Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    میں نے حساب کرنے کی عادت چھوڑ دی
    اب میری زندگی میں خسارہ نہیں رہا

    ریحام خان ( صحافی اور مصنفہ)

    پیدائش:3 اپریل 1973ء
    اجدابیا (لیبیا)
    قومیت:برطانوی
    پاکستانی
    مذہب:اسلام
    شریک حیات:اعجاز رحمان
    (1993-2005)
    عمران خان (2015)- طلاق

    مرزا بلال (2022)

    اولاد:ساحر
    ردا
    عنایہ
    تعداد اولاد:3
    تعلیم:صحافت میں ماسٹرز
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    دور فعالیت:2007ء تا حال

    ریحام خان کی زندگی کا گوشوارہ عباس تابش کے درج بالا شعر کے مترادف ہے وہ اب تک 3 شادیاں کر چکی ہیں۔ اور یہ تینوں شادیاں ان کی محبت کا نتیجہ ہیں لیکن پچھلی دو شادیوں کا انجام اچھا نہ ہوا دعا ہے کہ ان کی تیسری شادی کامیاب رہے۔ ریحام خان (Reham Khan) ایک برطانوی پاکستانی صحافی ہیں ۔ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بیوی رہ چکی ہیں تاہم اب دونوں کے درمیان میں طلاق ہو چکی ہے جس کی تصدیق 30 اکتوبر 2015ء کو ہوئی جب عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس بابت ٹوئٹ کیا تھا۔ اس علیحدگی کے بعد پہلے عمران خان نے بشری مانیکا سے تیسری شادی کی اور پھر ان کے 5 سال بعد ریحام خان بھی مرزا بلال سے 23 دسمبر 2022 میں امریکہ میں تیسری شادی کی

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ریحام کی پیدائش ایک پاکستانی ڈاکٹر نیر رمضان کے گھر ہوئی۔ ان کا تعلق سواتی قبیلے کی ذیلی شاخ لغمانی قبیلے سے ہے اور یہ نسلا پشتون ہیں۔ یہ چار زبانیں روانی سے بول سکتی ہیں جن میں شامل ہے انگریزی، اردو، پشتو اور ان کی آبائی زبان ہندکو۔ ان کے خاندان کا تعلق بفہ کے علاقے سے ہے جو مانسہرہ ، خیبر پختونخوا سے پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ ان کے والدین 1960 کے اواخر میں لیبیا چلے گئے تھے جہاں 1973 میں اجداییا میں ریحام کی ولادت ہوئی۔ ان کا ایک بھائی اور بہن ہے۔
    ریحام عبدالحکیم خان کی بھانجی ہیں جو خیبر پختونخوا صوبے کے گورنر رہے ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کےچیف جسٹس بھی۔ ریحام نے جناح کالج برائے خواتین، پشاور سے بی اے کیا ہے۔

    پہلی شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔

    ان کا پہلا نکاح 23 جولائی 1992ء کو ایبٹ آباد میں اعجاز ولد فضل الرحمان کے ساتھ ہوا۔ ان کے پہلے شوہر اعجاز رحمان ماہر نفسیات ہیں، صحافت کے شعبہ میں آنے کی وجہ سے دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی شادی کے بعد طلاق ہوئی۔ اس شادی سے ریحام کے تین بچے ہیں ساحررحمان ، ردا رحمان اور عنایہ رحمان۔ ان کے تینوں بچے برطانیہ میں مقیم ہیں جبکہ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کے بچے بھی برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔

    کیریئر
    ۔۔۔۔۔۔۔

    طلاق کے بعد ریحام نے براڈکاسٹ جرنلسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ پہلا ہوسٹنگ شو 2006 میں لیگل ٹی وی پر کیا۔ 2007 میں سن شائن ریڈیو ہیرفورڈ اور ورسیسٹر کے لیے کام کیا۔ 2008 میں ریحام نے بی بی سی میں براڈکاسٹ جرنسلٹ کے طور پر شمولیت اختیار کر لی۔
    2013 میں پاکستان آمد ہوئی اور پاکستانی ٹی وی چینل نیوزون میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد آج ٹی وی میں چلی گئیں۔ 2014 میں کچھ مدت کے لیے پی ٹی وی گئیں مگر مختصر مدت بعد اسے چھوڑ کر ڈان نیوز پر حالات حاضرہ کا پروگرام ان فوکس شروع کر دیا۔
    2015 میں کچھ دیر شادی کے بعد ٹی وی پروگرام نہیں کیا مگر پھر ڈان سے ہی مئی میں ایک نیا پروگرام ”ریحام خان شو“ شروع کیا جس میں پاکستانی ہیروز کی ستائش کی گئی۔ دسمبر 2015 میں نیو ٹی وی سے تبدیلی (تبدیلی سابقہ شوہر عمران خان کا سیاسی نعرہ ہے ) کے نام سے ایک نیا ٹی وی پروگرام شروع کیا۔ جون 2016 میں نیو ٹی وی کو خیرباد کہا۔
    فلم
    ۔۔۔۔۔
    ریحام نے جاناں نام کی رومانوی مزاحیہ فلم بھی بنائی، جوسوات کے علاقے میں فلمائی گئی اور ستمبر 2016 میں ریلیز ہوئی۔
    عمران خان سے شادی اور طلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔
    06 جنوری 2015 کے دن عمران خان نے ریحام خان سے اپنی شادی کی تصدیق کر دی جس کے بارے میں اکتوبر 2014 سے چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں (بعد ازان ریحام خان نے دعوی بھی کیا کہ ان کی عمران خان سے شادی نواز شریف کے خلاف دھرنے میں ہی ہو گئی تھی)۔ شادی کی تقریب عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں منعقد ہوئی جبکہ ولیمے کی تقریب میں غریب بچوں میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ شادی کی تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی۔
    چند ماہ بعد ہی اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگیں اور بالآخر 30 اکتوبر 2015 میں عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے طلاق کی تصدیق کی۔

    مرزا بلال سے شادی

    ریحام خان نے 23 دسمبر 2022 میں خود سے 13 سال چھوٹے کراچی سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ نوجوان مرزا بلال سے امریکہ میں شادی کی۔

    ریحام خان کی کتاب

    ریحام خان نے 2018 میں ” Reham Khan” کے عنوان سے انگریزی میں کتاب لکھ کر شائع کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 10رمضان المبارک ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا یوم وصال

    10رمضان المبارک ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا یوم وصال

    سیدہ خدیجۃ الکبریٰ 10رمضان المبارک

    رمضان المبارک کے اہم واقعات میں سے ایک واقعہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے وصال کا ہے۔

    ابتدائیہ: والد کا نام خویلد، والدہ کا نام فاطمہ بنت زاہدہ اور لقب طاہرہ، پہلا نکاح ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی جس سے دو لڑکے ہند اور حارث پیدا ہوئے اور دوسرا نکاح ابو ہالہ کی وفات کے بعد عتیق بن عابد مخزومی سے لیکن وہ بھی وفات پا گئے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سمجھدار، امیر، ہر خوبی کی مالک اور اچھے فیصلے کرنے والی تھیں، اسلئے اُن کا سب سے”اچھا“ فیصلہ حضور ﷺ سے نکاح کرنا تھا۔

    نکاح کی وجوہات: حضرت خدیجہ حضور ﷺ کی امانت و دیانت سے بے حد متاثر، غلام میسرہ کے ساتھ دُگنے معاوضے پر شام کے علاقے میں اپنا تجارتی سامان بیچنے کی پیشکش، غلام میسرہ سفر میں حضور ﷺ کے کردار سے متاثر کیونکہ حضور ﷺ پر بادلوں کا سایہ کرنا، شام میں راہب پادری نسطورا کا علامات نبوت سے حضور ﷺ کو پہچاننا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے غلام میسرہ سے سفر کے حالات پر بہت کچھ سُنا، حضور ﷺ کے ساتھ فرشتوں کو بھی دیکھا، ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل نے یہ بتائی کہ تم سے آخری نبی کا نکاح ہو گا۔

    نکاح: حضرت خدیجہ نے حضور ﷺ کو اپنی سہیلی نفیسہ بنت منیہ کے ذریعے نکاح کا پیغام دیا جو حضور ﷺ نے قبول کیا۔ نکاح کا خطبات چچا ابو طالب، ورقہ بن نوفل اور حضرت خدیجہ کے چچا عمرو بن اسد نے پڑھے اورایک اونٹ ذبح کر کے مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا۔ حضرت خدیجہ امیر مگر امانت دار اور حضور ﷺ ظاہری طور پر غریب مگر امانت دار اور اللہ کریم کا فیصلہ ہمیشہ امانت داروں کے متعلق اچھا ہوتا ہے۔

    ریکارڈ: نکاح 25 سال کی عمر میں اور پہلی وحی 40 سال کی عمر میں، 25 سے 40 سال کے درمیان حضور ﷺ کی اولاد بھی پیدا ہوئی، البتہ کیسے بچوں کوپالا سنبھالا، بیٹیاں حضرت زینب، ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنھم کے نکاح کیسے کئے، کون کون شامل ہوا، کچھ ریکارڈ نہیں ملتا سوائے یہ کہ آپ ﷺ غارِ حرا جاتے اور پیاری ”بیوی“ حضورﷺ کو ستو (کھانا) باندھ دیتی یا کھانا دینے جاتی۔

