Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    پیدائش:15 مارچ 1894ء
    تیجن
    وفات:03 مارچ 1974ء
    اشک آباد
    شہریت:سلطنت روس
    سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    رکن:اکیڈمی آف سائنس سویت یونین
    زبان:ترکمن زبان
    اعزازات:
    آرڈر آف لینن
    اعزاز اکتوبر انقلاب

    بردی مرادووچ قربابائیف ترکمانستان کے عوامی ادیب، ترکمانی ادب کے بانی، شاعر، ناول نگار، ڈراما نویس، صحافی اور ترکمانی ادب کے مسلم الثبوت استاد ہیں۔
    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف 03 مارچ 1894ء میں ترکمانستان میں تیجین کے پاس ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    ان کی زندگی کا راستہ بھی وہی تھا جو ان کی قوم کے لاکھوں ہنرمند سپوتوں کا تھا جنھوں عظیم اکتوبر نے زندگی کی چوٹی پر پہنچایا۔ خانہ جنگی کے برسوں میں وہ ماورائے کیسپین محاذ پر فوجی اور سیاسی کارکن تھے اور اس کے بعد انھوں نے ترکمانیہ میں سوویت اقتدار کی تعمیر کی۔
    بردی قربابائیف نے لینن گراد اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبۂ شرقیات میں تعلیم حاصل کی۔ 1924ء میں بردی قربابائیف پیشہ ور ادیب بن گئے۔ ان کا رزمیہ ناول فیصلہ کن قدم، ناول اور طویل افسانے نیبت داغ، سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان، پھٹ پڑنے والا بند، پانی کی بوند-سونے کا ریزہ، شمالی بعید کی روشنی” وغیرہ عظیم اکتوبر کے اور عوام کی جدوجہد کے فنکارانہ وقائع ہیں۔ ان کی بہت سی نظموں میں آئیلار کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ نظم حب الوطنی کی جنگ عظیم کے برسوں میں عوام کے لازوال کارناموں کے بارے میں ہے۔ انہیں بجا طور پر جدید ترکمانی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کی تخلیقات روس کی ساری قوموں اور بہت سے بیرونی مملک کے لوگوں کی دسترس میں ہیں اور وہ انہیں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔[5]آپ نے گوگول، لیرمونتوف، پشکن اور ٹالسٹائی کے تراجم ترکمانی زبان میں کیے۔ 1944ء – 1950ء تک وہ نے ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن کے صدر رہے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول اور افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    فیصلہ کن قدم
    نیبت داغ
    سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان
    پھٹ پڑنے والا بند
    پانی کی بوند-سونے کا ریزہ
    شمالی بعید کی روشنی
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔
    جرات میندوں کا گیت
    آئیلار
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔
    صدر ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن
    (1944ء -1950ء)
    رکن ترکمانی سائنس اکادمی
    نائب سپریم سوویت برائے ترکمانستان
    رکن مرکزی کمیٹی برائے 21، 22 اور
    23 ویں کانگریس برائے کمیونسٹ پارٹی بیلاروس
    رکن کمیٹی برائے اسٹالن انعام
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف کو 1948ء میں سوویت ریاستی اسٹالن انعام 1951ء میں سوویت یونین کا ریاستی انعام، سوویت یونین کا لینن انعام اور سوشلست محنت کے ہیرو کا انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکمانی ادب کے سلسلے میں آپ کی گرانقدر خدمات کے صلہ میں 1970ء میں مختوم قلی انعام بھی دیا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف اشک آباد، ترکمانستان میں 80 سال کی عمر میں 03 مارچ 1974ء کو انتقال کر گئے۔

  • نام کتاب : قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ ،مترجم : پروفیسر روشن خان کاکڑ

    نام کتاب : قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ ،مترجم : پروفیسر روشن خان کاکڑ

    نام کتاب : قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ ،مترجم : پروفیسر روشن خان کاکڑ
    صفحات : 623
    ناشر : دارالسلام لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    ہدیہ : 1750روپے
    اس وقت دنیا میں بہت سی الہامی کتابیں موجود ہیں جیسا کہ توارات انجیل ، زبوراور بائبل وغیرہ ۔ یہ ساری کتابیں تحریف شدہ ہیں اس کے باوجود ان کتابوں کے پیروکار دنیا کی تقریباََ ہر زبان میں ان کے تراجم شائع کرکے ہر خطے میں پہنچا رہے ہیں ۔ جبکہ قرآن مجید اللہ کی سچی کتاب ہے ، اپنی اصل شکل وحالت میں موجود ہے ۔ یہ تمام بنی نوع انسان کیلئے کتاب ہدایت ہے۔یہ دنیا کی واحد مقدس کتاب ہے جس میں قیامت اور اس کے بعد بھی پیش آمدہ حالات ومعاملات کے بارے میں رہنمائی کی گئی ہے ۔ جس قوم نے بھی قرآن مجید کو پڑھا سمجھا اور اس پر عمل کیا وہ دنیا میں بھی کامیاب وکامران ٹھہری اور آخرت میں بھی کامیابی ان کا مقدر بنی ہے۔ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہوا ہے مگر اللہ نے ہم مسلمانوں کی بھی یہ ذمہ داری لگائی ہے کہ ہم قرآن مجید پڑھیں ، سمجھیں یاد کریں ، اس کی تبلیغ کریں، دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع کرکے ہر خطے میں پہنچائیں تاکہ اللہ کا پیغام عام ہو اور قرآن مجید کی تعلیمات کو فروغ ملے ۔ اس میں شک نہیں کہ اس وقت دنیا میں ہزاروں زبانیں لکھی اور بولی جارہی ہیں جبکہ اربوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں لیکن یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اب تک قرآن مجید کے تراجم تقریباََ110زبانوں میں ہی ہوئے ہیں۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں قرآن مجید کے تراجم شائع کیے جائیں اور دنیا کے ہر خطے میں پہنچائے جائیں۔ کنگ فہد ہولی قرآن کمپلیکس ( سعودی عرب ) کے بعد سب سے زیادہ تراجم شائع کرنے کااعزاز دارالسلام کو حاصل ہے ۔ پنجابی بھی ایک بڑی زبان ہے ۔پاکستان میں ساٹھ فیصد لوگ پنجابی زبان سمجھتے اور بولتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پنجابی پوری اسلامی دنیا میں تیسری ، برصغیر کے مسلمانوں میں دوسری اور دنیا میں نویں بڑی زبان کا درجہ رکھتی ہے ۔ اب اللہ نے دارالسلام کو پنجابی زبان میں بھی قرآن مجید کا ترجمہ شائع کرنے کااعزاز بخشا ہے ۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ دارالسلام نے پنجابی زبان میں پہلا پنجابی ترجمہ ہے بلاشبہ اس سے قبل بھی پنجابی زبان میں قرآن مجید کے بہت سے تراجم شائع ہوچکے ہیں ۔

