Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آنیوالی حکومت کے لیے چیلنجز، تجزیہ، شہزاد قریشی

    آنیوالی حکومت کے لیے چیلنجز، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے 8 فروری کے انتخابات کے بعد آنے والی حکومت کو بہت سی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی تبدیلی جس سے پاکستان اور عوام ، خوشحالی کی زندگی گزار سکیں۔ پاکستان کو کسی ایسے وزیراعظم کی ضرورت نہیں جو اقتدار او اختیارات کے خود بھی مزے لوٹے اور کابینہ کے ارکان بھی عیاشیاں کریں۔ اور عوام اندھیروں میں زندگی گزارے سب سے پہلا کام معیشت کو مستحکم کرکے ، بجلی اورگیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے ۔ بے روزگاری اور مہنگائی پر توجہ دے۔ ملکی وسائل پر توجہ دے کر ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے نجات دلائے ۔ خارجہ پالیسی پر از سر نو توجہ دے ۔ سیاستدانوں کو سڑکوں کی سیاحت سے نکل کر ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔دھرنا ہو گا مرنا ہوگا کی سیاست کو دفن کرنا ہو گا۔ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کو دفن کرنا ہو گا۔ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست سے عوام بیزار ہو چکی ہے ۔

    دنیا میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں ۔ نئی پالیسیاں سامنے آرہی ہیں۔ سیاستدان ایک ذمہ دار قوم کا اور سیاستدان کا ثبوت دیں۔ صدق دل سے اس ملک و قوم کے لئے اپنے آپ کو تبدیل کریں۔ آج سے 40,30 سال بعد اس ملک کو چلانے کی ذمہ داری نوجوانوں پر ہوگی۔ پڑھے لکھے نوجوانوں پر خصوصی توجہ د یں انہیں کا ہل اورناکارہ نہ بنائیں نوجوانوں کو نااُمیدی کی غار میں دھکیل دیا گیا ہے نوجوان بھی اپنے آپ کو اس ملک کے لئے کسی کے پروپیگنڈے میں نہ آئیں وطن عزیز کو آپ پر ناز ہے وطن عزیز کا آپ مستقبل ہیں۔آنے والی حکومت سے گذارش ہے کہ آپ کی ترجیحات ہیں ۔ ملک کے نوجوان سر فہرست ہونے چاہئیں ان کے لئے روزگار کے لئے اچھی جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں۔ سیاسی گلیاروں میں ایسے ایسے منظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کا تصور ممکن نہ تھا۔

  • 9وزیر اعظم،4عام انتخابات،2024انتخابات کتنےسابق وزرائے اعظم میدان میں؟

    9وزیر اعظم،4عام انتخابات،2024انتخابات کتنےسابق وزرائے اعظم میدان میں؟

    نجی ٹی وی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کی 70 سالہ سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اتنے حیران کن واقعات سامنے آئیں گے ، صرف وزرائے اعظم کے عہدہ سنبھالنے ، عہدے پر قائم رہنےا ور گھر روانگی کی تاریخ بھی بہت دلچسپ ہے ۔

    پاکستان کی 20سالہ انتخابی تاریخ کی بات کریں تو 4 جنرل الیکشن2002،2008،2013اور2018 کا انقعاد ہوا ۔آئین پاکستا ن کے مطابق وزیر اعظم بھی چار ہونے چاہیے مگر یہاں سابق وزیر اعظموں کی تعداد ڈبل سے ایک زیادہ یعنی9ہے۔ 9وزیر اعظم وفاق میں عوام کے نمائندے کے طور پر اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوئے۔سوال یہ ہے کہ 8فروری کو ہونے والے انتخابات میں کون کون سے سابق وزرائے اعظم حصہ لے رہے ہیں؟
    سابق وزرائے اعظم کن کن حلقوں سے الیکشن لڑیں گے؟
    ملک میں آئندہ ماہ ہونےوالے انتخابات میں صرف 4سابق وزرائے اعظم حصہ لے رہے ہیں ۔ان میں مسلم لیگ ن کے سربراہ اور تین بار وزیر اعظم رہنے والے میاں محمد نواز شریف اور ان کے بھائی میاں محمد شہباز شریف شامل ہیں جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی انتخابی میدان میں اپنی قسمت پھر سے آزمائیں گے۔یہ چاروں سابق وزرائے اعظم کن کن حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں انکی تفصیل درجہ ذیل ہے۔

    سابق وزیر اعظم میں محمد نواز شریف قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے اپنی قسمت آزمائیں گےجس میں کے پی کےضلع مانسہرہ حلقہ این اے 15اور پنجاب کے ضلع لاہور این اے 130 شامل ہیں ۔سابق وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ضلع لاہور سے این اے 123 سےضلع قصور سے این اے 132سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ضلع ملتان سے قومی اسمبلی کی نشست این اے148سے اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ضلع راولپنڈی سے این اے52 سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
    چاروں سابق وزرائے اعظم کے مد مقابل امیدوارکون؟
    پیپلزپارٹی کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے مد مقابل آزاد امیدوار (تحریک انصاف کے حمایت یافتہ۔انتخابی نشان پیالہ) طارق عزیز بھٹی ایڈووکیٹ ،مسلم لیگ ن کے راجہ محمد جاوید اخلاص اور جماعت اسلامی کے چودھری عابد حسین ہیں۔

    میاں محمد نواز شریف این اے 15 مانسہرہ سے حصہ رہے ہیں ۔اس حلقے میں ان کے مد مقابل آزاد امیدوار (تحریک انصاف کے حمایت یافتہ )شہزادہ محمد گستاسف خان ،جمعیت علماء اسلام نےمفتی کفایت اللہ ،پیپلزپارٹی کے زرگل خان،جماعت اسلامی کے خالد خان یوسفزئی ہوں گے۔لاہور این اے 130کی بات کریں تو یہ حلقہ مسلم لیگ ن کا آبائی حلقہ اور گڑھ کہلاتا ہے۔اس حلقے سے نواز شریف کے مد مقابل آزاد امیدوار (تحریک انصاف کی حمایت یافتہ ،انتخابی نشان لیپ ٹاپ)ڈاکٹر یاسمین راشد، پیپلزپارٹی سے اقبال احمد خان،جماعت اسلامی کے خلیق احمد بٹ ہیں۔

    سابق وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف پنجاب سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔این اے 123لاہور سے ان کے مد مقابل آزاد امیدوار (تحریک انصاف کے حمایت یافتہ انتخابی نشان ریڈیو) افضال عظیم ایڈووکیٹ ،پیپلزپارٹی کے رانا ضیاء الحق،اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔

    ضلع قصور سے این اے 132سے ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار(پاکستان تحریک انصاف کا حمایت یافتہ۔انتخابی نشان کرکٹ وکٹ)سردار محمد حسین ڈوگر،پیپلزپارٹی کے شاہین صفدر اور جماعت اسلامی کے نعیم حیدر ہیں۔

    سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مد مقابل آزاد امیدوار(تحریک انصاف کا حمایت یافتہ،انتخابی نشان گھڑیال)بیرسٹر تیمور ملک،مسلم لیگ ن کے احمد حسین ڈیہڑ ہیں ۔
    2018 ان حلقوں میں کون جیتا کون ہارا؟
    این اے 15مانسہرہ 2018 کے الیکشن میں اس حلقے سے مسلم لیگ ن کامیاب ہوئی،تحریک انصاف کے امیدوار زر گل 20ہزار ووٹوں کے مارجن سے ہار گئے تھے۔واضح رہے رزگل خان تحریک انصاف کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔این اے 130نواز شریف کے اس حلقےکی بات کریں تو 2018 کے انتخابات میں یہ حلقہ این اے 125تھا جہاں سے میاں محمد نواز شریف تا حیات نااہلی کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑ سکے تھے ان کی جگہ وحید عالم خان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر123066ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مد مقابل تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد17ہزار186ووٹوں کے مارجن سے شکست کھا گئی تھیں۔

    2018 میں یہ حلقہ این اے 132تھا جہاں سے میاں محمد شہباز شریف ہی کامیاب ہوئے تھے انہوں نے تحریک انصاف کے امیدوار محمد منشاسندھو کو 46ہزار 771ووٹوں سے شکست دی تھی۔سابق وزیر اعظم شہباز شریف جس حلقے سے الیکشن لڑ رہےہیں گزشتہ انتخاب میں اس حلقے سے راشید احمد خان 1لاکھ ووٹ لے کر کامیا ب ہوئے انہوں نے تحریک انصاف کےامیدوار سردار راشد طفیل کو 50ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔راجہ پرویز اشرف 2018 کےانتخابات میں اپنے حلقے سے 1لاکھ 25ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا حلقہ 2018میں این اے 154تھا تحریک انصاف کے احمد حسین ڈیہڑ کامیاب ہوئے تھے انہوں نے یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبد القادر گیلانی کے بیٹے کو 10ہزارو وٹوں کے مارجن سے شکست دی تھی۔واضح رہے احمد حسین ڈیہڑ اب مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے ہیں۔
    کیاان حلقوں میں اب بھی کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے؟
    انتخابی سیاست کا پہلا اصول ،انتخابی ٹکٹ اس حلقہ کا حاصل کیا جائے جہاں کامیابی یقینی ہو ۔اگر 4سابق وزرائے اعظم کےانتخابی حلقوں کو دیکھا جائے تو سب نے ان حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جہاں جیت یقینی ہو۔میاں محمد نواز شریف مانسہرہ سے اپنے داماد کپٹن صفدر کے آبائی حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔دوسرا اہم حلقہ لاہور گوالمنڈی مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے۔

    سینئر صحافی مبشر بخاری کا کہنا ہے کہ ’اس حلقے میں 2018کے مقابلے میں کانٹے دار مقابلہ نہیں ہو گا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جیل میں ہیں اور ان کی انتخابی مہم اس طرح سے نہیں ہو رہی جیسے گزشتہ انتخابات میں ہوئی۔

  • شمالی کوریا کے کروز میزائل فائر کرتے ہی ایک اور محاذ کھل گیا

    شمالی کوریا کے کروز میزائل فائر کرتے ہی ایک اور محاذ کھل گیا

    شمالی کوریا کے کروز میزائل فائر کرتے ہی ایک اور محاذ کھل گیا
    سیول نے رپورٹ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے کروز میزائل فائر کیے ہیں، جس سے حالیہ میزائل تجربات کے درمیان علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ بدھ کو شمالی کوریا نے Pulhwasal-3-31، ایک نئے اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ کیا، شمالی کوریا نے 2022 کے آغاز سے لے کر اب تک ایک سو سے زیادہ میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔

    شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کے تجربے تشویش کو جنم دیتے ہیں،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا مقصد یوکرین پر روس کے حملے سے عالمی توجہ ہٹانا ہے اور ساتھ ہی ساتھ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو بھی آگے بڑھانا ہے۔ خاص توجہ شمالی کوریا کی جانب سے ہائپرسونک میزائلوں کا تعاقب ہے، جو نسبتاً کم اونچائی پر چلتے ہوئے آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتے ہیں۔ ہائپرسونک میزائلوں کا اہم فائدہ رفتار کے بجائے ان کی چالبازی میں مضمر ہے، جو انہیں روایتی میزائل ڈیفنس سسٹم کے خلاف مضبوط بناتا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے پانچ سالہ منصوبے میں ہائپرسونک ہتھیاروں کی حفاظت کو ایک اہم مقصد کے طور پر شناخت کیا ہے جس کا مقصد فوجی طاقت کو تقویت دینا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ٹھوس ایندھن والے ICBMs اور ایٹمی آبدوز کی ترقی ہے۔ ان پیش رفتوں کے پیچھے سٹریٹجک ہدف میزائل شیلڈز اور ارلی وارننگ سسٹم کو روکنا ہے، جس سے شمالی کوریا کی جارحانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔

    یہ تیز رفتار میزائل شمالی کوریا کے ابھرتے ہوئے جوہری خطرات کے جواب میں جنوبی کوریا اور امریکہ کے مشترکہ جوہری ڈیٹرنس کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے فیصلے کے موافق ہیں۔ پیانگ یانگ نے نہ صرف متعدد میزائل تجربات کیے ہیں بلکہ ایک جاسوس سیٹلائٹ بھی لانچ کیا ہے، جو علاقائی سلامتی کی حرکیات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

    جغرافیائی سیاسی صف بندیوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے، چین شمالی کوریا کی حمایت کر رہا ہے جبکہ امریکہ اور جاپان جنوبی کوریا کی حمایت کر رہے ہیں۔ اتحادوں کا یہ پیچیدہ جال خطے میں عدم استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بالادستی کے لیے کوشاں عالمی طاقتوں کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔

    شمالی کوریا کے مسلسل میزائل تجربات، خاص طور پر ہائپر سونک ہتھیاروں کا تعاقب، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے اور بنیادی سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

