Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لاہورمیں ’’سیاسی قیامت صغریٰ‘‘تجزیہ : شہزاد قریشی

    لاہورمیں ’’سیاسی قیامت صغریٰ‘‘تجزیہ : شہزاد قریشی

    گذشتہ سے پیوستہ روز لاہور کے زمان پارک میں پاکستان تحریک انصاف اور پولیس کے درمیان جو ہنگامہ آرائی مشاہدہ کی گئی اس کے دوران ایک کارکن جاں بحق ہوا، متعدد گرفتار کیے گئے، خواتین پر بھی واٹر اور لاٹھی چارج کیا گیا، عام شہریوں کو ٹریفک جام کے عذاب میں مبتلا کیا گیا ، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور سب سے اہم بات یہ کہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے شروع کی گئی اس کی انتخابی مہم کے سامنے دفعہ 144کے نفاذ کی دیوار کھڑی کر دی گئی۔ ظاہر ہے کہ حکومت کی طرف سے تو اس قابل افسوس صورت حال کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہی عائد کی جا رہی ہے لیکن حقائق اس کی تائید سے قاصر ہیں۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ پولیس ذرائع کے مطابق ’’ہلاک ہونے والا شخص ایک پرائیویٹ گاڑی میں ہسپتال لایا گیا تھا‘‘۔ حکومت نے یہ حیرت انگیز دلیل بھی پیش کی ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین مذکورہ ریلی میں شرکت کے لیے اپنی رہائش گاہ سے باہر نہ نکلے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے شاید اسی تناظر میں یہ ارشاد فرمایا کہ اداروں کی رپورٹ کے بعد لاہور میں دفعہ 144نافذ کی گئی، عمران خان قانون سے بھاگ رہے ہیں اور اب ان کو گرفتار کر کے لانا پڑے گا۔ ایک عامی بھی ان حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ لاہور میں ہونے والی مذکورہ ہنگامہ آرائی اس لحاظ سے تو کوئی نیا واقعہ نہیں کہ ماضی میں ایسے بے شمار واقعات رونما ہو چکے البتہ اس حوالہ سے یہ واقعہ بلاشبہ فکر انگیز ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیے جانے کے بعد کسی پارٹی کی انتخابی ریلی اور مہم پر ایسی یلغار نہایت افسوسناک بلکہ شرمناک ہے۔

    ادھر ایسے ہی حالات کا سامنا مختلف شہروں(لاہور، حیدر آباد، سکھر، گھوٹکی، ملتان اور مظفر گڑھ وغیرہ )میں ان خواتین کو بھی رہا جنہوں نے عالمی یوم خواتین کے سلسلہ میں ریلی اور جلوس کا اہتمام کیا تھا۔ اس نشاندہی کی چنداں ضرورت نہیں کہ پولیس کی ایسی کارروائی سے مہذب دنیا میں وطن عزیز کا وقار اور شناخت مجروح ہوئی۔ اس روز یوں محسوس ہوا جیسے لاہور میں ’’سیاسی قیامت صغریٰ ‘‘ برپا ہو گئی ہے، خیال ہے کہ ماضی کی کسی کہانی اور داستان کو سننے اور سنانے سے گریز کرتے ہوئے درپیش حالات اور احوال کی اصلاح کی طرف توجہ دی جانی چاہیے اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوتی ہے جس میں سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا ۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ پاک سرزمین کو پولیس سٹیٹ نہ بنایا جائے اور یہ بات ہمہ وقت ذہن نشین رکھی جائے کہ قوانین عوام کے لیے ہوتے ہیں، عوام قوانین کے لیے نہیں ہوتے۔

  • حقوق پورے کہ ادھورے؟

    حقوق پورے کہ ادھورے؟

    حقوق پورے کہ ادھورے؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    اقوام عالم میں حقوق نسواں اور عورت کی آزادی کا نعرہ بہت پرانا ہے مگر ارض پاک پاکستان میں پہلی بار یہ نعرہ سنہ 2018 میں لگایا گیا تھاعورت کی نام نہاد آزادی کی خودساختہ علمبردار تنظیموں ویمن ایکشن فورم،ہم عورتیں ( وی دی ویمن) ویمن ڈیموکریٹک فورم و دیگر تنظیموں نے 8 مارچ 2018 کو عالمی یوم نسواں کے موقع پہ ملک کے مختلف شہروں میں عورتوں کے حقوق میں نعرے لگائے اور ریلیاں نکالیں جس میں انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ان پہ انتہائی گھٹیا قسم کے نعرے درج تھے جس سے اسلام کے خلاف کھلم کھلا بغض واضع ہو رہا تھا اور ل یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ عورت بہت مظلوم ہے اور مرد بہت بڑا ظالم خاص کر داڑھی والا مرد-

