Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عالمی یوم خواتین اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی

    عالمی یوم خواتین اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی

    عالمی یوم خواتین اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی
    تحریر:غنی محمودقصوری
    یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ معاشرے کا حسن و خوشنمائی عورت سے ہی ہے اور عورت کی پر خلوص قربانیاں اور لازوال جدوجہد بھی ہمارے اس دنیاوی نظام کا حصہ ہے ، بیشتر تہذیبوں،معاشروں اور مذاہب میں عورت کو وہ مقام و مرتبہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق تھی مگر اسلام نے زندہ درگور ہوتی عورت کو برابری کے حقوق دیئے اور عورت کو وہ مقام دیا جو نا تو پہلی شریعتوں میں تھا نا تہذیبوں میں

    اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں، تاریخ کا مطالعہ تو دور کی بات آپ موجودہ دور کا ہی مطالعہ کریں اور اپنے ارد گرد دیکھیں تو اس نرم و نازک مخلوق ،صنف نازک کو گناہ کی جڑ اور مرد کے پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے جو کہ بالکل اسلام کے مخالف بات ہے ،ایسی باتیں کرنے والے یا تو اسلام کی تاریخ سے واقف نہیں یا پھر وہ اسلام کے ماننے والے ہی نہیں کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن میں کئی آیات صنف نازک کے حق میں نازل کی ہیں جیسے کہ حقوق نسواں بارے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
    وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ(النساء4 :34)
    ترجمہ۔عورت کے لئے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں، البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے

    یعنی کہ اسلام نے واضع طور پہ بتلا دیا کہ جیسے مردوں کے حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے بھی حقوق ہیں جو ان کو ان حقوق سے محروم رکھے گا وہ گناہگار ہو گا

    آج سے 116 سال قبل امریکہ کے شہر نیویارک میں گھروں،فیکٹریوں اور دفتروں میں کام کرنے والی ہزاروں عورتوں نے اس وقت اپنی کم آمدنی اور زیادہ ڈیوٹی پر اور ووٹ کاسٹ کرنے کے حق کے لئے احتجاج کیا تھا جس کا سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے خیر مقدم کیا اور باقاعدہ دن منانا شروع کیا ،اس کے بعد کلارا زتکن کیمونسٹ خاتون نے 1910 کو کوپن ہیگن میں انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن میں اس دن کو عالمی طور پر منانے کا اعلان کیا جسے 17 ممالک کی 100 سے زائد خواتین نے سراہا اور اس وقت پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی 8 مارچ کو یوم خواتین منایا جاتا ہے

    میں ہر سال عالمی یوم خواتین پرسارا دن پاکستان میں ہونے والی سرگرمیاں دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ انٹرنیشنل وویمن ڈے منانے کا جو مقصد تھا وہ آج نہیں رہا کیونکہ اس وقت کی عورتوں نے اپنی کم تنخواہوں اور زیادہ گھنٹے کام لینے پر احتجاج کیا تھا آج تو ایسا ہے ہی نہیں،آج تو پوری دنیا خاص کر پاکستان میں عورت کو مرد کے برابر اور اگر مرد سے زیادہ مقام ملنے کا کہوں تو غلط نا ہو گا

    آپ دنیا کو چھوڑیں پاکستان میں دیکھیں عورت،جج،وکیل،ڈاکٹر،صحافی،جنرل، وزیراعظم،وزیراعلی و دیگر اعلی عہدوں تک نہیں پہنچی ؟
    اگر پہنچی ہوئی ہے تو آج کی عورت کس لئے پاکستان میں یہ مارچ کر رہی ہے؟

    یہ عورت مارچ کرے اسی امریکہ کے خلاف کہ جہاں سے حقوق نسواں کا پہلا مارچ شروع ہوا اور وہیں امریکہ کے شہر میں پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتی جیل میں بلک بلک کر سسک سسک کر قید کاٹ رہی ہے ،کیوں حقوق نسواں والیوں کو یہ عورت نظر نہیں آتی؟کیا یہ عورت نہیں اور اس کے کوئی حقوق نہیں؟ جب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی قید ہوئی ہیں تب سے کسی ایک عالمی یوم خواتین کے دن عورت مارچ میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے آواز نہیں اٹھائی گئی،جس پر سوچنے والے سوچتے ہیں کہ کیا اس لئے نہیں اٹھائی گئی کہ ڈاکٹر عافیہ بڑی حد تک مذہبی خاتون تھیں ؟

    آج پاکستان میں عورت مارچ میں حقوق نسواں کے عالمی دن میں یہ نعرہ تو لگتا ہے اپنا کھانا خود گرم کرو مگر وہیں وہ عورتیں بھی موجود ہوتی ہیں جو گھنٹوں دفتروں،فیکٹریوں، کارخانوں میں کام کرتی ہیں ایسی عورتوں سے سوال ہے کہ بی بی تمہیں اپنے گھر میں اپنے بھائی،بیٹے اور شوہر کا کھانا گرم کرتے تو تکلیف ہوتی ہے کیا وہی تکلیف تمہیں دفتروں،فیکٹریوں میں کام کرتے بھی ہوئی ہے کبھی؟

    سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ خودساختہ نعرے کس نے اور کیوں لگوائے کیونکہ اللہ رب العزت نے مرد کو نگران مقرر کیا اور اس کے ذمے عورت کی کفالت بطور بیوی،بیٹی بہن اور ماں کی صورت میں لازم کی ہے پھر یہ کون عورت ہے جو مرد کی کفالت میں تو گھٹن محسوس کرتی ہے مگر دفتر میں نہیں؟

    سوچنے والے سوچتے ہیں کہ اسلام نے تو یہاں تک مرد کو حکم دیا کہ اگر اس کی جسمانی اور مالی حالت فٹ ہے تو وہ بیک وقت چار عورتوں کو نکاح میں لے کر ان کا نان و نفقہ پورا کرے پھر عورت مارچ میں مردوں سے آزادی مانگنے والیاں کون ہیں؟یہ کیا چاہتی ہیں ؟کہیں یہ حقوق نسواں مارچ کی آڑ میں اسلام سے آزادی تو نہیں چاہتیں ،

    اگر ایسا ہے تو سوچ لیں اگر اسلام نہ آتا تو آج دنیا میں عورت زندہ درگور بھی ہو رہی ہوتی اور وراثت کے حق سے محروم بھی رہتی اور بطور ماں اس کے قدموں تلے جنت بھی نہ ہوتی اور بطور بیٹی اور بہن رحمت بھی نہ ہوتی ،سوچئیے ذرا سوچئیے….

  • شاعرہ اور افسانہ نگار  نیر رانی شفق

    شاعرہ اور افسانہ نگار نیر رانی شفق

    چاٹ گئی ہیں عمر کا سونا
    آنکھ میں ٹھہری گہری راتیں

    نیر رانی شفق

    06 مارچ 1967ء کو ڈیرہ غازی خان، پنجاب میں پیدا ہونے والی نیر رانی شفقؔ شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ آباء و اجداد کا تعلق شہر انبالہ ہندوستان سے ہے، نیر رانی شفق نے اردو میں ایم اور بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ کچھ عرصے سے روزنامہ جنگ سے وابستہ رہیں، بچوں کے لیے لکھی گئی کہانیوں کی کتابیں:۔ ” وطن کی خوشبو“ اور””ضیائے وطن“ پر صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ ان کے طویل افسانوں (کہانیوں اور ایک ناولٹ ) پر مشتمل کتاب ”شفق رنگ تقاریر“ پر ہند وپاک میں کئی ایوارڈ ملے ہیں۔ شعری مجموعہ ”شنگرفی شام“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    مری خستگی کو جمال دے
    مری بندگی کو کمال دے
    مرے دل کو نور میں ڈھال کر
    مرے فکر و فن کو اجال دے
    تو عروج دے مرے صبر کو
    مری خواہشوں کو زوال دے
    جو نکھار دے مری روح کو
    مرے دل کو ایسا ملال دے
    کوئی چاند بخش کے رات کو
    مری ہر سیاہی کو ٹال دے
    مری چشم گریہ کو حسن بخش
    دل ریزہ ریزہ سنبھال دے
    مجھے دائمی ہو شفقؔ عطا
    یہ مرض بدن سے نکال دے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہجر کی اندھی بہری راتیں
    تن من پیاسا بھیگی راتیں
    چاٹ گئی ہیں عمر کا سونا
    آنکھ میں ٹھہری گہری راتیں
    مجھ سے خوب لپٹ کر روئیں
    سونی شام اندھیری راتیں
    صندل باتیں خوشبو لہجہ
    کہاں گئیں وہ مہکی راتیں
    ہم تم جھیل کنارے جاگے
    گاؤں کی شب اور شہری راتیں
    تارا تارا بکھر گئی تھیں
    وصل میں ڈوبی چاندنی راتیں
    بن کے پاگل پروا ڈھونڈوں
    لہریں ساحل بھیگی راتیں
    جنوری فروری اور دسمبر
    ٹھنڈ میں جاگی ٹھٹھری راتیں
    شفقؔ کے سوچ نگر میں ٹھہریں
    دھند میں لپٹی کیسی راتیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    پیماں وفا کے باندھ کے جانے کدھر گیا
    صحرائے ہجر میرے لیے بن بھنور گیا
    میری نگاہ شرمگیں جھکتی چلی گئی
    اس کا بھی شوق مہر و وفا پر اثر گیا
    اک شوخ سی نگاہ جو رخ پہ جمی رہی
    عارض پہ اک حسین سا غازہ اتر گیا
    اس کی کتاب شوق کا سادہ ورق تھی میں
    میرا بھی عشق دیکھ کے اس کو سنور گیا
    منزل کی چاہتوں میں قدم رقص میں رہے
    بے کار عمر رائیگاں کا یہ سفر گیا
    چھایا تھا مہربان سا بادل جو دھوپ میں
    موج صبا جدھر گئی وہ بھی ادھر گیا
    کچھ شام سے لپٹ کے شفقؔ یوں جدا ہوئی
    لگتا تھا اب کے ہاتھ سے دل کا نگر گیا

  • مرثیہ نگاری کو ایک نئی جدت اور خوبصورتی دینے والے معروف شاعر مرزا سلامت علی دبیر

    مرثیہ نگاری کو ایک نئی جدت اور خوبصورتی دینے والے معروف شاعر مرزا سلامت علی دبیر

    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
    رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے

    مرزا سلامت علی دبیر

    مرزا سلامت علی دبیر اردو کےان نامور شعراء میں سے تھےجنہوں نے مرثیہ نگاری کو ایک نئی جدت اور خوبصورتی سے نوازا۔ آپ کو میر انیس کے ساتھ مرثیہ نگاری کا موجد اور بانی کہا جاتا ہے، مرزا دبیر 29 اگست 1803ء کو دلی میں پیدا ہوئے، انہوں نے بچپن میں ہی محرم کی مجالس میں مرثیے پڑھنے شروع کر دیئے تھے، انہوں نے میر مظفر ضمیر کی شاگردی میں شاعری کا آغاز کیا۔ دبیر اپنے زمانے کے بہت بڑے دانشور بھی تھے۔انہوں نے دہلی سے لکھنؤ کی طرف ہجرت کی جہاں انہیں مرثیہ نگاری پر ذیادہ بہتر کام کرنے کا ماحول دستیاب ہوا، مولانا محمد حسن آزاد اپنی کتاب ’’آب حیات‘‘ میں ’’تذکرۂ سراپا سکون‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مرزا دبیر کے والد صاحب کے نام کے حوالے سے دو نام ملتے ہیں۔ ایک ’’غلام حسین‘‘ دوسرا ’’مرزا ٓغاجان کاغذ فروش‘‘۔ مرزا دبیر کا 06مارچ 1875ء میں انتقال ہوا اور انہیں وہیں پر دفن کیا گیا۔

    ادبی خدمات:
    ۔۔۔۔۔۔
    انہوں نے اپنی زندگی میں تین ہزار (3000) سے زائد مرثیے لکھےجس میں نوحے اور سلام شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے بغیر نقطوں کے ایک کلام لکھا جس کا پہلا شعر تھا:

