Baaghi TV

Category: بلاگ

  • زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ….

    کبھی اپنا وقت بھی آ ئے گا…. یہ کہنے کو تو ایک تسلی ہے مگر اس ایک جملے میں ہم نہیں جانتے کتنے ہی لوگ اپنی امیدوں کے پورا ہونے کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور پھر اپنی حسرتوں اپنی امیدوں کو اپنے ساتھ لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ,
    البتہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ جاتے ہیں کہ انہوں نے وقت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی بجائے ایک چھوٹی سی کوشش بھی کی ہوتی تو شاید ان کی تکلیفیں کم ہوجاتیں,
    اور جو لوگ اپنی حیثیت کے مطابق کوشش بھی کرتے ہیں مگر اس کے اردگرد کے لوگ اس کو support نہیں کرتے اگر ایسے وقت اسے تھوڑی سی بھی support مل جائے تو کئی لوگ اپنے رویوں میں نہ صرف تبدیلی لے آئیں گے بلکہ اس انسان کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ بھی کریں گے
    ہم زندگی میں کئی لوگوں سے ملتے ہیں ان کے مسکراتے چہرے دیکھ کر اکثر غلط اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ بھرپور زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کے مسکراتے چہروں کے پیچھے کئی راز ہوتے ہیں جو نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ وہ کسی پر ظاہر ہونے دیتے ہیں.
    مانتی ہوں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا مگر جس انسان نے اپنے بھلے وقت میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی, اپنوں کا خیال رکھا مگر جب اس انسان پر برا وقت آتا ہے ناں تو یقین کریں جس پر ان کو پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے وہی اس انسان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور وہ انسان ان کے سامنے ڈوب رہا ہوتا ہے مگر وہ دور سے تماشائی بنے اس کا تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں.
    کیا اپنوں کا ایسا طرز عمل اس انسان کو ہمت دے گا ؟؟؟
    اس کو تو اوع دلبرداشتہ کردے گا کہ میں کیا کرتا رہا اور میرے ساتھ کیا ہورہا ہے….
    آ ج یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے ذہن میں کئی سوالات امڈ رہے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اپنے ہی لوگ اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں…
    وہ مجھے بتا رہی تھی کہ اب گھر میں بیچنے کو کچھ بھی نہیں بچا, گاڑی خالہ کو بیچ دی اب ایک چھت رہ گئی ہے وہ بھی جیٹھانی کہہ رہی کہ اگر بیچنا ہوا تو مجھے بتا دینا میں خرید لونگی….
    یہ اس عورت کو کہا جا رہا ہے جو انہی لوگوں کا اس وقت سہارا بنی جب اس کی جیٹھانی بیوہ ہوئی تھی اور اس کے گھر کے اخراجات بچوں کی پڑھائی کا زمہ اس عورت نے اٹھایا تھا اور آخر کار اسکے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے…
    کہتے ہیں ناں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا کسی کو اللہ دے کر آ زماتا ہے اور کسی کو اس سے محروم رکھ کر,
    اس عورت کے شوہر کی جاب چار پانچ سال پہلے کسی وجہ سے چلی گئی اور تب سے یہ عورت کسی کے آ گے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود گھر سے باہر کام کرنے جانے لگی اور وہی ہوا جو ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے کہ اسے کئی طرح کی باتوں کا تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
    آ ج وہ کسی کام سے میرے گھر آئی تو میری زرا سی تسلی سے اس کی آنکھیں بھر آ ئیں
    میرے چپ کروانے پر بولی کہ کاش میرے گھر والوں کو میری تکلیفوں کا احساس ہو کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں, وہ روتے روتے کہنے لگی کہ آپا میں بہت حساس ہوں شاید…. میری ماں بھی نہیں رہی کہ اس کی گود میں سر رکھ کر رو لوں, میں اپنے بچوں میں اپنی ماں کا پیار ڈھونڈتی ہوں کہ مجھے وہ سہارا دیں مگر آپا ان کو بھی میری تکلیفیں نظر نہیں آرہی…
    میں کیسے ان کی ضرورتیں پوری کررہی ہوں یہ ان کو نہیں پتا…
    بس دعا کرتی ہوں کہ اللہ کسی کو سب کچھ دے کر پھر تنگدستی نہ دے کیونکہ عیش و آرام کے بعد تنگدستی کی زندگی جینا بہت کٹھن ہے.
    میں نے اسے حوصلہ دیا کہ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اللہ پر بھروسہ رکھو تو آ نسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی اور ساتھ گویا ہوئی آپا میں اپنے شوہر کو کہتی ہوں کوئی کام تلاش کرے تو کہتا ہے کوئی کام ملتا ہی نہیں تو کیا کروں کہاں جا کے کام کروں تم کام کررہی ہو ناں… اور جب جواب میں اسے کہتی ہوں میرے میں ہمت نہیں رہی ہے گھر میں بیٹھنے سے کام تمھیں نہیں ملے گا ڈھونڈنا شروع کروگے تو ملے گا تو کہتا ہے ساری زندگی میں نے عیش کروائی ہے کیا ہوگیا جو اب تم کام کر رہی ہو.
    آپا کیا وہ عیش کی زندگی میں نے اکیلے گزاری تھی کہ اب سارا بوجھ مجھے اٹھانا پڑ رہا ہے ؟ اس عیش میں اس کے اپنے گھر والے بھی تو تھے ناں

    یہ کہتے وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی مگر میرے پاس اس کے سوالوں کا جواب نہیں تھا سوائے تسلی دینے کے کہ حوصلہ رکھو سب بہتر ہوجائے گا تو جواب میں اس کا جواب آیا کہ جب میں ہی نہ رہی تو سب ٹھیک ہوگا بھی تو مجھے کیا….

