Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسرائیل کی پولیس نے بیت المقدس رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر درجنوں نمازیوں کو زخمی کیا۔ عالمی دنیا اور مسلمان ممالک نے حسب معمول صدیوں سے مذمت کی شاندار روایت کو برقرار رکھا ۔حیرت ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت صدیوں سے اقوام متحدہ سمیت عالم اسلام مذمت کرتا چلا آرہا ہے۔ مگر ظلم ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی سالوں سے فلسطینی شہریوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جو اسرائیلی فوجی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم اسرائیل میں عوام کی اکثریت نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے ان مظاہروں کا مقصد قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی نتین یاہو کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی عوام انصاف کے اصول کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

    ہزاروں اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان دنوں شہبازحکومت بھی عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے جبکہ اپوزیشن شہباز حکومت کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے شہباز حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عدالتی اصلاحات کر رہے ہیں نتین یاہو اور پاکستان کی موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہئے جو قومیں اپنے ممالک میں حقیقی جمہوریت دیکھنا چاہتی ہیں وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا دنیا میں اسرائیل کا اس وقت تک خیر مقدم نہیں کیا جائے گا جب تک وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنائے گا جب تک اسرائیل غیر یہودیوں کے لئے بھی وہ معیار مقرر نہیں کرے گا جو یہودیوں کے لئے مقرر ہے۔

    پاکستان میں بلاشبہ ماضی میں آمریت کو تحفظ دیا گیا مگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سابق صدر (مرحوم) پرویز مشرف کو تحفظ دینے کا انکار کردیا پھر ججز کے ساتھ جو کچھ ہوا عالمی دنیا گواہ ہے ججز کے حق وکلا شہریوں اور سیاسی جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں جس کی قیادت سیاسی جماعتوں نے کی تھی آج نوبت یہاں پہنچ چکی ہے کہ ایک مخلوط حکومت عدالتی احکامات ماننے سے انکاری ہے ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں پر تنقید سے شروع ہونے والا سلسلہ عدالتوں تک جا پہنچا جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،

  • معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    روز اک چھاؤں سی آ رکتی ہے دروازے پر
    کون ہے کب سے بلاتا ہے جو باہر مجھ کو
    رفعت ناہید

    معروف شاعرہ رفعت ناہید مختصر علالت کے بعد ملتان میں انتقال کر گئیں۔

    ان کے بیٹے سعد ظفر کا کہنا ہے کہ آج سحری کے وقت ان کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا، لیکن ہم انھیں بچا نہ سکے۔ رفعت ناہید معروف شاعر سعید ظفر اور نامور افسانہ نگار ،ماہر تعلیم اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کی رکن پروفیسر فرحت ظفر کی بہن تھیں

    سن ری چمیلی !!!
    میری سہیلی
    بڑی سیانی اور ہشیار
    تو نے میرا رنگ چرایا
    خوشبو میری ساری لے لی
    آ کے بیچ بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھے گفتگو میں مگن ہجر ،رات ، تنہائی

    سلام میں نے کیا ، خاندان چھوڑ دیا

    رفعت ناہید

  • شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی روس کے لیے ایک قابل ذکر جیت ہے لیکن یہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جبکہ ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی پالیسی نے سفارتی اڈے کو وسعت دینے کی طرف مائل کیا ہے جو اب تک امریکہ تک محدود تھا، جہاں تک سپر پاورز کی بات ہے وہ روس اور چین دونوں کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سرشار کوشش ہے۔ تاہم شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ بیجنگ کے قریب آنے کا واضح اقدام ہے۔

    صدر بائیڈن نے 2022 میں اپنے دورہ ریاض کے دوران ولی عہد کو ماسکو اور ریاض کے قریب جانے سے بچنے کے لیے اپنی رائے سے آگاہ کیا تھا تاہم یقینی طور پر واشنگٹن مندرجہ بالا پیش رفت پر خوش نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اہم سوال یہ ہوگا کہ کاموں میں اسپینر پھینکنے کے لیے امریکہ کتنا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟ لیکن دوسری طرف واشنگٹن اسے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھ سکتا ہے:

    جبکہ عرب ریاستوں کو امریکہ کے ساتھ دوستانہ بنیادوں پر استوار کرنا اور دمشق کے ساتھ مضبوط قدم جمانا۔ شام میں امریکی افواج کے دستے کے پس منظر اور شام اور ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپوں کے پیش نظر، اسد کی حکومت کے ساتھ رابطے کا راستہ کھولنے کے لیے یہ یقینی طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بشار الاسد کی حکومت ایک حقیقت ہے.

