Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آئی ایم ایف کی شرائط میں مسلسل تبدیلی، ڈار کی ناکامی؟

    آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی اگلی قسط جاری کرنے کے لئے شرائط کی تبدیلی،اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو ترک کرنے کی بات اسحاق ڈار کی ناکامی ہے،

    سینئر صحافی مبشر بخاری نے کل مجھے فون کیا اور آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی قسط میں تاخیر کے حوالہ سے بات کی، اس دوران انہوں نے ایک دلچسپ بات کی اور کہا کہ جب سوالیہ پرچہ حل کرنے لگتے ہیں تو نصاب بدل دیا جاتا ہے، ہمیں اس نقطہ نظر پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف جس نے پاکستان کو قرض دینا ہے نے کم از کم چار بار اپنا ارادہ بدلا،شرائط بدلیں، آئی ایم ایف نے قرض کے لئے حتمی معاہدے سے قبل پاکستان سے کئے گئے چار اقدامات کی تشریح بدل دی ہے ،اور نظر ثانی شدہ اقدامات کے حوالہ سے بات کی ،آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے چار شرائط رکھی

    1] پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ جس سے یقینی طور پر پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی،

    2] دوست ممالک سے بیرونی مالیاتی فرق کے لئے تحریری یقین دہانی

    3] بجلی کی قیمتوں میں تین روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافے، سرچارج چار ماہ کے بجائے مستقل بنیادوں پر کرنے کا کہا گیا ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے چار ماہ کی مدت کو آئی ایم ایف نے مسترد کیا گیا

    4] آخری افغانستان سے نمٹنے کے لیے شرح مبادلہ کا اخراج

    یہ بات کی جا رہی تھی کہ پالیسی کم آمدنی والے افراد کے لئے بہتر اور دوستانہ ہو گی لیکن ایسا نہیں ہے، جی ایس ٹی میں اضافہ سے یہ واضح ہو گیا ہے،رواں برس 16 مارچ کو پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ہر بارآئی ایم ایف کا جائزہ پروگرام ایک نیا پروگرام بن رہا ہے، یہ بہت غیر معمولی ہے،

    آئی ایم ایف کی جانب سے بار بار نئی شرائط کی وجہ سے پاکستان جس کی معاشی صورتحال دگردوں ہو چکی ہے، کو قرض فراہمی تاخیر کا شکار ہو رہی ہے،وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے واضح کہا کہ کسی کو یہ بتانے کا حق نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس کتنے میزائل ہیں یا نہیں۔ اس نے کسی کا نام نہیں لیا۔ لیکن ظاہر ہے کسی نے کیا۔ کون تھا؟

    11 اور 13 مئی 1998 کو بھارت کی جانب سے زیر زمین پانچ ایٹمی تجربات کیے گئے۔ پاکستان نے 28 مئی 1998 کو 5 اور 30 مئی کو ایک اور ٹیسٹ کے ساتھ جوابی تجربات کامیابی کے ساتھ کئے۔ بعض حلقوں میں یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ 1998 میں جب پاکستان نے یہ ٹیسٹ کیے تھے تو اس کے بعد سے ہی پاکستان کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کچھ کوششیں کی گئی تھیں۔ پاکستان کی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے بعض طاقتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے کوششیں کر سکتی ہیں ،

    پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال سب کے سامنے ہے، اس طرح کے تبصرے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    غیر یقینی صورتحال میں پالیسی سازوں کے سامنے خطرات بھی ہوتے ہیں، کیونکہ انکے پاس ماضی کی کوئی مثال نہیں ہوتی اور نہ ہی عدم فیصلہ کی آسائش

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • ملکی سیاست، جمہوریت اور جمہور کا مستقبل؟ تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    ملکی سیاست، جمہوریت اور جمہور کا مستقبل؟ تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    ملک کے وہ سیاستدان جنہوں نے جمہوریت، آئین قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جیلیں کاٹیں۔

    کوڑے کھائے۔ بدترین تشدد کا سامنا کیا ۔ جن کی تعدادسیاسی جماعتوں میں بہت کم رہ گئی ہے وہ مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ن) کے پرویز رشید سمیت چند ایک دوسرے سیاستدان اور اسی طرح پیپلزپارٹی کے سینیٹررضا ربانی سمیت چند ایک جمہوریت،آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے سیاستدان بتائیں کیا اس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی ملک میں موجود ہے؟اگر نہیں تو اس کے ذمہ دار کون ہیں ؟

    ملک کا آئین اتنا بے بس اور لاورث کیوں ہے ؟ اس آئین کو بے بس اور لاوارث بنانے میں کس کا کردار ہے؟ ملکی آئین آزادی سے سانس کیوں نہیں لے پاتا؟ آمروں نے اس آئین کو بوٹوں کے نیچے روندا اور اشرافیہ نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا؟ اگر پاکستان کے مسائل کا حل 1973 ء کے آئین میں موجود ہے تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا ؟

