Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی

    معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی

    یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
    جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    سائل دہلوی

    پیدائش:29مارچ 1864ء
    دلی، ہندوستان
    وفات:25 ستمبر 1945ء
    دلی، ہندستان

    داغ کی بنائی ہوئی لفظ ومعنی کی روایت کو برتنے اور آگے بڑھانے والوں میں سائل کا نام بہت اہم ہے ۔ سائل داغ کے شاگرد بھی تھے اور پھر ان کے داماد بھی ہوئے۔ انھوں نے تقریبا تمام کلاسیکی اصناف میں شاعری کی اور اپنے وقت میں برپا ہونے والی شعری محفلوں اور مشاعروں میں بھی بہت مقبول تھے ۔
    نواب سراج الدین خاں سائل کی پیدائش 29 مارچ 1864 کو دہلی میں ہوئی ۔ وہ مرزا شہاب الدین احمد خاں ثاقب کے بیٹے اور نواب ضیاالدین احمد خاں نیر درخشاں جاگیر دار لوہارو کے پوتے تھے ۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا لہذا چچا اور داد کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھے ۔ شاگرد غالب نواب غلام حسین خاں محو کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا ۔
    داغ کے انتقال کے بعد سائل اور بیخود دہلوی داغ کی جانشینی کے دعوے دار تھے اس لیے ان دونوں کے حامیوں میں تکرار اور معرکے ہوتے رہے ۔ شاہد احمد دہلوی نے ان معرکوں کے بارے میں لکھا ہے ’’ دہلی میں بیخود والوں اور سائل والوں کے بڑے بڑے پالے ہوتے ۔ اکثر مشاعروں میں مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ۔ سائل صاحب ان جھگڑوں سے بہت گھبراتے تھے اور بالآخر انہوں نے دہلی مشاعروں میں شریک ہونا ہی چھوڑ دیا ‘‘ ۔
    25 ستمبر1945 کو دہلی میں سائل کا انتقال ہوا اور صندل خانہ بابر مہرولی میں سپرد خاک کیا گیا ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت میں جینا نئی بات ہے
    نہ مرنا بھی مر کر کرامات ہے
    میں رسوائے الفت وہ معروف حسن
    بہم شہرتوں میں مساوات ہے
    نہ شاہد نہ مے ہے نہ بزم طرب
    یہ خمیازۂ ترک عادات ہے
    شب و روز فرقت ہمارا ہر ایک
    اجل کا ہے دن موت کی رات ہے
    اڑی ہے مے مفت سائلؔ مدام
    کہ ساقی سے گہری ملاقات ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وفا کا بندہ ہوں الفت کا پاسدار ہوں میں
    حریف قمری و پروانۂ ہزار ہوں میں
    جدا جدا نظر آتی ہے جلوۂ تاثیر
    قرار ہو گیا موسیٰ کو بے قرار ہوں میں
    خمار جس سے نہ واقف ہو وہ سرور ہیں آپ
    سرور جس سے نہ آگاہ ہو وہ خمار ہوں میں
    سما گیا ہے یہ سودا عجیب سر میں مرے
    کرم کا اہل ستم سے امیدوار ہوں میں
    عوض دوا کے دعا دے گیا طبیب مجھے
    کہا جو میں نے غم ہجر سے دو چار ہوں میں
    شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
    خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں
    قرار داد گریباں ہوئی یہ دامن سے
    کہ پرزے پرزے اگر ہو تو تار تار ہوں میں
    مرے مزار کو سمجھا نہ جائے ایک مزار
    ہزار حسرت و ارماں کا خود مزار ہوں میں
    ظہیرؔ و ارشدؔ و غالبؔ کا ہوں جگر گوشہ
    جناب داغؔ کا تلمیذ و یادگار ہوں میں
    امیر کرتے ہیں عزت مری ہوں وہ سائلؔ
    گلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہمیں کہتی ہے دنیا زخم دل زخم جگر والے
    ذرا تم بھی تو دیکھو ہم کو تم بھی ہو نظر والے
    نظر آئیں گے نقش پا جہاں اس فتنہ گر والے
    چلیں گے سر کے بل رستہ وہاں کے رہ گزر والے
    ستم ایجادیوں کی شان میں بٹا نہ آ جائے
    نہ کرنا بھول کر تم جور چرخ کینہ ور والے
    جفا و جور گلچیں سے چمن ماتم کدہ سا ہے
    پھڑکتے ہیں قفس کی طرح آزادی میں پر والے
    الف سے تا بہ یا للہ افسانہ سنا دیجے
    جناب موسئ عمراں وہی حیرت نگر والے
    ہمیں معلوم ہے ہم مانتے ہیں ہم نے سیکھا ہے
    دل آزردہ ہوا کرتے ہیں از حد چشم تر والے
    کٹانے کو گلا آٹھوں پہر موجود رہتے ہیں
    وہ دل والے جگر والے سہی ہم بھی ہیں سر والے
    تماشا دیکھ کر دنیا کا سائلؔ کو ہوئی حیرت
    کہ تکتے رہ گئے بد گوہروں کا منہ گہر والے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔
    معلوم نہیں کس سے کہانی مری سن لی
    بھاتا ہی نہیں اب انہیں افسانہ کسی کا

    خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے
    یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا

    محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہا
    کن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھا

    جھڑی ایسی لگا دی ہے مرے اشکوں کی بارش نے
    دبا رکھا ہے بھادوں کو بھلا رکھا ہے ساون کو

    ہمیشہ خون دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے
    نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پر

    آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو
    نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں

    یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے
    جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    ہیں اعتبار سے کتنے گرے ہوے دیکھا
    اسی زمانے میں قصے اسی زمانے کے

    جناب شیخ مے خانہ میں بیٹھے ہیں برہنہ سر
    اب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں رکھ دی

    شباب کر دیا میرا تباہ الفت نے
    خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں

    کھل گئی شمع تری ساری کرامات جمال
    دیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیں

    تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامی
    نظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    تمہیں پروا نہ ہو مجھ کو تو جنس دل کی پروا ہے
    کہاں ڈھونڈوں کہاں پھینکی کہاں دیکھوں کہاں رکھ دی

  • اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    پاکستان بطور ریاست ہی نہیں جمہوریت، سیاستدان، عوام اور ملکی ادارے ایک بہت بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اگر کہلانے کا دعویدار ہے تو پھر دیکھنا ہوگا عدلیہ کا اسلام میں کیا مقام اور مرتبہ ہے اسلام کا بنیادی درس ہی برابری کا ہے اور اس سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ جن کی ہم امت ہیں کا آخری خطبہ ہم سب کے لئے کافی ہے۔ ہماری پارلیمنٹ جمہوری جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہے خدا نہ کرے اس پر دوبارہ کوئی آنچ آئے۔ تاریخ گواہ ہے ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے حق حکمرانی سے محروم ہو گئے۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں آزاد عدلیہ ، بدقسمتی سے وطن عزیز میں کوئی ایسا دور حکومت نہیں جس میں حکمران آزاد عدلیہ کے نعرے تو بلند کرتے نظر آتے ہیں لیکن ذاتی مفادات گروہی جنگ میں خود میں پڑنے والی ضرب کو روکنے کے لئے عدلیہ کا وقار مجروح کرتے ہیں۔ طاقت کے کھیل میں ملکی وقار اور عزت کو سب سے مل کر دائو پر لگا دیا ہے۔

    آج ایک طرف عدل و انصاف اور دوسری طرف من مانیوں کا راج ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی پاکستانی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی پر تنقید نہیں کر سکتا اگر وہ تنقید کرے تو قابل مواخذہ ہے اورعدلیہ کی تضحیک پر پارلیمانی رکنیت بھی معطل ہو سکتی ہے۔ سیاستدانوں نے فوجی آمروں کے خلاف عدالتوں کے دروازے پر دستک دی اور بحال بھی ہوئے۔ یقیناً نظریہ ضرورت دفن ہو چکا ہے۔ سب کو مل کر ملک کے مستقبل اور اس بے بس عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاستدان کب سدھریں گے غلطی پر غلطی کرتے چلے آرہے ہیں عوام کی اکثریت ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور غیر جمہوری حرکات آمریت کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ وطن عزیز ایک انقلاب کی صورت میں معرض وجود میں آیا اور اس انقلاب کا جو مقصد تھا اس کا نفاذ تمام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔

  • پٹرولیم مصنوعات میں سبسڈی کا حکومتی منصوبہ ناقابل عمل

    پٹرولیم مصنوعات میں سبسڈی کا حکومتی منصوبہ ناقابل عمل

    پاکستان کی وزارت پٹرولیم کو ایک مضحکہ خیز ذمہ داری دی گئی جس پر عمل نہیں ہو سکتا ہے پھر بھی وہ کام کر رہے ہیں، اس ذمہ داری کا مقصد ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہے جس میں امیروں سے پٹرول کے پیسے زیادہ وصول کئے جائیں گے اور چھوٹی گاڑیوں والوں کو سبسڈی دی جائے گی،جو مہنگائی کی وجہ سے متاثر ہیں،

    حکومت کی اس تجویز پر کیا کیا جائے؟ کیونکہ اس طرح مسئلے کا حل نہیں ہو گا اور یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے،سب سے پہلے بڑی گاڑیوں میں وین اور ٹرک شامل ہیں، اگر ان کے لئے تیل کی قیمت میں اضافہ کیا جائے گا تو اسکا اثر تمام چیزوں پر پڑے گا اور افراط زر میں اضافہ دیکھنے میں ملے گا، حالانکہ مصنوعات کی قیمتیں تمام صارفین کے لئے ایک ہیں ،دوسرا، تعمیراتی سامان بھی وینوں اور ٹرکوں میں لے جایا جاتا ہے جیسے سیمنٹ، لکڑی، ریت، بجری،اسکی لاگت بھی خریدار پر ہی آئے گی،

    تیسری چیز، وین اور بس، سامان کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوتی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال معاشرے کا غریب طبقہ ہی کرتا ہے جن کے پاس کار یا موٹر سائیکل نہیں ہوتی، تعلیمی اداروں کے طلبا کے لئے بھی بسوں کا استعمال ہوتا ہے،چوتھا، گھروں میں جہاں ایک چھوٹی اور بڑی کار ہوتی ہے، گھر پہنچنے کے بعد چھوٹی کار کو ٹینک بھرنے اور بڑی گاڑی میں لوڈ آف لوڈ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پانچواں ،حکومت کے اس فیصلے سے کریم اور ان ڈرائیو جیسی کار سروسز کے کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔ اور اس سے متاثر ہونے والے وہ لوگ ہوں گے جو عام طور پر گاڑی کے متحمل نہیں ہوتے ہیں

    حکومت کے اس سبسڈی والے آئیڈیا کو دیکھا جائے تو اس پر عمل کرنا اور لاگو کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کیونکہ اس کے ناکام ہونے کی کئی وجوہات سامنے آ رہی ہیں،

  • چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    انگلینڈ،باغی ٹی وی (ویب نیوز) چاند سے لائے گئے چند نمونوں کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ قمری سطح پر شیشوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھیلے ہوئے ہیں جس میں اربوں ٹن پانی موجود ہے۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ بالا دریافت خلائی ایجنسیوں، جن کے چاند پر تعمیراتی منصوبے ہیں، کے لیے اب تک کی سب سے اہم پیش رفت میں سے ایک ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف پانی بلکہ ہائیڈروجن اور آکسیجن کا بھی انتہائی قابل رسائی ذریعہ چاند پر موجود ہے جسے مستقبل کے قمری مشن کے خلاباز اخذ اور استعمال کرسکتے ہیں۔
    برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی میں سیاروں کی سائنس اور تحقیقات کے پروفیسر مہیش آنند کا کہنا ہے کہ یہ سب سے دلچسپ دریافتوں میں سے ایک ہے۔ اس تلاش کے ساتھ، چاند پر پائیدار طریقے سے تحقیقات کرنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
    واضح رہے کہ چاند پر آخری مرتبہ انسانی قدم رکھنے کے تاریخی واقعے کو نصف صدی سے بھی زائد عرصہ گزرچکا ہے اور اب ناسا اور دیگر خلائی ادارے اگلے دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔
    ناسا کے ’آرٹیمس مشن‘ کا مقصد چاند پر اب پہلی خاتون اور پہلے سیاہ فام شخص کو بھیجنا ہے جبکہ یورپی خلائی ایجنسی نے چاند پر ایک گاؤں کی بنیاد رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
    آنند اور چینی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دسمبر 2020 میں چین کے chang’e 5 مشن کے ذریعے قمری سطح سے زمین پر لائے گئے باریک شیشوں کا تجزیہ کیا جس سے پتہ چلا کہ یہ شیشے اس وقت وجود میں آئے جب شہابی پتھر چاند سے ٹکرائے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں گرم اور پگھلے ہوئے مادے ہوا میں بکھر کر سطح پر گرے اور پھر ٹھنڈے ہوکرچاند کی مٹی کا حصہ بن گئے۔

  • ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی، کلاسیکل رقاصہ

    ناہید صدیقی (کلاسیکل رقاصہ)
    یوم پیدائش: 27 مارچ

    پاکستان کی نامور کلاسیکل رقاصہ ناہید صدیقی 27 مارچ 1949ء کو پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ وہ اداکارہ طلعت صدیقی اور بشیر صدیقی کی بڑی بیٹی اور معروف اداکارہ عارفہ صدیقی کی بڑی بہن ہیں۔ ناہید 3 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ راولپنڈی سے کراچی منتقل ہو گئیں۔ ان کے والدین نے ان کو کراچی کے ہیپی ہوم اسکول میں داخل کرایا۔ 1960 کی دہائی کے آخر میں، ناہید صدیقی اپنے والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئیں اور یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں داخلہ لیا۔ یہ کالج اس سے قبل ہوم اکنامکس کالج کے نام سے مشہور تھا۔
    مہاراج غلام حسین کتھک اور پنڈت برجو مہاراج سے کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کرنے کے بعد پی آئی اے آرٹس اکیڈمی سے وابستہ ہوگئیں۔ اسی دوران ان کی شادی ضیا محی الدین سے ہوئی۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن سے رقص کا پروگرام” پائل” شروع کیا جسے عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔

    ناہید صدیقی نے رقص کی تعلیم مہاراج غلام حسین اور پنڈت برجو مہاراج سے حاصل کی۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کا مقبول پروگرام ’’پائل‘‘ ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز تھا، جب ٹیلی ویژن پر رقص پہ پابندی تھی تو ’’پائل‘‘ پروگرام کو بند کرنا پڑا تھا۔ اس پابندی کے دور میں ناہید صدیقی ملک سے باہر چلی گئیں اور ایک طویل عرصہ برطانیہ میں گزارا۔ آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں اور رقص و موسیقی کی تعلیم دے رہی ہیں۔
    14 اگست 1994ء کو انہیں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ عطاء کیا گیا۔
    انہوں نے ناہید صدیقی فاؤنڈیشن کے نام سے اپنی ایک تنظیم بنائی ہے، یہ تنظیم رقص، یوگا اور موسیقی کے لئے کام کرتی ہے۔

  • سیاسی دشمنی کا نشانہ بن رہی عوام، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی دشمنی کا نشانہ بن رہی عوام، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ایک ایسے وقت میں جب عوام کا ایک بڑا حصہ ناقابل تصور مہنگائی کا سامنا کررہاہے ۔ ملک کی سڑکوں پرمفت آٹا لینے کے لئے بزرگ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ وطن عزیز کے شہریوں کو پولیس اٹھا کر جیلوں میں بند کر رہی ہے ۔ شہریوں کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ، ہیں تو وہ پاکستانی شہری ، ان کا قصور یہ ہے کہ یہ ان سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں جن کے ووٹوں سے اقتدار اور اختیارات سیاستدانوں کو ملتے ہیں۔ دنیا کی شاید واحد قوم ہے جن کی ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے والے سیاستدان ان کے بنیادی مسائل حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان دلخراش حالات میں وزیر داخلہ نے پنجابی فلموں والا ڈائیلاگ بول کر ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کردیا۔ کیا سیاسی گلیاروں میں پُتر شاہیا دا اور جگا ڈاکو فلموں والے ڈائیلاگ بولے جائیں گے؟ وزیر داخلہ کے بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) ذاتی دشمن بن گئے ہیں۔ کچھ اسی قسم کا رویہ عمران خان کا رہا ماضی میں وہ بھی پنجابی فلموں کے ڈائیلاگ کا سہارا لیتے رہے۔ آج کے سیاستدانوں پر حیرت ہے کہ سیاست کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا۔ وطن عزیز میں جمہوریت مستحکم نہیں جمہوریت پر سوالیہ نشان بھی ہے اور زوال بھی ہے ۔ آئین اورقانون کی حکمرانی کا زوال ۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو کمزور کرنا ، اعلیٰ عدلیہ پر روز مرہ کے حملے ۔ سول انتظامیہ اورپولیس کا غلط استعمال جمہوری ڈھانچے کے منہدم ہونے کے واضع اشارے ہیں۔