    ’’ہم طالع ہما مراد ہم رسا ہوا‘‘
    اس بے نقطہ نظم میں مرزا دبیر نے اپنے تخلص دبیر کی جگہ اپنا تخلص ’’عطارد‘‘ استعمال کیا اور اس پوری نظم میں شروع سے آخر تک ایک نقطے کا استعمال بھی نہیں کیا۔ ایک انگریز مصنف ، پرو فیسر اور قدیم اردو شاعری کے کے ماہر پروفیسر فرانسس ڈبلیو پرچیٹ نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ’’ اس طرح کا مکمل مرثیہ نگار، شاعر اور انسان دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتا‘‘
    آپ کے چند مشہور مرثیے:
    1۔ کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے۔
    2۔ دست ِخدا کا قوتِ بازو حسینؑ ہیں۔
    3۔ جب چلے یثرب سے ثبت مصطفٰےؐؐ سوئے عراق۔
    4۔ بلقیس پاسبان ہے، یہ کس کی جناب ہے۔
    5۔ پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی۔
    اگرچہ مرزا دبیر کی وجہ شہرت مرثیہ نگاری تھی لیکن انہوں نے شاعری کی دوسری اصناف پر بھی بہت کام کیا جس میں سلام، رباعی، قطعات اور غزلیات بھی شامل ہیں آپ کی غزلوں کا اسلوب مرزا غالب سے ملتا جلتا ہے۔
    مرزا دبیر اور میر انیس کا تقابل
    ۔۔۔۔۔۔
    اردو ادب کی تاریخ میں مرزا دبیر اور میر انیس کی مرثیہ نگاری کا بہت زیادہ تقابل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں کی ہی وجہ شہرت مرثیہ نگاری تھی تاہم دونوں کا انداز اور اسلوب ایک دوسرے سے بہت مختلف تھا۔ بعد میں آنے ولےاردو ادب کے بہت سے ماہرین نے اس پر بہت ذیادہ کام کیا۔ اس عظیم ورثہ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔
    دنیا کے مختلف مصنفین اور محققین نے مرزا دبیر کے کام پر جو کتابیں لکھیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ موازنہِ انیس و دبیر (مولانا شبلی نعمانی)
    2۔ انیس و دبیر (ڈاکٹر گوپی چند نارنگ)
    3۔ مجتہد نظم مرزا دبیر (ڈاکٹر سیّد تقی عابدی)
    4۔ مرزا سلامت علی دبیر
    (ایلڈر ۔اے۔مینیو)(انگریزی میں)
    اردو ادب کے شعراء کو سلام
    ۔۔۔۔۔۔
    انیس اور دبیر اکیڈمی لندن نے ان دونوں عظیم شعراء کی سالگرہ پر ’’اردو ادب میں انیس اور دبیر کا مقام‘‘ کے عنوان سے ایک عالمی سیمینار کا انعقاد کیاجس میں پاکستان، بھارت، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیااور برطانیہ کے علاوہ دنیا کے بہت سے ممالک کے ادیبو اور دانشوروں نے شرکت کی اور مرزا دبیر و انیس کی شخصیات اور کام پر روشنی ڈالی اسی طرح کا ایک سیمینار 27 اکتوبر 2009ء کو کراچی میں بھی منعقد کیا گیا جس میں کینیڈا کے ڈاکٹر سیّد تقی عابدی نے انکشاف کیا کہ اردو شاعری میں میر انیس اور مرزا دبیر نے دنیا کے کسی بھی اردو شاعر سے ذیادہ الفاظ استعمال کیےہیں۔ انہوں نے بتایا نذیر اکبر آبادی نے 8500 الفاظ استعمال کیے مرزا دبیر نے 120,000 جبکہ میر انیس نے 86000 الفاظ استعمال کیے۔
    نذرانہ عقیدت
    ۔۔۔۔۔۔
    03 جنوری 2014ء کو مفس نوحہ اکیڈمی ممبئی انڈیانے مرزا دبیر کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئےمرزا دبیر کے مرثیوں پر مشتمل 35 وڈیوز کی ایک سیریز جاری کی۔جس کا عنوان تھا ’’مرزا سلامت علی دبیر کے سوز‘‘ جو کہ 8 مرثیوں پر مشتمل ہے (مدینہ تا مدینہ مکمل، 28 رجب سے 8 ربیع الاول) بھارت کے مشہور نوحہ خواں راحیل رضوی نے یہ مرثیے پڑہنے کا شرف حاصل کیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا محمد حسین آذاد کی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ کے مطابق مرزا دبیر کا انتقال 29 محرم 1292 ہجری بطابق (1875-76ء) میں ہوا۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر 72 سال تھی۔
    ورثہ دبیر
    ۔۔۔۔۔۔
    مرزا دبیر اور میر انیس نے اردو ادب پر، خاص طور پر مرثیہ نگاری کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، انہوں نے مرثیہ نگاری میں بہترین اسلوب اور اصنا ف متعارف کرائیںاور الفاظ کا بہترین چناؤ اور استعمال کیا، مرزا دبیر اور میر انیس نے مرثیہ نگاری کو جو پہچان دی وہ صرف انہیں سے منصوب رہے گی ان کی مرثیہ نگاری نے برصغیر پاک و ہند کے معاشرے پر بہت ذیادہ مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔جب بھی مرثیہ نگاری اور اردو ادب میں خدمات کا ذکر کیا جائے گا مرزا دبیر کا نے ہمیشہ سر فہرست لکھا جائے گا۔

