Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے چیلنجوں کی عکاسی

    پاکستان کے چیلنجوں کی عکاسی

    آرگنزا، جو اپنی سراسر خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، پاکستانی معاشرے کو درپیش جدوجہد کا ایک دلچسپ متوازی رکھتا ہے۔ آرگنزا اس کی لچک کی طرح قابل ذکر سختی کا مظاہرہ کرتا ہے، تاہم، جب ٹوٹ جاتا ہے، تو تانے بانے کی نازک سالمیت ناقابل تلافی طور پر بکھر جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے چیلنجوں نے پاکستانی عوام کی صلاحیتوں کا امتحان لیا ہے

    اس بے نقاب ہونے کی پہلی علامات COVID-19 وبائی مرض کے دوران واضح تھیں۔ بڑھتی ہوئی لاگت اخراجات اور قلت عام ہو گئی بے شمار لوگ اپنی روزی روٹی کھو بیٹھے تھے صنعتی بندش اور پیداوار میں کمی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا، اس کے ساتھ انٹر سٹیٹ بینکنگ میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔ صارفین کی قوت خرید میں آنے والی کمی نے سماجی تانے بانے کو مزید تناؤ کا شکار کردیا۔

    ان مشکلات کے درمیان، اداروں کے لیے احترام کا ایک تکلیف دہ مرحلہ سامنے آیا، جس کی منصوبہ بندی پی ٹی آئی کی قیادت میں اہم شخصیات نے کی۔ ایک تفرقہ انگیز "ہم بمقابلہ ان” بیانیہ کو برقرار رکھا گیا، جس نے بڑھتے ہوئے پولرائزیشن کو فروغ دیا اورمعاشرتی بندھن توڑ دیئے۔ اسی بگاڑ کا ہی نتیجہ تھا کہ 9 مئی کے پریشان کن واقعات ہوئے اور فوج کی تنصیبات پر براہ راست حملہ کیا گیا جو کہ بغاوت کا ایک واضح مظہر ہے

    اگست 2023 تک ملک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سامنا کر رہا ہے جسکی وجہ سے شہریوں پر معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے جبکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے مختلف علاقوں میں لوگوں کو احتجاج کرنے اور سڑکوں پر آنے پر مجبور کردیا ہے۔ جبکہ اب ان مظاہروں نے بے شمار شکلیں اختیار کر لی ہیں، جن میں یوٹیلیٹی دفاتر پر حملوں سے لے کر بڑھتے ہوئے بلوں کو پورا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ہونے والی خودکشیوں جیسے افسوسناک واقعات شامل ہیں۔ عدم اطمینان کی یہ لہر آئی ایم ایف پروگرام میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے عام شہری کے لیے ریلیف کے امکانات پر شکوک و شبہات مزید بڑھ جاتے.

    ایک قوم کی بنیاد اس کے شہریوں اور ریاست کے مابین پوشیدہ معاہدے پر ہوتی ہے، شہری فرض شناسی سے ٹیکس کے ذریعے اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور اس کے بدلے میں ریاست ان کو تعلیم، سہولیات، انصاف، روزگار اور جان و مال کے تحفظ تک رسائی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری دیتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہ معاہدہ نامکمل وعدوں کی وجہ سے متاثر ہوا ہے، اس کی واضح مثال پاکستانی آئین کے آرٹیکل 25 اے میں موجود ہے جس میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا اہتمام کرنا شامل ہے جبکہ ریاست کی جانب سے ان وعدوں کو مکمل طور پر پورا کرنے میں ناکامی نے سماجی معاہدے یا آئین میں درج چیزیں کمزور کردی ہیں.

    آخر میں ، آرگنزا کی کہانی پاکستانی معاشرے کی آزمائشوں اور مصائب کے لئے ایک دردناک استعارہ کے طور پر کام کرتی ہے، جس طرح خوبصورتی نازک لیکن لچکدار ہے، اسی طرح قوم اپنی نازک لیکن پائیدار لچک سے نبرد آزما ہے۔ آگے بڑھنے کے راستے کے لیے ٹوٹے ہوئے دھاگے کو درست کرنے، مشترکہ اقدار کی تجدید عہد اور چیلنجوں سے ٹوٹے ہوئے سماجی روایہ کو ازسرنو زندہ کرنے کی اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ اتحاد، فعال حکمرانی اور مشترکہ بھلائی کے عزم کے ذریعے ہی پاکستان زیادہ امید افزا مستقبل تشکیل دے سکتا ہے۔

  • نظام کی ناکامی کے ذمہ دار سیاستدان،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    نظام کی ناکامی کے ذمہ دار سیاستدان،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملک بھر میں مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں بے دریغ اضافے پر جاری احتجاج اور مظاہروں میں عوامی نمائندوں کی عدم شرکت جمہوری سیاست کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ سیاستدانوں اور عوام کے درمیان واضح ہوتا ہوا خلا کیسے پُر ہو گا؟عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی اور بے راہنما قیادت پر مظاہرے جمہوریت نہیں جمہوریت کے دعویداروں پر سوالیہ نشان ہے ؟ عوامی احتجاج سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں سے سوال کرتا ہے کہ بیمار لا علاج ہیں۔ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باوجود زندگی کو گھائل کرنے والے عذابوں کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ ملکی جمہوریت اور سیاسی نظام دنیا کے کسی کونے میں ا س طرح کا نظام انسانیت کو آسودگی اور آسائش دینے سے قاصر ہے ۔ موجودہ سیاسی نظام بدعنوانی اورمنافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر چکی ہیں۔ جب ہر طرف مجبوری و محکومی کا راج ہو تو سیاست بھلا کیسی ہوگی ؟ ہمارا جمہوری نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ خود سیاستدان ہی ہیں۔ سیاست روبہ زوال ہے ۔

    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں عوام مہنگائی سے چلااٹھے تھے پھر پی ڈی ایم کی حکومت میں مہنگائی کے تابڑتوڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگائے ۔ ٹاک شوز میں دولت مندوں کے پارٹیوں کے نمائندے ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں یہ محض بحث برائے بحث کے دلائل ہیں۔آج پاکستان اور عام آدمی کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کے ذمہ دار سیاستدان ہیں جنہوں نے ملکی وسائل سے توجہ ہٹا کر قرضوں پر ہی انحصار کیا جس کا خمیازہ آج عوام بھگت رہی ہے۔