    ذرا سوچئے اس وقت عالمی سطح پر وطن عزیز کا جو نقشہ پیش کیا جارہا ہے۔ دنیا میں پاکستان بطور ریاست کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کیا عالمی دنیا کے لیڈران آج کے پاکستان میں جاری جمہوریت پریقین کرلیں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔ کیا شہباز شریف ، عمران خان اورپی ڈی ایم میں شامل جماعتیں عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار اور عزت میں اضافہ کررہی ہیں؟ جن حالات میں اس وقت وطن عزیز گزر رہا ہے اور عوام ،سیاسی گلیاروں میں لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ملکی سرحدیں پاک فوج نے مضبوط کردی ہیں ۔ ہمارے جوان وطن عزیز کو مستحکم کرنے کے لیے شہادتیں دے رہے ہیں تاہم ایک جمہوری حکومت کے لئے ایک ہوشیار ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو ملک کے مسائل حل کرسکے۔

  • افغانستان نے پاکستان کو دوسرے ٹی 20 میں بھی شکست دے دی

    افغانستان نے پاکستان کو دوسرے ٹی 20 میں بھی شکست دے دی

    <strongافغانستان نے پاکستان کو دوسرے ٹی 20 میں بھی شکست دے دی

    تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں افغانستان نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔ جبکہ شارجہ میں کھیلے گئے میچ میں کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

    اس سے قبل تین ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے افغانستان کو جیت کے لیے 131 رنز کا ہدف دے دیا ہے جبکہ شارجہ میں کھیلے جا رہے میچ میں کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا اور پہلے ہی اوور میں بغیر کسی رن پر صائم ایوب اور عبداللہ شفیق آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد محمد حارث 15، طیب طاہر 13 اور اعظم خان ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

    اس کے بعد عماد وسیم اور کپتان شاداب نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلیں تاہم شاداب 32 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔ گرین شرٹس نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 130 بنائے، عماد وسیم 64 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ افغانستان کے فضل حق فاروقی نے 2 جبکہ نوین الحق، راشد خان اور کریم جنت نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ افغانستان کو سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے۔

    جبکہ اس سے قبل ین ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے افغانستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کرلیا۔ جبکہ شارجہ میں کھیلے جا رہے میچ میں کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ افغانستان کو سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے۔

    دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں جنوبی افریقا نے 259 سکور کا پہاڑ جیسا ہدف ہنستے کھیلتے ہوئے 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ جبکہ جنوبی افریقا نے پہلے ٹاس جیت کر باؤلنگ کا فیصلہ کیا، بے جان پر آتے ہی ویسٹ انڈیز نے پروٹیز باؤلرز کا بھرکس نکال دیا اور پاوور پلے میں ایک وکٹ کے نقصان پر 102 سکور بنا ڈالے۔

    کائل میئرز اور جانس چارلس نے وکٹ کے چاروں طرف بلند و بالا چارٹس کھیلے اور حریف باؤلرز بے بس ہو گئے، پہلی وکٹ 2 سکور پر گرنے کے بعد کائل میئرز اور چارلس کے درمیان 137 رنز کی پارٹنر شپ بنی جس کا اختتام باؤلر جانسن نے کیا۔ اس دوران جانسن چارلس نے 39 گیندوں پر تیز ترین سنچری بنائی، اور 46 گیندوں پر 118 سکور بنا کر آؤٹ ہوئے، دیگر کھلاڑیوں میں رومن پاول 28 ، شیفرڈ 41 سکور بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ مارکو جانسن نے تین جبکہ پارنیل نے دو کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔

    ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقا نے ویسٹ انڈیز کو لاجواب کر دیا اور محض 10 اوورز میں 152 رنز بنا ڈالے۔ اس دوران وکٹ کیپر بیٹر ڈی کوک 44 گیندوں پر 100 سکور بنا کر پویلین لوٹ گئے، انہوں نے اپنی باری میں نو چوکے اور آٹھ چھکے لگائے۔ دیگر کھلاڑیوں میں ریزا ہینڈرکس نے 28 گیندوں پر 68 سکور بنائے، ریلی روسو نے 4 گیندوں پر 16، ڈیوڈ ملر 10 گیندوں پر 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کپتان مارکرم 21 گیندوں پر 38 سکور بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، کلاس نے بھی 16 رنز کی ناٹ آؤٹ باری کھیلی، جنوبی افریقا نے ہدف 19 ویں اوورز میں حاصل کر لیا، کالی آندھی کی طرف سے جیسن ہولڈر ، اوڈین سمتھ، ریفر، رومن پاوول نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

  • ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جس ملک میں الیکشن کمیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو۔ پارلیمنٹ بے سود، الیکشن کمیشن مشکوک، سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، دہشت گرد، غیرملکی ایجنٹ قرار دینے میں ایڑھی چوٹی کا زولگاتے ہوں وہاں جمہوریت کیسی؟ پانامہ لیکس میں سینکڑوں شخصیات ملوث تھیں ۔ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص فرد واحد کو تاحیات نااہل کر دیا گیااور سزا سنا دی گئی۔ اب ملک کے ایک اور سابق وزیراعظم عمران خان کو غدار اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا پانامہ لیکس میں دوسرے افراد پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ سیاستدان کب سمجھیں گے ؟-

    اس وقت مسئلہ جمہوری نظام کے مستقبل کا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا سیاستدان نظر نہیں آرہا جو جمہوریت کا دفاع کرے ۔شہبازشریف جو اس وقت ملک کے وزیراعظم بھی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی ہیں نے نوازشریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دفن کر کے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو عوام میں وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو نوازشریف کے بیانیے کو مل رہی تھی۔ لاہور، پنجاب جو کسی زمانے میں بھٹو کا تھا پھر نوازشریف پنجاب میں سیاسی طاقت بن گئے اور اب عمران خان لاہور میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔

    روزانہ کی بنیاد پر پنجاب کے مختلف تھانوں میں غداری اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم سے الگ سیاست کر رہی ہے ۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ،ملک اس وقت انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہے مہنگائی کا بے لگام گھوڑا عوام کی لاشوں کو بے دردی سے سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہے ۔ایک طرف آٹے کی لائنوں میں لگے بے بس مرد و زن کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف سیاستدان انتقامی سیاست کی حدود کو کراس کر رہے ہیں۔

    یہ وطن کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے ۔عوام کے بنیادی اور ریاست کے مسائل کو حل کرنے میں عمران خان سمیت پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی اپنا کردار ادا کرے ۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاشی قاتلوں کے جال میں گھر چکا ہے اور ہمارے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو غدار اور دہشت گرد قرار دینے کی فرصت ہی نہیں کہ وہ ملکی مفاد کے بارے میں بھی سوچیں۔

  • دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    سراج الدین ظفر

    پیدائش:25 مارچ 1912
    وفات:06 مئی 1972ء

    نام سراج الدین اور تخلص ظفر تھا۔ 25 مارچ 1912ء کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ 1928ء میں میٹرک اور 1930ء میں ایف سی کالج لاہور سے ایف اے کیا۔ پھر کالج کی تعلیم چھوڑ کرہوابازی کی تعلیم شروع کی اور دہلی فلائنگ کلب سے ہوابازی کا اے کلاس لائسنس حاصل کیا۔ والد کے ناگہانی انتقال کے وجہ سے یہ سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ 1933ء میں ایف سی کالج سے بی اے کیا۔ 1935ء میں ایل ایل بی کیا۔ ابتدا میں انھوں نے وکالت شروع کی، لیکن جلد ہی اس پیشہ سے ان کی طبیعت اکتا گئی۔ دوسری جنگ عظیم میں افسر کی حیثیت سے ہوائی فوج میں بھرتی ہوگئے اور دس برس تک متعدد عہدوں پر فائز رہے۔ 1950ء میں اس ملازمت کو خیرباد کہا اور تجارت کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی شاعری کرتے تھے۔ ان کے دوشعری مجموعے ’’زمزمۂ حیات‘‘ 1946ء اور ’’غزال وغزل‘‘ 1968ء میں شائع ہوئے۔ ’’غزال وغزل‘‘ پر 1969ء میں آدم جی ایوارڈ ملا۔ افسانوں کا مجموعہ ’’آئینے‘‘ 1943ء میں فیروز سنز نے شائع کیا۔ شروع میں انھوں نے سیماب اکبرآبادی سے اصلاح لی۔ 06 مئی1972ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:32

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل رات
    ابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے

    اے دوست اس زمان و مکاں کے عذاب میں
    دشمن ہے جو کسی کو دعائے حیات دے

    ہجومِ گل میں رہے ہم ہزار دست دراز
    صبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے

    وہ تماشا ہوں ہزاروں مرے آئینے ہیں
    ایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں

    مخمور بوئے زلف نہ آئیں گے ہوش میں
    چھڑکے ابھی نسیمِ بہاراں گلاب اور

    ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا
    پھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا

    اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیں
    اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں

    میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرو
    اس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کرو

    اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریں
    بنامِ گل بدناں رُخ سوئے پیالہ کریں

    شوق راتوں کو ہے در پے کہ تپاں ہو جاؤں
    رقصِ وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں

    ہم میں کل کے نہ سہی حافظؔ و خیامؔ ظفرؔ
    آج کے حافظؔ و خیامؔ ابھی باقی ہیں

    دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئے
    رات کو پھر پائے گل رویاں پہ سر رکھ دیجئے

    ہم آہوانِ شب کا بھرم کھولتے رہے
    میزانِ دلبری پہ انہیں تولتے رہے

    یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دے
    مجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دے

    اس طرح شوقِ غزالاں میں غزل خواں ہو ظفرؔ
    شہرتِ مشکِ غزل شہرِ ختن تک پہنچے

  • جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    آرتی کماری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ ولادت:25 مارچ 1977ء
    جائے ولادت:گیا، بہار
    والد کا نام:الکھ نرنجن پرساد سنہا
    والدہ کا نام:ریتا سنہا
    شوہر کا نام:مادھویندر پرساد
    موجودہ/مستقل پتا:ششی بھون، آزاد کالونی، روڈ 3
    ماڑی پور، مظفر پور بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آرتی کماری کی شاعری سے انتخاب

    عشق میں وصل کم تھا جدائی بہت
    کروٹوں میں سسکتی رہی زندگی

    تُو نہیں ہے زیست میں تو تیرگی ہے ہر طرف
    ہجر کی تنہائی میں دل کو جلایا جائے گا

    زخم اتنے دیجئے جتنے کہ سہہ پاؤں گی میں
    درد گزرا حد سے تو ہمت میری بڑھ جائے گی

