Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم دفاع ،سوشل میڈیا اور مہنگائی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    یوم دفاع ،سوشل میڈیا اور مہنگائی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پوری قوم نے یوم دفاع منایا یہ دن شہیدوں کا دن ہے کل بھی یوم دفاع تھا جس کو چھ ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور آج بھی یوم دفاع ہے۔ وطن عزیز اور قوم کی سلامتی کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے سرحدوں پر قربانیاں دے رہے ہیں۔ بھارت آج کے اس ایٹمی طاقت کے حامل ملک اور پاک فوج اور اس کے جملہ اداروں کی بدولت فوجی جارحیت نہیں کرسکتا اس نے دوسرا محاذ کھول دیا ہے جسے سوشل میڈیا کہا جاتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں آج بھی میر جعفر اور میر صادق جیسے کردار موجود ہیں تاہم ہمارے قومی ایمان کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک ہمارا دشمن زندہ ہے ہمارا یوم دفاع بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔

    بلاشبہ اس وقت مہنگائی اپنے عروج پر ہے سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ چینی اگر مہنگی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ میں کون ملوث ہے؟ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں عوام کو جوابدہ ہیں اور بیوروکریسی بھی جوابدہ ہے؟ کیا شوگر ملیں عام آدمی کی ہیں؟ کیا ڈالر کی اسمگلنگ میں عام آدمی ملوث ہے؟ ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کا مقروض عوام نے بنایا ہے؟ ہرگز نہیں اس میں بڑے بڑے صنعتکار‘ سرمایہ دار اور ان کے ہم پیالہ بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں اور سیاستدان بھی۔ قارئین کو یاد ہوگا سابق صدر جنرل پرویز مشرف مرحوم کے دور حکومت میں وکلاء کی ایک تحریک شروع ہوئی جس کو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سینئر وکلاء نے قیادت کی تھی اور دلفریب نعرہ تھا ریاست ہوگی ماں جیسی کیا پھر اس دلفریب نعرے پر کسی نے عمل کیا؟ اسی طرح سیاسی جماعتیں الیکشن کرائو کا نعرہ لگاتی رہیں کیا سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے کبھی جمہوریت کو مستحکم کیا؟۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی۔ قانون کی حکمرانی کے لئے کوئی عملی اقدامات کئے؟ اقتدار میں آکر ملکی وسائل پر توجہ دی؟ عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دی ریاست کو درپیش مسائل پھر توجہ دی گئی؟ آئین پاکستان گلہ کرے تو کس سے کرے۔ حصول اقتدار اور کون بنے گا وزیراعظم کی جنگ سیاسی جماعتوں کے درمیان دوبارہ شروع ہوچکی ہے۔ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی بدولت آج پاکستان اور عام آدمی بھگت رہا ہے۔ اس میں ہماری سول بیوروکریسی بھی شامل ہے۔ ذمہ داران ریاست نے گزارش ہے کہ بہت ہوچکا۔ بقول ساغر صدیقی
    چراغ طور جلائو بڑا اندھیرا ہے
    ذرا نقاب اٹھائو بڑا اندھیرا ہے
    وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں انہیں کہیں سے بلائو بڑا اندھیرا ہے۔
    فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارا کہیں سے ڈھونڈ کے لائو بڑا اندھیرا ہے۔

  • بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز

    بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلوچستان کی پہلی خاتون آفیسرز کا اعزاز بہت سی باصلاحیت خواتین کو حاصل ہے جن میں بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر کا منفرد اور قابل فخر اعزاز محترمہ عائشہ زہری ، بلوچستان کی پہلی خاتون میڈیکل سپرنٹنڈنٹ و پہلی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر D H O کا منفرد اعزاز ڈاکٹر رخسانہ مگسی صاحبہ کو حاصل ہے جبکہ بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز محترمہ پری گل ترین کو حاصل ہے وہ بلوچستان کی پہلی پی ایس پی کرنے والی خاتون پولیس آفیسر ہیں انہیں 2021 میں کوئٹہ میں بحیثیت ASP تعینات کیا گیا جس سے انہیں بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے جبکہ سب انسپکٹر محترمہ صوبیہ خانم کو 2022 میں کوئٹہ کینٹ پولیس تھانہ کی S H O مقرر کیا گیا جس سے انہیں بلوچستان کی پہلی خاتون S H O کا منفرد اعزاز حاصل ہو گیا اور یہ دونوں خواتین پولیس افسران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہیں ۔

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    حال ہی میں خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی پی ایس پی آفیسر محترمہ فریال فرید صاحبہ کو بلوچستان میں پہلی خاتون S S P کا منفرد اعزا حاصل ہوا ہے جن کی تقرری بطور ایس ایس پی جعفر آباد میں ہوئی ہے ان کی گفتگو اور عزم سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہاں بحیثیت خاتون ایس ایس پی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی ۔ بلوچستان میں مختلف شعبوں میں بہت سی دیگر خواتین افسران بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انشاء الله ان کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

