Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    کبھی ترے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا
    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    اصلی نام :سلمہ اعجاز
    قلمی نام:سلمیٰ حجاب
    تاریخ ولادت:15 ستمبر 1949
    ء

    نام سلمہ اعجاز: قلمی نام :سلمہ حجاب۔ پیدائش 15 ستمبر 1949 ۔ وطن۔ لکھنؤ، تعلیم: فلسفے میں ایم ۔اے اور بی ۔ایڈ۔ پہلا شعری مجموعہ ’’دھنک‘‘اور دوسرا’’اسماں اور بھی ہیں‘‘ ’’تیسرا زیر ترتیب ہے۔ ’’بزم اردو‘‘ لکھنو، کی پانچ سال صدر رہیں اورپروفيسر ملک زادہ منظور احمد کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ’’امکان‘‘ لکھنؤ سے مسلسل دس برسوں تک معاون اور نائب مدیر کی حیثیت سے منسلک رہیں اور ان کے انتقال کےبعد 2017 میں ’’امکان‘‘ کا ایک خصوصی شمارہ، پروفيسر ملک زادہ منظور احمد نمبر نکالنے کے بعد ادارت سے دستبردار ہو گئیں۔ شاعری کے علاوہ افسانے اور مضامین بھی لکھتی ہیں جومعروف ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کبھی تیرے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا
    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا
    نیا آرزو کا مزاج ہے نئے دور کی ہیں رفاقتیں
    تری قربتوں کا جو زخم تھا تری دوریوں نے مٹا دیا
    مجھے ہے خبر تجھے عشق تھا فقط اپنے عکس جمال سے
    کہ میں گم ہوں تیرے وجود میں مجھے آئینہ سا بنا دیا
    میں حصار میں تو حصار میں اسی سلسلے کو دوام ہے
    کبھی مصلحت نے جدا کیا تو کبھی غرض نے ملا دیا
    سبھی کہہ رہے ہیں یہ برملا جو گزر گیا وہی خوب تھا
    ابھی ایک پل جو ہے آسرا اسے سب نے یوں ہی گنوا دیا
    وہ شرر ہو یا کہ چراغ ہو ہے تپش مزاج میں اے حجابؔ
    کبھی ہر نفس کو جلا دیا کبھی روشنی کو بڑھا دیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    جینا کیا ہے حباب ہو جانا
    اک حقیقت کا خواب ہو جانا
    عشق ہے سلسلہ سوالوں کا
    اور وفا لا جواب ہو جانا
    بارہا محفلوں نے دیکھا ہے
    خامشی کا رباب ہو جانا
    یہ کرشمہ ہے زر نوازی کا
    ان کا تم سے جناب ہو جانا
    جنبش فکر کی یہی حد ہے
    بس عذاب و ثواب ہو جانا
    جب وہ گوہر شناسیاں نہ رہیں
    اے گہر پھر سے آب ہو جانا
    تشنگی امتحان لیتی ہے
    اے ندی تو سراب ہو جانا
    اٹھ گئی اس طرف نظر ان کی
    اے تمنا حجابؔ ہو جانا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    سکون دل کو مرا اضطراب کیا جانے
    شکست خواب کو تعبیر خواب کیا جانے
    وہ منکشف ہے ابھی صرف دشت و صحرا پر
    جو کیف تشنہ لبی ہے وہ آب کیا جانے
    نشاط سجدہ سے جس کو غرض ہے وہ بندہ
    جھکا دے سر تو عذاب و ثواب کیا جانے
    وہ زندگی سے ادا سیکھتا ہے جینے کی
    تمام چہرے جو پڑھ لے کتاب کیا جانے
    اسیر شوق تو اذن سفر کا طالب ہے
    مقام عیش کو خانہ خراب کیا جانے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    آخری خواہش
    ۔۔۔۔۔۔
    تھی خواہش کسی کی
    کہ میں زندگی کا
    اہم واقعہ
    کوئی چن کر سناؤں
    میری فکر نے جب ادھر رخ کیا تو
    یہ پایا کہ
    مشکل بڑی ہے
    کہ یہ زندگی تو
    اہم واقعوں کی
    مسلسل کڑی ہے
    ادھر بھی جڑی ہے
    ادھر بھی جڑی ہے
    اسی فکر میں میں پڑی رہ گئی کہ
    اٹھاؤں کدھر سے
    اہم واقعہ اک
    تسلسل کو اس کے
    کدھر سے میں توڑوں
    اگر توڑ بھی دوں
    تو پھر کیسے جوڑوں
    شروع کی کڑی تو بہت ہی اہم تھی
    اسے چھو کے دیکھا تو بالکل نرم تھی
    ابھی درمیاں تک میں
    پہنچی نہیں تھی
    کہ رنگین کڑیاں
    کھنکنے لگیں خود
    مجھے چھو کے دیکھو
    مجھے چوم لو تم
    کہ مجھ سے اہم
    کچھ نہیں زندگی میں
    عجب معجزہ تھا کہ
    کڑیاں سبھی وہ
    نہ آنچل سے الجھیں
    نہ ٹھہریں کہیں بھی
    گزرتی رہیں اور
    گزرنے سے پہلے
    حسیں رنگ اپنے
    عطا کر کے مجھ کو
    مری ہی کلائی میں
    بن بن کے کنگن
    کھنکنے لگی تھیں
    تسلسل مگر ان کا ٹوٹا نہیں تھا
    کوئی رنگ بھی ان کا جھوٹا نہیں تھا
    ابھی تک تو ان کو
    سنبھالے سنبھالے
    گزرتی رہی میں
    سرا آخری جب
    مرے ہاتھ میں ہے
    تو جی چاہتا ہے
    مجھے تھام لے وہ
    میری سست رفتاریوں کے مقابل
    اگر وہ ٹھہر نہ سکے
    تو مرا ساتھ دینے کی خاطر
    وہ اتنا تو کر دے
    کہ میرے گزرنے سے پہلے
    مرا وقت آنے سے پہلے
    بڑھے
    اور
    مجھے قید کر لے

