Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا نواز شریف پر اظہار اعتماد،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا نواز شریف پر اظہار اعتماد،تجزیہ:شہزاد قریشی

    صوبہ بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا میاں محمد نواز شریف پر اظہار اعتماد اور مسلم لیگ (ن) میں شمولیت دراصل نواز شریف کی بطور وزیراعظم ان کا وشوں کا اعتراف ہے جو کہ نواز شریف نے بلوچستان کی محرومیوں کو ختم کرنے بلوچی بھائیوں کے زخم پر مرہم رکھنے اور صوبہ کو گوادر سی پورٹ اور مواصلاتی و ترقیاتی منصوبوں سے لیس کرنے کے اقدامات تھے ۔ نواز شریف نے گذشتہ ادوار میں بطور وزیراعظم جہاں پاکستان بھر میں میگا پراجیکٹس کی بھرمار کردی تھی وہاں بلوچستان منصوبہ کو بھی سی پیک و گوادر پورٹ کے منصوبوں سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے تاریخی اقدامات کیے تھے۔ اس ترقی کا عمل وہیں کا وہیں روک دیا گیا جس کا خمیازہ ملک وقوم کو بھگتنا پڑا۔ آج بلوچستان میں نواز شریف کی جو عزت افزائی ہوئی اور قومی سطح کے اعتماد بھائی چارے کی فضا کو جو فروغ ملا اس پر چند سیاسی طالع آزما ئوں کو اور کچھ دانشوروں تجزیہ کاروں کو تاریخ کے صفحات پلٹ کر ایک نظر ان حقائق پر بھی ڈالنی چاہیئے ۔

    جب قومی و جمہوری و مفاہمتی سیاست کے د عویدار جناب آصف علی زرداری نے اپنے خفیہ موکلوں کے بل بوتے پر مسلم لیگ (ن) کی ہی حکومت کو رخصت کیا تھا اور سینٹ میں مسلم لیگ(ن) کی عددی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کروا کر ( ایک زرداری سب پر بھاری ) کے خوشامدانہ نعر ے اور نعروں سے اپنے دامن پرجمہوریت کے قتل کے داغ سجا لئے تھے۔ آج لیول پلنگ فیلڈ کے نام پر اپنے ماضی کے گناہوں سے چشم پوشی کرنے والوں کو وہ وقت بھی یاد رکھنا ہوگا۔ قوم نے نواز شریف کی وزارت عظمٰی سے معزولی کی بھاری قیمت جو ادا کی تھی وہ ترقیاتی عمل سے تنزلی کا سفر ، سی پیک رول بیک ، جی ڈی پی میں کمی ، صحت و تعلیم کے شعبوں میں سہولیات کے فقدان کی صورت میں بھگتا ہے ۔ملکی سیکورٹی اور فوجی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ قومی مفاد سے آشنا ، دانشوروں اور تجزیہ کاروں کو چاہیئے کہ عوام کو باور کرائیں کہ دھرنا دھندوں عقل کے اندھوں سیاسی نعروں سے نکل کر صوبوں میں برابر ترقی کے خواب کو عملی جامعہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کریں .دنیا تیزی سے ترقی کررہی ہے اورہم ذرا سوچئے؟

  • ٹی بی کے علاج میں کامیابی

    ٹی بی کے علاج میں کامیابی

    ایک اہم پیشرفت میں جو بدقسمتی سے مقامی میڈیا کی توجہ حاصل نہ کر سکی ، اسے ٹی بی الائنس کی جانب سے ایان گاچیچیو نے اجاگر کیا۔ ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ (ASD) نے پاکستان میں منشیات کے خلاف مزاحمتی تپ دق (DR-TB) کے علاج میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ تنظیم نے ایک پائلٹ پروگرام کے ذریعے 206 شرکاء کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی طرف سے حال ہی میں تجویز کردہ BPaL/M ریگیمینز کے ساتھ علاج کے لیے رجسٹر کیا۔ ان رجیموں میں بیڈاکولین، پٹرومالڈ اور لائنزولڈ کے مجموعے موکسیفلوکسین کے ساتھ یا اس کے بغیر شامل ہوتے ہیں،

    ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ نے ایک قابل ذکر کامیابی کی شرح کی اطلاع دی، 113 میں سے 105 شرکاء (95%) اس علاج سے صحت یاب ہوئے، یہ نئی طرز عمل کے ساتھ عالمی سطح پر مشاہدہ کی گئی کامیابی کی شرح کا آئینہ دار ہے۔ اورمنشیات کے خلاف مزاحم ٹی بی کے علاج کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان مثبت نتائج کے جواب میں، پاکستان نے فوری طور پر DR-TB کے علاج کے رہنما خطوط کو اپ ڈیٹ کیا ہے، ان چھ ماہ کے تمام زبانی طریقہ کار کے استعمال کی توثیق کی ہے۔

    اکتوبر 2022 سے، ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ، پاکستان کے نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام (NTP) اور TB الائنس کے تعاون سے، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں چار مقامات راولپنڈی، نشتر ملتان، جناح لاہور، اور لیڈی ریڈنگ پشاور سے شرکاء کو بھرتی کر رہا ہے۔ ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ کی معاونت میں تکنیکی مہارت، کامیاب نفاذ کو یقینی بنانا، جامع تربیتی مواد اور کارکردگی کی نگرانی کے آلات شامل تھے۔ یہ پروجیکٹ مختلف ممالک میں BPaL/M کے نظام کو نافذ کرنے میں ٹی بی الائنس کے عالمی تجربے پر مبنی ہے۔

    ایک پُرجوش کامیابی کی کہانی عائشہ کی ہے، جو ایک نوجوان ماں ہے جس نے اپنی کمیونٹی میں منشیات کے خلاف مزاحمت کرنے والے تپ دق سے لڑنے والے دوسروں کے مشکل سفر کو دیکھا تھا۔ جب وہ خود بیمار ہو گئیں، عائشہ نے BPaL/M کے طریقہ کار کے لیے پائلٹ پروگرام میں داخلہ لیا، اسے فوری آرام آیا اور اس نے اپنی صحت دوبارہ حاصل کی، عائشہ نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہاکہ، "BPaL/M کا علاج میری زندگی میں سورج کی کرن بن کر ابھرا، جس کی تکمیل میں صرف چھ ماہ لگے۔ اس شاندار پیش رفت کی بدولت، میں اب اپنے خاندان کے لیے حاضر ہو سکتی ہوں اور زندگی کی خوشیوں کا ایک بار پھر مزہ لے سکتی ہوں۔” ان کے شوہر علی نے علاج کے لیے اظہار تشکر کیا، جس میں عائشہ کو ان لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ضمنی اثرات کا سامنا کرنا پڑا جن کا وہ جانتے تھے۔