    تاہم ریاض کو یہ سوال ضرور حل کرنا چاہیے کہ شام میں سفارت خانہ کھولنا امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں لیکن ریاض اس مقام سے دمشق کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کیسے آگے بڑھے گا؟ اسے احتیاط سے آگے بڑھنا ہو گا واشنگٹن کے لیے اسے لیٹا جانا مشکل ہو سکتا ہے جسے روس اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو جگہ دینے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ امریکہ کے دوست عرب ممالک پر پابندیاں نہیں لگا سکتا تاہم جنگ زدہ شام پر واشنگٹن کے ایسا ہی کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے.

    علاوہ ازیں آگے بڑھنے کے طریقہ سے متعلق ریاض کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھے گا کہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے بڑھتے ہیں اور یمن میں جنگ بندی جاری ہے یا نہیں؟ لہذا اگر دونوں پیش رفت مثبت رہیں تو واشنگٹن پر ریاض کا انحصار کم ہو جائے گا لیکن جہاں تک بات امریکی سلامتی کی ضمانتوں کا تعلق ہے تو وہ جیسا کہ عالمی طاقت کی حرکیات میں تبدیلی آرہی ہے وہ مشرقِ وسطیٰ ایک بلبلا کڑھائی ہے جو ان علاقوں میں نئے کھلاڑی قائم کرے گا جنہیں اب تک امریکی اثر و رسوخ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

  • معروف شاعر منور بدایونی

    معروف شاعر منور بدایونی

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے "منور” بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منوغزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔

  • بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    فاطمہ زکریا (تاریخ ولادت:17 فروری 1936ء،تاریخ وفات:06 اپریل 2021ء) ممبئی ٹائمز کی ایڈیٹر تھیں اور بعد میں ٹائمز آف انڈیا کی سنڈے ایڈیٹر ہوئیں۔ انھوں نے تاج ہوٹلز کے تاج میگزین کی ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

    مرحومہ فاطمہ زکریا ممبئی ٹائمز کی سابقہ ​​ایڈیٹر ، اور ٹائمز آف انڈیا کےسنڈے ایڈیشن ایڈیٹرکی بھی ایڈیٹر رہی تھیں۔ٹائمزآف انڈیا سے علحیدگی کے بعد فاطمہ زکریا تاج ہوٹل کے تاج میگزین کی ایڈیٹر بھی رہیں۔ ان کا دفتر ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں واقع تھا۔ڈاکٹر رفیق زکریا کے2004 میں انتقال کےچند سال فاطمہ زکریا تاریخی شہر اورنگ آباد مہاراشٹر منتقل ہوگئی تھیں جہاں ان کے مرحوم شوہر نے مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ قائم کیاتھا۔ یہ ان کا اسمبلی حلقہ تھا جہاں سے وہ کافی بار منتخب ہوئے اور ریاستی کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ فاطمہ زکریانے اورنگ آباد کے ان تعلیمی اداروں کو اس حد تک تبدیل کیا کہ ان کا موازنہ ایشیا کے بہترین مراکز تعلیم سے کیا جاسکے۔

    زکریا نے اورنگ آباد میں مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ کے کیمپس میں پہلا ریٹ فائیو اسٹار ہوٹل دی تاج ریذیڈنسی کے قیام کے لئے تاج گروپ آف ہوٹلوں میں شمولیت اختیار کی۔ وہ کافی ٹیبل میگزین تاج کی ایڈیٹر بن گئیں۔ اس کے بعد ، انہوں نے ایک برٹش یونیورسٹی کے ساتھ اتحاد میں ایک ہوٹل مینجمنٹ کورس متعارف کرایا۔ اس کورس کو ہندوستان میں بہترین اور قابل احترام تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ اورنگ آباد کے بورڈ میں بھی رہیں۔وہ خود یالے یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھیں ،ایک میمن مسلم۔فیملی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زکریا کی پرورش کرافورڈ مارکیٹ جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں ہوئی تھی،لیکن انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوئیں۔

    سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ، شملہ کے خطوط پر ہائر لرننگ سنٹر قائم کرنے کے عمل میں ر ہیں۔ یہ جون 2010 سے کارآمد ہوا اور حقیقی علماء اور ماہرین تعلیم کو تحقیقی سرگرمیاں انجام دینے میں مدد فراہم کررہاہے، زکریا کو سیکولرسٹ سمجھا جاتا ہے ، تاہم وہ مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خصوصی خیال رکھتی تھیں۔انہیں ہندوستان حکومت نے 2006 میں پدما شری دیا تھا۔ مرحومہ فاطمہ زکریا مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ اور سوسائٹی کی بالترتیب چیئرپرسن اور صدر بھی تھیں،جبکہ مہاراشٹر کالج ممبئی کی صدر اور آل انڈیا خلافت کمیٹی اور بی ایڈ کالج کی بھی صدر نشین تھیں۔

  • گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    لنڈی کوتل کی گیارہ سالہ بچی نسرینہ (فرضی نام) اپنے خاندان کی واحد کفیل ہے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے پاک افغان طورخم سرحد پر زمانے کی سختیاں جھیلتے ہوئے محنت مزدری کررہی ہے جوپل صراط سے کم نہیں ایک بم دھماکے میں والد کی وفات کے بعد خاندان کی کفالت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے زندگی بیت رہی ہے جس روزمزدری نہ ملے اس دن پورا خاندان فاقہ کرنے پر مجبورہوتا ہے۔

    پاک افغان بارڈر طورخم پر بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں محنت مزدوری کرتے ہوئے نظر اتے ہیں جس میں ہر ایک کی کہانی اپنی جگہ پر ایک منفرد اور انوکھی حیثیت رکھتی ہے جبکہ 11سالہ بچی نسرین (فرضی نام)کی کہانی کچھ الگ تھلگ ہے کیونکہ وہ محنت مزدری بھی کرتی ہے اور گھر کاکام کاج بھی ان کے ذمہ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ 2015 میں کابل میں ایک دھاکہ میں ان کا والد جاں بحق ہوگیا اس وقت ان کی عمر پانچ سال تھی تاہم میری ماں نے گھر چلانے کے لیے آستین چڑھالی اوروہ دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرکے پیٹ پالتی تھی میں بھی ان کے ساتھ جاتی تھی مگرآہستہآہستہ ماں کی صحت خراب ہورہی تھی اور ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کو دمہ کی بیماری قرار دیدیا اور یوں 2021میں میری ماں کی صحت جواب دے گئی اور میں نے طورخم سرحد پر سامان لیجانے اور لانے کی محنت مزدوری کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ ہمارے پاس دوسرا آپشن نہیں تھا۔

    وہ کہتی ہے کہ طورخم سرحد پار کرنا ان کے لیے جان جوکھوں کے کام سے کم نہیں ہے کیونکہ کبھی کبھی ہم سرحد پر تعینات اہلکار کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بھی بنتے ہیں جو بہت ازیت ناک ہوتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ دو لمحے ان کے لیے انتہائی دکھ درد بھری ہوتے ہیں ایک یہ کہ جس دن دیہاڑی نہ ملے اور دوسرا یہ کہ جب کمیشن کار انہیں وقت پر ان کو ان کی دیہاڑی کے پیسے نہ دے تو ایسی حالت میں گھر کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے جس سے ہمارے گھر میں فاقہ ہوتا ہے۔

    نسرین مزید کہتی ہے کہ محنت مشقت سے واپسی پر گھر کاکام بھی وہی کرتی ہے کیونکہ ان کی ماں بستر پر پڑی دمہ میں مبتلا مریضہ ہے کھانا بنانا، روٹی پکانا،برتن اور کپڑے دھونا،جھاڑو دینا ماں کو وقت پر دوائی دینا یہ سب ان کے ذمہ ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ جس دن ان کا والد دھماکہ کی زد میں آیا اس سے ایک ماہ پہلے ان کی ایک بہن پیدا ہوئی تھی جب کہ بہن سے ایک سال چھوٹاایک بھائی بھی ہے جن کی عمریں اب علی الترتیب 8اور 9سال کی بنتی ہیں تاہم وہ دونوں جسمانی طورپر معذور ہیں جو پڑھنے کے قابل ہیں اور نہ میری طرح کا کام کاج کا۔ وہ کہتی ہے کہ نو سال میں، میں نے بھی محنت مشقت شروع کی تھی اگر میری بہن جسمانی طورپر آج ٹھیک ہو تی تو وہ بھی میرے ساتھ کام پر جاتی اور میرا ہاتھ بٹاتا۔