    مرثیہ
    ۔۔۔۔۔۔
    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
    رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے
    ہر قصر سلاطین زمن کانپ رہا ہے
    سب ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے
    شمشیر بکف دیکھ کے حیدر کے پسر کو
    جبریل لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر کو
    ہیبت سے ہیں نہ قلعۂ افلاک کے دربند
    جلاد فلک بھی نظر آتا ہے نظر بند
    وا ہے کمر چرخ سے جوزا کا کمر بند
    سیارے ہیں غلطاں صفت طائر پر بند
    انگشت عطارد سے قلم چھوٹ پڑا ہے
    خورشید کے پنجے سے علم چھوٹ پڑا ہے
    خود فتنۂ و شر پڑھ رہے ہیں فاتحۂ خیر
    کہتے ہیں انالعبد لرز کر صنم دیر
    جاں غیر ہے تن غیر مکیں غیر مکاں غیر
    نے چرخ کا ہے دور نہ سیاروں کی ہے سیر
    سکتے میں فلک خوف سے مانند زیں ہے
    جز بخت یزید اب کوئی گردش میں نہیں ہے
    بے ہوش ہے بجلی پہ سمند ان کا ہے ہشیار
    خوابیدہ ہیں سب طالع عباس ہے بیدار
    پوشیدہ ہے خورشید علم ان کا نمودار
    بے نور ہے منہ چاند کا رخ ان کا ضیا بار
    سب جزو ہیں کل رتبہ میں کہلاتے ہیں عباس
    کونین پیادہ ہیں سوار آتے ہیں عباسؑ
    چمکا کے مہ و خور زر و نقرہ کے عصا کو
    سرکاتے ہیں پیر فلک پشت دوتا کو
    عدل آگے بڑھا حکم یہ دیتا ہے قضا کو
    ہاں باندھ لے ظلم و ستم و جور و جفا کو
    گھر لوٹ لے بغض و حسد و کذب و ریا کا
    سرکاٹ لے حرص و طمع و مکر و دغا کا
    راحت کے محلوں کو بلا پوچھ رہی ہے
    ہستی کے مکانوں کو فنا پوچھ رہی ہے
    تقدیر سے عمر اپنی قضا پوچھ رہی ہے
    دونوں کا پتہ فوج جفا پوچھ رہی ہے
    غفلت کا تو دل چونک پڑا خوف سے ہل کر
    فتنے نے کیا خواب گلے کفر سے مل کر
    النشر کا ہنگامہ ہے اس وقت حشر میں
    الصورکا آوازہ ہے اب جن و بشر میں
    الہجر کا ہے تذکرہ باہم تن و سر میں
    الوصل کا غل ہے سقر و اہل سقر میں
    الحشر جو مردے نہ پکاریں تو غضب ہے
    الموت زبان ملک الموت پہ اب ہے
    روکش ہے اس اک تن کا نہ بہمن نہ تہمتن
    سہراب و نریمان و پشن بے سرو بے تن
    قاروں کی طرح تحت زمیں غرق ہے قارن
    ہر عاشق دنیا کو ہے دنیا چہہ بے زن
    سب بھول گئے اپنا حسب اور نسب آج
    آتا ہے جگر گوشۂ قتال عرب آج
    ہر خود نہاں ہوتا ہے خود کاسۂ سر میں
    مانند رگ و ریشہ زرہ چھپتی ہے بر میں
    بے رنگ ہے رنگ اسلحے کا فوج عمر میں
    جوہر ہے نہ تیغوں میں نہ روغن ہے سپر میں
    رنگ اڑ کے بھرا ہے جو رخ فوج لعیں کا
    چہرہ نظر آتا ہے فلک کا نہ زمیں کا
    ہے شور فلک کا کہ یہ خورشید عرب ہے
    انصاف یہ کہتا ہے کہ چپ ترک ادب ہے
    خورشید فلک پرتو عارض کا لقب ہے
    یہ قدرت رب قدرت رب قدرت رب ہے
    ہر ایک کب اس کے شرف و جاہ کو سمجھے
    اس بندے کو وہ سمجھے جو اللہ کو سمجھے
    یوسف ہے یہ کنعاں میں سلیماں ہے سبا میں
    عیسیٰ ہے مسیحائی میں موسیٰ ہے دعا میں
    ایوب ہے یہ صبر میں یحییٰ ہے بکا میں
    شپیر ہے مظلومی میں حیدر ہے وغا میں
    کیا غم جو نہ مادر نہ پدر رکھتے ہیں آدم
    عباس سا دنیا میں پسر رکھتے ہیں آدم
    پنجے میں یداللہ ہے بازو میں ہے جعفر
    طاعت میں ملک خو میں حسنؑ زور میں حیدر
    اقبال میں ہاشم تو تواضع میں پیمبر
    اور طنطنہ و دبدبہ میں حمزۂ صفدر
    جوہر کے دکھانے میں یہ شمشیر خدا ہے
    اور سر کے کٹانے میں یہ شاہ شہدا ہے
    بے ان کے شرف کچھ بھی زمانہ نہیں رکھتا
    ایمان سوا ان کے خزانہ نہیں رکھتا
    قرآں بھی کوئی اور فسانہ نہیں رکھتا
    شپیر بغیر ان کے یگانہ نہیں رکھتا
    یہ روح مقدس ہے فقط جلوہ گری میں
    یہ عقل مجرد ہے جمال بشری میں
    صحرا میں گرا پرتو عارض جو قضارا
    سورج کی کرن نے کیا شرما کے کنارا
    یوں دھوپ اڑی آگ پہ جس طرح سے پارا
    موسیٰ کی طرح غش ہوئے سب کیسا نظارا
    جز مدح نہ دم روشنئ طور نے مارا
    شب خون عجب دھوپ پہ اس نور نے مارا
    قربان ہوائے علم شاہ امم کے
    سب خار ہرے ہو کے بنے سرو ارم کے
    ہیں راز عیاں خالق ذوالفضل و کرم کے
    جبریلؑ نے پر کھولے ہیں دامن میں علم کے
    پرچم کا جہاں عکس گرا صاعقہ چمکا
    پرچم کہیں دیکھا نہ سنا اس چم و خم کا
    قرنا میں نہ دم ہے نہ جلاجل میں صدا میں ہے
    بوق و دہل و کوس کی بھی سانس ہوا ہے
    ہر دل کے دھڑکنے کا مگر شور بپا ہے
    باجا جو سلامی کا اسے کہیے بجا ہے
    سکتے میں جو آواز ہے نقارۂ و دف کی
    نوبت ہے ورود خلف شاہ نجف کی
    آمد کو تو دیکھا رخ پر نور کو دیکھو
    والشمش پڑھو روشنیٔ طور کو دیکھو
    نے روشنیٔ ماہ کو نے ہور کو دیکھو
    اس شمع مراد ملک و حور کو دیکھو
    ہے کون تجلی رخ پر نور کی مانند
    یاں روشنیٔ طور جلی طور کی مانند
    مداح کو اب تازگیٔ نظم میں کد ہے
    یا حضرت عباسؑ علیؑ وقت مدد ہے
    مولا کی مدد سے جو سخن ہو وہ سند ہے
    اس نظم کا جو ہو نہ مقر اس کو حسد ہے
    حاسد سے صلا بھی نہیں درکار ہے مجھ کو
    سرکار حسینیؑ سے سروکار ہے مجھ کو
    گلزار ہے یہ نظم و بیاں بیشہ نہیں ہے
    باغی کو بھی گلگشت میں اندیشہ نہیں ہے
    ہر مصرعۂ پر جستہ ہے پھل تیشہ نہیں ہے
    یاں مغز سخن کا ہے رگ و ریشہ نہیں ہے
    صحت مری تشخیص سے ہے نظم کے فن کی
    مانند قلم ہاتھ میں ہے نبض سخن کی
    گر کاہ ملے فائدہ کیا کوہکنی سے
    میں کاہ کو گل کرتا ہوں رنگیں سخنی سے
    خوش رنگ ہے الفاظ عقیق یمنی سے
    یہ ساز ہے سوز غم شاہ مدنی سے
    آہن کو کروں نرم تو آئینہ بنا لوں
    پتھر کو کروں گرم تو میں عطر نکا لوں
    گو خلعت تحسیں مجھے حاصل ہے سراپا
    پر وصف سراپا کا تو مشکل ہے سراپا
    ہر عضو تن اک قدرت کامل ہے سراپا
    یہ روح ہے سر تا بقدم دل ہے سراپا
    کیا ملتا ہے گر کوئی جھگڑتا ہے کسی سے
    مضمون بھی اپنا نہیں لڑتا ہے کسی سے
    سورج کو چھپاتا ہے گہن آئینہ کو زنگ
    داغی ہے قمر سوختہ و لالۂ خوش رنگ
    کیا اصل در و لعل کی وہ پانی ہے یہ سنگ
    دیکھو گل و غنچہ وہ پریشاں ہے یہ دل تنگ
    اس چہرے کو داور ہی نے لاریب بنایا
    بے عیب تھا خود نقش بھی بے عیب بنایا
    انساں کہے اس چہرے کو کب چشمۂ حیواں
    یہ نور وہ ظلمت یہ نمودار وہ پنہاں
    برسوں سے ہے آزار برص میں مہ تاباں
    کب سے یرقاں مہر کو ہے اور نہیں درماں
    آئینہ ہے گھر زنگ کایہ رنگ نہیں ہے
    اس آئینہ میں رنگ ہے اور زنگ نہیں ہے
    آئینہ کہا رخ کو تو کچھ بھی نہ ثنا کی
    صنعت وہ سکندر کی یہ صنعت ہے خدا کی
    واں خاک نے صیقل یہاں قدرت نے جلا کی
    طالع نے کس آئینہ کو خوبی یہ عطا کی
    ہر آئینہ میں چہرۂ انساں نظر آیا
    اس رخ میں جمال شہ مرداں نظر آیا
    بے مثل حسیں ہے نگہ اہل یقیں میں
    بس ایک یہ خورشید ہے افلاک و زمیں میں
    جلوہ ہے عجب ابروؤں کا قرب جبیں میں
    دو مچھلیاں ہیں چشمۂ خورشید مبیں میں
    مردم کو اشارہ ہے یہ ابرو کا جبیں پر
    ہیں دو مہ نو جلوہ نما چرخ بریں پر
    بینی کے تو مضموں پہ یہ دعوا ہے یقینی
    اس نظم کے چہرے کی وہ ہوجائے گا بینی
    منظور نگہ کو جو ہوئی عرش نشینی
    کی سایۂ بینی نے فقط جلوہ گزینی
    درکار اسی بینی کی محبت کا عصا ہے
    یہ راہ تو ایماں سے بھی باریک سوا ہے
    بینی کو کہوں شمع تو لو اس کی کہاں ہے
    پر نور بھنوؤں پر مجھے شعلہ کا گماں ہے
    دو شعلے اور اک شمع یہ حیرت کا مکاں ہے
    ہاں زلفوں کے کوچوں سے ہوا تند رواں ہے
    سمجھو نہ بھویں بس کہ ہوا کا جو گزر ہے
    یہ شمع کی لو گاہ ادھر گاہ ادھر ہے
    اس درجہ پسند اس رخ روشن کی چمک ہے
    خورشید سے برگشتہ ہر اک ماہ فلک ہے
    ابرو کا یہ غل کعبۂ افلاک تلک ہے
    محراب دعائے بشر و جن و ملک ہے
    دیکھا جو مہ نو نے اس ابرو کے شرف کو
    کعبہ کی طرف پشت کی رخ اس کی طرف کو
    جو معنیٔ تحقیق سے تاویل کا ہے فرق
    پتلی سے وہی کعبہ کی تمثیل کا ہے فرق
    سرمہ سے اور اس آنکھ سے اک میل کا ہے فرق
    میل ایک طرف نور کی تکمیل کا ہے فرق
    اس آنکھ پہ امت کے ذرا خشم کو دیکھو
    ناوک کی سلائی کو اور اس چشم کو دیکھو
    گر آنکھ کو نرگس کہوں ہے عین حقارت
    نرگس میں نہ پلکیں ہیں نہ پتلی نہ بصارت
    چہرے پہ مہ عید کی بے جا ہے اشارت
    وہ عید کا مژدہ ہے یہ حیدرؑ کی بشارت
    ابرو کی مہ نو میں نہ جنبش ہے نہ ضو ہے
    اک شب وہ مہ نو ہے یہ ہر شب مہ نو ہے
    منہ غرق عرق دیکھ کے خورشید ہوا تر
    ابرو سے ٹپکتا ہے نرا تیغ کا جوہر
    آنکھوں کا عرق روغن بادام سے بہتر
    عارض کا پسینہ ہے گلاب گل احمر
    قطرہ رخ پر نور پہ ڈھلتے ہوئے دیکھو
    عطر گل خورشید نکلتے ہوئے دیکھو
    تسبیح کناں منہ میں زبان آٹھ پہر ہے
    گویا دہن غنچہ میں برگ گل تر ہے
    کب غنچہ و گلبرگ میں یہ نور مگر ہے
    اس برج میں خورشید کے ماہی کا گزر ہے
    تعریف میں ہونٹوں کی جو لب تر ہوا میرا
    دنیا ہی میں قابو لب کوثر ہوا میرا
    یہ منہ جو ردیف لب خوش رنگ ہوا ہے
    کیا فاقیہ غنچہ کا یہاں تنگ ہوا ہے
    اب مدح دہن کا مجھے آہنگ ہوا ہے
    پر غنچے کا نام اس کے لیے ننگ ہوا ہے
    غنچہ کہا اس منہ کو حذر اہل سخن سے
    سونگھے کوئی بو آتی ہے غنچے کے دہن سے
    شیریں رقموں میں رقم اس لب کی جدا ہے
    اک نے شکر اور ایک نے یاقوت لکھا ہے
    یاقوت کا لکھنا مگر ان سب سے بجا ہے
    یاقوت سے بڑھ جو لکھوں میں تو مزا ہے
    چوسا ہے یہ لب مثل رطب حق کے ولی نے
    یاقوت کا بوسہ لیا کس روز علیؑ نے
    جان فصحا روح فصاحت ہے تو یہ ہے
    ہر کلمہ ہے موقع پہ بلاغت ہے تو یہ ہے
    اعجاز مسیحا کی کرامت ہے تو یہ ہے
    قائل ہے نزاکت کہ نزاکت ہے تو یہ ہے
    یوں ہونٹوں پہ تصویر سخن وقت بیاں ہے
    یاقوت سے گویا رگ یاقوت عیاں ہے
    اب اصل میں شیریں دہنی کی کروں تحریر
    طفلی میں کھلا جبکہ یہی غنچۂ تقریر
    پہلے یہ خبر دی کہ میں ہوں فدیۂ شپیر
    اس مژدے پہ مادر نے انہیں بخش دیا شیر
    منہ حیدر کرار نے میٹھا کیا ان کا
    شیرینیٔ اعجاز سے منہ بھر دیا ان کا
    اس لب سے دم تازہ ہر اک زندے نے پایا
    جیسے شہ مرداں نے نصیری کو جلایا
    جان بخشئے اموات کا گویا ہے یہ آیا
    ہم دم دم روح القدس ان کا نظر آیا
    دم قالب بے جاں میں جو دم کرتے تھے عیسیٰ
    ان ہونٹوں کے اعجاز کا دم بھرتے تھے عیسیٰ
    دانتوں کی لڑی سے یہ لڑی عقل خدا داد
    وہ بات ٹھکانے کی کہوں اب کہ رہے یاد
    یہ گوہر عباس ہیں پاک ان کی ہے بنیاد
    عباس و نجف ایک ہیں گنئے اگر اعداد
    معدن کے شرف ہیں یہ جواہر کے شرف ہیں
    دنداں در عباس ہیں تو در نجف ہیں
    اثناعشری اب کریں ہاتھوں کا نظارا
    دس انگلیاں ہیں مثل علم ان میں صف آرا
    ہر پنجہ کا ہے پنجتنی کو یہ اشارا
    اے مومنو عشرہ میں علم رکھنا ہمارا
    پہلے مرے آقا مرے سالار کو رونا
    پھر زیر علم ان کے علمدار کو رونا
    تا موئے کمر فکر کا رشتا نہیں جاتا
    فکر ایک طرف وہم بھی حاشا نہیں جاتا
    پر فکر رسا کا مری دعوا نہیں جاتا
    مضمون یہ نازک ہے کہ باندھا نہیں جاتا
    اب زیب کمر تیغ شرر بار جو کی ہے
    عباسؑ نے شعلہ کو گرہ بال سے دی ہے
    عشاق ہوں اب عالم بالا کی مدد کا
    درپیش ہے مضمون علمدار کے قد کا
    یہ ہے قد بالا پسر شیر صمد کا
    یا سایہ مجسم ہوا اللہ احد کا
    اس قد پہ دو ابرو کی کشش کیا کوئی جانے
    کھینچے ہیں دو مد ایک الف پر یہ خدا نے
    نے چرخ کے سو دورے نہ اک رخش کا کاوا
    دیتا ہے سدا عمر رواں کو یہ بھلاوا
    یہ قسم ہے ترکیب عناصر کے علاوا
    اللہ کی قدرت ہے نہ چھل بل نہ چھلاوا
    چلتا ہے غضب چال قدم شل ہے قضا کا
    توسن نہ کہو رنگ اڑا ہے یہ ہوا کا
    گردش میں ہر اک آنکھ ہے فانوس خیالی
    بندش میں ہیں نعل اس کے رباعئ ہلالی
    روشن ہے کہ جوزا نے عناں دوش پہ ڈالی
    بھرتی سے ہے مضمون رکابوں کا بھی خالی
    سرعت ہے اندھیرے اور اجالے میں غضب کی
    اندھیاری اسے چاندنی ہے چودھویں شب کی
    گردوں ہو کبھی ہم قدم اس کا یہ ہے دشوار
    وہ قافلہ کی گرد ہے یہ قافلہ سالار
    وہ ضعف ہے یہ زور وہ مجبور یہ مختار
    یہ نام ہے وہ ننگ ہے یہ فخر ہے وہ عار
    اک جست میں رہ جاتے ہیں یوں ارض و سما دور
    جس طرح مسافر سے دم صبح سرا دور
    جو بوند پسینے کی ہے شوخی سے بھری ہے
    ان قطروں میں پریوں سے سوا تیز پری ہے
    گلشن میں صبا باغ میں یہ کبک دری ہے
    فانوس میں پروانہ ہے شیشے میں پری ہے
    یہ ہے وہ ہما جس کے جلو دار ملک ہیں
    سایہ کی جگہ پر کے تلے ہفت فلک ہیں
    ٹھہرے تو فلک سب کو زمیں پر نظر آئے
    دوڑے تو زمیں چرخ بریں پر نظر آئے
    شہباز ہوا کا نہ کہیں پر نظر آئے
    راکب ہی فقط دامن زیں پر نظر آئے
    اس راکب و مرکب کی برابر جو ثنا کی
    یہ علم خدا کا وہ مشیت ہے خدا کی
    شوخی میں پری حسن میں ہے حور بہشتی
    طوفان میں راکب کے لئے نوح کی کشتی
    کب ابلق دوراں میں ہے یہ نیک سرشتی
    یہ خیر ہے وہ شر ہے یہ خوبی ہے وہ زشتی
    صحرا میں چمن فصل بہاری ہے چمن میں
    رہوار ہے اصطبل میں تلوار ہے رن میں
    اس رخش کو عباسؑ اڑاتے ہوئے آئے
    کوس لمن الملک بجاتے ہوئے آئے
    تکبیر سے سوتوں کو جگاتے ہوئے آئے
    اک تیغ نگہ سب پہ لگاتے ہوئے آئے
    بے چلے کے کھینچے ہوئے ابرو کی کماں کو
    بے ہاتھ کے تانے ہوئے پلکوں کی سناں کو
    لکھا ہے مورخ نے کہ اک گبر دلاور
    ہفتم سے فروکش تھا میان صف لشکر
    روئیں تن و سنگیں دل و بد باطن و بدبر
    سر کرکے مہم نیزوں پہ لایا تھا کئی سر
    ہمراہ شقی فوج تھی ڈنکا تھا نشاں تھا
    جاگیر کے لینے کو سوئے شام رواں تھا
    تقدیر جو رن میں شب ہفتم اسے لائی
    خلوت میں اسے بات عمر نے یہ سنائی
    درپیش ہے سادات سے ہم کو بھی لڑائی
    وان پنچتنی چند ہیں یاں ساری خدائی
    اکبرؑ کا نہ قاسمؑ کا نہ شپیرؑ کا ڈر ہے
    دو لاکھ کو اللہ کی شمشیر کا ڈر ہے
    بولا وہ لرز کر کہ ہوا مجھ کو بھی وسواس
    شمشیر خدا کون عمر بولا کہ عباسؑ
    اس نے کہا پھر فتح کی کیوں کر ہے تجھے آس
    بولا کہ کئی روز سے اس شیر کو ہے پیاس
    ہم بھی ہیں بہادر نہیں ڈرتے ہیں کسی سے
    پر روح نکلتی ہے تو عباسؑ علی سے
    تشریف علمدار جری رن میں جو لایا
    اس گبر کو چپکے سے عمر نے یہ سنایا
    اندیشہ تھا جس شیر کے آنے کا وہ آیا
    سر اس نے پرے سے سوئے عباسؑ اٹھایا
    دیکھا تو کہا کانپ کے یہ فوج وغا سے
    روباہو لڑاتے ہو مجھے شیر خدا سے
    مانا کہ خدا یہ نہیں قدرت ہے خدا کی
    مجھ میں ہے نرا زور یہ قوت ہے خدا کی
    کی خوب ضیافت مری رحمت ہے خدا کی
    سب نے کہا تجھ پر بھی عنایت ہے خدا کی
    جا عذر نہ کر نام ہے مردوں کا اسی سے
    تو دبدبۂ و زور میں کیا کم ہے کسی سے
    بادل کی طرح سے وہ گرجتا ہوا نکلا
    جلدی میں سلح جنگ کے سجتا ہوا نکلا
    ہرگام رہ عمر کو تجتا ہوا نکلا
    اور سامنے نقارہ بھی بجتا ہوا نکلا
    غالب تھا تہمتن کی طرح اہل جہاں پر
    دھنستی تھی زمیں پاؤں وہ رکھتا تھا جہاں پر
    تیار کمر کس کے ہوا جنگ پہ خونخوار
    اور پیک اجل آیا کہ ہے قبر بھی تیار
    خنجر لیا منہ دیکھنے کو اور کبھی تلوار
    مثل ورم مرگ چڑھا گھوڑے پہ اک بار
    وہ رخش پہ یا دیو دنی تخت زری پر
    غل رن میں اٹھا کوہ چڑھا کبک دری پر
    اس ہیئت و ہیبت سے وہ نخوت سیر آیا
    آسیب کو بھی سائے سے اس کے حذر آیا
    میدان قیامت کو بھی محشر نظر آیا
    گرد اپنے لیے نیزوں پہ کشتوں کے سر آیا
    زندہ ہی پئے سیر نہ ہر صف سے بڑھے تھے
    سر مردوں کے نیزوں پہ تماشے کو چڑھے تھے
    سیدھا کبھی نیزہ کو ہلایا کبھی آڑا
    پڑھ پڑھ کے رجز باغ فصاحت کو اجاڑا
    ظالم نے کئی پشت کے مردوں کو اکھاڑا
    بولا میری ہیبت نے جگر شیروں کا پھاڑا
    ہم پنچہ نہ رستم ہے نہ سہراب ہے میرا
    مرحب بن عبدالقمر القاب ہے میرا
    فتراک میں سر باندھتا ہوں پیل دماں کا
    پنجہ میں سدا پھیرتا ہوں شیر ژیاں کا
    نظارا ذرا کیجئے ہر شاخ سناں کا
    اس نیزے پہ وہ سر ہے فلاں ابن فلاں کا
    جو جو تھے یلان کہن اس دورۂ نو میں
    تن ان کے تہ خاک ہیں سر میرے جلو میں
    یاں سیف زباں سیف الٰہی نے علم کی
    فرمایا مرے آگے ہے تقریر ستم کی
    اب منہ سے کہا کچھ تو زباں میں نے قلم کی
    کونین نے گردن مرے دروازے پہ خم کی
    طاقت ہے ہماری اسداللہ کی طاقت
    پنجے میں ہمارے ہے یداللہ کی طاقت
    عبدالقمر نحس کا تو داغ جگر ہے
    میں چاند علیؑ کا ہوں ارے یہ بھی خبر ہے
    خورشید پرستی سے تری کیا مجھے ڈر ہے
    قبضہ میں طناب فلک و شمش و قمر ہے
    مقدور رہا شمس کی رجعت کا پدر کو
    دو ٹکڑے چچا نے کیا انگلی سے قمر کو
    خورشید درخشاں میں بتا نور ہے کس کا
    کلمہ ورق ماہ پہ مسطور ہے کس کا
    اور سورۂ والشمس میں مذکور ہے کس کا
    ذرے کو کرے مہر یہ مقدور ہے کس کا
    یہ صاحب مقدور نبیؐ اور علیؑ ہیں
    یا ہم کہ غلام خلف الصدق نبیؐ ہیں
    توبہ تو خدا جانتا ہے شمش و قمر کو
    وہ شام کو ہوتا ہے غروب اور یہ سحر کو
    ایمان سمجھ مہر شہ جن و بشر کو
    شمع رہ معراج ہیں یہ اہل نظر کو
    خورشید بنی فاطمہ تو شاہ امم ہیں
    اور ماہ بنی ہاشمی آفاق میں ہم ہیں
    دو چاند کو کرتی ہے اک انگشت ہماری
    ہے مہر نبوت سے ملی پشت ہماری
    ہے تیغ ظفر وقت زد و کشت ہماری
    سو گرز قضا ضربت یکمشت ہماری
    قدرت کے نیستان کے ہم شیر ہیں ظالم
    ہم شیر ہیں اور صاحب شمشیر ہیں ظالم
    سب کو ہے فنا دور ہمیشہ ہے ہمارا
    سر پیش خدا رکھنا یہ پیشہ ہے ہمارا
    ہیں شیر خدا جس میں وہ بیشہ ہے ہمارا
    عاری ہے اجل جس سے وہ تیشہ ہے ہمارا
    ہم جزو بدن اس کے ہیں جو کل کا شرف ہے
    رشتے میں ہمارے گہر پاک نجف ہے
    جوشن جو دعاؤں میں ہے وہ اپنی زرہ ہے
    ہر عقدے کا ناخن مرے نیزے کی گرہ ہے
    تلوار سے پانی جگر ہر کہ و مہ ہے
    کاٹا پر جبریل کو جس تیغ سے یہ ہے
    سرخود و کلہ کا نہیں محتاج ہمارا
    شپیر کا ہے نقش قدم تاج ہمارا
    احمد ہے چچا میرا پدر حیدرؑ صفدر
    وہ کل کا پیمبر ہے یہ کونین کا رہبر
    اور مادر زینبؑ کی ہے لونڈی مری مادر
    بھائی مرا اک عون دو عبداللہ و جعفر
    اور شپر و شپیر ہیں سردار ہمارے
    ہم ان کے غلام اور وہ مختار ہمارے
    قاسم کا عزادار ہوں اکبرؑ کا میں غمخوار
    لشکر کا علمدار ہوں سرور کا جلو دار
    میں کرتا ہوں پردا تو حرم ہوتے ہیں اسوار
    تھا شب کو نگہبان خیام شہ ابرار
    اب تازہ یہ بخشش ہے خدائے ازلی کی
    سقا بھی بنا اس کا جو پوتی ہے علیؑ کی
    ہم ہانٹتے ہیں روزئ ہر بندۂ غفار
    رزاق کی سرکار کے ہیں مالک و مختار
    پر حق کی اطاعت ہے جو ہر کار میں درکار
    خود وقت سحر روزے میں کھالتے ہیں تلوار
    ہیں عقدہ کشا وقت کشا قلعہ کشا بھی
    پر صبر سے بندھواتے ہیں رسی میں گلا بھی
    اس کے قدم پاک کا فدیہ ہے سر اپنا
    قربان کیا جس پہ نبیؐ نے پسر اپنا
    نذر سر اکبرؑ ہے دل اپنا جگر اپنا
    بیت الشرف شاہ پہ صدقے ہے گھر اپنا
    مشہور جو عباسؑ زمانے کا شرف ہے
    شپیر کی نعلین اٹھانے کا شرف ہے
    شاہوں کا چراغ آتے ہی گل کردیا ہم نے
    ہر جا عمل ختم رسل کر دیا ہم نے
    خندق پہ در قلعہ کو پل کر دیا ہم نے
    اک جزو تھا کلمہ اسے کل کر دیا ہم نے
    دھوکا نہ ہو یہ سب شرف شیر خدا ہیں
    پھر وہ نہ جدا ہم سے نہ ہم ان سے جدا ہیں
    ناری کو بہشتی کے رجز پر حسد آیا
    یوں چل کے پئے حملہ وہ ملعون بد آیا
    گویا کہ سقر سے عمر عبدود آیا
    اور لرزے میں مرحب بھی میان لحد آیا
    نفریں کی خدا نے اسے تحسیں کی عمر نے
    مجرا کیا عباسؑ کو یاں فتح و ظفر نے
    شپیر کو بڑھ بڑھ کے نقیبوں نے پکارا