    ملک میں جاگیردارنہ نظام کا خاتمہ کیوں نہ ہو سکا ملک آمریت اورجمہوریت کے درمیان کیوں جھولتا رہا؟ ملک کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، سابق سینیٹر مصطفی کھوکھر کہہ رہے ہیں کہ موجودہ آئین ملک کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے ۔ کیا ملک میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے اگر پارلیمانی نظام ناکام ہوچکا ہے تو کون سا نیا نظام قائم ہوگا جس سے ملک میں قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی ، جمہور کے مسائل کا حل ہوگا؟ ایک وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    اُس کی بیٹی کو سڑک پر شہید کردیا گیا۔ نواز شریف کو تاحات نااہل کردیا گیا ۔اب عمران خان اپنی زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہے ۔عمران خان کے مطابق اُسے قتل کردیا جائے گا۔ کیا یہ اس ملک اور 22 کروڑ عوام کے ساتھ زیادتی نہیں کہ اُن کی لیڈر شپ کو عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے۔ بقول عمران خان اُن کے قتل کی سازش موجودہ وزیراعظم اور دیگر ہیں تو پھر بھٹو کے عدالتی قتل میں کون شامل تھا؟ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے تاحیات نااہلی میں کون شامل تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملکی وزرائے اعظم کے قتل اور تاحیات نااہلی میں ایک دوسر ے پر الزامات ہیں تو پھر ملکی سیاست ،جمہوریت اور جمہور کا مستقبل کیا ہوگا؟

  • ثروت اباظہ ،مصر کے ناول نگارکا یوم وفات

    ثروت اباظہ ،مصر کے ناول نگارکا یوم وفات

    تاریخ پیدائش:28 جون 1927ء
    تاریخ وفات:17 مارچ 2002ء
    شہریت:مصر
    پیشہ:مصنف

    ثروت اباظہ کا پورا نام ثروت دسوقی اباظہ ہے۔ وہ مصر کے جانے مانے صحافی اور ناول نگار تھے۔ وہ محافظہ الشرقیہ کی بڑی شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے عربی زبان و ادب کی بہت خدمت کی ہے۔ ان کا تعلق اباظہ خاندان سے ہے جو مصر کا علمی و ادبی خاندان تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے والد دسوقی اباظہ ادیب تھے اور چچا عزیز اباظہ شاعر ہیں۔ ان کے ایک اور چچا فکری اباظہ بھی ادیب اور کاتب تھے۔ ان کا شہرہ آفاق ناول” ارب من الأيام” ہے جو 1960ء کی دہائی میں ٹی وی پر بھی نشر ہوا تھا۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ثروت اباظہ نے جامعہ فواد اول سے 1950ء میں قانون میں گریجویشن کیا اور بطور وکیل اپنے کیرئر کی شروعات کی۔ وہ محض 16 برس کے تھے کہ ادب میں دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔ انہوں نے کم عمری میں ہی افسانہ لکھنا شروع کردیا تھا اور ان کی کہانی اور افسانے ریڈیو پر نشر ہونے لگے۔ اس کے بعد انھوں نے ناول کی جانب رخ کیا۔ انھوں نے ایک تاریخی قصہ” ابن عمار” لکھا اور اس کے بعد ایک ڈراما” الحیاۃ لنا” (ہماری زندگی) لکھا۔

    وہ 1974ء میں مجلہ "الاذاعہ والتلفزيون” کے رئیس التحریر بنے اور 1975ء تا 1988ء مجلہ” اہرام” کے ادبی شعبہ کے صدر رہے۔ وہ مجلس شوریٰ کے معتمد بھی رہے۔ انھوں نے متعدد ناول، قصے، فلمی کہانی، ڈراما لکھے۔ ان کے کئی ناول بعد میں فلمائے بھی گئے اور متعدد ریڈیو پر نشر ہوئے۔
    17 مارچ 2002ء کو بعمر 74 انتقال کرگئے۔

  • ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛  پاکستان کیلئے مفید

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛ پاکستان کیلئے مفید

    سنی شیعہ دشمنی نے ہمیشہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کو جنم دیا ہے جبکہ سعودی عرب اور ایران نے اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو بڑھانے کے لیے مذہبی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ہمیشہ پاکستانی میدان کو استعمال کیا ہے