  • فرانس کے افریقہ کے ساتھ ناکام تعلقات

    فرانس کے افریقہ کے ساتھ ناکام تعلقات

    فرانس انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دائرے کار میں، برکینا فاسو اور مالی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کو مزید آگے بڑھا رہا ہے، جس کی وجہ سے حال ہی میں دونوں ممالک سے فرانسیسی فوجیوں کا انخلا ہوا۔ بہت سے لوگوں نے فرانس کی جانب سے اپنی سابق کالونیوں پر دباؤ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
    جنوری 2023 میں، برکینا فاسو نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے ذریعہ فرانسیسی فوجیوں کو اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کی اجازت دی تھی۔ ویگنر گروپ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے، جو کہ ایک روسی نجی ملٹری کمپنی ہے، جس کے روسی حکومت سے تعلقات ہیں، فرانس کے ساتھ معاہدے کی تحلیل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    مالی میں ویگنر گروپ کی کارروائی، سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ میں اس کے پہلے کی کارروائیوں کی عکاسی کرتی ہے، جو افریقی ریاستوں کے لیے تیار کردہ اسٹریٹجک منصوبہ کو ظاہر کرتی ہیں۔ روس، ویگنر گروپ کے ساتھ، پسندیدگی حاصل کر رہا تھا کیونکہ فرانسیسی فوج مطلوبہ رفتار سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جدوجہد میں ناکام رہی۔ نئے شراکت داروں کی تلاش کی خواہش باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے، اپنی سابقہ کالونیوں کے تئیں فرانس کے سمجھے جانے والے تکبر سے پیدا ہوئی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ فوجی مدد حاصل کرنے اور سونے کی کانوں جیسے قیمتی وسائل پر کنٹرول دینے کا عمل منفرد نہیں ہے، کیونکہ یہ فرانس سمیت دیگر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
    آج چین افریقی ممالک کے اقتصادی اور تجارتی منظرنامے میں ایک غالب قوت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ تاہم، چین کی شمولیت کے حوالے سے سوالات باقی ہیں، جن میں "قرضوں میں پھنسی معیشتوں” کی ممکنہ تخلیق کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
    افریقی ریاستیں اپنی مخلوط معیشتوں پر فخر کرتی ہیں، اور انہیں کڑی مشکلات کا سامنا ہے، پھر بھی 2023-24 میں ان کی متوقع ترقی کے بارے میں پرامید ہے، جو دنیا کی دوسری تیز ترین شرح شمار ہوتی ہے۔ ایک امید افزا اشارہ، ملازمت کی تخلیق میں اضافہ، پیداوار میں اضافہ، نئی صنعتوں کا ابھرنا، اور صارفین کی قوت خرید میں اضافہ ہے۔ مثلا، جنوبی افریقہ نے 2023 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 784,000 ملازمتوں (5.0%) میں قابل ذکر اضافہ کیا۔ان پیش رفتوں کی روشنی میں، افریقہ تیزی سے عالمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے

  • مفت مشورے باعث عذاب ہیں جناب

    مفت مشورے باعث عذاب ہیں جناب

    مفت مشورے باعث عذاب ہیں جناب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    آج کل جہاں مہنگائی بے روزگاری نے لوگوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے وہاں مفت مشورے بھی زندگیاں مشکل بنا رہے ہیں خاص طور پہ طبی معاملات میں مفت مشورے ہمارے معاشرے میں بہت سا بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور صحت پہ برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں آج کل حالات یہ ہیں کہ ڈاکٹر،طبیب کے پاس خود دوائی لینے آیا بندہ دوسرے سے پوچھ رہا ہوتا ہے کہ بھئی آپ کو کیا مسئلہ ہے، اگلا اپنا مسئلہ بتاتا ہے تو فوری اس کو اپنی طرف سے دیسی ٹوٹکہ یا کوئی دوائی بتا دی جاتی ہے کہ تم یہ کر لو تم ٹھیک ہو جاؤ گےسوچنے کی بات ہے اگر تم اتنے ہی صاحب علم ہو تو خود ڈاکٹر طبیب کے پاس کیوں آئے ؟

    میں بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایسے مشوروں کو اسلام کی رو سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا،جس شخص نے علم کے بغیر فتویٰ دیا تو اس کا گناہ اس فتویٰ دینے والے پر ہے، اور جس شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ بھلائی و بہتری اس کے علاوہ کسی دوسری صورت میں ہے، تو اس نے اس سے خیانت کی۔
    (ابو داؤد)

    ایسے مشوروں کے نفع اور نقصان بارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی ایک اور حدیث پیش خدمت ہےحضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے تو ہمارے ایک ساتھی کو پتھر لگ گیا جس کی وجہ سے اس کے سر میں زخم آ گیااتفاق سے اسے احتلام ہوا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ آیا میرے لئے کوئی گنجائش ہے کہ میں غسل کرنے کے بجائے تیمم کر لوں؟

    انہوں نے جواب دیا، ہم تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے ( یعنی غسل کرنا پڑے گا) جبکہ تجھے پانی کے استعمال پر قدرت حاصل ہے، چنانچہ اس نے غسل کر لیا پھر وہ فوت ہو گیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایاانہوں نے( مشورہ دینے والے ساتھیوں نے) اسے قتل کر ڈالا، اللہ انہیں ہلاک کرے، انہوں نے اس مسئلہ کے متعلق پوچھ کیوں نہ لیا جبکہ انہیں علم نہیں تھا، بلاشبہ عاجز او ردرماندہ انسان کی شفا؟؟ کر لینے میں ہے-

    خود ہی اندازہ کر لیں کہ علم کے بغیر کسی کو دینی و دنیاوی اور خاص کر کسی کی صحت بارے مشورہ دینا کتنا بڑا فریضہ ہے اور بغیر علم کے بہت بڑا گناہ بھی ہے اسی لئے اگر آپ کو خالصتاً علم ہے تو کسی کو کوئی مشورہ دیں وگرنہ خاموش رہیں کیونکہ خاموشی بھی ایک عبادت ہے

    آج کل نوجوان نسل بچے بچیاں ان مشوروں کا شکار ہو کر اپنی جوانیاں برباد کر رہے ہیں مثال کے طور پہ نئے جوان ہونے والوں کو جسم پہ دانے نکلتے ہیں تو ان کو بغیر علم کے گرمی تاثیر کی چیزوں سے روک دیا جاتا ہے کہ آپ نے انڈہ نہیں کھانا حالانکہ دانے نکلنا اتنا مسئلہ نہیں جتنا انڈے سے حاصل ہونے والے وٹامن دی سے محروم رہنا ہے نیز انڈے کیساتھ کچھ اور گرم تاثیر چیزوں سے بہت دور کر دیا جاتا ہے جیسے کہ مچھلی،مرغی کا گوشت،السی کے بیج،خشک میوہ جات،پالک وغیرہ-

    یہ چیزیں کم گرم ضرور ہیں مگر ان کی کمی سے الزائیمر،مالیخولیا،ڈپریشن،ڈیمنیشیا کی بیماریاں جنم لیتی ہیں جو کہ جان لیوا ہیں اسی طرح کسی کو بلغ آتی ہے یا پھر ہلکی سی سردی شروع ہو گئی ہے تو سرد مزاج چیزوں سے روک دیا جاتا ہے جیسے کہ لیموں، مالٹا، کینو، مسمی ،آلو بخارے کا پانی وغیرہ ان چیزوں سے وٹامن سی ملتا ہے اور وٹامن سی کی کمی سے جلد کی بیماریاں،دل کی بیماریاں،پھپھڑوں کی بیماریاں معدے میں خشک اور قبض جیسی پیچیدہ بیماریاں جنم لیتی ہیں-