    لو ٹوٹتا ہے دست زبردست تمہارا
    ہے مرحب عبدالقمر اب معرکہ آرا
    شپیر یقیں جانو کہ عباسؑ کو مارا
    یہ گرگ وہ یوسف یہ خزاں ہے وہ چمن ہے
    وہ چاند یہ عقرب ہے وہ سورج یہ گہن ہے
    اس شور نے تڑپا دیا حضرت کے جگر کو
    اکبرؑ سے کہا جاؤ تو عمو کی خبر کو
    اکبرؑ بڑھے اور مڑ کے پکارے یہ پدر کو
    گھیرا ہے کئی نحس ستاروں نے قمر کو
    اک فوج نئی گرد علمدار ہے رن میں
    لو ماہ بنی ہاشمی آتا ہے گہن میں
    اک گبر قوی آیا ہے کھینچے ہوئے تلوار
    کہتا ہے کہ اک حملہ میں ہے فیصلۂ کار
    سرکشتوں کے نیزوں پہ ہیں گرد اس کے نمودار
    یاں دست بہ قبضہ متبسم ہیں علمدار
    اللہ کرے خیر کہ ہے قصد شر اس کو
    سب کہتے ہیں مرحب بن عبدالقمر اس کو
    غل ہے کہ دل آل عبا توڑے گا مرحب
    اب بازوئے شاہ شہدا توڑے گا مرحب
    بند کمر شیر خدا توڑے گا مرحب
    گوہر کو تہہ سنگ جفا توڑے گا مرحب
    مرحب کا نہ کچھ اس کی توانائی کا ڈر ہے
    فدوی کو چچا جان کی تنہائی کا ڈر ہے
    شہ نے کہا کیا روح علیؑ آئی نہ ہوگی
    نانا نے مرے کیا یہ خبر پائی نہ ہوگی
    کیا فاطمہؑ فردوس میں گھبرائی نہ ہوگی
    سر ننگے وہ تشریف یہاں لائی نہ ہوگی
    بندوں پہ عیاں زور خدا کرتے ہیں عباسؑ
    پیارے مرے دیکھو تو کہ کیا کرتے ہیں عباسؑ
    سن کر یہ خبر بیبیاں کرنے لگیں نالا
    ڈیوڑھی پہ کمر پکڑے گئے سید والا
    چلائے کہ فضہ علی اصغر کو اٹھا لا
    ہے وقت دعا چھوٹتا ہے گود کا پالا
    سیدانیو! سر کھول دو سجادہ بچھا دو
    دشمن پہ علمدار ہو غالب یہ دعا دو
    خیمے میں قیامت ہوئی فریاد بکا سے
    سہمی ہوئی کہتی تھی سکینہؑ یہ خدا سے
    غارت ہو الٰہی جو لڑے میرے چچا سے
    وہ جیتے پھریں خیر میں مرجاؤں بلا سے
    صدقے کروں قربان کروں اہل جفا کو
    دو لاکھ نے گھیرا ہے مرے ایک چچا کو
    ہے ہے کہیں اس ظلم و ستم کا ہے ٹھکانا
    سقے پہ سنا ہے کہیں تلوار اٹھانا
    کوئی بھی روا رکھتا ہے سید کا ستانا
    جائز ہے کسی پیاسے سے پانی کا چھپانا
    ہفتم سے غذا کھائی ہے نے پانی پیا ہے
    بے رحموں نے کس دکھ میں ہمیں ڈال دیا ہے
    اچھی مری اماں مرے سقے کو بلاؤ
    کہہ دو کہ سکینہؑ ہوئی آخر ادھر آؤ
    اب پانی نہیں چاہیے تابوت منگاؤ
    کاندھے سے رکھو مشک جنازے کو اٹھاؤ
    ملنے مری تربت کے گلے آئیں گے عباسؑ
    یہ سنتے ہی گھبرا کے چلے آئیں گے عباسؑ
    اس عرصہ میں حملے کئے مرحب نے وہاں چار
    پر ایک بھی اس پنچتنی پر نہ چلا وار
    مانند دل و چشم ہر اک عضو تھا ہشیار
    عاری ہوئی تلوار مخالف ہوا ناچار
    جب تیغ کو جھنجلا کے رخ پاک پہ کھینچا
    تلوار نے انگلی سے الف خاک پہ کھینچا
    غازی نے کہا بس اسی فن پر تھا تجھے ناز
    سیکھا نہ یداللٰہیوں سے ضرب کا انداز
    پھر کھینچی اس انداز سے تیغ شرر انداز
    جو میان کے بھی منہ سے ذرا نکلی نہ آواز
    یاں خوف سے قالب کو کیا میان نے خالی
    واں قالب اعدا کو کیا جان نے خالی
    یہ تیغ سراپا جو برہنہ نظر آئی
    پھر جامۂ تن میں نہ کوئی روح سمائی
    ہستی نے کہا توبہ قضا بولی دہائی
    انصاف پکارا کہ ہے قبضہ میں خدائی
    لو فتح مجسم کا وہ سر جیب سے نکلا
    نصرت کے فلک کا مہ نو غیب سے نکلا
    بجلی گری بجلی پہ اجل ڈر کے اجل پر
    اک زلزلہ طاری ہوا گردوں کے محل پر
    سیارے ہٹے کر کے نظر تیغ کے پھل پر
    خورشید تھا مریخ یہ مریخ زحل پر
    یہ ہول دیا تیغ درخشاں کی چمک نے
    جو تاروں کے دانتوں سے زمیں پکڑی فلک نے
    مرحب سے مخاطب ہوئے عباسؑ دلاور
    شمشیر کے مانند سراپا ہوں میں جوہر
    ممکن ہے کہ اک ضرب میں دو ہو تو سراسر
    پر اس میں عیاں ہوں گے نہ جوہر مرے تجھ پر
    لے روک مرے وار ترے پاس سپر ہے
    زخمی نہ کروں گا ابھی اظہار ہنر ہے
    کاندھے سے سپر لے کے مقابل ہوا دشمن
    بتلانے لگے تیغ سے یہ ضرب کا ہرفن
    یہ سینہ یہ بازو یہ کمر اور یہ گردن
    یہ خود یہ چار آئنہ یہ ڈھال یہ جوشن
    کس وار کو وہ روکتا تلوار کہاں تھی
    آنکھوں میں تو پھرتی تھی نگاہوں سے نہاں تھی
    مرحب نے نہ پھر ڈھال نہ تلوار سنبھالی
    اس ہاتھ سے سر ایک سے دستار سنبھالی
    ظالم نے سناں غصے سے اک بار سنبھالی
    اس شیر نے شمشیر شرر ہار سنبھالی
    تانی جو سناں اس نے علمدار کے اوپر
    یہ نیزا اڑا لے گئے تلوار کے اوپر
    جو چال چلا وہ ہوا گمراہ و پریشاں
    پھر زائچہ کھینچا جو کماں کا سر میداں
    تیروں کی لڑائی پہ پڑا قرعۂ پیکاں
    تیروں کو قلم کرنے لگی تیغ درخشاں
    جوہر سے نہ تیروں ہی کے پھل داغ بدل تھے
    گر شست کے تھے ساٹھ تو چلہ کے چہل تھے
    اس تیغ نے سرکش کے جو ترکش میں کیا گھر
    غل تھا کہ نیستاں میں گری برق چمک کر
    پر تیروں کے کٹ کٹ کے اڑے مثل کبوتر
    مرحب ہوا مضطر صفت طائر بے پر
    بڑھ کر کہا غازی نے بتا کس کی ظفر ہے
    اب مرگ ہے اور تو ہے یہ تیغ اور یہ سر ہے
    نامرد نے پوشیدہ کیا رخ کو سپر سے
    اور کھینچ لیا خنجر ہندی کو کمر سے
    خنجر تو ادھر سے چلا اور تیغ ادھر سے
    اس وقت ہوا چل نہ سکی بیچ میں ڈر سے
    اللہ رے شمشیر علمدار کے جوہر
    جوہر کیے اس خنجر خونخوار کے جوہر
    خنجر کا جو کاٹا تو وہ ٹھہری نہ سپر پر
    ٹھہری نہ سپر پر تو وہ سیدھی گئی سر پر
    سیدھی گئی سر پر تو وہ تھی صدر و کمر پر
    تھی صدر و کمر پر تو وہ تھی قلب و جگر پر
    تھی قلب و جگر پر تو وہ تھی دامن زیں پر
    تھی دامن زیں پر تو وہ راکب تھا زمیں پر
    ایماں نے اچھل کر کہا وہ کفر کو مارا
    قدرت نے پکارا کہ یہ ہے زور ہمارا
    حیدر سے نبیؐ بولے یہ ہے فخر تمہارا
    حیدرؑ نے کہا یہ مری پتلی کا ہے تارا
    پروانۂ شمع رخ تاباں ہوئیں زہراؑ
    محسن کو لیے گود میں قرباں ہوئیں زہراؑ
    ہنگامہ ہوا گرم یہ ناری جو ہوا سرد
    واں فوج نے لی باگ بڑھا یاں یہ جواں مرد
    ٹاپوں کی صدا سے سر قاروں میں ہوا درد
    رنگ رخ اعدا کی طرح اڑنے لگی گرد
    قاروں کا زر گنج نہانی نکل آیا
    یہ خاک اڑی رن سے کہ پانی نکل آیا
    جو زندہ تھے العظمۃ للٰلہ پکارے
    سر مردوں کے نیزوں پہ جو تھے واہ پکارے
    ڈرکر عمر سعد کو گمراہ پکارے
    خوش ہو کے علمدار سوئے شاہ پکارے
    یاں تو ہوا یا حضرت شپیر کا نعرہ
    شپیر نے ہنس کر کیا تکبیر کا نعرہ
    پردے کے قریب آ کے بہن شہ کی پکاری
    دشمن پہ ہوئی فتح مبارک ہو میں واری
    اب کہتی ہوں میں دیکھتی تھی جنگ یہ ساری
    عباسؑ کی اک ضرب میں ٹھنڈا ہوا ناری
    مرحب کو تو خیبر میں یداللہ نے مارا
    ہم نام کو ابن اسد اللہ نے مارا
    میداں میں علمدار کے جانے کے میں صدقے
    اس فاقے میں تلوار لگانے کے میں صدقے
    باہم علم و مشک اٹھانے کے میں صدقے
    اس پیاس میں اک بوند نہ پانے کے میں صدقے
    سقا بنا پیاسوں کا مروت کے تصدق
    بے سر کیا شہ زوروں کو قوت کے تصدق
    تم دونوں کا ہر وقت نگہبان خدا ہو
    دیکھے جو بری آنکھ سے غارت ہو فنا ہو
    دونوں کی بلا لے کے یہ ماں جائی فدا ہو
    رو کر کہا حضرت نے بہن دیکھیے کیا ہو
    منہ چاند سا مجھ کو جو دکھائیں تو میں جانوں
    دریا سے سلامت جو پھر آئیں تو میں جانوں
    زینبؑ سے بحسرت یہ بیاں کرتے تھے مولا
    ناگاہ سکینہؑ نے سنا فتح کا مژدا
    چلائی میں صدقے ترے اچھی مری فضا
    جا جلد بلائیں مرے عمود کی تو لے آ
    دکھ پیاس کا کہہ کر انہیں مدہوش نہ کرنا
    پر یاد دلانا کہ فراموش نہ کرنا
    لینے کو بلائیں گئی فضہ سوئے جنگاہ
    عباسؑ نے آتے ہوئے دیکھا اسے ناگاہ
    چلائے کہ پھر جا میں ہوا آنے سے آگاہ
    کہہ دینا سکینہؑ سے ہمیں یاد ہے واللہ
    دل پیاس سے بی بی کا ہوا جاتا ہے پانی
    لے کر ترے بابا کا غلام آتا ہے پانی
    دریا کو چلے ابر صفت ساتھ لیے برق
    مرحب کے شریکوں کا جدا کرتے ہوئے فرق
    سردار میں اور فوج میں باقی نہ رہا فرق
    مرحب کی طرح سب چہ ہب ہب میں ہوئے غرق
    تلوار کی اک موج نے طوفان اٹھایا
    طوفان نے سر پر وہ بیابان اٹھایا
    پانی ہوئی ہر موج زرہ فوج کے تن میں
    ملبوس میں زندے تھے کہ مردے تھے کفن میں
    خنجر کی زبانوں کو قلم کرکے دہن میں
    اک تیغ سے تلواروں کو عاری کیا رن میں
    حیدر کا اسد قلزم لشکر میں در آیا
    امڈے ہوئے بادل کی طرح نہر پر آیا
    دریا کے نگہبان بڑھے ہونے کو چو رنگ
    پہنے ہوئے مچھلی کی طرح بر میں زرہ تنگ
    کھینچے ہوئے موجوں کی طرح خنجر بے زنگ
    سقے نے کہا پانی پہ جائز ہے کہاں جنگ
    دریا کے نگہبان ہو پر غفلت دیں ہے
    مانند حباب آنکھ میں بینائی نہیں ہے
    مذہب ہے یہ کیسا کہ رہ شرع نہ جانی
    مشرب ہے یہ کیسا کہ پلاتے نہیں پانی
    بے شیر کا بچپن علی اکبرؑ کی جوانی
    برباد کیے دیتی ہے اب تشنہ دہانی
    لب خشک ہیں بچوں کی زباں پیاس سے شق ہے
    دریا ہی سے تم پوچھ لو کس پیاسے کا حق ہے
    پانی مجھے اک مشک ہے اس نہر سے درکار
    بھر لینے دو مجھ کو نہ کرو حجت و تکرار
    چلائے ستم گر ہے گزر نہر پہ دشوار
    غازی نے کہا ہاں پہ ارادہ ہے تو ہشیار
    لو سیل کو اور برق شرر بار کو روکو
    رہوار کو روکو مری تلوار کو روکو
    یہ کہہ کے کیا اسپ سبک تاز کو مہمیز
    بجلی کی طرح کوند کے چمکا فرس تیز
    اشرار کے سر پر ہوا نعلوں سے شرر ریز
    سیلاب فنا تھا کہ وہ طوفان بلا خیز
    جھپکی پلک اس رخش کو جب قہر میں دیکھا
    پھر آنکھ کھلی جب تو رواں نہر میں دیکھا
    دریا میں ہوا غل کہ وہ در نجف آیا
    الیاسؑ و خضرؑ بولے ہمارا شرف آیا
    عباسؑ شہنشاہ نجف کا خلف آیا
    پا بوس کو موتی لیے دست صدف آیا
    یاد آ گئی پیاسوں کی جو حیدرؑ کے خلف کو
    دل خون ہوا دیکھ کے دریا کی طرف کو
    سوکھے ہوئے مشکیزہ کا پھر کھولا دہانہ
    بھرنے لگا خم ہو کے وہ سرتاج زمانہ
    اعدا نے کیا دور سے تیروں کا نشانہ
    اور چوم لیا روح یداللہ نے شانہ
    فرمایا کہ کیا کیا مجھے خوش کرتے ہو بیٹا
    پانی مری پوتی کے لیے بھرتے ہو بیٹا
    کچھ فرق تری کوشش و ہمت میں نہیں ہے
    پانی مگر اس پیاسی کی قسمت میں نہیں ہے
    وقفہ مرے پیارے کی شہادت میں نہیں ہے
    جو زخم میں لذت ہے جراحت میں نہیں ہے
    اک خون کی نہر آنکھوں سے زہراؑ کے بہی ہے
    رونے کو تری لاش پہ سر کھول رہی ہے
    دریا سے جو نکلا اسداللہ کا جانی
    تھا شور کہ وہ شیر لیے جاتا ہے پانی
    پھر راہ میں حائل ہوئے سب ظلم کے بانی
    سقائے سکینہؑ کی یہ کی مرتبہ دانی
    قبریں نبیؐ و حیدرؑ و زبیراؑ کی ہلادیں
    برچھوں کی جو نوکیں تھیں کلیجے سے ملا دیں
    وہ کون سا تھا تیر جو دل پر نہ لگایا
    مشکیزے کے پانی سے سوا خون بہایا
    یہ نرغہ تھا جو شمر نے حیلے سے سنایا
    عباسؑ بچو غول کمیں گاہ سے آیا
    مڑ کر جو نظر کی خلف شیر خدا نے
    شانوں کو تہہ تیغ کیا اہل جفا نے
    لکھا ہے کہ ایک نخل رطب تھا سر میداں
    ابن ورقہ زید لعیں اس میں تھا پنہاں
    پہنچا جو وہاں سرو روان شہ مرداں
    جو شانہ تھا مشک و علم و تیغ کے شایاں
    وار اس پہ کیا زید نے شمشیر اجل سے
    یہ پھولی پھلی شاخ کٹی تیغ کے پھل سے
    مشک و علم و تیغ کو بائیں پہ سنبھالا
    اور جلد چلا عاشق روئے شہ والا
    پر ابن طفیل آگے بڑھاتان کے بھالا
    برچھی کی انی سے تو کیا دل تہہ و بالا
    اور تیغ کی ضربت سے جگر شاہ کا کاٹا
    وہ ہاتھ بھی فرزند یداللہ کا کاٹا
    سقے نے کئی بانہوں پہ مشکیزہ کو رکھ کر
    مانند زباں منہ میں لیا تسمہ سراسر
    ناگاہ کئی تیر لگے آگے برابر
    اک مشک پہ اک آنکھ پہ اور ایک دہن پر
    مشکیزے سے پانی بہا اور خوں بہا تن سے
    عباسؑ گرے گھوڑے سے اور مشک دہن سے
    گر کر لب زخمی سے علمدار پکارا
    کہہ دو کوئی پیاسوں سے کہ سقا گیا مارا
    سن لی یہ صدا شاہ شہیداں نے قضارا
    زینبؑ سے کہا لو نہ رہا کوئی ہمارا
    اصغرؑ کا گلا چھد گیا اکبرؑ کا جگر بھی
    بازو بھی مرے ٹوٹ گئے اور کمر بھی
    گویا کہ اسی وقت جلے خیمے ہمارے
    ظالم نے طمانچے بھی مری بیٹی کو مارے
    رسی میں مرے خورد و کلاں بندھ گئے سارے
    عباسؑ کے غم میں ہوئے ہم گور کنارے
    اعدا میں ہے غل مالک شمشیر کو مارا
    یہ کیوں نہیں کہتے ہیں کہ شپیر کو مارا
    زینبؑ نے کہا سچ ہے تمہیں مرگئے بھائی
    سب کنبے کو عباسؑ فنا کر گئے بھائی
    آفاق سے اب حمزہؑ حیدرؑ گئے بھائی
    ہم مجلس حاکم میں کھلے سر گئے بھائی
    میں جان چکی قید مصیبت میں پڑی ہوں
    اب گھر میں نہیں بلوے میں سر ننگے کھڑی ہوں
    ناگاہ صدا آئی کہ اے فاطمہؑ کے لال
    جلد آؤ کہ لاشہ مرا اب ہوتا ہے پامال
    زینبؑ نے کہا زندہ ہیں عباسؑ خوش اقبال
    تم جاؤ میں یاں بہر شفا کھولتی ہوں بال
    شہ بولے لب گور سکینہؑ کا چچا ہے
    اس فوج کا مارا ہوا کوئی بھی بچا ہے
    اکبرؑ کے سہارے سے چلے نہر پہ آقا
    گہ ہوش تھا گہ غش کبھی سکتہ کبھی نوحا
    لکھا ہے کہ ٹکڑے ہوئے یوں سقے کی اعضا
    اک ہاتھ تو مقتل میں ملا اک لب دریا
    زہراؑ کا پسر رن میں جو زیر شجر آیا
    اک ہاتھ تڑپتا ہوا شہ کو نظر آیا
    گر کر شہ والا نے یہ اکبر سے کہی بات
    اے لال اٹھا لو مرے بازو کا ہے یہ ہاتھ
    یہ ہاتھ رکھے سینہ پہ وہ وارث سادات
    پہنچا جو سر لاشۂ عباسؑ خوش اوقات
    ہیہات قلم تیغوں سے شانے نظر آئے
    سر ننگے یداللہ سرہانے نظر آئے
    بے ساختہ ماتھے پہ رکھا شاہ نے ماتھا
    لب رکھ کے لبوں پر کہا وا حسرت و در وا
    یہ تیر یہ آنکھ اور یہ نیزہ یہ کلیجا
    وا قرۃ عینا مرے وا مہجۃ قلبا
    کچھ منہ سے تو بولو مرے غمخوار برادر
    عباسؑ ابوالفضل علمدار برادر
    اس جاں شکنی میں جو سنا شیون مولا
    تعظیم کی نیت میں کٹے شانوں کو ٹیکا
    پھر پاؤں سمیٹے کہ نہ ہوں پائنتی آقا
    شہ بولے نہ تکلیف کرو اے میرے شیدا
    کی عرض میں پھیلائے ہوئے پاؤں پڑا ہوں
    حضرت نے یہ فرمایا سرہانے میں کھڑا ہوں
    یاں تھی یہ قیامت وہاں خیمہ میں یہ محشر
    در پر تھیں نبی زادیاں سب کھولے ہوئے سر
    تشویش تھی کیوں لاش کو لے آئے نہ سرور
    عباسؑ کا فرزند سراسیمہ تھا باہر
    تن رعشے میں خورشید درخشاں کی طرح تھا
    دل ٹکڑے یتیموں کے گریباں کی طرح تھا
    ضد کرتا تھا ماں سے مرے بابا کو بلا دو
    میں نہر پہ جاتا ہوں مرا نیمچہ لادو
    ماں کہتی تھی بابا کو سکینہؑ کے دعا دو
    بابا بھی چچا کو کہو بابا کو بھلا دو
    حیدرؑ سے نویں سال چھڑایا تھا قضا نے
    واری ترے بابا کو بھی پالا تھا چچا نے
    دریا پہ ابھی گھر گئے تھے باپ تمہارے
    پیارے کے چچا جان انہیں لینے کو سدھارے
    تو رہ یہیں اے میرے رنڈاپے کے سہارے
    بابا کو چچا جاں لیے آتے ہیں پیارے
    تھا عشق جو عباسؑ سے اس نیک خلف کو
    بڑھ بڑھ کے نظر کرتا تھا دریا کی طرف کو
    ناگاہ پھرا پیٹتا منہ کو وہ پریشاں
    زینبؑ نے کہا خیر تو ہے میں ترے قرباں
    چلایا کہ خادم کی یتیمی کا ہے ساماں
    بھیا علی اکبر نے ابھی پھاڑا گریباں
    بن باپ کا بچپن میں ہمیں کر گئے بابا
    مردے سے لپٹتے ہیں چچا مر گئے بابا
    یہ غل تھا جو مولا لیے مشک و علم آلے
    خیمہ میں کمر پکڑے امام امم آئے
    اور گرد علم بال بکھیرے حرم آئے
    زینبؑ سے کہا شہ نے بہن لٹ کے ہم آئے
    بھائی کے یتیموں کی پرستار ہو زینبؑ
    تم مہتمم سوگ علمدار ہو زینب
    ہاں سوگ کا حیدرؑ کے سیہ فرش بچھاؤ
    ہیں رخت عزا جس میں وہ صندوق منگاؤ
    دو سب کو سیہ جوڑے عزادار بناؤ
    شپر کی عزا کا ہمیں ملبوس پنہاؤ
    تم پہنو وہ کالی کفنی آل عبا میں
    جو فاطمہؑ نے پہنی تھی نانا کی عزا میں
    عباسؑ کا یہ سوگ نہیں سوگ ہے میرا
    عباسؑ کا ماتم ہو مرے گھر میں جو برپا
    نوحے میں نہ عباسؑ کہے نہ کہے سقا
    جو بین کرے رو کے کہے ہائے حسیناؑ
    سب لونڈیاں یوں روئیں کہ آقا گیا مارا
    چلائے سیکنہؑ بھی کہ بابا گیا مارا
    زینب نے کہا ہیں میری قسمت کے یہی کام
    دینے لگی ماتم کے یہ جوڑے تو وہ ناکام
    فضہ سے کہا سوگ کا کرتی ہوں سر انجام
    ٹھنڈا ہوا ہے ہے علم لشکر اسلام
    زہراؑ کا لباس اپنے لیے چھانٹ رہی ہوں
    عباسؑ کا ملبوس عزا بانٹ رہی ہوں
    پھر زیر علم فرش سیہ لا کے بچھایا
    اور بیوۂ عباسؑ کو خود لا کے بٹھایا
    تھے جتنے سیہ پوش انہیں رو کے سنایا
    قسمت نے جواں بھائی کا بھی داغ دکھایا
    ناسور نہ کس طرح سے ہو دل میں جگر میں
    ماتم ہے علمدار کا سردار کے گھر میں
    باقی کوئی دستور عزا رہنے نہ پائے
    اب خیمہ میں اپنے ہر اک اس خیمہ سے جائے
    ایک ایک یہاں پُرسے کو عباسؑ کے آئے
    سر ننگے لب فرش سے زینبؑ اسے لائے
    یہ جعفر و حمزہ کا یہ حیدرؑ کا ہے ماتم
    شپیر کا اکبرؑ کا اور اصغر کا ہے ماتم
    سب خیموں میں اپنے گئیں کرتی ہوئی زاری
    یاں کرنے لگی بین ید اللہ کی پیاری
    فضہ نے کہا زینب مضطر سے میں واری
    اے بنت علیؑ آتی ہے بانو کی سواری
    منہ زیر علم ڈھانپے علمدار کی بی بی
    پُرسے کے لیے آتی ہے سردار کی بی بی
    بانو نے قدم پیچھے رکھا فرش سیہ پر
    پہلے وہاں بٹھلا دیا اصغر کو کھلے سر
    پھر سوئے علم پیٹتی دوڑی وہ یہ کہہ کر
    قربان وفا پر تری اے بازوئے سرور
    سنتی ہوں تہہ تیغ ستم ہو گئے بازو
    دریا پہ بہشتی کے قلم ہو گئے بازو
    عباسؑ کو تو میں نہ سمجھتی تھی برادر
    میں ان کو پسر کہتی تھی اور وہ مجھے مادر
    اس شیر کے مرجانے سے بیکس ہوئے سرور
    بے جان ہوا حافظ جان علی اکبر
    سب کہتے ہیں حضرت کا برادر گیا مارا
    پوچھو جو مرے دل سے تو اکبرؑ گیا مارا
    اتنے میں سنی بالی سیکنہؑ کی دہائی
    زینب نے کہا روح علمدار کی آئی
    جوڑے ہوئے ہاتھوں کو وہ شپیر کی جائی
    کہتی تھی سزا پانی کے منگوانے کی پائی
    تعذیر دو یا دختر شپیر کو بخشو
    کس طرح کہوں میں مری تقصیر کو بخشو
    میں نے تمہیں بیوہ کیا رنڈ سالہ پنہایا
    ہے ہے مری اک پیاس نے سب گھر کو رلایا
    کوثر پہ سدھارا اسد اللہ کا جایا
    اور کنبے کا الزام مرے حصے میں آیا
    انصاف کرو لوگوں یہ کیا کر گئے عمو
    میں پیاسی کی پیاسی رہی اور مر گئے عمو
    بعد اس کے ہوا شور کہ لو آتی ہے بیوہ
    تشریف نئی بیوہ کے گھر لاتی ہے بیوہ
    گھونگھٹ کو الٹتے ہوئے شرماتی ہے بیوہ
    سر گوندھا ہوا ساس سے کھلواتی ہے بیوہ
    زینبؑ نے کہا بیوۂ فرزند حسنؑ ہے
    یہ کیوں نہیں کہتے مرے قاسمؑ کی دلہن ہے
    کبراؑ کو چچی پاس جو زینبؑ نے بٹھایا
    اس بیوہ نے گھونگھٹ رخ کبرؑیٰ سے ہٹایا
    اور پوچھا کہ دولہا ترا کیوں ساتھ نہ آیا
    افسوس چچی نے تجھے مہماں نہ بلایا
    پرسے کو تو آئی خلف شیر خدا کے
    پہلا ترا چالا یہ ہوا گھر میں چچا کے
    ناگاہ فغاں زیر علم یہ ہوئی پیدا
    سیدانیو دو مادر عباسؑ کو پرسا
    تعظیم کو سب اٹھے کہ ہے نالۂ زہراؑ
    زینبؑ نے کہا اماں وطن میں ہے وہ دکھیا
    آئی یہ ندا پاس ہوں میں دور کہاں ہوں
    عباسؑ مرا بیٹا میں عباسؑ کی ماں ہوں
    رنڈ سالہ بہو کو میں پہنانے کو ہوں آئی
    اک حُلۂ پر نور ہوں فردوس سے لائی
    عباسؑ کے ماتم کی تو صف تم نے بچھائی
    سامان سوئم ہوگا نہ کچھ اے مری جائی
    تم روز سوئم ہائے رواں شام کو ہوگی
    چہلم کو کفن لاش علمدار کو دوگی
    لو حیدریو وارد مجلس ہوئیں زہراؑ
    دو فاطمہؑ کی روح کو عباسؑ کا پرسا
    اب تک نہیں کفنائے گئے ہیں شہ والا
    بے گور ہے سردار و علمدار کا لاشا
    رونے نہیں دیتے ہیں عدو آل نبی کو
    تم سب کے عوض روؤ حسینؑ ابن علی کو
    خاموش دبیرؔ اب کہ نہیں نظم کا یارا
    مداح کا دل خنجر غم سے ہے دو پارا
    کافی پئے بخشش یہ وسیلہ ہے ہمارا
    اک ہفتے میں تصنیف کیا مرثیہ سارا
    تجھ پر کرم خاص ہے یہ حق کے ولی کا
    یہ فیض ہے سب مدح جگر بند علیؑ کا