  • کسی عزیز کے جانے پہ صبر کرنا

    کسی عزیز کے جانے پہ صبر کرنا

    کسی عزیز کے جانے پہ صبر کرنا

    غم ایک حقیقت ہے، بالکل ایسے ٹپکنے والے نل کی طرح جو کبھی رکنے والا نہیں لگتا۔ یہ آپ کا ساتھ چھوڑنے سے انکاری ہے، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اسے کتنا ہی بند کرنا چاہتے ہیں، یہ برقرار رہتا ہے۔ یہ تصور کہ "وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے” اکثر ایک گمراہ کن کلچ کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ درحقیقت، جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ نقصان سے رہ جانے والا خلا پھیلتا جا رہا ہے، جس سے اندر ایک اور بھی گہری کھائی پیدا ہوتی ہے۔

    ایک عورت کی کہانی پر غور کریں جس نے اپنے ساتھی کو کھو دیا۔ اس کی جذباتی کیفیت، مالیاتی کمزوری سے بڑھ گئی ہے۔ وہ اپنے جذباتی صدمے سے نمٹنے کی عیش و عشرت کو شاذ و نادر ہی برداشت کرتی ہے، کیونکہ اگر اس کا شوہر مالدار تھا، تو موقع پرست لوگ گدھوں کی طرح گھومتے پھرتے ہیں، اپنے فائدے کے لیے اس کا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف، اگر اس کا شوہر ایک عام کام کرنے والا آدمی تھا جس کی آمدن اس کے گزرنے کے بعد بند ہو جاتی ہے، تو وہ اپنے بچوں کی طرح، بڑھے ہوئے خاندان پر بوجھ بن جاتی ہے۔ اچانک، رشتہ داروں کا ایک گروہ اسے بدحالی کا شکار کر دیتا ہے۔ اس کے بچے، جو اب ناواقف چہروں سے گھرے ہوئے ہیں، اب خود کو اپنے بازوؤں میں جھونکتے ہوئے، اپنے آپ کو کامل سرپرست کے کردار میں ڈالتے ہوئے پاتے ہیں۔

    یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ اسے کتنی بار "اپنے بچوں کی زندگیوں میں خوشی تلاش کرنے” کا مشورہ دیا جاتا ہے گویا وہ محض اپنے شوہر یا اس کی اولاد کی توسیع ہے۔ اس کی اپنی شناخت اور خواہشات کا کیا ہوگا؟ کیا اسے اپنے خاندان کے محض ایک ضمیمہ تک محدود کر دینا چاہیے، جس کی تعریف صرف اس کے شوہر یا بچوں کے ساتھ تعلقات سے ہوتی ہے؟

    یا اگر، عورت کے بچے بڑے ہو گئے ہیں، تو وہ اب اپنے گھر کی مالکن نہیں رہی بلکہ ایک مہر کی ملکہ کے درجے پر چلی گئی ہے۔ جس کا بنیادی مطلب ہے بغیر کسی اختیار کے اوپر کی طرف لات ماری جانا۔

    ہمارے معاشرے میں ایسے مواقع آتے ہیں. ان بچوں کے لیے جو ایک المناک حادثے میں والدین کو کھو دیتے ہیں، ایک نوجوان غیر شادی شدہ لڑکی کے لیے جو اس کے بڑے بھائی اور اس کے خاندان کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جاتی ہے، یا ایک نوجوان لڑکے کے لیے جو اپنی تعلیم کو آگے بڑھانے کا خواب دیکھتا ہے، اچانک نقصان مشکلات میں بدل جاتا ہے۔ ہر روز، ان افراد کو یاد دلایا جاتا ہے کہ ان کی زندگی کتنی مختلف ہو سکتی تھی اگر انہیں اپنے المناک نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

    غم ایک لازوال سفر ہے۔ اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے گہرا نقصان اٹھایا ہے، وہ ایک ابدی جدوجہد کی طرح محسوس کر سکتا ہے۔ ان لمحات میں، ہمارے معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے ہمدردی اور مدد فراہم کریں جو اس طرح کے نقصان سے گزرے ہیں، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ شفا یابی ایک پیچیدہ وجاری عمل ہے

  • سائرہ بھارتی؛ میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی؛ میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

    تعارف و گفتگو : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    https://x.com/MalikRamzanIsra/status/1702352127035920588
    ہندوستان کی معروف ادیبہ و شاعرہ سائرہ بھارتی کا اصل نام سائرہ خان ہے وہ 24 دسمبر 1973 میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام رشید احمد اور والدہ محترمہ کا نام زیب النساء ہے اور وہ دونوں وفات پا چکے ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہندی رسم الخط میں شاعری لکھتی تھی مگر اردو کی محبت مجھے اردو رسم الخط کی طرف لے آئی۔ سائرہ نے تعلیمی سلسلے میں ایم اے اور بی ایڈ کر رکھا ہے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ شاعری میں فرید شمسی صاحب ان کے استاد ہیں جن کا تعلق رام پور اتر پردیش سے ہے۔

    سائرہ شاعری کے علاوہ خاکہ نگاری بھی کرتی ہیں اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک قصر ادبی ایوارڈ، شری غزل ایوارڈ سمیت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جن میں ادبی ایوارڈز کے علاوہ سماجی ایوارڈ بھی شامل ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کی ازدواجی زندگی کا آغاز 1999 میں والدین کی مرضی سے ایک بزنس مین نسیم الدین صدیقی صاحب کے ساتھ شادی سے ہوا۔

    ان کے خاوند محترم کا شعر و ادب سے تعلق نہیں ہے مگر اپنی شریک حیات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاء اللہ وہ دو بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے خوش قسمت والدین ہیں۔ سائرہ بھارتی نے پرانے دور کے روایتی مشاعروں اور موجودہ دور کے آن لائن مشاعروں دونوں کو شعر و ادب کے فروغ کیلئے مفید اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پرانے دور کے مشاعروں میں بھی شعراء اور شاعرات کے ادبی ذوق کی تکمیل ہوتی تھی اور نئے شعراء کی تربیت ہوتی تھی تو آجکل کے سوشل میڈیا کے آن لائن و دیگر مشاعروں میں بھی شامل ہونے والے شعراء گھر بیٹھے دور دور سرحد پار ممالک کے مشاعروں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے اپنے کلام پیش کر کے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں ۔ سائرہ کی نظمیہ شاعروں پر مشتمل ایک شعری مجموعہ” یادوں کے سائے” 2008 میں شائع ہو چکا ہے