    اس لئے خداراہ کبھی بھی کسی کو اس وقت تک کوئی بھی مشورہ نا دیں تب تک کہ آپکو اس پہ عبور حاصل نا ہو وگرنہ یاد رکھیں آپ کے مشورے سے کسی کی صحت خراب ہوئی تو قصور وار اور گناہگار آپ بھی ہیں اس کی مثال اوپر رقم حدیث سے ثابت ہے-

  • شکریہ پی ٹی آئی،امریکہ پاکستان کے فنڈز بند کرے گا؟

    شکریہ پی ٹی آئی،امریکہ پاکستان کے فنڈز بند کرے گا؟

    2023 میں، پاکستان تحریک انصاف نے واشنگٹن میں ایک پی آر فرم کی خدمات حاصل کیں، تحریک انصاف کی جانب سے یہ الزام لگایا کہ امریکی حکومت کی جانب سے سائفر کے ذریعے ان کی حکومت کو گرانے کی ہدایت کی گئی جس کی وجہ سے ان کی حکومت غیر مستحکم ہو گئی ہے ، یہ متنازعہ مسئلہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی دونوں کے لئے قانونی کارروائی کا باعث بنا ہے۔ پی آر فرم Praia Consultants LLC واشنگٹن میں قائم ادارہ ہے،جس نے چھ ماہ کی مدت کے لیے $8,333 ماہانہ کی شرح سے معاہدہ کیا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد رائے عامہ پر اثر و رسوخ حاصل کرنا ہے

    تحریک انصاف کی جانب سے امریکہ میں پی آر فرم ہائر کرنے کے فیصلے کے نتائج اب عوام کے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں پی ٹی آئی کی کوششوں کے ابتدائی نتائج کو ظاہر کیا گیا تھا۔ سجاد برکی نے ایک ٹویٹ میں کانگریس مین گریگ کیسر کی میزبانی کرنے پر طارق مجید کا شکریہ ادا کیا۔ اس ملاقات کے دوران کانگریس مین کیسر نے پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی حمایت کا وعدہ کیا۔ برکی کے ٹویٹ میں یہ بھی روشنی ڈالی گئی کہ بلنکن ایک ایسے بل کی مشترکہ سرپرستی کر رہا ہے جس کا مقصد فوجی امداد کو ملک میں انسانی حقوق کے حالات سے جوڑنا ہے۔

    sajjad bark

    2 ستمبر 2023 کو ڈان اخبار نے رپورٹ کیا کہ ٹینیسی کے ریپبلکن اینڈی اوگلس نے ایوان نمائندگان کی سالانہ تخصیصی قانون سازی میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ مجوزہ ترمیم کسی بھی "سیاسی اختلاف کے خلاف کریک ڈاؤن” کی حوصلہ شکنی کے ارادے سے پاکستان کے فنڈز میں کمی کی کوشش کرتی ہے۔

    کانگریس کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو سراہا نہیں جا سکتا، چاہے بل پاس ہو یا نہ ہو۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نے گرمجوشی اور تناؤ دونوں کے ادوار کا تجربہ کیا ہے، جو کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سے جاری چیلنج میں ختم ہوا۔

    ہلیری کلنٹن پاکستان میں امریکی مداخلت کے حوالے سے اپنے تحفظات کے بارے میں آواز اٹھاتی رہی ہیں، جیسا کہ درج ذیل ویڈیو میں ثبوت ہے:

    آج پاکستان کے قریبی اتحادی امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کی وجہ سے دو طرفہ تعلقات کو مزید پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ مزید برآں، تعلقات کو پاکستان کے موجودہ "پولی کرائسس” کو نیویگیٹ کرنا چاہیے، جس کی خصوصیات اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی چیلنجز ہیں۔ {رائے}

    بہت سے پاکستانیوں میں امریکہ مخالف جذبات بہت گہرے ہیں، اور ان جذبات کا علما کرام نے فائدہ اٹھایا اور حال ہی میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس میں شدت پیدا کی۔ امریکہ کے لیے یہ نازک وقت ہے کہ وہ اس خطے میں اپنے اقدامات اور پالیسیوں پر احتیاط سے غور کرے۔

    جیسا کہ جغرافیائی سیاسی منظر نامے کا ارتقا ہو رہا ہے، دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کثیر الجہت مسائل کو حل کرنے کے لیے امریکی براہ راست مداخلت کے بغیر تعمیری بات چیت اور سفارتی امور میں مشغول ہوں،

  • کبھی سوچئے گا ، تحریر:سرفراز ملک

    کبھی سوچئے گا ، تحریر:سرفراز ملک

    کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک بھی کویڈ کے دوران گھٹنوں پر آگئے تھے لیکن پاکستان پر خدا کی رحمت تھی ۔ ایکسپورٹس اور ریمیٹینسسز بھی ترقی کررہی تھیں اور ساتھ ساتھ دنیا کی بہترین فلینتھراپی کے ماڈل کو بھی عالمی یونیورسٹیوں میں سراہا جارہا تھا تو پناہ گاہیں اور صحت کارڈز بھی چل رہے تھے ۔ کموڈیٹی سوپر سائیکل کہ جس میں عالمی منڈی 40 سالہ بلند مہنگائی کی سطح پر تھی اور اس مہنگائی نے لازما ایمپورٹس کے ساتھ ملک میں داخل بھی ہونا تھا اور روپے پر پریشر بھی اسی تناسب سے آنا تھا مگر ایمپورٹس مکمل طور پر کھُلی ہوئی تھیں لیکن ڈالر کا ریٹ بھی مارکیٹ بیسڈ تھا۔ معیشت بھی 6% سے ترقی کررہی تھی اور چند چند ماہ میں او آئی سی کے دو دو اجلاس بھی پاکستان میں ہورہے تھے ۔ محمد بن سلیمان جیسے شہنشاہ بھی پاکستان آرہے تھے اور بل گیٹس جیسے لوگ بھی عام مہمانوں کی طرح آتے تھے۔ ماحولیات میں بھی دنیا تعریف کررہی تھی اور میڈ ان پاکستان کی بھی خبریں آتی تھیں۔ ٹیکسٹائل والے بھی ٹارگٹس کے مطابق نتائج دے رہے تھے تو سٹارٹ اپس اور آئی ٹی سیکٹر کی کونپلیں بھی پھوٹ رہی تھیں۔ کارپوریٹس بھی تاریخی بُلند منافع کمارہی تھیں تو روزگار کی شرح بھی تاریخی بلند اور ٹارگٹ کے مطابق تھی ۔ عالمی منڈی میں بانڈز بھی بیچے جارہے تھے اور ڈیفالٹ سواپ اور کریڈٹ ریٹنگ بھی بالکل ٹھیک تھی ۔