  • کیا یہ کمپنی نہیں چلے گی؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    کیا یہ کمپنی نہیں چلے گی؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    وائٹ ہائوس کا نیا مکین کون ہوگا ؟بائیڈن یا ٹرمپ عالمی میڈیا کا تبصرہ جاری ہے,تاہم ٹرمپ کی امریکہ میں مقبولیت میں اضافہ ،بائیڈن کی جنگی پالیسیوں سے امریکی عوامی نفرت کا اظہار ہے،د وسری طرف بین الاقوامی برادری امریکی خارجہ پالیسی کی مستقبل کی سمت کے بارے میں بے تابی سے انتظار کررہی ہے، امریکہ کی خارجہ پالیسی سے انکار نہیں کیا جا سکتا ا س کے فیصلے اور اقدامات پوری دنیا میں گونجتے ہیں، امریکی خارجہ پالیسی کو سمجھنا دنیا کے رہنمائوں کے لئے بہت اہم ہے، بائیڈن اور ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی، عالمی دنیا پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ،یہ زیادہ دور کی بات نہیں،تیسری دنیا کے لئے امریکہ کی پالیسی کیا ہے اور کیا ہو گی ایک عالم گواہ ہے،

    پاکستان میں پردہ اسکرین پر جو سیاسی فلم دکھائی جا رہی ہے اس کا انجام کیا ہو گا اس کا اظہار گزشتہ روز قومی اسمبلی میں سابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کیا اور کہا کہ موجودہ شور شرابے کا انجام اچھا نہیں ہوگا، لگتا ہے یہ کمپنی زیاد دیر نہیں چلے گی،بلاشبہ راجہ پرویز اشرف نے درست ہی کہا عوام کی اکثریت سیاسی فلم تو دیکھ رہی ہے اور کھڑکی توڑ رش ہے لیکن اس سیاسی فلم کی ناکامی کے بہت سے اسباب بھی ہوں گے ، فلم میں سنجیدہ اداکار نہیں پوری فلم مزاحیہ نظر آرہی ہے، ساری سیاسی فلم میں ہیرو نام کا کوئی بندہ نظر نہیں آرہا، ایک ہیرو جیل میں، دوسرا ہیرو نواز شریف جاتی امراء میں ، تیسرا ہیرو بلاول بھٹو، ہر طرف جو کر راج کا منظر دکھائی دے رہا ہے، خدا نہ کرے یہ سیاسی فلم فلاپ ہو جائے ،یہ اپنے ساتھ پوری فلم انڈسٹری کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،