    حیرت کی بات کہ عورت مارچ میں مرد بھی شامل تھے جو عورت کی آزادی کی بات کرنے آئے تھےایسی نام نہاد خود ساختہ حقوق نسواں کی علمبردار عورتوں سے میرا سوال ہے کہ اگر مرد مجرم ہے عورت کا ،تو یہ ساتھ لئے پھرنے والے مرد کی جنس بدل کر ساتھ لے کر آئی ہیں آپ انہیں؟ سوچنے کی بات ہے نا؟ تو وہ بھی تو مرد ہی ہیں نا پھر ان پہ اعتراض کیوں نہیں؟

    درحقیقت وہ مرد دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ناآشنا اور عورت کی ہوس کے پجاری ہیں جو بلا تفریق بہن،بیٹی،ماں و بیوی کے عورت کو جنسی مشین سمجھتےہیں اور اصل بات صرف یہ کہ وہ نام نہاد علمبردار عورتیں عورت کو آزاد تو کروانا چاہتی ہیں مگر اسلامی رشتوں سے ناکہ وہ عورت کی عفت و پردگی کی رکھوالی ہیں-

    اگر یہ عورتیں اتنی ہی حقوق نسواں کی علمبردار ہوتیں تو بھارت میں بیوہ ہونے والی خاتون کا ساری زندگی کا پہنا جانے والا لباس اتروا کر اس بیوہ کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کی اجازت لے کر دیتی اگر یہ جعلی علمبردار اتنی ہی غیور ہوتیں تو یورو سٹیٹ کی سال 2017 کی رپورٹ پہ احتجاج کرتیں کہ جس کے مطابق یورپ میں عورت کے خلاف تشدد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور 2017 کے اعداد و شمار سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک میں سے فرانس، جرمنی اور برطانیہ میں عورتوں کے قتل کی شرح سب سے بلند ہو رہی ہے اور ان میں بھی فرانس پہلے نمبر پر ہے-

    فرانس میں ایک سال کے دوران 601 عورتوں کو قتل کر دیا گیا اور برطانیہ میں ہر تین میں سے ایک عورت کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے
    جرمنی میں 380، برطانیہ میں 227 اور اسپین میں 113 عورتیں مردوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں ہیں اٹلی میں سال 2018 کے دوران قتل ہونے والی عورتوں کی تعداد 142 رہی ہےاگر یہ جعلی علمبردار عورتیں اتنی ہی عورت کی وفادار اور درد خوار ہیں تو پاکستان میں عورتوں کی تعلیم کی خاطر کام کریں کیوں عورت کو تعلیم دلواتے اور انہیں گھر کی بنیادی چیزیں دلواتے ان کو موت پڑتی ہے؟-

    اتنی غربت ہے پاکستان میں اور عورتیں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں تب کسی حقوق نسواں کی علمبردار نے کہا کہ حقوق نسواں کی خاطر تم یہ برابری مرد کام چھوڑوں اور یہ پیسے لو ان سے اپنا گھر چلاؤ؟کبھی نہیں نا ایسا ہوا اور نا ہی ہو گا کیونکہ یہ نام نہاد جعلی علمبردار عورتوں کو دین سے دور کر رہی ہیں وگرنہ ان کو نظر آنا چائیے تھا کہ پاکستان میں عورت وزیراعظم سے لے کر ایم پی اے،ایم این تک،پائلٹ سے لے کر فوجی جنرل تک جج سے لے کر وکیل تک بن چکی ہیں اب باقی پیچھے بچا ہی کونسا عہدہ ہے اور کونسی عزت ہے جس کی خاطر یہ احتجاج کرتی ہیں؟

    عورت کے حقوق مانگنا کوئی برائی نہیں بلکہ ایک بہت اچھا قدم ہے کیونکہ اسلام نے عورت کو مرد کے مساوی پیدا کیا ہے جس کی مثال قرآن نے یہ بتائی ہے-

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا.