    جیسے جیسے پروگرام آگے بڑھ رہا ہے، ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ پاکستان میں BPaL/M علاج کے نفاذ کو فروغ دینے، مدد کرنے اور اسکیل کرنے کے لیے وقف ہے۔ ابتدائی چار مقامات کے بعد نیشنل پروگرام نے پہلے ہی ملک بھر میں آٹھ اضافی مقامات پر اسکیلنگ شروع کر دی ہے۔ پاکستان میں 40 سے زیادہ DR-TB کیئر سائٹس تک توسیع کرنے کا منصوبہ ہے۔ مزید برآں، ریمنگٹن فارماسیوٹیکلز کے ساتھ ٹی بی الائنس کی تجارتی شراکت داری ملک میں پریٹومینیڈ اور بی پی اے ایل/ایم ریگیمینز تک رسائی کو مزید بڑھانے کا وعدہ بھی کرتی ہے۔

  • دنیا اقتدار  اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ۔ ماموزئے تنگ ہر چینی ، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہر پاکستانی۔ اس کے علاوہ ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں ز ندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے۔ ان کے ہمسفر نہ کوئی گوگی ،نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے، آج کی سیاسی جماعتوں میں یہ سب کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ملکی سیاسی تاریخ لکھنے والا کیا تاریخ لکھے گا؟ اس طرح کے سیاستدانوں جن کے ہمراہ اس قسم کی مخلوق ہوتو اپنے ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدار میں پھینک دیتا ہے ۔ سیاستدان اخلاقیات سے عاری اور منافقت کے چلتے پھرتے نمونے بن چکے ہیں۔ حیرت ہے یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے اور یہ ادارے ملکی بقا اور قومی سلامتی کی علامت ہوتے ہیں ان اداروں کو نہ صرف بدنام کیا جا رہا ہے بلکہ گھٹیا اور غلیظ الزامات لگائے جا رہے ہیں اور اس جرم میں ملکی سیاسی جماعتیں ملوث ہیں ۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر ڈال کر خود کو معصوم قرار دیتے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ان قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔امریکہ سے لے کر مغربی ممالک اور مڈل ایسٹ میں ان قومی سلامتی کے اداروں کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ ان اداروں کو بدنام یا کمزور کرنا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    مسجد اقصٰی کا مستقبل نہ امریکہ نہ ہی اسرائیل اور نہ ہی عالمی دنیا کے کسی مسلم ممالک کے ہاتھ میں ہے مسجد اقصٰی کا مستقبل وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے ۔ اس کی وہی حفاظت کرے گا جس پر وردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا۔ آج کے عالمی حکمرانوں سمیت مسلمان حکمرانوں کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں اور اپنے اپنے مفادات ،آج کی دنیا میں قیامت کا سماں برپا ہے ۔ نفانفسی کا عالم ہے ۔ دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں لگی ۔مگر ان انسانوں کو کون سمجھائے دولت اور حکمرانی خدا پاک کی طرف سے عطا کردہ آزمائشی تحفہ ہے۔ یہ قدرت کا دنیا پر ایک بطور امتحان ہے تاہم یاد رکھیئے نشیب وفراز کی کنجی صرف خدا پاک کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں فرعون کے نقش قدم پر چلے توکیا کہا جا سکتا ہے۔؟

  • ووٹروں کو بااختیار بنانا: انتخابات میں NOTA آپشن کی اہمیت

    ووٹروں کو بااختیار بنانا: انتخابات میں NOTA آپشن کی اہمیت

    جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں ، اس بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا انتخابات واقعی لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہیں یا محض شناسا چہروں کے اسی چکر کو برقرار رکھنے کے لئے جو اتحاد بناتے ہیں اور اپنے مفاد کے لیے پارٹیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ I. Rotberg کی کتاب "Transformative Political Leadership” میں ایک تنقیدی مشاہدہ کیا گیا ہے، جس میں ترقی پذیر دنیا میں کامیاب سیاسی رہنماؤں کی کمی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ روٹ برگ سیاسی نظریات کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے واضح حکمت عملی کے حامل رہنماؤں کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، جہاں ادارے کمزور ہوتے ہیں اور بدعنوانی غالب ہوتی ہے، اس معیار کا اکثر فقدان ہوتا ہے۔

    پاکستان میں جمہوریت کے دعوے کے تناظر میں، باریک بینی سے دیکھنے سے ایک کثیر الجماعتی نظام کا پتہ چلتا ہے جہاں سیاسی جماعتیں اکثر کرشماتی افراد پر انحصار کرتی ہیں جو خاندانی حکمرانی کے مجسم شکل میں تیار ہوتے ہیں۔ یہ رجحان، جیسا کہ ریگن کے مشیر، رابرٹ میک فارلین نے بیان کیا ہے، جمہوری فریم ورک کے اندر ایک "جاگیردارانہ کڑی” کے جذبات کی بازگشت ہے (میگنیفیشنٹ ڈیلیوژن: حسین حقانی، صفحہ 304)۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارت بھی اسی طرح کا بیانیہ رکھتا ہے۔

    ان چیلنجوں کے جواب میں، NOTA آپشن کا تعارف جمہوری اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ایک ترقی پسند قدم کے طور پر ابھرتا ہے۔ نوٹا عام شہری کو بیلٹ پیپر پر دستیاب انتخاب پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے یا سیاسی جماعتوں کی طرف سے پیش کردہ تمام آپشنز کو مسترد کرنے کا حق فراہم کر کے بااختیار بناتا ہے۔