    جن سیاسی جماعتوں نے شہباز شریف کو ووٹ دیا اس کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا آنے والے کل میں بھی ساتھ رہیں گے ؟ سردست یہ دیکھنا اہم ہے کہ سانجھے کی ہانڈی میں سیاسی ابال کس حد تک آتا ہے،یہ بات طے ہے کہ ہم عوام اپنے سیاسی لیڈروں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں میں حسینی اور یزیدی ٹولے موجود ہیں جو اپنے اقتدار کی خاطر ہر حد کراس کر جاتے ، حد کراس کرنے والوں کو خدا بھی معاف نہیں کرتا ،نواز شریف نام کے بھی شریف اور بحیثیت انسان بھی شریف ہیں قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن ارکان کے لئے فرد واحد کے خلاف نعرہ بازی آپ کو کو زیب نہیں دیتی.

  • یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    اس مرتبہ کا یومِ خواتین پاکستان کے کسی بھی صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز کے نام …… جنہوں نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہی کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کا آغاز کر دیا۔ مریم نواز کی رفتار بتا رہی ہے کہ وہ بھرپور استقامت کے ساتھ اپنا آئینی سفر مکمل کریں گی اور ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تاریخ میں سرخرو بھی ٹھہریں گی۔ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے فوری بعد ہی سے مریم نواز نے جو میچور سٹارٹ لیا، وہ یقینا قابل تحسین ہے۔ منصب سے ایسا انصاف کم ہی وزرائے اعلیٰ کرتے نظر آئے ہیں۔ اسمبلی کے فلور پر ان کی طرف سے جیسے اپوزیشن کے ساتھ مثبت طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا، یہاں تک کہ خود اپوزیشن پنجوں پر گئیں اور احوال دریافت کیا، یہ بلاشبہ ان کی مہذب شخصیت کی دلیل ہے۔

    مریم نواز کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ خود کو مختلف اور منفرد کو ثابت کرتے ہوئے صحیح معنوں میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے بھی خود کو وقف کیا ہے۔ وہ پنجاب کی خواتین کی ترقی اور خود انحصاری پر فوکس کا عزم لے کر آئی ہیں۔ اس ضمن میں وہ شارپ ویژن رکھتی ہیں۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق اور چادر چار دیواری کا تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھرپور انداز میں متحرک رہیں گی۔ اس کی آڑ میں کسی بھی تنقید کو خاطر میں نہیں لائیں گی۔ اس امر کا تجربہ ہمیں گذشتہ دنوں دیکھنے کو بھی ملا جب مریم نواز نے سیف سٹی اتھارٹی کے دورہ کے دوران بریفنگ دینے والی ایک خاتون کا سر دوپٹے سے ڈھانپا اور اس پر مخالفین کی جانب سے بلا جواز تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ مریم نواز کا موقف تھا کہ کسی خاتون کا دوپٹہ ٹھیک کرنے کے عمل پر تنقید کرنے والے اپنا ظرف دکھا رہے ہیں، لیکن وہ اپنا کام کرتی رہیں گی۔

    اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے پہلے ہی ہفتے میں مریم نواز نے خواتین کو فوکس کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اٹھانے شروع کئے۔ وزارت اعلیٰ کا اعزاز پنجاب کی خواتین کے نام کرتے ہوئے انہیں ایک بہتر اور محفوظ پنجاب بنا کر دینے کا وعدہ کیا۔ اپنے منصب کو خواتین سے منسوب کرتے ہوئے ان کی ہراسمنٹ روکنے کا چیلنج لیا …… مراکز صحت کو ماں اور بچے کی صحت میں خصوصی دلچسپی لینے اور انہیں علاج کی معیاری اور بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دیں …… اسی طرح پنجاب میں گرلز ایجوکیشن کے فروغ کیلئے خصوصی کاوشوں کا اعلان کیا …… خواتین پولیس کمیونیکیشن آفیسرز کیلئے ہاسٹل بنانے …… وویمن سیفٹی ایپ کو اپ گریڈ کر کے ری-لانچ کرنے…… خواتین کو ٹرانسپورٹ کارڈز اور سکوٹیز دینے…… بڑی تعداد میں ڈے کئیر سنٹرز بنانے سمیت دیگر اعلانات و اقدامات مریم نواز کے صرف پہلے ایک ہفتے کے کریڈٹ میں شامل ہیں …… آپ مریم نواز کے ابتدائی سات دنوں کا موازنہ کسی بھی دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ سے کر لیں، اس قدر متحرک، مستعد اور کام کا دھنی چیف منسٹر کوئی نہیں پائیں گے۔ مریم نواز نے عزم کیا ہے کہ وہ تنقید اور مخالفت کے باوجود اپنا فرض ادا کرتی رہیں گی اور خدمت کر کے تمام مخالفین کو غلط ثابت کریں گی۔ مجھے یقین ہے کہ اپنے اقدامات سے وہ اپنا نام تاریخ کے ابواب میں سنہرے الفاظ کی صورت رقم کرنے میں کامیاب ٹھہریں گی۔

    آج کا یوم خواتین پنجاب کی سب سے کم عمر اے ایس پی سیدہ شہر بانو کے نام سے بھی منسوب کیا جانا چاہئے جس نے اچھرہ کے بازار میں مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک خاتون کی جان بچائی۔ اے ایس پی شہربانو نے خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے اور صنفی جرائم میں ملوث سفاک ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم کر رکھا ہے۔ ہر لحاظ سے پُرعزم شہر بانو نقوی انٹیلی جنس بیورو، پبلک مینجمنٹ اور مختلف پولیس اسٹیشنوں میں اہم عہدوں پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔ کمزور خواتین اور بچوں کی حفاظت کیلئے تحفظ مراکز، پولیس اسٹیشنوں میں ڈے کئیر سنٹر کے آغاز کی کوششیں اور پنجاب میں پہلی مرتبہ پولیس اینیمل ریسکیو سنٹر کے قیام جیسی کاوشیں شہر بانو نقوی کی خدمات میں شامل ہیں۔ اے ایس پی شہر بانو کے اچھرہ واقعہ کو سانحہ بننے سے بچانے جیسے دلیرانہ اقدام پر انہیں پولیس کی جانب سے قائد اعظم گولڈ میڈل کیلئے نامزد کر دیا گیا ہے جو کہ یقینی طور پر انہیں رواں سال میں عنایت کر دیا جائے گا، تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ آرمی چیف کو بھی ملاقات کے دوران اپنے ادارہ کے پلیٹ فارم سے ان کیلئے خصوصی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا جبکہ حکومت پاکستان کو بھی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ محض تعریفیں اور تھپکیاں انسان کی حوصلہ افزائی تو کر سکتی ہیں، مگر اس کی خدمات کے اعتراف کا حق نہیں ادا کر سکتیں …… مجھے یقین ہے کہ اس قدر عزت افزائی کے بعد بھی سیدہ شہر بانو نقوی ڈاؤن ٹو ارتھ رہیں گی اور تکبر کا شکار نہیں ہوں گی۔

    خواتین کی شراکت اور انہیں بااختیار بنائے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کی معاشرتی حیثیت مسلمہ ہے۔ ہم پُرامید ہیں کہ مریم نواز کی قیادت میں صنفی مساوات پر مبنی صوبہ تشکیل پائے گا اور پنجاب کی خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے خاتون وزیر اعلیٰ کی کاوشیں تاریخ کے یادگار عنوان کی صورت میں یاد رکھی جائیں گی

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    برطانوی ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملاقات،مبارکباد دی

