Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نئی زندگی

    نئی زندگی

    "مجھے محبت سے پیار ہے
    محبت کو مجھ سے محبت ہے۔ میرا جسم میری روح سے پیار کرتا ہے،
    اور میری روح مجھ سے پیار کرتی ہے۔
    ہم پیار کرنے میں باریاں لیتے ہیں۔”
    رومی

    رومی کے گہرے الفاظ محبت کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ نہ صرف افراد کے درمیان تعلق کے طور پر، بلکہ خود کی دریافت کی طرف سفر کے اعتبار سے بھی۔ محبت، اپنی خالص ترین شکل میں، ہمارے وجود کے جسمانی اور روحانی دونوں پہلوؤں پر محیط ہے۔ جسم اور روح کا آپس میں ملنا خدا کے اس ارادے کا ثبوت بن جاتا ہے، کہ وہ محبت سے ہم آہنگی پیدا کرے۔

    دوسروں سے صحیح معنوں میں محبت کرنے کے لیے، سب سے پہلے خود سے محبت کا سفر شروع کرنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی قوت جو اپنی روح کی پہچان کراتی ہے۔ اس خود شناسی میں ہمارے روزمرہ کے اعمال کا تجزیہ کرنا، اور اچھے اور برے میں تفریق کرنا شامل ہے۔ اس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے لیے غیر مشروط محبت کو فروغ دیتے ہوئے، اللہ کے قریب، اور اپنی مشترکہ انسانیت کے قریب آتے ہیں۔

    بعض اوقات غیر متوقع روابط، قطع نظر ان کی نوعیت کے، خود آگاہی کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ رابطہ، چاہے کسی بھی رنگ میں ہو، ہمیں اپنے جذبات اور خواہشات پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ ہمیں زندگی کی مشکلات، بشمول نئے تعلقات کی تشکیل کے متعلق ہمارے نقطہ نظر پر سوال کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جب ہم خود سے محبت کی بات کرتے ہیں، تو اس میں جسمانی اور روحانی دونوں جہتیں شامل ہوتی ہیں۔ کیا ہم واقعی اپنے آپ سے محبت کر سکتے ہیں، اگر ہم ایک کو دوسرے کے حق میں نظرانداز کریں؟ اسی طرح، کیا کوئی بامعنی رشتہ کسی شخص کی روح کی گہرائیوں، اس کے وجود کے جوہر میں جائے بغیر قائم کیا جا سکتا ہے؟ روح سے محبت کیے بغیر، کیا جسم کی محبت صرف ہوس نہیں ہے کیا؟

    مختصراً، محبت کے سفر میں ہمارے وجود کے ٹھوس اور غیر محسوس دونوں پہلوؤں کو اپنانا شامل ہے۔ جسم اور روح کے باہمی ربط کو تسلیم کرتے ہوئے، ہم اپنے آپ کو محبت کے خدائی مقصد سے ہم آہنگ کرلیتے ہیں۔ یہ سمجھ نہ صرف دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کو تقویت بخشتی ہے، بلکہ اپنے ساتھ، اور بالآخر خداوند کے ساتھ گہرے تعلق کو بھی پروان چڑھاتی ہے۔
    یہ سمجھ ایک نئی زندگی ہے۔

  • آڈیو ویڈیو کا گندہ کھیل اور سیاست کی عدت سے طلاق تک پہنچ.تجزیہ،شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو کا گندہ کھیل اور سیاست کی عدت سے طلاق تک پہنچ.تجزیہ،شہزاد قریشی

    ملکی سیاست میں افواہ سازی معمول بن چکی، آڈیو ‘ ویڈیو کے گندے کھیل سے شروع ہونے والی سیا ست اب عدت اور طلاق تک پہنچ چکی ہے، جس غلیظ سیاست کا آغاز پی ٹی آئی نے کیا تھا آج وہ خود اس کے گلے پڑی ہے، گزرے زمانے میں سیاستدان قوم کی رہنمائی کرتے تھے، آج معاشرے میں وہ گند پھیلایا جا رہا ہے جس کی اجازت اسلام دیتا ہے نہ اخلاقی روایات .

    سیاستدان ‘ وی لاگر‘یوٹیوبر‘ نام نہاد دانشور ذرا سوچیں ہم قوم کے مستقبل نوجوان بچوں اور بچیوں کے ذہنوں میں کیا بھر رہے ہیں،ہوس اقتدار اوراختیارات نے سیا ستدانوں کو ملکی وقار‘ عزت نوجوان نسل کے مستقبل کو پس پشت ڈال دیا ہے ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو قومی ،عوامی اور ریاستی مفادات کو سامنے رکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا، آج کے خزاں رسیدہ اور پرفتن دور میں ہمارا معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو رہا ہے، بد اخلاقی معاشرے میں بری طرح سرایت کر چکی ہے، معاشرے کے ناسوروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ،ہمارا معاشرہ جھوٹ‘ حق تلفی‘ الزم تراشی بے شرمی و بے حیائی‘ فریب دھوکے بازی‘ ذخیرہ اندوزی‘ ملاوٹ‘ سود جیسی برائیوں سے بھرا پڑا ہے، علمائے کرام‘ مذہبی جماعتوں کا بھی معاشرے کو سدھارنے میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا، معاشرہ اخلاقی‘ معاشی اور سیاسی اعتبار سے گراوٹ کا شکار ہے جو لوگ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں ، ان میں بھی اخلاق اور تربیت کے آثارنہیں پائے جاتے، اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لئے جائیں اور معاشرے کو سدھارنے میں ہرکوئی کردار ادا کرے،