    اس کی اس بات پر میں نے حیرانگی سے پوچھا ایسا کیوں کہہ رہی ہو تو وہ بولی آ پا میں سوچتی تھی کہ خودکشی کرنے والوں کو ڈر کیوں نہیں لگتا مگر اب سمجھ آرہی ہے کہ لوگ خودکشی کو کیوں اتنا آ سان سمجھتے ہیں ایک بار کی تکلیف ہوتی ہے ناں, روز روز کی تکلیفوں سے کم از کم نجات تو پالیتے ہیں,
    میں نے اس کی پوری بات سن کر اس کو ڈانٹا کہ اپنے ذہن سے منفی سوچ نکالو کہ خودکشی کرنے سے سب تکلیفیں ختم ہوجائیں گی تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو کر ایسی باتیں کررہی ہو مجھے حیرت ہے, اپنے آپ کو مضبوط بناؤ جیسے دکھاتی ہو کہ تم ہمت والی ہو, اور خودکشی بزدل لوگ کرتے ہیں جو حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتے. خیر میرے ڈانٹنے پر وہ تھوڑا مسکرا دی اور میرے گلے لگ گئی یہ کہتے ہوئے کہ آپا کبھی تو اپنا وقت بھی آئے گا ناں ؟اس کی بات سن کر میں نے مصنوعی ہنسی سے کہا ہاں انشاءاللہ ضرور آئے گا بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہیے.

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ،اس کے برے حالات سے زیادہ میرے خیال میں اسے اس کے اپنوں کے رویے اذیت دے رہے تھے کیونکہ بقول اس کے کہ اس کی تکلیفوں کا کسی کو بھی احساس نہیں ،وہ اپنی استطاعت کے مطابق مشکل حالات کا اکیلے مقابلہ کررہی تھی کیونکہ اسے مشکل حالات کے ساتھ ساتھ اپنوں کے منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہوگئی تھی

    یہ سچ ہے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آ تے رہتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ ہی انسان کو سبق سیکھا دیتے ہیں,
    اس کڑے وقت میں وہ گھر داری کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو بہت سی باتیں اور تنقید بھی سننے کو ملتی ہے اسکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ مردوں کا ہے عورت جتنا مرضی کام کر لے اس کی حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے.

    یہاں اس اکیلی کی زمہ داری نہیں تھی, ان حالات میں اسے اسکے شوہر کی زیادہ support کی ضرورت تھی مگر جو نظر نہیں آتی, اگر اس کا ساتھ ان حالات میں شوہر بھی دیتا تو کم از کم وہ زندگی سے مایوس نہ ہوتی, وہ آ ج خود کو اکیلا محسوس نہ کرتی, شوہر کا یہ کہنا کہ ساری زندگی عیش کروائی ہے تو کیا ہوا اب جو تمھیں کام کرنا پڑ رہا ہے یہ ہر لحاظ سے غلط سوچ ہے
    ہمیں اس معاشرے میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے تو گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کا عزت دینا ہوگی ان کو تحفظ کا احساس دلانا ہوگا اور یہ تبھی ہوگا جب ہم منفی کی بجائے مثبت سوچ رکھیں گے جب دوسروں کی تکالیف کا احساس کریں گے جزاک اللہ
    @Rehna_7

  • زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار

    یوم پیدائش 2 نومبر 1971

    آغا نیاز مگسی

    ہندوستان اور پاکستان کی معروف ٹی وی اور فلمی اداکارہ زیبا بختیار 2 نومبر 1971 میں کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ممتاز قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل پاکستان یحیٰی بختیار اور ہنگری کی عیسائی خاتون ایوا کی بیٹی ہیں، زیبا بختیار نے 1988 میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامہ ” انارکلی ” سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیاجبکہ 1991 میں ایک انڈین فلم ” حنا”میں کام کر کے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا ،

    1995 انہوں نے مشہور انڈین گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع خان سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹا اذان پیدا ہوا۔ چار سال کی ازدواجی زندگی کے بعد دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ 1989 میں ان کی شادی جاوید جعفری سے ہوئی ایک سال بعد 1990 میں ان کے درمیان علیحدگی ہوئی۔ سائرہ بختیار زیبا بختیار کی بہن جبکہ ڈاکٹر سلیم بختیار اور ڈاکٹر کریم بختیار ان کے بھائی ہیں۔ زیبا بختیار کی مستقل رہائش کراچی میں ہے،

  • انوارالحق کاکڑ کا لمز کا دورہ: ایک تنقیدی جائزہ

    انوارالحق کاکڑ کا لمز کا دورہ: ایک تنقیدی جائزہ

    سابق آئی جی پولیس پنجاب اور سابق وزیر داخلہ پنجاب شوکت جاوید نے 31 اکتوبر 2023 کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں آنیوالے مہمان نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کے حالیہ دورے کے دوران طلباء کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے معیار کے حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ شوکت جاوید نے ٹویٹ میں طلباء کے سوالات کے انتخاب کو معمولی قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ سوال طلباء کے متوقع معیار کے مطابق نہیں۔ انہوں نے آئینی بحرانوں کے بارے میں انکوائری کی عدم موجودگی، نگراں سیٹ اپ کا 90 دن سے زیادہ عرصہ تک کا جواز نہ ہونا، سیاسی کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک اور لاپتہ افراد کو انصاف نہ ملنے کی نشاندہی کی۔ تاہم، شوکت جاوید نے تسلیم کیا کہ وزیر اعظم نے پوچھے گئے سوالات کے اچھے جوابات دیئے۔