    ایک بار جب NOTA کا آپشن منتخب ہو کرایک حد کو عبور کر لیتا ہے، جیسے کہ کسی حلقے میں ڈالے گئے کل ووٹوں کا 50%، اس کے اثرات کافی ہوتے ہیں۔ اس حلقے کے تمام امیدوار، جن کے اجتماعی ووٹ اکثریت سے کم ہوتے ہیں، بعد کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیے جاتے ہیں۔ یہ فیصلہ کن اقدام احتساب کو یقینی بناتا ہے اور روایتی سیاسی منظر نامے کو مسترد کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔ نااہل قرار پانے والے بیک ڈور چینلز کے ذریعے ایڈوائزری پوزیشن حاصل کر کے سسٹم کو خراب نہیں کر سکتے۔ اس طرح کے اصول کا نفاذ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ نااہلی محض ایک تکلیف نہیں بلکہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہنے والوں کے لیے ایک اہم نتیجہ ہے۔

    NOTA ووٹروں کے لیے اپنی عدم اطمینان کا اظہار کرنے اور سیاسی رہنماؤں سے بہتر مطالبہ کرنے کے لیے ایک طاقتور ٹول کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ انتخابات کو محض انتخابی عمل سے احتساب اور حقیقی نمائندگی کے طریقہ کار میں بدل دیتا ہے۔ NOTA کو اپنانے سے، معاشرے ایسے سیاسی ماحول کو پروان چڑھانے کی خواہش کر سکتے ہیں جہاں رہنما لوگوں کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے پر مجبور ہوں، اس طرح ایک زیادہ مضبوط اور جوابدہ جمہوری نظام کو فروغ ملے گا۔

  • مسلم ویمن لیگ کا القدس مارچ ،تحریر:ارشاداحمد ارشد

    مسلم ویمن لیگ کا القدس مارچ ،تحریر:ارشاداحمد ارشد

    اسلام کی تاریخ خواتین کی جرات وبہادری اور استقامت وشجاعت کے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔اسلام کی آبیاری، تبلیغ واشاعت اور مسلمان ملکوں پر قابض استعماری قوتوں کے خلاف جدوجہد میں خواتین نے بھی جانی ومالی قربانیاں دی ہیں ۔قرون اولیٰ کی سیدہ خدیجہ ، سیدہ عائشہ ، سیدہ فاطمہ ، سیدہ سمیہ، سیدہ ام عمارہ ، سیدہ ام سلیم اور دیگر صحابیات طہرات کی مبارک زندگیاں آج کی خواتین کےلئے مشعل راہ ہیں۔برصغیر میں اسلام کے غلبہ واحیا کےلئے حقیقی معنوں میں جو پہلی اسلامی تحریک چلی وہ سیدین شہدین ۔۔۔سید احمد اور شاہ اسماعیل کی تحریک تھی ۔ سیدین شہدین اور ان کے رفقا جب بغرض جہاد دہلی سے روانہ ہوئے تو اس مشکل اور طویل ترین سفر میں ان کے ساتھ خواتین بھی تھیں جنھوں نے مردوں کے ساتھ سفر کی صعوبتیں اٹھائیں اور مشقتیں برداشت کیں ۔ہندوستان میں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر کی والدہ محترمہ جو کہ تاریخ میں ” بی اماں “ کے نام سے مشہورہوئیں وہ ہندوستان کے سیاسی افق پر پہلی خاتون تھیں جنھوںنے تحریکِ آزادی میں خود بھی حصہ لیا۔1921ءمیں بی اماں کے دونوں بیٹے نظر بند کردیے گئے تو بی اماں وہاں موجود تھیں۔اس اثنا میں حکومتی اہلکار مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی کے پاس ایک ٹائپ شدہ معافی نامہ لے کر آئے اور ان سے کہا گیا کہ اگر وہ معافی نامہ پر دستخط کردیں تو انھیں رہا کردیا جائے گا۔ بی اماں دوسرے کمرے میں بیٹھی یہ گفتگو سن رہی تھیں، ان کو خیال ہوا کہ کہیں ان کے بیٹے دستخط نہ کردیں، انہوں نے بے تابی سے بیٹوں کو پکاراکہ فوراََ میرے پاس پہنچو۔ بیٹے دوڑتے ہوئے آئے کہ نہ معلوم کیا ماجرا ہوگیا ہے اور ماں جی کیا کہنا چاہتی ہیں؟جب سعادت مند بیٹے حاضر ہوئے تو بی اماں بولیں ”تم دونوں معافی نامے پر دستخط نہیں کرو گے، اگر تم نے دستخط کردیے تو میں نہ تمہارا دودھ بخشوں گی اور نہ ہی تمہاری شکل دیکھوں گی۔

    امر واقعی یہ ہے کہ آج امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستانی قوم کو بی اماں جیسی بہادر ماﺅں کی ضرورت ہے ۔ایسی صاحب ایمان وکردار خواتین ہی امت کی رہنمائی کرسکتی ہیں ۔ مسلم ویمن لیگ اسی تحریک کا تسلسل ہے جو بدرواحد سے شروع ہوئی اور جس کاایک کردار بی اماں بھی تھیں ۔ مسلم ویمن لیگ کی رضاکار اسلام کی بیٹیاں ہیں اور ان کی نسبت عہد نبوی کی عظیم خواتین کے ساتھ ہے ۔ جس طرح قرون اولی کی خواتین شرم وحیا کاپیکر تھیں ایسے ہی مسلم ویمن لیگ کی خواتین بھی شرم وحیا کا پیکر ہیں ، جس طرح بی اماں نے حجاب ونقاب میں ملبوس ہوکر تحریک خلافت میں حصہ لیا اسی طرح مسلم ویمن لیگ کی عفت ماٰب مائیں بہنیں اور بیٹیاں بھی اپنے فلسطینی مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے بر سر پیکار اور بر سر میدان ہیں ۔