    ہمارا معاشرہ اخلاقی اقدار سے مزین معاشرہ بن سکتا ہے،خبروں کے مطابق دسمبر کے پہلے ہفتے میں الیکشن کا شیڈول آرہا ہے ووٹر نوٹ کے بغیر ووٹ استعمال کرے،جملہ بازوں‘ آزمائے ہوئے لوگوں کو بار بار مت آزمائیں، کسی کی دنیا بنانے کے لئے اپنی آخرت خراب اور بر باد مت کیجیے اچھے معاشرے کی تشکیل کے لئے ووٹ بہترین طاقت ہے،اچھے شہری بن کر شان سے و قار سے رہنا سیکھیے، ملک اور بچوں کا مستقبل سامنے رکھے کہ ووٹ دیں۔

  • میرپورخاص:آؤٹ آف پروسیجر تعینات ہونے والی ہیڈمسٹریس کے خلاف تمام خواتین اساتذہ اور طالبات سراپا احتجاج

    میرپورخاص:آؤٹ آف پروسیجر تعینات ہونے والی ہیڈمسٹریس کے خلاف تمام خواتین اساتذہ اور طالبات سراپا احتجاج

    میرپورخاص،باغی ٹی وی (نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ ) گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول کا اسٹاف بشمول تمام خواتین اساتذہ اور طالبات سراپا احتجاج ، اساتذہ اور طالبات کا کہنا ہے کہ اس اسکول کی سابقہ "رضیہ قیصر” نامی ہیڈمسٹریس نے اسکول کا ڈسپلن انتہائی خراب کردیا تھا ان کے دور میں مسلسل چوریاں ہو رہی تھیں ،وہ نہ تواسکول ٹائم پہ آتی تھی اور نہ ہی انھیں اسکول کا کچھ خیال تھا ، خدا خدا کرکے انکی پروموشن ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ انکا ٹرانسفر بھی کردیا گیا اور پھر یہاں گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول کے لئے نئی ہیڈمسٹریس محترمہ تسلیم منظور کو اسکول کا چارج دیا گیا ۔

    نئی ہیڈ مسٹریس نے آتے ہی اسکول میں اساتذہ پر اور تمام طالبات اور دیگر اسٹاف پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ڈھائی سے تین ماہ میں اسکول کی حالت بدل ڈالی اور تمام اسٹاف بشمول طالبات ان سے خوش نظر آنے لگیں، مگر اچانک سابقہ ہیڈ مسٹریس رضیہ قمر نے آؤٹ آف پروسیجر بالا افسران سے ساز باز کرکے دوبارہ اپنا تبادلہ گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول دوبارہ کرالیا ، اس تبادلے کے بارے میں میرپورخاص محکمہ تعلیم کے اعلی افسران بھی لاعلم تھے ۔

    اس موقع پر طالبات سراپا احتجاج تھیں اور "میڈم رضیہ قمر نامنظور” "ہماری میڈم کیسی ہو ” تسلیم منظور جیسی ہو” جیسے فلک شگاف نعرے لگا کر احتجاج کر رہی تھیں ، اسٹاف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا اس دوران ایک بار میڈم رضیہ قمر آئیں اور رجسٹر میں سائن کرکے چلی گئیں اسٹاف نے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں ایک حادثے میں میڈم تسلیم منظور کے جواں سال بیٹے کا نتقال ہوگیا مگر طالبات کے مستقبل اور اسکول ڈسپلن کی خاطر مسلسل اسکول میں حاضر رہیں ۔

    اس موقع پہ کئی خواتین اساتذہ اور طالبات نے اپنے ویڈیو پیغام میں صوبائی وزیر تعلیم سیکریٹری محکمہ تعلیم اور تمام محکمہ تعلیم کے اعلی افسران و ذمہ داران سے پرزور مطالبہ کیا کہ برائے مہربانی اسکول کی طالبات کے مستقبل کو داؤ پہ نہ لگایا جائے اور گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول کی ہیڈمسٹریس کو اپنی جگہ پہ فعال اور مثبت کردار ادا کرنے دیاجائے

    اس موقع پر سینئر ٹیچر سلمی خاصخیلی ، رضوانہ ، حمیدہ ، شیباناز ، شبانہ کوثر ، رخسانہ ، نغمہ اور تمام ٹیچرز مکمل اسکول اسٹاف سینئر صحافی ڈیلی ڈان(انگریزی) صدر نیشنل پریس کلب قمرالدین شیخ،ممتاز صحافی حیات قریشی ،سید شاہزیب شاہ نامہ نگارباغی ٹی وی کے علاوہ دیگر لوگ بھی موجود تھے

  • یوکرین روس جنگ ،غزہ نے ماند کر دی

    یوکرین روس جنگ ،غزہ نے ماند کر دی

    یوکرین میں جاری تنازعہ، اگرچہ اہم ہے، تاہم غزہ کی لڑائی نے اسے ماند کر دیا ، صدر پوتن کی جنگ بین الاقوامی توجہ حاصل کر رہی ہے، صدر ولادیمیر زیلنسکی وسائل کی کمی کا شکار ہیں اور وہ گھریلو محاذ پر اہم مسئلے سے نمٹنے کے لئے اتحادیوں سے مالی اور گولہ بارود کی مدد طلب کرتے ہیں

    یوکرین کے فوجی کمانڈر، ویلری زلوزنی، نے یوکرین کی فوج کو درپیش چیلنجوں کا کھل کر اعتراف کیا جن میں نئے اہلکاروں کی بھرتی اور انکی تربیت شامل ہے، زلوزنی نے جنگ کی طویل نوعیت، اگلے مورچوں پر سپاہیوں کی موجودگی کے محدود مواقع، اور متحرک قانون سازی میں قانونی خامیوں پر روشنی ڈالی، یہ سب شہریوں میں فوج میں بھرتی ہونے کے لیے کم ہوتی ہوئی حوصلہ افزائی میں معاون ہیں۔

    زلوزنی کے مطابق، جنگ کا بڑھا ہوا دورانیہ، قانون سازی کے خلاء کے ساتھ مل کر متحرک ہونے سے بچنے کے لیے، شہریوں کی فوج میں خدمات انجام دینے کی خواہش کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ یہ یوکرین کی مسلح افواج کو برقرار رکھنے اور جاری دشمنی کے دوران ان کی تاثیر کو برقرار رکھنے میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔

    بڑھتے ہوئے تنازعہ کے جواب میں، یوکرین نے ایک حملے کے بعد مارشل لاء نافذ کر دیا، جس میں 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام مردوں کے لیے فوجی تربیت لازمی قرار دی گئی، جنہیں ضرورت کے وقت بلایا بھی جا سکتا ہے، ان افراد پر سخت سفری پابندیاں لاگو کی گئی ہیں،

    فوجی اور مالی امداد کی فوری ضرورت کے باوجود، یوکرین کے لیے مغربی حمایت کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، خاص طور پر غزہ کے تنازع کے بعد، اس پیشرفت نے یوکرین کو ایک نازک حالت میں چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری وسائل کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

    دریں اثنا، روس نے کیف پر اپنے حملوں کو تیز کر دیا ہے،رپورٹس کے مطابق دو راتوں کے دوران لگاتار حملوں میں ڈرون استعمال کر تے رہے۔ انتظامیہ کے سربراہ Serhiy Popko نے اطلاع دی کہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کے دوران کیف اور اس کے مضافات میں تقریباً 10 ڈرونز کو کامیابی سے روکا،

    (مزید تفصیلی معلومات کے لیے، آپ ویلیری زلوزنی کے سرکاری بیان کا حوالہ دے سکتے ہیں: https://infographics.economist.com/2023/ExternalContent/ZALUZHNYI_FULL_VERSION.pdf

    جیسا کہ صورتحال سامنے آتی جارہی ہے، بین الاقوامی برادری کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ چوکنا رہے اور یوکرین کو درپیش پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے اور تنازع کے پائیدار حل کو یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔

  • جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے  پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہمارے سیاستدانوں کی تاریخ کیا لکھی جائے گی ؟ ملک مقروض،عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم،مہنگائی ، بے روزگاری عروج پرہے اور یہ ایک دسرے کو غدار ،سیکورٹی رسک ، انڈیا کا یار، یہودی ایجنٹ ، امریکی ایجنٹ گردانتے ہیں اور اب بات لاڈلا تک پہنچ چکی ہے،یاد رکھیے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی لاڈلا نہیں،اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی یہ سرزمین اور عوام ہیں اسی سرزمین کی سلامتی کی خاطر اسٹیبلشمنٹ قربانیاں دیتی ہے،موجودہ دور میں قومی سلامتی کی تعریف وسیع ہو گئی ہے اور معیشت اس کا ایک بڑا حصہ ہے،فوج کا ساتھ ہر طبقہ فکر کے لوگ دیتے ہیں،تب ہی فوج کا جذبہ جوان رہتا ہے اور وہ کامیاب ہوتی ہے، فوجی کے جذبات دل و دماغ میں پرورش پاتے ہیں اور جنگ کے موقع پر وہا ں کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔

    فوج کے نیچے سے تو سیاستدان زمین کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں،سیاستدان چاہتے ہیں ، فوج آئین اور قانون کے تحت ان کی تابع رہے،یہ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی تو اپنا قبلہ درست رکھیں،فوج کو اپنا ہی سمجھیں اس کی وجہ سے ملک قائم ہے اوریہ فوج ہی ملکی سلامتی کی ذمہ دار ہے، جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ خدارا اپنی فوج سے غیریت مت برتیے، سیاستدانوں کو لاڈلاکی سیاست سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا،نواز شریف اگر لاڈلے ہوتے تو تین بار وزارت عظمٰی سے کیوں نکالے جاتے ؟نواز شریف کے خلاف کرپشن کی داستانیں آج طوطا میںا کہانیاں ثابت ہورہی ہیں، ان کے ا دوار میں کئی میگا پراجیکٹس آج قومی اثاثے ثابت ہو رہے ہیں، جن میں موٹر ویز سرفہرست ہیں، ایٹمی طاقت کا اظہارقومی دفاع کی علامت بن چکا ہے،

    سیاستدانوں کے لئے بھٹو کی پھانسی، محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل ، نواز شریف کی اقتدار میں انٹری اور ایگزٹ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں اور مقتدر حلقوں میں نوازشریف کی حب الوطنی اور عالمی تناظر میں اہمیت روز روشن کی طرح واضع ہو چکی ہے ،تمام سیاسی قوتوں کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کودیکھنا ہو گا، ورنہ ذر ا سوچئے اگر جمہوریت کی پری نے مکھڑا پھیر لیا تو پھر کیا ہو گا؟ نواز شریف کیسا لاڈلا ہے 2002 ، 2008 اور 2018 کا الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا، 2013 عدالتی حکم پر الیکشن لڑا،اب فیصلہ عوام کریں لاڈلاکون ہے ؟

  • تمباکو  سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    سگریٹ نوشی مضر صحت ہے، پیسےکا ضیاع، بیماریوں کا باعث،آج نہیں تو کل ڈاکٹر کے کہنے پر سگریٹ نوشی ترک کرنی پڑے گی، بہتر یہی ہے کہ کل کا انتظا رکرنے کی بجائے،آج ہی سگریٹ نوشی ترک کرنے کا فیصلہ کر لیں، ہاں، سگریٹ نوشی ترک کی جا سکتی ہے مگر اس صورت میں جب آپ سوچیں اور فیصلہ کریں، جب سوچ کر فیصلہ کر لیں گے تو یہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کی طرف پہلا قدم ہو گا، چلنا شروع ہوں گے تو منزل تک پہنچ جائیں گے

    اگر سگریٹ نوشی ترک کرنے بارے نہیں سوچا تو لازمی سوچیں، اپنی صحت کے بارے سوچیں، اپنے اہلخانہ کے بارے سوچیں اور پھر ارادہ کریں، فیصلہ کریں، یقینا کامیابی ہی ملے گی،سگریٹ نوشی ترک کرنا مشکل نہیں بلکہ ممکنات میں سے ہے، معاشرے میں ایسے ہزاروں افراد موجود ہیں جو سگریٹ ترک کر چکے اور صحتمندانہ زندگی گزار رہے ہیں،اسکے لیے منصوبہ بندی کرنی ہو گی اور اپنے دل و دماغ میں یہ خیال لانا ہو گا کہ سگریٹ ….مضر صحت ہے، ڈاکٹر کے کہنے پر اگر چاول، تلی ہوئی چیزیں کچھ دن چھوڑ دیتے ہیں، کھانے میں نرم غذا کھاتے ہیں تو سگریٹ نوشی کو بھی کم از کم ڈاکٹر کے کہنے سے قبل ہی چھوڑا جا سکتا ہے.