  • ڈاکٹری نسخے علاج یا موت کے پروانے۔۔؟

    ڈاکٹری نسخے علاج یا موت کے پروانے۔۔؟

    ڈاکٹری نسخے علاج یا موت کے پروانے۔۔؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    گھربیٹھا تھا، دروازے پر دستک ہوئی ،باہرگیا تو قریبی ہمسایہ موجود تھا،اس کے ساتھ ایک بچی تھی جس نے ایک معصوم بچے کو اٹھایا ہواتھاجس کی عمر ایک ماہ تھی،اس ہمسائے نے بتایا کہ یہ میرابچہ ہے اسے کھانسی تھی شہرمیں بچوں کے سپیشلسٹ ڈاکٹرکودکھایا ہے ،اس نے یہ ٹیکے لکھے ہیں اور یہ لگوانے ہیں ،مہربانی کرکے یہ ٹیکے تو لگادیں،جب معروف ڈاکٹرکالکھاہوانسخہ دیکھاتو ایک جھٹکا سالگا،ایک ماہ کے بچے کیلئے جوٹیکے لکھے گئے تھے وہ تین قسم کی اینٹی بائیوٹک پرمشتمل تھے ،پینے کیلئے الگ سے ایک اور سیرپ کی صورت چوتھی انیٹی بائیوٹک موجود تھی۔ٹیکوں کی جوڈوزلکھی ہوئی تھی وہ کم ازکم ایک سال کے بچے کوبھی نہیں دی جاسکتی تھی اور مزیدستم یہ کہ وہ تمام ادویات کٹ ریٹ والی تھیں جوعام مارکیٹ میں دستیاب بھی نہیں تھیں وہ صرف ڈاکٹرموصوف کے کلینک میں موجود اٹیچ فارمیسی پر دستیاب تھیں ۔
    یہ واقعہ لکھنے کامقصد صرف یہ تھاکہ ہمارے ملک پاکستان میں نامی گرامی ڈاکٹرزعلاج کے نام پرکس طرح انسانی جانوں پر ظلم ڈھارہے ہیں ، پاکستان میں ڈاکٹرز کی جانب سے غیر ضروری طور پر اینٹی بائیوٹکس ادویات کے نسخوں سے متعلق تازہ طبی تحقیق میں ماہرین نے شہریوں کو سنگین خطرات سے خبردار کردیا ہے۔آغا خان یونیورسٹی اور لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی حال ہی میں مرتب کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مریضوں کو اینٹی مائکروبائل ریزسٹینس (AMR) کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے ایم آر کا مطلب یہ ہے کہ بیکٹیریا، وائرس اور پیراسائٹس میں ان ادویات جو ان کے خاتمے کیلئے دی جاتی ہیں کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوجاتی ہے ، اس کی بنیادی وجہ ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کو اندھا دھند اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کرانا ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق صرف سال 2019 میں اینٹی مائکروبائل ریزسٹینس (AMR) سے دس لاکھ سے زائد اموا ت ہوئیں۔

    حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے اندھا دھند استعمال کے پیچھے وہ ڈاکٹرز ہیں جو مخصوص ادویات تجویز کرنے کیلئے فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ذاتی فوائد یا مراعات حاصل کرتے ہیں، اس صورت حال کی ایک وجہ اینٹی بائیوٹکس کی میڈیکل اسٹور پر کھلے عام فروخت بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 90 فیصد پرائیویٹ ڈاکٹر ہفتہ وار بنیادوں پر فارماسیوٹیکل سیلز کے نمائندوں سے ملتے ہیں اور یہ کہ پاکستان میں مراعات کو قبول کرنا یا حاصل کرنا معمول کی بات ہے۔رپورٹ کے مطابق اے ایم آر سے متعلق اقوام متحدہ کے انٹر ایجنسی کو آرڈینیٹنگ گروپ کا اندازہ ہے کہ 2050 تک اے ایم آر دنیا بھر میں 10 ملین لوگوں کی موت کا باعث بن سکتا ہے۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(پی ایم اے)کے جنرل سیکرٹری، اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے رکن ڈاکٹر عبدالغفور شورونے تسلیم کیا کہ مفادات کے لئے کچھ ڈاکٹر دوا ساز کمپنیوں کی فروخت بڑھانے کیلئے اینٹی بائیوٹکس اور دیگر ادویات تجویز کرنے میں مصروف ہیں، وہ لوگ تحائف، دوروں پر جانے کی پیشکش اور دیگر مالی فوائد کے بدلے میں ایسا کرتے ہیں۔

    عالمی ماہرین ادویات و صحت نے عالمی سطح پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال کے رجحان کے بارے میں حال ہی میں شائع ہونے والی اہم تحقیق میں کہا ہے کہ عالمی سطح پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں سن دو ہزارسے اب تک پینسٹھ فیصدسے زائد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ پیش رفت لوگوں کی صحت پر منفی اثرات کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک ہے۔ دنیا کے ستر سے زائد ممالک میں ہونے والی اس نئی تحقیق میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں اضافے کے حوالے سے پاکستان کو چین اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

    امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی اس تحقیق میں محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کے غیر محتاط استعمال میں اضافے سے بیماریوں کے خلاف ان ادویات کا اثر کم ہو رہا ہے جبکہ پاکستان میں مختلف بیماریوں کے خلاف اینٹی بائیوٹک ادویات غیر مئوثرثابت ہو رہی ہیں۔ یہ تحقیق حال ہی میں امریکا کی اکیڈمی آف سائنسز کے پروسیڈنگس میں شائع ہوئی ہے۔

    نومبر 2022ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال جاری ہے اور ملک میں 70 فیصد مریض غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس استعمال کر رہے ہیں۔قومی ادارہ صحت کے مطابق اینٹی بائیو ٹکس کے بے دریغ استعمال سے جراثیموں میں ان ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے اور ہر سال ہونے والی 25 فیصد اموات کی وجہ اینٹی بائیو ٹکس کا غیر ضرروی استعمال بھی ہے۔

    ستمبر 2022 میں عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے پاکستانی عوام سے اپنی مرضی سے ادویات استعمال نہ کرنے کی اپیل کی تھی،
    نمائندہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، اینٹی بائیو ٹکس کے بے دریغ استعمال سے جراثیموں میں ان ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ جیسی مہلک بیماری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہی حال رہا تو زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس بیماریوں کے خلاف بے اثر ہو جائیں گی ،ڈبلیو ایچ او کی اپیل کے باوجود پاکستان میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، 2021 کے مقابلے میں 2022 میں اینٹی بایوٹکس کے استعمال میں 17 فیصد اضافہ ہوا ،پاکستانی حکام کے مطابق صرف 2022 میں ہی ملک بھر میں 134.5 ارب روپے کی اینٹی بایوٹکس ادویات خریدی گئیں۔

    اب ذرا اینٹی بائیوٹک کے چیدہ چیدہ نقصانات کو دیکھتے ہیں۔
    ٭غیر محتاط استعمال سے ان کا استعمال بیماریوں کے خلاف کم ہوتا جا رہا ہے
    ٭زیادہ دیر تک اینٹی بائیوٹک کا استعمال بڑی آنت میں کینسر کا سبب بن جاتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک کا استعمال ہمیشہ ٹیسٹ و تشخیص کے بعد ہی کیا جائے ٹائیفائیڈ اور یرقان میں اینٹی بائیوٹک کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک کے زیادہ استعمال سے جگر کو بھی نقصان پہنچتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک کے زیادہ استعمال سے الرجی اور پیٹ خراب ہو جاتا ہے
    ٭ اینٹی بائیوٹک کا بار بار استعمال ان کا اثر کم کر دیتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک کا بار بار استعمال آپ کو ذیابیطس کے مرض میں مبتلا کر سکتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک جب خون کے ذریعے آپ کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے تو یہ بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہے لیکن ہمارے جسم میں کچھ اچھے بیکٹیریا بھی ہوتے ہیں یہ دوا ان کا بھی خاتمہ کر دیتی ہے جس سے صحت متاثر ہوتی ہے۔
    جنوری 2011 کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے برعکس پاکستان سمیت اکثر ترقی پذیر ملکوں میں اینٹی بائیوٹک ادویات کھلے عام فروخت ہوتی ہیں اور ان کی خرید کے لئے کسی ڈاکٹری نسخے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر کم عمر بچوں کو اینٹی بائیوٹک دوا دینے کی صورت میں اس کے نتائج انتہائی خطرناک برآمد ہوسکتے ہیں،ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ایک سال سے کم عمر بچوں کواینٹی بائیوٹک دئے جانے سے ان میں شدید اور مہلک علامتیں پیدا ہونے کا خطرہ 40 فی صد تک ہوتاہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چھوٹے بچوں کو اگر اینٹی بائیوٹک دوا کا دوسرا کورس کرایا جائے تو یہ خطرہ 70 فی صد تک بڑھ جاتا ہے ۔

    امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایسے بچوں پر تحقیق کی جو اینٹی بائیوٹک کے استعمال کے بعد دمے یا سانس کی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے۔تازہ ترین تحقیقی جائزے سے یہ معلوم ہوا کہ بچوں میں دمے اور سانس کی بیماریوں کا اینٹی بائیوٹک دواسے گہرا تعلق موجودہے۔ برطانیہ میں دمے میں گیارہ لاکھ بچے مبتلا ہیں ۔ یہ تعداد دنیا کے کسی بھی ملک میں اس مرض میں مبتلا بچوں سے زیادہ ہے۔اس سے قبل ہونے والے کئی سائنسی مطالعوں میں بھی یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ بچوں میں دمے کا مرض پیدا ہونے میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا بھی ہاتھ ہے، لیکن اس خدشے کو مسترد کرنے والے طبی ماہرین کی تعداد بھی کچھ کم نہیں تھی۔ تاہم اس سلسلے میں تازہ تحقیق زیادہ جامع اور ٹھوس شواہد پیش کرتی ہے۔

    اگرچہ اکثر معالج کم عمر بچوں کو انٹی بائیوٹک دینے سے گریز کرتے ہیں لیکن انفکشن کی شدت اور چھاتی کے امراض میں اس کا استعمال ضروری ہوجاتا ہے۔ییل یونیورسٹی کی اس سائنسی تحقیق میں 1400 بچوں کے کیسوں کا مطالعہ کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا کم عمری میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے وہ چھ برس کی عمر کو پہنچنے تک دمے یا سانس کی کسی بیماری کے مریض تو نہیں بن گئے تھے۔ تحقیق میں یہ امور بھی پیش نظر رکھے گئے کہ آیا متاثرہ بچوں کے والدین یا ان کے خاندان میں دمے کا مرض موجود تو نہیں تھا اور یہ جائزہ بھی لیا گیا کہ اینٹی بائیوٹک کا استعمال چھ ماہ کی عمر سے پہلے ہوا تھا یا بعد میں۔تحقیق سے یہ ظاہر ہوا کہ کم عمر بچوں کو اینٹی بائیوٹک دیے جانے سے ان میں عمر بڑھنے پر دمے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرے میں نمایاں اضافہ ہوا۔

    ڈاکٹر کیری رائزنز جنہوں نے اس تحقیق کی قیادت کی کا کہنا ہے کہ مطالعے کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ڈاکٹروں کو اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے ممکنہ حدتک گریز کرنا چاہیے ، خاص طورپر کم عمر بچوں میں کیونکہ ان کا معدافتی نظام کمزور ہوتا ہے اور جراثیم کش ادویات ان کی نشوونما کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے 87 ممالک سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے غلط اور زیادہ استعمال سے بیماریوں کے ساتھ ساتھ انفیکشنز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    ان تحقیقاتی رپورٹس کا مطالعہ کرنے کے بعدیہ سوال پیداہوتا ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹرجو نسخوں میں ادویات لکھ رہے ہیں وہ عوام الناس کو صحت یاب کرنے کی بجائے موت کے منہ میں دھکیل رہے اور ڈاکٹروں کے یہ لکھے ہوئے نسخے موت کے پروانے ثابت ہورہے ہیں ،آخرکب تک عوام کے ساتھ علاج کے نام پر یہ کھلواڑ کھیلا جاتا رہے گا،کیا کوئی ہے جو پاکستانی عوام کو اس مکروہ دھندے میں ملوث مافیاء کے کارندوں سے بچاسکے؟۔

  • کرپٹ افسران کے اثاثے کیسے بڑھے، تحقیقات ضروری، تجزیہ: شہزاد قریشی

    کرپٹ افسران کے اثاثے کیسے بڑھے، تحقیقات ضروری، تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں پاک فوج کی کاوشیں اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی کاوشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ پولیس کی قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور میں تین دن رہنے کے بعد پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ۔ آئی جی پنجاب کی محکمانہ فلاح و بہبود سمیت لاہور کو جرائم پیشہ افراد سے محفوظ بنانے کی کاوش پر آئی جی پنجاب کی اور ان کی ٹیم کے کرداروں کو بالخصوص ڈی آئی جی احسن یونس جو سیف سٹی کے انچارج ہیں، لاہور کو محفوظ بنانے میں ان کے کردار کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ نگران وزیراعلیٰ کے جاری منصوبوں جو عوامی فلاح کے ہیں امید ہے الیکشن کے بعد کامیاب ہونے والی سیاسی جماعت جاری رکھے گی۔ سیف سٹی کا دائرہ کار پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں بڑھایا جا رہا ہے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی۔ پنجاب سمیت راولپنڈی میں تعینات قابل محنتی افسران تعینات ہیں لیکن کچھ افسران ایسے بھی تعینات ہیں جو نگران وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب کے لئے سوالیہ نشان ہیں.

    راولپنڈی میں تعینات سی پی او کی محنت ،تگ و دو کی وجہ سے اغواء برتاوان گاڑیوں کی چوریوں میں کمی واقع ہوئی لیکن کچھ ڈی ایس پی اور ایس پی کے عہدوں پر تعینات ایسے افسران ہیں جو اعلیٰ پولیس افسران کے لئے بدنامی کا باعث ہیں سیاستدانوں کے اثاثوں کی تحقیقات تو ہوتی ہیں اگر پنجاب سمیت راولپنڈی میں تعینات پولیس افسران کے اثاثوں کی تحقیقات ہوں تو عوام کو معلوم ہوگا کہ ان کے بھرتی کے وقت کیا اثاثے تھے آج بڑے بڑے فارم ہائوسز کے مالک کیسے بن گئے۔ لینڈ مافیاز، ڈرگز مافیا، سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والے افراد سے یارانے، بڑے بڑے جوئے کے اڈے چلانے والوں سے ماہانہ بھتہ، ڈی جی نیب کو سیاستدانوں کے علاوہ ان افسران کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دینا ہوگی۔

    بلاشبہ آنے والی حکومت اگر ایمانداری سے ملک چلانا چاہتی ہے تو اسے وطن عزیز اور عام آدمی کو ان مافیاز سے محفوظ بنانا ہوگا۔ ملکی وسائل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ حسد اور لالچ سے پاک سول بیورو کریسی افسران اور پولیس افسران کو تعینات کرنا ہوگا سچ پوچھئے تو پاکستان بطور ریاست کرپٹ ترین سیاستدانوں، کرپٹ ترین پولیس افسران سول انتظامیہ، قصیدے لکھنے ، بولنے والے دانشوروں سے تنگ آچکی یہ خدا کی زمین پر اور پاکستان پر بوجھ ہیں ان کو اتار پھینکیں۔

