئی یو بی کو بدنام کرنے کےلئے جو سکینڈل بنایا گیا وہ سب جھوٹ تھا ۔
    اب آئیں مختصراَ َ اس واردات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ کسی بھی ادارے میں انتظامی اعتبار سے چیف سکیورٹی آفیسر کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، چیف سکیورٹی آفیسر ادارے کے حفاظتی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔لہذا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سب سے پہلے یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر ریٹائرڈ میجر اعجاز شاہ کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اس مقصد کےلئے جو سیکنڈل گھڑا گیا وہ یہ تھا کہ یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر سے منشیات اور اس کے موبائل سے 5,500 یونیورسٹی کی طالبات کی نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں اس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ یونیورسٹی کا چیف سیکورٹی آفیسر ایک جرائم پیشہ اور اخلاق باختہ شخص ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے کچھ دیگر سٹاف کے بارے میں تواتر کے ساتھ منشیات اور ویڈیوز برآمدگی کی خبریں چلائی گئیں جنھیں اور سن کر یوں لگتا تھا جیسے یونیورسٹی میں اساتذہ اور سٹاف نہیں اٹھائی گیر ہیں اور یہ اسلامیہ یونیورسٹی نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور منشیات کا اڈاہے ۔

    یہ ایسی ہولناک سازش تھی کہ جس نے ملک بھر میں غم وغصے اور اضطراب کی کیفیت برپا کردی۔ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی یونیورسٹی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ اس سازش کا پردہ چاک کیا جاتا چنانچہ ڈاکٹر اطہر محبوب نے سب سے پہلے خود کو اور اپنے سٹاف کو احتساب اور خون ٹیسٹ کروانے کےلئے پیش کیا ۔ آئی جی پنجاب کو مراسلہ لکھ کر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔کئی ادارہ جاتی کمیٹیاں قائم کی گئیں جن میں جنوبی پنجاب سے ہائر ایجوکیشن کے ممبران بھی شامل کیے گئے تھے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی دو ڈی آئی جی لیول کے پولیس اہلکار اور ایک صوبائی سیکرٹری پر مشتمل ایک اعلی تحقیقاتی کمیٹی بھیجی ۔ ان سب نے مکمل تفتیش اور تحقیق کے بعد کہا کہ اس سکینڈل کا کوئی وجود نہیں ہے نہ کوئی ویڈیو بنی اور نہ برآمد ہوئی ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید کاروائی یہ کی گئی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ایک حاضر سروس جج کے تقرر کےلئے درخواست ارسال کردی ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد ڈوگر کو بطور ٹربیونل جج نامزد کیا تاکہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ کے منشیات استعمال کرنے ،بلیک میلنگ اور جنسی استحصال کرنے کی تفتیش کریں ۔

    جسٹس سردار ڈوگر نے پوری تحقیق کے بعد جو رپورٹ تیار کی اس کے درج ذیل نکات ہیں :
    یونیورسٹی کی حدود میں نہ تو مبینہ منشیات استعمال ہوئیں اور نہ ہی جنسی استحصال ہوا ۔ اور اس ضمن میں کوئی گینگ بھی نہیں پایا گیا جو ایسا ارتکاب کرتا ہو ۔ کسی پکے ثبوت یا شہادت کے بغیر ہی جنسی ہراسگی یا منشیات کے استعمال کے الزام پر پولیس نے اس کیس کو مس ہینڈل کیا اور یوں یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا ۔ یوینورسٹی میں طالبات یا ارکان جامعہ کے جنسی ہراسانی یا منشیات کے استعمال میں ملوث ہونے کی خبریں سوشل میڈیا کے لوگوں نے پھیلا ئیں جن سے یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا اور طالبات اور پروفیسرز کی عزت اور وقار پر بھی حرف آیا ۔
    ٹربیونل نے درج ذیل افراد کو سازش رچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا
    جمشید ڈی ایس پی /سی آئی اے
    ایس ایچ او تھانہ دراوڑ
    سید محمد عباس ڈی پی او بہاولپور
    عبداللہ نامی ٹاﺅٹ پولیس جس کے خلاف کریمنل مقدمے کی سفارش کی گئی
    اقرار الحسن سید ٹی وی اینکر ، یوٹیوبر /ولاگر اور ثاقب مشتاق یوٹیوبر اور بلاگر( لودھراں )