    لمزکے طلباء کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کی نوعیت کے حوالے سے شوکت جاوید کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر بات ضروری ہے انکے درست نکات ہیں،یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے دوروں اور ان کی اہمیت پر ایک وسیع تناظر پر غور کیا جائے۔

    سب سے پہلے، اس بات پر تشویش ہے کہ تقریب کے دوران پوائنٹ اسکورنگ پر وقت ضائع کیا گیا۔ ویڈیو میں، ہم اس سوال کو دیکھ سکتے ہیں کہ جب ملک کو شدید مسائل کا سامنا تھا تو انوارالحق کاکڑ نے LUMS کا دورہ کیوں کیا؟ یہ بات قابل غور ہے کہ صدور یا وزرائے اعظم کا نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی یونیورسٹیوں اور کالجوں کا دورہ کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، یوکرین کے تیسرے صدر، مسٹر یوشچینکو، اور ان کی اہلیہ، کیتھرین، یوکرین میں جنگ پر بات کرنے کے لیے یونیورسٹی آف مانچسٹر گئے۔ LUMS کے طالب علم کے سوال کے بعد جو تالیاں بجیں وہ بدقسمتی سے اس بارے میں بنیادی آگاہی کی کمی کو ظاہر کرتی ہے کہ اس طرح کے تبادلے کس طرح کچھ بہترین ذہنوں کے ساتھ بات چیت کو آسان بناتے ہیں اور خیالات کے تبادلے کو فروغ دیتے ہیں۔ نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کے دورے پر سوال اٹھانے کے واقعے سے آگہی کی کمی اور تقریب کے دوران وقت ضائع ہونے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ایسے لمحات کو زیادہ اہمیت کے سوالات پوچھ کر بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔

    لمز کی تقریب میں سوالات کو لے کر، کچھ تاریخی مثالوں کو یاد کرنا ضروری ہے۔ 2010 میں، سابق امریکی صدر براک اوباما ہاورڈ یونیورسٹی میں 45 منٹ لیٹ تھے، جہاں ان کی سیکرٹری دفاع سے ملاقات تھی۔ جارج ڈبلیو بش 2001 میں پرنسٹن یونیورسٹی میں 20 منٹ لیٹ تھے، جب وہ سعودی عرب کے ولی عہد سے ملاقات کر رہے تھے۔ اسی طرح ٹونی بلیئر 2002 میں کیمبرج یونین میں 30 منٹ لیٹ تھے کیونکہ وہ فرانس کے وزیر اعظم سے بات چیت کر رہے تھے۔ مارگریٹ تھیچر 1987 میں آکسفورڈ یونین میں ٹریفک کی وجہ سے 45 منٹ تاخیر سے پہنچی تھیں۔

    میڈیا کی ایک معروف شخصیت عمر آر قریشی نے 31 اکتوبر 2023 کو اس مسئلے پر بات کی، انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "میں دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں سے ایک کا طالب علم رہا ہوں۔ میں سمجھ گیا کہ سربراہان حکومت بعض اوقات تاخیر سے آ سکتے ہیں اور میرے پاس ہمیشہ تقریب کو چھوڑنے کا حق تھا، کوئی بھی مہمان سے یہ نہیں پوچھتا کہ وہ دیر سے کیوں آئے ،ایک طرف توہین جبکہ دوسرے تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ یہ سلوک نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ نقصان دہ ہے۔”
    ان مشاہدات کی روشنی میں طلباء اور میزبانوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ایسے مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور معزز مہمانوں کے ساتھ بامعنی گفتگو کریں یہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ ان واقعات کے دوران گزارا ہوا وقت قیمتی اور نتیجہ خیز ہے

  • انتخابات ، ملکی معیشت کا سنبھلنا بھی ضروری، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    انتخابات ، ملکی معیشت کا سنبھلنا بھی ضروری، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    آمدہ قومی انتخابات کب ہوں گے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔تاہم اگر انتخابات ہوئے تو یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ آمدہ قومی انتخابات میں کیا ہونے والا ہے کس کی جیت ہوگی کس کی ہار ہوگی تاہم ملکی سیاسی جماعتوں کو قانون کی حکمرانی آئین اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوامی مسائل سے لے کر ریاستی مسائل کو حل کرنا ہوگا ایک دوسرے کے خلاف انتقام اور انتقامی سیاست کو دفن کر کے اس ملک کی معیشت ملکی وسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ قرضوں میں ڈوبے پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کے خونخوار پنجوں سے آزاد کروانا ہوگا۔ کیا مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار میں آئے گی کیا نواز شریف ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کی کرسی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے بہرحال جو چیز پردہ غیب میں ہے اس کے بارے میں قیاس کے گھوڑے دوڑانے کا کچھ حاصل نہیں ہے سیاست بچوں کا کھیل نہیں آج کل ن لیگ بالخصوص میاں محمد نوازشریف کے نزدیک ایسے ایسے لوگ بھی نظر آرہے ہیں جنہو ں نے نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم کیخلاف پروپیگنڈے بھی کئے اور ن لیگ کے خلاف بآواز بلند مخالف جماعت کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے

    ملکی سیاسی گلیاروں میں شاید یہی لوگ کامیاب ہیں۔ تاہم میں نے مریم نواز کو اسلام آباد ہائیکورٹ پیشیاں بھگتے دیکھا ہے مریم نواز خود ہی بتائیں ان کے ساتھ اس مشکل ترین وقت میں کون کھڑا تھا ۔ تاہم ٹکٹ لینے وزیر مشیر بننے کے لئے ایک بار پھر نعرے سننے کو مل رہے ہیں قدم بڑھائو نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اپنے اندر زیادہ خوش گمانی پالنے کی ضرورت نہیں نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سمجھ ہے یہ خوشامد اور خوشامدی کیا ہوتے ہیں ملکی کی سیاسی جماعتیں عوام اور پاکستان کے مستقبل پر توجہ دیں حالات و واقعات تبدیل ہو چکے ہیں۔

  • حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    یکم نومبر انیس سو بیس اپنے عہد کے صاحب طرز ادیب، ڈرامہ نگار اور بانی مدیر ماہنامہ "حکایت” جناب عنایت اللہ کا یوم ولادت ہے۔
    یہ 1970 کے عشرے کے اوائل کی بات ہے۔ جب میں نے انہیں پہلی بار دیکھا تو وہ زین کی خاکی پتلون، کاٹن کی سفید بش شرٹ اور چمڑے کے براؤن سینڈل میں ملبوس نیشنل سنٹر لاہور کے روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنے روایتی دھیمے لہجے میں صیہونیت کے مسلم دشمن منصوبے بے نقاب کررہے تھے. یہ یوم القدس سے منسوب کوئی تقریب تھی. جن منصوبوں کا وہ ذکر کر رہے تھے وہ صیہونیت کے بڑوں نے صدیوں پہلے دنیا اور خصوصا” فلسطین اور شرق اوسط پر تسلط قائم کرنے کےلئے پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن کے نام سے تیار کئے تھے.

    اس کے بعد بھی صیہونی اپنے مذموم عزائم پر کاربند رہے اور عنایت اللہ صاحب نے بھی ہار نہیں مانی. انہوں نے اس کے بعد کی ساری زندگی اسلام اور پاکستان کے خلاف ہنود و یہود کی سازشوں بشمول نظریاتی تخریب کاری کو بے نقاب کرتے گذاری. وہ اپنے دور کی ففتھ جنریشن وار اپنے جذبۂ ایمانی کے زور پر تن تنہا لڑ رہے تھے. ان کے ہتھیار ان کی زندگی کی طرح نہایت سادہ تھے، نیوز پرنٹ کاغذ کی سلپیں، ایچ بی کی پنسل، بگلے کا سگریٹ اور دبیز ملائی والی نہایت شیریں چائے کامگ. بعد میں جب بگلے کا سگریٹ نایاب ہوا تو انہوں نے کے-ٹو پینا شروع کردیا اور کچی پنسل کی جگہ بال پوائنٹ نے لے لی.

    میری زندگی کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ انہوں نے مجھے اپنی فرزندی میں قبول کیا. میں ان سے بہت قریب تھا اور اسی وجہ سے میرا ان سے رشتہ بے تکلفی کا بھی تھا، اتنی بے تکلفی کہ میں ان کے سامنے سگریٹ بھی پی لیا کرتا تھا بلکہ بسا اوقات تو ان کے پیکٹ سے دو سگریٹ سلگاتا، ایک اپنے لئے دوسرا ان کے لئے. حالانکہ میرے لئے وہ والد کی جگہ تھے اور میری ہر مشکل میں ان کا ہاتھ میرے کندھے پر ہوتا تھا. میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا. حب الوطنی کا پہلا باقاعدہ درس میں نے ان سے ہی لیا. نہ صرف یہ بلکہ زندگی گذارنے کے اصول اور دوسرے انسانوں کے ساتھ باہمی تعلقات کا ہنر بھی ان سے سیکھا.

    ان کے ناول اور ٹی وی ڈراموں کے بعد ان کی مقبول ترین تصنیف "داستان ایمان فروشوں کی” پانچ جلدوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے التمش کے قلمی نام سے لکھی. اس فلیگ شپ تصنیف کے قلمی مصنف کے اعزاز میں میں نے ان کے نواسے اور اپنے اکلوتے بیٹے کا نام التمش رکھا جو ہو بہو ان کا ہم شکل ہے.

    ان کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے جس میں ان کے قلمی نام سے لکھی ہوئی کتابیں بھی شامل ہیں. ان کے بہت کم قارئین کو علم ہے کہ احمد یار خان، صابر حسین راجپوت، میم الف اور محبوب عالم بھی ان کے قلمی نام تھے. انہوں نے تاریخ، تفتیش، شکاریات اور نفسیاتی مسائل کے موضوع پر یکساں مہارت سے لکھا. اس سے پہلے وہ دفاعی موضوعات پر بھی اپنی مہارت کا لوہا منوا چکے تھے.

    ناول کے موضوع کے لئے وہ تاریخ کو خصوصی اہمیت دیتے تھے. ان کا خیال تھا کہ نئی نسل کو مطالعہ تاریخ پر راغب کرنے کے لئے ناول کا میڈیم ازحد ضروری ہے. تاریخی ناول تو اور بھی بہت لکھے گئے لیکن عنایت اللہ کی تصانیف کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے لئے وہ تاریخی واقعات کی صحت پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے. تاریخی واقعات میں جنگوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور وہ ہر جنگ کی پلاننگ اور میدانِ جنگ کی تصویر کشی پورے پیشہ ورانہ انداز میں کرتے تھے. انہوں نے مجھ سے بھی ٹیپو سلطان کے دور پر تاریخی ناول "آستین کے سانپ” لکھوایا اور ٹیپو کے فن حرب کے بیان اور میدان جنگ کی منظر کشی کو باریک بینی سے دیکھا اور حسب ضرورت تبدیلیاں بھی کروائیں.

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنا پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ایں ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ اپنے ڈائجسٹ ماہنامہ "حکایت” اور اشاعتی ادارے مکتبہ داستان کی تاسیس کے بعد انہوں نے دن میں کم و بیش اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا اور خاموشی سے اپنے مشن میں لگے رہے. انہیں اور ماہنامہ حکایت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا بہت مشکل ہے. میں اسی لئے انہیں حکایت الّلہ کہا کرتا تھا. ان کی وفات کے بعد لکھے گئے میرے پہلے مضمون کا عنوان بھی حکایت الّلہ تھا.