  • تبصرہ کتب،نماز نبوی

    تبصرہ کتب،نماز نبوی

    نام کتاب : نماز نبوی
    مئولف : ڈاکٹر سید شفیق الرحمن ، تحقیق وتخریج ابوالطاہر زبیر علی زئی رحمہ اللہ
    ناشر : دالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    قیمت ، ایمپوڑٹڈ ایڈیشن 1150روپے ، لوکل ایڈیشن 850روپے
    نماز اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک نہایت اہم رکن ہے ‘ یہ عمل بھی ہے اور عقیدہ بھی ۔مومن کی پہچان بھی ہے اور معراج بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے اور ان (کافروں ) کے درمیان حدِ فاضل نماز ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ کفر کی طرف منسوب ہونے کے خوف سے منافقین بھی مسجد نبوی میں آکر نماز پڑھتے تھے ۔ نماز میں صرف زبان ہی اللہ رب العزت سے ہم کلام نہیں ہوتی ‘ بلکہ دل بھی اس کی بارگاہ میں تعظیم و محبت ‘ خوف و خشیت اور امید وانابت کے آداب بجالاتا ہے ۔ کسی نے خوب کہا ہے ـ: ’’ جب اللہ کی باتیں سننے کو دل چاہتا ہے تو قرآن پڑھتا ہوں جب اپنی سنانے کو دل چاہتا ہے تو نماز شروع کردیتا ہوں ‘‘ ۔ کیونکہ جب نمازی سورۃ الفاتحہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر ہر آیت کا جواب دیتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب نماز نبوی اسی موضوع پر دارالسلام کی شاہکار پیشکش ہے ۔ 380صفحات پر مشتمل اس کتاب میں نماز پنجگانہ ، نماز جمعہ ، نماز تہجد ، نماز عیدین ، نماز استسقا، سورج اور چاند گرہن کی نماز ، نماز تسبیح ، نماز اشراق ، نماز استخارہ ، نماز جنازہ اور ان سے متعلقہ تمام امور زیر بحث لائے گئے ہیں ۔ نماز کی فرضیت واہمیت ، اولاد کو نماز سیکھانے کی اہمیت ، ترک نماز کے نقصانات ، طہارت کے احکام ، نجاستوں سے پاکیزگی کیسے حاصل کی جائے ؟جنابت اور حیض سے متعلقہ احکام ومسائل ، غسل جنابت کیسے کیا جائے ؟ وضو کا مسنون طریقہ ، وضو کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے ؟ تیمم کے احکام ، نمازی کا لباس کیسا ہوناچاہئے ؟مساجد کی فضلیت اور احکام ، اوقات نماز کب شروع ہوتے اور کب ختم ہوتے ہیں ؟ نماز کے ممنوعہ اوقات کون سے ہیں ؟ اذان واقامت ،قبلہ اور سترہ ،نماز باجماعت کی اہمیت ، خواتین کا نماز کی ادائیگی کیلئے مساجد میں آنے کی شرعی اہمیت ؟ تکبیر اولیٰ سے سلام تک نماز کی مکمل ترتیب ، سجدہ سہو کابیان ، نماز کے بعد کے مسنون اذکار ، سنتوں کا بیان ، تہجد کی فضیلت واہمیت ، سفر میں نماز کیسے ادا کی جائے ؟ نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت واہمیت ؟ نماز عیدین اور ان کے احکام و مسائل ،سورج اور چاند گرہن کی نماز کا طریقہ ؟ نماز استسقا ، نماز اشراق ، نماز استخارہ ، نماز تسبیح ، نماز جنازہ کے احکام ومسائل ، بیمار پرسی کا مسنون طریقہ ، تجہیز وتکیفین کا طریقہ ۔۔۔۔ جیسے تمام اہم موضوعات زیر بحث لائے گئے ہیں ۔

    کتاب میں نماز کی اہمیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ بلاشبہ نماز ایک مکمل عبادت ہے جو بدنی ‘ قولی اور قلبی عبادات کا حسین امتزاج ہے ۔ لیکن اس کی قبولیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ادا کیا جائے ۔یہی وجہ ہے کہ نماز کے متعلق ہر کتاب کی پیشانی پر یہ حدیث نبوی ’’( نماز اسی طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھاہے ‘‘ )ضرور لکھی جاتی ہے۔ لہذا قبولیت کیلئے ضروری ہے کہ نماز سنت نبوی کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے تب ہی نماز اللہ کے ہاں قبولیت کے درجات طے کرے گی ۔ زیر نظر کتاب اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے ۔یہ کتاب گرامی قدر ڈاکٹر سید شفیق الرحمن نے ترتیب دی ہے جو جامع سلیس اور عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں احادیث رسول و آثار سے مزین ہے ۔ نماز سے متعلق تمام موضوعات کا احاطہ کئے ہوئے مبالغہ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک جامع اور مستند دستاویز ہے ۔ اس کتاب کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف اور صرف صحیح احادیث شامل کی گئی ہیں جبکہ ضعیف احادیث سے اجتناب کیا گیا ہے ۔ احادیث کی تحقیق و تخریج معروف عصر حاضر کے معروف اور محقق عالم دین حافظ زبیر علی زئی مرحوم نے کی ہے۔ نیز کتاب پر نظر ثانی کا کام بھی ثقہ علماء کرام نے نہایت محنت اور نظر عمیق سے سر انجام دیا ہے اور حسب ضرورت حواشی بھی تحریر کیے گئے ہیں ۔ ان گرامی قدر علماء میں مولانا عبد الرشید ناظم ادارہ علوم اسلامیہ جھنگ ‘ مولانا اللہ یار مدرس دار الحدیث الحمدیہ جلال پور پیرا نوالا ‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ، دارالسلام کے سینئر ریسرچ سکالر مولانا عبدالجبار شامل ہیں ۔ اس طرح سے یہ اپنے موضوع پر ایک مستند اور جامع دستاویز بن گئی ہے ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر فرد کی ضرورت ہے ۔ کتاب حاصل کرنے کیلئے کراچی میں دارالسلام مین طارق روڈ کراچی(0321-7796655) اور اسلام آباد میں دارالسلام مرکزF-8 اسلام آباد (051-2281513) پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • دوپٹہ، وزیراعلیٰ پنجاب اور لیڈی پولیس آفیسر

    دوپٹہ، وزیراعلیٰ پنجاب اور لیڈی پولیس آفیسر

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خاتون پولیس افسر کا دوپٹہ سر سے اترنے کے بعد اسے پہنا دیا،واقعہ کی ویڈیو جو وزیراعلیٰ کی میڈیا ٹیم نے بنائی وہ وائرل ہو گئی اور اس پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا،جو معاشرے میں تیزی سے پولرائزیشن کا اشارہ ہے۔

    ویڈیو کلپ کا کیپشن اسے "ہمدردی اور سمجھ ” کا لمحہ قرار دیتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مریم نواز کی ’اخلاقی پولیسنگ‘ تھی، جس میں یہ بتایا گیا کہ خواتین کو کس طرح کا لباس پہننا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ لباس پہننا ذاتی معاملہ ہے اور وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پولیس افسر کی ذاتی جگہ پر حملہ کیا۔ اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ لیڈی پولیس آفیسر نے پہلے ہی سر پر دوپٹہ پہن رکھا تھا، اور جیسا کہ یہ پھسل گیا تھا، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اسے محض ’’ٹھیک‘‘ کیا۔
    یہاں اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مریم نواز اب صرف مریم نواز نہیں رہیں۔ وہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں۔ انکے ہر عمل کو قریب سے دیکھا جائے گا، اورحامی و مخالف دونوں‌ طرح کے تجزیہ کار اس کے کاموں پر اپنی رائے دیں گے،
    The Duppata, Chief Minister Punjab & lady Police Officer
    مریم نواز کی میڈیا ٹیم نے جوش میں آ کر مریم نواز کی جانب سے خاتون پولیس افسر کے دوپٹہ درست کرنے کے لمحے کو پی آر سٹنٹ شو میں بدل دیا۔ دوسری غلطی، عنوان میں الفاظ کا چناؤ نامناسب تھا۔ اصطلاح ‘ہمدرد’ کا مطلب احساس یا ہمدردی ظاہر کرنا اور دوسروں کی مدد کرنے کی خواہش ہے، جبکہ ‘سمجھنا’ کسی موضوع یا صورتحال کے بارے میں علم ہے،ویڈیو کے تناظر میں ان اصطلاحات کا استعمال گمراہ کن تھا۔

    ذاتی طور پر،سرکاری حیثیت میں کوئی بھی جسمانی قربت انتہائی نامناسب ہے۔ جونیئر کے لباس کو درست کرنے والا سینئر، چاہے اسکی نیت کتنی ہی مثبت کیوں نہ ہو، سرکاری ماحول میں ناقابل قبول ہے۔
    اگر یہ عمل واقعی ‘ہمدردی’ تھا، تو سب سے زیادہ ہمدردانہ عمل یہ ہوتا کہ اسے سوشل میڈیا پر مکمل طور پر شیئر نہ کیا جاتا۔ حجاب کی حرمت کا احترام کیا جاتا اور پولیس افسر کے وقار کو برقرار رکھا جاتا

  • تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ایک بہترین معاشرے کی تکمیل بغیر بہترین تعلیمی نظام کے بغیر ناممکن ہے ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور جتنا زور اسلام میں تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے پہ دیا گیا ہے اتنا کسی اور مذہب میں نہیں

    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ بھی ان الفاظ سے تھی

    اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ1 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ2 اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ3 الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ4 عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ5 (العلق)

    (اے پیغمبر) پڑھ اپنے رب کے نام سے ( آغاز کرتے ہوئے) پڑھ جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ،پڑھ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا

    آپ دنیا میں نظر دوڑائیں تو آپکو وہی قوم ترقی یافتہ ملے گی جس کا تعلیمی نظام اچھا ہے وگرنہ بغیر تعلیمی ترقی کے قومیں ترقی پذیر ہی رہی ہیں جب تعلیمی نظام اچھا ہو گا تو صحت مند معاشرہ تکمیل پائے گا اوردیگر شعبہ زندگی میں خدمات سرانجام دینے والے لوگ باعمل اور محنتی ہونگے

    اس وقت دنیا بھر کے تمام ممالک میں سے خواندگی کے لحاظ سے برطانیہ پہلے امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان اس وقت 79 ویں نمبر پہ ہے

    پاکستان میں شرع خواندگی 62 فیصد ہے جو کہ انتہائی کم درجہ پہ ہے مذید ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے جی ڈی پی کا محض 1.7 فیصد تعلیم پہ خرچ کرتے ہیں جو کہ بہت ہی کم تر ہے

    پاکستان میں اس وقت خواندگی کی شرح 62.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس میں مردوں کی شرح 73.4 فیصد جبکہ خواتین کی 51.9 فیصد ہے
    ہمارے ہاں سکول نہ جانے والے بچے 32 فیصد ہیں جن میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ تعداد میں تعلیم سے محروم ہیں جو کہ سب سے بڑا المیہ ہے
    جبکہ سکول نا جانے والے بچوں کی شرح بلوچستان میں 47 فیصد ،سندھ میں 44 فیصد، خیبرپختونخوا میں 32 فیصد اور پنجاب میں 24 فیصد ہے
    ہمارے ہاں جہاں غربت و مہنگائی،بیروزگاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہیں ہمارا پرانا فرسودہ نظام تعلیم بھی ہے
    ہمارے ہاں کلاس اول کا بچہ صبح اٹھتے ہی سپارہ پڑھنے پھر 8 بجے سکول اور سکول سے واپس آتے ہی ٹیوشن میں مگن رہتا ہے جسے کھیلنے کودنے کا موقع بلکل نہیں ملتا اور اسے اپنی جسمانی و دماغی صحت کو اچھا کرنے کا موقع نہیں ملتا جس کے باعث بیشتر بچے بیمار رہتے ہیں اور تعلیم سے بھاگتے ہیں
    ہونا تو یہ چائیے کہ بطور مسلمان ملک جسطرح سکول و کالجز میں بچوں کی پڑھائی لازم ہے ایسے ہی صبح فجر کے بعد بچے کو مسجد میں ایک مستند قاری قرآن سے سپارہ پڑھنے کیساتھ نماز پڑھنے کا بھی پابند کیا جائے اور پھر سکول وقت میں اسی بچے کو لازمی طور پہ کم سے کم 30 سے 45 منٹ تک جسمانی کھیل کود کا موقع دیا جائے تاکہ اس کی جسمانی و دماغی صحت اچھی رہے اور وہ تعلیم کو تفریح سمجھ کر حاصل کرے
    مگر افسوس کہ ہمارے ہاں سب الٹ سسٹم چل رہا ہے بچوں کو رٹا لگوا لگوا کر پڑھایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ اتنے نمبر لازمی لینے ہیں چاہے جو مرضی کرو

    ہم ساری زندگی میٹرک تک بچوں کو وہ مضامین پڑھاتے ہیں کہ میٹرک کرنے کے بعد جن سے ہمارا پوری زندگی واسطہ ہی نہیں پڑتا
    جیسے کہ ریاضی کی جمع تفریق نفی کے علاوہ جو کچھ سکھلایا جاتا ہے میرا نہیں خیال کے زیادہ تر وہ ہماری زندگی کا حصہ بنا ہو
    مطلب بےمقصد پڑھائی پہ ہم اپنا سارا ٹائم لگا دیتے ہیں

    پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی خاطر میٹرک تک یکساں تعلیمی نظام ہونا چائیے جس میں میٹرک تک تعلیم کا سارا خرچ گورنمنٹ برداشت کرے
    جنرل سائنس ( آرٹسٹ) گروپ ختم کرکے میٹرک تک سائنس لازمی قرار دی جائے جس میں بچے کو اول کلاس سے میٹرک تک دین اسلام کیساتھ اپنی صحت بارے زیادہ سے زیادہ تعلیم دی جائے
    کلاس اول سے میٹرک تک کے نصاب میں فرسٹ ایڈ،تیراکی،نشانہ بازی،سیلف ڈیفنس،زراعت،الیکٹرک و آٹو مکینک جیسے مضامین شامل کئے جائیں تاکہ ایک بچہ اپنے بچپن سے نوجوانی تک میٹرک کا طالب علم پہنچتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے استعمال کی ہر چیز کی ابتدائی مہارت رکھتا ہو
    اس کے بعد اگر اس بچے کا دل آگے پڑھنے کو کرے تو اس کو اپنی مرضی کا شعبہ چننے کا مکمل اختیار دیا جائے بلکہ ماہر نفیسات سے اس کا سیشن کروا کر اس کا ذہن پڑھ کر اسے اس کے پسندیدہ شعبے میں تعلیم کا پورا موقع دیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو باپ اسے وکیل بنانا چاہتا ہے مگر ماں اسے پائلٹ بننے کا عندیہ دیتی ہے تو اس ساری صورتحال اور ماں باپ کی خواہشات میں وہ بچہ ذہنی کشیدگی کا شکار ہو کر تعلیم سے دور ہو جاتا ہے بجائے کچھ بننے کے وہ اس معاشرے پہ بوجھ بن جاتا ہے
    ہمارے ہاں سب سے بڑی خرابی بچوں کو سکولوں میں سہولیات نا دینا ہے جیسے کہ گرمی میں بچے بغیر پنکھے کے پڑھتی ہیں اور سردی میں سرد ہوا کا مقابلہ کرتے ان کا ذہن پڑھائی کی بجائے موسم سے زور آزمائی میں ہوتا ہے اگر سکولوں میں زیادہ چھٹیوں کی بجائے موسم کے مطابق سہولیات جیسے اے سی و پنکھے وغیرہ دی جائیں تو بچے پڑھائی میں زیادہ توجہ دیں گے
    ہمارے ہاں اشرافیہ کیلئے آئے روز نئی سے نئی ٹیکنالوجی بیرون ممالک سے لا کر دی جاتی ہے حتی کہ ایک آفیسر کیلئے اس کی چھتری پکڑنے والا الگ ملازم دیا جاتا ہے مگر سکولوں میں سہولیات نہیں جس کے باعث اس پرانے فرسودہ نظام تعلیم سے کافی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا
    اگر ملک کو شاہراہِ ترقی پہ ڈالنا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کرنا ہو گا