    ’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا، پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا
    النساء

    اللہ رب العزت نے آدم علیہ السلام ایک عظیم پیغمبر سے مرد و عورت کو پیدا کیا اب اگر کسی کو پھر بھی سمجھ نا ائے تو اپنا علاج کروائے کیونکہ عورتوں کی تکریم و عزت بارے رب نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ

    قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ

    (اے رسول مکرم!) مومنوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے پاکیزگی کا موجب ہے، اللہ اس سے واقف ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں، النور، 24

    درج بالا آیت میں رب اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ اپنی امت کے مردوں سے فرما دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں تاکہ ان کی نگاہیں عورتوں پہ نا پڑیں-

    ظاہری بات کہ اسلام میں عورت کے مقام و مرتبے کی فکر ہے تبھی تو مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے وگرنہ نیچی نگاہ رکھنے سے کچھ اور مقصود ہوتا تو چھوٹے بچوں کو بھی حکم دیا جاتا کہ وہ بھی نگاہیں نیچی رکھے-

    سو اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اسلام چاہتا ہے کہ ہر عورت چاہے وہ بوڑھی ہے یا جوان خوبصورت ہے یا قبول صورت اس پہ کسی غیر مرد کی بے جا نگاہ نا پڑےحقوق نسواں کی نام نہاد جعلی علمبرداروں ڈر جاو اپنے رب سے اور احتجاج کی آڑ میں عورت کو بےپردہ نا کرو-

  • بدلتی عالمی سیاست اورپاکستان کے حالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بدلتی عالمی سیاست اورپاکستان کے حالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    روس اور یوکرائن جنگ کے بعد عالمی دنیا کے حالات بہت بدل چکے ہیں بہت سے برطانیہ سمیت یورپی ممالک کو لگتا ہے کہ خطرہ ان کی دہلیز پر ہے بہت سے ممالک اس عالمی بحران کو حل کرنے کے لئے بیتاب ہیں لیکن ہاتھ جلائے بغیر وہ ضامن بننے میں ہچکچاتے ہیں کوئی بھی امریکہ اور روس دشمن کا سامنا کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم روس یوکرائن جنگ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد روس کی امریکہ نیوکلیئر معاہدے میں شراکت داری معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر پیوٹن نے کہا کہ نیٹو ممالک روس یوکرین تنازعہ کو عالمی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ چین نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ روس یوکرین جنگ کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش نہ کرے بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ روس اسی طرح پھر بکھر جائے گا جس طرح سوویت یونین کو افغانستان میں پھنسا کر اس کا شیرازہ بکھیر دیا گیا تھا اور وہ بالاخر روس بن گیا تھا۔ تاہم عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اس جنگ کے اثرات نے برطانیہ مغربی ممالک اور عالمی دنیا کی معیشت پر اثرات ڈالے ہیں برطانیہ سمیت مغربی ممالک میں مہنگائی نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے اس جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر معاشی انحطاط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس جنگ کے اثرات عرب ممالک سے لے کر دنیا کے دیگر ممالک پر بھی پڑے ہیں۔

    پاکستان اس وقت عالم اسلام کا واحد ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے حکمرانوں سمیت ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ان بین الاقوامی حالات کا بغور جائزہ لے کر سیاست کرنا ہوگی ملکی وقار ، ملکی سلامتی کے پیش نظر ایسے راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا جس سے عالمی سیاسی کھلاڑیوں کا مقابلہ کر سکیں، عراق، شام، سوڈان، یمن، لبنان اور افغانستان کے حالات ہمارے سامنے ہیں، کسی بھی عالمی سازش کا حصہ بننے سے ہمیں دور رہنا ہوگا ہمیں پہلے اپنے ملک کی سلامتی اپنے ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر سیاست کرنا ہوگی، ہماری معیشت اس وقت کمزور ہے ملک کی سیاسی جماعتوں کو انتقامی سیاست فوری بند کر کے مذاکرات کرنا ہونگے یہ وقت ملک میں افراتفری، جلائو گھیراؤ اور سیاسی عدم استحکام کا نہیں ہے ملکی فیصلہ ساز اداروں کو حکمرانوں سمیت اپوزیشن کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دنیا کی بدلتی ہوئی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت مذاکرات ہی واحد راستہ ہے،