    ٹربیونل نے اپنی رپورٹ نے واضح طور پر لکھا کہ ان ولاگر نے بغیر تصدیق کے ولاگ کئے اور یونیورسٹی کو بدنام کیا ۔
    جسٹس سردار ڈوگر کی اس رپورٹ سے بھی یہ بات بالکل واضح ہورہی ہے کہ آئی یو بی ، اس کے سٹاف سابق وی سی اور طالبات کو ایک دانستہ سازش کے تحت بدنام کیا گیا ہے ۔

    یہاں ایک بہت اہم سوال بھی ہے کہ آئی یوبی کے خلاف یہ گھناﺅنی سازش کیوں کی گئی اور اس کے مقاصد کیا تھے ۔۔۔۔ ؟
    اس کا جواب یہ ہے پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے چار سال کے عرصہ میں یونیورسٹی کے تعلیمی اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کےلئے جو کاوشیں کیں ۔۔۔۔انھیں ناکام بنانا مقصود تھا ۔ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ایک طرف امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں،نامور ماہرِ تعلیم اور مثالی منتظم ہیں تو دوسری طرف وہ دین سے ، قرآن سے ، علما سے اور مساجد سے گہری محبت رکھتے ہیں۔انھوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے بیشمار اقدامات کئے ہیں ۔۔۔مثلاََ طلبہ وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ، لائق اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے وظائف جاری کئے گئے،ایسے مفید ڈگری پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جن کی معاشرے میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ، طلبہ وطالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر متعدد شفٹوں میں کلاسوں کا اجرا کیا گیا ، مختلف کیمپس میں ضروریات کے مطابق سہولیات میں اضافہ ہوا ، آمدو رفت کےلئے پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو نہ صرف بہتر کیا گیا بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا گیا ، صحت مند سرگرمیوں کے لئے کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں جاری کی گئیں ۔یہ وہ قدامات تھے جنھوں نے ایک طرف یونیورسٹی کے معیار تعلیم کو چار چاند لگا دیے تو دوسری طرف اس کی مقبولیت میں بھی بے حد اضافہ ہونے لگا ۔طلبہ وطالبات جوق در جوق یونیورسٹی کا رخ کرنے کےلئے اور یونیورسٹی کی کلاسز تنگ داماں کا شکوہ کرنے لگیں ۔فیکلٹیز جو پہلے صرف چھ تھیں ان کی تعداد13تک جاپہنچی ۔ پہلے یونیورسٹی میں کل وقتی اساتذہ 400تھے پھر ایک وقت آیاجب کل وقتی اساتذہ کی تعداد 400سے بڑھ کر 1400تک جاپہنچی ۔جب لائق فائق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ یونیورسٹی کی زینت بنے توطلبہ وطالبات کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کے اسلامیہ یونیورسٹی میں آنے سے پہلے طلبہ وطالبات کی تعداد صرف 13,000تھی جو 65,000ہزار تک جاپہنچی ۔ اسی طرح ڈاکٹر اطہر محبوب کے اس جامعہ میں آنے سے پہلے طالبات کی تعداد صرف 4000تھی جو 27,000تک چلی گئی ۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے یونیورسٹی میں آنے کے بعد والدین کا خصوصاََ بچیوں کے حوالے سے یونیورسٹی پر اعتماد میں اضافہ ہوا ۔

    یہ ہے ڈاکٹر اطہر محبوب کی تعلیمی کاوشوں کا مختصر تذکرہ ۔ ان کاوشوں کی وجہ سے علاقے میں موجود بعض نجی تعلیمی اداروں کے کاروبار مانند پڑنے لگے تھے اس کے ساتھ یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی مزید توسیع دی جائے گی ۔ اسلئے مبینہ طور پر یونیورسٹی کو بدنام کرنے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کا دوسری ٹرم کےلئے راستہ روکنے کی خاطر یہ ڈرامہ پلے کیا گیا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈرامہ جنھوں نے پلے کیاانھوں نے اچھے مسلمان اور شہری ہونے کا ثبوت نہیں دیا بلکہ چند ٹکوں کی خاطر اپنے ہی منہ پر کالک ملی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے عدالتی ٹربیونل نے اس شرمناک ڈرامہ کے جن کرداروں کی نشاندھی کی ہے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی توسیع دی جائے تاکہ انھوں نے پسماندہ علاقے کی جس یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کا جوسفر شروع کیا تھا وہ چلتا رہے ۔