    اس سب کے بعد کہ الیکشن سے ڈیڑھ سال پہلے کہ جس کے لئے کوئی بھی حکومت پلان کرکے بیٹھی ہوتی ہے اسمیں اس سے کرسی چھین لی گئ ۔ اس دن سے جیسے اس ملک میں سے برکت ہی اُٹھ گئی ۔ ہر قدم غلط پڑا ۔ ہر پلاننگ ناکام ہوئی ۔ پے در پے مصائب اس طرح یکے بعد دیگرے ٹوٹتے چلے گئے جیسے فرعون کے مصر میں ایک ایک کرکے یکے بعد دیگرے مصائب نازل کیے جاتے تھے ۔ امن اور اطمینان تھا جو خوف اور بھوک میں ڈھلتا چلا گیا۔ پچہتر سال سے پردے کے پیچھے کُچھ نہ کُچھ ہوتا رہتا تھا لیکن فیس سیونگ کے ساتھ ایگزیکیوٹ ہوجاتا تھا ۔ مگر اب یہ سب کُچھ اتنا واضح ہوکر سامنے آگیا کہ دہائیوں کوٹ ہوتا رہے گا۔

    سوچئے کہ یہ سب کُچھ الٹ کیوں ہوگیا ؟ کموڈیٹی سوپر سائیکل دنیا میں ختم ہوگیا لیکن یہاں افراط زر سوپر سائیکل کے دور کے مقابلے بھی 3 گُنا بڑھ گیا۔ ماحولیات کا تو لفظ بولنا ہی ایسا ہے جیسے کسی زلزلے کے عین دوران گھر سے باہر آجانے کی بجائے سب کو شجر کاری کی بحث پر بات کرنے کے لئے آواز دینا۔ ڈیڑھ سال سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے جو گہرے سے گہرا ہوتے ہر چیز پر چھاتا چلا جارہا ہے۔

    کبھی سوچئے کہ وہ ساری برکتیں یکدم کیوں اُٹھ گئیں ؟ اُمیدیں کیوں ایک دم مایوسیوں میں بدل گئیں ؟ کوئی تو تھا جسکی قدرت بھی قدر دان تھی ۔ آخر کون تھا کہ جس کی قدرت عالمی آفت کے دوران بھی اکرام کررہی تھی ؟ آخر ہم نے کسی کی تو بے قدری کی کہ اب قدرت ہماری بے قدری کررہی ہے ؟ سوچئے گا ۔ خدا کی برکت اور لعنت کی زمین پر عملداری سے دلچسپی ہوئی تو ضرور سوچئے گا۔

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    پاک بحریہ کی ساتویں کثیرالقومی بحری مشق امن 2021 کا آغاز

    پاک بحریہ کے زیر اہتمام گوادر میں مقامی بچوں کے لیے سیلنگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا

  • ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    غلام محمد قاصر

    تاریخ پیدائش: 4 ستمبر 1944
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ایک خوب صورت شاعر ًغلام محمد قاصر 4 ستمبر 1944 میں پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے پہاڑپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین شعری مجموعے تسلسل ، آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے اور دریائے گماں شائع ہوئے جنہوں نے سنجیدہ ادبی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی حاصل کی اور قاصر کو جدید اردو غزل کے نمائندہ شعراء میں ایک منفرد مقام کا حامل قرار دیا گیا۔ ان کا تمام شعری کلام جس میں مذکورہ بالا تینوں مجموعے اور غیر مطبوعہ و غیر مدون کلام شامل ہے۔ کلیاتِ قاصر (اک شعر ابھی تک رہتا ہے ) کے عنوان سے 2009ء میں شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے متعدد ڈرامے اور پروگرام لکھے جو ناظرین و سامعین میں بے حد مقبول ہے۔ قاصر کا تحریر کردہ ڈراما سیریل تلاش اور بچوں کے لیے کھیل بھوت بنگلہ نے خاص طور پر بہت مقبولیت حاصل کی۔ قاصر نے پاکستان کے کچھ اہل قلم پر عمدہ مضامین رقم کیے۔ پاکستان اور بیرون ملک پاکستان منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت بھی کی۔ جبکہ این ڈبلیو ایف پی ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے ساتویں ، گیارہویں جماعت کے لیے نصاب مرتب کیا۔

    ملازمت
    گورنمنٹ ہائی اسکول پہاڑ پور سے میٹرک کرنے کے بعد اسی اسکول میں بطور ٹیچر تقرری ہوئی ۔ تاہم ملازمت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ طور پر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقوں میں تدریس کے شعبے سے منسلک رہے۔ 1975ء میں بطور لیکچرار پہلی تقرری گورنمنٹ کالج مردان میں ہوئی۔ اس کے بعد سپیرئیر سائنس کالج پشاور ، گورنمنٹ کالج درہ آدم خیل ، گورنمنٹ کالج پشاور، گورنمنٹ کالج طورو اور گورنمنٹ کالج پبی میں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔

    شاعری کا آغاز
    اسی دوران کہیں سے شعر کی چنگاری پھوٹی جس نے بالآخر پورے ملک میں ان کے نرالے طرزِ ادا کے شعلے بکھیر دیے۔ حتیٰ کہ 1977ء میں جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’تسلسل‘ شائع ہوا تو اس کے بارے میں ظفر اقبال جیسے لگی لپٹی نہ رکھنے والے شاعر نے لکھا کہ میری شاعری جہاں سے ختم ہوتی ہے قاصر کی شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے۔
    ساٹھ کی دہائی کے اواخر کی بات ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک عظیم الشان کل پاکستان مشاعرہ منعقد ہوا جس میں اس دور کے اکثر نامی گرامی شعرا نے حصہ لیا، جن میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، محبوب خزاں وغیرہ شامل تھے۔

    مشاعرے کے آغاز ہی میں ایک نوجوان شاعر کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی۔ ایک چوبیس پچیس سالہ دبلے پتلے اسکول ٹیچر نے ہاتھوں میں لرزتے ہوئے کاغذ کو بڑی مشکل سے سنبھال کر ایسے لہجے میں غزل سنانا شروع کی جسے کسی طرح بھی ٹکسالی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ لیکن اشعار کی روانی، غزلیت کی فراوانی اور خیال کی کاٹ ایسی تھی کہ بڑے ناموں کی باری کے منتظر سامعین بھی نوٹس لینے پر مجبور ہو گئے۔
    جب نوجوان اس شعر پر آئے تو نہ صرف گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شعرا یک لخت اٹھ بیٹھے اور بلکہ انھوں نے تمام سامعین کی آواز میں آواز ملا کر وہ داد دی کہ پنڈال کی محاوراتی چھت اڑ گئی۔ شعر تھا:

    تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ میخانے کا پتہ
    ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے
    لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے؟ اس سوال کا جواب غزل کے آخری شعر میں شاعر نے خود ہی دے دیا:
    کون غلام محمد قاصر بیچارے سے کرتا بات
    یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے
    قاصر نے روایت اور کلاسیکی زبان کا دامن تھامے رکھا۔ تاہم انھوں نے روایت میں بھی جدت اور ندرت کا مظاہرہ کیا ہے۔
    میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
    روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
    گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے
    اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے
    احمد ندیم قاسمی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ’جب کوئی سچ مچ کا شاعر بات کہنے کا اپنا سلیقہ روایت میں شامل کرتا ہے تو پوری روایت جگمگا اٹھتی ہے۔
    نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
    جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
    اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے
    ان کی وسعتِ نظر ایسی ہے جو انسانی نفسیات کی اتھاہ گہرائیوں میں کمال سہولت سے اتر جاتی ہے:
    کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا
    پہلے اِک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا
    کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
    تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے

    قاصر کے ہاں روایت اور جدت کے امتزاج کی ایک اور مثال یہ ہے کہ وہ اساطیری روایات کو پلٹ کر انھیں نیا رنگ عطا کر دیتے ہیں، اور ہزاروں بار سنی ہوئی بات بھی اچھوتی ہو جاتی ہے:
    بیکار گیا بن میں سونا میرا صدیوں کا
    اس شہر میں تو اب تک سِکہ بھی نہیں بدلا
    آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں
    ہم عبث طور اٹھا لائے ہیں
    پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
    لاکھ دجلے بنا فرات بنا
    یوں تو قاسمی، ظفر اقبال، احمد فراز، قتیل شفائی، شہزاد احمد، صوفی تبسم، رئیس امروہوی جیسے کئی مشاہیر نے قاصر کی ستائش کی ہے، لیکن مشہور کالم نگار منو بھائی نادانستگی میں اپنے ایک کالم میں قاصر کا یہ شعر میر کے نام سے نقل کر گئے:
    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
    کسی بھی نئے یا پرانے شاعر کو اس سے بڑھ کر داد نہیں دی جا سکتی۔
    وفات
    تین ماہ تک جگر کے سرطان میں مبتلا رہنے کے بعد غلام محمد قاصر 20 فروری 1999 کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔

  • بھاگ بھری حکومتیں اور حافظ عوام

    بھاگ بھری حکومتیں اور حافظ عوام

    بھاگ بھری حکومتیں اور حافظ عوام

    از قلم غنی محمود قصوری

    کسی گاؤں میں ایک نابینا شحض رہتا تھا جو صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا مگر نابینا ہونے کے باعث اس کی شادی نہیں ہو رہی تھی اس نابینا شحض کو لوگ ،حافظ، کہا کرتے تھےحافظ خوبصورت گھبرو جوان تھا مگر ستم ظریفی کہ بینائی نا ہونا شادی میں رکاوٹ تھی،اسی گاؤں میں ایک شحض رہتا تھا جس کی جوان لڑکی تھی جسے کوڑھ کا مرض تھا ماں باپ نے بیٹی کا نام ،بھاگ بھری، رکھا تھابھاگ بھری بھی بیماری کے باعث شادی سے محروم تھی-

    اللہ رب العزت نے کوئی انسان ناکارہ اور بدصورت نہیں بنایا پھر بھی ہر کسی کی اپنی اپنی پسند ہوتی ہے کسی کو کوئی چہرہ پسند ہے تو کسی کو کوئی اسی باعث بھاگ بھری اور حافظ دونوں کنوارے تھے حالانکہ جیتے جاگتے اچھے بھلے انسان تھے مگر شادی سے محروم
    لڑکی کے والد نے گاؤں کے چند معتبر لوگوں سے صلاح مشورہ کیا اور نابینا حافظ کے پاس اپنی بیٹی کا رشتہ لے کر پہنچا اور اسے کہا کہ تم خوبصورت گھبرو جوان ہو نمازی بھی ہو مگر تم کو کوئی اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دے رہا میری ایک جوان بیٹی ہے جو کہ بہت خو بصو رت ہے اسی لئے ہم نے اس کا نام بھاگ بھری رکھا ہے تم اس سے نکاح کر لو تمہار بھی گھر بس جائے گا-