  • عام انتخابات  2024،چیلنجز اور حقائق

    عام انتخابات 2024،چیلنجز اور حقائق

    انتخابات سیاسی میراتھن کی انتہا نہیں بلکہ خاتمے کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں انتخابی مہم کے دوران بے دریغ اخراجات کئے جاتے ہیں، جہاں ایک نشست جیتنا اکثر مالی فوائد کا گیٹ وے بن جاتا ہے۔ 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار آزادانہ طور پر الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں، جواپنی سیٹ جیتنے کے بعد سب سے زیادہ قیمت لگوا ئیں گے، اس طرح سیاسی منظر نامے کو پیچیدہ بنا دیا جائے گا۔

    متنازعہ دعوے اور ناقابل عمل وعدے:
    تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن کی جانب سے بلے کا نشان واپس لئے جانے کے بعد خواتین کی مخصوص نشستوں اور اقلیتوں کی نشستوں سے محروم کر دیا گیا، اس عمل سے تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی میں سیٹوں کی کمی ہو گی،اس سے آزاد امیدواروں کو حکمت عملی کے مطابق پوزیشن حاصل کرنے کے لئے کہا جائے گا۔ اس اخراج کے بارے میں آگاہی غیر روایتی موقف اختیار کرنے کے خواہشمند دعویداروں کی تعداد کو محدود کر سکتی ہے۔
    مزید برآں، سیاسی جماعتیں ایسے وعدے کر رہی ہیں جو آئی ایم ایف کے معاہدوں کی خلاف ورزیوں یا حکومت کے محدود مالی وسائل کی وجہ سے ناقابل تکمیل لگتے ہیں۔ اس طرح کے وعدے، گدھے کے آگے گاجر لٹکانے کے مترادف، ووٹروں میں غیر حقیقی توقعات کو فروغ دینے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

    منشور اور منفی بیانیہ:
    مسلم لیگ ن کا منشور، جو ابھی تک سامنے نہیں آ سکا، انتخابی مہم کے دوران سیاسی پارٹیاں مخالفین پر سیاسی حملہ کرنے کے روایتی حربے میں مصروف ہیں،ایک دوسرے کو کالی بھیڑیں کہا جا رہا ہے، موجودہ سماجی و اقتصادی ماحول میں یہ بیانیہ تیزی سے ناقابل قبول سمجھا جا رہا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی، اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایک پر امید بیانیہ کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ بے بنیاد الزامات سے ہٹ کر عملی حل کی طرف توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی عدم موجودگی آمدنی میں اضافے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے،

    کمزور حکومت کی توقع:
    انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے؟ نظر آ رہا ہے کہ ایک کمزور حکومت بنے گی، سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے، ممکنہ طور پر قومی مفادات پر مبنی متفقہ فیصلوں پر سمجھوتہ کرنا، یہ کمزوری ملک کو آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے واپس لے آتی ہے، کیونکہ سیاسی استحکام معاشی استحکام کے لیے اہم بن جاتا ہے۔

    نتیجہ:
    جیسے جیسے پاکستان 2024 کے انتخابات کے قریب آ رہا ہے، اسے کثیر جہتی چیلنجوں کا سامنا ہے جو روایتی سیاسی بیان بازی سے آگے بڑھتے ہیں۔ جیت کے بعد مالی مذاکرات سے لے کر ناقابل عمل وعدوں تک، سیاسی منظر نامہ ایک باریک بینی کا تقاضا کرتا ہے۔ مستقبل کے معاملات کو نیویگیٹ کرنے کے لیے ایک پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے منفی بیانیے سے نکلنا، حقیقت پسندانہ حل پر توجہ، اور قومی مفادات سے وابستگی ضروری ہے۔

  • محمد الرسول اللہ ﷺ ،غیر مسلموں کی نظر میں ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    محمد الرسول اللہ ﷺ ،غیر مسلموں کی نظر میں ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    محمد الرسول اللہ ﷺ ۔۔۔۔تاریخ عالم کی ۔۔۔۔۔وہ باکمال اور لاجواب ہستی ہیں جن کی تعریف وتوصیف صرف زمین والے ہی نہیں آسمان والے بھی کرتے ہیں، مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی کرتے ہیں ۔ اسلئے کہ نبی ﷺ خالق کائنات کا انتخاب ہیں اور انتخاب ِ لاجواب ہیں ۔سمندروں کی سیاہیاں ختم ہوسکتی ہیں ، قلم ٹوٹ سکتے ہیں اور الفاظ ختم ہوسکتے ہیں لیکن نبیﷺ کی شان ، مقام اور احترام کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ ہمارے نبی ﷺ کا مقام واحترام تو وہ ہے کہ جہاں مسلم ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہیں ۔ کفارِ مکہ سے لے کر آج تک بے شمار غیر مسلموں نے بھی اپنے اپنے انداز میں نبی ﷺ کی صداقت ، دیانت ، شرافت ، عظمت ، شجاعت اور سخاوت کو تسلیم کیا ہے۔ ایک غیر مسلم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ” فقط مسلم کا محمد ﷺ پہ اجارہ تو نہیں “ ۔مطلب یہ ہے محمد ﷺ صرف مسلمانوں کے ہی نہیں تمام انسانوں کے ہیں اسی لئے تو قرآن مجید میں رسالت ماٰب ﷺ کو رحمة العالمین کہا گیا ہے ۔ بارگاہ ِ نبوت میں گلہائے عقیدت پیش کرنے کا جو سلسلہ کوہ فاران سے شروع ہوا تھا وہ آج تک جاری ہے اور قیامت کی دیواروں تک جاری رہے گا ۔ اسے کہتے ہیں ” فضلیت ، عظمت اور بڑائی وہ ہے جسے دشمن بھی تسلیم کریں “ ۔
    ہر دور میں اور چہار وانگ عالم میں بڑے بڑے محقق اور مفکرین اپنی تحریروں میں سرورِ کائنات ﷺ کو گلہائے عقیدت پیش کرتے رہے ہیں۔۔۔۔۔ ان میں سے کچھ تروتازہ اور ایمان افروز پھول نذر قارئین ہیں مقصد یہ ہے کہ ہمارے ایمان ، محبت اور عقیدت میں اضافہ ہو ۔