    عالم اسلام پر کوئی بھی افتاد پڑے اہل پاکستان اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں ۔8 اکتوبر کو فلسطینی مسلمانوں اور قابض اسرائیلی افواج کے درمیان جو معرکہ حق وباطل شروع ہوا اس کی نسبت سے سب سے زیادہ پروگرام مرکزی مسلم لیگ نے کئے ہیں۔ خواتین جو کہ ہماری آبادی کا نصف سے کچھ زائد ہیں کے محاذ پر مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بالکل خاموشی تھی اس خاموشی کو مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خواتین کی جماعت مسلم ویمن لیگ نے جھنجوڑا۔مسلم ویمن لیگ ہی نے ” القدس خواتین مارچ “ کے نام سے پاکستان کے دل لاہور میں ایک بھر پور پروگرام کیا ۔ اہل فلسطین کے ساتھ اظہارکےلئے کم از کم لاہور کی حد تک خواتین کا اس سے قبل اتنا بڑا پروگرام نہیں دیکھاگیا ۔ مال روڈ پر تاحد نگاہ عبایا اور حجاب میں ملبوس خواتین تھیں جن کے ہاتھوں میں پرچم ، کتبے ، فلیکس اور بینرز تھے جن پر قبلہ اول کے تحفظ اور اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ایمان افروز جملے اور اشعار تحریر تھے ۔” القدس خواتین مارچ “ میں شہر بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین ڈاکٹرز ، وکلا، اساتذہ، طالبات اور دیگر ہزاروں خواتین نے شرکت کی۔

    https://twitter.com/PMMLMedia/status/1721129478158426476

    شہدا مسجد کے بالمقابل ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا گیا جس سے مختلف مقررین نے خطاب کیا ۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے اپنے خطاب میں کہا اصولی ، آئینی اور اخلاقی طور دنیا میں اسرائیل نام کا کوئی ملک نہیں ہے ۔ فلسطین میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے یہ درحقیقت صیہونی دہشت گردوں کاایک گروہ ہے جو فلسطینیوں کی زمینوں پر قابض ہے اور ان کا قتل عام کررہا ہے ۔ صیہونی دہشت گردوں کا ٹارگٹ صرف غزہ ہی نہیں بلکہ مسجد اقصی کی شہادت ، ہیکل سلیمانی کی تعمیراور عظیم تر صیہونی ریاست کا قیام ہے ۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان سمیت پورا عالم اسلام اپنا کردار ادا کرے جبکہ پاکستان کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے اسلئے کہ پاکستان پوری دنیا میں واحد اسلامی ایٹمی ملک ہے جس کی آواز پوری دنیا میں سنی جاسکتی ہے۔ حیرت ہے یورپ ایک طرف انسانی حقوق کا علمبردار بنتا ہے لیکن دوسری طرف فلسطین ہونے والے مظالم پر خاموش ہے اور دنیا بھرکی ہیومن رائٹس کی تنظیمیں بھی مسئلہ فلسطین پر خاموش ہیں۔ اقوام متحدہ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اپنے ناجائز بچے کو لگام دے اور فلسطین فلسطینیوں کو واپس کرے ۔م

    https://twitter.com/PMMLMedia/status/1721128555772268765

    سلم ویمن لیگ کی جنرل سیکرٹری عفت ادریس نے کہا کہ آج ہمارے فلسطینی مسلمان بھائیوں پر آگ اور خون کی بارش ہورہی ہے ، اسرائیلی طیارے بم گرارہے اور آگ کے شعلے برسا رہے ہیں ، غزہ میں ہر آگ ہی آگ اور تباہی ہے۔ پانی ، بجلی ، خوراک اور ادویات ناپید ہوچکی ہیں زخمی اور لہولہان بچے تڑپ رہے اور سسک رہے ہیں اور57اسلامی ملکوں کے سربراہان کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ان حالات میں مسلم ویمن لیگ کی ہزاروں رضاکار جوکہ اسلام کی بیٹیاں ہیں ۔۔۔حماس کی حمایت کااعلان کرتی ہیں اور علی الاعلان یہ کہتی ہیں کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں ۔ مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی رہنما حافظ عبد الروف نے کہا میری مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں جس طرح غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے نکلی ہیں اور ان کی مظلومیت کو دیکھ رہی ہیں اسی طرح غزہ کی مسلمان مائیں بہنیں بھی آپ کو دیکھ رہی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان سیسہ پلائی دیوار بن جائیں ، متحد اور متفق ہوجائیں، اپنی معیشت اور تہذیب وثقافت کو اسلام کے سانچے میں ڈھال لیں، یہودیوں کے سودی چنگل سے نکل آئیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کامیابی مسلمانوں کے قدم چومے گی اور یہودی اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ مرکزی مسلم لیگ لاہور ڈویڑن کے صدر چوہدری محمد سرور نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی بچوں کی نسل کشی کررہا ہے۔ فلسطین میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے یہ جنگ نہیں یکطرفہ قتل عام ہے فلسطین میں لگی آگ روس بجھائے گا نہ چین اور نہ ہی کوئی دوسرا ملک بلکہ یہ آگ عالم اسلام کو خود بجھانا ہوگی ۔پاکستان کے دل لاہور کی شاہراہ مال پر مسلم ویمن لیگ کی یہ ہزاروں خواتین کا اجتماع یہ اعلان کررہا ہے کہ ہماری اولادیں ، ہمارا مال اور ہمارا وطن سب کچھ قبلہ اول پر قربان ہے ۔اسلام کی بیٹیوں کا یہ اجتماع پاکستان کے حکمرانوں کو یہ پیغام دے رہاہے کہ مومن بنو ، مجاہد بنو ، مرد بنو ،فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھاﺅ ، ان کی عملی مدد کرو اور قبلہ اول کی بازیابی کےلئے اپناکردار ادا کرو۔۔۔۔اور اگرتم ایسا نہیں کرسکتے تو پھر مسند اقتدار چھوڑ کر ہاتھوں میں چوڑیاں پہن لو اسلئے کہ تم مسلمان ملکوں کے سربراہ بننا تو دور کی بات ہے مسلمان کہلانے کے بھی حق دار نہیں ہو ۔ القدس خواتین مارچ کے شرکاءسے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، عفت ادریس، حافظ عبد الروف ،چوہدری محمد سرورکے علاوہ انجنئیر عادل خلیق، انجنئیر حارث ڈار،حفیظ اللہ بلوچ، عبیدہ، خدیجہ مسعود سمیت دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔
    irshad arshad