  • توکیا ہوا

    توکیا ہوا

    توکیا ہوا
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    غریب لوگوں کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تو وہ کیک کھا لیں، یہ اساطیری جملہ فرانس کی ایک ملکہ سے منسوب ہے جن کا نام میری انتونیت تھا۔یہ غیر حساس جملہ میری انتونیت نے کہا یا نہیں لیکن ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پورے ملک کے مطلق العنان بنائے گئے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ایک ایسا جملہ ضرورکہا کہ جس سے ملکہ فرانس انتونیت کی یاد تازہ ہوگئی ہے ،جب نگران وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ ہمارے نوجوان ملک چھوڑ کرجارہے ہیں تو انہوں نے اس کا جواب دیا کہ ‘ تو کیا ہوا ‘جوملک چھوڑ کرجارہے ہیں تو انہیں جانے دیں،اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے وزیراعظم کتنے سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں ،جن کے ہاتھ میں تقریباََ 24 کروڑ پاکستانیوں کی تقدیر سے کھیلنے کی باگ ڈور دے دی گئی ہے

    اس وقت پورے ملک کی عوام مہنگائی اور خاص طورپر بھاری بجلی کے بلوں کے خلاف سڑکوں پر روزانہ احتجاج کررہی ہے ،پورا ملک سراپااحتجاج ہے، 64ویں عیسوی کے ماہ جولائی میں جب روم آگ کی لپیٹ میں آیا اور 5 دن تک انتہائی خوفناک آگ روم کے بڑے حصے کے درودیوار کو خاکستر کر رہی تھی تو روایت کے مطابق اس وقت نیروایک پہاڑی پر بیٹھا بانسری بجا کر اس نظارے سے لطف اندوز ہو رہا تھاجو کہ حادثاتی طور ملک کابادشاہ بن گیا تھا،اسی طرح ہمارے ملک کے حادثاتی طور پر وزیراعظم بن جانے والے انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلزکا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے بجلی کے بلوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔انہیں عوام کی مشکلات کا ادراک ہی نہیں ہے اور وہ ہیں نیروکی طرح چین کی بانسری بجارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ‘توکیا ہوا’

    ایک خبرکے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا۔پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 91 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔اس طرح ڈالر کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی بھی ٹرپل سنچری مکمل ہوگئی ہے’توکیا ہوا’

    عوام پہلے ہی مہنگائی سے اتنا پریشان ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء ا ضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غریب عوام کو خود کشی پر مجبور کرنے کی سازش قرار دے دیا۔مہنگائی نے غربت کی چکی میں پسے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، نان شبینہ کے لیے دن بھر محنت کرنے والوں پر بجلی کے بلوں کی شکل میں ایک نئی افتاد آن پڑی ہے۔پورے ملک میں عوام سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے وزیراعظم کہتا ہے’توکیا ہوا’

    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک خاتون کارمیں بیٹھے ہوئے شخص کومتوجہ کرنے کیلئے شیشہ پر ناک کرتی ہے ،کار میں بیٹھا شخص شیشہ نیچے کرکے پوچھتا ہے جی ،تووہ خاتون کہتی ہے چلوگے صاحب، تو وہ شخص اسے سرسے پاؤں تک حیرانی سے دیکھتا ہے اور پوچھتاہے کیا لیں گی،پھراسے کارمیں بٹھاکرایک گھرمیں لے آتا ہے اسے بٹھاتاہے اورکولڈڈرنک پینے کیلئے دیتا ہے تواس خاتون کے ہاتھ کانپ رہے ہوتے ہیں ،تووہ شخص اسے تسلی دیتا ہے اور کہتا ہے تومیری بہن ہے اسے پی لو ،میں تجھے اپنی ہوس مٹانے کیلئے یہاں نہیں لایا،مجھے بتاؤ تمہاری ایسی کیا مجبوری بن گئی ہے جس کی وجہ سے تواپنی عزت بیچنے پر مجبورہوئی ہے تووہ خاتون بتاتی ہے کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے دو بچے ہیں اورایک فیکٹری میں کام کرتی ہوں اس مہینے بجلی کا بل35 ہزار روپے آیا گیا ہے ،میں کیا کروں ،بچوں کوکھاناکھلاؤں یا بجلی کا بل ادا کروں،اگربجلی کابل نہ دیا تو بجلی کاٹ دیں گے،میٹرکٹ گیا تو میں بچوں کوکہاں سے کھلاؤں گی؟،سب سے مدد مانگی،کوئی مدد نہیں کرتا،فیکٹری میں ایک بندے سے بات کی تھی ،اس نے کہا میرے ساتھ رات گذاروگی تو وہ مدد کریگا،میرے پاس تو اتناپیسے بھی نہیں کہ ایک وقت کی روٹی خریدوں، پھرمیں35 ہزار کابل کیسے جمع کراؤں،مجبورہوکراپنی عزت کاسوداکرنے نکل پڑی،

    وہ عورت کہتی ہے میں طوائف نہیں ہوں اور نہ ہی وحشیا ہوں،میں کوئی دھندہ کرنے والی نہیں ہوں،مجھے توحالات نے دھندے والی بنادیا ہے،وہ عورت کہتی ہے مجھے اپنا جسم نیلام کرکے اور دھندہ کرکے بجلی کابل جمع کروانا ہے ،یہ بل مجھ جیسی بے سہارا عورتوں کی عزتیں نیلام کرنے کیلئے بھیجے جاتے ہیں ،وہ عورت روتے ہوئے کہتی ہے خداکی قسم اگرخودکشی حرام نہ ہوتی تو میں کب کی اپنے بچوں سمیت یہ کرچکی ہوتی،میں کہاں سے اتنا بل جمع کرواؤں ،میں کس کے سامنے روؤں،میں کس کواپنی بے بسی سناؤں،یہ ایسا ویڈیو کلپ تھا جس نے ہلاکررکھ دیا ،یہاں پاکستان میں بجلی مہنگی ہے اور عزت سستی لیکن ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں ‘توکیا ہوا’

    ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹ بک بورڈ نے محکمہ سکولز ایجوکیشن کو مراسلہ جاری کیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ اگلے تعلیمی سال میں طلباء کو مفت کتابیں نہیں ملیں گی،حکومت 10 ارب روپے کی مقروض ہے کتابیں چھاپنے میں مشکلات کا سامنا ہے ،سرکاری سکولوں میں وزیروں مشیروں اور بیوروکریٹس یا سرکاری افسروں کے بچے کب پڑھتے ہیں ،عوام کے بچے ہیں انہوں نے پڑھ لکھ کر کونسا ملک کی عنان اقتدار سنبھالنا ہے ،کتابیں نہیں ملیں گیں ‘توکیا ہوا’
    لوگ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں ‘توکیا ہوا’
    ملک میں مہنگائی ہے ‘توکیا ہوا’
    لوگ بھوکے مر رہے ہیں ‘توکیا ہوا’
    لوگ خودکشیاں کررہے ہیں ‘توکیا ہوا’
    بجلی کابل جمع کرانے کیلئے بے سہاراعورتیں اپنی عزت نیلام کررہی ہیں ‘توکیا ہوا’
    اگلے تعلیمی سال میں طلبا کو مفت کتابیں نہیں ملیں گی’توکیا ہوا’
    ڈالر 300 سے اوپر چلاگیا ‘توکیا ہوا’
    پیٹرول مہنگا ہوا ‘توکیا ہوا’
    آخرمیں صرف اتنا ہی عرض کریں گے کہ ایوان اقتدار میں بیٹھے حکمرانوں ڈرو اس وقت سے جب مجبورعوام کاجم غفیر قہربن کرباہرنکلا توتمہیں خس وخاشاک کی طرح بہاکرلے جائے گا ، پھرتمہیں دنیاکی کوئی طاقت ان کے غضب سے بچا نہیں پائے گی اور تمہیں یہ کہنے کاموقع بھی نہیں ملے گا’تو کیا ہوا’