    بہاولپوراسلامیہ یونیورسٹی میں خواتین ٹیچرزکاسی آئی اے پولیس پر ہراسانی کاالزام

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،بزدار دورمیں وائس چانسلرکو نکالنے کی سفارش ہوئی تھی

    سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو امریکہ جانے سے روک دیا گیا
    irshad arshad

  • پانچ فروری اظہار یکجہتی کشمیر کاسوال ،فیصلہ کن اقدام کاوقت کب آئے گا ؟تحریر: ڈاکٹر سبیل اکرام

    پانچ فروری اظہار یکجہتی کشمیر کاسوال ،فیصلہ کن اقدام کاوقت کب آئے گا ؟تحریر: ڈاکٹر سبیل اکرام

    مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کاخاتمہ بھارت کے ترکش کاآخری تیر تھاجسے اس نے تحریک آزادی کشمیرکوکچلنے اورناکام بنانے کے لئے استعمال کیا ہے گویا اب بھارت کے ترکش میں کوئی ایسا تیر نہیں بچا جسے وہ کشمیریوں پرچلااورتحریک آزادی کودباسکے۔ یہ درست ہے کہ ظلم کے ان حربوں اورہتھکنڈوں سے اہل کشمیر کے سینے شق اورلہولہان ہیں لیکن ان کے حوصلے بلندہیں۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں جوکچھ ہورہا اوربھارتی نیتا ﺅں کے پاکستان کے بارے میں جو عزائم وارادے ہیں یہ حالات بھارتی جارحیت کے سامنے مضبوط بندباندھنے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے عملی اقدام کے متقاضی ہیں۔یہ بات معلو م ہے کہ کشمیرتقسیم ہندکانامکمل ایجنڈاہے ان حالات میں یہ کافی نہیں کہ ہم سال میں ایک باراظہاریکجہتی کرلیں اور اس کے بعد لمبی تان کرسوجائیں ۔پانچ فروری تجدید عہد کادن ہے ۔ اس بات کاعہد کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں،مظلوم ہیں ،پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی مددوحمایت کرنا ہمارافرض ہے۔

    پانچ فروری اظہار یکجہتی کا مقصدمظلوم کشمیریوں کی آواز اور پیغام کو دنیا تک پہنچانا ، بین الاقوامی سطح پرمسئلہ کشمیر کواجاگر کرنااوراہل کشمیرکویہ بتلانا مقصودہے کہ آزادی کے سفرمیں وہ تنہانہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔پانچ فروری اظہار یکجہتی میں ہمارے لئے یہ بھی پیغام ہے کہ مسئلہ کشمیر کسی فرد یاجماعت کانہیں بلکہ پوری قوم کااجتماعی مسئلہ ہے۔انگلی،بازو،ہاتھ،پاﺅں کٹ جائے توانسان زندہ رہ سکتاہے لیکن شہ رگ کٹنے کے بعد روح اورجسم کارشتہ برقراررہنے کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ۔بانی پاکستان نے کہاتھا ”کشمیرہماری شہ رگ ہے“پھراس بیان کوحقیقت میں بدلنے کے لئے عملی قدم بھی اٹھایا تھا۔بعدازاں جب 1947میں جہادکشمیر شروع ہواتو پاکستانی قوم نے ایمانی جذبے کے ساتھ اس میں حصہ لیا تھا۔

    1947ءکی طرح آج بھی کشمیری مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور اپنے وطن میں ہونے کے باوجودہر قسم کی خوشی سے محروم قید بامشقت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔80لاکھ آبادی والے خطے میں 10لاکھ بھارتی فوجی دندنارہے ،کشمیریوں کا خون بہا رہے اوران کی لاشیں گرار ہے ہیں۔ ہردس کشمیریوں پرایک خونخوار فوجی بندوق تانے کھڑاہے۔ اتنی کم آبادی والے خطے میں اتنی بڑی تعدادمیں فوج کے تعینات ہونے کی دنیا میںکوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