  • 2034 فیفا ورلڈ کپ،  وژن 2030ء کی طرف گامزن سعودی عرب

    2034 فیفا ورلڈ کپ، وژن 2030ء کی طرف گامزن سعودی عرب

    سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے ذریعے عالمی معیار کے ٹورنامنٹ کا انعقاد کرانے کا خواہاں ہے۔ اس حوالے سے ساف کے صدر یاسرالمسیحل نے باقاعدہ طور پر فیفا ورلڈ کپ کے لئے خط لکھ دیا تھا۔ورلڈ کپ کی بولی میں حصہ لینے جہاں سعودی عرب کی حکومت اور عوام پرجوش ہیں وہی ایشین فٹ بال کنفیڈیشن کی جانب سے بھی سعودی عرب کی مکمل حمایت کی ہے۔ اس حوالے سے صدر ایشین فٹ بال کنفیڈریشن شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کا کہنا تھا کہ "مجھے خوشی ہے کہ سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن نے 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اظہار کیا ہے۔ تمام ایشین فٹ بال ایک ساتھ متحد ہیں اور سعودی عرب کے اس تاریخی قدم کی حمایت کرتی ہیں

    سعودی عرب اس سے قبل بھی عالمی بھی فٹ بال کے عالمی مقابلوں کا اہتمام کرچکا ہے۔ 2023 فیفا کلب ورلڈ کپ کی میزبانی کرچکا ہے اور 2027 اے ایف سی ایشین کپ بھی سعودی عرب میں ہورہا ہے۔ 2018 سے اب تک سعودی عرب 50 سے زائد عالمی کھیلوں کے انعقاد کروا چکا ہے۔ جن میں فٹ بال، موٹر سپورٹس، ٹینس، ای سپورٹس اور گالف شامل ہیں۔

    سعودی عرب کھیلوں کے فروغ اور عالمی مقابلوں کے لئے عالمی معیار کے گراونڈ بنارہا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی لحاظ سے بھی منفرد حیثیت رکھنے والا ملک ہے۔ فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی ناصرف کھیل کے لئے بہترین ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی طور پر سعودی عرب میں آنے کا موقع ہوگا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کی میزبانی کا ارادہ مملکت کی جانب سے کھیل کے شعبوں میں ترقی کا عکاس ہے۔

    سعودی عرب کی قومی ٹیم نے 1994 میں پہلا فیفا ورلڈ کپ کھیلا۔ ٹیم اب تک چھ ورلڈ کپ کھیل چکی ہے۔ سعودی وزیرکھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ ” 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی سے ہمیں دنیا میں عالمی کھیلوں کا صف اول کا ملک بننے کا خواب پورا کرنے میں مدد ملے گی۔”

    نیو کاسل یونائیٹڈ فٹ بال کلب کے کوچ مینجر ایڈی ہاوے نے کہا ہے کہ سعودی عرب فیفا ورلڈ کپ 2034 منعقد ہونے سے یہ ایونٹ اچھی طرح منظم ہونے کی توقع ہے۔،سعودی وژن 2023 میں کھیلوں کو کلیدی اہمیت دی گئی ہے۔ جن کے ذریعے نوجوانوں میں کھیل کے فروغ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو مزید بہتر بنایا جائے۔سعودی عرب ورلڈ کپ میزبانی کرنے والا تیسرا ایشیائی ملک بن جائے گا۔اس سے قبل جنوبی کوریا اور جاچان 2002 جبکہ 2022 میں قطر نے میزبانی کی تھی۔

    حکومت سعودی عرب کا منصوبہ سعودی وژن 2023 کا مقصد سعودی عرب کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لئے صرف تیل پر انحصار ختم کیا جائے اور سعودی عرب کو معاشی اور ثقافتی طور پر جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ 25 اپریل 2016 کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے سعودی وژن 2023 کا اعلان کیا اور اس کے تحت 80 منصوبوں پر کام شروع کیا اور سعودی شناخت کی تبدیلی کا زینہ بن گیا۔ سعودی وژن 2023 کو جدید دنیا اور کاروباری حلقوں میں پذیرائی مل رہی ہے ۔ 2034 سے قبل سعودی وژن 2030 کی تکمیل کے بعد جدید اور منفرد سعودی عرب ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ورلڈ ایکسپو 2030 کے لئے بھی سعودی عرب نے حصہ لیا ہے۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب کھیل ثقافت اور سیاحت میں ترقی کرکے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی اداروں اور عالمی تجارت میں تیل کے علاوہ بھی سعودی عرب اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن اور سعودی قوم کے لئے روڈ میپ پہ جس طرح کام کررہے ہیں جلد صرف سعودی عرب نہیں بلکہ عالم عرب میں ترقی کی نئے راستے کھلے گے ۔

  • علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    پاکستان میں آج کل سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ مختلف سیاسی نظریات اور مفادات کے درمیان ایک کشمکش کا ماحول ہے۔ الزامات لگتے ہیں، جوابی الزامات لگتے ہیں، کردارکشی ہوتی ہے اور اب تو کردارکشی کے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے آڈیو اور وڈیو بھی تیار کرکے بلیک میلنگ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس ساری کشمکش میں اتنی گرد اڑائی جاتی ہے کہ لوگوں کے ذہن سے یہ بات یکسر محو ہو جاتی ہے کہ اس ملک خداداد کو قائم کرنے کا مقصد کیا تھا۔

    برصغیر میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے قیام کا تصور شاعر، فلاسفر اور وکیل علامہ اقبال نے پیش کیا تھا۔ برصغیر سے مغل حکومت کے خاتمے کے بعد اس بات کے واضح اشارے ملنے لگے تھے کہ اگر انگریز ہندوستان سے نکل گئے تو ہندو اپنی اکثریت کے بل پر مسلمانوں کا استحصال کریں گے۔ انیسویں صدی کے لسانی فسادات کے بعد سرسید احمد خان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثقافتی تضادات کی وجہ سے دونوں کا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ بعد کے واقعات نے ان خدشات کی تصدیق کر دی۔

    ہندوؤں نے آل انڈیا کانگریس قائم کی اور اس کا پہلا سربراہ ایک انگریز کو بنایا گیا۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ کانگریس تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ 1905 کے تقسیم بنگال کے فیصلے کے بعد کانگریس اور قوم پرست ہندوؤں کا ردِعمل واضح طور پر مسلم دشمنی کا مظہر تھا۔ جب مسلمان لیڈروں کو احساس ہوا کہ آل انڈیا کانگریس اصل میں آل ہندو کانگریس ہے تو اس کے جواب میں 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ تقسیم بنگال، جو تمدنی اور معاشی طور پر بنگالی مسلمانوں کے لئے فائدہ مند تھی، ہندوؤں کو منظور نہ تھی۔ ان کے شدید ایجی ٹیشن نے انگریزوں کو صرف چھ سال بعد ہی تقسیم بنگال کی تنسیخ پر مجبور کر دیا۔ یہی بات مسلم زعما کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اپنے حقوق کے لئے انہیں اپنے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح، جو کانگریس کے بنیادی رکن اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے، ہندوؤں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس اتحاد سے مایوس ہو کر برطانیہ چلے گئے تھے۔