    "ایران اور سعودیہ کے درمیان حالیہ دنوں ہونے والے معاہدے کیلئے چین کا شکریہ کیونکہ معاہدے کے بعد پاکستان کے دو بڑے فرقوں کے درمیان دشمنی کو ختم کرنے میں یہ بات اب کافی کارگر ثابت ہوگی اور ایک خوش آئند فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان کے اندر ایران کے بعد شیعہ برادری کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے لہذا امید ہے کہ یہ دونوں کے درمیان بہتر مذہبی رواداری کا باعث بنے گا۔”اس سے پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان زیادہ متوازن تعلقات برقرار رکھنے میں مدد ملے گی جیسے کہ موجودہ حالات ہیں سعودی عرب پاکستان کے لیے مالی طور پر بہت مددگار رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایران ایک علاقائی تجارتی پارٹنر ہے۔

    "سعودی عرب پاکستان کا مضبوط ترین حامی رہا ہے اور سعودی عرب پاکستان کو تسلیم کرنے والے اقوام متحدہ کے پہلے رکن ممالک میں شامل ہے۔ لہذا سفارتی اور مالی دونوں لحاظ سے سعودیہ نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ جو تعاون فراہم کیا اس پر کئی باب لکھے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ سعودی عرب میں اس وقت لاکھوں پاکستانی مختلف حصوں میں کام کر رہے اور برسر روزگار ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی فوجی 1960 کی دہائی سے وہاںانکی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔

    "سرکاری ذرائع کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت کا حجم تقریبا 392.08 ملین امریکی ڈالر ہے جس میں پاکستان کی ایران کو برآمد کی جانے والی 22.86 ملین ڈالر کی اشیا بھی شامل ہے علاوہ ازیں اس میں سبزیاں، کیمیکل، پھل، گوشت، چاول شامل ہیں۔ جبکہ ادھر ایران پاکستان کو کیمیائی مصنوعات، کھالیں، خام لوہا برآمد کرتا ہے۔”
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بی آر آئی جیسے منصوبے کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ تاہم اسرائیل اس معاہدے کو امریکہ کی جانب سے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اسپیس دینے کے طور پر محسوس سکتا ہے کیونکہ اس معاہدے سے ایران کو عالمی تنہائی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ لیکن اسرائیل یا اسرائیل نواز عناصر آنے والے وقتوں کو نازک بناتے ہوئے طے پانے والے معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

  • زمان پارک، حکومت کو دھمکیاں دوسری طرف جھوٹ کی بھر مار

    زمان پارک، حکومت کو دھمکیاں دوسری طرف جھوٹ کی بھر مار

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، اسلام آباد پولیس گرفتاری کے لئے آئی تو تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس کے ساتھ 20 گھنٹے تک آنکھ مچولی کی اور عمران خان کو گرفتار نہیں ہونے دیا، اس دوران تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان نہ صرف جھوٹ بولتے رہے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لیتے رہے، اتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولے گئے کہ انکو سن سن کو شاید سچ لگنے لگ جائے،

    عمران خان کے پاس کسی قسم کی حفاظتی ضمانت نہیں ہے۔ عمران خان کے گرفتاری وارنٹ 6 مارچ کیلئے جاری کیے گئے، پھر 9 مارچ کیلئے جاری کیے گئے اور پھر 13 مارچ تک کیلئے موخر کیے گئے۔ جس کا مطلب ہے کہ اب تک کسی عدالت نے عمران خان کے گرفتاری وارنٹ نہ کینسل کیے ہیں اور نہ ہی انہیں حفاظتی ضمانت دی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کا کہنا کہ وہ حفاظتی ضمانت پر ہیں اس بات کی گواہی ہے کہ وہ قانون کو اپنے پاؤں تلے روند رہے ہیں۔گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا ایک قانونی عمل ہے جس کے خلاف ہٹ دھرمی دکھانا صریحا ایک غیر قانونی حرکت ہے۔

    عمران خان اس بات پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان پر 80 کیس ہو چکے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں صرف 30 ایف آئی آریں درج ہوئی ہیں (27 اسلام آباد میں، 2 پنجاب میں اور 1 بلوچستان میں)۔یہ ایف آئی آریں حکومت نے نہیں بلکہ شہریوں کی درخواستوں پر عمران خان کے جرائم کی وجہ سے درج ہوئی ہیں۔ لہذا اس پر بھی عمران خان کو گمراہی پھیلانا بند کرنی ہوگی۔ پولیس اور رینجرز کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے۔ عمران خان کو آنسو گیس کے آلے اور بندوق میں فرق واضح طور پر سمجھنا چاہیئے۔ عمران خان نے پٹرول بموں، پتھراؤ اور خندقوں کے ذریعے اپنے گھر کو جنگجوؤں کا ایک مورچہ بنا لیا ہے۔ پارٹی کی قیادت بھی مان رہی ہے کہ کارکنوں نے پٹرول بموں کا استعمال کیا۔ یاسمین راشد کی بھی آڈیو لیک ہوئی جس میں پٹرول بم کے استعمال کا کہا گیا ہے،