    تمباکو نوشی کرنے والے بہت سے لوگ نیکوٹین کے عادی ہو جاتے ہیں جو سگریٹ اور دیگر تمباکو کی مصنوعات میں پائی جاتی ہے،ماہرین کے مطابق سگریٹ کو ترک کرنے کے لیے نیکوٹین متبادل تھراپی کریں یعنی چیونگ گم، انہیلر سمیت کچھ دوسری چیزوں کا استعمال کریں،نہ چھوڑنے کی عادت،اور دماغ میں بسا لینا کہ نہیں چھوڑ سکتے، ایسا بالکل بھی نہیں اگر عزم مصمم کر لیں تو سگریٹ…ابھی بھی اور اسی وقت ہی چھوڑا جا سکتا ہے،آپ کب سے تمباکو نوشی کر رہے ہیں، کتنے سگریٹ پیتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گابھلے ایک منٹ میں چھوڑنے کا فیصلہ کرلیں، کوئی ہچکچاہٹ ہے تو معالج سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے،

    تمباکو نوشی چھوڑنے میں کبھی دیر نہیں کرنی چاہئے۔ تمباکو نوشی چھوڑنا صحت کو بہتر بناتا ہے دل کی بیماری، کینسر، پھیپھڑوں کی بیماری سمیت دیگر بیماریوں کا خطرہ کم کرتا ہے۔سگریٹ نوشی ترک کرنا خاندان کے افراد، دوستوں اور دوسروں کو سانس لینے کے دوسرے دھوئیں سے منسلک خطرات سے بچانے کا واحد بہترین طریقہ ہے۔سگریٹ کا دھواں ان لوگوں کے لیے بھی خطرناک ہےجو سگرٹ نہیں پیتے مگر اس دھویں میں سانس لیتے ہیں،

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اگر سگریٹ کی طلب ہو رہی ہے تو اس میں تاخیر کریں، گھنٹے بعد سگریٹ پیتے ہیں تو دو گھنٹے، پھر چار ،پھر چھ گھنٹے بعد پیئیں، آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھاتے جائیں ،بالآخر …آپ آخری سگریٹ پی کر …سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہوں گے.

    تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے سوچیں کہ سگریٹ سے کتنا مالی نقصان ہو رہا، جو قیمت سگریٹ کی دی جا رہی اسی قیمت میں اور کام کئے جا سکتے ہیں،انہی پیسوں کا دودھ پی کر صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے، فروٹ کھایا جا سکتا ہے،سوچیں…آپکا دماغ آپ کو مجبور کر دے گاکہ واقعی سگریٹ مضر صحت اور پیسے کے ضیاع کا طریقہ ہے،موجودہ مہنگائی کے دور میں اگر اور کچھ نہیں کرتے تو سگریٹ ترک کرکے سگریٹ پر خرچ کی جانے والی رقم مشکل وقت کے لئے محفوظ کر لیں

    ترک سگرٹ نوشی سے آپ اپنےآپ کو نہ صرف صحت مند،چست و توانامحسوس کریں گے بلکہ لمبی زندگی پائیں گے، بیماریوں سے محفوظ رہیں گے، مالی بچت بھی ہو گی،اسلئے بغیر کسی تاخیر..فیصلہ کریں، ترک کریں اور نعرہ لگائیں..تمباکو سے پاک پاکستان.