    تصدیق: حضرت جبرائیل علیہ اسلام سے پہلی ملاقات، دل مضطرب کے ساتھ گھر تشریف لاکر فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو، پیاری بیوی کوسارا واقعہ وحی کا بتایا تو پیاری بیوی جو پہلے کچھ نشانیاں دیکھ چُکی تھیں اور نکاح کے 15 سالوں کے دوران حضور ﷺ کوجو کرتے دیکھا تو اُس کی تصدیق اسطرح کی ”آپ ﷺ کو اللہ کریم کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اُٹھاتے، محتاجوں کے لئے کماتے، مہمان کی ضیافت کرتے اور راہ حق میں مصائب برداشت کرتے ہیں۔

    ساتھی: پیاری سمجھدار بیوی نے مزید یہ کیا کہ حضور ﷺ کو چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو نصرانی تھے، عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے۔ حضور ﷺ کا واقعہ سُننے کے بعد کہنے لگے: یہ وہی فرشتہ ہے جسے اللہ کریم نے حضرت موسی علیہ السلام پر اُتارا تھا، اے کاش میں اُس وقت زندہ ہوتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔

    سکون: حضور ﷺ، حضرت خدیجہ اور حضرت علی نماز ادا کرتے اور ایک دفعہ کسی نے دیکھا تو چچا عباس پاس تھے، اُن سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میرا بھتیجا ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کریم وحدہ لا شریک ہے۔ نبوت کے تین سال بعد اللہ کریم نے فرمایا ”اپنے رشتے داروں اور قرابت داروں کو ڈر سناؤ“ جس پر حضور ﷺ نے فاران کی چوٹیوں پر رشتے داروں کو لا الہ الا اللہ کی دعوت دی۔

    سوشل بائیکاٹ: اس کے بعد حضرت خدیجہ کے گھر اور گھرانے پر قیامت ٹوٹ پڑی، حضور ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے، گھر میں گندگی پھینکی جاتی، آپ ﷺ کو جھوٹا (نعوذ باللہ) کہا جاتا حتی کہ 43 سال کی عمر کے بعد کے 7 سال میں سے آخر والے تین سال تو بنو ہاشم کا سوشل بائیکاٹ کر کے شِعبِ ابی طالب میں قید کر دیا گیا مگر کیا خوبصورت صبر ہے کہ حضرت خدیجہ اور کسی بچے کی دنیاوی حاجت یا بھوک پیاس رہنے پر چیخنے کا ایک واقعہ نہیں ملتا۔

    ہمت: سوشل بائیکاٹ کے دوران حضرت حکیم بن حزام اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کے لئے گیہوں لائے، راستے میں ابوجہل سے بحث، ابوالبختری بن ہاشم کا وہاں آنا، ابو جہل کو سمجھانا مگر اس کا نہ ماننا تو ابوالبختری نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سے ابو جہل کا سر زخمی کر دیا۔ ابو البختری اور حضرت حکیم بن حزام دونوں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بھتیجے تھے۔

    سلام: ایک دفعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا حضور ﷺ کے لئے کھانا لے کر آ رہی تھیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ! جب آپ کے پاس پہنچیں تو ان کو اللہ کریم کا اور میرا سلام پیش کریں اور جنت میں خول دار موتی سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیجئے جس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف۔ (صحیح بخاری 3820)

    افضل جنتی؛ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا، آپ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اور حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ مریم بنت عمران جنت میں فضیلت والی عورتیں ہیں۔ (مسند احمد 2730)

    نبی کریم ﷺ نے پیر کے روز صبح کے وقت نماز پڑھی، سیدہ خدیجہ نے پیر کے دن اس کے آخری حصے میں نماز پڑھی اور سیدنا علی نے منگل کو نماز پڑھی ( المعجم الکبیر للطبرانی: 945)

    سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر اتنی غیرت نہ کی جتنی جناب خدیجہ پر کی، حالانکہ میں نے انہیں نہیں دیکھا تھا لیکن حضور ﷺ سیدہ خدیجہ کا بہت ذکر فرماتے تھے، (صحیح بخاری 3818)

    سیدہ خدیجہ کے ساتھ آپ ﷺ نے 25 سال گزارے، اس ساری مدت میں آپ ﷺ نے کبھی دوسری شادی نہیں کی، سیدہ خدیجہ نے بھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جو آپ ﷺ کو نا پسند ہو۔( صحیح مسلم 2436)