    نابینا حافظ خوش ہو گیا کہ اس کا گھر بس جائے گا اور ایک خوبصورت دوشیزہ اس کی بیوی بنے گی مقررہ وقت پہ دونوں کا نکاح کر دیا گیا تو کچھ لوگوں نے نابینا حافظ کو طعنے مارنے شروع کر دیئے کہ تم خوبصورت ہو مگر تمہاری بیوی بہت بدصورت حافظ نے اپنی بیوی سے کہا کہ لوگ ایسے کہتے ہیں اپنا گھر بچانے کی خاطر شاطر بھاگ بھری نے کہا کہ سرتاج کیا آپکو میرے والد اور گاؤں کے ان معتبر بندوں پہ اعتبار نہیں کہ جو میرا رشتہ طے کرنے ائے تھے؟

    میں تو اتنی خوبصورت ہوں کہ روز اچھے سے اچھے رشتے آتے تھے مگر میرا والد نیک دل ہے اس نے تمہارا دین سے پیار دیکھا اور میری شادی تم سے کر دی ورنہ میں تو اتنی حسین و جمیل ہوں کہ دور دیہات کے گاؤں تک میرے حسن کے چرچے ہیں اگر تمہیں پھر بھی یقین نہیں تو دعا کرو اللہ تمہیں دیکھنے کی طاقت دے تو پھر اپنی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لینانابینا حافظ مطمئن ہو گیا اور دن رات رب سے اپنی بینائی کی دعائیں کرنے لگا-

    حافظ کی دعائیں رنگ لائیں اور گاؤں میں آنکھوں کا ایک ڈاکٹر آیا حافظ اس کے پاس پہنچا ڈاکٹر نے چیک اپ کرکے کہا کہ مکمل تو نہیں مگر تمہاری بینائی اتنی واپس ا جائے گی کہ تم لوگوں کو قریب سے دیکھ سکو گے اور اس آپریشن کا خرچ 5 ہزار روپیہ ہو گا حافظ خوشی سے جھومتا گھر پہنچا اور اپنی بھاگ بھری کو خوش خبری سنائی اور سارا قصہ بیان کیا-

    بات سن کر بھاگ بھری سہم گئی کہ میں تو بدصورت ہوں اور اسے بہت خوبصورت بتلایا ہے اگر اس نے مجھے دیکھ لیا یہ تو مجھے طلاق دے گا سو بھاگ بھری فوری اسی ڈاکٹر کے پاس پہنچی اور اسے کہا کہ میرا گھر اجر جائے گا تم 5 ہزار کی بجائے 10 ہزار مجھ سے لو اور حافظ کا آپریشن نا کرنا بلکہ اسے ٹرخا دینا-

    سو ڈاکٹر نے بھاگ بھری سے پیسے لئے اور حافظ کو اگلی بار جانے پہ ٹرخا دیا مذکورہ بالا واقعہ ہمارے ملک پہ بلکل فٹ ہوتا ہے عوام بینائی سے محروم حافظ ہے اور بھاگ بھری سے بدصورت کریہہ ناک حکمران جو عوام کو بڑے پیارے پیارے سبز باغ دکھلاتے ہیں اور اپنی کمائی کا گھر بسائے ہوئے ہیں اور عوام کو الجھا کر رکھا ہوا ہے کہ عوام بینائی پا کر ان کا اصل چہرہ نا دیکھ لے-

    اگر عوام نے ان کا پروٹوکول ،ان کی مراعات ان کی شاہ خرچیاں سچ مچ دیکھ لیں تو عوام ان کو طلاق یعنی ان کا بائیکاٹ کرے گی سو اسی لئے یہ لوگ جب خود اقتدار میں ہوتے ہیں تو دوسروں پہ کیس بناتے ہیں اور اپنے اقتدار کی مہنگائی کو بھی خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں اور اقتدار سے جاتے ہی مہنگائی کا رونا روتے ہیں اور خود اپنے اوپر کرپشن کے بنے کیسوں پہ روتے ہیں-

    بھاگ بھری سے ساز باز کرنے والا کردار ہماری میڈیا اور ادارے کرتے ہیں جو ان کے گند کو قلاقند ثابت کرتے رہتے ہیں یہ نظام بہت کریہہ ناک اور گندہ ہو چکا ہے ویسے تو قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی مہنگائی نے زور ڈالنا شروع کر دیا تھا مگر تاریخ پاکستان گواہ ہے کہ 2008 سے زرداری دور میں مہنگائی کچھ ابھری اور 2018 تک ن لیگ کی گورنمنٹ میں اوپر آئی مگر 2018 سے عمران خان کے دور حکومت میں جو رفتار مہنگائی نے پکڑی اس کو مذید ہوا شہباز شریف نے دی اور مذید چیخیں لوگوں کی نکلوائیں مگر اس سے بھی زیادہ نگران گورنمنٹ کاکڑ نے لوگوں کو زندہ درگور کر دیا تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈر بھاگ بھری ہیں اور عوام حافظ،-

    اللہ اس قوم کو کوئی اچھے مخلص نا بکنے والا ڈاکٹر نصیب فرمائے جو قوم کی بینائی کا ایسا آپریشن کرے کہ اس قوم کو بھاگ بھری کا اصل چہرہ نظر آئے،آمین