    تقریبا”انتیس سال تک پاکستان دشمنوں سے لڑتے لڑتے وہ سولہ نومبرانیس سو نناوے کو پھیپھڑوں کے سرطان سے زندگی کی بازی ہار گئے.

  • امرتا  پریتم؛ تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

    امرتا پریتم؛ تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

    امرتا پریتم

    پنجابی زبان کی معروف ناول نگار ، ادیبہ اور شاعرہ

    تاریخ وفات : 31 اکتوبر 2005ء

    بیسویں صدی کی پنجابی زبان کے ادب میں شہرت پانے والی خواتین میں امرتا پریتم کا نام سب سے نمایاں ہے ۔امرتا پریتم پنجابی زبان کی شاعرہ ناول نگار اور افسانہ نویس تھیں ۔ وہ واحد خاتون شاعرہ ہیں جو پاک و ہند میں یکساں طور پر مقبول ہیں ۔انہوں نے 100 سے زیادہ کتابیں شاعری ۔افسانوں ناول پنجابی فوک گیتوں پر لکھیں ۔ ان کی کتابوں کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ۔

    ان کی پیدائش 31 اگست 1919 کو گوجرانوالا میں ھوئی ۔آپ کا اصل نام امرتا کور تھا آپ کی والدہ کا بچپن میں ھی انتقال ھو گیا اس وقت آپ کی عمر 11 سال تھی ۔آپ اور آپ کے والد اس کے بعد لاھور منتقل ھو گئے ۔جہاں آپ نے پاکستان بننے تک قیام کیا۔ 1947ء کے بعد آپ انڈیا منتقل ھو گئیں ۔ انہوں نے بچپن سے ھی لکھنا شروع کر دیا تھا ۔ ان کی نظموں کی پہلی کتاب امرت لہریں 1936ء میں چھپی جب آپ کی عمر صرف 16 سال تھی ۔ اسی سال آپ کی شادی پریتم سنگھ سے ھو گئی اور یوں آپ امرتا کور سے امرتا پریتم ھو گئیں ۔1936 ء سے 1943ء کے دوران آپ کی نظموں کی بہت سی کتابیں منظر عام پر آئیں ۔ امرتا پریتم کو لاہور میں ساحر لدھیانوی سے محبت ہو گئی تھی جس کی خاطر انہوں نے اپنے سکھ شوہر سے علیحدگی اختیار کی تھی مگر وائے قسمت کہ ان کی اور ساحر کی شادی نہیں ہو سکی تھی حالانکہ یہ دونوں پاکستان سے ہندوستان منتقل ہو گئے تھے ۔

    امرتا نے سیاست میں بھی فعال کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ وہ بھارتی ایوانِ بالا کی رکن رہی ہیں اور انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو ئے جن میں پنجابی ادب کے لیے گیان پیتھ ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ساحر لدھیانوی کے ساتھ ان کا معاشقہ ادبی دنیا کے مشہور معاشقوں میں شمار ہوتا ہے جس کی تفصیل تھوڑی بہت ان کی کتاب رسیدی ٹکٹ میں موجود ہے۔

    امرتا پریتم کی سب سے شہرہ آفاق نظم ‘اج آکھاں وارث شاہ نوں’ ہے، اس میں انہوں نے تقسیم ہند کے دوران ہوئے مظالم کا مرثیہ پڑھا ہے۔ کچھ اشعار ذیل میں درج ہیں۔

    شاہ مکھی متن:

    اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتوں قبراں وچوں بول
    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول
    اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وَین
    اَج لَکھاں دھیآں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کَیہن
    اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب
    اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب
    کسے نے پنجاں پانیاں وچ اج دتی زہر رلا
    تے اوہناں پانیاں نوں دتا دھرت نوں لا
    جتھے وجدی پھوک پیار دی او ونجلی گئی گواچ
    رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اوس دی جاچ
    دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیّئاں چون
    پریت دیاں شہزادیاں اج وچ مزاراں رون
    اج تے سبے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور
    اج کتھوں لیآئیے لبھ کے وارث شاہ اک ہور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • 31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    تمہیں جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

    سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش

    سارہ شگفتہ کا شمار اردو کی جدید شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ 31؍اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ اردو اور پنجابی میں معتد بہ نظمیں تخلیق کیں۔ نظمیہ شاعری کے لیے انھوں نے نثری نظم کا پیرایہ اختیار کیا۔ غریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی مکمل نہ کر سکیں۔ ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں نے انھیں سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ نتیجتاً انھیں دماغی امراض کے اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں انھوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی۔ خود کشی کی یہ کوشش مختلف موقعوں پر چار بار دہرائی گئی۔ ان کی اردو شاعری کے مجموعے ’آنکھیں‘ اور’نیند کا رنگ‘ کے نام سے شائع ہوئے۔
    04؍جون 1984ء کو انھوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کے مطالعے کو ایک نئی جہت عطا کی۔ وفات کے بعد ان کی شخصیت پر پنجابی کی مشہور شاعرہ اور ناول نگار امرتا پرتیم نے ’ایک تھی سارہ‘ اور انور سن رائے نے ’ذلتوں کے اسیر‘ کے نام سے کتاب تحریر کی اور پاکستان ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل پیش کیا جس کا نام ’آسمان تک دیوار‘ تھا۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    منتخب شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں
    ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی
    اور اپنا اپنا بین ہوئے
    ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے
    میں نے موت کے بال کھولے
    اور جھوٹ پہ دراز ہوئی
    نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی
    شام دوغلے رنگ سہتی رہی
    آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے
    میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں
    جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں
    زمینوں میں میرا انسان دفن ہے
    سجدوں سے سر اٹھا لو
    موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
    جب میرے سفید بال
    تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا
    میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا
    جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے
    ان کھیتوں میں
    میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی
    بس پہلی بار ڈری بیٹی
    میں کتنی بار ڈری بیٹی
    ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹی
    میرا جنم تو ہے بیٹی
    اور تیرا جنم تیری بیٹی
    تجھے نہلانے کی خواہش میں
    میری پوریں خون تھوکتی ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے
    مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو
    خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے
    میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو
    آگ کا ذائقہ چراغ ہے
    اور نیند کا ذائقہ انسان
    مجھے پتھروں جتنا کس دو
    کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو
    میں خدا کی زبان منہ میں رکھے
    کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا
    زنجیروں کی رہائی دو
    کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے
    مجھے تنہا مرنا ہے
    سو یہ آنکھیں یہ دل
    کسی خالی انسان کو دے دینا