    وفات: ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا نبوت کے 10ویں سال جب چچا ابو طالب کو وفات پائے ابھی 3 یا 5 دن ہوئے تھے، 65 سال کی عمر میں 10 رمضان المبارک کو وفات پائی۔ غُسل دیا گیا اور نماز جنازہ کا ابھی حُکم نازل نہیں ہوا تھا، آپ کو مکہ مکرمہ میں واقع حَجُون (جنّتُ المعلیٰ) کے مقام پر دفن کیا گیا۔

  • آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کے موجودہ اور مستقبل کے ظل سبحانیاں آٹے کی لائنوں میں لگی یہ قوم کی دست بستہ درخواست کرتی ہے کہ جو ناکردہ گناہ اس قوم نہ کر لئے ان پر اس قوم کو معاف کردیں۔ٹوپی ڈرامے ختم کرکے تباہ حال اور مجبور قوم کا مزید امتحان نہ لیں۔ ان سے روز گارتم نے چھینا ،رو مرہ کی ضروریات زندگی سے کوسوں دور کردیا ۔ بجلی گیس تم نے چھین لی۔ لے دے کے ان کے پاس جان تھی اب وہ لے رہے ہو۔ شاہی دستر خوانوں کو لپیٹ کر خوشنما نعرے دینے کی بجائے ان کے مسائل کا حل پیش کریں۔ ملک کے وقاراس کی عزت ملکی اداروں کی عزت کو بھی اب اُچھال رہے ہو ۔ قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پر چڑھ دوڑے ہو ۔ پاکستان اور اس کی عوام سے آپ سب کس دشمنی کا بدلہ چکا رہے ہو۔

    پاکستان آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس کو مزید کس مقام پر لے جا کر چھوڑنا چاہتے ہو؟ آئین اور جمہوریت کے ساتھ مذاق کرنے کی بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ باری کے چکر میں ملک کو تباہی میں نہ جھونکا جائے۔ جمہوری اداروں کو بچانے ملک کی بقا اور سالمیت کی فکر کرنے، عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ بھٹو خاندان کی سیاسی تاریخ خون سے رنگین ہے ملک کی ترقی ،بقا اور استحکام و سالمیت کے لئے اس خاندان نے جتنی قربانیاں دی ہیں تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی افسوس آج کی پیپلزپارٹی کے سامنے آئین کی خلاف ورزی کی باتیں سینہ تان کر جا رہی ہیں چند ایک کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی آئین شکن کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے ۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا خاکی وجود ہی نہیں جمہوریت کے لیے طویل سیاسی جدوجہد سے عبارت ایک سیاسی عہد کو بھی دفن کیا جا رہا ہے۔پیپلزپارٹی کی آج کی سیاست لمحہ فکریہ ہے ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ موجودہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے سامنے آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ آئینی اداروں سے جنگ کونسی جمہوریت میں ہے۔ عدلیہ کی اصل مدد میڈیا اور عوام ہیں۔ سیاسی جماعتیں پہلے فوج پر حملہ آور ہوئیں سلیکٹڈ اور امپورٹڈ کا مطلب کیا تھا؟ دونوں طرف سے فوج پر حملہ ، اور اب عدلیہ پر حملہ ہو رہاہے یاد رکھیے اس ملک کی بقا و سلامتی کے لئے آئین اور انصاف کے مسئلے پر عوام ، میڈیا اور فوج عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس سلسلے میں کسی بھی سیاسی قوت کی پروا نہیں کی جائے گی۔

  • خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار اہم ہوتا ہے – ثانیہ مرزا

    خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار اہم ہوتا ہے – ثانیہ مرزا

    بھارت کی سابق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار کو اہم قرار دے دیا۔
    اپنے ایک بیان میں ثانیہ مرزا نے کہا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کئی کامیاب خواتین کے پیچھے مرد ہوتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ ایسے مرد بھائی، شوہر، باپ یا دوست کی صورت میں موجود ہوتے ہیں ، وہ وقت سے آگے کا سوچتے ہیں ، جس کی وجہ سے عورتوں کو اپنے خواب پورے کرنے میں اعتماد ملتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ثانیہ مرزا نے شوہر شعیب ملک کے بغیر بیٹے اذہان ملک، والدین، بہن اور بہنوئی کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کی۔عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ثانیہ نے انسٹاگرام پر اپنی نئی تصاویر بھی اپ لوڈ کیں۔
    https://www.instagram.com/mirzasaniar/
    شعیب ملک اور ان کی اہلیہ ثانیہ مرزا کے درمیان گزشتہ دنوں علیحدگی کی خبریں گرم تھیں تاہم اس حوالے سے دونوں کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

  • مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے

    مینا کماری ناز

    اداکارہ و شاعرہ

    یوم وفات : 31 اگست 1972
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی نامور اداکارہ شاعرہ مینا کماری ناز جنہیں” ملکہ غم ” بھی کہا جاتا ہے ان کا اصل نام ماہ جبیں ہے ۔ وہ یکم اگست 1932 میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام علی بخش اور والدہ کا نام نیپرو بھاوتی ٹیگور تھا مسلمان ہونے کے بعد ان کا اسلامی نام اقبال بیگم رکھا گیا۔ مینا کماری نے 6 سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے ” لیدر فیس” فلم سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا ۔ وہ تین بہنیں تھیں ان کی دوسری بہنوں کا نام خورشید اور مدھو تھا۔ فلم ڈائریکٹر وجے بھٹ نے ان کو مینا کماری کا فلمی نام دیا تھا جبکہ مینا کماری نے شاعری میں اپنے لیے ناز تخلص اختیار کیا ۔ 1952 میں انہوں نے فلمساز کمال امروہوی سے دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی لیکن محبت کی یہ شادی کامیاب نہیں ہو سکی۔ چند برس بعد ہی ان کے درمیان علیحدگی ہو گئی جس کے بعد مینا کماری نے دوسری شادی نہیں کی ۔ کمال امروہوی کی بیوفائی کے بعد مرد حضرات پر ان کا اعتبار نہیں رہا۔ انہوں نے بقیہ تمام عمر تنہائی ، درد وغم سہتے ، اداکاری اور شاعری کرتے گزار دی۔ شاعری میں انہوں نے گلزار سے اصلاح لی تھی ۔ مینا کماری نے کل 94 فلموں میں کام کیا انہیں فلم ” بیجو باورا” سے بے پناہ شہرت اور پذیرائی ملی ۔ مینا کماری کو ہندوستان کی پہلی خاتون اداکارہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔ 31 مارچ 1972 میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کے انتقال کے بعد ” چاند” کے عنوان سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔

    منتخب کلام

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    ……………….

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
    ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

    پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
    رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

    مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
    اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

    خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
    کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تیری رہگزر سے، دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے، اپنا مزار گزرے
    .
    بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
    شاید اسی طرف سے، اک دن بہار گزرے
    .
    دار و رسن سے دل تک، سب راستے ادھورے
    جو ایک بار گزرے، وہ بار بار گزرے

    بہتی ہوئی یہ ندیا، گھلتے ہوئے کنارے
    کوئی تو پار اترے، کوئی تو پار گزرے
    .

    مسجد کے زیر سایہ، بیٹھے تو تھک تھکا کر
    بولا ہر اک منارا، تجھ سے ہزار گزرے
    .
    قربان اس نظر پہ، مریم کی سادگی بھی
    سائے سے جس نظر کے، سو کردگار گزرے
    .
    تو نے بھی ہم کو دیکھا، ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
    تو دل ہی ہار گزرا، ہم جان ہار گزرے

  • بلوچستان کی تازہ تصویر

    بلوچستان کی تازہ تصویر

    بلوچستان کی تازہ تصویر

    معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان کا شمار دنیا کے امیر ترین علاقوں میں ہوتا ہے رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور قدرتی وسائل کے لحاظ سے پاکستان کا امیر ترین صوبہ لیکن غربت اور پسماندگی میں بھی سب سے بڑا صوبہ اور سب سے آگے بلوچستان ہی ہے۔ اگست 2022 میں سیلابوں اور طوفانی بارشوں سے بلوچستان میں جو تباہی آئی اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ان میں سے اب بھی ہزاروں افراد گھروں سے محروم ہیں جن میں زیر نظر تصویر کے افراد پر مشتمل خاندان بھی شامل ہے ۔

    ستم بالائے ستم یہ کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آٹے کا ہے جس کے حصول کیلئے روزانہ کئی افراد شدید مشکلات اور مشقت کے مرحلے سے گزر کر اپنی جان سے ہی گزر جاتے ہیں اور سب سے مہنگا آٹا بلوچستان میں ہے یعنی بلوچستان ہر طرح سے ” امیر و کبیر” صوبہ ہے جس کا اندازہ اس ایک تصویر سے ہی لگایا جا سکتا ہے ۔ بلوچستان صرف آج اس طرح نہیں ہے یہ صوبہ ہر دور میں ایسی ہی صورتحال سے دوچار رہا ہے۔