    جبکہ اردو غزلوں پر مشتمل ان کی شاعری کا ایک اور مجموعہ زیر طباعت ہے۔ سائرہ کی شاعری کا مقصد سماج میں پھیلی برائیوں کو روکنے کی کوشش اور اپنی تہذیب و تمدن اور مثبت روایات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا اور ورثے کے طور پر منتقل کرنا ہے۔ سائرہ صاحبہ کے پسندیدہ ادباء و شعراء اور شاعرات میں غالب، میر، مومن، ذوق، فراز ، ڈاکٹر مظفر حنفی، ڈاکٹر بشیر بدر، پروین شاکر، کشور ناہید ، منشی پریم چند اور سعادت منٹو شامل ہیں۔ سائرہ کی شاعری مختلف اخبارات و رسائل اور فیس بک وغیرہ میں شائع اور شامل ہوتی رہتی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ظلمت یہ وحشت یہ نفرت کے سائے
    کہیں بن نہ جائیں…… بغاوت کے سائے

    ये ज़ुल्मत ये वहसत ये नफ़रत के साये
    कहीं बन न जाएँ…… बग़ावत के साये

    کڑی دھوپ میں ہے سفر نفرتوں کا
    کہاں کھو گئے ہیں محبت کے سائے

    कड़ी धूप में है ……..सफ़र नफ़रतों का
    कहाँ खो गए हैं…….. मुहब्बत के साये

    شرافت ہی نام و نشاں ہے ہمارا
    تعاقب میں رہتے ہیں ذلت کے سائے

    शराफ़त ही नामो…….. निशां है हमारा
    तअक़्क़ुब में रहते हैं. ज़िल्लत के साये

    ہمیں راستہ ڈھونڈنا ہوگا خود ہی
    بھٹکنے لگے ہیں قیادت کے سائے

    हमें रास्ता ढूँढना……….. होगा ख़ुद ही
    भटकने लगे हैं ……….क़यादत के साये

    ہوا نفرتوں کی بڑھا دے گی نفرت
    پریشاں بہت ہیں محبت کے سائے

    हवा नफ़रतों की…… बढ़ा देगी नफ़रत
    परीशां बहुत हैं ……….मुहब्बत के साये

    جُھلسنا پڑے گا ہمیں اور کتنا
    بدلنے پڑیں گے سیاست کے سائے

    झुलसना पड़ेगा……. हमें और कितना
    बदलने पड़ेंगे ……….सियासत के साये

    مجھے گرمیء حشر کا خوف کیوں ہو
    مرے ساتھ ہیں ماں کی خدمت کے سائے

    मुझे गर्मी ए हश्र …….का ख़ौफ़ क्यूँ हो
    मिरे साथ हैं माँ की… ख़िदमत के साये

    اسے سائرہ بھول جانا ہے مشکل
    مرے ساتھ ہیں اُس کی چاہت کے سائے

    سائرہ بھارتی
    उसे सायरा भूल…… जाना है मुश्किल
    मिरे साथ हैं उसकी….. चाहत के साये

    सायरा भारती
    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    حقیقت مرے دل کو دیتی ہے راحت
    میں خوابوں کی دنیا بساتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

  • اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت

    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت

    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت
    کیا ایسے میں کوئی باندھا ہوا بستر کھولے

    تحریر ۔ آغا نیاز مگسی ۔

    تاریخ پیدائش :14 ستمبر 1951ء
    تاریخ وفات:24 اکتوبر 2017ء

    اردو شاعر 14 ستمبر 1951 کو کوئٹہ میں قاضی مظفر الحق ظفر کے ہاں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم بھی کوئٹہ ہی میں حاصل کی میٹرک 1968ء میں کیا۔ شاعری آپ کو باپ دادا سے وراثت میں ملی آپ نے آغا صادق حسیں نقوی سے اصلاح لی پھر ان کی وفات کے بعد اخگر سہارنپوری سےبھی اصلاح لی آپ نے شناختی کارڈ کے محکمے سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر ریٹائرمنٹ لی پھر صحافت کے میدان کو چنا آپ روزنامہ زمانہ کوئٹہ۔اس کے بعد روزنامہ جنگ کوئٹہ اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں جنگ میگزین کے انچارج تھے آپ کانعتیہ کلام دریائے نور 2011ء میں منظر عام پر آیا اسکے بعد دوسرا شعری مجموعہ جو غزلیہ شعری مجموعہ ہے سیل جنوں 2015ء میں شائع ہوا۔ آپ کی پہلی شادی 1971ء میں ہوئی۔ اس شادی سے آپ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں پہلی اہلیہ کی وفات کے بعد آپ نے دوسری شادی ممتاز شاعرہ تسنیم صنم صاحبہ سے کی۔ آپ کو استاد الاساتذہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ آپ پختہ گو شاعر تھے۔ حمد۔نعت۔غزل۔نظم۔رباعی۔گیٹ۔ ہائیکو جیسی اصناف سخن پر مکمل عبور حاصل ہونے کے ساتھ قطعہ تاریخ میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ ان کا انتقال24 اکتوبر 2017ء میں ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کولمبو ، پاکستان بمقابلہ سری لنکا،میچ میں ایک بار پھر بارش کی انٹری
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    غزل
    ۔۔۔
    دیوار میں امکان کا اک در کوئی کھولے
    اوجھل ہے جو آنکھوں سے وہ منظر کوئی کھولے
    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت
    کیا ایسے میں باندھا ہوا بستر کوئی کھولے
    رقصاں ہو تو پھر نیند سے اٹھنے نہیں دیتی
    اس بادِ صبا کی ذرا جھانجھر کوئی کھولے
    جب ان سنی ہر بات کے ہونے کا یقیں ہو
    کیوں اپنی شکایات کا دفتر کوئی کھولے
    آسیب کے آجانے سے کچھ پہلے عزیزو
    ممکن ہو تو اس دل کا ہر اک گھر کوئی کھولے
    اب شہر کے ہر شخص کی خواہش ہے یہ صائمؔ
    جو باندھ کے رکھا ہے سمندر کوئی کھولے

  • میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں،سائرہ بھارتی

    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں،سائرہ بھارتی

    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

    تعارف و گفتگو : آغا نیاز مگسی

    ہندوستان کی معروف ادیبہ و شاعرہ سائرہ بھارتی کا اصل نام سائرہ خان ہے وہ 24 دسمبر 1973 میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام رشید احمد اور والدہ محترمہ کا نام زیب النساء ہے اور وہ دونوں وفات پا چکے ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہندی رسم الخط میں شاعری لکھتی تھی مگر اردو کی محبت مجھے اردو رسم الخط کی طرف لے آئی۔ سائرہ نے تعلیمی سلسلے میں ایم اے اور بی ایڈ کر رکھا ہے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ شاعری میں فرید شمسی صاحب ان کے استاد ہیں جن کا تعلق رام پور اتر پردیش سے ہے۔ سائرہ شاعری کے علاوہ خاکہ نگاری بھی کرتی ہیں اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک قصر ادبی ایوارڈ، شری غزل ایوارڈ سمیت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جن میں ادبی ایوارڈز کے علاوہ سماجی ایوارڈ بھی شامل ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کی ازدواجی زندگی کا آغاز 1999 میں والدین کی مرضی سے ایک بزنس مین نسیم الدین صدیقی صاحب کے ساتھ شادی سے ہوا۔ ان کے خاوند محترم کا شعر و ادب سے تعلق نہیں ہے مگر اپنی شریک حیات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاء اللہ وہ دو بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے خوش قسمت والدین ہیں۔ سائرہ بھارتی نے پرانے دور کے روایتی مشاعروں اور موجودہ دور کے آن لائن مشاعروں دونوں کو شعر و ادب کے فروغ کیلئے مفید اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پرانے دور کے مشاعروں میں بھی شعراء اور شاعرات کے ادبی ذوق کی تکمیل ہوتی تھی اور نئے شعراء کی تربیت ہوتی تھی تو آجکل کے سوشل میڈیا کے آن لائن و دیگر مشاعروں میں بھی شامل ہونے والے شعراء گھر بیٹھے دور دور سرحد پار ممالک کے مشاعروں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے اپنے کلام پیش کر کے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں ۔ سائرہ کی نظمیہ شاعروں پر مشتمل ایک شعری مجموعہ” یادوں کے سائے” 2008 میں شائع ہو چکا ہے جبکہ اردو غزلوں پر مشتمل ان کی شاعری کا ایک اور مجموعہ زیر طباعت ہے۔ سائرہ کی شاعری کا مقصد سماج میں پھیلی برائیوں کو روکنے کی کوشش اور اپنی تہذیب و تمدن اور مثبت روایات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا اور ورثے کے طور پر منتقل کرنا ہے۔ سائرہ صاحبہ کے پسندیدہ ادباء و شعراء اور شاعرات میں غالب، میر، مومن، ذوق، فراز ، ڈاکٹر مظفر حنفی، ڈاکٹر بشیر بدر، پروین شاکر، کشور ناہید ، منشی پریم چند اور سعادت منٹو شامل ہیں۔ سائرہ کی شاعری مختلف اخبارات و رسائل اور فیس بک وغیرہ میں شائع اور شامل ہوتی رہتی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ظلمت یہ وحشت یہ نفرت کے سائے
    کہیں بن نہ جائیں…… بغاوت کے سائے

    ये ज़ुल्मत ये वहसत ये नफ़रत के साये
    कहीं बन न जाएँ…… बग़ावत के साये

    کڑی دھوپ میں ہے سفر نفرتوں کا
    کہاں کھو گئے ہیں محبت کے سائے

    कड़ी धूप में है ……..सफ़र नफ़रतों का
    कहाँ खो गए हैं…….. मुहब्बत के साये

    شرافت ہی نام و نشاں ہے ہمارا
    تعاقب میں رہتے ہیں ذلت کے سائے

    शराफ़त ही नामो…….. निशां है हमारा
    तअक़्क़ुब में रहते हैं. ज़िल्लत के साये

    ہمیں راستہ ڈھونڈنا ہوگا خود ہی
    بھٹکنے لگے ہیں قیادت کے سائے

    हमें रास्ता ढूँढना……….. होगा ख़ुद ही
    भटकने लगे हैं ……….क़यादत के साये

    ہوا نفرتوں کی بڑھا دے گی نفرت
    پریشاں بہت ہیں محبت کے سائے

    हवा नफ़रतों की…… बढ़ा देगी नफ़रत
    परीशां बहुत हैं ……….मुहब्बत के साये

    جُھلسنا پڑے گا ہمیں اور کتنا
    بدلنے پڑیں گے سیاست کے سائے

    झुलसना पड़ेगा……. हमें और कितना
    बदलने पड़ेंगे ……….सियासत के साये

    مجھے گرمیء حشر کا خوف کیوں ہو
    مرے ساتھ ہیں ماں کی خدمت کے سائے

    मुझे गर्मी ए हश्र …….का ख़ौफ़ क्यूँ हो
    मिरे साथ हैं माँ की… ख़िदमत के साये

    اسے سائرہ بھول جانا ہے مشکل
    مرے ساتھ ہیں اُس کی چاہت کے سائے

    سائرہ بھارتی
    उसे सायरा भूल…… जाना है मुश्किल
    मिरे साथ हैं उसकी….. चाहत के साये

    सायरा भारती
    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    حقیقت مرے دل کو دیتی ہے راحت
    میں خوابوں کی دنیا بساتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

  • سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی لندن سے واپسی کا اعلان ان کے بھائی سابق وزیراعظم اور (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف نے کردیا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے بذات خود اس کا اعلان نہیں کیا وہ شہباز شریف کے اعلان کے وقت ساتھ کھڑے تھے۔ میاں محمد نواز شریف کو پاکستان آنے سے پہلے اپنے آس پاس کا جائزہ انتہائی دوربینی سے لینا چاہئے۔