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

  • سموگ۔۔۔میں حفاظتی تدابیر .تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سموگ۔۔۔میں حفاظتی تدابیر .تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    اللہ تعالیٰ نے جس کائنات کی تخلیق کی وہ بے حد وسیع ، خوبصورت ، حسین وجمیل ، صفاف وشفاف اور اجلی ہے ۔لیکن انسان اپنی نت نئی ایجادات اور مصنوعات کے مرہون منت اس کائنات کو آلودہ اور تباہ کررہا ہے۔ یہ آلودگی درحقیقت زہر ہے جو انسانی صحت اور زندگی کو برباد کررہی ہے ۔ اس وقت جو چیزیں کائنات کو آلودہ اور انسانی صحت کو تباہ کررہی ہیں ان میں سر فہرست۔۔۔۔ ”’ سموگ “‘ ہے ۔ سموگ بنیادی طور پر ایسی فضائی آلودگی ہے جو انسانی آنکھ ،دماغ اور جسم کو تاحد نگاہ متاثر کرتی ہے، سموگ کو زمینی ” اوزون “ بھی کہا جاتا ہے ،یہ ایک ایسی بھاری اور سرمئی دھند کی تہہ کی مانند ہو تی ہے جو ہوا میں جم جاتی ہے۔سموگ میں موجود دھوئیں اور دھند کے اس مرکب یا آمیزے میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین جیسے مختلف زہریلے کیمیائی مادے بھی شامل ہوتے ہیں اور پھر فضا میں موجود ہوائی آلودگی اور بخارات کا سورج کی روشنی میں دھند کے ساتھ ملنا سموگ کی وجہ بنتا ہے۔
    جو چیزں سموگ کے بننے اور پھیلنے پھولنے کا سبب بنتی ہیں وہ ہے بارشوں میں کمی، فضلوں کو جلایا جانا، کارخانوں گاڑیوں کا دھواں ،درختوں کا بے تحاشا کٹاﺅ اور قدرتی ماحول میں بگاڑ پیدا کرنا ۔۔۔۔یہ سموگ کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
    سب سے پہلے ہمیں دھند اور سموگ میں فرق معلوم ہونا چاہئے کیونکہ سموگ کی موجودگی اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں جاننے کے بعد ہی ہم اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔دھند اور سموگ میں بظاہر کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا لیکن دھند اور سموگ کی نوعیتیں ، کیفتیں مختلف ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ہوا میں موجود بخارات کم درجہ حرارت کی وجہ سے کثیف ہو جاتے ہیں تو یہ ماحول میں سفیدی مائل ایک موٹی تہہ بنا دیتے ہیں جسے دھند کہا جاتا ہے، اسی دھند میں دھواں اور مختلف زہریلے کیمیائی مادے شامل ہو جائیں تو یہ دھند مزید گہری اور کثیف ہو جاتی ہے جسے سموگ کہاجاتا ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد فضائی آلودگی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، دراصل سموگ میں بنیادی طور پر ایک زہریلا مادہ موجود ہوتا ہے جو پرٹیکولیٹ مادہ 2.5 کہلاتا ہے اور یہ پی ایم 2.5 ایک انسانی بال سے تقریباً چار گنا باریک ہوتا ہے یہ مادہ ہوا کے ذریعے انسانی پھیپھڑوں میں بآسانی داخل ہو کر پھیپھڑوں کی مختلف بیماریوں کیساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے کینسر تک کا باعث بن سکتا ہے۔
    سموگ سے بچاﺅ کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ وہ ہے جو ہر انسان اپنے طور پر اختیار کرسکتا ہے ۔ یعنی مناسب حفاظتی لباس پہنایا جائے ۔ اس کا مطلب ہے کہ جب آپ باہر جائیں تو ماسک پہنیں یا دوسرے آلات استعمال کریں جو آپکو نقصان دہ ذرات سے پھیلنے والی آلودگی سے بچاتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ جس قدر ممکن ہو سموگ کے اثرات سے بچا جائے تاہم اگر آپ کی رہائش زیادہ آلودگی والے علاقے میں ہے تو پھر ضروری ہے کہ اپنی صحت کی حفاظت کیلئے دوسرے طریقے بھی اختیار کریں ۔یعنی دل کے مریض گھر وں میں رہ کر اسٹیم لیں، ٹھنڈے مشروبات اور کھانے پینے کی کھٹی ترش اشیاسے پرہیز کریں ، اگر کسی کو دل یا پھیپھڑوں کا دائمی مسئلہ ہے، جیسے دمہ یا اس جیسی کوئی دیگر بیماری ہے تو پھر ڈاکٹر سے اپنے آ پ کو فضائی آلودگی سے بچانے کے طریقوں کے بارے میں مشورہ کریں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر آپ کو سانس لینے میں مدد کے لیے کوئی دوا تجویز کر سکتا ہے۔

    اگر کسی کے سینے میں جکڑن، آنکھوں میں جلن، یا کھانسی کی علامات ہیں تو ڈاکٹر سے ملیں، بچوں کو آلودگی کی بلند سطح کے اثرات بڑوں کی نسبت زیادہ محسوس ہوتے ہیںاس لئے بچوں کے لئے حفاظتی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہے ۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سموگ سے بچاﺅ کیلئے اپنے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں کے شیشے بند رکھیں، جب تک آلودہ دھوئیں والا موسم ختم نہیں ہو جاتا تب تک کھلی فضا میں جانے سے گریز کریں ، خاص کر سانس کی تکلیف میں مبتلا افراد ایسے موسم میں ہرگز باہر نہ نکلیں، ایسے موسم میں جسمانی ورزش کرنے سے بھی دریغ کیا جائے اور اپنی گاڑیوں کو کھڑے رکھنے کی پوزیشن کے دوران انجن کو چلتا مت چھوڑیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ سے بچنے کے لئے جہاں حکومت کو آلودگی کے خاتمہ میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ماحول دوست ایندھن کا استعمال نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ اس بارے میں ضروری ہے کہ حکومت دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرے جو لوگ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں چلاتے ہیں ان کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے جبکہ ہم سے ہر شخص خود بھی ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مرمت کروائے تاکہ فضا میں آلودگی نہ پھیلے ۔نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں پنجاب اور خاص کر لاہور میں سموگ کی وبا عام ہوجاتی ہے ۔ حکومت اس سے نمٹنے کے کےلئے ہر سال پنجاب بھر میں سموگ ایمرجنسی نافذ کردیتی ہے ایک ماہ کے لئے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں طلبا و طالبات کیلئے ماسک لازمی قراردے دیا جاتا ہے یا پھر کچھ دنوں کےلئے سکولوں کالجوں میں چھٹیاں دے دی جاتی ہیں ۔کچھ دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔

    چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    بجلی کے بلوں کی وجہ سے گھر گھر لڑائیاں ہورہی ہیں،ڈاکٹر سبیل اکرام

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    مراعات میں شاہانہ اضافے کے بل کی منظوری افسوسناک ہے،سبیل اکرام

    استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں ۔ ڈاکٹر سبیل اکرام

    قرآن مجید کا پڑھنا عبادت اوراس پر عمل کرنا باعث نجات ہے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    اصل بات یہ ہے کہ ہر سال نومبر اور دسمبر کے مہینے میں سموگ سے بچاﺅ کےلئے جتنے بھی اقدامات کئے جاتے ہیں یہ سب عارضی اقدامات ہیں اصل بات یہ ہے کہ لاہور جو پاکستان کا دل ہے ، پاکستان کا دوسرا بڑا صنعتی ، تجارتی اور صنعتی مرکز ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت ہے اس شہر میں ٹریفک بے ہنگم ہوچکی ہے ، لاہور کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ، لاہور جو کبھی باغوں کا شہر تھا اب یہ شہر دنیا کا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے ۔ ہریالی کا فقدان ہے ، آبادی کے تناسب سے درخت نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ گندگی پھیلانے والوں کے خلاف کوئی کروائی نہیں کی جاتی ۔اگر چہ پنجاب حکومت ہر سال لاہور کو سموگ زدہ شہر قراردیتی ہے اس مناسبت سے وقتی طور پر کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن اقدامات موقع محل اور ضروریات کی نسبت قطعی ناکافی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اگلے سال سموگ پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے ۔ اب حالت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سموگ کی شدت بڑھتی جارہی ہے لہذا اب ضروری ہوچکا ہے کہ انتظامیہ لاہور کی آبادی کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کےلئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔ مثلاََ یہ ہے کہ بے ہنگم آبادی کو کنٹرول کیا جائے ، ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جائے ، شجر کاری میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے ۔یہ وہ اقدامات ہیں جن پر عمل کرکے سموگ جیسی آفت پر قابو پایا جاسکتا ہے اور لاہور کو بھی بڑی تباہی سے بچایا جاسکتا ہے ۔ سموگ کا تدارک اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ چھوٹے بچوں کی صحت کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے جبکہ بچے ہی کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔۔۔۔بچے محفوظ ہوں گے تو ہم بھی بحیثیت قوم محفوظ رہیں گے ۔
    subiyal

  • تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    سگریٹ پر ٹیکس، عالمی بینک نے تمباکو نوش افرادکو بری خبر سنا دی، عالمی بینک نے سگریٹ پرٹیکس میں اضافے کی سفارش کی ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں، قیمتیں کم ہونے کی وجہ ٹیکس کا کم ہونا ہے، ٹیکس کم ہونے کی وجہ سے سگریٹ کی فروخت زیادہ ہوتی ہے اور سالانہ تین لاکھ سے زائد افراد کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے موت ہو جاتی ہے

    ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ پریمیم سگریٹ (16.50 روپے فی سگریٹ) پر موجودہ شرح کو عام کیٹگری کے سگریٹ پر بھی لاگو کرکے جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کا نمایاں ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، رپورٹ میں اس اقدام کے ذریعے معاشی اور صحت سے متعلق فوائد کے امکانات کو اجاگر کیا گیا ہے،پاکستان میں سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی اس وقت اپنی متوقع شرح سے کم ہے، مالی سال 21 کے دوران جی ڈی پی کا صرف 0.5 فیصد حصہ اس وصولی سے ملا ہے،سگریٹ پر ٹیکس، جو کہ جی ڈی پی کا 0.19 فیصد ہے، حالیہ برسوں میں نسبتاً جمود کا شکار رہا ہے،

    سگریٹ مضر صحت ہے، سگریٹ کی پیکٹ پر لکھا ہونے کے باوجود کوئی سگریٹ چھوڑنے کو تیار نہیں، گھر میں کچھ کھانے کو ہے یا نہیں؟ سگریٹ ضرور پینا ہے، بجلی کا بل جمع کروانے کے پیسے نہیں،بچوں کو سرکاری سکول میں اسلئے داخل کروایا کہ پرائیویٹ کی فیس نہیں دے سکتے، بیمار ہو جائیں تو سرکاری ہسپتال میں لائن میں لگیں ،پرائیویٹ ہسپتال نہیں جا سکتے کہ فیسوں کے پیسے نہیں، البتہ، دھواں اڑانے کے لیے ، سگریٹ پینے کے لئے روز پیسے ہوتے ہیں اور روز ہی خرچ ہوتے ہیں، ایک پیکٹ سگریٹ کی قیمت کا ماہانہ اگر حساب کیا جائے تو سگریٹ نوش کم از کم ماہانہ چھ سے دس ہزار کے سگریٹ پی جاتا ہے، ان پیسوں‌سے وہ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم، اچھی صحت، اچھی غذا کا بندوبست کر سکتا ہے تا ہم سگریٹ ضروری باقی سب جائیں بھاڑ میں…

    ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا ڈھائی کروڑ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں،رپورٹ عالمی ادارے ٹوبیکو ہارم ریڈ کشن نے تیار کی،رپورٹ میں کہا گیا کہ تمباکو نوشی کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلا کر 12 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں، تمباکو نوشی سے شرح اموات بڑھ چکی ہے،رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والے بالغ افراد کی تعداد دو کروڑ 39 لاکھ ہے ،ان میں سے چھ فیصد ای سگریٹ اور ویپنگ کا استعمال کرتے ہیں،پاکستان میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے لیکن قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا کیونکہ پاکستان شاید بنا ہی اسی لئے کہ ہر بندے کا اپنا ہی قانون ہے،جہاں پابندی ہو یا رکاوٹیں ہوں پاکستانی وہیں غلط کام کرنے کو نہ صرف ترجیح دیتے بلکہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں، تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی بڑھ چکی، پولیس کو کاروائی کی ہدایت ہے لیکن اسکے باوجود تعلیمی ادارے نہ صرف سگریٹ بلکہ منشیات کے گڑھ بن چکے ہیں،طالبات میں بھی سگریٹ نوشی دیکھنے میں آئی ہے ،

    پاکستان میں تمباکو نوشی پر کنٹرول ،یہ ایک چیلنج ہے، حکومت کو تمباکو ساز کمپنیوں کی جانب سے رشوتیں دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ٹیکسز نہیں لگتے، عالمی بینک نے تو سفارش کر دی لیکن اب مزید ٹیکس کون لگائے گا؟ سگریٹ ساز کمپنیاں سفارشیں شروع کروا دیں گی اور اگر کوئی فائل نکلی تو پھر نوٹوں کی گڈی تلے دب جائے گی،پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ، یہ بات ہر پاکستانی کہتا ہے، تاہم تمباکو سے پاک پاکستان، اس نعرے کو بھی پھیلانے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں اس نعرے کو شامل کرنا چاہئے، سیاسی لیڈران کو اس نعرےکو اپنانا چاہئے کہ وہ اپنے نسل کو تمباکو کی زیر سے بچائیں گے اور تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