    آہٹ سی کیا ہوئی کہ مرا دل سہم گیا
    اب دل کی دھڑکنوں کو جگانے لگے ہیں آپ

    اوروں کے عیب دیکھیے اِک شرط ہے مگر
    اک روز اپنے گھر کے بھی حالات دیکھیے

    دل کی دھڑکن ذرا تیز ہونے لگی
    پاؤں جب بھی بڑھے تیرے گھر کی طرف

    میری دنیا میرا مسکن میری جنت تُو ہے
    مجھ کو سینے سے لگا پاس بلا لے مجھ کو

    دور تک ریت ہے نہ دریا ہے
    پیاس کو پیاس سے پیا کیجے

    جن کے لیے تھی دل کی وہ محفل سجی ہوئی
    آئے نہیں وہ رسم نبھانے تمام رات

    میں تو بکھرنے والی تھی راہِ حیات میں
    تُو بن کے حوصلہ ملا تو مَیں سنور گئی

    غم سے جب ملنا ملانا ہو گیا
    کم خوشی کا آنا جانا ہو گیا

    تیرے ہمراہ یوں چلنا نہیں آتا مجھ کو
    وقت کے ساتھ بدلنا نہیں آتا مجھ کو

    ہر طرف ہے شور جاری خوف طاری ہے
    من ویوتھت ہے سانس بھاری خوف طاری ہے

    يدُھ میں کتنے ہی نر سنہا ر کا کارن بنا تھا
    دروپدی کا وہ کٹل پریہاس ہم سب جانتے ہیں

    منگل راہو کیتو شنیچر جب بھی آنکھ دکھاتے ہیں
    جپ تپ سنیم دان سے اکثر اُن کو مناتی میری ماں

    نہ گھبرائیں گے بادھا سے نہ ہا ریں گے نراشا سے
    چلیں گے مشکلوں کو پار کر اگلی صدی میں ہم

    پریم کی بھاونا رکھو من میں
    پشپ کھلتے ہیں جیسے اپون میں
    تُم بھی رم جاؤ اس طرح مجھ میں
    جیسے مِیرا رمی ہے موہن میں

    خامشی بڑھنے لگی ہے آرتی
    حال آنکھوں سے سنانا چاہئے

    یہ دیکھیے کہ پیاس ہےہونٹوں پہ کس قدر
    آنکھوں کے درمیان سمندر نہ دیکھیے

    میرا سایہ بچھڑ گیا مجھ سے
    دھوپ سر سے اُتر گئی ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تری یاد میں جو گزارا گیا ہے
    وہی وقت اچھا ہمارا گیا ہے
    بھلا اور کیا اپنا پن وہ دکھائے
    ترا نام لے کر پکارا گیا ہے
    تمہیں میری حالت پتہ کیا چلے گی
    مرا جو گیا کب تمہارا گیا ہے
    تمہیں عشق کا آئنہ مان کر کے
    مقدر کو اپنے سنوارا گیا ہے
    عجب ہے محبت کا میدان یارو
    نہ جیتا گیا ہے نہ ہارا گیا ہے
    لکھا ریت پر نام میں نے تمہارا
    ندی میں بھی چہرہ نہارا گیا ہے
    ہے میری بھی عادت تمہارے ہی جیسی
    ہر اک رنگ مجھ پہ تمہارا گیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مشکلیں لاکھ ہوں لیکن مری خواہش ہوگی
    آپ کا ساتھ نبھانے کی تو کوشش ہوگی
    تہمتیں کتنی لگاؤ گے محبت پہ مری
    اس سے تو شہر میں نفرت کی نمائش ہوگی
    ان اندھیروں سے کوئی خوف نہیں ہے مجھ کو
    میں سمجھتی ہوں یہاں نور کی بارش ہوگی
    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی
    اب تو مظلوم بھی خنجر کا سہارا لے گا
    نہ کوئی ونتی کرے گا نہ گزارش ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تمہیں دنیا کی نظروں سے بچا کر ساتھ رکھنا ہے
    مری چاہت کا خط ہو تم چھپا کر ساتھ رکھنا ہے
    مرے آنگن میں ٹھہرے ہیں تمہاری یاد کے سائے
    تمہارے آنے تک دل سے لگا کر ساتھ رکھنا ہے
    کہانی کی طرح تم کو سنا سکتی نہیں سب کو
    تمہیں گیتوں کے جیسے گنگنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سجانا ہے کبھی ہاتھوں میں مہندی کی طرح تجھ کو
    کبھی آنکھوں میں کاجل سا سما کر ساتھ رکھنا ہے
    میں تتلی کی طرح ہوں پھول کے جیسا ہے تو ہمدم
    میں دل ہوں سو تجھے دھڑکن بنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سفر مشکل بہت ہے اور منزل دور ہے اپنی
    ہمیں مشکل کو ہی ہمت بنا کر ساتھ رکھنا ہے