  • ریاستی اداروں پر یلغارکیوں؟تجزیہ :  شہزاد قریشی

    ریاستی اداروں پر یلغارکیوں؟تجزیہ : شہزاد قریشی

    اس امر کی نشاندہی بلاشبہ قابل فخر ہے کہ وطن عزیز ایک جمہوری ملک ہے جہاں پر اگرچہ جمہوریت ابھی کسی نومولود بچے کی طرح رینگ رہی ہے لیکن یہ کسی غیر منتخب حکومت اور خاص طور پر مارشل لاء انتظامیہ سے بہرحال بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ صورت حال بھی توجہ طلب ہے کہ جملہ ریاستی ادارے یعنی انتظامیہ المعروف بیورو کریسی، مقننہ اور عدلیہ کی کارکردگی پر عوام کی طرف سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ مذکورہ ریاستی اداروں میں اگر میڈیا کو بھی شامل کیا جائے تو یہ صورت حال مزید گھمبیر محسوس ہوتی ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر ریاستی اداروں پر تنقید کا معیار اور جواز اس قدر بوسیدہ اور کم درجہ ہے کہ دور اندیش حلقوں میں اس بارے تشویش پائی جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے پر جو تنقید کرتے ہیں وہ تنقید کم اور تضحیک زیادہ ہوتی ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ سیاسی قیادت اس حوالہ سے اپنے کارکنوں کی ذہنی، فکری اور نظریاتی تربیت کا فرض ادا کرے لیکن مشاہدہ یہ کیا جا رہا ہے کہ یہ سیاسی قیادت خود بھی مذکورہ روش پر ہی گامزن ہے۔ کسی بھی دن کا اخبار ملاحظہ اور مطالعہ کیا جائے یا کسی بھی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا مشاہدہ کیا جائے تو چند منٹ میں ہی یہ افسوسناک حقیقت اجاگر ہو گی کہ سیاسی کارکردگی دراصل سیاسی شعبدہ بازی اور بازی گری میں تبدیل ہو چکی ہے۔ معلوم نہیں نام نہاد ناقدین کس طرح یہ حوصلہ رکھتے ہیں کہ وہ کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر اور اپنی شرائط پر عدلیہ سے انصاف کے حصول کا مطالبہ اور تقاضا کریں۔ اسی طرح یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ کسی انتخاب میں نتائج کی تہہ میں دفن کوئی سیاسی جماعت اپنی مد مقابل اس سیاسی جماعت کے احتساب کا مطالبہ کرے جس پر عوام نے اپنے اعتماد اور یقین کا برملا اظہار کیا ہے۔

    ایسے میں یہ مشاہدہ بھی عام ہے کہ انتظامیہ عرف بیورو کریسی کے ساتھ کسی تنازعہ اور محاذ آرائی کی صورت میں اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک اختیار کیا جاتا ہے جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ ایسے واقعات بھی اب راز نہیں رہے کہ ہماری آزادی، خود مختاری اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی مسلح افواج کے بارے میں بھی ہرزہ سرائی کی گئی۔ یہ مذموم روش سوشل میڈیا پر نمایاں دیکھی گئی۔ ارباب فکر و دانش اور خاص طور پر سیاسی اکابرین کا یہ خیال نہایت درست اور بروقت ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں اپنے ریاستی اداروں کا احترام کرنا چاہیے اور ان اداروں کو بھی پسندیدہ اور با اثر شخصیات کے اثر و رسوخ سے بے نیاز ہو کر محض خوف خدا کے تحت اپنے سرکاری فرائض سر انجام دینے چاہئیں۔ یہی وہ وقت ہے جس کے لیے فیض احمد فیض نے یہ دعا کی تھی کہ ’’میرے وطن ، تیرے دامان تار تار کی خیر ‘‘۔

  • پاکستانی شہری سلمان خان نے میراتھن میں 6 اسٹار میڈل لیکر تاریخ رقم کردی

    پاکستانی شہری سلمان خان نے میراتھن میں 6 اسٹار میڈل لیکر تاریخ رقم کردی

    پاکستانی شہری نے میراتھن میں 6 اسٹار میڈل لیکر تاریخ رقم کردی

    پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر سلمان خان نے میراتھن مقابلوں کا اہم ترین اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔ سلمان خان پہلے پاکستانی نژاد شہری ہیں جو دنیا کے 6 اہم ترین میراتھن مقابلوں کو مکمل کرنے میں کامیاب رہے. بوسٹن، لندن، برلن، شکاگو، نیویارک اور ٹوکیو میراتھن مقابلوں کو مکمل کرنے والے افراد کو ایبٹ سکس اسٹار میڈل دیا جاتا ہے۔
    https://twitter.com/WMMajors/status/1631864794209984513-
    سلمان خان نے سب سے پہلے بوسٹن میراتھن میں شرکت کی تھی اور اس کے بعد ہی انہوں نے سکس اسٹار میڈل کو اپنے نام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 5 مارچ 2023 کو ٹوکیو میراتھن ریس مکمل کرکے وہ اس میڈل کے حقدار بن گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،پنجاب حکومت
    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

    ٹوکیو میراتھن ریس سے قبل ایک انٹرویو کے دوران سلمان خان نے کہا کہ ‘سکس اسٹار میڈل میرے اور میرے ملک کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ میں اس سنگ میل کو حاصل کرنے والا پہلا پاکستانی ہوں گا’۔ انہوں نے کہا کہ اگر ممکن ہوا تو وہ 2024 میں پیرس اولمپک میراتھن مقابلے میں شریک ہونا پسند کریں گے۔

  • عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ :   شہزاد قریشی

    عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ : شہزاد قریشی
    حالیہ دنوں میں قومی سیاسی حلقوں میں جہاں انتخابات، مہنگائی اور سرکاری کفایت شعاری کے حوالہ سے بحث مباحثہ جاری ہے وہاں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سلامتی اور حفاظت کے حوالہ سے بھی اظہار خیال کیا جاتا ہے۔ اس عنوان سے تجزیئے اور تبصرہ کی نوبت اب یہاں تک آن پہنچی ہے کہ عمران خان کی زندگی کو درپیش خطرات اور خدشات کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ گذشتہ سے پیوستہ روز اسلام آباد میں سابق وزیر قانون اور اب پی ٹی آئی کے صف اول کے رہنما بابراعوان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو سنائپر یا خود کش حملے میں نشانہ بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ابھی لانگ مارچ شروع نہیں ہوا تھا کہ ہمیں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی اطلاع ملی تھی ۔ حتیٰ کہ عمران خان نے خود بھی 2 مرتبہ یہ بات دہرائی۔ بابر اعوان نے مزید کہا کہ میں نے ماضی قریب میں میڈیا کے روبرو یہ انکشاف کیا تھا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوگا جس پر بعض لوگوں نے میرا تمسخر اڑایا اور میرے اس بیان کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ میں اب دوبارہ قوم کو اس خطرہ سے آگاہ کر رہا ہوں کہ عمران خان کو سیکیورٹی کے حوالے سے تنہا کیا جارہاہے اورعمران خان کو اسلام آباد کچہری بلا کر بم سے اْڑانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے چنانچہ ہمیں یہ تحریرفراہم کی جائے کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا۔ ادھر ایک ٹویٹ میں پی ٹی آئی کے مرکزی سینئر نائب صدر فواد چوہدری اور سینئر رہنما افتخار درانی نے بھی اپنے اپنے ٹوئٹ میں بیان کیا ہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی سامنے آ چکی ہے لہذا ان کی سیکورٹی کو جامع بنایا جائے۔ اسلام آباد کچہری میں عمران خان پر سنائپر یا خود کش حملہ کروانے کی سازش ہے ، اعلیٰ عدلیہ فوری نوٹس لے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان پر یکے بعد دیگرے اور بلاجواز مقدمات اس لئے بنائے جا رہے ہیں تا کہ ان پر ایک اور قاتلانہ حملے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے جن خدشات اور خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے، ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کیا بھی نہیں جانا چاہیے کیونکہ ماضی میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ عوام کو خوب یاد ہے کہ وطن عزیز کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں (جو اب ان کے نام سے منسوب ، لیاقت باغ ہے) 16اکتوبر 1951ء کو اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا جب انہوں نے ایک جلسہ عام میں اپنے خطاب کا آغاز ہی کیا تھا۔ اسی طرح وطن عزیز کے پہلے منتخب وزیراعظم اور قائداعظم کے بعد سب سے زیادہ مقبول سیاستدان، ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979ء کو راولپنڈی میں ہی سنٹرل ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی ذہین و فطین صاحبزادی اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو 27دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے سامنے اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد واپس جا رہی تھیں۔ اب سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھیوں کی طرف سے ان کی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے تو اس پر عوام کی طرف سے تشویش پر مبنی ردعمل ایک قدرتی بات ہے۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب 3 نومبر 2022ء کو وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اس کے بعد خود عمران خان نے کئی مرتبہ یہ بیان دیا کہ ان کو منظر عام سے ہٹانے کے لیے سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان پر ہونے والے حملے کی فوری اور شفاف تفتیش کرائی جاتی لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ تفتیش کا یہ مرحلہ ابھی تک طے نہیں ہوا اور ایسے میں گرفتار شدہ ملزم کے خلاف ہنوز کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ سیاسی حریف اس واقعہ پر ایسی تبصرہ آرائی کرتے ہیں جس کو نرم سے نرم الفاظ میں شرمناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر سیاسی مخالفین کے بارے میں انتقامی جذبہ اور سلوک کا یہی عالم رہا تو اس کا نتیجہ کس صورت میں سامنے آئے گا کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ ایوان اقتدار میں کسی کا قیام بھی مستقل نہیں ہوتا ۔ دربار سے بازار تک اور بازار سے دربار تک کا سفر ہر کسی کا مقدر بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ حقیقت بھی فراموش نہ کی جائے کہ اگر وطن عزیز اپنے وزرائے اعظم کا اسی طرح مقتل بنتا رہا تو اس سے مہذب اور عالمی برادری میں ہماری شناخت اور وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