    آغا نیاز مگسی

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، نئی تحقیق

    نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، نئی تحقیق

    ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں میں نزلہ زکام کی تشخیص ہو ان میں ایک ہفتے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ نزلے سے متاثرہ ہونے کے بعد ایک ہفتے میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 6 گنا بڑھ جاتا ہے یہ تحقیق نزلہ زکام کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو دل کے دورے کی علامات سے متعلق آگاہی بھی دیتی ہے۔ماہرین کی ٹیم نے 16 لیبارٹریز سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا اور اس کا موازنہ اموات سے کیا۔2008 سے 2019 کے درمیان 26 ہزار 221 کیسز کی تصدیق ہوئی اور اس گروہ میں 401 مریضوں کو ایک سال قبل یا نزلے کے دورانیے کے بعد دل کا دورہ پڑا تھا کچھ مریضوں کو ایک سے زیادہ دل کے دورے پر پڑے تھے یوں ٹوٹل 419 افراد کو دل کے دورے پڑے تھے۔

  • کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    کیا حمزہ یوسف پاکستان کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    سکارٹ لینڈ کے پہلے مسلم سربراہ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف نے حلف اٹھا لیا اور اپنے فرائض سرانجام دینا شروع کردئیے ہیں۔ سکارٹ نینشل پارٹی سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ حمزہ یوسف کو اپنی جماعت کے علاوہ سکاٹش گرینز پارٹی کے ارکان کی بھی حمایت حاصل ہوئی۔ وہ برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والے پہلے مسلمان ہیں۔ اس سے قبل سعیدہ وارثی بھی کنزویٹو پارٹی کی 2010 سے 2012 تک شریک چئیرمین رہ چکی ہیں۔

    حمزہ یوسف کے والد مظفر یوسف کا تعلق پنجاب کے علاقے میاں چنوں (خانیوال) سے ہے انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسکاٹ لینڈ منتقل ہوگئے جہاں بطور اکاونٹنٹ کام کیا۔ حمزہ یوسف کی والدہ کینیا میں رہائش پذیر ایشائی خاتون شائستہ بھٹہ ہیں۔ 1985 میں پیدا ہونے والے حمزہ یوسف نے گلاسگو یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف دس سال قبل اپنے آبائی علاقے ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ ان کے رشتے دار اور عزیز و اقارب خوشی منا رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی حمزہ یوسف پاکستان کے سربراہ بن سکتے ہیں؟

    پاکستان میں حمزہ یوسف جیسی شخصیات کا وزیراعظم بننا تو بہت مشکل رکن قومی اسمبلی منتخب ہونا بھی قدرے مشکل ہوگا۔ پاکستانی قوم ویسے بہت جذباتی ہے پاکستانی نژاد شخصیات کی ترقی پر خوش ہوتے ہیں۔ امیدیں وابستہ کرتے ہیں دنیا بھر میں اپنے جھنڈے گاڑے مگر وہی پاکستان میں جمہوریت کے لئے آواز بلند نہیں کرتے۔ پاکستان میں بھوک اور افلاس کی ایک وجہ سیاسی عدم استحکام اور غیر سیاسی افراد کی سیاست میں مداخلت ہے۔ ریاست اور سیاست کے اس کھیل میں چونا صرف عوام کو لگتا ہے۔

    بنیادی جمہوریت نہ ہونے اور سیاسی جماعتوں میں اشرافیہ کا کنٹرول اور موروثی قیادت کسی طور پر بھی مڈل کلاس قیادت کو منتخب نہیں ہونے دے گی۔ گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی کے ایک رکن نے بتایا کہ سینیٹ میں ووٹ کے لئے 10 کروڑ روپے کی آفر ہوئی۔ان حالات میں متوسط طبقہ تو کیا کاروباری طبقے سے منسلک لوگ بھی اس کھیل میں شامل نہیں ہوسکتے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹیاں اس طرح ٹکٹ تقسیم کرتی ہیں اللہ کی پناہ۔ گزشتہ حکمران جماعت تحریک انصاف پر الزام ہے کہ2018 کے انتخابات کے لئے دو دو کروڑ تک کے ٹکٹ بیچے گئے۔ جب پارٹی ٹکٹ کی قیمت یہ ہوگی تب انتخابات جیتنے کے لئے 50 کروڑ روپے لگائے جائیں گے۔ اور ایک حلقے میں اگر تین مضبوط امیدوار ہوں تو 1 ارب 50 کروڑ روپے اوسطا خرچ ہونگے۔ ان حالات میں جیتنے یا ہارنے والا اتنی بڑی انوسٹمنٹ کو پورا کرنے کے لئے ہر جائز اور ناجائز طریقہ اپنائے گا وہاں حمزہ یوسف تو کہی گم ہو جائے گا۔

    یہاں بھی ہر شہر میں حمزہ یوسف موجود ہیں۔ وہ سیاسیات کی ڈگری بھی حاصل کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں میں بطور کارکن کام بھی کرتے ہیں۔ پاکستانی حمزہ یوسف نوجوانی میں پارٹی پرچم تھامے چلتے ہیں مگر جب انتخابات کی باری آتی ہے تو ان حمزہ یوسفوں کے اوپر پیسے والے مسلط ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی حمزہ یوسف کسی سیاسی جماعت کا چیف آرگنائزر بن بھی جائے تو وقت آنے پر اس حمزہ یوسف کو اتار کر وہاں اس پارٹی کے قائد کی بیٹی یا بیٹا بیٹھ جاتا ہے۔ ہم بھی کیا اپنے دکھ لے کے بیٹھ گئے بھائی حمزہ یوسف آپ کو بہت مبارکباد شکر ہے آپ پاکستان میں نہیں ہیں ورنہ آپ کھبی بھی پاکستان کے وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ اسکاٹ لینڈ کی ترقی کے لئے آپ کے قدم مبارک ہوں۔ اور پاکستان میں بھی اللہ تعالیٰ ایسی قیادت نصیب فرمائے اور پاکستان میں بھی عام آدمی کو وزیراعظم تک کے سفر میں آسانی فرمائے۔

  • رمضان ، عوام اور مہنگائی

    رمضان ، عوام اور مہنگائی

    رواں برس رمضان المبارک میں پہلی بار ایسا کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے جو قربانی والی عید پر دیکھنے کو ملتا، رمضان میں راشن کے حصول کے لئے کل ایک ہی روز میں 10 سے 12 لوگوں نے میرے دروازے پر دستک دی،افسوسناک بات یہ کہ دیکھنے میں وہ غریب نہیں تھے، چھوٹے بچے، عورتوں کے ساتھ مرد تھے،جنہیں ہم لوئر مڈل کلاس کہتے ہیں، یقینا وہ اس علاقے میں کام کرنیوالی ملازمائیں ہوں گی یا سابقہ ملازمائیں جن کی کالز آتی ہیں رمضان میں راشن پیکج کے لئے،

    شہری علاقوں میں خوراک کی افراط زر کی شرح 42 فیصد ہو چکی ، چیزیں بہت مشکل ہو چکی صرف غریبوں کے لئے نہیں بلکہ جو اوپر کا طبقہ ہے وہاں بھی یہی صورتحال ہے، گھر، کاریں سب موجود ہے لیکن گھر کے اندر ملازموں کی تعداد کم کر دی گئی، ڈرائیور چلے گئے، گاڑیاں دھونے کے لئے قریبی علاقے کا لڑکا آ جاتا ہے، باروچی جو مستقل ملازم تھے انکو جزوقتی کر دیا گیا ہے،

    مالی مشکلات کی وجہ سے رمضان المبارک ایک آزمائش بن جاتا ہے،خود ساختہ مہنگائی بھی رمضان میں ہو جاتی ہے، اشیاء کی قیمتیں دکاندار تو من مانی قیمتوں پر فروخت کرتے ہی ہیں تا ہم اس بار رمضان کے آغاز سے حکومت نے بھی کچھ ایسا ہی کام کیا، آٹے کی قیمت جو رمضان سے قبل دس کلو کے تھیلے کی 650 روپے سرکاری قیمت تھی وہ رمضان کے آغاز سے حکومت نے قیمت بڑھائی اور اب وہی دس کلو کا سرکاری آٹا 1150 روپے میں مل رہا ہے،گروسری سٹور سمیت کوئی ایسی جگہ نہیں جو رعایتی نرخوں پر چیزیں فروخت کرے،لاہور ، اسلام آباد اور پنڈی میں سستی ایرانی مصنوعات میسر ہیں،گروسری سٹور میں ایرانی سامان موجود ہوتا ہے جس میں تیل اور پنیر بہت مشہور ہے، سامان بلوچستان ایران سرحد کے راستے لایا جاتا ہے، ایرانی مصنوعات پہلے بلوچستان اور لیاری کراچی میں ملتی تھیں لیکن اب دیگر شہروں میں بھی مل رہی ہیں

    ایک چیز جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ کم ڈشز بنا رہے ہیں۔ سحر اور افطار کی تیاری کم کی جا رہی ہے لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو افطاری کے بعد نماز کے لیے وقفہ کرتے ہیں اورپھرنمازکے بعد اسی طرح ہی ڈنر کرتے ہیں،اور پھر سحری کے لیے خصوصی پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اسلام کی روح ہے؟ کیا روزے کا مطلب یہ ہے کہ روزے سے پہلے اور بعد میں دس مختلف پکوانوں کے ساتھ سحری و افطاری کی جائے؟ ہم کیوں پکوانوں اور ڈشز کی طرف جاتے ہیں ، کسی عام کھانے سے روزہ کیوں نہیں کھولتے، جیسے سادہ افطاری کریں اور اسکے بعد ون ڈش ڈنر ہو، اگر کسی کو بہت کچھ نصیب ہو تو کیا وہ اسلام کی روح کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رقم کو غریبوں کو کھانا کھلانے کے لیے استعمال نہ کرے؟

  • رمضان اور یوم پاکستان ،تحریر:محمد نعیم شہزاد

    اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کی مبارک ساعتيں ایک بار پھر میسر ہیں۔ یوم پاکستان اور پہلا روزہ دونوں خوشیاں اکٹھی نصیب ہوئیں مگر فی زمانہ میری ارض پاک، ملک پاکستان کچھ مختلف حالات سے دوچار ہے۔ جہاں ایک طرف اقتصادی طور پر ملک قرضوں کے بوجھ تلے ڈوبا ہے تو دوسری طرف اندرونی خلفشار اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے میرے وطن میں اچھے حکمرانوں کا فقدان رہا ہے مگر اس بار خرابی حالات کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ عوام بھی ملکی سلامتی اور اجتماعی مفاد کو بھول کر ایک سیاسی راہنما کی فکر میں محو ہیں۔
    انسان فطری طور پر کمزور ہے اور خواہشات کا اسیر بن کر بہت سے غلط افعال کا مرتکب ہو جاتا ہے مگر کبھی کسی کی اس قدر مخالفت نہیں کرنی چاہیے کہ بات مخاصمت اور مجادلت تک بڑھ جائے۔ چار برس پہلے جب ایک منتخب وزیراعظم کی نااہلی عمل میں آئی اور ایک دوسری پارٹی کو برسر اقتدار آنے کا موقع ملا تو سب کچھ مبنی بر انصاف لگا اور ہر نااہلی عین قانونی اور آئینی معلوم ہوئی مگر جب اگلے چند برسوں کے بعد خود یہ منصب چھوڑنا پڑا تو سب غیر آئینی اور اداروں کی مداخلت نظر آنے لگا۔ وہ ادارے جن کے ساتھ یکجہتی دکھائی گئی انھیں مورد الزام ٹھہرا کر سب سیاہ و سفید کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ اپنے حق میں ہونے والی ہر بات کو حق اور اپنے خلاف ہونے والی بات کو باطل تسلیم کر لیا گیا۔ قرض تلے ڈوبی ہچکولے کھاتی معیشت کا مذاق اڑایا جانے لگا اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ نازیبا سلوک کو محض موجودہ حکومت کی نالائقی اور ناکامی قرار دیا گیا۔
    بحثیت ذمہ دار شہری ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ ملکی حالات کی نزاکت کا ادراک کرے اور اپنی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وسیع تر قومی مفاد میں سوچے۔ الزامات کی سیاست کو پروان چڑھانے کی بجائے ہر سیاسی رہنما اور جماعت سے مطالبہ کرے کہ وہ قومی سلامتی اور ترقی کے لیے کام کرے۔ بے جا کسی رہنما یا جماعت کی حمایت نہ کی جائے اور ملک و قوم کو افراد اور جماعتوں سے بالاتر سمجھا جائے۔
    بحثیت مسلمان ہمیں خوب جان لینا چاہیے کہ اس جہان رنگ و بو میں صرف ایک ہی ہستی اقتدار اعلیٰ کی مالک ہے اور وہ سب سے قوی و عزیز تر ہے۔ آج ہی قرآن مجید کا مطالعہ کرتے درج ذیل آیت قرآنی نظر سے گزری تو فوراً ملکی حالات کی طرف خیال گیا۔ سورہ اعراف میں جہاں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جادوگروں کی شکست اور رجوع الی اللہ کا بیان کیا اور فرعون کے اپنی طاقت کے نشے میں چور بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرنے اور خواتین کو زندہ چھوڑنے کا ذکر کیا اس سے متصل دنیا میں حکومت اور آخرت کے حسن انجام کا معاملہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ۔

    قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ (الاعراف ، ۱۲۸)

    موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو ۔بیشک زمین کا مالک اللہ ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ حکمرانی اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے مگر حسن عاقبت تو صرف پرہیز گاروں کے لیے ہی ہے۔ تو ہم کیوں اس دنیا کی حکومت کے لیے ہر جائز ناجائز کام کر گزرنے کو تیار ہیں ۔ ہم عمل کے مکلف ہیں مگر اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ۔ ہمیں ہر ایسے فعل و عمل سے ضرور بچنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ناپسندیدگی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ماہ مبارک میں ہمارے ملک پر خصوصی فضل و کرم فرمائے اور ارض پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