  • او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    موسیقار خواجہ خورشید انور

    30 اکتوبر 1984: تاریخ وفات

    باکمال موسیقار خواجہ خورشید انور ساز بجانا نہیں جانتے تھے بلکہ انہوں نے ماچس کی ڈبیا انگلی سے بجا کر لازوال دھنیں تخلیق کیں۔
    ایم اے فلسفہ میں اول آئے، گولڈ میڈل ملا مگر لینے گئے ہی نہیں۔
    مقابلے کے امتحان میں پورے ہندوستان میں ٹاپ کیا، لیکن بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں سے روابط کی وجہ سے نااہل قرار پائے۔
    یہ نااہلی ہندوستان کی فلمی موسیقی کیلئے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔

    اس سے فلمی موسیقی کو خواجہ خورشید انور ملے۔ جنہوں نے دل کا دیا جلایا، مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے، رم جھم رم جھم پڑے پھوار، جس دن سے پیا دل لے گئے ، آگئے گھر آگئے بلم پردیسی سجن پردیسی، چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار، آبھی جا آبھی جا، او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاﺅ،۔چھونے چھونے ناچوں گی گونے گونے گاﺅں گی، سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے، کدی آ مل رانجھن وے، زلفان دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا، او ونجھلی والڑیا جیسی دھنیں تخلیق کیں۔
    خواجہ صاحب کے صاحبزادے خواجہ عرفان انور فرماتے ہیں کہ ساز بجانا کلاسیکی موسیقی کیلئے بالکل ضروری نہیں۔ ہماری موسیقی بنیادی طور پر ووکل ہے۔ خورشید انور لاہور ریڈیو اور منتخب محفلوں میں گاتے بھی رہے۔

    خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912 کو میانوالی کے محلہ بلوخیل میں پیدا ہوئے جہاں انکے نانا بطور سول سرجن ضلعی ہسپتال تعینات تھے۔ ان کا تعلق موسیقی کے کسی گھرانے سے نہیں تھا۔ ان کی علامہ اقبال سے بہت نزدیک کی رشتہ داری تھی۔ ان کے نانا خان بہادر عطا محمد شیخ کی بیٹی علامہ کی اہلیہ تھیں۔ ان کی والدہ گجرات میں پیداھوئیں. علامہ اقبال کی پہلی اہلیہ کریم بی بی کی چھوٹی بہن تھیں بلکہ علامہ نے ان کی والدہ فاطمہ بی بی کا رشتہ بصداصرار کروایا. ان کے والد بیرسٹر فیروزالدین لاہور کے ایک کامیاب وکیل تھے۔ انکے چھوٹے بھائی خواجہ سلطان احمد (بیرسٹر خوجہ حارث کے والد) لاہور کے بڑے اور استاد وکلاء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے والد کو صرف ایک شوق تھا اور وہ تھا کلاسیکل اور نیم کلاسیکل موسیقی سننا اور جمع کرنا۔ ان کے گھر میں ہزاروں کی تعداد میں ریکارڈ موجود تھے۔ گھر میں موسیقی کی بڑی بڑی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔ جن میں استاد توکل حسین، استاد عبدالوحید خاں ،استاد عاشق علی خاں، استاد غلام علی خاں، موسیقار فیروز نظامی، رفیق غزنوی جیسے اساتذہ شرکت کرتے تھے۔ انہی محفلوں سے خورشید انور کو موسیقی کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے استاد توکل حسین سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔
    خواجہ خورشید انور نے 1935 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں ماسٹرز کیا اور اول آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب تقسیم انعامات کی تقریب میں قصداً نہیں گئے۔ انگریز وائس چانسلر نے جب گولڈ میڈل کے لیے نام پکارا۔ وہ موجود نہ پائے گئے۔ تو اس نے برجستہ کہا کہ جو طالب علم اپنا میڈل لینا بھول گیا ہے وہ حقیقی طور پر ایک فلسفی ہے۔ مگر خورشید انور کی منزل کوئی اور تھی۔ اس کو سُر اور ساز کا بادشاہ بننا تھا۔ عین اسی وقت لاہور میں ایک محفل موسیقی منعقد ہو رہی تھی جس میں ہندوستان بھر کے نامور موسیقار اور گائیک شرکت کر رہے تھے۔ انھیں موسیقاروں میں اس طالب علم کے موسیقی کے استاد خان صاحب توکل حسین خان بھی شامل تھے۔ وہ طالب علم جلسہ تقسیم اسناد اور گولڈ میڈل تو چھوڑ سکتا تھا مگر اس محفل کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