    اپنے وقت کا عظیم جرنیل اور مدبر نپولین بوناپارٹ نبی ﷺ کی بارگاہ میں ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے”محمدﷺ سالارِ اعظم اور محبت ِ فاتح ِ عالم تھے۔ آ پ ﷺ نے اہلِ عرب کو محبت اور اتحاد کا درس دیا ، بکھرے ہوﺅں کو جوڑا ۔ ان کے آ پس کے تنازعات ، اختلافات اور مناقشات اس طرح سے ختم کیے کہ تھوڑی ہی مدت میں آ پ ﷺ کی امت نے نصف دنیا کو فتح کر لیا۔جب نبی ﷺ دنیا میں تشریف لائے اس وقت عرب خانہ جنگی میں مبتلا تھے اور یہ خانہ جنگی سینکڑوں سال سے چلی آرہی تھی ۔ دنیا کی اسٹیج پر دیگر قوموں نے جو عظمت و شہرت حاصل کی اہل ِ عرب نے بھی اسی طرح ابتلاءو مصائب کے دور سے گزر کر عظمت حاصل کی، اپنی روح اور نفس کو تمام آلائشوں سے پاک کر کے تقدس و پاکیزگی کا جوہر حاصل کیا اور دنیا کو اتحاد واتفاق کا درس دیا “ ۔یورپ کا مشہور عالم فلسفی ، ریاضی دان ، معلم ، مترجم ، مورخ تھامس کارلائل نبی ﷺ کی صداقت وعظمت کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے۔”صحرائے عرب کی یہ عظیم شخصیت جنہیں دنیا ”محمد“ کے نام سے جانتی ہے پاکیزہ روح، شفاف قلب و بلند نظری اور مقدس خیالات رکھتا تھا۔ جن کو خدا ہی نے حق و صداقت کی اشاعت کے لیے پیدا کیا“ ۔موھن چند کرم داس گاندھی کہتے ہیں”نبی ﷺ وہ ہستی ہیں جنھوں نے تمام دنیا سے خراج تحسین وصول کیا ہے ۔ جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہو گئے۔ اسلام دین باطل نہیں ہے، ہندوﺅں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام نے بزورِ شمشیر سرفرازی اور سربلندی حاصل نہیں کی بلکہ اس کی بنیادنبی کا خلوص، وعدوں کا پاس، غلاموں ، دوستوں اور احباب سے یکساں محبت ہے ۔ آ پ ﷺ کی جرات و بے خوفی ، اللہ اور خود پر یقین جیسے اوصاف ِ حمیدہ دنیا کو گرویدہ کرلیا ۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ اس کی فتوحات میں یہی اوصاف حمیدہ شامل ہیں اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی مدد سے مسلمان تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پیش قدمی کرتے چلے گئے“۔عالمی شہرت یافتہ روسی ادیب کاﺅنٹ لیوٹالسٹائی کہتا ہے”محمد ﷺ عظیم الشان مصلح ہیں، جنہوں نے اتحاد امت کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ ان کے فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے وحشی انسانوں کو نورِ حق کی جانب ہدایت کی اور ان کو اتحاد، صلح پسندی اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کرنے والا بنا دیا اور ان کے لیے ترقی و تہذیب کے راستے کھول دیئے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑا کام صرف ایک فرد واحد کی ذات سے ظہور پذیر ہوا“مشہور مستشرق سر ولیم میور اپنی کتاب لائف آ ف محمد ﷺ میں لکھتے ہیں ”ہمیں بلا تکلف اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ تعلیم نبوی ﷺ نے ان تاریک توہمات کو ہمیشہ کے لیے جزیرہ نمائے عرب سے باہر نکال دیا جو صدیوں سے اس ملک پر چھائے ہوئے تھے، ب±ت پرستی نابود ہو گئی، توحید اوراللہ کی بے پناہ رحمت کا تصور محمد ﷺ کے متبعین کے دلوں میں جاگزیں ہو گیا ، معاشرتی اصلاحات کی گئیں ۔ ایمان کے دائرہ میں برادرانہ محبت، یتیموں کی پرورش، غلاموں سے احسان و مروت جیسے جوہر نمودار ہو گئے۔ امتناع شراب میں جو کامیابی اسلام نے حاصل کی کسی دوسرے مذہب کو نصیب نہیں ہوئی“۔بھارت کے بانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کہتے ہیں”سچی توحید نے مسلمانوں کے اندر خوف ، جرات، بے باکی ، شجاعت و بسالت پیدا کر دی اور عزم و ارادوں میں اس درجہ پختگی پیدا کردی کہ پہاڑوں کو اپنی بلندی اور مضبوطی ان کے سامنے ہیچ نظر آنے لگی اور ان کے مقابل سمندروں کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ توحید کی ایسی تعلیم آ پ ﷺ نے مسلمانوں کو دی کہ جس سے ہر قسم کے توہمات کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ ہر قسم کا خوف دلوں سے نکل گیا۔ یہ سب اس ہستی کے سبب تھا جس کو مسلمانوں نے نبی آخر الزماں کہا اور دوسروں نے اس کو بنی نوع انسان کا ایک عظیم رہنما جانا“۔مشہور فرانسیسی مورخ موسیو سیدیو نبی کریم ﷺ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں”محمد ﷺ یوں تو محض امی تھے۔ مگر عقل و رائے میں یگانہ روزگار تھے۔ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیشانی ملتے ۔ مساکین کو دوست رکھتے۔ کبھی فقیر کو فقر کے سبب حقیر نہ جانتے اور نہ کسی بادشاہ سے اس کی بادشاہی کے سبب سے خوف کھاتے تھے“۔