    عمران خان کے گھر میں کالعدم تنظیم کے ایک کارندے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان غیر قانونی حرکات میں حدوں کو چھو رہے ہیں۔ عمران خان کے حامی اس بات کو خود مان رہے ہیں کہ تربیت یافتہ مجاہدین زمان پارک پہنچ چکے ہیں۔ عمران خان نے مشتعل مظاہرین پر فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیلوں کو اس طرح پیش کیا جیسے وہ سب ان کے گھر پر پھینکے گئے۔ یہ عالمی میڈیا کو بیوقوف بنانے کا صرف ایک حربہ ہے۔ مشتعل مظاہرین نے عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے گرین بیلٹس، بجلی کے انفراسٹرچر اور گاڑیوں کی شدید ترین توڑ پھوڑ کی اور سرکاری اہلکاروں کو بھی زخمی کیا عمران خان خود کو مظلوم دکھانا چاہ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حکومت کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • ظفر لشاری (لاشاری)  سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    یوم وفات : 16 مارچ 2020
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظفر محمود لشاری (لاشاری) 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ/ڈیرہ نواب صاحب کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی، 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس سی کے لئے داخلہ لیا لیکن ٹی بی میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی ۔ کافی عرصہ سینی ٹوریم میں زیر علاج رہے. صحت یاب ہونے پر چنی گوٹھ میں پی ٹی سی ٹیچر کے طور پر ملازمت کا آغاز کیا۔ پرائیویٹ ایم اے پنجابی، ایم اے سرائیکی اور ایم ایڈ کیا۔ ہیڈ ماسٹر بھی بنے۔ 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

    سرائیکی زبان میں پہلا ناول "نازو” انہوں نے ہی لکھا۔ یہ 1971ء میں سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور نے شائع کیا۔ دوسرا سرائیکی ناول "پہاج” 1987ء میں پنجابی ادبی بورڈ نے شائع کیا۔ افسانوں کا مجموعہ "تتیاں چھاواں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کی دوسری کتابیں "جانباز جتوئی: حیاتی تے فن” ،”خواجہ فرید کے تعلیمی نظریات” اور”سرائیکی لوک سہرے” ہیں۔ 16 مارچ 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    پیدائش:16 مارچ 1907ء
    تبریز
    وفات:05 اپریل 1941ء
    تہران
    شہریت:ایران
    زبان:فارسی
    شعبۂ عمل:شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ: ویکی پیڈیا انگلش کے مطابق تاریخ ولادت 17 مارچ 1907ء درج ہے ۔

    پروین اعتصامی بروز ہفتہ یکم صفر المظفر 1325ھ مطابق 16 مارچ 1907ء کو شہر تبریز میں پیدا ہوئیں۔ ماہر لسانیات علی اکبر دہخدا کے مطابق پروین اعتصامی کا اصل نام ” رخشندہ“ تھا۔
    والدین و حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروین کے والد اعتصام الملک مرزا یوسف اعتصامی تھے۔ پروین کے داد مرزا ابراہیم خان مصطفوی اعتصام الملک تھے جو شہر آشتیان صوبہ مرکزی سے ہجرت کرکے تبریز آ گئے تھے۔ بعد ازاں شہنشاہ نصیر الدین شاہ قاچار کے حکم پر اُنہیں وزارت خزانہ در صوبہ آذربائیجان میں مقرر کیا گیا۔ پروین کے چار بھائی تھے۔ پروین کی والدہ کا 1973ء میں اِنتقال ہوا۔
    تعلیم کا حصول
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بعد میں یہ خاندان تبریز سے تہران چلا آیا اور یہاں پروین نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تہران میں پروین نے امریکن گرلز کالج میں تحصیل علم کیا۔ 1924ء میں اِیران بیتھل اسکول سے گریجویشن کیا۔
    1926ء سے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1941ء تک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کے حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1926ء میں پروین کو اِیران کے شاہی دربار سے مستقبل کی ملکہ کی اتالیق کے عہدے کی پیشکش کی گئی مگر پروین نے اِنکار کر دیا۔ 1934ء میں پروین کی شادی ہوئی اور وہ کرمان شاہ منتقل ہوگئیں۔ مگر یہ شادی صرف دس ہفتوں تک رہ سکی اور وہ واپس تہران آگئیں۔ 1938ء- 1939ء میں وہ کافی مہینے ایک لائبریری ”دانش گاہِ سرائے عالی“ میں ملازمت کرتی رہیں جو اَب تہران کی تربیت معلم یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ 1938ء میں پروین کے والد مرزا یوسف اعتصامی آشتیانی کا اِنتقال ہوا جب پروین کی عمر 31 سال تھی۔
    پروین اعتصامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بحیثیت شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پروین سات یا آٹھ سال کی تھیں جب اُن کا شاعری میں ذوق نمایاں ہونے لگا تھا۔ اُن کے والد نے اُن کا یہ ذوق دیکھتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ 1921ء-1922ء میں اُن کی پہلی ایک شعری نظم ایک رسالہ بہار میں چھپی۔ 1935ء میں پروین کا شعری مجموعوں پر مبنی دِیوان شائع ہوا جس میں 156 نظمیں تھیں۔ اِس دیوان کے لیے ایک تقریظ مشہور فارسی شاعر محمد تقی بہار نے بھی لکھی۔
    1941ء میں پروین کے اِس دِیوان کا دوسرا ایڈیشن اُن کے بھائی مرزا ابو الفتح اعتصامی نے پروین کی وفات کے بعد شائع کیا۔ یہ ایڈیشن سابقہ کے مقابلے میں ضخیم تھا، اِس میں 209 مختلف شعری مرکبات جن میں قصیدہ، غزل، قطع اور رباعیاں شامل تھیں اور کل اشعار کی تعداد 5606 تھی۔
    اپنی مختصر سی حیات میں پروین بڑے شعرا کے مدِ مقابل آ گئی تھیں۔ اُن کی شاعری میں فارسی کے کلاسیکی دور کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ اُن کے شعری مجموعوں میں 42 قصیدے اور قطع ایسے ہیں جن کا کوئی عنوان منتخب نہیں کیا گیا۔ یہ قدیم فارسی شعرا سنائی اور ناصر خسرو کی مطابقت رکھتے ہیں۔ بعض دوسرے قصیدے فطرت، حالات زندگی کو نمایاں کرتے ہیں۔ پروین کے دِیوان میں کچھ غزلیں عشیقہ زندگی کے متعلق بھی ہیں جو اُن کے رومان پسند ہونے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
    پروین کے دِیوان میں مناظرے کی شاعری زیادہ مفصل انداز میں پائی جاتی ہے۔ مناظرے کے انداز میں کل 65 نظمیں موجود ہیں۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    پروین اعتصامی کا اِنتقال 34 سال کی عمر میں بروز ہفتہ 8 ربیع الاول 1360ھ مطابق 05 اپریل 1941ء کو شہر قم، ایران میں ہوا۔ پروین کو قم میں اُن کے والد کے قریب دفن کیا گیا۔

  • عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں عدالت نے وارنٹ جاری کیے تو عمران خان پیش نہ ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیش ہونے کا حکم دیا اسکے باوجود عمران خان عدالت نہ گئے ،عمران خان کے وارنٹ دوبارہ بحال ہوئے تو اگلے روز اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی، منگل کی شام تقریبا ساڑھے چار بجے پولیس زمان پارک پہنچی، بکتر بند گاڑی، واٹر کینن، بھاری نفری لیکن تقریبا 20 گھنٹے مسلسل جدوجہد کے باوجود عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی، کیونکہ عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے، تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان زمان پارک موجود رہتے ہیں، ممکنہ گرفتاری کی خبر پھیلنے کے بعد کارکنان کی آمد کا سلسلہ بھی بڑھ گیا، پولیس نے رات کو بھی کوشش کی لیکن گرفتاری نہ ہو سکی، صبح بھی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس کو آگے نہ بڑھنے دیا، اس دوران دونوں طرف سے آنکھ مچولی ہوتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تو پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن کا استعمال کیا، 50 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنکو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کے کارکنان بھی زخمی ہیں لیکن انکی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، فرح حبیب تو یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ کارکنوں کی موت بھی ہوئی لیکن ابھی تک کوئی لاش سامنے نہیں لائی جا سکی،

    پولیس جب زمان پارک پہنچی تو سب سے پہلے عمران خان کے قریبی افراد نے جھوٹ بولا کہ عمران خان زمان پارک نہیں ہیں، بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا عمران خان زمان پارک میں ہی موجود ہیں، عمران خان نے 20 گھنٹے تقریبا کارکنان کو ڈھال بنائے رکھا اور گرفتاری نہین دی، شاید عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت گرفتاری نہ دینے کو بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، عمران خان کی گرفتاری اگر حکومت نے کرنی ہوتی تو ایک رپورٹ کے مطابق دس منٹ میں عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا، اب ان 20 گھنٹوں میں تحریک انصاف نے لاقانونیت کی انتہا کی ہے، ایک طرف عمران خان کے وارنٹ،اور اس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں،پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس کی املاک کو آگ لگائی گئی، پولیس سے جھوٹ بولا گیا، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا، پولیس پر پٹرول بم برسائے گئے، اور اس ساری منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر عمران خان سمیت تحریک انصاف کی دیگر قیادت بھی شریک تھی، کیونکہ آج ہی یاسمین راشد اور صدر مملکت کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں یہ ساری باتیں کی گئی ہین کہ زمان پارک میں کیا ہو رہا ہے،پٹرول بم چلانے کا بھی اعتراف اس آڈیو میں ہے، صحافی محسن بلال نے بھی ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پٹرول سے بھرا ہوا ڈرم۔ زمان پارک سے مال روڈ اشارے پر پہنچایا گیا۔ جس کے بعد پولیس اور کارکنان کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ پولیس شیلنگ کرتی رہی اور تحریک انصاف کے کارکنان شیشے کی بوتلوں میں پٹرول بم پھینکتے رہے۔

    صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے کپتان کے گھر کے اندر سے کے پی کے سے آئے دہشتگرد سیکورٹی اہلکاروں پر پیڑول بم مار رہے ہیں جبکہ اہلکاروں کے پاس خالی ڈنڈے ہیں ۔

    پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری تھا تو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح فیک ویڈیوز اور فیک خبریں وائرل کرنے کی بھی کوشش کی گئی،تاہم سوشل میڈیا پر انکا مسلسل کاؤنٹر کیا جاتا رہا، اسلام آباد پولیس سے لے کر پنجاب حکومت تک سب نے فوری فیک خبروں کو کاؤنٹر کیا اورتحریک انصاف کے پروپگنڈے کو بے نقاب کیا،ان حالات میں جو تحریک انصاف نے ان 20 گھنٹوں میں کیا ایسے میں تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہلوانے کا کوئی حق نہیں رہا، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح کا تشدد نہیں کرتی اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لیتی ہے بلکہ سیاسی رہنما تو قانون پر عمل کر کے دوسروں کے لئے مثال قائم کرتے ہیں، ایسے میں قانون پر عمل کرتے ہوئے تحریک انصاف پر سے سیاسی جماعت کا لیبل ختم ہونا چاہئے اور اسے کالعدم قرار دینا چاہئے، پاکستان بڑی مشکل سے دہشت گردی سے نکلا ایسے میں پاکستان کو کسی بھی مشکل میں مزید نہیں دھکیلا جا سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ قانون کا ہاتھ قانون کے مطابق ہی رکھا جائے کسی قسم کی مزید رعایت تحریک انصاف کو مزید شدت پسندی کی طرف راغب کرے گی،

    لاہور سے صحافی نجم ولی خان کہتے ہیں کہ عمران خان غداری اور بغاوت کے لئے بچھائے گئے ٹریپ میں مکمل طور پر آ گئے ہیں۔ ان کی صفوں میں ان کے مخالفین کے ایجنٹوں نے انہیں آج "پوائنٹ آف نو ریٹرن” پر پہنچا دیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ وہ ہو گا کہ اکبر بگتی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مثالیں بھول جائیں گی۔

    نجم ولی خان مزید کہتے ہیں کہ جو عمران خان نیازی اور اس کا گروہ کر رہا ہے وہ اگر گرفتاری کی کوشش پر نوازشریف، اصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، فاروق ستار، الطاف حسین، اسفند یار ولی، آفتاب شیر پاو، سراج الحق، سعد رضوی، محمود خان اچکزئی میں سے کوئی کرتا تو ۔۔۔؟ تو کیا ہوتا؟

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ عمران نیازی اندھے پیروکاروں کے زور پہ پاکستان کا ہٹلر، پی ٹی آئی نازی پارٹی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ہٹلر کی گرم تقریروں نے جرمن قوم کو فریب میں مبتلا کیا، جج، صحافی،دانشور اور عوام اس کے جھانسے میں آئے اسے ووٹ دئیے اور اقتدار میں آ کے اسنے جرمن قوم اور دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

    ایک ٹویٹر صارف کرن نازنے لکھا کہ خان صاحب جو کرتوت خود کرتے ہیں،وہی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔کیاآپکے احکامات پر فورسز نےلبیک والوں کی گھروں کی دیواریں نہیں پھلانگی تھیں؟کیا آپ نے پولیس اور فورسز سےTLP پر سٹریٹ فائر نہیں کروائے تھے؟آپ اتنے بھولے کیوں ہیں؟فورسز کو عوام کے سامنے آپ نے کھڑا نہیں کیا؟

    https://twitter.com/kiran_Naaz12/status/1635951799822606340

    ایک صارف لکھتے ہیں کہ عمران خان معلوم انسانی تاریخ کے وہ پہلے سرخیل ہیں جنہوں نے محاذ آرائی و جنگ کی صف بندی کی ترتیب ہی الٹ کر رکھ دی ہے،پہلے جنگ میں رہنما سب آگے ہوتا تھا اس کے دائیں بائیں وزراء ہوتے تھے،پھر پیچھے گھڑ سوار سپاہی،یہاں منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ پہلی صف سے معذور و بوڑھے لیڈ کر رہے دوسری صف سے خواتین و بچے واویلا کر رہے،تیسری صف میں ہجیڑے کھڑے بدعائیں دے رہے،اور آخری صفوں سے پیچھے اوٹ میں چھپے لیڈر سے احکامات لے کر آگے پہنچاتے وزرا و مشران دکھائی دے رہے.

  • وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ :  شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    ان دنوں قومی سیاست کے میدان میں ہنگامہ آرائی ، افراتفری اور تشدد پسندی کا رجحان مشاہدہ کیا جا رہا ہے اس کا ایک نہایت قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ امن و امان قائم کرنے والے ایک اہم ریاستی ادارے یعنی پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان خونریز تصادم شروع ہو گیا ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ روز عمران خان کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ واقع زمان پارک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں پنجاب و اسلام آباد پولیس اور مذکورہ کارکنوں کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس کے حوالہ سے مذکورہ علاقہ کو میدان جنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس واقعہ کو قومی میڈیا میں تو ایک الگ انداز میں پیش اور نشر کیا گیا لیکن غیر ملکی میڈیا نے اس ضمن میں اس بات کو اہمیت اور فوقیت دی کہ حکومت کے اقدامات جمہوری روایت اور مزاج کے برعکس ہیں۔

    ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو اپنی اقتصادی اور معاشی حیثیت کو مستحکم بلکہ برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کی مالیاتی اعانت کی اشد ضرورت ہے ، امن و امان کی صورت حال کا تیزی کے ساتھ ابتراوربے قابو ہونا کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ غیر ملکی میڈیا نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے وفاقی دارالحکومت ، اسلام آباد کی پولیس اور پنجاب پولیس نے مشترکہ طور پر جو کارروائی کی، وہ نہایت افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔ دراصل مذکورہ غیرملکی میڈیا وطن عزیز کی سیاسی حرکیات اورریاستی اقدامات کو اپنے احوال اور معیارات کے مطابق دیکھتا ہے اور ایسے میں اس کی مایوسی نہایت درست محسوس ہوتی ہے۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مغربی میڈیا سے مغربی پالیسی سازادارے اورشخصیات کسی حد تک ضرور متاثر ہوتے ہیں چنانچہ وطن عزیز کے دلخراش واقعات اس تناظر میں بھی نہایت غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ وقت کا اہم ترین تقاضا اب یہی ہے کہ سیاست دان اس حقیقت کا ادراک کریں کہ اگر مستقبل کی سیاست کو جمہوریت کے اندازاوررنگ میں محفوظ کرنا ہے تو اس کے لیے باہمی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ایک عامی بھی اس بات کا اقرار اور احساس کرتا ہے کہ اس وقت اصل مسئلہ داخلی سیاسی حالات اور امن و امان کا ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر تعمیر و ترقی کے سلسلہ کا انحصار ہے۔ خود وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اس بات کا دو ٹوک الفاظ میں اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کو اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران جس سوال اور استفسار کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے ان کا تعلق داخلی حالات سے ہے۔ یہ بات بھی نہایت فکر انگیز اور قابل توجہ ہے کہ اب اصل معاملہ جماعتی اور سیاسی امور کا نہیں بلکہ قومی اور اجتماعی امور کا ہے ۔

  • پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    ہے جس کا تخت سجدہ گاہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا

    سعادت سعید

    پیدائش:15 مارچ 1949ء
    لاہور
    شہریت: پاکستان
    مادر علمی:جامعہ پنجاب

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے معروف نقاد، شاعر اور محقق ہیں۔ آپ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور میں پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان دنوں بطور پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں، آپ انقرہ یونیورسٹی، ترکی میں اردو و پاکستان اسٹڈیز چئیر سے بھی منسلک رہے۔
    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید 15 مارچ، 1949ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ڈاکٹر اللہ دتہ (الف د) نسیم بھی اردو زبان و ادب کے استاد تھے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے ابتدائی تعلیم منٹگمری یعنی ساہیوال سے حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج، ساہیوال سے بی اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آ گئے۔ 1969ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا اور بہترین کارگردگی پر انھیں طلائی تمغے اور بابائے اردو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ 1988ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ہی اردو زبان و ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
    تدریسی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے اپنے تدریسی کیرئیر کا آغاز 1970ء میں بطور لیکچرار گورنمنٹ کالج راوی روڈ سے کیا۔ اسی سال وہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج، لائلپور سے وابستہ ہوئے۔ تین برس بعد وہ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور آ گئے، جہاں انھوں نے 1986ء تک خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں، وہ بطور اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہو کر گورنمنٹ کالج، لاہور چلے گئے۔ 1995ء میں ان کا بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر انتخاب ہوا اور چار برس بعد وہ اردو و پاکستان اسٹڈیز چیئر، انقرہ یونیورسٹی کے لیے منتخب ہو کر ترکی چلے گئے۔ وطن واپس آ کر وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے بطور پروفیسر منسلک ہو گئے، جہاں انھوں نے صدر شعبۂ اردو کے طور پر بھی کام کیا۔ 2009ء سے تا حال وہ مذکورہ یونیورسٹی سے بطور سینئر وزٹنگ پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    (1) کجلی بن (نظموں کا مجموعہ)
    سنگ میل ،لاہور، 1988ء
    (2)اقبال اور مجلہ ساہیوال
    بزم اقبال، لاہور، 1989ء
    (3) تہذیب، جدیدیت اور ہم
    اقبال۔ شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1991ء
    (4) مثنوی پس چہ باید کرد اے اقوام شرق
    (اردو نثری ترجمہ)، اقبال۔
    شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1992ء
    (5) جہت نمائی،
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1995ء
    (7) فن اور خالق،چند جدید نظم گو
    شعرا کے مطالعے
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (8) ادب اور نفی ادب ،ادبی نظریہ سازی
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (9) اقبال ایک ثقافتی تناظر
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (10) چاند وقت، ترکی شاعری
    از سرپل کلفل، (ترجمہ)
    مکتبہ الفاروق، لاہور، 1998ء
    (11) فنون آشوب (طویل نظم)
    مکتبہ ابلاغ، لاہور، 2002ء
    (12) بانسری چپ ہے (شعری مجموعہ)
    دستاویز مطبوعات، لاہور، 2002ء
    (13) شناخت (شعری مجموعہ)
    مکتبہ نسیم، لاہور، 2007ء