    اس پس منظر میں علامہ اقبال نے اپنے مشہور خطبۂ آلہ آباد میں ہندوستان کی تقسیم کا تصور پیش کیا۔ اس خطبے کا مرکزی نکتہ ہی مسلمانوں کی جداگانہ قومیت اور ان کے لئے متحدہ ہندوستان کے اندر ایک علیحدہ ریاست کا حصول تھا۔ یہ خیال رہے کہ اقبال نے جداگانہ مسلم قومیت کا تصور اس وقت پیش کیا جب پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا نیشن سٹیٹ کے جدید تصور کو اپنا چکی تھی اور ترکی کی عثمانی سلطنت کے حصے بخرے کئے جا چکے تھے۔ کیونکہ اقبال اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملت سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے نیشن سٹیٹ کو مسترد کرتے ہوئے لکھا تھا:

    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

    1930ء کا خطبۂ الہ آباد انگریزی زبان میں ہے اور قدرے طویل ہے کیونکہ اس میں علمی اور نظریاتی مسائل کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس خطبے میں اقبال نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پنجاب ،شمال مغربی صوبہ سرحد ، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ہی ریاست میں مدغم کر دیا جائے۔ ان کا ابتدائی تصور "ہندوستان کے اندر مسلم ہندوستان” تھا۔ ان کا خواب یہ تھا کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں سلطنت برطانیہ کے اندر یا اس کے باہر ایک خود مختار حکومت اور شمالی مغربی متحدہ مسلم ریاست آخر کار مسلمانوں کا مقدر ہے۔ آلہ آباد سے پہلے یہ تجویز نہرو کمیٹی کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی مگر کمیٹی نے اس بنا پر مسترد کر دی کہ اگر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو اتنی وسیع ریاست وجود میں آجائے گی کہ جس کا انتظام مشکل ہوگا۔

    اقبال نے یہ بھی تجویز پیش کی: "جہاں تک رقبہ کا تعلق ہے یہ بات درست ہے لیکن آبادی کے لحاظ سےمجوزہ ریاست بعض موجودہ ہندوستانی صوبوں سے چھوٹی ہو گی۔ انبالہ ڈویژن اور ممکن ہے ایسے اضلاع کو الگ کر دینے سے جہاں غیرمسلموں کی اکثریت ہے اس کی وسعت اور بھی کم ہو جائے گی۔ مسلمانوں کی تعداد میں غلبہ ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اپنی حدود کے اندر یہ متحدہ ریاست غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت پوری قوت سے کر سکے گی-”

    اقبال نے قائد اعظم کو ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لئے مسلمانوں کی قیادت کے لئے قائل کیا جس کے نتیجے میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ بدقسمتی سے اقبال اور قائد کی وفات کے بعد پاکستان ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا جن کا پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے قائد کی وفات کے بعد ان کی گیارہ اگست والی تقریر میں دئے گئے وژن کو مسترد کرنے کے لئے "قرارداد مقاصد” منظور کرائی۔ اقبال اور قائد مسلمانوں کے لئے ایک جمہوری ملک کا تصور رکھتے تھے جس کو مسخ کر کے کبھی سوشلزم کے تجربے کئے گئے کبھی قرون اولیٰ کی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔

    اقبال اور قائد اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان مسلمانوں کی جمہوری ریاست ہے جس میں دوسری قومیتوں کو نہ صرف برابر کے حقوق حاصل ہوں گے بلکہ مجوزہ مسلم ریاست ہندوستان کے غیرمسلموں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے گی۔ گیارہ اگست کی تقریر بھی خطبۂ الہ آباد کی روح کے عین مطابق ہے انہوں نے کسی مرحلے پر بھی اسے بادشاہت کے تحت مذہبی ریاست بنانے کی کوشش نہیں کی۔ شاید اسی لئے مولویوں نے اس کے قیام کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    پاکستان کو خطبۂ الہ آباد اور گیارہ اگست کی روح کے مطابق ڈھالنے کے لئے ضروری ہے کہ رواداری کو فروغ دیا جائے، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ملک کی تاریخ کو مسخ کرنے سے گریز جائے۔ پاکستان ہندوستان کی ہندو اکثریت کے ہاتھوں مسلم اقلیت کے استحصال کو روکنے کے لئے ایک جمہوری ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا۔ اس کے مقصد قیام کو بار بار مسخ کیا گیا تاکہ ان طبقات کو پاکستان پر کنٹرول کرنے کا جواز دیا جا سکے جنہوں نے اس کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

  • غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ ،او آئی سی ، عرب لیگ دوسرے بین الاقوامی ادارے ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیدارو ،سعودی عرب، قطر ، ایران ، مصر اورترکی ، مسلمان ملکوں میں بے گناہ انسانوں کو ذبح کرنے والو۔ امت مسلمہ کا درس دینے والو۔ آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 30دن ہو گئے ۔ نسل آدم کی لاشیں گر رہی ہیں آپ کا کردار کیا ہے ؟

    جمہوریت کی دوکانیں چلانے والو، بالخصوص جنت کے دعویدارو. تمہارے سامنے غزہ لہو لہو ہے ۔ جنت کے دعویدارو کیا تم موت کو بھول بیٹھے ہو مرنے کے بعد زندہ ہونا اور خدا کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ نیتن یاہو غزہ کے ساتھ اسرائیلی قوم کا بھی قاتل ہے اسرائیلی عوام بھی سراپا احتجاج ہے ۔ عرب ریاستوں کا کردار پہاڑ پر چڑھ کر جنگ کا نظارہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ کتنی عجیب بات ہے بھارت صدیوں سے بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث ہے ۔ بھارت میں عیسائی ، مسلمان ، غیر محفوظ ۔ عالمی ادارے تادم تحریر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