    بیسویں صدی کا مشہور مفکر اور دانشور جارج برناڈ شالکھتا ہے”میں نے رسول اکرم ﷺ کے دین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ آ پ ﷺ عیسائیوں کے دشمن تھے۔ میں نے اس حیرت انگیز شخصیت کی سوانح مبارک کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ میری رائے میں نبی ﷺ نوع انسان کے محافظ تھے “۔مسٹر ایڈورڈ مونٹے کہتے ہیں”آ پ ﷺ نے سوسائٹی کے تزکیہ اور اعمال کی تطہیر کے لیے جو اسوہ حسنہ پیش کیا ہے وہ آپ کو انسانیت کا محسن اوّل قرار دیتا ہے“۔ڈاکٹر جی ویل نے حضور اکرم ﷺ کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے ’ ’بے شک حضرت محمد ﷺ نے گمراہوں کے لیے ایک بہترین راہ ہدایت قائم کی اور یقینا آ پ ﷺ کی زندگی نہایت پاک صاف تھی۔ آ پ ﷺ کا لباس اور غذا بہت سادہ تھی۔ مزاج میں تمکنت نہ تھی یہاں تک کہ وہ اپنے متبعین کو تعظیم و تکریم کے رسمی آ داب سے بھی منع فرماتے تھے۔ اپنے غلام سے کبھی وہ خدمت نہ لی جس کو آپ خود کر سکتے تھے۔ بازار جا کر خود ضرورت کی چیزیں خریدتے، اپنے کپڑوں میں پیوند لگاتے، خود بکریوں کا دودھ دوہتے اور ہر وقت ہر شخص سے ملنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ بیماروں کی عیادت کرتے تھے ، ہر شخص سے مہربانی کا برتاﺅ فرماتے تھے۔ “اب تاریخ کے صفحات سے ایک اورگواہی ملاحظہ فرمائیں ۔ یہ مشہور امریکی تاریخ دان ، ماہر فلکیات ڈاکٹر مائیکل ایچ ہارٹ ہیں جو کہ مذہباََ یہودی ہیں اور دنیا بھر میں اپنی کتاب
    The 100 A Ranking Of The Most Influential Persons History
    ” تاریخ کی سو انتہائی متاثر کن شخصیات “ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب میں سو ایسی عظیم شخصیات کا تذکرہ کیا ہے جنھوں نے تاریخ عالم پر گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اس کتاب انھوں نے نبی ﷺ کا تذکرہ سب سے پہلے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ” میں نے اپنی کتاب میں ان سو آدمیوں کا تذکرہ کیا جنہوں نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں سب سے پہلے محمد ﷺ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے بعض لوگ حیران ہوں گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ۔۔۔۔؟ ایسا کرنے کی میرے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود ہے وہ یہ کہ کائنات میں جتنی بھی ہستیاں آئیں جب ہم ان کے حالات پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بچپن سے لڑکپن میں کسی نہ کسی استاد کے سامنے بیٹھے تعلیم پاتے نظر آ تے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ہستیوں نے پہلے مروجہ تعلیم حاصل کی پھر اس کو بنیاد بنا کر انہوں نے زندگیوں میں کچھ اچھے کام کر دکھائے لیکن دنیا میں فقط ایک ہستی ایسی نظر آ تی ہے کہ جس کی زندگی کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھی نظر نہیں آ تی۔ وہ ہستی ہیں محمدﷺ ۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا سے علم نہیں پایا بلکہ دنیا کو ایسا علم دیا کہ اس جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا اور نہ بعد میں کوئی دے گا۔ لہٰذا اس بات پر میرے دل نے چاہا کہ جس شخصیت نے ایسی علمی خدمات سرانجام دی ہوں میں غیر مذہب کا آدمی ہونے کے باوجود ان کو تاریخ کی سب سے اعلیٰ شخصیات میں پہلا درجہ دینے پر خود کو مجبور پاتا ہوں۔ریمنڈ لیروگ نبی ﷺ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے”نبی عربی ﷺ اس معاشرتی اور بین الاقوامی انقلاب کے بانی ہیں جس کا سراغ اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتا۔ انہوں نے ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھی جسے تمام کرہ ارض پر پھیلنا تھا اور جس میں سوائے عدل اور احسان کے اور کسی قانون کو نہیں ہونا تھا۔ ان کی تعلیم تمام انسانوں کی مساوات، باہمی تعاون اور عالمگیر اخوت تھی“۔

    غیر مسلم مورخین کے ان گلہائے عقیدت سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ رسالت ماٰ ب ﷺ کی محبت وعقیدت ان کے دلوں میں بھی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان بھی دل وجان سے رسول مقبول ﷺ کے اقوال ، افعال اور احوال کو حرز جان بنائیں اور ان پر عمل کریں اسی میں ہماری دین ودنیا کی کامیابی اور کامرانی ہے ۔

  • رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سوچ اور اپروچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی علمی وجاہت اور ثقاہت سے انکار ممکن نہیں ۔ مولانا ابولکلام آزاد کی ایک مشہور تقریر کااقتباس ہے جس میں وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ” وہ ہمارے ہی آباءتھے جو سمندروں میں اتر گئے ، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا ، بجلیاں آئیں تو ان پہ مسکرا دیے ، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا ، صرصر اٹھی تو رخ پھیر دیا، ہوائیں چلیں تو کہا جاﺅ تمہارا راستہ یہ نہیں۔۔۔۔۔ آج ہمارے ایمان کی جان کنی کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آپس میں دست وبہ گریبان ہیں اور خدا سے اس درجہ غافل ہیں کہ جیسے کبھی اس پر ایمان نہ تھا ۔ یاد کرو ۔۔۔۔! وہ وقت جب تم ہندوسان میں آئے ، تب تم انگلیوں پر گنے جاتے تھے تم نے گنگا اور جمنا کے پانیوں سے وضو کرکے بتکدہ ہند میں نعرہ توحید بلند کیا تھا ۔ اس وقت تمہارے لئے نہ خوف تھا نہ ڈر تھا ۔“

    توحید کی برکت سے جس ہندوستان پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی تھی ۔۔۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسی ہندوستان کی سرزمین مسلمانوں کےلئے اجنبی ہوچکی ہے ۔ اس ہندوستان میں مسلمانوں کی عزتیں محفوظ رہیں ، نہ مسجدیں اور نہ جان ومال ۔ جس کی تازہ مثال بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہے ۔ بابری مسجد نہ تو اچانک شہید کی گئی تھی اور نہ ہی اس جگہ راتوں رات رام مندر تعمیر ہوا ہے بلکہ سالہاسال میں یہ دونوں پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں ۔ بابری مسجد جب شہید کی گئی اس وقت بھارت کے مسلمانوں نے مقدور بہ احتجاج کیا اگرچہ اس احتجاج کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت ادا کرنا پڑی لیکن اب جبکہ نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی پہلی منزل کا افتتاح کیا ہے تو چہار سو سناٹا ہے ۔پاکستان جو بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کا وکیل تھا اس پاکستان کے حکمرانوں نے رام مندر کی تعمیر کو ایک اخباری بیان پر ٹرخا دیا ہے ۔ جہاں تک بھارت کے مسلمانوں کا تعلق ہے ۔۔۔وہ بیچارے کریں تو کیا کریں۔۔۔۔ جائیں تو کہاں جائیں ۔ جس پاکستان کے قیام کےلئے انھوں نے جانی مالی قربانیاں دی تھیں ۔۔۔۔اس پاکستان نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں ۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے بھارتی مسلمانوں میں احتجاج کی سکت بھی نہیں رہی ۔ یہ سب اسلئے ہورہا ہے کہ پاکستان بھارت میں رہ جانے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو بھول چکا ہے۔پاکستان کے قیام کےلئے سب سے زیادہ قربانیاں ان علاقوں کے مسلمانوں نے دی تھیں جہاں وہ خود اقلیت میں تھے اور ہندو اکثریت میں تھے ۔ اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے پاکستان کےلئے سب کچھ قربان کرنے کا نہ صرف عہد کیا بلکہ یہ عہد ایفا بھی کردیا تو وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں تھے انھوں نے کہا تھا ہمارے بھائیو۔۔۔۔! پاکستان بن جانے کے بعد ہم تمہیں بھولیں گے نہیں ۔