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہا
    غافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہا
    کیا ہے جو اس نے دور بسا لی ہیں بستیاں
    آخر مرا دماغ بھی اول نہیں رہا
    لاؤ تو سرّ دہر کے مفہوم کی خبر
    عقدہ اگرچہ کوئی بھی مہمل نہیں رہا
    شاید نہ پا سکوں میں سراغ دیار شوق
    قبلہ درست کرنے کا کس بل نہیں رہا
    دشت فنا میں دیکھا مساوات کا عروج
    اشرف نہیں رہا کوئی اسفل نہیں رہا
    ہے جس کا تخت سجدہ گہہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا
    جس دم جہاں سے ڈولتی ڈولی ہی اٹھ گئی
    طبل و علم تو کیا کوئی منڈل نہیں رہا

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    مرنے کا خوف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہے
    گرفتار ہونے کا موسم
    سر قریۂ آبرو
    آفتاب ہلاکت کی صورت چمکنے لگا ہے
    شعاعوں کے نوکیلے پنجوں نے جسموں کو زخمی کیا ہے
    بھنور در بھنور روشنی کے سمندر
    طوفان قیدی ہوئے
    یہ بستی گناہوں سے معمور آفت رسیدوں کی بستی ہے
    نوزائدہ آرزو انتہاؤں کے امکاں سمیٹے
    ضمیروں میں لتھڑی جرائم زدہ خواہشوں کو
    مٹائے تو کیسے
    رگوں کے دریچوں سے لپٹی فصیلوں کو ریزوں کی صورت
    ہوا میں اچھالے تو کیسے
    کہ اس کا نوشتہ فقط از سر نو گرفتار ہونا
    نے دائروں کے تسلط میں جینا
    سیاہی کے باطن میں موجود غاروں میں رہنا
    ہلاکت کی سرچشمہ گاہوں سے
    آزاد رہنے کی عظمت سے واقف ہواؤ
    ہماری فصیلوں کی جانب بھی آؤ
    ہمیں یہ بتاؤ
    گرفتار ہونا ہمارا نوشتہ نہیں تھا
    ارادوں میں موجود طوق و سلاسل
    ہوس ناک دہشت
    تمنا کی مٹی میں فولاد ہوتے رہے ہیں
    خود اپنی توانا حقیقت
    گرفتار کرنے سے قاصر رہے میں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    اپنی محرومی کا دکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اے
    سر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کا
    منظروں کے لہو میں گھلتی غلیظ مٹی کی باتوں کا
    مرے وجود سیہ بختی میں اجڑے اشکوں کے گرد سائے قفس بنے میں
    میں دائروں کے مہین تاروں کی
    ناتمامی میں
    ریشہ ریشہ سمٹ گیا ہوں
    کہانیوں کے دبیز پردوں کی تہ میں عریاں
    تمہاری آنکھوں کی مسکراہٹ عذاب بن کر
    مرے سفر کی ہر ایک منزل میں آ چھپی ہے
    میں نوحہ لکھتا ہوں
    زرد سوچوں کا
    کالی سانسوں کا
    اپنے ہونٹوں کے شمسی لفظوں کا ذائقوں کا
    تمہارے سینے پہ کنڈلی مارے جو سانپ بیٹھا ہے
    اس کی خونی زباں کا نوحہ
    خود اپنے باطن کے خشک صحرا میں
    اجلے تاروں کی تابناکی کا
    خواہشوں سے بھری ہواؤں کی کائناتوں کا نوحہ لکھتا ہوں نوحہ خواں ہوں