  • تبصرہ کتب ،اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟

    تبصرہ کتب ،اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟

    نام کتاب : اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں
    ناشر : دارلسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور

    مرتب : محمد حنیف شاہد
    صفحات : 416
    قیمت : 990روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب ( اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ )” Why Islam Is Our Only Choice “کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کو مرتب کرنے والے محمد حنیف شاہد ہیں جو نامور محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف اور مرتب ہیں۔ انہیں اسلام سے گہری محبت ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ تعلیم وتعلم میں صرف کیا ہے ۔ محمد حنیف شاہد کی علمی وجاہت اور قدرومنزلت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ان کی کتابیں دنیا کے معتبر کتب خانے لائبریری آف کانگریس واشنگٹن ڈی سی ( امریکہ ) میں بھی محفوظ ہیں ۔ اس کتاب میں ان خوش نصیبوں کے ذاتی تاثرات ، مشاہدات اور قیمتی خیالات جمع کئے گئے جو غیر مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے اور پھر وہ اسلام کی حقانیت وصداقت سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے اس طرح سے انھیں اسلام کی نعمت اور دولت عطا ہوئی۔ اس کتاب میں حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں نے یہ بتایا ہے کہ وہ اسلام سے اس قدر متاثر کیوں ہوئے کہ انہوں نے اپنے آباو اجداد کے مذاہب کو چھوڑنے کا بہت بڑا اور انتہائی مشکل فیصلہ کر ڈالا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اسلام ہی دین واحد ہے جسے روزانہ بہت بڑی تعداد میں لوگ قبول کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسلام قبول کرنے والوں میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہیں ۔ مگر اس کتاب میں زیادہ تر پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کی آرا ءشامل کی گئی ہیں۔

    کتاب کا انگریزی کا ترجمہ پروفیسر منور علی ملک نے کیا ہے محمد حنیف شاہد کی کتاب اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں بطور محقق ان کی زندگی بھر کی خدمت اسلام کا ایک حصہ ہے ۔یہ کتاب زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کے قبول اسلام کے حوالے سے واقعات، تجربات، سابقہ عقائد ، اسلام کے بارے میں تاثرات اور قبول اسلام کی وجوہات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں جن لوگوں کے بیانات، احساسات اور خیالات شامل کیے گئے ہیں ان میں سے اکثر اپنی قوموں کے روسا ، معززین ، دانشور، سائنسدان ، اعزاز یافتہ ، با رسوخ ، دولت مند ، عام افراد، پیشہ ور ماہرین، خواتین یہاں تک کہ اخلاق باختہ لوگ بھی شامل ہیں ۔ اس کتاب کا تحقیقی مواد کرہ ارض کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مختلف قومیتوں اور مذہب سے لیا گیا ہے ۔کتاب کاتحقیقی مواد دو صدیوں سے زائد عرصے کا احاطہ کرتا ہے ۔کتاب 6ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلے باب کا عنوان ہے ” اسلام کی آغوش میں “ اس باب میں 45افراد کے قبول اسلام کے واقعات بیان کیے گیے ہیں ۔ دوسرے باب کا عنوان ہے ” خواتین اسلام کی دہلیز پر “ اس باب میں 22خواتین کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کے ایمان افروز واقعات درج ہیں ۔ تیسرے باب کا عنوان ہے ” اسلامی عقائد اور تعلیمات کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے تاثرات “ اس باب میں 58نومسلم بہن بھائیوں کے اسلام کے بارے میں دل موہ لینے اور ایمان تازہ کردینے والے تاثرات سپرد قلم کئے گئے ہیں ۔چوتھے باب کا عنوان ہے ” اسلام کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے مختصر خیالات “ اس باب میں 18نومسلم مرد وخواتین کی آراءشامل کی گئی ہیں ۔

    پانچویں باب کا عنوان ہے ” قرآن حکیم کے بارے میں اسلام قبول کرنے والوں کے خیالات “ اس باب میں 11مرد وخواتین کے قرآن مجید کے بارے میں انتہائی خوبصورت خیالات شامل کئے گئے ہیں ۔ آخری باب کا عنوان ہے ” نبی کریم کے بارے میں نومسلموں کے خیالات “جن انتہائی قابل احترام مرد وخواتین کی آراءکتاب میں شامل کی گئی ہیں ان میں سے برطانیہ کے سٹینلے اینیان کہتے ہیں ” مجھے اسلام ہی مطلوب تھا “ ڈنمارک کے علی احمد ہولمبو کہتے ہیں ” مستقبل کا دین اسلام کے علاوہ کوئی اور نہ ہوگا “ ۔امریکہ کے کرنل راک ویل کہتے ہیں ” اعتدال اور تقوی اسلام کی کلیدی خصوصیات ہیں “ ٹی ۔ ایچ میک بارکلی کہتے ہیں ” اسلام واحد دین ہے جو جدید تہذیب کے لیے ہمیشہ قابل قبول رہے گا “ ۔ اے ایم ٹی کہتے ہیں ” میں اسلام کے لئے زندہ ہوں جو ہمیشہ قائم رہے گا “ بلجئیم کے ٹی یوڈ ڈئینیل کہتے ہیں ” صرف شریعت محمدی ہی امن وآشتی کی ضامن ہے ۔یہ تو صرف چند ایک مثالیں ہیں ساری کتاب ہی سونے پر سہاگہ ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ ان حالات میں جبکہ یورپ میں اسلام دشمنی کا عفریت انگڑائیاں لے رہا ہے ہمارے لیے اس کتاب کا مطالعہ بے حد ضروری ہے تاکہ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کا ہم شافی وکافی جواب دے سکیں ۔

  • بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    ڈان اخبار میں حالیہ شائع ہونے والے ایک مضمون میں، وزیراعظم کی جانب سے طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد تجاویز پر غور کیا گیا۔ ایک قابل ذکر تجویز میں قسطوں میں بل ادا کرنے کا اختیار شامل تھا۔ اگرچہ یہ خیال پہلی نظر میں قابل فہم معلوم ہو سکتا ہے، لیکن بغور جائزہ لینے سے بعض چیلنجوں اور پیچیدگیوں کا پتہ چلتا ہے جو اسے ناقابل عمل بنا دیتے ہیں۔

    اس کی وضاحت کے لیے، آئیے فرض کریں: 30,000 روپے ماہانہ آمدنی اور 12,000 روپے کا بل۔ اس صورت میں، بل کی ادائیگی کا %50 اگلے مہینے تک موخر کر دیا جاتا ہے۔ اگلے مہینے میں 10,000 روپے کا بل آتا ہے، جس میں مزید 50 فیصد تاخیر ہوتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، اس مہینے میں ادا کرنے کے لیے 11,000 روپے کا بل آتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، اور ممکنہ طور پر مالی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ تجویز اس کی طویل مدتی پائیداری، فرد کے مالی استحکام اور ادائیگی کی صلاحیت پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔

    فی الحال، سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ نان فائلرز کے لیے شرح کا مطلب بجلی کے بل میں شامل اضافی ٹیکس ہیڈ ہے۔ تاہم، ہر سال 12 لاکھ سے کم آمدنی والے افراد اور سالانہ 12 لاکھ سے زیادہ کمانے والے، پر ٹیکس ادا کرنے کے اہل ہونے کے درمیان فرق کرنے کا طریقہ کار ابھی تک واضح نہیں ہے۔ وضاحت کی یہ کمی ایک مزید بہتر طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیتی ہے جو ٹیکس کی پالیسیوں کو بجلی کے بلنگ کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔

    غور طلب ایک اہم نکتہ بجلی کی کھپت کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا نظام ہے۔ یہ نظام ایک ایسا طریقہ استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی کھپت کی شرح میں اضافہ ہے۔ منصفانہ اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے، ابتدائی یونٹس کے استعمال پر بجلی کے استعمال کے لیے فلیٹ ریٹ متعارف کرانا سمجھداری کا کام ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ نہ صرف بلنگ کو آسان بناتی ہے بلکہ صارفین کے لیے ٹیکسوں میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (XWDISCOs) کی طرف سے ہونے والے نقصانات کے مسئلے کو حل کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کمپنیوں کو بجلی چوری، لائن لاسز اور ناکافی وصولیوں کی وجہ سے 150 ارب روپے کے سالانہ نقصانات کا سامنا ہے۔ ان نقصانات کو ادائیگی کرنے کے لئے اسے صارفین پر مستقل طور پر منتقل کرنے کے بجائے، حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے حل کو ترجیح دے جو ان بنیادی مسائل کو براہ راست نشانہ بناتے ہوں۔ روک تھام اور احتساب پر توجہ دے کر، قانون کی پابندی کرنے والے صارفین پر بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ (ایکسپریس ٹریبیون، 2022) ان مسائل کے حل کو روایتی طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، خسارہ کو بل ادا کرنے والوں تک پہنچایا جاتا رہا ہے۔

    آخر کار یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بجلی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات کی بنیادی وجوہات کو حل کرے اور ایسے ٹھوس اقدامات پیش کرے جو صارفین پر سے واقعی بوجھ کو کم کریں۔ بامعنی اور موثر حل کے بغیر، یہ مسئلہ برقرار رہے گا، جس سے شہریوں کو حقیقی ریلیف کے بغیر انہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • تشدد کے سائے اور گھریلو ملازمین کی حالت زار