    تاہم تحقیق ،معیار اور عمدہ طباعت دارالسلام کا طرہ امتیاز ہے اسلئے بہر حال یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دارالسلام نے پنجابی زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کی اشاعت میں تحقیق ،معیار اور عمدہ طباعت کو قائم رکھا ہے ۔زیر نظر قرآن مجید دا پنجابی ترجمہ پروفیسر روشن خان کاکڑ نے کیا ہے ۔ روشن خان کیمسٹری کے پروفیسر رہے ہیں ۔ وہ انگلش ، اردو کے علاوہ پنجابی ادب میں بھی اچھی مہارت رکھتے ہیں ۔ سونے پر سوہاگہ یہ ہے کہ وہ عربی میں بھی کافی حد سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ان کی ایک کتاب پنجابی کے اقوال زریں پر ’’ سوہتھہ رسہ سرے تے گنڈھ ‘‘ کے نام شائع ہوکر پنجابی دان طبقہ سے داد تحسین پاچکی ہے ۔دارالسلام نے آج تک جتنے بھی قرآن مجید کے تراجم شائع کیے ہیں ہر ترجمے میں اس بات کا بہت اہتمام کیا گیا ہے کہ مترجم اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی زبان میں بھی مہارت رکھتا ہو اس لئے کہ اس کے بغیر قرآن مجید کے ترجمے کاحق ادا نہیں کیا جاسکتا ۔پروفیسر روشن خان کاکڑ ان دونوں خوبیوں سے متصف ہیں ۔ پنجابی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ ان کا دیرینہ شوق تھا انھوں نے اس پر طویل عرصہ تک کام کیاہے ۔اس ترجمہ پر نظر ثانی قاری طارق جاوید عارفی نے کی ہے جو کہ د ارالسلام کے سینئر ریسرچ سکالر ہیں ۔ پروف ریڈنگ دارالسلام سنٹر کے سکالر مختار احمد ضیا نے کی ہے ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد دارالسلام نے نہایت ہی عمدہ پیپر اور مضبوط جلدبندی کے ساتھ اسے شائع کیا ہے ۔ دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں کہ پنجابی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کرنا ہمارے لئے اعزاز ہے ۔ یہ قرآن مجید پنجابی دان طبقہ کیلئے ایک ہدیہ ہے ۔ ہماری عرصہ دراز سے پنجابی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کرنے کی خواہش تھی جوکہ الحمدللہ پوری ہوچکی ہے پنجابی زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کی اشاعت کے بعد دارالسلام کو30زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم شائع کرنے کااعزاز حاصل ہوچکا ہے جس پر ہم اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں ۔ پنجابی بولنے اور سمجھنے والوں کے لئے قرآن کا پنجابی ترجمہ یقینا فروغ پائے گا اور پنجابی سے لگائو رکھنے والے اس سے مستفید ہوں گے ۔قرآن مجید دے پنجابی ترجمہ دا ہدیہ 1750روپے ہے ۔ یہ قرآن مجید دارالسلام لوئرمال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور دستیاب ہے یا قرآن مجید براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل فون نمبر1042-37324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    افسوس صد افسوس وطن عزیز کے وقار کے قدر دان دوست ممالک نے کیا خوب خوب تحفے ہمارے غریب و عجیب حکمرانوں کے ہاتھوں بھیجے تھے۔ جن کو ہمارے ہی وطن ہماری عوام نے مسند اقتدار کی زینت بنایا تھا تاکہ وہ عوام کے حقوق کی حفاظت کریں گے لیکن توشہ خانہ کو جس بے دردی سے ہمارے نام نہاد رہبروں اوررہنمائوں نے لوٹا عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اپنی جائیدادوں ، میلوں رقبوں کی وسعتوں پر نازاں امراء اتنے ہوس پرست اور بھوکے پن کے پیکر تھے کہ کروڑوں کا مال ہزاروں میں ہضم کرتے رہے اور لوٹ لوٹ کراپنے آپ کو عوام کو آئندہ ا لیکشن پر بے وقوف بناتے رہے ۔ اب وقت آچکا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور مقتدر حلقے ایک ایسا کمیشن قائم کریں جو روز اول سے توشہ خانہ سے حاصل کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے اور اُن سے تمام تحفوں کی موجودہ قیمت وصول کی جائے اور 2 سے ضرب د ے کر تمام رقوم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اور ایسا قانون بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو قومی مفاد ،قومی املاک اور قوم کے اعتماد سے کھیلنے کی جسارت نہ ہو سکے ۔