  • مسلمان اور سائنس ، تحریر:حیدرعلی صدّیقی

    مسلمان اور سائنس ، تحریر:حیدرعلی صدّیقی

    مسلمان اور سائنس کا رشتہ بہت قدیم سے قائم ہے، ایک وقت تھا جب مسلمان علم و تحقیق کے میدان میں سب سے بڑھ کر تھے، جب ان کو علم و فکر کا جنون کے حد تک شوق تھا تب علوم و فنون اور سائنسی تجربات کے میدان میں ان کا کوئی مقابل نہیں تھا۔ دنیا میں سب سے پہلے درسگاہیں مسلمانوں نے ہی قائم کیے، اس وقت انھی درسگاہوں سے ماہر علماء، حاذق اطباء، محققین اور ایسے سائنسدان نکلے جنھوں نے علمی و تحقیقی میدان میں امت مسلمہ کا لوہا منوایا۔ اور اقوام عالم کی خدمت و سہولت کے لیے ایسے ایسے تجربات اور ایجادات کیں کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔ ایسے ایسے مقالات (Theses) کتابیں اور تحریریں لکھے کہ آئندہ کی نسلوں کے لیے ایک ذخیرہ جمع ہوگیا، جس کا اقرار غیر مسلم بھی کرچکے ہیں۔
    عصر حاضر میں مسلمان مایوسی، احساس کمتری اور لاعلمی کا شکار ہے، انھیں دنیا کے سارے ایجادات و تجربات مغربی دنیا کی مرہون منت نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کا سائنس میں کوئی بھی کارنامہ نہیں ہے۔ ایسے باتیں عام طور ان لوگوں سے سننے کو ملتی ہیں جو ذہنی طور مغرب سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور یہی تصور لاعلم اور متعصب تعلیم یافتہ مغربی افراد کے ہاں بھی پایا جاتا ہے کہ وہ اسلام کو ایک تنگ نظر، نسل پرست اور غیر سائنسی مذہب قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اگر ہم تعصب کا عینک اتار کے تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں مسلمان نہ صرف سائنسدان گزرے ہیں بلکہ سائنس اور سائنسی تجربات و مشاہدات کے اصل خالق و موجد ہی مسلمان تھے۔ جنھوں نے اپنے علم و تحقیق سے یہ مشقت طلب کارنامہ سر کیا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ موجودہ دور کے مسلمان علم و تحقیق اور مطالعہ کے کمی کے وجہ سے مسلمان سائنسدانوں سے لاعلم ہیں، علم و تحقیق کا شوق مسلمانوں میں آج نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور اسی طرح وہ مغرب کے طرف سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ اس لیے ضروری سمجھا کہ چند ایک مسلمان سائنسدانوں کا تذکرہ ہوجائے تا کہ مسلمان اپنے ہیروز کو پہچانے اور مغرب کے تعصب زدہ پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوجائیں۔ مسلمان سائنسدانوں کی فہرست اور انکا تذکرہ بہت طول طلب موضوع ہے جو ایک کالم یا مضمون میں سمیٹنا مشکل ہے۔ چند مشہور مسلمان سائنسدان مندرجہ ذیل ہیں:۔

    ٭ جابر بن حیان: ان کے نام سے ہر کوئی واقف ہے، عالمی شہرت کے حامل ایک عظیم سائنسدان ہیں۔ مغربی و مشرقی سائنسدانوں کے ہاں مقبول اور علم کیمیائی کے ماہر ہیں۔ آپ کی مہارت فن و خدمات کے صلے میں آپ کو بابائے کیمیا (Father of chemistry) بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی ایجادات و تحقیقات میں آکسیڈیشن (Oxidation)، بخارات (Evaporation)، عمل کشید یعنی بخارات کو مائع اور مائع کو بخارات میں تبدیل کرنے کا اہم کیمیا اور گندھک کے تیزاب (Sulfuric Acid) جیسی ایجادات شامل ہیں۔

    ٭ ابوالقاسم زَہراوی: ابوالقاسم زَہراوی اَندلس میں پیدا ہوئے تھے، آپ ایک بلند پایہ سائنٹسٹ تھے۔ سرجری کے آلات (Surgical Instruments) آپ ہی کی ایجاد کردہ ہیں۔ پوری دنیا میں استعمال ہونے والے آج کل کے سرجیکل آلات کم و بیش وہی ہیں جو آپ نے ایجاد کیے تھے۔

    ٭ ابوبکر محمد بن زکریا رازی: آپ اپنے عصر کے بہت بڑے محقق، طبیب اور ڈاکٹر تھے۔ جراثیم اور انفیکشن کے درمیان تعلق آپ ہی نے معلوم کیا۔ الکوحل اور ایتھانول (Ethanol) آپ ہی کی ایجادات ہیں۔

    ٭ ابن سینا: آپ کے نام سے کون واقف نہیں! آپ علم طبیعیات (Physics) کے ماہر سائنسدان تھے۔ روشنی کے رفتار کی حدود کو سب سے پہلے آپ نے بیان کیا۔ انسانی آنکھ کی رگوں اور پٹھوں کی تفصیل سب سے پہلے آپ نے پیش کی۔ زہرہ سیارے کو آپ نے بغیر کسی آلے کے دیکھا تھا۔ سمندر میں پتھر کیسے بنتے ہیں اور سمندری مردہ جانوروں کی ہڈیاں کیسے پتھروں میں تبدیل ہوتے ہیں؟ یہ بھی آپ نے معلوم کیا۔

    ٭ ابن الہیثم: علم بصریات (Optics) کے ماہر سائنسدان تھے، آپ نے علم بصریات میں جامع کتاب ”کتاب المَناظر“ لکھ دی۔ آتشی شیشے (Burning Glass) اور کروی عدسے (Spherical Lens) آپ نے بنائے۔ آپ ہی کی تحقیق کی بنیاد پر مائیکرو سکوپ اور ٹیلی سکوپ کی ایجاد ممکن ہوئی۔ دنیا کا سب سے پہلا کیمرا پن ہول کیمرا (Pin Hole Camera) اور اسی طرح دنیا کا پہلا کیمرہ آبسکیورہ (Camera Obscura) ابن الہیثم کی ایجاد کردہ ہیں۔ فوٹوگرافرز کہتے ہیں کہ روشنی جس سوراخ سے تاریک کمرے میں داخل ہوتی ہے وہ سوراخ جتنا چھوٹا ہوگا اتنی ہی تصویر عمدہ بنے گی، یہ تحقیق بھی ابن الہیثم کی ہے۔

    ٭ عبدالمالک اصمعی: اصمعی نامور سائنسدان گزرے ہیں، آپ علم حیاتیات (Biology) اور علم حیوانات (Zoology) کے ماہر محقق و سائنسدان تھے۔ زولوجی کے موضوع پر آپ نے پانچ کتابیں لکھی ہیں، جنھیں زولوجیکل سائنس میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بالترتیب آپ کی پانچ کتابوں کے نام یہ تھے: اونٹ، گھوڑا، بھیڑ بکریاں، جنگلی درندے اور تخلیق انسانی۔

    ٭ محمد بن موسی خوارزمی: آپ کا تعلق عراق سے تھا، الجبرا (Algebra) کے ماہر سائنسدان تھے اور اس موضوع پر دنیا کی پہلی کتاب ”الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلة“ خوارزمی نے لکھی ہے۔ اس کتاب میں آپ نے صفر سے 9 تک ہندسے بھی پیش کیے تھے، اس سے پہلے لوگ ہندسوں کے بجائے حروف کا استعمال کرتے تھے۔