    تشدد کے سائے اور گھریلو ملازمین کی حالت زار

    آج کل جج کی بیوی کے ہاتھوں ایک کم عمر ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کی خبروں اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر یک طرفہ مؤقف نے ہر زی شعور کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو گی جلد سامنے آ جائے گی۔گھریلو خواتین کو ملازمہ کی ضرورت رہتی ہے اور شاید ہی کوئی بد بخت ہو جو اپنے گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھے۔ ایک خاتون ہونے کے ناطے یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کسی بھی خاتون خانہ کو ملازمہ پر ہاتھ اٹھانے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی ہے عام طور پر ایک طرف بہت کم تنخواہ پر ملازمہ رکھتے ہیں دن بھر اس سے کام لیتے ہیں اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اپنے پورے عروج پر ہیں۔مجھے بھی ایسا ہی ایک واقعہ یاد ہے جب ہماری پڑوسن نے محض فریج میں سے ایک سیخ کباب کھانے پر اپنی ملازمہ کو ایک انتہائی سرد شام گھر سے نکال دیا اور اسے رات پارک میں بسر کرنا پڑی۔ یہ واقعہ بھی دل و دماغ کو ماؤف کر دیتا ہے۔ اب ایک سیخ کباب کھانے پر ملازمہ کو گھر سے نکال دینا کسی بھی طور عقل مندی نہیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئیے کہ درگذر کرتے ہوئے ملازمہ کو سمجھایا جائے یا پھر اگر اسے بھی وہی کھانے کو دے دیا جائے جو گھر کے مکین کھاتے ہیں تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی؟ بطور جج کی اہلیہ کی خبروں نے بہت سے قصے تازہ کر دئیے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین پرتشدد جیسے عام سی بات ہو،دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی حالیہ برسوں میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کے واقعات میں پریشان کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غربت اور استحصال کے چکر میں پھنسے ہوئے، یہ کمزور افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اپنے مالکوں کے ہاتھوں جسمانی، زبانی اور جنسی استحصال کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کی حالت زار کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں کچھ پیش رفت کے باوجود، پاکستان میں گھریلو ملازمین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔گھریلو ملازمین پاکستان بھر میں لاکھوں گھرانوں کی زندگیوں میں ایک ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر غریب دیہی علاقوں سے آنے والے کام کے مواقع کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ افسوسناک طور پروہ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ذریعہ بدسلوکی کا شکار پاتے ہیں جو انہیں ملازمت دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 فیصد گھریلو ملازمین تشدد کا شکار ہیں، اور بے شمار دیگر افراد کو استحصال، کم اجرت اور کام کے نامناسب حالات کا سامنا ہے۔
    پاکستان میں گھریلو ملازمین مختلف قسم کے تشدد کا شکار ہیں۔ جیسے جسمانی زیادتی، بشمول مارنا پیٹنا اور یہاں تک کہ جلانا، افسوسناک طور پر عام ہے۔ زبانی بدسلوکی، توہین آمیز تبصرے، اور دھمکیاں جو ان کے دکھوں میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ جنسی طور پر ہراساں کرنا بھی ایک عام سی بات ہے، بہت سے گھریلو ملازمین اپنے آجروں اور ان کے خاندان کے افراد کی جانب سے ناپسندیدہ پیش رفت اور نامناسب رویے کو برداشت کرتے ہیں،پاکستان میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کو عام کرنے میں کئی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے سماجی اصول اور گھریلو ملازمین کو کمتر اور ڈسپوزایبل تصور کرنا ان کے کمزور ہونے میں معاون ہے۔اور تو اور قانونی تحفظ کا فقدان اور اس شعبے میں روزگار کے لیے واضح رہنما اصولوں کی عدم موجودگی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ مزید معاشرے میں خواتین کی پست حیثیت استحصال اور بدسلوکی کے کلچر کو مزید برقرار رکھتی ہے، کیونکہ بہت سے گھریلو ملازم خواتین ہیں۔ تاہم پاکستانی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ گھریلو کام کو منظم کرنے اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین بنانا۔ گھریلو ملازمین (روزگار کے حقوق) ایکٹ 2021 میں منظور کیا گیا جس کا مقصد گھریلو ملازمین کے لیے کام کے مناسب حالات اور مناسب معاوضے کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، گھریلو کام کے بہت سے انتظامات کی غیر رسمی نوعیت اور مالکان کی تعمیل کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے نفاذ ایک چیلنج بنا ہوا ہے،گھریلو ملازمین کے خلاف وسیع تشدد سے نمٹنے کے لیے، بیداری پیدا کرنا مالکان کو ملازمین کے حقوق اور ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔جو مہمات اور ورکشاپس ان کمزور افراد کی حالت زار کے بارے میں ہمدردی اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہیں، اسکے علاوہ مثبت تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے، صاحب حیثیت لوگ جو ملازم رکھنے کے خواہشمند ہو ان کو روزگار کے اخلاقی طریقوں کو اپنانا چاہیے اور گھریلو ملازمین کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے۔ منصفانہ اجرت پر عمل درآمد، مناسب حالات زندگی فراہم کرنا، اور مناسب اوقات کار کو یقینی بنانا ایک محفوظ ماحول بنا سکتا ہے، گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے سماجی، قانونی اور انفرادی سطح پر جامع کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس میں احترام اور ہمدردی کا ماحول پیدا کرنا، تعلیم اور بیداری کو فروغ دینا، مزدوری کے قوانین کو نافذ کرنا، اور ضرورت پڑنے پر گھریلو ملازمین کو انصاف تک رسائی کے لیے سپورٹ سسٹم فراہم کرنا شامل ہے۔ ان بنیادی مسائل کو حل کر کے، پاکستان ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی طرف بڑھ سکتا ہے جہاں تمام افراد کے ساتھ عزت اور انصاف کے ساتھ سلوک کیا جائے، چاہے ان کا پیشہ کچھ بھی ہو۔
    بعض لوگوں کو مؤقف ہے کہ اگرچہ ہمارے یہاں بے شمار قوانین ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔یہ بھی کسی حد تک درست ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخع قوانین پر عمل درآمد کون ممکن بنائے گا؟ ہمارے کئی ادارے بھی امراٗ کے زیر اثر آ جاتے ہیں اور یوں غریب کی شنوائی پس پشت چلی جاتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کورٹ کچہری کی بجائے ہمیں احترام اور ہمدرد بن کر سوچنے کی کوشش کرنا ہو گی۔

  • بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ

    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ

    از: صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری
    (سابق ممبر قومی اسمبلی و پنجاب اسمبلی، سابق ضلع ناظم شیخوپورہ )

    ‏مریم نواز، بلاول بھٹو، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف سارا جتھا لے کر مہنگائی مکانے آئے تھے لیکن مہنگائی مکانے کے لیے ظالموں نے عوام کو ہی ختم کرنے کا فارمولا بنادیا، اچھا ہے نہ عوام رہے گی اور نہ پھر مہنگائی۔

    بہرحال جب تک عوام ہے ان کے ریلیف کے لیے موجودہ بجلی بحران پر کچھ اہم ضروری سفارشات نگران وزیراعظم پاکستان کے سامنے پیش کر رہا ہوں جن پر عملدرآمد سے فوری طور پر بجلی بحران پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔۔
    1. ملک بھر کی مارکیٹوں کو غروبِ آفتاب کے ساتھ پابند کر دیں تا کہ صرف اور صرف دن کی روشنی میں کاروبار کیا جائے، آذان مغرب کے ساتھ ہی تمام دکانیں ماسوائے کھانے پینے کی اشیاء والی والی دکانوں کے بند کر دی جائیں اور اسی طرح آذان عشاء تک میڈیکل اسٹورز کے علاؤہ بقایا تمام دکانیں بھی مکمل طور پر بند ہو جانی چاہیں ۔ جس نے بھی خریداری کرنی ھے دن کی روشنی میں کرے۔

    2- ملک بھر میں تمام ٹرانسفارمرز کے ساتھ انفرادی میٹر لگایا جائے اور کسی ایک ریٹائرڈ محلےدار یا کسی ایک ذمہ دار فرد کو اس ٹرانسفارمر کے تمام بل جمع کرنے کی ڈیوٹی دی جائے ، جس پر مناسب اجرت دے دی جائے اس طرح ہر ٹرانسفارمر کا سارا حساب ہو تا رہے گا اور بجلی چوری گراؤنڈ لیول سے ختم ھو جائے گی ۔

    3- فیکٹریوں اور کارخانوں میں بجلی کے لوڈ کو مینج کرنے کے لیے ہفتہ وار پر ضلع کے مطابق پلان ترتیب دیا جائے اور اس کے مطابق ہر فیکٹری کو پانچ دن بغیر لوڈ شیڈنگ کے بجلی فراہم کی جائے اور باقی دو دن مختلف اضلاع میں مختلف ایام میں فیکٹریوں کو مکمل چھٹی دی جائے اور اس طرح پورے ہفتہ میں بجلی کا لوڈ ہر ضلع کے مطابق مینج ھو جائے گا۔

    4- ملک بھر میں ہر ادارے اور ہر فرد سے بجلی کی فری سہولت ختم کر دی جائے، واپڈا ملازمین سمیت تمام ادارے اپنی استعمال شدہ بجلی کا بل لازمی جمع کروائیں۔

    5- ملک بھر کی تمام عبادت گاہوں کو بجلی فری سہولت فراہم کی جائے تاکہ اجتماعی عبادتگاھوں کا بوج تمام شہری برداشت کریں۔