    اس سے اگلے سال 1936 میں خواجہ خورشید انور نے اعلیٰ ملازمتوں ( آئی سی ایس ) کے لئے مقابلے کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی لیکن انٹرویو میں ناکام قرار دئیے گئے چونکہ وہ انگریز راج کے خلاف تحریک آزادی میں شریک رہے تھے اور انقلابیوں کو کالج لیبارٹری سے پکرک ایسڈ (Picric Acid) فراہم کرنے کے الزام میں قید بھی بھگت چکے تھے۔ بی اے کا امتحان بھی جیل سے دیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ خود بھی اپنے مزاج کو سول سروس کے مزاج سے ہم آہنگ نہ پاتے تھے۔ وہ تحریری امتحان میں بھی صرف اپنے گھر والوں کے شدید اصرار کے باعث شریک ہوئے تھے۔
    یہ ناکامی ان کی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
    1939 میں خواجہ خورشید انور نے آل انڈیا ریڈیو دہلی پر میوزک پروڈیوسر کی حیثیت سے نوکری کر لی ۔ وہاں ان کی ملاقات اے۔آر۔ کاردار سے ہوئی۔ کاردار اس زمانے کے سکہ بند فلمساز تھے۔ 1941ء میں خواجہ صاحب نے ان کی پنجابی فلم”کڑمائی” کا میوزک بنایا۔ یہ فلم اتنی کامیاب نہ ہو سکی جتنی توقع کاردار اور خورشید انور کر رہے تھے۔ دو سال کے بعد 1943ء میں “اشارہ” فلم آئی۔ اس میں بھی موسیقی خواجہ صاحب ہی کی تھی۔ اس کے گانے “ثریا بیگم” ـ” گوہر سلطان” اور وستالہ کماٹھیکر نے گائے تھے۔ ان گانوں نے برصغیر کو ایک سحر میں مبتلا کر دیا۔ ہر گلی کوچے میں ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ یہ اس عظیم موسیقار کی پہلی کامیابی تھی۔ اس کے بعد شہرت کا ایک لامتناہی زینہ تھا جس پر یہ نوجوان چڑھتا چلا گیا۔

    1947ء میں سہگل نے خواجہ خورشید انور کی بنائی ہوئی دُھن پر اپنی زندگی کا آخری گانا گایا۔ اس فلم کا نام “پروانہ” تھا۔ اس فلم کے پانچوں گانوں کی موسیقی خواجہ خورشید انور کی تھی۔ گانے ڈی این مدھوک نے لکھے ۔ دو میں نخشب اور تنویر نقوی کا اشتراک تھا۔ 1949ء میں خواجہ صاحب کو موسیقی کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس کا نام “کلیئر ایوارڈ” تھا۔موسیقار”روشن” اور “شنکر جے کشن” اس موسیقی کے جادوگر کی دہلیز پر بیٹھنے والوں میں سے تھے۔ “نوشاد” جو خود ایک یکتا موسیقار تھے، خواجہ صاحب کے احترام میں کھڑے رہتے تھے۔

    خواجہ خورشید انور 1952ء میں پاکستان آ گئے۔ یہاں ان کے پائے کے موسیقار نہ ہونے کے برابر تھے۔ نورجہاں جیسی عظیم گائیکہ بھی ایک مشکل دور سے دوچار تھی۔ 1956ء میں خورشید انور نے”انتظار” فلم کی دُھنیں ترتیب کیں۔ اس کے گانے نورجہاں کے لیے ایک نئی فنی زندگی کا ذریعہ بنے۔ یہ اپنے وقت کی مقبول ترین فلم تھی۔ اس کی کامیابی خواجہ صاحب کے بے مثال میوزک کے سبب تھی۔ اس فلم کے بعد تو خواجہ صاحب فن کے آسمان پر چمکنے لگے۔
    مرزا صاحبان، زہرعشق، جھومر، کوئل، ایاز، گھونگھٹ حویلی، چنگاری، سرحد، ہیررانجھا، شیریں فرہاد، مرزاجٹ اور سلام محبت، وہ فلمیں تھیں جنکی کامیابی کا سہرا خواجہ خورشید انور کی جادوئی موسیقی کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر18 فلموں کی موسیقی ترتیب دی، 15 اردو اور 3 پنجابی۔ انہوں نے گھونگھٹ، حیدر علی، اور ہمراز سمیت چند فلموں کی ہدایات بھی دیں۔

    فیض احمد فیضؔ اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کی شاعری میں خورشید انور کا جذب موجود ہے۔ فیض صاحب، ان سے بہت متاثر تھے۔ فیض کالج میں خواجہ صاحب سے ایک سال سینئر تھے۔ ن م راشد بھی ان دنوں کالج میں تھے۔

    خواجہ خورشید انور کا ایک بڑا کارنامہ ’’آہنگِ خسروی‘‘ ہے۔ یہ 30 لانگ پلے ریکارڈز پر مشتمل ایک البم ہے جس میں برصغیر کی کلاسیکی موسیقی کے معروف گھرانوں کے 90 راگ محفوظ کر دئیے۔ یہ لانگ پلے ریکارڈ ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم، استاد سلامت علی خان، ذاکر علی خان اور اختر علی خاں، استاد فتح علی خاں (پٹیالہ)، اسد امانت علی خاں اور حامد علی خاں، استاد اسد علی خاں، استاد رمضان خان، استاد امراﺅ بندو خان، استاد غلام حسین شگن، استاد حمید علی خان، استاد فتح علی خان (گوالیار)، ملک زادہ محمد افضل خان اور ملک زادہ محمد حفیظ خان کی آوازوں میں تیار کئے گئے تھے۔ “آہنگ خسروی” اور “راگ مالا” ایسے عظیم کام ہیں جو ان کے بعد بہت کم لوگ کر پائے۔