    آج مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ظالمانہ اقدام کوساڑھے پانچ سال ہوچلے ہیں ۔ جیساکہ یہ بات پہلے ذکر ہوچکی ہے کہ یہ اقدام بھارت کے ترکش کاآخری تیر ہے جووہ آزماچکااور چلاچکا ہے ۔ 5اگست2019ءکے اقدام کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں کشمیرمیں جوظلم کیاوہ 1947ءکے بعد اب تک کے تمام مظالم پر حاوی اور بھاری ہے ۔ بھارتی فوجی بستیوں کا گھیراﺅ کرتے ، رگوں میں خون جمادینے والی یخ بستہ ہواﺅں ، برفباری میں بچوں،ب وڑھوں،خواتین اور بیماروں کو گھروںسے باہر کھلے آسمان تلے گھنٹوں کھڑارکھتے ہیں ۔

    ایک طرف برفانی موسم کی سختیاں ہیں تودوسری طرف بھارتی فوج کے مظالم ہیں۔بھارتی فوج کے ہاتھوں بستیاں، مکانات، باغات، دکانیں،تباہ اورنذرآتش ہونے کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگاراوربے گھر ہوچکے ہیں۔5اگست 2019 کے دنیا کے طویل ترین کرفیو کے نفاذ کے بعد کشمیری تاجروںکو اربوں روپے کانقصان ہواہے ۔نہایت ہی قابل احترام بزرگ سید علی گیلانی قید کی حالت میں وفات پاگئے جبکہ سید شبیرشاہ،میرواعظ عمر فاروق،مسرت عالم بٹ،یسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت حریت کانفرنس کی تقریباََ ساری قیادت اس وقت سے جیلوں میں قید ہے یاگھروں میںنظربندہے ان کومساجدمیں نماز جمعہ اداکرنے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔
    جموں کی حالت وادی سے بھی بدتر ہے۔شیوسینا،بجرنگ دل،آرایس ایس،وی ایچ پی کے مسلح دستے جموں کی شاہراﺅں ،راجوری،بدرواہ،کشتواڑ اوردیگر علاقوں میں گشت کرتے اورمسلمانوں کی بستیوں پرحملے کرتے ہیں۔وہ بھارتی غیر ریاستی ہندو فوجی جنہوں نے کسی وقت ریاست جموں کشمیر میں خدمات انجام دی تھیں ۔۔۔ان کی نسلوں کوجموں میں لایا اورآبادکیا جارہا ہے۔ جب1990ءمیں تحریک شروع ہوئی تب ایک لاکھ پنڈت بھارت جابسے تھے اب ایک لاکھ کی بجائے نولاکھ پنڈتوں کی آباکاری کامنصوبہ ہے۔اس طریقے سے بھارتی حکمران اسرائیلی طرز پرجموں میں آبادی کاتناسب بدلنے اوراسے فوجی چھاﺅنی بنانے پرتلے بیٹھے ہیں۔

    جہاں تک مقبوضہ جموں کشمیرکے مسلمانوں کاتعلق ہے وہ نامساعد اورسخت ترین حالات میں بھی خوف زدہ اورپسپا ہونے کی بجائے آزادی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہرقسم کی جانی ومالی قربانیاں دے رہے ہیں۔بھارتی فوج کے ظلم وستم کا کوئی بھی حربہ ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکاہے ۔ وہ آج بھی
    ”پاکستان سے رشتہ کیالاالہ الااللہ۔۔۔۔“
    کے نعرے لگاتے ہیں اور اس بات کا پختہ عزم وارادہ کئے ہوئے ہیں کہ آخری بھارتی فوجی کے انخلا اوروطن کی آزادی تک تحریک جاری رہے گی۔بھارتی فوج تمام تر مظالم کے باوجود آزادی کاجذبہ کچلنے میں ناکام ہے اس کاغصہ وہ سویلین کشمیریوں پر اتارتے ہیں ۔