    بیورو کریسی سمیت تمام اُن لوگوں کو کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے اس لوٹ مار میں حصہ لیا ۔ دوسری طرف سیاستدان مل کر سیاست ،جمہوریت ، آئین اور قانون کی جو قبر کھود رہے ہیں اپنے ہی ہاتھوں دفن ہونے کی انتہا کردی ہے۔ جمہوریت کی وہ کشتی جس پر سب سفر کررہے ہیںیہ اُسی کشتی میں سوراخ بھی کر رہے ہیں۔ توشہ خانہ کو چوری کا مال سمجھ کر بے دردی سے لوٹ مار کرنے والے کسی طور پرمعافی کے حقدار نہیں خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے آج اگر غریب پر زندگی حرام ہو رہی ہے مہنگائی کا جن سرکاری پالیسی کی بوتل سے باہر نکلا ہوا ہے اور لوگ اپنے بچے تک فروخت کرنے اور خود کشی پر مائل اور قائل ہو چکے ہیں تو اس کا سبب یہی شخصیات ہیں جن کو سادہ لوح اورمحب وطن عوام نے نجا ت دہندہ سمجھ کر ان کو اپنی نمائندگی کا حق عطا کیا۔ توشہ خانہ کی جاری کردہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ توشہ خانہ کے حمام میں یہ سب ننگے ہیں۔ ثابت ہو چکا یہ شخصیات ذہنی اوراخلاقی سطح پر کس قدر مفلس، کنگال اور لالچی ہیں۔ ان سے بہتر وہ مزدور ، محنت کش اور غریب شخص ہے جو دیانتداری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرکے گھر چلاتا ہے۔

  • پی ایس ایل؛ اسلام آباد یونائیٹڈ ہدف کے تعاقب میں 166 رنز بناتے ہوئے ہار گئی

    پی ایس ایل؛ اسلام آباد یونائیٹڈ ہدف کے تعاقب میں 166 رنز بناتے ہوئے ہار گئی

    اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 166 رنز بنا کر آئوٹ ہوگئی

    پاکستان سپر لیگ کےآٹھویں ایڈیشن کے 29 ویں میچ میں پشاورزلمی نےاسلام آباد یونائٹیڈ کو13 رنز شکست دے دی۔ راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم پشاور زلمی کے 180 رنز کے تعاقب میں 166 رنز پر ڈھیر ہوگئی، اسلام آباد یونائیٹڈ کی طرف سے آٹھویں نمبر پر آنے والے فہیم اشرف نے 13 گیندوں پر 38 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ رحمان اللہ گرباز 33 رنز کیساتھ نمایاں رہے۔

    پشاورزلمی کے خرم شہزاد اور سفیان مقیم نے 3،3 کھلاڑیوں کو واپسی کی راہ دکھائی جبکہ عامر جمال اور جیمز نیشم نے دو، دو کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ قبل ازیں پشاور زلمی نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 179 رنزبنائے،پشاور زلمی کی جانب سے پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد محمد حارث اور بھانوکا راجاپکسا نے شاندار 115 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم لنکن بلےباز 41 رنز بناکر وکٹ گنوا بیٹھے۔

    محمد حارث نے 39 گیندوں پر 79 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 7 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے، دیگر کھلاڑیوں میں کوئی بھی خاطر خواہ کارکردگی دیکھانے میں ناکام رہا، کپتان ٹام کوہلر کیڈمور 12، حسیب اللہ خان 10، عامر جمال 9، مجیب الرحمن 2 جبکہ جمی نیشم ایک رن بناسکے،اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے حسن علی نے 3، شاداب خان 2 جبکہ فہیم اشرف، فضل الحق فاروقی ایک ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،پنجاب حکومت
    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت
    دریں اثنا اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی میچ جیت پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کریں، اس موقع پر پشاور زلمی کے کپتان ٹام کوہلر کیڈمور نے کہا کہ میچ میں کامیابی کیساتھ پلے آف مرحلے میں رسائی چاہتے ہیں تاکہ اعتماد بحال ہوسکے۔ واضح رہے کہ لیگ راؤنڈ کا آخری میچ آج لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان شام 7 بجے شروع ہوگا،کراچی کنگز کی ٹیم پہلے ہی ایونٹ کے پلے آف مرحلے سے باہر ہوچکی ہے، انہوں نے اپنے 9 میچز کھیل کر محض 2 مقابلے جیتے جبکہ پوائنٹس ٹیبل پر انکی آخری پوزیشن ہے۔

  • طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)
    پیدائش : نومبر 1944
    وفات: 11 مارچ 2012
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماضی کی خوب صورت پاکستانی اداکارہ اور مصنفہ طاہرہ واسطی نومبر 1944 میں خوشاب /سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم خوشاب اور سرگودھا میں حاصل کی جس کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہوا۔ طاہرہ واسطی نے 1968 میں بطور اداکارہ اپنے فنی کیریئر کا آغاز سعادت حسن منٹو کے ایک ناول پر بنانے گئے ڈرامہ ” جیب کترا ” سے کیا لیکن پی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل ” آخری چٹان ” میں ملکہ ازابیل کے کردار میں انہیں لازوال شہرت ملی جس سے وہ پاکستان کی صف اول کی اداکارائوں کی فہرست میں شامل ہو گئیں ۔ 1980 میں انہوں نے معروف اداکار اور انگریزی کے نیوز کاسٹر رضوان واسطی سے شادی کی جس سے انہیں دو بچے پیدا ہوئے۔