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ بہت سی بچے گاڑیوں کے نچے اکر کچل گئے متعدد ذخمی ہوگئے ہیں دوسری طرف تشدد کے واقعات بھی اپ کے سامنے ہیں تو ایسے حالات میں اپ کو ڈر نہیں لگتی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ڈر کم، ڈر وہ بہت زیادہ ہے کہ جس دن میں گھر کچھ لے نہ جاوں ماں کے لیے دوائی کا بندوبست نہ کرو اس لیے میں نہیں ڈرتی۔وہ کہتی ہے کہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے تاہم وہ ایک خواب ہوکر رہ گیا ہے آخر میں انہوں نے بہت آہ کے ساتھ کہا کہ کھیل کود کے لیے بھی وقت نہیں ہے۔

    اس کے علاوہ رحیم گل (فرضی نام)کی ایک دس سالہ بیٹی بھی طورخم میں محنت مزدوری کرتی ہے جب ان کے والد سے پوچھا گیا کہ یہ بچی کے سکول جانے کا وقت ہے اپ کیوں اپنی بیٹی محنت مشقت کے لیے بھیجتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہوں اگر میری یہ بیٹی کام پر نہ گئی تو ہمیں کھانے کو کچھ نہ ملے گااس کمر توڑ مہنگائی میں گھر کے اور بھی بہت سی ضروریات اور لوازمات ہیں جن کو پورا کرنا اسان کام نہیں ہے جب ان کی بیٹی قدسیہ (فرضی نام) سے پوچھا گیا کہ محنت مزدوری کرتے ہوئے آپ کوڈر نہیں لگتا کیونکہ اپ جتنی عمر کی لڑکیاں سکول جاتی ہیں اور کھیلتی ہیں تو انہوں جواب دیا کہ میری سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ شام کو میں اپنے معذور والد کے ہاتھ میں دن بھر کی کمائی کا پیسہ تھما دوں ۔


    پاک افغان طورخم سرحد پر تعینات اہلکاروں کے تشدد اور پکڑنے سے بچنے کے لیے بچے اور بچیاں بڑی گاڑیوں کے نیچے چھپتے ہیں جن کے ہاتھوں میں سامان بھی ہو تا ہے۔ مگر وہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ٹائر وں کی زد میں آ کر کچل بھی جاتے ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے لیکر اب تک 6 بچے اس طرح کے حادثات میں جاں بحق جبکہ 10سے زائد ذخمی ہوئے ہیں۔ طورخم سرحد پر چائلڈ لیبر کم کرنے کے لیے کئی این جی اوز نے کام شروع کیا تھا مگر سب اپنا مشن ادھورا چھوڑ کر چلے گئے چائلڈ لیبر میں مصروف بچوں اور بچیوں کے لیے سکول قائم کیاگیا تھا انہیں عصر حاضر کی تعلیم دلوانے کا وعدہ کیا گیاتھا مگر وہ ایفائے عہد نہ کر سکا اور نہ بچوں اور بچیوں کی حصول تعلیم کی تشنگی پوری ہو سکی۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    پاکستان میں وفاقی اور خیبر پختون خوا کے صوبائی سطح پر کم و بیش تقریباً 2 0قوانین چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے بنائے گئے ہیں اس کے علاوہ چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے پاکستان بین الاقوامی سطح پر مختلف فورمز کا پارٹنر بھی ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان میں چائلڈ لیبر کا حجم بڑھ رہا ہے کیونکہ ان قوانین پر اس طرح عمل درامد نہیں کیاجا تا جس جذبہ سے وہ وضع کیے گئے تھے۔ ہیومن رائیٹس کمیشن رپورٹ کے مطابق خیبر پختون خوا میں چائلڈ لیبرنگ میں مصروف بچوں اور بچیوں کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ پروٹیکشن اف چائلڈ رائیٹس کے ایک این جی او کے ڈائریکٹر عمران ٹکر نے بتایا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ قومی سطح پر چائلڈ لیبر کا ایک جامع سروے کرے کیونکہ بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے حقیقی ڈیٹا حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ان کی تعلیم کے لیے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کرنا چاہئے تاکہ ہر بچہ سکول جا سکے کیونکہ صرف تعلیم ہی کے زریعے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔ووکیشنل تعلیمی اداروں خواہ رسمی ہو یا غیر رسمی کو قائم کیاجائے اور غربت کے خاتمہ کے لیے ایک پائیدار پروگرام کا اغاذکیاجائے اور ان بچوں کو اس پروگرام کا ہدف بنایاجائے جو چائلڈ لیبر کرتے ہیں یا سٹریٹ میں ہیں۔قوانین پر سختی سے عمل درامد کیاجانا چاہئے انسپیکشن نظام کو مظبوط کرناچاہئے اور بڑی سطح پر اگاہی پروگرامات کا انعقاد کیاجائے کہ بچوں اور بچیوں کو کام کی بجائے سکولوں کو بھیجا جائے۔

  • نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں
    اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے
    جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ہے
    یہ جملہ آپ نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ تو ضرور سنا ہوگا
    کوئی ایک تجربہ جب آپ نے کسی کے ساتھ نیکی کی ہو یا کسی کی مدد کی ہو اور اس کے بدلے اس انسان نے بعد میں آپ کی نیکی یا مدد کو پس پشت ڈال کی آپ سے برا برتاؤ کیا ہو یا آپکی اچھائی کے بدلے دوسروں سے آپکی غیبت کی ہو یا کسی وجہ سے آپ کا دشمن بن گیا ہو… تو ایسے مقام پر آپ یا دوسرے لوگ ضرور کہتے ہونگے کہ اس کے ساتھ نیکی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی.,
    ہم ایسا کیوں کہتے ہیں یا دوسرے لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟؟کیونکہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جزا اور سزا کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے کسی انسان کے ہاتھ نہیں, اور ہم دنیا کے مادی اور فانی چیزوں میں تو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ خیر و بھلائی کے کاموں میں بھی دوسروں سے جیتنا چاہییے .جب ہم نیکی اللہ کی رضا کی نیت سے کرتے ہیں تو اس کے بدلے کا یقین بھی اللہ پر رکھنا چاہیے ناکہ ہر نیکی کے پیچھے کوئی نہ کوئی دُنیاوی مفاد کار فرما ہو,
    جب آپ اللہ کی رضا کے لئے کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو وہ اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوجاتی ہے. ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے اگر آپ نے software اپنے دماغ میں ڈالا ہوا ہے کہ (نیکی کا تو کوئی زمانہ ہی نہیں…) تو آپ واقعی میں کوئی نیکی نہیں کرو گے , آپ کسی کی مدد نہیں کریں گے اور نیکیوں کے مواقع ضائع کر دیں گے جو ایمان کی کمزوری بھی ہے دوسروں کے دکھ درد کا احساس نہیں ہوگا بےحسی آپ کے اندر اپنا ٹھکانہ بنا لے گی. آپ کے اعمال پر آپ کے belief system کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے اس لئے اپنا belief system بدلیں

    صحابہ کرام اپنے وقت میں ایک دوسرے سے زیادہ نیکیاں کمانے میں مقابلہ کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا یقین تھا کہ ان کی نیکیاں اللہ ریکارڈ کر رہا ہے. ہمیں بھی چاہیے ہم کبھی بھی نیکی کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں, اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہے تو اس کی ضرور مدد کریں جیسا کہ اللہ نے فرمایا کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو. اور دیکھا جائے تو بے شمار نعمتیں اللہ نے ہماری بھلائی کے لئے عطا کی ہیں اور اس کا بدلہ وہ ہم سے کچھ نہیں چاہتا.. خدا کے بندوں سے نیکی کرنا اللہ کو بہت پسند ہے اور جو لوگ اللہ کے بندوں سے محبت کرتے ہیں وہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں.
    روایت ہے کہ
    تم زمین والوں پر رحم کرو, آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا.
    بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ جو بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اسے اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے.
    اس لئے ضرورت مندوں سے محبت اور ہمدردی کریں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کریں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو.
    @Rehna_7