  • آئی ایم ایف کا مینڈیٹ اور مستقبل کی پالیسیوں پر عمل درآمد

    آئی ایم ایف کا مینڈیٹ اور مستقبل کی پالیسیوں پر عمل درآمد

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اس وقت مقررہ اقتصادی اہداف کے حصول میں پاکستان کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کررہا ہےیہ کامیابی کی ایک قیمت ہے۔ کیونکہ اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا جس سے افراط زر میں اضافہ ہوا۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکس میں اضافے اور یونٹ کی بڑھتی ہوئی لاگت نے نقصان دہ اثر ڈالا ہے۔

    پاکستان کے معاشی دباؤ میں اہم کردار ادا کرنے والا ایک اہم عنصر صنعتوں کی بندش یا محدود کام ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف مذکورہ بالا ٹیکس میں اضافے سے پیدا ہوتا ہے بلکہ ڈالر کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کی بندش سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ ستمبر 2023 تک، ذخائر $1316.80 ملین ڈالر تھے تھے، جو اکتوبر 2023 تک گر کر $12600 ملین رہ گئے۔ نتیجتاً، صارفین کی قوت خرید کم ہو گئی، اور اخراجات کو ضروری ضروریات تک محدود کر دیا گیا۔

    مارچ 2024 کے لیے شیڈول آئی ایم ایف کا آئندہ جائزہ ٹیکس کے ممکنہ اضافے کے لیے تین شعبوں پر روشنی ڈالتا ہے؛ خوردہ مصنوعات ، رئیل اسٹیٹ، اور زرعی مصنوعات۔ یہ اقدامات آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے بہت اہم ہیں لیکن پہلے ہی منفی اثرات سے دوچار معیشت کے لیے چیلنجز ہیں۔

    پاکستانی حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے رجعت پسند موقف نظرآتا ہے۔ مالیاتی پالیسی، جس کا مرکز اسٹیٹ بینک کی جانب سے معیشت میں فنڈز کی فراہمی ہے، جس میں ٹیکس اور اخراجات شامل ہیں، دونوں کا اثر ہوا ہے۔ معاشی صورتحال کے جواب میں، نگراں حکومت نے حال ہی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سے حاصل ہونے والے بینک منافع پر بیک وقت 40 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔ یہ فیصلہ 2021-2022 میں روپے اور ڈالر کی قیاس آرائی پر مبنی تجارت سے 110 بلین روپے کے منافع کے انکشاف کے بعد کیا گیا۔

    پاکستانی ماہر اقتصادیات ہارون شریف، جو سابق وزیر مملکت، اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین ہیں، نے ایک حالیہ ٹویٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایشیا میں سب سے زیادہ شرح سود کا سامنا ہے اور وہ مالیاتی بحران سے دوچار ہے، جس میں ضروری شعبوں جیسے کہ نئے منصوبوں، ہاؤسنگ، انفراسٹرکچر، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) اور برآمدات کے لیے سستی طویل مدتی فنانسنگ کی کمی ہے۔

    موجودہ معاشی بدحالی میں اضافی اقدامات سے صورتحال کےمزید خراب کرنے کا خطرہ ہے۔ مزید بندشیں اور روزگار کے مواقع کی کمی نہ صرف معاشی ڈپریشن کو مزید گہرا کرے گی، بلکہ ٹیکس وصولی کی کوششوں میں بھی رکاوٹ ہوگی۔ چونکہ قوم ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، پالیسی سازوں کو آئی ایم ایف کی ضروریات کو پورا کرنے، اور معیشت اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے درمیان احتیاط سے جانا چاہیے۔

  • ناک کی سائنسی اہمیت

    ناک کی سائنسی اہمیت

                                                       ناک کی سائنسی اہمیت
    انتخاب:ملک ظفراقبال اوکاڑہ

    دنیا کا بہترین ایئر فلٹر انسانی ناک ہے، آپ کے نتھنوں پر دسیوں ہزار بال ہیں جو جراثیم، وائرس، دھول کو روکتے ہیں۔آپ کی ناک اور دماع کے مابین ایک براہ راست تعلق ہےآپ اپنی ناک سے بو نہیں سونگھتے، یہ دراصل دماغ ہے جو کام کرتا ہے۔ آپ کی ناک میں موجود 10 ملین سے زیادہ ولفیکٹری اعصاب بو کو پکڑ کے دماغ میں بھیجتے ہیں۔ جہاں اس کے بعد بو کی شناخت کی جاتی ہے۔

    آپ کی ناک آپ کے سانس لینے والی ہوا پر عملدرآمد کرتی ہے، اسے آپ کے پھیپھڑوں اور گلے کے لیے تیار کرتی ہے جو خشک ہوا کو اچھی طرح سے برداشت نہیں کرتے۔

    ناک کا فریم ورک ہڈی اور کارٹلیج پر مشتمل ہوتا ہے۔ ناک کی دو چھوٹی ہڈیاں اور میکسیلے کی توسیع ناک کا پل بناتی ہے، جو کہ ہڈیوں کا حصہ ہے۔ فریم ورک کا باقی حصہ کارٹلیج ہے اور لچکدار حصہ ہے۔ کنیکٹیو ٹشو اور جلد اس فریم ورک کو ڈھانپتے ہیں۔

    آپ کی ناک اور سینوس کے درمیان شراکت آپ کے جسم اور آپ کے پھیپھڑوں میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتی ہے۔ وہ آپ کی مدافعتی فعالیت میں بھی بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔

    سینوس آپ کے گال کی ہڈیوں اور پیشانی کے پیچھے چھوٹے، ہوا سے بھری جگہیں ہیں۔ آپ کے سینوس سے پیدا ہونے والا بلغم عام طور پر چھوٹے چینلز کے ذریعے آپ کی ناک میں جاتا ہے۔ سائنوسائٹس میں، یہ چینلز بلاک ہو جاتے ہیں کیونکہ سائنوس کی پرتیں سوج جاتی ہیں۔