    خواجہ صاحب کا موسیقی بنانے یا ترتیب دینے کا طریقہ بہت مختلف بلکہ منفرد تھا۔ وہ ماچس کی ڈبیا کو ایک خاص انداز میں بجاتے تھے اور وہیں سے وہ اپنی نایاب دُھن کی بنیاد تشکیل دے دیا کرتے تھے۔ 1980ء میں خواجہ صاحب کو “ستارہ امیتاز” سے نوازا گیا۔ 1982ء میں انھیں بمبئی کی میوزک انڈسٹری کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا نام تھا
    ”Mortal-Men، Immortal-Melodies Award”
    خواجہ صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ریڈیو پاکستان نے ان کی بنائی ہوئی سگنیچر ٹیون سے آغاز کیا ۔
    خواجہ خورشید انور 30 اکتوبر 1984 کو دنیا سے رخصت ہوئے۔

  • عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    صدف نعیم
    تاریخِ وفات:30 اکتوبر 2022ء

    صدف نعیم خاتون صحافی 1987ء کو پیدا ہوئیں، لاہور پریس کلب کی کونسل ممبر میں بطور رپورٹر طویل عرصہ سے روزنامہ خبریں اور 2009ء سے چینل 5 کے ساتھ وابستہ تھیں اور جرنلسٹ گروپ کی جانب سے ممبر گورننگ باڈی کیلئے الیکشن بھی لڑ چکی تھیں۔ 24 میں سے 16 گھنٹے ڈیوٹی کرتی تھیں، اپنے چینل کے لیے وہ عموماً سیاسی جماعتوں اور سیاسی معاملات کی کوریج کرتی تھیں اور پنجاب اسمبلی کی کارروائی بھی باقاعدگی سے کور کرتی تھیں۔

    30 اکتوبر 2022ء کو لانگ مارچ (حقیقی آزادی مارچ) میں سادھوکی، (تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ) میں صدف نعیم نے عمران خان کے سست رفتار کنٹینر پر چڑھنے کی کوشش کی جس سے گرنے کے بعد اسی کنٹینر کے نیچے آکر موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ اس سے دو روز قبل صدف نعیم نے عمران خان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ ان کی عمر 35 سال تھی۔ اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ نماز جنازہ اچھرہ میں ہوئی۔ شوہر محمد نعیم بھٹی نے کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ وفاقی حکومت نے 50 لاکھ روپے اور پنجاب حکومت نے 25 لاکھ لواحقین کو امداد دینے کا اعلان کیا۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد ہوئی تھی،عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا، عمران خان کے ہمراہ اسد عمر ،میاں اسلم و دیگر بھی موجود تھے،عمران خان نے لانگ مارچ میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی. صدف نعیم کی والدہ عمران خان کو دیکھ کر زاروقطار روتی رہیں ، شفقت محمود بھی عمران خان کے ہمراہ تھے،

    صدف نعیم لانگ مارچ کے دوران کینیٹر کے نیچے آ کر شہید ہو گئی تھیں، صدف نعیم کی نماز جنازہ گزشتہ شب اچھرہ میں ادا کی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، صدف نعیم کے شوہر نے کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

  • جمہوریت کا استحکام ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جمہوریت کا استحکام ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں کسی بھی جمہوری حکومت میں جمہوریت آئیڈیل نہیں رہی۔ اس کا خمیازہ ملک اور قوم نے بھگتا اوربھگت رہے ہیں۔ جمہوریت کی آڑ میں فیوڈلز لوٹتے رہے ۔ عوامی مفاد کا بل کبھی پارلیمنٹ میں منظور نہیں کیا گیا قانون سازی اشرافیہ کو بچانے کے لئے کی جاتی رہیں۔ جن ممالک میں جمہوریت مضبوط ہوتی ہے وہ قومیں اور ملک ترقی کرتے ہیں۔ اگر ملک میںجمہوریت مستحکم نہیں ہوئی تو ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے گریبان میں جھانکیں ۔ اسکا ذمہ دار کون ہے ؟ جمہوریت کے وہ کھیل کھیلے گئے کہ جمہوریت خود شرمانے لگی ہے ۔ آج اگر نواز شریف نے کہہ ہی دیا ہے کہ آئو مل کر اس ملک اور قوم کی خدمت کریں تو اس پر تمسخر اڑانے اُڑایا جا رہا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو صدق دل سے جمہوریت کو مستحکم کرنے اور ماضی کی غلطیوں سے تائب ہو کر ملک وقوم کی خاطر آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ جمہوریت کی بہترین شکل آئین ہے ۔ آئین نے تمام ملکی اداروں کی حدیں مقرر کی ہیں۔ اپنی اپنی حدود میں رہ کر کیوں نہ اس ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جائے ۔ انتخابات کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتیں ، کیا قوم کو بتائین گی کہ وہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ا دا کریں گے اور پھر اس پر صدق دل سے قائم رہیں گے؟ پارلیمنٹ میں عوام کی بہبود کے لئے قانون سازی کی جائے گی ؟ 1977 ء کے الیکشن اور پھر بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے میں سیاسی جماعتوں کا کردار کیا تھا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کو جلا وطنی کی زندگی گزارنے میں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا کیا کردار رہا ؟ نواز شریف کوتین بار نہ صرف اقتدار سے الگ کردیا گیا جبکہ جیلیں اور جلا وطنی میں زندگی گزارنے میں سیاستدانوں کا کردار کیا رہا ؟پاک فوج اور جملہ اداروں نے اپنی جانیں قربان کرکے وطن عزیز کی سلامتی کو برقرار رکھا ۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمہوریت کے لفظ کو شرمسار کیا ۔