    ان کے دونوں بچوں بیٹا عدنان واسطی اور بیٹی لیلیٰ واسطی اور ان کی بھانجی ماریہ واسطی نے بھی فن اداکاری کو اپنا لیا ۔ طاہرہ واسطی نے بطور مصنفہ کئی ڈرامے تحریر کیے جن میں ان کا لکھا ہوا مشہور ڈرامہ ” کالی دیمک ” بھی شامل ہے جو کہ انہوں نے ایڈز کے موضوع پر لکھا تھا ۔ 1980 سے 1990 تک طاہرہ واسطی پاکستان کی سب سے زیادہ مشہور و مقبول اور مصروف اداکارہ رہیں ۔ وہ 1990 میں لاہور سے کراچی منتقل ہو گئیں ۔ طاہرہ واسطی کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں ، کشکول، جانگلوس، آخری چٹان ، جیب کترا، اس کی بیوی، ٹیپو سلطان ، دل دریا دہلیز وغیرہ ہیں ۔ وہ فالج کا شکار ہو کر مختصر علالت کے بعد 11 مارچ 2012 میں کراچی میں انتقال کر گئیں ۔

  • ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں

    ہستی مل ہستی

    تاریخ ولادت:11 مارچ 1946ء
    جائے ولادت:ضلع راجسمند، راجستھان

    ہستی مل ہستی ہندی غزل میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ وہ 11 مارچ 1946 کو راجستھان کے ضلع راجسمند میں پیدا ہوئے۔ 5 دہائیوں سے زائد عرصے سے ادبی خدمات میں مصروف ہیں۔ ان کی غزلوں کو جگجیت سنگھ، پنکج ادھاس، منوہر ادھاس وغیرہ جیسے مشہور غزل گائیکوں نے گایا ہے۔ جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی یہ غزل ‘”پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے“ بہت مشہور ہوئی۔ کس سے کیا کہیں، کچھ اور طرح سے بھی، پیار کا پہلا خط وغیرہ ان کے اہم مجموعے ہیں۔ انھیں مختلف ادبی اداروں نے ایوارڈ سے نوازا جن میں مہاراشٹر ہندی ساہتیہ اکادمی سرفہرست ہے۔ یہ گزشتہ 15 سال سے زائد عرصے سے ”یوگن کاویہ“ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ نکالتے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
    نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے
    جسم کی بات نہیں تھی ان کے دل تک جانا تھا
    لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے
    گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری
    لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے
    ہم نے علاج زخم دل تو ڈھونڈ لیا لیکن
    گہرے زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ بھی چپ چاپ ہے اس بار یہ قصہ کیا ہے
    تم بھی خاموش ہو سرکار یہ قصہ کیا ہے
    صرف نفرت ہی تھی میرے لیے جن کے دل میں
    ہو گئے وہ بھی طرف دار یہ قصہ کیا ہے
    سامنے کوئی بھنور ہے نہ تلاطم پھر بھی
    چھوٹتی جائے ہے پتوار یہ قصہ کیا ہے
    بیٹھتے جب ہیں کھلونے وہ بنانے کے لیے
    ان سے بن جاتے ہیں ہتھیار یہ قصہ کیا ہے
    وہ جو قصے میں تھا شامل وہی کہتا ہے مجھے
    مجھ کو معلوم نہیں یار یہ قصہ کیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں
    ہر ایک حال میں تیور بلا کے رکھتے ہیں
    ملا دیا ہے پسینہ بھلے ہی مٹی میں
    ہم اپنی آنکھ کا پانی بچا کے رکھتے ہیں
    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں
    کہیں خلوص کہیں دوستی کہیں پہ وفا
    بڑے قرینے سے گھر کو سجا کے رکھتے ہیں
    انا پسند ہیں ہستیؔ جی سچ سہی لیکن
    نظر کو اپنی ہمیشہ جھکا کے رکھتے ہیں

  • یوم وفات، ممتاز شیریں

    یوم وفات، ممتاز شیریں

    یوم وفات ممتاز شیریں

    تاریخ ولادت:12 ستمبر 1924ء
    تاریخ : وفات:11 مارچ 1973ء

    ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924ء کوہندو پور، آندھرا پردیش ، ہندستان میں پیدا ہوئیں۔ ممتاز شیریں کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا ۔اس طرح وہ بچپن ہی میں اپنے ننھیال میں رہنے لگیں۔ ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا ۔ممتاز شیریں ایک فطین طالبہ تھیں انھوں نے تیرہ (13)برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ ان کے اساتذہ ان کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کے معترف تھے ۔1941ء میں ممتاز شیریں نے مہارانی کالج بنگلور سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔1942ء میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہو گئی۔ ممتاز شیریں نے 1944ء میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے “نیا دور” کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی ۔صمد شاہین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے ۔انھوں نے وکالت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ حکومت پاکستان میں سرکاری ملازم ہو گئے۔ وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے بیورو آف ریفرنس اینڈ ریسرچ میں جوائنٹ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔ان کی سنجیدگی ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا۔ ہر جماعت میں وہ اول آتیں اور ہر مضمون میں امتحان میں وہ سر فہرست رہتیں۔ ملک کی تقسیم کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا۔ کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے نیا دور کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952ء میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور یوں یہ مجلہ اس طرح بند ہو ا کہ پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی۔ ادبی مجلہ نیادور ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا۔ ممتاز شیریں کی دلی تمنا تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کی تعلیم جاری رہے اور وہ اس عظیم جامعہ سے ڈاکٹریٹ (ڈی فل ) کریں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا۔ اس کا انھیں عمر بھر قلق رہا۔