    حقیقت یہ ہے کہ تحریک آزادی کشمیر فیصلہ کن موڑ پرپہنچ چکی ہے ۔۔۔۔ اب یا کبھی نہیں کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔بچوں ،بوڑھوں ،جوانوں،خواتین کے عزم وحوصلے بلند تر ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ اہل کشمیر اپنا حق اداکررہے ہیں ۔اس لئے کہ ۔۔۔۔۔پاکستان توکشمیری بچوں ،جوانوں ،بزرگوں اور ماﺅں بہنوں کاجزوِ ایمان ہے پاکستان ان کے دلوں میں بستا ہے۔بھارت کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کادعوی کرتاہے ،کشمیری جب یہ دعوی سن کر پاکستان کی طرف امدادطلب نظروں سے دیکھتے ہیں تویہاں سے جواب ملتاہے ہم مجبورہیں،مصلحتوں اورمفادات کے اسیرہیںلہذاآپ اپنے مسائل خود حل کریں۔حالانکہ اس وقت سیاچن، سرکریک، زراعت، تجارت،معیشت، پانی،بجلی ، سکیورٹی ، سلامتی ، دہشت گردی اورملک کے استحکام سمیت جتنے مسائل درپیش ہیں ۔۔۔سب کاحل صرف اورصرف مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط ہے۔گویا ایک ہی بات ہے کہ اگر۔۔۔۔۔ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے توہمارے تمام مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔یہ ایسی حقیقت ہے جسے75سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود ہم سمجھ نہ سکے جبکہ بھارتی حکمرانوں نے تقسیم ہندسے پہلے ہی اس حقیقت کوجان لیا تھا۔بھارتی پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ جس دن مسئلہ کشمیرحل ہوگیا پاکستان جغرافیائی اعتبار سے مکمل ہوجائے گا۔بات صرف جغرافیائی تکمیل کی نہیں اہل کشمیر کے ساتھ ہمارادین وایمان کارشتہ بھی ہے جوہم سے عملی مدد واقدام کامتقاضی ہے۔

    بھارت کے تمام سیاستدان، جماعتیں ،اخبارات ،چینلز کشمیریوں پرظلم ڈھانے اور اپنی پالیسیاں اہل کشمیر پالیسی مسلط کرنے کے بارے میں یکسوہیں۔ایسے میں ہمارافرض بھی ہے کہ ہم مظلوم کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لئے یک دل ویک جان اوریک قدم ویک آوازہوجائیں۔ خاص کرایسے حالات میں کہ جب بھارت کے پاکستان کے بارے میں ارادے بالکل واضح ہیں۔

    بھارتی نیتا پوری ڈھٹائی وبے شرمی سے پاکستان میں کھلی اوراعلانیہ مداخلت کے مطالبے کررہے ہیں اوردوسری طرف دکھ یہ ہے کہ ہمارے حکمران کشمیرکی آزادی کے لئے عملی قدم اٹھاتے ہوئے ،شرماتے اورگھبراتے ہیں۔ ہم 1990ءسے پانچ فروری کادن اظہار یکجہتی کشمیرکے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں لیکن مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے آج تک ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھاسکے ۔ جبکہ پانچ فروری کادن عملی اقدام کامقتاضی ہے ۔پانچ فروری کے دن میں ہمارے لئے پیغام ہے کہ ظلم وجبرسے قوموں کودبایا اورغلام نہیں بنایاجاسکتا۔ انگریز اورہندوتقسیم ہندکے خلاف،پاکستان کے قیام دشمن اورمسلمانوں کوغلام بناکررکھناچاہتے تھے لیکن پھرجو ہواوہ دنیا نے دیکھا انگریز اورہندودونوں ناکام ہوئے ،ہندوستان تقسیم ہوااورپاکستان قائم ہوا۔ ایسے ہی ہماراایمان ہے کہ ان شاءاللہ مقبوضہ جموں کشمیر بھی بھارتی تسلط سے آزادہوگا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہمارے حکمران اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے عملی قدم اٹھائیں۔بھارت کے ساتھ تعلقات،ترجیحات اورمذاکرات میں مسئلہ کشمیر سرفہرست رکھیں،دنیا کے تمام ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کئے جائیں،مظفرآباد کوصحیح معنوں میں بیس کیمپ بنائیں اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کوبنیادبناتے ہوئے عالمی عدالت انصاف سمیت تمام بین الاقوامی فورمز سے رجوع کریں۔

  • اگلا وزیراعظم کون ،بلاول بھٹو یا علیم خان؟

    اگلا وزیراعظم کون ،بلاول بھٹو یا علیم خان؟

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے پنجاب میں اپنی حالیہ انتخابی مہم کے دوران حکمت عملی کے ساتھ تحریک انصاف سے نواز یا نو نواز کی بحث پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ گیلپ پولز اور بلومبرگ کی جانب سے نواز کی حمایت کے باوجود حقیقت بالکل مختلف ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت اس وقت کم ترین سطح پر ہے، نواز شریف کے لئے وزرات عظمیٰ کا چوتھی بار عہدہ سنبھالنا ایک دور کا خواب لگتا ہے جو شاید پورا نہ ہو،