    بوڑھے سیاستدان جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دیکھ لیں، اہم ریاستوں کی امریکی کمیونٹیز ، بائیڈن کی اسرائیل کی پالیسی کے خلاف ہو رہی ہیں۔ سابق امریکی صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو آپ کو سچائی کو اپنانا ہوگا۔ موجودہ تباہی کے بعد بائیڈن کے پاس مشرقی وسطی میں امن کی بحالی کے بعد فوری طورپر مردہ حالت میں واپس لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ امریکہ اور عالمی دنیا کو فوری مداخلت کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے۔ حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے پر جنگ ہو تو بے گناہ انسانوں کا خون بہتا ہے ۔ عالمی طاقتیں تماشائی نہ بنیں اپنا کردار ادا کریں انسانیت کی خاطر۔

  • کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    طاہرہ سید

    یوم پیدائش 6 نومبر 1958

    پاکستان کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ،خوب صورت گلوکارہ طاہرہ سید 6 نومبر 1958 میں پیداہوئیں۔ وہ برصغیر کی نامور کلاسیکل گلوکارہ ملکہ پکھراج اور معروف ادیب و مصنف سید شبیر حسین شاہ کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے بچپن ہی میں 10 سال کی عمر سے گائیکی شروع کی جبکہ 14 سال کی عمر میں 1969 میں وہ پہلی بار ریڈیو پاکستان اور 1970 میں پی ٹی وی پر گانے کیلئے آئیں۔ اپنی والدہ ملکہ پکھراج، استاد اختر حسین اور استاد نذر حسین سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ امریکہ اور ہندوستان سمیت کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ صدارت سے نوازا گیا ۔ اپریل 1985 میں نیشنل جیوگرافک میگزین نے طاہرہ سید کو اپنے سرورق /ٹائٹل پر شائع کیا۔ طاہرہ سید نے 1975 میں معروف ٹی وی کمپیئر اور وکیل سید نعیم بخاری سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹی کرن اور ایک بیٹا حسنین پیدا ہوا۔ طاہرہ سید اور اس وقت کے وزیر اعظم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی 1990 میں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی ۔ نواز شریف انہیں پی سی بھوربن میں بلا کر رات دیر گئے تک ان سے ” غزلیں ” سنتے رہتے جس کو وہ معاوضے میں سینیٹر سیف الرحمان کی کمپنی ” ریڈکو ” کے ذریعے ہر ماہ 10 لاکھ روپے بینک ٹو بینک ٹرانسفر کرا دیتے تھے۔

    طاہرہ سید کی نواز شریف سے زیادہ قربت کے باعث نعیم بخاری نے طاہرہ کو طلاق دے دی ۔ نعیم بخاری سے علیحدگی کے بعد طاہرہ نے دوسری شادی نہیں کی جبکہ نعیم بخاری نے دوسری شادی کی جس سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ طاہرہ کے دونوں بچے وکیل بن گئے۔ کرن بخاری نیو یارک میں اور حسنین بخاری مسقط میں وکالت کر رہے ہیں ۔ طاہرہ سید اب بھی رومانویت پسند ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر عورت کی زندگی میں رومان کو خاص اہمیت حاصل ہے اگر مجھے پھول دے یا کارڈ لکھ کر ارسال کرے یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ طاہرہ کے گائے ہوئے کئی گیت ، غزلیں اور نغمے بہت مشہور ہیں جن میں

    1 ہر اک جلوہ رنگین مری نگاہ میں ہے

    2 ہم سا کوئی ہو تو سامنے آئے

    3یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے ،و دیگر شامل ہیں

  • زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ….