    ممتاز شیریں نے 1942ء میں تخلیق ادب میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ان کا پہلا افسانہ انگڑائی ادبی مجلہ ساقی دہلی میں 1944ء میں شائع ہو ا تو ادبی حلقوں میں اسے زبردست پذیرائی ملی ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی کو جس مو ثر انداز میں پیش نظر رکھا ہے وہ قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ افسانہ کیا ہے عبرت کا ایک تازیانہ ہے ۔ایک لڑکی بچپن میں اپنی ہی جنس کی ایک دوسری عورت سے پیمان وفا باندھ لیتی ہے۔ جب وہ بھر پور شباب کی منزل کو پہنچتی ہے تو اس کے مزاج اور جذبات میں جو مد و جزر پیدا ہوتا ہے وہ اسے مخالف جنس کی جانب کشش پر مجبور کر دیتا ہے۔ جذبات کی یہ کروٹ اور محبت کی یہ انگڑائی نفسیاتی اعتبار سے گہری معنویت کی حامل ہے ۔بچپن کی نا پختہ باتیں جوانی میں جس طرح بدل جاتی ہیں، ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اس ا فسانے کا اہم موضوع ہے۔ مشہور افسانہ انگڑائی ممتاز شیریں کے پہلے افسانوی مجموعے اپنی نگریا میں شامل ہے ۔وقت کے ساتھ خیالات میں جو تغیر و تبدل ہوتا ہے وہ قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ بن جاتا ہے ۔یہ تجربہ جہاں جذباتی اور نفسیاتی اضطراب کا مظہر ہے وہاں اس کی تہہ میں روحانی مسرت کے منابع کا سراغ بھی ملتاہے ۔ وہ ایک مستعد اور فعال تخلیق کار تھیں ۔ان کے اسلوب کوعلمی و ادبی حلقوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔
    اردو ادب میں حریت فکر کی روایت کوپروان چڑھانے میں ممتاز شیریں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔وہ عجز و انکسار اور خلوص کا پیکر تھیں ۔ظلمت نیم روز ہو یا منٹو نوری نہ ناری ہر جگہ اسلوبیاتی تنوع کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب اور محمود ہاشمی کے اسلوب کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں ۔قدرت اللہ شہاب کی تصنیف “یا خدا” اور محمود ہاشمی کی تصنیف “کشمیر اداس ہے” کا پیرایۂ آغاز جس خلوص کے ساتھ ممتاز شیریں نے لکھا ہے وہ ان کی تنقیدی بصیرت کے ارفع معیار کی دلیل ہے ۔وطن اور اہل وطن کے ساتھ قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت ان کے قلب ،جسم اور روح سے عبارت تھی ابتدا میں اگرچہ وہ کرشن چندر کے فن افسانہ نگاری کی مداح رہیں مگر جب کرشن چندر نے پاکستان کی آزادی اور تقسیم ہند کے موضوع پر افسانوں میں کانگریسی سوچ کی ترجمانی کی تو ممتاز شیریں نے اس انداز فکر پر نہ صرف گرفت کی بلکہ اسے سخت نا پسند کرتے ہوئے کرشن چندر کے بارے میں اپنے خیالات سے رجوع کر لیااور تقسیم ہند کے واقعات اور ان کے اثرات کے بارے میں کرشن چندر کی رائے سے اختلاف کیا۔ممتاز شیریں نے اردو ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی پر جنس کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھا۔ممتاز شیریں کا تنقیدی مسلک کئی اعتبار سے محمد حسن عسکری کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ سب کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے لبریز ان کا سلوک ان کی شخصیت کاامتیاز ی وصف تھا ۔ان کے اسلوب کی بے ساختگی اور بے تکلفی اپنی مثال آپ ہے۔ زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس اور اسلوب کی ندرت کے اعجاز سے انھوں نے ادب ،فن اور زندگی کو نئے آفاق سے آشنا کیا ۔ان کے ہاں فن کار کی انا، سلیقہ اور علم و ادب کے ساتھ قلبی لگاؤ، وطن اور اہل وطن کے ساتھ والہانہ وابستگی کی جو کیفیت ہے وہ انھیں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے ۔ادب کو انسانیت کے وقاراور سر بلندی کے لیے استعمال کرنے کی وہ زبردست حامی تھیں ۔انھوں نے داخلی اور خارجی احساسات کو جس مہارت سے پیرایہ ءاظہار عطا کیا ہے وہ قابل غور ہے ۔
    ممتاز شیریں کو انگریزی ، اردو ،عربی، فارسی اور پاکستان کی متعدد علاقائی زبانوں کے ادب پر دسترس حاصل تھی ۔عالمی کلاسیک کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا تھا۔ زندگی کے نت نئے مطالب اور مفاہیم کی جستجو ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔ اپنی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی مقالات کے معجز نما اثر سے وہ قاری کو زندگی کے مثبت شعور سے متمتع کرنے کی آرزو مند تھیں۔ ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریریں ید بیضا کا معجزہ دکھاتی ہیں اور حیات و کائنات کے ایسے متعدد تجربات جن سے عام قاری بالعموم نا آشنا رہتا ہے ممتاز شیریں کی پر تاثیر تحریروں کے مطالعے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ تو گویا پہلے ہی سے اس کے نہاں خانہ دل میں جا گزیں تھا ۔اس طرح فکر و خیال کی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو تا ہے جس کی وجہ سے قاری کے دل میں اک ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے ۔ ترجمے کے ذریعے وہ دو تہذیبوں کو قریب تر لانا چاہتی تھیں۔ تراجم کے ذریعے انھوں نے اردو زبان کو نئے جذبوں، نئے امکانات، نئے مزاج اور نئے تخلیقی محرکات سے روشناس کرانے کی مقدور بھر کوشش کی ۔ان کے تراجم کی ایک اہم اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد قاری ان کے تخلیق کار کی روح سے ہم کلام ہو جاتا ہے مترجم کی حیثیت سے وہ پس منظر میں رہتے ہوئے قاری کو ترجمے کی حقیقی روح سے متعارف کرنے میں کبھی تامل نہیں کرتیں ۔ان کے تراجم سے اردو کے افسانوی ادب کی ثروت میں اضافہ ہوا اور فکر و خیال کو حسن و دلکشی اور لطافت کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے میں کامیابی ہوئی۔افسانوی ادب کی تنقید میں ممتاز شیریں کا دبنگ لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گزشتہ آٹھ عشروں میں لکھی جانے والی اردو تنقید پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی خاتون نقاد دکھائی نہیں دیتی ۔ممتاز شیریں نے اردو تنقید کے دامن میں اپنی عالمانہ تنقید کے گوہر نایاب ڈال کر اسے عالمی ادب میں معزز و مفتخر کردیا ۔ زندگی کی صداقتوں کو اپنے اسلوب کی حسن کاریوں سے مزین کرنے والی اس عظیم ادیبہ کے تخلیقی کارنامے تاریخ ادب میں آب زر سے لکھے جائیں گے اور تاریخ ہر دور میں ان کے فقیدالمثال اسلوب لا ئق صد رشک و تحسین کا م اور عظیم نام کی تعظیم کرے گی۔