    سینوس کا کام آپ کے پھیپھڑوں تک پہنچنے سے پہلے سانس لینے والی ہوا کو گرم اور مرطوب کرنا ھے۔ گرم، نم ہوا میں سانس لینا آپ کی صحت کے لیے بہترین ہے۔

    آپ کی ناک آپ کے ذائقے کی حس پر اٹر انداز ہوتی ہے۔ جیسا کہ جب آپ کو flue ہو تو آپ کو چیزوں کا ذائقہ بدلا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ناک بالواسطہ آپ کی آواز پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ نزلہ یا زکام میں آواز کا تبدیل ہوجانا اسکی ایک چھوٹی سی مثال ہے

    جرنل آف کرینیو فیشل سرجری میں حالیہ سروے نے انسانی ناک کی 14 شکلوں کی نشاندہی کی ہے۔انسانی ناک 10,000 سے زیادہ خوشبوؤں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔آپ کی چھینک کا انداز جینیاتی ہوسکتا ہے۔آپ کو نیند میں چھینک نہیں آتی کیونکہ چھینک کو متحرک کرنے والے اعصاب بھی سوتے ہیں۔

    یہ حیرت انگیز ہے کہ جب چھینک آتی ہے تو یہ 100 میل فی گھنٹہ کی ناقابل یقین رفتار سے باہر نکلتی ہے،ایک چھینک میں تقریبات 40،000 چھوٹے چھوٹے نمودار ذرات ہوتے ہیں۔چھینک کی رفتار اور طاقت کی وجہ سے، آپ کی ناک سے نکلنے والے جراثیم 200 فٹ تک زمین پر گرتے ہیں۔ لہذا، دوسروں کی خاطر، چھینکتے ہوے چہرے کو ڈھانپیں۔

    روشنی ، خاص طور پر جو سورج سے آتی ہے، چھینک کو متحرک کر سکتی ہے۔ اس لئے کہا جاتاہےکہ چھینکتے ہوے روشنیوں کو دیکھیں۔

    روہرچ کہتے ہیں کہ آپ کی ناک کی مجموعی شکل 10 سال کی عمر تک بنتی ہے، اور آپ کی ناک خواتین میں تقریباً 15 سے 17 سال کی عمر تک اور مردوں میں 17 سے 19 سال کی عمر تک آہستہ آہستہ بڑھتی رہتی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، کشش ثقل کی نہ ختم ہونے والی ٹگ اور آپ کی جلد میں پروٹین کولیجن اور ایلسٹن کے بتدریج ٹوٹ جانے کی وجہ سے ناک لمبی اور گرتی جاتی ہے،

    جب آپ کسی مہکتی ہوئی چیز کے قریب جاتے ہیں تو خوشبو کے مالیکیول آپ کی ناک میں داخل ہوتے ہیں اور آپ کے ناک کی چھت پر موجود اولفیکٹری سینسرز کے اوپر لہراتے ہیں، جہاں وہ انگلی جیسے رسیپٹرز کو فعال کرتے ہیں جو کیمیکل منتقل کرتے ہیں۔ آپ کے دماغ میں ایک مرکزی پروسیسر موجود ہوتا ہے جسے اولفیٹری بلب کہتے ہیں، جو خوشبو کی پہچان کرتا ہے۔ یہ ولفیکٹری صلاحیت "جس طرح ہم دنیا کا تجربہ کرتے ہیں اس میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    واشنگٹن یونیورسٹی کے مطابق انسانوں میں لگ بھگ 12 ملین ولفیٹری ریسیپٹر سیل ہوتے ہیں، یہ تعداد عمر کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ھے کہ بوڑھے لوگوں کو بو کا احساس کم ہوتا جاتا ہے۔

    ہر روز آپ کی ناک 34 اونس یا ایک لیٹر بلغم پیدا کرتی ہے۔ خوش قسمتی سے، یہ آپ کی ناک سے بہت زیادہ نہیں نکلتا ہے۔ درحقیقت، اس کا زیادہ تر حصہ آپ کے گلے میں جاتا ہے۔ اور وہاں رطوبت پیدا کرتا ہے۔ ایستھما کے مرض میں جب سانس کی نالیوں میں خشکی بڑھ جاتی ہے تو یہ رطوبت سانس کی نالیوں کو گیلا کرنے کے لئے مددگارہوتی ہے۔

    بلغم میں ایسے کیمیکل ہوتے ہیں جو آپ کو صحت مند رکھتے ہیں۔

    یہ حیران کن ہے کہ 24 گھنٹے کی مدت میں، 20,000 لیٹر ہوا آپ کی ناک سے گزرتی ہے۔ یہ 5,283 گیلن کے برابر ہے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سروس بالکل مفت ہے۔

    اعصابی مطالعات کے مطابق انسان ایک کھرب مختلف خوشبوؤں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خوشبو یا بدبو کے مالیکیول ہماری ناک میں 12 ملین ریسیپٹرز سے منسلک ہوتے ہیں تاکہ ہمیں سونگھنے کا ایک ناقابل یقین احساس ہو۔خواتین میں سونگھنے کے لیے دماغ کا حصہ مردوں کے مقابلے میں 50% تک بڑا ہوتا ہے۔¹

    سونگھنے کی حس پانچ حواس میں سے واحد حس ہے جو دماغ کے اس حصے سے براہ راست جڑی ہوئی ہے جہاں یادیں بنتی ہیں، اور جذبات پیدا ہوتےہیں۔

    آپ کی اندرونی ناک خوردبینی بالوں کی طرح کے ڈھانچے سے ڈھکی ہوئی ہے، جسے سیلیا کہتے ہیں۔ سیلیا ہر پانچ سے آٹھ منٹ میں ناک کے پچھلے حصے تک بلغم پہنچاتے ہیں۔ناک میں موجود یہ سیلیا موت کے 20 گھنٹے بعد تک حرکت کرتے ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ اس سے موت کے وقت کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