  • دوست کی بیوی سے ہوا پیار، طلاق دلوا کررچائی شادی

    دوست کی بیوی سے ہوا پیار، طلاق دلوا کررچائی شادی

    دوست کی بیوی سے ہوا پیار، طلاق دلوا کر کی شادی، ٹیم انڈیا کے اسٹار کرکٹروں کی دوستی میں دراڑ
    دنیش کارتک کو اپنی پہلی بیوی نکیتا ونجارا اور دوست مرلی وجے کے ہاتھوں بڑے دھوکے کا سامنا کرنا پڑا۔ دنیش کارتک اپنی بیوی اور سب سے اچھے دوست کی بے وفائی کی وجہ سے ٹوٹ گئے تھے۔کسی کے ساتھ اس سے بڑا دھوکہ کیا ہو گا کہ اس کا سب سے اچھا دوست ہی اس کی بیوی کے ساتھ افیئر کرلے اور اسے چھین لے۔ ٹیم انڈیا کے دو اسٹار کرکٹرز کے درمیان بھی کچھ ایسا ہی ہوچکا ہے، جو کبھی بہت خاص دوست تھے۔ دونوں نے کئی سالوں تک ایک ہی ٹیم کے لئے ایک ساتھ گھریلو کرکٹ کھیلی۔ اس دوران دونوں کی دوستی بھی خاص ہوگئی، لیکن پھر دونوں کے درمیان لو ٹرائینگل آگیا، جس نے نہ صرف ان کی دوستی ختم کر دی بلکہ ان کی زندگی بھی خراب کر دی۔

    ہندوستانی کرکٹر دنیش کارتک اور مرلی وجے ایک ایسے ہی لو ٹرائینگل میں پھنس گئے جس کے باعث ان کی دوستی ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔ ایک وقت پر دونوں بہت اچھے دوست تھے، لیکن مرلی وجے کی وجہ سے دنیش کا طلاق ہوگیا ۔ اس طلاق کے ساتھ ہی دو اچھے دوستوں کی دوستی بھی ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گئی

    سال 2012 میں کرناٹک کے خلاف تمل ناڈو وجے ہزارے ٹرافی کا ایک دلچسپ میچ کھیل رہا تھا۔ اس میچ کے دوران دنیش کارتک کو اپنی بیوی نکیتا اور دوست مرلی وجے کے معاشقہ کا علم ہوا۔ وجے اور نکیتا کے درمیان معاشقہ کا پتہ چلنے کے بعد دنیش کارتک بری طرح ٹوٹ گئے اور طلاق لینے کا فیصلہ کیا۔

    2012 میں دنیش کارتک سے طلاق کے بعد نکیتا اور مرلی وجے نے اسی سال شادی کر لی۔ 2013 میں وجے اور نکیتا کے بڑے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ کئی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ جب نکیتا نے دنیش سے طلاق لیا تو وہ حاملہ تھیں اور یہ بچہ مرلی وجے کا تھا۔ اس کے بعد نکیتا اور مرلی 2014 اور 2017 میں دوبارہ والدین بن گئے۔

    اس واقعہ کے بعد مرلی وجے اور دنیش کارتک کبھی ایک ساتھ نہیں کھیلے تھے۔ تاہم 2018 میں دونوں کو ایک ساتھ انگلینڈ کے دورے کیلئے ٹیم انڈیا میں منتخب کیا گیا تھا۔ یہ ان دونوں کیلئے بڑا عجیب لمحہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دورے پر دونوں کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی ۔
    نکیتا اور مرلی وجے سے ملے دھوکہ کے بعد دنیش کارتک کو 2015 میں سچا پیار اس وقت ملا، جب وہ ہندوستانی اسکواش کھلاڑی دیپیکا پلیکل سے ملے۔ دیپیکا کرکٹرز سے نفرت کرتی تھیں اور ان کا ماننا تھا کہ جس طرح کی شہرت انہیں ملتی ہے وہ دیگر کھلاڑیوں پر بھاری پڑ جاتی ہے۔

    تاہم دنیش کارتک کے ساتھ چند ملاقاتوں کے بعد دیپیکا ان سے متاثر ہوگئیں۔ دونوں ایک دوسرے کے پیار گرفتار ہوگئے اور ڈیٹنگ شروع کردی۔ دنیش کارتک اور دیپیکا کی شادی اگست 2015 میں ہوئی ۔ 2021 میں دنیش اور دیپیکا 2 جڑواں بیٹوں کے ماں باپ بنے۔
    (Dinesh Karthik/Instagram)