    1954ء میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ا س عالمی ادبی کانفرنس میں عالمی ادب اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں وقیع مقالات پیش کیے گئے ۔ممتاز شیریں کو اس عالمی ادبی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔اس عالمی ادبی کانفرنس میں ممتاز شیریں نے دنیا کے نامور ادیبوں سے ملاقات کی اور عالمی ادب کے تناظر میں عصری آگہی کے موضوع پر ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ادب کو وہ زندگی کی تنقید اور درپیش صورت حال کی اصلاح کے لیے بہت اہم سمجھتی تھیں ۔
    اپنی تخلیقی کامرانیوں سے ممتاز شیریں نے اردو دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ۔رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ان کے توانا اور ابد آشنا اسلوب میں سمٹ آئے تھے۔ ان کی تمام تحریریں قلب اورروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثرآفرینی سے لبریز تھیں۔ ممتاز شیریں کی درج ذیل تصانیف انھیں شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں بلند مقام پر فائز کریں گی ۔
    افسانوی مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔
    اپنی نگریا
    حدیث دیگراں
    میگھ ملہار
    ظلمت نیم روز (فسادات کے افسانے) ترتیب: ڈاکٹر آصف فرخی
    تنقید
    ۔۔۔۔۔۔
    معیار
    منٹو، نوری نہ ناری
    مدیر
    ۔۔۔۔۔۔
    نیا دور (ادبی جریدہ)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔۔
    درشہوار (جان اسٹین بیک کا ناول دی پرل کا ترجمہ)
    پاپ کی زندگی ( امریکی افسانوں کا مجموعہ)
    ممتاز شیریں پر کتب
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں، ناقد، کہانی کار ، ابو بکر عباد، مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، 2006ء
    ممتاز شیریں: شخصیت و فن، ڈاکٹر تنظیم الفردوس، اکادمی ادبیات پاکستان
    ملازمت
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں حکومت پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم میں بہ حیثیت مشیر خدمات پر مامور تھیں ۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ممتاز شیریں کو 1972ء میں پیٹ کے سرطان کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔مرض میں اس قدر شدت آگئی کہ 11 مارچ 1973ء کو پولی کلینک اسلام آباد میں وہ انتقال کر گئیں ۔ تانیثیت (Feminism) کی علم بردار حرف صداقت لکھنے والی اس با کمال ،پر عزم ،فطین اور جری تخلیق کار کی الم ناک موت نے اردو ادب کو نا قابل اندمال صدمات سے دوچار کر دیا۔

  • پی ایس ایل؛ پشاور زلمی 200 سے زائد رنز بنا کر دوسری مرتبہ میچ ہار گئی

    پی ایس ایل؛ پشاور زلمی 200 سے زائد رنز بنا کر دوسری مرتبہ میچ ہار گئی

    پشاور زلمی 200 سے زائد رنز بنا کر دوسری مرتبہ میچ ہار گئی

    پاکستان سپر لیگ 8 کے اہم ترین میچ میں ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو شکست دے کر ایلیمنیٹر راؤنڈ کیلئے کوالیفائی کرلیا، بابر الیون دوسری مرتبہ 200 سے زائد رنز بنا کر میچ ہار گئی۔ جبکہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پی ایس ایل 8 کے اہم ترین میچ میں پشاور زلمی نے ملتان سلطانز کو جیت کیلئے 243 رنز کا بڑا ہدف دیا تاہم اس کے دفاع میں بابر الیون ناکام ہوگئی۔