    جہانگیر ترین اور آصف زرداری دونوں نمبر گیم کھیلنے کے ماہر ہیں۔ انتخابی عمل میں آزاد امیدوار بڑی تعداد میں موجود ہیں جس کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ قانون کے مطابق ان آزاد امیدواروں کو انتخابی نتائج کے تین دن کے اندر کسی بھی پارٹی میں شامل ہونا ضروری ہے۔

    لاہور کے حلقہ این اے 127 میں سخت ترین مقابلہ متوقع ہے جہاں پی ٹی آئی کے ظہیر کھوکھر بلاول بھٹو کو سخت چیلنج دیں گے۔ اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کے عطا تارڑ کی پوزیشن کمزور ہے۔ کھوکھر، جسے سیاہ گھوڑا سمجھا جاتا ہے، فتح حاصل کر سکتا ہے، جیسا کہ دو ہفتے قبل باغی ٹی وی کے پروگرام یاسمین کی بیٹھک میں پیش گوئی کی تھی۔

    ایک اور دلچسپ پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔ پی ٹی آئی آزاد امیدواروں کی حمایت کے لیے "پراکسیز” استعمال کر سکتی ہے، ممکنہ طور پر مجلس وحدت مسلمین اور جے یو پی شیرانی سے اتحاد ہو سکتا ہے۔ اگر یہ حقیقت بن جاتی ہے تو "نئی” پی ٹی آئی کے اندر عمران خان کے مستقبل کا مشاہدہ کرنا دلچسپ ہوگا۔ کیا وہ نئی قیادت کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور ہو جائیں گے؟ حکومت بنانے میں کچھ ہفتوں کا وقت لگے گا، مارچ تک شاید حکومت بن جائے۔ یہ پیشین گوئی 3 فروری کو نشر ہونے والے پروگرام یاسمین کی بیٹھک میں بھی کی گئی تھی۔

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گھر میں قید میں رکھنے کے بھی اثرات ہیں۔ اگرچہ اس کے گھر میں قید کرنا،بنی گالہ کو سب جیل میں تبدیل کرنا قابل احترام ہے، لیکن سخت قید کی سزا نہیں ہے۔ سیاست میں آنے والے اکثر قیمت کے ساتھ آتے ہیں،وہ شاذ و نادر ہی آزاد ہوتے ہیں،
    موجودہ صورتحال انتہائی غیر متوقع ہے، جس کے نتیجے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا،

  • سیاست میں جھوٹ کی فیکٹریاں، کوئی پوچھنے والا نہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاست میں جھوٹ کی فیکٹریاں، کوئی پوچھنے والا نہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قصہ مختصر ،8 فروری کو الیکشن کے بعد ہمیں وہ صدر اور وزیراعظم ملے گا جس کے ہم مستحق ہیں،بلاشبہ لفظ جمہوریت ایک عمدہ لفظ ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں سیاسی قائدین نے اس لفظ جمہوریت کو بے کار بنا دیا ہے امریکہ میں صدارتی امیدوار ٹرمپ اور بائیڈن ایک دوسرے کو بوڑھا قرار دے رہے ہیں اب ان دونوں میں نوجوان کون ہے اس کا فیصلہ امریکی عوام کریں گے،تاہم ہمارے ملک میں آئین، جمہوریت، قانون کو ہمارے سیاستدانوں نے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے جیسے پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں عوام سے ایک مذاق کیا تھا آج پھر الیکشن کا اور ووٹ لینے کا وقت قریب ہے پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چل کر عوام کو گھر دینے کا وعدہ کر رہی ہے عوام سن رہے ہیں کوئی پیپلزپارٹی سے سوال کرے وہ کون سے وسائل ہیں جو بروئے کار لاکر ان سہولیات سے عوام کو فیض یاب کریں گے، تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ مگر کیسے؟