    ملکی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے سیاست میں اور سیاسی جماعتوں میں ایسے ایسے میر جعفر موجود ہیں جن کا کوئی دین مذہب نہیں بلکہ یہ بے غیرتی کے پیٹ میں جنم لیتے ہیں اور حرص و آز کی گلیوں میں پروان چڑھتے ہیں اور دارالعلوم چاپلوسیاں میں ماہر اسفل و ارزل کی ڈگریاں لے کر اس بازار سے ہوتے ہوئے کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر اپنے شکاری کے درہم و دینار پر نظریں گاڑے ہوئے ہر آنے جانے والے کی مونچھ کا بال بننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی

    ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ شدید تنقید کے زد میں
    مریم نواز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات
    شیخ رشید نے ایک بار پھر 20 ستمبر تک سیاست میں بڑی ہلچل کا دعوی کردیا/
    ملک کے کروڑوں عوام اور بالخصوص نوجوان نسل سے گزارش ہے کہ وہ ایسے پروپیگنڈوں سے دو ررہیں جو ہماری قومی سلامتی کے لئے نیک شگون نہیں دنیا میں کون سی قیادت ہے جو اپنے قومی سلامتی کے فیصلوں میں فوج اور جملہ اداروں کے مشوروں پر عمل نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج اور اس کے جملہ ادارے قومی سلامتی کے ذمہ دار ہوتے ہیں عراق پر امریکی حملے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس وقت کے صدر بش کے اپنے ذاتی ذرائع نہیں تھے سی آئی اے اور پینٹاگان کے مشوروں پر عمل ہوا۔ پاک فوج ملک کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ تو ہے ہی اپنے کندھوں پر ان گنت افسروں اور جوانوں کے شہداء کے خون کی بھی بھاری ذمہ داری ہے جو ملک کی حفاظت اور ملک میں رہنے والوں کے کل کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنا آج ہم پر قربان کرگئے۔ عالمی طاقتوں کے اس خطے میں اپنے مفادات ہیں عالمی سازشوں کے سامنے ہماری فوج اور جملہ ادارے سینہ سپر ہیں۔

  • جبری نکاح اسلام کی روشنی میں

    جبری نکاح اسلام کی روشنی میں

    جبری نکاح اسلام کی روشنی میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    کچھ دن سے سوشل میڈیا پہ ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک باشرع شحض ایک لڑکی سے زور زبردستی سے نکاح نامے پہ دستخط کروا رہا ہےاس کے ساتھ دیگر گھر والے بھی موقعہ پہ موجود اور شامل نکاح ہیں جس کے باعث کچھ لوگ اسلام پہ تنقید کرتے ہوئے اسے جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں اس معاملے میں اسلام کا نا تو کوئی قصور ہے بلکہ یہ سارا معاملہ ہی اسلام کے خلاف ہے کیونکہ اگر اسلام کی رو سے دیکھا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ آیا ایسا نکاح جائز ہے ؟-

    کیا دین میں جبر جائز ہے؟

    ہرگز نہیں نا تو دین اسلام میں جبر جائز ہے اور نا ہی جبری نکاح ،جہاں اسلام نے مرد کو پسند نا پسند کا حق دیا ہے وہیں عورت کو بھی نکاح میں پسند نا پسند کا پورا حق دیا ہے ،اسلام کی رو سے لڑکی کی شادی کے لئے ولی کا ہونا لازم شرط ہے،کئی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باکرہ عورت کی اجازت خاموشی ہے یعنی عورت اگر ولی کے سامنے مزاحمت نا کرے خاموش رہے تو نکاح جائز ہے-

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

    الثَّيِّبُ أحقُّ بنفسِها من وليِّها والبِكرُ تستأمرُ وإذنُها سُكوتُه
    (صحيح مسلم 1421)
    ترجمہ: ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے

    جبکہ ایک اور جگہ ارشاد ہے

    لا تُنكَحُ الأيِّمُ حتى تُستأمَرَ، ولا تُنكَحُ البكرُ حتى تُستأذَن. قالوا: يا رسولَ الله، وكيف إذنُها؟ قال: أن تسكُتَ
    (صحيح البخاري:5136)
    ترجمہ:بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے،صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کنواری عورت ازن کیونکر دے گی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی-

    عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں

    أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ قالَ ليسَ للوليِّ معَ الثَّيِّبِ أمرٌ واليتيمةُ تستأمرُ وصمتُها إقرارُها
    (صحيح أبي داود:2100)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے، اسلام میں جبر نہیں کسی بھی امور پہ جبری نہیں ماسوائے چند ایک امور کے وہ بھی صرف مسلمان پہ خاص طور پہ جبری نکاح میں بلکل بھی جبر جائز نہیں جہاں ولی کا راضی ہونا لازم ہے وہیں عورت کا راضی ہونا بھی لازم ہے-

    اس بارے ارشاد باری تعالیٰ ہے

    فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ. (البقرہ : 232)

    ’تو اے عورتوں کے والیو، انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ آپس میں شریعت کے موافق رضا مند ہوں،

    درج بالا آیت قرآن سے ثابت ہونا جہاں ولی کی رضا مندی لازم ہے وہیں عورت کی رضامندی بھی لازم و ملزوم ہے لہذہ عورت پہ زبردستی کرکے نکاح نہیں کروایا کا سکتا ایسا نکاح، نکاح نہیں بلکہ زنا ہو گا اور اس کا سارا وبال اس ولی و گواہان پہ ہو گا اور ایسے کسی واقعے پہ اسلام پہ وار کرنا جائز نہیں کیونکہ اسلام نے ایسے عمل کو گناہ قرار دیا ہے اور دین اسلام وہ واحد دین ہے جس نے مرد کیساتھ عورت کو بھی یکساں حقوق دیئے ہیں وگرنہ دیگر دینوں میں دیکھ لیجئے ساری ساری زندگی عورتیں کنواری گزار دیتی ہیں اور جن کا شوہر مر جائے ان کو دوسری شادی کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ پہلے تو ان کو خاوند کے ساتھ زندہ دفن کر دیا جاتا تھا مگر اس سب کو اسلام نے روکا حتی کہ اسلام نے ناپسندی کی صورت میں عورت کو خلع لینے کا اختیار دیا-

  • فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    مولانا فضل الرحمان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی غالب موجودگی کو اجاگر کیا ہے۔ یہ مسلح گروہ خطے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مشکلات کھڑی کرتا ہے،منصوبوں کی تکمیل کے لئے لاگ کا 10 فیصد حصہ مانگا جاتا ہے اور نہ ملنے کی صورت میں منصوبے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، فاٹا کے خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں انضمام کے بعد سے، ٹی ٹی پی نے اس کی علیحدگی، اور اپنی سابقہ خود مختار حیثیت پر واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    15 اگست 2021 کو طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، نہ صرف فاٹا بلکہ صوبہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے 21 ماہ کے دوران ایسے واقعات میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ سیکورٹی چیلنجز پاکستان کی پہلے سے ہی کمزور معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔

    ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک ریسرچ فیلو عبدالباسط کا مشاہدہ ہے، "یہ پورا خطہ غیر مستحکم ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا پاکستان۔ یہ افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کا ایک اثر ہے۔”

    ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی کوششوں نے بدقسمتی سے دہشت گرد تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے اور حملوں کو تیز کرنے کے مواقع فراہم کیے ۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس صرف دو ہی قابل عمل آپشن رہ جاتے ہیں۔ پہلی بات حقانی کی طرف سے بیان کی گئی ہے، جو دلیل دیتے ہیں، "پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت یہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہے کہ پرتشدد بنیاد پرست، اسلام پسند صرف ناراض لوگ نہیں ہیں. جنہیں مذاکرات کے ذریعے منایا جا سکتا ہے۔” [The New Humanitarian] اس آپشن میں ان شرپسند عناصر کے خلاف ایک جامع فوجی مہم شروع کرنا شامل ہے۔دوسرے آپشن میں بات چیت کے ذریعے تصفیہ شامل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی آپشن پاکستان کے لیے مثالی حل پیش نہیں کرتا۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکراتی تصفیہ کی ماضی کی کوششوں کو جب بھی عسکریت پسندوں کے لیے موزوں تھا نظر انداز کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہو بھی جاتا ہے، تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی مزید رعایتوں کا مطالبہ نہیں کرے گی. ممکنہ طور پر ریاست کو ایک غیر یقینی صورت حال میں ڈالے گی، اور ایک پریشان کن مثال قائم کرے گی۔ ان عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے آپشن کے متعلق، یہ تبھی کارگر ثابت ہو گا جب سرحد پار سے دراندازی کے ہر راستے کو سختی سے سیل کر دیا جائے تاکہ بیرونی حمایت کو ختم کیا جا سکے۔

    ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لئے ، ایک پائیدار حل تلاش کرنا پیچیدہ اورغیریقینی سی صورتحال ہے،ان سیکورٹی خدشات کو حل کرنے کے لئے کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے،

  • ڈاکٹر رتھ فاؤ، مسیحائے پاکستان

    ڈاکٹر رتھ فاؤ، مسیحائے پاکستان

    آغا نیاز مگسی

    ڈاکٹر رتھ فائو جن کا پورا نام رتھ کیتھرینا مارتھا فائو ہے وہ 9 ستمبر 1929 میں جرمنی کے شہر لپزگ میں پیدا ہوئیں ان کے والد کا نام والتھر فائو اور والدہ کا نام مارتھا فائو ہے ۔ رتھ نے 1949 میں ” مینز” سے ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے ایک بار ایک ڈاکومنٹری فلم دیکھی کہ کراچی پاکستان میں جذام کے مریضوں کا کوئی علاج نہیں ہے وہ سسک سسک کر اور تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں تو انہوں نے ” تنظیم دختران قلب مریم ” کی جانب سے پاکستان جا کر ان کا علاج کرنے فیصلہ کیا اور کراچی پہنچ گٙئیں یہاں آکر انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر ایک جھونپڑی میں چھوٹا سا کلینک قائم کر کے علاج شروع کر دیا کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر آئی کے گل اور سسٹر پیرنس نے بھی ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا جس سے ان کے کام کو مزید تقویت پہنچی وہ اس وقت 31 سال کی ایک وجیہہ اور خوب صورت عورت تھیں جس نے انسانیت کی خدمت کی غرض سے رہبانیت اختیار کرتے ہوئے زندگی بھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ڈاکٹر رتھ نے بے سہارا مریضوں کو ڈاکٹر ، ماں ، بیٹی اور بہن بن کر جذام کے مریضوں کا علاج معالجہ شروع کر دیا ان کی خدمت اور خلوص کو دیکھ کر حکومت اور عوام نے ان سے بھرپور تعاون کیا جس سے انہیں جذام کے مریضوں کے علاج معالجے میں آسانی پیدا ہوتی گئی ۔ابتدا میں انہوں نے کراچی میں ” میری ایڈلیڈ لپریسی سینٹر ” قائم کیا اس کے بعد پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی اس کا دائرہ کار بڑھا دیا ۔ کراچی میں افغانستان سے بھی جذام کے مریض آنے لگے ۔ ڈاکٹر رتھ کی شبانہ روز محنت اور خدمت کے نتیجے میں پاکستان میں 1996 کو جذام کے مرض پر قابو پایا گیا جس پر عالمی ادارہ صحت نے یہ تسلیم کرتے ہوئے 1996 میں پاکستان کو جذام پر قابو پانے والا ملک قرار دے دیا ۔

    حکومت پاکستان نے 1979 میں ڈاکٹر رتھ کو محکمہ صحت کا وفاقی مشیر بنا دیا تھا جبکہ 1988 میں انہیں پاکستان کی شہریت دے دی گئی ۔ ان کی خدمات کے اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال پاکستان ، ستارہ قائد اعظم، ، ہلال امتیاز ، جناح ایوارڈ اور نشان قائد اعظم ایوارڈ دیا گیا جبکہ جرمنی کی حکومت کی جانب سے انہیں بیم بی ایوارڈ دیا گیا ، آغا خان یونیورسٹی کراچی کی جانب سے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ دیا گیا ۔ پاکستان میں انسانیت کی محسن کی اعلیٰ خدمات کی بدولت پاکستان ایشیا میں جذام کے مرض پر قابو پانے والا پہلا ملک بن گیا۔ڈاکٹر رتھ فائو 10اگست 2017 کو کراچی میں 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ۔ 19 اگست 2017 میں سینٹ پیٹرک چرچ صدر کراچی میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں جس کے بعد انہیں گورا قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فائو کو جرمنی اور پاکستان کی دہری شہریت حاصل تھی۔