    ملتان سلطانز نے رائیلی روسو دھواں دار بیٹنگ کی بدولت ہدف 19.1 اوورز میں 64 وکٹوں پر پورا کرلیا، رائیلی روسو نے پاکستان سپر لیگ کی تاریخ میں 41 گیندوں پر تیز ترین سنچری داغ دی، وہ 51 گیندوں پر 12 چوکوں اور 8 چھکوں کی مدد سے 121 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کیرن پولارڈ نے بھی رنز کی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور 5 چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 35 گیندوں پر 52 رنز کی اننگز کھیلی۔

    ملتان سلطانز کے اوپنرز 28 کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے، شان مسعود نے 5 اور محمد رضوان نے 7 رنز بنائے، ٹم ڈیوڈ 2، خوشدل شاہ 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ علاوہ ازیں انور علی نے 2 چھکوں اور اتنے ہی چوکوں کی مدد سے 24 اور اسامہ میر نے ایک چھکا اور ایک چوکا لگا کر 11 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلیں۔

    ملتان سلطانز کی ٹیم اس فتح کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر 10 پوائنٹس کے ساتھ پی ایس ایل کے ایلیمنیٹر مرحلے میں پہنچ گئی، ناک آؤٹ راؤنڈ تک رسائی کیلئے پشاور زلمی کو اپنا آخری میچ جیتنا لازمی ہوگیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل پشاور زلمی نے ملتان سلطانز کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 242 رنز بنا ڈالے۔

    پشاور زلمی کے اوپنرز نے ٹیم کو 134 رنز کا شاندار آغاز فراہم کیا، بابر اعظم 39 گیندوں پر 2 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 73 رنز اور صائم ایوب 33 گیندوں پر 58 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ان کی اننگز میں 4 چھکے اور 5 چوکے شامل تھے۔ محمد حارث نے 189 گیندوں پر 35 رنز جڑ دیئے، رومین پاول 2، ٹام کوہلر کیڈ مور 38 اور حسیب اللہ 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، عظمت اللہ عمر زئی نے 16 اور وہاب ریاض نے 7 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،پنجاب حکومت
    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت
    ملتان سلطانز کی جانب سے عباس آفریدی نے 39 رنز دے کر 4، اسامہ میر اور انور علی نے ایک ایک شکار کیا۔ پشاور زلمی اور ملتان سلطانز کی ٹیمیں 8، 8 میچز کھیل کر 8، 8 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں، دونوں ٹیموں کیلئے ایلیمنیٹر مرحلے تک رسائی کیلئے میچ جیتنا ضروری ہے۔

  • حضرت مولوی قادر بخش گولہ کے  صد سالہ عرس کی تقریبات

    حضرت مولوی قادر بخش گولہ کے صد سالہ عرس کی تقریبات

    حضرت مولوی قادر بخش گولہ کے صد سالہ عرس کی تقریبات

    درگاہ حضرت مولوی قادر بخش گولہ ضلع صحبت پور بلوچستان میں بلوچستان کی مشہور بزرگ ہستی اور صوفی شاعر حضرت مولوی قادر بخش گولہ کے سالانہ عرس کی مناسبت سے صد سالہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں محفل سماع/ محفل موسیقی اور عوامی تفریحی تقاریب کے ساتھ ساتھ محفل مشاعرہ کا انعقاد بھی کیا گیا ۔ صد سالہ عرس کی مناسبت سے "_انجمن دوستان ادب” کے زیر اہتمام اور میلہ کمیٹی کے زیر نگرانی بین الصوبائی محفل مشاعرہ منعقد ہوئی جس کی صدارت قادر بخش خاکی نے کی جبکہ مہمان خصوصی آغا نیاز مگسی اور اعزازی مہمان نصیب الله نصیب تھے۔

    مشاعرہ کا آغاز حسب دستور تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کی سعادت حافظ توفیق احمد عطش نے حاصل کی جبکہ بہرام خان شیدا نے حضرت مولوی قادر بخش گولہ کا نعتیہ کلام بارگاہ رسالت ﷺ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جس کے بعد محسن چشتی کی خوب صورت نظامت میں مشاعرے کا باقاعدہ آغاز ہوا جن شعراء نے اپنے کلام پیش کیے ان میں قادر بخش خاکی، آغا نیاز مگسی ، نصیب اللہ نصیب ، محمد رفیق طالب، میر حسن میر، ظفر علی رمز ، سرور ساقی ، آصف صمیم، محسن چشتی ، سینگار محسن، نفیس سومرو، گل میر گل پندرانی، محمود خان فدا کھوسہ ، محبوب علی تاج، حسن علی حسن، ابوبکر آزاد ، الله ورایو انجم، علی محمد آسی، حافظ توفیق احمد عطش اور عامر علی آس شامل تھے ۔