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • میں ہوں ناں

    میں ہوں ناں

    میں ہوں ناں
    تحریر : سیدسخاوت الوری
    میں نے اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان کو بنتے اور بگڑتے دیکھا ہے۔۔۔۔ پہلی بار جوش تھا، جذبہ تھا، خوشی تھی کہ ہم ایک ایسے اسلامی وطن کے مالک ہیں، جہاں اللہ تبارک تعالی کا نازل کردہ آفاقی نظام نافذ ہوگا۔ حضور پاک صل اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر سنت کے مطابق عمل ہوگا۔ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ہو گی ا ور کوئی بھوکا نہیں سوئے گا۔ اسی اسلامی نشاط ثانیہ کی سوچ میں مسلمانان ہند نے جان و مال، عزت و آبرو جہتی کہ اپنے بزرگوں کی قبروں تک کو غیر مسلموں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دیار پاک کی راہ لی ۔ دوسری بار اسلامی تعلیمات سے منحرف سیاستدانوں کی خود غرضی سے مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قت لعام، اقتدار کے بھوکوں کا دشمنان ملک وملت کی گود میں بیٹھ کر وطن عزیز کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر دو لخت کر دینا تھا، جس پر آج بھی شرمندگی ہے۔ اور آج قومی سیاسی رہنمائوں کی مفادات سے بھر پور قیادت ،،ایڈ یٹ ہے، لیکن اپنا ہے، کی سیاست، اشرافیہ کی مبینہ کرپشن کی کہانیاں، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر قومی خزانے کی لوٹ مار پر مبنی مضامین و پروگرامز میں کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات سن اور پڑھ کر میں اپنی عمر کے 87 اور وطن عزیز کی75 سالہ قومی زندگی کے چوراہے پر کھڑا سوچ رہا ہوں کہ یا الہی صراط مستقیم کونسا ہے۔ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو عقل کام نہیں کرتی، بولنے کی جرات رندانہ پیدا کرتا ہوں تو بولنے سے ڈر لگتا ہے اور پھر نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے۔ اس دوران پاکستانی سیاست کی یہ تاریخ رہی ہے کہ حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اقتدار اور اختلاف کے نشے میں ایسی ایسی بیوقوفیاں کیں کہ الامان الحفیظ۔ سیاسی اختلافات بڑھے تو غیر سیاسی قوت کو دعوت دی تو فوج اقتدار پر براجمان ہوئی، ایوب خان کے جانشین یحیی خان اور اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کی انا پسندی نے سقوط ڈھاکہ کی منظر کشی کر کے پاکستان کا نقشہ تبدیل اور تقریبا نوے ہزار قیدیوں کے حوالے سے اسلامی تاریخ میں انتہائی شرمناک باب کا اضافہ کر دیا۔ اس شرمناک حرکت کا ذمہ دار کون ہے ، تاریخ آج بھی خاموش ہے۔ جس کی وجہ سے ان تاریخی سیاسی کرداروں کے خونی اور سیاسی وارث آج بھی پاکستانی سیاست یا قیادت پر قابض ، بلکہ اپنے بزرگوں کی متعین کردہ راہ کے مسافر ہیں ۔ آج پھرانا کا مسئلہ ہے، افواہیں زدعام ہیں ، سیاست دان اور انکے کارکنان موجودہ سیاسی چپقلش کو انا یافنا سے تعبیر کرتے ہوئے ریموٹ کنٹرولڈ ہو گئے ہیں۔ قوت برداشت اور صبر کا مادہ جو سیاست کی بنیاد ہے ختم ہو چکا ہے۔ اِدھر ہم اُدھر تم کا منظر نامہ پیش منظر ہے۔ قومی ادارے نا قابل اعتبار گردانے یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑ وا تھو تھو کئے جارہے ہیں ۔ غیر یقینی کیفیت کی باعث معیشت کی زبوں حالی کی باعث عوام کی اکثریت ناصرف نان شبینہ سے محروم بلکہ ذہنی مریض بھی ہو گئی ہے، جس کی باعث دگرگوں ملکی وقومی حالات میں کسی بھی وقت معمولی سی تپش بھی اسے آتش فشاں بنا کر بین الاقوامی مسئلہ پیدا کرسکتی ہے ۔ بین الاقوامی مسلمہ اصول ہے کہ جب تمام راستے مسدود ہو جائیں اور جان بچانے یا بندگلی سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو ایسی صورت میں آخری پیغام ( ایس اوالیس، زندگی بچانے کی اپیل )کیا جاتا ہے۔ تا کہ قرب و جوار میں موجود کسی طور کسی مدد کی صورت پیدا ہو سکے اور جس قدر ہو سکے جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے بچیں۔ یہی فعل طبی زبان میں آپریشن کہا جاتا ہے، جو بحالت مجبوری مریض کی جان بچانے کیلئے کیا جاتا ہے۔ مذکورہ اصول کی روشنی میں،میں(بارہ سالہ معصوم کا رکن تحریک قیام پاکستان و چشم دید گواہ ہجرت ) تمام محب وطن سیاسی قائدین سے دست بدست عرض گزار ہوں کہ وہ سوکنوں کی اس لڑائی سے کنارہ کش ہو کر گھر تباہ کرنے کی ناپاک سازش کو ناکام بنانے میں اپنا قومی اور اخلاقی فرض ادا کریں، نیز محب وطن مقتدر حلقوں اور صاحبان عقل و دانش سے بھی استدعاہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر قوم و ملک کے وسیع تر مفاد میں بابائے قوم کی طرح ایک اصولی مئوقف اتحاد تنظیم اور یقین محکم اختیار کر کے بچگانہ ذہنیت کے حامل مفاد پرست اور سیاسی نابالغوں کو یکسر مستر دکر کے اپنی قومی اور اسلامی حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے قائد اعظم کے فرمان عالیشان ، پاکستان تا قیامت قائم رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے، کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا فرمائیں، راہ میں حائل دشواریوں کو دور کرنے میں پیش آنے والی ہر رکاوٹ کو پوری قوت اور عوامی طاقت سے دور کیا جائے ۔ یادر کھیئے ، پاکستان ہے تو ہم ہیں، ورنہ آج آسٹریلیا نے پاکستانی کرپٹ مافیا کے داخلے پر پابندی لگائی ہے، خاکم بدہن کل ہم سب کتوں کی طرح مارے مارے پھر رہے ہونگے اور کوئی ہمیں پہچاننے یا قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ بہر حال یہ میری ذاتی مخلصانہ رائے ہے، جس میں حب الوطنی کے علاوہ نا کوئی چورن ہے اور نا ہی کسی کی مخالفت یا موافقت، کیونکہ ان ہی سیاستدانوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہور کو ووٹ ڈالنے کے علاوہ تمام حقوق سے محروم کر کے، جمہوریت بہترین انتقام ہے، کا نعرہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں اگر مقتدرہ حلقے انا کو دفن کر کے عہد یقینی فرمائیں کہ میری تحریری تجاویز پر من وعن عملدرآمد ہوگا تو پوری ذمہ داری سے تحریری وعدہ کرتا ہوں کہ ملک اور قوم کی بقا ، سلامتی ، تمام قومی مسائل کے حل اور تعمیر وترقی کیلئے د ئیے گئے اہداف کی بروقت عدم تکمیل پر ہر مجوزہ سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں۔ صرف تین ماہ کے عرصے میں آثار نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ ان شا اللہ ۔۔۔۔۔ یادر ہے، تاریخ کے دانت نہیں ہوتے لیکن یہ کاٹتی بہت زور سے ہے۔

  • بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو یعنی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے نے کسی ایمرجنسی اور مارشل لاء کا ذکر کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ بلاول زرداری ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مطابق وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزارت عظمی کے اُمیدواروں کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔ دنیا جمہوریت کی ہے، دنیا نے اپنے معاملات حل کرنے کے سویلین حکومتیں بنا رکھی ہیں۔ا ن ممالک میں مارشل لاء کا کوئی تصور نہیں دنیا کے کسی بھی ملک کے باشندے سے سوال کریں مارشل لاء حکومت کیا ہوتی ہے تووہ آپ کا منہ دیکھتا ہے ان کے نزدیک مارشل لاء نام کی کوئی حکومت نہیں ہوتی لیکن بدقسمتی سے ہماری آج کی سیاسی جماعتوں میں ایسے کھوٹے سکے موجود ہیں جو مارشل لاء کی پیدوار بھی ہیں اور ہر سیاسی جماعت میں انہی لوگوں کا قبضہ بھی ہے ان کو خوشامدی بھی کہا جاتا ہے۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے انہوں نے ملک معاملات سیاستدانوں کے حوالے کر رکھے ہیں۔ تاہم سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیا ہے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے 22 کروڑ عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔

    بھٹو کا نام آج بھی اگر زندہ ہے تو اس کی ایک وجہ بھٹو بے سہارا اور پسے ہوئے عوام کا نام لیتا تھا عوام کو سیاسی شعور دیا تاہم بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد کی پیپلزپارٹی کا حشر سب کے سامنے ہے۔ آج جس طرح حیر ت انگیز طورپر عوام کی اکثریت بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے اُس کی بنیادی وجہ وہ عوام ، قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی جمہوریت اور آئین کی بات کررہا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا دیکھ لیں یا ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران کا طوطی بولتا ہے ۔ عمران خان کی عملی سیاست اس کو بین الاقوامی سیاستدان بنا گئی بلاشبہ وزارت عظمی کے دوران ان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں تھی تاہم عمران خان کو سیاستدان بنانے میں پی ڈی ایم کی سیاست کا بھی اہم کردار ہے ۔ شاید عمران خان کی مقبولیت کو دیکھ کر بلاول بھٹو نے ایمرجسنی اورکسی مارشل لاء کا ذکر کیا ہے تاہم ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت پی ڈی ایم اورعمران کا مقابلہ ایک طرف ریاستی طاقت اور دوسری طرف سیاسی مقابلہ کہا جا سکتا ہے ۔ ایک طر ف سٹریٹ پاور اور دوسری طرف سٹیٹ پاور کا مقابلہ ہورہا ہے ۔ تاہم سب نے ملک کر اپنی نالائقی ثابت کر دی ہے پاک فوج اورعدلیہ دونوں اداروں پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔ حالانکہ یہ سیاسی معاملات تھے اس کے لئے پارلیمنٹ اور سینٹ موجود تھی۔

  • کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    عالمی اتحاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    نیتن یاہوکی وزارت عظمیٰ پر واپسی کے فوراً بعد انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں خالی کرائی گئی بستیوں کی تعمیر نو اور دوبارہ آباد کاری کا کوئی ارادہ نہیں،نتین یاہو کے اس اقدام کی امریکہ نے مذمت کی تھی، اورواشنگٹن میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا،منسوخ شدہ قانون نے 2005 میں اسرائیلی آباد کاروں کے انخلاء کے بعد اسرائیلی شہریوں کو جنین اور نابلس آنے جانے کی اجازت دی تھی، یہ وہ علاقے ہیں جو سب سے زیادہ تشدد کا شکار ہیں یہ فیصلہ آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان مسلح تصادم کا باعث بنے گا۔ مارچ 2023 کے اوائل میں ہی موجودہ اسرائیلی حکومت نے شرم الشیخ میں سیکیورٹی سربراہی اجلاس کے دوران اس عزم کو جاری رکھنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی جس کی وجہ سے واشنگٹن ناراض ہے،محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل کا کہنا ہے کہ کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کی اس خلاف ورزی کا جواب دینے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے

    بدلتے ہوئے عالمی اتحاد کے پس منظر میں، لازم و ملزوم جڑواں شہروں کے درمیان تعلق کوئی معنی نہیں رکھتا،اسرائیل تعلقات کی بہتری کے لئے کوشش نہیں کر رہا یہ بیانیہ فرسودہ ہو چکا کیونکہ اسرائیل نے ہی حال ہی میں کئی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کئے، اسرائیل کے مراکش، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ قطر نے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے امریکا کو شرائط پیش کی ہیں۔ اگرچہ دونوں میں غیر رسمی تعلقات ہیں اس کے علاوہ اسرائیل کے اردن اور مصر کے ساتھ امن معاہدے ہیں۔ دوحہ وہ نشست ہے جسے اسرائیلی ہیروں کے تاجر تجارت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ترکی نے اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت ہوئی،حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، اب سعودی عرب شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے، چینی یوآن چین، سعودی عرب اور روس کے لیے کرنسی کے تبادلے کے ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آرہا ہے

    پاور گیم کے اصول ،اسرائیل اور امریکا کے تعلقات یقیناً اسرائیل کے لیے موزوں ہیں لیکن امریکا کا کیا ہوگا؟ پس منظر میں نئے اتحادوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ ابھرتی ہوئی صورتحال میں، کیا امریکہ مسلم ریاستوں بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کی امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے کی نیک نیتی کو داؤ پر لگا رہا ہے؟امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات بہت پیچھے ہیں۔ اب امریکہ کو تیزی سے بدلتے ہوئے نئے عالمی نظام میں اپنے مفاد کا خیال رکھنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے،

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،