  • رحیم اللہ یوسفزئی کی دوسری برسی

    رحیم اللہ یوسفزئی کی دوسری برسی

    رحیم اللہ یوسفزئی
    تحریر:ریاض یوسفزئی
    ایک عظیم انسان دوست ،رحیم اللہ یوسفزئی کی دوسری برسی آج 9 ستمبر 2023 کو منائی جارہی ہے۔ ایسے عظیم انسان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے الفاظ کا چناؤ مشکل ہو تا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا۔ ان کی پر وقار شخصیت اور پرکشش دراز قد قامت، زرخیز ذہن کے ساتھ ساتھ گہرے مشاہدے اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنے کے عظیم جذ بے سے سر شار تمام رعنائیو ں کا مرقع تھی۔ عوام کی خدمت ان کا محبوب مشن تھا اُنہوں نے ہمیشہ لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرنے کی عمر بھر جستجو کی اور مختلف طریقوں سے اسمیں اپنا حصہ ڈالا۔

    گو کہ ان کی بامقصد زندگی کے ہر پہلو کو ایک مضمون میں سمونا ممکن نہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہ عالمی شہرت کے حامل بااعتماد صحافی تھے اور کئی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کر چکے تھے۔لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ علاقے کے لوگ انہیں ایک سماجی کارکن کے طور پر زیادہ بہتر جانتے تھے۔ اس کی سادہ وجہ یہ تھی کہ وہ ہر وقت علاقے کے غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم عمل رہے اور ان کی مدد کا موقع کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ ان عوامل کو مد نظر رکھ کر اس سال ان کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی زندگی کے صرف ایک پہلو یعنی ایک عظیم "سماجی کارکن” کے طور پر اور اسی میدان میں ان کی نمایاں خدمات کو اُجاگر کیا جارہا ہے۔

    ا نہوں نے اپنی گوں ناگوں مصروفیات میں سے وقت نکالا اور معاشرے کے غریب طبقے کی اپنی استطاعت کے مطابق توقعات سے بڑھ کر خدمت کی، اس مقصد کے لیے وہ بہت سی فلاحی تنظیموں، مخیر حضرات اور ذاتی دوستوں سے رابطے میں رہے اور ان کی وسا طت سے غریب اور نادار لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے ساری زندگی صحافتی سرگرمیوں یا سماجی کاموں کے ذریعے غریبوں کی مدد کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ چوبیس گھنٹے صحافتی سرگرمیوں اور کمزور صحت، متعدد بیماریوں کے باوجود، سماجی شعبے میں ان کے کام کی رفتار حیرت انگیز تھی۔ لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ ان کی مدد کرتا ہے ” ضرورت مند اور مظلوم لوگوں کی مدد کرنے سے مجھے بے پناہ خوشی اور ذہنی سکون ملتا ہے۔” یقین جانیئے میری زندگی کی خوشی کا سب سے بڑا لمحہ وہ ہوتا ہے جب میں غریبوں کے ساتھ گھل مل کر ان کے مسائل حل کرتا ہوں” یہ کلمات ا نہوں نے اپنی زندگی میں کئی مواقع پر ادا کئے ا ور میدان میں عملی اقدامات سے ان کو ثابت بھی کیا۔

    بنی نوع انساں کی بے لوث خدمت کا یہ جذبہ انہیں اپنے مرحوم والد (ر) صوبیدار آدم خان سے وراثت میں ملا تھا جو اپنے وقت کے ایک عظیم سماجی کارکن تھے اور انہوں نے اپنی محنت سے علاقے میں عوامی خدمت پر مبنی بہت سے بڑے منصوبے مکمل کرائے تھے۔ درحقیقتاً ان کے والد علاقے میں اس طرح کی سماجی سرگرمیوں کے سرخیل تھے۔ اگرچہ ان کے والد کو اسوقت بہت سے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا تھا تاہم انہوں نے اپنے مشن کو جاری رکھا اور آج تمام لوگ انہیں دعاؤں میں اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ بلاشبہ علاقہ کا ہر ایک فرد باپ بیٹے کی بے لوث سماجی خدمات کا معترف ہیں۔ضرب ا لمثل مشہور ہے کہ عقاب کے گھونسلے سے عقاب کا بچہ ہی نکلتاہے،یوسف زئی خاندان کے معاملے میں بھی یہ سچ ثابت ہوا اور اب انسانیت کی خدمت کا جذبہ توسیع شدہ امیر خیل کی تیسری نسل میں منتقل ہو گیا ہے،

    یوسف زئی خاندان کے چشم چراغ اور رحیم اللہ یوسفزئی کے بڑے فرزند ارشد محمود یوسفزئی نے یہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی ہے۔ اپنے والد اور دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ارشد محمود نے علاقے کی غریب کمیونٹی کی خدمت کو اپنا مشن بنایا ہے اور یہ تمام صلاحیتیں اُن میں بدرجہ ا تم موجود ہیں۔ اب عظیم مشن کے حقیقی معمار اور عظیم سماجی کارکن رحیم اللہ یوسفزئی کی سماجی خدمات پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں۔

    انہوں نے سماجی خدمات کے شعبے کو نئی جہتیں دیں اور اپنی زندگی کے دوران غریب یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کی 99 اجتماعی شادیاں کرائیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہر ایک جوڑے کو ایک لاکھ روپے جہیز کا سامان بھی دیا۔ اسی طرح وہ اخوت فاﺅنڈیشن لاہور سے علاقے کے معذور افراد کے لیے 116 وہیل چیئرز حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ 20 مزید وہیل چیئرز پائپ لائن میں ہیں جو ستمبر میں مل جائیں گی۔ انہوں نے جاپان حکومت کی مدد سے 8ملین روپے کی لاگت سے غریب اور نادار خواتین کے لئے ووکیشنل سنٹر قائم کیا اس سنٹر میں اب تک 100 سے زائد خواتین کو تربیت دی جا چکی ہے جو اب اس سنٹر میں حا صل کردہ تر بیت کا بہترین استعمال کر کے اپنے اپنے خاندانوں کے لیے روزی روٹی کما رہی ہیں۔

    مزید یہ کہ اُنہوں نے اس وقت کے حکومتی عہدیداروں کی مدد سے گرڈ سٹیشن قائم کیا، کاٹلنگ بونیر روڈ (دونوں کی مالیت کروڑوں روپے ہے ) بھی تعمیر کرائی، کاٹلنگ واپڈا سب ڈویژن اور علاقے میں بہت سے ٹیوب ویلوں کی منظوری دلوائی۔ وہ ہر سال اسکول جانے والے بچوں کے لیے موسم سرما کی کٹس کا بندوبست کرتے تھے اور غریب طلبہ میں تقسیم کرتے تھے۔ جوتوں کے 8350 جوڑے، ہزاروں موزے وغیرہ، باتھ رومز، پینے کے پانی کی سہولت، بجلی کے پنکھے نیز کرسیاں اور میزیں تک دلوائیں۔

    اسی طرح وہ ہر سال بدر اور شموزئی کے سکولوں میں یوم والدین کا اہتمام کرتے تھے اور اس کے تمام اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرتے اور مختلف کیٹیگریز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباءکو انعامات سے نوازتے تھے۔ انہوں نے علاقے میں غریب اور نادار لو گوں کے لئے مختلف طبی کیمپوں کا اہتمام کیا جس میں 150 سے زائد اپر یشنز کرائے گئے۔ ان کیمپوں میں معروف سپیشلسٹ ڈاکٹروں نے مریضوں کا علاج بذات خود کیا۔اسی طرح انہوں نے فرانس، جرمنی اور اٹلی کی حکومتوں کی جانب سے ضرورت مند غریبوں کے لیے آنکھوں کے چشموں کا بھی انتظام کیا۔

    ہر سال وہ بڑے پیمانے پر غریب ضرورت مندوں میں رمضان پیکج تقسیم کرتے تھے۔ انہوں نے وزیراعظم سے 21 دیہات کو سوئی گیس کی فراہمی کی منظوری بھی دلوائی جس پر کام جاری ہے اور بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے بہت سی نئی تعمیر شدہ مساجد کی مالی معاونت بھی کی اور یتیموں، بیواؤں، معذوروں کو حسب توفیق خفیہ عطیات دینے کے ساتھ ساتھ کئی ہزار بے روزگار جوانوں کو مختلف محکموں میں بھرتی کرنے میں بھی مدد دی۔ انہوں نے مشہور علاقائی کھیل "مخہ” کو بھی دوبارہ بھر پور انداز میں متعارف کرایا اور ہر سال سرکاری عہدیداروں اور معززین کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرکے اس کے ٹورنامنٹس کا اہتمام کرایا۔

    ”زندگی گزارنے کا بہترین راز“ اسی میں ہے کہ جب کوئی کسی بڑے کاز کے لیے خدمت کرتا ہے تو اسے زندگی کا ایک گہر ا مفہوم ملتا ہے اور یہی چیز اصل زندگی کو مزید تقویت اورمعنی دیتی ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی نے بے پناہ شہرت اور نام کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزاری اور اپنے سماجی کاموں کی بدولت اس میدان میں بے مثال کامیابیوں سے لوگوں کے دل جیتے۔ ان کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی شاندار خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے، شمع ویلفیئر آرگنائزیشن (جس کا قیام انہوں نے اپنی زندگی میں کیا تھا) نے انتہائی غریب خاندانوں کے لیے 10 اجتماعی شادیوں کا اہتمام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یقینا یہ رحیم اللہ یوسفزئی کی روح کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے جنہوں نے انسانیت کی خدمت کرنا پسند کیا۔

    قانون قدرت ہے کہ ہم دنیا میں ڈالی گئی توانائی واپس حاصل کرتے ہیں۔ ہم اس میں جو حصہ ڈالتے ہیں وہ ہماری زندگی کو حقیقی معنی دیتا ہے۔ انہوں نے اپنا وقت، تجربہ، پیسہ اور ہنر غریب لوگوں کی مدد کے لیے وقف کیا اور ایک بہتر معاشرہ بنانے کی پوری کوشش کی۔ مختصراً وہ بائیزئی کے علاقے کے ایک ”عظیم خدائی خدمتگار “تھے اور غریبوں کے لیے اس قدر لگن اور دیانتداری سے کام کرتے تھے کہ وہ اس عمل میں ایک بہترین استعارہ بن گئے ہیں۔

    اگرچہ ارشد محمود اتنی بڑی ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے کمسن ہیں لیکن جب ارادے پختہ ہوں اور پسے ہوئے طبقے کی خدمت کے لیے دل تڑ پتا ہو تو مطلوبہ اہداف حاصل ہوہی جاتے ہیں۔ امیر خیل یوسفزئی خاندان تمام دوستوں اور خیر خواہوں کا بے حد شکر گزار ہے اس لیے کہ انسانیت کی خدمت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ علاقے کے عوام کو رحیم اللہ یوسفزئی کی سماجی بہبود کے کارناموں پر ہمیشہ فخر رہے گا۔ تمام اچھے اعمال، جو انہوں نے اپنی زندگی میں کیے، ابد تک قائم رہیں گے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ رحیم اللہ یوسفزئی کی یادعلاقے کے عوام کو بہت شدت سے ستاتی ہے۔ آپ کے تمام رشتہ دار اور احباب آپ سے والہانہ پیار و محبت کو اپنی اپنی زندگیوں کا سرمایہ افتخار اور قیمتی اثاثہ سمجھتے ہیں۔ خدا کی اُن پہ رحمت ہو اور اُنہیں محمد کی شفاعت نصیب ہو۔
    گویاد ستاتی ہے تیری پھر بھی دُعا ہے
    دن ایسا نہ آئے کہ تیری یاد نہ آئے