    مشاعرہ کے اختتام پر درگاہ مولوی قادر بخش کی میلہ کمیٹی کی جانب سے صد سالہ عرس کی تقریبات کے مہمان خصوصی میر طارق علی خان کھوسہ کے ہاتھوں ضلع صحبت پور کے معروف بزرگ شاعر محمد رفیق طالب کا شعری مجموعہ مشاعرہ میں شریک تمام شعراء کو بطور تحفہ پیش کیا گیا اور اعزازی سند بھی عطا کی گئی ۔ تقریب میں میلہ کمیٹی کے چیئرمین حاجی فضل کریم کھوسہ ،سرپرست بابے محمد علی کھوسہ اور درگاہ حضرت مولوی قادر بخش کے سجادہ نشین فقیر محمد صدیق گولہ نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،پنجاب حکومت
    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت
    آخر میں درگاہ کے سجادہ نشین نے ملک کے امن و سلامتی اور وفات پانے والے شعراء استاد عاشق بلوچ اور پروفیسر منظور وفا کی مغفرت کیلئے خصوصی دعا مانگی۔ حضرت مولوی قادر بخش گولہ رحمت اللہ علیہ کے عرس کی صد سالہ تقریبات کو پر امن اور یقینی بنانے کیلئے سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے جس کیلئے میلہ کمیٹی کی جانب سے ڈی آئی جی نصیر آباد رینج ،ایس ایس پی صحبت پور اور ایس ایچ او صحبت پور کا شکریہ ادا کیا گیا اور ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔

  • بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    ماضی قریب کی بات ہے کہ لوگ اپنے روز مرہ معاملات سے فارغ ہو کر شام میں مل بیٹھا کرتے اور دن بھر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے دوست احباب سے خوش گپیاں لگاتے، اب کی نسبت بہت اچھا دور تھا لوگ زیادہ پڑھے لکھے بھی نہ تھے مگر سلجھی ہوئی گفتگو کرتے بہت سے لوگ اپنی ان بیٹھکوں سے بہت کچھ سیکھتے باہم مل بیٹھنے سے جن تجربات اور مشاہدات کو اخذ کرتے انہیں لکھ لیا کرتے یا بہتر خوبیوں کو زندگی میں ڈھال لیا کرتے یوں ان کی یہ بیٹھکیں ان کے لیے مفید ثابت ہوا کرتیں

    وقت نے ایک دم سے کروٹ لی اور موبائل انٹرنیٹ کا دور آیا فلموں ڈراموں سے بچوں نے جو سیکھا اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا چائے ڈھابے کی جگہ سینیما گھروں یا پان سگریٹ کے اڈوں نے لے لی دن بھر کی تھکان اتارنے کے مقصد سے کی جانے والی باتوں کی جگہ گالی گلوچ اور فحش گوئی نے لے لی۔ دیکھا جائے تو اس زمانے اور اُس زمانے میں بہت زیادہ گیپ موجود نہیں اگرچے ہم نے اُن ڈھابوں پر لگی با مقصد بیٹھکوں جس نے بہت سے ادیب و شعرا کو جنم دیا میں شمولیت اختیار نہیں کی مگر ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے ایسی مجالس سے استفادہ کیا ہے اور اپنی کامیابی کا لوہا منوایا ہے مگر افسوس اس بات پر ہے کہ نوجوان نسل نے اپنا مقابلہ اپنے سے بہتر لوگوں کے ساتھ کرنے کے لیے روایات کو ترک کر کے مادیت کو پسند کیا اور عام سادے اور کچے گھروں میں رہنے والے نوجوان بھی اسی پان شاپ یا کسی ایسی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں جہاں ان کی پہنچ بھی بہ مشکل ہوتی ہے شوق نوابوں والے اور عادتیں خرابوں والی اپنا لیتے ہیں ان میں عام طور پر ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے والدین مذہبی گھرانے سے تعلق ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور صاحبزادہ گھر سے باہر امیروں کی بیٹھکوں میں بیٹھ کر شیشہ پینے، گلیوں میں آوارہ گردی کرنے پان تھوکنے اور قہقہے لگانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

    اگرچے زمانہ بدل چکا ہے اور اس زمانے کے ساتھ ترقی کرنا بھی ضروری ہے مگر ایسا نہیں کہ آپ اچھی اور بُری مجلس کی سوجھ بوجھ ہی نہیں رکھتے ہر دور میں اچھائی اور برائی کے پہلو موجود رہے ہیں آج اگر پان شاپس، سنوکر، ویڈیو گیمز یا دیگر اڈے موجود ہیں تو وہیں بہت سی ایسی جگہیں بھی موجود ہیں جو نوجوانوں کے مستقبل کے لیے بہترین تربیت گاہ بن سکتی ہیں اگر ہم کتاب لائبریری یا ای لائبریری کی بات نہ بھی کریں تو وقت گزاری کے لیے آج بھی ہر شہر میں چائے ڈھابے موجود ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس کا رجہان بڑھتا جا رہا ہے یہ بات ایک طرف تو خوش آئند بھی ہے مگر کسی حد تک مایوس کن بھی کہ اگر چند لوگ بیٹھ کر اچھی گفتگو کر بھی رہے ہوں تو وہ جلدی وہاں سے محض اس لیے اٹھ کر چلے جاتے ہیں کہ قریبی میز پر اونچی آواز سے یا تو کوئی میوزک چلا لے گا یا گالی گلوچ اور فحش گوئی شروع ہو جائے گی وغیرہ

    اگر اب ایسی بیٹھکوں کا رواج عام ہو ہی رہا ہے تو ہمیں چاہیے کہ دیگر لغویات اور فضولیات کی بیٹھکوں کے عوض ان کو اپنا لیا جائے اور اکٹھے بیٹھ کر فضول مباحثے اور سیاست کی بجائے ملکی مفاد میں مثبت گفتگو کی جائے کاروبار کی بہتری کے لیے مشاورتیں کی جائیں ادب و آداب والی مجالس کو دوبارہ بحال کیا جائے تو کم از کم یہ جو چند سال کا خلا آیا ہے شاید یہ پُر ہو سکے