    ہماری سیاست میں جھوٹ، افواہ سازی ایک فیکٹری کی حیثیت رکھتی ہے،مہنگائی، بیروزگاری کے عذاب میں مبتلا عوام کو جھوٹے وعدوں پر اپنا گرویدہ بنا کر انہیں خط غربت سے نیچے گرانا سیاست نہیں انتقام ہے،سیاستدانوں کی اکثریت نے اور کچھ موقع پرستوں نے پاک افواج کو اور جملہ اداروں کو بدنام کیا جسے کسی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،یہ کہاں کی عقلمندی ہے کون سی سیاست ہے ملکی دفاع پر مامور افواج اور جملہ اداروں کو بدنام کیا جائے کیا کبھی کسی نے سوچنے کی زحمت گواراکی کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقاءحاصل ہے اداروں کو بدنام کرنا ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے،ان اداروں کی ایک اہمیت ہے 8 فروری کوعوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت غور کریں کس سیاسی جماعت نے کیا وعدے کئے اور کتنے وعدوں پر عمل کیا؟ اور آج ہم کس مقام پر کھڑے ہیں، پارلیمنٹ ہائوس میں جانے والے راستوں پر کس سیاسی جماعت کو اکثریت سے کامیاب کرنا ہے۔

  • عمران خان کو سزا: آگے کیا ہوگا؟

    عمران خان کو سزا: آگے کیا ہوگا؟

    عمران خان کو سزا: آگے کیا ہوگا؟

    سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیم 203 کے تحت عدالت نے باضابطہ فرد جرم عائد کی ،اسکے بعد سیکشن 3 سیکشن سی اور 9 کے تحت بیان کردہ الزامات کے نتیجے میں دونوں کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

    عمران خان کے سرکردہ وکلاء کو آئندہ انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ ملنے کے ساتھ قانونی کارروائی تنازعات کی زد میں آ گئی تھی۔ عدالتی سماعتوں سے عمران خان کے وکلاء کی غیر حاضری کی وجہ سے عدالتی کاروائی کو آگے بڑھانے کے لیے سرکاری وکلاء کی تقرری کی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے سزا ملنے کے بعد عدالت کے باہر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی قانونی ٹیم کو گواہوں سے جرح کرنے کا موقع نہیں دیا گیا،تیزی سے سماعت اور گواہوں کو نمٹانے سے مقدمے کی شفافیت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    سائفر کیس میں عمران خان کے ملوث ہونے کا لنک حوالہ کے لیے ذیل میں دیا گیا ہے:

    حالیہ پیش رفت کے اثرات آئندہ انتخابات تک پھیلے ہوئے ہیں، آزاد امیدوار جنہیں تحریک انصاف نے نامزد کر رکھا ہے، انکا الیکشن کے بعد الگ ہونے کا امکان ہے، 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ آزاد اراکین کو انتخابی نتائج کے تین دن کے اندر کسی پارٹی میں شامل ہونا ہو گا، اور پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے نزدیک انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کے بعد انتخابی نشان اور پارلیمانی پارٹی کی حیثیت کھو چکی ہے.

    توشہ خانہ کیس میں بھی عمران خان کی قانونی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں۔سابق وزیر اعظم عمران خان، اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنادی گئی،بشریٰ بی بی کو بھی گرفتار کر لیا گیا،۔ دونوں کو 10 سال تک کسی بھی عوامی عہدے پر فائز رہنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

    ایک حالیہ پیش رفت میں، تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تاکہ عمران خان سے ان کے سیاسی فیصلوں،بشمول قومی اسمبلی سے علیحدگی، جنرل باجوہ اور فیض کے خلاف الزامات سمیت دیگر امور کے بارے میں بات کی جا سکے، یہ وہ الزام تھا جوعمران خان نے پہلے امریکہ کو اپنی پارٹی کے زوال کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد لگایا تھا، عمران خان کی جانب سے سیاسی فائدے کے لیے سائفر کا مبینہ استعمال کیاگیا، جیسا کہ اعظم خان کے ساتھ بات چیت میں انکشاف ہوا، ان کی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ان کے قومی اسمبلی سے نکلنے اور صوبائی حکومتوں کو تحلیل کرنے پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ ارشادبھٹی کا کہنا ہے کہ خان کے جوابات سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ (کامران شاہد شو)

    لنک

    جیسے جیسے قانونی کارروائی شروع ہوئی.سیاسی تناؤ بڑھتا جاتا ہے، عمران خان اور پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہو گا، جس کے اثرات پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر پڑتے ہیں۔