    یہی سفارشات 2014 میں وزیر پانی و بجلی عابد شیر علی کو بھی پیش کی مگر عملدرآمد نہ ھوا ، جو کہ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔اگر ان سفارشات پر آج بھی عمل درآمد ہو جائے تو فوری طور پر بجلی بحران پر قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

  • میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
    میں چھوٹا تھا مگر سر پہ کئی صدیوں کا سایہ تھا

    سعداللہ شاہ

    تاریخ پیدائش: 28 اگست

    ممتاز شاعر سعداللہ شاہ 28 اگست 1958 کو چشتیاں میں پیدا ہوئے۔ سعداللہ شاہ کا شمار عصرِ حاضر کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ سعداللہ شاہ نے اُردو، پنچابی اور انگریزی تین زبانوں میں شاعری کی۔ اس کے علاوہ وہ انگریزی ادب کے اُستاد اور معروف کالم نگار بھی ہیں۔ سعداللہ شاہ کے 25 سے زائد شعری مجموعے شائع ہو کر پزیرائی کی سند حاصل کر چکے ہیں۔اُن کے شعری مجموعوں "تمھی ملتے تو اچھا تھا” ، "اک کمی سی رہ گئی” ، ” مجھے کچھ اور کہنا تھا” ، ” نیلے پھولوں کی بارش میں ” اور ” کتنی اُداس شام ہے” کے درجنوں ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔ سعداللہ شاہ زندگی کے شاعر ہیں۔ اُن کے ہاں بے کار فلسفوں کے بہ جائے زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کا مطالعہ، مشاہدہ اور تجزیہ نمایاں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے اشعار خواص و عوام میں یکساں مقبول ہیں۔ جہاں خواب، محبت اور اُداسی اُن کی شاعری کی نمایاں علامات ہیں وہیں مزاحمتی شاعری بھی اُن کا ایک حوالہ ہے۔ سعداللہ شاہ کے بے شمار اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں اور یہی وصف اُنھیں اپنے معاصرین میں ممتاز کرتا ہے۔

    منتخب اشعار

    اگرچہ سعد رستے میں بڑے دلکش جزیرے تھے
    مجھے ہر حال میں لیکن سمندر پار جانا تھا

    بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
    مَیں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا

    لوگ فہم و آگہی میں دُور تک جاتے مگر
    اے جمالِ یار تُو نے راستے میں دھر لیا

    مجھ کو اچھی نہیں لگتیں یہ شعوری باتیں
    ہائے بچپن کا زمانہ وہ اُدھوری باتیں

    کتنا نازک ہے وہ پری پیکر
    جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے

    بحرِ رجز میں ہوں نہ مَیں بحرِ رمل میں ہوں
    مَیں تو کسی کی یاد کے مشکل عمل میں ہوں

    مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو
    کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو

    جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے
    ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے

    تم نے کیسا یہ رابطہ رکھا
    نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا

    تُو نہ رسوا ہو اِس لیے ہم نے
    اپنی چاہت پہ دائرہ رکھا

    کہنے کو اک الف تھا مگر اب کُھلا کہ وہ
    پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ

    اے مرے دوست ذرا دیکھ مَیں ہارا تو نہیں
    میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ

    رنجشِ کارِ زیاں ، دربدری ، تنہائی
    اور دنیا بھی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ

    کارِ فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے
    آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو

    اپنا مسکن مری آنکھوں میں بنانے والے
    خواب ہو جاتے ہیں اِس شہر میں آنے والے

    عمر گزری ہے دربدر اپنی
    ہم ہلے تھے ذرا ٹھکانے سے

    دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھے
    ابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھے

    مجھ کو میری ہی اُداسی سے نکالے کوئی
    مَیں محبت ہوں، محبت کو بچا لے کوئی

    پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں
    لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں

    کوئی پلکوں پہ لے کر وفا کے دیے
    دیکھ بیٹھا ہے رستے میں تیرے لیے

    پھر چشمِ نیم وا سے ترا خواب دیکھنا
    اور اُس کے بعد خود کو تہِ آب دیکھنا

    کتنا دشوار ہے ہر اک سے فسانہ کہنا
    کس قدر سہل ہے کہہ دینا کہ حال اچھا ہے

    مت شکایت کرو زمانے کی
    یہ علامت ہے ہار جانے کی

    وہ یہ کہتا ہے کہ انصاف ملے گا سب کو
    جس نے منصف کو بھی سولی پہ چڑھا رکھا ہے

    خود مصنف نے اُسے لا کے کہیں مار دیا
    ایک کردار جو کردار سے آگے نکلا

    اُس کی خاطر سوچنا، سوچنا بھی رات دن
    پھر بھی مجھ کو یوں لگا مَیں نے سوچا کچھ نہیں

    تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے محبت کا کمال
    جس کو چھوتی ہے اُسے خواب بنا دیتی ہے

    بے ربط کر کے رکھ دیے اُس نے حواس بھی
    جتنا وہ دُور لگتا ہے اُتنا ہے پاس بھی

    خودی کو سعد کسی مرتبے پہ لا کہ جہاں
    ادائے ناز قیام و قعود ڈھونڈتی ہے

    کون سمجھے مرا تنہا ہونا
    یہ ہے دنیا سے شناسا ہونا

    جہاں پھولوں کو کھلنا تھا وہیں کھلتے تو اچھا تھا
    تمھی کو ہم نے چاہا تھا تمھی ملتے تو اچھا تھا

  • لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ  کا  چہرہ  دیکھ کر "واہ واہ” کرتے ہیں

    لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ کا چہرہ دیکھ کر "واہ واہ” کرتے ہیں

    لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ کا چہرہ دیکھ کر "_واہ واہ” کرتے ہیں

    میں صرف 3 خواتین کو شاعر مانتی ہوں

    پاکستان میں ادب کے فروغ کیلئے ادبی اداروں کی کارکردگی زیرو ہے

    شاعری درد سے جنم لیتی ہے شوق سے نہیں
    معروف شاعرہ ثبین سیف کی کی دلچسپ باتیں

    گفتگو و تعارف: آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ ثبین سیف صاحبہ کراچی میں پیدا ہوئیں ان کا اصل نام ثبینہ پروین ہے لیکن سیف اللہ خان سے شادی کے بعد ان کی نسبت سے ثبین سیف کا نام اختیار کر لیا۔ ان کے والد کا نام سید ابن حسن صدیقی ہے وہ آرمی افسر تھے۔ ثبین کی مادری زبان اردو ہے ۔ ان کے 5 بھائی اور 3 بہنیں ہیں بڑی بہن شادی کے بعد امریکہ منتقل ہو چکی ہیں ۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں اس لیئے والدین اور بہن بھائیوں نے انہیں ایک گڑیا اور شہزادی جیسا پیار دیا ۔ اولاد میں ماشاء اللہ ان کے 2 بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ اور بچوں کے باپ ہیں ۔ ثبین کا کہنا ہے کہ میں پہلے خودکشی کرنا چاہتی تھی مگر اپنے بیٹوں کے بچوں کی وجہ سے جینا چاہتی ہوں ۔ ثبین کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔

    معروف ادیبہ اور شاعرہ فرحین چودھری کی طرح ثبین کے خیالات بھی خواتین شاعرات اور ادبی اداروں کے بارے میں کچھ مختلف ہیں ۔ ثبین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ادب کے فروغ کیلئے حکومت کی جانب سے سالانہ کروڑوں روپے مختص کئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود سرکاری ادبی اداروں کی کارکردگی ” زیرو” ہے جبکہ خواتین شاعرات کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ پاکستانی شاعرات کی اکثریت شاعر نہیں ہے وہ صرف حمیدہ شاہین ، ریحانہ روحی اور نرجس زیدی کو شاعرہ تسلیم کرتی ہیں ۔ ان کا دعوی ہے کہ اکثر خواتین صرف نام کی شاعرہ ہیں لوگ مشاعروں اور فیس بک پر ان کی شاعری کی بجائے ان کے چہروں اور تصاویر کو دیکھ کر ” واہ واہ” کی بھرپور داد دیتے ہیں ۔ ثبین مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں ۔ بیرون ممالک بھی ایسے مشاعروں میں جاتی ہیں جہاں منتظمین کی جانب سے آمد و روانگی کے ٹکٹ و قیام و طعام کا مکمل انتظام کیا جاتا ہو ان کا کہنا ہے کہ میں ان شاعروں میں سے نہیں ہوں جو بیرون ممالک کے مشاعروں کا صرف دعوت نامہ ملنے پر اپنے خرچے پر چلے جاتے ہیں ۔ اپنی شاعری کی وجہ کے بارے میں بتایا کہ شاعری شوق سے نہیں درد سے جنم لیتی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے آنسوں دیکھ کر شاعری شروع کی ہے کیوں کہ والدین کی ازدواجی زندگی بہتر نہیں تھی انہوں نے کہا کہ انسان کو شادی بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے اور پھر اس شادی کے رشتے کو عمر بھر مضبوطی کے ساتھ نبھانا چاہئے ۔ اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بھی انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ میں اپنے شوہر کے ” معیار” پر پورا نہیں اتر سکی ۔میں بی اے کر رہی تھی کہ میری شادی کر دی گئی لیکن میری شادی کا ” رزلٹ ” صحیح نہیں آیا۔ ثبین نے شادی شدہ جوڑوں اور تمام والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر اپنی شادی کے بندھن کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں کیوں کہ والدین کے مابین علیحدگی کی وجہ سے ان کے بچے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ثبین نے اس بات پر اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لوگوں کی طرف سے بہت عزت اور پیار ملتا ہے جس میں خواتین کی گرم جوشی قابل رشک ہے۔

    ثبین صاحبہ کا ایک بہت مشہور و معروف شعر

    پہلے ڈرتی تھی اک پتنگے سے
    ماں ہوں اب سانپ مار سکتی ہوں

    ایک ضروری وضاحت

    آج ثبین صاحبہ کی سالگرہ ہے لیکن ان کی طرف سے تاریخ پیدائش نہ بتانے کی وجہ سے ان کی تاریخ پیدائش نہیں لکھ سکا جبکہ ان کے وائس میسیج کی وجہ سے ان کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات نہ سمجھنے اور نوٹ نہ کر سکنے کی وجہ سے میں لکھنے سے قاصر رہا ہوں

    غزل . ثبین سیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتا
    ہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتا
    آپ اس بار بھی دیوار میں چنوا دیں مجھے
    اب کے بھی سر یہ جھکایا تو نہیں جا سکتا
    روز مرنے کا ہنر جس نے سکھایا ہے مجھے
    اس کا احسان بھلایا تو نہیں جا سکتا
    چشم بینا ہے مگر عقل سے نا بینا ہیں
    آئنہ ان کو دکھایا تو نہیں جا سکتا
    تم نے اک عمر مرے دل پہ حکومت کی ہے
    تم کو پل بھر میں بھلایا تو نہیں جا سکتا
    جن کو الفاظ سے ڈسنے کا ہنر آتا ہے
    ہاتھ اب ان سے ملایا تو نہیں جا سکتا
    جس قدر سنگ زنی چاہیے کر لیں مجھ پر
    سنگ زادی کو رلایا تو نہیں جا سکتا
    ہوں مکیں جن میں کئی سال سے زندہ لاشیں
    ان مکانوں کو سجایا تو نہیں جا سکتا
    جس کی خاموشی میں آسیب سکوں کرتے ہوں
    ایسا ویرانہ بسایا تو نہیں جا سکتا
    تو بت عشق نہیں تو تو خدا ہے میرا
    اب تجھے ہاتھ لگایا تو نہیں جا سکتا

    غزل
    ۔۔۔۔
    بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی
    گفتگو آگے بڑھائیں تو سہی
    جان جائیں گے کھرا کھوٹا ہے کیا
    آپ مجھ کو آزمائیں تو سہی
    انگلیاں اٹھیں گی چاروں آپ پر
    آپ اک انگلی اٹھائیں تو سہی
    بندہ پرور ناامیدی کفر ہے
    اک دیا پھر سے جلائیں تو سہی
    چاند تارے منتظر ہیں آپ کے
    آسماں تک آپ جائیں تو سہی
    وصل کر دے گا خزاں کو فصل گل
    پھول بالوں میں لگائیں تو سہی
    دیکھیے سنیے ارے جانے بھی دیں
    آپ میرے ساتھ آئیں تو سہی
    خود کو رکھ کر بھول بیٹھی ہوں کہیں
    میں کہاں ہوں کچھ بتائیں تو سہی
    آپ تو بس گھر بنا کر رہ گئے
    آپ اس گھر کو بسائیں تو سہی
    چٹکیوں میں بھول جاؤں گی انہیں
    اب مجھے وہ یاد آئیں تو سہی
    نیند آنکھوں سے خفا ہو جائے گی
    خواب پلکوں پر سجائیں تو سہی
    جان لے لوں گی قسم اللہ کی
    بھول کر مجھ کو بھلائیں تو سہی
    آزمانے کے لیے قسمت ثبینؔ
    دل کو داؤ پر لگائیں تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔
    پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوا
    بت کوئی میرا خدا کیسے ہوا
    آدمی بے حد برا تھا وہ مگر
    پھر اچانک وہ بھلا کیسے ہوا
    جس دئے کی آبرو تھی روشنی
    وہ طرف دار ہوا کیسے ہوا
    میں جسے سمجھی نہ تھی وہ عشق تھا
    ہاں مگر پھر وہ سزا کیسے ہوا
    آدمی سے پوچھتا ہے آدمی
    آدمی خود سے جدا کیسے ہوا
    مجھ کو آیا تھا منانے کے لیے
    کیا خبر مجھ سے خفا کیسے ہوا
    سوچتی رہتی ہوں میں اکثر ثبینؔ
    جو نہیں سوچا گیا کیسے ہوا

  • بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر ایک نگراں حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اضافے اور بے تحاشا ٹیکسوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے درمیان ملک کے داخلی معاملات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تکنیکی حل نکالنے کی کوششوں کے بجائے ٹیکسوں کی بھرمار عوام کا معاشی قتل کر رہے ہیں، ملک کا معاشی عدم استحکام برقرار ہے اور بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حالیہ برسوں میں حکومتی تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شہریوں کے لیے ایک سنگین صورتحال کا باعث بنا ہے۔

    گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی سیاسی قیادت میں تبدیلیوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا ہے، جس میں منتخب حکومتوں کی جگہ اتحادیوں اور اب نگراں انتظامیہ نے لے لی ہے۔ بدقسمتی سے، اس سیاسی ہنگامے نے معاشی عدم استحکام میں حصہ ڈالا ہے، جس میں افراط زر کی شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔خاص طور پر خوراک اور توانائی جیسے ضروری شعبوں سے منسلک ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ٹیکسوں کی بھرمار سے ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے عوام پر اہم مالی بوجھ پڑا ہے۔ الیکٹرک بل، جو کہ بہت سے شہریوں کے لیے بنیادی تشویش ہے، میں سو گنا تک اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ٹیکس کا پیچیدہ نظام ہے۔

    پاکستان میں بجلی کے بلوں میں موجود یونٹس پر آنے والے بل کا تعین اس کے استعمال کے مطابق یونٹوں کی تعداد کرتی ہے۔ سو یونٹس سے کم بجلی ٹیرف میں فی یونٹ قیمت پانچ سو یونٹ والے بل سے نسبتاً کم ہو گی۔ لیکن اسی بل میں حکومت ٹیکسوں کی مد میں جو صارفین کی جیب پر ڈاکہ ڈالتی ہے اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو فی یونٹ فنانسنگ کاسٹ چارج .43 پیسہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد شروع ہوتی ہے ٹیکسوں کی لمبی قطار۔ جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں دس فیصد سے لے کر پچیس فیصد تک، آمدنی ٹیکس بھی پانچ فیصد سے بیس فیصد، سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ یا ڈی ایم سی 1.86 سے آٹھ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر ای ڈی023. سے 23. فیصد ، الیکٹریسٹی ڈیوٹی 87. سے 2 فیصد، ایکسٹرا ٹیکس 3فیصد سے دس فیصد، گھریلو صارفین سے ٹی وی فیس 35 روپے، Further tax دو سے پانچ فیصد، آر ایس ٹیکس تین سے پانچ فیصد، ایف پی اے کا آر ایس ٹیکس 0.08 سے دو فیصد، ایف پی اے پر جی ایس ٹی0.3 سے 1 فیصد، ایف پی اے پر 0.05 فیصد Further tax, پراگ آئی ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ سے پندرہ فیصد، پراگ جی ایس ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ فیصد سے اٹھارہ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ایک فیصد سے پندرہ فیصد، ایف سی سرچارج چار سے دس فیصد، بل ایڈجسٹمنٹ پانچ سے پندرہ فیصد، ٹوٹل فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو فیصد سے دس فیصد تک ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ اگر ہم ان سب ٹیکسوں کو اکٹھا کریں تو یونٹوں کے استعمال کے حساب سے ٹوٹل پچاس فیصد سے سڑسٹھ فیصد کے درمیان ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ ان کو اگر ہم مزید مختصر کریں تو ‏آسان الفاظ میں گھریلو صارفین سے 51 روپے فی یونٹ قیمت میں، ایندھن 6 روپے، 15 روپے بجلی گھر کرایہ، 16 روپے حکومت کا ٹیکس، 6.5 روپے دوسروں کو مفت یا سستا دینے کی مد میں اور آخر میں 6.5 روپے فی یونٹ بجلی چوری ہونے کا نقصان وصول کیا جاتا ہے۔ اسی شرح سے کمرشل صارف سے 66 سے اسی روپے فی یونٹ تک قیمت وصول کی جاتی ہے۔

    ماہرین کی رائے میں ان حالات پر قابو پانے کے مختلف حل ہیں۔ جن میں سے چند نقاط پیش کئے گئے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کو ہموار کرنے سے صارفین پر بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں اور محصولات کی وسیع رینج پر دوبارہ غور کرنا، اور معقولیت کے لیے اختیارات تلاش کرنا، مجموعی اخراجات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری مہنگے جیواشم ایندھن پر انحصار کو کم کر سکتی ہے، بالآخر بجلی کی قیمتوں کو روک سکتی ہے۔ اس منتقلی کے مثبت ماحولیاتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز فوری ریلیف فراہم کر سکتی ہیں۔ تاہم، اس رعایتی عمل کو اچھی طرح سے ترتیب دیا جانا چاہیے اور مؤثر طریقے سے تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    معاشی بحالی کے لیے مستحکم سیاسی ماحول کا قیام بہت ضروری ہے۔ شفاف طرز حکمرانی اور پالیسیاں جو شہریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتی ہیں اعتماد پیدا کر سکتی ہیں اور سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہیں، جو بالآخر ترقی کا باعث بنتی ہیں۔

    توانائی کی تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور چوری کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا لاگت کو روکنے پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سرمایہ کاری اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کے معاشی چیلنجز کثیر جہتی ہیں، جو سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، اور ٹیکس کے پیچیدہ نظام سے پیدا ہوئے ہیں۔ شہریوں پر پڑنے والا بوجھ، خاص طور پر بجلی کے بے تحاشا بلوں سے، فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکس اصلاحات، توانائی کے تنوع، سبسڈی کی معقولیت، عوامی بیداری، سیاسی استحکام اور کارکردگی میں اضافہ پر مشتمل ایک جامع نقطہ نظر ضروری ہے۔ جیسے ہی قوم اس بحران سے گزر رہی ہے، پالیسی سازوں، ماہرین اقتصادیات اور شہریوں کی مشترکہ کوششیں مزید مستحکم اور خوشحال مستقبل کی جانب راہ ہموار کر سکتی ہیں