    کبھی اپنا وقت بھی آ ئے گا…. یہ کہنے کو تو ایک تسلی ہے مگر اس ایک جملے میں ہم نہیں جانتے کتنے ہی لوگ اپنی امیدوں کے پورا ہونے کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور پھر اپنی حسرتوں اپنی امیدوں کو اپنے ساتھ لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ,
    البتہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ جاتے ہیں کہ انہوں نے وقت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی بجائے ایک چھوٹی سی کوشش بھی کی ہوتی تو شاید ان کی تکلیفیں کم ہوجاتیں,
    اور جو لوگ اپنی حیثیت کے مطابق کوشش بھی کرتے ہیں مگر اس کے اردگرد کے لوگ اس کو support نہیں کرتے اگر ایسے وقت اسے تھوڑی سی بھی support مل جائے تو کئی لوگ اپنے رویوں میں نہ صرف تبدیلی لے آئیں گے بلکہ اس انسان کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ بھی کریں گے
    ہم زندگی میں کئی لوگوں سے ملتے ہیں ان کے مسکراتے چہرے دیکھ کر اکثر غلط اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ بھرپور زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کے مسکراتے چہروں کے پیچھے کئی راز ہوتے ہیں جو نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ وہ کسی پر ظاہر ہونے دیتے ہیں.
    مانتی ہوں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا مگر جس انسان نے اپنے بھلے وقت میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی, اپنوں کا خیال رکھا مگر جب اس انسان پر برا وقت آتا ہے ناں تو یقین کریں جس پر ان کو پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے وہی اس انسان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور وہ انسان ان کے سامنے ڈوب رہا ہوتا ہے مگر وہ دور سے تماشائی بنے اس کا تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں.
    کیا اپنوں کا ایسا طرز عمل اس انسان کو ہمت دے گا ؟؟؟
    اس کو تو اوع دلبرداشتہ کردے گا کہ میں کیا کرتا رہا اور میرے ساتھ کیا ہورہا ہے….
    آ ج یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے ذہن میں کئی سوالات امڈ رہے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اپنے ہی لوگ اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں…
    وہ مجھے بتا رہی تھی کہ اب گھر میں بیچنے کو کچھ بھی نہیں بچا, گاڑی خالہ کو بیچ دی اب ایک چھت رہ گئی ہے وہ بھی جیٹھانی کہہ رہی کہ اگر بیچنا ہوا تو مجھے بتا دینا میں خرید لونگی….
    یہ اس عورت کو کہا جا رہا ہے جو انہی لوگوں کا اس وقت سہارا بنی جب اس کی جیٹھانی بیوہ ہوئی تھی اور اس کے گھر کے اخراجات بچوں کی پڑھائی کا زمہ اس عورت نے اٹھایا تھا اور آخر کار اسکے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے…
    کہتے ہیں ناں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا کسی کو اللہ دے کر آ زماتا ہے اور کسی کو اس سے محروم رکھ کر,
    اس عورت کے شوہر کی جاب چار پانچ سال پہلے کسی وجہ سے چلی گئی اور تب سے یہ عورت کسی کے آ گے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود گھر سے باہر کام کرنے جانے لگی اور وہی ہوا جو ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے کہ اسے کئی طرح کی باتوں کا تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
    آ ج وہ کسی کام سے میرے گھر آئی تو میری زرا سی تسلی سے اس کی آنکھیں بھر آ ئیں
    میرے چپ کروانے پر بولی کہ کاش میرے گھر والوں کو میری تکلیفوں کا احساس ہو کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں, وہ روتے روتے کہنے لگی کہ آپا میں بہت حساس ہوں شاید…. میری ماں بھی نہیں رہی کہ اس کی گود میں سر رکھ کر رو لوں, میں اپنے بچوں میں اپنی ماں کا پیار ڈھونڈتی ہوں کہ مجھے وہ سہارا دیں مگر آپا ان کو بھی میری تکلیفیں نظر نہیں آرہی…
    میں کیسے ان کی ضرورتیں پوری کررہی ہوں یہ ان کو نہیں پتا…
    بس دعا کرتی ہوں کہ اللہ کسی کو سب کچھ دے کر پھر تنگدستی نہ دے کیونکہ عیش و آرام کے بعد تنگدستی کی زندگی جینا بہت کٹھن ہے.
    میں نے اسے حوصلہ دیا کہ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اللہ پر بھروسہ رکھو تو آ نسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی اور ساتھ گویا ہوئی آپا میں اپنے شوہر کو کہتی ہوں کوئی کام تلاش کرے تو کہتا ہے کوئی کام ملتا ہی نہیں تو کیا کروں کہاں جا کے کام کروں تم کام کررہی ہو ناں… اور جب جواب میں اسے کہتی ہوں میرے میں ہمت نہیں رہی ہے گھر میں بیٹھنے سے کام تمھیں نہیں ملے گا ڈھونڈنا شروع کروگے تو ملے گا تو کہتا ہے ساری زندگی میں نے عیش کروائی ہے کیا ہوگیا جو اب تم کام کر رہی ہو.
    آپا کیا وہ عیش کی زندگی میں نے اکیلے گزاری تھی کہ اب سارا بوجھ مجھے اٹھانا پڑ رہا ہے ؟ اس عیش میں اس کے اپنے گھر والے بھی تو تھے ناں

    یہ کہتے وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی مگر میرے پاس اس کے سوالوں کا جواب نہیں تھا سوائے تسلی دینے کے کہ حوصلہ رکھو سب بہتر ہوجائے گا تو جواب میں اس کا جواب آیا کہ جب میں ہی نہ رہی تو سب ٹھیک ہوگا بھی تو مجھے کیا….

    اس کی اس بات پر میں نے حیرانگی سے پوچھا ایسا کیوں کہہ رہی ہو تو وہ بولی آ پا میں سوچتی تھی کہ خودکشی کرنے والوں کو ڈر کیوں نہیں لگتا مگر اب سمجھ آرہی ہے کہ لوگ خودکشی کو کیوں اتنا آ سان سمجھتے ہیں ایک بار کی تکلیف ہوتی ہے ناں, روز روز کی تکلیفوں سے کم از کم نجات تو پالیتے ہیں,
    میں نے اس کی پوری بات سن کر اس کو ڈانٹا کہ اپنے ذہن سے منفی سوچ نکالو کہ خودکشی کرنے سے سب تکلیفیں ختم ہوجائیں گی تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو کر ایسی باتیں کررہی ہو مجھے حیرت ہے, اپنے آپ کو مضبوط بناؤ جیسے دکھاتی ہو کہ تم ہمت والی ہو, اور خودکشی بزدل لوگ کرتے ہیں جو حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتے. خیر میرے ڈانٹنے پر وہ تھوڑا مسکرا دی اور میرے گلے لگ گئی یہ کہتے ہوئے کہ آپا کبھی تو اپنا وقت بھی آئے گا ناں ؟اس کی بات سن کر میں نے مصنوعی ہنسی سے کہا ہاں انشاءاللہ ضرور آئے گا بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہیے.

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ،اس کے برے حالات سے زیادہ میرے خیال میں اسے اس کے اپنوں کے رویے اذیت دے رہے تھے کیونکہ بقول اس کے کہ اس کی تکلیفوں کا کسی کو بھی احساس نہیں ،وہ اپنی استطاعت کے مطابق مشکل حالات کا اکیلے مقابلہ کررہی تھی کیونکہ اسے مشکل حالات کے ساتھ ساتھ اپنوں کے منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہوگئی تھی

    یہ سچ ہے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آ تے رہتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ ہی انسان کو سبق سیکھا دیتے ہیں,
    اس کڑے وقت میں وہ گھر داری کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو بہت سی باتیں اور تنقید بھی سننے کو ملتی ہے اسکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ مردوں کا ہے عورت جتنا مرضی کام کر لے اس کی حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے.

    یہاں اس اکیلی کی زمہ داری نہیں تھی, ان حالات میں اسے اسکے شوہر کی زیادہ support کی ضرورت تھی مگر جو نظر نہیں آتی, اگر اس کا ساتھ ان حالات میں شوہر بھی دیتا تو کم از کم وہ زندگی سے مایوس نہ ہوتی, وہ آ ج خود کو اکیلا محسوس نہ کرتی, شوہر کا یہ کہنا کہ ساری زندگی عیش کروائی ہے تو کیا ہوا اب جو تمھیں کام کرنا پڑ رہا ہے یہ ہر لحاظ سے غلط سوچ ہے
    ہمیں اس معاشرے میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے تو گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کا عزت دینا ہوگی ان کو تحفظ کا احساس دلانا ہوگا اور یہ تبھی ہوگا جب ہم منفی کی بجائے مثبت سوچ رکھیں گے جب دوسروں کی تکالیف کا احساس کریں گے جزاک اللہ
    @Rehna_7