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی وژنری ترجیحات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی وژنری ترجیحات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی وژنری ترجیحات
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفٰے بڈانی
    پنجاب میں مسلم لیگ(ن)کی حکومت بن چکی ہے اور واضح اکثریت سے مریم نواز شریف وزیراعلی منتخب ہونے کے بعد عوامی مشکلات کیلئے متحرک ہوگئی ہیں،عوام اور صوبے کی ترقی کیلئے ان کی ترجیحات عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے ،صحت اورتعلیم کے ساتھ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے جو حکمت عملی طے کی گئی ہے، اس سے پنجاب میں خوشحالی کے سنہری دورکاآغاز ہوچکاہے ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے وزارت اعلیٰ کاحلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے بڑے اقدام،نگہبان رمضان پیکیج کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے جس میںمستحقین کو راشن بیگ گھر کی دہلیزپرملیں گے، نگہبان رمضان پیکج کیلئے 10کلو آٹے کے تھیلے پرسابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی تصویر کا لوگو بنایاگیاہے۔پروگرام نگہبان کے تحت رجسٹرڈ گھرانوں کو رمضان راشن بیگ دیے جائیں گے، پنجاب بھر سے 70 لاکھ خاندان رمضان راشن بیگ سے مستفید ہونگے۔

    اس کے علاوہ ویراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے غریب عوام کیلئے شمسی توانائی کے منصوبے کااعلان کیا ہے جس سے عوام کو بجلی کے زیادہ بلوں سے نجات ملے گی اور صنعتکاروں،تاجروں اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور سرخ فیتے کے خاتمے کیلئے ون ونڈو منصوبے کا اعلان خوش آئند ہے۔

    نومنتخب وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف بڑی محنت اور جانفشانی کیساتھ ہنگامی بنیاد وں پر عوام کو گذشتہ سالہاسال سے درپیش اہم مسائل مہنگائی سمیت دیگر عوامی فلاحی ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ تعلیم وصحت کے علاوہ پڑھے لکھے بیروزگارنوجوانوں کیلئے بہتر حکمت عملی سے تعلیم کیساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کئے جائینگے تاکہ تعلیم کے حصول کے بعد انہیں بیروزگاری کو سامنانہ کرناپڑے،پنجاب میں عوام دوست حکمت عملی اور قائدانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر سابقہ حکومتوں کی بہ نسبت بہتر ریلیف محسوس کرینگے، جبکہ عوام کودرپیش اہم مسئلہ بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ کو بھی کافی حد تک کنٹرول کرکے خصوصی ریلیف دیاجائے گا جس سے عوام کی مشکلات میں کمی واقع ہوگی۔

    اس کے علاوہ نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ لاہور میں پاکستان کا پہلا جدید ترین کینسر کا سرکاری ہسپتال بنایا جائے گا،کینسر ہسپتال سٹیٹ آف دی آرٹ ہوگا جہاں تمام مریضوں کا بلاتفریق مفت علاج ہوگا

    نومنتخب وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں پارٹی منشور پر عمل درآمد کا اعلان کرتے ہوئے صوبے کے عوام کے لیے بے تحاشا فلاحی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ان کی تقریر کے اہم نکات جس میں انہوں نے کہا کہ جن مخالفین نے ہم پر ظلم کے پہاڑتوڑے ان سے انتقام نہیں لوں گی،یہ ایوان جمہوریت کے اصولوں پر کاربند رہے گا،اپوزیشن کے لیے میرے آفس، دل اور چیمبر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں،رمضان کے لیے نگہبان کے نام سے ریلیف پیکیج بنایا ہے جو مستحق افراد کو گھر کی دہلیز پر ملے گا،رمضان میں سستے بازار بھی قائم کیے جائیں گے،عوا م کو قطاروں میں کھڑا دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے،

    انہوں نے کہا کہ پارلیمانی میٹنگ میں کہہ چکی ہوں کہ کرپشن پر میری زیرو ٹالیرنس ہے،پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس آج سے شروع ہوں گے۔مسلم لیگ (ن) کی وزیراعلی نہیں پنجاب کے 12کروڑ عوام کی وزیراعلی ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میرے سامنے آج ہر وہ ماں اور بچہ ہے جو غذائی کمی شکار ہیں،آج میرے سامنے کسان ہے جس کی محنت سے معیشت چلتی ہے،آج میرے سامنے سڑک کنارے کھڑے بے روزگار مزدور ہیں،میرے سامنے بے روزگار نوجوان اور یتیم بچے ہیں جو ریاست کی ذمے داری تھے،عوام کے مسائل کو سامنے رکھ کر ایجنڈا ترتیب دیا ہے، آج سے عمل شروع ہوگا،حلف اٹھانے کے بعد سے منشور پر عمل درآمد شروع ہوگا۔میرا وژن ہے کہ پنجاب کو بزنس حب بنائیں،حکومت کا کام کاروبار نہیں پالیسی بنانا اور کاروبار کرنے والوں کو اچھا ماحول دینا ہے،چاہتی ہوں ایسا نظام لائوں جس سے کاروباری افراد کو سہولتیں ملیں،کوشش ہے کہ عوام سے رابطے کے لیے ہیلپ لائنز کھلی ہوں،

    ہر پروجیکٹ پر عوامی فیڈ بیک اور تجاویز سنوں گی،60 ہزار روپے سے کم آمدنی والے مستحقین ہیں، ان کی مدد ہم پر فرض ہے،ابھی ہمارے پاس تمام مستحقین کا ڈیٹا نہیں، ڈیٹا فراہم کرنے کا کہا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا کہناتھا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور ٹیلیٹس دیں گے،نوجوانوں اور طلبہ کے لیے انٹرن شپ پروگرام لائیں گے،پولیس اور دیگر اداروں کو کہا کہ انٹرن شپ پروگرام بڑھائیں،محدود وسائل میں کچھ بچوں کو دنیا کی معروف یونیورسٹیوں میں تعلیم دلائیں گے،وزیراعلی ہائوس اور دفاتر کے دروازے طلبہ کے لیے کھلے ہوں گے،میرا خواب ہے کہ پنجاب کا میرا کوئی بچہ سکول سے باہر نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ چاہتی ہوں بچوں کو سکول میں اچھا ماحول اور تعلیم ملے،طلبہ اور نوجوانوں کو الیکٹرک موٹر بائیکس دیں گے،پبلک پرائیویٹ پارنٹر شپ میں سکولوں کو اساتذہ اور وسائل فراہم کریں گے،ٹیچرز ٹریننگ پروگرام شروع کریں گے، نئے اساتذہ بھی شامل کریں گے،بھٹے میں کام کرنے والے مزدور بچوں کے تعلیمی وظائف بحال کریں گے۔

    ان کا کہناتھا کہ چاہتی ہوں کہ ہر ضلع میں ایک دانش سکول ضرور ہو،سرکاری سکولوں کا نصاب بہتر کرنے کی ضرورت ہے،سکلز ڈویلپمنٹ کی اپ گریڈیشن پر بھی خصوصی توجہ ہوگی،وقت پر تشخیص ہو تو بہت سارے خصوصی بچے معذوری سے بچ سکتے ہیں،پنجاب کے ہر ضلع میں خصوصی بچوں کو تعلیم، علاج اور ٹرانسپورٹ فراہم کریں گے،ہر شہر میں اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال بنائیں گے تاکہ کوئی علاج کے لیے دوسرے شہر نہ جائے،سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں آج سے مفت ادویات دینا شروع کریں گے،بنیادی صحت مراکز میں ڈاکٹرز کی موجودگی یقینی بنائی جائے گی۔

    بہت سارے واقعات میں لوگ بروقت ہسپتال نہ پہنچنے سے جاں بحق یا معذور ہو جاتے ہیں، بہت جلد ایئر ایمبولینس سروس شروع کریں گے،موٹروے پر جلد ایمبولینس سروس سسٹم شروع کریں گے،بیماری کی بروقت اسکریننگ ہو تو علاج آسان ہوجاتا ہے، آبادی کی اسکریننگ کریں گے۔

    نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا کہناتھاکہ ہیلتھ کارڈ کرپشن کا شکار ہوا، ری ڈیزائننگ کرکے دوبارہ لے کر آئیں گے،زچہ بچہ کے لیے سہولیات کی فراہمی پوری توجہ ہوگی،خواتین کے لیے بہتر اور محفوظ پنجاب بنانا چاہتی ہوں،خواتین کے لیے مختص ہیلپ لائن بنائیں گے،چاہتی ہوں لڑکیوں کو بھی موٹر بائیکس اور اسکوٹی ملے،کسی خاتون کو ہراساں کرنا میری ریڈ لائن ہے۔

    وزریراعلی پنجاب نے کہا کہ اقلتیں ہمارے سروں کا تاج ہیں، ان کے لیے محفوظ پنجاب اور پاکستان دیکھنا چاہتی ہوں،ٹرانسجیڈرز کو جلد عزت والا روزگار فراہم کریں گے،چاہتی ہوں ہر یونین کونسل میں ایک گرائونڈ ہو جہاں بچے کھیل سکیں،بچوں کے لیے کھیلتا پنجاب کا پروگرام شروع کریں گے،وژن ہے کہ ڈیجیٹل پنجاب بنائیں تاکہ انتظار اور قطاروں سے جان چھڑائیں،پاسپورٹ سمیت 43 بنیادی خدمات کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کاکہناتھا کہ پہلے مرحلے میں 10 بنیادی خدمات گھروں کی دہلیز پر پہنچائیں گے،وژن ہے کہ 5 سال بعد کوئی ایسی سڑک نہ ہو جو خراب ہو،شہباز شریف کے پکی سڑکیں منصوبے کو آگے لے کر جائیں گے،تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں میٹروبس منصوبے شروع کریں گے،جنوبی پنجاب پر میری خصوصی توجہ ہوگی،پولیس کا رسپانس ٹائم 20 منٹ سے بھی کم کریں گے

    انہوں نے کہاکہ چاہتی ہوں کہ پورے پنجاب میں مساوی ترقی ہو،الیکٹرک بسوں کے لیے چارجنگ پوائنٹس پلان کر رہے ہیں،محفوظ پنجاب میرا خواب ہے، سیف سٹی بننے کے بعد لاہور میں 20 فیصد جرائم کم ہوئے،ایسا سیف سٹی سسٹم لائیں گے جس سے ٹریفک مینجمنٹ بھی آسان ہو،تھانہ کلچر بہتر بنائیں گے، خود تھانے کا دورہ کروں گی، ماڈل ویمن پولیس اسٹیشن بنائیں گے،جیل میں طبی سہولتوں کی فراہمی بھی ترجیح ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ زرعی مشینری رعایتی نرخ پر فراہم کریں گے،زراعت میں زیادہ توجہ چھوٹے کسان پر ہوگی،کسان کو جو مشینری چاہیے پنجاب حکومت اس کے لیے ون ونڈو آپریشن شروع کرے گی،کسان کو بہتر بیج اور کھاد فراہم کریں گے،
    لائیو اسٹاک کے لیے خصوصی پیکیج لا رہے ہیں، لوگوں کو مویشی فراہم کریں گے جہاں ضرورت ہوئی مفت دیں گے۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کہا کہ آسان قسطوں پر 300 یونٹ سے کم والے بجلی صارفین کو سولر سسٹم دیں گے،بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے ٹیمیں بٹھا دی ہیں، کوشش کریں گے کہ عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دیا جا سکے،اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے،صاف ستھرا پنجاب اسکیم کے تحت اضلاع کے درمیان مقابلے کا رجحان پیدا کیا جائے گا،آلودگی سے نجات کے لیے ٹیمیں بٹھا دی ہیں،اوورسیز پاکستانیوں کے لیے زمین کے کاغذات وغیرہ کے لیے سسٹم بنائیں گے،ہم 5 سال بعد آپ کو بہتر پنجاب دے کر جائیں گے

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ چاہتی ہوں کہ میڈیا کی سیفٹی، سیکیورٹی، ہیلتھ انشورنس اور میڈیا ورکرز کے بچوں کی کفالت ہوسکے،ایک ماہ کا وقت دیا ہے کہ مجھے کہیں بھی کچرا یا غلاظت کا ڈھیر نظر نہ آئے،وعدہ کرتی ہوں کہ محنت اور توجہ عوام پر وقف ہوگی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اپنے پہلے خطاب میں اپنی حکومت کی جو ترجیحات واضح کی ہیں اس سے مریم نوازشریف کی قیادت میں پنجاب صحیح معنوں میں ترقی کی روشن منزلوں پر رواں ہوجائیگا اور عوام مشکلات کے سابقہ ادوار کو بھول جائیں گے اورمریم نوازشریف کا نام بطوروزیراعلیٰ پنجاب تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوجائے گا !

  • اوچ شریف:اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی

    اوچ شریف:اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں،جو قومیں اپنی ثقافت، تہذیب کو بھلا دیتی ہیں وہ تاریخ سے ہی مٹ جاتی ہیں

    ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ قبیلہ کے عامل صحافی ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی بلوچ ،شمس خان رند بلوچ ،اجمل خان بلوچ، ساجد خان بلوچ ،مجتہد رضوی ۔حفیظ خان بلوچ، آمنہ نذر بلوچ کا بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معاشرتی نا ہمواریوں کے خاتمے کے لئے قوموں کا اتحاد نا گزیر ہو چکا ہے ۔

    انہوں نے بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر بلوچی پگڑ ی پہن کے ثقافتی ریت بحال رکھی۔ان کا مزید بلوچ قبیلہ کے تعارف میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچ کے لفظی معنی”بلند تاج”کے ہیں ۔ بلوچ نسلاََ عرب ہیں تاہم بلوچ کو مختلف ادوار میں مختلف قوموں نے بعل، بلوص، بلوس ، بلوث اور بلوچ لکھا ۔ اہل بابل اپنے قومی دیوتا کوبعل یعنی عظیم کہا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں لفظ بلوچ فارسی سے مشہور ہوا۔

    انہوں نے کلچر ڈے کے موقع پر پوری بلوچ قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی اور اب وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچ قوم اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے اتحاد قائم کریں اور اپنے کلچر کو فروغ دیں۔