    ٭ حسن الرماہ: آپ شام کے نامور سائنسدان تھے، ملٹری ٹیکنالوجی (Military Technology) پر آپ نے سن 1280ء میں کتاب لکھی تھی، جس میں آپ نے راکٹ کا ڈائی گرام پیش کیا تھا۔ اس کتاب میں آپ نے گن پاؤڈر بنانے کے اجزائے ترکیبی بھی بیان کیے تھے۔

    ٭ ابواسحاق زرقالی: آپ اندلس کے مشہور سائنسدان گزرے ہیں، آپ ستاروں کی مشخص (اسٹرونامیکل آبزرور، Astronomical Abserver) سائنسدان تھے۔ آپ نے ایک اصطرلاب بنایا تھا جس سے سورج کی گردش و حرکت کا مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔ آپ نے سب سے پہلے تحقیق کرکے یہ انکشاف کیا تھا کہ آسمانی کرے بیضوی مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ اور یہ اعتراف غیرمسلم سائنسدان کیپلر (Kepler) نے صدیوں بعد کیا تھا۔

    مسلمان سائنسدانوں اور انکی تحقیقات و ایجادت کی فہرست طویل ہے، یہ چند نام بطور ”مشت از نمونہ خروارے“ کے پیش خدمت ہیں۔ تا کہ مسلمان اپنے محسن اور ہیروز سے آگاہ ہوجائے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی اور مایوسی کا شکار نہ ہوجائے۔ متعصب لوگوں نے بہت ہی چالاکی سے یہ تاثر دنیا کو دیا ہے کہ مسلمان سائنس کو نہیں مانتے اور نہ ان کے پاس کوئی سائنسی تحقیق موجود ہے۔ یہ بات بعید از عقل ہے کہ ایک بندہ اپنے ہی تحقیق و ایجاد کو نہ مانے۔ مغربی دنیا اور لبرلز کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا سائنس میں صفر کارگردگی بھی نہیں ہے، تو ان متعصبین کو تعصب سے پرے ہو کر پتہ ہونا چاہیے کہ جس صفر کا تم مسلمانوں کو طعنہ دے رہے ہو یہی صفر بھی مسلمان سائنسدان خوارزمی ہی کی ایجاد ہے۔

  • کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    ہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    سیلم احمد

    اردو زبان میں سلیم احمد جیسے شاعر اور ادیب کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو ادب کے لئے اس طرح وقف کردیا ہو کہ کبھی کبھی دھوکا ہونے لگتا ہو کہ وہ گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ مجسمہ ٔ خیال ہوں۔ ایسے ہی ایک شاعر اور ادیب سلیم احمد بھی تھے۔ جناب سلیم احمد27 نومبر1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں ان کے تعلقات پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے استوار ہوئے جو دم آخر تک قائم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔ جناب سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔ سلیم احمد کی وجۂ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ اور جن کی صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔ سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اورپاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی تحریر کی جس پرانہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔ ٭یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق اور تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔
    ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:
    اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا۔
    روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے۔

    سیلم احمد کی چند منتخب غزلیں

    غزل

    نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    افق پہ دیکھنا تھا میں قطار قازوں کی
    مرا رفیق کہیں دور جانے والا تھا

    مرا خیال تھا یا کھولتا ہوا پانی
    مرے خیال نے برسوں مجھے ابالا تھا

    ابھی نہیں ہے مجھے سرد و گرم کی پہچان
    یہ میرے ہاتھوں میں انگار تھا کہ ژالہ تھا

    میں آج تک کوئی ویسی غزل نہ لکھ پایا
    وہ سانحہ تو بہت دل دکھانے والا تھا

    معانی شب تاریک کھل رہے تھے سلیمؔ
    جہاں چراغ نہیں تھا وہاں اجالا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    بیٹھے ہیں سنہری کشتی میں اور سامنے نیلا پانی ہے
    وہ ہنستی آنکھیں پوچھتی ہیں یہ کتنا گہرا پانی ہے

    بیتاب ہوا کے جھونکوں کی فریاد سنے تو کون سنے
    موجوں پہ تڑپتی کشتی ہے اور گونگا بہرا پانی ہے

    ہر موج میں گریاں رہتا ہے گرداب میں رقصاں رہتا ہے
    بیتاب بھی ہے بے خواب بھی ہے یہ کیسا زندہ پانی ہے

    بستی کے گھروں کو کیا دیکھے بنیاد کی حرمت کیا جانے
    سیلاب کا شکوہ کون کرے سیلاب تو اندھا پانی ہے

    اس بستی میں اس دھرتی پر سیرابیٔ جاں کا حال نہ پوچھ
    یاں آنکھوں آنکھوں آنسو ہیں اور دریا دریا پانی ہے

    یہ راز سمجھ میں کب آتا آنکھوں کی نمی سے سمجھا ہوں
    اس گرد و غبار کی دنیا میں ہر چیز سے سچا پانی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    دیدنی ہے ہماری زیبائی
    ہم کہ ہیں حسن کے تمنائی

    بس یہ ہے انتہا تعلق کی
    ذکر پر ان کے آنکھ بھر آئی

    تو نہ کر اپنی محفلوں کو اداس
    راس ہے ہم کو رنج تنہائی

    ہم تو کہہ دیں سلیمؔ حال ترا
    کب وہاں ہے کسی کی شنوائی

    اور تو کیا دیا بہاروں نے
    بس یہی چار دن کی رسوائی

    ہم کو کیا کام رنگ محفل سے
    ہم تو ہیں دور کے تماشائی

    وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے
    ان کی شہرت ہے میری رسوائی

    معتقد ہیں ہماری وحشت کے
    شہر میں جس قدر ہیں سودائی

    عشق صاحب نے دل پہ دستک دی
    آئیے مرشدی و مولائی

    یہ زمانے کا جبر ہے کہ سلیمؔ
    ہو کے میرے بنے ہیں سودائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔
    .
    بشکریہ ، عامر شیرازی

    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی