Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ریڈیو پاکستان کا پہلا نیوز بلیٹن تیار کرنے والے صحافی

    ریڈیو پاکستان کا پہلا نیوز بلیٹن تیار کرنے والے صحافی

    ریڈیو پاکستان کا پہلا نیوز بلیٹن تیار کرنے والے صحافی

    15اگست 1947 کو ریڈیو پاکستان لاہور سے خبروں کا جو پہلا بلیٹن نشر ہوا، وہ ممتاز صحافی غنی اعرابی نے تحریر کیا تھا اور انہی کی آواز میں نشر ہوا۔ وہ ترقی کرتے کرتے ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر نیوز کے عہدے تک پہنچے۔ حکومت پاکستان کے پرنسپل انفرمیشن آفیسر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے پریس کونسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 21 جنوری 1998 کو اسلام آباد میں ان کی وفات ہوئی۔

  • نوجوان پاکستان کا مستقبل مگر؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    نوجوان پاکستان کا مستقبل مگر؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    آج 75 سالوں میں وطن عزیز جہاں کھڑا ہے اور جس حال میں کھڑا ہے یہاں تک پہنچانے میں آمریت اورجمہوریت کے علم برداروں دونوں کا ہاتھہ ہے۔ا س ملک اور عوام کے ساتھ بہت کھلواڑ ہو چکااس ملک کو پالیسی سازوں ،قانو ن سازوں ، معیشت دانوں کی ضرورت ہے۔ مسخرے سیاستدانوں نے اس ملک کو ہر سطح پر لاغر بنا دیا کیونکہ یہ خود بھی لاغر ہیں ان کی سوچ بھی لاغر ہو چکی ہے-

    کسی بھی ملک کا سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری سے تنگ آکر جرائم کی دنیا میں جا رہے ہیں کچھ پڑھے لکھے نوجوان مجبوری سے سرکاری اور غیر سرکاری دفاتروں میں قاصد اور نائب قاصد کی نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ ملک کا بہترین سرمایہ اور اس کے روشن مستقبل کی ضمانت پڑھے لکھے نوجوان ہیں آج کے نوجوان کل کے نہایت ہی ذمہ دار افراد کہلائیں گے ملک کے فیصلہ ساز اداروں سیاسی رہنمائوں کو ملک کے اس مستقبل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    لاکھڑاتی ٹانگوں والوں، لاغر جسم والوں کے لئے اقتدار میں لانے کے لیے سیاستدان ایک دوسرے کے لئے کوشش کر سکتے ہیں تو ملک کے مستقبل ان پڑھے لکھے نوجوان طبقہ کی فکر کون کرئے گا؟ملک میں نوجوانوں میں ایک عزم وحوصلہ موجود ہے لیکن انہیں تربیت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ماضی کی حریف سیاسی جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم ابھی تک تو ایک دوسرے کے ساتھ ہیں آگے چل کر کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے ۔

    ماضی میں پنجاب نواز لیگ کا گڑھ تھا لیکن اس قلعے میں نقب عمران خان نے لگائی ہے اسی طرح کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے نقب لگائی ہے پنجاب کو دوبارہ فتح کرنے کے لئے نواز شریف نے اختیارات کے ساتھ مریم نواز کو پنجاب فتح کرنے کے لئے لندن سے روانگی کا حکم دیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ نواز لیگ کی مستقبل کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا تاہم یہ بات طے ہے کہ مریم نواز کی مقبولیت عمران خان کی سیاست کا مقابلہ کر سکتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پنجاب کو دوبارہ فتح کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ عمران خان نے بھی اعلان کیا ہےکہ اُن کے پاس ابھی بہت کارڈ ہیں جو کھیلیں گے۔ کیا مریم نواز ووٹ کو عزت دو کا کارڈ کھیلے گی یا پھر کوئی اور کارڈ کھیلیں گی۔

  • معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    سندھ سےتعلق رکھنےوالی معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ 20 جنوری 1968 کوخیرپورسندھ میں پیدا ہوئیں ۔وہ سندھ کےسابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ہیں ۔انہوں نےابتدائی تعلیم کراچی سےحاصل کی اوراس کےبعد آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے”غیرت کےنام پرقتل”کےموضوع پرپی ایچ ڈی کی

    وہ اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں ۔اس سےقبل وہ دومرتبہ ایم این اے رہ چکی ہیں وہ اس سےقبل خیرپورکی ضلعی ناظمہ اور National Commission For Human Development(NCHD) کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں ۔

    نفیسہ شاہ کےوالد سیدقائم علی شاہ3 بارسندھ کے وزیراعلیٰ رہ چکےہیں ۔نفیسہ شاہ کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔ وہ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں Honour Unmasked, Gendar ViolenceاورLaw and Power in Pakistan ودیگر شامل ہیں ۔

  • جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    پیدائش:08 فروری 1819ء
    لندن
    وفات:20 جنوری 1900ء
    شہریت: متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    مادر علمی:کرائسٹ چرچ
    کنگز کالج، لندن
    مادری زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ آکسفورڈ
    تحریک:آزاد خیال

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب آرٹ کا نقاد اور مصلح تھا۔ لندن میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ 1860ء میں اپنی ساری موروثی جائداد مزدوروں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کی۔ ایک نمونے کا گاؤں بنایا جس میں کسان امدادِ باہمی کے اصولوں پر کام کرتے تھے۔ 1870ء میں آکسفورڈ میں فنونِ لطیفہ کا پروفیسر مقرر ہوا۔ وفات کے بعد آکسفورڈ کا ایک کالج اس کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس کی اہم تصنیف ’’ماڈرن پینٹرز‘‘ (پانچ جلدیں) ہے۔ دوسری تصانیف میں دی سیون لیمپس آف آرکی ٹیکچر اور دی اسٹونز آف وینس قابل ذکر ہیں۔

  • فضائی سفر اور قومی  فضائی کمپنیاں ، تحریر: محمد آصف شفیق

    فضائی سفر اور قومی فضائی کمپنیاں ، تحریر: محمد آصف شفیق

    کچھ دن کیلئے پاکستان جانے کا پروگرام بنا ، اس بار ارادہ تھا کہ صرف ایک ہفتہ پاکستان میں گزار کر واپس آجانا ہے ، سستی ٹکٹ کی خریداری ے لیے دوڑ دھوپ شروع کی مگر اپنی چھٹی کے حساب سے کوئی نہیں مل رہی تھی تو سوچا اس بار اپنی قومی ائر لائن دیکھی جائے ، الحمد للہ ائر بلیو سے جانے آنے کاارادہ کیا اور ڈائیرکٹ فلائٹ جدہ سے ملتان اور واپسی بھی ڈائیرکٹ فلائٹ پر بکنگ بنا لی جب خریداری کا مر حلہ آیا تو ان کی ویب سائٹ پر صرف ایچ بی ایل اور یو بی ایل کے کریڈٹ کارڈ کا آپشن آرہا تھا مالکان اور تکنیکی عملہ سے گزارش ہے کہ ٹکٹ کی خریداری کو آسان بنایا جائے تاکہ ہر فرد کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی آپ کی ائر لائن کی ٹکٹ کسی بھی کریڈٹ کارڈ سے خرید سکے ، ہم بھی پاکستانی ہیں اور پاکستانی فارمولا لگا کر کوشش کی کہ ٹکٹ لے لی جائے مگر تین بار کی کوششوں کے بعد بینک نے کریڈٹ کارڈ کو ارضی طور پر کچھ گھنٹو ں کیلئے بند کر دیا ،اگلے دن صبح نماز فجر کے بعد دوبارہ کوشش کی تو الحمد للہ بخیر و خوبی ای ٹکٹ بن گئی ، پھر مرحلہ درپیش تھا کہ یہ ائر لائن آپریٹ کس ٹرمینل سے ہو رہی ہے ، چونکہ آجکل عمرہ پر آنے والوں کو بہت رش ہے اس وجہ سے جدہ میں تین ٹرمینل آپریشنل ہیں ایک تو ٹرمینل 1 ہے جس پر سعودی ائر لائن اور بہت سی بین الاقوامی ائر لائنز آپریٹ ہو رہی ہیں دوسرا حج ٹرمینل ہے جہاں سے پی آ ئی اے اور بہت سی بین الاقوامی ائر لائنز آپریٹ ہوتی ہیں اور ایک پرانا جدہ ائر پورٹ نارتھ ٹرمینل ہے ائر بلیو کی پرواز وہاں سے آپریٹ ہوتی ہے

    تھوڑی کوششوں کے بعد ہمیں پتا چلا کہ نارتھ ٹرمینل پر جانا ہوگا ، فلائٹ الحمد اللہ بروقت تھی ، سات افراد پر مشتمل عملہ نہایت اچھا اور اچھے اخلاق سے پیش آرہے تھے ائر بس اے 320 اچھی حالت کا طیارہ اور 180 سواریوں کی گنجائش تھی اور پوری طرح سیٹ بائی سیٹ ، فلا یٹ کپتان بھ انتہائی تجربہ کار اور ماہر ہواز باز تھا برسوں سے ہوائی سفر کر رہا ہوں سموتھ لینڈنگ میں ائر بلیو کا جواب نہیں کھانا بے شک کم مگر معیاری تھا اور سورس کا معیار بہت اچھا بر وقت ملتان ائر پورٹ پر لینڈنگ ہوئی اور پاکستانی عوام ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے کوشاں نظر آئے جہاز رکتے ہی اٹھ کر کھڑے ہوجانا اس قوم کا شعار ہے دھکم پیل میں خوشی محسوس کر تے ہیں اترکر امیگریشن سے چند قدم دور ایک سپاہی کو شلوار قمیض میں ملبوس پردیسی سے الجھتے اور کورونا کے ٹیکوں کا سوال کرنے پر بڑی مشکل سے ہنسی روکی اور مداخلت کرتے کرتے رہ گیا کہ شاید اس بھائی نے سرکاری اہلکار کی شا ن میں کوئی گستاخی کی ہوگی جو زیر عطاب ہے اور آپ شکایت کریں بھی تو کس سے سب ہی افسر ہیں پاکستان میں دو کاونٹر امیگریشن پر چل رہے تھے جلد ہی میری باری آ گئی اور الحمد للہ زندگی میں پہلی بار سامان پہلے پہنچ گیا اس پر بھی زمینی عملہ داد کا مستحق ہے

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    ملتان سے اتر کر اپنے آبائی علاقہ کوٹ ادو میں ایک ہفتہ قیام رہا سردی الحمد للہ ٹھیک ٹھاک تھی اور بجلی نے بھی ہماری توقعات سے بڑھ کر ہماری خدمت کی مسلسل دو دن صبح 08.30 سے شام 04.30 تک کوئی کام نہیں کرنے دیا ، بہت سے احباب نے مختلف شہروں میں آنے کی دعوت دی سب سے آئندہ چھٹی پر ملاقات کا وعدہ کیا ہے امید ہے آیندہ کچھ زیادہ دنوں کیلئے جائیں گے تو سب کے شکوے دور کریں گے اب مہم واپسی کی تھی ادھر ادھر سے نمبر مانگ کر ملتان آفس بار بار کوشش کی اور ایک اچھا کام ائر لائن کی طرف سے یہ کیا گیا کہ بروقت ای میل کر دی کہ فلائٹ لیٹ ہے اور اب صبح تین بجے کی بجائے سات بجے روانہ ہوگی اور پھر ای میل میں اپ ڈیٹ کیا گیا کہ اب وقت تبدیل کرکے سوا نو کر دیا گیا ، الحمد للہ ہم نے ہمیشہ کی طرح بروقت ملتان پہنچ کر اچھے مسافر ہونے کا ثبوت دیا ہمارے پاس کوئی سامان تو تھا نہیں مگر سیکیورٹی والے حضرات نے سوال و جواب کا سیشن کیا اور پوچھا پیسے کتنے ہیں چند پاکستانی روپے اور چند ریال ہی تھے اس بھائی نے جلد جلدی پاسپورٹ نمبر اور بتائی ہوئی تفصیل نوٹ کی چیک ان کیا کاونٹر پر موجود عملہ مستعد اور بہت اچھے انداز میں پیش آیا امیگریشن کی باری آئی اور سارے مراحل طے کر کے ڈیپارچر لاونج میں انتظار کرنے لگے الحمد للہ فلائٹ اون ٹائم تھی اور فل لوڈ اور سواریاں بھی پوری 180 تھیں واپسی پر ٹیک آف اور لینڈنگ انتہائی شاندار رہی جو کہ ایک ماہر ہواباز کی نشانی ہے ائر بلیو اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ ماہر ہوا باز دستیاب ہیں ، ملتان سے روانہ ہونے کے کچھ دیر بعد کپتان مسافروں سے مخاطب ہوئے تاخیر پر معذرت کی اور خوشخبری دی کہ فلائٹ پر سامان اور سواریاں فل ہونی کی وجہ سے ہم ایندھن زیادہ نہیں بھرواسکے اس لئے اب ہم کراچی اتریں گے ہمارا کراچی رکنے کا دورانیہ پینتیس منٹ ہوگا یہ سنتے ہیں ہمارا بھی منہ لٹک گیا کہ بھائی ہم نے تو پیسے ڈائریکٹ فلائٹ کے بھرے تھے اور اب آپ ہمیں کراچی لے جا رہے ہیں اور جہاز میں ہی بٹھائے رکھنا ہے دوران ایندھن بھرائی ، بہر حال اس بات سے ہم ائر بلیو سے خفا ہیں کہ بھائی رحم کیا کریں عوام پر ، اس بار چونکہ عمرہ زائرین کا رش ہے تو زیادہ تعداد عمرہ ادا کرنے والوں کی تھی او ر ان میں سے بھی اکثر پہلی بار سفر کر رہے ہوتے ہیں فضائی عملہ کی برداشت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ بہت تعاون کرتے ہیں خاص طور پر نئے لوگوں کو پہلی بار فضائی سفر سے پہلے کچھ نہ کچھ ٹریول ایجنٹس آگاہ کردیں تو ائر لائنز کیلئے آسانی ہو جائے ، خاص طور پر واش روم کے استعمال اور کھانا کھاکر خالی برتن واپس کرنے پر کم و بیش افراد سے بحث ہوئی ان کی اس بار کی یہ روداد رہی امید ہے احباب کو سفر نامہ پسند آیا ہوگا اس پر اپنی آراہ سے آگاہ فرمائیں
    والسلام
    محمد آصف شفیق
    @mmasief

  • سنگین جرائم کی روک تھام،DNA ڈیٹااہم ضرورت

    سنگین جرائم کی روک تھام،DNA ڈیٹااہم ضرورت

    سنگین جرائم کی روک تھام،DNA ڈیٹا اہم ضرورت
    تحریر. میاں عدیل اشرف
    تحصیل چونیاں ضلع قصور
    ہمارے پیارے ملک پاکستان میں رہنے والےلوگوں میں کبھی بہت پیار,محبت,ہمدردی احساس ہوا کرتا تھا لوگ مل جل کر کام کرتے، بڑے چھوٹوں کا اور چھوٹے بڑوں کا,مرد خواتین کا اور خواتین مردوں کا بہت احترام کرتی تھیں دوسروں کی ماں,بیٹی,بہوں کی عزت کو اپنی عزت سمجھا جاتا تھا . زنا ، کم عمر بچوں سے زیادتی کا نام و نشان تک نہیں تھا، چوریوں ڈکیتیوں کی وارداتیں لوگوں کا قتل بہت کم تھا – پولیس کا لوگوں پر رعب تھا جرائم کم تھے لیکن جیسے جیسے حالات بدلتے گئے لوگوں کے احساسات بدلتے گئے فحاشی عام ہوتی گئی، بے ہودہ ڈرامے, فلمیں دیکھنے کا رواج بڑھتا گیا لوگوں کی سوچ بدلتی گئی ، ملک میں زنا کاری اور فحاشی عام ہو گئی،کم عمر بچوں سے زیادتی جیسے واقعات بڑھ گئے آئے روز کبھی کسی شہر میں کبھی کسی اور شہر میں لڑکیوں، لڑکوں سے زیادتی کے واقعات سامنے آ رہے، لوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہیں چوریوں، ڈکیتیوں کی وارداتیں تو عام سی بات ہے، ہر طرح کے جرائم میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا اور اس سب کو کنٹرول کرنا مشکل ترین ہو چکا اگر کہیں کوئی جرم ہوتا ہے تو اصل مجرم تک پہنچنے کیلئے کئی دن,مہینے,سال گزر جاتے ہیں – 100 میں سے80 فیصد بے گناہوں کو سزائیں ملتی ہیں لیکن اصل مجرم سرعام جرائم کرتے پھرتے ہیں ان کو پکڑنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہاہے، کسی مجرم کو سیاسی پناہ حاصل ہے تو کوئی قانون کو پیسے سے خرید لیتا ہے، آخر ہمارے ملک پاکستان میں ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟ ظالم کب تک مظلوموں پر ظلم کرتے رہیں گے؟ کم سن بچوں سے زیادتی جیسے واقعات کب تک ہوتے رہیں گے؟ ضلع قصور میں سنگین نوعیت کے دو ایسے واقعات دیکھنے آئے ہیں جن میں چونیاں سے تعلق رکھنے والے چار بچوں سے زیادتی کا معاملہ اور قصور میں ننھی زینب کا معاملہ دونوں ملتے جلتے کیس تھے جس میں پولیس اور حساس اداروں نے دن رات کی محنت سے اور عام لوگوں کے تعاون سے اصل مجرم تک پہنچے ان دونوں کیسسز میں مجرمان کو پکڑنے کے لیے جو طریقہ کار مشترکہ طور پر اپنایا گیا وہ تھا DNA کا عمل جس کے ذریعے تقریباً ہزاروں افراد کےDNA سیمپل لیے گئے اور آخر کار اصل مجرمان کے سیمپل میچ ہونے سے مجرمان کی شناخت ہوئی اس عمل کو کرنے پر حکومت کے کروڑوں روپے کے اخراجات ہوئے جو کہ کرنا ضروری تھے DNAک ے بغیر مجرمان تک پہنچنا ناممکن تھا اور آخر کار مجرم پکڑے گئے اس طرح کے کئی واقعات ہو رہے اور کئی دوسرے جرائم ایسے ہیں جن میں DNA سیمپلز لینے کی ضرورت پڑتی ورنہ مجرم کوپکڑنا مشکل ترین ہوتا اس لیے ایک تجویز ہے کہ جس طرح دوسرے چند ترقی یافتہ ممالک میں ہر فرد کا DNAٹ یسٹ کا نمونہ گورنمنٹ کے پاس ریکارڈ میں ہوتا جس کے ذریعے جرائم میں ملوث افراد تک چند دنوں کی بجائے چند گھنٹوں میں پہنچنا ممکن ہوتا اور شاید ان ممالک میں جرائم میں نمایاں کمی لانے کی ایک وجہ DNA بھی ہو سکتا ہے تو کیا ہمارے ملک پاکستان میں ایسا ممکن کیوں نہیں ہو سکتا؟ پاکستان میں بھی اگر اس طرح کا مربوط نظام بنا دیا جائے جس کے زریعے ہر پاکستانی شہری کا DNA سیمپل گورنمنٹ آف پاکستان کے ریکارڈ کا حصہ بن سکے اس نظام کو بنانے کا آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ جب کسی فرد کا شناختی کارڈ بنایا جاتاہے اس وقت نادرا ڈیپارٹمنٹ کے اشتراق سے نادرا آفس میں ایک کاؤنٹر ڈی این اے سیمپل کولیکشن بنایا جائے جو نئے شناختی کارڈ بنوانے کے حصول کے لیے آنے والے افراد کے فنگرز پرنٹ لینے کے ساتھ ساتھ اس افراد کا DNA سیمپل لے کر اس کو گورنمنٹ ڈیٹا بیس کا حصہ بنائے اس طرح آہستہ آہستہ پورے پاکستان کے افراد کی ڈیٹا بیس بن سکتی اور اس عمل کے ذریعےجب بھی کسی حادثے یا کسی بھی جرائم میں ملوث افراد کی شناخت کاپتہ لگانا ہو گا تو اس ڈیٹا بیس کی مدد سے جلد سے جلد پتہ چل سکے گا اصل مجرم کون ،کیونکہ DNA ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو ہرانسان کے اندر دوسرے سے مختلف ہوتے یا پھر اس افراد کی اولاد کے ساتھ میچ ہوتے دوسرے کسی انسان سے میچ نہیں ہو سکتےاگر پاکستان میں ایسا ڈیٹا بیس بنانے کا نظام بنتا ہے تو اس سے پولیس کو ریپ جیسے سنگین کیس نبٹانے میں بہت زیادہ آسانی ہو گی دوسری وجہ سننے میں آتا ہے کہ فلاں بے گناہ کو پولیس نے پکڑ لیا اس طرح جو بے گناہ لوگوں کو پولیس سنگین جرائم میں ملوث کرتی ہے اگر وہاں ملنے والے شواہد سے ڈی این اے میچ کیا جائے تو ان کی شرح میں بھی کمی واقع ہو گی اور کسی ایمرجنسی حادثات کی صورت میں جہاں آگ میں جلنے سےیالاش کا پانی میں زیادہ دیر رہنے سے لاش کی شناخت کرنا انتہائی مشکل ترین ہو جاتا DNA کی مدد سےشناخت کرنےمیں بھی آسانی ہو گی، جو پیسے گورنمنٹ افسوس ناک واقعات کے رونما ہونے کے بعد اخراجات کے طور پر استعمال کرتی انہی پیسوں کو پہلے ہی ایسا نظام بنانے پر خرچ کیا جائے تو مستقبل میں بہت سے اخراجات بچ سکتے ہیں ایسا نظام بنانے کے لیے سٹاف کی بہت ضرورت ہو گی اگر گونمنٹ آف پاکستان ایسا مربوط نظام بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو جرائم کی شرح میں بے پناہ کمی ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے نوجوان جو بے روزگار ہیں ان کو نوکریاں بھی ملیں گی جو کہ نوجوانوں کی ایک اہم ضرورت بھی ہے.اللہ ہمارے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھےاور ملک دشمن عناصر سے حفاظت فرمائے.آمین۔پاکستان زندہ باد

  • میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
    وہ دن آخری ہو میری زندگی کا

    مہناز

    معروف گلوکارہ مہناز بیگم کا اصل نام سیدہ مطاہرہ کنیز رضا اور والد کا نام سید اختر علی تھا۔ وہ مشہور مغنیہ کجن بیگم کے ہاں 1953ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے استاد امراؤ بندو خان کے بھتیجے نذیر نے انہیں مہناز کا نام دیا۔ مہناز نے موسیقی کی تربیت مہدی حسن خان کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر سے حاصل کی۔ امیر امام نے انہیں پاکستان ٹیلیوژن کے پروگرام” نغمہ زار ” کے ذریعے عوام سے متعارف کروایا جس کے بعد مشہور موسیقار اے حمید نے مہناز کو فلمی دنیا میں آنے کی دعوت دی۔ ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم ‘حقیقت’ مہناز کی بطور پلے بیک سنگر ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی جس کے بعد جلد ہی مہناز فلمی دنیا کی مقبول ترین آواز بن گئیں اور فلمی صنعت کے ہر موسیقار نے مہناز کی آواز کو اپنی فلم میں شامل کرنا اپنا اعزاز جانا۔ مہناز نے ساڑھے تین سو سے زیادہ فلموں کے لیے پانچ سو سے زیادہ نغمات ریکارڈ کروائے۔ اس کے علاوہ مہناز نے لاتعداد گیت اور غزلیں بھی گائیں جو آج بھی بیحد مقبول ہیں۔

    حکومت پاکستان نے موسیقی کے شعبے میں مہناز کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ انہیں ان کی گائیکی پر اور بھی متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں دس نگار ایوارڈ، دو نیشنل ایوارڈ، سات گریجویٹ ایوارڈ اور ایک پی ٹی وی ایوارڈ شامل ہیں۔ مہناز نے 1977ء سے 1983ء تک مسلسل سات سال تک نگار ایوارڈ حاصل کیا جو ایک منفرد اعزاز ہے۔

    مہناز طویل عرصے سے ہائی بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھیں۔ 19 جنوری 2013ء کو وہ اپنے علاج کیلئے پاکستان سے امریکا جا رہی تھیں کہ اچانک راستے میں انکی طبیعت خراب ہو گئی۔ جہاز کو ہنگامی طور پر بحرین کے شہر مانامہ میں اتارا گیا اور انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکیں اوراپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ وہ کراچی کی وادی حسین قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔ مہناز کی آواز میں چند مشہور نغموں کے بول

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
    او میرے سانوریا او بانسری بجائے جا
    تیرے میرے پیار کا ایسا ناتا ہے
    مجھے دل سے نہ بھلانا
    تیرےسنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،19 جنوری یوم پیدائش مولانا ظفر علی خان
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

    مولانا ظفر علی خان

    19؍جنوری 1873 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا ظفر علی خان 19؍جنوری 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد (Secretary) کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد دکن میں کام کیا اور محکمہ داخلہ (Home Departmentt) کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اخبار "دکن ریویو” جاري كيا اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب و صحافی خاصی مستحکم کی۔

    1908ء میں لاہور گئے، روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے 1903ء میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو "اردو صحافت کا امام” کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعور کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ عملے کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔ظفر علی خان نے 8؍جولائی 1935ء کو شہید گنج مسجد لاہور کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش تحریک چلائی۔ اس تحریک میں ان کی جماعت نے نیلا لباس پہن رکھا تھا اس لیے اسے نیلی پوش کا نام ملا تھا۔

    مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشا پرداز تھے۔ صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسولﷺ اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:

    معرکہ مذہب و سائنس، غلبہ روم، سیر ظلمت، جنگ روس و جاپان۔
    مولانا ظفر علی خان نے 27؍نومبر 1956ء کو وزیرآباد کے قریب اپنے آبائی شہر کرم آباد میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ محمد عبد الغفور ہزاروی نے ادا کی۔

    ویکیپیڈیا سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مولانا ظفر علی خان کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
    ——-
    نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
    ——-
    سلیقہ مے کشی کا ہو تو کر لیتی ہے محفل میں
    نگاہِ مستِ ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی
    ——-
    قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
    تو مجھ سے سیکھ لے فن اور اس میں بے مثال بن
    ——-
    کرانا ہے قلم ہاتھوں کو، رودادِ جنوں لکھ کر
    تو اس دور ستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا
    ——-
    نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
    فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا
    ——-
    آپ کہتے ہیں پرایوں نے کیا ہم کو تباہ
    بندہ پرور کہیں اپنوں ہی کا یہ کام نہ ہو
    ——-
    نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ زیاد کی وہ جفا رہی
    جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا
    ——-
    پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
    کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا
    ——-
    سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
    خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا
    ——-
    دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
    ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
    ——-
    اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
    صبحِ ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب
    ——-
    وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
    اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں
    ——-
    جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
    وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں

    ہوتا ہے جن میں نامِ رسولِ خدا بلند
    ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کر دیا

    سردار دوجہاں کا بنا کر مجھے غلام
    میرا بھی نام تابہ ابد زندہ کر دیا

    زکوٰة اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا اور نماز اچھی
    مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں ہو سکتا

  • منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

    او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں

    مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں

    منو بھائی

    19 جنوری یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ممتاز ترقی پسند و مزدور دوست ادیب، شاعر ، صحافی اور کالم نگار منو بھائی 6 فروری 1933 کو وزیر آباد پنجاب میں محکمہ ریلوے کے ملازم محمد عظیم قریشی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی اردو، پنجابی اور فارسی جبکہ ان کے ماموں شریف کنجاہی پنجابی کے معروف شاعر تھے۔ منو بھائی جن کا اصل نام منیر احمد اور قریشی قبیلے سے تعلق تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم وزیر آباد جبکہ گورنمنٹ کالج اٹک سے انٹر میڈییٹ تک تعلیم حاصل کی لیکن دوران تعلیم سیاسی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی وجہ سے انہیں کالج سے فارغ کر دیا گیا جس کے باعث وہ مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے ۔ والد محمد عظیم قریشی کی سفارش پر انہیں محکمہ ریلوے میں ملازمت مل گئی مگر منیر احمد کو سرکار کی پابندی گوارا نہیں تھی اس لیے سرکار کی نوکری چھوڑ کر راولپنڈی چلے گئے جہاں انہوں نے روزنامہ ” تعمیر” سے اپنی صحافتی زندگی کے کیریئر کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں وہ روزنامہ امروز میں چلے گئے وہاں سے پھر پی پی پی کے بانی چیئرمین اور صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو انہیں روزنامہ ” مساوات” میں لے گئے۔ منیر احمد نے روزنامہ تعمیر میں ” اوٹ پٹانگ ” کے عنوان سے کالم نگاری شروع کی مگر احمد ندیم قاسمی نے انہیں ” منو بھائی ” کا نام دے دیا جس کے بعد ان کی پہچان منو بھائی کے نام سے ہو گئی اور وہ شاعری و کالم نگاری منو بھائی کے نام سے ہی کرتے رہے ۔ وہ اپنا کالم ” گریبان” کے عنوان سے لکھتے رہے ۔ روزنامہ تعمیر، امروز اور مساوات کے بعد وہ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو گئے ۔ منو بھائی ایک ترقی پسند اور مزدور و غریب دوست شخصیت کے مالک تھے ۔ وہ اپنی تحریروں ، ڈراموں اور شاعری میں گلی، کوچوں اور محلوں کی حقیقی زندگی کی منظر نگاری کرتے تھے۔

    منو بھائی کے پی ٹی وی پر پیش کیے گئے ڈرامے بہت زیادہ مشہور و مقبول ہوئے جن میں ” سونا چاندی ” سب سے زیادہ مشہور ہوا مگر اس کے علاوہ ان کے دیگر ڈرامہ سیریلز بھی بہت پسند کیے گئے جن میں ” جھوک سیال، خوب صورت، گمشدہ ، کی جانے میں کون؟، عجائب اور دشت شامل تھے ۔ دشت میں انہوں نے بلوچستان کی صحرائی زندگی اور ثقافت کی منظر کشی کی ۔ منو بھائی کی تصانیف میں ، جنگل اداس ہے ، فلسطین فلسطین ، محبت کی ایک سو ایک نظمیں ، انسانی منظر نامہ (ترجمہ) اور ان کا پنجابی شعری مجموعہ ” اجے قیامت نئیں آئی” شامل ہیں ۔ منو بھائی طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد 19 جنوری 2018 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ 2014 میں انہوں نے ایک لاکھ 45 ہزار کتب پر مشتمل اپنی ذاتی لائبریری گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کر دیا تھا وہ خون عطیہ کرنے والے ادارے ” سندس فائونڈیشن” کے تاحیات چیئرمین رہے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 2007 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نواز گیا۔

    نمونہ کلام

    او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں
    مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں
    روندے روندے سوں رہندے ساں ایہہ وی خوب دیہاڑے نیں
    بھک لگدی اے منگ نیں سکدے ملدا اے تے کھا نیں سکدے
    نیں ملدا تے رو نیں سکدے نہ رویے تے سوں نہیں سکدے

  • عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد کسی معجزے سے کم نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد کسی معجزے سے کم نہیں۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان کا وقاراگر دائو پر لگ جائے تو اس کے پاس باقی کچھ نہیں رہتا۔ سیاستدانوں سے التجا ہے کہ اپنی روش پر نظرثانی فرمائیں۔ نظریات تو پہلے ہی سیاسی جماعتوں میں دفن ہو چکے۔ جمہوریت کے ساتھ بھی تاریخی ظلم کیا گیا کسی بھی سیاسی جماعت میں جمہوریت باقی نہیں بچی۔ اب سیاست بھی دائو پر لگ چکی ہے۔ اکثریت پارٹی سربراہوں کو چاپلوسوں، ضمیر فروشوں، حاشیہ برداروں کی ضرورت کیوں محسوس ہونے لگی ہے؟ شاید اس لئے کہ ان نام نہاد رہنمائوں نے جمہوریت کی آڑ میں جمہور کو نظرانداز کیا۔ ریاست اور جمہور کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال کر ہوس اقتدار اور ہوس زر کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا۔ جس کا خمیازہ یہ خود اور ملک و قوم دونوں بھگت رہے ہیں۔ کیا ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی موجود ہے؟ کیا پارلیمنٹ کی بالادستی موجود ہے؟ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو کیا پی ڈی ایم والو ں نے دودھ اور شہد کی نہریں چلوا دیں ہرگز نہیں عوام کا حال تو یہ ہےکہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ اس صبح کی کرنوں سے کون سا خورشید طلوع ہوا ہے۔ کس کے گھر میں چولہا جلنے کی خوشخبری، کہاں بجلی اور گیس کا بحران حل ہوا کس شہر میں غنڈہ گردی کم ہوئی۔ چوریاں اور ڈکیتیاں کہاں کم ہوئیں۔ کیا وطن عزیز خود غرض سیاستدانوں، لینڈ مافیاز، غنڈوں اور لٹیروں کی آماجگاہ بن چکا ہے؟

    خلاصہ یہ ہے کہ ریاست کے مسائل اور عوام کے مسائل کو دیکھا جائے تو ملک میں لیڈر شپ کا فقدان ہے ملک و قوم کبھی دوعملی اور دوغلی پالیسی سے سرخرو نہیں ہو سکتی۔ آج ہر سیاسی جماعت میں دوغلی پالیسی کا راج ہے ملکی سیاسی گلیاروں میں ایک معجزہ ظہور پذیر ہوا ہے کراچی میں جماعت اسلامی نے کامیابی حاصل کی ہے جن لوگوں کا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کراچی میں اور کراچی تک ہی اور بلدیاتی انتخابات تک محدود رہے گی کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کے اثرات پورے ملک آمدہ قومی انتخابات پر بھی پڑیں گے عوام کی اکثریت کا کراچی میں جماعت اسلامی پر اعتماد کسی معجزے سے کم نہیں۔ جماعت اسلامی افراد کی نہیں نظریات کی جماعت ہے۔ ایم کیو ایم کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے حیدر آباد سندھ کے دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی اور کراچی میں جماعت اسلامی کا راج ایم کیو ایم کی دوغلی پالیسی اور قیادت کا فقدان قرار دیا جا سکتا ہے۔