    23مارچ 1940ءکو جب لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا تو اس میں ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے شرکت کی تھی ۔ اس اجلاس میں جب وہ قراداد پیش کی گئی جو تاریخ میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی تو اس کے بعد مسلمانوں کی خوشی کا دیدنی عالم تھا ۔ تب میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے سید رﺅف شاہ نے مسلم اکثریتی صوبوں سے آئے ہوئے وفود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا”جان سے عزیز بھائیو!جب آپ آزاد اور خود مختار ہوجائیں گے تو بھارت کے ہندو ہمیں نیست ونابود کر دیں گے۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی جائے گی ،ہمیں شودروں کی طرح زندگی بسر کرنا ہوگی،اس کے باوجود ہم خوش ہوں گے کہ کم از کم آپ تو آزاد فضا میں سانس لیں گے۔جب آپ آزاد ہو جائیں اور آزاد مملکت میں زندگی بسر کرنے لگیں تو کبھی کبھی ہمارے لئے بھی دعائے مغفرت کر لیا کرنا۔“سید رﺅف شاہ اپنی ساری تقریر کے دوران روتے رہے ،ہزاروں شرکائے اجلاس کوبھی رولادیا ۔ آخر میں کہنے لگے”بھائیومیرے آنسو اس لئے نہیں کہ ہندو ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے،ہمیں چیریں پھاڑیں گے بلکہ یہ تو خوشی کے آنسو ہیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں زندگی بسر کریں گے جو آزاد ہو گا اور جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہو گی۔“سید رﺅف شاہ نے جب یہ بات کہی تو مجمع پر عجب کیفیت طاری ہو گئی،آنسو بے قابو ہو گئے ، ضبط کے بند ھن ٹوٹ گئے اور ہچکیاں بندھ گئیں۔تب حاضرینِ اجلاس میں سے بعض اٹھے اور کہاپاکستان صرف ہمارا ہی نہیں آپ کابھی ہو گا ،یہ اسلام اور قرآن کا ملک ہو گا۔ ہم بھارت میں رہ جانے والے اپنے بھائیوں کوبھولیں گے اور نہ بے یارومددگا ر چھوڑ یں گے۔آپ کا تحفظ اور مدد ہمارا اولین فرض ہو گا۔بھارت میں رہ جانے والے مسلمان سمجھتے تھے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہوگا ان کی عزت وعصمت کا محافظ ونگہبان ہوگا ۔ پاکستان سے پھر محمد بن قاسم اور محمود غزنوی جیسے مجاہد پیدا ہوں گے جو ان کی ماﺅں بہنوں ، بیٹیوں اور مسجدوں کی حفاظت کریں گے ۔ان کی طرف بڑھنے والے ہندﺅوں کے ہاتھ کاٹیں گے ۔

    یہ تھے 23مارچ1947ءکے موقع پر مسلمانوں کے احساسات اور جذبات ۔افسوس صد افسوس آج ہم یہ سب کچھ بھول گئے ۔ بابری مسجد شہید کر دی گئی ہماری غیرت ایمانی نہ جاگی ۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہوگیا ۔۔۔۔۔تب بھی ہمارے حکمران ، سیاستدان ،تمام مذہبی سیاسی جماعتیں اور میڈیا خاموش تماشائی بنے رہے ۔

    بابری مسجد۔۔۔۔ جو کعبہ کی بیٹی تھی ،عالی شان تھی اس کانام ونشان بھی مٹادیا گیا ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گاﺅ ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ۔۔۔۔ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گاﺅ ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔

    بابری مسجد کو بچانے پاکستان پہنچا نہ کوئی دوسرا مسلمان ملک ۔ مسجد کو بچانے کےلئے صدائے احتجاج بھارت کے مسلمانوں نے ہی بلند کی جس کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت چکانا پڑی ۔ اس کے بعد مسلمان سپریم کورٹ پہنچے ان کا خیال تھا کہ شائد سے انھیں یہاں سے انصاف ملے گا ، وہ سمجھتے تھے کہ یہ عدلیہ کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے جہاں انصاف کا ترازو تھامے منصف بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ عدلیہ میں بیٹھے جج بھی ہندو پہلے اور جج بعد میں ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ جس طرح بابری مسجد کی شہادت کے وقت جنونی ہندﺅوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ایسے ہی بھارتی عدلیہ نے بھی انصاف کا قتل عام کیا ۔ سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی پٹیشن کے جواب میں جو فیصلہ سنایا وہ بھی دنیا کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ تھا ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا اگرچہ ہمیں کسی مندر کے آثار نہیں ملے تاہم جھگڑا نمٹانے کےلئے ضروری ہے کہ یہاں مندر بنادیا جائے ۔ بہر حال مندر بن گیا اس کا افتتاح بھی ہوگیا ۔ حقیقت میں دیکھاجائے تو یہ مندر زمین پر نہیں مسلمانوں کی غیرت ایمانی سے تہی لاشوں پر بنا ہے ۔ جب غیرت مر جائے اور ایمان مردہ ہوجائیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے مسلمان سنبھل جائیں ، پاکستان کے حکمران ،سیاستدان ، جرنیل اپنی ذمہ داری کو سمجھیں نفرت اور انتقام کی جس آگ میں ہمارے ہندوستانی مسلمان جل رہے ہیں اسے بجھائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ آگ ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔

  • ایران کا پاکستان پر حملہ ، وجوہات

    ایران کا پاکستان پر حملہ ، وجوہات

    پاکستا ن پر ایران کے حالیہ حملہ ، جو اس نے علیحدگی پسند گروپ جیش العدل پر کیا، نے بہت سے لوگوں کو اس طرح کے اقدام کے پیچھے محرکات پر سوالیہ نشان چھوڑ اہے۔ ایران کا یہ حملہ عسکریت پسند تنظیم پر سٹریٹجک حملے کے بجائے علامتی دکھائی دیتا ہے،

    واقعات کا سلسلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے پاکستان پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے اور شام میں میزائل داغے۔ ایران کے جیش العدل پرحملے کے نتیجے میں کم از کم دو بچوں کی المناک موت واقع ہوئی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے فوی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے.

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس پر ایران کا حملہ عالمی سطح پر بھی بات ہوئی، تجزیہ کار ان جارحانہ چالوں کی وجہ ایران کو درپیش بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی دباؤ کو قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل کے ہاتھوں سید رازی موسوی کا حالیہ قتل، اس کے بعد ایران کے IRGC کے مرحوم سربراہ قاسم سلیمانی کی یادگار پر حاضری دینے والے سوگواروں پر تباہ کن حملہ، جس کا دعویٰ افغانستان کی ISIL نے کیا ، ہو سکتا ہے کہ ایران کو مزید حملوں کا خطرہ ہو، مزید برآں، جیش العدل کی جانب سے راسک پولیس اسٹیشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے، جس کے نتیجے میں 11 ایرانی سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے نے مزید تناؤ پیدا کر دیا۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے ممکنہ انٹیلی جنس کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اپنی سرحدوں میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کے بارے میں مسلسل شکایات کے باوجود، صورتحال سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی حد تک نہیں بڑھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پر ایران کے حملے کے روز ہی نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ دونوں ممالک آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں بیک وقت مشترکہ بحری کارروائیاں کر رہے تھے۔

    جہاں ایران کے حملے کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں پاکستان کا فوری ردعمل افغانستان کو ایک اشارہ دیتا ہے۔ چین کے دونوں ممالک میں مفادات کے ساتھ ہر طرح کے تصادم کا خطرہ قابل فہم نہیں لگتا۔ امید ہے عالمی برادری کشیدگی کو مزید بڑھنے سے پہلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو اپنے دور کے صاحب طرز ادیب عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنی پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    hussain saqib