  • سورج کی ایکٹویٹی میں پریشان کن اضافہ، سائنسدانوں کا انکشافات

    سورج کی ایکٹویٹی میں پریشان کن اضافہ، سائنسدانوں کا انکشافات

    سورج کی ایکٹویٹی میں دس سالوں بعد پریشان کن اضافہ، سائنسدانوں کا اہم انکشافات
    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دس سال بعد سورج کی ایکٹویٹی میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ زمیں کے لئے مسائل کا باعث ہوسکتا ہے۔ اس حالت میں سورج پر ہونے والے دھماکوں سے زمیں پر جی پی ایس سگنلز اور پاور گرڈ وغیرہ پر اس کے اثرات ہوسکتے ہیں اور اس کا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسا ہر 11 سالوں میں ہوتا ہے۔ ماضی میں اس کے اثرات اتنے زیادہ نہیں ہوئے، تاہم اب ہمارا انحصار بجلی اور جی پی ایس پر بہت زیادہ ہے تو اب کی بار اس کے اثرات زیادہ ہوسکتے ہیں۔

    سورج کی مثال ایک پلازمہ سے بھرے گیند کی ہے جس کے وسط میں مسلسل مادہ گرم ہوتا رہتا ہے اور گرم ہونے کے بعد وہ سطح کی طرف جاتا ہے۔ سطح پر پہنچ کر یہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور پھر واپس وسط کی طرف جاتا ہے۔ اس مستقل عمل سے اس کے پولز پر طاقتور قسم کی میگنیٹک فیلڈ بن جاتی ہے۔
    سورج کی ایکٹو حالت میں یہ عمل تیزی کے ساتھ ہونے لگتا ہے جس سے اس کا نظام غیر متوازن ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سورج کی سطح پر دھماکے ہونے لگتے ہیں۔ اور وہ خلا میں ان چارگ ہوئے پارٹیکلز کو پھینکنے لگتا ہے۔ جس کے اثرات زمین پر بھی ہوتے ہیں۔

    ان پارٹیکلز کی وجہ سے سب سے زیادہ ہوائی سفر متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ یہ مواصلاتی نظام کو درہم برہم کردیتا ہے جس کی وجہ سے جہازوں کا سیٹیلائٹ اور ریڈیو رابطہ استوار نہیں ہوسکتا۔2023 کی ایک تحقیق کے مطابق پچھلے 22 سال کے ریکارڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ سورج کی بڑھی ہوئی ایکٹیویٹی کے دوران 21 فیصد فلائٹس متاثر ہوئیں۔

    اس کے علاوہ ان پارٹیکلز کی وجہ سے سمندر میں ظغیانی کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے سیلاب بھی آسکتے ہیں۔ بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خلا بازوں کے لئے مزید مشکلات کا سبب بنے گا۔ سائینسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سائنسی ترقی نے ہمیں اس قابل بنادیا ہے کہ یم پہلے سے اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے خود کو تیار کرسکتے ہیں۔ سائنسدان مستقل سورج کی حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہر طرح کے خدشات سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہیں۔

  • اردوکے معروف شاعر عزم بہزاد کا یوم وفات

    اردوکے معروف شاعر عزم بہزاد کا یوم وفات

    سامنے منزل تھی پیچھے مری آوازیں
    چلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا

    عزم بہزاد

    پیدائش:31دسمبر 1958ء
    کراچی، پاکستان
    وفات: 4مارچ 2011ء
    کراچی، پاکستان
    رشتہ دار :بہزاد لکھنوی (دادا)

    اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کا اصل نام مختار احمد تھا اور وہ 31 دسمبر 1958ءکو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور شاعر بہزاد لکھنوی کے پوتے تھے۔ ان کے والد افسر بہزاد بھی کراچی کے ممتاز شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ عزم بہزاد کو شاعری ورثے میں ملی ہے۔ ان کی شاعری کا آغاز ۱۹۷۲ء میں ہوا۔ ڈاکٹر بیتاب نظیری اور نازش حیدری سے مشورۂ سخن کیا۔ عزم بہزاد نے ہندستان کے مختلف شہروں میں اور خلیجی ریاستوں کے مشاعروں میں شرکت کی ہے۔ وہ آج کل کسی اشتہاری ایجنسی میں بطور اردو کاپی رائٹر ملاز م ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی کے اسکرپٹ بھی لکھتے ہیں۔ عزم بہزاد کی شاعری کا مجموعہ” تعبیر سے پہلے“کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔ عزم بہزاد 04 مارچ 2011ءکو اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کراچی میں وفات پاگئے۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔

    کتنے موسم سر گرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
    میں نے شاید دیر لگادی خود سے باہر آنے میں

    سامنے منزل تھی پیچھے مری آوازیں
    چلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا

    روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا
    لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا

    دریا پار اترنے والے یہ بھی جان نہیں پائے
    کسے کنارے پر لے ڈوبا پار اتر جانے کا غم

    آمادگی کو وصل سے مشروط مت سمجھ
    یہ دیکھ اس سوال پہ سنجیدہ کون ہے

    عجب محفل ہے سب اک دوسرے پر ہنس رہے ہیں
    عجب تنہائی ہے خلوت کی خلوت رو رہی ہے

    اے خواب پذیرائی تو کیوں مری آنکھوں میں
    اندیشۂ دنیا کی تعبیر اٹھا لایا

    اٹھو عزمؔ اس آتش شوق کو سرد ہونے سے روکو
    اگر رک نہ پائے تو کوشش یہ کرنا دھواں کھو نہ جائے

    سوال کرنے کے حوصلے سے جواب دینے کے فیصلے تک
    جو وقفۂ صبر آ گیا تھا اسی کی لذت میں آ بسا ہوں

    کوئی آسان رفاقت نہیں لکھی میں نے
    قرب کو جب بھی لکھا جذب رقابت لکھا

  • ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے

    ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے

    ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے
    اور غلط دیتا ہے پتا مجھ کو

    شبنم آپی

    اصل نام : شبنم سید

    تخلص:شبنم آپی
    ولدیت: سیّد معین الدین
    آبائی وطن : عثمان آباد
    جائے ولادت: عثمان آباد
    تاریخ ولادت:04 مارچ 1973ء
    تعلیم: ایم۔اے ۔ڈی۔ ایڈ
    پیشہ: معلمہ
    تلمیذ:منظر خیامی، کوکن، رائے گڈھ
    تصنیفات:افکار شبنم ۔زیر طباعت
    آغازِ تحریر: باز دہم
    پتا: خواجہ نگر گلّی نمبر ۳، اقصی چوک
    عثمان آباد مہاراشٹر انڈیا

    پذیرائی:
    ایوارڈ:Yoga, Pune-2005

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تو نے جب ہاتھ سر پہ رکھا تھا
    سرد موسم بھی آگ جیسا تھا
    کتنی ویرانیاں تھیں اس گھر میں
    جب تو پردیس جاکے رہتا تھا
    وہ نہ آیا یہ اس کی مرضی تھی
    مجھ کو بس انتظار کرنا تھا
    باغ میں جب وہ ساتھ چلتے تھے
    خار بھی پھول جیسا لگتا تھا
    ایسے میں زندگی کا حاصل کیا
    میں بھی تنہا تھی وہ بھی تنہا تھا
    بے سبب کب اداس تھی شبنم
    اس کی یادوں نے دل کو گھیرا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    اس نے کیا کیا نہ غم دیا مجھ کو
    اور پھر چھوڑ کر گیا مجھ کو
    ملنے کا وعدہ بھی وہ کرتا ہے
    اور غلط دیتا ہے پتا مجھ کو
    آج بھی اس کے گھر کی رونق ہوں
    جس نے مجبور کر رکھا مجھ کو
    میں اسے بھی دعائیں دیتی ہوں
    جو بھی دیتا ہے بد دعا مجھ کو
    خود وفــــــادار بھی نہیــں لیـــکن
    او ر کہــتا ہے بے وفــــا مجھ ـکو
    درد و غم کے سوا بھلا شبنم
    پیار میں اور کیا ملا مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    حضور دور نہ جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    میں گر گئی تو اٹھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    ہنسی کے کچھ تو اجالے مکان میں ہوں گے
    خود ہنس کے مجھ کو ہنساؤ، بڑا اندھیرا ہے
    میں اپنے حسن کی تنویر کو بڑھاؤں گی
    چراغ دل کے جلاؤ ، بڑا اندھیرا ہے
    خبر ہے مجھ کو سویرا بھی ہونے والا ہے
    ابھی نہ روٹھ کے جاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    یہ چاند دور سے کتنا حسین لگتا ہے
    اسے قریب بھی لاؤ، بڑا اندھیرا ہے
    کہ ٹوٹ جائے گی شبنم تمھارے جانے سے
    ہنساؤ یا کہ رلاؤ، بڑا اندھیرا ہے